Majma al-Zawaid #15048
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ قَالَ: «قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَأَبُو الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَيِيٌّ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا تَقُولَا ذَلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ تَفَلَ فِي فِيهِ، وَمَنْ تَفَلَ فِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَيْسَ بِعَيِّيٍّ. فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: أَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو فَتَنَازَعَ فِيكَ رَجُلَانِ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَبَاكَ؟ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْأَعْوَرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعَمْرَو بْنَ سُفْيَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ السِّيرَافِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī ʿAwf reported that ʿAmr ibn al-ʿĀṣ and Abū al-Aʿwar al-Sulamī told Muʿāwiyah that al-Ḥasan ibn ʿAlī was tongue-tied, whereupon Muʿāwiyah forbade them such speech, citing that the Messenger of Allāh ﷺ had spat into his mouth, and whomever the Messenger spat into his mouth could not be tongue-tied. Al-Ḥasan ibn ʿAlī then retorted against ʿAmr regarding the dispute over his paternity and against Abū al-Aʿwar by recalling the Prophet's curse upon Riʿl, Dhakwān, and ʿAmr ibn Sufyān.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبدالرحمن بن ابوعوف بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ابواعور سلمی نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تہ سے کہا : حسن بن علی ایک کمزور شخص ہیں ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم دونوں یہ بات نہ کہو ، کیونکہ اللہ کے رسول نے ان کے منہ میں لعاب دہن ڈالا ہے ، اور جس کے منہ میں اللہ کے رسول نے لعاب دہن ڈالا ہو وہ بولنے میں کمزور نہیں ہو سکتا ، حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے عمرو ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تمہارے بارے میں دو آدمیوں نے جھگڑا کیا تھا ، تو تم اس بات کا جائزہ لو کہ تمہارا باپ کون ہے ؟ اور اے ابواعور ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو اللہ کے رسول نے رعل اور ذکوان قبیلے اور عمرو بن سفیان پر لعنت کی ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن عون سیرافی سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔