وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَ يَقُولُ: "" أَيْنَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ؟ "" فَلَمْ يَزَلْ يَتَفَقَّدُهُمْ، وَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ حَتَّى اجْتَمَعُوا عِنْدَهُ، فَقَالَ: "" إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ فَاحْفَظُوهُ وَعُوهُ، وَحَدِّثُوا بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ خَلْقِهِ خَلْقًا "" ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ} [الحج: 75] "" خَلْقًا يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، وَإِنِّي مُصْطَفٍ مِنْكُمْ مَنْ أُحِبُّ أَنْ أَصْطَفِيَهُ وَمُؤَاخٍِ بَيْنَكُمْ كَمَا آخَى اللَّهُ بَيْنَ الْمَلَائِكَةِ، قُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ "" فَقَامَ حَتَّى جَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "" إِنَّ لَكَ عِنْدِي يَدًا، اللَّهُ يَجْزِيكَ بِهَا، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُكَ خَلِيلًا فَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ قَمِيصِي مِنْ جَسَدِي "" وَحَرَّكَ قَمِيصَهُ بِيَدِهِ. ثُمَّ قَالَ: "" ادْنُ يَا عُمَرُ "" فَدَنَا عُمَرُ فَقَالَ: "" قَدْ كُنْتَ شَدِيدَ الشَّغَبِ عَلَيْنَا أَبَا حَفْصٍ فَدَعَوْتُ اللَّهَ يُعِزُّ الدِّينَ بِكَ أَوْ بِأَبِي جَهْلٍ فَفَعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ بِكَ، فَكُنْتَ أَحَبَّهُمَا إِلَيَّ فَأَنْتَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ "" ثُمَّ تَنَحَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ. ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانٍ فَقَالَ: ادْنُ مِنِّي يَا عُثْمَانُ "" فَلَمْ يَزَلْ يَدْنُ مِنْهُ حَتَّى أَلْصَقَ رُكْبَتَيْهِ بِرُكْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى عُثْمَانَ فَإِذَا إِزَارُهُ مَحْلُولَةً، فَزَرَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: اجْمَعْ عِطْفَيْ رِدَائِكَ عَلَى حَقْوِكَ فَإِنَّ لَكَ شَأْنًا فِي أَهْلِ السَّمَاءِ، أَنْتَ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَأَوْدَاجُكَ تَشْخَبُ دَمًا، فَأَقُولُ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ؟ فَتَقُولُ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَذَلِكَ كَلَامُ جِبْرِيلَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ هَتَفَ مِنْ السَّمَاءِ: أَلَا إِنَّ عُثْمَانَ أَمِينٌ عَلَى كُلِّ خَاذِلٍ "". ثُمَّ دَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَقَالَ: ادْنُ يَا أَمِينَ اللَّهِ، وَالْأَمِينُ فِي السَّمَاءِ يُسَلِّطُكَ اللَّهُ عَلَى مَالِكَ بِالْحَقِّ، أَمَا إِنَّ لَكَ عِنْدِي دَعْوَةً وَقَدْ أَخَّرْتُهَا "" قَالَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" قَدْ حَمَّلْتَنِي يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمَانَةً، أَكْثَرَ اللَّهُ مَالَكَ "" وَجَعَلَ يُحَرِّكُ يَدَهُ، ثُمَّ تَنَحَّى وَآخَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ عُثْمَانَ. ثُمَّ دَخَلَ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَقَالَ: "" ادْنُ مِنِّي "" فَدَنَوَا مِنْهُ، فَقَالَ: "" أَنْتُمَا حَوَارِيِّيْ كَحَوَارِيِّ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ "" ثُمَّ آخَى بَيْنَهُمَا. ثُمَّ دَعَا سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَقَالَ: "" يَا عَمَّارُ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ "" ثُمَّ آخَى بَيْنَهُمَا. ثُمَّ دَعَا عُوَيْمِرَ أَبَا الدَّرْدَاءِ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ فَقَالَ: "" يَا سَلْمَانُ أَنْتَ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ، وَقَدْ أَتَاكَ اللَّهُ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ وَالْعِلْمَ الْآخِرَ وَالْكِتَابَ الْأَوَّلَ وَالْكِتَابَ الْآخِرَ "" ثُمَّ قَالَ: "" أَلَا أُرْشِدُكَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ؟ قَالَ: بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنْ تَنْقُدْهُمْ يَنْقُدُوكَ، وَإِنْ تَتْرُكْهُمْ لَا يَتْرُكُوكَ، وَإِنْ تَهْرَبْ مِنْهُمْ يُدْرِكُوكَ، فَأَقْرِضْهُمْ عِرْضَكَ لِيَوْمِ فَقْرِكَ "" فَآخَى بَيْنَهُمَا. ثُمَّ نَظَرَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" أَبْشِرُوا وَأَقِرُّوا عَيْنًا فَأَنْتُمْ أَوَّلُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَأَنْتُمْ فِي أَعْلَى الْغُرَفِ. ثُمَّ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يَهْدِي مِنَ الضَّلَالَةِ "". فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ رُوحِي، وَانْقَطَعَ ظَهْرِي حِينَ رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ مَعَ أَصْحَابِكَ غَيْرِي، فَإِنْ كَانَ مِنْ سُخْطٍ عَلَيَّ فَلَكَ الْعُتْبَى وَالْكَرَامَةُ، فَقَالَ: "" وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَخَّرْتُكَ إِلَّا لِنَفْسِي فَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى وَوَارِثِي "" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا إِرْثِي مِنْكَ؟ قَالَ: "" مَا أَوْرَثَتِ الْأَنْبِيَاءُ "" قَالَ: وَمَا أَوْرَثَتِ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلَكَ؟ قَالَ: "" كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ، فَأَنْتَ مَعِي فِي قَصْرِي فِي الْجَنَّةِ - مَعَ فَاطِمَةَ - ابْنَتِي، وَأَنْتَ أَخِي وَرَفِيقِي "" ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ: {إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47]، "" الْأَخِلَّاءُ فِي اللَّهِ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي عُثْمَانَ: "" أَمِيرٌ عَلَى كُلِّ مَخْذُولٍ ""، وَقَالَ فِي أَبِي الدَّرْدَاءِ: "" أَلَا أَرْشُوكَ "" بَدَلَ "" أُرْشِدُكَ "" وَقَالَ فِيهِ: "" فَأَقْرِضْهُمْ عِرْضَكَ لِيَوْمِ فَقْرِكَ وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَاءَ أَمَامَكَ ""، وَفِي إِسْنَادِهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
EnglishUnverified translation
Zayd ibn Abī Awfā, may Allah be pleased with him, reported that he entered upon the Messenger of Allah ﷺ in the mosque of Madīna while he summoned the men one by one until they gathered. He announced a narration to preserve and convey: Allah selects from creation, reciting the verse that Allah selects messengers from angels and men, and he would select among them and join them in brotherhood as Allah joined angels. He joined Abū Bakr to himself as his shirt to his body, ʿUmar beside him as third of three in Paradise, ʿUthmān drawn knee to knee with glad tidings of the Pond though his veins bleed blood, and continued joining al-Zubayr with Ṭalḥa, ʿAlī with ʿAmmār, Ubayy with Ibn Masʿūd, Abū al-Dardāʾ with Salmān, Saʿd with Ṣuhayb, Abū Dharr with Bilāl, Usāma with Abū Hind the cupper, and Abū Ayyūb with ʿAbdullāh ibn Salām. > **"I shall narrate to you a narration, preserve it, comprehend it, and narrate it to those after you. Rise, O Abū Bakr. Draw near, O ʿUmar. Draw near to me, O ʿUthmān. You are brothers in this world and brothers in Paradise, so let each greet and shake the hand of his fellow."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت زید بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد نبوی میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے یہ فرمانا شروع کیا : فلاں بن فلاں کہاں ہے ؟ آپ اسی طرح مختلف لوگوں کے بارے میں دریافت کرتے رہے ، اور ان کی طرف پیغام بھیجتے رہے ، یہاں تک کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس اکٹھے ہو گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو ایک بات بیان کرنے لگا ہوں تم اس کی حفاظت کرنا اور اسے یاد رکھنا اور اپنے بعد والے لوگوں کو یہ بیان کرنا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے ایک خاص مخلوق کو منتخب کیا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں سے اور لوگوں میں سے رسولوں کو منتخب کیا ۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی مخلوق کو منتخب کیا ہے جسے وہ جنت میں داخل کرے گا اور میں تم میں سے اس شخص کو منتخب کروں گا ، جسے میں پسند کروں گا کہ میں اسے منتخب کروں اور میں تمہارے درمیان بھائی چارہ قائم کروں گا ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہے ، اے ابوبکر تم اٹھو ، وہ کھڑے ہوئے ، یہاں تک کہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں تمہیں خلیل بناتا ، تمہاری میرے نزدیک وہی حیثیت ہے جو جسم کے ساتھ قمیص کی ہوتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی قمیص کو حرکت دے کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عمر تم قریب آ جاؤ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریب آ گئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوحفص ! تم پہلے ہمارے شدید مخالف تھے ، تو میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : وہ تمہارے ذریعے یا ابوجہل کے ذریعے دین کو غلبہ عطا کرے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذریعے ایسا کر دیا اور ویسے بھی دونوں میں سے تم میرے نزدیک زیادہ محبوب تھے ، تم جنت میں میرے ساتھ ہو گے اور اس امت کے تیسرے فرد ہو گے پھر وہ پیچھے ہٹ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے عثمان تم میرے قریب آ جاؤ ، نبی اکرم ﷺ مسلسل انہیں قریب کرتے رہے ، یہاں تک کہ ان کے گھٹنے نبی اکرم ﷺ کے گھٹنوں کے ساتھ ملنے لگے ۔ نبی اکرم ﷺ نے پہلے ان کی طرف دیکھا پھر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو عظمت والا ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، تو ان کے بٹن کھلے ہوئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے ان کے بٹن بند کیے اور فرمایا : تم اپنی چادر کے دونوں کنارے اپنے پہلو پر اکٹھے رکھا کرو کیونکہ آسمان والوں میں تمہاری ایک مخصوص حیثیت ہے ، تم ان افراد میں سے ایک ہو جو حوض پر میرے پاس آئیں گے ، اور اس وقت تمہاری رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا ، میں دریافت کروں گا تمہارے ساتھ ایسا کس نے کیا ہے ؟ تو تم کہو گے فلاں نے اور فلاں نے ، یہ بات جبرائیل نے بتائی ہے ، اس نے آسمان سے پکار کر یہ کہا ہے : خبردار ! عثمان ہر ’’ خاذل ‘‘ ( ضرورت کے وقت الگ ہونے والے ) کا امین ہے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے اللہ کے مقرر کردہ امین اور وہ شخص ! کہ جسے آسمان میں امین قرار دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے مال پر حق کے ہمراہ غلبہ دیا ہے تمہارے لئے میرے پاس ایک مخصوص دعا ہے ، جسے میں نے مؤخر کر دیا ہے ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے لئے کوئی چیز اختیار کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عبدالرحمن تم نے مجھے ایک امانت سونپی ہے ، اللہ تعالیٰ تمہارا مال زیادہ کرے نبی اکرم ﷺ اپنے ہاتھ کو حرکت دینے لگے پھر وہ پیچھے ہٹ گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے قریب آ جاؤ ، وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے قریب ہو گئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دونوں میرے حواری ہو ، جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے حواری ہوتے تھے پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا اے عمار ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابودرداء ، عویمر اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور فرمایا : اے سلمان ! تم ہم میں سے اہل بیت میں سے ہو ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہلے والوں کا علم بھی دیا ہے اور بعد والوں کا بھی علم دیا ہے ، پہلی کتاب کا علم بھی دیا ہے اور بعد والی کتاب کا علم بھی دیا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابودرداء کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم ان لوگوں پر تنقید کرو گے تو وہ تم پر تنقید کریں گے اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے اور اگر تم ان سے بھاگو گے تو وہ تم تک پہنچ جائیں گے ، تو جس دن تمہاری محتاجی ہو اس دن تم اپنی عزت انہیں قرض دے دینا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں افراد کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف نظر کی اور فرمایا : تم لوگ خوشخبری حاصل کرو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو کہ تم پہلے لوگ ہو گے جو حوض پر میرے پاس آؤ گے ، اور تم بالائی بالاخانوں میں ہو گے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا اور فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو گمراہی کے مقابلے میں ہدایت نصیب کرتا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری روح نکلنے لگی ہے اور میری کمر ٹوٹنے لگی ہے جب میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ یہ سلوک کیا اور میرے ساتھ کچھ نہیں کیا ، اگر تو آپ کو مجھ سے کوئی ناراضگی ہے تو آپ کو شرف اور فضیلت حاصل ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے تمہیں اس لئے موخر کیا ہے ، میں نے تمہیں اپنے لئے رکھا ہے ، تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت بارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی اور اپنے وارث ہونے کے طور پر تمہیں چھوڑا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے کیا وراثت لوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ چیز جو انبیاء وراثت میں چھوڑتے ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ سے پہلے انبیاء وراثت میں کیا چھوڑتے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی کتاب اور لوگوں کے نبی کی سنت ، تو تم جنت میں میرے محل میں میرے ساتھ ہو گے ، اور میری بیٹی فاطمہ کے ساتھ ہو گے تم میرے بھائی اور میرے رفیق ہو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہ بھائی بھائی ہوں گے اور پلنگوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔‘‘ ( اور یہ آیت بھی تلاوت کی : ) ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات کی وجہ سے ایک دوسرے سے دوستی رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ ہر ’’ مخذول ( جس کی ضرورت کے وقت اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو ) پر امیر ہو گا ، اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : اس میں لفظ ’’ ارشدک “ کی جگہ لفظ ’’ ارشوک “ ہے ۔ اور اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ تم اپنی محتاجی کے دن اپنی عزت انہیں قرضے کے طور پر دے دینا اور یہ بات جان لینا کہ جزا آگے ملے گی ۔‘‘ ان دونوں روایات کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔