وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: أَلَا تُخْبِرُنَا خَبَرَ أَبِيكَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفَةَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا كَثُرَ الضَّيْفُ عِنْدَهُ قَالَ: "" لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ بِضَيْفِهِ "". حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، اجْتَمَعَ ضِيفَانٌ كَثِيرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ مَعَ جَلِيسِهِ "". قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنِ انْقَلَبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: "" يَا عَائِشَةُ هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ، حُوَيْسَةٌ اتَّخَذْتُهَا لِإِفْطَارِكَ. قَالَ: فَجَاءَتْ بِهَا فِي قُعَيْبَةٍ لَهَا، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهَا قَلِيلًا فَأَكَلَهُ ثُمَّ قَالَ: "" كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ "". فَأَكَلْنَا مِنْهَا، حَتَّى مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا. ثُمَّ قَالَ: "" هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَرَابٍ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ، لُبَيْنَةٌ كُنْتُ اتَّخَذْتُهَا لَكَ. قَالَ: "" هَلُمِّيهَا "". قَالَ: فَجَاءَتْ بِهَا، فَتَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَفَعَهَا إِلَى فِيهِ، فَشَرِبَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ: "" اشْرَبُوا بِاسْمِ اللَّهِ "". فَشَرِبْنَا حَتَّى وَاللَّهِ مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا. ثُمَّ خَرَجْنَا، فَأَتَيْتُ الْمَسْجِدَ، فَاضْطَجَعْتُ عَلَى وَجْهِي، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَفْلَةً، فَجَعَلَ يُوقِظُ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ يُوقِظُ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ، فَمَرَّ بِي وَأَنَا عَلَى وَجْهِي فَقَالَ: "" مَنْ هَذَا؟ "". فَقُلْتُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفَةَ. فَقَالَ: "" إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ طِهْفَةَ بِاخْتِصَارٍ، وَالنَّسَائِيُّ، عَنْ طِهْفَةَ وَغَيْرِهِ، وَلَمْ يُسَمِّ غَيْرَ طِهْفَةَ، وَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا رَوَاهُ، عَنِ ابْنِ طِهْفَةَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Al-Ḥārith ibn ʿAbd al-Raḥmān said: While I sat with Abū Salamah ibn ʿAbd al-Raḥmān, a man of Banū Ghifār, son of ʿAbdullah ibn Ṭihfah رضي الله عنه, came upon us. Abū Salamah said: Will you not inform us of your father. He said that ʿAbdullah ibn Ṭihfah said: When guests grew numerous with the Messenger of Allah ﷺ he would say: Let each man return with his guest. One night many guests gathered, so the Messenger of Allah ﷺ said: Let each man return with his companion. I was among those who returned with the Messenger of Allah ﷺ. When he entered he said: O ʿĀʾishah, is there anything. She said: Yes, a little ḥays I prepared for your breaking fast. She brought it in her small bowl, the Messenger of Allah ﷺ took a little and ate, then said: Eat in the name of Allah. We ate from it until we no longer looked at it. Then he said: Have you any drink. She said: Yes, a little milk I kept for you. He said: Bring it. She brought it, the Messenger of Allah ﷺ took it, raised it to his mouth, drank a little, then said: Drink in the name of Allah. We drank until, by Allah, we no longer looked at it. Then we went out, I came to the mosque and lay upon my face. The Messenger of Allah ﷺ came out unaware, waking the people for prayer, as he would wake them when he went out. He passed by me while I lay upon my face and said: Who is this. I said: ʿAbdullah ibn Ṭihfah. He said: This is a lying that Allah dislikes. > **"Let each man return with his guest. Let each man return with his companion. O ʿĀʾishah, is there anything? Eat in the name of Allah. Have you any drink? Bring it. Drink in the name of Allah. Who is this? This is a lying that Allah dislikes."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حارث بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ابوسلمہ بن عبدالرحمن کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران بنو غفار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہمارے سامنے آیا جو حضرت عبداللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا ، ابوسلمہ نے کہا : کیا تم ہمیں اپنے والد کے بارے میں خبر نہیں دو گے ، تو اس نے یہ بات بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : ’’ جب نبی اکرم ﷺ کے ہاں مہمان زیادہ ہو جاتے تھے ، تو آپ فرماتے تھے : ہر شخص اپنے متعلقہ مہمان کو ساتھ لے کے واپس جائے ، ایک مرتبہ رات کے وقت آپ کے پاس بہت سے مہمان اکٹھے ہو گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو ساتھ لے کر واپس جائے ، راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گیا ، جب آپ گھر میں داخل ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کیا کوئی چیز ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! آپ کی افطاری کے لیے تھوڑا سا ’’ حیس ‘‘ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے تھوڑا سا لے کر اس کو کھا لیا ، پھر آپ نے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کے اس کو کھاؤ ، تو ہم نے اس میں سے کھایا ، یہاں تک کہ ہم اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس مشروب ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تھوڑا سا دودھ ہے ، جو میں نے آپ کے لئے سنبھال کے رکھا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہی لے آؤ ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وہ لے آئیں ، نبی اکرم ﷺ نے اسے لیا ، آپ نے اسے اپنے منہ کی طرف بلند کیا پھر اس میں سے تھوڑا سا پیا پھر فرمایا : تم اللہ کا نام لے کے پیو ، ہم نے پی لیا ، یہاں تک کہ اللہ کی قسم ہم اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے ، پھر ہم نکلے ، میں مسجد میں آیا اور اپنے چہرے کے بل ( یعنی الٹا ہو کر ) لیٹ گیا ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ لوگوں کو نماز کے لئے بیدار کر رہے تھے ، لوگوں کو نماز کے لئے بیدار کرتے ہوئے ، جب آپ میرے پاس سے گزرے تو میں چہرے کے بل لیٹا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ میں نے کہا : عبداللہ بن طہفہ ، آپ نے فرمایا : یہ لیٹنے کا ایسا طریقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے حضرت طہفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام نسائی نے بھی حضرت طہفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کے علاوہ ایک اور حوالے سے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے اس دوسرے شخص کا نام بیان نہیں کیا اور میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں پایا جس نے اسے حضرت طہفہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے حوالے سے نقل کیا ہو ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور حضرت عبداللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔