Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 20

Book of Good Manners

Hadith 13370–13388

19 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13370

Majma al-Zawaid #13370

وَفِي رِوَايَةٍ «: "" سَبِّحُوا الْمَلِكَ الْقُدُّوسَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

In another version of the narration concerning the celestial rooster, the proclamation is conveyed in abbreviated wording commanding glorification of the Sovereign, the Most Holy. > **"Glorify the Sovereign, the Most Holy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تم بادشاہ اور پاک ذات کی پاکی بیان کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ ثقہ اور مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13371

Majma al-Zawaid #13371

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ذِكْرُهُ أَذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ دِيكٍ قَدْ مَرَقَتْ رَجْلَاهُ الْأَرْضَ، وَعُنُقُهُ مُنْثَنٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، وَهُوَ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَكَ رَبَّنَا. فَيَرُدُّ عَلَيْهِ: مَا عَلِمَ ذَلِكَ مَنْ حَلَفَ بِي كَاذِبًا ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ سُهَيْلٍ الْأَعْرَجَ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that permission was granted to him to inform of a rooster whose feet have pierced the earth while its neck is bent beneath the Throne, declaring the perfection and greatness of its Lord, to which its Lord responds concerning those who swear falsely by Him. > **"Glory be to You, how great You are, our Lord. He who swears falsely by Me has not known that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی کہ میں تمہیں اس مرغ کے بارے میں بتاؤں ، جس کے پاؤں زمین پر ہیں ، اور اس کی گردن عرش کے نیچے جھکی ہوئی ہے ، اور وہ یہ کہہ رہا ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے اے ہمارے پروردگار تو کتنا عظمت والا ہے ، تو پروردگار اسے جواب دیتا ہے : یہ بات وہ نہیں جانتا جو میرے نام کی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن عباس بن فضل بن سہیل اعرج کا معاملہ مختلف ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

13372

Majma al-Zawaid #13372

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دِيكًا تَحْتَ الْعَرْشِ، جَنَاحُهُ فِي الْهَوَاءِ، وَبَرَاثِنُهُ فِي الْأَرْضِ، فَإِذَا كَانَ فِي الْأَسْحَارِ وَأَذَانُ الصَّلَوَاتِ خَفَقَ بِجَنَاحِهِ، وَصَفَّقَ بِالتَّسْبِيحِ، فَيُسَبِّحُ الدِّيَكَةُ، فَتُجِيبُهُ بِالتَّسْبِيحِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ حَسُنَ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Safwan ibn Assal, may Allah be pleased with him, states that Allah has a rooster beneath the Throne whose wing is in the air and whose talons are in the earth. When the time of predawn and the calls to prayer arrive, it flaps its wings and joins in glorification, whereupon the roosters of the world glorify and answer it with glorification.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے عرش کے نیچے ایک مرغ پیدا کیا ہے ، جس کے پر ہوا میں ہیں ، اس کے پنجے زمین میں ہیں ، جب سحری کا وقت ہوتا ہے یا نماز کے لئے اذان کا وقت ہوتا ہے ، تو وہ اپنے پر ہلاتا ہے ، اور تسبیح بیان کرتا ہے ، تو ( دنیا کے ) مرغ بھی تسبیح بیان کرتے ہوئے تسبیح کے ذریعے اسے جواب دیتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔

13373

Majma al-Zawaid #13373

وَعَنْ صَبَاحِ بْنِ أَشْرَسَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْمَدِّ وَالْجَزْرِ فَقَالَ: إِنَّ مَلَكًا مُوَكَّلًا بِقَامُوسِ الْبَحْرِ، فَإِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فَاضَتْ، وَإِذَا رَفَعَهَا غَاضَتْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Sabah ibn Ashras reports that Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, was asked about the rising and receding of the tide and explained that an angel is entrusted with the depths of the sea, so that when he places his foot the water surges, and when he lifts it the water recedes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صباح بن اشرس بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مدوجزر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : ایک فرشتہ ہے جو سمندر کے درمیانی حصے پر مقرر ہے ، جب وہ اپنا پاؤں رکھتا ہے ، تو طغیانی آ جاتی ہے ، اور جب وہ اسے اٹھاتا ہے ، تو اس میں کمی آ جاتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13374

Majma al-Zawaid #13374

وَعَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى أَنَّ مَرْيَمَ فَقَدَتْ عِيسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - فَدَارَتْ تَطْلُبُهُ، فَلَقِيَتْ حَائِكًا فَلَمْ يُرْشِدْهَا، فَدَعَتْ عَلَيْهِ فَلَا تَزَالُ تَرَاهُ تَائِهًا، فَلَقِيَتْ خَيَّاطًا فَأَرْشَدَهَا، فَهُمْ يُؤْنَسُ إِلَيْهِمْ. أَيْ: يُجْلَسُ إِلَيْهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْهُ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Musa ibn Abi Isa reports that Maryam, peace be upon her, once missed Isa, peace be upon them both, and went searching for him. She met a weaver who did not guide her, so she supplicated against him, and such a person remains ever bewildered. She then met a tailor who guided her, and therefore companionship is found with such people and sitting with them is pleasant.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

موسیٰ بن ابوعیسیٰ بیان کرتے ہیں : سیدہ مریم علیہا السلام نے ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو غیر موجود پایا ، تو وہ ان کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئیں ، ان کی ملاقات ایک جولاہے سے ہوئی ، اس نے ان کی رہنمائی نہیں کی ، تو انہوں نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو تم ہمیشہ ایسے شخص کو حیران و پریشان دیکھو گے ، پھر ان کی ملاقات ایک درزی سے ہوئی ، اس نے ان کی رہنمائی کی ، یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں سے انسیت محسوس ہوتی ہے ، یعنی ان کے ساتھ بیٹھا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ابن عیینہ کے حوالے سے ان سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ثقہ ہیں ۔

13375

Majma al-Zawaid #13375

وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ [أَبِي] مَرْيَمَ الْحَنَفِيِّ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا قَاعِدٌ مَعَ أَبِي بَكْرَةَ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا تَعْرِفُنِي؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرَةَ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: تَعْلَمُ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى الرَّدْمَ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرَةَ: أَنْتَ هُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: اجْلِسْ حَدِّثْنَا. قَالَ: انْطَلَقْتُ، حَتَّى انْطَلَقْتُ إِلَى أَرْضٍ لَيْسَ لِأَهْلِهَا إِلَّا الْحَدِيدُ يَعْمَلُونَهُ، فَدَخَلْتُ بَيْتًا فَاسْتَلْقَيْتُ فِيهِ عَلَى ظَهْرِي، وَجَعَلْتُ رِجْلِي عَلَى جِدَارِهِ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، سَمِعْتُ صَوْتًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهُ، فَرُعِبْتُ، فَقَالَ لِي رَبُّ الْبَيْتِ: لَا تَذْعَرَنْ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَضُرُّكَ، هَذَا صَوْتُ قَوْمٍ يَنْصَرِفُونَ هَذِهِ السَّاعَةَ مِنْ عِنْدِ هَذَا السَّدِّ. قَالَ: فَيَسُرُّكَ أَنْ تَرَاهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا لَبِنُهُ مِنْ حَدِيدٍ، كُلُّ وَاحِدَةٍ مِثْلُ الصَّخْرَةِ، وَإِذَا كَأَنَّهُ الْبُرُدُ الْمُحَبَّرَةُ، وَإِذَا مَسَامِيرُ مِثْلَ الْجُذُوعِ. فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "" صِفْهُ لِي "". فَقُلْتُ: كَأَنَّهُ الْبُرُدُ الْمُحَبَّرَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ قَدْ أَتَى الرَّدْمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا "". قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: صَدَقَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، تَرَكَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُغْرِبُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Yusuf ibn Abi Maryam al-Hanafi reports that while sitting with Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, a man came, greeted him, and asked whether he recognized him as the one who had informed the Prophet ﷺ that he had seen the barrier. Abu Bakrah confirmed his identity, invited him to sit, and asked him to narrate. The man described traveling to a land whose people worked only in iron, resting in a house with his foot upon its wall, hearing at sunset an unprecedented sound that frightened him, being reassured by the master of the house that it was the people returning from the barrier and would not harm him, being asked whether he wished to see it, going forth in the morning to behold bricks of iron each like a rock, resembling patterned cloaks, with nails like tree trunks, then informing the Messenger of Allah ﷺ, who asked for its description and identified him as one who had reached the barrier, which Abu Bakrah affirmed as truthful. > **"Describe it to me. Whoever wishes to look at a man who has reached the barrier, let him look at this man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن ابومریم حنفی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، اس نے انہیں سلام کیا اور بولا : کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں ہے ؟ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا : آپ اس شخص کو جانتے ہیں ، جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، اور اس نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بتایا تھا : اس نے ( یاجوج ماجوج ) والی دیوار دیکھی ہوئی ہے ، تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : تم وہ شخص ہو ، اس نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم بیٹھو اور ہمیں بھی بیان کرو ، اس نے بتایا : ایک مرتبہ میں گیا اور ایک ایسی سرزمین پر پہنچ گیا ، جہاں کے رہنے والے لوگ صرف لوہے کا کام کرتے تھے ، میں ایک گھر میں داخل ہوا اور وہاں چت لیٹ گیا ، میں نے اپنا ایک پاؤں دیوار پر رکھا ، جب سورج غروب ہونے کا وقت ہوا تو میں نے ایک آواز سنی ، میں نے اس طرح کی آواز نہیں سنی تھی ، میں پریشانی کا شکار ہو گیا ، گھر کے مالک نے مجھ سے کہا : تم پریشان نہ ہو کیونکہ یہ چیز تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی ، یہ یاجوج ماجوج کی آواز ہے ، وہ اس وقت اس رکاوٹ سے واپس جاتے ہیں ، پھر اس نے دریافت کیا : کیا تم اس دیوار کو دیکھنا چاہتے ہو ، میں نے کہا : جی ہاں ، وہ شخص کہتا ہے : پھر میں اس دیوار کی طرف گیا تو اس کی اینٹیں لوہے کی بنی ہوئی تھیں ، ان میں سے ہر ایک اینٹ چٹان کی مانند تھی اور وہ یوں لگتا تھا ، جیسے وہ نقش و نگار والی چادریں ہوں ، اور اُن کے کیل کجھور کے درختوں کی مانند تھے ، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو ، تو میں نے عرض کی : وہ محبرہ چادروں کی مانند تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کسی ایسے شخص کو دیکھے ، جو اس دیوار تک پہنچا ہے ، اُسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہئے ، تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے ٹھیک کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عمرو بن مالک کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابوزرعہ اور ابوحاتم نے متروک قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور غریب روایات نقل کرتا ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13376

Majma al-Zawaid #13376

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, states that the angels were created from light.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13377

Majma al-Zawaid #13377

وَعَنْهُ قَالَ: لَيْسَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَكْثَرُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، يَخْلُقُهُمْ مِثْلَ الذُّبَابِ، ثُمَّ يَقُولُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كُونُوا أَلْفًا أَلْفَيْنِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, states that no creation of Allah is more numerous than the angels, whom He creates like flies in multitude and then commands to become thousands upon thousands.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان سے یہ روایت منقول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی بھی مخلوق ، فرشتوں سے زیادہ نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں مکھیوں کی مانند ( کثیر تعداد میں ) پیدا کیا اور پھر پروردگار نے فرمایا : تم کئی ہزار ہو جاؤ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13378

Majma al-Zawaid #13378

وَعَنْ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَبَا مُحَمَّدٍ، مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: مِنْ مَاءٍ وَرِيحٍ وَنُورٍ وَظُلْمَةٍ. فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُ [عَنْ ذَلِكَ]، فَقَالَ فِيهَا كَمَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَمُسْلِمٌ الْهَجَرِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muslim al-Hajari reports that he asked Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, O Abu Muhammad, from what creation was created, and he replied from water, wind, light, and darkness. He then went to Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, asked the same matter, and received the same answer as that given by Abdullah ibn Amr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسلم ہجری بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا : اے ابومحمد ! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا : پانی ، ہوا ، نور اور ظلمت سے ، پھر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے اس کے بارے میں وہی بات بیان کی جو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمائی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور مسلم ہجری نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13379

Majma al-Zawaid #13379

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِمَّنْ كَانَ فِيكُمْ، لَيَأْتِي عَلَيْهِ ثَمَانُونَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَحْتَلِمَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُغْرِبُ، وَتَرَكَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, states that among those who preceded, a man could reach eighty years of age before attaining puberty.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تم سے پہلے جو لوگ ہوا کرتے تھے ، اگر ان میں سے کوئی تمہارے درمیان آ جائے ، تو وہ بالغ ہونے سے پہلے اَسّی سال کا ہو چکا ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمرو بن مالک کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اور غریب روایات نقل کرتا ہے ۔ ابوزرعہ اور ابوحاتم نے اسے متروک قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13380

Majma al-Zawaid #13380

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَلَقَ رِيحًا وَأَسْكَنَهَا بَيْتًا وَأَغْلَقَ عَلَيْهَا بَابًا، فَلَوْ فَتَحَ ذَلِكَ الْبَابَ لَأَذْرَتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَمَا يَأْتِيكُمْ فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمْ مِنْ خَلَلِ ذَلِكَ الْبَابِ، وَأَنْتُمْ تُسَمُّونَهَا الْجَنُوبَ، وَهِيَ عِنْدَ اللَّهِ الْأَذِيبَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ جَعْدَةَ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described how Allah created wind, lodged it in a chamber, and closed a door upon it, such that were the door opened it would sweep away all between heaven and earth, and what reaches people comes only through the crevice of that door, called by people the south wind and with Allah known as al-Adhyab. > **"Allah, blessed and exalted is He, created a wind, lodged it in a chamber, and closed a door upon it. Were that door opened, it would carry away all between the heaven and the earth. What comes to you comes only through the opening of that door. You call it the south wind, and with Allah it is al-Adhyab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہوا کو پیدا کیا اور اسے ایک گھر میں ٹھہرایا اور اس کا دروازہ بند کر دیا ، اگر اس دروازے کو کھول دیا جائے ، تو وہ ( یعنی ہوا ) آسمان اور زمین میں موجود ہر چیز کو اڑا دے ، وہ تمہارے پاس ( مکمل طور پر ) نہیں آتی ہے ۔ وہ تمہارے پاس صرف دروازے کی جھری میں سے آتی ہے ، اور تم لوگ اسے ’’ جنوب ‘‘ کا نام دیتے ہو ، اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ’’ اذیب “ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض بن جعدہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13381

Majma al-Zawaid #13381

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ قَدْ مَرَقَتْ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ السَّابِعَةَ، وَالْعَرْشُ عَلَى مَنْكِبِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ أَيْنَ كُنْتَ وَأَيْنَ تَكُونُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي الْإِيمَانِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that permission was granted to him to inform of an angel whose feet have pierced the seventh earth while the Throne rests upon his shoulder, declaring the perfection of Allah and questioning where He was and where He shall be. > **"Glory be to You, where were You and where shall You be."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں ایک ایسے فرشتے کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں ساتویں زمین میں ہیں ، اور عرش اس کے کندھے پر ہے ، اور وہ یہ کہتا ہے : تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو کہاں تھا اور تو کہاں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الایمان میں گزر چکی ہیں ۔

13382

Majma al-Zawaid #13382

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْمَجَرَّةُ الَّتِي فِي السَّمَاءِ هِيَ عِرْقُ حَيَّةٍ تَحْتَ الْعَرْشِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that the luminous band in the sky is the vein of a serpent beneath the Throne. > **"The Milky Way in the heaven is the vein of a serpent beneath the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وہ انگیٹھی جو آسمان میں ہے ۔ وہ عرش کے نیچے موجود ایک سانپ کا پسینہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ یہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابوعمرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13383

Majma al-Zawaid #13383

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا مُعَاذُ إِنِّي مُرْسِلُكَ إِلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، فَإِذَا سُئِلْتَ عَنِ الْمَجَرَّةِ الَّتِي فِي السَّمَاءِ، فَقُلْ: هِيَ لُعَابُ حَيَّةٍ تَحْتَ الْعَرْشِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed Muadh, informing him that he was sending him to a people of the Scripture, and instructing him how to answer when asked about the luminous band in the heaven, identifying it as the saliva of a serpent beneath the Throne. > **"O Muadh, I am sending you to a people of the Scripture. When you are asked about the Milky Way in the heaven, say: it is the saliva of a serpent beneath the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ! میں تمہیں اہل کتاب سے تعلق رکھنے والی قوم کی طرف بھیجنے لگا ہوں ، جب تم سے اس انگیٹھی کے بارے میں دریافت کیا جائے جو آسمان میں ہے ، تو تم یہ کہنا : یہ عرش کے نیچے موجود ایک سانپ کا لعاب ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13384

Majma al-Zawaid #13384

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: إِنَّ الْعَرْشَ مُطَوَّقٌ بِحَيَّةٍ، وَإِنَّ الْوَحْيَ لِيَنْزِلُ فِي السَّلَاسِلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ كَثِيرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, states that the Throne is encircled by a serpent and that revelation descends in chains.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرش کو ایک سانپ کے ذریعے طوق پہنایا گیا ہے اور ’’ وحی ‘‘ بیڑیوں میں نازل ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف کثیر بن ابوکثیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13385

Majma al-Zawaid #13385

وَعَنْهُ قَالَ: رُبُعُ مَنْ لَا يَلْبَسُونَ الثِّيَابَ مِنَ السُّودَانِ أَكْثَرَ مِنْ جَمِيعِ النَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, states that a quarter of those among the dark peoples who do not wear garments outnumber all other people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو سیام فام لوگ لباس نہیں پہنتے ہیں ، ان کا چوتھا حصہ تمام لوگوں سے زیادہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن احمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔

13386

Majma al-Zawaid #13386

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْجِنُّ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ: صِنْفٌ لَهُمْ أَجْنِحَةٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ، وَصِنْفٌ حَيَّاتٌ، وَصِنْفٌ يَحُلُّونَ وَيَظْعَنُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Thalabah al-Khushani, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the jinn as being of three types: a type with wings flying in the air, a type in the form of serpents, and a type that alights and departs. > **"The jinn are of three kinds: a kind with wings flying in the air, a kind as serpents, and a kind that settle and travel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنات تین قسم کے ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک قسم وہ ہے جن کے پر ہوتے ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں ، ان میں سے ایک قسم سانپوں کی شکل میں ہوتی ہے ، اور ایک قسم وہ ہے جو کبھی اتر کر مقیم ہو جاتے ہیں اور کبھی رخصت ہو جاتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

13387

Majma al-Zawaid #13387

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عُمْرُ الذُّبَابِ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً، وَالذُّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي هَذَا الْمَعْنَى أَحَادِيثُ فِيمَا نُهِيَ عَنْ قَتْلِهِ فِي الصَّيْدِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke of the lifespan of the fly as forty nights and of all flies being in the Fire except the bee. > **"The lifespan of the fly is forty nights, and all flies shall be in the Fire except the bee."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مکھی کی عمر چالیس دن ہوتی ہے ، اور تمام مکھیاں جہنم میں جائیں گی ، صرف شہد کی مکھی کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس مفہوم کی احادیث اس باب میں گزر چکی ہیں کہ شکار میں سے جس ( جانور ) کو مارنے کی ممانعت ہے ۔

13388

Majma al-Zawaid #13388

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا سُمِّيَ الْإِنْسَانُ لِأَنَّهُ عُهِدَ إِلَيْهِ فَنَسِيَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عِصَامٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, states that man was called insan only because a covenant was entrusted to him and he forgot.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انسان کو انسان کا نام اس لئے دیا گیا تھا ، کیونکہ اس کے ساتھ عہد کیا گیا تھا ، اور پھر وہ ( اس عہد کو ) بھول گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی احمد بن عصام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔