وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ [أَبِي] مَرْيَمَ الْحَنَفِيِّ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا قَاعِدٌ مَعَ أَبِي بَكْرَةَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا تَعْرِفُنِي؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرَةَ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: تَعْلَمُ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى الرَّدْمَ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرَةَ: أَنْتَ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: اجْلِسْ حَدِّثْنَا. قَالَ: انْطَلَقْتُ، حَتَّى انْطَلَقْتُ إِلَى أَرْضٍ لَيْسَ لِأَهْلِهَا إِلَّا الْحَدِيدُ يَعْمَلُونَهُ، فَدَخَلْتُ بَيْتًا فَاسْتَلْقَيْتُ فِيهِ عَلَى ظَهْرِي، وَجَعَلْتُ رِجْلِي عَلَى جِدَارِهِ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، سَمِعْتُ صَوْتًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهُ، فَرُعِبْتُ، فَقَالَ لِي رَبُّ الْبَيْتِ: لَا تَذْعَرَنْ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَضُرُّكَ، هَذَا صَوْتُ قَوْمٍ يَنْصَرِفُونَ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ عِنْدِ هَذَا السَّدِّ. قَالَ: فَيَسُرُّكَ أَنْ تَرَاهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا لَبِنُهُ مِنْ حَدِيدٍ، كُلُّ وَاحِدَةٍ مِثْلُ الصَّخْرَةِ، وَإِذَا كَأَنَّهُ الْبُرُدُ الْمُحَبَّرَةُ، وَإِذَا مَسَامِيرُ مِثْلَ الْجُذُوعِ. فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "" صِفْهُ لِي "". فَقُلْتُ: كَأَنَّهُ الْبُرُدُ الْمُحَبَّرَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ قَدْ أَتَى الرَّدْمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا "". قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: صَدَقَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، تَرَكَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُغْرِبُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
EnglishUnverified translation
Yusuf ibn Abi Maryam al-Hanafi reports that while sitting with Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, a man came, greeted him, and asked whether he recognized him as the one who had informed the Prophet ﷺ that he had seen the barrier. Abu Bakrah confirmed his identity, invited him to sit, and asked him to narrate. The man described traveling to a land whose people worked only in iron, resting in a house with his foot upon its wall, hearing at sunset an unprecedented sound that frightened him, being reassured by the master of the house that it was the people returning from the barrier and would not harm him, being asked whether he wished to see it, going forth in the morning to behold bricks of iron each like a rock, resembling patterned cloaks, with nails like tree trunks, then informing the Messenger of Allah ﷺ, who asked for its description and identified him as one who had reached the barrier, which Abu Bakrah affirmed as truthful. > **"Describe it to me. Whoever wishes to look at a man who has reached the barrier, let him look at this man."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
یوسف بن ابومریم حنفی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، اس نے انہیں سلام کیا اور بولا : کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں ہے ؟ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا : آپ اس شخص کو جانتے ہیں ، جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، اور اس نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بتایا تھا : اس نے ( یاجوج ماجوج ) والی دیوار دیکھی ہوئی ہے ، تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم وہ شخص ہو ، اس نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بیٹھو اور ہمیں بھی بیان کرو ، اس نے بتایا : ایک مرتبہ میں گیا اور ایک ایسی سرزمین پر پہنچ گیا ، جہاں کے رہنے والے لوگ صرف لوہے کا کام کرتے تھے ، میں ایک گھر میں داخل ہوا اور وہاں چت لیٹ گیا ، میں نے اپنا ایک پاؤں دیوار پر رکھا ، جب سورج غروب ہونے کا وقت ہوا تو میں نے ایک آواز سنی ، میں نے اس طرح کی آواز نہیں سنی تھی ، میں پریشانی کا شکار ہو گیا ، گھر کے مالک نے مجھ سے کہا : تم پریشان نہ ہو کیونکہ یہ چیز تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی ، یہ یاجوج ماجوج کی آواز ہے ، وہ اس وقت اس رکاوٹ سے واپس جاتے ہیں ، پھر اس نے دریافت کیا : کیا تم اس دیوار کو دیکھنا چاہتے ہو ، میں نے کہا : جی ہاں ، وہ شخص کہتا ہے : پھر میں اس دیوار کی طرف گیا تو اس کی اینٹیں لوہے کی بنی ہوئی تھیں ، ان میں سے ہر ایک اینٹ چٹان کی مانند تھی اور وہ یوں لگتا تھا ، جیسے وہ نقش و نگار والی چادریں ہوں ، اور اُن کے کیل کجھور کے درختوں کی مانند تھے ، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ، تو میں نے عرض کی : وہ محبرہ چادروں کی مانند تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کسی ایسے شخص کو دیکھے ، جو اس دیوار تک پہنچا ہے ، اُسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہئے ، تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے ٹھیک کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عمرو بن مالک کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابوزرعہ اور ابوحاتم نے متروک قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور غریب روایات نقل کرتا ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔