وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ، فَقَالَ: "" أَنَا مُحَمَّدٌ، أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلَامِ وَخَوَاتِمَهُ، فَأَطِيعُونِي مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، أَتَتْكُمُ الْمَوْتَةُ، أَتَتْكُمْ بِالرُّوحِ وَالرَّاحَةِ، كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ. أَتَتْكُمْ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، كُلَّمَا ذَهَبَ رَسْلٌ جَاءَ رَسْلٌ، تَنَاسَخَتِ النُّبُوَّةُ ; فَصَارَتْ مُلْكًا رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَخَرَجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلَهَا، أَمْسِكْ يَا مُعَاذُ وَأَحْصِ "". قَالَ: فَلَمَّا بَلَغْتُ خَمْسًا قَالَ: "" يَزِيدُ، لَا بَارَكَ اللَّهُ فِي يَزِيدَ "". ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ قَالَ: "" نُعِيَ إِلَيَّ حُسَيْنٌ، وَأُتِيتُ بِتُرْبَتِهِ، وَأُخْبِرْتُ بِقَاتِلِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقْتُلُوهُ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ قَوْمٍ لَا يَمْنَعُوهُ إِلَّا خَالَفَ اللَّهُ بَيْنَ صُدُورِهِمْ وَقُلُوبِهِمْ، وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ، وَأَلْبَسَهُمْ شِيَعًا "". قَالَ: "" وَاهًا لِفِرَاخِ آلِ مُحَمَّدٍ مِنْ خَلِيفَةٍ يُسْتَخْلَفُ مُتْرَفًا، يَقْتُلُ خَلَفِي وَخَلَفَ الْخَلَفِ، أَمْسِكْ يَا مُعَاذُ "". فَلَمَّا بَلَغْتُ عَشْرَةً قَالَ: "" الْوَلِيدُ اسْمُ فِرْعَوْنَ، هَادِمُ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، بَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُسِلُّ اللَّهُ سَيْفَهُ، فَلَا غِمَادَ لَهُ، وَاخْتَلَفَ فَكَانُوا هَكَذَا "". فَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" بَعْدَ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ يَكُونُ مَوْقَتٌ سَرِيعٌ - وَقَتْلٌ ذَرِيعٌ - فَفِيهِ هَلَاكُهُمْ، وَيَلِي عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ الْعَبَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَذَّابٌ.
EnglishUnverified translation
Muʿādh ibn Jabal, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ came out to them changed in complexion and declared himself Muḥammad, given the openings and sealings of speech, commanding obedience while among them and adherence to the Book of Allāh after his departure, permitting its lawful and forbidding its unlawful. He foretold death bearing spirit and rest by a prior decree of Allāh, trials like portions of dark night succeeding one another, prophethood transformed into kingship, mercy for whoever took it by right and left it as he entered it, then bade Muʿādh hold and count. When he reached five he named Yazīd and invoked no blessing upon him, then his eyes ﷺ shed tears. He announced that Ḥusayn's killing had been conveyed to him, his soil brought, his killer named, and swore by Him in Whose Hand is his soul that he would not be killed among a people who failed to defend him but Allāh would set their hearts at variance, empower their worst over them, and divide them into factions. He lamented the chicks of the family of Muḥammad at the hands of a luxurious successor who would kill his descendants, bade Muʿādh hold, and upon reaching ten named al-Walīd by Pharaoh's name as demolisher of the ordinances of Islam, before whom a man of his household would stand while Allāh unsheathed His sword without sheathing, and they would differ thus, interlacing his fingers. After one hundred and twenty there would be swift reckoning and rampant killing wherein their ruin lay, and a man from the children of al-ʿAbbās would rule over them. > **"I am Muḥammad; I have been given the openings of speech and its sealings, so obey me while I am among you, and when I am taken, upon you is the Book of Allāh — permit its lawful and forbid its unlawful. Yazīd — may Allāh not bless Yazīd. Ḥusayn has been announced to me, his soil brought to me, his killer named to me. By Him in Whose Hand is my soul, they will not kill him among a people who fail to defend him but Allāh will set variance between their breasts and hearts, empower their worst over them, and clothe them in factions. Woe to the chicks of the family of Muḥammad from a successor made a luxurious ruler, who kills my descendants and the descendants of my descendants. Hold, O Muʿādh. Al-Walīd — Pharaoh's name — demolisher of the ordinances of Islam; before him a man of his household while Allāh unsheathes His sword with no sheathing for it. After one hundred and twenty there will be swift reckoning and rampant killing — therein is their ruin — and a man from the children of al-ʿAbbās will rule over them"**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ کی رنگت تبدیل تھی ، آپ نے فرمایا : ’’ میں محمد ہوں ، مجھے کام کے فواتح اور اس کے خواتم عطا کیے گئے ہیں ، تو جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں تم لوگ میری اطاعت کرو اور جب میری رخصتی ہو جائے تو تم پر اللہ کی کتاب کو اختیار کرنا لازم ہے ، تم اس کے حلال کو حلال قرار دو ، اس کے حرام کو حرام قرار دو ۔ تمہارے پاس آرام آئے گا ، تمہارے پاس راحت آئے گی ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہے ، تمہارے پاس فتنے آئیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جب ایک قسم کا فتنہ چلا جائے گا ، تو دوسرا آ جائے گا ، نبوت ختم ہو چکی ہے ، بادشاہی آ جائے گی ، اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو اس کے حق کے ہمراہ اسے لیتا ہے ، اور اس سے اسی طرح نکلتا ہے جس طرح اس میں داخل ہوا تھا : اے معاذ ! تم پکڑو اور گنتی کرو ( پھر نبی اکرم ﷺ نے نام گنوانے شروع کیے : ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ پانچویں فرد پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : یزید ، اللہ تعالیٰ یزید میں برکت نہ رکھے ، پھر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ، پھر آپ نے فرمایا : مجھے حسین کے قتل ہونے کی اطلاع دی گئی اور وہاں کی مٹی میرے پاس لائی گئی اور اس کے قاتل کے بارے میں مجھے بتایا گیا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جن لوگوں کے درمیان اسے قتل کیا جائے گا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں اور سینوں کے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ، اور ان کے بدترین لوگوں کو ان پر مسلط کر دے گا ، اور انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آل محمد کے بچوں کے لیے اس خلیفہ کے حوالے سے افسوس ہے ، جسے زیادتی کرنے والے کے طور پر خلیفہ بنایا جائے گا ، وہ میری اولاد کو اور میری اولاد کی اولاد کو قتل کرے گا ، اے معاذ ! تم گنتی کرو ! پھر جب آپ بارہ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : ولید ہو گا ، یہ فرعون کا نام ہے ، وہ شخص اسلام کے شرعی احکام کو منہدم کرنے والا ہو گا اس کے سامنے اس کے اہل بیت کا ایک فرد ہو گا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تلوار کو میان سے نکال لے گا ، تو پھر وہ میان میں نہیں جائے گی ، وہ لوگ اسی طرح رہیں گے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں اور پھر ارشاد فرمایا : ایک سو بیس کے بعد ایسا وقت ایسا آئے گا کہ جس میں وقت تیزی سے گزرے اور قتل و غارت گری بہت زیادہ ہو گی اس زمانے میں ان لوگوں کی ہلاکت ہو جائے گی اور اس وقت ان لوگوں پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حکمران بن جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔