Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 18

Book of Good Manners

Hadith 13290–13329

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13290

Majma al-Zawaid #13290

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَهُوَ حَسَنُ الْإِسْنَادِ لَوْ سَلِمَ مِنْ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Anas bin Malik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded that dust be thrown in the faces of habitual flatterers when they are seen. > **"When you see those who habitually praise people, throw dust in their faces."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم لوگ مدح کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن محمد بن قاسم بن ابوبزہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، یہ سند کے اعتبار سے حسن ہے اگر اس سے سلامت ہو ۔

13291

Majma al-Zawaid #13291

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْهِ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Amr رضي الله عنهما reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ command that dust be thrown in the faces of habitual flatterers when they are seen. > **"When you see those who habitually praise people, throw dust in their faces."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی دو اسناد میں سے ایک حسن ہے ۔

13292

Majma al-Zawaid #13292

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ وَمَعَهُ دِينُهُ، فَيَرْجِعُ وَمَا مَعَهُ شَيْءٌ مِنْهُ، يَأْتِي الرَّجُلُ لَا يَمْلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِهِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، فَيُقْسِمُ لَهُ بِاللَّهِ: لَأَنْتَ وَأَنْتَ. فَيَرْجِعُ مَا حَلَّ مِنْ حَاجَتِهِ بِشَيْءٍ، وَقَدْ أَسْخَطَ اللَّهَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Tariq bin Shihab reports that Abdullah رضي الله عنه said a man may leave his house with his religion intact and return with nothing of it left, when he goes to a man who controls neither harm nor benefit for him or for himself, yet swears by Allah to him in exaggerated praise and returns having secured some of his need while having earned the anger of Allah against himself. > **"You are such and such, you are such and such."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک شخص باہر نکلتا ہے ۔ اس کے ساتھ اس کا دین ہوتا ہے ، جب وہ واپس آتا ہے تو اس کے ساتھ دین میں سے کوئی چیز ( ساتھ ) نہیں ہوتی ، وہ کسی شخص کے پاس جاتا ہے ، جو اس کے لئے یا خود اپنے لئے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہیں ہوتا ، لیکن وہ اس شخص کے سامنے اللہ کے نام کی قسم اٹھا کے کہتا ہے کہ تم ہی تو ہو ، تم ہی ہو ، اور پھر وہ اپنی ضرورت پوری کروا کے واپس آتا ہے ، ایسی حالت میں کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13293

Majma al-Zawaid #13293

وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَمَدْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَحَامِدَ وَمَدْحٍ وَإِيَّاكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْمَدْحَ، هَاتِ مَا امْتَدَحْتَ بِهِ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى "". قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ آدَمَ، طُوَالًا، أَصْلَعَ، أَيْسَرَ أَعْسَرَ، قَالَ: فَاسْتَنْصَتَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَةَ كَيْفَ اسْتَنْصَتَهُ لَهُ، قَالَ: كَمَا صَنَعَ بِالْهِرِّ، فَدَخَلَ الرَّجُلُ فَتَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُنْشِدُهُ أَيْضًا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدُ، فَاسْتَنْصَتَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَهُ أَيْضًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَسْتَنْصِتُنِي لَهُ؟ فَقَالَ: "" هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ، هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا عِنْدَ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aswad bin Sari رضي الله عنه reports that he came to the Prophet ﷺ and said he had praised his Lord, Blessed and Exalted, with praises and had also composed praise for him. The Messenger of Allah ﷺ replied that his Lord loves praise and asked him to present what he had used to praise his Lord. The narrator began to recite to him, when a man sought permission to enter, wheat-colored, tall, bald in front, left-handed and strong-bodied. The Messenger of Allah ﷺ signaled him to be silent for the newcomer, gesturing as one does to a cat, as Abu Salamah described. The man entered, spoke for a while, then left. The narrator resumed his recitation, then the man returned and the Prophet ﷺ again signaled him to silence. He asked who the man was for whom he had been silenced, and the Prophet ﷺ identified him as one who does not love falsehood. > **"As for your Lord, Blessed and Exalted, He loves praise. Bring forth that with which you praised your Lord, Blessed and Exalted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میں نے اپنے پروردگار کی مختلف کلمات کے ذریعے حمد بیان کی ہے اور آپ کی مدح بیان کی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے پروردگار کی مدح کا تعلق ہے ، تو وہ مدح کو پسند کرتا ہے ، تم نے جن کلمات کے ذریعے اپنے پروردگار کی مدح بیان کی ہے ۔ وہ پیش کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کو اشعار سنانا شروع کیے ، ایک اور شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ گندمی رنگت کا طویل القامت شخص تھا ، جس کے آگے سے بال اڑے ہوئے تھے اور وہ لمبا تڑنگا اور مضبوط جسم کا مالک تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس کی وجہ سے مجھے خاموش کروا دیا ، یہاں ابوسلمہ نامی راوی نے یہ بات کر کے دکھائی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں کس طرح خاموش کروایا تھا ، یوں جس طرح بلی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اندر آیا ، تھوڑی دیر بات چیت کرتا رہا پھر چلا گیا ، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کو اشعار سنانے شروع کیے ، پھر تھوڑی دیر بعد وہ شخص دوبارہ واپس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے اس کے لئے خاموش کروا دیا ، اس کا طریقہ بھی راوی نے بیان کیا کہ پھر کس طرح خاموش کروایا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص کون ہے جس کی وجہ سے آپ نے مجھے خاموش کروایا ہے ، تو آپ نے فرمایا : یہ وہ شخص ہے جو باطل کو پسند نہیں کرتا ، یہ عمر بن خطاب ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کی نقل کردہ حدیث کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13294

Majma al-Zawaid #13294

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا أَحَدٌ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ; وَذَلِكَ أَنَّهُ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، وَمَا أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ ; وَذَلِكَ لِأَنَّهُ مَدَحَ نَفْسَهُ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ اعْتَذَرَ إِلَى خَلْقِهِ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْحَمْدُ مِنَ اللَّهِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ حَمِدَ نَفْسَهُ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ: "" «لَا أَغْيَرُ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ» "". فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادِ بْنِ نُمَيْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Masud رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that none is more jealous than Allah, for which reason He forbade shameful deeds, and none loves praise more than Allah, for which reason He praised Himself, and none loves acceptance of excuses more than Allah, for which reason He accepts excuses from His creation, and none loves glorification more than Allah, for which reason He glorified Himself. > **"There is none more jealous than Allah, and that is why He forbade shameful deeds, and there is none to whom praise is more beloved than Allah, and that is why He praised Himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غصے والا اور کوئی نہیں ہے اسی وجہ سے اس نے فحش چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ تعریف کسی اور کے نزدیک زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، اسی لئے اس نے اپنی مدح بیان کی ہے اور کسی کے نزدیک عذر قبول کرنا ، اللہ تعالیٰ سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، اسی وجہ سے وہ اپنی مخلوق کی طرف سے عذر قبول کرتا ہے ، اور کسی کے نزدیک حمد اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، اسی وجہ سے اس نے اپنی حمد خود بیان کی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں صرف یہ کلمات مذکور ہیں :’’ کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غصے والا اور کوئی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ مدح اور کسی کو پسند نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حماد بن نمیر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13295

Majma al-Zawaid #13295

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُنْشِدُكَ؟ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَنْشَدَهُ الرَّابِعَةَ مَدِيحَهُ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ كَانَ أَحَدٌ مِنَ الشُّعَرَاءِ يُحْسِنُ فَقَدْ أَحْسَنْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ubadah bin al-Samit رضي الله عنه reports that a man of Banu Layth came to the Prophet ﷺ and asked three times whether he might recite to him, then on the fourth occasion recited his praise of him. The Messenger of Allah ﷺ responded that if any poet spoke well, then he had spoken well. > **"If any of the poets has spoken well, then you have spoken well."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنولیث سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کو شعر سناؤں ، اس نے تین مرتبہ آپ کو اشعار سنائے ۔ یہ بات کہی ، جب چوتھی مرتبہ اس نے نبی اکرم ﷺ کی مدح بیان کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر شاعروں میں سے کوئی اچھی بات کرتا ہے ، تو تم نے اچھی بات کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

13296

Majma al-Zawaid #13296

وَعَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَدَحَنِي فِي وَجْهِي وَقَالَ: إِنَّهُ حَمَلَنِي عَلَى أَنْ أَمْدَحَكَ فِي وَجْهِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِذَا مُدِحَ الْمُؤْمِنُ فِي وَجْهِهِ رَبَا الْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Khallad bin al-Saib reports that he visited Usamah bin Zayd رضي الله عنهما, who praised him to his face and explained that he was moved to do so because he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that faith increases in the heart of a believer when he is praised to his face. > **"When the believer is praised to his face, faith grows in his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خلاد بن سائب بیان کرتے ہیں : میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے میرے سامنے میری تعریف بیان کی اور بولے : میں نے تمہارے سامنے تعریف اس لئے بیان کی ہے کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب مومن کے سامنے اس کی تعریف بیان کی جائے تو اس کے دل میں ایمان بڑھ جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13297

Majma al-Zawaid #13297

عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي لَا عَقْرَبٍ قَالَ: «سُئِلَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ؟ قَالَتْ: كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Nawfal bin Abi Aqrab reports that Aishah رضي الله عنها was asked whether poetry was listened to in the presence of the Messenger of Allah ﷺ, and she replied that it was the most hateful discourse to him. > **"It was the most hateful discourse to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونوفل بن ابوعقرب بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا : کیا نبی اکرم ﷺ کے سامنے شعر سنے جاتے تھے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : وہ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ کلام ہوتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13298

Majma al-Zawaid #13298

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ إِبْلِيسَ لَمَّا أُنْزِلَ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ: يَا رَبِّ أَنْزَلْتَنِي إِلَى الْأَرْضِ وَجَعَلْتَنِي رَجِيمًا - أَوْ كَمَا ذَكَرَ - فَاجْعَلْ لِي بَيْتًا. قَالَ: بَيْتُكَ الْحَمَّامُ. قَالَ: فَاجْعَلْ لِي مَجْلِسًا. قَالَ: الْأَسْوَاقُ وَمَجَامِعُ الطُّرُقِ. قَالَ: اجْعَلْ لِي طَعَامًا. قَالَ: طَعَامُكَ مَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ. قَالَ: اجْعَلْ لِي شَرَابًا. قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ. قَالَ: اجْعَلْ لِي مُؤَذِّنًا. قَالَ: الْمَزَامِيرُ. قَالَ: اجْعَلْ لِي قُرْآنًا. قَالَ: الشِّعْرُ. قَالَ: اجْعَلْ لِي كِتَابًا. قَالَ: الْوَسْمُ. قَالَ: اجْعَلْ لِي حَدِيثًا. قَالَ: الْكَذِبُ. قَالَ: اجْعَلْ لِي مَصَايِدَ. قَالَ: النِّسَاءُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ لِهَذَا طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when Iblis was sent down to the earth he asked his Lord, having been sent down and made accursed, to appoint for him a house, a council, food, drink, a caller, a recitation, a book, discourse, and snares. His Lord appointed the bathhouse as his house, the marketplaces and gatherings on roads as his council, whatever Allah's name is not mentioned over as his food, every intoxicant as his drink, wind instruments as his caller, poetry as his recitation, branding as his book, lying as his discourse, and women as his snares. > **"Your house is the bathhouse, your council is the marketplaces and gatherings on roads, your food is that over which the name of Allah is not mentioned, your drink is every intoxicant, your caller is wind instruments, your recitation is poetry, your book is branding, your discourse is lying, and your snares are women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب ابلیس کو زمین کی طرف اتارا گیا تو اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار تو نے مجھے زمین کی طرف اتار دیا ہے ، اور تو نے مجھے مردود بنا دیا ہے ، تو میرے لئے کوئی گھر بنا دے ! پرودگار نے فرمایا : تمہارا گھر حمام ہو گا ، اس نے کہا : تو میرے لئے کوئی مجلس بنا دے ، پروردگار نے فرمایا : وہ بازار اور راستے ہوں گے ، اس نے کہا : تو میرے لئے کھانا مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : تمہارا کھانا وہ ہو گا جس پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہو گا ، اس نے کہا : تو میرے لئے مشروب مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : ہر نشہ آور چیز اس نے کہا : تو میرے لئے اعلان کرنے والا مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : آلات موسیقی ، اس نے کہا : تو میرے لئے پڑھی جانے والی چیز مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : شاعری ، اس نے کہا : تو میرے لے تحریر مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : داغ لگانا ، اس نے کہا : تو میرے لئے بات مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : جھوٹ ، اس نے کہا : تو میرے لے پھانسنے کے آلات مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : عورتیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کتاب الایمان میں اس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔

13299

Majma al-Zawaid #13299

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «امْرُؤُ الْقَيْسِ صَاحِبُ لِوَاءِ الشُّعَرَاءِ إِلَى النَّارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْجُهَيْمِ شَيْخُ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said Imru al-Qays will be the bearer of the banner of the poets toward the Fire. > **"Imru al-Qays is the bearer of the banner of the poets toward the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ امرءالقیس جہنم کی طرف جانے والوں شاعروں کا علم بردار ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجہیم ہے جو ہشیم بن بشیر کا استاد ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13300

Majma al-Zawaid #13300

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا رَفَعَ رَجُلٌ صَوْتَهُ بِعَقِيرَةِ غِنَاءٍ إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ شَيْطَانَيْنِ يَجْلِسَانِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، يَضْرِبَانِ بِأَعْقَابِهِمَا عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى يَسْكُتَ مَتَى سَكَتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا وُثِّقُوا وَضُعِّفُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said whenever a man raises his voice in prolonged singing, Allah sends two devils who sit upon his shoulders and strike his chest with their heels until he falls silent, whenever he falls silent. > **"No man raises his voice in prolonged singing except that Allah sends two devils who sit upon his shoulders and strike his chest with their heels until he falls silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب بھی کوئی شخص گانے کے لیے آواز بلند کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ دو شیطانوں کو بھیجتا ہے ، جو اس کے دونوں کندھوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی ایڑیوں کے ذریعے اس کے سینے پر ضرب لگاتے رہتے ہیں ، اور اس وقت تک لگاتے رہتے ہیں جب تک وہ خاموش نہیں ہو جاتا خواہ وہ جب بھی خاموش ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور بعض کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔

13301

Majma al-Zawaid #13301

وَعَنْ كَيْسَانَ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ: خَطَبَنَا مُعَاوِيَةُ فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ سَبْعٍ، وَأَنَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُنَّ أَلَا إِنَّ مِنْهُنَّ: النَّوْحُ، وَالْغِنَاءُ، وَالتَّصَاوِيرُ، وَالشِّعْرُ، وَالذَّهَبُ، وَالْخَزُّ، وَالسُّرُوجُ، وَالْحَرِيرُ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kaysan, the freedman of Muawiyah, reports that Muawiyah رضي الله عنه addressed them and said the Messenger of Allah ﷺ had forbidden seven things and that he too forbade them, among them wailing, singing, images, poetry, gold, khazz, saddles, and silk. > **"The Messenger of Allah forbade seven things, and I forbid you from them: wailing, singing, images, poetry, gold, khazz, saddles, and silk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام کیسان بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ’’ بے شک اللہ کے رسول نے سات چیزوں سے منع فرمایا ہے اور میں بھی تمہیں ان چیزوں سے منع کرتا ہوں ، خبردار ! ان چیزوں میں نوحہ ، گانا بجانا ، تصویر بنانا ، شاعری کرنا ، سونا ، خز ، زین اور ریشم شامل ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام نسائی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

13302

Majma al-Zawaid #13302

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَالَ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ إِلَّا خَلَّادَ بْنَ يَحْيَى.

EnglishUnverified translation

Umar bin al-Khattab رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that it is better for a man that his belly be filled with pus than that it be filled with poetry. > **"That the belly of one of you be filled with pus is better for him than that it be filled with poetry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کسی ایک شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے ، یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، وہ فرماتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق خلاد بن یحیی کے علاوہ اور کسی نے اس کو مسند روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ۔

13303

Majma al-Zawaid #13303

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ «أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ وَحُنَيْنَ وَالطَّائِفَ، وَكَانَ رَجُلًا شَاعِرًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنِي فِي الشِّعْرِ. فَقَالَ: "" لَأَنْ يَمْتَلِئَ مَا بَيْنَ لُبَّتِكَ إِلَى عَانَتِكَ قَيْحًا، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، امْسَحْ عَلَى رَأْسِي. فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي، فَمَا قُلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بَيْتَ شِعْرٍ. وَلَقَدْ عُمِّرَ مَالِكٌ حَتَّى شَابَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ وَقَالَ: "" قَيْحًا وَصَدِيدًا "". وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Malik bin Umayr رضي الله عنه reports that he was present with the Messenger of Allah ﷺ at the Conquest, Hunayn, and Taif, being a poet, and he asked for a ruling concerning poetry. The Prophet ﷺ replied that it would be better for the space between his throat and his navel to be filled with pus than with poetry. He then asked the Prophet ﷺ to wipe his head, so he placed his hand upon his head, after which he never uttered a line of poetry. Malik lived long until his head and beard turned white, except for the place where the hand of the Messenger of Allah ﷺ had rested. > **"That what is between your throat and your navel be filled with pus is better for you than that it be filled with poetry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ فتح مکہ ، غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں شرکت کی ہے ۔ وہ ایک شاعر شخص تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے شعر کے بارے میں حکم بیان کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری گردن سے لے کے تمہاری ناف کے نچلے حصے تک کی جگہ پیپ سے بھر جائے ، یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھری ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے سر پر ہاتھ پھیریے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد میں نے کبھی شعر کا ایک مصرعہ بھی نہیں کہا ، راوی بیان کرتے ہیں : حضرت مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ کی عمر طویل ہوئی تھی ، یہاں تک کہ ان کے سر کے اور داڑھی کے تمام بال سفید ہو گئے تھے ، لیکن وہ مقام سفید نہیں ہوا تھا جہاں نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک رکھا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ پیپ اور خون آلود پیپ ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13304

Majma al-Zawaid #13304

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يُرِيَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salman رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said it is better for a man that his belly be filled with pus until it satiates him than that it be filled with poetry. > **"That the belly of one of you be filled with pus until it fills him is better for him than that it be filled with poetry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کسی ایک شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے ، یہاں تک کہ اسے سیر کر دے وہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ شاعری سے بھر جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سفیان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13305

Majma al-Zawaid #13305

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا أَوْ دَمًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا هُجِيتُ بِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said it is better for a man that his belly be filled with pus or blood than that it be filled with poetry by which he was satirized. > **"That the belly of one of you be filled with pus or blood is better for him than that it be filled with poetry by which I was satirized."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کسی ایک شخص کا پیٹ پیپ یا خون سے بھر جائے ، یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ ایسے اشعار سے بھرا ہو جن کے ذریعے ہجو کی گئی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13306

Majma al-Zawaid #13306

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرَاهُ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that it is better for a man that his belly be filled with pus until it is full than that it be filled with poetry. > **"That the belly of one of you be filled with pus until he sees it full is better than that it be filled with poetry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کسی ایک شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے ، یہاں تک کہ وہ مکمل بھر جائے ، یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عمرو ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13307

Majma al-Zawaid #13307

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعُتَبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda and Utbah bin Abd رضي الله عنهما both report that the Messenger of Allah ﷺ said it is better for a man that his belly be filled with pus than that it be filled with poetry. > **"That the belly of one of you be filled with pus is better than that it be filled with poetry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ اور حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ یہ دونوں بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کسی ایک شخص کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا ، اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھر جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13308

Majma al-Zawaid #13308

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ مِنْ عَانَتِهِ إِلَى لِهَاتِهِ قَيْحًا يَتَخَضْخَضُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Awf bin Malik رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say it is better for a man that his belly be filled with agitated pus from his navel to his throat than that it be filled with poetry. > **"That the belly of one of you be filled from his navel to his throat with agitated pus is better for him than that it be filled with poetry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم میں سے کسی ایک شخص کے پیٹ کا ، پیٹ کے زیریں حصے سے لے کر گردن تک پیپ سے بھر جانا ، جو اچھی طرح سے بھرا ہوا ہو ، یہ اس کے حق میں اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھر جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13309

Majma al-Zawaid #13309

وَعَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ -: «لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي الزَّعْرَاءِ وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Zara reports that Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, said it is better for a man that his belly be filled with pus than that it be filled with poetry. > **"That the belly of a man be filled with pus is better for him than that it be filled with poetry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزعراء بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھر جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوزعراء کا معاملہ مختلف ہے ۔ اس کا نام عبداللہ بن ہانی ہے ، عجلی اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13310

Majma al-Zawaid #13310

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ مَثَّلَ بِالشِّعْرِ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَلَاقٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ said whoever composes affected poetry will have no share with Allah. > **"Whoever fashions speech into poetry will have no share with Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص شعر موزوں کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13311

Majma al-Zawaid #13311

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: «كُنَّا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَغَنَّيَانِ، وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ وَهُوَ يَقُولُ: لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَلُوحُ عِظَامُهُ ... زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْظُرُوا مَنْ هُمَا "". قَالَ: فَقَالُوا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ أَرْكِسْهُمَا رَكْسًا، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا». رَوَاهُ أَحْمَدُ (وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: نَظَرَ إِلَى رَجُلَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ يَتَمَثَّلَانِ بِهَذَا الشِّعْرِ فِي حُجْرَةٍ. وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ)، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Barzah رضي الله عنه reports that they were with the Prophet ﷺ on a journey when he heard two men singing, one answering the other with the verse that his companion remained with his bones exposed after war had withdrawn from him only to be hidden and buried. The Prophet ﷺ asked who they were, and when told they were so-and-so, he supplicated against them to be overturned and thrust into the Fire. > **"O Allah, overturn them both with an overturning, and thrust them into the Fire with a thrusting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے آپ نے دو افراد کو سنا وہ دونوں گنگنا رہے تھے ، ان میں سے ایک دوسرے کو جواب دے رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا : ’’ میرا ساتھی ایسا رہا ، کہ اس کی ہڈیاں چمک رہی تھیں ، جب جنگ اُس سے ہٹی ، تو اس کا یہ عالم ہوا کہ اس کو قبر میں چھپا دیا گیا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگ جائزہ لو ! کہ یہ دونوں کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ فلاں ہے اور فلاں ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان دونوں کو اوندھا کر دے اور انہیں جہنم کی طرف لے جا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد کے دن دو افراد کی طرف دیکھا جو ایک حجرے میں یہ شعر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے ۔ امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

13312

Majma al-Zawaid #13312

وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، إِذْ سَمِعَ صَوْتَ غِنَاءٍ فَقَالَ: "" مَا هَذَا؟ "". فَنَظَرُوا فَإِذَا رَجُلٌ يُطَارِحُ رَجُلًا الْغِنَاءَ: لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَلُوحُ عِظَامُهُ ... زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَرْكِسْهُمَا فِي النَّارِ فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا، وَدُعَّهُمَا إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Muttalib bin Rabiah رضي الله عنه reports that while the Messenger of Allah ﷺ was on one of his journeys, he heard the sound of singing and asked what it was. They looked and found one man challenging another in song with the verse that his companion remained with his bones exposed after war had withdrawn from him only to be hidden and buried. The Prophet ﷺ then supplicated that they be overturned in the Fire in tribulation and thrust toward Hell. > **"O Allah, overturn them both in the Fire in tribulation with an overturning, and thrust them to the Fire of Hell with a thrusting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے اسی دوران آپ نے کسی کے گانے کی آواز سنی ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے دیکھا تو ایک شخص دوسرے شخص کو گا کر یہ سنا رہا تھا : ’’ میرا ساتھی ایسا رہا ، کہ اس کی ہڈیاں چمک رہی تھیں ، جب جنگ اُس سے ہٹی ، تو اس کا یہ عالم ہوا کہ اس کو قبر میں چھپا دیا گیا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان دونوں کو آگ میں ، فتنے میں اوندھا کر دے ، اور انہیں جہنم کی آگ کی طرف لے جا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13313

Majma al-Zawaid #13313

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَغَنَّيَانِ، وَهُمَا يَقُولَانِ: لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَزُولُ عِظَامُهُ ... زَوَى الْحَرْبُ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَسَأَلَ عَنْهُمَا، فَقِيلَ لَهُ: مُعَاوِيَةٌ وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الْعَاصِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ أَرْكِسْهُمَا فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ النَّخَعِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ heard the voices of two men singing the verse that his companion remained with his bones departing after war had withdrawn from him only to be hidden and buried. When he asked about them he was told they were Muawiyah and Amr bin al-As, so he supplicated that they be overturned in tribulation and thrust into the Fire. > **"O Allah, overturn them both in tribulation with an overturning, and thrust them into the Fire with a thrusting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دو افرد کی آواز سنی وہ دونوں گا رہے تھے اور وہ دونوں یہ گا رہے تھے : ’’ میرا ساتھی ایسا رہا ، کہ اس کی ہڈیاں چمک رہی تھیں ، جب جنگ اُس سے ہٹی ، تو اس کا یہ عالم ہوا کہ اس کو قبر میں چھپا دیا گیا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو بتایا گیا : معاویہ اور عمرو بن ابوالعاص ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان دونوں کو اوندھا کر دے اور انہیں جہنم کی طرف لے جا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سوادہ نخعی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13314

Majma al-Zawaid #13314

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَحِلُّ بَيْعُ الْمُغَنِّيَاتِ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ وَلَا التِّجَارَةُ فِيهِنَّ، وَأَثْمَانُهُنَّ حَرَامٌ وَالِاسْتِمَاعُ إِلَيْهِنَّ فِتْنَةٌ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" وَالِاسْتِمَاعُ إِلَيْهِنَّ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports from the Messenger of Allah ﷺ that selling singing women, buying them, trading in them, and their prices are unlawful, and that listening to them is tribulation. > **"It is not lawful to sell singing women, nor to buy them, nor to trade in them, and their prices are unlawful, and listening to them is tribulation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ گانے والی عورتوں کو فروخت کرنا اور انہیں خریدنا حلال نہیں ہے ، ان کی تجارت حلال نہیں ہے ، ان کی قیمت حرام ہے ، اور ان کو سننا فتنہ ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ان کو سننا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13315

Majma al-Zawaid #13315

وَعَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَطُوفُونَ وَهُمْ يَقُولُونَ: الْيَوْمَ فَرَّ عَيْنًا ... تَقْرَعُ الْمَرْوَتَيْنَا رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Siba bin Thabit رضي الله عنه reports that he heard the people of the pre-Islamic age circumambulating while chanting that today the gazelle flees with wide eyes and strikes the two Marwas. > **"Today the gazelle flees with wide eyes and strikes the two Marwas."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سباع بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو سنا ہے کہ وہ طواف کرتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے ہوتے تھے : آج کے دن وہ کھلے عام فرار ہو جائے گا اور ہمارے مروہ کو کھٹکھٹائے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13316

Majma al-Zawaid #13316

عَنْ شَدَّادٍ - يَعْنِي ابْنَ أَوْسِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قَرَضَ بَيْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ تِلْكَ اللَّيْلَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddad, meaning Ibn Aws رضي الله عنه, reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever composes a line of poetry after the last night prayer will have no prayer accepted from him that night. > **"Whoever composes a line of poetry after the last Isha prayer, no prayer will be accepted from him that night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص عشاء کی نماز کے بعد شعر کا ایک مصرعہ پڑھتا ہے ۔ اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید باہلی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13317

Majma al-Zawaid #13317

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشِّعْرِ فَقَالَ: "" هُوَ كَلَامٌ فَحَسَنُهُ حَسَنٌ وَقَبِيحُهُ قَبِيحٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانِ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ was asked about poetry and replied that it is speech, so its good is good and its ugly is ugly. > **"It is speech, so its good is good and its ugly is ugly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ سے شعر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : وہ کلام ہے ۔ اس میں سے اچھا اچھا ہو گا ، اور برا برا ہو گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے ، جسے دحیم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13318

Majma al-Zawaid #13318

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الشِّعْرُ بِمَنْزِلَةِ الْكَلَامِ، فَحَسَنُهُ كَحَسَنِ الْكَلَامِ، وَقَبِيحُهُ كَقَبِيحِ الْكَلَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said poetry holds the place of speech, so its good is like the good of speech and its ugly is like the ugly of speech. > **"Poetry holds the place of speech, so its good is like the good of speech and its ugly is like the ugly of speech."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شعر کلام کی جگہ ہے ، اس میں سے اچھا ( شعر ) اچھے کلام کی مانند ہے اور اس میں سے برا ( شعر ) برے کلام کی مانند ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور اس کی سند حسن ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13319

Majma al-Zawaid #13319

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كُلِّ شِعْرٍ جَاهِلِيٍّ إِلَّا قَصِيدَتَيْنِ لِلْأَعْشَى زَعَمَ أَنَّهُ أَشْرَكَ فِيهِمَا».

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ permitted them all pre-Islamic poetry except two qasidas of al-Asha, in which, as the narrator claims, he committed polytheism. > **"I permit you all pre-Islamic poetry except the two qasidas of al-Asha."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں زمانہ جاہلیت کے ہر شعر ( کو سنانے یا سننے ) کی اجازت دی تھی ، البتہ دو قصیدوں کی اجازت نہیں دی تھی جو اعشی کے ہیں ، راوی کا یہ کہنا ہے کہ ان دونوں قصائد میں اس شخص نے شرک کیا ہے ۔

13320

Majma al-Zawaid #13320

وَفِي رِوَايَةٍ: «رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شِعْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، إِلَّا قَصِيدَتَيْنِ لِلْأَعْشَى إِحْدَاهُمَا فِي أَهْلِ بَدْرٍ، وَالْأُخْرَى فِي عَامِرٍ وَعَلْقَمَةَ». رَوَاهُ كُلُّهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا مَنْ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, the Messenger of Allah ﷺ permitted the poetry of the pre-Islamic age except for two qasidas of al-Asha, one concerning the people of Badr and the other concerning Amir and Alqamah. > **"I permit the poetry of the pre-Islamic age except for the two qasidas of al-Asha, one concerning the people of Badr and the other concerning Amir and Alqamah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے زمانہ جاہلیت کی شاعری کی اجازت دی تھی البتہ اعشی کے دو قصیدوں کا معاملہ مختلف ہے ، ان میں سے ایک اہل بدر کے بارے میں ہے ، اور دوسرا عامر اور علقمہ کے بارے میں ہے ۔ یہ تمام روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، ان دونوں کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن کے ذریعے حجت قائم نہیں ہو سکتی ۔

13321

Majma al-Zawaid #13321

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ أَحْدَثَ هِجَاءً فِي الْإِسْلَامِ فَاقْطَعُوا لِسَانَهُ». قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: مَعْنَاهُ: مَنْ هَجَا الْإِسْلَامَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that whoever introduces satire into Islam, his tongue should be cut off. Abdullah bin Ahmad bin Hanbal explained the meaning as whoever satirizes Islam. > **"Whoever introduces satire into Islam, cut off his tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اسلام کی ہجو کرتا ہے ، اس کی زبان کاٹ دو ۔‘‘ عبداللہ بن احمد بن حنبل کہتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام کی ہجو کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

13322

Majma al-Zawaid #13322

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قَالَ فِي الْإِسْلَامِ شِعْرًا مُقْذِعًا فَلِسَانُهُ هَدَرٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever utters obscene poetry concerning Islam, his tongue is wasted. > **"Whoever utters obscene poetry in Islam, his tongue is wasted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے اسلام کے بارے میں کوئی فحش شعر کہا اس کی زبان رائیگاں جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

13323

Majma al-Zawaid #13323

وَعَنْ غُضَيْفِ بْنِ أَبِي غُضَيْفٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَحْدَثَ هِجَاءً فِي الْإِسْلَامِ فَاقْطَعُوا لِسَانَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ghudayf bin Abi Ghudayf, a Companion of the Prophet ﷺ, reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever introduces satire into Islam, his tongue should be cut off. > **"Whoever introduces satire into Islam, cut off his tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت غضیف بن ابوغضیف رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں وہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اسلام کے بارے میں ہجو کرے اس کی زبان کاٹ دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

13324

Majma al-Zawaid #13324

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said some poetry contains wisdom. > **"Indeed, part of poetry is wisdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسام بن مصک ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

13325

Majma al-Zawaid #13325

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ said some poetry contains wisdom. > **"Indeed, part of poetry is wisdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ بے شک بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن حرب موصلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13326

Majma al-Zawaid #13326

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ طَاهِرٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said some poetry contains wisdom. > **"Indeed, part of poetry is wisdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکره رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر بن طاہر ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13327

Majma al-Zawaid #13327

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ [بْنِ عَمْرِو] بْنِ عَوْفٍ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr bin Awf رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say some poetry contains wisdom. > **"Indeed, part of poetry is wisdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13328

Majma al-Zawaid #13328

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَزْرَقُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that some eloquent speech is magic and some poetry is wisdom. > **"Indeed, part of eloquent speech is surely magic, and indeed, part of poetry is wisdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، اور بے شک بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل ازرق ہے اور وہ متروک ہے ۔

13329

Majma al-Zawaid #13329

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اهْجُوا بِالشِّعْرِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ كَأَنَّمَا تَنْصَحُوهُمْ بِالنَّبْلِ».

EnglishUnverified translation

Kab bin Malik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said to lampoon the polytheists in verse, for the believer strives with his self and his wealth, and by the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, it strikes them as arrows do. > **"Lampoon them in verse, for the believer strives with his self and his wealth, and by the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, it is as if you pierce them with arrows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم شاعری کے ذریعے ( مشرکین کی ) ہجو کرو ! بے شک مومن اپنے مال اور جان کے ذریعے جہاد کرتا ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، یہ یوں ہے جیسے تم انہیں تیر مارتے ہو ۔‘‘