وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ «أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ الرَّقِيمَ قَالَ: "" إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ كَانُوا فِي كَهْفٍ، فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ فَأَوْصَدَ عَلَيْهِمْ. قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: تَذْكُرُوا أَيُّكُمْ عَمَلَ حَسَنَةً، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ، فَجَاءَنِي عُمَّالٌ لِيَ اسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ، فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَرْطِ أَصْحَابِهِ، فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ، فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الذِّمَامِ أَنْ لَا أَنْقُصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ، لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: تُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي؟ فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَمْ أَبْخَسْكَ [شَيْئًا] مِنْ شَرْطِكَ، وَإِنَّمَا هُوَ مَالِي أَحْكُمُ بِمَا شِئْتُ. قَالَ: فَغَضِبَ وَذَهَبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ، قَالَ: فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ مَرَّ بِي بَقَرٌ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنَ الْبَقَرِ، فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخٌ ضَعِيفٌ لَا أَعْرِفُهُ فَقَالَ: إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا، فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ فَقُلْتُ: إِيَّاكَ أَبْغِي، هَذَا حَقُّكَ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ جَمِيعًا، قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَا تَسْخَرْ بِي، إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ فَأَعْطِنِي حَقِّي. قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَسْخَرُ بِكَ، إِنَّهَا لَحَقُّكَ، مَا لِي مِنْهَا شَيْءٌ. فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ لَا تَعْلَمُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا. قَالَ: فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ [حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ] وَأَبْصَرُوا. قَالَ آخَرُ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً، كَانَ لِي فَضْلٌ فَأَصَابَتِ النَّاسَ شِدَّةٌ، فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ. فَأَبَتْ عَلَيَّ، فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ، فَذَكَّرَتْنِي بِاللَّهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ. فَأَبَتْ عَلَيَّ وَذَهَبَتْ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِزَوْجِهَا، فَقَالَ لَهَا: أَعْطِيهِ نَفْسَكِ وَأَغْنِي عِيَالَكِ. فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللَّهِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ. فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَسْلَمَتْ [إِلَيَّ] نَفْسَهَا، فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا، ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي، فَقُلْتُ لَهَا: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. فَقُلْتُ لَهَا: خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ، وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخَاءِ؟ فَتَرَكْتُهَا وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ مِمَّا تَكَشَّفْتُهَا. اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّ ذَلِكَ لِوَجْهِكِ فَافْرِجْ عَنَّا. فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى عَرَفُوا وَتَبَيَّنَ لَهُمْ. وَقَالَ الْآخَرُ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً، كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي قَالَ: فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ، فَحَبَسَنِي، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي، فَأَخَذْتُ مِحْلَبِي، فَحَلَبْتُ وَغَنَمِي قَائِمَةٌ، فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدَيَّ حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ، فَسَقَيْتُهُمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا "". قَالَ النُّعْمَانُ: لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْجَبَلُ طَاقَ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ. وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ mention the Inscription, saying that three men were in a cave when a mountain rock fell upon its entrance and sealed them in, so they bade one another recall a good deed that Allah in His mercy might show them mercy. One recalled that he had hired laborers at fixed wages, then hired a man at midday on the terms of the others, and when that man labored in the rest of the day as much as the others had in the whole day, he deemed it his duty of honor not to reduce him, provoking another worker's protest, to which he replied that he had not wronged him and it was his own wealth to dispose of as he wished, whereupon the worker left in anger abandoning his wage, which he set aside in the house until, by Allah's will, he bought a young cow with it that multiplied greatly, and when the aged owner later returned reminding him of his right, he handed over all of it, refusing to mock him and affirming it was all his right. A second recalled that he had surplus wealth when hardship struck the people, and a woman came seeking kindness, and he refused her unless for herself, and she left and returned and adjured him by Allah, and he still refused, and she told her husband who told her to give herself to him to feed her household, so she returned and implored him by Allah, and still he refused until she yielded herself, but when he unveiled her and was about to commit the act she trembled beneath him saying she feared Allah, Lord of the worlds, so he asked how she feared Him in hardship while he had not feared Him in ease, and left her giving her what he owed for having unveiled her. The third recalled that he had two aged parents and sheep, feeding and watering his parents before returning to his flock, until one evening his pasture took him far and he came late finding them asleep, so he stood with the milk vessel at their heads through the night unwilling to wake them, until dawn broke and they awoke and drank. After each supplication the mountain split further until they saw light and the way became clear: > **"O Allah, if You know that I did that for Your Countenance, then relieve us."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو غار کا ذکر کرتے ہوئے سنا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تین لوگ ایک غار میں تھے ، پہاڑ پر سے ایک پتھر غار کے منہ پر آیا اور ان لوگوں کے لئے دروازہ بند ہو گیا ، ان میں سے کسی نے کہا : تم لوگ یاد کرو کہ تم میں سے کس نے کون سا اچھا عمل کیا تھا ؟ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی وجہ سے ہم پر رحم کرے ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : ایک مرتبہ میں نے ایک اچھا کام کیا تھا ، میرے کچھ مزدور تھے جو کام کرتے تھے ، ایک مرتبہ مزدور میرے پاس آئے ، میں نے ان میں سے ہر ایک شخص کے لئے ایک متعین معاوضہ طے کر دیا ، ایک دن دوپہر کے وقت ایک شخص میرے پاس آیا ، میں نے اسے اس کے ساتھیوں کی شرط پر مزدور رکھا ، اُس نے دن کے بقیہ حصے میں کام کیا ، جس طرح پہلے والے لوگوں نے پورا دن کام کیا تھا ، جب میں نے اس کے کام میں اس کی بھرپور کوشش کو دیکھا ، تو میں نے یہ سوچا کہ میرے ذمہ یہ لازم ہے کہ میں نے اس کے ساتھیوں کو جو معاوضہ دیا ہے ، اس میں سے کوئی کمی نہ کروں ، تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ آپ نے اسے بھی اتنا ہی معاوضہ دیا ہے جو مجھے دیا ہے ؟ تو میں نے کہا : اے اللہ کے بندے ! میں نے تمہارے ساتھ جو طے کیا تھا ، اس میں سے کوئی کمی تو نہیں کی ؟ یہ میرا مال ہے ، میں اس کے بارے میں جیسے چاہوں فیصلہ کروں ، تو وہ شخص غصے میں آیا اور چلا گیا اور اپنا معاوضہ چھوڑ دیا ، میں نے اس کے معاوضے کو گھر کے ایک حصے میں رکھ لیا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ وہ وہاں پڑا رہا ، پھر ایک مرتبہ میرے پاس سے گائے گزری ، تو میں نے ان میں سے گائے کا بچھڑا خرید لیا ، پھر ان میں جتنا اللہ کو منظور تھا ، اضافہ ہوتا چلا گیا ، ایک عرصہ گزرنے کے بعد میرے پاس ایک بوڑھا کمزور شخص گزرا ، جسے میں پہچانتا نہیں تھا ، اس نے کہا : میرا تمہارے پاس ایک حق ہے ، پھر اس نے مجھے یاد کروایا تو میں پہچان گیا ، میں نے کہا : میں تمہیں ہی ملنا چاہ رہا تھا ، یہ تمہارا حق ہے ، پھر میں نے وہ تمام جانور اس کو دیدیے ، اس نے کہا : اے اللہ کے بندے ! تم میرا مذاق نہ اڑاؤ ! اگر تم مجھے کوئی چیز دے نہیں سکتے ، تو مجھے میرا حق تو دیدو ، تو اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہارا مذاق نہیں اُڑا رہا ، یہ تمہارا حق ہے ، اس میں سے کوئی بھی چیز میری نہیں ہے ، تو میں نے وہ تمام جانور اس کے حوالے کر دیے ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ پتھر ذرا سا ہٹ گیا ، یہاں تک کہ وہ لوگ اس میں سے باہر دیکھ سکتے تھے ۔ دوسرے شخص نے کہا : میں نے بھی ایک مرتبہ ایک اچھائی کی تھی ، میرے پاس اضافی رقم موجود تھی ، لوگوں کو قحط سالی لاحق ہوئی ، ایک عورت میرے پاس آئی ، وہ مجھ سے بھلائی ( یعنی مالی تعاون ) کی طلبگار تھی ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہاری قربت چاہتا ہوں ، اس کے بغیر کچھ نہیں دوں گا ، اُس نے میری بات نہیں مانی ، وہ چلی گی ، پھر وہ واپس آئی ، پھر اس نے مجھے اللہ کے نام کی یاد دلائی ، تو میں نے اس کی بات نہیں مانی ، میں نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ تمہارے اپنے آپ کو حوالے کئے بغیر نہیں ہو گا ، اس نے میری بات نہیں مانی ، پھر وہ چلی گی ، اس نے اس بات کا تذکرہ اپنے شوہر سے کیا ، تو اس کے شوہر نے اس سے کہا : تم اپنا آپ اس کے حوالے کر دو اور اپنے بال بچوں کے لئے بہتری ( کی کوشش ) کرو ! تو وہ واپس میرے پاس آئی ، اس نے مجھے اللہ کا واسطہ دیا ، میں نے اس کی بات کا انکار کیا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ تمہارے اپنے آپ کو حوالے کیے بغیر نہیں ہو گا ، جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اپنا آپ میرے حوالے کر دیا ، جب میں پردہ ہٹانے لگا اور اس کے قرب کا ارادہ کیا تو وہ میرے نیچے کانپنے لگی ، میں نے اس سے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اس نے کہا : میں تمام جہانوں کے پروردگار اللہ تعالیٰ سے ڈر رہی ہوں ، میں نے اس سے کہا : تم اس پریشانی کے عالم میں بھی اُس سے ڈر رہی ہو اور میں ایسی خوشحالی کے عالم میں بھی اُس سے نہیں ڈر رہا ہوں ، تو میں نے اس عورت کو چھوڑ دیا ، اور میں نے اُسے وہ معاوضہ دیدیا ، جو اس نے میرے ساتھ طے کیا تھا ، اُس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اس کا پردہ ہٹانا چاہا تھا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! تو وہ پتھر اتنا ہٹ گیا کہ وہ ایک دوسرے کی شناخت کر سکتے تھے اور ان کے سامنے ( غار کی اندرونی صورت حال ) واضح ہو گئی تھی ۔ تیسرے شخص نے کہا : میں نے بھی ایک مرتبہ ایک نیک کام کیا تھا ، میرے ماں باپ بوڑھے عمر رسیدہ تھے ، میری بکریاں تھیں ، میں اپنے ماں باپ کو کھانا کھلاتا تھا اور انہیں پانی پلاتا تھا ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف واپس چلا جاتا تھا ، ایک دن بارش ہوئی ، تو میں اس وجہ سے جلدی نہیں آ سکا ، دیر ہو گئی ، یہاں تک کہ شام ہو گئی ، جب میں اپنے گھر آیا ، میں نے دودھ دوہنے کا برتن لے کر دودھ دوہ لیا ، میری بکری کھڑی ہوئی تھی ، میں اپنے ماں باپ کے پاس گیا ، تو میں نے اُن دونوں کو پایا کہ وہ سو چکے تھے ، یہ بات میرے لئے گرانی کا باعث ہوئی کہ میں انہیں بیدار کروں اور مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ میں اپنی بکری کو چھوڑ دوں ، پھر میں مسلسل بیٹھا رہا اور دودھ دوہنے والا برتن میرے ہاتھ میں رہا ، یہاں تک کہ صبح کے وقت وہ دونوں بیدار ہوئے ، تو میں نے اُن دونوں کو دودھ پلایا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ۔‘‘ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گویا کہ اس وقت بھی نبی اکرم ﷺ کے الفاظ سن رہا ہوں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ پہاڑ سرکا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے کشادگی پیدا کر دی ، اور وہ لوگ ( غار سے ) باہر آ گئے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔