Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 16

Book of Good Manners

Hadith 13210–13249

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13210

Majma al-Zawaid #13210

عَنِ الْبَرَاءِ - يَعْنِي ابْنَ عَازِبٍ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ بَدَا جَفَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara, meaning Ibn Azib, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ gave a concise warning concerning Bedouin life and its hardening effect, as quoted below. > **"Whoever takes to the desert life becomes harsh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بدوی زندگی اختیار کرتا ہے ۔ اس میں سختی آ جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسن بن حکم نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13211

Majma al-Zawaid #13211

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ؟ قَالَ: "" يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَتْرُكُونَ الْجَمَاعَاتِ وَيَبْدُونَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Uqba ibn Amir al-Juhani, radiya Allahu anhu, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ warn of ruin through the Book and through milk. When asked what was meant, the Prophet ﷺ explained that people would learn the Quran and interpret it contrary to what Allah revealed, and would love milk, abandon the congregations, and settle in the wilderness. > **"The ruin of my community is in the Book and in milk. They learn the Quran and interpret it contrary to what Allah revealed, and they love milk and abandon the congregations and settle in the desert."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت کی ہلاکت کتاب اور دودھ کی وجہ سے ہو گی ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کتاب اور دودھ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ قرآن کا علم حاصل کریں گے اور پھر اس کی تفسیر اس کے برعکس کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ، اور وہ لوگ دودھ کو پسند کریں گے ، اور جماعت کو ترک کر دیں گے ، اور ویرانوں میں رہائش اختیار کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13212

Majma al-Zawaid #13212

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا اللَّبَنَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ بَيْنَ الرَّغْوَةِ وَالصَّرِيحِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ expressed fear for his community only concerning milk, explaining that the devil stands between its foam and its pure portion, as quoted below. > **"I fear for my community nothing except milk, for indeed the devil is between the foam and the pure milk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف دودھ کے حوالے سے اندیشہ ہے کیونکہ شیطان دودھ کے جھاگ اور خالص دودھ کے درمیان میں ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13213

Majma al-Zawaid #13213

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَنْزِلُوا الْكُفُورَ، فَإِنَّهَا بِمَنْزِلَةِ الْقُبُورِ» "". يَعْنِي الْقُرَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade settling in remote hamlets, likening them to graves. The narrator explained that the term al-kufur means villages. > **"Do not settle in the remote villages, for they are like graves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ دیہاتوں میں پڑاؤ نہ کرو کیونکہ وہ قبروں کی مانند ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : لفظ کفور سے مراد چھوٹی بستیاں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13214

Majma al-Zawaid #13214

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَمُدُّوا طُنُبًا لِبَدْوٍ; فَإِنَّ الْبَدْوَ الْجَفَاءُ، يَدُ اللَّهِ فِي الْجَمَاعَةِ وَلَا يُبَالِي اللَّهُ شُذُوذَ مَنْ شَذَّ، وَلَا يَرْكَبُ الدَّابَّةَ فَوْقَ اثْنَيْنِ، وَلَا تَضْرِبُوا وُجُوهَ الدَّوَابِّ; فَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ، وَلَا تُسَمُّوا أَبْنَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمُ: الْحَكَمَ وَلَا أَبَا الْحَكَمِ; فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, radiya Allahu anhu, reported a series of injunctions from the Messenger of Allah ﷺ concerning Bedouin tents, the congregation, mounting, striking faces of beasts, and forbidden names, as quoted below. > **"Do not stretch tent ropes for Bedouin life, for Bedouin life is harshness. The Hand of Allah is upon the congregation, and Allah does not care for the deviation of whoever deviates. Let no more than two ride upon a mount. Do not strike the faces of beasts, for everything glorifies its Lord with praise. Do not name your sons or your brothers al-Hakam nor Abu al-Hakam, for Allah is al-Hakam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم بدوی زندگی کے لئے خیمے کی طنابیں نہ کھینچو کیونکہ بدوی زندگی سے سختی آتی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے ، اور الگ ہونے والے کی اللہ تعالیٰ پرواہ نہیں کرے گا ، اور جانور پر دو سے زیادہ افراد سوار نہ ہوں اور تم جانوروں کے چہروں پر نہ مارو کیونکہ ہر چیز اس ( پروردگار ) کی حمد کے ہمراہ اس کی پاکی بیان کرتی ہے ، تم اپنے بیٹوں یا بھائیوں کا نام حکم یا ابوالحکم نہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ ’’ حکم ‘‘ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13215

Majma al-Zawaid #13215

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: «اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الشَّامِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَعْطِ النَّاسَ أُعْطِيَاتِهِمْ، وَاغْزُ بِهِمْ، فَبَيْنَا هُوَ يُعْطِي النَّاسَ - وَذَلِكَ فِي آخِرِ زَمَانٍ - جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، مُرْ لِي بِعَطَائِي ; فَإِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ مِنْ مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَلَعَلِّي آوِي إِلَى أَهْلِي قَبْلَ اللَّيْلِ. قَالَ: لَا وَاللَّهِ، لَا أُعْطِيكَ حَتَّى أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْأَنْبِيَاءُ كُلُّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِأَرْبَعِينَ عَامًا، وَإِنَّ فُقَرَاءَ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ عَامًا، وَإِنَّ صَالِحِي الْعَبِيدِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْآخَرِينَ بِأَرْبَعِينَ عَامًا، وَإِنَّ أَهْلَ الْمُدُنِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا ; لِفَضْلِ الْمَدَائِنِ وَالْجَمَاعَاتِ وَالْجُمُعَاتِ وَحِلَقِ الذِّكْرِ، وَإِنْ كَانَ بَلَاءٌ خُصُّوا بِهِ دُونَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Ghanm reported that Umar ibn al-Khattab, radiya Allahu anhu, appointed Muadh ibn Jabal, radiya Allahu anhu, over Syria and wrote to him to distribute stipends and lead the people in expedition. While Muadh was distributing stipends, a man from the countryside asked for his stipend early so he could return before night, but Muadh refused to prefer him over the townsfolk and cited the statement of the Messenger of Allah ﷺ quoted below concerning precedence in Paradise. > **"All the Prophets will enter Paradise forty years before Sulayman son of Dawud, peace be upon him. The poor believers will enter Paradise forty years before the rich. The righteous slaves will enter Paradise forty years before others. The people of the cities will enter Paradise forty years before the people of the countryside, by virtue of the cities, the congregations, the Friday prayers, and the circles of remembrance, and if tribulation comes it singles them out apart from the others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام کا امیر مقرر کیا اور انہیں یہ خط لکھا کہ آپ لوگوں کو ان کے عطیات دیدیں اور انہیں جنگ میں ساتھ لے کے جائیں ، ایک مرتبہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ لوگوں کو عطیات دے رہے تھے ، یہ آخری زمانے کی بات ہے ، اسی دوران رستاق کا رہنے والا ایک شخص آیا اور بولا : اے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ! آپ میرے بارے میں میرے سرکاری عطیے کو دینے کا حکم دیں ، کیونکہ میں رستاک کا رہنے والا شخص ہوں ، جو فلاں جگہ پر رہتا ہوں تاکہ میں رات ہونے سے پہلے اپنے گھر واپس چلا جاؤں ، تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں اللہ کی قسم ! ہم تمہیں اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک ان لوگوں کو یعنی شہر والوں کو نہیں دیدیتے کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تمام انبیاء کرام حضرت سلیمان علیہ السلام سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور غریب مسلمان خوشحال لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور نیک غلام دوسرے لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور شہروں کے رہنے والے لوگ ، ویرانے کے رہنے والے لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، کیونکہ شہروں کو اور اجتماعات کو اور جمعوں کو اور ذکر کے حلقوں کو فضیلت حاصل ہوتی ہے ، اور جب کوئی آزمائش آتی ہے ، تو وہ بطور خاص ان لوگوں پر آتی ہے دوسروں پر نہیں آتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

13216

Majma al-Zawaid #13216

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا وَرَّثَهُ وَالِدٌ وَلَدًا خَيْرًا مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ declared the best bequest of a father to his child, as quoted below. > **"No father bequeaths to his child anything better than good upbringing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ والد اولاد کو اچھی تربیت سے زیادہ اچھی کوئی چیز وراثت میں نہیں دیتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن دینار ہے ، جو آل زبیر کا منشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13217

Majma al-Zawaid #13217

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عَلِّقُوا السَّوْطَ حَيْثُ يَرَاهُ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَإِنَّهُ آدَبُ لَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: "" «حَيْثُ يَرَاهُ الْخَادِمُ» "". وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِيهِمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded hanging the whip in view of the household as a means of discipline, as quoted below. In another wording the word household is replaced by servant. > **"Hang the whip where the members of the household can see it, for it disciplines them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوڑے کو ایسی جگہ لٹکاؤ جہاں گھر والے اسے دیکھ سکیں کیونکہ یہ چیز ان کے لئے زیادہ اچھی تربیت کا باعث ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں :” جہاں سے خادم اسے دیکھ سکے ۔‘‘ امام طبرانی کی دونوں اسناد حسن ہیں ۔

13218

Majma al-Zawaid #13218

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَرْفَعِ الْعَصَا عَلَى أَهْلِكَ، وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ النَّوَوِيُّ وَغَيْرُهُ، وَإِسْنَادُهُ عَلَى هَذَا جِيدٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ instructed that the staff not be removed from the family and that they be made to fear Allah, as quoted below. > **"Do not withdraw the staff from your family, and instill fear of Allah in them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے گھر والوں سے عصا نہ اٹھاؤ اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں انہیں خوف دلاتے رہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن صالح بن حیی ہے ، جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، سفیان ثوری اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اور اس بنیاد پر اس کی سند عمدہ ہے ۔

13219

Majma al-Zawaid #13219

عَنْ أَسَدِ بْنِ وَدَاعَةَ «أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: جَرِيرٌ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَهْلِي يَعْصُونِي فَبِمَ أُعَاقِبُهُمْ؟ قَالَ: "" تَعْفُو "". ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ، حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: "" إِنْ عَاقَبْتَ فَعَاقِبْ بِقَدْرِ الذَّنْبِ، وَاتَّقِ الْوَجْهَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَسَدٌ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ، فَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا كُلُّهُمْ، وَفِيهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Asad ibn Wadaa reported that a man called Jarir came to the Prophet ﷺ and asked how to punish his disobedient family. The Prophet ﷺ thrice told him to pardon, then permitted proportionate punishment while forbidding striking the face, as quoted below. > **"Pardon. If you must punish, then punish according to the offence, and avoid the face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسد بن وداعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص جس کا نام جریر تھا ، وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے گھر والے میری نافرمانی کرتے ہیں ، تو میں کس چیز کے ذریعے انہیں سزا دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم معاف کر دو ۔ اس نے دوسری مرتبہ یہی بات کی ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ یہی بات ارشاد فرمائی ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم نے سزا ہی دینی ہے تو تم گناہ کے حساب سے سزا دینا اور چہرے پر مارنے سے بچنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اسد نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تو یہ روایت مرسل ہے اور اس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13220

Majma al-Zawaid #13220

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تُقَبِّحُوا الْوَجْهَ، فَإِنَّ ابْنَ آدَمَ خُلِقَ عَلَى صُورَةِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيَّ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade reviling the face, giving as reason the creation of the son of Adam in the image of the Most Merciful, as quoted below. > **"Do not revile the face, for the son of Adam was created in the image of the Most Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ چہرے کو قبیح قرار نہ دو کیونکہ انسان کی تخلیق رحمان کی صورت کے مطابق ہوئی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن اسماعیل طالقانی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13221

Majma al-Zawaid #13221

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ»

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded avoidance of the face in combat with a brother, as quoted below. > **"When one of you fights his brother, let him avoid the face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص اپنے بھائی کے ساتھ لڑائی کرے تو چہرے ( پر ضرب لگانے سے اور مارنے ) سے اجتناب کرے ۔‘‘

13222

Majma al-Zawaid #13222

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «إِذَا رَمَى أَوْ ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a variant narration from Abu Said al-Khudri, radiya Allahu anhu, the Messenger of Allah ﷺ extended the prohibition to shooting and striking generally, as quoted below. > **"When one of you shoots or strikes, let him avoid the face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب کوئی شخص تیر مارے یا کوئی شخص ضرب لگائے ، تو چہرے سے اجتناب کرے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13223

Majma al-Zawaid #13223

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْ لَطْمِ خُدُودِ الدَّوَابِّ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ لَكُمْ عِصِيًّا وَسِيَاطًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdam ibn Madikarib, radiya Allahu anhu, reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ forbid slapping the cheeks of beasts and declare that Allah had provided sticks and whips instead, as quoted below. > **"Allah has made sticks and whips for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو جانوروں کے رخسار پر تھپڑ مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے عصا اور کوڑے بنائے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ایک راوی بقیہ ہے ، جو مدلس ہے ۔

13224

Majma al-Zawaid #13224

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ: يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ، الرَّجُلُ مِنَّا يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَضْرِبُهَا بِالسَّوْطِ وَيَكْفَحُهَا بِاللِّجَامِ، هَلْ سَمِعْتُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَإِذَا امْرَأَةٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ: أَيُّهَا السَّائِلُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ} [الأنعام: 38] فَقَالَا: هَذِهِ أُخْتُنَا وَهِيَ أَكْبَرُ مِنَّا، وَقَدْ أَدْرَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Ziyad reported that he visited the two sons of Busr al-Sulami and asked whether they had heard anything from the Messenger of Allah ﷺ about a man who beats his mount with a whip and jerks its bridle. From inside the house their elder sister, who had met the Messenger of Allah ﷺ, called out the verse that there is no beast on earth nor bird flying with its wings except communities like you, and that nothing was neglected in the Book. > **"There is no beast on earth nor bird flying with its two wings except communities like you. We have neglected nothing in the Book."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن زیاد نے بسر کے دو صاحبزادوں کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ، جو دونوں سلمی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں ان دونوں کے پاس آیا ، میں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ دونوں پر رحم کرے ، ہم میں سے ایک شخص ہے جو اپنے جانور کو کوڑے کے ذریعے مارتا ہے اور اس کی لگام کو کھینچتا ہے ، تو کیا آپ دونوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کی زبانی کوئی بات سنی ہے ؟ تو گھر کے اندر سے ایک عورت نے بلند آواز میں کہا : اے سوال کرنے والے شخص ! اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ زمین پر جو بھی جانور موجود ہے ، یا جو بھی پرندہ اپنے دو پروں کے ساتھ اُڑتا ہے ، تو وہ تم لوگوں کی مانند امت ( یعنی مخصوص قسم کی مخلوق ) ہیں ، ہم نے ہر چیز کا ذکر کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) میں ہے ۔‘‘ «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ» ان دونوں نے کہا : یہ ہماری بہن ہیں ، اور یہ ہم سے عمر میں بڑی ہیں ، اور خاتون نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13225

Majma al-Zawaid #13225

عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى دَوَابٍّ لَهُمْ وَرَوَاحِلَ، فَقَالَ لَهُمُ: "" ارْكَبُوهَا سَالِمَةً وَدَعُوهَا سَالِمَةً، وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ لِأَحَادِيثِكُمْ فِي الطُّرُقِ وَالْأَسْوَاقِ، فَرُبَّ مَرْكُوبَةٍ خَيْرٌ مِنْ رَاكِبِهَا وَأَكْثَرُ ذِكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Anas, radiya Allahu anhu, reported from the Messenger of Allah ﷺ that he passed by people halted upon their mounts and riding beasts and instructed them to mount them soundly and leave them soundly, and not to make them chairs for talk in roads and markets, for often a mount is better than its rider and more frequent in remembrance of Allah than he. > **"Ride them soundly and leave them soundly, and do not make them chairs for your conversations in the roads and markets, for often a mount is better than its rider and more frequent in remembrance of Allah than he."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو اپنے جانوروں پر بیٹھے ہوئے ٹھہرے ہوئے تھے ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ان پر ایسی حالت میں سواری کرو جب یہ سالم ہوں اور انہیں سلامتی کے عالم میں چھوڑ دو ، تم انہیں راستوں میں یا بازاروں میں آپس میں بات چیت کرنے کے لئے کرسی نہ بنا لو کیونکہ بعض اوقات سواری اپنے سوار سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ، اور سوار سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والی ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سہل بن معاذ بن انس کا معاملہ مختلف ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13226

Majma al-Zawaid #13226

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ «أَنَّ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَتَى قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي الْفِتْنَةِ الْأُولَى وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ، فَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ وَقَالَ: ارْكَبْ. فَأَبَى، فَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا "". فَقَالَ حَبِيبٌ: إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Abi Umayya reported that Habib ibn Maslama came to Qays ibn Saad ibn Ubada, radiya Allahu anhu, during the first civil strife while Qays was on a horse. Habib moved back from the saddle and invited him to mount, but Qays refused and cited the statement of the Messenger of Allah ﷺ quoted below. Habib replied that he knew it but feared for Qays. > **"The owner of the mount has most right to its front."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوامیہ بیان کرتے ہیں : حبیب بن مسلمہ ، حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہلے فتنے کے زمانے میں آئے ، وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے ۔ وہ زین سے پیچھے ہوئے اور بولے : آپ سوار ہو جائیں ، تو انہوں نے انکار کر دیا ، حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ۔‘‘ تو حبیب نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے جو بات ارشاد فرمائی ہے م میں اس سے ناواقف نہیں ہوں لیکن مجھے آپ کے بارے میں اندیشہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

13227

Majma al-Zawaid #13227

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «أَتَانَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْنَا لَهُ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ، فَأَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ، فَاشْتَمَلَ بِهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ أَثَرَ الْوَرْسِ عَلَى حِكْثِهِ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِحِمَارٍ لِيَرْكَبَ، فَقَالَ: "" صَاحِبُ الْحِمَارِ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِهِ "". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْحِمَارُ لَكَ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ إِلَى: عُكُنِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Saad, radiya Allahu anhu, reported that the Prophet ﷺ visited them, they provided water for washing and he bathed, they brought a Wars-dyed cloak which he wrapped about himself so that the trace of Wars could be seen on his side, then they brought a donkey for him to ride. He declared the ruling quoted below, and when they said the donkey was his, the narrator notes that Ibn Maja narrated only up to the mention of his side. > **"The owner of the donkey has most right to the front of his donkey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لئے پانی رکھا ، آپ نے غسل کیا ، ہم آپ کے پاس ورس لگا ہوا لحاف لے کر آئے ، وہ آپ نے اوڑھ لیا ، میں گویا اس وقت بھی آپ کے پیٹ پر ورس کا نشان دیکھ رہا ہوں ، پھر ہم آپ کے پاس گدھا لے کر آئے تاکہ آپ اس پر سوار ہوں ، تو آپ نے فرمایا : گدھے کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق رکھتا ہے ، تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گدھا آپ کا ہوا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف «عُکنِہ» تک کا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔

13228

Majma al-Zawaid #13228

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ صَاحِبَ الدَّابَّةِ أَوْلَى بِصَدْرِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ ruled that the owner of the mount is most rightful to its front, as quoted below. > **"The owner of the mount is most rightful to its front."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13229

Majma al-Zawaid #13229

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ صَاحِبَ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Urwa ibn Mutib al-Ansari, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ ruled that the owner of the mount is most deserving of its front, as quoted below. > **"The owner of the mount is most deserving of its front."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بن معتب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13230

Majma al-Zawaid #13230

وَعَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ الْخَطْمِيِّ قَالَ: «زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قُبَاءَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ جِئْنَاهُ بِحِمَارٍ يَتَخَالَى قَطُوفٍ، فَرَكِبَ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْغُلَامُ يَأْتِي مَعَكَ يَرُدُّ الدَّابَّةَ. قَالَ: "" صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ارْكَبْهُ وَرُدَّهُ عَلَيْنَا. فَذَهَبَ بِهِ وَرَدَّهُ عَلَيْنَا وَهُوَ هِمْلَاجٌ مَا يُسَايَرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Isma ibn Malik al-Khatmi, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ visited them at Quba, and when he wished to return they brought a short-stepping donkey and he mounted. They proposed sending a boy with him to return the beast, but he stated the ruling quoted below. They then asked him to ride it and return it to them, so he departed upon it and returned it to them moving with a brisk ambling pace beyond comparison. > **"The owner of the mount is most deserving of its front."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ بن مالک خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم سے ملنے کے لئے قباء تشریف لائے ، جب آپ واپس جانے لگے ، تو ہم آپ کی خدمت میں ایک گدھا لے کے آئے جو چھوٹے قدم اٹھاتا تھا ، نبی اکرم ﷺ اس پر سوار ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لڑکا آپ کے ساتھ جائے گا ، اور جانور کو واپس لے آئے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہی اس پر سوار ہو جائیں اور آپ ہی ہمیں واپس بھجوا دیجئے گا ، تو نبی اکرم ﷺ اس پر تشریف لے گئے اور پھر آپ نے وہ ہمیں واپس بھجوا دیا ، جب وہ آیا تو وہ تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا ، یہاں تک کہ اس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13231

Majma al-Zawaid #13231

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: «خَرَجَ الْحُسَيْنُ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضَهُ الَّتِي بِظَاهِرِ الْحَرَّةِ، وَنَحْنُ نَمْشِي إِذْ أَدْرَكَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ عَلَى بَغْلَةٍ، فَنَزَلَ، فَقَرَّبَهَا إِلَى الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: ارْكَبْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ. فَكَرِهَ ذَلِكَ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَقْسَمَ النُّعْمَانُ عَلَيْهِ، حَتَّى أَطَاعَ الْحُسَيْنُ بِالرُّكُوبِ، قَالَ: إِذْ أَقْسَمْتَ، فَقَدْ كَلَّفْتَنِي مَا أَكْرَهُ، فَارْكَبْ عَلَى صَدْرِ دَابَّتِكَ، فَأُرْدِفُكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ، وَصَدْرِ فِرَاشِهِ، وَالصَّلَاةِ فِي مَنْزِلِهِ إِلَّا مَا يُجْمَعُ النَّاسُ عَلَيْهِ "". فَقَالَ النُّعْمَانُ: صَدَقَتْ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ أَبِي بَشِيرٍ يَقُولُ كَمَا قَالَتْ فَاطِمَةُ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِلَّا مِنْ إِذْنٍ "". فَرَكِبَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ali ibn Husayn reported that al-Husayn, radiya Allahu anhu, set out toward his land beyond al-Harra on foot with others when al-Numan ibn Bashir, radiya Allahu anhu, overtook them on a mule, dismounted, and insisted that Abu Abdillah mount. After repeated oaths al-Husayn accepted reluctantly and asked al-Numan to sit in front while he rode behind, citing what he heard from Fatima daughter of Muhammad, radiya Allahu anha, from the Messenger of Allah ﷺ as quoted below, with the exception of permission. Al-Numan affirmed her truthfulness and cited his father Bashir to the same effect. > **"A man has most right to the front of his mount, to the front of his bedding, and to leading prayer in his house, except for what people gather him to do. Except with permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام محمد بن علی بن حسین بیان کرتے ہیں : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حرہ کے ظاہری حصے پر موجود اپنی زمین کی طرف جانے کے لئے نکلے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، راستے میں ہماری ملاقات حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ایک خچر پر سوار تھے ، وہ اس خچر سے نیچے اتر آئے ۔ انہوں نے وہ خچر امام حسین رضی اللہ عنہ کے قریب کیا اور بولے : ابوعبداللہ آپ اس پر سوار ہو جائیں ، امام حسین نے اس بات کو ناپسند کیا ، یہ تکرار چلتی رہی ، یہاں تک کہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو قسم دی تو امام حسین نے سوار ہونے کے بارے میں ان کی بات مان لی اور بولے : تم نے قسم دے کر مجھے ایک ایسی چیز کا پابند کر دیا ہے ، جسے میں ناپسند کرتا ہوں ، اب تم جانور کے اگلے حصے پر سوار ہو جاؤ ، میں تمہارے پیچھے بیٹھ جاؤں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ آدمی اپنے جانور کے اگلے حصے اور اپنے بچھونے کے نمایاں حصے کا زیادہ حق رکھتا ہے ، اور اپنے گھر میں نماز ( پڑھانے کا ) زیادہ حق رکھتا ہے البتہ اس صورت میں حکم مختلف ہو گا ، جبکہ وہ ایسا امام ہو گا کہ لوگ اس پر اکٹھے ہوں ۔‘‘ تو حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول کی صاحبزادی نے ٹھیک بیان کیا ہے ، میں نے اپنے والد حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کو وہی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے ، تاہم میرے والد نے ( یہ الفاظ نقل کے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ البتہ اجازت کے ساتھ ایسا کیا جا سکتا ہے ۔‘‘ تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13232

Majma al-Zawaid #13232

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ جَدِّي حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِلَى أَرْضٍ لَهُ بِالزَّارْنِيقِ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ، فَأَدْرَكَنَا ابْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَلَى بَغْلَةٍ، فَنَزَلَ عَنْهَا، وَقَالَ لِلْحُسَيْنِ: ارْكَبْ (يَا) أَبَا عَبْدِ اللَّهِ. فَأَبَى، فَلَمْ يَزَلْ يُقْسِمُ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ: إِنَّكَ قَدْ كَلَّفْتَنِي مَا أَكْرَهُ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَتْنِيهِ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ، وَصَدْرِ فِرَاشِهِ، وَالصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ "". قَالَ ابْنُ النُّعْمَانِ: صَدَقَتْ فَاطِمَةُ، حَدَّثَنِي أَبِي وَهُوَ دَاحٍ بِالْمَدِينَةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِثْلَ حَدِيثِكَ وَزَادَ فِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِيهِ: "" إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Ali ibn Husayn reported that he set out with his grandfather Husayn ibn Ali, radiya Allahu anhuma, toward his land at al-Zaraniq beyond al-Bayda when the son of al-Numan ibn Bashir overtook them on a mule, dismounted, and urged Husayn to mount. After persistent oaths Husayn cited what Fatima, radiya Allahu anha, narrated from the Messenger of Allah ﷺ as quoted below. The son of al-Numan affirmed her and added his father's narration with the increase concerning permission. > **"A man has most right to the front of his mount, to the front of his bedding, and to prayer in his house, except with his permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام محمد بن علی بن حسین بیان کرتے ہیں : میں اپنے دادا حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ زرانیق میں موجود ان کی زمین کی طرف جانے کے لیے نکلا جو بیداء میں تھی ، حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہمیں ملے ، جو ایک خچر پر سوار تھے ، وہ اپنے خچر سے نیچے اترے اور انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے کہا : اے ابوعبداللہ آپ سوار ہو جائیے ۔ امام حسین نے یہ بات نہیں مانی ، وہ صاحب امام حسین کو مسلسل قسم دیتے رہے ، یہاں تک کہ امام حسین نے فرمایا : تم نے مجھے ایک ایسی بات کا پابند کیا ہے جسے میں ناپسند کرتا ہوں ، میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی اپنے جانور کے اگلے حصے ، اپنے بچھونے کے نمایاں حصے اور اپنے گھر میں نماز ( پڑھانے ) کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔‘‘ تو حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے کہا : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سچ کہا ہے ، میرے والد نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا تھا : ’’ البتہ اگر وہ ( مالک ) اجازت دیدے تو حکم مختلف ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13233

Majma al-Zawaid #13233

وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا عَلَى حِمَارٍ لِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَأَخَّرْتُ عَلَى عَجُزِ الْحِمَارِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، ارْكَبْ. قَالَ: "" أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِكَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحِمَارُ لَكَ. فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مُقَدِّمِهِ، وَرَكِبْتُ أَنَا عَلَى عَجُزِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ تَرَكَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ أَيْضًا وَقَوَّاهُ النَّسَائِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Tamima al-Hujaymi, radiya Allahu anhu, reported that while he was upon his donkey he met the Messenger of Allah ﷺ, so he moved to the rear of the donkey and invited the Prophet ﷺ to mount at the front. The Prophet ﷺ declared the ruling quoted below, and when Abu Tamima gifted the donkey to him, the Messenger of Allah ﷺ mounted in front while Abu Tamima rode behind. > **"You are most rightful to the front of your donkey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر موجود تھا میری نبی اکرم ﷺ سے ملاقات ہوئی ، میں پیچھے ہٹ کر گدھے کی دم والے حصے پر آ گیا ، میں نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ سوار ہو جائیے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے گدھے کے اگلے حصے کے زیادہ حق دار ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گدھا آپ کا ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ اس کے اگلے حصے پر سوار ہوئے اور میں گدھے کے پچھلے حصے پر سوار ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام احمد نے متروک قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے بھی اسے ضعیف کہا ہے ، امام نسائی نے اسے قوی کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام احمد نے متروک قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے بھی اسے ضعیف کہا ہے ، جبکہ امام نسائی نے اسے قوی قرار دیا ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13234

Majma al-Zawaid #13234

وَعَنْ الْمُهَاجِرِ، مَوْلَى آلِ زِيَادٍ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا عَلَى حِمَارٍ لِي، تَكَادُ تُصِيبُ رِجْلِي الْأَرْضَ مِنْ صِغَرِ الْحِمَارِ، إِذَا أَنَا بِطَلْعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يُبْصِرُ فِي الْقَمَرِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: حَاجَةً لِي. قُلْتُ: أَلَا تَرْكَبُ؟ قَالَ: بَلَى. فَتَخَلَّفْتُ عَلَى عَجُزِ الْحِمَارِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ: لَا أَفْعَلُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِ الدَّابَّةِ، وَصَاحِبُ الْفِرَاشِ أَحَقُّ بِصَدْرِ الْفِرَاشِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Muhajir, freedman of the family of Ziyad, reported that while he was upon a small donkey with his feet nearly touching the ground, Amir al-Muminin Ali ibn Abi Talib, radiya Allahu anhu, appeared in the moonlight. Asked where he was going, Ali mentioned a need, accepted the offer to ride, and when the narrator moved to the rear and invited him forward, Ali refused and cited the statement of the Messenger of Allah ﷺ quoted below. > **"The owner of the mount is most deserving of the front of the mount, and the owner of the bedding is most deserving of the front of the bedding."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مہاجر جو آل زیاد کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر سوار تھا ، اور اس کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے میرے پاؤں زمین کے قریب پہنچ رہے تھے ، اسی دوران میرے سامنے امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ آ گئے جو چاند کو دیکھ رہے تھے ، میں نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! آپ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اپنے ایک کام کے سلسلے میں ، میں نے عرض کی : کیا آپ سوار نہیں ہوں گے ، انہوں نے کہا : ٹھیک ہے میں پیچھے ہٹ کر گدھے کے پچھلے حصے پر ہو گیا اور میں نے عرض کی : اے امیرالمؤمنین ! آپ سوار ہو جائیں ۔ انہوں نے فرمایا : میں ایسا نہیں کروں گا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ، اور بچھونے کا مالک بچھونے کے نمایاں حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ابونضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13235

Majma al-Zawaid #13235

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا حَمَلْتُمْ فَأَخِّرُوا الْحَمْلَ إِنَّ الرِّجْلَ مُوَثَّقَةٌ، وَالْيَدَ مُغلَّقَةٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ instructed that loads be placed to the rear when loading, for the foot is bound and the hand is tied, as quoted below. > **"When you load, place the load to the rear, for the foot is bound and the hand is tied."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم ( جانور پر ) سامان لادو ! تو سامان کو پیچھے رکھو ، کیونکہ پاؤں بندھے ہوتے ہیں اور ہاتھ بند ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی بن اسود ہے اور ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13236

Majma al-Zawaid #13236

عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَرْكَبَ ثَلَاثَةٌ عَلَى دَابَّةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, radiya Allahu anhu, reported that the Prophet ﷺ forbade three persons riding upon one mount.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تین افراد ایک جانور پر سوار ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13237

Majma al-Zawaid #13237

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْحَافِي أَوْلَى بِصَدْرِ الطَّرِيقِ مِنَ الْمُنْتَعِلِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَحَدِيثُهُمَا حَسَنٌ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ gave precedence to the barefoot over the shod concerning the middle of the road, as quoted below. > **"The barefoot is more deserving of the middle of the road than the shod."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جوتے کے بغیر شخص راستے کے درمیانی حصے کا جوتے والے سے زیادہ حق رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور ایک راوی یحیی بن عثمان بن صالح ہے ان دونوں کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13238

Majma al-Zawaid #13238

عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: لَا أَسِمُ إِلَّا فِي الْجَاعِرَتَيْنِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ، إِلَّا أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ تَمَّامِ بْنِ الْعَبَّاسِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, radiya Allahu anhu, reported that the Prophet ﷺ forbade branding upon the face, whereupon al-Abbas declared that he would brand only upon the hindquarters near the tail.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے چہرے پر داغ لگانے سے منع کیا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اب میں صرف اس ( جانور ) کے دم کے قریب ابھرے ہوئے حصے پر ہی نشان لگاؤں گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، البتہ جعفر بن تمام بن عباس نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13239

Majma al-Zawaid #13239

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: «مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَعِيرٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: "" لَوْ أَنَّ أَهْلَ هَذَا الْبَعِيرِ عَزَلُوا النَّارَ عَنْ هَذِهِ الدَّابَّةِ "". فَقُلْتُ: لَأَسِمَنَّ فِي أَبْعَدِ مَكَانَ مِنْ وَجْهِهَا. قَالَ: فَوَسَمْتُ فِي عَجَبِ الذَّنَبِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَزَادَ فِي أَوَّلِهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْوَسْمِ أَنْ يُوسَمَ فِي الْوَجْهِ»، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Talha ibn Ubaydillah, radiya Allahu anhu, reported that a camel branded upon its face was brought past the Messenger of Allah ﷺ, who remarked that its people should have spared the beast from fire. Talha then resolved to brand only at the farthest point from the face and branded at the root of the tail. In another wording the Prophet ﷺ explicitly forbade branding upon the face. > **"If only the people of this camel had spared this beast from fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک اونٹ گزرا ، جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر اس اونٹ والے لوگ اس جانور سے آگ کو الگ کر دیتے تو زیادہ مناسب تھا ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : میں اس کے چہرے سے سب سے زیادہ دور حصے پر داغ لگایا کروں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے دم کے قریب ابھرے ہوئے حصے پر نشان لگانا شروع کیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نشان لگانے سے منع کیا ہے یہ کہ چہرے پر نشان لگایا جائے ........ باقی روایت حسب سابق ہے ۔

13240

Majma al-Zawaid #13240

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِمَارًا مَوْسُومًا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: "" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ saw a donkey branded upon its face and invoked a curse upon the doer, as quoted below. > **"May Allah curse whoever did this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا ، تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے یہ داغ لگایا ہے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

13241

Majma al-Zawaid #13241

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «وَسَمَ الْعَبَّاسُ بَعِيرًا لَهُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَهَلَّا فِي غَيْرِ الْوَجْهِ؟ "". فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَسِمُ إِلَّا فِي آخِرِ عَظْمٍ مِنْهُ. فَوَسَمَ فِي الْجَاعِرَتَيْنِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ وَلَمْ أَعْرِفْ إِسْمَاعِيلَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra, radiya Allahu anhu, reported that al-Abbas branded a camel of his upon its face, so the Messenger of Allah ﷺ asked why he did not brand elsewhere than the face. Al-Abbas swore by Him Who sent the Prophet ﷺ with truth that he would brand only upon its hindmost bone, and thereafter branded upon the hindquarters. > **"Why not elsewhere than the face?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اونٹ کے چہرے پر داغ لگایا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : آپ نے چہرے کے علاوہ کسی جگہ پر کیوں نہیں لگایا ، تو انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اب میں صرف اس کی سب سے پیچھے والی ہڈی پر ہی داغ لگاؤں گا ، تو انہوں نے دم کے پاس ابھری ہوئی ہڈی پر داغ لگایا ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد اسماعیل کے حوالے سے خالد طحان سے نقل کی ہے ، میں اسماعیل سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13242

Majma al-Zawaid #13242

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ مَنْ يَسِمُ الْوَجْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ cursed whoever brands the face, as quoted below. > **"May Allah curse whoever brands the face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے چہرے پر داغ لگانے والے شخص پر لعنت کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13243

Majma al-Zawaid #13243

وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ جَرَادَةَ - أَحَدُ بَنِي غَيْلَانَ بْنِ جُنَادَةَ - قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِبِلٍ قَدْ وَسَمْتُهَا فِي أَنْفِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا جُنَادَةُ، فَمَا وَجَدْتَ عُضْوًا تَسِمُهُ إِلَّا فِي الْوَجْهِ؟ أَمَا إِنَّ أَمَامَكَ الْقَصَاصَ "". فَقَالَ: أَمْرُهَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" ائْتِنِي بِشَيْءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وَسْمٌ "". فَأَتَيْتُهُ بِابْنِ لَبُونٍ وَحِقَّةٍ، فَوَضَعْتُ الْمِيسَمَ فِي الْعُنُقِ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ: "" أَخِّرْ أَخِّرْ "" حَتَّى بَلَغَ الْفَخِذَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سِمْ عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ "". فَوَسَمْتُهَا فِي أَفْخَاذِهَا، وَكَانَتْ صَدَقَتُهَا حِقَّتَيْنِ، وَكَانَتْ تِسْعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Junada ibn Jarada of Banu Ghaylan ibn Junada, radiya Allahu anhu, reported that he brought camels to the Prophet ﷺ branded upon their noses. The Prophet ﷺ reproached him for finding no limb but the face and warned of retribution ahead. Junada entrusted the matter to him, so the Prophet ﷺ asked for an unbranded animal. When Junada brought a young camel and a Hiqqa and placed the iron upon the neck, the Prophet ﷺ kept saying move back until it reached the thigh, then permitted branding and Junada branded the thighs. Their alms amounted to two Hiqqas among ninety. > **"O Junada, did you find no limb to brand except the face? Ahead of you lies retribution. Bring me something unbranded. Move back, move back. Brand with the blessing of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جنادہ بن جرادہ رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو غیلان بن جنادہ سے ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک اونٹ ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے اس کی ناک پر داغ لگایا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جنادہ تمہیں داغ لگانے کے لئے چہرے کے علاوہ اور کوئی عضو نہیں ملا ؟ آگے چل کے تمہیں اس کا بدلہ دینا ہو گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس جانور کا معاملہ آپ کے سپرد ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس کوئی ایسا جانور لے کے آؤ ، جس پر داغ نہ لگا ہوا ہو ، تو میں ایک ابن لبون اور ایک حقہ لے کر آپ کے پاس آیا ، میں نے داغ لگانے والا آلہ ( اس جانور کی ) گردن پر رکھا ، آپ مسلسل یہی فرماتے رہے ، پیچھے کرو اور پیچھے کرو ، یہاں تک کہ وہ آلہ زانوں تک پہنچ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی برکت کے ہمراہ داغ لگا دو ، تو میں نے اس کے زانوں پر داغ لگایا ، ان کا صدقہ دو حقہ بنتے تھے اور وہ نوے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13244

Majma al-Zawaid #13244

وَعَنْ نُقَادَةَ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسِمُ. قَالَ: "" أَوَلَمَ أَرَكَ تَسِمُ فِي الْوَجْهِ؟ لَا تَحْرِقِ اللَّحْمَ "". قُلْتُ: فَأَيْنَ أَسِمُ؟ قَالَ: "" فِي مَوْضِعِ الْجَرِيرِ مِنَ السَّالِفَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Nuqada, radiya Allahu anhu, reported that he said he brands, and the Prophet ﷺ asked whether he had not seen him branding upon the face and forbade burning flesh. When asked where to brand, the Prophet ﷺ directed him to the place of the halter upon the neck, as quoted below. > **"Have I not seen you branding upon the face? Do not burn the flesh. Upon the place of the halter on the neck."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نقادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں داغ لگا لوں ، آپ نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں چہرے پر داغ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، تم گوشت کو نہ جلاؤ ، میں نے عرض کی : پھر میں کہاں داغ لگواؤں ؟ آپ نے فرمایا : پیچھے کی طرف جو رسی کی جگہ ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13245

Majma al-Zawaid #13245

عَنْ خَالِدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْمُدْلِجِيِّ قَالَ: «وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَسْفَانَ، فَقَالَ رَجُلٌ: هَلْ لَكَ فِي عَقَائِلِ النِّسَاءِ وَأُدْمِ الْإِبِلِ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ؟ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، نَعْرِفُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خَيْرُ الْقَوْمِ الْمُدَافِعُ عَنْ قَوْمِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Khalid ibn Ubaydillah ibn Harmala al-Mudliji, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ halted at Usfan when a man asked about the women and camels of Banu Mudlij, while a Mudliji man stood among the people with displeasure visible upon his face. The Messenger of Allah ﷺ then stated the principle quoted below. > **"The best of the people is he who defends his people so long as he does not sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن عبیداللہ بن حرملہ مدلجی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عسفان کے مقام پر ٹھہرے تو ایک شخص نے عرض کی : کیا آپ بنو مدلج کی خواتین کی رسیوں اور اونٹوں کے چمڑوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ، حاضرین میں بنو مدلج سے تعلق رکھنے والا ایک شخص موجود تھا ، ہمیں اس کے چہرے سے ناگواری کا اندازہ ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے ، جو اپنی قوم کی طرف سے دفاع کرے جبکہ وہ کوئی گناہ کا کام نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13246

Majma al-Zawaid #13246

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَجِيفُوا أَبْوَابَكُمْ، وَاكْفِئُوا آنِيَتَكُمْ، وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ، فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُمْ بِالتَّسَوُّرِ عَلَيْكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ غَيْرَ الْفَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama, radiya Allahu anhu, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded closing doors, overturning vessels, tying waterskins, and extinguishing lamps, for the intruders were not permitted to climb over them, as quoted below. > **"Close your doors, overturn your vessels, tie your waterskins, and extinguish your lamps, for they have not been permitted to climb over you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( رات کو ہونے سے پہلے ) اپنے دروازے بند کر دو ، اپنے برتن ڈھانپ دو ، اپنے مشکیزوں کے منہ بند کر دو ، اپنے چراغوں کو بجھا دو ، کیونکہ ان کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ( ایسی صورت میں ) تم پر حملہ آور ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف فرج بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

13247

Majma al-Zawaid #13247

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْحِجْرِ، وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ، فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَ فَتَحْرِقُ أَهْلَ الْبَيْتِ، وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ، وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ، وَغَلِّقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ» "". قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا يُكَرِّهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْحِجْرِ؟ قَالَ: يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Sarjis, radiya Allahu anhu, reported that the Prophet ﷺ forbade urinating into burrows and commanded extinguishing lamps at sleep lest a mouse seize the wick and burn the household, tying waterskins, covering drink, and locking doors at night. Asked why urination in burrows was disliked, Qatada explained that they are said to be dwellings of the Jinn. > **"Let none of you urinate into a burrow. When you sleep, extinguish the lamp, for the mouse seizes the wick and burns the household. Tie the waterskins, cover the drink, and lock the doors at night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کوئی شخص بل میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دو کیونکہ کوئی چوہا بعض اوقات ( چراغ کی ) بھی پکڑ لیتا ہے اور اس کے ذریعے گھر کو جلا دیتا ہے ، تم لوگ مشکیزوں کے منہ بند کر دو اور مشروبات کو ڈھانپ دو اور دروازے رات کے وقت بند کر دو ۔‘‘ لوگوں نے قتادہ سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ نے بل میں پیشاب کرنے کو کیوں مکروہ قرار دیا ہے ، تو انہوں نے جواب دیا : بات کہی جاتی ہے کہ یہ بل جنات کا مسکن ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13248

Majma al-Zawaid #13248

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَبُو حُمَيْدٍ، أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ مِنَ الْبَقِيعِ نَهَارًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا خَمَّرْتَ، وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ بِعُودٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الدَّبَّاسِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra, radiya Allahu anhu, reported that a man called Abu Humayd brought the Prophet ﷺ a vessel of milk from al-Baqi by day, whereupon the Prophet ﷺ asked why he had not covered it even by laying a stick across it, as quoted below. > **"Why did you not cover it, even by laying a stick across it?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب جن کا نام ابوحمید تھا وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دن کے وقت بقیع سے ایک برتن لے کے آئے ، جس میں دودھ موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اسے ڈھانپ کیوں نہیں لیا ، خواہ اس پر کوئی لکڑی ہی رکھ دیتے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابراہیم بن سلیمان دباس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13249

Majma al-Zawaid #13249

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اتَّقُوا فَوْرَةَ الْعَشَاءِ» "". كَأَنَّهُ لِمَا يُخَافُ مِنَ الِاخْتِصَارِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah, radiya Allahu anhuma, reported that the Messenger of Allah ﷺ warned against the onset of the evening meal time, which the narrator understood as fear of sudden seizure by unseen beings, as quoted below. > **"Beware the onset of the night meal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عشاء کے ابتدائی وقت کے حوالے سے بچ کے رہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : گویا کہ نبی اکرم ﷺ کو یہ اندیشہ تھا کہ اس وقت جنات ( یا شیاطین وغیرہ ) حاضر ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔