Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 9

Book of Good Manners

Hadith 12930–12969

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12930

Majma al-Zawaid #12930

عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَمْسَحُوا بِالْأَرْضِ، فَإِنَّهَا بِكُمْ بَرَّةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، عَنْ شَيْخِهِ حَمَلَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغُزِّيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān al-Fārisī رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said not to wipe away the earth in contempt, for it is dutiful toward you. > **"Do not wipe yourselves with the earth, for it is dutiful toward you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم زمین ( کی مٹی ) کو نہ پونچھو ! کیونکہ وہ تم پر مہربان ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اپنے استاد حملہ بن محمد کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن محمد بن عمرو غزی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12931

Majma al-Zawaid #12931

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ، إِنْ لَمْ يُحْبِكَ مِنْ عِطْرِهِ يَعْبَقُ بِكَ مِنْ رِيحِهِ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ كَمَثَلِ الْقَيْنِ إِنْ لَمْ يَحْرِقْ ثِيَابَكَ يَعْبَقُ بِكَ مِنْ دُخَانِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the righteous companion is like the perfume-seller: even if he gives you none of his perfume, its fragrance clings to you; and the evil companion is like the blacksmith: even if he does not burn your clothes, his smoke clings to you. > **"The likeness of the righteous companion is that of the perfume-seller: if he does not give you of his perfume, its fragrance still clings to you; and the likeness of the evil companion is that of the blacksmith: if he does not burn your clothes, his smoke still clings to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نیک ہمنشین کی مثال عطار کی مانند ہے کہ اگر وہ تمہیں اپنے عطر میں سے کچھ نہیں بھی دے گا ، تو اس کی خوشبو تمہیں آتی رہے گی اور برے ہمنشین کی مثال لوہار کی مانند ہے کہ اگر وہ تمہارے کپڑے نہیں بھی جلائے گا تو اس کے دھوئیں کی بو تم تک آتی رہے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

12932

Majma al-Zawaid #12932

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَجْلِسُ الرَّجُلُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَابْنِهِ فِي الْمَجْلِسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that a man should not sit between a man and his son in a gathering. > **"Let no man sit between a man and his son in the gathering."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی شخص محفل میں کسی شخص اور اس کے بیٹے کے درمیان نہ بیٹھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12933

Majma al-Zawaid #12933

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَبِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: ثِقَةُ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported from the Messenger of Allah ﷺ that he said a man has the greatest right to the front of his mount and to his seat when he returns to it. > **"A man has the greatest right to the front of his mount and to his seat when he returns to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی اپنی سواری کے آگے والے حصے کا اور محفل میں جب وہ واپس آئے ، تو اپنی جگہ کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رافع ہے ، امام بخاری کہتے ہیں : یہ ثقہ ہے ، لیکن مقارب الحدیث ہے ، جمہور ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12934

Majma al-Zawaid #12934

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَخْلُفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي مَجْلِسِهِ، وَقَالَ: "" إِذَا رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade one man to take the place of another man in his seat, and said that when he returns, he has the greatest right to it. > **"When he returns, he has the greatest right to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے ، تو دوسرا شخص اس کی جگہ بیٹھ جائے ، آپ نے ارشاد فرمایا ہے : جب وہ شخص واپس آئے تو وہ اپنی جگہ کا زیادہ حق دار ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔

12935

Majma al-Zawaid #12935

عَنْ أَبِي شُرَيْحِ بْنِ عَمْرٍو الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الصُّعُدَاتِ، فَمَنْ جَلَسَ عَلَى الصَّعِيدِ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ "". قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ: "" غَضُّ الْبَصَرِ، وَرَدُّ التَّحِيَّةِ، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Shurayḥ ibn ʿAmr al-Khuzāʿī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to beware of sitting upon the roadways, and whoever sits upon a roadway must give it its due. When asked what its due is, he mentioned lowering the gaze, returning the greeting, enjoining good, and forbidding evil. > **"Beware of sitting upon the roadways, and whoever sits upon a roadway must give it its due: lowering the gaze, returning the greeting, enjoining good, and forbidding evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوشریح بن عمرو خزاعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو ، جو شخص راستے میں بیٹھتا ہے ، تو وہ اس کو اس کا حق دے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نگاہ کو جھکا کے رکھنا سلام کا جواب دینا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

12936

Majma al-Zawaid #12936

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَجْلِسًا مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ فِيهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ، فَسَلَّمَ فَرَدُّوا السَّلَامَ، فَكَرِهَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَجْلِسَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَجْلِسٌ كَانَ يَجْلِسُهُ آبَاؤُنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَحْبَبْنَا، أَنْ نُعَمِّرَهُ وَنَجْلِسَ فِيهِ. قَالَ: "" فَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا، فَرُدُّوا السَّلَامَ، وَغُضُّوا الْأَبْصَارَ، وَأَرْشِدُوا السَّبِيلَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ came to a gathering of the Anṣār in which a group of them were present and greeted them, and they returned the greeting, but the Prophet ﷺ disliked that sitting for them. They said it was a sitting their forefathers had held in ignorance and they wished to maintain it and sit therein. He replied that if they insisted upon doing so, they must return the greeting, lower their gazes, and guide the path. > **"If you refuse but to do so, then return the greeting, lower your gazes, and guide the path."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار کی ایک محفل میں تشریف لائے جن میں کچھ افراد کا تعلق انصار سے تھا ، آپ نے سلام کیا ، ان لوگوں نے سلام کا جواب دیا : نبی اکرم ﷺ کو وہ محفل پسند نہیں آئی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ بیٹھنے کا ایک ایسا طریقہ ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد زمانہ جاہلیت میں اسی طرح بیٹھا کرتے تھے ، تو ہم نے اس بات کو پسند کیا کہ ہم اس محفل کو آباد کریں اور اس میں بیٹھیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس طرح کرنے پر اصرار کرتے ہو ، تو سلام کا جواب دو ، نگاہیں جھکا کے رکھو اور راستے کے بارے میں رہنمائی کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ۔ وہ متروک ہے ۔

12937

Majma al-Zawaid #12937

وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الصُّعُدَاتِ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ "". قِيلَ: وَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ: "" غَضُّ الْبَصَرِ، وَرَدُّ السَّلَامِ "". أَحْسَبُهُ قَالَ: "" وَإِرْشَادُ الضَّالِّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ الْهَرَوِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to beware of sitting in the roadways, and if you must do so, then give the road its due. When asked what its due is, he said lowering the gaze and returning the greeting, and the narrator thought he also said guiding the stray. > **"Beware of sitting in the roadways, and if you must do so, then give the road its due: lowering the gaze, returning the greeting, and guiding the stray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ راستے میں بیٹھنے سے بچو ، اگر تمہیں ایسا کیے بغیر چارہ نہ ہو ، تو راستے کو اس کا حق دو ! عرض کی گئی : اس کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نگاہ کو جھکا کے رکھنا اور سلام کا جواب دینا ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : بھٹکے ہوئے شخص کی رہنمائی کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن سنان ہروی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12938

Majma al-Zawaid #12938

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَجْلِسُوا فِي الْمَجَالِسِ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ، فَرُدُّوا السَّلَامَ، وَغُضُّوا الْأَبْصَارَ، وَاهْدُوا السَّبِيلَ، وَأَعِينُوا عَلَى الْحُمُولَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that he said not to sit in the roadside gatherings, and if you must do so, then return the greeting, lower the gazes, guide the path, and help with heavy loads. > **"Do not sit in the gatherings, and if you must do so, then return the greeting, lower the gazes, guide the path, and help with loads."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ( راستے میں ) محافل میں نہ بیٹھو ، اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہو ، تو سلام کا جواب دو ، نگاہیں جھکا کے رکھو ، راستے کے بارے میں رہنمائی کرو اور وزن لادنے کے بارے میں مدد کرو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور خراب حافظے کا مالک ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

12939

Majma al-Zawaid #12939

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ قَالَ: «قَالَ أَهْلُ الْعَالِيَةِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسَ. قَالَ: "" فَأَدُّوا حَقَّ الْمَجَالِسَ "". قَالُوا: وَمَا حَقُّ الْمَجَالِسِ؟ قَالَ: "" ذِكْرُ اللَّهِ كَثِيرًا، وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ، وَغَضُّ الْأَبْصَارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، تَابِعِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Ḥunayf رضي الله عنه reported that the people of al-ʿĀliyah said that they could not do without sittings, whereupon he said to fulfil the due of sittings. When asked what the due of sittings is, he said much remembrance of Allah, guiding the path, and lowering the gazes. > **"Fulfil the due of sittings: much remembrance of Allah, guiding the path, and lowering the gazes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بالائی علاقے کے رہنے والوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے اس طرح بیٹھنے کے بغیر چارہ نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : محافل کا حق ادا کرو ۔ لوگوں نے عرض کی : محافل کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنا ، راستے کے بارے میں رہنمائی کرنا اور نگاہیں جھکا کے رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبدالرحمن انصاری ہے ، جو تابعی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

12940

Majma al-Zawaid #12940

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَعَلَّكُمْ تَسْتَفْتِحُونَ بَعْدِي مَدَائِنَ عِظَامًا، وَتَتَّخِذُونَ فِي أَسْوَاقِهَا مَجَالِسَ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَرُدُّوا السَّلَامَ، وَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِكُمْ، وَاهْدُوا الْأَعْمَى، وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Waḥshī ibn Ḥarb رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that they might after him conquer great cities and take sittings in their markets, and when that occurs they must return the greeting, lower their gazes, guide the blind, and aid the wronged. > **"Perhaps after me you will conquer great cities and take sittings in their markets; when that occurs, return the greeting, lower your gazes, guide the blind, and aid the wronged."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آگے چل کے تم میرے بعد بڑے بڑے شہر فتح کرو گے ، اور ان کے بازاروں میں محفلیں منعقد کرو گے ، جب ایسا ہو تو تم سلام کا جواب دینا اور نگاہیں جھکا کے رکھنا اور نابینا شخص کی رہنمائی کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے سب رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔

12941

Majma al-Zawaid #12941

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا هَلَكَتْ سَدُومٌ وَمَا حَوْلَهَا مِنَ الْقُرَى، حَتَّى اسْتَاكُوا بِالسِّوَاكِ، وَمَضَغُوا الْعِلْكَ فِي الْمَجَالِسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Sodom and the villages around it were not destroyed until they began to use the siwāk and chew gum openly in gatherings. > **"Sodom and the villages around it were not destroyed until they used the siwāk and chewed gum in gatherings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیاں اس وقت تک ہلاکت کا شکار نہیں ہوئے ، جب تک وہ محافل میں مسواک نہیں کرنا شروع ہوئے اور چبانے والا گوند چبانے نہیں لگے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12942

Majma al-Zawaid #12942

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ تَخَطَّى حَلْقَةَ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَهُوَ عَاصٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الْفِتَنِ فِي الِاضْطِجَاعِ بَيْنَ الْقَوْمِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said whoever steps over the circle of a people without their permission is disobedient. > **"Whoever steps over the circle of a people without their permission is disobedient."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کے حلقے میں گردنیں پھلانگتا ہوا جائے وہ نافرمان ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کے فتنوں سے متعلق کتاب میں لوگوں کے درمیان لیٹنے سے متعلق حدیث آئے گی ۔

12943

Majma al-Zawaid #12943

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ، إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" يَنْظُرُ إِلَى امْرَأَةٍ أَوَّلَ رَمْقَةٍ "". وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said there is no Muslim who looks at the charms of a woman and then lowers his gaze, except that Allah brings forth for him worship in which he finds sweetness. > **"There is no Muslim who looks at the charms of a woman and then lowers his gaze, except that Allah brings forth for him worship in which he finds its sweetness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو مسلمان کسی عورت کے محاسن کی طرف دیکھنے کے بعد اپنی نگاہ جھکا لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی عبادت عطا کرتا ہے ، جس کی حلاوت وہ ( شخص ) محسوس کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ عورت کی طرف پہلی مرتبہ نظر پڑتی ہے ۔‘‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12944

Majma al-Zawaid #12944

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ: "" يَا عَلِيُّ، إِنَّ لَكَ كَنْزًا فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا، فَلَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said to him that he has a treasure in Paradise and is its two-horned possessor in eminence, so he should not follow one glance with another, for only the first is permitted to him and the latter is not. > **"O ʿAlī, you have a treasure in Paradise, and you are its two-horned one, so do not follow one glance with another, for only the first is yours and the latter is not yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ اے علی ! تمہارے لئے جنت میں خزانہ ہے ، اور تم دو قرنوں والے ہو ، تو تم ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالنا کیونکہ تمہیں پہلی کا حق ہے ، لیکن دوسری کا حق نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12945

Majma al-Zawaid #12945

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَتَغُضُّنَّ أَبْصَارَكُمْ، وَلَتَحْفَظُنَّ فُرُوجَكُمْ، وَلَتُقِيمُنَّ وُجُوهَكُمْ، أَوْ لَتَكْشِفُنَّ وُجُوهَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said they must lower their gazes, guard their private parts, and keep their faces upright, or else uncover their faces in disgrace. > **"You shall lower your gazes, guard your private parts, and keep your faces upright, or else your faces will be uncovered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تو تم لوگ اپنی نگاہیں جھکا کے رکھو ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ، اور اپنے چہروں کو ٹھیک رکھو ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے چہروں کو کھلا رکھو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12946

Majma al-Zawaid #12946

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «النَّظْرَةُ سَهْمٌ مَسْمُومٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ، مَنْ تَرَكَهَا مِنْ مَخَافَتِي أَبْدَلْتُهُ إِيمَانًا يَجِدُ لَهُ حَلَاوَتَهُ فِي قَلْبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said, conveying from Allah, that the glance is a poisoned arrow among the arrows of Iblīs, and whoever abandons it out of fear of Him, He will replace it with faith in whose heart he finds sweetness. > **"The glance is a poisoned arrow among the arrows of Iblīs; whoever abandons it out of fear of Me, I shall replace it for him with faith in which he finds sweetness in his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) ’’ نظر شیطان کے تیروں میں سے زہر میں بجھا ہوا ایک تیر ہے ، جو شخص میرے خوف کی وجہ سے اسے ترک کر دیتا ہے ، میں اس کو بدلے میں ایسا ایمان عطا کروں گا کہ جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12947

Majma al-Zawaid #12947

«عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَمَعَهُ رَجُلٌ يُحَدِّثُهُ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا بَيْنَهُمَا، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ، فَلَا تَجْلِسْ إِلَيْهِمَا، حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا» "".

EnglishUnverified translation

Saʿīd al-Maqburī reported that he sat beside Ibn ʿUmar رضي الله عنهما while a man was speaking to him, and he entered between them. Ibn ʿUmar struck his hand upon his chest and said that he should have known the Messenger of Allah ﷺ said that when two men are in private counsel, one should not sit with them until they permit him. > **"When two men are in private counsel, do not sit with them until they permit you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید مقبری بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر بیٹھا ، ان کے ساتھ ایک شخص بات چیت کر رہا تھا ، میں ان دونوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب دو آدمی آپس میں بات چیت کر رہے ہوں ، تو تم ان دونوں سے اجازت لیے بغیر ان کے پاس نہ بیٹھو ۔‘‘

12948

Majma al-Zawaid #12948

وَفِي رِوَايَةٍ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُنَاجِي رَجُلًا، فَدَخَلَ رَجُلٌ بَيْنَهُمَا. فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما was once seen in private counsel with a man, and another man entered between them, whereupon a report similar to the prohibition of sitting with two in counsel without their permission was mentioned. Ibn ʿUmar رضي الله عنهما was seen conversing privately with a man when another man intruded between them, and the same prohibition against joining two in private talk without permission was recalled.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک شخص کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کرتے ہوئے دیکھا ، ایک شخص ان دونوں کے درمیان داخل ہوا ...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12949

Majma al-Zawaid #12949

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَحِلُّ أَنْ تَنْكِحَ الْمَرْأَةُ بِطَلَاقِ أُخْرَى، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ صَاحِبَهُ حَتَّى يُدْرِيَهُ، وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said that it is not lawful to marry a woman upon the divorce of another, nor lawful for a man to outbid his companion until he abandons it, nor lawful for three men in a desert land that two of them whisper to the exclusion of their companion. > **"It is not lawful to marry a woman upon the divorce of another, nor lawful for a man to sell over the sale of his companion until he leaves it, nor lawful for three men in a barren land that two whisper to the exclusion of their companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ یہ بات حلال نہیں ہے کہ کسی عورت کے ساتھ دوسری عورت ( یعنی پہلی بیوی ) کی طلاق کی شرط پر نکاح کیا جائے اور کسی شخص کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے سودے پر سودا کرے ، جب تک دوسرا شخص اسے چھوڑ نہیں دیتا ، اور تین افراد کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بے آب و گیاہ جگہ پر موجود ہوں اور ان میں سے دو افراد اپنے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات چیت کریں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12950

Majma al-Zawaid #12950

وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when there are three, two should not whisper to the exclusion of their companion. > **"When there are three, let not two whisper to the exclusion of their companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تین افراد ہوں ، تو ان میں سے دو افراد اپنے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12951

Majma al-Zawaid #12951

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَى إِذَا كَانَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ، أَنْ يَنْتَجِيَ اثْنَانِ مِنْهُمْ دُونَ الْآخَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to forbid that when there are three men, two of them should whisper to the exclusion of the other. The Prophet ﷺ used to forbid that when three men are together, two of them should whisper to the exclusion of the third.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ جب تین افراد ہوں ، تو ان میں سے دو افراد تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات چیت کریں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12952

Majma al-Zawaid #12952

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ يُؤْذِي الْمُؤْمِنَ، وَاللَّهُ يَكْرَهُ أَذَى الْمُؤْمِنِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ كَثِيرٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْوَرْدِ اسْمُهُ وُهَيْبُ بْنُ الْوَرْدِ، كَمَا ذَكَرَ شَيْخُ الْحُفَّاظِ الْمِزِّيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said that two should not whisper to the exclusion of the third, for that harms the believer, and Allah dislikes harm to the believer. > **"Let not two whisper to the exclusion of the third, for that harms the believer, and Allah dislikes harm to the believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دو افراد تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں کیونکہ یہ چیز مومن کو تکلیف دیتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ مومن کو تکلیف دینے کو ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسن بن کثیر کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے عبدالوہاب بن ورد کا نام وہیب بن ورد ہے جیسا کہ حافظان حدیث کے استاد امام مزی نے یہ بات ذکر کی ہے ۔

12953

Majma al-Zawaid #12953

عَنْ عُمَيْرِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ خُمَاشَةَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ احْتِلَامِهِ -: أَنَّهُ أَوْصَى وَلَدَهُ فَقَالَ: يَا بَنِيَّ، إِيَّاكُمْ وَمُجَالَسَةَ السُّفَهَاءِ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ، مَنْ يَحْلُمُ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرُّ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمْ، وَمَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ. قُلْتُ: فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmayr ibn Ḥabīb ibn Khumāshah رضي الله عنه, who had reached the Prophet ﷺ near the time of his maturity, counselled his son saying that they must beware of sitting with fools, for their company is a disease: whoever forbears toward the fool will rejoice, whoever answers him will regret, and whoever is not content with the little harm that comes from the fool will have to be content with much. ʿUmayr ibn Ḥabīb ibn Khumāshah رضي الله عنه advised his children to avoid the company of fools, for it is a disease, and explained that forbearance toward the fool brings joy while engaging him brings regret.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمیر بن حبیب بن خماشہ رضی اللہ عنہ جنہوں نے بلوغت کے زمانے میں نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے ۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ تلقین کی تھی اور فرمایا : اے میرے بیٹے ! بے وقوفوں کی ہمنشینی سے بچ کے رہنا کیونکہ ان کی ہمنشینی ایک بیماری ہے ، جو شخص بے وقوف کے مقابلے میں بردباری کا مظاہرہ کرے گا ، وہ خوش رہے گا ، جو شخص اس کو جواب دے گا وہ ندامت کا شکار ہو گا ، اور بے وقوف کی طرف سے آنے والی تھوڑی چیز سے جو راضی نہیں ہو گا وہ زیادہ سے راضی ہو گا ....... ( راوی کہتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12954

Majma al-Zawaid #12954

«عَنْ سُلَيْمٍ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ، وَكَانَ قَدِيمًا، وَقَدْ لَقِيَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَمَرْوَانَ قَالَ: مَرَّ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ يُصَلِّي، فَجَاءَهُ مَرْوَانُ، فَقَالَ أُسَامَةُ: يَا مَرْوَانُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ فَاحِشٍ مُتَفَحِّشٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sulaym, the freedman of Banī Layth, who was early and had met Usāmah ibn Zayd and Marwān, reported that Marwān ibn al-Ḥakam passed by Usāmah ibn Zayd رضي الله عنهما while he was praying. Marwān came to him, whereupon Usāmah said that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that Allah does not love every foul and obscene-mouthed person. > **"Indeed Allah does not love every foul and obscene-mouthed person."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیم مولیٰ بنو لیث جو پرانے آدمی ہیں ، اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور مروان سے ملاقات کی ہوئی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مروان بن حکم کا گزر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس سے ہوا جو نماز ادا کر رہے تھے ، مروان ان کے پاس آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے مروان ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ہر بدزبان بدکلام شخص کو ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کی اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

12955

Majma al-Zawaid #12955

وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ يَدْعُو، فَجَاءَ مَرْوَانُ فَأَسْمَعَهُ كَلَامًا، فَقَالَ أُسَامَةُ: أَمَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:

EnglishUnverified translation

ʿUbaydullāh ibn ʿAbdullāh ibn ʿUtbah reported that he saw Usāmah ibn Zayd رضي الله عنهما supplicating by the chamber of ʿĀʾishah رضي الله عنها, when Marwān came and spoke harshly to him. Usāmah replied that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that Allah the Exalted detests the foul and obscene-tongued person. > **"Indeed Allah the Exalted detests the foul and obscene-tongued person."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس دعا کرتے ہوئے دیکھا ، اسی دوران مروان آیا اور اس نے ان کو کوئی بات کہی تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ فحش گفتگو کرنے والے بدزبان شخص کو ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12956

Majma al-Zawaid #12956

إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: أَلْأَمُ أَخْلَاقِ الْمُؤْمِنِ الْفُحْشُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said that the meanest of the morals of the believer is obscenity. The vilest of the character of the believer is foul speech.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مومن کے اخلاق میں سب سے زیادہ قابل ملامت چیز فحش کلامی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12957

Majma al-Zawaid #12957

عَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مُشْرِكٍ، أَوْ مُشَاحِنٍ لِأَخِيهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ فِي الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيلِ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when the night of mid-Shaʿbān comes, Allah the Blessed and Exalted descends to the lowest heaven and forgives His servants, except the idolater and the one who harbours enmity against his brother. > **"When the night of mid-Shaʿbān comes, Allah the Blessed and Exalted descends to the lowest heaven and forgives His servants, except the idolater and the one who harbours hatred against his brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب شعبان کی نصف رات آتی ہے ( یعنی شب برأت آتی ) تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے ، اور اپنے بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے البتہ مشرک شخص اور اپنے بھائی کے ساتھ دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کی مغفرت نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن عبدالملک ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے الجرح و التعدیل میں کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12958

Majma al-Zawaid #12958

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يَغْفِرُ اللَّهُ لِعِبَادِهِ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when the night of mid-Shaʿbān comes, Allah forgives His servants except the idolater and the harbourer of enmity. > **"When the night of mid-Shaʿbān comes, Allah forgives His servants, except the idolater and the harbourer of enmity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب شعبان کی نصف رات آتی ہے ( یعنی شب برأت آتی ہے ) تو اللہ تعالیٰ مشرک شخص اور دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کے علاوہ اپنے ( سب ) بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن عبدالرحمن ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12959

Majma al-Zawaid #12959

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَطَّلِعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ كُلَّهُمْ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ، أَوْ مُشَاحِنٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah the Blessed and Exalted looks upon His creation on the night of mid-Shaʿbān and forgives them all, except the idolater and the harbourer of enmity. > **"Allah the Blessed and Exalted looks upon His creation on the night of mid-Shaʿbān and forgives them all, except the idolater and the harbourer of enmity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نصف شعبان کی رات ( یعنی برأت میں ) اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور ان سب کی مغفرت دیتا ہے صرف مشرک اور دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کی مغفرت نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، جس کو احمد بن صالح نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جو کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12960

Majma al-Zawaid #12960

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ، إِلَّا لِمُشْرِكٍ، أَوْ مُشَاحِنٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said Allah looks upon all His creation on the night of mid-Shaʿbān and forgives all His creation, except the idolater and the harbourer of enmity. > **"Allah looks upon all His creation on the night of mid-Shaʿbān and forgives all His creation, except the idolater and the harbourer of enmity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنی ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے البتہ مشرک شخص اور دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

12961

Majma al-Zawaid #12961

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَطَّلِعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِاثْنَيْنِ: مُشَاحِنٍ، وَقَاتِلِ نَفْسٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah looks upon His creation on the night of mid-Shaʿbān and forgives His servants except for two: the harbourer of enmity and the killer of a soul. > **"Allah looks upon His creation on the night of mid-Shaʿbān and forgives His servants, except for two: the harbourer of enmity and the killer of a soul."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور اپنے بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے البتہ دو قسم کے افراد کا معاملہ مختلف ہے ، دشمنی ( یا ناراضگی ) رکھنے والا شخص اور کسی کو قتل کرنے والا شخص ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

12962

Majma al-Zawaid #12962

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَطَّلِعُ اللَّهُ إِلَى عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَيُمْهِلُ الْكَافِرِينَ، وَيَدَعُ أَهْلَ الْحِقْدِ لِحِقْدِهِمْ حَتَّى يَدْعُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Thaʿlabah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said Allah looks upon His servants on the night of mid-Shaʿbān and forgives the believers, grants respite to the disbelievers, and leaves the people of spite in their spite until they abandon it. > **"Allah looks upon His servants on the night of mid-Shaʿbān and forgives the believers, grants respite to the disbelievers, and leaves the people of spite in their spite until they abandon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہو کر تمام اہل ایمان کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور کافروں کو مہلت دیدیتا ہے البتہ آپس میں ناراضگی رکھنے والے لوگوں کو چھوڑ دیتا ہے ، جب تک وہ لوگ اس ناراضگی کو نہیں چھوڑتے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12963

Majma al-Zawaid #12963

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تُعْرَضُ أَعْمَالُ بَنِي آدَمَ كُلَّ اثْنَيْنِ وَفِي كُلِّ خَمِيسٍ، فَيَرْحَمُ الْمُتَرَحِّمِينَ وَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ، ثُمَّ يَذَرُ أَهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه reported from the Messenger of Allah ﷺ that he said the deeds of the children of Ādam are presented every Monday and every Thursday, so He shows mercy to the merciful and forgives the seekers of forgiveness, then leaves the people of spite in their spite. > **"The deeds of the children of Ādam are presented every Monday and every Thursday, so He shows mercy to the merciful and forgives the seekers of forgiveness, then leaves the people of spite in their spite."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر پیر اور جمعرات کے دن اولاد آدم کے اعمال ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) پیش کئے جاتے ہیں تو وہ رحم مانگنے والوں پر رحم کرتا ہے مغفرت مانگنے والوں کی مغفرت کرتا ہے ، اور پھر آپس میں ناراضگی رکھنے والوں کو ان کی ناراضگی سمیت چھوڑ دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید الہانی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12964

Majma al-Zawaid #12964

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مُتَشَاحِنَيْنِ أَوْ قَاطِعِ رَحِمٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Usāmah ibn Zayd رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that he said deeds are presented to Allah on Monday and Thursday, and Allah forgives except for two quarrelling persons and the severer of kinship. > **"Deeds are presented to Allah on Monday and Thursday, and Allah forgives except for two who harbour enmity and the severer of kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ پیر اور جمعرات کے دن اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ( لوگوں کی یا ان کے اعمال کی ) مغفرت کر دیتا ہے البتہ آپس میں ناراضگی رکھنے والوں اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والوں کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12965

Majma al-Zawaid #12965

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تُنْسَخُ دَوَاوِينُ أَهْلِ الْأَرْضِ فِي دَوَاوِينِ أَهْلِ السَّمَاءِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the records of the people of the earth are copied into the records of the people of heaven every Monday and Thursday, and every Muslim who associates nothing with Allah is forgiven, except a man between whom and his brother there is enmity. > **"The records of the people of the earth are copied into the records of the people of heaven every Monday and Thursday, and every Muslim who associates nothing with Allah is forgiven, except a man between whom and his brother there is enmity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل زمین کے دیوانوں ( یعنی نامہ اعمال ) کی نقل اہل آسمان کے دیوانوں میں کی جاتی ہے ، ایسا ہر پیر اور جمعرات کے دن ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی مغفرت کر دیتا ہے ، جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ کوئی ناراضگی چل رہی ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12966

Majma al-Zawaid #12966

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ إِلَّا وَبَيْنَهُمَا سِتْرٌ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ كَلِمَةَ هَجْرٍ، خَرَقَ سِتْرَ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِزِيَادَةٍ وَسَتَأْتِي، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said there are no two Muslims except that between them is a veil from Allah, and when one of them speaks a word of abandonment to his companion, he rends the veil of Allah. > **"There are no two Muslims except that between them is a veil from Allah, and when one of them speaks a word of abandonment to his companion, he rends the veil of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر دو مسلمانوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پردہ ہوتا ہے ، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے لاتعلقی اختیار کرنے کی بات کرتا ہے ، تو وہ پردہ پھٹ جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اضافے کے ساتھ نقل کی ہے ، جو آگے آئے گی اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12967

Majma al-Zawaid #12967

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَمِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ، وَمِنْ تَائِبٍ فَيُتَابُ عَلَيْهِ، وَيَتْرُكُ أَهْلَ الضَّغَائِنِ بِضَغَائِنِهِمْ حَتَّى يَتُوبُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said deeds are presented on Monday and Thursday: whoever seeks forgiveness is forgiven, whoever repents is accepted, while the people of grudges are left in their grudges until they repent. > **"Deeds are presented on Monday and Thursday; whoever seeks forgiveness is forgiven, whoever repents is accepted, while the people of grudges are left in their grudges until they repent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اعمال پیر اور جمعرات کے دن ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) پیش کیے جاتے ہیں ، تو جو شخص مغفرت طلب کرنے والا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے ، جو شخص توبہ کرنے والا ہوتا ہے ۔ اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے ، اور آپس میں ناراضگی رکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے ، جب تک وہ توبہ نہیں کرتے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12968

Majma al-Zawaid #12968

عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said it is not lawful for a Muslim to abandon his brother beyond three days. > **"It is not lawful for a Muslim to abandon his brother beyond three days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لاتعلقی اختیار کرے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12969

Majma al-Zawaid #12969

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صِرَامِهِمَا، وَأَوَّلُهُمَا تَسْلِيمًا يَكُونُ سَبَقَهُ بِأَلْفَيْ كَفَّارَةٍ، وَإِنْ سَلَّمَ فَلَمْ يَقْبِلْ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ، فَإِنْ مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hishām ibn ʿĀmir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said it is not lawful for a Muslim to abandon a Muslim beyond three nights, for the two remain turned away from truth while upon their severance. The first of them to greet precedes by two thousand expiations, and if he greets and the other does not accept, the angels return it upon him while Satan returns it upon the other. If both die upon their severance, they will never enter Paradise together ever. > **"It is not lawful for a Muslim to abandon a Muslim beyond three nights, for they remain turned away from truth while upon their severance; and the first of them to greet precedes by two thousand expiations. If he greets and the other does not accept his greeting, the angels return it upon him and Satan returns it upon the other, and if they die upon their severance they will never enter Paradise together ever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ دوسرے مسلمان سے لاتعلقی اختیار کرے جب تک وہ دونوں اپنی لاتعلقی پر برقرار رہیں گے وہ حق سے عدول کرنے والے ہوں گے ، اور ان دونوں میں سے جو سلام کرنے میں پہل کرے گا ، تو وہ دو ہزار کفاروں کے ساتھ اس کام کی طرف سبقت لے جائے گا ، اور اگر اس نے سلام کر لیا ، اور دوسرے شخص نے اسے قبول نہیں کیا اور سلام کا جواب نہیں دیا تو فرشتے اسے سلام کا جواب دیں گے ، اور دوسرے شخص کو شیطان جواب دے گا ، اور اگر وہ دونوں مر گئے ، تو وہ دونوں کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔