Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 36 · Chapter 1

Book of Piety and Family Ties

Hadith 13389–13428

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13389

Majma al-Zawaid #13389

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «رِضَا الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسُخْطُ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي سُخْطِ الْوَالِدِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ said: > **"The pleasure of the Lord, Blessed and Exalted, is in the pleasure of the father, and the anger of the Lord, Blessed and Exalted, is in the anger of the father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ پروردگار کی رضامندی ، والد کی رضامندی میں ، اور پروردگار کی ناراضگی ، والد کی ناراضگی میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن محمد ہے اور وہ متروک ہے ۔

13390

Majma al-Zawaid #13390

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَيُزَادَ فِي رِزْقِهِ فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ وَلِيَصِلْ رَحِمَهُ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا بِرَّ الْوَالِدَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever wishes that his lifespan be extended for him and his provision increased, let him be dutiful to his parents and join his kinship ties."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی عمر میں اضافہ ہو جائے اس کے رزق میں اضافہ ہو جائے ، اس کو والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13391

Majma al-Zawaid #13391

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «طَاعَةُ اللَّهِ طَاعَةُ الْوَالِدِ، وَمَعْصِيَةُ اللَّهِ مَعْصِيَةُ الْوَالِدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ وَهُوَ لَيِّنٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Obedience to Allah is obedience to the father, and disobedience to Allah is disobedience to the father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ، والد کی اطاعت میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والد کی نافرمانی میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد ابراہیم بن عبداللہ بن کیسان کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کمزور ہے ، اس کے حوالے سے انہوں نے اسے اسماعیل بن عمرو بجلی سے نقل کیا ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13392

Majma al-Zawaid #13392

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ طُوبَى لَهُ زَادَ اللَّهُ فِي عُمْرِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is dutiful to his parents, glad tidings to him, Allah will extend his life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے ، اس کے لئے مبارک باد ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں اضافہ کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13393

Majma al-Zawaid #13393

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «وَالْبِرُّ زِيَادَةٌ فِي الْعُمْرِ، وَالصَّدَقَةُ تَمْنَعُ مِيتَةَ السُّوءِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، عَنْ بَعْضِ بَنِي رَافِعٍ، وَقَدْ سَمَّاهُ غَيْرُهُ: مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ رَافِعٍ، فَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ بِاعْتِبَارِ الَّذِي سَمَّاهُ.

EnglishUnverified translation

Rafi ibn Makith, may Allah be pleased with him, who was among those present at Hudaybiyah, reports that the Prophet ﷺ said: > **"Dutifulness is an increase in lifespan, and charity prevents an evil death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ ، جنہیں غزوہ حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، وہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : والدین کے ساتھ اچھا سلوک ، عمر میں اضافہ کرتا ہے اور صدقہ ، بری موت کو روک دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں ، حضرت رافع رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی سے نقل کی ہے ، ان کے علاوہ دیگر نے ان کا نام محمد بن خالد بن رافع بیان کیا ہے ، تو اس روایت کے رجال اُس اعتبار سے ثقہ ہوں گے ، جس نے اُس کا نام بیان کیا ہے ۔

13394

Majma al-Zawaid #13394

وَعَنْ بُرَيْدَةَ «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَمَلْتُ أُمِّي عَلَى عُنُقِي فَرْسَخَيْنِ فِي رَمْضَاءَ شَدِيدَةٍ، لَوْ أُلْقِيَتْ فِيهَا بُضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ لَنَضِجَتْ، فَهَلْ أَدَّيْتُ شُكْرَهَا؟ فَقَالَ: "" لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ لِطَلْقَةٍ وَاحِدَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ مِنْ غَيْرِ كَذِبٍ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports that a man came to the Prophet ﷺ and said that he had carried his mother on his neck for two farsakhs in severe heat, heat so intense that a piece of meat cast into it would have cooked, and asked whether he had repaid her gratitude, to which the Prophet ﷺ replied: > **"Perhaps it equals a single pang of birth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں شدید گرمی کے موسم میں اپنی والدہ کو اپنی گردن پر بٹھا کر دو فرسخ تک چلا ہوں ، ایسی گرمی تھی کہ اگر وہاں گوشت کا ٹکڑا ڈالا جاتا تو وہ پک جاتا ، تو کیا میں نے اپنی والدہ کا شکر ادا کر دیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شاید یہ ، کسی ایک تکلیف کا بدل بنتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے لیکن جھوٹا نہیں ہے اور ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔

13395

Majma al-Zawaid #13395

وَعَنْهُ «أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي الطَّوَافِ حَامِلًا أُمَّهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: هَلْ أَدَّيْتُ حَقَّهَا؟ قَالَ: "" لَا، وَلَا بِرَكْزَةٍ وَاحِدَةٍ». أَوْ كَمَا قَالَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports that a man was carrying his mother while performing tawaf and asked the Prophet ﷺ whether he had fulfilled her right, to which he ﷺ replied, or words to that effect: > **"No, not even for a single pang."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے اپنی والدہ کو اٹھا کر انہیں طواف کروایا ، اس نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا میں نے ان کا حق ادا کر دیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ایک تکلیف کا بھی حق نہیں بنتا ہے ، یا جس طرح بھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ یہ روایت امام بزار نے اس سے پہلے والی روایت کی سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

13396

Majma al-Zawaid #13396

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ وَمَعَهُ شَيْخٌ فَقَالَ لَهُ: "" يَا فُلَانُ مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ "". قَالَ: أَبِي. قَالَ: فَلَا تَمْشِ أَمَامَهُ، وَلَا تَجْلِسْ قَبْلَهُ، وَلَا تَدْعُهُ بِاسْمِهِ، وَلَا تَسْتَسِبَّ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَقَدْ نَقَلَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ أَنَّهُ وُثِّقَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ بْنِ يَزِيدَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reports that a man came to the Messenger of Allah ﷺ accompanied by an old man, and the Prophet ﷺ asked him who was with him, and when the man replied that it was his father, he ﷺ instructed him: > **"Do not walk ahead of him, do not sit before him, do not call him by his name, and do not expose him to abuse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس کے ساتھ ایک بوڑھا بھی تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : اے فلاں شخص ! تمہارے ساتھ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرے والد ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم ان کے آگے نہ چلنا اور ان سے پہلے نہ بیٹھنا اور انہیں ان کے نام سے نہ بلانا اور ان کے ساتھ سختی سے بات نہ کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، جو انہوں نے اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کمزور ہے ، ابن دقیق العید نے یہ بات نقل کی ہے کہ اس کی توثیق کی گی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عرعرہ بن یزید ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13397

Majma al-Zawaid #13397

وَعَنْ أَبِي غَسَّانَ الضَّبِّيِّ قَالَ: خَرَجْتُ أَمْشِي مَعَ أَبِي بِظَهْرِ الْحَرَّةِ، فَلَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ لِي: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَبِي. قَالَ: لَا تَمْشِ بَيْنَ يَدَيْ أَبِيكَ، وَلَكِنِ امْشِ خَلْفَهُ أَوْ إِلَى جَانِبِهِ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ، وَلَا تَمْشِ فَوْقَ إِجَّارٍ أَبُوكَ تَحْتَهُ، وَلَا تَأْكُلْ عِرْقًا قَدْ نَظَرَ أَبُوكَ إِلَيْهِ لَعَلَّهُ قَدِ اشْتَهَاهُ. قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْعُقُوقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو غَسَّانَ وَأَبُو غَنْمٍ الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ghassan al-Dabbi reports that he was once walking with his father on the stony lava ground when Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, met him and asked who the man was, and when he replied that it was his father, Abu Hurayrah counseled him on the rights of a father and then spoke of a disobedient man's punishment: > **"Do not walk in front of your father, but behind him or beside him. Never let anyone come between you and him. Never walk on a rooftop with your father beneath it. Never eat a marrow bone toward which your father has looked, for perhaps he desires it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوغسان ضبی بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ پتھریلی سرزمین پر چلتا ہوا جا رہا تھا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ میں نے جواب دیا : یہ میرے والد ہیں ، انہوں نے فرمایا : تم اپنے والد کے آگے نہ چلنا ، بلکہ اُن کے پیچھے چلنا ، یا اُن کے ایک طرف چلنا اور تم کسی شخص کو یہ موقع نہ دینا کہ وہ تمہارے اور ان کے درمیان حائل ہو جائے اور تم کسی ایسی بلند جگہ پر نہ چلنا کہ تمہارے والد نیچے ہو رہے ہوں ، اور تم کوئی ایسی گوشت والی ہڈی نہ کھانا ، جس کی طرف تمہارے والد دیکھ رہے ہوں ، ہو سکتا ہے ، انہیں اس کی خواہش ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت ، والدین کی نافرمانی سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ابوغسان نامی راوی اور اس سے روایت نقل کرنے والا شخص ابوغنم ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13398

Majma al-Zawaid #13398

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَجَرْتَ الشِّرْكَ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ، هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" أَذِنَا لَكَ؟ "". قَالَ: لَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ [فَاسْتَأْذِنْهُمَا]، فَإِنْ فَعَلَا، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that a man from Yemen emigrated to the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ asked him whether he had abandoned polytheism but reminded him that jihad remained, then asked whether his parents were in Yemen, and when he said yes, asked whether they had given him permission, and when he said no, the Messenger of Allah ﷺ commanded: > **"Return to your parents, seek their permission, and if they grant it then proceed, otherwise remain dutiful to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یمن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، ہجرت کر کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تم نے شرک سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے ؟ لیکن جہاد باقی ہے ، کیا یمن میں تمہارے ماں باپ موجود ہیں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اُن دونوں نے تمہیں اجازت دی تھی ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے ماں باپ کی طرف واپس چلے جاؤ اور ان دونوں سے اجازت مانگو ، اگر وہ اجازت دیدیتے ہیں تو ٹھیک ہے ، ورنہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

13399

Majma al-Zawaid #13399

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي الْجِهَادَ وَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ. قَالَ: "" هَلْ بَقِيَ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ؟ "". قَالَ: أُمِّي. قَالَ: "" فَأَبْلِ اللَّهَ فِي بِرِّهَا، فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ كَانَ لَكَ أَجْرُ حَاجٍّ وَمُعْتَمِرٍ وَمُجَاهِدٍ، فَإِذَا رَضِيَتْ عَنْكَ أُمُّكَ، فَاتَّقِ اللَّهَ وَبِرَّهَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ نَجِيحٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said that he longed for jihad but was unable to undertake it, and the Prophet ﷺ asked whether any of his parents remained, and when he replied that his mother remained, he ﷺ instructed him to seek Allah's approval through dutifulness to her, for doing so would earn the reward of a pilgrim, one performing umrah, and a warrior, and when his mother became pleased with him he should remain Godfearing and dutiful to her: > **"Seek Allah's acceptance through dutifulness to her, for when you do so you shall have the reward of a pilgrim, one performing umrah, and a warrior in Allah's path. When your mother is pleased with you, then fear Allah and be dutiful to her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : مجھے جہاد میں حصہ لینے کا شوق ہے اور میں اس کی قدرت نہیں رکھتا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی باقی ہے ؟ اس نے جواب دیا : میری والدہ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو تم اس خاتون کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ، اللہ تعالیٰ کو راضی کرو ! جب تم ایسا کر لو گے ، تو تمہیں حج کرنے والے ، عمرہ کرنے والے اور جہاد کرنے والے شخص کی مانند اجر ملے گا ، جب تمہاری والدہ تم سے راضی ہوں گی ( تو یہ اجر ملے گا ) تو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ( اس ) خاتون کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن نجیح کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

13400

Majma al-Zawaid #13400

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْتَشِيرُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَكَ وَالِدَانِ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" الْزَمْهُمَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ أَقْدَامِهِمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Jahimah reports from his father, may Allah be pleased with them, that he came to the Messenger of Allah ﷺ seeking counsel about jihad, and the Prophet ﷺ asked whether he had parents, and when he said yes, he ﷺ commanded: > **"Stay with them, for Paradise is beneath their feet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن جاہمہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں جہاد میں حصہ لینے کے لئے مشورہ لینے کی غرض سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ ہیں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُن دونوں کے ساتھ رہو ! کیونکہ جنت اُن دونوں کے پاؤں کے نیچے ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13401

Majma al-Zawaid #13401

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ: "" أُمُّكَ حَيَّةٌ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْزَمْ رِجْلَهَا فَثَمَّ الْجَنَّةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Talhah ibn Muawiyah al-Sulami, may Allah be pleased with him, reports that he came to the Prophet ﷺ and said that he wished to strive in Allah's path, and the Prophet ﷺ asked whether his mother was alive, and when he said yes, the Prophet ﷺ commanded: > **"Stay at her foot, for there lies Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن معاویہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینا چاہتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہاری والدہ زندہ ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُن کے پاؤں کے پاس رہو ! وہیں جنت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ مدلس ہے ، اس کے حوالے سے یہ محمد بن طلحہ سے منقول ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13402

Majma al-Zawaid #13402

وَعَنْ نُعَيْمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: «خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ حَاجًّا، حَتَّى كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، أَتَى شَجَرَةً فَعَرَفَهَا، فَجَلَسَ تَحْتَهَا ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ هَذِهِ الشُّعْبَةِ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ لِأُجَاهِدَ مَعَكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ. فَقَالَ: "" أَبَوَاكَ حَيَّانِ كِلَاهُمَا؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَارْجِعْ فَبِرَّهُمَا "". فَانْفَتَلَ رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ نَاعِمًا وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَإِنْ كَانَ نُعَيْمًا فَلَمْ أَعْرِفْهُ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجِهَادِ.

EnglishUnverified translation

Nuaym, the freedman of Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reports that Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, set out for Hajj and, between Makkah and Madinah, recognized a tree and sat beneath it, then related that he had seen the Messenger of Allah ﷺ beneath that tree when a young man approached from a mountain pass and stood before the Messenger of Allah ﷺ saying he had come to strive alongside him in Allah's path seeking Allah's Countenance and the Hereafter, whereupon the Prophet ﷺ asked whether both his parents were alive, and when he said yes, commanded him to return and be dutiful to them, so the man turned back the way he had come: > **"Are both your parents alive? Then return and be dutiful to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام ، نعیم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج کے لئے روانہ ہوئے ، مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان وہ کسی درخت کے پاس آئے ، انہوں نے اس درخت کو پہچان لیا اور پھر اس کے نیچے بیٹھ گئے ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے دیکھا ، اس دوران ایک گھاٹی میں سے ایک نوجوان شخص سامنے آیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر ٹھہر گیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس لئے آیا ہوں ، تاکہ آپ کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لوں اور میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور آخرت کے اجر و ثواب کا حصول چاہتا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ دونوں زندہ ہیں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم واپس چلے جاؤ اور ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، تو وہ شخص واپس اسی طرف چلا گیا جہاں سے وہ آیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس اور ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، اگر ناعم نامی شخص سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام ہو اور یہ روایت صحیح ہو گی اور اگر وہ نعیم ہو ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث ، جہاد سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

13403

Majma al-Zawaid #13403

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بِرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ، وَعِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدَ غَيْرَ مَنْسُوبٍ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مِنَ الْمُكْثِرِينَ مِنْ شُيُوخِهِ فَلِذَلِكَ لَمَّ يَنْسُبْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Be dutiful to your fathers, your sons will be dutiful to you, and preserve your chastity, your women will remain chaste."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ! تمہاری اولاد تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے گی ، تم لوگ پاکدامن رہو ، تمہاری عورتیں پاکدامن رہیں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد احمد کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے بظاہر یہ لگتا ہے ، یہ ان افراد میں سے ایک ہے جن سے امام طبرانی نے بکثرت روایات نقل کی ہیں اور شاید اسی وجہ سے انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13404

Majma al-Zawaid #13404

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «عِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ، وَبِرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي بَابِ الِاعْتِذَارِ فِي الْأَدَبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reports that the Prophet ﷺ said, the full narration being recorded in the chapter of apology in the book of manners: > **"Preserve your chastity, your women will remain chaste, and be dutiful to your fathers, your sons will be dutiful to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ تم لوگ پاک دامن رہو ! تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی ، تم اپنے آباء و اجداد کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے گی ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، مکمل روایت ’’ کتاب الادب “ میں عذر پیش کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13405

Majma al-Zawaid #13405

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِجَّةَ الْوَدَاعِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَفَوَّهَ بِهِ أَنْ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that he was present with the Messenger of Allah ﷺ at the Farewell Pilgrimage, and the first words the Prophet ﷺ uttered were, after which the narrator related the full hadith: > **"Allah, Mighty and Majestic, enjoins upon you kindness toward your mothers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے سب سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں تلقین کرتا ہے ........‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13406

Majma al-Zawaid #13406

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِرُّ؟ قَالَ: "" أُمَّكِ "". قَالَتْ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: "" أُمَّكِ "". قَالَتْ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: "" أُمَّكِ "". قَالَتْ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: "" وَالِدَكِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that a woman came to the Messenger of Allah ﷺ and asked whom she should honor most, and he ﷺ answered her mother, and when she asked who next he again answered her mother, and when she asked a third time he again answered her mother, and when she asked a fourth time he answered her father: > **"Your mother. Your mother. Your mother. Then your father."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ، اس نے دریافت کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ، اس نے دریافت کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ اس نے دریافت کیا : پھر کس کے ساتھ ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے باپ کے ساتھ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13407

Majma al-Zawaid #13407

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي أَهْلًا وَأُمًّا وَأَبًا، فَأَيُّهُمْ أَحَقُّ بِصِلَتِي؟ قَالَ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ غَيْرِ إِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Said, may Allah be pleased with him, reports that a man came to the Prophet ﷺ and said he had a wife, a mother, and a father, and asked which of them most deserved his kindness, to which the Prophet ﷺ replied: > **"Your mother and your father, your sister and your brother, then the nearest, then the nearest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ میری بیوی بھی ہے ، ماں بھی ہے اور باپ بھی ہے ، اُن میں سے کون میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہاری بہن ، تمہارا بھائی اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، جو حسن سند کے ساتھ منقول ہے اور اس سند کے علاوہ ہے ، جو اس سے پہلے گزری ہے ۔

13408

Majma al-Zawaid #13408

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقُولُ: "" أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الزَّكَاةِ فِي بَابِ الْيَدِ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى أَحَادِيثٌ نَحْوَ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Usamah ibn Sharik, may Allah be pleased with him, reports that he was present with the Messenger of Allah ﷺ at the Farewell Pilgrimage while he ﷺ was saying: > **"Your mother, your father, your sister, your brother, then the nearest, then the nearest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر موجود تھا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہاری بہن ، تمہارا بھائی ، پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتے دار ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ عبداللہ بن احمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے زکوۃ سے متعلق باب میں ، اوپر والے ہاتھ کے ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہونے سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔

13409

Majma al-Zawaid #13409

وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ - قَالَ: «صَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ: "" آمِينَ آمِينَ آمِينَ "". قَالَ: "" أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ فَمَاتَ، فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، فَقُلْ: آمِينَ. قُلْتُ: آمِينَ. قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ أَدْرَكَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَمَاتَ، فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأُدْخِلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْ: آمِينَ فَقُلْتُ: آمِينَ. قَالَ: وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ، فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ. قُلْ: آمِينَ فَقُلْتُ: آمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَأَحَدُهَا حَسَنٌ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الْأَدْعِيَةِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ ascended the pulpit and said Amin, Amin, Amin, then explained that Jibril, peace be upon him, had come to him and said that whoever finds one of his parents and dies entering the Fire, may Allah distance him, and bade him say Amin, so he said Amin, then said whoever reaches Ramadan and dies unforgiven entering the Fire, may Allah distance him, and bade him say Amin, so he said Amin, then said whoever hears mention of the Prophet ﷺ and does not invoke blessings upon him and dies entering the Fire, may Allah distance him, and bade him say Amin, so he said Amin: > **"Whoever finds one of his parents and dies entering the Fire, may Allah distance him, say Amin. Whoever reaches the month of Ramadan and dies unforgiven and enters the Fire, may Allah distance him, say Amin. And whoever is reminded of me and does not invoke blessings upon me, then dies and enters the Fire, may Allah distance him, say Amin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے اور آپ ﷺ نے فرمایا : آمین ، آمین ، آمین ، پھر آپ ﷺ نے بتایا : ’’ حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ! جو اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک کو پائے اور وہ ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ جہنم میں چلا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ، آپ آمین کہیں ! تو میں نے آمین کہا ، جبرائیل نے کہا : اے حضرت محمد ﷺ جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہوئی ہو ، اور اسے جہنم میں داخل کر دیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ، آپ آمین کہیں ، تو میں نے آمین کہا ، پھر جبرائیل نے کہا : جس شخص کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے اور پھر مر جائے اور جہنم میں داخل ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ! آپ آمین کہیں ، تو میں نے آمین کہا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک حسن ہے ، اس حدیث کے مختلف طرق ہیں جو دعاؤں سے متعلق کتاب میں ، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنے سے متعلق باب میں مذکور ہیں ۔

13410

Majma al-Zawaid #13410

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ ثُمَّ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ» "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" وَأَسْحَقَهُ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ: "" «أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ، حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ» "". فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn Amr al-Qushayri, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ speak of freeing a Muslim slave, of one who reaches his parents yet remains unforgiven, and, in another chain, of sheltering an orphan: > **"Whoever frees a Muslim slave, it shall be his ransom from the Fire, and whoever reaches one of his parents and is then not forgiven, may Allah distance him. Any Muslim who embraces an orphan of two Muslim parents into his food and drink until he is independent, Paradise becomes binding for him without fail."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرے گا ، تو وہ ( آزاد ہونے والا ) جہنم سے بچاؤ کے لئے اس کا فدیہ بن جائے گا اور جو شخص اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک کا زمانہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ۔‘‘ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” وہ اس کو پرے کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جو مسلمان کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ بچہ بڑا ہو جائے ، تو اس شخص کے لیے لازمی طور پر جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

13411

Majma al-Zawaid #13411

عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَا سَلَفَ مِنَ النَّاسِ انْطَلَقُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ، فَأَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ، فَدَخَلُوا غَارًا فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ مُتَجَافٍ حَتَّى مَا يَرَوْنَ [مِنْهُ] خَصَاصَةً، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ، وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَادْعُوا اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ "". قَالَ: "" فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ، فَكُنْتُ أَحْلِبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا، فَآتِيهِمَا، فَإِذَا وَجَدْتُهُمَا رَاقِدَيْنِ قُمْتُ عَلَى رُءُوسِهِمَا كَرَاهَةَ أَنْ أَرُدَّ سِنَتَهُمَا فِي رُؤُوسِهِمَا، حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا. قَالَ: فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ. وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا عَلَى عَمَلٍ يَعْمَلُهُ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ وَأَنَا غَضْبَانُ فَزَبَرْتَهُ، فَانْطَلَقَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ ذَلِكَ، فَجَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ كُلُّ الْمَالِ، فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ، فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ ذَلِكَ كُلَّهُ، وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ الْأَوَّلَ. اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا. فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ. وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ أَعْجَبَتْهُ امْرَأَةٌ، فَجَعَلَ لَهَا جُعْلًا، فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهَا وَفَّرَ لَهَا نَفْسَهَا وَسَلَّمَهَا جُعْلَهَا. اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا. فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا مَعَانِيقَ يَمْشُونَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا كَمَا تَرَاهُ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ كَذَلِكَ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مَوْقُوفًا عَلَى أَنَسٍ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى وَكِلَاهُمَا [رِجَالُهُ] رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that three men of former peoples set out seeking provision for their families when rain seized them, so they entered a cave and a protruding rock fell upon them sealing the opening so that they could see no crevice, and they agreed that the rock had fallen and traces were erased and none knew their place but Allah, so each should supplicate Allah through his most trusted deed. One of them invoked Allah by his practice of milking for his parents into their vessel and, finding them asleep, standing over them unwilling to disturb their rest until they awoke of themselves, done hoping for Allah's mercy and fearing His punishment. The second invoked Allah by his hiring a laborer, rebuking him in anger so that the man left his wage, which he then gathered and invested until it grew into great wealth, all of which he later handed over despite being able to give only the original wage, done hoping for mercy and fearing punishment. The third invoked Allah by his sparing a woman he desired, preserving her chastity and still handing her the payment he had assigned her, done hoping for mercy and fearing punishment. After each supplication part of the rock shifted, until it cleared and they emerged walking arm in arm: > **"O Allah, if You know that I did that only hoping for Your mercy and fearing Your punishment, then relieve us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ پہلے زمانے کے لوگوں میں سے تین افراد روانہ ہوئے ، وہ اپنے اہل خانہ کے لئے کچھ ( کمانے ) کے لیے نکلے تھے ، انہیں بارش نے آ لیا ، وہ ایک غار میں داخل ہو گئے ، ایک پتھر ان پر آ کر گرا ، جس نے ( غار کے منہ کو بند کر دیا ) یہاں تک کہ وہ اس میں سے ایک جھری بھی نہیں دیکھ سکتے تھے ، ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا : پتھر گر گیا ہے ، نشان مٹ گیا ہے ، اب تمہاری جگہ کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ کو علم ہے ، تو تم اپنے سب سے زیادہ قابل وثوق عمل کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ! نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : اُن میں سے ایک شخص نے کہا : اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میرے ماں باپ تھے ، میں ان کے لئے ان کے برتن میں دودھ دوہ لیا کرتا تھا ، ایک مرتبہ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان دونوں کو سوئے ہوئے پایا ، تو میں ان کے سرہانے کھڑا رہا ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں ان کے سرہانے سے ان کی خوراک کو ہٹا لوں ، یہاں تک کہ جب انہوں نے بیدار ہونا تھا اس وقت وہ خود ہی بیدار ہوئے ، اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب کا خوف رکھتے ہوئے کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو پتھر کا ایک تہائی حصہ ہٹ گیا ، دوسرے شخص نے کہا : اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے ایک کام کے لئے ایک مزدور رکھا ، جو وہ کام کرتا رہا ، پھر وہ اس کا معاوضہ لینے کے لئے میرے پاس آیا ، تو میں اس وقت غصے کے عالم میں تھا ، میں نے اسے ڈانٹا تو وہ چلا گیا ، اس نے اپنے اس کام کا معاوضہ چھوڑ دیا ، میں نے اس کام ( کے معاوضے ) کو اکٹھا کیا اور اسے پیداوار میں لگا دیا ، یہاں تک کہ اس سے بہت سا مال بن گیا ، پھر وہ ایک مرتبہ وہ اپنا معاوضہ لینے کے لئے میرے پاس آیا تو میں نے وہ ساری چیزیں اس کے حوالے کر دیں ، اگر میں چاہتا تو میں اسے صرف مخصوص پہلے والا معاوضہ دے سکتا تھا ، اے اللہ ! اگر تو یہ جانتا ہے کہ میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب کا خوف رکھتے ہوئے یہ کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی عطا فرما ! تو پتھر ایک چوتھائی ہٹ گیا ، تیسرے شخص نے کہا : اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ مجھے ایک عورت اچھی لگتی تھی ، اس نے اس عورت کے لئے ایک مخصوص معاوضہ مقرر کیا ، جب اس عورت پر قدرت حاصل کی ، تو وہ اس عورت سے الگ ہو گیا اور اس کا معاوضہ بھی اس کے پاس ہی رہنے دیا ( اس شخص نے کہا : ) اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ اگر میں نے تیری رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما ! تو وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ لوگ چلتے ہوئے باہر نکل آئے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے مرفوع روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں ، یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، عبداللہ نے اسے حضرت انس رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام احمد اور امام ابویعلیٰ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13412

Majma al-Zawaid #13412

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ «أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ الرَّقِيمَ قَالَ: "" إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ كَانُوا فِي كَهْفٍ، فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ فَأَوْصَدَ عَلَيْهِمْ. قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: تَذْكُرُوا أَيُّكُمْ عَمَلَ حَسَنَةً، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ، فَجَاءَنِي عُمَّالٌ لِيَ اسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ، فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَرْطِ أَصْحَابِهِ، فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ، فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الذِّمَامِ أَنْ لَا أَنْقُصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ، لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: تُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي؟ فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَمْ أَبْخَسْكَ [شَيْئًا] مِنْ شَرْطِكَ، وَإِنَّمَا هُوَ مَالِي أَحْكُمُ بِمَا شِئْتُ. قَالَ: فَغَضِبَ وَذَهَبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ، قَالَ: فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ مَرَّ بِي بَقَرٌ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنَ الْبَقَرِ، فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخٌ ضَعِيفٌ لَا أَعْرِفُهُ فَقَالَ: إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا، فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ فَقُلْتُ: إِيَّاكَ أَبْغِي، هَذَا حَقُّكَ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ جَمِيعًا، قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَا تَسْخَرْ بِي، إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ فَأَعْطِنِي حَقِّي. قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَسْخَرُ بِكَ، إِنَّهَا لَحَقُّكَ، مَا لِي مِنْهَا شَيْءٌ. فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ لَا تَعْلَمُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا. قَالَ: فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ [حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ] وَأَبْصَرُوا. قَالَ آخَرُ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً، كَانَ لِي فَضْلٌ فَأَصَابَتِ النَّاسَ شِدَّةٌ، فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ. فَأَبَتْ عَلَيَّ، فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ، فَذَكَّرَتْنِي بِاللَّهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ. فَأَبَتْ عَلَيَّ وَذَهَبَتْ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِزَوْجِهَا، فَقَالَ لَهَا: أَعْطِيهِ نَفْسَكِ وَأَغْنِي عِيَالَكِ. فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللَّهِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ. فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَسْلَمَتْ [إِلَيَّ] نَفْسَهَا، فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا، ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي، فَقُلْتُ لَهَا: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. فَقُلْتُ لَهَا: خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ، وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخَاءِ؟ فَتَرَكْتُهَا وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ مِمَّا تَكَشَّفْتُهَا. اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّ ذَلِكَ لِوَجْهِكِ فَافْرِجْ عَنَّا. فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى عَرَفُوا وَتَبَيَّنَ لَهُمْ. وَقَالَ الْآخَرُ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً، كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي قَالَ: فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ، فَحَبَسَنِي، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي، فَأَخَذْتُ مِحْلَبِي، فَحَلَبْتُ وَغَنَمِي قَائِمَةٌ، فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدَيَّ حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ، فَسَقَيْتُهُمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا "". قَالَ النُّعْمَانُ: لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْجَبَلُ طَاقَ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ. وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ mention the Inscription, saying that three men were in a cave when a mountain rock fell upon its entrance and sealed them in, so they bade one another recall a good deed that Allah in His mercy might show them mercy. One recalled that he had hired laborers at fixed wages, then hired a man at midday on the terms of the others, and when that man labored in the rest of the day as much as the others had in the whole day, he deemed it his duty of honor not to reduce him, provoking another worker's protest, to which he replied that he had not wronged him and it was his own wealth to dispose of as he wished, whereupon the worker left in anger abandoning his wage, which he set aside in the house until, by Allah's will, he bought a young cow with it that multiplied greatly, and when the aged owner later returned reminding him of his right, he handed over all of it, refusing to mock him and affirming it was all his right. A second recalled that he had surplus wealth when hardship struck the people, and a woman came seeking kindness, and he refused her unless for herself, and she left and returned and adjured him by Allah, and he still refused, and she told her husband who told her to give herself to him to feed her household, so she returned and implored him by Allah, and still he refused until she yielded herself, but when he unveiled her and was about to commit the act she trembled beneath him saying she feared Allah, Lord of the worlds, so he asked how she feared Him in hardship while he had not feared Him in ease, and left her giving her what he owed for having unveiled her. The third recalled that he had two aged parents and sheep, feeding and watering his parents before returning to his flock, until one evening his pasture took him far and he came late finding them asleep, so he stood with the milk vessel at their heads through the night unwilling to wake them, until dawn broke and they awoke and drank. After each supplication the mountain split further until they saw light and the way became clear: > **"O Allah, if You know that I did that for Your Countenance, then relieve us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو غار کا ذکر کرتے ہوئے سنا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تین لوگ ایک غار میں تھے ، پہاڑ پر سے ایک پتھر غار کے منہ پر آیا اور ان لوگوں کے لئے دروازہ بند ہو گیا ، ان میں سے کسی نے کہا : تم لوگ یاد کرو کہ تم میں سے کس نے کون سا اچھا عمل کیا تھا ؟ تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی وجہ سے ہم پر رحم کرے ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : ایک مرتبہ میں نے ایک اچھا کام کیا تھا ، میرے کچھ مزدور تھے جو کام کرتے تھے ، ایک مرتبہ مزدور میرے پاس آئے ، میں نے ان میں سے ہر ایک شخص کے لئے ایک متعین معاوضہ طے کر دیا ، ایک دن دوپہر کے وقت ایک شخص میرے پاس آیا ، میں نے اسے اس کے ساتھیوں کی شرط پر مزدور رکھا ، اُس نے دن کے بقیہ حصے میں کام کیا ، جس طرح پہلے والے لوگوں نے پورا دن کام کیا تھا ، جب میں نے اس کے کام میں اس کی بھرپور کوشش کو دیکھا ، تو میں نے یہ سوچا کہ میرے ذمہ یہ لازم ہے کہ میں نے اس کے ساتھیوں کو جو معاوضہ دیا ہے ، اس میں سے کوئی کمی نہ کروں ، تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ آپ نے اسے بھی اتنا ہی معاوضہ دیا ہے جو مجھے دیا ہے ؟ تو میں نے کہا : اے اللہ کے بندے ! میں نے تمہارے ساتھ جو طے کیا تھا ، اس میں سے کوئی کمی تو نہیں کی ؟ یہ میرا مال ہے ، میں اس کے بارے میں جیسے چاہوں فیصلہ کروں ، تو وہ شخص غصے میں آیا اور چلا گیا اور اپنا معاوضہ چھوڑ دیا ، میں نے اس کے معاوضے کو گھر کے ایک حصے میں رکھ لیا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ وہ وہاں پڑا رہا ، پھر ایک مرتبہ میرے پاس سے گائے گزری ، تو میں نے ان میں سے گائے کا بچھڑا خرید لیا ، پھر ان میں جتنا اللہ کو منظور تھا ، اضافہ ہوتا چلا گیا ، ایک عرصہ گزرنے کے بعد میرے پاس ایک بوڑھا کمزور شخص گزرا ، جسے میں پہچانتا نہیں تھا ، اس نے کہا : میرا تمہارے پاس ایک حق ہے ، پھر اس نے مجھے یاد کروایا تو میں پہچان گیا ، میں نے کہا : میں تمہیں ہی ملنا چاہ رہا تھا ، یہ تمہارا حق ہے ، پھر میں نے وہ تمام جانور اس کو دیدیے ، اس نے کہا : اے اللہ کے بندے ! تم میرا مذاق نہ اڑاؤ ! اگر تم مجھے کوئی چیز دے نہیں سکتے ، تو مجھے میرا حق تو دیدو ، تو اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہارا مذاق نہیں اُڑا رہا ، یہ تمہارا حق ہے ، اس میں سے کوئی بھی چیز میری نہیں ہے ، تو میں نے وہ تمام جانور اس کے حوالے کر دیے ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ پتھر ذرا سا ہٹ گیا ، یہاں تک کہ وہ لوگ اس میں سے باہر دیکھ سکتے تھے ۔ دوسرے شخص نے کہا : میں نے بھی ایک مرتبہ ایک اچھائی کی تھی ، میرے پاس اضافی رقم موجود تھی ، لوگوں کو قحط سالی لاحق ہوئی ، ایک عورت میرے پاس آئی ، وہ مجھ سے بھلائی ( یعنی مالی تعاون ) کی طلبگار تھی ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہاری قربت چاہتا ہوں ، اس کے بغیر کچھ نہیں دوں گا ، اُس نے میری بات نہیں مانی ، وہ چلی گی ، پھر وہ واپس آئی ، پھر اس نے مجھے اللہ کے نام کی یاد دلائی ، تو میں نے اس کی بات نہیں مانی ، میں نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ تمہارے اپنے آپ کو حوالے کئے بغیر نہیں ہو گا ، اس نے میری بات نہیں مانی ، پھر وہ چلی گی ، اس نے اس بات کا تذکرہ اپنے شوہر سے کیا ، تو اس کے شوہر نے اس سے کہا : تم اپنا آپ اس کے حوالے کر دو اور اپنے بال بچوں کے لئے بہتری ( کی کوشش ) کرو ! تو وہ واپس میرے پاس آئی ، اس نے مجھے اللہ کا واسطہ دیا ، میں نے اس کی بات کا انکار کیا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ تمہارے اپنے آپ کو حوالے کیے بغیر نہیں ہو گا ، جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اپنا آپ میرے حوالے کر دیا ، جب میں پردہ ہٹانے لگا اور اس کے قرب کا ارادہ کیا تو وہ میرے نیچے کانپنے لگی ، میں نے اس سے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اس نے کہا : میں تمام جہانوں کے پروردگار اللہ تعالیٰ سے ڈر رہی ہوں ، میں نے اس سے کہا : تم اس پریشانی کے عالم میں بھی اُس سے ڈر رہی ہو اور میں ایسی خوشحالی کے عالم میں بھی اُس سے نہیں ڈر رہا ہوں ، تو میں نے اس عورت کو چھوڑ دیا ، اور میں نے اُسے وہ معاوضہ دیدیا ، جو اس نے میرے ساتھ طے کیا تھا ، اُس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اس کا پردہ ہٹانا چاہا تھا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! تو وہ پتھر اتنا ہٹ گیا کہ وہ ایک دوسرے کی شناخت کر سکتے تھے اور ان کے سامنے ( غار کی اندرونی صورت حال ) واضح ہو گئی تھی ۔ تیسرے شخص نے کہا : میں نے بھی ایک مرتبہ ایک نیک کام کیا تھا ، میرے ماں باپ بوڑھے عمر رسیدہ تھے ، میری بکریاں تھیں ، میں اپنے ماں باپ کو کھانا کھلاتا تھا اور انہیں پانی پلاتا تھا ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف واپس چلا جاتا تھا ، ایک دن بارش ہوئی ، تو میں اس وجہ سے جلدی نہیں آ سکا ، دیر ہو گئی ، یہاں تک کہ شام ہو گئی ، جب میں اپنے گھر آیا ، میں نے دودھ دوہنے کا برتن لے کر دودھ دوہ لیا ، میری بکری کھڑی ہوئی تھی ، میں اپنے ماں باپ کے پاس گیا ، تو میں نے اُن دونوں کو پایا کہ وہ سو چکے تھے ، یہ بات میرے لئے گرانی کا باعث ہوئی کہ میں انہیں بیدار کروں اور مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ میں اپنی بکری کو چھوڑ دوں ، پھر میں مسلسل بیٹھا رہا اور دودھ دوہنے والا برتن میرے ہاتھ میں رہا ، یہاں تک کہ صبح کے وقت وہ دونوں بیدار ہوئے ، تو میں نے اُن دونوں کو دودھ پلایا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ۔‘‘ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گویا کہ اس وقت بھی نبی اکرم ﷺ کے الفاظ سن رہا ہوں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ پہاڑ سرکا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے کشادگی پیدا کر دی ، اور وہ لوگ ( غار سے ) باہر آ گئے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

13413

Majma al-Zawaid #13413

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كَانَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ فِي غَيْثِ السَّمَاءِ إِذْ مَرُّوا بِغَارٍ فَقَالُوا: لَوْ آوَيْتُمْ إِلَى هَذَا الْغَارِ، فَآوَوْا إِلَيْهِ فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ إِذْ وَقَعَ حَجَرٌ مِنَ الْجَبَلِ مِمَّا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، حَتَّى سَدَّ الْغَارَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّكُمْ لَنْ تَجِدُوا [شَيْئًا] خَيْرًا مِنْ أَنْ يَدْعُوَ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ بِخَيْرِ عَمَلٍ عَمِلَهُ قَطُّ. فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ [إِنِّي] كُنْتُ رَجُلًا زَرَّاعًا وَكَانَ لِي أُجَرَاءُ، فَكَانَ فِيهِمْ رَجُلٌ يَعْمَلُ كَعَمَلِ رَجُلَيْنِ، فَأَعْطَيْتُهُ أَجْرَهُ كَمَا أَعْطَيْتُ الْأُجَرَاءَ، فَقَالَ: أَعْمَلُ عَمَلَ رَجُلَيْنِ وَتُعْطِينِي عَمَلَ رَجُلٍ وَاحِدٍ؟ فَانْطَلَقَ وَغَضِبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ عِنْدِي، فَبَذَرْتُهُ عَلَى حِدَتِهِ فَأُضْعِفَ، ثُمَّ بَذَرْتُهُ فَأُضْعِفَ، ثُمَّ بَذَرْتُهُ فَأُضْعِفَ، حَتَّى كَثُرَ الطَّعَامُ فَكَانَ أَكْدَاسًا، فَاحْتَاجَ الرَّجُلُ فَأَتَانِي، فَسَأَلَنِي أَجْرَهُ فَقُلْتُ: انْطَلِقْ إِلَى تِلْكَ الْأَكْدَاسِ فَإِنَّهَا أَجْرُكَ. فَقَالَ: تَظْلِمُنِي وَتَسْخَرُ بِي؟ قُلْتُ: مَا أَسْخَرُ بِكَ. فَانْطَلَقَ فَأَخَذَهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ خَشْيَتِكَ وَابْتِغَاءِ وَجْهِكَ، فَاكْشِفْ عَنَّا. قَالَ: الْحَجَرُ فَضَّ، فَانْفَرَجَتْ مِنْهُ فُرْجَةٌ عَظِيمَةٌ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that three men were walking in rain when they passed a cave and took shelter in it, whereupon a rock from the mountain, among those that fall from fear of Allah, blocked the cave, so they agreed that nothing would avail them but that each supplicate through the best deed he had ever done. One of them, a farmer with hired hands, recalled that among them was a man who worked like two men yet he gave him the same wage as the rest, provoking the man's anger and departure abandoning his wage, which he then sowed separately so that it multiplied again and again until the grain became great heaps, and when the needy man later came asking his wage he directed him to those heaps as his wage, and when accused of wronging and mocking him he denied mockery, so the man took them all, and he asked Allah, if He knew he had done that from fear of Him and seeking His Countenance, to uncover them. The rock then shifted leaving a great opening, and the narrator related the rest of the hadith as in the preceding narrations: > **"O Allah, if You know that I did that from fear of You and seeking Your Countenance, then uncover us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین آدمی بارش میں چلتے ہوئے جا رہے تھے ، انہوں نے کہا : اگر تم لوگ اس غار میں پناہ لے لو ، تو مناسب ہو گا ، پھر وہ اس غار کے اندر چلے گئے ، ابھی وہ اس کے درمیان موجود تھے کہ اسی دوران پہاڑ پر سے ایک پتھر گرا ، یہ وہ پتھر تھا ، جو اللہ کے خوف کی وجہ سے گرا تھا ، یہاں تک کہ اس نے غار کے منہ کو بند کر دیا ، تو ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا : تم لوگ اب کوئی بھلائی کی چیز نہیں پاؤ گے ، تم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے اس بہترین عمل کے حوالے سے دعا کرنی چاہیے ، جو اُس نے کبھی کیا ہو ۔ تو ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ ! میں کھیتی باڑی کرنے والا شخص تھا ، میرے مزدور تھے ، ان میں ایک شخص ایسا تھا جو دو آدمیوں کے برابر کام کرتا تھا ، میں نے اس کو اتنا ہی معاوضہ دیا ، جتنا میں نے دوسروں کو دیا تھا ، تو اس نے کہا : میں نے دو آدمیوں جتنا کام کیا ہے اور تم مجھے ایک آدمی کے کام جتنا معاوضہ دے رہے ہو ، وہ غصے میں آ کے چلا گیا اور اس نے اپنا معاوضہ میرے پاس چھوڑ دیا ، میں نے اسے الگ طور پر کھیتی باڑی میں خرچ کیا ، تو وہ کئی گنا ہو گیا ، پھر میں نے اسے استعمال کیا تو وہ دگنا ہو گیا ، پھر میں نے اسے خرچ کیا ، تو وہ دگنا ہو گیا ، یہاں تک کہ اناج بہت سا ہو گیا اور اس کے ڈھیر لگ گے ، پھر وہ شخص محتاج ہوا ، تو وہ میرے پاس آیا اور اس نے اپنا معاوضہ مجھ سے مانگا ، تو میں نے کہا : تم ان ڈھیروں کے پاس جاؤ ! وہ تمہارا معاوضہ ہے ، اس نے کہا : ایک تو تم نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے ، پھر میرا مذاق بھی اڑا رہے ہو ، میں نے کہا : میں تمہارا مذاق نہیں اُڑا رہا ، وہ شخص گیا اور اس نے ان کو وصول کر لیا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیرے خوف کی وجہ سے اور تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا ، تو تم ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ پتھر تھوڑا سا سرک گیا اور اس کی وجہ سے ایک بڑا سوراخ بن گیا ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13414

Majma al-Zawaid #13414

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ذَهَبَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ رَادَّةً لِأَهْلِهِمْ، قَالَ: فَأَخَذَهُمْ مَطَرٌ، فَلَجَئُوا إِلَى غَارٍ قَالَ: فَوَقَعَ عَلَيْهِمْ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - مِنْ فَمِ الْغَارِ - حَجَرٌ فَسَدَّ عَلَيْهِمْ فَمَ الْغَارِ، وَوَقَعَ بِتَجَافٍ عَنْهُمْ، قَالَ: فَقَالَ النَّفَرُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: عَفَا الْأَثَرُ وَوَقَعَ الْحَجَرُ، وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى، فَتَعَالَوْا فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِأَوْثَقِ عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، عَسَى أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ مَكَانِكُمْ. قَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ بَرًّا بِوَالِدَيَّ، وَإِنِّي أَرَحْتُ غَنَمِي لَيْلَةً، وَكُنْتُ أَحْلِبُ لِأَبَوَيَّ فَآتِيهُمَا [وَهُمَا] مُضْطَجِعَانِ عَلَى فِرَاشِهِمَا، حَتَّى أَسْقِيَهُمَا بِيَدِي، وَإِنِّي أَتَيْتُهُمَا لَيْلَةً مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي، وَجِئْتُ بِشَرَابِهِمَا فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، وَإِنِّي جَعَلْتُ أَرْغَبُ لَهُمَا فِي نَوْمِهِمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَرْجِعَ بِالشَّرَابِ فَيَسْتَيْقِظَانِ فَلَا يَجِدَانِي عِنْدَهُمَا، فَقُمْتُ مَكَانِي قَائِمًا عَلَى رُءُوسِهِمَا كَذَلِكَ، حَتَّى أَصْبَحْتُ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرِجْ عَنَّا. قَالَ: فَزَالَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - ثُلُثُ الْحَجَرِ انْفِرَاجًا. قَالُوا لِلْآخَرِ: إِيهًا - أَيْ قُلْ - قَالَ: فَقَالَ الثَّانِي: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي أَحْبَبْتُ ابْنَةَ عَمٍّ لِي حُبًّا شَدِيدًا - وَإِنِّي أَحْسَبُهُ قَالَ: - خَطَبْتُهَا إِلَى أَهْلِهَا فَمَنَعُونِيهَا، حَتَّى جَعَلْتُ لَهَا مَا رَضِيتُ بِهِ بَيْنِي وَبَيْنَهَا، ثُمَّ دَعَوْتُ بِهَا فَخَلَوْتُ بِهَا، فَقَعَدْتُ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ فَقَالَتْ: لَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ. فَانْقَبَضْتُ إِلَى نَفْسِي، وَوَفَّرْتُ حَقَّهَا عَلَيْهَا وَنَفْسَهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا. قَالَ: فَزَالَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - انْفِرَاجًا. وَقَالُوا لِلثَّالِثِ: إِيهًا - أَيْ قُلْ - قَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي عَمَلَ لِي عَامِلٌ عَلَى صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ، فَانْطَلَقَ الْعَامِلُ وَلَمْ يَأْخُذْ صَاعَهُ، فَاحْتَبَسَ عَلَيَّ طَوِيلًا مِنَ الدَّهْرِ، وَإِنِّي عَمَدْتُ إِلَى صَاعِهِ أَحْرُثُهُ، حَتَّى اجْتَمَعَ مِنْ ذَلِكَ الصَّاعِ بَقَرٌ كَثِيرٌ وَشَاءٌ كَثِيرٌ وَمَالٌ كَثِيرٌ، وَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامِلَ أَتَانِي بَعْدَ زَمَانٍ يَطْلُبُ الصَّاعَ مِنَ الطَّعَامِ، وَإِنِّي قُلْتُ لَهُ: إِنَّ صَاعَكَ ذَلِكَ مِنَ الطَّعَامِ قَدْ صَارَ مَالًا كَثِيرًا وَشَاءً كَثِيرًا وَبَقَرًا كَثِيرًا، فَخُذْ هَذَا كُلَّهُ فَإِنَّهُ مِنْ ذَلِكَ الصَّاعِ. قَالَ لِي: أَتَسْخَرُ بِي؟ قُلْتُ لَهُ: لَا وَاللَّهِ، وَلَكِنَّهُ الْحَقُّ. فَانْطَلَقَ بِهِ يَسُوقُ الْمَالَ أَجْمَعَ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرِجْ عَنَّا. فَانْفَلَقَ الْحَجَرُ فَوَقَعَ، فَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that three men set out toward their families when rain seized them and they took refuge in a cave, whereupon a rock fell at its mouth sealing it tight, so they agreed that traces were erased and none knew their place but Allah, and each should supplicate through his most trusted deed done for Allah, hoping He would bring them out. The first invoked Allah by his dutifulness to his parents, describing how he would bring his sheep home at night and milk for his parents and carry it to them lying on their bed to give them drink with his own hand, and how one night he found them asleep yet remained standing at their heads through the night unwilling to wake them and unwilling to return with the drink lest they awake and miss him, until morning came, done seeking Allah's Countenance. The second invoked Allah by his intense love for his cousin, whom he sought in marriage from her family but was refused, until he offered her what she accepted between them, then summoned her and sat from her as a man sits from a woman, but when she said it was not lawful for him to break the seal except by right, he withdrew preserving her honor and person, done seeking Allah's Countenance. The third invoked Allah by a worker employed for a measure of food who left without taking it, remaining away a long age, during which he cultivated that measure until it yielded much cattle, sheep, and wealth, and when the worker returned after a time asking only for the measure of food, he told him all that wealth had come from it and bade him take it all, and when accused of mockery swore by Allah it was the truth, so the man drove away all the wealth. At each supplication the rock split further, until it burst open and they walked out: > **"O Allah, if You know that I did that seeking Your Countenance, then relieve us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین افراد اپنے گھر کی طرف واپس جا رہے تھے ، انہیں بارش نے آ لیا ، وہ ایک غار میں چلے گئے ، غار کے منہ پر ایک پتھر آ گیا اور اس نے غار کے منہ کا دروازہ ان کے لئے بند کر دیا ، اور وہ ایسی حالت میں آ کے گرا کہ ان کا راستہ بالکل بند ہو گیا ، تو ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا : اب نشان مٹ گیا ہے ، پتھر آ کے گر گیا ہے اور تمہاری جگہ کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ کو علم ہے ، تو تم لوگ آگے آؤ ! تم میں سے ہر ایک شخص اپنے سب سے زیادہ قابل وثوق عمل کے حوالے سے دعا کرے ، جو اس نے عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کیا ہو ، تو ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اُس جگہ سے نکلوا دے ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا تھا ، میں رات کے وقت اپنی بکریاں واپس لے کر آتا تھا اور اپنے ماں باپ کے لئے دودھ دوہ کر ان کے پاس آیا تو وہ دونوں اپنے بستر پر لیٹے ہوئے ہوتے تھے ، میں اپنے ہاتھ سے انہیں دودھ پینے کے لئے دیتا تھا ، ایک رات میں اُن کے پاس آیا ، میں ان کا مشروب لے کر آیا تو میں نے ان دونوں کو پایا کہ وہ سو چکے تھے ، میں ان کے لئے یہ بھی چاہتا تھا کہ اُن کی نیند خراب نہ ہو ، تو مجھے انہیں بیدار کرنا اچھا نہیں لگا اور مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ میں مشروب لے کے واپس چلا جاؤں اور پھر وہ بیدار ہو جائیں اور مجھے اپنے پاس نہ پائیں ، تو اپنی جگہ اسی طرح ان کے سرہانے کھڑا رہا ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے !“ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد یہ کلمات ہیں کہ پتھر کچھ ہٹ گیا ۔ اُن لوگوں نے دوسرے سے کہا : اب تم کچھ کہو ! تو دوسرے شخص نے یہ کہا : اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں اپنی چچا زاد سے شدید محبت کرتا تھا ، میں نے اس کے گھر والوں کو شادی کا پیغام بھی دیا تھا ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا ؟ یہاں تک کہ میں نے اس کے لئے وہ رقم مقرر کی ، جس کے ذریعے وہ میرے اور اپنے درمیان تعلق پر راضی ہو جاتی ، پھر میں نے اسے بلایا اور اس کے ساتھ خلوت میں چلا گیا اور میں اس کے قریب یوں آ گیا ، جس طرح کوئی مرد کسی عورت کے قریب آتا ہے ، تو اس نے کہا : یہ تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ تم ناحق طور پر مہر کو ختم کرو ، تو مجھے اپنے آپ کو سمیٹنا پڑا اور میں نے اس کا معاوضہ اس کے پاس رہنے دیا اور اس کی ذات کو بھی اس کے حوالے کر دیا ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے ، اگر میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو کچھ مزید کشادگی ہو گی ( راوی کو شک ہے ، یا اُس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ) ۔ لوگوں نے تیسرے شخص سے کہا : یعنی اب تم کچھ کہو ! تو تیسرے شخص نے کہا : اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ ایک مزدور اناج کے ایک صاع کے عوض میں میرے لئے کام کرتا تھا ، ایک مرتبہ وہ مزدور چلا گیا ، اس نے اپنا صاع وصول نہیں کیا ، پھر وہ طویل عرصے تک میرے پاس نہیں آیا ، میں نے اُس کے صاع کے ذریعے کھیتی باڑی شروع کی ، یہاں تک کہ اس صاع کے ذریعے بہت سی گائیں بکریاں اور مال اکٹھا ہو گیا ، ایک زمانہ گزرنے کے بعد وہ مزدور میرے پاس آیا اور اس نے اناج کے صاع کو طلب کیا ، میں نے اس سے کہا : تمہارا اناج کا ایک صاع اب بہت سا مال ، بہت سی بھیڑ بکریوں اور بہت سی گائیوں میں تبدیل ہو چکا ہے ، تم ان سب کو لے لو ! یہ اس صاع کے نتیجے میں ہیں ، اس نے مجھ سے کہا : کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو ؟ میں نے اس سے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! بلکہ یہ حق ہے ، تو وہ سارے مال کو ہانک کر لے گیا ، اے اللہ ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو وہ پتھر ہٹ کے گر گیا اور وہ لوگ چلتے ہوئے باہر آ گئے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13415

Majma al-Zawaid #13415

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا إِلَى حَاجَةٍ لَهُمْ، فَأَوَوْا إِلَى جَبَلٍ، فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا هَؤُلَاءِ - يَعْنِي بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ - تَفَكَّرُوا فِي أَحْسَنِ أَعْمَالِكُمْ فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا، لَعَلَّ اللَّهَ يُفَرِّجُ عَنْكُمْ. فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِي مَرَّةً صَدِيقَةٌ أُطِيلُ الِاخْتِلَافَ إِلَيْهَا، فَتَرَكْتُهَا مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا. قَالَ: فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ حَتَّى طَمِعُوا فِي الْخُرُوجِ، فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا الْخُرُوجَ. وَقَالَ الثَّانِي: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ عَمَلًا - أَحْسَبُهُ قَالَ: - فَأَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَجْرَهُ وَتَرَكَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ أَجْرَهُ، وَزَعَمَ أَنَّ أَجْرَهُ أَكْثَرُ مِنْ أُجُورِ أَصْحَابِهِ، فَعَزَلْتُ أَجْرَهُ مِنْ مَالِي، حَتَّى كَانَ خَيْرًا وَمَاشِيَةً فَأَتَانِي بَعْدَمَا افْتَقَرَ وَكَبِرَ فَقَالَ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي أَجْرِي، فَأَنَا أَحْوَجُ مَا كُنْتُ إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ فَوْقَ بَيْتٍ، فَأَرَيْتُهُ مَا أَنْمَى اللَّهُ لَهُ مِنْ أَجْرِهِ فِي الْمَالِ وَالْمَاشِيَةِ فِي الْغَائِطِ - يَعْنِي فِي الصَّحَارَى - فَقُلْتُ: هَذَا لَكَ. فَقَالَ: لِمَ تَسْخَرُ بِي أَصْلَحَكَ اللَّهُ؟ كُنْتُ أُرِيدُكَ عَلَى أَقَلِّ مِنْ هَذَا فَتَأْبَى عَلَيَّ. فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ يَا رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ذَلِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا. فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ عَنْهُمْ، وَلَمْ يَسْتَطِيعُوا أَنْ يَخْرُجُوا. وَقَالَ الثَّالِثُ: يَا رَبِّ، كَانَ لِي أَبَوَانِ كَبِيرَانِ فَقِيرَانِ، لَيْسَ لَهُمَا خَادِمٌ وَلَا رَاعٍ وَلَا وَالٍ غَيْرِي، أَرْعَى لَهُمَا بِالنَّهَارِ، وَآوِي إِلَيْهِمَا بِاللَّيْلِ، وَإِنَّ الْكَلَأَ تَبَاعَدَ فَتَبَاعَدْتُ بِالْمَاشِيَةِ، فَأَتَيْتُهُمَا - يَعْنِي لَيْلَةً - بَعْدَمَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ وَنَامَا، فَحَلَبْتُ يَعْنِي فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ جَلَسْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا - يَعْنِي بِالْإِنَاءِ - كَرَاهِيَةَ أَنْ أُوقِظَهُمَا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ مَخَافَتِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا. فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ وَخَرَجُوا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ narrated the account of three men who took shelter in a mountain cave when a rock fell upon them, and how each supplicated through a finest deed — the first through abandoning a forbidden companionship, the second through safeguarding and multiplying a worker's wage until he handed over all its growth, and the third through standing the night with milk at the heads of his two aged needy parents — until the mountain split and they emerged: > **"O Allah, if You know that I did that from fear of You and seeking Your pleasure, then relieve us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی علی روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین افراد اپنے کسی کام کے سلسلے میں جا رہے تھے ، وہ ایک غار میں آئے اور ان پر ایک پتھر آ کر گرا ، تو ان لوگوں نے کہا ( یعنی ایک دوسرے سے یہ کہا : ) اے لوگو تم اپنے سب سے عمدہ عمل کے بارے میں غور و فکر کرو اور اس عمل کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی نصیب کرے ، تو ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ میری ایک سہیلی تھی ، جس کے پاس میں بکثرت آتا جاتا رہا ، لیکن پھر میں نے تیرے خوف کی وجہ سے تیری رضامندی کے حصول کے لئے اسے چھوڑ دیا ، اگر تو یہ بات جانتا ہے تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو ان لوگوں سے پتھر ذرا ہٹ گیا ، یہاں تک کہ انہیں یہ امید پیدا ہوئی کہ وہ نکل سکیں گے ، لیکن ابھی وہ وہاں سے نکل نہیں سکتے تھے ، دوسرے نے کہا : اے اللہ ! میرے کچھ مزدور تھے ، جو کام کرتے تھے ، ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنا معاوضہ وصول کر لیا ، ان میں سے ایک شخص نے اپنا معاوضہ ترک کر دیا ، اس کا یہ گمان تھا کہ اس کا معاوضہ اس کے ساتھیوں کے معاوضے سے زیادہ بنتا ہے ، تو میں نے اس کے معاوضے کو اپنے مال سے الگ کیا ، یہاں تک کہ وہ بہت سی بھلائی اور جانوروں میں تبدیل ہو گیا ، جب وہ شخص بوڑھا اور عمر رسیدہ ہو گیا تو اس کے بعد وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا : میں اپنے معاوضے کے بارے میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، اب مجھے اس کی شدید ضرورت ہے ، تو میں اپنے گھر کے اوپر گیا ، میں نے اسے وہ چیزیں دکھائیں ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے معاوضے کے ذریعے بڑھائی تھیں ، جو مال مویشیوں کی شکل میں تھیں اور کھلی جگہ پر تھیں ، میں نے کہا : یہ سب چیزیں تمہاری ہوئیں ، اس نے کہا : تم میرا مذاق کیوں اڑا رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک رکھے ، میں تو تم سے اس سے بہت کم چیز حاصل کرنا چاہتا ہوں اور تم وہ مجھے نہیں دے رہے ہو ، تو اے پروردگار ! میں نے تیرے خوف کی وجہ سے اور تیری رضا کے حصول کے لئے وہ چیزیں اس کے حوالے کر دیں ، اگر تو یہ بات جانتا ہے تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ! تو پتھر ان لوگوں سے کچھ ہٹ گیا ، لیکن وہ ابھی بھی باہر نہیں جا سکتے تھے ، تیسرے شخص نے کہا : میرے بوڑھے عمر رسیدہ غریب ماں باپ تھے ، ان کا کوئی خادم یا دیکھ بھال کرنے والا نگران ، میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، میں دن کے وقت ان کے لئے بکریاں چراتا تھا اور رات کے وقت ان کے پاس آ جایا کرتا تھا ، گھاس پھوس دور ہوتی تھی ، تو مجھے جانوروں کو لے کر دور جانا پڑتا تھا ، ایک رات میں ان کے پاس رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد آیا ، تو وہ دونوں سو چکے تھے ، میں نے برتن میں دودھ دوہ لیا ، پھر میں ان کے سرہانے آ کے بیٹھ گیا ، مجھے یہ بات ناپسند تھی کہ میں انہیں بیدار کروں ، میں یہ چاہتا تھا وہ دونوں ازخود بیدار ہوں ، اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کے حصول کے لئے ایسا کیا تھا تو ، تو ہمیں کشادگی نصیب فرما دے ، تو وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ لوگ باہر نکل آئے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13416

Majma al-Zawaid #13416

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَابٌّ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا قُلْنَا: لَوْ أَنَّ هَذَا الشَّابَّ جَعَلَ قُوَّتَهُ وَشَبَابَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَالَتَنَا فَقَالَ: "" أَمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ قُتِلَ؟! مَنْ سَعَى عَلَى وَالِدَيْهِ فَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ سَعَى لِيُكَاثِرَ فَفِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: "" «وَمَنْ سَعَى عَلَى عِيَالِهِ فَفِي سَبِيلِ اللَّهِ» "". وَفِيهِ رَبَاحُ بْنُ عُمَرَ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that while they were seated with the Messenger of Allah ﷺ a youth appeared from a mountain pass, and when he drew near they said among themselves that if only this youth had devoted his strength and youth to Allah's path, and the Messenger of Allah ﷺ heard their remark and replied that Allah's path was not confined to one slain, for whoever strives for his parents is in Allah's path, while whoever strives merely to amass wealth is in the path of false tyranny, with the added wording that whoever strives for his household is in Allah's path: > **"Is there none in Allah's path except one who is slain? Whoever strives for his parents is in Allah's path, and whoever strives for his household is in Allah's path, while whoever strives to amass wealth is in the path of tyranny."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران گھاٹی کی طرف سے ایک نوجوان ہمارے سامنے آیا ، جب وہ ہمارے قریب آیا تو ہم نے کہا : کاش اس نوجوان نے اپنی جوانی اور اپنی قوت کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوتا ، نبی اکرم ﷺ نے ہماری بات سن لی ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا اللہ کی راہ میں صرف وہ ہوتا ہے ، جو قتل ہوتا ہے ، جو شخصٓ اپنے ماں باپ کے لئے محنت مزدوری کرتا ہے ، وہ اللہ کی راہ میں شمار ہوتا ہے اور جو شخص مال میں کثرت کے لئے کوشش کرتا ہے ، وہ طاغوت ( یعنی شیطان ) کے راستے میں شمار ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ جو شخص اپنے بال بچوں کے لئے مزدوری کرتا ہے ، وہ اللہ کی راہ میں ہوتا ہے ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی رباح بن عمر ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13417

Majma al-Zawaid #13417

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ «أَنَّ قُتَيْلَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْعُزَّى أَرْسَلَتْ إِلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ طَلَّقَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ - فَأَرْسَلَتْ بِهَدَايَا فِيهَا أَقِطٌ وَسَمْنٌ، فَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى عَائِشَةَ لِتَسْأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لِتُدْخِلْهَا بَيْتَهَا وَلْتَقْبَلْ هَدِيَّتَهَا "". وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ} [الممتحنة: 8]» الْآيَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr, may Allah be pleased with them both, reports that Qutaylah bint Abd al-Uzza, whom Abu Bakr, may Allah be pleased with him, had divorced in the pre-Islamic age, sent to her daughter Asma bint Abi Bakr, may Allah be pleased with them both, gifts containing dried cheese and clarified butter, but Asma refused to accept her gift or admit her into her house, so she sent word to Aishah, may Allah be pleased with her, to ask the Prophet ﷺ, whereupon the Prophet ﷺ instructed that she admit her into her house and accept her gift, and Allah, Mighty and Majestic, revealed the verse that Allah does not forbid kindness toward those who have not fought you over religion: > **"Let her admit her into her house and accept her gift. Allah does not forbid you those who have not fought you over religion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت عبدالعزیٰ نے اپنی صاحبزادی سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو زمانہ جاہلیت میں طلاق دے دی تھی ، اس خاتون نے کچھ تحائف بھجوائے جس میں پنیر اور گھی تھا ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان کا تحفہ قبول کرنے اور اسے اپنے گھر کے اندر آنے سے منع کر دیا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا تاکہ وہ نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے چاہیے کہ وہ اس عورت کو اپنے گھر میں آنے دے ، اور اس کا تحفہ قبول کر لے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے حوالے سے نہیں روکتا ہے جو دین کے بارے میں تمہارے ساتھ جنگ نہیں کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13418

Majma al-Zawaid #13418

وَعَنْ عَائِشَةَ وَأَسْمَاءَ أَنَّهُمَا قَالَتَا: «قَدِمَتْ عَلَيْنَا أُمُّنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ، فِي الْهُدْنَةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّنَا قَدِمَتْ عَلَيْنَا رَاغِبَةً، أَفَنَصِلُهَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ فَصِلَاهَا». قُلْتُ: حَدِيثُ أَسْمَاءَ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah and Asma, may Allah be pleased with them both, report that their mother came to them in Madinah while she was a polytheist, during the truce between Quraysh and the Messenger of Allah ﷺ, and they asked the Messenger of Allah ﷺ whether, as she had come with affection, they should maintain ties with her, to which he ﷺ replied affirmatively: > **"Yes, maintain ties with her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہماری والدہ مدینہ منورہ میں ہمارے پاس آئیں ، وہ مشرک تھیں ، یہ صلح کے بعد کے زمانے کی بات ہے ، جو صلح نبی اکرم ﷺ اور قریش کے درمیان ہوئی تھی ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری والدہ ہمارے پاس آئی ہیں ، وہ رغبت رکھتی ہیں ، تو کیا ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13419

Majma al-Zawaid #13419

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «تَذَاكَرْنَا الْبِرَّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ: "" إِنَّهُ كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ رَجُلٌ مُتَعَبِّدٌ صَاحِبُ صَوْمَعَةٍ يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ، فَكَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ - أَوْ أُمٌّ - فَكَانَتْ تَأْتِيهِ فَتُنَادِيهِ، فَيُشْرِفُ عَلَيْهَا فَيُكَلِّمُهَا، فَأَتَتْهُ يَوْمًا وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مُقْبِلٌ عَلَيْهَا، فَنَادَتْهُ - فَحَكَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ - فَجَعَلَتْ تُنَادِيهِ رَافِعَةً رَأْسَهَا إِلَيْهِ، وَاضِعَةً يَدَهَا عَلَى جَبْهَتِهَا: أَيْ جُرَيْجُ أَيْ جُرَيْجُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ جُرَيْجٌ: أَيْ رَبِّ أُمِّي أَمْ صَلَاتِي؟ فَغَضِبَتْ فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لَا يَمُوتَنَّ جُرَيْجٌ حَتَّى يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ. قَالَ: وَبَلَغَتْ بِنْتُ مَلِكِ الْقَرْيَةِ فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالُوا لَهَا: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ مَنْ صَاحِبُكِ؟ قَالَتْ: هُوَ مِنْ صَاحِبِ الصَّوْمَعَةِ جُرَيْجٍ. فَمَا نَشَبَ جُرَيْجٌ حَتَّى سَمِعَ بِالْفُؤُسِ فِي أَصْلِ صَوْمَعَتِهِ، فَجَعَلَ يَسْأَلُهُمْ: وَيْلَكُمْ، مَا لَكُمْ؟ فَلَا يُجِيبُوهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَخَذَ الْحَبْلَ فَتَدَلَّى، فَجَعَلُوا يَجُرُّونَ أَنْفَهُ وَيَضْرِبُونَهُ وَيَقُولُونَ: مُرَاءٍ تُخَادِعُ النَّاسَ بِعَمَلِكَ. قَالَ: وَيْلَكُمْ، مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: بِنْتُ صَاحِبِ الْقَرْيَةِ، بِنْتُ الْمَلِكِ الَّتِي أَحْبَلْتَهَا. قَالَ: مَا فَعَلْتُ. قَالُوا: وَلَدَتْ غُلَامًا، قَالَ: الْغُلَامُ حَيٌّ هُوَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَوَلُّوا عَنِّي. فَتَوَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ مَشَى إِلَى شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا، ثُمَّ أَتَى الْغُلَامَ وَهُوَ فِي مَهْدِهِ، ثُمَّ ضَرَبَهُ بِذَلِكَ الْغُصْنِ وَقَالَ: يَا طَاغِيَةُ، مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: أَبِي فُلَانٌ الرَّاعِي. قَالُوا: إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا لَكَ صَوْمَعَتَكَ بِذَهَبٍ، وَإِنْ شِئْتَ بِفِضَّةٍ. قَالَ: أَعِيدُوهَا كَمَا كَانَتْ "". فَزَعَمَ أَبُو حَرْبٍ أَنَّهُ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، فَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَرُوِيَ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn, may Allah be pleased with him, reports that they were discussing dutifulness before the Messenger of Allah ﷺ when he began narrating to them of a devout hermit of former nations called Jurayj, who had a wife — or a mother — who would come calling him while he looked down to speak with her, until one day she came while he was absorbed in prayer, and she called out lifting her head and placing her hand upon her forehead, repeating O Jurayj three times, while he kept saying O Lord, my mother or my prayer, until she grew angry and prayed that Jurayj would not die until he had gazed upon the faces of prostitutes. Then the daughter of the village chief became pregnant and bore a boy, and when asked who had done this and who his companion was, she claimed it was Jurayj of the hermitage. Jurayj soon heard axes at the base of his cell, and when he asked what was wrong they did not answer, so he took a rope and descended, whereupon they dragged him by the nose and struck him calling him a hypocrite deceiving people with his deeds. When he protested they accused him of impregnating the chief's daughter, which he denied, and when told she had borne a boy and asked if the boy lived, they said yes, so he bade them stand away, prayed two rakahs, walked to a tree, took a twig, came to the infant in his cradle, struck him with the twig and demanded O tyrant, who is your father, to which the infant replied that his father was such-and-such a shepherd. They then offered to rebuild his cell in gold or silver, but he bade them restore it as it was. Abu Harb added that none spoke in the cradle except three: Isa son of Maryam, the witness of Yusuf, and the companion of Jurayj: > **"O tyrant, who is your father? Restore it as it was."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے ( والدین کے ساتھ ) اچھا سلوک کرنے کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ، تو آپ ﷺ نے ہمیں بیان کرنا شروع کیا : ’’ تم سے پہلے کی امتوں میں ایک شخص بڑا عبادت گزار تھا ، اس کا ایک عبادت خانہ تھا ، اس شخص کا نام جریج تھا ، اس شخص کی ایک بیوی تھی ، یا ایک ماں تھی ، وہ اس کے پاس آتی اور اسے آواز دیتی ، تو وہ اس ( عبادت خانے ) میں سے جھانک کر اسے دیکھا تھا ، اور اس کے ساتھ بات چیت کر لیتا تھا ، ایک مرتبہ وہ ( یعنی اس کی ماں ) اس کے پاس آئی ، وہ شخص اس وقت نماز ادا کر رہا تھا ، وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا ، اس خاتون نے اسے بلایا ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر یہ بات بیان کی کہ کس طرح اس عورت نے اپنے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اپنا سر اونچا کر کے اسے بلند آواز میں پکارا تھا کہ اے جریج ! اے جریج ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ جریج نے جواب میں یہی سوچا کہ اے میرے پروردگار ! ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف میری نماز ہے ( تو اُس نے اپنی ماں کو جواب نہیں دیا ) وہ خاتون غصے میں آ گئی اور بولی : اے اللہ ! جریج اُس وقت تک نہ مرے ، جب تک وہ بدکار عورتوں کی شکل نہیں دیکھ لیتا ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اس بستی کے بادشاہ کی بیٹی بالغ ہوئی اور وہ حاملہ ہو گی ، اس نے ایک بچے کو جنم دیا ، لوگوں نے اس عورت سے دریافت کیا : تمہارے ساتھ یہ عمل کس نے کیا ہے ؟ تمہارا متعلقہ فرد کون ہے ؟ اس لڑکی نے بتایا : وہ اس عبادت گاہ والا شخص جریج ہے ، جریج کو اس بات کا پتہ بھی نہیں تھا ، اس نے اپنی عبادت گاہ کی بنیادوں میں پھاؤڑے چلنے کی آواز سنی ، تو لوگوں سے دریافت کیا : تمہارا ستیاناس ہو ! تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، جب اس نے یہ بات دیکھی ، تو اس نے رسی پکڑی اور اسے لٹکا دیا ، تو وہ لوگ اس کی ناک کو پکڑ کر کھینچنے لگے اور اسے مارنے لگے اور کہنے لگے : اے شخص ! تم اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو ؟ اس نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ، تمہیں کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : بستی کے مالک کی بیٹی جو بادشاہ کی بیٹی ہے ، جسے تم نے حاملہ کیا ہے ، اس نے کہا : میں نے تو ایسا نہیں کیا ہے ، انہوں نے کہا : اس نے ایک بچے کو بھی جنم دیدیا ہے ، جریج نے دریافت کیا : کیا وہ بچہ زندہ ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! جریج نے کہا : ابھی تم لوگ مجھے چھوڑو ! پھر وہ مڑ کر واپس گیا ، اس نے دو رکعات ادا کیں ، پھر وہ اس درخت کے پاس آیا ، اس نے اس درخت میں سے ایک ٹہنی لی ، پھر وہ اس بچے کے پاس آیا ، وہ بچہ اس وقت پنگھوڑے میں موجود تھا ، جریج نے وہ ٹہنی اس بچے کو ماری اور بولا : اے سرکشی کرنے والے ! تمہارا باپ کون ہے ؟ اس بچے نے جواب دیا : میرا باپ فلاں چرواہا ہے ، لوگوں نے ( جریج سے کہا : ) اگر تم چاہو ، تو ہم تمہارا عبادت خانہ سونے کا بنوا دیتے ہیں اور اگر چاہو ، تو چاندی کا بنوا دیتے ہیں ؟ تو جریج نے کہا : اسے اُس طرح دوبارہ بنا دو ، جیسے یہ پہلے تھا ۔‘‘ ابوحرب نامی راوی بیان کرتے ہیں : پنگھوڑے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے ، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ، حضرت یوسف علیہ السلام کے گواہ نے اور جریج سے متعلقہ لڑکے نے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن فضالہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ انہوں نے معجم کبیر میں عمدہ سند کے ساتھ مالک بن عمرو قشیری کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

13420

Majma al-Zawaid #13420

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ، كَانَ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَتِهِ، فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَادَتْهُ فَقَالَتْ: أَيْ جُرَيْجُ [أَيْ بُنَيَّ]، أَشْرِفْ عَلَيَّ أُكَلِّمْكَ، أَنَا أُمُّكَ، أَشْرِفْ [عَلَيَّ]. فَقَالَ: أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي؟ فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، ثُمَّ عَادَتْ فَنَادَتْهُ [مِرَارًا] فَقَالَتْ: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ بُنَيَّ، أَشْرِفْ عَلَيَّ. فَقَالَ: أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي؟ فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَةَ. وَكَانَتْ رَاعِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِهَا، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى ظِلِّ صَوْمَعَتِهِ، فَأَصَابَتْ فَاحِشَةً، فَحَمَلَتْ فَأُخِذَتْ، وَكَانَ مَنْ زَنَى مِنْهُمْ قُتِلَ، قَالُوا: مِمَّنْ؟ قَالَتْ: مِنْ جُرَيْجٍ صَاحِبِ الصَّوْمَعَةِ. فَجَاؤُوا بِالْفُئُوسِ وَالْمُرُورِ، فَقَالُوا: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ مُرَاءٍ [ثُمَّ قَالُوا]، انْزِلْ. فَأَبَى، يُقْبِلُ عَلَى صَلَاتِهِ يُصَلِّي. فَأَخَذُوا فِي هَدْمِ صَوْمَعَتِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ، فَجَعَلُوا فِي عُنُقِهِ وَعُنُقِهَا حَبْلًا، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِمَا فِي النَّاسِ، فَجَعَلَ إِصْبَعَهُ فِي بَطْنِهَا فَقَالَ: أَيْ فُلَانُ، مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: أَبِي فُلَانٌ رَاعِي الضَّأْنِ. فَقَبَّلُوهُ وَقَالُوا: إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ. قَالَ: أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that among the Children of Israel was a man called Jurayj who worshipped in his hermitage when his mother came one day calling O Jurayj, O my son, look down to me that I may speak with you, while he debated O Lord, my mother or my prayer, and continued his prayer, and she returned calling repeatedly, until she prayed that Allah not cause him to die until He had shown him a prostitute. A shepherdess grazing her family's sheep would shelter in the shade of his cell, then committed immorality and became pregnant, and when seized — for among them one who committed adultery was executed — and asked by whom, she named Jurayj of the hermitage. They came with axes and picks bidding him, O hypocrite, descend, but he refused continuing in prayer, so they set about demolishing his cell, and when he saw that he descended, whereupon they bound his neck and hers with a rope and paraded them among the people. He then placed his finger upon her belly and demanded O so-and-so, who is your father, to which the infant answered that his father was such-and-such a shepherd of sheep. They kissed him and offered to rebuild his cell in gold and silver, but he bade them restore it in clay as it had been: > **"O Lord, my mother or my prayer? O so-and-so, who is your father? Restore it in clay as it was."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بنی اسرئیل میں ایک شخص تھا ، جس کا نام جریج تھا ، وہ اپنے عبادت خانے میں عبادت کیا کرتا تھا ، ایک دن اس کی ماں اس کے پاس آئی ، اس کی ماں نے بلند آواز میں اسے پکارا اور کہا : اے جریج ! اے میرے بیٹے ! تم میری طرف جھانک کر دیکھو ، تاکہ میں تمہارے ساتھ بات چیت کروں ، میں تمہاری ماں ہوں ، تم میری طرف جھانک کر دیکھو ! جریج نے سوچا : اے میرے پروردگار ! ایک طرف میری ماں ہے ، اور ایک طرف میری نماز ہے ، پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا ، اس کی ماں نے پھر اسے کئی مرتبہ پکارا ، وہ عورت یہی کہتی رہی : اے جریج ! اے میرے بیٹے ! میری طرف جھانک کر دیکھو ، تو وہ یہی سوچتا : اے میرے پروردگار ! ایک طرف میری ماں ہے ، اور ایک طرف میری نماز ہے ، تو وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا ، تو اس کی ماں نے کہا : اے اللہ ! تو اسے اُس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک فاحشہ عورت کی شکل اسے نہیں دکھا دیتا ، وہاں ایک بکریاں چرانے والی عورت تھی ، جو اپنے مالکان کی بکریاں چرایا کرتی تھی اور پھر اس کے عبادت خانے کے سائے میں آ جایا کرتی تھی ، اس نے گناہ کا ارتکاب کیا ، وہ حاملہ ہو گی ، پھر وہ پکڑی گی ، جس شخص نے زنا کیا تھا وہ مارا گیا ، لوگوں نے دریافت کیا : یہ بچہ کس کا ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : اس عبادت خانے والے شخص جریج کا ہے ، تو لوگ اپنے پھاؤڑے وغیرہ لے آئے اور بولے : اے جریج ! اے دھوکے باز شخص ! پھر ان لوگوں نے کہا : تم نیچے آؤ ! لیکن جریج نیچے نہیں آیا ، وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا اور نماز پڑھتا رہا ، لوگوں نے اس کے عبادت خانے کو منہدم کرنا شروع کر دیا ، جب اس نے یہ بات دیکھی تو وہ نیچے آیا ، لوگوں نے اس کی گردن میں ، اور اس عورت کی گردن میں رسی ڈال دی اور ان دونوں کو لوگوں میں چکر لگوایا ، تو جریج نے اپنی انگلیاں اس بچے کے پیٹ پر رکھیں اور بولا : اے فلاں ! تمہارا باپ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرا باپ فلاں شخص ہے ، جو بھیڑوں کا چرواہا ہے ، تو لوگ جریج کو چومنے لگے اور بولے : اگر تم چاہو ، تو ہم تمہارا عبادت خانہ سونے اور چاندی کا بنا دیتے ہیں ، تو اس نے کہا : اسے دوبارہ مٹی کا بنا دو ! جس طرح یہ پہلے تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13421

Majma al-Zawaid #13421

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرًا، وَكَانَ يَنْقُصُ مَرَّةً وَيَزِيدُ أُخْرَى فَقَالَ: مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ لَأَلْتَمِسُ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ. فَبَنَى صَوْمَعَةً وَتَرَهَّبَ فِيهَا». قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ. أَيْ نَحْوَ حَدِيثِ الصَّحِيحِ فِي قِصَّةِ جُرَيْجٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that there was a trader among the Children of Israel who would sometimes lose and sometimes gain, until he declared there was no good in this trade and he would seek a trade better than it, so he built a hermitage and devoted himself therein, after which the narrator related the like of the well-known account of Jurayj: > **"There is no good in this trade; I shall seek a trade better than it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بنی اسرائیل میں ایک تاجر شخص تھا ، کبھی اس کے مال میں کمی ہو جاتی تھی کبھی اضافہ ہو جاتا تھا ، اس نے کہا : اس تجارت میں بھلائی نہیں ہے ، مجھے ایسی تجارت تلاش کرنی چاہیے جو اس سے زیادہ بہتر ہو ، تو اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اور اس میں رہبانیت کی زندگی اختیار کرتے ہوئے رہنے لگا .......‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے یعنی وہ حدیث جو اس حدیث کی مانند ہے جو جریج کے واقعہ کے بارے میں ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

13422

Majma al-Zawaid #13422

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «سَمَّاهُمُ اللَّهُ الْأَبْرَارَ لِأَنَّهُمْ بَرُّوا الْآبَاءَ وَالْأُمَّهَاتِ وَالْأَبْنَاءَ، كَمَا أَنَّ لِوَالِدَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا كَذَلِكَ لِوَلَدِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Allah named them the dutiful because they were dutiful to fathers, mothers, and children; just as your parents have a right over you, so too does your child have a right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کا نام ’’ نیک لوگ ‘‘ اس لئے رکھا ہے ، کیونکہ وہ اپنے آباؤ اجداد ، اپنی ماؤں اور بیٹوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں ، جس طرح تمہارے ماں باپ کا تم پر حق ہے ، اُسی طرح تمہاری اولاد کا بھی تم پر حق ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصافی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13423

Majma al-Zawaid #13423

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ حَجَّ عَنْ وَالِدَيْهِ أَوْ قَضَى عَنْهُمَا مَغْرَمًا بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الْأَبْرَارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَبَلَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever performs Hajj on behalf of his parents or settles a debt for them, Allah will raise him on the Day of Resurrection among the dutiful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کر لے ، یا اُن کی طرف سے قرض ادا کر دے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے نیک لوگوں کے ساتھ اٹھائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جبلہ بن سلیمان ہے اور وہ متروک ہے ۔

13424

Majma al-Zawaid #13424

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَعِينُوا أَوْلَادَكُمْ عَلَى الْبِرِّ، مَنْ شَاءَ اسْتَخْرَجَ الْعُقُوقَ لِوَلَدِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Help your children toward dutifulness; whoever wishes may extract disobedience from his child."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ نیکی ( یا اچھے سلوک ) کے بارے میں اپنی اولاد کی مدد کرو ، جو شخص چاہے ، وہ اپنی اولاد کے لئے نافرمان ہونا نکلوا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13425

Majma al-Zawaid #13425

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ بَرَّ قَسَمَهُمَا وَقَضَى دَيْنَهُمَا وَلَمْ يَسْتَسِبَّ لَهُمَا، كُتِبَ بَارًّا وَإِنْ كَانَ عَاقًّا فِي حَيَاتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَبَرَّ قَسَمَهُمَا وَيَقْضِي دَيْنَهُمَا وَاسْتَسَبَّ لَهُمَا، كُتِبَ عَاقًّا وَإِنْ كَانَ بَارًّا فِي حَيَاتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Samurah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever fulfills their oaths, settles their debts, and does not cause them to be reviled shall be recorded as dutiful even if he was disobedient in their lifetime, and whoever does not fulfill their oaths, nor settle their debts, and causes them to be reviled shall be recorded as disobedient even if he was dutiful in their lifetime."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ان دونوں ( یعنی ماں باپ ) کی قسم کو پورا کرواتا ہے ، اُن دونوں کے قرض کو ادا کرتا ہے اور ان دونوں کو برا کہے جانے کا سبب نہیں بنتا ہے ، اسے نیکوکار نوٹ کیا جاتا ہے ، اگرچہ وہ ( شخص ) اُن ( ماں باپ ) کی زندگی میں نافرمان ہی رہا ہو اور جو شخص اُن کی قسم پوری نہیں کرواتا ، ان کا قرض ادا نہیں کرتا ، ان دونوں کو برا کہے جانے کا سبب بنتا ہے ، اُسے ( ماں باپ کا ) نافرمان نوٹ کیا جاتا ہے ، اگرچہ وہ ان کی زندگی میں ان کا فرمانبردار رہا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

13426

Majma al-Zawaid #13426

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصِلَ صَدِيقَ أَبِيكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Part of dutifulness is that you maintain ties with your father's friend."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نیکی میں یہ بات شامل ہے کہ تم اپنے باپ کے دوست کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن قرشی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13427

Majma al-Zawaid #13427

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «احْفَظْ وُدَّ أَبِيكَ لَا تَقْطَعْهُ، فَيُطْفِئَ اللَّهُ نُورَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Preserve your father's affection, do not sever it, lest Allah extinguish your light."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم اپنے باپ کی دوستی کی حفاظت کرو ! تم اُسے منقطع نہ کرو ، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے نور کو بجھا دے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

13428

Majma al-Zawaid #13428

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا بَرَّ أَبَاهُ مَنْ سَدَّدَ إِلَيْهِ الطَّرْفَ بِالْغَضَبِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"He has not been dutiful to his father who fixes his gaze upon him in anger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص نے اپنے باپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ، جس نے غصے کے ساتھ اُس ( یعنی باپ ) کی طرف دیکھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے اور وہ متروک ہے ۔