وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: «خَرَجَ الْحُسَيْنُ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضَهُ الَّتِي بِظَاهِرِ الْحَرَّةِ، وَنَحْنُ نَمْشِي إِذْ أَدْرَكَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ عَلَى بَغْلَةٍ، فَنَزَلَ، فَقَرَّبَهَا إِلَى الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: ارْكَبْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ. فَكَرِهَ ذَلِكَ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَقْسَمَ النُّعْمَانُ عَلَيْهِ، حَتَّى أَطَاعَ الْحُسَيْنُ بِالرُّكُوبِ، قَالَ: إِذْ أَقْسَمْتَ، فَقَدْ كَلَّفْتَنِي مَا أَكْرَهُ، فَارْكَبْ عَلَى صَدْرِ دَابَّتِكَ، فَأُرْدِفُكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ، وَصَدْرِ فِرَاشِهِ، وَالصَّلَاةِ فِي مَنْزِلِهِ إِلَّا مَا يُجْمَعُ النَّاسُ عَلَيْهِ "". فَقَالَ النُّعْمَانُ: صَدَقَتْ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ أَبِي بَشِيرٍ يَقُولُ كَمَا قَالَتْ فَاطِمَةُ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِلَّا مِنْ إِذْنٍ "". فَرَكِبَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
Muhammad ibn Ali ibn Husayn reported that al-Husayn, radiya Allahu anhu, set out toward his land beyond al-Harra on foot with others when al-Numan ibn Bashir, radiya Allahu anhu, overtook them on a mule, dismounted, and insisted that Abu Abdillah mount. After repeated oaths al-Husayn accepted reluctantly and asked al-Numan to sit in front while he rode behind, citing what he heard from Fatima daughter of Muhammad, radiya Allahu anha, from the Messenger of Allah ﷺ as quoted below, with the exception of permission. Al-Numan affirmed her truthfulness and cited his father Bashir to the same effect. > **"A man has most right to the front of his mount, to the front of his bedding, and to leading prayer in his house, except for what people gather him to do. Except with permission."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
امام محمد بن علی بن حسین بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حرہ کے ظاہری حصے پر موجود اپنی زمین کی طرف جانے کے لئے نکلے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، راستے میں ہماری ملاقات حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ایک خچر پر سوار تھے ، وہ اس خچر سے نیچے اتر آئے ۔ انہوں نے وہ خچر امام حسین رضی اللہ عنہ کے قریب کیا اور بولے : ابوعبداللہ آپ اس پر سوار ہو جائیں ، امام حسین نے اس بات کو ناپسند کیا ، یہ تکرار چلتی رہی ، یہاں تک کہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو قسم دی تو امام حسین نے سوار ہونے کے بارے میں ان کی بات مان لی اور بولے : تم نے قسم دے کر مجھے ایک ایسی چیز کا پابند کر دیا ہے ، جسے میں ناپسند کرتا ہوں ، اب تم جانور کے اگلے حصے پر سوار ہو جاؤ ، میں تمہارے پیچھے بیٹھ جاؤں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ آدمی اپنے جانور کے اگلے حصے اور اپنے بچھونے کے نمایاں حصے کا زیادہ حق رکھتا ہے ، اور اپنے گھر میں نماز ( پڑھانے کا ) زیادہ حق رکھتا ہے البتہ اس صورت میں حکم مختلف ہو گا ، جبکہ وہ ایسا امام ہو گا کہ لوگ اس پر اکٹھے ہوں ۔‘‘ تو حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول کی صاحبزادی نے ٹھیک بیان کیا ہے ، میں نے اپنے والد حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کو وہی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے ، تاہم میرے والد نے ( یہ الفاظ نقل کے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ البتہ اجازت کے ساتھ ایسا کیا جا سکتا ہے ۔‘‘ تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔