Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 19

Book of Good Manners

Hadith 13330–13369

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13330

Majma al-Zawaid #13330

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ كَعْبٍ أَيْضًا أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ؟ قَالَ: "" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَلِسَانِهِ». فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ كُلُّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

In another narration, Kab رضي الله عنه also asked the Prophet ﷺ about what Allah had revealed concerning poetry. He replied that the believer strives with his self and his tongue, then the narrator mentioned the like of the previous report. > **"Indeed, the believer strives with his self and his tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : اللہ تعالیٰ نے شعر کے بارے میں جو حکم نازل کرنا تھا وہ نازل کر دیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک مومن اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعے جہاد کرتا ہے ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

13331

Majma al-Zawaid #13331

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ شَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "" قُولُوا لَهُمْ كَمَا يَقُولُونَ لَكُمْ "". قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُعَلِّمُهُ إِمَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ. وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ: قَالَ: «بَيْنَا رَجُلٌ يُنْشِدُ هِجَاءً لِمُعَاوِيَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَمَّارٌ يَسْمَعُهُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: الزَّقُّ بِالْعَجُوزَيْنِ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَيَقُولُ هَذَا؟ أَيَقُولُ هَذَا؟ وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: اجْلِسْ، فَاسْمَعْ أَوِ اذْهَبْ. ثُمَّ قَالَ عَمَّارٌ: إِنَّا لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ». فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِطُرُقٍ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ammar bin Yasir رضي الله عنه reports that when the polytheists lampooned them they complained to the Messenger of Allah ﷺ, who told them to answer them as they spoke to them. The narrator adds that he saw them teaching it to the slave girls of Madinah. In an addition, a man was reciting satire against Muawiyah and Amr bin al-As while Ammar listened, and Ammar told him to attach it to the two old women. A man objected in astonishment that Companions of the Messenger of Allah ﷺ would say such a thing, so Ammar told him to sit and listen or leave, then repeated the report of answering the polytheists as they spoke. > **"Say to them as they say to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب مشرکین نے ہماری ہجو کی ، تو ہم نے اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بھی ان کے بارے میں اسی طرح کہو ، جس طرح وہ تمہارے بارے میں کہتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم لوگ مدینہ منورہ کی کنیزوں کو ( مشرکین کی ہجویہ شاعری ) سکھایا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہجو کے بارے میں شعر سنا رہا تھا ، اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ اس کو سن رہے تھے ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ بوڑھی عورتوں کو سکھاؤ ! تو اس شخص نے ان سے کہا : سبحان اللہ ! کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، جبکہ آپ اللہ کے رسول ﷺ کے اصحاب ہیں ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تم بیٹھ جاؤ اور سنو ، یا چلے جاؤ ! پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب مشرکین ہماری ہجو کرتے تھے ........ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

13332

Majma al-Zawaid #13332

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَسَّانَ: "" اهْجُهُمْ - أَوْ هَاجِهِمْ - اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said to Hassan رضي الله عنه to lampoon them, or to answer their lampoon, and supplicated that Allah aid him with the Holy Spirit. > **"Lampoon them, O Allah aid him with the Holy Spirit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم ان کی ہجو کرو ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم ان کی ہجو کا جواب دو ! اے اللہ ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید فرما ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

13333

Majma al-Zawaid #13333

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُنْشِدُ وَيَقُولُ: أَلَا هَلْ أَتَى غَسَّانَ عَنَّا وَدُونَهُمْ ... مِنَ الْأَرْضِ حَرْقٌ حَوْلَهُ يُتَتَبَّعُ تُجَالِدُنَا عَنْ حَرَمِنَا كُلُّ فَحْمَةٍ ... كَرِدْفٍ لَهَا فِيهَا الْقَوَانِسُ تَلْمَعُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ "". فَقَالَ كَعْبٌ: تُجَالِدُنَا عَنْ دِينِنَا كُلَّ فَحْمَةٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ يَا كَعْبُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Kab bin Malik رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ passed by him while he was reciting his verses announcing to Ghassan across parched lands encircled by pursuit that every dark multitude contends with them for their sanctuary, with helmet crests gleaming like followers. The Prophet ﷺ objected to the wording, so Kab changed the line to contend with them for their religion, and the Prophet ﷺ approved him by name. > **"No, O Kab bin Malik. Yes, O Kab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور وہ اس وقت یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ’’ خبردار ! کیا انسان ( قبیلے کے لوگوں ) اور اس سے پہلے کی زمین ( کے لوگوں ) کو جلاے جانے کی اطلاع ملی ہے ، جس کے اردگرد اضطراب ہوتا ہے ، کیا تم ہماری حرمتوں کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو ، ہر ایک ٹکڑا یوں ہے جیسے اس کے پیچھے کوئی ہے ، جس کے خود کا اوپری حصہ چمک رہا ہے ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! اے کعب بن مالک ! تو حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : ( یعنی انہوں ایک مصرعہ کو تبدیل کر کے یہ پڑھا ) :” کیا تم ہمارے دین کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو ؟‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اے کعب ! یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

13334

Majma al-Zawaid #13334

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا أَجْتَازُ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ الْقَوْمُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ. فَظَنَنْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُونِي فَجِئْتُ قَالَ: "" اجْلِسْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، كَيْفَ تَقُولُ الشِّعْرَ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَقُولَ؟ "". قُلْتُ: أَنْظُرُ ثُمَّ أَقُولُ. قَالَ: "" عَلَيْكَ بِالْمُشْرِكِينَ "". وَلَمْ أَكُنْ أَعْدَدْتُ لِذَلِكَ شَيْئًا فَقُلْتُ: فَخَبِّرُونِي أَثْمَانَ الْعَبَاءِ مَتَى كُنْتُمْ ... مَطَارِيقَ أَوْ دَانَتْ لَكُمْ مُضَرُ فَنَظَرْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ جَعَلْتُ قَوْمَهُ أَثْمَانَ الْعَبَاءِ، فَنَظَرْتُ ثُمَّ قُلْتُ: يَا هَاشِمَ الْخَيْرِ إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَكُمْ ... عَلَى الْبَرِيَّةِ فَضْلًا مَا لَهُ غَيْرُ إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ أَعْرِفُهُ ... فِرَاسَةً خَالَفَتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا وَلَوْ سَأَلْتَ أَوِ اسْتَنْصَرْتَ بَعْضَهُمُ ... فِي جُلِّ أَمْرِكَ مَا آوَوْا وَلَا نَصَرُوا فَثَبَّتَ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ ... تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا قَالَ: "" وَأَنْتَ فَثَبَّتَكَ اللَّهُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُدْرِكَ بْنَ عُمَارَةٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ رَوَاحَةَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Rawahah رضي الله عنه reports that while he was passing through the mosque with the Messenger of Allah ﷺ among some of his Companions, the people called him, and thinking the Messenger of Allah ﷺ was calling him, he came forward. The Prophet ﷺ told him to sit and asked how he composed poetry when he wished to compose. He replied that he reflected then spoke, and the Prophet ﷺ directed him against the polytheists. Having prepared nothing, he first improvised a verse disparaging the tribe as the price of cloaks and as mallets subdued by Mudar. Seeing displeasure on the face of the Messenger of Allah ﷺ for making his people the price of cloaks, he reflected and composed verses praising Hashim the bringer of good for the favor Allah bestowed upon them over creation, affirming his insight into their good contrary to what others saw, and that if they sought aid from others in grave matters they would find neither shelter nor help, asking Allah to make firm what good He had given them as Musa was made firm and with a victory like that granted to the victorious. The Prophet ﷺ then supplicated for his steadfastness. > **"You must take on the polytheists. And you too, may Allah make you steadfast, O Ibn Rawahah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں مسجد میں سے گزرا ، نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، اسی دوران حاضرین میں سے کسی نے کہا : اے عبداللہ بن رواحہ ! مجھے یوں لگا کہ جیسے نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا ہے ، میں آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عبداللہ بن رواحہ بیٹھ جاؤ ، جب تم شعر کہنے لگتے ہو ، تو کیسے شعر کہتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں پہلے جائزہ لیتا ہوں پھر کہتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے مشرکین کے خلاف شعر کہنے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی ، تو میں نے یہ اشعار کہے : ’’ اے عباء کی قیمت والو ( یعنی سستے لوگو ! ) پہلے تم پیدل چلنے والے تھے ، یا مضر نے تمہیں قریب ( یا کمتر ) کر دیا ۔‘‘ مجھے نبی اکرم ﷺ کے چہرے سے ناگواریت محسوس ہوئی کہ میں نے آپ کی قوم کو ’’ عباء کی قیمت والو ( یعنی سستے لوگو ! ) ‘‘ قرار دیا ہے ، میں نے پھر سوچا اور پھر کہا : ’’ اے بھلائی والے ہاشم ! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو مخلوق پر فضیلت عطا کی ہے ، جو ایسی فضیلت ہے جو متغیر نہیں ہو گی ، میں آپ میں بھلائی جان گیا ہوں ، جو میں نے فراست کے ذریعے جانی ہے ، وہ لوگ جو دیکھتے ( یا سمجھتے ) ہیں اس کے بارے میں ، میں ان کے برخلاف رائے رکھتا ہوں ، اگر تم اپنے کسی اہم معاملے کے بارے میں ان میں سے کسی ایک سے ( تعاون کا ) پوچھو ، یا مدد مانگو ، تو وہ نہ پناہ دیں گے اور نہ مدد کریں گے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو اچھائی عطا کی ہے ، اس پر تمہیں اسی طرح ثابت رکھے جس طرح حضرت موسیٰ کو ثابت رکھا ، اور وہ ایسی مدد کرے جس طرح ان لوگوں کی مدد کی گئی ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابن رواحہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں ثابت رکھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مدرک بن عمارہ نامی راوی نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

13335

Majma al-Zawaid #13335

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: «مَرَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ بِمَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهُمْ مِنْ شِعْرِهِ، وَهُمْ غَيْرُ نُشَّاطٍ لِمَا يَسْمَعُونَ مِنْهُ، فَجَلَسَ الزُّبَيْرُ مَعَهُمْ وَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ غَيْرَ أَذِنِينَ لِمَا تَسْمَعُونَ مِنْ شِعْرِ ابْنِ الْفُرَيْعَةِ؟ فَلَقَدْ كَانَ يَعْرِضُ بِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُحْسِنُ اسْتِمَاعَهُ، وَيُجْزِلُ عَلَيْهِ ثَوَابَهُ، وَلَا يَشْتَغِلُ عَنْهُ بِشَيْءٍ. فَقَالَ حَسَّانٌ: أَقَامَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ وَهَدْيِهِ ... حَوَارِيُّهُ وَالْقَوْلُ بِالْفِعْلِ يَعْدِلُ أَقَامَ عَلَى مِنْهَاجِهِ وَطَرِيقِهِ ... يُوَالِي وَلِيَّ الْحَقِّ وَالْحَقُّ أَعْدَلُ هُوَ الْفَارِسُ الْمَشْهُورُ وَالْبَطَلُ الَّذِي ... يَصُولُ إِذَا مَا كَانَ يَوْمًا مُحَجَّلُ إِذَا كَشَفَتْ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ حَشَّهَا ... بِأَبْيَضَ سَبَّاقٍ إِلَى الْمَوْتِ يَرْفُلُ وَإِنِ امْرَأً كَانَتْ صَفِيَّةُ ... أُمَّهُ وَمِنْ أَسَدٍ فِي بَيْتِهَا لَمُؤَمَّلُ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr رضي الله عنها reports that Zubayr bin al-Awwam رضي الله عنه passed by a council of the Companions of the Prophet ﷺ while Hassan bin Thabit رضي الله عنه was reciting his poetry to them and they were not eager for what they heard. Zubayr sat with them and asked why they were not listening attentively to the poetry of Ibn al-Furayiah, when it used to be presented to the Messenger of Allah ﷺ who would listen well, reward him generously for it, and not be distracted from it. Hassan then recited verses affirming the Disciple's adherence to the covenant and guidance of the Prophet, his following his path, his alliance with the party of truth, his fame as horseman and hero charging on the marked day, plunging with a white swift horse toward death when war bares its leg, and his noble birth from Safiyyah and Asad in a house of hope. > **"The Disciple remained upon the covenant of the Prophet and his guidance, and speech is measured by deed. He remained upon his path and way, allying with the ally of truth, and truth is most just."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کی محفل کے پاس سے گزرے ، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو اپنے اشعار سنا رہے تھے اور وہ لوگ جو شاعری سن رہے تھے ، اس میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے ، تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھ گئے اور بولے : کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تم ابن فریعہ کی شاعری کو دلچسپی سے نہیں سن رہے ہو حالانکہ جب یہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے اشعار پیش کرتے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ توجہ سے اسے سنا کرتے تھے اور اس کا ثواب انہیں بتایا کرتے تھے اور اس کو چھوڑ کر دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے ، تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ’’ نبی اکرم ﷺ کے ساتھی ( یعنی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ) آپ کے عہد میں آپ کے طور طریقوں پر برقرار رہے ، اور قول ، فعل کے برابر ( یا مطابق ) ہوتا ہے ، وہ ساتھی آپ کے منہج اور راستے پر برقرار رہے ، وہ حق کے ساتھ رہے ، اور حق سب سے زیادہ عدل والا ہوتا ہے ، وہ مشہور شہسوار ہیں ، اور بہادر ہیں جو جنگ کے دن حملہ آور ہوتے ہیں ( یا مقابلہ کرتے ہیں ) جب جنگ اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹاتی ہے ، اور ( لڑائی کو ) بھڑکاتی ہے ، تو وہ فخر کے ساتھ چلتے ہوئے ، موت کی طرف تیزی سے جاتے ہیں ، وہ ایک ایسے فرد ہیں جن کی والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں ، وہ بنو اسد سے تعلق رکھتے ہیں ، اور ان کے گھر میں امید رکھی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13336

Majma al-Zawaid #13336

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ ثَوْرٍ الْهِلَالِيِّ «أَنَّهُ حِينَ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدَهُ: أَصْبَحَ قَلْبِي مِنْ سُلَيْمَى مَقْصِدًا ... إِنْ خَطَأً مِنْهَا وَإِنْ تَعَمُّدًا مِنْ سَاعَةٍ لَمْ تَكُ إِلَّا مَقْعِدًا ... فَحَمَلَ الْهَمَّ كِبَارًا جَلْعَدًا تَرَى الْعَلَافِي عُلِيِّهَا مُؤَكَّدًا ... دُمًا بِسَقْيِهَا خِدَبٌّ مَا عَدَا إِذَا السَّرَابُ بِالْفَلَاةِ اطَّرَدَا ... وَأَبْحَرَ الْمَاءُ الَّذِي تَوَرَّدَا تَوَرُّدَ السَّيِّدِ أَرَادَ الْمَرْصَدَا ... بِأَوْرَقَ مَصْدَرٍ مِنْ أَوْرَدَا مَا يَشْفِنِي مِنْكُمْ طَبِيبٌ أَبَدًا ... نَجِدُّ فِيمَا يَنْبَغِي وَأَوْجَدَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصْطَفَى مُحَمَّدًا ... يَتْلُو مِنَ اللَّهِ كِتَابًا مُرْشِدًا» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Humayd bin Thawr al-Hilali رضي الله عنه reports that when he embraced Islam he came to the Prophet ﷺ and recited to him his long qasida describing his heart as aimed at by Sulayma whether by mistake or intent, his bearing of weighty anxiety, his camels and mounts enduring the mirage and thirst like a chief seeking an ambush, no physician availing him, and their striving through hardship until they came to the Chosen Muhammad ﷺ reciting a guiding Book from Allah. > **"My heart has become a target from Sulayma, whether by mistake or by intent, until we came to the Chosen Muhammad, reciting a guiding Book from Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حمید بن ثور ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے یہ اشعار سنائے : ’’ میرا دل سلیمیٰ کے ( تیر نظر ) کا نشانہ بنا ہے ، خواہ یہ اس کی طرف سے غلطی سے ہو یا قصد کے ساتھ ہو ، اس گھڑی سے جب وہ اُبھری ہوئی چھاتیوں والی عورت تھی ، تو اس نے بڑی عمر کے مضبوط افراد کو بھی پریشانی کا شکار کر دیا ، تم چارہ فروشوں کو دیکھو گے کہ اس پر مؤکد ہیں ، جو خون آلود زخم کی سیرابی ہے ، جو اپنے علاوہ سے زیادہ بڑا ہے ، جب بے آب و گیاہ جگہ پر سراب پرے کر دیتا ہے ، اور وہ پانی سیراب کرتا ہے ، جس کے پاس آدمی آتا ہے ، جس طرح وہ شیر آتا ہے جو گھات لگانے کا ارادہ رکھتا ہے ، اس بھیڑیے کی ، جس کو لانے والے نے نکالا ہو ، تم لوگوں کی طرف سے کبھی کسی طبیب نے مجھے شفا نہیں دی ، جو مناسب تھا اس پریشانی کا ہم نے سامنا کیا اور دکھ جھیلا ، یہاں تک کہ ہم حضرت محمد مصطفی ﷺ کے پاس آ گئے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کتاب کی تلاوت کر کے رہنمائی کرنے والے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13337

Majma al-Zawaid #13337

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ قَوْلَ سُوَيْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ: لَا تَأْمَنَنَّ وَإِنْ أَمْسَيْتَ فِي حَرَمٍ ... إِنَّ الْمَنَايَا بِجَنْبَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ وَاسْلُكْ طَرِيقَكَ تَمْشِي غَيْرَ مُخْتَشِعٍ ... حَتَّى تُلَاقِيَ مَا يُمَنِّي لَكَ الْمَانِي فَكُلُّ ذِي صَاحِبٍ يَوْمًا مُفَارِقُهُ ... وَكُلُّ زَادٍ وَإِنْ أَبْقَيْتَهُ فَانِي وَالْخَيْرُ وَالشَّرُّ مَقْرُونَانِ فِي قَرْنٍ ... بِكُلِّ ذَلِكَ يَأْتِيكَ الْجَدِيدَانِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ أَدْرَكَنِي هَذَا لَأَسْلَمَ "". فَبَكَى أَبِي فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، مَا يُبْكِيكَ مِنْ مُشْرِكٍ مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ أَبِي: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْ مُشْرِكٍ خَيْرًا مِنْ سُوَيْدٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ شَيْخٍ مَجْهُولٍ هُوَ مَرْدُودٌ بِلَا خِلَافٍ.

EnglishUnverified translation

Amr bin Muslim al-Khuzai reports from his father that he was with the Prophet ﷺ and recited to him the verses of Suwayd bin Amir bin al-Mustaliq enjoining not to feel secure even in the sanctuary since deaths attend every man, to walk one's path unbowed until meeting what destiny apportions, for every companion must part one day and every provision must perish, while good and evil are yoked together and the two new things, day and night, bring them. The Prophet ﷺ said that had that poet reached him he would have embraced Islam, whereupon the narrator's father wept. His son asked why he wept for a polytheist who died in ignorance, and he swore he had never seen a better polytheist than Suwayd. > **"Do not feel secure even if you spend the evening in the sanctuary, for deaths attend the sides of every man. Had he reached me, he would surely have embraced Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن مسلم خزاعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، میں نے آپ کو سوید بن عامر بن مصطلق کے یہ اشعار سنائے : ’’ تم ( خود کو ) محفوظ ہرگز نہ سمجھو ، اگرچہ تم حرم کی حدود میں رہو ، کیونکہ موت ہر انسان کے دونوں پہلوؤں میں ہوتی ہے ، تم اپنے راستے پر چلو ، اور یوں چلو کہ تم جھکنے والے نہ ہو ( اور اس وقت تک چلتے رہو ) کہ تقدیر بنانے والے نے جو ( موت کا وقت ) تمہارا مقدر بنایا ہو ، ہر ساتھی نے ایک دن اپنے ساتھی سے جدا ہونا ہے ، اور ہر سامان نے ، خواہ تم اس کو کتنا ہی سنبھال کے رکھو ، فنا ہونا ہی ہے ، خیر اور شر ایک ہی رسی سے بندھے ہوئے ہیں ، دو نئی چیزیں ( یعنی دن اور رات ) اُن دونوں ( یعنی خیر و شر ) کو تمہارے پاس لے کر آئیں گے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ شخص مجھے پا لیتا ، تو یہ اسلام قبول کر لیتا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میرے والد رو پڑے ، میں نے کہا : اے ابا جان آپ ایک مشرک کی وجہ سے کیوں رو رہے ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں مر گیا تھا ، تو میرے والد نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے سوید سے زیادہ بہتر کوئی مشرک نہیں دیکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے یعقوب بن محمد زہری کے حوالے سے ایک مجہول بزرگ سے نقل کی ہے ، اور کسی اختلاف کے بغیر یہ مردود ہے ۔

13338

Majma al-Zawaid #13338

وَعَنِ النَّابِغَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ مِنْ قَوْلِي: عَلَوْنَا الْعِبَادَ عِفَّةً وَتَكَرُّمًا ... وَإِنَّا لَنَرْجُو فَوْقَ ذَلِكَ مَظْهَرًا قَالَ: "" أَيْنَ الْمَظْهَرُ يَا أَبَا لَيْلَى؟ "". قُلْتُ: الْجَنَّةُ. قَالَ: "" أَجَلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ "". قَالَ: ثُمَّ قَالَ: "" أَنْشِدْنِي "". فَأَنْشَدْتُهُ مِنْ قَوْلِي: وَلَا خَيْرَ فِي حِلْمٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ ... بَوَادِرُ تَحْمِي صَفْوَهُ أَنْ يَكَدَّرَا وَلَا خَيْرَ فِي جَهْلٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ ... حَلِيمٌ إِذَا مَا أَوْرَدَ الْأَمْرَ أَصْدَرَا قَالَ: "" أَحْسَنْتَ لَا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Nabighah رضي الله عنه reports that he came to the Prophet ﷺ and recited his verse that they had surpassed mankind in chastity and nobility while hoping for a further triumph above that. The Prophet ﷺ asked where the triumph was, and he answered Paradise. The Prophet ﷺ affirmed that hope if Allah wills, then asked for more, so he recited that there is no good in forbearance without outbursts that guard its clarity from being muddied, nor any good in anger without forbearance to turn the matter rightly when it arises. The Prophet ﷺ praised him and supplicated that Allah never break his mouth. > **"Where is the triumph, O Abu Layla? You have done well, may Allah never break your mouth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نابغہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اپنا یہ شعر سنایا : ’’ ہم نے پاکدامنی اور عزت کے حوالے سے لوگوں پر بلندی حاصل کی ہے ، اور اس کے بعد ہمیں ’’ مظہر ‘‘ کے حصول کی بھی امید ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابولیلی مظہر کہاں ہے ؟ میں نے عرض کی : اس سے مراد جنت ہے ، آپ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو وہ مل جائے گی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم مجھے شعر سناؤ ، تو میں نے آپ کو اپنا یہ شعر سنایا : ’’ ایسی بردباری میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کے ہمراہ ایسا غصہ نہ ہو جو اس ( بردباری ) کی صفائی کو گدلا ہونے سے محفوظ رکھے ، اور ایسی جہالت ( یعنی غصے ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کے لیے کوئی بردباری نہ ہو ، جو ضرورت پڑنے پر اس ( غصے ) کو پھیر سکے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اچھا شعر کہا ہے ، تم نے اچھا شعر کہا ہے ، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ ( کے دانت ) نہ گرائے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13339

Majma al-Zawaid #13339

وَعَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: امْدُدْ يَدَيْكَ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ. قَالَ ضِرَارٌ ثُمَّ قُلْتُ: تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ ... وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ ... وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ صَفْقَتِي ... فَقَدْ بِعْتُ أَهْلِي وَمَالِي بِدَالَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا غُبِنْتَ صَفْقَتَكَ يَا ضِرَارُ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَثْرَمُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Dirar bin al-Azwar رضي الله عنه reports that he came to the Prophet ﷺ and asked him to extend his hands that he might pledge allegiance to him upon Islam. He then recited his verses that he had abandoned divining arrows, singing girls, and wine for forgiveness and devotion, as well as his wheeling of his branded horse in battle and his urging to fight the polytheists, asking his Lord not to let his bargain be lost since he had sold his family and wealth in exchange. The Prophet ﷺ assured him his bargain had not lost. > **"Your bargain has not lost, O Dirar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کی : آپ ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی اسلام پر بیعت کر لوں ، حضرت ضرار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میں نے یہ اشعار کہے : ’’ میں نے مغفرت کے حصول اور گریہ و زاری ( یعنی توبہ ) کے لیے پانسے کے تیروں ، کنیزوں کی گائیکی اور شراب کو چھوڑ دیا ہے ، اور شدت ( یعنی جنگ ) کے وقت میرا ( اپنے گھوڑے ) ’’ محبر “ کو موڑنا اور میرا مشرکین کو جنگ پر برانگیختہ کرنا ( میں نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا ہے ) تو اے میرے پروردگار ! مجھے اس سودے میں نقصان نہ ہو کیونکہ میں نے اپنے اہل خانہ اور مال کے بدلے میں یہ سودا کیا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ضرار ! تمہارے سودے میں تمہیں نقصان نہیں ہو گا ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعد اثرم ہے اور وہ متروک ہے ۔

13340

Majma al-Zawaid #13340

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ فَقَالَ: رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ ... وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقَ "". وَقَالَ: وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ ... حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا ... إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقَ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ confirmed Umayyah as truthful in part of his poetry. When he recited that a man and a bull are beneath His right foot while an eagle is for the other and a watchful lion, the Prophet ﷺ said he spoke the truth. When he recited that the sun rises at the end of every night, red with its color turning rosy, refusing to rise for them gently except under torment and flogging, the Prophet ﷺ again said he spoke the truth. > **"He spoke the truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے امیہ کو اس کے اس شعر میں سچا قرار دیا ہے ۔ اس کا شعر یہ ہے : ’’ ( عرش کو اٹھانے والے چار فرشتوں میں ) دائیں طرف والے پایوں کے ساتھ ایک فرشتہ انسان کی شکل کا ہے ، اور ایک بیل کی شکل کا ہے ، جبکہ دوسری طرف ایک عقاب کی شکل کا ہے اور ایک شیر ( یا چیتے ) کی شکل کا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا ہے ، اور اس کا یہ شعر بھی ہے : ’’ سرخ رات کے آخری حصے میں جب سورج ( کے طلوع ہونے کا وقت قریب ہوتا ہے ، اس وقت سورج ) کا رنگ سرخ پھول کی مانند ہوتا ہے ، وہ طلوع ہونے سے انکار کرتا ہے ( کہ میں نے مشرکین پر طلوع نہیں ہونا ) تو وہ اس وقت ہی طلوع ہوتا ہے ، جب اس کو عذاب دیا جائے اور اس کو کوڑے لگائے جائیں ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے ۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔

13341

Majma al-Zawaid #13341

وَعَنِ الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ: يَا مَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ ... إِنِّي لَقِيتُ ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ غَدَوْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ ... فَخَلَّفَنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتِ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ ... وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ قَالَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: إِنَّ اسْمَ الْأَعْشَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَلَهُ طُرُقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ، فِي النِّكَاحِ فِي بَابِ النُّشُوزِ.

EnglishUnverified translation

Asha al-Mazini رضي الله عنه reports that he came to the Prophet ﷺ and recited his verses addressing the Master of men and Judge of the Arabs about meeting injury among injuries, going out seeking food in Rajab only to be betrayed in absence and deserted, with breach of covenant and concealment, and that such women are the worst conqueror for one conquered. The Prophet ﷺ began repeating the last line with him. > **"And they are the worst conqueror for one conquered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اعشی مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو یہ اشعار سنائے : ’’ اے لوگوں کے سردار ، اور عربوں کے آقا ، میں نے ایک زیادتی کا سامنا کیا ہے ، میں رجب کے مہینے میں اناج حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا ، تو اس نے میری غیر موجودگی میں زیادتی کی اور بھاگ گئی ، اس نے عہد کی خلاف ورزی کی اور روپوش ہو گئی ‘‘ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے یہ کہنا شروع کیا ( یعنی یہ الفاظ دہرائے : ) ’’ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے ، امام طبرانی نے ، امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : اعشی کا نام عبداللہ بن اعور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر کتاب النکاح میں نافرمانی یا ناچاقی ) سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

13342

Majma al-Zawaid #13342

وَعَنِ التَّيْهَانِ «أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي سَيْرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ وَكَانَ اسْمُ الْأَكْوَعِ سِنَانًا: "" خُذْ لَنَا مِنْ هَنَّاتِكَ "". فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيْهَانِ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ أَعْرِفْ أَبَا الْهَيْثَمِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Tayhan رضي الله عنه reports that he heard the Prophet ﷺ on his march to Khaybar say to Amir bin al-Akwa, whose patronymic al-Akwa belonged to Sinan, to give them some of his chants. He then dismounted and began chanting rajaz for the Messenger of Allah ﷺ. > **"Take for us from your chants."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت تیہان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو خیبر کی طرف سفر کرنے کے دوران عامر بن اکوع سے یہ کہتے ہوئے سنا ( راوی کہتے ہیں : اکوع کا نام سنان ہے ) تم اپنی اشعار میں سے ہمیں کچھ سناؤ ، تو وہ نیچے اترے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے رجز پڑھنا شروع کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے حضرت ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور میں ابوالہیثم سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13343

Majma al-Zawaid #13343

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَنَاشَدُونَ الْأَشْعَارَ وَيَضْحَكُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ يَتَبَسَّمُ مَعَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Companions of the Messenger of Allah ﷺ used to recite verses to one another and laugh while the Messenger of Allah ﷺ sat smiling with them. > **"The Companions of the Messenger of Allah used to recite verses to one another and laugh while he sat smiling with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب ایک دوسرے کو اشعار سنا کر ہنسا کرتے تھے اور نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوتے تھے اور مسکرا دیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔

13344

Majma al-Zawaid #13344

وَعَنِ الْعَجَّاجِ «أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ مَا تَقُولُ فِي هَذَا: طَافَ الْخَيَالَانِ فَهَاجَا سَقَمًا ... خَيَالُ سَلْمَى وَخَيَالٌ تَكَتَّمَا قَامَتْ تُرِيكَ رَهْبَةً أَنْ تَصْرِمَا ... سَاقًا بَخَنْدَاةً وَكَعْبًا أَدْرَمَا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كُنَّا نَنْشُدُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يَعِيبُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ رَفِيعِ بْنِ سَلَمَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ajjaj reports that he asked Abu Hurayrah رضي الله عنه what he said about the verses describing two apparitions visiting and stirring sickness, the apparition of Salma and a hidden apparition, standing to show fear of severance with full shank and slender ankle. Abu Hurayrah replied that they used to recite this in the time of the Messenger of Allah ﷺ and he did not find fault with it. > **"We used to recite this in the time of the Messenger of Allah, and he did not find fault with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عجاج بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : اس شعر کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں : ’’ دو طرح کے خیالات چکر لگا رہے ہیں جنہوں نے بیماری کو بڑھا دیا ہے ، سلمیٰ کا خیال اور ایک خیال جو پوشیدہ ہے ، وہ اس لیے کھڑی ہوئی ہے کہ تمہیں اس بات سے ڈرائے کہ وہ موٹی پنڈلی اور کمزور ٹخنے کو کاٹ دے گی ۔‘‘ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں یہ شعر سنایا کرتے تھے ، تو آپ اس پر اعتراض نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد رفیع بن سلمہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13345

Majma al-Zawaid #13345

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُ فِي: «زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا» حَدِيثًا صَحِيحًا. وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said to him to visit intermittently so that love would increase. > **"O Abu Hurayrah, visit intermittently and love will increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے ابوہریرہ وقفے سے ملا کرو محبت میں اضافہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق وقفے سے ملنے کی وجہ سے محبت زیادہ ہونے کے بارے میں کوئی مستند حدیث منقول نہیں ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔

13346

Majma al-Zawaid #13346

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَمَثَّلُ بِالْأَشْعَارِ: "" وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي [أَثْنَاءِ] حَدِيثٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ used to cite verses, including that news will come to you from one you did not provision. > **"And news will come to you from one you did not provision."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ اشعار پڑھتے تھے : ’’ تمہارے پاس اس چیز کے بارے میں اطلاعات آئیں گی جن کے لئے تم نے تیاری نہیں کی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے ایک حدیث کے دوران میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13347

Majma al-Zawaid #13347

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ بِبَيْتِ طَرَفَةَ: "" وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ طَرَفَةَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that when the Messenger of Allah ﷺ awaited news with delay, he would cite the verse of Tarafah that news will come to you from one you did not provision. > **"And news will come to you from one you did not provision."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی اطلاع کے بارے میں منتظر ہوتے تھے ( یا اس اطلاع میں تاخیر ہو جاتی ) تو آپ ﷺ ،’’ طرفہ ‘‘ کا یہ مصرعہ پڑھا کرتے تھے : ’’ تمہارے پاس ایسی اطلاعات آئیں گی ، جن کے لئے تیاری نہیں کی گئی ہو گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” طرفہ “ کی بجائے عبداللہ بن رواحہ کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13348

Majma al-Zawaid #13348

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: «ذَكَرْتُ بَنِي نَاجِيَةٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: عَيْنُ فَابْكِي سَامَةَ بْنَ لُؤَيٍّ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلُقَتْ بِسَامَّةَ الْعَلَاقَةُ"". وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Sad رضي الله عنه reports that he mentioned Banu Najiyah in the presence of the Prophet ﷺ, whereupon either the Messenger of Allah ﷺ or the man said, weep, O eye, for Samah bin Luayy. The Prophet ﷺ, or the man addressing the Prophet ﷺ, completed it with the line that attachment clung to Samah. > **"O eye, weep for Samah bin Luayy. Attachment clung to Samah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے بنو ناجیہ کا ذکر کیا ، نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا یا شاید کسی نے یہ کہا : حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے سامنے بنو ناجیہ کا ذکر کیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا یا شاید کسی نے یہ کہا : ’’ اے آنکھ تم سامہ بن لوئی پر رؤو ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : راوی کو شک ہے ، شاید کسی شخص نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات کہی تھی ( یہ دراصل سابقہ مصرعہ کا دوسرا مصرعہ ہی ہے ) ۔ ’’ سامہ بن لؤی ، جس کی اولاد کو ان کی ماں ناجیہ کی طرف منسوب کر کے ’’ بنو ناجیہ ‘‘ کہا جاتا ہے ، اُس ” سامہ ‘‘ کے ساتھ لپٹنے والی چیز ( یعنی موت ) لپٹ گئی ( یا وہ سانپ مراد ہو گا ، جس کے ڈسنے سے وہ مرا تھا ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور امام بزار کا استاد محمد بن مروان ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13349

Majma al-Zawaid #13349

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُمْ يَقُولُونَ (؟) فِي عُرْسٍ: وَأَهْدَى لَهَا كَبْشًا ... تَنْصَحَ فِي الْمِرْبَدِ وَزَوْجُكِ فِي الْنَادِي ... وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ. أَلَا قُلْتُمْ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ ... فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ"".» قُلْتُ: لِعَائِشَةَ أَحَادِيثُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ heard their women saying at a wedding that he presented her a ram grazing in the enclosure and that her husband in the gathering knows what tomorrow holds. The Messenger of Allah ﷺ corrected them that none knows what tomorrow holds except Allah, and directed them instead to say that they came to them and they greeted them. > **"None knows what tomorrow holds except Allah. Why did you not say: We came to you, we came to you, so greet us and we greet you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خواتین کو ایک شادی کے موقع پر یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا : ’’ اس نے ہمیں ایک دنبہ تحفے میں دیا ہے جو چراگاہ میں چرتا رہا ہے ، اور اے لڑکی تمہارا شوہر جب محفل میں ہوتا ہے ، تو وہ یہ جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کل کیا ہو گا ، یہ صرف اللہ جانتا ہے ، تم لوگ یہ کیوں نہیں پڑھتے : ’’ ہم تمہارے پاس آئے ہیں ، ہم تمہارے پاس آئے ہیں ، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور انہوں نے تمہیں خوش آمدید کہا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے کچھ احادیث اس سیاق کے بغیر منقول ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13350

Majma al-Zawaid #13350

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ صَوْتَ حَادٍ يَحْدُو فَقَالَ: "" مِيلُوا بِنَا إِلَيْهِ "". فَقَالَ: "" مِمَّنِ الْقَوْمُ؟ "". قَالُوا: مِنْ مُضَرَ. قَالَ: "" وَأَنَا مِنْ مُضَرَ "". قَالُوا: إِنَّا أَوَّلُ مَنْ حَدَا. قَالَ: "" وَكَيْفَ؟ "". قَالَ: كَانَ غُلَامٌ لَنَا وَمَعَهُ إِبِلٌ، فَنَامَ فَتَفَرَّقَتِ الْإِبِلُ عَنْهُ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَهُ عَلَى يَدِهِ، فَجَعَلَ يَقُولُ: وَايَدَاهُ، وَايَدَاهُ فَجَعَلَتِ الْإِبِلُ تَجْتَمِعُ إِلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ was on a journey when he heard the voice of a camel-driver chanting, so he said to turn toward him. He asked from which people they were, and they said from Mudar. He said he too was from Mudar. They claimed they were the first to chant huda, and when asked how, they explained that a slave boy of theirs pastured camels, slept, and the camels scattered from him, so his master came and struck his hand, and he began crying out for his hands, whereupon the camels gathered to him. > **"Turn with us toward him. From which people are you? And how did huda begin?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے اسی دوران آپ نے کسی حدی خوان کو حدی پڑھتے ہوئے سنا ، آپ نے فرمایا : ہمیں اس کی طرف لے چلو ! آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں کا تعلق کس سے ہے ، ان لوگوں نے بتایا : مصر سے ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی مصر قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں ، ان لوگوں نے کہا : ہم نے سب سے پہلے حدی کا آغاز کیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس شخص نے بتایا : ہمارا ایک غلام تھا ، اس کے پاس اونٹ تھے وہ غلام سو گیا ، اونٹ اس کو چھوڑ کر ادھر ادھر چلے گئے ، غلام کا مالک آیا اور اس کے ہاتھ پر مارا تو غلام نے یہ کہنا شروع کیا : ہائے میرا ہاتھ ، ہائے میرا ہاتھ ، تو اونٹ آ کر اس کے پاس اکٹھے ہونے لگے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13351

Majma al-Zawaid #13351

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ: "" خُذْ لَنَا مِنْ هَنَّاتِكَ "". قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said to Amir bin al-Akwa رضي الله عنه to give them some of his chants, so he recited that by Allah, had it not been for Allah they would not have been guided, nor given charity, nor prayed. > **"By Allah, had it not been for Allah we would not have been guided, nor given charity, nor prayed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اپنے اشعار ہمیں سناؤ ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ’’ اللہ کی قسم ! اگر اللہ کی ذات نہ ہوتی تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی اور ہم نے صدقہ نہیں دینا تھا ، اور ہم نے نماز نہیں پڑھنی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حسین بن ابوحسین کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13352

Majma al-Zawaid #13352

وَعَنْ [أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ] نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ: "" انْزِلْ فَأَسْمِعْنَا مِنْ هَنَّاتِكَ "". قَالَ: فَأَنْشَأَ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ... وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ... وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْتَعْتَنَا بِعَامِرٍ أَوْ بِشِعْرِ عَامِرٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ التَّيْهَانِ فِي هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Nasr bin Dahr al-Aslami reports from his father that the Prophet ﷺ told Amir bin al-Akwa رضي الله عنه to dismount and let them hear some of his chants. He began reciting that O Allah, had it not been for You they would not have been guided, nor given charity, nor prayed, so send down tranquillity upon them and make feet firm when they meet the enemy, for the foe has transgressed against them and when they desire tribulation they refuse. The Prophet ﷺ supplicated for mercy upon him, whereupon a man asked that they be allowed to enjoy Amir or his poetry longer. > **"Dismount and let us hear from your chants. O Allah, have mercy upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوہیثم بن نصر بن دہر اسلمی اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اٹھو اور ہمیں اپنے اشعار سناؤ ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھنے شروع کیے : ’’ اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی ، ہم نے صدقہ نہیں کرنا تھا ، اور نماز نہیں پڑھنی تھی ، تو ہم پر سکینت نازل کر اور جب ہم دشمن کا سامنا کریں تو ہمیں ثابت قدم رکھنا ، دشمن نے ہمارے خلاف سرکشی کی ہے ۔ وہ فتنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہم انکار کرتے ہیں ۔‘‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس پر رحم کر ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ عامر کے حوالے سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) عامر کی شاعری کے حوالے سے ہمیں نفع حاصل کرنے دیتے تو یہ مناسب تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس سے پہلے اس باب میں حضرت تیہان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔

13353

Majma al-Zawaid #13353

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةٍ آخِذٌ بِغَرْزِهِ يَرْتَجِزُ يَقُولُ: خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... قَدْ أَنْزَلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ بِأَنَّ خَيْرَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِهِ» رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ entered for the Makeup Pilgrimage while Abdullah bin Rawahah رضي الله عنه held his stirrup chanting rajaz that the sons of disbelievers should clear his way, for the Most Merciful had revealed in His revelation that the best killing is in His cause. > **"Clear the way, O sons of the disbelievers, for his way. The Most Merciful has revealed in His revelation that the best killing is in His cause."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عمرہ قضاء کے لئے داخل ہوئے ، تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی لگام کو پکڑا ہوا تھا ، اور وہ رجز کے طور پر یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ’’ اے کفار کی اولاد ! ان کے راستے کو چھوڑ دو ، رحمان نے اپنی کتاب میں یہ نازل کیا ہے کہ سب سے بہترین مقتول وہ ہے ، جو اس کی راہ میں مارا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13354

Majma al-Zawaid #13354

وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رُبَّمَا تَمَثَّلَ بِالْبَيْتِ مِنَ الشِّعْرِ مِمَّا كَانَ فِي وَقَائِعِ الْعَرَبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Qatadah reports that Ibn Masud رضي الله عنه would sometimes cite a line of poetry concerning the battles of the Arabs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بعض اوقات کسی شعر کا مصرعہ سنا دیا کرتے تھے جس کا تعلق زمانہ جاہلیت کے حالات سے ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ قتادہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

13355

Majma al-Zawaid #13355

وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: صَحِبْتُ عِمْرَانَ مِنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْبَصْرَةِ، فَمَا أَتَى عَلَيَّ يَوْمٌ إِلَّا أَنْشَدَنَا فِيهِ شِعْرًا، وَيَقُولُ لَنَا فِي ذَلِكَ: إِنَّ لَكُمْ فِي الْمَعَارِيضِ لَمَنْدُوحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mutarrif reports that he accompanied Imran from Kufah to Basrah, and no day passed but that he recited poetry to them, telling them that they had ample scope in allusive speech to avoid lying. > **"Indeed, for you in allusive speech there is ample scope away from lying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بیان کرتے ہیں : میں کوفہ سے بصرہ تک حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ، مجھ پر جو بھی دن آیا ، اس دن میں انہوں نے ہمیں کوئی شعر سنایا ، وہ ہم سے اس بارے میں یہ کہتے تھے : تمہارے لئے تعریض ( اشارے کنائے میں بات کر کے ) جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13356

Majma al-Zawaid #13356

وَأَنْشَدَ ابْنُ هَرِمَةَ لِعَمِّهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ هَرِمَةَ: فَمَنْ لَمْ يُرِدْ مَدْحِي فَإِنَّ قَصَائِدِي ... نَوَافِقُ عِنْدَ الْأَكْرَمِينَ سَوَامِي نَوَافِقٌ عِنْدَ الْمُشْتَرِي الْحَمْدَ بِالنَّدَى ... نَفَاقَ بَنَاتِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Harimah recited from his uncle Ibrahim bin Ali bin Harimah the verses that whoever does not seek his praise will find his qasidas as musk bladders circulating among the most noble, circulating with one who purchases praise through generosity like the circulation of the daughters of Harith bin Hisham. > **"Whoever does not seek my praise, my qasidas are as musk bladders circulating among the most noble."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ہرمہ نے اپنے چچا ابراہیم بن علی بن ہرمہ کا یہ شعر سنایا : ’’ جو شخص میری مدح کا ارادہ نہیں کرتا ، تو میرے قصائد معززین کے نزدیک مشک کا برتن ہیں ، خریدار کے نزدیک محفل میں تعریف اہمیت کی حامل ہوتی ہے ، جس طرح حارث بن ہشام کی بیٹیوں کا رواج ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13357

Majma al-Zawaid #13357

وَقَالَ أَبُو الْكَوْسَجِ مَوْلَى آلِ أَبِي فَرْوَةَ: أَحَسِبْتَ أَنَّ أَبَاكَ يَوْمَ تَسُبُّنِي ... فِي السُّوقِ كَانَ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ الْكَوْسَجِ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Kawsaj, freedman of the family of Abu Farwah, recited the verse asking whether one thought his father on the day he insulted him in the market was Harith bin Hisham. > **"Did you think that your father, on the day you insulted me in the market, was Harith bin Hisham?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوکوسج ، جو آل ابوفروہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ( یا انہوں نے یہ شعر کہا ہے : ) ’’ کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تمہارے باپ نے جس دن مجھے بازار میں قیدی بنایا تھا ، تو وہ حارث بن ہشام تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن کوسج سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13358

Majma al-Zawaid #13358

عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ «أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، تَعْرِفِينَ هَذِهِ؟ "" قَالَتْ: لَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ. قَالَ: "" هَذِهِ قَيْنَةُ بَنِي فُلَانٍ، تُحِبِّينَ أَنْ تُغَنِّيَكِ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. فَأَعْطَتْهَا طَبَقًا فَغَنَّتْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي مَنْخِرَيْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saib bin Yazid رضي الله عنه reports that a woman came to the Messenger of Allah ﷺ, who asked Aishah رضي الله عنها whether she knew her. She said she did not, O Prophet of Allah. He said she was the singing girl of such-and-such tribe and asked whether she would like her to sing for her. She said yes, so she gave her a dish and the woman sang for her. The Prophet ﷺ then remarked that Satan had blown into her nostrils. > **"O Aishah, do you know this woman? This is the singing girl of such-and-such tribe. Would you like her to sing for you? Satan has blown into her nostrils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! کیا تم اسے جانتی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں اے اللہ کے نبی ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ بنو فلاں کی گانے والی عورت ہے ، کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ یہ تمہیں گا کے سنائے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی ہاں ۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک طبق دیا تو اس خاتون نے انہیں گا کے سنایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونک ماری ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13359

Majma al-Zawaid #13359

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ عِنْدَنَا جَارِيَةٌ تُغَنِّي فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَوَثَبَتْ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَسْمَعَ مِمَّا تَسْمَعُ - أَوْ مَا يَسْمَعُ مِنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهَا فَأَسْمَعَتْهُ». وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ الْغِنَاءُ فِي الْعُرْسِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that a slave girl was with them singing when the Prophet ﷺ entered while she remained in that state. Umar رضي الله عنه then sought permission and she sprang up silent. The Prophet ﷺ laughed, and Umar asked what made him laugh. When he informed him, Umar said he would not leave until he heard what the Prophet ﷺ heard, so he commanded her and she let him hear it. > **"I will not leave until I hear what you hear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہمارے پاس ایک کنیز تھی جو گانا گا رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ گھر داخل ہوئے ، تو وہ کنیز اسی حالت میں گانا گاتی رہی ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو اس نے گانا ترک کر دیا ، نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو انہوں نے دریافت کیا : آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے انہیں بتایا تو انہوں نے عرض کی : میں بھی وہ بات ضرور سنوں گا ، جو آپ سن رہے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو بات نبی اکرم ﷺ سن رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس ( کنیز ) کو حکم دیا تو اس نے انہیں بھی گانا سنایا ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ، اس سے پہلے شادی کے موقع پر گانے کے بارے میں روایت گزر چکی ہے ۔

13360

Majma al-Zawaid #13360

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ - أَوْ فَوْقِي - فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ، فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا. فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَنَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي، فَإِذَا أَنَا بِرِيحٍ وَأَصْوَاتٍ وَدُخَانٍ فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذِهِ شَيَاطِينُ يُحْرَقُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ، لَا يَتَفَكَّرُونَ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ قِصَّةَ أَكَلَةِ الرِّبَا فَقَطْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو الصَّلْتِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described what he saw on the night he was taken by night to the heavens. When they reached the seventh heaven he looked above himself and beheld thunder, lightning, and thunderbolts. He then came upon people whose bellies were swollen like large houses, with serpents inside them visible from outside their bellies, and he asked Jibril, peace be upon him, who they were. After descending to the lowest heaven he looked beneath himself and perceived wind, voices, and smoke, and again asked Jibril about what he witnessed, receiving explanation concerning devils diverting the eyes of mankind from reflection upon the kingdom of the heavens and the earth. > **"These are the devourers of riba. These are devils who are burned before the eyes of the children of Adam so that they do not reflect upon the kingdom of the heavens and the earth, and were it not for that, they would behold wonders."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے دیکھا کہ جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو میں نے اپنے اوپر دیکھا ، تو وہاں کڑک تھی بجلی تھی اور بجلیاں تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے ، جن میں سانپ موجود تھے ، جو ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سود کھانے والے لوگ ہیں ، جب میں اتر کر آسمان دنیا کی طرف آیا اور میں نے اپنے نیچے کی طرف دیکھا ، تو مجھے ہوا آوازیں اور دھواں نظر آیا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ شیاطین ہیں جنہیں بنو آدم کی آنکھوں میں جلا دیا جاتا ہے ، وہ لوگ کہ جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں ، اگر ایسا نہ ہو تو یہ لوگ حیران کن چیزیں دیکھیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس میں سے صرف سود کھانے والا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

13361

Majma al-Zawaid #13361

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشَّمْسَ حِينَ غَرَبَتْ فَقَالَ: "" فِي نَارِ اللَّهِ الْحَامِيَةِ لَوْلَا مَا يَزَعُهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ، لَأَهْلَكَتْ بِمَا عَلَى الْأَرْضِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ looked at the sun at the time of its setting and spoke of its intense heat and of the restraint placed upon it by the command of Allah, without which it would have destroyed what is upon the earth. > **"It is in the intensely hot Fire of Allah. Were it not restrained by the command of Allah, it would have destroyed all that is upon the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سورج کو غروب ہونے کے وقت ملاحظہ کیا ، تو ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی ( بنائی ہوئی ) شعلے بھڑکاتی آگ ، اگر اللہ کے حکم کے تحت اُس پر رکاوٹ نہ ڈالی گئی ہوتی ، تو اس نے روئے زمین پر موجود چیزوں کو ہلاک کر دینا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13362

Majma al-Zawaid #13362

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «وُكِّلَ بِالشَّمْسِ تِسْعَةُ أَمْلَاكٍ يَرْمُونَهَا بِالثَّلْجِ كُلَّ يَوْمٍ، لَوْلَا ذَلِكَ مَا أَتَتْ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَحْرَقَتْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke of angels appointed over the sun who cast snow upon it each day, for otherwise it would burn everything it came upon. > **"Nine angels have been entrusted with the sun, casting snow upon it every day. Were it not for that, it would burn everything it came upon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سورج پر نو فرشتے مقرر کیے گئے ہیں ، جو روزانہ اس پر برف ڈالتے ہیں ، اگر ایسا نہ ہو ، تو سورج جس چیز پر بھی آئے اسے جلا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

13363

Majma al-Zawaid #13363

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ الْأَرْضَ عَلَى مَا هِيَ؟ فَقَالَ: "" الْأَرْضُ عَلَى الْمَاءِ "". فَقِيلَ: الْمَاءُ عَلَى مَا هُوَ؟ قَالَ: "" عَلَى صَخْرَةٍ "". فَقِيلَ: الصَّخْرَةُ عَلَى مَا هِيَ؟ قَالَ: "" هِيَ عَلَى ظَهْرِ حُوتٍ يَلْتَقِي طَرَفَاهُ بِالْعَرْشِ "". قِيلَ: الْحُوتُ عَلَى مَا هُوَ؟ "" عَلَى كَاهِلِ مَلَكٍ قَدَمَاهُ الْهَوَاءُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ - يَعْنِي ابْنَ شَبِيبٍ - وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ was asked what the earth rests upon, then what the water rests upon, then what the rock rests upon, and then what the great fish rests upon, and he answered each inquiry in succession, describing the earth upon water, the water upon rock, the rock upon the back of a great fish whose extremities meet the Throne, and the fish upon the shoulder of an angel whose feet are in the air. > **"The earth is upon water. It is upon a rock. It is upon the back of a whale whose two ends meet the Throne. It is upon the shoulder of an angel whose feet are in the air."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا ، عرض کی گئی : آپ کیا کہتے ہیں ، زمین کس چیز پر ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : زمین پانی پر ہے ، عرض کی گئی : پانی کس چیز پر ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ چٹان پر ہے ۔ عرض کی گئی : چٹان کسی چیز پر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ایک مچھلی کی پشت پر ہے ، جس کے دونوں کنارے عرش کے ساتھ ملتے ہیں ، عرض کی گئی : وہ مچھلی کس چیز پر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ایک فرشتے کے کندھے پر ہے ، جس کے دونوں پاؤں ہوا میں ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن احمد یعنی عبداللہ بن احمد بن شبیب سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13364

Majma al-Zawaid #13364

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كِثَفُ الْأَرْضِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ، وَبَيْنَ الْأَرْضِ الْعُلْيَا وَالسَّمَاءِ الدُّنْيَا خَمْسُمِائَةِ عَامٍ [أَوْ كَثْفُهَا خَمْسُمَائَةِ عَامٍ، وَكِثَفُ الثَّانِيَةِ مِثْلُ ذَلِكَ وَمَا بَيْنَ كُلِّ أَرْضٍ مِثْلُ ذَلِكَ، وَمَا بَيْنَ الْأَرْضِ الْعُلْيَا وَالسَّمَاءِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ وَكِثَفُ السَّمَاءِ خَمْسُمِائَةِ عَامٍ]، وَالسَّمَاءِ السَّابِعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ إِلَى الْعَرْشِ مَسِيرَةُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ كُلِّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا نَصْرٍ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ الْحَدِيدِ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the thickness of the earth as a journey of five hundred years, and likewise the distance between the upper earth and the lowest heaven, between each earth, the thickness of each heaven, and the distance from the seventh heaven to the Throne as encompassing all that preceded. > **"The thickness of the earth is a journey of five hundred years, and between the upper earth and the lowest heaven is five hundred years, and the thickness of the second is like that, and between every earth is like that, and between the upper earth and the heaven is five hundred years, and the thickness of the heaven is five hundred years, and between the seventh heaven and the Throne is a journey equal to all of that combined."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمین کی موٹائی پانچ سو سال کی مسافت جتنی ہے ، اور زمین کے اوپر والے حصے اور آسمان دنیا کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے یا اس کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے ، اور دوسرے آسمان کے درمیان بھی اتنا ہی فاصلہ ہے ، ہر زمین کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے ، اوپر والی زمین اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے ، آسمان کی موٹائی پانچ سو سال کی ہے ، اور ساتویں آسمان سے لے کر عرش کے درمیان تک اتنا فاصلہ ہے ، جتنا ان سب کے درمیان فاصلہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابونصر حمید بن ہلال نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ اس سے پہلے سورت حدید کی تفسیر سے متعلق باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔

13365

Majma al-Zawaid #13365

وَعَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: السَّمَاءُ الدُّنْيَا لَوْحٌ مَكْفُوفٌ، وَالثَّانِيَةُ صَخْرَةٌ، وَالثَّالِثَةُ حَدِيدٌ، وَالرَّابِعَةُ نُحَاسٌ، وَالْخَامِسَةُ فِضَّةٌ، وَالسَّادِسَةُ ذَهَبٌ، وَالسَّابِعَةُ يَاقُوتٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا، مَوْقُوفًا عَلَى الرَّبِيعِ، وَلَعَلَّهُ سَقَطَ مِنَ النُّسْخَةِ، وَفِيهِ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Rabi ibn Anas, may Allah have mercy upon him, states that the lowest heaven is a withheld tablet, the second is rock, the third is iron, the fourth is copper, the fifth is silver, the sixth is gold, and the seventh is ruby.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیع بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : آسمان دنیا ایک مکفوف لوح ہے ، دوسرا آسمان چٹان ہے ، تیسرا لوہا ہے ، چوتھا پیتل ہے ، پانچواں چاندی ہے ، چھٹا سونا ہے اور ساتواں یاقوت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسی طرح حضرت ربیع بن انس رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور شاید یہ نسخے سے ساقط ہو گئی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجعفر رازی ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13366

Majma al-Zawaid #13366

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: «سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ: عَنِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالنُّجُومِ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خُلِقْنَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ نُورِ الْعَرْشِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْأَزْدِيُّ: مَتْرُوكٌ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ubaydullah ibn Abi Bakr ibn Anas reports that he asked Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, from what the sun, the moon, and the stars were created, and Anas informed him of what the Messenger of Allah ﷺ had told him concerning their origin from the light of the Throne. > **"They were created from the light of the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن ابوبکر بن انس بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کیا : سورج چاند اور ستارے کہ انہیں کس سے پیدا کیا گیا ہے ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بات بتائی ہے ۔ ’’ انہیں عرش کے نور سے پیدا کیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معقل بن مالک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13367

Majma al-Zawaid #13367

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَشَدُّ خَلْقِ رَبِّكَ عَشَرَةٌ: الْجِبَالُ، وَالْحَدِيدُ يَنْحِتُ الْجِبَالَ، وَالنَّارُ تَأْكُلُ الْحَدِيدَ، وَالْمَاءُ يُطْفِئُ النَّارَ وَالسَّحَابُ الْمُسَخَّرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ يَحْمِلُ الْمَاءَ، وَالرِّيحُ يَنْقُلُ السَّحَابَ، وَالْإِنْسَانُ يَتَّقِي الرِّيحَ بِيَدِهِ وَيَذْهَبُ فِيهَا لِحَاجَتِهِ وَالسُّكْرُ يَغْلِبُ الْإِنْسَانَ، وَالنَّوْمُ يَغْلِبُ السُّكْرَ، وَالْهَمُّ يَمْنَعُ النَّوْمَ، فَأَشَدُّ خَلْقِ رَبِّكَ الْهَمُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, states that the strongest of the creation of his Lord are ten in succession: the mountains, then iron which cuts the mountains, then fire which consumes iron, then water which extinguishes fire, then the subservient cloud between heaven and earth which carries water, then wind which moves the cloud, then man who shields himself from wind with his hand and goes about his need therein, then intoxication which overcomes man, then sleep which overcomes intoxication, and then anxiety which prevents sleep, so the strongest of the creation of his Lord is anxiety.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تمہارے پروردگار کی مخلوق میں سب سے زیادہ سخت دس چیزیں ہیں ۔ پہاڑ ہے ، اور لوہا پہاڑ کو بھی چیر دیتا ہے ، اور آگ لوہے کو کھا جاتی ہے ، اور پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اور آسمان اور زمین کے درمیان مسخر بادل پانی کو اٹھا لیتا ہے ، اور ہوا بادل کو بھی منتقل کر دیتی ہے ، اور انسان اپنے ہاتھ کے ذریعے ہوا سے بچ جاتا ہے ، اور ہوا کے دوران اپنے کام کے لئے چلا جاتا ہے ، اور نشہ انسان پر غالب آ جاتا ہے ، اور نیند نشے پر غالب آ جاتی ہے ، اور پریشانی نیند پر غالب آ جاتی ہے ، تو تمہارے پروردگار کی مخلوق میں سب سے زیادہ شدید چیز پریشانی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13368

Majma al-Zawaid #13368

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ - وَلَيْسَ بِالْأَنْصَارِيِّ - «كَانَ فِي عِيرٍ لِخَدِيجَةَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مَعَهُ فِي تِلْكَ الْعِيرِ فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرَى فِيكَ خِصَالًا وَأَشْهَدُ أَنَّكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي يَخْرُجُ مِنْ تِهَامَةَ، وَقَدْ آمَنْتُ بِكَ، فَإِذَا سَمِعْتُ بِخُرُوجِكَ أَتَيْتُكَ. فَأَبْطَأَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَانَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ أَتَاهُ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: "" مَرْحَبًا بِالْمُهَاجِرِ الْأَوَّلِ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مَنَعَنِي أَنْ أَكُونَ مِنْ أَوَّلِ مَنْ أَتَاكَ وَأَنَا مُؤْمِنٌ بِكَ، غَيْرُ مُنْكِرٍ لِبَيْعَتِكَ وَلَا نَاكِثٍ لِعَهْدِكَ، وَآمَنْتُ بِالْقُرْآنِ، وَكَفَرْتُ بِالْوَثَنِ، إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَتْنَا بَعْدَكَ سَنَوَاتٌ شِدَادٌ مُتَوَالِيَاتٌ، تَرَكَتِ الْمُخَّ رُزَامًا، وَالْمَطِيَّ هَامًا، غَاضَتْ بِهَا الدَّرَّةُ، وَنَبَعَتْ لَهَا النَّثْرَةُ، وَعَادَتْ لَهَا السِّعَادُ مُنْخَرَمًا، وَاجْتَاحَتْ جَمِيعَ السُّنَنِ [بِالْأَرْضِ] وَالْقَنَطَةُ وَالْعُصَاةُ مُسْتَخْلَفًا وَالْوَشِيجُ مُسْتَحْكِمًا [أَ] يْبَسَتِ الْأَرْضُ الْوَدِيسُ وَاجْتَاحَتْ جَمِيعَ الْبَنِينِ، وَأَثْبَتْ حَتَّى قُنطَةَ الْقِنْطِةِ أَسَدٌ غَيْرُ نَاكِثٍ لِعَهْدِي، وَلَا مُنْكِرٍ لِبَيْعَتِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَلِّ عَنْكَ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَاسِطٌ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِمُسِيءِ النَّهَارِ لِيَتُوبَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. وَبَاسِطٌ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِمُسِيءِ اللَّيْلِ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْحَقَّ ثَقِيلٌ لِثِقَلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ الْبَاطِلَ خَفِيفٌ لِخِفَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ الْجَنَّةَ مَحْظُورٌ عَلَيْهَا بِالْمَكَارِهِ، وَإِنَّ الدُّنْيَا مَحْظُورٌ عَلَيْهَا بِالشَّهَوَاتِ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ ضَوْءِ النَّهَارِ وَظُلْمَةِ اللَّيْلِ، وَعَنْ حَرِّ الْمَاءِ فِي الشِّتَاءِ، وَعَنْ بَرْدِهِ فِي الصَّيْفِ، وَعَنِ الْبَلَدِ الْأَمِينِ، وَعَنْ مَنْشَأِ السَّحَابِ، وَعَنْ مَخْرَجِ الْجَرَادِ، وَعَنِ الرَّعْدِ وَالْبَرْقِ، وَعَنْ مَا لِلرَّجُلِ مِنَ الْوَلَدِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَّا ظُلْمَةُ اللَّيْلِ وَضَوْءُ النَّهَارِ: فَإِنَّ الشَّمْسَ إِذَا سَقَطَتْ سَقَطَتْ تَحْتَ الْأَرْضِ فَأَظْلَمَ اللَّيْلُ لِذَلِكَ، وَإِذَا أَضَاءَ الصُّبْحُ ابْتَدَرَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، وَهِيَ تُقَاعِسُ كَرَاهِيَةَ أَنْ تُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ، حَتَّى تَطْلُعَ فَتُضِيءُ، فَيَطُولُ النَّهَارُ بِطُولِ مُكْثِهَا، فَيَسْخُنُ الْمَاءُ لِذَلِكَ وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ مُكْثُهَا فَبَرُدَ الْمَاءُ لِذَلِكَ. وَأَمَّا الْجَرَادُ: فَإِنَّهُ نَثْرَهُ حُوتٌ فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ: الْأَبْوَاتُ، وَفِيهِ يَهْلَكُ. وَأَمَّا مَنْشَأُ السَّحَابِ: فَإِنَّهُ يَنْشَأُ مِنْ قِبَلِ الْخَافِقَيْنِ، وَمِنْ [بَيْنِ] الْخَافِقَيْنِ تُلْجِمُهُ الصَبَا وَالْجَنُوبُ، وَيَسْتَدْبِرُهُ الشَّمَالُ وَالدَّبُورُ. وَأَمَّا الرَّعْدُ: فَإِنَّهُ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِخْرَاقٌ، يُدْنِي الْقَاصِيَةَ وَيُؤَخِّرُ الدَّانِيَةَ، فَإِذَا رَفَعَ بَرَقَتْ، وَإِذَا زَجَرَ رَعَدَتْ، وَإِذَا ضَرَبَ صَعَقَتْ. وَأَمَّا مَا لِلرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ: فَإِنَّ لِلرَّجُلِ الْعِظَامَ وَالْعُرُوقَ وَالْعَصَبَ، وَلِلْمَرْأَةِ اللَّحْمُ وَالدَّمُ وَالشَّعْرُ. وَأَمَّا الْبَلَدُ الْأَمِينُ: فَمَكَّةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو عِمْرَانَ، ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ وَلَمْ يَنْقُلْ تَضْعِيفَهُ عَنْ أَحَدٍ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah ibn Khuzaymah ibn Thabit, who is not the Ansari, reports that he was once in a caravan belonging to Khadijah, may Allah be pleased with her, with the Prophet ﷺ among them prior to the proclamation of prophethood, and that he declared to him his perception of distinguishing qualities in him, his witness that he was the Prophet who would emerge from Tihamah, his present belief in him, and his promise to come upon hearing of his emergence. He was delayed until the day of the Conquest of Makkah, when he came and was greeted by the Prophet ﷺ. He then excused his delay, affirming that he had remained a believer in him, without denying his pledge or breaking his covenant, believing in the Quran and rejecting idols, but that successive years of severe drought had afflicted them after him, wasting marrow and emaciating mounts, drying up milk, spreading distress, breaking fortune, sweeping cultivated lands and offspring, hardening affairs, drying verdant land, and entrenching utter destitution, yet he had come neither breaking his covenant nor denying his pledge. He then asked about the light of day and the darkness of night, the heat of water in winter and its cold in summer, the Secure City, the origin of clouds, the emergence of locusts, thunder and lightning, and the shares of the man and the woman in the child, to which the Prophet ﷺ gave detailed answers. > **"Welcome to the first emigrant. Leave that aside. Allah, blessed and exalted is He, extends His Hand by night for the wrongdoer of the day to repent, and if he repents, Allah turns to him. And He extends His Hand by day for the wrongdoer of the night to repent, and if he repents, Allah turns to him. Truth shall be heavy on account of its weight on the Day of Resurrection, and falsehood shall be light on account of its lightness on the Day of Resurrection. Paradise is enclosed by hardships, and the world is enclosed by desires. As for the darkness of the night and the light of the day: when the sun sets it falls beneath the earth, and the night darkens for that reason, and when morning shines seventy thousand angels hasten toward it while it holds back, disliking to be worshipped besides Allah, until it rises and gives light; the day lengthens with the length of its stay and water grows warm for that reason, and when its stay is short water grows cold for that reason. As for locusts: they are the sneeze of a whale in the sea called al-Abwat, and therein it perishes. As for the origin of clouds: they arise from the direction of the two horizons, and from between the two horizons the easterly and southerly winds bridle them, while the northerly and westerly winds drive them from behind. As for thunder: it is an angel with a striker in his hand, bringing the distant near and sending the near far; when he raises it, lightning flashes, when he rebukes, thunder sounds, and when he strikes, a thunderbolt falls. As for what belongs to the man and what belongs to the woman in the child: bones, veins, and nerves are from the man, and flesh, blood, and hair are from the woman. As for the Secure City: it is Makkah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله بن خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ، یہ انصاری نہیں ہیں ، وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں موجود تھے ۔ نبی اکرم ﷺ ( اعلان نبوت سے پہلے ) ان کے ساتھ اس قافلے میں موجود تھے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! میں نے آپ کے اندر کچھ چیزیں دیکھی ہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، آپ اللہ کے نبی ہیں ، جو تہامہ سے نکلیں گے ، میں آپ پر ایمان لاتا ہوں ، جب میں آپ کے خروج کے بارے میں سنوں گا ، تو میں آپ کے پاس آ جاؤں گا ، پھر انہیں نبی اکرم ﷺ تک آنے میں تاخیر ہو گئی ، یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا جب مکہ فتح ہو گیا ، تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا تو فرمایا : پہلے مہاجر کو خوش آمدید ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس پہلے اس لئے نہیں آ سکا ، ایسا نہیں ہے کہ میں آپ پر ایمان نہیں رکھتا تھا ، یا میں نے آپ کی بیعت کا انکار کر دیا تھا ، یا آپ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا تھا ، میں قرآن پر بھی ایمان رکھتا تھا اور میں نے بتوں کا انکار بھی کیا تھا ، لیکن ہوا یہ کہ آپ کے بعد ہمیں شدید ترین قحط سالی کے مسلسل سالوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، جس نے گودے کو بے کار کر دیا ، سواریوں کو بیمار کر دیا ، اس کی وجہ سے دودھ غائب ہو گیا ، اور چھینکیں آنے لگیں ، اس کی وجہ سے سعادت مندی خلل پذیر ہو گئی ، زمین میں کھیتی باڑی کے تمام آلات ضائع ہو گئے ، مایوسی اور بے چینی نے جگہ بنا لی ، پریشانی مستحکم ہو گئی ، زمین کے نباتات خشک ہو گئے ، بال بچے ہلاکت کا شکار ہونے لگے ، بس مایوسی ہی مایوسی تھی ، بہرحال میں آپ کے پاس آیا ہوں ، ایسے عالم میں کہ میں نہ تو اپنے عہد کو توڑنے والا ہوں اور نہ ہی اپنی بیعت کا انکار کرنے والا ہوں ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم اس کو چھوڑو ۔ اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ رات کے وقت بڑھاتا ہے ، تاکہ دن کے وقت برائی کرنے والا توبہ کر لے ، اگر وہ شخص توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اور دن کے وقت وہ اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے ، تاکہ رات کے وقت برائی کرنے والا توبہ کر لے ، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ، حق قیامت کے دن اپنے بوجھ کی وجہ سے بوجھل ہو گا ، اور باطل قیامت کے دن اپنے ہلکے پن کی وجہ سے ہلکا ہو گا ، اور جنت کو ناپسندیدہ چیزوں کے اندر رکھا گیا ہے ، اور جہنم کو نفسانی خواہشات کے اندر رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی کے بارے میں اور گرمیوں میں پانی کے گرم ہونے اور سردیوں میں ٹھنڈا ہونے اور بلدامین کے بارے میں اور جہاں سے بادل نکلتا ہے ۔ اس کے بارے میں اور جہاں سے ٹڈی دل نکلتا ہے ۔ اس کے بارے میں اور گرج چمک کے بارے میں بتائیے اور یہ بتائیے کہ بچے میں سے مرد کا کیا ہوتا ہے ، اور عورت کا کیا ہوتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جہاں تک رات کی تاریکی اور دن کی روشنی کا تعلق ہے تو جب سورج گرتا ہے تو وہ زمین کے نیچے چلا جاتا ہے ، اسی وجہ سے رات تاریک ہو جاتی ہے جب صبح کی روشنی ہوتی ہے تو ستر ہزار فرشتے لپک کر اس کی طرف جاتے ہیں اور وہ لیت و لعل سے کام لیتا ہے ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کی عبادت کی جائے ، یہاں تک کہ وہ طلوع ہوتا ہے تو روشنی کر دیتا ہے پھر دن بھر اس کے طویل ٹھہرنے کی وجہ سے دن طویل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے پانی گرم ہو جاتا ہے ، لیکن جب سردی ہوتی ہے تو اس کا ٹھہرنا کم ہو جاتا ہے ، اسی وجہ سے پانی ٹھنڈا ہوتا ہے ، جہاں تک ٹڈی دل کا تعلق ہے ، تو وہ سمندر میں موجود مچھلی کی چھینک سے پیدا ہوتا ہے ، جس کا نام ’’ ابوات ‘‘ ہے ، اور اس میں وہ ہلاک ہو جاتا ہے ، جہاں تک بادل کی پیدائش کا تعلق ہے ، تو زمین و آسمان کے درمیان والی طرف سے پیدا ہوتا ہے اور زمین و آسمان والی طرف سے صبا اور جنوب نامی ہوائیں اس کو لگام ڈالتی ہیں اور شمارل اور دبور نامی ہوائیں اسے پیچھے کر دیتی ہیں ، جہاں تک کڑک کا تعلق ہے تو ایک فرشتہ ہے ، جس کے ہاتھ میں ایک کوڑا ہوتا ہے ، وہ پیچھے والی کو قریب کرتا ہے اور قریب والی کو پیچھے کر دیتا ہے ، جب وہ ہاتھ اُٹھاتا ہے تو بجلی چمکتی ہے ، جب وہ ڈانٹتا ہے تو کڑک پیدا ہوتی ہے ، جب وہ ضرب لگاتا ہے تو بجلی چمکتی ہے ، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مرد کو عورت سے کیا ملتا ہے اور عورت کو مرد سے کیا ملتا ہے ، تو مرد کی طرف سے ہڈیاں پٹھے اور رگیں ہوتی ہیں اور عورت کی طرف سے گوشت خون اور بال ہوتے ہیں ، جہاں تک ’’ بلدامین ‘‘ کا تعلق ہے تو اس سے مراد ’’ مکہ ‘‘ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ معجم اوسط ‘‘ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن یعقوب ابوعمران ہے ، ذہبی نے اس حدیث کو اس کے حالات میں ذکر کیا ہے ، اور کسی شخص کے حوالے سے اس کے ضعیف ہونے کو نقل نہیں کیا ہے ۔

13369

Majma al-Zawaid #13369

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ مِمَّا خَلَقَ اللَّهُ لَدِيكًا بَرَاثِنُهُ عَلَى الْأَرْضِ السَّابِعَةِ وَعُرْفُهُ مُنْضَوٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، جَنَاحَاهُ بِالْأُفُقَيْنِ، فَإِذَا بَقِيَ ثُلْثُ اللَّيْلِ الْآخِرِ ضَرَبَ بِجَنَاحَيْهِ ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، لَا إِلَهَ غَيْرُهُ. فَيَسْمَعُهُ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ، فَتَرَوْنَ الدِّيَكَةَ إِنَّمَا تَضْرِبُ بِأَجْنِحَتِهَا إِذَا صَرَخَتْ، إِذَا سَمِعَتْ ذَلِكَ»

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, raises the narration to the Prophet ﷺ, reporting that Allah created a rooster whose talons rest upon the seventh earth while its comb lies folded beneath the Throne, with its two wings spanning the horizons. When the last third of the night remains, it beats its wings and proclaims glorification, which all between the east and west hear except the two weighty beings, and domestic roosters beat their wings and crow when they hear it. > **"Glory be to the Sovereign, the Most Holy. Glory be to our Lord, the Sovereign, the Most Holy. There is no god but He. Glorify the Sovereign, the Most Holy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک مرغ پیدا کیا ہے ، جس کے پنجے ساتویں زمین پر ہیں اور کلغی عرش کے نیچے ہے ۔ اس کے دونوں پر دونوں افق میں ہیں ، جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ، تو وہ اپنے دونوں پر مارتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : «سبحان الملك القدوس سبحان ربنا الملك القدوس لا اله غیرہ» ( ہر عیب سے پاک ہے ۔ وہ جو باشادہ ہے ، اور پاک ہے ہمارا پروردگار ہر عیب سے پاک ہے ، جو بادشاہ ہے ، اور پاک ہے ۔ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ) تو زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر چیز اس کو سن لیتی ہے ، صرف دو قسم کے گروہ ( یعنی جنات اور انسان ) اسے نہیں سن پاتے ہیں ، تو تم مرغ کو دیکھو گے کہ جب وہ اس آواز کو سنتا ہے ، تو وہ بھی اپنے پر مارتا ہے ، اور بانگ دیتا ہے ۔‘‘