Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 17

Book of Good Manners

Hadith 13250–13289

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13250

Majma al-Zawaid #13250

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقًا يَبُثُّهُمْ تَحْتَ اللَّيْلِ كَيْفَ شَاءَ، فَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ، وَغَطُّوا الْإِنَاءَ، فَإِنَّهُ لَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ described a creation of Allah spread beneath the night as He wills, and commanded tying waterskins, closing doors, and covering vessels, for none of them can open a door, uncover a covering, or loosen a tie, as quoted below. > **"Allah has a creation which He spreads beneath the night as He wills. Tie the waterskin, close the doors, and cover the vessel, for none opens a door, nor uncovers a covering, nor loosens a tie."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جسے وہ رات ہونے پر پھیلا دیتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے ، تو تم مشکیزوں کے منہ بند کر دو ، دروازے بند کرو ، برتنوں کو ڈھانپ دو کیونکہ وہ ( مخلوق میں سے کوئی فرد ) کوئی دروازہ کھول نہیں سکتا ، کسی ڈھانپی ہوئی چیز پر سے ہٹا نہیں سکتا اور کسی بند مشکیزے کا منہ کھول نہیں سکتا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13251

Majma al-Zawaid #13251

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِرْتَاجِ الْبَابِ، وَأَنْ نُخَمِّرَ الْآنِيَةَ، وَأَنْ نُوكِيَ السِّقَاءَ، وَأَنْ نُطْفِئَ السِّرَاجَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ كُهَيْلًا أَبَا سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ali, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded them to bolt the door, cover vessels, tie the waterskin, and extinguish the lamp.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ( ہم رات کو سونے سے پہلے ) دروازے بند کر دیں ، برتن ڈھانپ دیں ، مشکیزوں کے منہ بند کر دیں اور چراغ بجھا دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عباس کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ کہیل ابوسلمہ بن کہیل کا معاملہ مختلف ہے ، اس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13252

Majma al-Zawaid #13252

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - قَالَ: "" «إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تَنْتَشِرُ فِيهَا الشَّيَاطِينُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, radiya Allahu anhuma, conveyed with doubt whether raised to the Prophet ﷺ, that when the sun has set children should be restrained, for it is an hour in which devils spread, as quoted below. > **"When the sun has set, restrain your children, for it is an hour in which the devils spread."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے شاید مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ جب سورج غروب ہو جائے تو اپنے بچوں کو ( گھروں میں ) روک لو کیونکہ وہ ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے ، جس میں شیاطین پھیل جاتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13253

Majma al-Zawaid #13253

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ لِحَاجَتِهِ مِنَ اللَّيْلِ وَتَرَكَ الْبَابَ مَفْتُوحًا، ثُمَّ رَجَعَ فَوَجَدَ إِبْلِيسَ قَائِمًا فِي وَسَطِ الْبَيْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْسَأْ يَا خَبِيثُ مِنْ بَيْتِي "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا خَرَجْتُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ بِاللَّيْلِ فَأَغْلِقُوا أَبْوَابَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wahshi ibn Harb, radiya Allahu anhu, reported that the Prophet ﷺ went out at night for a need and left the door open, then returned to find Iblis standing in the middle of the house. The Prophet ﷺ ordered him away from his house as an evil one, then instructed that doors be locked when leaving houses at night, as quoted below. > **"Away from my house, O evil one. When you leave your houses at night, lock their doors."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم ﷺ رات کے وقت کسی کام کے سلسلے میں باہر تشریف لے گئے ، آپ دروازے کو کھلا ہوا چھوڑ گئے ، جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ نے ابلیس کو پایا کہ وہ گھر کے درمیان میں کھڑا ہوا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے خبیث میرے گھر سے دور ہو جاؤ ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم لوگ رات کے وقت اپنے گھروں سے نکلو تو ان کے دروازے بند کر دیا کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13254

Majma al-Zawaid #13254

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - وَذَكَرَ حَدِيثًا «فِيمَا يَقْتُلُهُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ - فَقِيلَ لَهُ: وَمَا شَأْنُ الْفَأْرَةِ؟ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَيْقَظَ وَقَدْ أَخَذَتِ الْفَتِيلَةَ وَصَعَدَتْ بِهَا إِلَى السَّقْفِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, radiya Allahu anhu, in the course of a narration concerning what a pilgrim in Ihram may kill, was asked about the mouse and explained that the Prophet ﷺ once awoke to find it had seized the wick and carried it up to the ceiling.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے حوالے سے راوی نے ایک حدیث ذکر کی کہ احرام والا شخص کون سے جانوروں کو مار سکتا ہے ۔ اس میں یہ بات مذکور ہے کہ چوہے کا کیا معاملہ ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ بیدار ہوئے ، تو چوہے نے چراغ کی بتی پکڑ لی ہوئی تھی اور وہ اسے لے کے چھت کی طرف چڑھنے لگا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13255

Majma al-Zawaid #13255

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْرَهُ السِّرَاجَ عِنْدَ الصُّبْحِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ disliked the lamp at the time of dawn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صبح کے وقت چراغ جلانے کو ناپسند کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13256

Majma al-Zawaid #13256

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قِيلُوا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَقِيلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ enjoined the midday nap because the devil does not nap, as quoted below. > **"Take the midday nap, for the devil does not nap."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ قیلولہ کرو ! کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13257

Majma al-Zawaid #13257

عَنْ وَهْبٍ - يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ طَرَفَيْنِ وَوَسَطًا، فَإِذَا أُمْسِكَ بِأَحَدِ الطَّرَفَيْنِ مَالَ الْآخَرُ، وَإِنْ أُمْسِكَ بِالْوَسَطِ اعْتَدَلَ الطَّرَفَانِ. وَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِالْأَوْسَاطِ مِنَ الْأَشْيَاءِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wahb, meaning Ibn Umayya, radiya Allahu anhu, used to say that everything has two ends and a middle: if held by one end the other inclines, but if held by the middle both ends remain balanced. He then gave a counsel concerning how to hold things. > **"Hold to the middle of things."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وہب بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہر چیز کے دو کناروں والے حصے ہوتے ہیں ، اور ایک درمیانی حصہ ہوتا ہے ، جب دونوں کناروں میں سے کسی ایک کو پکڑا جائے ، تو دوسرا کنارہ مائل ہو جاتا ہے لیکن اگر درمیان والے حصے سے پکڑا جائے ، تو دونوں کنارے معتدل رہتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تم اشیاء کے درمیانی حصے کو پکڑا کرو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13258

Majma al-Zawaid #13258

عَنْ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ - قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي قَتَادَةَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَى كَوْكَبًا انْقَضَّ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نُتْبِعَهُ أَبْصَارَنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muhammad, meaning Ibn Sirin, reported that they were with Abu Qatada, radiya Allahu anhu, upon the roof of their house when a star shot across and people looked toward it. Abu Qatada then said they had been forbidden to follow it with their gaze. > **"We have been forbidden to follow it with our eyes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے گھر کی چھت پر موجود تھے ۔ انہوں نے ایک ستارے کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا ، لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے ، تو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ہم اپنی نگاہیں اس کے پیچھے لے جائیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13259

Majma al-Zawaid #13259

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَنْظُرُ أَحَدُكُمْ إِلَى ظِلِّهِ فِي الْمَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade looking at one's shadow in water, as quoted below. > **"Let none of you look at his shadow in water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص پانی میں اپنے سائے کی طرف نہ دیکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : یہ روایت نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13260

Majma al-Zawaid #13260

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِيَّاكُمْ وَهَاتَانِ اللُّعْبَتَانِ الْمَرْسُومَتَانِ اللَّتَانِ تَزْجُرَانِ زَجْرًا، فَإِنَّهُمَا مَيْسِرُ الْعَجَمِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ warned against the two marked playing pieces which urge one another on, for they are the gambling of the non-Arabs, as quoted below. > **"Beware these two marked playing pieces which urge one another on, for they are the gambling of the non-Arabs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ ان نشان والی گوٹیوں ( یعنی شطرنج یا چوسر ) کے مہروں سے پرہیز کرو ، جو دونوں روکتی ہیں ( شاید یہ مراد ہے پر کہ اس کھیل میں مقابل کی گوٹ پیٹ دی جاتی ہے ) کیونکہ یہ عجمیوں کا جوا ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13261

Majma al-Zawaid #13261

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَعِيدٍ - قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَثَلُ الَّذِي يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي، مَثَلُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بِالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ: "" لَا تُقْبَلُ صَلَاتُهُ "". وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَطْمِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman, meaning Ibn Abi Said, reported that he heard his father say he heard the Messenger of Allah ﷺ liken one who plays Nard then rises to pray to one who performs ablution with pus and swine blood then rises to pray, with the addition in another wording that his prayer is not accepted, as quoted below. > **"The likeness of one who plays Nard then rises to pray is as one who performs ablution with pus and swine blood then rises to pray. His prayer is not accepted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوسعید بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص نرد ( چوسر یا شطرنج کھیلتا ہے ) اور پھر اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے ۔ اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو پیپ اور خنزیر کے ذریعے وضو کرتا ہے ، اور پھر نماز ادا کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں :” اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن خطمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13262

Majma al-Zawaid #13262

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّاعِبُ بِالنَّرْدِ كَوَاضِعِ يَدَهُ فِي لَحْمِ الْخِنْزِيرِ، وَالنَّاظِرُ إِلَيْهَا كَوَاضِعِ يَدَهُ فِي دَمِ الْخِنْزِيرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ زُهَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ likened the player of Nard to one who dips his hand in swine flesh, and its onlooker to one who dips his hand in swine blood, as quoted below. > **"The player of Nard is as one who dips his hand in swine flesh, and the one who looks at it is as one who dips his hand in swine blood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نرد ( شطرنج یا چوسر ) کھیلنے والا شخص اپنے ہاتھ خنزیر کے گوشت میں ڈالنے والے شخص کی مانند ہے ، اور اس ( شطرنج یا چوسر ) کی طرف دیکھنے والا شخص اپنا ہاتھ خنزیر کے خون میں ڈالنے والے کی مانند ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زہیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13263

Majma al-Zawaid #13263

وَعَنْهُ قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ، إِلَّا أَصْحَابَ الشَّاهِ، وَهِيَ الشِّطْرَنْجُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ زُهَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, radiya Allahu anhuma, reported that a Bedouin came to the Prophet ﷺ and said he had seen in a dream the previous night that every servant who testifies that none is worthy of worship but Allah and that Muhammad is His Messenger is raised a degree in Paradise, except the companions of al-Shah, meaning chess.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے گزشتہ رات خواب میں دیکھا کہ جو بھی بندہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے درجہ کو بلند کر دیتا ہے ، البتہ ’’ شاہ ‘‘ والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد شطرنج ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زہیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13264

Majma al-Zawaid #13264

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يَقُولُ لِرَجُلٍ: تَعَالَ أُقَامِرُكَ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab, radiya Allahu anhu, reported that the Prophet ﷺ heard a man say to another, come and gamble with me, so he commanded him to give charity.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دوسرے شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آؤ تاکہ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13265

Majma al-Zawaid #13265

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "" «اجْتَنِبُوا هَذِهِ الْكِعَابَ الْمَوْسُومَةَ الَّتِي يُزْجَرُ بِهَا زَجْرًا، (فَإِنَّهَا مِنَ الْمَيْسِرِ)» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashari, radiya Allahu anhu, reported from the Messenger of Allah ﷺ that he used to say to avoid the marked knucklebones which are urged on, for they are from gambling, as quoted below. > **"Avoid these marked knucklebones which are urged on, for they are from gambling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ یہ فرماتے ہیں : ’’ تم لوگ ان نشان والی گوٹیوں ( یعنی شطرنج ) کے مہروں سے پرہیز کرو ، جو دونوں روکتی ہیں ( شاید یہ مراد ہے کہ اس کھیل میں مقابل کی گوٹ پیٹ دی جاتی ہے ) کیونکہ یہ جوئے کا حصہ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13266

Majma al-Zawaid #13266

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لَقِسَتْ» "". قُلْتُ: اللَّقْسُ: الْغَثَيَانُ، قَالَهُ صَاحِبُ النِّهَايَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mutim, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade saying my soul has become wicked and instructed saying instead that it is sluggish, the narrator noting that laqs means nausea as explained by the author of al-Nihaya, as quoted below. > **"Let none of you say, my soul has become wicked, but let him say, it has become sluggish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کوئی شخص یہ ہرگز نہ کہے : میرا نفس خبیث ہو گیا ہے بلکہ وہ یہ کہے : وہ کاہل ہو گیا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں کہتا ہوں لقس سے مراد غثیان ( یعنی بے چین ہونا ) ہے ، یہ بات ’’ النہایہ ‘‘ نامی کتاب کے مصنف نے بیان کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

13267

Majma al-Zawaid #13267

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَرَى الرَّجُلَ جَهِيرًا رَفِيعَ الصَّوْتِ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَرَاهُ خَفِيضَ الصَّوْتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ الْخُشَنِيُّ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ disliked seeing a man loud-voiced and harsh, and loved to see him soft-voiced.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی ایسا شخص نظر آئے جس کی آواز بلند اور اونچی ہو ، اور آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ آپ ایسے شخص کو دیکھیں جس کی آواز پست ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن علی خشنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13268

Majma al-Zawaid #13268

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ التَّصْفِيرِ فَقَالَ: "" لَيُّ الشِّدْقِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about whistling and explained it as twisting of the cheek, as quoted below. > **"Twisting of the cheek."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سیٹی بجانے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ باچھوں کو موڑنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔

13269

Majma al-Zawaid #13269

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيُغَيِّبْ نُخَامَتَهُ ; لَا تُصِيبُ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Saad ibn Abi Waqqas, radiya Allahu anhu, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ instruct that spittle be concealed so it does not touch the skin or clothing of a believer, as quoted below. > **"When one of you spits, let him conceal his spittle, lest it touch the skin or clothing of a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم میں سے کسی ایک شخص کو تھوک آئے تو وہ اپنے تھوک کو ( مٹی میں ) چھپا دے تاکہ وہ کسی مومن کی جلد یا کپڑے پر نہ لگے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13270

Majma al-Zawaid #13270

عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَبْزُقَ فَلَا تَبْزُقْ عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَارِغًا فَتَحْتَ قَدَمِكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Tariq ibn Abdillah al-Muharibi, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ told him not to spit to his right when wishing to spit, but to his left if empty, and if not empty then beneath his foot, as quoted below. > **"When you wish to spit, do not spit to your right, but to your left if it is empty, and if it is not empty then beneath your foot."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ جب تم تھوکنے کا ارادہ کرو ، تو اپنے دائیں طرف نہ تھوکو بلکہ اپنی بائیں طرف تھوکو ، اگر وہاں کوئی نہ ہو ، اور اگر وہ وہاں کوئی ہو ، تو اپنے پاؤں کھول لو ( اور ان کے درمیان تھوک دو ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13271

Majma al-Zawaid #13271

عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ، وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ "". قَالَ: "" يَنْزِلُ الْغَيْثُ فَيَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, radiya Allahu anhu, reported that he left Madina with the Messenger of Allah ﷺ, who turned toward it and declared that Allah had cleared this peninsula of polytheism but feared the stars would misguide them. Asked how, he explained that rain would fall and they would say they were rained upon by such and such a star, as quoted below. > **"Allah has cleared this peninsula of polytheism, but I fear the stars will misguide them. Rain will fall and they will say, we were rained upon by such and such a star."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلا ، نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو شرک سے لاتعلق کر دیا ہے ، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ ستارے ان لوگوں کو گمراہی کا شکار کر دیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ستارے کیسے انہیں گمراہی کا شکار کر دیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بارش نازل ہو گی تو لوگ یہ کہیں گے فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔

13272

Majma al-Zawaid #13272

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَمُطِرْنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَطَرًا شَدِيدًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" تَدْرُونَ بِمَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَهَا ثَلَاثًا وَعَادُوا، قَالَ: "" قَالَ رَبُّكُمْ: إِنَّ الَّذِي قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَقَدْ كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِذَلِكَ النَّجْمِ، وَإِنَّ مَنْ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ سَقَانَا فَقَدْ آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِذَلِكَ النَّجْمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud, radiya Allahu anhu, reported that they were with the Messenger of Allah ﷺ at Hudaybiyya when heavy rain fell that night. In the morning the Prophet ﷺ thrice asked whether they knew what their Lord had said, they replied Allah and His Messenger know best, and he conveyed that whoever says they were rained upon by such a star disbelieves in Allah and believes in the star, while whoever says Allah gave them drink believes in Allah and disbelieves in the star, as quoted below. > **"Do you know what your Lord has said? Your Lord has said: whoever says, we were rained upon by such and such a star, has disbelieved in Me and believed in that star, and whoever says, Allah has given us drink, has believed in Me and disbelieved in that star."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے دن ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، اس رات شدید بارش ہوئی ، جب صبح ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو تمہارے پروردگار نے جو ارشاد فرمایا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور لوگوں نے یہی جواب دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار یہ فرماتا ہے : جو شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے ۔ وہ میرا انکار کرتا ہے اور اس ستارے پر ایمان رکھتا ہے ، اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا ہے ، وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور وہ اس ستارے کا انکار کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

13273

Majma al-Zawaid #13273

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَيْسَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ فِي سَرَاةِ الطَّرِيقِ، فَلْيَلْتَمِسْنَ حَافَّتَهَا وَلَا يَتَخَفَّفْنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمُدَنِيِّ وَهُوَ كَذَّابٌ وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that women have no share in the middle of the road, should seek its edges, and should not draw attention while walking, as quoted below. > **"Women have no share in the middle of the road. Let them seek its edges and not draw attention."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ راستے کے درمیانی حصے میں خواتین کا حصہ نہیں ہے انہیں اس کے کناروں پر چلنا چاہیے اور ان کی چلتے ہوئے آواز محسوس نہیں ہونی چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے اور وہ کذاب ہے امام حاکم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

13274

Majma al-Zawaid #13274

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ حِمَاسٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَيْسَ لِلنِّسَاءِ سَرَاةُ الطَّرِيقِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ إِسْحَاقَ بْنِ حَاجِبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn Himas, radiya Allahu anhu, who had companionship, reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that women have no right to the middle of the road, as quoted below. > **"Women have no right to the middle of the road."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن حماس رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خواتین کو راستے کے درمیانی حصے میں چلنے کا حق نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد اسحاق بن حاجب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

13275

Majma al-Zawaid #13275

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: لَأَنْ يُزَاحِمَنِي بَعِيرٌ مَطْلِيٌّ بِقَطْرَانٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تُزَاحِمَنِي امْرَأَةٌ (عَطِرَةٌ). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو الزَّعْرَاءِ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud, radiya Allahu anhu, said he would rather be jostled by a tar-smeared camel than be jostled by a perfumed woman.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک ایسا اونٹ جو تارکول سے لتھڑا ہوا ہو ، وہ میرے سامنے آئے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ کوئی ایسی عورت میرے سامنے آئے ، جس نے عطر لگایا ہوا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوزعراء ہے ، جسے عجلی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13276

Majma al-Zawaid #13276

عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِقَطْعِ الْمَرَاجِيحِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Aisha, radiya Allahu anha, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded the cutting down of swings.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مراجیح کو کاٹ دینے کا حکم دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13277

Majma al-Zawaid #13277

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اخْرُجْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: لَعَنَ اللَّهُ قَاطِعَ السِّدْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, meaning Ibn Abi Talib, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded him to go out and announce among the people the curse upon the cutter of the lote tree, as quoted below. > **"Go out and announce among the people: may Allah curse the cutter of the lote tree."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم باہر جاؤ ! اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ بیری کے درخت کو کاٹنے والے پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13278

Majma al-Zawaid #13278

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الَّذِينَ يَقْطَعُونَ السِّدْرَ، يُصَبُّونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ صَبًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha, radiya Allahu anha, reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that those who cut the lote tree will be poured into the Fire upon their faces, as quoted below. > **"Those who cut the lote tree will be poured into the Fire upon their faces."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک جو لوگ بیری کا درخت کاٹتے ہیں وہ چہروں کے بل جہنم میں ڈال دیے جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔

13279

Majma al-Zawaid #13279

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً مِنْ سِدْرِ الْحَرَمِ، صَوَّبَ اللَّهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" «مِنْ سِدْرِ الْحَرَمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ هَذَا الْبَابِ فِي الْبَيْعِ بَعْدَ بَابِ اتِّخَاذِ الشَّجَرِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Hubshi, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that whoever cuts a lote tree of the Sanctuary will have his head cast down by Allah into the Fire, as quoted below, noting that Abu Dawud narrated it without the words of the Sanctuary. > **"Whoever cuts a lote tree of the Sanctuary, Allah will cast his head down into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن حبشی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص حرم کے بیری کے درختوں میں سے کوئی درخت کاٹ دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو سر کے بل جہنم میں ڈال دے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں : ’’ حرم کے بیری کے درختوں میں سے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس نوعیت کی کچھ احادیث خرید و فروخت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں جو درخت لگانے سے متعلق باب میں ہیں ۔

13280

Majma al-Zawaid #13280

عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ يُشَقِّقُونَ الْكَلَامَ تَشْقِيقَ الشِّعْرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiya, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ cursed those who split speech as poetry is split, as quoted below. > **"May Allah curse those who split speech as poetry is split."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے ، جو اپنے کلام کو یوں بنا سنوار کے کرتے ہیں جس طرح شعر کو بنایا سنوارا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13281

Majma al-Zawaid #13281

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: كَانَ لِي إِلَى أَبِي سَعْدٍ. وَعَنْ مُجَمِّعٍ قَالَ: «كَانَ لِعُمَرَ بْنِ سَعْدٍ إِلَى أَبِيهِ حَاجَةٌ، فَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ حَاجَتِهِ كَلَامًا مِمَّا يُحَدِّثُ النَّاسُ، يَتَوَصَّلُونَ بِهِ، لَمْ يَكُنْ سَعْدٌ يَسْمَعُهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: يَا بُنَيَّ، قَدْ فَرَغْتَ مِنْ كَلَامِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: مَا كُنْتُ مِنْ حَاجَتِكَ أَبْعَدُ، وَلَا كُنْتُ فِيكَ أَزْهَدُ مِنِّي مُنْذُ سَمِعْتُ كَلَامَكَ (هَذَا) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" سَيَكُونُ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ مِنَ الْأَرْضِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ مِنْ طُرُقٍ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَأَحْسَنُهَا مَا رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ بِأَلْسِنَتِهَا "". وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعِدٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn Saad, meaning Ibn Abi Waqqas, reported that he had a need from his father Saad, and Mujammi reported that Umar prefaced his request with ornate fashionable speech unfamiliar to Saad. When he finished, Saad asked if he had done, then said he had never been further from fulfilling his need nor more disinclined toward him since hearing it, and cited the statement of the Messenger of Allah ﷺ quoted below. In the best chain through Zayd ibn Aslam the wording mentions the Hour not coming until such a people appear. > **"There will be a people who eat with their tongues as cows eat from the earth with their tongues. The Hour will not come until a people appear who eat with their tongues as cows eat with their tongues."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ایک کام تھا ، مجمع نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ عمر بن سعد کو اپنے والد سے ایک کام تھا ۔ انہوں نے اپنے والد کے سامنے اپنے کام کا ذکر کرتے ہوئے ایسا کلام ذکر کیا کہ جو لوگوں میں ان دنوں بعد میں رواج پذیر ہوا تھا جو مقفع و مسجع ہوتا تھا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے وہ کلام پہلے نہیں سنا تھا ، جب وہ صاحب کلام کر کے فارغ ہوئے ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے تم اپنے کلام سے فارغ ہو گئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہاری ضرورت سے زیادہ دور نہیں تھا ، اور نہ ہی تم اپنی ذات کے بارے میں مجھ سے زیادہ بے رغبت ہو ، جب میں نے تمہارا یہ کلام سنا ( تو مجھے اس پر یاد آیا ) کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوے سنا ہے : ’’ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی زبانوں کے ذریعے یوں کھائیں گے جس طرح زمین سے گائے کھاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے مختلف طرق کے حوالوں سے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس میں سب سے زیادہ عمدہ روایت وہ ہے ، جسے امام احمد نے زید بن اسلم کے حوالے سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ایسی قوم نہیں آ جائے گی جو اپنی زبانوں کے حوالے سے یوں کھائیں گے جس طرح گائے اپنی زبان کے حوالے سے کھاتی ہے ۔‘‘ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ زید بن اسلم نامی راوی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13282

Majma al-Zawaid #13282

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ، الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا تَخَلَّلُ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that Allah hates the eloquent man who curls his tongue as the cow curls its tongue, as quoted below. > **"Allah hates the eloquent among men who curls with his tongue as the cow curls with its tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ایسے بلیغ شخص کو ناپسند کرتا ہے ، جو اپنی زبان موڑ کر یوں ، کلام کرتا ہے جس طرح گائے اپنی زبان موڑتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13283

Majma al-Zawaid #13283

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ الْبَيَانَ كُلُّ الْبَيَانِ شُعْبَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn al-As, radiya Allahu anhu, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that eloquence, all of it, is a branch of the devil, as quoted below. > **"Eloquence, all of it, is a branch of the devil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک بیان سارے کا سارا شیطان کا شعبہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد احمد بن محمد بن یحیی بن حمزہ سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13284

Majma al-Zawaid #13284

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمُ الْبَيَانَ كُلَّ الْبَيَانِ» ".

EnglishUnverified translation

Abu Umama, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that Allah has disliked for them eloquence, all of it, as quoted below. > **"Allah has disliked for you eloquence, all of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بیان کو ، جو عمل بیان ہو ، اس کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ۔‘‘

13285

Majma al-Zawaid #13285

وَبِسَنَدِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمُتَشَدِّقِينَ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ وَفِي إِسْنَادِهِمَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

With the same chain, it is reported from the Messenger of Allah ﷺ that he declared those who speak with twisted mouths and affected grandiloquence to be among the people of the Fire. > **"Indeed those who speak with affected grandiloquence are in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے : ’’ بے شک باچھیں پھیلا کر بات کرنے والے لوگ جہنم میں جائیں گے ۔‘‘ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13286

Majma al-Zawaid #13286

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيْهِ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah bin Masud رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that he said a portion of eloquent speech has the effect of magic. > **"Indeed, part of eloquent speech is magic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی دو اسناد میں سے ایک حسن ہے ۔

13287

Majma al-Zawaid #13287

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ، عَلَيْهِمْ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ وَعَمْرُو بْنُ الْأَهْتَمِ، وَالزِّبْرِقَانُ بْنُ بَدْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ: "" مَا تَقُولُ فِي الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ؟ "" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُطَاعٌ فِي أَنْدِيَتِهِ، شَدِيدُ الْعَارِضَةِ، مَانِعٌ لِمَا وَرَاءَ ظَهْرِهِ. فَقَالَ الزِّبْرِقَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيَعْلَمُ مِنِّي أَكْثَرَ مِمَّا وَصَفَنِي بِهِ، وَلَكِنَّهُ حَسَدَنِي. فَقَالَ عَمْرٌو: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَزَمِنُ الْمُرُوءَةِ، ضَيِّقُ الْعَطَنِ، لَئِيمُ الْخَالِ، أَحْمَقُ الْوَلَدِ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَذَبْتُ أَوَّلًا وَلَقَدْ صَدَقْتُ آخِرًا، وَلَكِنِّي رَضِيتُ فَقُلْتُ أَحْسَنَ مَا عَلِمْتُ، وَغَضِبْتُ فَقُلْتُ أَقْبَحَ مَا عَلِمْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكَمًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْإِصْطَخْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah رضي الله عنه reports that they were with the Prophet ﷺ when a delegation of Banu Tamim arrived under Qays bin Asim, Amr bin al-Ahtam, and al-Zibriqan bin Badr رضي الله عنهم. The Prophet ﷺ asked Amr bin al-Ahtam for his opinion of al-Zibriqan bin Badr, and Amr replied that he was obeyed in his councils, strong in resistance, and protective of what lay behind him. Al-Zibriqan then said that Amr knew more good of him than he had described but had envied him. Amr then swore by Allah that al-Zibriqan was lacking in manliness, narrow in hospitality, ignoble through his maternal uncles, and foolish in his offspring, adding that he had not lied in the first description nor in the second, but had spoken the best he knew when pleased and the worst he knew when angry. Upon this the Messenger of Allah ﷺ observed on the power of speech and poetry. > **"Indeed, part of eloquent speech is surely magic, and indeed, part of poetry is surely wisdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے بنو تمیم کا وفد آپ کی خدمت میں آیا ، جن کے سربراہ حضرت قیس بن عاصم ، حضرت عمرو بن اہتم اور حضرت زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہم تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمرو بن اہتم رضی اللہ عنہ سے کہا : تم زبرقان بن بدر کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ اپنی محفل میں پیشوا ہے ، شدید مقابلہ کرنے والا ہے اور اپنی پشت کے پیچھے رکاوٹ بننے والا ہے ، تو زبرقان نے کہا : یا رسول اللہ ! اس نے جو میری صفت بیان کی ہے ، یہ میرے بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہے لیکن یہ مجھ سے حسد کرتا ہے ، تو عمرو نے کہا : اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! یہ مروت کے حوالے سے لنجا ہے ، مہمان نوازی کے حوالے سے تنگ ہے ، ننھیال کے حوالے سے کمینہ ہے ، اولاد ہونے کے اعتبار سے احمق ہے ، اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں نے پہلے بھی غلط بات نہیں کی تھی اور بعد میں بھی سچ ہی بولا ہے ، میں جب راضی ہوا تو میں نے اس کے بارے میں جو زیادہ سے زیادہ بہتر بات جانتا تھا ، وہ بیان کر دی اور جب میں غصے میں آیا ، تو میں نے اس کے بارے میں جو زیادہ بری باتیں جانتا تھا ، وہ بیان کر دیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، اور بعض اشعار حکمت والے ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں محمد بن موسیٰ اصطخری کے حوالے سے حسن بن کثیر بن یحیی بن ابوکثیر سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13288

Majma al-Zawaid #13288

وَعَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ أَوْ أَبِي مَعْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ كُلُّ قَوْمٍ فَلْيُؤْذِنُونِي "". قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ، فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مُقْتَصِرٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ، وَنَحْوَ هَذَا. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَامَ، فَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا فَقُلْنَا: خَصَّنَا اللَّهُ (بِهِ) أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَإِنْ فَعَلَ وَفَعَلَ. قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ فَقَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا شَاءَ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا "". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَأَمَرَنَا وَكَلَّمَنَا وَعَلَّمَنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ سُهَيْلِ بْنِ ذِرَاعٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثٌ فِي قَوْلِهِ: "" «إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا» "".

EnglishUnverified translation

Man bin Yazid, or Abu Man رضي الله عنه, reports that the Messenger of Allah ﷺ instructed the people to gather in their mosques and to notify him when each group had assembled. The narrator says they gathered earliest and went to him, and he walked with them until he sat with them. A speaker among them then spoke with contrived praise of Allah, saying all praise belongs to Allah with none before Him restricting praise and no outlet beyond Him, and words to that effect. The Messenger of Allah ﷺ became angry and rose, so they blamed one another and said Allah had singled them out by his coming to them first among the people, yet such and such had happened. They then came to him and found him in the mosque of such-and-such tribe, spoke with him, and he returned walking with them until he sat in the sitting place where he had been or near it. He then praised Allah in plain words, placing what He willed before Him and what He willed behind Him, and noted the magical effect of eloquence. He then turned to them, commanded them, conversed with them, and taught them. > **"All praise belongs to Allah. Whatever He wills He places before Him, and whatever He wills He places behind Him, and indeed, part of eloquent speech is magic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معن بن یزید یا شاید حضرت ابومعن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنی مساجد میں اکٹھے ہو جاؤ ، جب سب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع دینا ، راوی کہتے ہیں : ہم سب لوگ اکٹھے ہوئے پھر ہم آپ کے پاس آئے ، تو آپ ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے اور ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے ، ہم میں سے کسی نے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس سے پہلے حمد پر اکتفاء کرنے والا کوئی نہیں ہے ، اور اس سے آگے کوئی راستہ نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے اور کھڑے ہو گئے ، ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کی ، ہم نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے حوالے سے خصوصیت عطا کی ہے کہ آپ لوگوں میں سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے تھے ، لیکن پھر یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم آپ کے پاس آئے ، ہم نے آپ کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا ، ہم نے آپ کے ساتھ بات چیت کی تو آپ چلتے ہوئے ہمارے ساتھ تشریف لے آئے ، یہاں تک کہ آپ اسی محفل میں تشریف فرما ہوئے جہاں آپ پہلے تشریف فرما تھے ، یا اس جگہ کے قریب تشریف فرما ہوئے ، آپ نے فرمایا : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔ اس نے جو چاہا وہ اپنے آگے رکھا اور جو چاہا اپنے پیچھے کیا اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ہمیں احکام بیان کئے ، آپ نے ہمارے ساتھ بات چیت کی ، ہمیں تعلیمات دیں ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سہیل بن ذراع کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ’’ بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ، اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ) ‘‘ یہ حدیث آگے چل کے آئیں گی ۔

13289

Majma al-Zawaid #13289

عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: «هَكَذَا يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ata bin Abi Rabah reports that a man began to praise Ibn Umar رضي الله عنهما, so Ibn Umar threw dust toward his face, saying he had heard the Messenger of Allah ﷺ command such treatment for habitual flatterers. > **"When you see those who habitually praise people, throw dust in their faces."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مدح کرنے لگا ، تو انہوں نے فرمایا : اس کے چہرے پر مٹی ڈالو کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم لوگ مدح کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔