Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 16

Book of Virtues and Merits

Hadith 14888–14927

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

14888

Majma al-Zawaid #14888

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِدَّيْنِ، فَكُنْتُ مِنْ أَوَّلِ النَّاسِ إِسْلَامًا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reported that he and the Messenger of Allah ﷺ were born in the same year in kinship of age, and that he was among the first people to accept Islam.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم ﷺ ایک ہی سال میں پیدا ہوئے تھے ، میں ابتداء میں اسلام قبول کرنے والے افراد میں سے ایک ہوں ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

14889

Majma al-Zawaid #14889

«وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ، لَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا زَحْفًا، فَأَقْرِضِ اللَّهَ يُطْلِقْ قَدَمَيْكَ "" فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا الَّذِي أُقْرِضُ أَوْ أُخْرِجُ؟ وَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَلْيُضِفِ الضَّيْفَ، وَلْيُطْعِمِ الْمِسْكِينَ، وَلْيُعْطِ السَّائِلَ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَجْزِي عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا هُوَ فِيهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ: خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَلَا يَثْبُتُ فِي دُخُولِهِ زَحْفًا حَدِيثٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ addressed him concerning his wealth and commanded charity that frees one's steps. > **"O ʿAbd al-Raḥmān, you are among the rich. You will not enter Paradise except crawling, so lend to Allah and He will free your feet."** ʿAbd al-Raḥmān asked what he should lend, then departed, whereupon the Messenger of Allah ﷺ sent word commanding him to honor the guest, feed the poor, and give the beggar, for that suffices for much of what weighs upon him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عبدالرحمن تم خوشحال لوگوں میں سے ایک ہو ، تم گھسٹ کر چلتے ہوئے جنت میں داخل ہو گے ، تو تم اللہ تعالیٰ کو قرض دو تاکہ وہ تمہارے قدموں کو آزاد کر دے ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں کتنا قرض دوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کتنا نکالوں ؟ پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پیغام بھیجا اور فرمایا : عبدالرحمن سے کہو ! کہ وہ مہمان کی مہمان نوازی کرے ، بھوکے کو کھانا کھلائے اور مانگنے والے کو دے ، تو یہ اُن بہت سی چیزوں کا بدلہ بن جائے گا جو اس میں پائی جاتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن ابومالک ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یہ حصہ ثابت شدہ نہیں ہے کہ وہ گھسٹ کر جنت میں داخل ہوں گے ۔

14890

Majma al-Zawaid #14890

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أَغْنِيَاءِ أُمَّتِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَنْ يَدْخُلَهَا إِلَا حَبْوًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ: أَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said the first of the rich of his umma to enter Paradise would be ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, yet only crawling. > **"The first of the rich of my umma to enter Paradise is ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf. By Him in Whose Hand is my soul, he will not enter it except crawling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے خوشحال لوگوں میں سے جنت میں پہلے داخل ہونے والا فرد عبدالرحمن بن عوف ہو گا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ جنت میں صرف گھسٹ کر داخل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اغلب بن تمیم ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

14891

Majma al-Zawaid #14891

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا هِيَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا الْمَسَاكِينُ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمْ حَبْوًا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظْتُ قُلْتُ: إِبِلِي الَّتِي أَنْتَظِرُهَا بِالشَّامِ وَأَحْمَالُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أَدْخُلَهَا مَعَهُمْ مَاشِيًا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reported that he was shown Paradise and saw none entering it but the poor, and he entered with them crawling. When he awoke he resolved that his camels awaited in al-Shām with their loads would be in the path of Allah so he might enter walking with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں جنت کو دیکھا کہ اس میں صرف غریب لوگ داخل ہو رہے تھے اور میں ان کے ساتھ گھسٹ کر داخل ہوا جب میں بیدار ہوا تو میں نے سوچا میرے وہ اونٹ جو شام میں ہیں جن کا میں انتظار کر رہا ہوں وہ اونٹ اور ان کا ساز و سامان اللہ کی راہ میں وقف ہوتا ہے ، تاکہ میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ چل کر جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

14892

Majma al-Zawaid #14892

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنْ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، فَكَانَتْ سَبْعَ مِائَةِ بَعِيرٍ فَارْتَجَّتِ الْمَدِينَةُ مِنْ الصَّوْتِ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ - عَبْوًا ""، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا، فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ: عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَقَدْ شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ وَشَهِدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجَنَّةِ وَصَلَّى خَلْفَهُ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that while ʿĀʾisha was in her house she heard a noise in Madīna and was told it was a caravan of ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf arriving from al-Shām with seven hundred camels bearing every provision, shaking the city with sound. She recalled hearing the Messenger of Allah ﷺ say he had seen ʿAbd al-Raḥmān entering Paradise crawling. When this reached ʿAbd al-Raḥmān he declared that if able he would enter it standing, and devoted the camels with their halters and loads in the path of Allah. > **"I have seen ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf entering Paradise crawling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں موجود تھیں اسی دوران انہوں نے مدینہ منورہ میں آواز سنی تو دریافت کیا یہ کس چیز کی آواز ہے ؟ لوگوں نے بتایا : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا قافلہ شام سے آیا ہے ، جس میں ہر قسم کا ساز و سامان موجود ہے وہ سات سو اونٹ تھے ۔ ان کی آمد کی وجہ سے مدینہ منورہ میں شور سا گونجا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا کہ وہ جنت میں گھسٹ کر داخل ہو گا ۔‘‘ اس بات کی اطلاع حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے کہا : اگر میں چاہوں تو میں کھڑا ہو کر بھی جنت میں داخل سکتا ہوں ، تو انہوں نے ان اونٹوں کی رسیاں اور ان کا ساز و سامان اللہ کی راہ میں وقف کر دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے جسے امام نسائی اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر اور غزوہ حنین میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے لئے جنت کی گواہی دی ہے اور ان کے پیچھے نماز بھی ادا کی ہے ۔

14893

Majma al-Zawaid #14893

وَعَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهَا: " مَنْ يَخْطُبُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ؟ " قَالَتْ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: " أَنْكِحُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ، وَمِنْ خِيَارِهِمْ مَنْ كَانَ مِثْلَهُ».

EnglishUnverified translation

Busra bint Ṣafwān, may Allah be pleased with her, reported that the Prophet ﷺ asked her who had proposed to Umm Kulthūm bint ʿUqba. When she named several men including ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, he commanded her marriage to him, describing him among the best of Muslims and his like among their best. > **"Marry her to ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, for he is among the best of Muslims, and among their best is whoever is like him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده بسره بنت صفوان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے سوال کیا ام کلثوم بنت عقبہ کو کس نے شادی کا پیغام بھیجا ہے ، تو اس خاتون نے بتایا فلاں صاحب نے اور فلاں صاحب نے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عبدالرحمن بن عوف کے ساتھ اس کی شادی کروا دو ! کیونکہ وہ بہترین مسلمانوں میں سے ایک ہے ، اور ان ( مسلمانوں ) کے بہترین لوگوں میں وہ شخص ہو گا جو اس کی مانند ہو ۔‘‘

14894

Majma al-Zawaid #14894

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: "" «فَأَيْنَ أَنْتُمْ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ وَخِيَارُهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى: يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَالثَّانِيَةُ: ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration the Prophet ﷺ asked why they neglected ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, describing him as a master of the Muslims and among their best. > **"Where are you with regard to ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, for he is a master of the Muslims and among their best."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم لوگ عبدالرحمن بن عوف پر کیوں توجہ نہیں دیتے ؟ کیونکہ وہ مسلمانوں کے سردار اور ان کے بہتر لوگوں میں سے ایک ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے پہلی روایت کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے اور ایک راوی سلیمان بن سالم ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں جبکہ دوسری روایت ضعیف ہے ۔

14895

Majma al-Zawaid #14895

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: «أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ كَرْمًا مِنْ عُثْمَانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ، فَأَمَرَ عُثْمَانُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَأَعْطَى الثَّمَنَ، فَقَسَّمَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَيْنَ بَنِي زُهْرَةَ وَبَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، وَأَزْوَاجِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الْمِسْوَرُ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ قُلْتُ: بَعَثَ بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ، سَقَى اللَّهُ ابْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhrama, may Allah be pleased with him, reported that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf sold a garden to ʿUthmān for forty thousand dīnārs, and ʿUthmān ordered ʿAbdullāh ibn Saʿd ibn Abī Sarḥ to pay the price. ʿAbd al-Raḥmān divided it among Banū Zuhra, the poor Muslims, and the wives of the Prophet ﷺ. When al-Miswar brought the share to ʿĀʾisha, she recalled the Messenger of Allah ﷺ saying only the patient would show kindness to them after him, and she prayed that Allah give Ibn ʿAwf to drink from Salsabīl of Paradise. > **"None will show kindness to you after me except the patient. May Allah give Ibn ʿAwf to drink from Salsabīl of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو چالیس ہزار دینار کے عوض میں باغ فروخت کیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابوسرح رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ انہیں قیمت ادا کر دیں ، تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے وہ قیمت بنو زہرہ اور غریب مسلمانوں اور نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے درمیان تقسیم کر دی ۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا انہوں نے دریافت کیا : یہ رقم کہاں سے آئی ہے ؟ میں نے بتایا یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بھیجی ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ میرے بعد تمہارا خیال صرف صبر کرنے والے لوگ رکھیں گے ۔‘‘ ( پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ ابن عوف کو جنت ( کی نہر ) سلسبیل سے پانی پلائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14896

Majma al-Zawaid #14896

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «خِيَارُكُمْ خَيْرُكُمْ لِنِسَائِي مِنْ بَعْدِي. قَالَ: فَأَوْصَى لَهُنَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِكَذَا، فَبِيعَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said the best of them would be the best to his wives after him, and ʿAbd al-Raḥmān bequeathed them property sold for forty thousand. > **"The best of you are the best of you to my wives after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں بہتر لوگ وہ ہوں گے جو میرے بعد میری بیویوں کے لئے زیادہ بہتر ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کے لئے فلاں ( جگہ یا چیز ) کی تلقین کی تھی ، جب اسے فروخت کیا گیا تو وہ چالیس ہزار کے عوض میں فروخت ہوئی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14897

Majma al-Zawaid #14897

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَعْطِفَنَّ عَلَيْكُمْ إِلَّا الصَّابِرُونَ، الصَّادِقُونَ "". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَبِعْتُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ شَيْئًا - قَدْ سَمَّاهُ - بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا، فَقَسَّمَهُ بَيْنَهُنَّ - يَعْنِي: بَيْنَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَحِمَهُنَّ اللَّهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say only the patient and truthful would show affection to his wives, whereupon he sold property to ʿAbdullāh ibn Saʿd ibn Abī Sarḥ for forty thousand and divided it among the wives of the Prophet ﷺ. > **"None will show affection to you except the patient and truthful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم صرف صبر کرنے والے اور سچے لوگ ہی تم ( یعنی ازواج مطہرات کے ساتھ ) اچھا سلوک کریں گے ۔‘‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کو ایک چیز فروخت کی ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے اس چیز کا نام بھی بیان تھا وہ چالیس ہزار کے عوض میں فروخت کی تھی اور پھر انہوں نے وہ رقم ان خواتین یعنی نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے درمیان تقسیم کر دی ۔ یہ روایت امام بزار نے عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14898

Majma al-Zawaid #14898

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ: "" إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ، اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, may Allah be pleased with her, reported that she heard the Messenger of Allah ﷺ say to his wives that he who shows kindness to them after him is truthful and righteous, and she heard his supplication for ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf. > **"Indeed he who shows kindness to you after me is the truthful, righteous one. O Allah, give ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf to drink from Salsabīl of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنی ازواج سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ میرے بعد جو شخص تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے گا ، وہ سچا اور نیک ہو گا ، اے اللہ ! عبدالرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل میں سے پانی پلانا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14899

Majma al-Zawaid #14899

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «شَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا خَالِدُ لِمَ تُؤْذِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، لَوْأَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ؟ "" قَالَ: يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ، قَالَ: "" لَا تُؤْذُوا خَالِدًا فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Awfā reported that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf complained of Khālid ibn al-Walīd, may Allah be pleased with them, to the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ defended the merit of a man of Badr beyond the weight of Uḥud in gold, and when Khālid replied they criticized him and he answered back, the Prophet ﷺ forbade harming Khālid, describing him as a sword Allah unsheathed upon the disbelievers. > **"O Khālid, why do you harm a man of Badr? Had you spent the like of Uḥud in gold you would not reach his deed. Do not harm Khālid, for he is a sword among the swords of Allah which Allah has poured upon the disbelievers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے خالد ! تم نے کیوں اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اذیت پہنچائی ہے ؟ کہ اگر تم اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرو ، تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ لوگ مجھ پر تنقید کر رہے تھے ، تو میں نے انہیں جواب دے دیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ خالد کو اذیت نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لہرایا ہوا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

14900

Majma al-Zawaid #14900

وَعَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ: تَصَدَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِشَطْرِ مَالِهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفِ دِينَارٍ، تَمَّ حَمَلَ عَلَى خَمْسِ مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ حَمَلَ عَلَى أَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةِ رَاحِلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَانَ عَامَّةُ مَالِهِ فِي التِّجَارَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhrī reported that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf gave half his wealth in the era of the Messenger of Allah ﷺ, four thousand dirhams, then forty thousand, then forty thousand dīnārs, then five hundred horses in the path of Allah, then fifteen hundred camels in the path of Allah, and most of his wealth was in trade.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں اپنا نصف مال جو چار ہزار درہم تھا وہ صدقہ کر دیا تھا پھر انہوں نے چالیس ہزار صدقہ کیے پھر انہوں نے چالیس ہزار دینار صدقہ کیے پھر انہوں نے اللہ کی راہ میں پانچ سو گھوڑے دیے پھر انہوں نے اللہ کی راہ میں پندرہ سو اونٹنیاں سواری کے لئے دیں ، ان کا زیادہ تر مال تجارت کے نتیجے میں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14901

Majma al-Zawaid #14901

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: «أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَهَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ، فَأَدْرَكَهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: "" أَصَبْتُمْ أَوْ أَحْسَنْتُمْ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَلَفْظُهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْتَهَى إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَأَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ مَكَانَكَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ». وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reported that he was with the Prophet ﷺ on a journey when the Prophet ﷺ withdrew for his need and prayer time arrived. ʿAbd al-Raḥmān stepped forward to lead, and the Prophet ﷺ arrived and prayed a rakʿa behind him with the people. When he gave salām he approved their act. In the wording of Aḥmad and al-Bazzār, ʿAbd al-Raḥmān intended to step back but the Prophet ﷺ gestured him to remain in place and prayed with his prayer. > **"You did right, or you did well."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، نبی اکرم ﷺ کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے ، لوگوں کو نماز کا وقت ہو گیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ( اور نماز پڑھانا شروع کی ) اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ، تو آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے لوگوں کے ساتھ ایک رکعت ادا کی ، جب نبی اکرم ﷺ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک کیا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم لوگوں نے اچھا کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ان کے الفاظ یہ ہیں : جب نبی اکرم ﷺ ان کے پاس پہنچے تو وہ نماز پڑھا رہے تھے ۔ انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پر رہو پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14902

Majma al-Zawaid #14902

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصَّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا قُبِضَ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said no Prophet was taken until a man of his umma had led him in prayer. > **"No Prophet was taken until a man of his umma has led him in prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک اس کی امت سے تعلق رکھنے والے کسی فرد نے اس کی امامت نہیں کی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14903

Majma al-Zawaid #14903

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُمَرَ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا، فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - إِلَى آلِ عُمَرَ فَاشْتَرَى نَصِيبَهُ مِنْهُمْ، فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانٍ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْطَعُهُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا، وَإِنِّي اشْتَرَيْتُ نَصِيبَ آلِ عُمَرَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَائِزُ الشَّهَادَةِ لَهُ وَعَلَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ granted him and ʿUmar land. Al-Zubayr, may Allah have mercy on him, bought the share of the family of ʿUmar and came to ʿUthmān ibn ʿAffān citing ʿAbd al-Raḥmān's claim, whereupon ʿUthmān affirmed the validity of ʿAbd al-Raḥmān's testimony for and against. > **"ʿAbd al-Raḥmān's testimony is valid, for and against him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں جگہ پر زمین عطا کی ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ آل عمر کے پاس گئے اور ان سے ان کا حصہ خرید لیا پھر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : عبدالرحمن بن عوف کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اور عمر بن خطاب کو فلاں فلاں جگہ دی ہے ، تو میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : حضرت عبدالرحمن کی دی ہوئی گواہی جائز ہے خواہ وہ کسی کے حق میں ہو یا کسی کے خلاف ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

14904

Majma al-Zawaid #14904

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَوْمَ مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَقُولُ: أَذَهَبَ ابْنُ عَوْفٍ، فَقَدْ أَدْرَكْتَ صَفْوَهَا، وَاسْتَقْتَ رِفْقَهَا؟!

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf reported that he heard ʿAlī on the day ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf died say that Ibn ʿAwf had departed having attained its purity and avoided its turbidity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : جس دن حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اے ابن عوف ! آپ ایسی حالت میں تشریف لے جائیں ، کہ آپ نے اس ( دنیا ) کی صاف چیز کو پا لیا اور گدلی چیز سے بچ گئے ۔

14905

Majma al-Zawaid #14905

وَفِي رِوَايَةٍ: أَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَدْ ذَهَبْتَ بِتَطْنِيتِكَ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْهَا بِشَيْءٍ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration ʿAlī said ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf had departed safeguarding his religion without any deficiency.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے آپ اپنے دین کو بچا کر لے گئے ، اور آپ نے اس ( دین ) میں کوئی کمی نہیں کی ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ۔

14906

Majma al-Zawaid #14906

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: وُلِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بَعْدَ الْفِيلِ بِعِشْرِينَ سَنَةً، وَمَاتَ سَنَةَ إِحْدَى أَوْ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ، وَسِنُّهُ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr reported that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf was born twenty years after the Elephant, died in thirty-one or thirty-two at seventy-five, and ʿUthmān ibn ʿAffān, may Allah be pleased with them both, prayed over him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ عام الفیل کے بیس سال بعد پیدا ہوئے تھے اور ان کا انتقال اکتیس یا بتیس ہجری میں پچھتر سال کی عمر میں ہوا ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔

14907

Majma al-Zawaid #14907

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: هُوَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أُهَيْبِ بْنِ ضُبَّةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، لَمْ يُعَقِّبْ. وَأُمُّ أَبِي عُبَيْدَةَ: أُمُّ غَنْمٍ بِنْتِ جَابِرِ بْنِ عُدَيِّ بْنِ الْعَدَّاءِ بْنِ عَامِرِ بْنِ عُمَيْرَةَ بْنِ وَدِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَى عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ بَعْضَ ذَلِكَ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Isḥāq reported that Abu ʿUbayda was ʿĀmir ibn ʿAbdillāh ibn al-Jarrāḥ ibn Hilāl ibn Uhayb ibn Ḍabba ibn al-Ḥārith ibn Fihr, left no offspring, and his mother was Umm Ghānm bint Jābir ibn ʿUdayy ibn al-ʿAdāʾ ibn ʿĀmir ibn ʿUmayra ibn Wadīʿa ibn al-Ḥārith ibn Fihr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں ( حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا نام و نسب یہ ہے : ) یہ حضرت عامر بن عبداللہ بن جراح بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہر ہیں ان کی اولاد نہیں ہوئی ۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام اُم غنم بنت جابر بن عدی بن عداء بن عامر بن عمیرہ بن ودیعہ بن حارث بن فہر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے ابوبکر بن ابوشیبہ کے حوالے سے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

14908

Majma al-Zawaid #14908

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: شَهِدَ بَدْرًا مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ: أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwa reported that among Banū al-Ḥārith ibn Fihr who witnessed Badr was Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ, may Allah be pleased with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں بنو حارث بن فہر میں سے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں میں سے ایک حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14909

Majma al-Zawaid #14909

وَعَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ قَالَ: جَعَلَ أَبُو أَبِي عُبَيْدَةَ يَتَصَدَّى لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَجَعَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَحِيدُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ قَصَدَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ فَقَتَلَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} [المجادلة: 22] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shawdhab reported that the father of Abū ʿUbayda repeatedly exposed himself to him on the Day of Badr while Abū ʿUbayda turned away, until at his persistence Abū ʿUbayda faced and killed him. Allah then revealed the verse that no believing people befriend those opposing Allah and His Messenger even if fathers, sons, brothers, or kin, those in whose hearts faith is written and strengthened with a spirit from Him, admitted to Gardens beneath which rivers flow, Allah pleased with them and they with Him, the party of Allah, the successful. > **"You will not find a people believing in Allah and the Last Day befriending those opposing Allah and His Messenger, even if they are their fathers, sons, brothers, or kin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شوذب بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے والد ان کے سامنے آتے رہے لیکن حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان سے پہلو تہی کرتے رہے جب ان کے والد ان کے سامنے زیادہ آنے لگے تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی قوم کو نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہو ، خواہ ( مخالفت کرنے والے ) ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، یہ ( مؤمنین ) وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نقش کر دیا ہے ، اور اپنی طرف کی روح کے ذریعے ان کی تائید کی ہے ، وہ ( اللہ تعالیٰ ) ان ( مؤمن ) لوگوں کو جنتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی ، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ لوگ اس سے راضی ، یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور خبردار ! بیشک اللہ کے گروہ ( کے افراد ) ہی کامیابی پانے والے ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

14910

Majma al-Zawaid #14910

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: «قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِأَبِي عُبَيْدَةَ: ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ "" فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَقَرَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَؤُمَّنَا فَأَمَّنَا حَتَّى مَاتَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا عُبَيْدَةَ وَلَا عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Bakhtarī reported that Abū Bakr said to Abū ʿUbayda to extend his hand for allegiance, having heard the Messenger of Allah ﷺ call him the trustworthy of this umma. Abū ʿUbayda replied he would not step before a man whom the Messenger of Allah ﷺ had appointed to lead them until his death. > **"You are the trustworthy of this umma."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالبختری بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کر لوں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم اس امت کے امین ہو ۔‘‘ تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک ایسے شخص سے آگے نہیں ہو سکتا جسے اللہ کے رسول ﷺ نے اس کام کے لئے مقرر کیا ہو کہ وہ ہماری امامت کرے اور وہ اللہ کے رسول ﷺ کے انتقال تک ہماری امامت کرتا رہا ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابوبختری نامی راوی نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

14911

Majma al-Zawaid #14911

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ قَالَ: وَأَرَادَا أَنْ يُلَاعِنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: لَا تُلَاعِنَنَّ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّاهُ لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا. قَالَ: فَأَتَيَاهُ فَقَالَا: لَا نُلَاعِنُكَ، وَلَكِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَ فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا حَقَّ أَمِينٍ، حَقَّ أَمِينٍ "": قَالَ: فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ. فَلَمَّا قَامَ قَالَ: "" هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ». قُلْتُ: عِنْدَ ابْنِ مَاجَةَ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ غَيْرَ خَلَفِ بْنِ الْوَلِيدِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, reported that al-ʿĀqib and al-Sayyid of Najrān came intending to invoke mutual curse with the Messenger of Allah ﷺ, but one warned the other that if he were a Prophet and they cursed him neither they nor their descendants would prosper. They offered payment and asked for a trustworthy man to be sent with them. The companions of Muḥammad ﷺ looked forward eagerly, and the Prophet ﷺ appointed Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ. > **"I shall send a man truly trustworthy, truly trustworthy. Rise, O Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ. This is the trustworthy of this umma."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجران سے تعلق رکھنے والے دو افراد عاقب اور سید آئے ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مباہلہ کریں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا تم مباہلہ ہرگز نہ کرنا ، اللہ کی قسم ! اگر یہ نبی ہوئے اور ہم نے ان کے ساتھ مباہلہ کیا ، تو پھر ہم بھی کامیاب نہیں ہوں گے ، اور نہ ہی ہماری اولاد کبھی کامیاب ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور ان دونوں نے کہا : ہم دونوں آپ کے ساتھ مباہلہ نہیں کریں گے بلکہ ہم آپ کو وہ ادائیگی کر دیں گے جو آپ مانگیں گے آپ ہمارے ساتھ کسی امین شخص کو بھیج دیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا جو واقعی امین ہو گا ، واقعی امین ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب پوری طرح متوجہ ہو گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوعبیدہ بن جراح تم اٹھ جاؤ ، جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اس امت کا امین ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام بن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں اسی طرح امام احمد کے رجال ہیں صرف خلف بن ولید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

14912

Majma al-Zawaid #14912

وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، وَغَيْرِهِمَا، قَالُوا: «لَمَّا بَلَغَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَرْغَ حُدِّثَ أَنَّ بِالشَّامِ وَبَاءً شَدِيدًا. قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ شِدَّةَ الْوَبَاءِ بِالشَّامِ، فَقُلْتُ: إِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَأَبُو عُبَيْدَةَ حَيٌّ اسْتَخْلَفْتُهُ، فَإِنْ سَأَلَنِي اللَّهُ: لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينٌ وَأَمِينِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ "" فَأَنْكَرَ الْقَوْمُ ذَلِكَ، وَقَالُوا: مَا بَالُ عُلْيَا قُرَيْشٍ؟ يَعْنِي: بَنِيِ فِهْرٍ. ثُمَّ قَالَ: فَإِنْ أَدْرَكَنِي أَجَلِي وَقَدْ تُوُفِّيَ أَبُو عُبَيْدَةَ اسْتَخْلَفْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَإِنْ سَأَلَنِي رَبِّي لِمَ اسْتَخْلَفْتَهُ؟ قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: إِنَّهُ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ الْعُلَمَاءِ نَبْذَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، رَاشِدٌ وَشُرَيْحٌ لَمْ يُدْرِكَا عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Shurayḥ ibn ʿUbayd, Rāshid ibn Saʿd, and others reported that when ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb reached Sargh and learned of severe plague in al-Shām, he declared that if his term came while Abū ʿUbayda lived he would appoint him, answering Allah that he heard the Messenger of Allah ﷺ say every Prophet has a trustworthy and his trustworthy is Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ. The people objected concerning the nobility of Quraysh, meaning Banū Fihr. He added that if Abū ʿUbayda had died he would appoint Muʿādh ibn Jabal, having heard the Messenger of Allah ﷺ say he would be raised on Resurrection Day ahead of the scholars by a span. > **"Every Prophet has a trustworthy, and my trustworthy is Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ. He will be raised on the Day of Resurrection ahead of the scholars by a span."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریح بن عبید اور راشد بن سعد اور دیگر لوگ یہ بیان کرتے ہیں : جب ’’ سرغ ‘‘ کے مقام پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ شام میں شدید وباء پھیل چکی ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا کہ مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ شام میں شدید وباء پھیل چکی ہے میں نے یہ سوچا تھا کہ اگر میری موت آ گئی اور اس وقت ابوعبیدہ زندہ ہوئے تو میں انہیں اپنا جانشین مقرر کر دوں گا ، اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھ سے پوچھا : تم نے اسے حضرت محمد ﷺ کی امت پر کیوں خلیفہ مقرر کیا ؟ تو میں جواب دوں گا : میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے ، اور میرا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔‘‘ اس پر لوگوں نے یہ اعتراض کیا اور یہ کہا : قریش کے دور کے خاندان کا کیا معاملہ ہے ؟ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد بنو فہر ہونا تھا ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ اگر میری موت آ گئی اور اس وقت ابوعبیدہ کا انتقال ہو گیا ، تو میں معاذ بن جبل کو اپنا نائب مقرر کر دوں گا ، اگر میرے پروردگار نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے اسے کیوں خلیفہ بنایا ہے ، تو میں یہ کہوں گا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اسے قیامت کے دن علماء کے آگے ’’ نبذہ ‘‘ ( یعنی گوشہ یا کنارہ ) کے طور پر ( یعنی الگ نمایاں حیثیت کے ساتھ ) اُٹھایا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور یہ روایت مرسل ہے راشد اور شریح ان دونوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

14913

Majma al-Zawaid #14913

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ» "" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said every Prophet has a trustworthy and the trustworthy of this umma is Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ. > **"Every Prophet has a trustworthy, and the trustworthy of this umma is Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

14914

Majma al-Zawaid #14914

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصَّدِيقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ» "" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say every umma has a trustworthy and the trustworthy of this umma is Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ. > **"Every umma has a trustworthy, and the trustworthy of this umma is Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

14915

Majma al-Zawaid #14915

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Khālid ibn al-Walīd, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say every umma has a trustworthy and the trustworthy of this umma is Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ. > **"Every umma has a trustworthy, and the trustworthy of this umma is Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14916

Majma al-Zawaid #14916

وَعَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي يَدِهِ مَخْصَرَةٌ أَوْ قَضِيبٌ أَوْ عُودٌ فَأَوْمَى بِيَدِهِ إِلَى خَاصِرَةِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: "" إِنَّ هَذِهِ لَخَاصِرَةٌ أَوْ خُوَيْصِرَةٌ مُؤْمِنَةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ held a staff and gestured to the flank of Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ, describing it as believing. > **"This is a believing flank."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ( راوی نے چھڑی کے لئے مختلف لفظ استعمال کیے ہیں ) نبی اکرم ﷺ نے اس کے ذریعے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ’’ یہ ایک مومن پہلو ہے ۔‘‘ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14917

Majma al-Zawaid #14917

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: مَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ فِي طَاعُونِ عَمْوَاسَ سَنَةَ ثَمَانِي عَشْرَةَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً، وَشَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ سَنَةً، وَيُقَالُ: صَلَّى عَلَيْهِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلِّمْ تَسْلِيمًا.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Bukayr reported that Abū ʿUbayda died in the plague of ʿAmawās in the year eighteen at fifty-eight, witnessed Badr at forty-one, and it is said Muʿādh ibn Jabal prayed over him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ’’ عمواس ‘‘ کے طاعون میں سن اٹھارہ ہجری میں اٹھاون سال کی عمر میں ہوا تھا انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے اس وقت ان کی عمر اکتالیس سال تھی ایک روایت کے مطابق حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

14918

Majma al-Zawaid #14918

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَرْفَقُ أُمَّتِي لِأُمَّتِي عُمَرُ، وَأَصْدَقُ أُمَّتِي حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَى أُمَّتِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَامَ الْعُلَمَاءِ بِرَثْوَةٍ، وَأَقْرَأُ أُمَّتِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَفْرَضُهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأُوتِيَ عُوَيْمِرُ عِبَادَةً "" - يَعْنِي: أَبَا الدَّرْدَاءِ، رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh al-Anṣārī, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ described the distinctions of his Companions: Abū Bakr most merciful, ʿUmar most gentle, ʿUthmān most truthful in modesty, ʿAlī ibn Abī Ṭālib most judicious, Muʿādh ibn Jabal most learned in lawful and unlawful who comes before scholars by a span, Ubayy ibn Kaʿb best reciter, Zayd ibn Thābit best in inheritance, and ʿUwaymir, meaning Abū al-Dardāʾ, given worship. > **"The most merciful of my umma to my umma is Abū Bakr, the gentlest of my umma to my umma is ʿUmar, the most truthful of my umma in modesty is ʿUthmān, the most judicious of my umma is ʿAlī ibn Abī Ṭālib, the most learned in lawful and unlawful is Muʿādh ibn Jabal who comes on Resurrection Day ahead of the scholars by a span, the best reciter of my umma is Ubayy ibn Kaʿb, the best in inheritance is Zayd ibn Thābit, and ʿUwaymir has been given worship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے بارے میں میری امت میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابوبکر ہے ، میری امت کے لئے میری امت میں سب سے زیادہ نرم عمر ہے ، میری امت میں حیاء کے لحاظ سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے اور میری امت میں عدالتی فیصلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا علی بن ابوطالب ہے ، اور ان میں حلال و حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذ بن جبل ہے ، جو قیامت کے دن علماء کے آگے ’’ رثوة ‘‘ ( یعنی نمایاں ) طور پر آئے گا ، میری امت کا قرآن کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے ، اور علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے ، اور عویمر کو عبادت دی گئی ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ ایم کی مراد حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ تھے اللہ تعالیٰ ان حضرات پر اپنی رضامندی نازل کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

14919

Majma al-Zawaid #14919

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" «أَرْأَفُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ، وَأَقْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى: وَفِيهِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ said the kindest is Abū Bakr, the sternest in Islam is ʿUmar, the truest in modesty is ʿUthmān ibn ʿAffān, the most judicious is ʿAlī, the best in inheritance is Zayd ibn Thābit, the most learned in lawful and unlawful is Muʿādh ibn Jabal, the best reciter is Ubayy ibn Kaʿb, and every umma has a trustworthy whose trustworthy here is Abū ʿUbayda. > **"The kindest of my umma to my umma is Abū Bakr, the sternest of them in Islam is ʿUmar, the truest of them in modesty is ʿUthmān ibn ʿAffān, the most judicious of them is ʿAlī, the best of them in inheritance is Zayd ibn Thābit, the most learned of them in lawful and unlawful is Muʿādh ibn Jabal, the best reciter of them is Ubayy ibn Kaʿb, and every umma has a trustworthy and the trustworthy of this umma is Abū ʿUbayda."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے لئے میری امت میں سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہے ، اسلام کے بارے میں ان میں سب سے زیادہ سخت عمر ہے ، حیاء کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان بن عفان ہے ، عدالتی فیصلہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا علی ہے ، علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے ، حلال اور حرام کا سب سے بڑا عالم معاذ بن جبل ہے ، قرآن کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

14920

Majma al-Zawaid #14920

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حِرَاءَ، فَتَزَلْزَلَ الْجَبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اثْبُتْ حِرَاءُ مَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ "" وَعَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدٌ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ: النَّضْرُ بْنُ عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah ﷺ was on Ḥirāʾ when the mountain shook, and he commanded it to be still for none was upon it but a Prophet, a truthful one, or a martyr. Upon it were the Messenger of Allah ﷺ, Abū Bakr, ʿUmar, ʿUthmān, ʿAlī, Ṭalḥa, al-Zubayr, ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, Saʿd, and Saʿīd ibn Zayd ibn ʿAmr ibn Nufayl, may Allah be pleased with them. > **"Remain firm, O Ḥirāʾ. There is none upon you but a Prophet, a truthful one, or a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حرا پہاڑ پر موجود تھے وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے حرا ! تم اپنی جگہ جمے رہو ، تم پر ایک نبی اور ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت اس پہاڑ پر نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ موجود تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔

14921

Majma al-Zawaid #14921

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «نَاشَدَ عُثْمَانُ النَّاسَ يَوْمًا فَقَالَ: تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَارْتَجَزَ الْجَبَلُ وَعَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اثْبُتْ أُحُدُ مَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» ""؟ قُلْتُ: حَدِيثُ عُثْمَانَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فَقَالَ فِيهِ: صَعِدَ حِرَاءَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, reported that ʿUthmān adjured the people whether they knew the Messenger of Allah ﷺ ascended Uḥud with Abū Bakr and ʿUmar until it trembled, and the Prophet ﷺ commanded it to be still for none was upon it but a Prophet, a truthful one, and two martyrs. > **"Remain firm, O Uḥud. There is none upon you but a Prophet, a truthful one, and two martyrs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن لوگوں کو واسطہ دے کر دریافت کیا کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ احد پہاڑ پر چڑھے تھے ، تو وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا ، اس وقت اس پہاڑ پر حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم موجود تھے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے احد ! اپنی جگہ جمے رہو کیونکہ تم پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ حرا پہاڑ پر چڑھے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

14922

Majma al-Zawaid #14922

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَغَيْرُهُمْ عَلَى جَبَلِ حِرَاءَ، إِذْ تَحَرَّكَ بِهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اسْكُنْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي مَنَاقِبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَصَحُّ شَيْءٍ عِنْدِي وَحَدِيثُ عُثْمَانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Saʿd ibn Abī Sarḥ, may Allah be pleased with him, reported that while the Messenger of Allah ﷺ was among ten companions including Abū Bakr, ʿUmar, ʿUthmān, ʿAlī, and al-Zubayr on Mount Ḥirāʾ and it moved, the Prophet ﷺ commanded it to abide calmly for none was upon it but a Prophet, a truthful one, or a martyr. > **"Abide calmly, O Ḥirāʾ, for there is none upon you but a Prophet, a truthful one, or a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سعد بن ابوسرح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کرام میں سے دس افراد کے درمیان موجود تھے جن میں حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم اور دیگر حضرات تھے ، یہ لوگ حرا پہاڑ پر موجود تھے اس دوران اس پہاڑ نے حرکت کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے حرا تم پرسکون رہو کیونکہ تم پر ایک نبی ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے اور وہ میرے نزدیک زیادہ مستند ہے اس کے علاوہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث بھی گزر چکی ہے ۔

14923

Majma al-Zawaid #14923

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزِي قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَعُثْمَانُ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا، وَفِيهِ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّرِيرُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzā, may Allah be pleased with him, reported that he seemed to see them behind the Messenger of Allah ﷺ: Abū Bakr, ʿUmar, ʿAlī, ʿUthmān, Ṭalḥa, al-Zubayr, Saʿd ibn Abī Waqqāṣ, Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ, and ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allah be pleased with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں گویا اس وقت بھی اُن لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت طلحہ ، ، حضرت زبیر ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم موجود تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق ضریر ہے اور وہ متروک ہے ۔

14924

Majma al-Zawaid #14924

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَمَرَ الشُّورَى، دَخَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ ابْنَتُهُ فَقَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ الَّذِينَ جَعَلْتَهُمْ فِي الشُّورَى لَيْسَ هُمْ رِضًا، قَالَ: أَسْنِدُونِي، فَأَسْنَدُوهُ وَهُوَ لِمَا بِهِ، فَقَالَ: مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي عُثْمَانَ؟ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَوْمَ يَمُوتُ عُثْمَانُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ "" قُلْتُ: لِعُثْمَانَ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ: "" بَلْ لِعُثْمَانَ خَاصَّةً "". قَالَ: مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ؟ رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاعَ جُوعًا شَدِيدًا فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِرَغِيفَيْنِ بَيْنَهُمَا إِهَالَةٌ، فَوَضَعَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" كَفَاكَ اللَّهُ أَمْرَ دُنْيَاكَ، فَأَمَّا الْآخِرَةُ فَأَنَا لَهَا ضَامِنٌ "". مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي طَلْحَةَ؟ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَقَطَ رَحْلُهُ فِي لَيْلَةٍ مَرَّةً فَقَالَ: "" مَنْ يُسَوِّي رَحْلِي وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ "" فَابْتَدَى طَلْحَةُ الرَّحْلَ، فَسَوَّاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَكَ الْجَنَّةُ عَلَيَّ يَاطَلْحَةُ غَدًا "". مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي الزُّبَيْرِ؟! فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ نَامَ فَلَمْ يَزَلْ يَذُبُّ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَمْ تَزَلْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ "" فَقَالَ: لَمْ أَزَلْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَقَالَ: "" هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: عَلَيَّ أَنْ أَذُبَّ عَنْ وَجْهِكَ شَرَرَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". مَا عَسَى أَنْ تَقُولُوا فِي عَلِيٍّ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَا عَلِيُّ يَدُكَ مَعَ يَدِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُ حَيْثُ أَدْخُلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْخُرَاسَانِيُّ تَكَلَّمَ فِيهِ الذَّهَبِيُّ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَنْسِبْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reported that when ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb was stabbed and appointed the council, his daughter Ḥafṣa told him people deemed its members displeasing. He asked to be raised and defended each: ʿUthmān, for whom angels of heaven pray at death; ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, who relieved the Prophet's ﷺ hunger with two loaves and was promised sufficiency in this world and guarantee in the next; Ṭalḥa, who righted the Prophet's ﷺ saddle by night and was promised Paradise; al-Zubayr, who fanned the Prophet's ﷺ face in sleep and was greeted by Jibrīl with protection from Hell's sparks; ʿAlī, whose hand is with the Prophet's ﷺ hand entering wherever he enters; and Saʿd, whose supplication the Prophet ﷺ asked Allah to answer. > **"On the day ʿUthmān dies the angels of heaven will pray over him. Allah suffice you in your worldly affair, and as for the Hereafter I am its guarantor. To you is Paradise from me tomorrow, O Ṭalḥa. This is Jibrīl conveying salām to you and saying he will ward the sparks of Hell from your face on Resurrection Day. O ʿAlī, your hand is with my hand on Resurrection Day, entering wherever I enter. O Allah, answer Saʿd when he calls upon You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو انہوں نے شوریٰ قائم کرنے کی ہدایت کی ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں ۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور انہوں نے کہا : لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں کو آپ نے شوریٰ میں شامل کیا ہے وہ لوگ پسندیدہ نہیں ہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ مجھے ٹیک دو ، لوگوں نے انہیں ٹیک دی تو انہوں نے اس حال میں یہ فرمایا : تم لوگ عثمان کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہو ؟ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس دن عثمان مر جائے گا آسمان کے فرشتے اس کی نماز جنازہ ادا کریں گے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ بات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے مخصوص ہے یا لوگوں کے لئے عمومی ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ یہ عثمان کے لئے مخصوص ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کو شدید بھوک لاحق تھی ، تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ دو روٹیاں لے کے آئے ، ان کے درمیان گوشت موجود تھا ۔ انہوں نے وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تمہارے دنیاوی معاملے کے حوالے سے تمہاری کفایت کرے جہاں تک آخرت کا تعلق ہے تو اس کا میں ضامن ہوں ۔‘‘ ( پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تم لوگ طلحہ کے بارے میں بات کرتے ہو ، میں نے اللہ کے رسول کو دیکھا کہ آپ ایک مرتبہ رات کے وقت اپنی سواری سے گر گئے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : کون شخص میرے پالان کو ٹھیک کرے گا ؟ اُسے جنت ملے گی ؟ تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ لپک کر پالان کی طرف گئے اور اُسے ٹھیک کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے طلحہ ! کل کو تمہیں جنت دینا میرے ذمہ ہے ۔‘‘ ( پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تم لوگ زبیر کے بارے میں بات چیت کرو گے ، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ، نبی اکرم ﷺ سو رہے تھے اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مسلسل آپ کے چہرے سے مکھیاں ہٹا رہے تھے ، یہاں تک کہ آپ بیدار ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! تم اسی طرح کرتے رہے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں ایسا ہی کرتا رہا ہوں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے اور یہ تمہیں یہ کہہ رہا ہے کہ میرے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن میں تمہارے چہرے سے جہنم کے شرارے پیچھے کروں ۔‘‘ ( پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ) تم لوگ علی کے بارے میں بات چیت کر رہے ہو ؟ تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے علی ! قیامت کے دن تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہو گا ، اور تم وہاں جاؤ گے جہاں میں جاؤں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن سلیمان خراسانی ہے ، جس کے بارے میں امام ذہبی نے اس حدیث کے حوالے سے اپنی طرف سے کلام کیا ہے ۔ انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

14925

Majma al-Zawaid #14925

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَ يَقُولُ: "" أَيْنَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ؟ "" فَلَمْ يَزَلْ يَتَفَقَّدُهُمْ، وَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ حَتَّى اجْتَمَعُوا عِنْدَهُ، فَقَالَ: "" إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ فَاحْفَظُوهُ وَعُوهُ، وَحَدِّثُوا بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ: إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ خَلْقِهِ خَلْقًا "" ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ} [الحج: 75] "" خَلْقًا يُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، وَإِنِّي مُصْطَفٍ مِنْكُمْ مَنْ أُحِبُّ أَنْ أَصْطَفِيَهُ وَمُؤَاخٍِ بَيْنَكُمْ كَمَا آخَى اللَّهُ بَيْنَ الْمَلَائِكَةِ، قُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ "" فَقَامَ حَتَّى جَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: "" إِنَّ لَكَ عِنْدِي يَدًا، اللَّهُ يَجْزِيكَ بِهَا، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُكَ خَلِيلًا فَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ قَمِيصِي مِنْ جَسَدِي "" وَحَرَّكَ قَمِيصَهُ بِيَدِهِ. ثُمَّ قَالَ: "" ادْنُ يَا عُمَرُ "" فَدَنَا عُمَرُ فَقَالَ: "" قَدْ كُنْتَ شَدِيدَ الشَّغَبِ عَلَيْنَا أَبَا حَفْصٍ فَدَعَوْتُ اللَّهَ يُعِزُّ الدِّينَ بِكَ أَوْ بِأَبِي جَهْلٍ فَفَعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ بِكَ، فَكُنْتَ أَحَبَّهُمَا إِلَيَّ فَأَنْتَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ "" ثُمَّ تَنَحَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ. ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانٍ فَقَالَ: ادْنُ مِنِّي يَا عُثْمَانُ "" فَلَمْ يَزَلْ يَدْنُ مِنْهُ حَتَّى أَلْصَقَ رُكْبَتَيْهِ بِرُكْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى عُثْمَانَ فَإِذَا إِزَارُهُ مَحْلُولَةً، فَزَرَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: اجْمَعْ عِطْفَيْ رِدَائِكَ عَلَى حَقْوِكَ فَإِنَّ لَكَ شَأْنًا فِي أَهْلِ السَّمَاءِ، أَنْتَ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَأَوْدَاجُكَ تَشْخَبُ دَمًا، فَأَقُولُ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ؟ فَتَقُولُ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، وَذَلِكَ كَلَامُ جِبْرِيلَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ هَتَفَ مِنْ السَّمَاءِ: أَلَا إِنَّ عُثْمَانَ أَمِينٌ عَلَى كُلِّ خَاذِلٍ "". ثُمَّ دَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَقَالَ: ادْنُ يَا أَمِينَ اللَّهِ، وَالْأَمِينُ فِي السَّمَاءِ يُسَلِّطُكَ اللَّهُ عَلَى مَالِكَ بِالْحَقِّ، أَمَا إِنَّ لَكَ عِنْدِي دَعْوَةً وَقَدْ أَخَّرْتُهَا "" قَالَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" قَدْ حَمَّلْتَنِي يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمَانَةً، أَكْثَرَ اللَّهُ مَالَكَ "" وَجَعَلَ يُحَرِّكُ يَدَهُ، ثُمَّ تَنَحَّى وَآخَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ عُثْمَانَ. ثُمَّ دَخَلَ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَقَالَ: "" ادْنُ مِنِّي "" فَدَنَوَا مِنْهُ، فَقَالَ: "" أَنْتُمَا حَوَارِيِّيْ كَحَوَارِيِّ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ "" ثُمَّ آخَى بَيْنَهُمَا. ثُمَّ دَعَا سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَقَالَ: "" يَا عَمَّارُ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ "" ثُمَّ آخَى بَيْنَهُمَا. ثُمَّ دَعَا عُوَيْمِرَ أَبَا الدَّرْدَاءِ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ فَقَالَ: "" يَا سَلْمَانُ أَنْتَ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ، وَقَدْ أَتَاكَ اللَّهُ الْعِلْمَ الْأَوَّلَ وَالْعِلْمَ الْآخِرَ وَالْكِتَابَ الْأَوَّلَ وَالْكِتَابَ الْآخِرَ "" ثُمَّ قَالَ: "" أَلَا أُرْشِدُكَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ؟ قَالَ: بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنْ تَنْقُدْهُمْ يَنْقُدُوكَ، وَإِنْ تَتْرُكْهُمْ لَا يَتْرُكُوكَ، وَإِنْ تَهْرَبْ مِنْهُمْ يُدْرِكُوكَ، فَأَقْرِضْهُمْ عِرْضَكَ لِيَوْمِ فَقْرِكَ "" فَآخَى بَيْنَهُمَا. ثُمَّ نَظَرَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" أَبْشِرُوا وَأَقِرُّوا عَيْنًا فَأَنْتُمْ أَوَّلُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَأَنْتُمْ فِي أَعْلَى الْغُرَفِ. ثُمَّ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يَهْدِي مِنَ الضَّلَالَةِ "". فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ رُوحِي، وَانْقَطَعَ ظَهْرِي حِينَ رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ مَعَ أَصْحَابِكَ غَيْرِي، فَإِنْ كَانَ مِنْ سُخْطٍ عَلَيَّ فَلَكَ الْعُتْبَى وَالْكَرَامَةُ، فَقَالَ: "" وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَخَّرْتُكَ إِلَّا لِنَفْسِي فَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى وَوَارِثِي "" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا إِرْثِي مِنْكَ؟ قَالَ: "" مَا أَوْرَثَتِ الْأَنْبِيَاءُ "" قَالَ: وَمَا أَوْرَثَتِ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلَكَ؟ قَالَ: "" كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ، فَأَنْتَ مَعِي فِي قَصْرِي فِي الْجَنَّةِ - مَعَ فَاطِمَةَ - ابْنَتِي، وَأَنْتَ أَخِي وَرَفِيقِي "" ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ: {إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47]، "" الْأَخِلَّاءُ فِي اللَّهِ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي عُثْمَانَ: "" أَمِيرٌ عَلَى كُلِّ مَخْذُولٍ ""، وَقَالَ فِي أَبِي الدَّرْدَاءِ: "" أَلَا أَرْشُوكَ "" بَدَلَ "" أُرْشِدُكَ "" وَقَالَ فِيهِ: "" فَأَقْرِضْهُمْ عِرْضَكَ لِيَوْمِ فَقْرِكَ وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَاءَ أَمَامَكَ ""، وَفِي إِسْنَادِهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Abī Awfā, may Allah be pleased with him, reported that he entered upon the Messenger of Allah ﷺ in the mosque of Madīna while he summoned the men one by one until they gathered. He announced a narration to preserve and convey: Allah selects from creation, reciting the verse that Allah selects messengers from angels and men, and he would select among them and join them in brotherhood as Allah joined angels. He joined Abū Bakr to himself as his shirt to his body, ʿUmar beside him as third of three in Paradise, ʿUthmān drawn knee to knee with glad tidings of the Pond though his veins bleed blood, and continued joining al-Zubayr with Ṭalḥa, ʿAlī with ʿAmmār, Ubayy with Ibn Masʿūd, Abū al-Dardāʾ with Salmān, Saʿd with Ṣuhayb, Abū Dharr with Bilāl, Usāma with Abū Hind the cupper, and Abū Ayyūb with ʿAbdullāh ibn Salām. > **"I shall narrate to you a narration, preserve it, comprehend it, and narrate it to those after you. Rise, O Abū Bakr. Draw near, O ʿUmar. Draw near to me, O ʿUthmān. You are brothers in this world and brothers in Paradise, so let each greet and shake the hand of his fellow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد نبوی میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے یہ فرمانا شروع کیا : فلاں بن فلاں کہاں ہے ؟ آپ اسی طرح مختلف لوگوں کے بارے میں دریافت کرتے رہے ، اور ان کی طرف پیغام بھیجتے رہے ، یہاں تک کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس اکٹھے ہو گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو ایک بات بیان کرنے لگا ہوں تم اس کی حفاظت کرنا اور اسے یاد رکھنا اور اپنے بعد والے لوگوں کو یہ بیان کرنا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے ایک خاص مخلوق کو منتخب کیا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں سے اور لوگوں میں سے رسولوں کو منتخب کیا ۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی مخلوق کو منتخب کیا ہے جسے وہ جنت میں داخل کرے گا اور میں تم میں سے اس شخص کو منتخب کروں گا ، جسے میں پسند کروں گا کہ میں اسے منتخب کروں اور میں تمہارے درمیان بھائی چارہ قائم کروں گا ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہے ، اے ابوبکر تم اٹھو ، وہ کھڑے ہوئے ، یہاں تک کہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں تمہیں خلیل بناتا ، تمہاری میرے نزدیک وہی حیثیت ہے جو جسم کے ساتھ قمیص کی ہوتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی قمیص کو حرکت دے کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عمر تم قریب آ جاؤ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریب آ گئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوحفص ! تم پہلے ہمارے شدید مخالف تھے ، تو میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : وہ تمہارے ذریعے یا ابوجہل کے ذریعے دین کو غلبہ عطا کرے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذریعے ایسا کر دیا اور ویسے بھی دونوں میں سے تم میرے نزدیک زیادہ محبوب تھے ، تم جنت میں میرے ساتھ ہو گے اور اس امت کے تیسرے فرد ہو گے پھر وہ پیچھے ہٹ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے عثمان تم میرے قریب آ جاؤ ، نبی اکرم ﷺ مسلسل انہیں قریب کرتے رہے ، یہاں تک کہ ان کے گھٹنے نبی اکرم ﷺ کے گھٹنوں کے ساتھ ملنے لگے ۔ نبی اکرم ﷺ نے پہلے ان کی طرف دیکھا پھر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جو عظمت والا ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، تو ان کے بٹن کھلے ہوئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے ان کے بٹن بند کیے اور فرمایا : تم اپنی چادر کے دونوں کنارے اپنے پہلو پر اکٹھے رکھا کرو کیونکہ آسمان والوں میں تمہاری ایک مخصوص حیثیت ہے ، تم ان افراد میں سے ایک ہو جو حوض پر میرے پاس آئیں گے ، اور اس وقت تمہاری رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا ، میں دریافت کروں گا تمہارے ساتھ ایسا کس نے کیا ہے ؟ تو تم کہو گے فلاں نے اور فلاں نے ، یہ بات جبرائیل نے بتائی ہے ، اس نے آسمان سے پکار کر یہ کہا ہے : خبردار ! عثمان ہر ’’ خاذل ‘‘ ( ضرورت کے وقت الگ ہونے والے ) کا امین ہے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے اللہ کے مقرر کردہ امین اور وہ شخص ! کہ جسے آسمان میں امین قرار دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے مال پر حق کے ہمراہ غلبہ دیا ہے تمہارے لئے میرے پاس ایک مخصوص دعا ہے ، جسے میں نے مؤخر کر دیا ہے ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے لئے کوئی چیز اختیار کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عبدالرحمن تم نے مجھے ایک امانت سونپی ہے ، اللہ تعالیٰ تمہارا مال زیادہ کرے نبی اکرم ﷺ اپنے ہاتھ کو حرکت دینے لگے پھر وہ پیچھے ہٹ گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے قریب آ جاؤ ، وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے قریب ہو گئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دونوں میرے حواری ہو ، جس طرح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے حواری ہوتے تھے پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا اے عمار ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابودرداء ، عویمر اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور فرمایا : اے سلمان ! تم ہم میں سے اہل بیت میں سے ہو ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہلے والوں کا علم بھی دیا ہے اور بعد والوں کا بھی علم دیا ہے ، پہلی کتاب کا علم بھی دیا ہے اور بعد والی کتاب کا علم بھی دیا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابودرداء کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم ان لوگوں پر تنقید کرو گے تو وہ تم پر تنقید کریں گے اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے تو وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے اور اگر تم ان سے بھاگو گے تو وہ تم تک پہنچ جائیں گے ، تو جس دن تمہاری محتاجی ہو اس دن تم اپنی عزت انہیں قرض دے دینا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں افراد کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف نظر کی اور فرمایا : تم لوگ خوشخبری حاصل کرو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو کہ تم پہلے لوگ ہو گے جو حوض پر میرے پاس آؤ گے ، اور تم بالائی بالاخانوں میں ہو گے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا اور فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو گمراہی کے مقابلے میں ہدایت نصیب کرتا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری روح نکلنے لگی ہے اور میری کمر ٹوٹنے لگی ہے جب میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ یہ سلوک کیا اور میرے ساتھ کچھ نہیں کیا ، اگر تو آپ کو مجھ سے کوئی ناراضگی ہے تو آپ کو شرف اور فضیلت حاصل ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے تمہیں اس لئے موخر کیا ہے ، میں نے تمہیں اپنے لئے رکھا ہے ، تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت بارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی اور اپنے وارث ہونے کے طور پر تمہیں چھوڑا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے کیا وراثت لوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ چیز جو انبیاء وراثت میں چھوڑتے ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ سے پہلے انبیاء وراثت میں کیا چھوڑتے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی کتاب اور لوگوں کے نبی کی سنت ، تو تم جنت میں میرے محل میں میرے ساتھ ہو گے ، اور میری بیٹی فاطمہ کے ساتھ ہو گے تم میرے بھائی اور میرے رفیق ہو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہ بھائی بھائی ہوں گے اور پلنگوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔‘‘ ( اور یہ آیت بھی تلاوت کی : ) ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات کی وجہ سے ایک دوسرے سے دوستی رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ ہر ’’ مخذول ( جس کی ضرورت کے وقت اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو ) پر امیر ہو گا ، اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : اس میں لفظ ’’ ارشدک “ کی جگہ لفظ ’’ ارشوک “ ہے ۔ اور اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ تم اپنی محتاجی کے دن اپنی عزت انہیں قرضے کے طور پر دے دینا اور یہ بات جان لینا کہ جزا آگے ملے گی ۔‘‘ ان دونوں روایات کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

14926

Majma al-Zawaid #14926

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَصْحَابِهِ أَجْمَعَ مَا كَانُوا فَقَالَ: "" إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ مَنَازِلَكُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَقُرْبَ مَنَازِلِكُمْ "". ثُمَّ إِنْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنِّي لَأَعْرِفُ رَجُلًا أَعْرِفُ اسْمَهُ وَاسْمَ أَبِيهِ وَاسْمَ أُمِّهِ لَا يَأْتِي بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا قَالُوا: مَرْحَبًا مَرْحَبًا ""، فَقَالَ سَلْمَانُ: إِنَّ هَذَا لَمُرْتَفِعٌ شَأْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: "" هُوَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ "". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: "" يَا عُمَرُ لَقَدْ رَأَيْتُ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ اللُّؤْلُؤُ أَبْيَضُ، مُشَيَّدٌ بِالْيَاقُوتِ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ لِي، فَذَهَبْتُ لِأَدْخُلَهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَذَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَمَا مَنَعَنِي مِنْ دُخُولِهِ إِلَّا غَيْرَتُكَ يَا أَبَا حَفْصٍ "" فَبَكَى عُمْرُ وَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟!. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عُثْمَانَ فَقَالَ: "" يَا عُثْمَانُ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقًا فِي الْجَنَّةِ وَأَنْتَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ "". ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ ثُمَّ قَالَ: "" يَا عَلِيُّ أَمَا تَرْضَى أَنْ يَكُونَ مَنْزِلُكَ فِي الْجَنَّةِ مُقَابِلَ مَنْزِلِي؟ "". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ فَقَالَ: "" يَا طَلْحَةُ وَيَا زُبَيْرُ، إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَأَنْتُمَا حَوَارِيِّ "". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ: لَقَدْ بُطِّىءَ بِكَ عَنِّي مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِي حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تَكُونَ هَلَكْتَ وَعَرِقْتَ عَرَقًا شَدِيدًا فَقُلْتُ: مَا بَطَّأَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ كَثْرَةِ مَالِي، مَا زِلْتُ مَوْقُوفًا مُحَاسَبًا، أُسْأَلُ عَنْ مَالِي: مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبْتَهُ؟ وَفِيمَا أَنْفَقْتَهُ؟ فَبَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ مِائَةُ رَاحِلَةٍ جَاءَتْنِي اللَّيْلَةَ مِنْ تِجَارَةِ مِصْرَ، أُشْهِدَكُ أَنَّهَا عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَيْتَامِهِمْ لَعَلَّ اللَّهَ يُخَفِّفُ عَنِّي ذَلِكَ الْيَوْمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ: عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Abī Awfā, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ came to his companions assembled and said he had seen their homes in Paradise and their nearness. Turning to Abū Bakr he described a man known by name and parentage whom every gate of Paradise welcomes, namely Abū Bakr ibn Abī Quḥāfa. To ʿUmar he described a white pearl palace of Quraysh reserved for ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, withheld from entering only by his protective jealousy. To ʿUthmān he promised companionship in Paradise. Taking ʿAlī's hand he asked his pleasure at a home facing his own. To Ṭalḥa and al-Zubayr he named them his disciples. To ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf he noted his delay from accounting over abundant wealth, and ʿAbd al-Raḥmān wept over his standing for reckoning of earning and spending. > **"I saw last night your homes in Paradise and the nearness of your homes. O Abū Bakr, I know a man whose name, father's name, and mother's name I know, who comes to no gate of Paradise but they say welcome, welcome. O ʿUmar, I saw in Paradise a palace of white pearl adorned with ruby and was told it is for ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb. O ʿUthmān, every Prophet has a companion in Paradise and you are my companion in Paradise. O ʿAlī, are you not pleased that your home in Paradise faces mine? O Ṭalḥa and O Zubayr, every Prophet has a disciple and you two are my disciples."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے تمام اصحاب کے پاس تشریف لائے جتنے بھی موجود تھے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے گزشتہ رات میں تمہاری رہائشی جگہوں کو اور تمہاری رہائشی جگہوں کے قریب کو دیکھا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر میں ایک شخص کو جانتا ہوں ، میں اس کا نام جانتا ہوں ، میں اس کے باپ کا نام جانتا ہوں ۔ اس کی ماں کا نام جانتا ہوں ، وہ شخص جنت کے دروازوں میں سے جس بھی دروازے پر آئے گا ، تو فرشتے یہ کہیں گے کہ آپ کو خوش آمدید ہے ، آپ کو خوش آمدید ہے ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کا مرتبہ تو بڑا بلند ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ابوبکر بن ابوقحافہ ہو گا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے فرمایا : اے عمر ! میں نے جنت میں سفید موتی سے بنا ہوا ایک محل دیکھا جس میں یاقوت لگے ہوئے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کس کا ہو گا ؟ تو بتایا گیا : قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا ، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ مجھے ملے گا ، میں اس میں داخل ہونے لگا تو فرشتے نے بتایا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہو گا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) تو اے ابوحفص ! میں اس میں داخل صرف اس لئے نہیں ہوا کہ تمہارے مزاج میں تیزی پائی جاتی ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا میں آپ کے مقابلے میں مزاج کی تیزی دکھاؤں گا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عثمان ! ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہو گا ، اور تم جنت میں میرے رفیق ہو گے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور یہ ارشاد فرمایا : ’’ اے علی ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ جنت میں تمہاری رہائش گاہ ، میری رہائش گاہ کے مقابل ہو گی ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے طلحہ اور اے زبیر ! ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے ، اور تم دونوں میرے حواری ہو ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے تمام اصحاب میں سے صرف تمہیں مجھ تک آنے میں تاخیر ہو گئی ، یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ تم کہیں ہلاکت کا شکار نہ ہو جاؤ ، جب تم آئے تو تمہیں بہت زیادہ پسینہ آیا ہوا تھا ، میں نے دریافت کیا : تمہیں آنے میں تاخیر کیوں ہوئی ، تو تم نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میرے مال کی کثرت کی وجہ سے ایسا ہوا ، مجھے مسلسل روک کے رکھا گیا ، اور حساب لیا جاتا رہا ، مجھ سے میرے مال کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ تم نے اسے کیسے کمایا تھا اور کہاں خرچ کیا ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ رونے لگے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک سو اونٹنیاں ہیں جو گزشتہ رات مصر کی تجارت سے میرے پاس آئی ہیں میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہ اہل مدینہ کے لئے اور یہاں کے یتیم بچوں کے لئے صدقہ ہیں تاکہ اس دن اللہ تعالیٰ مجھے آسانی نصیب فرمائے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن سیف ہے ، یحیی بن معین ، ابوزرعہ ، ابوحاتم اور ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ عجلی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

14927

Majma al-Zawaid #14927

وَعَنْ أَنَسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «السُّبَّاقُ أَرْبَعَةٌ: أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ فَارِسَ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشَةِ، وَصُهَيْبُ سَابِقُ الرُّومِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said the forerunners are four: himself for the Arabs, Salmān for Persia, Bilāl for Abyssinia, and Ṣuhayb for Rome. > **"The forerunners are four: I am the forerunner of the Arabs, Salmān is the forerunner of Persia, Bilāl is the forerunner of Abyssinia, and Ṣuhayb is the forerunner of Rome."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سبقت لے جانے والے افراد چار ہیں ، میں عربوں میں سبقت لے جانے والا ہوں ، سلمان فارسیوں میں سبقت لے جانے والا ہے ، بلال حبشیوں میں سبقت لے جانے والا ہے اور صہیب رومیوں میں سبقت لے جانے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔