وَعَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ أَوْ أَبِي مَعْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ كُلُّ قَوْمٍ فَلْيُؤْذِنُونِي "". قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ، فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مُقْتَصِرٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ، وَنَحْوَ هَذَا. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَامَ، فَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا فَقُلْنَا: خَصَّنَا اللَّهُ (بِهِ) أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَإِنْ فَعَلَ وَفَعَلَ. قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا شَاءَ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا "". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَأَمَرَنَا وَكَلَّمَنَا وَعَلَّمَنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ سُهَيْلِ بْنِ ذِرَاعٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثٌ فِي قَوْلِهِ: "" «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا» "".
EnglishUnverified translation
Man bin Yazid, or Abu Man رضي الله عنه, reports that the Messenger of Allah ﷺ instructed the people to gather in their mosques and to notify him when each group had assembled. The narrator says they gathered earliest and went to him, and he walked with them until he sat with them. A speaker among them then spoke with contrived praise of Allah, saying all praise belongs to Allah with none before Him restricting praise and no outlet beyond Him, and words to that effect. The Messenger of Allah ﷺ became angry and rose, so they blamed one another and said Allah had singled them out by his coming to them first among the people, yet such and such had happened. They then came to him and found him in the mosque of such-and-such tribe, spoke with him, and he returned walking with them until he sat in the sitting place where he had been or near it. He then praised Allah in plain words, placing what He willed before Him and what He willed behind Him, and noted the magical effect of eloquence. He then turned to them, commanded them, conversed with them, and taught them. > **"All praise belongs to Allah. Whatever He wills He places before Him, and whatever He wills He places behind Him, and indeed, part of eloquent speech is magic."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت معن بن یزید یا شاید حضرت ابومعن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنی مساجد میں اکٹھے ہو جاؤ ، جب سب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع دینا ، راوی کہتے ہیں : ہم سب لوگ اکٹھے ہوئے پھر ہم آپ کے پاس آئے ، تو آپ ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے اور ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے ، ہم میں سے کسی نے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس سے پہلے حمد پر اکتفاء کرنے والا کوئی نہیں ہے ، اور اس سے آگے کوئی راستہ نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے اور کھڑے ہو گئے ، ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کی ، ہم نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے حوالے سے خصوصیت عطا کی ہے کہ آپ لوگوں میں سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے تھے ، لیکن پھر یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم آپ کے پاس آئے ، ہم نے آپ کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا ، ہم نے آپ کے ساتھ بات چیت کی تو آپ چلتے ہوئے ہمارے ساتھ تشریف لے آئے ، یہاں تک کہ آپ اسی محفل میں تشریف فرما ہوئے جہاں آپ پہلے تشریف فرما تھے ، یا اس جگہ کے قریب تشریف فرما ہوئے ، آپ نے فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔ اس نے جو چاہا وہ اپنے آگے رکھا اور جو چاہا اپنے پیچھے کیا اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ہمیں احکام بیان کئے ، آپ نے ہمارے ساتھ بات چیت کی ، ہمیں تعلیمات دیں ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سہیل بن ذراع کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ’’ بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ، اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ) ‘‘ یہ حدیث آگے چل کے آئیں گی ۔