Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 19

Book of Virtues and Merits

Hadith 15008–15047

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15008

Majma al-Zawaid #15008

«وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ، إِيَّاكَ وَبُغْضَنَا ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا يُبْغِضُنَا وَلَا يَحْسُدُنَا أَحَدٌ إِلَّا ذِيدَ عَنِ الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسِيَاطٍ مِنْ نَارٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِيُّ (*)، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan ibn ʿAlī, may Allah be pleased with them both, warned Muʿāwiya ibn Khudayj against hating them, for the Messenger of Allah ﷺ said none hates or envies them but is driven from the Pond on Resurrection Day with whips of fire. > **"None hates us nor envies us except he is driven from the Pond on Resurrection Day with whips of fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا : اے معاویہ بن خدیج تم ہم سے بغض رکھنے سے بچنا کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو بھی شخص ہم سے بغض رکھے گا یا ہم سے حسد کرے گا اسے قیامت کے دن آگ سے بنے ہوئے کوڑوں کے ذریعے حوض سے پرے کر دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمرو واقفی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

15009

Majma al-Zawaid #15009

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَبْغَضَنَا - أَهْلَ الْبَيْتِ - حَشَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَهُودِيًّا "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى؟ قَالَ: "" وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ، احْتَجَرَ بِذَلِكَ مِنْ سَفْكِ دَمِهِ، وَأَنْ يُؤَدِّيَ الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ. مُثِّلَ لِي أُمَّتِي فِي الطِّينِ، فَمَرَّ بِي أَصْحَابُ الرَّايَاتِ فَاسْتَغْفَرْتُ لَعَلِيٍّ وَشِيعَتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh al-Anṣārī, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ preach that whoever hates the Household Allah raises on Resurrection Day as a Jew. Asked even if he fasts, prays, and claims Islam, he affirmed, noting it only shields his blood and subjects him to jizya in humiliation. He added that his umma was shown to him in clay, the standard-bearers passed, and he sought forgiveness for ʿAlī and his partisans. > **"O people, whoever hates us, the Household, Allah raises him on Resurrection Day as a Jew. Even if he fasts, prays, and claims he is a Muslim, he is shielded thereby from shedding of his blood, and pays jizya in humiliation. I sought forgiveness for ʿAlī and his partisans."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا : میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے لوگو ! جو شخص ہمارے ساتھ یعنی اہل بیت کے ساتھ بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا حشر یہودی ہونے کے طور پر کرے گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ شخص روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگرچہ وہ شخص روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور یہ سجھتا ہو کہ وہ مسلمان ہے ، وہ اس حوالے سے خون بہانے کی وجہ تلاش کرے ، تو وہ کمتر ہو کر مجبوری کے عالم میں جزیہ ادا کرے گا ، میرے سامنے مٹی میں میری امت کی مثالی صورت پیش کی گئی ، تو جھنڈوں والے لوگ میرے پاس سے گزرے تو میں نے علی اور اس کے ساتھیوں کے لئے دعائے مغفرت کی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15010

Majma al-Zawaid #15010

وَعَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ حِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ اسْتُخْلِفَ، فَبَيْنَا هُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ إِذْ وَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَطَعَنَهُ بِخِنْجَرٍ فِي وَرِكِهِ، فَتَمَرَّضَ مِنْهَا أَشْهُرًا، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، اتَّقُوا اللَّهَ فِينَا ; فَإِنَّا أُمَرَاؤُكُمْ وَضِيفَانُكُمْ، وَنَحْنُ أَهْلُ الْبَيْتِ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]. فَمَا زَالَ يَوْمَئِذٍ يَتَكَلَّمُ حَتَّى مَا تَرَى فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا بَاكِيًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Jamīla reported that when ʿAlī was killed and al-Ḥasan ibn ʿAlī was appointed successor, while leading the people in prayer a man leapt upon him and stabbed him with a dagger in his hip, sickening him for months. He then rose to preach from the pulpit, enjoining the people of Iraq to fear Allah concerning them, for they are their rulers and guests and the Household of the verse of purification, until none in the mosque was seen but weeping. > **"O people of Iraq, fear Allah concerning us. We are your rulers and your guests, and we are the Household of whom Allah says: Allah intends only to remove impurity from you, O Household, and to purify you thoroughly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجمیلہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو خلیفہ منتخب کیا گیا ۔ تو ایک دن وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، تو اسی دوران ایک شخص نے ان پر حملہ کر کے ان کے پہلو پر خنجر مار دیا جس کی وجہ سے وہ کئی مہینے تک بیمار رہے ، پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” اے اہل عراق ! ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ ہم تمہارے امیر بھی ہیں ، اور تمہارے مہمان بھی ہیں ، اور ہم اہل بیت وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس دن حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ مسلسل گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ مسجد میں ہر شخص روتا ہوا نظر آیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15011

Majma al-Zawaid #15011

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «بُغْضُ بَنِي هَاشِمٍ وَالْأَنْصَارِ كُفْرٌ، وَبُغْضُ الْعَرَبِ نِفَاقٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ said hatred of Banū Hāshim and the Anṣār is disbelief, and hatred of Arabs is hypocrisy. > **"Hatred of Banū Hāshim and the Anṣār is disbelief, and hatred of Arabs is hypocrisy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بنو ہاشم اور انصار سے بغض رکھنا کفر ہے اور عربوں سے بغض رکھنا منافقت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15012

Majma al-Zawaid #15012

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: أَنْزِلُوا آلَ مُحَمَّدٍ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، وَبِمَنْزِلَةِ الْعَيْنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ ; فَإِنَّ الْجَسَدَ لَا يَهْتَدِي إِلَّا بِالرَّأْسِ، وَإِنَّ الرَّأْسَ لَا يَهْتَدِي إِلَّا بِالْعَيْنَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān, may Allah be pleased with him, instructed to place the family of Muḥammad as the head to the body and as the eyes to the head, for the body is guided only by the head and the head only by the eyes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت محمد ﷺ کی آل کو اس جگہ پر رکھو جو جسم میں سر کی حیثیت ہوتی ہے ، جو سر میں آنکھوں کی حیثیت ہوتی ہے ، کیونکہ جسم صرف سر کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتا ہے ، اور سر صرف آنکھوں کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ متروک ہے ۔

15013

Majma al-Zawaid #15013

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَعَلَ ذُرِّيَّةَ كُلِّ نَبِيٍّ فِي صُلْبِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ ذَرِّيَّتِي فِي صُلْبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said Allah placed the offspring of every Prophet in his own loins, and placed his own offspring in the loins of ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allah be pleased with him. > **"Allah placed the offspring of every Prophet in his loins, and Allah placed my offspring in the loins of ʿAlī ibn Abī Ṭālib."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی ذریت کو اس کی پشت میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے میری ذریت کو علی بن ابوطالب کی پشت میں رکھا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن علاء ہے اور وہ متروک ہے ۔

15014

Majma al-Zawaid #15014

وَعَنْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «كُلُّ بَنِي أُمٍّ يَنْتَمُونَ إِلَى عُصْبَةٍ إِلَّا وَلَدَ فَاطِمَةَ ; فَأَنَا وَلِيُّهُمْ، وَأَنَا عُصْبَتُهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ شَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ وَلَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Fāṭima al-Kubrā, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ said every mother's children are ascribed to their paternal kin except the children of Fāṭima, whose guardian and kin he himself is. > **"Every mother's children are ascribed to their kin except the children of Fāṭima. I am their guardian and I am their kin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ کبریٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر ماں کے بچے اپنے عصبہ رشتے داروں کی طرف منسوب ہوتے ہیں صرف فاطمہ کی اولاد کا معاملہ مختلف ہے میں ان کا ولی ہوں اور میں ان کا عصبہ ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شیبہ بن نعامہ ہے جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔

15015

Majma al-Zawaid #15015

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ الْعَبَّاسُ يَعُودُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ، فَرَفَعَهُ فَأَجْلَسَهُ عَلَى سَرِيرِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رَفَعَكَ اللَّهُ يَا عَمِّ "". فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: هَذَا عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: "" يَدْخُلُ "". فَدَخَلَ وَمَعَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: هَؤُلَاءِ وَلَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" وَهُمْ وَلَدُكَ يَا عَمِّ "". قَالَ: أَتُحِبُّهُمَا؟ قَالَ: "" أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أَحْبَبْتُهُمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that al-ʿAbbās visited the Prophet ﷺ in his illness, lifted and seated him upon his bed, and the Prophet ﷺ prayed for his elevation. Al-ʿAbbās announced ʿAlī seeking entry with al-Ḥasan and al-Ḥusayn. Al-ʿAbbās called them the Prophet's ﷺ children, the Prophet ﷺ called them his uncle's children too, and when asked if he loved them, he prayed for reciprocal love. > **"May Allah raise you, O uncle. Let him enter. They are your children too, O uncle. May Allah love you as you love them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی بیماری کے دوران نبی اکرم ﷺ کی عیادت کرنے کے لئے آئے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اٹھایا اور آپ کو پلنگ پر بٹھا دیا ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے چچا ! اللہ تعالیٰ آپ کو سربلندی عطا کرے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : علی اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ، راوی کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، وہ اندر آئے اور ان کے ساتھ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے فرمایا : یا رسول اللہ ! یہ آپ کی اولاد ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے چچا جان یہ آپ کی بھی اوالاد ہیں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ آپ سے بھی اسی طرح محبت رکھے جس طرح ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی حجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15016

Majma al-Zawaid #15016

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ، أَنَا أَمْ فَاطِمَةُ؟ قَالَ: "" فَاطِمَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزُّ مِنْهَا، وَكَأَنِّي بِكَ وَأَنْتَ عَلَى حَوْضِي تَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ، وَإِنَّ عَلَيْهِ الْأَبَارِيقَ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، وَإِنِّي وَأَنْتَ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، وَفَاطِمَةَ، وَعَقِيلًا، وَجَعْفَرًا، فِي الْجَنَّةِ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ، أَنْتَ مَعِي وَشِيعَتُكَ فِي الْجَنَّةِ "". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ) لَا يَنْظُرُ أَحَدٌ فِي قَفَا صَاحِبِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلْمَى بْنُ عُقْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allah be pleased with him, asked the Messenger of Allah ﷺ who was dearer to him, himself or Fāṭima. He replied Fāṭima was dearer and ʿAlī more honored, then envisioned him warding people from his Pond with pitchers as numerous as heaven's stars, and declared himself, ʿAlī, al-Ḥasan, al-Ḥusayn, Fāṭima, ʿAqīl, and Jaʿfar in Paradise as brethren facing one another, ʿAlī with him and his partisans in Paradise, none looking at another's back. > **"Fāṭima is dearer to me than you, and you are more honored to me than her. I see you at my Pond warding people from it, with pitchers upon it as numerous as the stars of heaven. I, you, al-Ḥasan, al-Ḥusayn, Fāṭima, ʿAqīl, and Jaʿfar shall be in Paradise as brethren facing one another. You are with me and your partisans are in Paradise. None looks at the back of his fellow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے نزدیک کون زیادہ محبوب ہے ، میں یا فاطمہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فاطمہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو ، یوں ہے کہ جیسے تم میرے حوض پر ہو گے ، اور اس سے لوگوں کو پرے کر رہے ہو گے حالانکہ اس حوض پر آسمان کے ستاروں کی تعداد میں کوزے ہوں گے ، اور میں اور تم اور حسن اور حسین اور فاطمہ اور عقیل اور جعفر جنت میں ہوں گے ۔ ہم بھائی بھائی بن کے پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے ، جنت میں تم میرے ساتھ ہو گے ، اور تمہارے ساتھی بھی ہوں گے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہ بھائی بھائی ہوں گے جو پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ کوئی شخص اپنے ساتھی کی گدی کی طرف نہیں دیکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمیٰ بن عقبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15017

Majma al-Zawaid #15017

وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ صَنَعَ إِلَى أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَدًا فَلَمْ يُكَافِئْهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا فَعَلَيَّ مُكَافَأَتُهُ غَدًا إِذَا لَقِيَنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ "".

EnglishUnverified translation

ʿUthmān, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ promised that whoever does a favor to one of the children of ʿAbd al-Muṭṭalib unrepaid in this world, its repayment falls upon him when they meet tomorrow. > **"Whoever does a favor to one of the children of ʿAbd al-Muṭṭalib and is not repaid for it in this world, its repayment is upon me tomorrow when he meets me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جناب عبدالمطلب کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ کوئی بھلائی کرے اور وہ اس شخص کو دنیا میں اس کا بدلہ نہ دے سکے تو کل جب اس کی مجھ سے ملاقات ہو گی تو اس کو بدلہ دینا میرے ذمہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15018

Majma al-Zawaid #15018

وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لِأَهْلِهِ، فَذَكَرَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَغَيْرَهُمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، مَا لَمْ تَقُمْ عَلَى بَابِ سُدَّةٍ، أَوْ تَأْتِ أَمِيرًا تَسْأَلُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Thawbān, freedman of the Messenger of Allah ﷺ, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ supplicated for his family, naming ʿAlī, Fāṭima, and others. When Thawbān asked if he was of the Household, the Prophet ﷺ affirmed conditionally upon not lingering at gates of power nor approaching rulers to beg. > **"Yes, so long as you do not stand at the door of a court or come to a ruler begging."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اہل خانہ کو بلایا ...... پھر راوی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر لوگوں کا ذکر کیا ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی اہل بیت میں سے ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! جب تک تم کسی سردار کے دروازے پر کھڑے نہیں ہوتے یا کسی امیر کے پاس جا کے کچھ مانگتے نہیں ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15019

Majma al-Zawaid #15019

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ «سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِلنَّاسِ حِينَ تَزَوَّجَ بِنْتَ عَلِيٍّ: أَلَا تُهَنِّئُونِي! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, reported that he heard ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb address the people upon marrying the daughter of ʿAlī, requesting congratulations, having heard the Messenger of Allah ﷺ say every tie and lineage is cut on Resurrection Day except his own. > **"Congratulate me not? Every tie and lineage is cut on Resurrection Day except my tie and my lineage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کی تھی کہ تم لوگ مجھے مبارک باد نہیں دو گے ؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف حسن بن سہل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15020

Majma al-Zawaid #15020

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ said every tie and lineage is cut on Resurrection Day except his tie and lineage. > **"Every tie and lineage is cut on Resurrection Day except my tie and my lineage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا ، البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15021

Majma al-Zawaid #15021

وَعَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ «أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ خَطَبَ إِلَى الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ابْنَتَهُ فَزَوَّجَهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعَبْدَسِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Umm Bakr bint al-Miswar ibn Makhrama, may Allah be pleased with her, reported that al-Ḥasan ibn ʿAlī proposed to al-Miswar ibn Makhrama for his daughter and he married her to him, citing his hearing the Messenger of Allah ﷺ say every tie and lineage is cut on Resurrection Day except his own. > **"Every tie and lineage is cut on Resurrection Day except my tie and my lineage."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام بکر بنت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کو ان کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، تو حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے ان کی شادی کروا دی اور یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا عبدسی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

15022

Majma al-Zawaid #15022

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا وَعَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي قُبَّةٍ تَحْتَ الْعَرْشِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَيَّانُ الطَّائِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said he, ʿAlī, Fāṭima, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn shall be on Resurrection Day in a dome beneath the Throne. > **"I, ʿAlī, Fāṭima, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn shall be on Resurrection Day in a dome beneath the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اور علی اور فاطمہ اور حسن اور حسین ، قیامت کے دن عرش کے نیچے ایک قبہ ( یعنی خیمے میں ہوں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حیان طائی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

15023

Majma al-Zawaid #15023

وَعَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَنَا وَعَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ مُجْتَمِعُونَ، وَمَنْ أَحَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَأْكُلُ وَنَشْرَبُ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ الْعِبَادِ "". فَبَلَغَ ذَلِكَ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِهِ، فَقَالَ: كَيْفَ بِالْعَرْضِ وَالْحِسَابِ؟ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ كَانَ لِصَاحِبِ يَاسِينَ بِذَلِكَ حِينَ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ سَاعَتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that he, ʿAlī, Fāṭima, Ḥasan, and Ḥusayn shall be gathered with their lovers on Resurrection Day eating and drinking until servants are parted. When a man asked about presentation and reckoning, he was answered with the example of the companion of Yā-Sīn admitted to Paradise at once. > **"I, ʿAlī, Fāṭima, Ḥasan, and Ḥusayn shall be gathered, and whoever loves us shall on Resurrection Day eat and drink with us until servants are parted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں ، علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین اکٹھے ہوں گے اور جو شخص ہم سے محبت رکھے گا ، ہم قیامت کے دن ہم کھائیں گے اور پیئں گے ، اس وقت تک جب تک بندوں کے درمیان فرق ( یعنی حساب ) نہیں ہو جاتا ۔‘‘ لوگوں میں سے ایک شخص کو اس بات کی اطلاع ملی انہوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں اس کو اس بارے میں بتایا ، اس شخص نے کہا : پھر پیش کیا جانا اور حساب لیا جانا کہاں جائے گا ؟ تو میں نے ان سے کہا اس کے حوالے سے یٰسین کے ساتھی کا کیا معاملہ ہو گا کہ جب اسے اسی وقت جنت میں داخل کر دیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15024

Majma al-Zawaid #15024

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: "" «إِنَّ أَوَّلَ أَرْبَعَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: أَنَا، وَأَنْتَ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَذَرَارِيُّنَا خَلْفَ ظُهُورِنَا، وَأَزْوَاجُنَا خَلْفَ ذَرَارِيِّنَا، وَشِيعَتُنَا عَنْ أَيْمَانِنَا وَعَنْ شَمَائِلِنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ told ʿAlī, may Allah be pleased with him, that the first four to enter Paradise are himself, ʿAlī, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn, their offspring behind them, their wives behind offspring, and their partisans to right and left. > **"The first four to enter Paradise are I, you, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn. Our offspring are behind us, our wives behind our offspring, and our partisans to our right and to our left."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چار افراد یہ ہیں : میں ، تم ، حسن اور حسین ، ہماری ذریت ہماری پشت کے پیچھے ہو گی اور ہماری بیویاں ہماری ذریت سے پیچھے ہوں گی اور ہمارے ساتھی ہمارے دائیں طرف اور ہمارے بائیں طرف ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15025

Majma al-Zawaid #15025

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «النُّجُومُ جُعِلَتْ أَمَانًا لِأَهْلِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Salama ibn al-Akwaʿ, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that stars are security for heaven's people and his Household are security for his umma. > **"Stars are security for the people of heaven, and my Household are security for my umma."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہیں اور میرے اہل بیت میری امت کے لئے امان ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ متروک ہے ۔

15026

Majma al-Zawaid #15026

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {سَلَامٌ عَلَى إِلْ يَاسِينَ} [الصافات: 130] قَالَ: نَحْنُ آلُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, explained the verse peace upon the family of Yā-Sīn as referring to the family of Muḥammad ﷺ. > **"Peace upon the family of Yā-Sīn. We are the family of Muḥammad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ آل یٰسین پر سلام ہو ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ( اس سے مراد ) ہم آل محمد ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قرشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

15027

Majma al-Zawaid #15027

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي مِنْ بَعْدِي "". قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ: النَّاسُ يَقُولُونَ: "" لِأَهْلِهِ "". وَقَالَ هَذَا: "" لِأَهْلِي». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said the best of them are best to his family after him, with a narrator noting the wording as to my family rather than his family. > **"The best of you are the best of you to my family after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو میرے بعد میرے اہل خانہ کے لئے زیادہ بہتر ہو ۔‘‘ ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں : لوگ یہ کہتے ہیں ’’ جو اپنے اہل خانہ کے لئے زیادہ بہتر ہو ۔‘‘ اور یہاں یہ کہا گیا ہے :” میرے اہل خانہ کے لئے زیادہ بہتر ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15028

Majma al-Zawaid #15028

عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ مُسَرَّحٍ قَالَتْ: «كُنْتُ فِيمَنْ حَضَرَ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - حِينَ ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ فِي نِسْوَةٍ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " كَيْفَ هِيَ؟ ". قُلْتُ: إِنَّهَا لَمَجْهُودَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِذَا هِيَ وَضَعَتْ فَلَا تَسْبِقُنِّي فِيهِ بِشَيْءٌ ". قَالَ: فَوَضَعَتْ، فَسَّرُوهُ وَلَفُّوهُ فِي خِرْقَةٍ صَفْرَاءَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " مَا فَعَلْتِ؟ ". فَقُلْتُ: قَدْ وَضَعَتْ غُلَامًا، وَسَرَرْتُهُ وَلَفَفْتُهُ فِي خِرْقَةٍ. فَقَالَ: " عَصَيْتِنِي؟ ". قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ مَعْصِيَتِهِ، وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! قَالَ: " فَائْتِنِي بِهِ ". فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَأَلْقَى عَنْهُ الْخِرْقَةَ الصَّفْرَاءَ، وَلَفَّهُ فِي خِرْقَةٍ بَيْضَاءَ، وَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فِيهِ، وَأَلْبَأْهُ بِرِيقِهِ، فَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: " مَا سَمَّيْتَهُ يَا عَلِيُّ؟ ". قَالَ: سَمَّيْتُهُ جَعْفَرًا. قَالَ: " لَا. وَلَكِنْ حَسَنٌ وَبَعْدَهُ حُسَيْنٌ، وَأَنْتَ أَبُو حَسَنٍ».

EnglishUnverified translation

Sawda bint Musarraḥ, may Allah be pleased with her, reported that she was among the women attending Fāṭima, may Allah be pleased with her, in labor. The Prophet ﷺ came asking her condition and commanded nothing be done for the child before him. When she bore a boy they cut his cord and wrapped him in yellow. The Prophet ﷺ asked what was done, rebuked haste, ordered the child brought, removed the yellow wrap for white, spat in his mouth and fed him his saliva. When ʿAlī, may Allah be pleased with him, came and said he named him Jaʿfar, the Prophet ﷺ declined and named him Ḥasan, then Ḥusayn after him, and named ʿAlī father of Ḥasan. > **"How is she? When she delivers, do nothing for him before me. What did you do? You disobeyed me? Bring him to me. What did you name him, O ʿAlī? No, but Ḥasan, and after him Ḥusayn, and you are Abū Ḥasan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ سودہ بنت مسرح رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ان خواتین میں شامل تھی جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بچے کی پیدائش کے وقت ان کے پاس موجود تھیں ، نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : اس کا کیا حال ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ا وہ تکلیف کے عالم میں ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب وہ بچے کو جنم دیدے تو تم نے مجھ سے پہلے اس بچے کے بارے میں کچھ نہیں کرنا راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بچے کو جنم دے دیا تو ان لوگوں نے اس کی نال کاٹ دی اور اسے ایک زرد کپڑے میں لپیٹ دیا ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : کیا بنا ، تو میں نے عرض کی : انہوں نے بچے کو جنم دیا ہے ، میں نے اس کی نال کاٹ دی ہے اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے میری نافرمانی کی ہے ؟ میں نے عرض کی : میں اس نافرمانی سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اور اس کے رسول کے غضب سے بھی پناہ مانگتی ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس بچے کو میرے پاس لے کے آؤ ، میں انہیں آپ کے پاس لے کے آئی تو نبی اکرم ﷺ نے زرد رنگ کا کپڑا اس سے ہٹا دیا اور ایک سفید کپڑے میں اسے لپیٹ دیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس بچے کے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور اپنے لعاب کے ذریعے اسے گھٹی دی ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے علی ! تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے اس کا نام جعفر رکھا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ حسن ہے ، اور اس کے بعد حسین ہو گا ، اور تم ابوحسن ہو ۔‘‘

15029

Majma al-Zawaid #15029

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «وَأَنْتَ أَبُو حَسَنِ الْخَيْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا عُرْوَةُ بْنُ فَيْرُوزٍ، وَعُمَرُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

In another narration the Prophet's ﷺ address to ʿAlī is preserved with the honorific of goodness. > **"And you are Abū Ḥasan al-Khayr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تم ابوحسن خیر ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی عروہ بن فیروز اور ایک راوی عمر بن عمیر ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15030

Majma al-Zawaid #15030

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ، قَالَ: فَبَاعَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - دِرْعًا لَهُ، وَبَعْضَ مَا بَاعَ مِنْ مَتَاعِهِ، فَبَلَغَ أَرْبَعَمِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا، وَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَ ثُلُثَيْهِ فِي الطِّيبِ، وَثُلُثًا فِي الثِّيَابِ، وَمَجَّ فِي جَرَّةٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَغْتَسِلُوا بِهِ. قَالَ: وَأَمَرَهَا أَنْ لَا تَسْبِقَهُ بِرِضَاعِ وَلَدِهَا. قَالَ: فَسَبَقَتْهُ بِرِضَاعِ الْحُسَيْنِ، وَأَمَّا الْحَسَنُ فَإِنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ فِي فِيهِ شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَكَانَ أَعْلَمَ الرَّجُلَيْنِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allah be pleased with him, reported that he proposed to the Prophet ﷺ for his daughter Fāṭima. He sold his armor and some goods for four hundred eighty dirhams. The Prophet ﷺ ordered two-thirds for perfume and one-third for clothes, spat in a water jar commanding them to bathe with it, and ordered her not to nurse her child before him. She preceded him in nursing al-Ḥusayn, while for al-Ḥasan the Prophet ﷺ placed something unknown in his mouth, and he became the more learned of the two.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا ، راوی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود زرہ کو فروخت کیا اور اپنے سامان میں سے کچھ سامان فروخت کیا ، تو انہیں چار سو اسی درہم ملے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ دو تہائی رقم خوشبو میں خرچ کریں اور ایک تہائی رقم کپڑوں کے لیے استعمال کریں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے پانی کے گھڑے میں کلی کی اور ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس پانی کے ساتھ غسل کریں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے آنے سے پہلے نے بچے کو دودھ نہیں پلانا ، راوی بیان کرتے ہیں : لیکن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے آنے سے پہلے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو دودھ پلا دیا تھا ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے منہ میں کوئی چیز ڈالی تھی ، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز تھی ؟ تو وہ ان دونوں حضرات میں زیادہ علم رکھنے والے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15031

Majma al-Zawaid #15031

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى ظَهْرِهِ وَعَلَى عُنُقِهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفْعًا رَفِيقًا ; لِئَلَّا يُصْرَعَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ بِالْحَسَنِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ صَنْعَتَهُ بِأَحَدٍ؟ قَالَ: " إِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا، وَإِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ».

EnglishUnverified translation

Abū Bakra, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed, and when he prostrated al-Ḥasan, peace be upon him, leapt upon his back and neck. The Messenger of Allah ﷺ rose gently lest he fall. Asked why he treated al-Ḥasan uniquely, he called him his basil in this world and a master through whom Allah would reconcile two factions. > **"He is my basil in this world. My son here is a master, and perhaps Allah will reconcile through him between two factions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے تھے جب آپ سجدے میں گئے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپ کی گردن پر اور آپ کی پشت پر سوار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ آرام سے اٹھے تاکہ بچہ گر نہ جائے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو حسن کے حوالے سے ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ ہم نے آپ کو کسی کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ دنیا میں میرا پھول ہے ، میرا یہ بیٹا سردار ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ عنقریب اس کے ذریعے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروا دے گا ۔‘‘

15032

Majma al-Zawaid #15032

وَفِي رِوَايَةٍ: يَثِبُ عَلَى ظَهْرِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

In another narration the boy leapt upon his back repeatedly during prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی پشت پر چڑھ گئے اور انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ ایسا کیا ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15033

Majma al-Zawaid #15033

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «جَاءَ حَسَنٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ سَاجِدٌ، فَرَكِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ حَتَّى قَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَقَامَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَلَمَّا قَامَ أَرْسَلَهُ، فَذَهَبَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي رِجَالِهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd, may Allah be pleased with him, reported that Ḥasan came to the Messenger of Allah ﷺ while prostrating and rode upon his back. The Messenger of Allah ﷺ held him by hand until he rose, then bowed and he again mounted, and when he rose he released him and the boy went.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حسن رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت سجدے کی حالت میں تھے ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) وہ نبی اکرم ﷺ کی پشت پر سوار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے انہیں پکڑا ، یہاں تک کہ وہ کھڑے ہو گئے ، جب آپ رکوع میں گئے ، تو پھر وہ آپ کی پشت پر سوار ہو گئے ، جب نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے تو آپ نے انہیں چھوڑ دیا وہ چلے گئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

15034

Majma al-Zawaid #15034

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا حَتَّى جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَصَعِدَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَمَا أَنْزَلَهُ حَتَّى كَانَ هُوَ الَّذِي نَزَلَ، وَإِنْ كَانَ لِيُفَرِّجُ لَهُ رِجْلَيْهِ، فَيَدْخُلُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ، وَيَخْرُجُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr, may Allah be pleased with him, reported that he saw the Messenger of Allah ﷺ prostrating until al-Ḥasan ibn ʿAlī climbed upon his back. He did not lower him until the boy descended himself, and he would spread his legs so the boy entered from one side and exited from the other.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سجدے کی حالت میں دیکھا ، اسی دوران حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے اور آپ کی پشت پر چڑھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں نہیں اتارا ، یہاں تک کہ وہ خود ہی نیچے اتر گئے ؟ نبی اکرم ﷺ ان کے لئے اپنی دونوں ٹانگیں کشادہ کر دیتے تھے اور وہ ایک طرف سے داخل ہو کے دوسری طرف سے نکل آیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15035

Majma al-Zawaid #15035

وَعَنِ الْبَهِيِّ قَالَ: «قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَخْبِرْنِي بِأَقْرَبِ النَّاسِ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبَّهُمْ إِلَيْهِ، كَانَ يَجِيءُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدٌ فَيَقَعُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَتَنَحَّى، وَيَجِيءُ فَيَدْخُلُ تَحْتَ بَطْنِهِ، فَيُفَرِّجُ لَهُ رِجْلَيْهِ حَتَّى يَخْرُجَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bahī reported that he asked ʿAbdullāh ibn al-Zubayr, may Allah be pleased with them both, who most resembled the Messenger of Allah ﷺ. He named al-Ḥasan ibn ʿAlī as closest in resemblance and dearest to him: he would come while the Prophet ﷺ prostrated and fall upon his back so the Prophet ﷺ would not rise until he moved aside, or enter beneath his belly while he spread his legs until he emerged.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بہی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا آپ مجھے اس شخص کے بارے میں بتائیے جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو ، تو انہوں نے جواب دیا : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما ، وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے ، وہ آتے تھے ، نبی اکرم ﷺ سجدے کی حالت میں ہوتے تھے ، وہ نبی اکرم ﷺ کی پشت پر چڑھ جاتے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ اس وقت تک کھڑے نہیں ہوتے تھے جب تک وہ ایک طرف نہیں ہٹ جاتے تھے ، ایک مرتبہ وہ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے پیٹ کے نیچے ( یعنی دونوں ٹانگوں کے درمیان ) داخل ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے اپنی دونوں ٹانگیں کشادہ کر دیں تو وہ دوسری طرف سے نکل آئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15036

Majma al-Zawaid #15036

وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَانَتْ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - تَنْقُرُ الْحَسَنَ وَتَقُولُ: بُنَيَّ شَبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ بِشَبِيهِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَهُوَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Mulayka reported that Fāṭima, may Allah be pleased with her, would pat al-Ḥasan and say her son resembles the Messenger of Allah ﷺ and not ʿAlī, peace be upon him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر یہ کہہ رہی تھیں : ’’ یہ میرا بیٹا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ، یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور یہ روایت مرسل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ کمزور ہے ۔

15037

Majma al-Zawaid #15037

وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: ذُكِرَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ كُلَيْبًا لَا أَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنَ الصَّحَابَةِ.

EnglishUnverified translation

Kulayb ibn Shihāb reported that al-Ḥasan ibn ʿAlī was mentioned before Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, and he affirmed he resembled the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کلیب بن شہاب بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ کلیب نامی راوی کے صحابہ کرام میں سے کسی سے سماع کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے ۔

15038

Majma al-Zawaid #15038

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا بَيْنَ رَأْسِهِ إِلَى نَحْرِهِ: الْحَسَنُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allāh honour his face, stated that al-Ḥasan was the person who most resembled the Messenger of Allāh ﷺ from his head down to his throat.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سر سے لے کے گردن تک میں ، لوگوں میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت ’’ حسن ‘‘ رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

15039

Majma al-Zawaid #15039

وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: «بَيْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَخْطُبُ بَعْدَمَا قُتِلَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزَدِ آدَمُ طُوَالٌ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاضِعَهُ فِي حَبْوَتِهِ يَقُولُ: "" مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبُ "". وَلَوْلَا عَزِيمَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا حَدَّثْتُكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Zuhayr ibn al-Ḥārith reported that while al-Ḥasan ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with them both, was delivering a khuṭbah after the killing of ʿAlī, a tall dark-complexioned man from Azd stood and testified that he had seen the Messenger of Allāh ﷺ holding al-Ḥasan in his lap and enjoining love for him, adding that were it not for the Messenger's insistence he would not have narrated it. > **"Whoever loves me, let him love him, and let the witness convey to the absent"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زہیر بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما خطبہ دے رہے تھے ، یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کی بات ہے ، اسی دوران ازد قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا جو گندمی رنگت کا طویل القامت شخص تھا ، اس نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کو اپنی گود میں رکھا اور پھر یہ فرمایا : ’’ جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ اس سے بھی محبت رکھے اور موجود شخص غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دے ۔‘‘ ( پھر اس شخص نے کہا : ) اگر نبی اکرم ﷺ کی یہ تاکید نہ ہوتی تو میں نے تمہیں یہ حدیث بیان نہیں کرنی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15040

Majma al-Zawaid #15040

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «سَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ، وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ آخِذٌ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا حَسَنًا - أَوْ حُسَيْنًا - وَقَدَمَاهُ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ: "" حُزُقَّةٌ حُزُقَّةْ تَرَقَّ عَيْنَ بَقَّةْ "". فَيَرْقَى الْغُلَامُ، فَيَضَعُ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" افْتَحْ فَاكَ "". ثُمَّ قَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ مَنْ أَحَبَّهُ فَإِنِّي أُحِبُّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مُزَرِّدٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, swore that his two ears heard and his two eyes saw the Messenger of Allāh ﷺ holding Ḥasan — or Ḥusayn — with both hands while the boy's feet stood upon the Prophet's feet, coaxing him upward until the boy climbed and placed his feet upon the Prophet's chest, whereupon the Prophet ﷺ bade him open his mouth, kissed him, and supplicated for him. > **"Ḥuzuqqah, ḥuzuqqah, climb up, O small-eyed one. Open your mouth. O Allāh, whoever loves him, for I love him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے ان دو کانوں نے اسے سنا اور میری ان دونوں آنکھوں نے اس کو دیکھا ، نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھوں کے ذریعے حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑا ہوا تھا اور اس بچے کے دونوں پاؤں نبی اکرم ﷺ کے قدموں پر تھے اور نبی اکرم ﷺ یہ فرما رہے تھے : ’’ اے ننھے میاں ، اے ننھے میاں ، اوپر چڑھ جاؤ اے چھوٹی آنکھوں والے ۔‘‘ تو وہ بچہ اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ اس نے اپنے پاؤں نبی اکرم ﷺ کے سینے پر رکھے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنا منہ کھولو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے بوسہ دیا اور پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہو ، تو میں بھی اس سے محبت رکھوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومزرد ہے ، اور میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15041

Majma al-Zawaid #15041

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْخُذُ حَسَنًا فَيَضُمُّهُ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا ابْنِي ; فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْكَنَّاتِ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, may Allāh be pleased with her, reported that the Prophet ﷺ would take Ḥasan and press him to himself, supplicating for him and for whoever loves him. > **"O Allāh, this is my son, so love him, and love whoever loves him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا اور پھر یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! بے شک یہ میرا بیٹا ہے ، تو اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھے ، اس سے بھی محبت رکھ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ابوکنات ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

15042

Majma al-Zawaid #15042

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ نُفَيْلٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَضَنَ حَسَنًا، وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ ; فَأَحِبَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ يُحَنَّسَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Zayd ibn Nufayl, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ embraced Ḥasan and declared his love for him while asking Allāh to love him. > **"O Allāh, I love him, so love him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لگایا اور فرمایا : ’’ اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف یزید بن یحنس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15043

Majma al-Zawaid #15043

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ ; فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ ibn ʿĀzib, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ supplicated for al-Ḥasan ibn ʿAlī, may Allāh be pleased with them both, declaring his own love for him and asking Allāh to love him and to love whoever loves him. > **"O Allāh, I love him, so love him, and love whoever loves him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں اور تو اس سے محبت رکھ ، اور جو اس سے محبت رکھے ، اس سے بھی محبت رکھ ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ تو اس سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اور کبیر کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

15044

Majma al-Zawaid #15044

وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَلْقَةٍ فِيهَا أَبُو سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، فَمَرَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ، وَسَكَتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ثُمَّ اتَّبَعَهُ، فَقَالَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ، وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ مُنْذُ لَيَالِ صِفِّينَ. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَلَا تَنْطَلِقُ إِلَيْهِ فَتَعْتَذِرَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَدَخَلَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: حَدِّثْنَا بِالَّذِي حَدَّثْتَنَا بِهِ حَيْثُ مَرَّ الْحَسَنُ، فَقَالَ: نَعَمْ، أَنَا أُحَدِّثُكُمْ: إِنَّهُ أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ: إِذْ عَلِمْتَ أَنِّي أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ فَلِمَ قَاتَلْتَنَا، أَوْ كَثَّرْتَ يَوْمَ صِفِّينَ؟! قَالَ: أَمَا إِنِّي وَاللَّهِ مَا كَثَّرْتُ سَوَادًا، وَلَا ضَرَبْتُ مَعَهُمْ بِسَيْفٍ، وَلَكِنِّي حَضَرْتُ مَعَ أَبِي أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوِهَا. قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ؟ قَالَ: بَلَى. وَلَكِنِّي كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَانِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَصُومُ النَّهَارَ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ. قَالَ: "" صُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ ; فَإِنِّي أَنَا أُصَلِّي وَأَنَامُ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ "". قَالَ لِي: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَطِعْ أَبَاكَ "". فَخَرَجَ يَوْمَ صِفِّينَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، وَهُوَ ثِقَةٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي لَهُ طَرِيقٌ فِي فَضْلِ الْحُسَيْنِ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Rajāʾ ibn Rabīʿah reported that he was sitting in the mosque of the Messenger ﷺ in Madīnah in a circle containing Abū Saʿīd and ʿAbdullāh ibn ʿAmr, when al-Ḥasan ibn ʿAlī passed and greeted them. The people returned his greeting while ʿAbdullāh ibn ʿAmr remained silent, then followed him with a greeting and declared him the most beloved of the people of earth to the people of heaven, adding that he had not spoken to him since the nights of Ṣiffīn. Abū Saʿīd urged him to go and apologise to him, so they sought permission and entered upon him. Abū Saʿīd asked ʿAbdullāh to repeat his statement, and al-Ḥasan challenged him as to why he had fought against them or swelled the ranks at Ṣiffīn. ʿAbdullāh swore he neither swelled their numbers nor struck with a sword alongside them but had merely been present with his father, who had complained about his continuous fasting and night prayer to the Messenger of Allāh ﷺ, whereupon the Prophet ﷺ had commanded moderation and obedience to his father, and his father had gone out at Ṣiffīn and he with him. > **"Fast and break your fast, pray and sleep, for I pray and sleep, and I fast and break my fast. O ʿAbdullāh, obey your father"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رجاء بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ موجود تھے ، اسی دوران وہاں سے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ گزرے ، انہوں نے سلام کیا ، لوگوں نے ان کو جواب دیا ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، جب وہ چلے گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : و علیک السلام و رحمتہ اللہ ، پھر انہوں نے فرمایا : یہ صاحب اہل آسمان کے نزدیک ، اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، جنگ صفین کے بعد اللہ کی قسم ! میں نے کبھی ان کے ساتھ بات نہیں کی ، تو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ ان کے پاس جا کر ان کے سامنے معذرت کیوں نہیں پیش کرتے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ٹھیک ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ اٹھے ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی ، پھر انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے لئے اجازت مانگی ، وہ بھی اندر آ گئے ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا ، آپ وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے ہمیں اس وقت بیان کی تھی جب حسن گزرے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں کہ یہ اہل آسمان کے نزدیک ، اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : جب آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اہل آسمان کے نزدیک ، اہل زمین میں سب سے زیادہ محبوب ہوں تو پھر آپ نے جنگ صفین کے موقع پر ہمارے ساتھ لڑائی کیوں کی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اس میں شامل ہو کر ( ہمارے مخالفین کی تعداد کو ) زیادہ کیوں کیا ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے لوگوں کی تعداد کو زیادہ کیا اور نہ ہی میں نے ان کے ساتھ تلوار سے ضرب لگائی ، میں صرف اپنے والد کے ساتھ موجود رہا تھا ، تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ، میں مسلسل نفلی روزے رکھا کرتا تھا ، میرے والد نے میری شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عبداللہ بن عمرو دن کے وقت روزہ رکھتا ہے اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو ( رات کے وقت ) سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نفل بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں ، نفلی روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم اپنے باپ کی اطاعت کرو ۔ تو میرے والد جنگ صفین کے موقع پر نکلے تھے ، تو میں بھی ان کے ساتھ نکل آیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ہاشم بن برید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کا ایک طریق حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق باب میں بھی آئے گا ۔

15045

Majma al-Zawaid #15045

وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: «رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ: اكْشِفْ عَنْ بَطْنِكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ مِنْهُ، فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ فَقَبَّلَهُ».

EnglishUnverified translation

ʿUmayr ibn Isḥāq reported that he saw Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, meet al-Ḥasan ibn ʿAlī and ask him to uncover his belly at the place where he had seen the Messenger of Allāh ﷺ kiss, whereupon al-Ḥasan uncovered his belly and Abū Hurayrah kissed it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، ان کی ملاقات حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ہوئی ، تو انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ اپنے پیٹ سے اس جگہ سے کپڑا ہٹائیے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے وہاں بوسہ لیا تھا ، امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی وہاں بوسہ دیا ۔

15046

Majma al-Zawaid #15046

وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى سُرَّتِهِ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another version of the preceding report, Abū Hurayrah kissed his navel, while in the wording in question al-Ḥasan uncovered his belly and Abū Hurayrah placed his hand upon his navel.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف پر بوسہ دیا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ان کی ناف پر رکھا ۔ ان دونوں روایات کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف عمیر بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15047

Majma al-Zawaid #15047

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمُصُّ لِسَانَهُ، أَوْ قَالَ: شَفَتَهُ - يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ - وَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah, may Allāh be pleased with him, reported that he saw the Messenger of Allāh ﷺ sucking the tongue — or, as the narrator doubted, the lip — of al-Ḥasan ibn ʿAlī, and affirmed that no tongue or lips sucked by the Messenger of Allāh ﷺ would ever be punished.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ان کی زبان ۔ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ان کے ہونٹ چوستے ہوئے دیکھا ہے ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ تھے ( حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ایسی کسی ہونٹ یا زبان کو عذاب نہیں دیا جائے گا جنہیں : نبی اکرم ﷺ نے چوسا ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور عبدالرحمن بن ابوعوف نامی راوی کے علاوہ اس روایت کے تمام رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، اور وہ راوی بھی ثقہ ہے ۔