وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ إِبْلِيسَ لَمَّا أُنْزِلَ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ: يَا رَبِّ أَنْزَلْتَنِي إِلَى الْأَرْضِ وَجَعَلْتَنِي رَجِيمًا - أَوْ كَمَا ذَكَرَ - فَاجْعَلْ لِي بَيْتًا. قَالَ: بَيْتُكَ الْحَمَّامُ. قَالَ: فَاجْعَلْ لِي مَجْلِسًا. قَالَ: الْأَسْوَاقُ وَمَجَامِعُ الطُّرُقِ. قَالَ: اجْعَلْ لِي طَعَامًا. قَالَ: طَعَامُكَ مَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ. قَالَ: اجْعَلْ لِي شَرَابًا. قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ. قَالَ: اجْعَلْ لِي مُؤَذِّنًا. قَالَ: الْمَزَامِيرُ. قَالَ: اجْعَلْ لِي قُرْآنًا. قَالَ: الشِّعْرُ. قَالَ: اجْعَلْ لِي كِتَابًا. قَالَ: الْوَسْمُ. قَالَ: اجْعَلْ لِي حَدِيثًا. قَالَ: الْكَذِبُ. قَالَ: اجْعَلْ لِي مَصَايِدَ. قَالَ: النِّسَاءُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ لِهَذَا طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ.
EnglishUnverified translation
Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when Iblis was sent down to the earth he asked his Lord, having been sent down and made accursed, to appoint for him a house, a council, food, drink, a caller, a recitation, a book, discourse, and snares. His Lord appointed the bathhouse as his house, the marketplaces and gatherings on roads as his council, whatever Allah's name is not mentioned over as his food, every intoxicant as his drink, wind instruments as his caller, poetry as his recitation, branding as his book, lying as his discourse, and women as his snares. > **"Your house is the bathhouse, your council is the marketplaces and gatherings on roads, your food is that over which the name of Allah is not mentioned, your drink is every intoxicant, your caller is wind instruments, your recitation is poetry, your book is branding, your discourse is lying, and your snares are women."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب ابلیس کو زمین کی طرف اتارا گیا تو اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار تو نے مجھے زمین کی طرف اتار دیا ہے ، اور تو نے مجھے مردود بنا دیا ہے ، تو میرے لئے کوئی گھر بنا دے ! پرودگار نے فرمایا : تمہارا گھر حمام ہو گا ، اس نے کہا : تو میرے لئے کوئی مجلس بنا دے ، پروردگار نے فرمایا : وہ بازار اور راستے ہوں گے ، اس نے کہا : تو میرے لئے کھانا مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : تمہارا کھانا وہ ہو گا جس پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہو گا ، اس نے کہا : تو میرے لئے مشروب مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : ہر نشہ آور چیز اس نے کہا : تو میرے لئے اعلان کرنے والا مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : آلات موسیقی ، اس نے کہا : تو میرے لئے پڑھی جانے والی چیز مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : شاعری ، اس نے کہا : تو میرے لے تحریر مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : داغ لگانا ، اس نے کہا : تو میرے لئے بات مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : جھوٹ ، اس نے کہا : تو میرے لے پھانسنے کے آلات مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : عورتیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کتاب الایمان میں اس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔