Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 20

Book of Virtues and Merits

Hadith 15048–15087

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15048

Majma al-Zawaid #15048

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ قَالَ: «قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَأَبُو الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَيِيٌّ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا تَقُولَا ذَلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ تَفَلَ فِي فِيهِ، وَمَنْ تَفَلَ فِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَيْسَ بِعَيِّيٍّ. فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: أَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو فَتَنَازَعَ فِيكَ رَجُلَانِ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَبَاكَ؟ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْأَعْوَرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعَمْرَو بْنَ سُفْيَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ السِّيرَافِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī ʿAwf reported that ʿAmr ibn al-ʿĀṣ and Abū al-Aʿwar al-Sulamī told Muʿāwiyah that al-Ḥasan ibn ʿAlī was tongue-tied, whereupon Muʿāwiyah forbade them such speech, citing that the Messenger of Allāh ﷺ had spat into his mouth, and whomever the Messenger spat into his mouth could not be tongue-tied. Al-Ḥasan ibn ʿAlī then retorted against ʿAmr regarding the dispute over his paternity and against Abū al-Aʿwar by recalling the Prophet's curse upon Riʿl, Dhakwān, and ʿAmr ibn Sufyān.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوعوف بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ابواعور سلمی نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تہ سے کہا : حسن بن علی ایک کمزور شخص ہیں ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم دونوں یہ بات نہ کہو ، کیونکہ اللہ کے رسول نے ان کے منہ میں لعاب دہن ڈالا ہے ، اور جس کے منہ میں اللہ کے رسول نے لعاب دہن ڈالا ہو وہ بولنے میں کمزور نہیں ہو سکتا ، حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے عمرو ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تمہارے بارے میں دو آدمیوں نے جھگڑا کیا تھا ، تو تم اس بات کا جائزہ لو کہ تمہارا باپ کون ہے ؟ اور اے ابواعور ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو اللہ کے رسول نے رعل اور ذکوان قبیلے اور عمرو بن سفیان پر لعنت کی ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن عون سیرافی سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15049

Majma al-Zawaid #15049

عَنِ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ: «كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ وَمَضَى، وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ لَا يَعْلَمُ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُسَلِّمُ، فَلَحِقَهُ فَقَالَ: وَعَلَيْكَ يَا سَيِّدِي، فَقِيلَ لَهُ: تَقُولُ يَا سَيِّدِي؟ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّهُ سَيِّدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Maqburī reported that they were with Abū Hurayrah when al-Ḥasan ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with them both, came, greeted, and passed on while Abū Hurayrah did not notice. When told that it was Ḥasan ibn ʿAlī who had greeted, Abū Hurayrah caught up with him and greeted him as his master, and when questioned about saying so, he testified to the Messenger of Allāh ﷺ having declared him a chief. > **"He is a sayyid"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مقبری بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اسی دوران حضرت امام حسن بن على رضی اللہ عنہما تشریف لے آئے ، انہوں نے سلام کیا ، حاضرین نے انہیں سلام کا جواب دیا اور وہ تشریف لے گئے ، ہمارے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ انہیں پتہ نہیں چلا ، انہیں بتایا گیا کہ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سلام کیا ہے ، تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پیچھے ان کے پاس گئے اور بولے : اے میرے سردار ! آپ پر بھی سلام ہو ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا ، آپ یہ کہہ رہے تھے اے میرے سردار ! تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ یہ ( یعنی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا ہے ، یہ ) سردار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15050

Majma al-Zawaid #15050

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: "" إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَيُصْلِحَنَّ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said concerning al-Ḥasan ibn ʿAlī that he was a chief through whom Allāh would reconcile two great parties of Muslims. > **"This son of mine is a sayyid, and Allāh will reconcile through him between two great parties of Muslims"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ فرمایا : ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ع اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ہزار کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15051

Majma al-Zawaid #15051

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: وَأَظُنُّهُ عَنْ أَنَسٍ رَفَعَهُ قَالَ: "" «ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ "". - يَعْنِي الْحَسَنَ - قَالَ: وَكَانَ يُشْبِهُهُ. أَوْ نَحْوَ هَذَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan al-Baṣrī reported, thinking it was from Anas as a raised narration, that the Prophet ﷺ said of al-Ḥasan that he was a chief, noting that he resembled him, or words to that effect. > **"This son of mine is a sayyid"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، انہوں نے اسے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے ‘‘ یعنی نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ ( یعنی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ، یہ یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ انہوں نے ارشاد فرمایا : یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15052

Majma al-Zawaid #15052

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْحَسَنُ سَيِّدُ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ declared al-Ḥasan to be the chief of the youth of Paradise. > **"Al-Ḥasan is the sayyid of the youth of Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حسن ، اہل جنت کے نوجوانوں کا سردار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15053

Majma al-Zawaid #15053

وَعَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: أَخْرِجُونِي إِلَى الصَّحْرَاءِ ; لَعَلِّي أَتَفَكَّرُ أَنْظُرُ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ - يَعْنِي الْآيَاتِ - فَلَمَّا أُخْرِجَ بِهِ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ نَفْسِي عِنْدَكَ ; فَإِنَّهَا أَعَزُّ الْأَنْفُسِ عَلَيَّ، وَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ لَهُ أَنَّهُ احْتَسَبَ نَفْسَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ رَقَبَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْحَسَنِ فِيمَا أَعْلَمُ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ أَنْسٍ فِيمَا قِيلَ.

EnglishUnverified translation

Raqabah ibn Maṣqalah reported that when death approached al-Ḥasan ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with them both, he asked to be taken out to the open land so that he might reflect upon the kingdom of the heavens, meaning its signs, and when taken out he declared that he sought reward with Allāh for his own soul, since it was the dearest soul to him, and among what Allāh granted him was that he rendered his account to himself.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رقبہ بن مصقلہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا آخری وقت آیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے نکال کر صحراء کی طرف لے جاؤ تاکہ میں غور و فکر کروں اور آسمانوں میں موجود نشانیوں کا جائزہ لوں ، جب انہیں لے جایا گیا تو انہوں نے یہ کہا : ’’ اے اللہ ! میں اپنی ذات کے بارے میں تیری بارگاہ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں کیونکہ یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز ذات ہے “ تو وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے کی وہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ذات کا احتساب کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ رقبہ نامی راوی نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، جو میرے علم کے مطابق ہے ، ایک قول کے مطابق انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہوا ہے ۔

15054

Majma al-Zawaid #15054

وَعَنْ شُرَحْبِيلَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأُخْرِجَ بِسَرِيرِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَأَرَادَ أَنْ يَدْفِنَهُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَافَ أَنْ يَمْنَعَهُ بَنُو أُمَيَّةَ، فَلَمَّا انْتَهَوْا بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ قَامَتْ بَنُو أُمَيَّةَ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنْ مَنَعُونِي فَادْفِنُونِي مَعَ أُمِّي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Shuraḥbīl reported that he was with al-Ḥusayn ibn ʿAlī when the bier of al-Ḥasan ibn ʿAlī was brought forth, intending to bury him alongside the Prophet ﷺ while fearing the Banū Umayyah would prevent it. When they reached the mosque with him, the Banū Umayyah rose in opposition, whereupon ʿAbdullāh ibn Jaʿfar stood and testified that he had heard al-Ḥasan instruct that if they were prevented, they should bury him with his mother.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شرحبیل بیان کرتے ہیں : میں حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، انہوں نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی چارپائی ( یعنی میت کی چارپائی ) کو باہر نکالا ، ان کا یہ ارادہ تھا کہ ان کو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دفن کروائیں ، لیکن انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ بنوامیہ انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے ، جب وہ ان کی میت لے کے مسجد تک آئے ، تو بنوامیہ کھڑے ہو گئے ، تو حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بتایا : میں نے ان صاحب کو ( یعنی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو ) یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر لوگ منع کریں تو تم مجھے میری والدہ کے ساتھ دفن کر دینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15055

Majma al-Zawaid #15055

وَعَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - لَمَّا كُفَّ بَصَرُهُ يَقُولُ لِقَائِدِهِ: إِذَا أَدْخَلْتَنِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَسَدِّدْنِي لِفِرَاشِهِ، ثُمَّ أَرْسِلْ يَدِي؛ لَا يَشْمَتُ بِي مُعَاوِيَةُ، فَفَعَلَ ذَلِكَ يَوْمًا، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِبَعْضِ جُلَسَائِهِ: لَيَغْتَمَّنَّ، فَلَمَّا جَلَسَ مَعَهُ عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، آجَرَكَ اللَّهُ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ؟! قَالَ: أَمَاتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِ، وَأَلْحَقَهُ بِصَالِحِ سَلَفِهِ، أَمَا وَاللَّهِ يَا مُعَاوِيَةُ لَا تَسُدُّ حُفْرَتَهُ، وَلَا تَأْكُلُ رِزْقَهُ، وَلَا تَخْلُدُ بَعْدَهُ، وَلَقَدْ رُزِئْنَا بِأَعْظَمَ فَقْدًا مِنْهُ؛ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا خَذَلَنَا اللَّهُ بَعْدَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Maymūn ibn Mihrān reported that when Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, lost his sight, he would tell his guide to direct him to Muʿāwiyah's couch and release his hand lest Muʿāwiyah gloat over him. One day Muʿāwiyah remarked to his companions that he would soon grieve, and when Ibn ʿAbbās sat with him upon his couch, Muʿāwiyah offered condolences for al-Ḥasan ibn ʿAlī. Upon confirming his death, Ibn ʿAbbās invoked Allāh's mercy and pleasure upon him, prayed that he join his righteous forebears, and reminded Muʿāwiyah that he had neither filled his grave nor consumed his provision nor would remain forever after him, and that they had already been bereaved by one far greater, the Messenger of Allāh ﷺ, yet Allāh had not forsaken them after him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میمون بن مہران بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی جب بینائی رخصت ہو گئی ، تو وہ اپنے ساتھ لے کر چلنے والے فرد سے یہ کہتے تھے کہ جب تم مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچاؤ تو مجھے ان کے بچھونے تک پہنچانا اور پھر تم میرا ہاتھ چھوڑ دینا تاکہ میرے حوالے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اعتراض نہ ہو ، ایک دن انہوں نے ایسا ہی کیا ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی سے کہا : یہ ابھی غمگین ہو جائیں گے ، جب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اُن کے ساتھ ان کے بچھونے پر بیٹھ گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابوعباس ! حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ آپ کو اجر نصیب کرے ! حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا : کیا ان کا انتقال ہو گیا ہے ؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی رضامندی اُن پر نازل ہو اور اللہ تعالیٰ انہیں ان کے نیک اسلاف کے ساتھ ملا دے ، اللہ کی قسم ! اے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نہ تو آپ نے ان کا گڑھا بند کیا اور نہ ہی ان کا رزق کھایا اور نہ ہی آپ نے ان کے بعد ہمیشہ رہنا ہے ، اور ہمیں تو اس سے بھی زیادہ بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وہ نبی اکرم ﷺ کا وصال تھا ، لیکن اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسوائی کا شکار نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15056

Majma al-Zawaid #15056

وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: هَلَكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ. قَالَ: هَكَذَا قَالَ الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ وَخُولِفَ.

EnglishUnverified translation

Al-Haytham ibn ʿAdī stated that al-Ḥasan ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with him, died in the year forty-four, though this dating was disputed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال سن چوالیس ہجری میں ہوا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : ہیثم بن عدی نے اسی طرح بیان کیا ہے لیکن اس کے برخلاف بھی نقل کیا گیا ہے ۔

15057

Majma al-Zawaid #15057

وَعَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ: وَفِيهَا مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ.

EnglishUnverified translation

Abū Nuʿaym stated that in that year — the year fifty-eight — al-Ḥasan ibn ʿAlī and Saʿd ibn Abī Waqqāṣ died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونعیم بیان کرتے ہیں : اس سال یعنی اٹھاون ہجری میں حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔

15058

Majma al-Zawaid #15058

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ: تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سَنَةَ ثَمَانٍ وَأَرْبَعِينَ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr ibn Ḥafṣ stated that al-Ḥasan ibn ʿAlī died in the year forty-eight.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن حفص بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا انتقال اڑتالیس ہجری میں ہوا ۔

15059

Majma al-Zawaid #15059

وَعَنْهُ قَالَ: تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ بَعْدَمَا مَضَى مِنْ إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ عَشْرُ سِنِينَ.

EnglishUnverified translation

From the same narrator it is reported that al-Ḥasan ibn ʿAlī and Saʿd ibn Abī Waqqāṣ died after ten years of Muʿāwiyah's rule had passed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے دس سال گزرنے کے بعد ہوا ۔

15060

Majma al-Zawaid #15060

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سَنَةَ ثَمَانٍ وَأَرْبَعِينَ .

EnglishUnverified translation

Abū Bakr ibn Abī Shaybah stated that al-Ḥasan ibn ʿAlī died in the year forty-eight.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال اڑتالیس ہجری میں ہوا ۔

15061

Majma al-Zawaid #15061

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سَنَةَ تِسْعٍ وَأَرْبَعِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ، وَكَانَ مَوْتُهُ بِالْمَدِينَةِ، وَسِنُّهُ سِتٌّ أَوْ سَبْعٌ وَأَرْبَعُونَ، وَيُكَنَّى: أَبَا مُحَمَّدٍ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr stated that al-Ḥasan ibn ʿAlī died in the year forty-nine, that Saʿīd ibn al-ʿĀṣ led his funeral prayer, that he died in Madīnah at the age of forty-six or forty-seven, and that his kunyah was Abū Muḥammad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال انچاس ہجری میں ہوا اور حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ، ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا تھا اور ان کی عمر چھیالیس یا سینتالیس سال تھی ان کی کنیت ابومحمد تھی ۔

15062

Majma al-Zawaid #15062

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَأَرْبَعِينَ، وَيُكَنَّى: أَبَا مُحَمَّدٍ. قُلْتُ: وَأَسَانِيدُ وَفَاتِهِ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ إِلَى قَائِلِهَا.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbdullāh ibn Numayr stated that al-Ḥasan ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with them both, died at the age of forty-seven and that his kunyah was Abū Muḥammad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سینتالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے ۔ ان کی کنیت ابو محمد تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان کی وفات کے بارے میں منقول تمام روایات کی اسانید ان کے قائلین تک مستند ہیں ۔

15063

Majma al-Zawaid #15063

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - هَذَا عَلَى عَاتِقِهِ، وَهَذَا عَلَى عَاتِقِهِ، يَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً وَهَذَا مَرَّةً، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُحِبُّهُمَا؟ قَالَ: "" مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ came out to them with al-Ḥasan and al-Ḥusayn, peace be upon them, one upon each shoulder, kissing one then the other until he reached them. A man asked whether he loved them, and the Prophet ﷺ declared that love and hatred for them was love and hatred for himself. > **"Whoever loves them has loved me, and whoever hates them has hated me"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی تھے ، آپ کے ایک کندھے پر ایک تھے اور دوسرے آپ کے دوسرے کندھے پر تھے ، نبی اکرم ﷺ کبھی ان کا بوسہ لیتے تھے اور کبھی ان کا بوسہ لیتے تھے ، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان دونوں سے محبت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ان دونوں سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ، اور جو ان دونوں سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

15064

Majma al-Zawaid #15064

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: «أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَضُمُّ إِلَيْهِ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAṭāʾ ibn Yasār reported from a man who had seen the Prophet ﷺ pressing Ḥasan and Ḥusayn to himself and supplicating for them. > **"O Allāh, I love them, so love them"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے انہیں بتایا : ان صاحب نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لگایا اور پھر یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15065

Majma al-Zawaid #15065

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا أَرَادُوا أَنْ يَمْنَعُوهُمَا أَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ دَعُوهُمَا، فَإِذَا قَضَى الصَّلَاةَ وَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَقَالَ: "" مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ: فَإِذَا قَضَى الصَّلَاةَ ضَمَّهُمَا إِلَيْهِ. وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ would be praying, and when he prostrated al-Ḥasan and al-Ḥusayn would leap upon his back. When the people wished to restrain them he gestured to leave them, and when he finished the prayer he placed them in his lap and commanded love for them. > **"Whoever loves me, let him love these two"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے تھے ، آپ سجدے میں جاتے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آپ کی پشت پر سوار ہو گئے ۔ لوگوں نے ان دونوں کو روکنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ انہیں رہنے دو ، جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے انہیں گود میں بٹھایا اور فرمایا : ’’ جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے ان دونوں سے محبت رکھنی چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب نماز مکمل کی ، تو آپ ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15066

Majma al-Zawaid #15066

وَعَنْهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا، وَمَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

From the same narrator it is reported that the Prophet ﷺ said concerning al-Ḥasan and al-Ḥusayn that he loved them and asked Allāh to love them, and that whoever loved them had loved him. > **"O Allāh, I love them, so love them, and whoever loves them has loved me"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں ، تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ! اور جو شخص ان دونوں سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے بھی محبت رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15067

Majma al-Zawaid #15067

وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: "" إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا - أَوْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا» - "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يَهِمُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qurrah ibn Iyās, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said concerning al-Ḥasan and al-Ḥusayn — with doubt in the wording whether he invoked Allāh by name — that he loved them and asked that they be loved. > **"I love them, so love them — O Allāh, I love them, so love them"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ’’ میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ! راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : اے اللہ ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوزیاد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15068

Majma al-Zawaid #15068

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said concerning al-Ḥasan and al-Ḥusayn that he loved them and asked Allāh to love them. > **"O Allāh, I love them both, so love them both"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15069

Majma al-Zawaid #15069

وَعَنْهُ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: "" مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُمَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِيهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

From the same narrator it is reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say concerning al-Ḥasan and al-Ḥusayn that whoever loved him should love them both. > **"Whoever loves me, let him love them both"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے ان دونوں سے محبت رکھنی چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15070

Majma al-Zawaid #15070

وَعَنْهُ قَالَ: «وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ، فَسَلَّمَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْقَ بِأَبِيكَ عَيْنَ بَقَّةٍ "". وَأَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ فَرَقَى عَلَى عَاتِقِهِ، ثُمَّ خَرَجَ الْآخَرُ مِنْ بُقْعَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْقَ بِأَبِيكَ أَنْتَ عَيْنُ الْبَقَّةِ "". وَأَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ، فَاسْتَوَى عَلَى عَاتِقِهِ الْآخَرِ. وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَقْفِيَتِهِمَا، حَتَّى وَضَعَ أَفْوَاهَهُمَا عَلَى فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

From the same narrator it is reported that the Messenger of Allāh ﷺ stopped at the house of Fāṭimah and greeted, whereupon al-Ḥasan or al-Ḥusayn came out to him. The Prophet ﷺ bade him climb upon his father, calling him little-eyed one, and lifted him by his fingers until he sat upon his shoulder. Then the other came from another corner and he did the same with him upon his other shoulder. He then held them by their necks until he placed their mouths upon his own mouth and supplicated for them and for whoever loves them. > **"Climb up with your father, O eye of the small-eyed one. O Allāh, I love them both, so love them both, and love whoever loves them both"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس ٹھہرے ، آپ نے سلام کیا ، تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت حسین رضی اللہ عنہ نکل کر آپ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اپنے ( نانا ) ابو پر چڑھ جاؤ ، اے چھوٹی آنکھوں والے ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کی انگلیاں پکڑیں اور انہیں اپنی گردن پر بٹھا لیا پھر دوسرے صاحبزادے دوسرے گوشے سے نکل کر آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اپنے ابو پر چڑھ جاؤ اے چھوٹی آنکھوں والے ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کی انگلیاں پکڑیں اور انہیں گردن کے دوسرے حصے پر بٹھا لیا ، نبی اکرم ﷺ نے ان کی گردن پکڑ کر ان کا منہ اپنے منہ پر رکھا اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں ، تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ اور اس شخص سے بھی محبت رکھنا جو ان دونوں سے محبت رکھے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15071

Majma al-Zawaid #15071

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا: أَنَّ مَرْوَانَ أَتَاهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا وَجَدْتُ عَلَيْكَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ اصْطَحَبْنَا إِلَّا فِي حُبِّكَ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، قَالَ: فَتَحَفَّزَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَجَلَسَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، وَهَمَا مَعَ أُمِّهِمَا، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَتَاهُمَا، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" مَا شَأْنُ ابْنَيَّ؟ "". فَقَالَتْ: الْعَطَشُ، قَالَ: فَأَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَنَّةٍ يَبْتَغِي فِيهَا مَاءً، وَكَانَ الْمَاءُ يَوْمَئِذٍ أَغْدَارًا، وَالنَّاسُ يُرِيدُونَ الْمَاءَ، فَنَادَى: "" هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَهُ مَاءٌ؟ "". فَلَمْ يُبْقِ أَحَدٌ إِلَّا أَخْلَفَ بِيَدِهِ إِلَى كَلَامِهِ يَبْتَغِي الْمَاءَ فِي شَنَّةٍ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَطْرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَاوِلِينِي أَحَدَهُمَا "". فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ مِنْ تَحْتِ الْخِدْرِ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ ذِرَاعَيْهَا حِينَ نَاوَلَتْهُ، فَأَخَذَهُ، فَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَضْغُو مَا يَسْكُتُ، فَأَدْلَعَ لِسَانَهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ حَتَّى هَدَأَ أَوْ سَكَنَ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ بُكَاءً، وَالْآخَرُ يَبْكِي كَمَا هُوَ مَا يَسْكُتُ، ثُمَّ قَالَ: "" نَاوِلِينِي الْآخَرَ "". فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ، فَفَعَلَ بِهِ كَذَلِكَ، فَسَكَتَا فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُمَا صَوْتًا، ثُمَّ قَالَ: "" سِيرُوا "". فَصَدَعْنَا يَمِينًا وَشِمَالًا عَنِ الظَّعَائِنِ، حَتَّى لَقِينَاهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، فَأَنَا لَا أُحِبُّ هَذَيْنِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, also reported that Marwān visited him in the illness in which he died and said he had held nothing against him since their companionship except his love for al-Ḥasan and al-Ḥusayn. Abū Hurayrah sat up and testified that they had set out with the Messenger of Allāh ﷺ until on part of the road the Prophet ﷺ heard al-Ḥasan and al-Ḥusayn weeping with their mother. He hastened to them and asked what was wrong with his two sons, and she answered thirst. The Prophet ﷺ turned to a waterskin seeking water, though water was then scarce and the people were seeking it, and called out asking whether any had water. Each man reached for his waterskin yet none found a drop. The Prophet ﷺ then asked for one of the two, and she handed him over from beneath the curtain, so that Abū Hurayrah saw the whiteness of her forearms. He pressed the child to his chest while he wailed without ceasing, then thrust out his tongue which the child sucked until he calmed and his crying ceased. The other still wept likewise, so he asked for the other and did the same until both fell silent. He then ordered the march, and they moved aside from the litters until they met him upon the open road. > **"What is wrong with my two sons? Is there any of you with water? Hand me one of them. Hand me the other. March on"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کی اس بیماری کے دوران ، جس میں ان کا انتقال ہوا ، مروان ان کے پاس آیا ، مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا مجھے آپ پر کسی چیز کے حوالے سے بھی غصہ نہیں ہے ، جب سے ہم ساتھ رہے ہیں ، صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور انہوں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلے ، ہم راستے میں کسی جگہ تھے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی آواز سنی ، وہ دونوں رو رہے تھے وہ دونوں اپنی والدہ کے ساتھ تھے ، نبی اکرم ﷺ تیزی سے چلتے ہوئے ان دونوں کے پاس تشریف لائے ، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میرے بچوں کا کیا معاملہ ہے ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : پیاس لگی ہوئی ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مشکیزے کی طرف بڑھے تاکہ اس میں سے پانی حاصل کریں ، پانی اس وقت موجود نہیں تھا ، لوگ پانی کی تلاش میں تھے ، نبی اکرم ﷺ نے بلند آواز میں پکار کر کہا : کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ، تو ہر شخص نے اپنا ہاتھ اپنے مشکیزے کی طرف بڑھایا تاکہ اس میں پانی تلاش کرے ، لیکن کسی شخص کو ایک قطرہ نہیں ملا تو نبی اکرم ﷺ نے ( سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا : ان دونوں میں سے ایک کو مجھے پکڑا دو ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ایک صاحبزادے کو پکڑایا ، میں نے ان کی کلائی کی سفیدی دیکھی ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحبزادے کو پکڑا دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان صاحبزادے کو پکڑ کر اپنے سینے کے ساتھ لگایا ، وہ صاحبزادے رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی زبان باہر نکالی اور ان صاحبزادے نے اسے چوسنا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گئے ، پھر میں نے ان کے رونے کی آواز نہیں سنی ، دوسرے صاحبزادے پہلے کی طرح ہی رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : دوسرے کو مجھے پکڑاؤ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دوسرے صاحبزادے آپ کو پکڑائے تو آپ نے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ، یہاں تک کہ وہ دونوں خاموش ہو گئے اور مجھے ان دونوں کی آواز سنائی نہیں دی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ روانہ ہو جاؤ ! تو ہم خواتین سے دائیں بائیں پیچھے ہٹ گئے ، یہاں تک کہ بعد میں راستے میں ہماری ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی ، تو جب میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، تو کیا میں ان دونوں سے محبت نہ رکھوں ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15072

Majma al-Zawaid #15072

«وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ مَنْ أَحَبَّهُمَا أَحْبَبْتُهُ، وَمَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَحَبَّهُ اللَّهُ أَدْخَلَهُ جَنَّاتِ نَعِيمٍ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا أَوْ بَغَى عَلَيْهِمَا أَبْغَضْتُهُ، وَمَنْ أَبْغَضْتُهُ أَبْغَضَهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ أَدْخَلَهُ جَهَنَّمَ، وَلَهُ عَذَابٌ مُقِيمٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that al-Ḥasan and al-Ḥusayn were such that whoever loved them he would love, and whomever he loved Allāh would love, and whomever Allāh loved He would admit to gardens of bliss; and whoever hated them or transgressed against them he would hate, and whomever he hated Allāh would hate, and whomever Allāh hated He would admit to Hell with an abiding punishment. > **"Al-Ḥasan and al-Ḥusayn — whoever loves them I love him, and whomever I love Allāh loves him, and whomever Allāh loves He admits to gardens of bliss; and whoever hates them or rebels against them I hate him, and whomever I hate Allāh hates him, and whomever Allāh hates He admits to Hell, and for him is an abiding punishment"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حسن اور حسین سے جو محبت رکھے گا میں اس سے محبت رکھوں گا ، اور جس سے میں محبت رکھوں گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت رکھے گا ، اور جس سے اللہ تعالیٰ محبت رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اسے نعمتوں والی جنتوں میں داخل کرے گا ، اور جو شخص ان دونوں سے بغض رکھے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے خلاف سرکشی کرے گا ، میں اس سے بغض رکھوں گا ، جس سے میں بغض رکھوں گا ، اللہ تعالیٰ بھی اس سے بغض رکھے گا ، اور جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کر دے گا ، اس شخص کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

15073

Majma al-Zawaid #15073

«وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَلْعَبَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ - أَوْ فِي حِجْرِهِ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّهُمَا؟ فَقَالَ: "" وَكَيْفَ لَا أُحِبُّهُمَا وَهُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا أَشُمُّهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَنْبَسَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb al-Anṣārī, may Allāh be pleased with him, reported that he entered upon the Messenger of Allāh ﷺ while al-Ḥasan and al-Ḥusayn, may Allāh be pleased with them both, were playing before him — or in his lap. When he asked whether he loved them, the Prophet ﷺ answered with wonder at the question and described them as his sweet-scented plants of this world whom he smelled. > **"How should I not love them when they are my two rayḥānatay from this world whom I smell"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) وہ آپ کے آگے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ کی گود میں کھیل رہے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں ان دونوں سے کیوں نہ محبت رکھوں ؟ جبکہ یہ دنیا میں میرے پھول ہیں جنہیں میں سونگھتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عنبسہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

15074

Majma al-Zawaid #15074

«وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَلْعَبَانِ عَلَى بَطْنِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّهُمَا؟ فَقَالَ: "" وَمَا لِي لَا أُحِبُّهُمَا وَهُمَا رَيْحَانَتَايَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ, may Allāh be pleased with him, reported that he entered upon the Messenger of Allāh ﷺ while al-Ḥasan and al-Ḥusayn were playing upon his belly. When he asked whether he loved them, the Prophet ﷺ answered likewise. > **"Why should I not love them when they are my two rayḥānatay"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) وہ آپ کے پیٹ پر کھیل رہے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں ان دونوں سے محبت کیوں نہ رکھوں ؟ جبکہ یہ دونوں میرے پھول ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15075

Majma al-Zawaid #15075

«وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّهُ، الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سِبْطَانِ مِنَ الْأَسْبَاطِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ ذِكْرِ الْحَسَنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Murrah, may Allāh be pleased with him, reported that they were with the Prophet ﷺ when the Messenger of Allāh ﷺ declared Ḥusayn to be from him and himself from Ḥusayn, invoked Allāh's love for whoever loved him, and described al-Ḥasan and al-Ḥusayn as two sibṭs among the asbāṭ. > **"Ḥusayn is from me and I am from him. May Allāh love whoever loves him. Al-Ḥasan and al-Ḥusayn are two sibṭs among the asbāṭ"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حسین مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت رکھے جو اس سے محبت رکھتا ، ہو حسن اور حسین ، اسباط میں سے ’’ سبط ‘‘ ( یعنی زبردست نواسے ) ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ صرف حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ذکر کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15076

Majma al-Zawaid #15076

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ أَخَذَهُمَا مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا، وَيَضَعُهُمَا عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا عَادَ عَادَا، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ. قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرُدُّهُمَا؟ فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَقَالَ لَهُمَا: "" الْحَقَا بِأُمِّكُمَا "". قَالَ: فَمَكَثَ ضَوْؤُهَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَقَالَ: فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that they would pray the last ʿishāʾ with the Messenger of Allāh ﷺ, and when he prostrated al-Ḥasan and al-Ḥusayn would leap upon his back. When he raised his head he would take them gently from behind and set them down, and when he returned they would return, until he finished his prayer and seated them upon his thighs. When Abū Hurayrah offered to take them back, a flash of lightning shone, and the Prophet ﷺ bade them join their mother, and its light remained until they entered upon her. > **"Join your mother"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی ، جب نبی اکرم ﷺ سجدے میں گئے ، تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ آپ کی پشت پر چڑھ گئے ، جب نبی اکرم ﷺ نے سر اٹھایا تو آپ نے ان دونوں کو پیچھے سے پکڑا ، آپ نے انہیں نرمی سے پکڑا اور انہیں اپنی پشت سے ہٹا دیا ، جب آپ دوبارہ سجدے میں گئے ، تو ان دونوں صاحبزادوں نے دوبارہ یہی حرکت کی ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کی ، تو آپ نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھا لیا ، راوی کہتے ہیں : میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ان دونوں کو واپس چھوڑ آؤں ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران بجلی چمکی ( یا روشنی سی ہوئی ) نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا : تم دونوں اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ ! راوی کہتے ہیں : تو وہ روشنی اس وقت تک رہی ، جب تک وہ دونوں اپنی والدہ کے پاس نہیں پہنچ گئے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ایک تاریک رات میں ......‘‘۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

15077

Majma al-Zawaid #15077

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْجُدُ، فَيَجِيءُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ فَيَرْكَبُ ظَهْرَهُ، فَيُطِيلُ السُّجُودَ، فَيُقَالُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَطَلْتَ السُّجُودَ! فَيَقُولُ: "" ارْتَحَلَنِيَ ابْنِي ; فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ would be prostrating when al-Ḥasan and al-Ḥusayn would come and mount his back, so he would prolong the prostration. When asked about lengthening it, he explained that his son had mounted him and he disliked hurrying him. > **"My son mounted me, so I disliked hastening him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سجدے میں جاتے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ آتے اور آپ کی پشت پر سوار ہو جاتے ، تو نبی اکرم ﷺ سجدے کو طول دیدیتے تھے ۔ عرض کی گئی : اے اللہ کے نبی ! آپ نے سجدے کو طول دے دیا تھا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا ، تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اسے جلدی ( اتار دوں ) ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15078

Majma al-Zawaid #15078

وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - قَالَ: «رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: نِعْمَ الْفَرَسُ تَحْتَكُمَا. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَنِعْمَ الْفَارِسَانِ هُمَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allāh be pleased with him, reported that he saw al-Ḥasan and al-Ḥusayn upon the shoulders of the Prophet ﷺ and remarked what a fine horse was beneath them, whereupon the Prophet ﷺ praised the riders likewise. > **"And what fine riders they are"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ میں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) انہیں : نبی اکرم ﷺ کے کندھوں پر دیکھا ، تو میں نے کہا : تمہارے نیچے گھوڑا بہت اچھا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں سوار بھی بہت اچھے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

15079

Majma al-Zawaid #15079

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعَةٍ، وَعَلَى ظَهْرِهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُوَ يَقُولُ: "" نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُكُمَا، وَنِعْمَ الْعِدْلَانِ أَنْتُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْرُوحٌ أَبُو شِهَابٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that he entered upon the Prophet ﷺ while he walked upon all fours with al-Ḥasan and al-Ḥusayn, may Allāh be pleased with them both, upon his back, praising their camel and themselves as riders. > **"What a fine camel yours is, and what fine riders you are"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے بل چل رہے تھے ، آپ کی پشت پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سوار تھے ، آپ ﷺ فرما رہے تھے : ’’ تمہارا اونٹ بہت اچھا ہے ، اور تم دونوں بہت اچھے سوار ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسروح ابوشہاب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15080

Majma al-Zawaid #15080

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - أَوْ أَحَدُهُمَا - فَرَكِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ بِيَدِهِ فَأَمْسَكَهُ أَوْ أَمْسَكَهُمَا، قَالَ: "" نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ ibn ʿĀzib, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ was praying when al-Ḥasan and al-Ḥusayn — or one of them — came and mounted upon his back. Whenever he raised his head he would hold him or them with his hand and praise their mount. > **"What a fine mount yours is"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے تھے ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک آئے اور آپ کی پشت پر سوار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے جب سر اٹھایا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح انہیں ، یا ان دونوں کو پکڑا اور فرمایا : ’’ تمہاری سواری بہت اچھی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

15081

Majma al-Zawaid #15081

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «كُنَّا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ ضَلَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ قَالَ: وَذَاكَ رَأْدُ النَّهَارِ - يَقُولُ: ارْتِفَاعُ النَّهَارِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" قُومُوا فَاطْلُبُوا ابْنِي "". وَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ تُجَاهَ وَجْهِهِ، وَأَخَذْتُ نَحْوَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى أَتَى سَفْحَ جَبَلٍ، وَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مُلْتَزِقٌ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ، وَإِذَا شُجَاعٌ قَائِمٌ عَلَى ذَنَبِهِ، يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَرَرُ النَّارِ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَالْتَفَتَ مُخَاطِبًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ انْسَابَ فَدَخَلَ بَعْضَ الْأَحْجَارِ، ثُمَّ أَتَاهُمَا فَأَفْرَقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ وُجُوهَهُمَا، وَقَالَ: "" بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتُمَا، مَا أَكْرَمَكُمَا عَلَى اللَّهِ! "". ثُمَّ حَمَلَ أَحَدَهُمَا عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ، وَالْآخِرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، فَقُلْتُ: طُوبَاكُمَا! نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَنِعْمَ الرَّاكِبَانِ هُمَا، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رُشْدٍ الْهِلَالِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān, may Allāh be pleased with him, reported that they were around the Messenger of Allāh ﷺ when Umm Ayman came and said that al-Ḥasan and al-Ḥusayn had strayed, in the high morning. The Prophet ﷺ ordered them to rise and seek his two sons, and each man set off in his own direction while Salmān followed the Prophet's direction until he reached the foot of a mountain, where al-Ḥasan and al-Ḥusayn, may Allāh be pleased with them both, clung to one another while a serpent stood upon its tail with sparks of fire issuing from its mouth. The Messenger of Allāh ﷺ hastened toward it, whereupon it turned addressing him and then slipped away into the rocks. He then parted the two boys, wiped their faces, invoked his parents as ransom for them and marvelled at their honour with Allāh, then carried one upon his right shoulder and the other upon his left. When Salmān congratulated them upon their mount, the Prophet ﷺ praised the riders and their father above them. > **"Rise and seek my two sons. By my father and mother, how honoured you are to Allāh. And what fine riders they are, and their father is better than them"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے اردگرد موجود تھے ، اسی دوران سیدہ ام ایمن آئیں اور بولیں : یا رسول اللہ ! حسن اور حسین گم ہو گئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : یہ دن چڑھے کی بات ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اٹھو اور میرے دونوں بیٹوں کو تلاش کرو اور ہر شخص اپنے سامنے کی سمت میں چل پڑے ، راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ والی سمت میں چل پڑا ، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ایک پہاڑ کے دامن میں نبی اکرم ﷺ پہنچے تو وہاں حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ موجود تھے ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے اور وہاں ایک سانپ اپنی دم پر کھڑا ہوا تھا اور اس کے منہ سے آگ کے شراروں کی طرح کی کوئی چیز نکل رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ تیزی سے اس کی طرف گئے اس نے مڑ کر نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھ کر کچھ کہا اور پھر مڑ گیا ، اور اپنی بل میں داخل ہو گیا ، پھر نبی اکرم ﷺ ان دونوں صاحبزادوں کے پاس آئے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا ، آپ نے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ، تم دونوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنے عزت والے ہو ، پھر آپ نے ان میں سے ایک کو دائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر بٹھا لیا ، تو میں نے کہا : تم دونوں کو مبارک باد ہو ! تم دونوں کی سواری کتنی اچھی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں سوار بھی کتنے اچھے ہیں اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن رشد ہلالی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15082

Majma al-Zawaid #15082

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِيهَا الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the chiefs of the youth of Paradise. > **"Al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the sayyids of the youth of Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15083

Majma al-Zawaid #15083

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: "" وَاللَّهِ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَدَ الْأَنْبِيَاءِ غَيْرِي، وَإِنَّ ابْنَيْكِ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِلَّا ابْنَيِ الْخَالَةِ: يَحْيَى، وَعِيسَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to Fāṭimah, may Allāh be pleased with her, swearing by Allāh that no prophet gave birth to prophets except himself, and that her two sons are the chiefs of the youth of Paradise, excepting the two sons of the maternal aunt, Yaḥyā and ʿĪsā. > **"By Allāh, there is no prophet but prophets were born except through me, and your two sons are the sayyids of the youth of Paradise, except the two sons of the aunt: Yaḥyā and ʿĪsā"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! ہر نبی نے انبیاء کو جنم دیا ہے ، صرف میرا معاملہ مختلف ہے ، اور تمہارے دونوں بیٹے اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، البتہ دو خالہ زاد بھائیوں حضرت یحیی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

15084

Majma al-Zawaid #15084

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ أَبُو سُمَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said that al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the chiefs of the youth of Paradise. > **"Al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the sayyids of the youth of Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حسن اور حسین اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن حزام ابوسمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

15085

Majma al-Zawaid #15085

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَكُنْ زَارَنِي، فَاسْتَأْذَنَ اللَّهَ فِي زِيَارَتِي، فَبَشَّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَرْوَانُ الذُّهْلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that an angel from heaven who had never visited him sought Allāh's permission to visit him and gave him glad tidings that al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the chiefs of the youth of Paradise. > **"An angel from heaven who had never visited me sought Allāh's permission to visit me, and gave me glad tidings that al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the sayyids of the youth of Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آسمان میں سے ایک فرشتہ مجھ سے کبھی ملنے کے لئے نہیں آیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مجھے ملنے کے لئے آئے ( جب وہ میرے پاس آیا ) تو اس نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان ذہلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15086

Majma al-Zawaid #15086

«وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ شَخْصًا، فَقَالَ لِي: "" يَا حُذَيْفَةُ هَلْ رَأَيْتَ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَهْبِطْ مُنْذُ بُعِثْتُ، أَتَانِي اللَّيْلَةَ يُبَشِّرُنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو عُمَرَ الْأَشْجَعِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ - أَوْ أَبُو عَمْرَةَ - وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah ibn al-Yamān, may Allāh be pleased with him, reported that he spent the night with the Messenger of Allāh ﷺ and saw a figure beside him. The Prophet ﷺ asked whether he had seen, and when he affirmed, he told him it was an angel who had not descended since his mission, come that night to give him glad tidings that al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the chiefs of the youth of Paradise. > **"O Ḥudhayfah, did you see? This is an angel who has not descended since I was sent; he came to me tonight to give me glad tidings that al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the sayyids of the youth of Paradise"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نبی اکرم ﷺ کے ہاں ٹھہر گیا ۔ میں نے آپ کے پاس کسی شخص کو دیکھا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ فرشتہ ہے جب سے مجھے معبوث کیا گیا ہے یہ کبھی زمین پر نازل نہیں ہوا یہ گزشتہ رات میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو اشجعی یا شاید ابوعمرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15087

Majma al-Zawaid #15087

وَعَنْ حَذِيقَةَ أَيْضًا قَالَ: «رَأَيْنَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّرُورَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْنَا فِي وَجْهِكَ تَبَاشِيرَ السُّرُورِ، فَقَالَ: "" كَيْفَ لَا أُسَرُّ وَقَدْ أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَبَشَّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا أَفْضَلُ مِنْهُمَا»؟! "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْهَاشِمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا. وَفِي عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah also reported that they saw joy upon the face of the Messenger of Allāh ﷺ one day and remarked upon the signs of delight, whereupon he asked how he should not rejoice when Jibrīl, peace be upon him, had come giving him glad tidings that al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the chiefs of the youth of Paradise and that their father is better than them. > **"How should I not rejoice when Jibrīl, peace be upon him, came to me giving me glad tidings that al-Ḥasan and al-Ḥusayn are the sayyids of the youth of Paradise, and their father is better than them"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر ایک دن خوشی کے آثار دیکھے تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آ رہے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں کیوں خوش نہ ہوؤں ، جبکہ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر ابواسود ہاشمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور عاصم بن بہدلہ نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔