Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 17

Book of Virtues and Merits

Hadith 14928–14967

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14928

Majma al-Zawaid #14928

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَصُهَيْبُ سَابِقُ الرُّومِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشَةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ فَارِسَ إِلَى الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: أَيُّوبُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ الصُّورِيُّ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بَقِيَّةَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāma al-Bāhilī, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say he is the forerunner of the Arabs to Paradise, Ṣuhayb of Rome, Bilāl of Abyssinia, and Salmān of Persia. > **"I am the forerunner of the Arabs to Paradise, Ṣuhayb is the forerunner of Rome to Paradise, Bilāl is the forerunner of Abyssinia to Paradise, and Salmān is the forerunner of Persia to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : عربوں میں جنت کی طرف سبقت لے جانا والا میں ہوں ، رومیوں میں صہیب جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے ، حبشیوں میں بلال جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے اور فارسیوں میں سلمان جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن ابوسلیمان صوری ہے ، جو امام طبرانی کا استاد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں اور بقیہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

14929

Majma al-Zawaid #14929

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: وَيَا عُمَرُ فَقَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا بِوَحْيٍ أُنْزِلَ عَلَيَّ مِنَ السَّمَاءِ فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي الدُّنْيَا وَأَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَلْيُصَافِحْهُ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِ عُمَرَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" يَكُونُ قَبْلَهُ وَيَمُوتُ قَبْلَهُ "". وَقَالَ: "" يَا زُبَيْرُ، يَا طَلْحَةُ تَعَالَا، أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي الدُّنْيَا وَأَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ "" فَفَعَلَا. ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَلِيُّ تَعَالَ، يَا عَمَّارُ تَعَالَ، أُمِرْتُ أَنْ أُؤَاخِيَ بَيْنَكُمَا فَأَنْتُمَا أَخَوَانِ فِي اللَّهِ أَخَوَانِ فِي الْجَنَّةِ، فَلْيُسَلِّمْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى صَاحِبِهِ "" فَفَعَلَا. ثُمَّ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا. ثُمَّ قَالَ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ وَلِسَلْمَانَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا. ثُمَّ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَلِصُهَيْبٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا. ثُمَّ لِأَبِي ذَرٍّ وَلِبِلَالٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا. ثُمَّ قَالَ: "" يَا أُسَامَةُ، يَا أَبَا هِنْدٍ تَعَالَا "" - حَجَّامًا كَانَ يَحْجِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ دَمَهُ فَقَالَا: "" فَقَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ. وَلِأَبِي أَيُّوبَ وَلِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَا، قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn ʿĀmir al-Jumaḥī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ called Abū Bakr and ʿUmar and joined them as brothers in this world and Paradise by revealed command, smiling that one precedes and dies before the other. He likewise joined al-Zubayr with Ṭalḥa, ʿAlī with ʿAmmār as brothers for Allah, Ubayy ibn Kaʿb with Ibn Masʿūd, Abū al-Dardāʾ with Salmān, Saʿd ibn Abī Waqqāṣ with Ṣuhayb, Abū Dharr with Bilāl, Usāma with Abū Hind the cupper who cupped the Prophet ﷺ, and Abū Ayyūb with ʿAbdullāh ibn Salām, commanding each to greet and shake hands. > **"I have been commanded to join you in brotherhood by revelation sent down upon me from heaven, so you are brothers in this world and brothers in Paradise. Let each of you greet his fellow and shake his hand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوبکر ، پھر آپ نے فرمایا : اے عمر مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں وحی کے حکم مطابق تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دوں ، جو وحی مجھ پر آسمان سے نازل ہوئی ہے ، تو تم دونوں دنیا میں بھی بھائی ہو اور جنت میں بھی بھائی ہو گے ، تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کو سلام کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ مصافحہ کرنا چاہیے ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا ، نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے اور آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس سے پہلے ہو گا ، اور یہ اس سے پہلے مرے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے زبیر اور اے طلحہ ! تم دونوں آگے آؤ ، مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کروں ، تو تم دونوں دنیا میں بھائی ہو اور جنت میں بھی دو بھائی ہو گے ، تم میں سے ہر ایک کو دوسرے سے سلام کرنا چاہیے ، تو ان دونوں نے بھی ایسا ہی کیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے علی تم آگے آؤ ، اے عمار تم آگے آؤ ، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کروں ، تو تم دونوں اللہ کے لئے ایک دوسرے کے بھائی ہو اور جنت میں بھی دو بھائی ہو گے ، تم دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کو سلام کرنا چاہیے ، تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی ہی بات کہی تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اسامہ اور اے ابوہند تم دونوں آگے آؤ ، ابوہند ایک پچھنے لگانے والے صاحب تھے جو نبی اکرم ﷺ کو پچھنے لگایا کرتے تھے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا خون پیا ہوا تھا ، وہ دونوں کھڑے ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو بھی اس کی مانند بات ارشاد فرمائی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی مانند بات ارشاد فرمائی تو ان دونوں نے بھی ایسا ہی کیا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14930

Majma al-Zawaid #14930

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَرْحَمُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَرْفَقُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي عُمَرُ، وَأَصْدَقُ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَى أُمَّتِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَامَ الْعُلَمَاءِ بِرَتْوَةٍ، وَأَقْرَأُ أُمَّتِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَفْقَهُهَا زَيْدُ بْنُ ثَاَبِتٍ، وَقَدْ أُوتِيَ عُوَيْمِرُ عِبَادَةً، يَعْنِي: أَبَا الدَّرْدَاءِ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh al-Anṣārī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ named Abū Bakr most merciful, ʿUmar most gentle, ʿUthmān most truthful in modesty, ʿAlī ibn Abī Ṭālib most judicious, Muʿādh ibn Jabal most learned in lawful and unlawful coming before scholars by an elevation, Ubayy ibn Kaʿb best reciter, Zayd ibn Thābit most understanding, and ʿUwaymir, meaning Abū al-Dardāʾ, given worship. > **"The most merciful of my umma to my umma is Abū Bakr, the gentlest of my umma to my umma is ʿUmar, the most truthful of my umma in modesty is ʿUthmān, the most judicious of my umma is ʿAlī ibn Abī Ṭālib, the most learned of them in lawful and unlawful is Muʿādh ibn Jabal who comes on Resurrection Day ahead of the scholars by an elevation, the best reciter of my umma is Ubayy ibn Kaʿb, the most understanding of them is Zayd ibn Thābit, and ʿUwaymir has been given worship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے لئے میری امت میں سب سے رحم کرنے والا ابوبکر ہے ، اور میری امت کے لئے میری امت میں سب سے زیادہ مہربان عمر ہے ، اور میری امت میں حیاء کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے ، اور میری امت میں عدالتی فیصلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا علی بن ابوطالب ہے ، اور ان میں حلال اور حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذ بن جبل ہے ، جو قیامت کے دن علماء کے آگے ’’ رتوۃ “ ( یعنی نمایاں حیثیت والے ) کے طور پر آئے گا ، اور میری امت کا قرآن کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے ، اور سب سے زیادہ ( دین کی ) سمجھ بوجھ رکھنے والا زید بن ثابت ہے ، اور عویمر کو عبادت عطا کی گئی ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں اس سے مراد حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی رضامندی ان سب حضرات پر ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

14931

Majma al-Zawaid #14931

وَعَنْ عَلِيٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا إِنَّ الْجَنَّةَ اشْتَاقَتْ إِلَى أَرْبَعَةٍ مِنْ أَصْحَابِي، فَأَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أُحِبَّهُمْ "". فَانْتَدَبَ صُهَيْبٌ الرُّومِيُّ، وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ حَتَّى نُحِبَّهُمْ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَمَّارُ، عَرَّفَكَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةُ فَأَحَدُهُمْ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ، وَالثَّالِثُ: سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، وَالرَّابِعُ: أَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allah be pleased with him, reported from the Messenger of Allah ﷺ that Paradise longs for four of his companions and his Lord commanded him to love them. When Ṣuhayb al-Rūmī, Bilāl ibn Rabāḥ, Ṭalḥa, al-Zubayr, Saʿd ibn Abī Waqqāṣ, Ḥudhayfa ibn al-Yamān, and ʿAmmār ibn Yāsir asked who the four were, he told ʿAmmār that Allah had made him know the hypocrites, and named the four as ʿAlī ibn Abī Ṭālib, al-Miqdād ibn al-Aswad al-Kindī, Salmān al-Fārisī, and Abū Dharr al-Ghifārī. > **"Paradise longs for four of my companions, and my Lord has commanded me to love them. One of them is ʿAlī ibn Abī Ṭālib, al-Miqdād ibn al-Aswad al-Kindī, the third is Salmān al-Fārisī, and the fourth is Abū Dharr al-Ghifārī."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ خبردار ! جنت میرے اصحاب میں سے چار افراد کی مشتاق ہے اور میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں ان ( چار افراد ) سے محبت رکھوں ، اس وقت حضرت صہیب رومی ، حضرت بلال بن رباح ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت حذیفہ بن یمان ، اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم موجود تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ا وہ چار افراد کون ہیں ( آپ ہمیں اس بارے میں بتائیے ) تاکہ ہم ان سے محبت رکھیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عمار ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں منافقین کی معرفت عطا کی ہے ، جہاں تک ان چار افراد کا تعلق ہے تو ان میں سے ایک علی بن ابوطالب ہے ، ایک مقداد بن اسود کندی ہے ، تیسرا سلمان فارسی ہے اور چوتھا ابوذر غفاری ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔

14932

Majma al-Zawaid #14932

عَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِكَ أَرْبَعَةٌ، وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُحِبَّهُمْ "". قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: سَمِّهِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" أَمَا إِنَّ عَلِيًّا مِنْهُمْ "". حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدَاةُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النَّفَرُ الَّذِينَ أَخْبَرَكَ اللَّهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ؟ قَالَ: "" عَلِيٌّ، وَأَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ كَذَّبَهُ شُعْبَةُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Burayda, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that Jibrīl, peace be upon him, came saying his Lord loves four of his companions and commands him to love them. Asked to name them, he first said ʿAlī is among them, and next morning named them as ʿAlī, Abū Dharr al-Ghifārī, al-Miqdād ibn al-Aswad, and Salmān al-Fārisī. > **"Your Lord loves four of your companions and commands you to love them. ʿAlī, Abū Dharr al-Ghifārī, al-Miqdād ibn al-Aswad, and Salmān al-Fārisī."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریده رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : آپ کا پروردگار آپ کے اصحاب میں سے چار افراد سے محبت رکھتا ہے ، اور وہ آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ بھی ان سے محبت رکھیں ، نبی اکرم ﷺ کے کسی صحابی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے سامنے ان لوگوں کا نام بیان کریں ، تو نبی اکرم ﷺ فرمایا : ان میں سے ایک علی ہے ، اگلے دن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ افراد جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بتایا ہے کہ وہ ان سے محبت رکھتا ہے ( وہ کون ہیں ؟ ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : علی ، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود اور سلمان فارسی “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی اور دیگر حضرات نے بھی اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے جسے شعبہ نے جھوٹا قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

14933

Majma al-Zawaid #14933

وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ قَدْ أَحْسَنْتَ الثَّنَاءَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ "". ثُمَّ قَالَ: "" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَهُمْ إِلَى الْأُمَمِ كَمَا بَعَثَ عِيسَى الْحَوَارِيِّينَ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَبْعَثُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَهُمَا أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" إِنَّهُ لَا غِنًى بِي عَنْهُمَا، إِنَّهُمَا مِنَ الدِّينِ بِمَنْزِلَةِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ مِنَ الرَّأْسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عُمَرَ (*) النَّصِيبِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Nāfiʿ reported from Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, that when told he praised ʿAbdullāh ibn Masʿūd well, he recalled hearing the Messenger of Allah ﷺ command learning the Qurʾān from four: ʿAbdullāh ibn Masʿūd, Sālim freedman of Abū Ḥudhayfa, Ubayy ibn Kaʿb, and Muʿādh ibn Jabal. He added his wish to dispatch them as ʿĪsā dispatched disciples, but explained Abū Bakr and ʿUmar were indispensable as hearing and sight to the head. > **"Learn the Qurʾān from four: ʿAbdullāh ibn Masʿūd, Sālim freedman of Abū Ḥudhayfa, Ubayy ibn Kaʿb, and Muʿādh ibn Jabal. I had intended to send them to the nations as ʿĪsā sent the disciples. I have no sufficiency without them; they are to the religion as hearing and sight to the head."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ، ان سے کہا گیا کہ آپ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بڑی تعریف کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں ایسا کیوں نہ کروں ؟ جبکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قرآن چار افراد سے سیکھو ، عبداللہ بن مسعود ، سالم مولیٰ ابوحذیفہ ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مختلف لوگوں کی طرف بھیجوں جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حواریوں کو بھیجا تھا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ وہ دونوں زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے بغیر گزارہ نہیں ہے ، ان دونوں کی دین میں وہی حیثیت ہے جو سر میں سماعت اور بصارت کی ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عمر نصیبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

14934

Majma al-Zawaid #14934

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ فَضْلًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha, may Allah be pleased with her, reported that three of the Anṣār had none preferred above them after the Messenger of Allah ﷺ: Saʿd ibn Muʿādh, Usayd ibn Ḥuḍayr, and ʿAbbād ibn Bishr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے تین افراد ایسے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی اور کو ان سے زیادہ فضیلت والا شمار نہیں کیا جا سکتا ، سعد بن معاذ ، اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نے اسے معنعن روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔

14935

Majma al-Zawaid #14935

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «خَرَجَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَدِمَ بِابْنَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَنَا آخُذُهَا، وَأَنَا أَحَقُّ بِهَا، بِنْتُ عَمِّي وَعِنْدِي خَالَتُهَا، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ. فَقَالَ عَلِيٌّ: بَلْ أَنَا أَحَقُّ بِهَا مِنْكُمَا ; بِنْتُ عَمِّي، وَعِنْدِي بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ أَحَقُّ بِهَا. وَأَنَا أَرْفَعُ صَوْتِي أُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُجَّتِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ. فَقَالَ زَيْدٌ: بَلْ أَنَا أَحَقُّ بِهَا، خَرَجْتُ إِلَيْهَا وَسَافَرْتُ، وَجِئْتُ بِهَا. قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا شَأْنُكُمْ؟ "". فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مِثْلَ قَوْلِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ فَلِي هَذَا وَفِي غَيْرِهِ "". قُلْتُ: نَزَلَ الْقُرْآنُ فِي رَفْعِنَا أَصْوَاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَيْدٍ: "" أَمَّا أَنْتَ فَمَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا "". قَالَ: قَدْ رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. "" وَأَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي، وَأَنْتَ مِنْ شَجَرَتِي الَّتِي خُلِقْتُ مِنْهَا "". قَالَ: قَدْ رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. "" وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَصَفِيِّي وَأَمِينِي "". قَالَ: رَضِيتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. "" وَأَمَّا الْجَارِيَةُ ; فَأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ تَكُونُ مَعَ خَالَتِهَا، وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ "". قَالَ: قَدْ سَلَّمْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allah be pleased with him, reported that Zayd ibn Ḥāritha went to Makkah and brought the daughter of Ḥamza ibn ʿAbd al-Muṭṭalib. Jaʿfar ibn Abī Ṭālib claimed her as his cousin with her maternal aunt in his house, for the maternal aunt is a mother. ʿAlī claimed greater right through kinship and the daughter of the Messenger of Allah ﷺ in his house, raising his voice so the Prophet ﷺ heard his plea. Zayd claimed right by journeying for her. The Messenger of Allah ﷺ came out asking their affair, then judged: Zayd is his and her freed ally, Jaʿfar resembles him in creation and character from his tree, ʿAlī is his elite and trustworthy, and the girl goes to Jaʿfar with her maternal aunt. > **"What is your affair? I shall judge between you. As for you, O Zayd, you are my freed ally and hers. As for you, O Jaʿfar, you resemble my creation and character, and you are from my tree from which I was created. As for you, O ʿAlī, you are my elite and my trustworthy. As for the girl, I judge her for Jaʿfar to be with her maternal aunt, for the maternal aunt is a mother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زید بن حارثہ مکہ سے نکلے تو وہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو بھی لے آئے ، حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس بچی کو لوں گا ، کیونکہ میں اس کا زیادہ حق رکھتا ہوں یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، اور اس کی خالہ میری بیوی ہے ، اور خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : بلکہ آپ دونوں کے مقابلے میں ، میں اس بچی کا زیادہ حق رکھتا ہوں ، یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، اور اللہ کے رسول کی صاحبزادی میری بیوی ہے ، اور وہ اس کا زیادہ حق رکھتی ہے ، میں نے اپنی آواز بلند کی تھی تاکہ نبی اکرم ﷺ کو باہر تشریف لانے سے پہلے میری دلیل کا پتہ چل جائے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا : بلکہ میں اس بچی کا زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ میں اس کے لئے نکل کے گیا تھا اور میں نے سفر کیا اور اسے لے کر آیا ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں کا معاملہ کیا ہے ؟ لوگوں نے اپنا اپنا موقف آپ کے سامنے دہرا دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کے درمیان فیصلہ دے دیتا ہوں ، اس بارے میں اور اس کے علاوہ کے بارے میں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہمارے آواز بلند کرنے کے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم میرے اور اس بچے کے مولیٰ ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس بچی سے راضی ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جعفر جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم ظاہری شکل و صورت اور اخلاق کے اعتبار سے تم مجھ سے زیادہ مشابہت رکھتے ہو اور تم میرے اسی شجرے سے تعلق رکھتے ہو جس سے مجھے پیدا کیا گیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے راضی ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے علی ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم میرے خاص ساتھی اور میرے امین ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں راضی ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہاں تک بچی کا تعلق ہے تو میں اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ وہ جعفر کو ملے گی اور اپنی خالہ کے ساتھ رہے گی کیونکہ خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے اس کو تسلیم کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14936

Majma al-Zawaid #14936

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ، نُجَبَاءَ، وُزَرَاءَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ: حَمْزَةُ، وَجَعْفَرٌ، وَعَلِيٌّ، وَحَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَأَبُو ذَرٍّ، وَالْمِقْدَادُ، وَحُذَيْفَةُ، وَعَمَّارٌ، وَسَلْمَانُ، وَبِلَالٌ» "". قُلْتُ: عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ لِبَعْضِ رِوَايَاتِ التِّرْمِذِيِّ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي نُسْخَتِي. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ وَزَادَ: "" وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ "". وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَذَكَرَ فِيهِمْ فِي بَعْضِ طُرُقِهِ: "" مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ "". وَفِيهِ كَثِيرٌ النَّوَّاءُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said every Prophet was given seven noble companions and ministers, while he was given fourteen: Ḥamza, Jaʿfar, ʿAlī, Ḥasan, Ḥusayn, Abū Bakr, ʿUmar, ʿAbdullāh ibn Masʿūd, Abū Dharr, al-Miqdād, Ḥudhayfa, ʿAmmār, Salmān, and Bilāl, may Allah be pleased with them. > **"No Prophet existed but was given seven companions, noble and ministers, and I have been given fourteen: Ḥamza, Jaʿfar, ʿAlī, Ḥasan, Ḥusayn, Abū Bakr, ʿUmar, ʿAbdullāh ibn Masʿūd, Abū Dharr, al-Miqdād, Ḥudhayfa, ʿAmmār, Salmān, and Bilāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی نبی ہوا ہے اسے سات ایسے ساتھی دیے گئے ہیں جو نجباء اور وزراء ہوتے ہیں ، اور مجھے چودہ ایسے ساتھی دیے گئے ہیں ، حمزہ ، جعفر ، علی ، حسن ، حسین ، ابوبکر ، عمر ، عبداللہ بن مسعود ، ابوذر ، مقدار ، حذیفہ ، عمار ، سلمان اور بلال ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اطراف میں اس روایت کی نسبت ترمذی کی بعض روایات کی طرف کی گئی ہے لیکن میں نے اپنے پاس موجود نسخے میں یہ روایت نہیں پائی ہے یہ روایت امام بزار نے اور امام احمد نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : عبداللہ بن مسعود ، امام ترمذی نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ انہوں نے بعض طرق میں ان افراد میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر نواء ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14937

Majma al-Zawaid #14937

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمْ يَسُؤْنِي قَطُّ، فَاعْرِفُوا ذَلِكَ لَهُ. يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعْدٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ رَاضٍ، فَاعْرِفُوا ذَلِكَ لَهُمْ. أَيُّهَا النَّاسُ، احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي، وَأَصْهَارِي، وَأَخْتَانِي، لَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ بِمَظْلِمَةٍ مِنْهُمْ. أَيُّهَا النَّاسُ، ارْفَعُوا أَلْسِنَتَكُمْ عَنِ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَقُولُوا فِيهِ خَيْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Yūsuf ibn Sahl reported from his father from his grandfather that when the Prophet ﷺ returned from the Farewell Pilgrimage he ascended the pulpit, praised Allah, and declared Abū Bakr never displeased him, and that he was pleased with Abū Bakr, ʿUmar, ʿUthmān, ʿAlī, Ṭalḥa, al-Zubayr, Saʿd, ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, and the first Emigrants. He enjoined guarding his right in his companions, in-laws, and kin, withholding tongues from Muslims, and speaking good of the dead. > **"O people, Abū Bakr never displeased me, so recognize that for him. O people, I am pleased with Abū Bakr, ʿUmar, ʿUthmān, ʿAlī, Ṭalḥa, al-Zubayr, Saʿd, ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, and the first Emigrants, so recognize that for them. O people, guard me in my companions, my in-laws, and my kin. Guard your tongues from the Muslims, and when one of them dies speak good of him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سہل بن یوسف بن سہل اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب حجۃ الوداع سے تشریف لائے ، تو آپ منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! ابوبکر نے میرے ساتھ کبھی کوئی برائی نہیں کی ، تو تم اس حوالے سے اس کو پہچان لو ، اے لوگو ! بے شک میں ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، سعد ، عبدالرحمن بن عوف اور ابتداء میں ہجرت کرنے والے مہاجرین سے راضی ہوں ، تو تم یہ چیز ان کے لئے جان لو ، اے لوگو ! میرے اصحاب میرے سسرالی عزیزوں ، میرے دامادوں کے بارے میں میرا خیال رکھنا ، اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی ایک کے حوالے سے کسی زیادتی کا تم سے حساب نہ لے ، اے لوگو ! مسلمانوں سے اپنی زبانیں روک کے رکھنا ، جب ان میں سے کوئی شخص مر جائے تو تم اس کے بارے میں بھلائی کی بات کہنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14938

Majma al-Zawaid #14938

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: ثَلَاثَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، أَصْبَحُ قُرَيْشٍ وُجُوهًا، وَأَحْسَنُهَا أَخْلَاقًا، وَأَثْبَتُهَا جَنَانًا، إِنْ حَدَّثُوكَ لَمْ يَكْذِبُوكَ، وَإِنْ حَدَّثْتَهُمْ لَمْ يُكَذِّبُوكَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reported that three of Quraysh were brightest in face, finest in character, and firmest in heart: if they spoke they did not lie, and if spoken to they did not accuse of lying: Abū Bakr al-Ṣiddīq, Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ, and ʿUthmān ibn ʿAffān, may Allah be pleased with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے تین افراد ایسے ہیں جو سب سے زیادہ خوبصورت چہرے کے مالک ، سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک اور سب سے زیادہ مہربان ہیں ، اگر وہ تمہارے ساتھ کوئی بات کریں گے ، تو تمہارے ساتھ غلط بیانی نہیں کریں گے ، اگر تم ان کے ساتھ کوئی بات کرو گے ، تو وہ تمہیں جھوٹا قرار نہیں دیں گے ، وہ حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت ابوعبیدہ بن جراح ، ، اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14939

Majma al-Zawaid #14939

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «خَلَوْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: أَيُّ أَصْحَابِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ حَتَّى أُحِبَّ مَنْ تُحِبُّ كَمَا أُحِبُّ؟ قَالَ: "" اكْتُمْ عَلَيَّ يَا عُبَادَةُ حَيَاتِي "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عَلِيٌّ "". ثُمَّ سَكَتَ، فَقُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: "" مَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ بَعْدَ هَؤُلَاءِ إِلَّا الزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدٌ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ، وَمُعَاذٌ، وَأَبُو طَلْحَةَ، وَأَبُو أَيُّوبَ، وَأَنْتَ يَا عُبَادَةُ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَابْنُ عَفَّانَ، ثُمَّ هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ مِنَ الْمَوَالِي: سَلْمَانُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَسَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، هَؤُلَاءِ خَاصَّتِي، وَكُلُّ أَصْحَابِي عَلَيَّ كَرِيمٌ، إِلَيَّ حَبِيبٌ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا "". قَالَ: قُلْتُ: لَمْ تَذْكُرْ حَمْزَةَ وَلَا جَعْفَرًا؟ فَقَالَ عُبَادَةُ إِنَّهُمَا: كَانَا أُصِيبَا يَوْمَ سَأَلْتُ إِنَّمَا كَانَ بِأَخِرَةٍ، أَوْ كَمَا قَالَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ رَوَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ذَكَرَهُ فِي الْمِيزَانِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ كَلَامًا لِأَحَدٍ، وَإِنَّمَا ذَكَرَ أَنَّ لَهُ حَدِيثًا فِي الْفَضَائِلِ بَاطِلٌ، وَلَمْ أَدْرِ مَا بُطْلَانُهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

ʿUbāda ibn al-Ṣāmit, may Allah be pleased with him, reported that alone with the Messenger of Allah ﷺ he asked which of his companions was dearest to him so he might love whom he loves. The Prophet ﷺ first enjoined concealment in his lifetime, then named Abū Bakr, then ʿUmar, then ʿAlī, then after silence named al-Zubayr, Ṭalḥa, Saʿd, Abū ʿUbayda, Muʿādh, Abū Ṭalḥa, Abū Ayyūb, ʿUbāda himself, Ubayy ibn Kaʿb, Abū al-Dardāʾ, Ibn Masʿūd, Ibn ʿAwf, Ibn ʿAffān, then among freed allies Salmān, Ṣuhayb, Bilāl, and Sālim freedman of Abū Ḥudhayfa, all noble and beloved even if an Abyssinian slave. Asked why Ḥamza and Jaʿfar were unmentioned, ʿUbāda explained they had already been martyred when he asked. > **"Conceal this from me in my lifetime. Abū Bakr, then ʿUmar, then ʿAlī. Who else after these but al-Zubayr, Ṭalḥa, Saʿd, Abū ʿUbayda, Muʿādh, Abū Ṭalḥa, Abū Ayyūb, and you, O ʿUbāda, and Ubayy ibn Kaʿb, Abū al-Dardāʾ, Ibn Masʿūd, Ibn ʿAwf, Ibn ʿAffān, then this group of freed allies: Salmān, Ṣuhayb, Bilāl, and Sālim freedman of Abū Ḥudhayfa. These are my intimates, and every companion of mine is noble to me and beloved, even if an Abyssinian slave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اکیلا موجود تھا ، میں نے عرض کی : آپ کے اصحاب میں سے آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ تاکہ میں بھی اس سے محبت رکھوں جس سے آپ محبت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عبادہ ! میری زندگی میں تم نے یہ بات پوشیدہ رکھنی ہے ، میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوبکر پھر عمر پھر علی ، پھر نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے ، میں نے دریافت کیا : پھر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے بعد اور کون ہو سکتا ہے ؟ زبیر ہے ، طلحہ ، سعد ، ابوعبیدہ ، معاذ ، ابوطلحہ ، ابوایوب اور اے عبادہ ! تم اور ابی بن کعب ، ابودرداء ، ابن مسعود ، ابن عوف ، ابن عفان اور موالی سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ ہیں ، سلمان ، صہیب ، بلال ، سالم مولی ابوحذیفہ یہ میرے خاص لوگ ہیں ، اور ویسے میرا ہر صحابی میرے نزدیک معزز ہے اور پسندیدہ ہے خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ؟ تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس وقت یہ لوگ شہید ہو چکے تھے جب میں نے یہ سوال کیا تھا ، یہ بعد کی بات ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ہے اس نے ابوقلابہ سے روایات نقل کی ہیں ، مصنف نے اس کا ذکر میزان الاعتدال میں کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کسی کا کلام ذکر نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس کے حوالے سے فضائل کے بارے میں ایک جھوٹی حدیث منقول ہے مصنف کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ اس کے جھوٹے ہونے کی وجہ کیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

14940

Majma al-Zawaid #14940

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: قَرَأَ الْقُرْآنَ وَوَقَفَ عِنْدَ مُتَشَابِهِهِ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ. وَسُئِلَ عَنْ عَمَّارٍ، فَقَالَ: مُؤْمِنٌ نَسِيٌّ، إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ، وَقَدْ حُشِيَ مَا بَيْنَ قَرْنِهِ إِلَى كَعْبِهِ إِيمَانًا. وَسُئِلَ عَنْ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: كَانَ أَعْلَمَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمُنَافِقِينَ سَأَلَ عَنْهُمْ فَأُخْبَرَ بِهِمْ. قَالُوا: فَحَدِّثْنَا: عَنْ سَلْمَانَ؟ قَالَ: أَدْرَكَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ، وَالْعِلْمَ الْآخِرَ، بَحْرٌ لَا يُنْزَحُ، مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ. قَالُوا: حَدِّثْنَا عَنْ أَبِي ذَرٍّ؟ قَالَ: وَعَنْ عِلْمًا ضَيَّعَهُ النَّاسُ. قَالُوا: فَأَخْبِرْنَا عَنْ نَفْسِكَ؟ قَالَ: أَيُّهَا أَرَدْتُمْ؟ كُنْتُ إِذَا سَكَتُّ ابْتُدِيتُ، وَإِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ، وَإِنَّ بَيْنَ الذَّقْنَيْنِ لَعِلْمًا جَمًّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abī Ḥāzim reported that ʿAlī was asked about ʿAbdullāh ibn Masʿūd and said he recited the Qurʾān, stood at its ambiguous verses, permitted its lawful and forbade its unlawful. Asked about ʿAmmār he called him a forgetful believer who remembers when reminded, filled with faith from forelock to heel. Asked about Ḥudhayfa he called him most learned of the Prophet's ﷺ companions about hypocrites through asking and being informed. Asked about Salmān he said he attained former and latter knowledge, an inexhaustible sea, of the Household. Asked about Abū Dharr he spoke of knowledge people neglected. Asked about himself he said when silent he was addressed first and when asking he was given, with abundant knowledge between the jaws.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس نے قرآن پڑھا ہے ، اس کے متشابہ سے واقف ہوا ہے ، اس کے حلال کو اس نے حلال قرار دیا اور اس کے حرام کو اس نے حرام قرار دیا ، ان سے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسا مومن ہے جو یاد نہیں رہتا ، جب اس کا ذکر کیا جائے تو یاد آتا ہے ، اور اس کا یہ حال ہے کہ سر کی مانگ سے لے کر ٹخنوں تک وہ ایمان سے بھرا ہوا ہے ، ان سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : منافقین کے بارے میں وہ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اس نے ان کے بارے میں سوال کیا تھا اور اسے ان کے بارے میں بتایا گیا ، لوگوں نے کہا : آپ ہمیں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے پہلے والوں کا علم بھی حاصل کیا اور اس نے بعد والوں کا علم بھی حاصل کیا ، وہ ایسا سمندر ہے جس کا سارا پانی نہیں نکالا جا سکتا اور وہ ہم اہل بیت میں سے ایک ہے ، لوگوں نے کہا : آپ ہمیں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے پاس ایسا علم ہے ( شاید مراد ان کا زہر ہے ) جسے لوگوں نے ضائع کر دیا ، لوگوں نے کہا : آپ ہمیں اپنے بارے میں بتائیے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیا ارادہ رکھتے ہو ، جب میں خاموش ہوتا تھا تو پہلے ہی مجھے بتا دیا جاتا تھا اور جب میں کچھ مانگتا تھا ، تو مجھے دے دیا جاتا تھا اور میرے اندر بھرپور علم موجود ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14941

Majma al-Zawaid #14941

وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ وَرْدَانَ الْكِنْدِيِّ قَالَ: كُنَّا ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ عَلِيٍّ فَوَافَقَ النَّاسُ مِنْ طِيبِ نَفْسٍ وَمِزَاجٍ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثْنَا عَنْ أَصْحَابِكَ. قَالَ: عَنْ أَيِّ أَصْحَابِي؟ قَالَ: عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كُلُّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابِي فَعَنْ أَيِّهِمْ تَسْأَلُونَ؟ قَالُوا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَلِمَ السُّنَّةَ وَكَفَى بِذَلِكَ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: "" وَكَفَى بِذَلِكَ ""، كَفَى الْقِرَاءَةُ الْقُرْآنَ، وَعِلْمُ السُّنَّةِ، أَوْ كَفَى بِعَبْدِ اللَّهِ؟! قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ؟ قَالَ: كَانَ يُكْثِرُ السُّؤَالَ فَيُعْطِي وَيَمْنَعُ وَكَانَ حَرِيصًا شَحِيحًا عَلَى دِينِهِ، حَرِيصًا عَلَى الْعِلْمِ، بَحْرٌ قَدْ مُلِئَ لَهُ فِي وِعَائِهِ حَتَّى امْتَلَأَ. فَقُلْنَا حَدِّثْنَا عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ؟ قَالَ: عَلِمَ أَسْمَاءَ الْمُنَافِقِينَ، وَسَأَلَ عَنْ الْمُعْضِلَاتِ حَتَّى عَقَلَ عَنْهَا، تَجِدُوهُ بِهَا عَالِمًا. قَالَ: فَحَدِّثْنَا عَنْ سَلْمَانَ. قَالَ: مَنْ لَكُمْ بِمِثْلِ لُقْمَانَ الْحَكِيمِ امْرُؤٌ مِنَّا وَإِلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَدْرَكَ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ وَالْعِلْمَ الْآخِرَ. وَقَرَأَ الْكِتَابَ الْأَوَّلَ وَالْكِتَابَ الْآخِرَ بَحْرًا لَا سَرَفَ. قُلْنَا: حَدِّثْنَا عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ. قَالَ: امْرُؤٌ خُلِطَ الْإِيمَانُ بِلَحْمِهِ، وَدَمِهِ، وَشَعْرِهِ، وَبَشَرِهِ، حَيْثُ زَالَ زَالَ مَعَهُ، لَا يَنْبَغِي لِلنَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهُ شَيْئًا. قُلْنَا: فَحَدِّثْنَا عَنْ نَفْسِكَ! قَالَ: مَهْلًا نَهَى اللَّهُ عَنِ التَّزْكِيَةِ. قَالَ لَهُ رَجُلٌ: فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: {وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ} [الضحى: 11]. قَالَ: فَإِنِّي أُحَدِّثُ بِنِعْمَةِ رَبِّي، كُنْتُ وَاللَّهِ إِذَا سَأَلْتُ أُعْطِيتُ، وَإِذَا سَكَتُّ ابْتُدِئْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَفِي أَحْسَنِهِمَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Aswad Wardān al-Kindī reported that one day with ʿAlī in good cheer they asked about Muḥammad's ﷺ companions. ʿAlī asked which, then described Ibn Masʿūd as reciter of Qurʾān and knower of Sunna sufficing thereby; Abū Dharr as frequent asker, eager over religion and knowledge, a sea filling his vessel; Ḥudhayfa ibn al-Yamān as knower of hypocrites' names and difficult matters; Salmān as like Luqmān the Wise, of the Household, attaining former and latter knowledge and scriptures, an unfailing sea; ʿAmmār ibn Yāsir as one whose flesh, blood, hair, and skin faith permeated so fire should not consume him; and of himself that Allah forbade self-praise but by His favor when asking he was given and when silent he was addressed first.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود وردان کندی بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، لوگوں کو ان کا مزاج خوشگوار محسوس ہوا تو کسی نے کہا : امیرالمومنین آپ ہمیں اپنے اصحاب کے بارے میں بتائیے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اپنے اصحاب میں سے کس کے بارے میں ؟ اس شخص نے کہا : حضرت محمد ( ﷺ ) کے اصحاب کے بارے میں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت محمد ( ﷺ ) کے تمام اصحاب میرے بھی اصحاب ہیں ، تم ان میں سے کس کے بارے میں پوچھنا چاہ رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا : آپ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمائیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اس نے قرآن کو پڑھا اور سنت کا علم حاصل کیا اور یہ اس کے لئے کافی ہے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ہمیں ان کی بات کے مفہوم کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ اس کے لئے کافی ہے ، اس سے مراد کیا ہے ، کیا قرآن کا علم حاصل ہونا اور سنت کا علم حاصل ہونا کافی ہے یا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لئے یہ چیز کافی ہے ، راوی کہتے ہیں : ان سے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ بکثرت سوال کرتا تھا ، کبھی اسے جواب دے دیا جاتا تھا اور کبھی اسے جواب نہیں دیا جاتا تھا ، وہ اپنے دین کے بارے میں بہت حریص اور لالچی تھا ، علم کے بارے میں حریص تھا ، وہ ایک ایسا سمندر ہے کہ اس کے لئے برتن بھرا گیا ، اور وہ بھر گیا ، ہم نے کہا : آپ ہمیں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا : وہ منافقین کے اسماء کا علم رکھتا تھا ، اس نے پیچیدہ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا اور انہیں سمجھ لیا ، تم ان چیزوں کے حوالے سے اسے عالم پاؤ گے ، راوی نے کہا : آپ ہمیں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے کون لقمان حکیم کی مانند ہو سکتا ہے ، سلمان ہم میں سے ایک فرد تھا ، جو اہل بیت کا ایک فرد تھا ، اس نے پہلے والا اور بعد والا علم حاصل کیا ، پہلے والی اور بعد والی کتاب کا علم حاصل کیا ، وہ ایک سمندر تھا ، جو ختم نہیں ہوتا ، ہم نے کہا : آپ ہمیں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ ایک ایسا شخص تھا کہ ایمان اس کے گوشت ، اس کے خون ، اس کے بالوں ، اس کی جلد میں رچ بس گیا ، جہاں وہ ہوتا تھا ، ایمان اس کے ساتھ ہوتا تھا ، آگ کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس میں سے کچھ کھائے ، ہم نے کہا : آپ ہمیں اپنے بارے میں بتائیے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رک جاؤ ، اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کرنے سے منع کیا ہے ، تو ایک شخص نے ان سے کہا : لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ جہاں تک تمہارے پروردگار کی نعمت کا تعلق ہے تو اسے بیان کرو ۔‘‘ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اپنے پروردگار کی نعمت کو بیان کرنے کے حوالے سے یہ کہتا ہوں کہ اللہ کی قسم ! میں ایک ایسا فرد تھا کہ میں کوئی چیز مانگتا تھا تو مجھے دی جاتی تھی اور جب میں خاموش رہتا تھا ، تو مجھے ویسے ہی پہل کر دی جاتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان میں سے جو روایت زیادہ اچھی ہے اس میں ایک راوی حبان بن علی ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14942

Majma al-Zawaid #14942

وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، وَقَدْ عَلَّقَتْ عِنْدَهُ بُطُونُ قُرَيْشٍ، وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا رَآهُ مُعَاوِيَةُ مُقْبِلًا قَالَ: يَا سَعِيدُ، وَاللَّهِ لَأُلْقِيَنَّ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مَسَائِلَ يَعْيَا بِجَوَابِهَا. فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: لَيْسَ مِثْلُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَعْيَا بِمَسَائِلِكَ. فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا تَقُولُ فِي أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ ; كَانَ وَاللَّهِ لِلْقُرْآنِ تَالِيًا، وَعَنِ الْمَيْلِ نَائِيًا وَعَنِ الْفَحْشَاءِ سَاهِيًا، وَعَنِ الْمُنْكَرِ نَاهِيًا، وَبِدِينِهِ عَارِفًا، وَمِنَ اللَّهِ خَائِفًا، وَبِاللَّيْلِ قَائِمًا، وَبِالنَّهَارِ صَائِمًا، وَمِنْ دُنْيَاهُ سَالِمًا، وَعَلَى عَدْلِ الْبَرِيَّةِ عَازِمًا، وَبِالْمَعْرُوفِ آمِرًا، وَإِلَيْهِ صَائِرًا، وَفِي الْأَحْوَالِ شَاكِرًا، وَلِلَّهِ فِي الْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ ذَاكِرًا، وَلِنَفْسِهِ بِالصَّالِحِ قَاهِرًا. فَاقَ أَصْحَابَهُ وَرَعًا، وَكَفَافًا، وَزُهْدًا، وَعَفَافًا، وَبِرًّا، وَحِيَاطَةً، وَزَهَادَةً، وَكَفَاءَةً، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ ثَلَبَهُ اللَّعَائِنَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا حَفْصٍ ; كَانَ وَاللَّهِ حَلِيفَ الْإِسْلَامِ، وَمَأْوَى الْأَيْتَامِ، وَمَحَلَّ الْإِيمَانِ، وَمَلَاذَ الضُّعَفَاءِ، وَمَعْقِلَ الْحُنَفَاءِ. لِلْخَلْقِ حِصْنًا، وَلِلْبَأْسِ عَوْنًا. قَامَ بِحَقِّ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا حَتَّى أَظْهَرَ اللَّهُ الدِّينَ وَفَتَحَ الدِّيَارَ، وَذُكِرَ اللَّهُ فِي الْأَقْطَارِ وَالْمَنَاهِلِ وَعَلَى التِّلَالِ، وَفِي الضَّوَاحِي وَالْبِقَاعِ. وَعِنْدَ الْخَنَا وَقُورًا، وَفِي الشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ شَكُورًا، وَلِلَّهِ فِي كُلِّ وَقْتٍ وَأَوَانٍ ذَكُورًا، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ يُبْغِضُهُ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الْحَسْرَةِ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَمْرٍو ; كَانَ وَاللَّهِ أَكْرَمَ الْحَفَدَةِ، وَأَوْصَلَ الْبَرَرَةِ، وَأَصْبَرَ الْغُزَاةِ. هَجَّادًا بِالْأَسْحَارِ، كَثِيرَ الدُّمُوعِ عِنْدَ ذِكْرِ اللَّهِ، دَائِمَ الْفِكْرِ فِيمَا يَعْنِيهِ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، نَاهِضًا إِلَى كُلِّ مَكْرُمَةٍ، يَسْعَى إِلَى كُلِّ مَنْجَبَةٍ، فَرَّارًا مِنْ كُلِّ مُوبِقَةٍ. وَصَاحِبَ الْجَيْشِ وَالْبِئْرِ، وَخَتَنَ الْمُصْطَفَى عَلَى ابْنَتَيْهِ، فَأَعْقَبَ اللَّهُ مَنْ سَبَّهُ النَّدَامَةَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا الْحَسَنِ ; كَانَ وَاللَّهِ عَلَمَ الْهُدَى، وَكَهْفَ التُّقَى، وَمَحَلَّ الْحِجَا، وَطَوْدَ النُّهَى، وَنُورَ السُّرَى فِي ظُلَمِ الدُّجَى. دَاعِيًا إِلَى الْمَحَجَّةِ الْعُظْمَى، عَالِمًا بِمَا فِي الصُّحُفِ الْأُولَى، وَقَائِمًا بِالتَّأْوِيلِ وَالذِّكْرَى، مُتَعَلِّقًا بِأَسْبَابِ الْهُدَى، وَتَارِكًا لِلْجَوْرِ وَالْأَذَى، وَحَائِدًا عَنْ طُرُقَاتِ الرَّدَى، وَخَيْرَ مَنْ آمَنَ وَاتَّقَى، وَسَيِّدَ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدَى، وَأَفْضَلَ مَنْ حَجَّ وَسَعَى، وَأَسْمَحَ مَنْ عَدَلَ وَسَوَّى، وَأَخْطَبَ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَّا الْأَنْبِيَاءَ وَالنَّبِيَّ الْمُصْطَفَى. وَصَاحِبَ الْقِبْلَتَيْنِ، فَهَلْ يُوَازِيهِ مُوَحِّدٌ؟ وَزَوْجُ خَيْرُ النِّسَاءِ، وَأَبُو السِّبْطَيْنِ، لَمْ تَرَ عَيْنِي مِثْلَهُ، وَلَا تَرَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَاللِّقَاءِ. مَنْ لَعَنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْعِبَادِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ: فَمَا تَقُولُ فِي طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ؟ قَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ; كَانَا وَاللَّهِ عَفِيفَيْنِ، بَرَّيْنِ، مُسْلِمَيْنِ، طَاهِرَيْنِ، مُتَطَهِّرَيْنِ، شَهِيدَيْنِ، عَالِمَيْنِ، زَلَّا زَلَّةً وَاللَّهُ غَافِرٌ لَهُمَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالنُّصْرَةِ الْقَدِيمَةِ، وَالصُّحْبَةِ الْقَدِيمَةِ، وَالْأَفْعَالِ الْجَمِيلَةِ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا تَقُولُ فِي الْعَبَّاسِ؟ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا الْفَضْلِ، كَانَ وَاللَّهِ صِنْوَ أَبِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُرَّةَ عَيْنِ صَفِيِّ اللَّهِ، كَهْفَ الْأَقْوَامِ، وَسَيِّدَ الْأَعْمَامِ، قَدْ عَلَا، بَصِرًا بِالْأُمُورِ، وَنَظَرًا بِالْعَوَاقِبِ، قَدْ زَانَهُ عِلْمٌ قَدْ تَلَاشَتِ الْأَحْسَابُ عِنْدَ ذِكْرِ فَضِيلَتِهِ، وَتَبَاعَدَتِ الْأَنْسَابُ عِنْدَ فَخْرِ عَشِيرَتِهِ، وَلِمَ لَا يَكُونُ كَذَلِكَ وَقَدْ سَاسَهُ أَكْرَمُ مَنْ دَبَّ وَهَبَّ عَبْدُ الْمُطَّلَبِ، أَفْخَرُ مَنْ مَشَى مِنْ قُرَيْشٍ وَرَكِبَ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَلِمَ سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشًا؟ قَالَ: بِدَابَّةٍ تَكُونُ فِي الْبَحْرِ هِيَ أَعْظَمُ دَوَابِّ الْبَحْرِ خَطَرًا، لَا تَظْفَرُ بِشَيْءٍ مِنْ دَوَابِّ الْبَحْرِ إِلَّا أَكَلَتْهُ، فَسُمِّيَتْ قُرَيْشٌ لِأَنَّهَا أَعْظَمُ الْعَرَبِ فِعَالًا. قَالَ: هَلْ تَرْوِي فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَأَنْشَدَ قَوْلَ الْجُمَحِيِّ: وَقُرَيْشٌ هِيَ الَّتِي تَسْكُنُ الْبَحْرَ ... بِهَا سُمِّيَتْ قُرَيْشٌ قُرَيْشَا تَأْكُلُ الْغَثَّ وَالسَّمِينَ وَلَا تَتْ ... رُكُ فِيهَا لِذِي جَنَاحَيْنِ رِيشَا هَكَذَا كَانَ فِي الْكِتَابِ حَيٌّ قُرَيْشٍ ... يَأْكُلُ الْبِلَادَ أَكْلًا حَشِيشَا وَلَهُمْ آخِرَ الزَّمَانِ نَبِيٌّ ... يُكْثِرُ الْقَتْلَ فِيهِمْ وَالْخُمُوشَا تَمْلَأُ الْأَرْضَ خَيْلُهُ وَرِجَالٌ ... يَحْشُرُونَ الْمَطِيَّ حَشْرًا كَمِيشَا. قَالَ: صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَشْهَدُ أَنَّكَ لِسَانُ أَهْلِ بَيْتِكَ. فَلَمَّا خَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ: مَا كَلَّمْتُهُ قَطُّ إِلَّا وَجَدْتُهُ مُسْتَعِدًّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ribʿī ibn Ḥirāsh reported that ʿAbdullāh ibn ʿAbbās sought permission to enter upon Muʿāwiya while Quraysh chiefs sat with Saʿīd ibn al-ʿĀṣ at his right. Muʿāwiya vowed to pose baffling questions but Saʿīd trusted Ibn ʿAbbās. Asked of Abū Bakr, Ibn ʿAbbās praised him as reciter of Qurʾān, distant from deviation, heedless of indecency, forbidding wrong, knowing religion, fearing Allah, praying by night, fasting by day, sound from worldliness, resolute on justice, commanding good, grateful, ever remembering Allah morning and evening, subduing his soul to righteousness, surpassing companions in piety and chastity, with curses upon his reviler till Resurrection. Asked of ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, he praised him as ally of Islam, shelter of orphans, abode of faith, refuge of weak, fortress of upright, enduring for Allah till religion triumphed and Allah remembered in horizons and valleys, dignified amid obscenity, grateful in hardship and ease, ever remembering Allah, with curse upon his hater till the Day of Regret. Asked of ʿUthmān ibn ʿAffān, he praised him as noblest attendant, most joining of kin, most patient warrior, vigil in pre-dawn, tearful at Allah's remembrance, ever reflecting night and day, hastening to every honor and salvation, fleeing every ruin.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس قریش کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے ، حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے ، جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا : اے سعید ! اللہ کی قسم ! میں ابن عباس کے سامنے کچھ سوالات رکھوں گا ، جن کے جواب دینے سے وہ عاجز ہوں گے ۔ تو حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جیسا شخص آپ کے سوالات کے حوالے سے عاجز نہیں ہو سکتا ، جب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ! وہ قرآن کی تلاوت کرنے والے تھے ( ادھر اُدھر ) جھکاؤ سے دور رہنے والے تھے ، فحش چیزوں کو بھول جانے والے تھے اور منکر چیزوں سے منع کرنے والے تھے وہ اپنے دین کی معرفت رکھتے تھے ، اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے ، وہ رات کے وقت نوافل پڑھنے والے تھے ، دن کے وقت نفلی روزہ رکھنے والے تھے ، اپنی دنیا کے حوالے سے سلامتی والے تھے اور مخلوق کے عدل کے حوالے سے پر عزم تھے ، وہ نیکی کا حکم دینے والے تھے اور نیکی کی طرف جانے والے تھے ، ہر حال میں شکر کرنے والے تھے اور صبح و شام اللہ کا ذکر کرنے والے تھے ، بہتری کی چیزوں کے حوالے سے اپنے نفس پر غلبہ رکھنے والے تھے ، پرہیزگاری ، پاکدامنی ، دنیا سے بے رغبتی ، دامن بچانے ، نیکی کرنے ، محتاط رہنے ، تھوڑے پر راضی رہنے ، ہم پلہ ( یعنی باصلاحیت ہونے ) کے اعتبار سے ، اپنے ساتھیوں سے فائق تھے ، جو شخص انہیں برا کہتا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک اُس پر لعنت کرتا رہے گا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ ! حضرت ابوحفص ( یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ! وہ اسلام کے حلیف تھے اور یقیموں کی پناہ گاہ تھے ، ایمان کا محل تھے اور کمزوروں کا ٹھکانہ تھے ، دین حنیف کے پیروکار لوگوں کی پناہ گاہ تھے ، وہ مخلوق کے لیے قلعہ تھے ، اور مشکل کے لیے مددگار تھے ، انہوں نے صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے اللہ کے حق کو قائم کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو غلبہ عطا کر دیا ، انہوں نے شہروں کو فتح کیا ، تو ( زمین کے ) گوشوں ، گھاٹوں میں ، ٹیلوں پر ، بے آب و گیاہ جگہوں پر ( یعنی زمین کے مختلف حصوں پر ) اللہ کا ذکر ہونے لگا ، وہ بدزبانی کے مقابلے میں پروقار شخص تھے اور سختی اور آسانی ، ہر حال میں شکر کرنے والے تھے ، ہر وقت اور ہر گھڑی میں اللہ کا ذکر کرنے والے تھے ، جو شخص ان سے بغض رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ حسرت والے دن ( یعنی قیامت کے دن ) تک اس پر لعنت کرے گا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ حضرت ابوعمرو ( یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ، اللہ کی قسم ! وہ مددگاروں میں سب سے زیادہ معزز تھے ، اور مخلوق میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے ، غازیوں میں سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے ، سحری کے وقت بہت زیادہ عبادت کرنے والے تھے ، اللہ کے ذکر کے وقت بکثرت آنسو بہانے والے تھے ، دن اور رات میں ضروری چیزوں کے بارے میں ہمیشہ غور و فکر کرنے والے تھے ، وہ بھلائی کی ہر چیز کی طرف تیزی کرنے والے تھے ، نجات دلانے والی ہر چیز کی طرف دوڑ کر جاتے تھے ، ہلاک کرنے والی ہر چیز سے دور بھاگنے والے تھے ، یہ وہ ایسے فرد تھے جنہوں نے لشکر ( یعنی جیش عسرت ، یعنی غزوہ تبوک کے موقع پر ) سامان فراہم کیا تھا ، یہ وہ فرد ہیں ، جنہوں نے کنواں ( یعنی بئر رومہ خرید کر وقف کیا ) تھا ، وہ نبی اکرم ﷺ کی دو صاحبزادیوں کی نسبت سے ، نبی اکرم ﷺ کے داماد تھے ، جو شخص ان کو برا کہے گا : اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تک ندامت کا شکار رکھے گا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ حضرت ابوالحسن ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ! اللہ کی قسم ! وہ ہدایت کا نشان تھے ، اور پرہیزگاری کی پناہ گاہ تھے ، عقلمندی کا محل تھے ، اور سمجھداری کا ( یعنی تجربہ کاری کا ) پہاڑ تھے ، رات کی تاریکیوں میں سفر کرنے والوں کا نور تھے ، عظیم حجت کی طرف دعوت دینے والے تھے ، اور پہلے صحیفوں میں جو کچھ مذکور ہے ، اُس کا علم رکھنے والے تھے ( قرآن کی ) تفسیر اور نصیحت کو قائم رکھنے والے تھے ، ہدایت کے اسباب کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے ، ظلم اور اذیت پہنچانے کو ترک کرنے والے تھے ، برے راستوں سے ہٹ جانے والے تھے ، ایمان لانے والوں اور پرہیزگاری اختیار کرنے والوں میں سب سے بہتر تھے ، قمیص پہننے اور چادر اوڑھنے والوں ( یعنی سب لوگوں ) کے سردار تھے ، حج کرنے والوں اور سعی کرنے والوں میں سب سے افضل تھے ، عدل کرنے والوں اور برابری رکھنے والوں میں سب سے زیادہ نرم تھے ، انبیاء کرام علیہم السلام اور نبی مصطفی کے علاوہ اہل دنیا کے سب سے بڑے خطیب تھے ، انہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہوئی ہے ، تو کیا کوئی موحد اُن کا ہم پلہ ہو سکتا ہے ؟ وہ سب سے بہتر خاتون ( سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کے شوہر تھے ( نبی اکرم ﷺ کے ) دو نواسوں ( حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ) کے والد تھے ، میری آنکھوں نے اُن جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، اور نہ ہی قیامت کے دن ، اور ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) حاضری کے دن تک ، اُن جیسا کوئی شخص دیکھ سکیں گی ، جو شخص اُن پر لعنت کرتا ہے ، اُس پر قیامت کے دن تک اللہ تعالیٰ اور سب بندوں کی لعنت ہو ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ کی رحمت اُن دونوں پر نازل ہو ، اللہ کی قسم ! یہ دونوں پاکدامن ، نیک مسلمان تھے ، یہ دونوں پاک تھے ، پاکیزگی حاصل کرنے والے تھے ، دونوں شہید تھے ، دونوں عالم تھے ، یہ دونوں ایک لغزش کا شکار ہوئے ، تو ان کے پرانے مددگار ہونے اور قدیم صحابی ہونے اور ان کے ( دیگر ) اچھے افعال کی وجہ سے اگر اللہ نے چاہا ، تو اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے گا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ حضرت ابوالفضل ( حضرت عباس رضی اللہ عنہ ) پر رحم کرے ! اللہ کی قسم ! وہ اللہ کے رسول ﷺ کے والد کی جگہ تھے اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھے ، وہ لوگوں کے لئے پناہ گاہ تھے اور تمام چچاؤں کے سردار تھے ، امور کے بارے میں ان کی نگاہ بلند تھی اور انجام کے بارے میں نظر گہری تھی ، وہ علم سے آراستہ تھے اور ان کی فضیلت کے تذکرے کے وقت حسب فنا ہو جاتا ہے اور ان کے خاندان کے فخر کے وقت دوسرے نسب دور ہو جاتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو ، جبکہ ان کی تربیت اس فرد نے کی تھی ، جو زندہ اور مرحوم ، سب لوگوں سے زیادہ معزز ہیں ، اور وہ جناب عبدالمطلب ہیں ، قریش سے تعلق رکھنے والا جو بھی فرد پیدل چلتا ہے یا جو سوار ہوتا ہے ( یعنی قریش کے تمام تر افراد ) سے وہ زیادہ فخر والے ہیں ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : قریش کو قریش کا نام کیوں دیا گیا ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : سمندر میں موجود ایک جانور کے نام پر یہ نام رکھا گیا ہے ، جو سمندر کے تمام جانوروں سے زیادہ خطرناک ہے ، سمندر کا جو بھی جانور اُس کے سامنے آتا ہے ، یہ اس کو کھا جاتا ہے ، تو قریش کو یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ وہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے عربوں میں سب سے بڑے ہیں ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ اس بارے میں کوئی بات روایت کر سکتے ہیں ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ’’ جمحی ‘‘ کے یہ اشعار سنائے : ’’ قریش اس جانور کا نام ہے ، جو سمندر میں رہتا ہے اور اُسی کے نام پر قریش کا نام قریش رکھا گیا ہے ، وہ جانور کمزور اور موٹے ، ہر قسم کے جانور کو کھا جاتا ہے ، اور پروں والے کسی جانور کا کوئی پر بھی نہیں چھوڑتا ہے ، کتاب میں اسی طرح مذکور ہے ، قریش کا قبیلہ تمام شہروں کو یوں کھا جائے گا ، جیسے گھاس کھائی جاتی ہے ، اور قریش میں آخری زمانے میں ، ایک نبی پیدا ہوں گے ، اس وقت قریش میں قتل و غارتگری اور زخمی ہونا کثرت سے ہو گا ، اُس نبی کے گھڑ سوار اور پیادہ افراد زمین کو بھر دیں گے ، اور سواریوں کو تیزی سے اکٹھا کر لیں گے ۔‘‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! آپ نے سچ کہا ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اپنے اہل بیت کے ترجمان ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے تشریف لے گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے ان کے ساتھ ، جب بھی ، جس بارے میں بھی بات کی ہے تو انہیں ( جواب دینے کے لئے ) تیار پایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14943

Majma al-Zawaid #14943

وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: شَامَمْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ عِلْمَهُمُ انْتَهَى إِلَى سِتَّةٍ إِلَى: عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودِ، وَمُعَاذٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ. ثُمَّ شَامَمْتُ السِّتَّةَ، فَوَجَدْتُ عِلْمَهُمُ انْتَهَى إِلَى عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْقَاسِمِ بْنِ مَعِينٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Masrūq reported that he examined the companions of the Messenger of Allah ﷺ and found their knowledge ending with six: ʿUmar, ʿAlī, ʿAbdullāh ibn Masʿūd, Muʿādh, Abū al-Dardāʾ, and Zayd ibn Thābit. Then examining the six he found their knowledge ending with ʿAlī and ʿAbdullāh.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے نصاب کی تحقیق کی ، تو میں نے یہ چیز پائی کہ ان کا علم کچھ افراد پر آ کر ختم ہو جاتا ہے ، حضرت عمر ، حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت معاذ ، حضرت ابودرداء ، اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ، پھر میں نے ان چھ افراد کی تحقیق کی کہ تو ان حضرات کا علم حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پر آ کر ختم ہو جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف قاسم بن معین کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

14944

Majma al-Zawaid #14944

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: كَانَ الْعُلَمَاءَ بَعْدَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ، وَسَلْمَانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ. وَكَانَ الْعُلَمَاءَ بَعْدَ هَؤُلَاءِ: زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ. وَكَانَ بَعْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عُمَرَ: عُمَرُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَغَيْرُهُمَا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - قَبْلَ مَنَاقِبِ عُمَرَ، وَبَعْدَ مَنَاقِبَ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn ʿAbd al-ʿAzīz reported that the scholars after Muʿādh ibn Jabal were ʿAbdullāh ibn Masʿūd, Abū al-Dardāʾ, Salmān, and ʿAbdullāh ibn Salām. After them was Zayd ibn Thābit, and after Zayd were ʿUmar in one wording and Ibn ʿUmar and Ibn ʿAbbās.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بعد علماء یہ تھے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت ابودرداء ، حضرت سلمان فارسی اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم ، اور ان حضرات کے بعد علماء حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت سے متعلق کچھ احادیث گزر چکی ہیں جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر افراد شامل ہیں ۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب سے پہلے گزری ہیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بعد گزری ہیں ۔

14945

Majma al-Zawaid #14945

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَمَا عَلْمُ أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَسٍ بِأَحَادِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّمَا كَانَا غُلَامَيْنِ صَغِيرَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّ هِشَامًا لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hishām ibn ʿUrwa reported that ʿĀʾisha, may Allah be pleased with her, questioned the knowledge of Abū Saʿīd and Anas of the Prophet's ﷺ narrations, since they were but two small boys.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ابوسعید اور انس کو نبی اکرم ﷺ کی احادیث کے بارے میں کیا پتہ ؟ یہ تو ان دنوں کمسن بچے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے البتہ ہشام نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14946

Majma al-Zawaid #14946

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ عَمِيَ، فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اخْطُطْ لِي فِي دَارِي مَسْجِدًا لِأُصَلِّيَ فِيهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ قَوْمُهُ، فَتَغَيَّبَ رَجُلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ "". فَذَكَرَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا؟ "". قَالُوا: نَعَمْ، وَلَكِنَّهُ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَلَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ; فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that a blind Anṣārī man asked the Messenger of Allah ﷺ to mark a mosque in his house for his prayer. When the Prophet ﷺ came amid his people and one man was absent and disparaged, the Prophet ﷺ asked had he not witnessed Badr, and declared perhaps Allah looked upon Badr's people offering them forgiveness for whatever they do. > **"What happened to so-and-so? Has he not witnessed Badr? Perhaps Allah looked upon the people of Badr and said: Do as you wish, for I have forgiven you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نابینا ہو گیا اس نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ میرے گھر میں نماز کے لئے جگہ مخصوص کرنے کے لئے نشان دہی کر دیں تاکہ میں وہاں نماز ادا کیا کروں ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اس شخص کی قوم کے کچھ افراد آپ کے گرد اکٹھے ہو گئے ، ایک شخص وہاں موجود نہیں تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : فلاں کا کیا حال ہے ؟ حاضرین میں سے کسی نے اس کا ذکر ( منفی انداز میں ) کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا اس نے بدر میں شرکت نہیں کی ہے ؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں ، لیکن وہ ایسا ایسا شخص ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ فرمایا ہو : تم لوگ جو چاہو عمل کرو ، میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14947

Majma al-Zawaid #14947

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ أَحَدٌ جَازَ الْعَقَبَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Awfā, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ expressed hope that none who crossed the pass would enter the Fire. > **"I hope that none who crossed the pass will enter the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے یہ امید ہے کہ کوئی ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ، جس نے گھاٹی کو عبور کیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

14948

Majma al-Zawaid #14948

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ: "" لَا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ "". فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ: "" أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا ; فَإِنَّهُ لَنْ يُدْرِكَ أَحَدٌ بَعْدَكُمْ مُدَّكُمْ وَلَا صَاعَكُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reported that on the Day of al-Ḥudaybiyya the Messenger of Allah ﷺ first forbade kindling fire by night, then commanded kindling and work, for none after them would reach their mudd or ṣāʿ. > **"Do not kindle fire by night. Kindle and work, for none after you will reach your mudd nor your ṣāʿ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر یہ ارشاد فرمایا : تم لوگ رات کے وقت آگ نہ جلانا ، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم آگ جلاؤ اور کام کاج کرو کیونکہ تمہارے بعد والا کوئی فرد تمہارے مد اور تمہارے صاع تک نہیں پہنچ پائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14949

Majma al-Zawaid #14949

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خِدَاشِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ said all who pledged beneath the tree would enter Paradise except the owner of the red camel. > **"All who pledged beneath the tree will enter Paradise, except the owner of the red camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ، جس نے درخت کے نیچے بیعت کی ہے البتہ سرخ اونٹ والے شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف خداش بن عیاش کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

14950

Majma al-Zawaid #14950

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي لَأَرْجُوَ أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي بَابٌ فِي فَضْلِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي أَوَاخِرِ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ expressed hope that, Allah willing, none who witnessed Badr would enter the Fire. > **"I hope that none who witnessed Badr will enter the Fire, Allah willing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے یہ امید ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو کوئی ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا جو غزوہ بدر میں شریک ہوا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحابہ کرام کے مناقب سے متعلق باب کے آخر میں مہاجرین اور انصار کی فضیلت سے متعلق باب آئے گا ۔

14951

Majma al-Zawaid #14951

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَتْ سُرِّيَّةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمُّ إِبْرَاهِيمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهَا، وَكَانَ قِبْطِيٌّ يَأْوِي إِلَيْهَا، وَيَأْتِيهَا بِالْمَاءِ وَالْحَطَبِ، فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ: عِلْجٌ يَأْوِي إِلَى عِلْجَةٍ. فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَمَرَهُ بِقَتْلِهِ، فَانْطَلَقَ فَوَجَدَهُ عَلَى نَخْلَةٍ، فَلَمَّا رَأَى الْقِبْطِيُّ السَّيْفَ مَعَ عَلِيٍّ وَقَعَ، فَأَلْقَى الْكِسَاءَ الَّذِي عَلَيْهِ، فَاقْتَحَمَ فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِذَا أَمَرْتَ أَحَدَنَا بِأَمْرٍ ثُمَّ رَأَيْتَ غَيْرَ ذَلِكَ، أَيُرَاجِعُكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَأَخْبَرَهُ بِمَا رَأَى مِنْ أَمْرِ الْقِبْطِيِّ. قَالَ: فَوَلَدَتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ إِبْرَاهِيمَ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ فِي شَكٍّ حَتَّى جَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا إِبْرَاهِيمَ، فَاطْمَأَنَّ إِلَى ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet's ﷺ concubine Umm Ibrāhīm stayed in her chamber while a Copt brought her water and wood, provoking gossip of a man visiting a woman. The Prophet ﷺ sent ʿAlī ibn Abī Ṭālib ordering his killing. ʿAlī found him on a palm tree; seeing the sword he fell, his wrap slipped revealing he was castrated. ʿAlī returned asking whether one commanded who then sees otherwise should refer back, and the Prophet ﷺ affirmed. He reported the Copt's condition. When Umm Ibrāhīm bore Ibrāhīm, the Prophet ﷺ remained in doubt until Jibrīl, peace be upon him, greeted him as father of Ibrāhīm and he was reassured. > **"Yes. Peace upon you, O father of Ibrāhīm."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ایک کنیز تھیں ، جو حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اس خاتون کا ایک بالاخانہ تھا ، ایک قبطی شخص اس خاتون کے پاس آیا کرتا تھا ، وہ ان کے پاس پانی اور لکڑیاں لایا کرتا تھا ، لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی کہ ایک شخص ، ایک عورت کے پاس آتا ہے ، نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس شخص کو قتل کر دیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے ۔ انہوں نے اس شخص کو کھجور کے ایک درخت پر پایا ، جب قبطی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تلوار دیکھی تو وہ اوپر سے نیچے گرا ، اس کے جسم پر موجود چادر ہٹ گئی تو اس شخص کی شرمگاہ نہیں تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے ، انہوں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر آپ ہم میں سے کسی ایک کو کوئی حکم دیتے ہیں ، اور پھر وہ شخص مختلف صورت حال پاتا ہے ، تو کیا آپ کی طرف رجوع کر لے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قبطی کا جو معاملہ دیکھا تھا اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو بتایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ نے جب حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو نبی اکرم ﷺ کو اس حوالے سے کچھ شک تھا ، یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور بولے : اے ابوابراہیم ! آپ کو سلام ہو ، تو نبی اکرم ﷺ کو اس حوالے سے اطمینان ہوا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14952

Majma al-Zawaid #14952

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى أُمِّ إِبْرَاهِيمَ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ أُمِّ وَلَدِهِ وَهِيَ حَامِلٌ مِنْهُ بِإِبْرَاهِيمَ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا نَسِيبًا لَهَا كَانَ قَدِمَ مَعَهَا مِنْ مِصْرَ، فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ إِبْرَاهِيمَ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ، وَإِنَّهُ رَضِيَ لِمَكَانِهِ مِنْ أُمِّ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجُبَّ نَفْسَهُ، فَقَطَعَ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ حَتَّى لَمْ يُبْقِ لِنَفْسِهِ شَيْئًا قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فَوَجَدَ قَرِيبَهَا عِنْدَهَا، فَوَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ كَمَا يَقَعُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ، فَرَجَعَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ، فَلَقِيَ عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ قَرِيبِ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ، فَأَخَذَ السَّيْفَ، وَأَقْبَلَ يَسْعَى حَتَّى دَخَلَ عَلَى مَارِيَةَ، فَوَجَدَ قَرِيبَهَا ذَلِكَ عِنْدَهَا، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِالسَّيْفِ لِيَقْتُلَهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْهُ كَشَفَ عَنْ نَفْسِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عُمَرُ، إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ بَرَّأَهَا وَقَرِيبَهَا مِمَّا وَقَعَ فِي نَفْسِي، وَبَشَّرَنِي أَنَّ فِي بَطْنِهَا غُلَامًا مِنِّي، وَأَنَّهُ أَشْبَهُ الْخَلْقِ بِي، وَأَمَرَنِي أَنْ أُسَمِّيَهُ إِبْرَاهِيمَ، وَكَنَّانِي بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ، وَلَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُحَوِّلَ كُنْيَتِيَ الَّتِي عُرِفْتُ بِهَا لَتَكَنَّيْتُ بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ، كَمَا كَنَّانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ entered upon Umm Ibrāhīm Māriya the Copt, his umm walad pregnant with Ibrāhīm, and found her kinsman who came from Egypt, embraced Islam well, and visited her. The kinsman had castrated himself for his station near the Prophet's ﷺ umm walad. Doubt entered the Prophet's ﷺ heart as with people, and he returned changed in color and told ʿUmar, who hastened with sword to Māriya and raised it to kill the man, who then uncovered himself. ʿUmar returned and informed the Prophet ﷺ, who told him Jibrīl had already declared her and her kinsman innocent of his thought, announced a boy from him most resembling him in creation, commanded naming him Ibrāhīm, and addressed him as Abū Ibrāhīm, a kunya he would have adopted but for dislike of changing his known kunya. > **"Shall I not inform you, O ʿUmar? Jibrīl came to me and informed me that Allah has declared her and her kinsman innocent of what occurred in my heart, and gave me glad tidings that in her womb is a boy from me, the most resembling of creation to me. He commanded me to name him Ibrāhīm and addressed me as Abū Ibrāhīm. Were I not averse to changing my kunya by which I am known, I would have taken Abū Ibrāhīm as Jibrīl addressed me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جو ان کی اُم ولد تھیں اور وہ خاتون نبی اکرم ﷺ سے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حاملہ تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے پاس ان کے ایک رشتے دار کو پایا جو مصر سے اس خاتون کے ساتھ آیا تھا ، اس شخص نے اسلام قبول کر لیا تھا ، اس کا اسلام اچھا تھا ، وہ سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جو حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اس لئے آیا کرتا تھا کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کی اُم ولد تھیں ، اس نے اپنے آپ کو مجبوب کر لیا ( یعنی اپنی شرمگاہ کو کاٹ دیا ) اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان موجود پوری چیز کو کاٹ دیا اور اپنے لئے تھوڑا یا زیادہ کچھ نہیں رہنے دیا ، ایک دن نبی اکرم ﷺ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے اس شخص کو اس خاتون کے پاس پایا ، آپ کے ذہن میں اس حوالے سے کچھ الجھن پیدا ہوئی ، جس طرح لوگوں کے من میں آ جاتی ہے ، آپ واپس تشریف لے گئے ، آپ کی رنگت تبدیل تھی ( یعنی آپ غصے میں تھے ) آپ کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس چیز کے بارے میں بتایا جو ام ابراہیم کے پاس اس شخص کے ہونے کی وجہ سے آپ کے من میں تھی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار پکڑی اور دوڑتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، انہوں نے سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس شخص کو پایا ۔ انہوں نے اس کو قتل کرنے کے لئے اس کی طرف تلوار بڑھائی ، جب اس شخص نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اپنی شرمگاہ سے کپڑا ہٹایا ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس گئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا : اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کو اور اس کے رشتے دار کو اس چیز کے حوالے سے بری قرار دیا ہے ، جو میرے من میں آئی تھی اور اس نے مجھے یہ خوشخبری دی ہے کہ اس عورت کے پیٹ میں میرا ایک بیٹا ہے ، جو ظاہری تخلیق کے اعتبار سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ، اور اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس کا نام ابراہیم رکھوں اور اس نے میری کنیت ابوابراہیم تجویز کی ہے ، اگر میں اس بات کو ناپسند نہ کرتا ہوتا کہ میں جس کنیت کے حوالے سے معروف ہوں ۔ اسے تبدیل کر دوں تو میں نے ابوابراہیم کنیت اختیار کرنی تھی ، جس کنیت سے جبریل نے مجھے مخاطب کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14953

Majma al-Zawaid #14953

وَعَنِ السُّدِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قُلْتُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Suddī reported that he asked Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, whether the Messenger of Allah ﷺ prayed over his son Ibrāhīm. He said he did not know, then invoked mercy upon Ibrāhīm, declaring had he lived he would have been a truthful Prophet.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سدی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ پر رحمت نازل کرے ، اگر وہ زندہ رہتے تو وہ صدیق نبی ہوتے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14954

Majma al-Zawaid #14954

وَعَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ قَالَ فِي ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ: "" إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَكِنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْهُ، وَلَا يَرْوِي عَنْهُ شُعْبَةُ كَذِبًا، وَقَدْ صَحَّ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ concerning his son Ibrāhīm that he has a nursing mother in Paradise. > **"He has a nursing mother in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ’’ جنت میں اس کے لئے ایک دودھ پلانے والی عورت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، تاہم شعبہ نے اس سے روایت نقل کی ہے اور شعبہ اس کے حوالے سے جھوٹی روایت نقل نہیں کرتا ، حضرت براء رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے علاوہ ہونے کے طور پر یہ روایت مستند طور پر ثابت ہے ۔

14955

Majma al-Zawaid #14955

وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَقِيلَ لَهُ: هَلْ رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: نَعَمْ، مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ ذِكْرِ الشَّبَهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عُبَيْدِ بْنِ جُنَادٍ الْحَلَبِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Awfā was asked whether he saw Ibrāhīm son of the Messenger of Allah ﷺ. He replied yes, he died young, the most resembling of people to him ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے دریافت کیا گیا : آپ نے نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ان کا کمسنی میں انتقال ہو گیا تھا اور وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں مشابہت کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبید بن جناد حلبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

14956

Majma al-Zawaid #14956

«وَعَنْ سِيرِينَ قَالَتْ: حَضَرْتُ مَوْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْتُ كُلَّمَا صِحْتُ وَأُخْتِي صَاحَ النِّسَاءُ وَلَا يَنْهَانَا، فَلَمَّا مَاتَ نَهَانَا عَنِ الصِّيَاحِ، وَحَمَلَهُ إِلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، وَالْعَبَّاسُ إِلَى جَنْبِهِ، وَنَزَلَ فِي الْقَبْرِ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَنَا أَبْكِي عِنْدَ قَبْرِهِ، فَمَا نَهَانِي، وَكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ النَّاسُ: هَذَا لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا لَا تَنْكَسِفُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ "". وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُرْجَةً فِي الْقَبْرِ، فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُسَدَّ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَنْفَعُهُ؟ فَقَالَ: "" أَمَا إِنَّهَا لَا تَنْفَعُهُ وَلَا تَضُرُّهُ، وَلَكِنْ يَقَرُّ بِعَيْنِ الْحَيِّ "". وَمَاتَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِعَشْرٍ خَلَوْنَ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ عَشْرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا الْوَاقِدِيُّ، وَفِي الْآخَرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَكِلَاهُمَا مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Sīrīn reported that she attended the death of Ibrāhīm son of the Messenger of Allah ﷺ. Whenever she and her sister cried the women cried and he did not forbid them, but after death he forbade wailing. He carried him to the grave edge with al-ʿAbbās beside him, while al-Faḍl ibn al-ʿAbbās and Usāma ibn Zayd descended into the grave, and she wept at his grave without prohibition. The sun eclipsed and people said it was for Ibrāhīm's death, but the Messenger of Allah ﷺ declared eclipses are for neither death nor life. Seeing a gap in the grave he ordered it filled, explaining it neither benefits nor harms him but comforts the living eye. He died Tuesday, ten nights past Rabīʿ al-Awwal, year ten. > **"It does not eclipse for the death of anyone nor for his life. It neither benefits him nor harms him, but it comforts the eye of the living."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیرین نامی خاتون بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کے قریب ان کے پاس موجود تھی ، میں چیخ رہی تھی اور میری بہن بھی چیخ کے رو رہی تھی ، خواتین بھی چیخ کے رو رہی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ہمیں منع نہیں کیا لیکن جب ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں چیخنے سے منع کر دیا ، بی اکرم ﷺ انہیں گود میں اٹھا کر قبر کے کنارے پر آئے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، قبر میں حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم اترے میں ان کی قبر کے پاس بیٹھ کر رونے لگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے منع نہیں کیا ، اسی دوران سورج گرہن ہو گیا تو کچھ لوگوں نے کہا : یہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے ہوا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا ہے ۔‘‘ راوی خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قبر میں کشادگی دیکھی تو حکم دیا کہ اسے بند کر دیا جائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اس کا اسے فائدہ ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا اسے تو فائدہ نہیں ہو گا ، یا نقصان نہیں ہو گا ، لیکن یہ چیز زندہ شخص کی آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیتی ہے ۔‘‘ ان صاحبزادے کا انتقال منگل کے دن دس ربیع الاول دس ہجری میں ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی واقدی ہے اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور یہ دونوں متروک ہیں ۔

14957

Majma al-Zawaid #14957

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ - حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ - أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ - وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said he leaves among them two successors: the Book of Allah, a rope extended between heaven and earth, and his kin, his Household, never parting until they return to him at the Pond. > **"I am leaving among you two successors: the Book of Allah, a rope extended between heaven and earth, and my kin, my Household. They will never part until they return to me at the Pond."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہارے درمیان دو چیزیں نائب کے طور پر چھوڑے جا رہا ہوں ، اللہ کی کتاب جو زمین اور آسمان کے درمیان لٹکی ہوئی ایک رسی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے ، اور میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں ، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

14958

Majma al-Zawaid #14958

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي خَلَّفْتُ فِيكُمُ اثْنَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا أَبَدًا: كِتَابَ اللَّهِ وَنَسَبِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطِّلْحِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said he has left among them two after which they will never stray: the Book of Allah and his lineage, never parting until they return to him at the Pond. > **"I have left among you two after which you will never stray: the Book of Allah and my lineage. They will never part until they return to me at the Pond."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اپنے پیچھے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں تم ان کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، اللہ کی کتاب اور میرا نسب ( یعنی میری اولاد ) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14959

Majma al-Zawaid #14959

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي مَقْبُوضٌ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ - يَعْنِي كِتَابَ اللَّهِ وَأَهْلَ بَيْتِي - وَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا، وَإِنَّهُ لَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْتَغَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا تُبْتَغَى الضَّالَّةُ فَلَا تُوجَدُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said he is to be taken and has left among them the two weighty things, meaning the Book of Allah and his Household, after which they will never stray, and the Hour will not rise until the companions of the Messenger of Allah ﷺ are sought as a stray is sought and not found. > **"I am to be taken, and I have left among you the two weighty things, meaning the Book of Allah and my Household. You will never stray after them, and the Hour will not rise until the companions of the Messenger of Allah are sought as a stray is sought and not found."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرا انتقال ہو جائے گا ، اور میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں ، یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت ، اور ان دونوں کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے ، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اللہ کے رسول کے اصحاب کو یوں تلاش نہیں کیا جائے گا ، جس طرح کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے ، اور وہ نہیں ملتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14960

Majma al-Zawaid #14960

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ، انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ، حَاصَرَهَا سَبْعَ عَشْرَةَ - أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ - ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" أُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ، وَلَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا مِنِّي - أَوْ كَنَفْسِي - يَضْرِبُ أَعْنَاقَكُمْ "". ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: "" هَذَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ جَبْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reported that when the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah and turned to al-Ṭāʾif, besieging it seventeen or nineteen days, he stood to preach, praised Allah, then enjoined his kin with good, named the Pond as appointment, swore they would establish prayer and pay zakāt or he would send a man from him, as himself, to strike their necks. Then he took ʿAlī's hand and declared him. > **"I enjoin you to my kin with good, and your appointment is the Pond. By Him in Whose Hand is my soul, you shall establish prayer and pay zakāt, or I shall send to you a man from me, as myself, to strike your necks. This."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کیا تو آپ ﷺ طائف کی طرف تشریف لے گئے ، آپ ﷺ نے سترہ یا شاید انیس دن تک اس کا محاصرہ کیے رکھا ، پھر آپ ﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں اپنی عترت کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ، تم سے ملنے کی جگہ حوض ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم لوگ نماز ضرور قائم کرو گے ، اور زکوۃ ضرور ادا کرو گے ، ورنہ میں تمہاری طرف اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجوں گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تمہاری طرف اس شخص کو بھیجوں گا جو میری طرح ہو گا ، اور وہ تمہاری گردنیں اڑائے گا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : اور وہ یہ ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن جبر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14961

Majma al-Zawaid #14961

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْلُفُونِي فِي أَهْلِ بَيْتِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reported that the last words of the Messenger of Allah ﷺ were a command to succeed him in his Household. > **"Succeed me in my Household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جو آخری بات ارشاد فرمائی وہ یہ تھی : ’’ میرے بعد میرے اہل بیت کا خیال رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14962

Majma al-Zawaid #14962

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رِجَالٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said he leaves among them the two weighty things, one greater than the other: the Book of Allah, a rope extended from heaven to earth, and his kin, his Household, never parting until they return to him at the Pond. > **"I am leaving among you the two weighty things, one greater than the other: the Book of Allah, a rope extended from heaven to earth, and my kin, my Household. They will never part until they return to me at the Pond."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں ، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے اللہ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوں ایک رسی ہے ، اور میری عترت میرے اہل بیت ، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ حوض پر یہ دونوں میرے پاس آ جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے رجال ہیں جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

14963

Majma al-Zawaid #14963

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: «نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُحْفَةَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَا أَجِدُ لِنَبِيٍّ إِلَّا نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي قَبْلَهُ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ ". قَالُوا: نَصَحْتَ قَالَ: " أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ؟ ". قَالُوا: نَشْهَدُ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَنَا أَشْهَدُ مَعَكُمْ ". ثُمَّ قَالَ: " أَلَا تَسْمَعُونَ؟ ". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: " فَإِنِّي فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ، وَأَنْتُمْ وَارِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَرْضَهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى، فِيهِ أَقْدَاحٌ عَدَدَ النُّجُومِ مِنْ فِضَّةٍ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِي الثَّقَلَيْنِ ". فَنَادَى مُنَادٍ: وَمَا الثَّقَلَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " كِتَابُ اللَّهِ، طَرَفٌ بِيَدِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَطَرَفٌ بِأَيْدِيكُمْ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ لَا تَضِلُّوا، وَالْآخَرُ عَشِيرَتِي، وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ نَبَّأَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَسَأَلْتُ ذَلِكَ لَهُمَا رَبِّي، فَلَا تَقَدَّمُوهُمَا فَتَهْلَكُوا، وَلَا تَقْصِرُوا عَنْهُمَا فَتَهْلَكُوا، وَلَا تَعْلَمُوهُمَا فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ ". ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: " مَنْ كُنْتُ أَوْلَى بِهِ مِنْ نَفْسِهِ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ».

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ halted at al-Juḥfa, turned to the people, praised Allah and extolled Him, then reminded them that no Prophet lives but half the age of his predecessor and that he expected soon to be called and to answer. He asked what they would say, and they replied that he had counseled sincerely. He had them testify there is no god but Allah, Muḥammad is His servant and Messenger, Paradise is true and Fire is true, and he bore witness with them with his hand upon his chest. He then described himself as preceding them at the Pond, broad between Ṣanʿāʾ and Buṣrā with silver cups as numerous as stars, and enjoined watchfulness over the two weighty things. When asked what they were, he named the Book of Allah with one end in Allah's Hand and one in theirs, and his kin, never parting until they return to him at the Pond, not to be preceded, fallen short of, nor taught over, for they are more learned. Then he took ʿAlī, may Allah be pleased with him, by the hand and declared his guardianship with supplication for ally and adversary. > **"I am leaving among you the two weighty things: the Book of Allah, one end in the Hand of Allah and one end in your hands, hold fast to it and do not stray, and the other is my kin. The Subtle, Aware has informed me they will never part until they return to me at the Pond. Whoever I am closer to than his own self, ʿAlī is his guardian. O Allah, befriend whoever befriends him and oppose whoever opposes him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ’’ جحفہ ‘‘ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ میں نے جس بھی نبی کو پایا اس کی عمر اس سے پہلے والے نبی سے نصف ہوتی تھی اور عنقریب مجھے بلا لیا جائے گا ، تو مجھے جانا ہو گا ، تو تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ نے خیرخواہی کر دی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، جنت حق ہے اور جہنم حق ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک بلند کیا اور اسے اپنے سینے پر رکھا اور ارشاد فرمایا : میں تمہارے ساتھ گواہی دیتا ہوں ، پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے اس حوض کی چوڑائی اتنی ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے ، اس کے پاس آسمان کے ستاروں کی تعداد میں چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہیں ، تو تم اس بات کا جائزہ لینا کہ تم میرے بعد دو چیزوں کے بارے میں کیا کرو گے ؟ ایک منادی نے پکار کر یہ کہا یا رسول اللہ ! دو چیزوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی کتاب ، جس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھوں میں ہے ، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، تم گمراہ نہیں ہو گے اور دوسرا میری عشیرت ، لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گی ، تو میں نے ان دونوں کے لئے اپنے پروردگار سے دعا مانگی ہے ، تو تم ان دونوں سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے ، اور تم ان دونوں کے بارے میں کوتاہی بھی نہ کرنا ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے ، اور تم ان دونوں کو تعلیم دینے کی کوشش بھی نہ کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : ’’ میں جس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں ، تو علی بھی اس کا ولی ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہو ، تو بھی اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہو ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔‘‘

14964

Majma al-Zawaid #14964

وَفِي رِوَايَةٍ أَخْصَرَ مِنْ هَذِهِ: "" «فِيهِ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ مِنْ قِدْحَانِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ» "". وَقَالَ فِيهَا أَيْضًا: "" «الْأَكْبَرُ: كِتَابُ اللَّهِ، وَالْأَصْغَرُ: عِتْرَتِي» "".

EnglishUnverified translation

In a shorter narration of the same event, the Pond is described as containing cups of gold and silver as numerous as stars, and the two weighty things are named as the greater and the smaller. > **"In it are cups of gold and silver as numerous as the stars. The greater is the Book of Allah, and the smaller is my kin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت اس سے زیادہ مختصر ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اس حوض کے پاس ستاروں کی تعداد میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہوں گے ۔‘‘ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’ بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے ، اور چھوٹی چیز میری عترت ہے ۔‘‘

14965

Majma al-Zawaid #14965

وَفِي رِوَايَةٍ: «لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَنَزَلَ غَدِيرَ خُمٍّ، أَمَرَ بِدَوْحَاتٍ فَقُمِّمْنَ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: "" كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ "". وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: مَا كَانَ فِي الدَّوْحَاتِ أَحَدٌ إِلَّا رَآهُ بِعَيْنَيْهِ، وَسَمِعَهُ بِأُذُنَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ، وَفِي التِّرْمِذِيِّ مِنْهُ: "" «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» "". وَفِي سَنَدِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي: حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, when the Messenger of Allah ﷺ returned from the Farewell Pilgrimage and halted at Ghadīr Khumm, he ordered the trees to be cleared, then stood and spoke as one soon to be called and answered. The narrator asked Zayd whether he himself heard it from the Messenger of Allah ﷺ, and he affirmed that everyone beneath the trees saw with his eyes and heard with his ears. > **"It is as though I have been called and I have answered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم ﷺ حجتہ الوداع سے واپس تشریف لے گئے تو آپ نے غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ کیا ، وہاں آپ کے حکم کے تحت درختوں کے نیچے جھاڑو دی گئی ، پھر آپ کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : یوں لگتا ہے جیسے مجھے بلا لیا جائے گا ، اور مجھے جانا ہو گا ۔ اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اس وقت اس مقام پر جو بھی فرد موجود تھا وہ اپنی دونوں آنکھوں کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو دیکھ رہا تھا اور اپنے دونوں کانوں کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی بات کو سن رہا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے اور ترمذی میں اس میں سے یہ روایت مذکور ہے :’’ جس کا میں مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نقل کی ہے پہلی اور دوسری سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور ضعیف ہے ۔

14966

Majma al-Zawaid #14966

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: «لَمَّا صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، نَهَى أَصْحَابَهُ عَنْ سَمُرَاتٍ مُتَفَرِّقَاتٍ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَنْزِلُوا تَحْتَهُنَّ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِنَّ، فَقُمَّ مَا تَحْتَهُنَّ مِنَ الشَّوْكِ، وَعَمَدَ إِلَيْهِنَّ فَصَلَّى عِنْدَهُنَّ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُ لَمْ يُعَمَّرْ نَبِيٌّ إِلَّا نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي يَلِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ يُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ، وَإِنِّي مَسْئُولٌ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ، فَمَاذَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ "". قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ، وَجَهَدْتَ، وَنَصَحْتَ، فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا. قَالَ: "" أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ جَنَّتَهُ حَقٌّ، وَنَارَهُ حَقٌّ، وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ، وَأَنَّ الْبَعْثَ حَقٌّ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ؟ "". قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ بِذَلِكَ. قَالَ: "" اللَّهُمَّ اشْهَدْ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ مَوْلَايَ، وَأَنَا مَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَأَنَا أَوْلَى بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ "". - يَعْنِي عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - "" اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي فَرَطٌ وَأَنْتُمْ وَارِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ، حَوْضٌ أَعْرَضُ مَا بَيْنَ بُصْرَى إِلَى صَنْعَاءَ، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحَانُ مِنْ فِضَّةٍ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا الثَّقَلُ الْأَكْبَرُ: كِتَابُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ، لَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا. وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfa ibn Usayd al-Ghifārī, may Allah be pleased with him, reported that when the Messenger of Allah ﷺ returned from the Farewell Pilgrimage he forbade settling beneath scattered lote trees at al-Baṭḥāʾ, had their thorns cleared, prayed there, then stood to address the people. He spoke of Prophets living half the age of predecessors, of his imminent call, and of mutual questioning. The people testified he conveyed, strove, and counseled sincerely. He had them testify to unity, messengership, Paradise, Fire, death, resurrection, the Hour, and raising of graves, and called Allah to witness. He declared Allah his Master and himself master of believers, closer than their selves, and named ʿAlī, may Allah be pleased with him, as master of whom he is master, with supplication for ally and adversary. He then described his precedence at the Pond, wider than Buṣrā to Ṣanʿāʾ with silver cups as numerous as stars, and his questioning over the two weighty things: the Book of Allah as an extended cord and his kin, his Household, never parting until the Pond. > **"O people, I am to be questioned and you are to be questioned, so what will you say? O Allah, bear witness. O people, Allah is my Master and I am master of the believers, closer to them than their selves. Whoever I am his master, this is his master. O Allah, befriend whoever befriends him and oppose whoever opposes him. I am your predecessor and you are coming to the Pond. Look at how you succeed me in the two weighty things: the Book of Allah and my kin, my Household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ حجۃ الوداع سے واپس تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ متفرق درختوں کے نیچے نہ جائیں اور ان کے نیچے جا کے پڑاؤ نہ کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا اور حکم دیا کہ تم لوگ اٹھو اور ان درختوں کے نیچے صفائی کرو ، پھر بی اکرم ﷺ ان درختوں کی طرف گئے ، آپ نے وہاں نماز ادا کی پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ اس نے جس بھی نبی کو دنیا میں بھیجا تو اس کی عمر اس سے پہلے والے نبی کی عمر سے نصف ہوتی تھی ، میرا یہ خیال ہے کہ عنقریب میرا بلاوا آ جائے گا ، اور مجھے جانا ہو گا مجھ سے بھی حساب لیا جائے گا اور تم لوگوں سے بھی حساب لیا جائے گا ، تو تم لوگ کیا کہو گے ؟ لوگوں نے کہا : ہم اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی ، بھرپور کوشش کی ، خیرخواہی کی ، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور حضرت محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور جنت حق ہے ، اور جہنم حق ہے ، اور موت حق ہے ، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا حق ہے ، اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ قبروں میں موجود لوگوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کہا : اے اللہ ! تو گواہ ہو جاؤ ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ میرا مولیٰ ہے اور میں مومنین کا مولیٰ ہوں اور میں ان کے نزدیک ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں ، تو جس کا میں مولیٰ ہوں یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ( نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : ) ’’ اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہو ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہو ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے ، وہ ایسا حوض ہے جو بصریٰ سے لے کر صنعاء تک کے درمیان فاصلے سے زیادہ چوڑا ہے ، اور اس کے پاس ستاروں کی تعداد میں چاندی سے بنے ہوئے پیالے ہیں ، اور جب تم لوگ حوض پر میرے پاس آؤ گے ، تو میں تم سے دو چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ، تو تم لوگ اس بات کا جائزہ لو گے کہ تم میرے بعد ان دو چیزوں کے بارے میں کیا کرتے ہو ؟ ان میں بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے ، جس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تم لوگوں کے ہاتھ میں ہے ، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو ، تم گمراہ نہیں ہو گے ، اور تم تبدیلی نہ کرنا ( اور دوسری چیز ) میری عترت میرے اہل بیت ہیں ، لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن حسن انماطی ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14967

Majma al-Zawaid #14967

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْهِلَالِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَكَاتِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا، فَإِذَا فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عِنْدَ رَأْسِهِ. قَالَ: فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرْفَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: "" حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ، مَا الَّذِي يُبْكِيكِ؟ "". فَقَالَتْ: أَخْشَى الضَّيْعَةَ بَعْدَكَ، فَقَالَ: "" يَا حَبِيبَتِي، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اطَّلَعَ إِلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً، فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ، فَبَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ، ثُمَّ اطَّلَعَ اطِّلَاعَةً، فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ، وَأَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ يَا فَاطِمَةُ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ تُعْطَ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا، وَلَا تُعْطَى أَحَدًا بَعْدَنَا: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَأَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللَّهِ، وَأَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنَا أَبُوكِ، وَوَصِيِّي خَيْرُ الْأَوْصِيَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَهُوَ بَعْلُكِ، وَشَهِيدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَهُوَ عَمُّكِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَمُّ بَعْلِكِ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ أَخْضَرَانِ يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ وَأَخُو بَعْلِكِ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهُمَا ابْنَاكِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَهُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ خَيْرٌ مِنْهُمَا. يَا فَاطِمَةُ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ إِنَّ مِنْهُمَا مَهْدِيُّ هَذِهِ الْأُمَّةِ، إِذَا صَارَتِ الدُّنْيَا هَرْجًا وَمَرَجًا، وَتَظَاهَرَتِ الْفِتَنُ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ، وَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَلَا كَبِيرَ يَرْحَمُ صَغِيرًا، وَلَا صَغِيرَ يُوَقِّرُ كَبِيرًا، فَيَبْعَثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِنْدَ ذَلِكَ مِنْهُمَا مَنْ يَفْتَحُ حُصُونَ الضَّلَالَةِ، وَقُلُوبًا غُلْفًا، يَقُومُ بِالدِّينِ آخِرَ الزَّمَانِ كَمَا قُمْتُ بِهِ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ، وَيَمْلَأُ الدُّنْيَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا. يَا فَاطِمَةُ، لَا تَحْزَنِي وَلَا تَبْكِي ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْحَمُ بِكِ، وَأَرْأَفُ عَلَيْكِ مِنِّي، وَذَلِكَ لِمَكَانِكِ مِنْ قَلْبِي، وَزَوَّجَكِ اللَّهُ زَوْجًا وَهُوَ أَشْرَفُ أَهْلِ بَيْتِكِ حَسَبًا، وَأَكْرَمُهُمْ مَنْصِبًا، وَأَرْحَمُهُمْ بِالرَّعِيَّةِ، وَأَعْدَلُهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، وَأَبْصَرُهُمْ بِالْقَضِيَّةِ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تَكُونِي أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي». قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: «فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ تَبْقَ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - بَعْدَهُ إِلَّا خَمْسَةً وَسَبْعِينَ يَوْمًا، حَتَّى أَلْحَقَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn ʿAlī al-Hilālī reported from his father that he entered upon the Messenger of Allah ﷺ in the illness in which he was taken, with Fāṭima, may Allah be pleased with her, at his head weeping aloud. The Prophet ﷺ raised his gaze and asked his beloved Fāṭima why she wept. She feared destitution after him. He reminded her that Allah looked upon earth and chose her father with messengership, then looked again and chose her husband with revelation of her marriage, and that their House was granted seven traits granted none before nor after: himself as Seal, noblest and most beloved of Prophets and creation and her father; his executor best and most beloved of executors and her husband; their martyr best and most beloved of martyrs, her uncle Ḥamza ibn ʿAbd al-Muṭṭalib; among them one with two green wings flying with angels in Paradise, her father's cousin and her husband's brother; among them the two grandsons of this umma, her sons al-Ḥasan and al-Ḥusayn, masters of Paradise's youth, yet their father better than them; and from them the Mahdī when the world fills with chaos, severed roads, mutual raids, and lost mercy and reverence, who opens fortresses of misguidance and sealed hearts, upholds religion in the last age as he upheld it in the first, and fills earth with justice as filled with tyranny. He forbade her grief, for Allah is more merciful to her than himself by her place in his heart, and described her husband as noblest in lineage, rank, mercy, equity, and judgment among her House, asking his Lord she be first of his Household to join him. > **"O my beloved, did you not know that Allah looked upon the earth and chose your father, then looked again and chose your husband? We are a Household granted seven traits granted none before us nor after us. From them is the Mahdī of this umma when the world becomes chaos and trials appear. Do not grieve nor weep, for Allah is more merciful to you than I. I asked my Lord that you be the first of my Household to join me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن علی ہلالی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نبی اکرم ﷺ کی اس بیماری کے دوران نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس بیماری کے آخرت میں آپ کا وصال ہو گیا تھا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے سرہانے موجود تھیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ رونے لگیں ، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : میری محبوب فاطمہ ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے آپ کے بعد ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے میری محبوب شخصیت ! کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف جھانک کر دیکھا اور ان میں سے تمہارے باپ کو منتخب کر کے اسے اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا پھر اس نے ایک مرتبہ جھانک کر دیکھا اور اہل زمین میں سے تمہارے شوہر کو منتخب کیا اور اس نے میری طرف یہ وحی کی کہ میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کروا دوں ۔ اے فاطمہ ! ہم اہل بیت وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سات خصوصیات عطا کی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ، اور ہمارے بعد بھی کسی کو نہیں دی جائیں گی ، میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوں ، میں تمہارا باپ ہوں اور میرا وصی تمام اوصیاء سے بہتر ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے ، اور وہ تمہارا شوہر ہے ، اور ہمارا شہید تمام شہداء سے بہتر ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام شہداء سے زیادہ محبوب ہے ، اور وہ تمہارا چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہے جو تمہارے شوہر کا بھی چچا ہے ، اور ہم میں سے ایک شخص وہ ہے جس کے دو سبز پر ہیں ۔ وہ جنت میں فرشتوں کے ہمراہ جہاں چاہے اڑ کے چلا جاتا ہے ، اور وہ تمہارے باپ کا چچا زاد ہے ، اور تمہارے شوہر کا بھائی ہے ، اور ہم میں سے اس امت کے دو ’’ سبط ‘‘ ( نواسے ) ہیں ، اور وہ دونوں تمہارے بیٹے حسن اور حسین ہیں ۔ وہ دونوں اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ بہتر ہے ، اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے : اے فاطمہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ان دونوں کی اولاد میں سے اس امت میں مہدی آئے گا ، جس وقت دنیا میں قتل و غارت گری عام ہو چکی ہو گی ، فتنے ظاہر ہو چکے ہوں گے ، راستے بند ہو چکے ہوں گے ، لوگ ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہوں گے ، اس وقت کوئی بڑا کسی چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا ، اور کوئی چھوٹا کسی بڑے کی تعظیم نہیں کرے گا ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں سے مہدی کو بھیجے گا جو گمراہی کے قلعوں کو فتح کر دے گا ، بند دلوں کو کھول دے گا ، اور آخری زمانے میں دین کو یوں قائم کرے گا ، جس طرح میں نے ابتدائی زمانے میں اس کو قائم کیا تھا ، وہ دنیا کو عدل سے بھر دے گا ، جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی ، اے فاطمہ ! تم غمگین نہ ہو اور تم روؤ نہیں ، بے شک اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ تمہارے بارے میں مہربان اور زیادہ رحم کرنے والا ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے دل میں جو تمہاری جگہ ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری شادی ایسے شخص کے ساتھ کی ہے ، جو تمہارے گھرانے میں حسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ معزز ہے ، اور منصب کے اعتبار سے سب سے زیادہ عزت والا ہے ، رعایا کے لئے سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، سب سے بہترین طریقے سے انصاف کرنے والا ہے ، عدالتی فیصلوں کے بارے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے ، میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی ہے کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو ‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ، تو اس کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا صرف پچھتر دن زندہ رہی تھیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ملا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن حبیب ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ یہ منکر الحدیث ہے اور اس حدیث کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی گئی ہے ۔