وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ، أَنَا أَمْ فَاطِمَةُ؟ قَالَ: "" فَاطِمَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزُّ مِنْهَا، وَكَأَنِّي بِكَ وَأَنْتَ عَلَى حَوْضِي تَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ، وَإِنَّ عَلَيْهِ الْأَبَارِيقَ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، وَإِنِّي وَأَنْتَ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، وَفَاطِمَةَ، وَعَقِيلًا، وَجَعْفَرًا، فِي الْجَنَّةِ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ، أَنْتَ مَعِي وَشِيعَتُكَ فِي الْجَنَّةِ "". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ) لَا يَنْظُرُ أَحَدٌ فِي قَفَا صَاحِبِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلْمَى بْنُ عُقْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allah be pleased with him, asked the Messenger of Allah ﷺ who was dearer to him, himself or Fāṭima. He replied Fāṭima was dearer and ʿAlī more honored, then envisioned him warding people from his Pond with pitchers as numerous as heaven's stars, and declared himself, ʿAlī, al-Ḥasan, al-Ḥusayn, Fāṭima, ʿAqīl, and Jaʿfar in Paradise as brethren facing one another, ʿAlī with him and his partisans in Paradise, none looking at another's back. > **"Fāṭima is dearer to me than you, and you are more honored to me than her. I see you at my Pond warding people from it, with pitchers upon it as numerous as the stars of heaven. I, you, al-Ḥasan, al-Ḥusayn, Fāṭima, ʿAqīl, and Jaʿfar shall be in Paradise as brethren facing one another. You are with me and your partisans are in Paradise. None looks at the back of his fellow."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے نزدیک کون زیادہ محبوب ہے ، میں یا فاطمہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فاطمہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو ، یوں ہے کہ جیسے تم میرے حوض پر ہو گے ، اور اس سے لوگوں کو پرے کر رہے ہو گے حالانکہ اس حوض پر آسمان کے ستاروں کی تعداد میں کوزے ہوں گے ، اور میں اور تم اور حسن اور حسین اور فاطمہ اور عقیل اور جعفر جنت میں ہوں گے ۔ ہم بھائی بھائی بن کے پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے ، جنت میں تم میرے ساتھ ہو گے ، اور تمہارے ساتھی بھی ہوں گے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہ بھائی بھائی ہوں گے جو پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ کوئی شخص اپنے ساتھی کی گدی کی طرف نہیں دیکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمیٰ بن عقبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔