Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 18

Book of Virtues and Merits

Hadith 14968–15007

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14968

Majma al-Zawaid #14968

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ: "" نَبِيُّنَا خَيْرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَهُوَ أَبُوكِ، وَشَهِيدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ، وَهُوَ عَمُّ أَبِيكِ حَمْزَةُ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ يَطِيرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ جَعْفَرٌ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ: الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنِ، وَهُمَا ابْنَاكِ، وَمِنَّا الْمَهْدِيُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb al-Anṣārī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to Fāṭima, may Allah be pleased with her, that their Prophet is best of Prophets and her father, their martyr best of martyrs and her father's uncle Ḥamza, among them one with two wings flying in Paradise where he wills, her father's cousin Jaʿfar, among them the two grandsons al-Ḥasan and al-Ḥusayn, her sons, and among them the Mahdī. > **"Our Prophet is the best of Prophets, and he is your father. Our martyr is the best of martyrs, and he is your father's uncle Ḥamza. Among us is one with two wings flying in Paradise where he wills, your father's cousin Jaʿfar. Among us are the two grandsons of this umma, al-Ḥasan and al-Ḥusayn, your sons. And among us is the Mahdī."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ ہمارا ( یعنی ہمارے خاندان کا ) نبی تمام انبیاء سے بہتر ہے ، اور وہ تمہارا باپ ہے اور ہمارا شہید تمام شہداء سے بہتر ہے ، اور وہ تمہارے باپ کا چچا حمزہ ہے ، ہم میں سے ایک فرد وہ ہے جس کے دو پر ہیں ۔ وہ ان کے ذریعے جنت میں جہاں چاہے ، وہ اڑ کے چلا جاتا ہے اور وہ تمہارے باپ کا چچا زاد جعفر ہے ، اور ہم میں سے اس امت کے دو ’’ سبط ‘‘ ( یعنی نواسے ) ہیں ، یعنی حسن اور حسین ، وہ دونوں تمہارے بیٹے ہیں ، اور ہم میں سے مہدی ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14969

Majma al-Zawaid #14969

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي يَوْمًا، إِذْ قَالَتِ الْخَادِمُ: إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ. قَالَتْ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قُومِي، فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي "". قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَمَعَهُمَا ابْنَاهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ، فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ، فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا، وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى، فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا، فَأَغْدَقَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ، أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي "". قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" وَأَنْتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, may Allah be pleased with her, reported that while the Messenger of Allah ﷺ was in her house, the servant announced ʿAlī and Fāṭima at the entrance. He told her to rise and withdraw from his Household. She withdrew nearby. ʿAlī and Fāṭima entered with their sons al-Ḥasan and al-Ḥusayn, two little boys. He took the boys into his lap, kissed them, embraced ʿAlī with one hand and Fāṭima with the other, kissed each, covered them with a black cloak, and prayed for their direction to Allah rather than Fire. When Umm Salama asked for herself, he included her. > **"O Allah, to You, not to the Fire, I and my Household. And you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے گھر میں موجود تھے اسی دوران خادم نے بتایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دروازے پر موجود ہیں ( یا آ رہے ہیں ) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اٹھ جاؤ ، اور میرے اہل بیت سے ذرا ہٹ جاؤ ! سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں بٹ گئی اور گھر میں ایک طرف ہو کے بیٹھ گئی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اندر آئے ، ان دونوں کے ساتھ ان کے بچے حسن اور حسین تھے ، یہ دونوں کمسن بچے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں بچوں کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھایا اور ان دونوں کو بوسہ دیا ، آپ نے ایک طرف سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لگایا دوسرے ہاتھ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لگا کے انہیں بوسہ دیا ، آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی بوسہ دیا ، پھر آپ نے ان پر ایک سیاہ رنگ کی چادر ڈالی اور پھر یہ کہا : ’’ اے اللہ ! تیری طرف آئیں گے ، جہنم کی طرف نہیں جائیں گے ، میں اور میرے اہل بیت ۔‘‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

14970

Majma al-Zawaid #14970

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ: "" ائْتِنِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ "". فَجَاءَتْ بِهِمْ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِسَاءً كَانَ تَحْتِي خَيْبَرِيًّا أَصَبْنَاهُ مِنْ خَيْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرِّفَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, wife of the Prophet ﷺ, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ told Fāṭima to bring her husband and sons. She brought them, and he cast over them a Khaybarī cloak from beneath her, obtained from Khaybar, then prayed for blessings upon the family of Muḥammad as upon the family of Ibrāhīm. > **"O Allah, these are the family of Muḥammad. Grant Your prayers and blessings upon the family of Muḥammad as You granted them upon the family of Ibrāhīm. You are Praiseworthy, Glorious."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں کو لے کے میرے پاس آؤ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا انہیں ساتھ لے کے آئیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان پر چادر ڈالی جو میرے نیچے موجود تھی ، وہ خیبر سے بنی ہوئی چادر تھی جو ہمیں خیبر سے ملی تھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! یہ آل محمد ہیں ، تو اپنی رحمتیں اور برکتیں محمد کی آل پر نازل فرما ، جس طرح تو نے انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر نازل کیا تھا ، بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، جس میں اختصار کے ساتھ صرف نماز کا ذکر ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ رفاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14971

Majma al-Zawaid #14971

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَرِّكَةً الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، فِي يَدِهَا بُرْمَةٌ لِلْحَسَنِ فِيهَا سَخِينٌ، حَتَّى أَتَتْ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قُدَّامَهُ قَالَ لَهَا: "" أَيْنَ أَبُو حَسَنٍ؟ "". قَالَتْ: فِي الْبَيْتِ، فَدَعَاهُ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَأْكُلُونَ. قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَمَا سَامَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَكَلَ طَعَامًا قَطُّ إِلَّا وَأَنَا عِنْدَهُ إِلَّا سَامَنِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ - تَعْنِي سَامَنِي: دَعَانِي إِلَيْهِ - فَلَمَّا فَرَغَ، الْتَفَّ عَلَيْهِمْ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُمْ، وَوَالِ مَنْ وَالَاهُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, may Allah be pleased with her, reported that Fāṭima, daughter of the Prophet ﷺ, came carrying al-Ḥasan and al-Ḥusayn with a pot of hot food in her hand. When she set it before him, he asked where Abū Ḥasan was. She said at home, so he summoned him. The Prophet ﷺ, ʿAlī, Fāṭima, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn sat eating. Umm Salama noted he did not invite her that day though he always had before. When finished, he wrapped them in his garment and prayed for enmity to their enemy and loyalty to their ally. > **"O Allah, oppose whoever opposes them and befriend whoever befriends them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا ، ان کے ایک ہاتھ میں ہنڈیا بھی تھی جس میں گرم کھانا موجود تھا ، وہ اسے لے کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تھیں اور انہوں نے وہ ہنڈیا نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھی تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : ابوالحسن کہاں ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : وہ گھر میں ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلوایا ، پھر نبی اکرم ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حسن و حسین بیٹھے اور کھانے لگے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس وقت مجھے کھانے کی دعوت نہیں دی حالانکہ اس سے پہلے آپ جب بھی کوئی کھانا کھاتے تھے اور میں آپ کے پاس موجود ہوتی تھی ، تو آپ مجھے کھانے کی دعوت دے دیتے تھے ، لیکن اس دن ایسا نہیں ہوا ، جب نبی اکرم ﷺ فارغ ہوئے تو آپ نے ان لوگوں پر اپنا کپڑا ڈالا اور پھر یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! جو ان سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا اور جو ان سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

14972

Majma al-Zawaid #14972

وَعَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَذَكَرُوا عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَلَمَّا قَامُوا قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: أَتَيْتُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ، قَالَتْ: تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ، حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ، أَخَذَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ، حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ، وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذٍ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ أَوْ كِسَاءَهُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]، وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَزَادَ: "" «إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ» "". وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، سَيِّئُ الْحِفْظِ، رَجُلٌ صَالِحٌ فِي نَفْسِهِ.

EnglishUnverified translation

Shaddād Abū ʿAmmār reported that he visited Wāthila ibn al-Asqaʿ while people mentioned ʿAlī, may Allah be pleased with him. After they left, Wāthila offered what he had seen from the Messenger of Allah ﷺ. He had gone to Fāṭima, may Allah be pleased with her, asking for ʿAlī, and she said he went to the Messenger of Allah ﷺ with Ḥasan and Ḥusayn. He waited until the Messenger of Allah ﷺ came holding each boy by a hand, entered, drew ʿAlī and Fāṭima near, seated each boy upon a thigh, wrapped them in his garment or cloak, recited the verse of purification, and declared them his Household most worthy. > **"Allah intends only to remove impurity from you, O Household, and to purify you thoroughly. O Allah, these are my Household, and my Household are most worthy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شداد ابوعمار بیان کرتے ہیں : میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے پاس کچھ لوگ موجود تھے ۔ ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ( اور ان پر تنقید کی ) جب وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں وہ بات بتاؤں جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دیکھی ہے ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو انہوں نے بتایا میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا میں نے ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا : وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گئے ہیں ، اور ان کے ساتھ حسن اور حسین ہیں ، میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ، آپ کے ساتھ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ تھے ، آپ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک ہاتھ سے پکڑا ہوا تھا ، آپ گھر کے اندر تشریف لے آئے ، آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے قریب آئے ، آپ نے حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو ، ان دونوں میں سے ہر ایک کو زانوں پر بٹھایا ، پھر آپ نے ان پر اپنا کپڑا ڈالا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اپنی چادر ڈالی پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حق رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :” تیری طرف ! جہنم کی طرف نہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے ، اور خراب حافظے کا مالک ہے ، اپنی ذات کے اعتبار سے وہ ایک نیک شخص ہے ۔

14973

Majma al-Zawaid #14973

وَعَنْ أَبِي عَمَّارٍ أَيْضًا قَالَ: «إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، إِذْ ذَكَرُوا عَلِيًّا فَشَتَمُوهُ، فَلَمَّا قَامُوا قَالَ: اجْلِسْ أُخْبِرْكَ عَنِ الَّذِي شَتَمُوا؛ إِنِّي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً لَهُ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَا؟ قَالَ: " وَأَنْتَ ". قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَأَوْثَقُ عَمَلِي فِي نَفْسِي».

EnglishUnverified translation

Abū ʿAmmār also reported that while sitting with Wāthila ibn al-Asqaʿ people reviled ʿAlī. After they rose, Wāthila told him of the reviled one: one day with the Messenger of Allah ﷺ, ʿAlī, Fāṭima, Ḥasan, and Ḥusayn, may Allah be pleased with them, came, and the Prophet ﷺ cast his cloak over them and prayed for removal of impurity and thorough purification. When Wāthila asked for himself, the Prophet ﷺ included him, which Wāthila deemed his most binding deed. > **"O Allah, my Household, remove impurity from them and purify them thoroughly. And you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعمار ہی سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران کچھ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں برا کہا ، جب وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے ، تو حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تمہیں اس شخصیت کے بارے میں بتاتا ہوں ، جسے یہ لوگ برا کہہ رہے تھے ، ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، نبی اکرم ﷺ نے ان پر اپنی چادر ڈالی اور پھر یہ فرمایا : ’’ اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ، تو ان سے گندگی کو دور کر دے اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی ان میں شامل ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بھی ہو ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل وثوق عمل یہی ہے ۔

14974

Majma al-Zawaid #14974

وَفِي رِوَايَةٍ: «إِنَّهَا لَأَرْجَى مَا أَرْجُو». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ السِّيَاقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كُلْثُومِ بْنِ زِيَادٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration Wāthila described that inclusion as his most hopeful expectation. > **"It is the most hopeful of what I hope for."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : مجھے جس چیز کے حوالے سے سب سے زیادہ امید ہے وہ یہی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے سیاق کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف کلثوم بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

14975

Majma al-Zawaid #14975

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: «خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ عَلِيًّا، فَقِيلَ لِي: هُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّمْتُ إِلَيْهِمْ، فَأَجِدُهُمْ فِي حَظِيرَةٍ مِنْ قَصَبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ قَدْ جَمَعَهُمْ تَحْتَ ثَوْبٍ، قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنَّكَ جَعَلْتَ صَلَوَاتِكَ، وَرَحْمَتَكَ، وَمَغْفِرَتَكَ، وَرِضْوَانَكَ، عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthila ibn al-Asqaʿ, may Allah be pleased with him, reported that seeking ʿAlī he was told he was with the Messenger of Allah ﷺ. He found them in a reed enclosure: the Messenger of Allah ﷺ, ʿAlī, Fāṭima, Ḥasan, and Ḥusayn gathered beneath a garment, and the Prophet ﷺ prayed for his prayers, mercy, forgiveness, and pleasure upon himself and them. > **"O Allah, You have granted Your prayers, mercy, forgiveness, and pleasure upon me and upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نکلا ، میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہ رہا تھا ، مجھے بتایا گیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود ہیں ، میں ان لوگوں کی طرف چلا گیا ۔ میں نے ان حضرات کو کانے کے بنے ہوئے ایک چھپر میں پایا ، نبی اکرم ﷺ تھے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں کپڑے کے نیچے رکھا اور پھر یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! تو اپنی برکتیں رحمتیں مغفرت اور رضامندی مجھ پر اور ان لوگوں پر نازل فرما ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

14976

Majma al-Zawaid #14976

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي خَمْسَةٍ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]: فِيَّ، وَفِي عَلِيٍّ، وَفَاطِمَةَ، وَحَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زَبَّانٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said the verse of purification came down concerning five: himself, ʿAlī, Fāṭima, Ḥasan, and Ḥusayn, may Allah be pleased with them. > **"This verse came down concerning five: concerning me, ʿAlī, Fāṭima, Ḥasan, and Ḥusayn. Allah intends only to remove impurity from you, O Household, and to purify you thoroughly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ آیت ان پانچ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے اے اہل بیت ! کہ وہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ان پانچ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے ) میرے بارے میں ، علی فاطمہ حسن اور حسین کے بارے میں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن یحیی بن زبان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14977

Majma al-Zawaid #14977

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَهْلُ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِيرًا، فَعَدَّهُمْ فِي يَدِهِ، فَقَالَ: خَمْسَةٌ: رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ». وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reported that the Household from whom Allah removed impurity and purified thoroughly were five counted on his hand: the Messenger of Allah ﷺ, ʿAlī, Fāṭima, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn. He added that the verse came down in the house of Umm Salama, may Allah be pleased with her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اہل بیت جن سے اللہ تعالیٰ نے گندگی کو دور کر دیا ہے ، اور انہیں اچھی طرح پاک کر دیا ہے ، تو انہوں نے ان کو ہاتھ پر شمار کرتے ہوئے بتایا : وہ پانچ ہیں ، اللہ کے رسول ﷺ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ آیت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں نازل ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14978

Majma al-Zawaid #14978

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ، وَمَنْ قَاتَلَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ كَمَنْ قَاتَلَ مَعَ الدَّجَّالِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ: الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاهِرٍ، وَهُمَا مَتْرُوكَانِ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ likened his Household to the ark of Nūḥ, peace be upon him: whoever boards is saved and whoever lags is drowned, and whoever fights them in the last age is as one fighting with the Dajjāl. > **"The likeness of my Household is as the ark of Nūḥ. Whoever boards it is saved and whoever lags from it is drowned, and whoever fights us in the last age is as one fighting with the Dajjāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے ، جو شخص اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا ، اور جو شخص اس سے رہ گیا وہ ڈوب گیا ، جو شخص آخری زمانے میں ہمارے ساتھ جنگ کرے گا ، وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو دجال کے ساتھ مل کر جنگ کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن داہر ہے ، اور یہ دونوں متروک ہیں ۔

14979

Majma al-Zawaid #14979

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ ; مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ likened his Household to the ark of Nūḥ: whoever boards is saved and whoever lags is drowned. > **"The likeness of my Household is as the ark of Nūḥ. Whoever boards it is saved, and whoever lags from it is drowned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے ، جو شخص اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا ، اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ڈوب گیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے ۔

14980

Majma al-Zawaid #14980

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ ; مَنْ رَكِبَهَا سَلِمَ، وَمَنْ تَرَكَهَا غَرِقَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Zubayr, may Allah be pleased with them both, reported that the Prophet ﷺ likened his Household to the ark of Nūḥ: whoever boards is safe and whoever abandons it is drowned. > **"The likeness of my Household is as the ark of Nūḥ. Whoever boards it is safe, and whoever abandons it is drowned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے ، جو شخص اس پر سوار ہو گیا وہ سلامت رہا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ ڈوب گیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔

14981

Majma al-Zawaid #14981

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّمَا مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ ; مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ، وَإِنَّمَا مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ بَابِ حِطَّةٍ فِي إِسْرَائِيلَ ; مَنْ دَخْلَهُ غُفِرَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Prophet ﷺ liken his Household among them to the ark of Nūḥ and to the gate of Ḥiṭṭa among Israel: boarding saves and lagging drowns, and entering it brings forgiveness. > **"The likeness of my Household among you is as the ark of Nūḥ. Whoever boards it is saved, and whoever lags from it is drowned. And the likeness of my Household among you is as the gate of Ḥiṭṭa among Israel. Whoever enters it is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے ، جو شخص اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا ، اور جو شخص اس سے پیچھے رہ گیا وہ ڈوب گیا ، اور تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال بنی اسرائیل میں باب حطہ کی مانند ہے ، جو شخص اس میں داخل ہو گیا اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14982

Majma al-Zawaid #14982

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ: {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: 23] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ قَرَابَتُكَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتُهُمْ؟ قَالَ: عَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَابْنَاهُمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ، وَقَدْ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that when the verse commanding affection for kin was revealed, the people asked who the kin whose affection was obligatory were, and the Prophet ﷺ named ʿAlī, Fāṭima, and their two sons, may Allah be pleased with them. > **"ʿAlī, Fāṭima, and their two sons."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تم یہ فرما دو کہ میں اس کے حوالے سے تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا البتہ رشتے داری کی محبت کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے رشتے دار کون ہیں ؟ جن کے ساتھ محبت رکھنا ہم پر واجب ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : علی ، فاطمہ اور ان دونوں کے دونوں بیٹے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

14983

Majma al-Zawaid #14983

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حُرُمَاتٍ ثَلَاثًا، مَنْ حَفِظَهُنَّ حَفِظَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَ دِينِهِ وَدُنْيَاهُ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْهُنَّ لَمْ يَحْفَظِ اللَّهُ لَهُ شَيْئًا: حُرْمَةُ الْإِسْلَامِ، وَحُرْمَتِي، وَحُرْمَةُ رَحِمِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke of three sanctities of Allah: whoever guards them Allah guards his religion and world, and whoever neglects them Allah guards nothing for him: the sanctity of Islam, his own sanctity, and the sanctity of his kinship. > **"Allah has three sanctities. Whoever guards them, Allah guards for him his religion and world, and whoever does not guard them, Allah guards nothing for him: the sanctity of Islam, my sanctity, and the sanctity of my kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کی تین حرمتیں ہیں جو شخص ان کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کے دین اور دنیا کے معاملات کی حفاظت کرتا ہے ، اور جو شخص ان کی حفاظت نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کی کسی چیز کی حفاظت نہیں کرتا ، اسلام کی حرمت ، میری حرمت اور میری رشتے داری کی حرمت ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14984

Majma al-Zawaid #14984

«وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، فَحَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَحَمَلَ حَسَنًا مِنْ شِقٍّ، وَحُسَيْنًا مِنْ شِقٍّ، وَفَاطِمَةُ فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: "" رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ، إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Shuʿayb reported that he visited Zaynab bint Abī Salama, may Allah be pleased with her, who told him the Messenger of Allah ﷺ was with Umm Salama, holding Ḥasan on one side, Ḥusayn on the other, and Fāṭima in his lap, then invoked mercy and blessings upon the Household. > **"The mercy of Allah and His blessings upon you, O Household. He is Praiseworthy, Glorious."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا : نبی اکرم ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے آپ نے ایک طرف حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا اور دوسری طرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں تم پر نازل ہوں ، بے شک وہ لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14985

Majma al-Zawaid #14985

وَعَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي بَابَ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَيَقُولُ: "" {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ḥamrāʾ, may Allah be pleased with him, reported that he saw the Messenger of Allah ﷺ come to the door of Fāṭima, may Allah be pleased with her, for six months, reciting the verse of purification. > **"Allah intends only to remove impurity from you, O Household, and to purify you thoroughly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالحمراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ چھ ماہ تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر آتے رہے اور یہ پڑھتے رہے : ’’ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے ، اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور ضعیف ہے ۔

14986

Majma al-Zawaid #14986

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، فَإِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ أَتَى بَابَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: "" الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ، {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ} [الأحزاب: 33]». الْآيَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسَلِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Barza, may Allah be pleased with him, reported that he prayed with the Messenger of Allah ﷺ for seventeen months, and whenever the Prophet ﷺ left his house he came to the door of Fāṭima announcing prayer and reciting the verse of purification. > **"Prayer upon you. Allah intends only to remove impurity from you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سترہ ماہ تک نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کرتا رہا ، آپ اپنے گھر سے نکلتے تھے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر آتے تھے اور یہ فرماتے تھے ، نماز کا وقت ہو گیا ہے ، اللہ تعالیٰ تم لوگوں پر رحمت نازل کرے ، اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شعیب مسلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14987

Majma al-Zawaid #14987

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى بَابِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَرْبَعِينَ صَبَاحًا بَعْدَمَا دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ: "" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ came to the door of ʿAlī, may Allah be pleased with him, for forty mornings after his union with Fāṭima, greeting the Household with peace, mercy, and blessings and reciting the verse of purification. > **"Peace upon you, O Household, and the mercy of Allah and His blessings. Allah intends only to remove impurity from you, O Household, and to purify you thoroughly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے بعد چالیس دن تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تشریف لاتے رہے ، اور یہ فرماتے رہے : ’’ تم پر سلام ہو اے اہل بیت ! اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14988

Majma al-Zawaid #14988

«وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ بَسَطَ شَمْلَةً، فَجَلَسَ عَلَيْهَا هُوَ وَعَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَجَامِعِهِ فَعَقَدَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ ارْضَ عَنْهُمْ كَمَا أَنَا عَنْهُمْ رَاضٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُبَيْدِ بْنِ طُفَيْلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، كُنْيَتُهُ: أَبُو سِيدَانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allah be pleased with him, reported that he entered upon the Prophet ﷺ when he had spread a wrap. He sat with him alongside Fāṭima, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn, whereupon the Prophet ﷺ gathered its edges over them and prayed for Allah's pleasure with them as his own. > **"O Allah, be pleased with them as I am pleased with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر بچھائی ہوئی تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس پر بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ ، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس پر موجود تھے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کے کناروں کو پکڑا اور وہ چادر ان پر ڈال کر ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! ان سے راضی ہو جا جس طرح میں ان سے راضی ہوں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبید بن طفیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس کی کنیت ابوسیّدان ہے ۔

14989

Majma al-Zawaid #14989

«وَعَنْ صُبَيْحٍ قَالَ: كُنْتُ بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ عَلِيٌّ، وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، فَجَلَسُوا نَاحِيَةً، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْنَا، فَقَالَ: "" إِنَّكُمْ عَلَى خَيْرٍ "". وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ خَيْبَرِيٌّ، فَجَلَّلَهُمْ بِهِ، وَقَالَ: "" أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ، سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ṣubayḥ, may Allah be pleased with him, reported that he was at the Prophet's ﷺ door when ʿAlī, Fāṭima, al-Ḥasan, and al-Ḥusayn sat aside. The Messenger of Allah ﷺ came out in a Khaybarī cloak, declared them upon good, covered them with it, and announced war and peace by their measure. > **"You are upon good. I am war to whoever wars you, and peace to whoever makes peace with you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صبیح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر موجود تھا اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے ، یہ لوگ ایک کونے میں بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ بھلائی پر ہو ۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت نبی اکرم ﷺ کے جسم پر خیبر کی چادر موجود تھی ، آپ نے وہ چادر ان پر ڈال دی اور یہ فرمایا : ’’ میں اس شخص سے جنگ کروں گا جو تم سے جنگ کرے گا ، اور اس شخص کے ساتھ سلامتی والا رہوں گا جو تمہارے ساتھ سلامتی والا رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14990

Majma al-Zawaid #14990

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَلِيٍّ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَفَاطِمَةَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ - فَقَالَ: "" أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ، سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ looked at ʿAlī, al-Ḥasan, al-Ḥusayn, and Fāṭima, peace upon them, and announced war to their enemy and peace to their ally. > **"I am war to whoever wars you, and peace to whoever makes peace with you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور سیده فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ’’ میں اس کے ساتھ جنگ کروں گا جو تمہارے ساتھ جنگ رکھے گا ، اور اس کے ساتھ سلامت رہوں گا جو تمہارے ساتھ سلامت رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی تلید بن سلیمان ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14991

Majma al-Zawaid #14991

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَاةٍ لَنَا بَكِيءٌ، فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ، فَجَاءَ الْحَسَنُ فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا، وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ "". ثُمَّ قَالَ: "" إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا، وَالْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، نِيَامٌ فِي لِحَافٍ - أَوْ فِي شِعَارٍ - فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِنَاءٍ لَنَا، فَصَبَّ فِي الْقَدَحِ، فَجَاءَ بِهِ، فَوَثَبَ الْحُسَيْنُ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" إِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ، وَإِنِّي وَإِيَّاكِ، وَهَذَيْنِ، وَهَذَا الرَّاقِدَ، فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَقَامَ إِلَى قِرْبَةٍ لَنَا، فَجَعَلَ يُمَصِّرُهَا فِي الْقَدَحِ، وَقَالَ: "" إِنَّهُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ». وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ entered upon him while he slept. Al-Ḥasan and al-Ḥusayn asked for drink, so the Messenger of Allah ﷺ rose to a scanty-milked goat of theirs, milked it, and it flowed. Al-Ḥasan came forward and the Prophet ﷺ set him aside in turn, whereupon Fāṭima asked if he were dearer to him. He replied that the other had asked first, then declared that he, Fāṭima, the two boys, and the sleeper would be in one place on Resurrection Day. In the wording of Aḥmad and al-Bazzār they slept under a cover and he poured from a vessel into a cup while al-Ḥusayn leapt up, and he repeated the same promise. In the wording of al-Ṭabarānī he pressed a waterskin into the cup and declared them of one rank with him. > **"No, but he asked for drink before him. I, you, these two, and this sleeper shall be in one place on Resurrection Day. They are with me of one rank."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں اس وقت سویا ہوا تھا ، حسن اور حسین نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، تو نبی اکرم ﷺ ہماری بکری کی طرف اٹھ کے گئے ، جس کا دودھ کم آتا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کا دودھ دوہ لیا تو وہ زیادہ نکل آیا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک طرف کیا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یوں لگتا ہے جیسے ان دونوں میں سے یہ آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ، بلکہ اس نے اس سے پہلے پینے کے لیے مانگا تھا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اور تم اور یہ دونوں ( بچے ) اور یہ سویا ہوا شخص ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ) قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں ، حسن اور حسین ایک لحاف میں سو رہے تھے ، حسن نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، نبی اکرم ﷺ اٹھ کر ہمارے برتن کی طرف گئے ، آپ نے اس میں سے پیالے میں پانی انڈیلا اور اسے لے کے آئے ، اسی دوران حسین بھی اٹھ گیا ، اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا ( یا نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا کہ ابھی ٹھہر جاؤ ) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : یوں لگتا ہے جیسے یہ ان دونوں میں سے آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے پہلے مانگا تھا ، بے شک میں اور تم اور یہ دونوں ( بچے ) اور یہ سویا ہوا شخص ، قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ اٹھ کر ہمارے مشکیزے کی طرف گئے ، آپ نے اسے پیالے میں نچوڑنا شروع کیا اور فرمایا : یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مرتبے کے ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14992

Majma al-Zawaid #14992

وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «قُلْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَيْتَ مِنْهُ، وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِكَ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَا بَيْنَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ عَوْرَةٌ».

EnglishUnverified translation

Abū Jaʿfar Muḥammad ibn ʿAlī reported that they asked ʿAbdullāh ibn Jaʿfar to narrate only what he himself heard from the Messenger of Allah ﷺ or saw from him, even if from another trustworthy source. He reported hearing the Messenger of Allah ﷺ define the private region. > **"What is between the navel and the knee is ʿawra."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر رحمہ اللہ ) بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو یا جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دیکھی ہو ، آپ ہمیں اپنے علاوہ کسی اور کے حوالے سے کوئی حدیث بیان نہ کیجئے گا ، اگرچہ وہ دوسرا شخص ثقہ ہی کیوں نہ ہو ، تو حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ناف سے لے کر گھٹنے تک کے درمیان والا حصہ ستر ہوتا ہے ۔‘‘

14993

Majma al-Zawaid #14993

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ» ".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe the effect of charity upon divine anger. > **"Charity extinguishes the anger of the Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے ۔‘‘

14994

Majma al-Zawaid #14994

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «شِرَارُ أُمَّتِيَ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي النَّعِيمِ وَغُذُّوا بِهِ ; يَأْكُلُونَ مِنَ الطَّعَامِ أَلْوَانًا، يَتَشَدَّقُونَ فِي الْكَلَامِ» ".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe the worst of his umma as those born in luxury, nourished in it, eating many kinds of food, and speaking with affected eloquence. > **"The worst of my umma are those born in luxury and nourished in it. They eat many kinds of food and speak with affected eloquence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت کے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو نعمتوں میں پیدا ہوں گے ، نعمتوں میں ان کی پرورش ہو گی ، انواع و اقسام کے وہ کھانے کھائیں گے ، اور چبا چبا کر باتیں کریں گے ۔‘‘

14995

Majma al-Zawaid #14995

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «يَا بَنِي هَاشِمٍ، إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ لَكُمْ أَنْ يَجْعَلَكُمْ نُجَبَاءَ رُحَمَاءَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَهْدِيَ ضَالَّكُمْ، وَيُؤَمِّنَ خَائِفَكُمْ، وَيُشْبِعَ جَائِعَكُمْ» ".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ address Banū Hāshim with his supplications for nobility, mercy, guidance of their astray, security of their fearful, and satiety of their hungry. > **"O Banū Hāshim, I have asked Allah for you to make you noble and merciful. I asked Him to guide your astray, secure your fearful, and feed your hungry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے بنو ہاشم میں نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی ہے کہ وہ تمہیں نجباء اور رحم کرنے والے بنائے اور میں نے اس سے یہ بھی دعا مانگی ہے کہ وہ تمہارے گمراہ فرد کو ہدایت نصیب کرے تمہارے خوف زدہ شخص کو امان عطا کرے اور تمہارے بھوکے شخص کو سیر کر دے ۔‘‘

14996

Majma al-Zawaid #14996

«وَرَأَيْتُ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِثَّاءً، وَفِي شِمَالِهِ رَطَبَاتٍ، وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ ذَا مَرَّةٍ، وَمِنْ ذَا مَرَّةٍ».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that he saw cucumber in the right hand of the Prophet ﷺ and ripe dates in his left, eating alternately from each.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میں نے نبی اکرم ﷺ کے دائیں ہاتھ میں ککڑی اور بائیں ہاتھ میں کھجوریں دیکھیں ، آپ کبھی یہ کھا رہے تھے اور کبھی وہ کھا رہے تھے ۔

14997

Majma al-Zawaid #14997

«وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً وَأَرْغِفَةً، فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَأْكُلُونَ».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that a sheep and loaves were gifted to the Messenger of Allah ﷺ, and he ate and they ate with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کو ایک بکری ( کا گوشت ) اور کچھ روٹیاں تحفے کے طور پر دی گئیں ، تو آپ نے انہیں کھانا شروع کیا اور لوگوں نے بھی انہیں کھانا شروع کیا ۔

14998

Majma al-Zawaid #14998

وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " «عَلَيْكُمْ بِلَحْمِ الظَّهْرِ ; فَإِنَّهُ مِنْ أَطْيَبِهِ» ".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ commend the meat of the back as among its finest. > **"Upon you is the meat of the back, for it is among its finest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم پر ( جانور کی ) پشت کا گوشت کھانا لازم ہے ، کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے ۔‘‘

14999

Majma al-Zawaid #14999

«وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون: 1]، وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1]».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ recited in the two rakʿas before Fajr and the two after Maghrib the chapters of disbelievers and sincerity. > **"Say, O disbelievers. Say, He is Allah, One."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ فجر سے پہلے کی دو رکعت میں اور مغرب کے بعد والی دو رکعت میں سورت کافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کرتے تھے ۔

15000

Majma al-Zawaid #15000

وَكَانَ مَهْرُ فَاطِمَةَ بِدْنَ حَدِيدٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that the mahr of Fāṭima, may Allah be pleased with her, was a coat of iron.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر لوہے کی بنی ہوئی زرہ تھا ۔

15001

Majma al-Zawaid #15001

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «وَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَلَمَّا رَأَوْنِي سَكَتُوا ; وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِأَنَّهُمْ يُبْغِضُونَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوَقَدْ فَعَلُوهَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّكُمْ، أَيَرْجُونَ أَنْ يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي، وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ!». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ أَكْلُ الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: "" «أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with them both, reported that al-ʿAbbās came to the Messenger of Allah ﷺ complaining that people fell silent at seeing him out of hatred for them. The Messenger of Allah ﷺ asked if they had done so, then swore none believes until he loves them, questioning whether they hope to enter Paradise by his intercession while Banū ʿAbd al-Muṭṭalib do not. > **"Have they done so? By Him in Whose Hand is my soul, none of you believes until he loves you. Do they hope to enter Paradise by my intercession while Banū ʿAbd al-Muṭṭalib do not hope for it?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا حضرت عباس بھی آپ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کچھ لوگوں کے پاس آیا وہ آپس میں بات چیت کر رہے تھے جب انہوں نے مجھے دیکھا ، تو وہ چپ ہو گئے ۔ انہوں نے یہ صرف اس وجہ سے کیا ہے ، کیونکہ وہ لوگ ہم سے بغض رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا ان لوگوں نے ایسا کیا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ان میں سے کوئی ایک شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ لوگوں سے محبت نہیں رکھتا ، کیا وہ لوگ یہ امید رکھتے ہیں کہ میری شفاعت کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور کیا بنو عبدالمطلب کو اس کی امید نہیں ہو گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :” صحیح “ میں اس میں سے صرف کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے والا حصہ مذکور ہے ، اور امام ابن ماجہ نے اس میں سے پشت کے گوشت کے سب سے زیادہ پاکیزہ گوشت ہونے کا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے اور وہ متروک ہے ۔

15002

Majma al-Zawaid #15002

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّكُمْ بِحُبِّي» "". رَوَاهَا فِي الصَّغِيرِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ.

EnglishUnverified translation

In another narration the condition of faith is expressed as love for them through love of the Prophet ﷺ. > **"None of you believes until he loves you for my love."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میری محبت کی وجہ سے وہ آپ لوگوں کے ساتھ محبت نہیں رکھتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

15003

Majma al-Zawaid #15003

وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: «أَقَامَ رِجَالٌ خُطَبَاءَ يَسُبُّونَ عَلِيًّا، حَتَّى كَانَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: أُنَيْسٌ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنِّي لَأَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَكْثَرَ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَجَرٍ وَحَجَرٍ "". وَايْمُ اللَّهِ! مَا أَحَدٌ أَوْصَلُ لِرَحِمِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفَيَرْجُوهَا غَيْرَهُ وَيُقَصِّرُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Shahr ibn Ḥawshab reported that orators stood reviling ʿAlī until the last, an Anṣārī called Unays, declared he heard the Messenger of Allah ﷺ promise intercession for more than the trees and stones upon earth, then swore none maintains kinship like the Messenger of Allah ﷺ and questioned whether others hope for it while his Household fall short. > **"I shall intercede on Resurrection Day for more than the trees and stones upon the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : کچھ خطیب لوگ کھڑے ہوئے اور خطبہ کے دوران انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا ، ان سب سے آخر میں انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کھڑے ہوئے جن کا نام حضرت انیس رضی اللہ عنہ تھا ، انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں قیامت کے دن اس سے زیادہ تعداد کے لوگوں کی شفاعت کروں گا جتنے زمین پر درخت اور پتھر ہیں ۔‘‘ ( پھر حضرت انیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! کوئی بھی شخص اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے ، تو کیا دوسرے لوگوں کو تو شفاعت کی امید ہو گی اور نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کو وہ شفاعت نہیں ملے گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

15004

Majma al-Zawaid #15004

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَعَلِيٌّ نَائِمٌ، وَهِيَ مُضْطَجِعَةٌ، وَابْنَاهُمَا إِلَى جَنْبِهِمَا، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى لِقْحَةٍ لَهُمْ، فَحَلَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى بِهِ، فَاسْتَيْقَظَ الْحُسَيْنُ، فَجَعَلَ يُعَالِجُ أَنْ يَشْرَبَ قَبْلَهُ حَتَّى بَكَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ أَخَاكَ اسْتَسْقَى قَبْلَكَ "". فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: كَأَنَّ الْحَسَنَ آثَرُ عِنْدَكَ؟ فَقَالَ: "" مَا هُوَ بِآثَرَ عِنْدِي مِنْهُ، وَإِنَّهُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، وَإِنِّي وَإِيَّاكِ، وَهَمَا، وَهَذَا النَّائِمَ لَفِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ visited Fāṭima one day while ʿAlī slept and she reclined with their sons beside them. Al-Ḥasan asked for drink, so the Messenger of Allah ﷺ rose to a milch camel of theirs, milked and brought it. Al-Ḥusayn awoke and struggled to drink first until he wept. The Prophet ﷺ explained his brother asked first. When Fāṭima asked if al-Ḥasan held preference, he denied preference and affirmed equal rank, declaring himself, Fāṭima, the two boys, and the sleeper in one place on Resurrection Day. > **"Your brother asked for drink before you. He is not dearer to me than him. They are with me of one rank. I, you, they two, and this sleeper shall be in one place on Resurrection Day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت سو رہے تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں اور ان کے دونوں بیٹے ان کے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے پینے کے لئے کچھ مانگا تو نبی اکرم ﷺ ایک بکری کے پاس تشریف لے گئے جس کے ہاں بچہ ہونے والا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کا دودھ دوہ لیا اور اسے لے کے آئے ، اسی دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی بیدار ہو گئے اور انہوں نے یہ ضد کرنا شروع کی کہ وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے پہلے اسے پیئیں گے ، یہاں تک کہ وہ رونے لگے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے بھائی نے تم سے پہلے یہ مانگا تھا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یوں لگتا ہے جیسے حسن کو آپ کے نزدیک ترجیح حاصل ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ میرے نزدیک اس سے زیادہ ترجیح والا نہیں ہے ، یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مرتبے کے ہیں ، میں اور تم اور یہ دونوں اور یہ سویا ہوا شخص ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ) قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

15005

Majma al-Zawaid #15005

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ: «أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، فَحَدَّثَتْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَفَاطِمَةُ، فَجَعَلَ الْحَسَنَ مِنْ شِقٍّ وَالْحُسَيْنَ مِنْ شِقٍّ، وَفَاطِمَةُ فِي حِجْرِهِ، وَقَالَ: "" رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ، إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ "". وَأَنَا وَأُمُّ سَلَمَةَ جَالِسَتَيْنِ، فَبَكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكِ؟ "". فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَصَصْتَ هَؤُلَاءِ، وَتَرَكْتَنِي أَنَا وَابْنَتِي. فَقَالَ: "" أَنْتِ وَابْنَتُكِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Shuʿayb reported that he visited Zaynab bint Abī Salama, may Allah be pleased with her, who told them the Messenger of Allah ﷺ was with Umm Salama when al-Ḥasan, al-Ḥusayn, and Fāṭima entered. He placed al-Ḥasan on one side, al-Ḥusayn on the other, Fāṭima in his lap, and invoked mercy and blessings upon the Household. When Umm Salama wept that they were singled out apart from her and her daughter, he included them among the Household. > **"The mercy of Allah and His blessings upon you, O Household. He is Praiseworthy, Glorious. What makes you weep? You and your daughter are of the Household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ زینت بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اس خاتون نے انہیں بتایا : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے اسی دوران حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ ایک طرف تھے ۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ دوسری طرف تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا درمیان میں تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور اس کی رحمتیں تم پر نازل ہوں ۔ اے اہل بیت ! بے شک وہ لائق حمد ہے اور وہ بزرگی کا مالک ہے ۔‘‘ سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا وہاں بیٹھی ہوئی تھیں ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! آپ نے ان لوگوں کو مخصوص کر لیا اور مجھے اور میری بیٹی کو چھوڑ دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اور تمہاری بیٹی بھی اہل بیت میں سے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔

15006

Majma al-Zawaid #15006

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: أَنْ يُثَبِّتَ قَائِمَكُمْ، وَيُعَلِّمَ جَاهِلَكُمْ، وَيَهْدِيَ ضَالَّكُمْ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَجْعَلَكُمْ نُجَدَاءَ نَجْدَاءَ رُحَمَاءَ، فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا صَفَنَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَصَلَّى وَصَامَ، ثُمَّ مَاتَ وَهُوَ مُبْغِضٌ لِآلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ النَّارَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْغَلَّابِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَذَكَرَهَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا رَوَى عَنِ الثِّقَاتِ، فَإِنَّ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ الْمَجَاهِيلِ بَعْضَ الْمَنَاكِيرِ. قُلْتُ: رَوَى هَذَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ addressed Banū ʿAbd al-Muṭṭalib with his three requests for steadfastness of their upright, knowledge for their ignorant, guidance for their astray, and for courageous mercy, then warned that one standing between the Corner and the Station in prayer and fasting who dies hating the family of Muḥammad ﷺ enters the Fire. > **"O Banū ʿAbd al-Muṭṭalib, I asked Allah for you three things: to make firm your upright, teach your ignorant, and guide your astray. I asked Him to make you courageous and merciful. Had a man stood between the Corner and the Station in prayer and fasting, then died hating the family of Muḥammad, he would enter the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اولاد عبدالمطلب ! میں نے اللہ تعالیٰ سے آپ لوگوں کے لئے تین چیزیں مانگی ہیں ۔ یہ کہ آپ کے کھڑے ہوئے شخص کو وہ ثابت قدم رکھے اور آپ کے ناواقف شخص کو علم عطا کرے اور آپ کے گمراہ شخص کو ہدایت نصیب کرے اور میں نے اس سے یہ بھی دعا مانگی ہے کہ وہ آپ لوگوں کو بہادر اور رحم کرنے والا بنائے ، اگر کوئی شخص رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑا ہو کے نماز ادا کرے اور وہ روزہ رکھتا ہو اور پھر وہ ایسی حالت میں مرے کہ وہ حضرت محمد ( ﷺ ) کے اہل بیت سے بغض رکھتا ہو تو وہ شخص جہنم میں جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن زکریا غلابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے وہ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جبکہ اس نے ثقہ راویوں سے روایت نقل کی ہو کیونکہ مجہول راویوں سے اس کی نقل کردہ روایات میں کچھ منکر ہونا پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس نے یہ روایت سفیان ثوری کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس باب میں ایک طویل حدیث گزر چکی ہے جو حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔

15007

Majma al-Zawaid #15007

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْزَمُوا مَوَدَّتَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ ; فَإِنَّهُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَهُوَ يَوَدُّنَا دَخَلَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِنَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَنْفَعُ عَبْدًا عَمَلُهُ إِلَّا بِمَعْرِفَةِ حَقِّنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan ibn ʿAlī, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded holding to love of the Household, for whoever meets Allah loving them enters Paradise by their intercession, and no deed benefits a servant without recognition of their right. > **"Hold to love of us, the Household. Whoever meets Allah loving us enters Paradise by our intercession. By Him in Whose Hand is my soul, no deed benefits a servant except by recognition of our right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہماری یعنی اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑو کیونکہ جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ ہم سے محبت رکھتا ہو ، تو وہ شخص ہماری شفاعت کی وجہ جنت میں داخل ہو گا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! بندے کا عمل اسے اس وقت تک نفع نہیں دے گا جب تک وہ ہمارے حق کی معرفت حاصل نہیں کر لیتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور دوسرے لوگ بھی ہیں ۔