Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 8

Book of Good Manners

Hadith 12890–12929

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12890

Majma al-Zawaid #12890

وَعَنْ سُهَيْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْمُهُ أَسْوَدُ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْيَضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Suhayl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that a man among the companions of the Messenger of Allah ﷺ was named Aswad, and the Messenger of Allah ﷺ named him Abyaḍ. > **"A man among the companions of the Messenger of Allah ﷺ was named Aswad, so the Messenger of Allah ﷺ named him Abyaḍ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص کا نام اسود تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا نام ابیض رکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

12891

Majma al-Zawaid #12891

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدُ كُلَالٍ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ الرَّحْمَنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَاصِحٌ أَبُو الْعَلَاءِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Samura رضي الله عنه reported that his name in Jāhiliyya had been ʿAbd Kulāl, and the Messenger of Allah ﷺ named him ʿAbd al-Raḥmān. > **"My name in Jāhiliyya was ʿAbd Kulāl, so the Messenger of Allah ﷺ named me ʿAbd al-Raḥmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں میرا نام عبدکلال تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے میرا نام عبدالرحمن رکھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح ابوالعلاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12892

Majma al-Zawaid #12892

وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: «كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ اسْمُهُ: عَبْدُ كَلُّوبٍ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَمَرَّ بِهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: "" تَعَالَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ "". فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَطْلُبِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ طَلَبْتَهَا فَأَوْلَيْتَهَا، وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ لَمْ تَطْلُبْهَا أُعِنْتَ عَلَيْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مُرْسَلًا مِنْ طَرِيقِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿIkrima reported that ʿAbd al-Raḥmān ibn Samura's name had been ʿAbd Kallūb, and the Messenger of Allah ﷺ named him ʿAbd al-Raḥmān. He passed by him while performing ablution and called him, then the Prophet of Allah ﷺ warned him never to seek leadership, for one who seeks it and is given preference is entrusted to it, while one who does not seek it is aided in it. > **"Come, O ʿAbd al-Raḥmān. Do not seek leadership, for if you seek it and are given it, you will be entrusted to it, and if you do not seek it, you will be aided in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن سمرہ کا نام عبدکلوب تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا تھا ، ایک مرتبہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت وضو کر رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : عبدالرحمن ادھر آؤ ! نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم کبھی حکومت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے طلب کیا اور تم نے اسے ترجیح دی تو تمہیں اس کے حوالے کر دیا جائے گا ، اور اگر تم نے اسے طلب نہ کیا تو اس بارے میں تمہاری مدد کی جائے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر اسحاق بن عبداللہ بن کیسان کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ راوی ضعیف ہے ۔

12893

Majma al-Zawaid #12893

عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا: "" إِنَّ اسْمَ الرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ فِي الْكُتُبِ الْكَرْمُ، مِنْ أَجْلِ مَا كَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى الْخَلِيقَةِ، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ مَا فِي الْحَائِطِ مِنَ الْعِنَبِ الْكَرْمَ، أَلَا وَاسْمُهُ الْحَفْرُ، وَالرَّجُلُ هُوَ الْكَرْمُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنَّكُمْ تَدْعُونَ الْعِنَبَ، وَإِنَّمَا اسْمُهُ الْجَوْهَرُ» "". وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَجَاهِيلُ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Samura رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say to them that the name of the believing man in the Books is al-Karm, because of Allah's honouring him over creation, while what they call the grapes in the garden al-Karm is properly al-Ḥafr, for the man himself is al-Karm. > **"Indeed the name of the believing man in the Books is al-Karm, because of what Allah has honoured him with over creation. You call what is in the wall of grapes al-Karm; rather, its name is al-Ḥafr, and the man is al-Karm."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ فرماتے تھے کہ مومن شخص کا نام کتابوں میں کرم والا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عزت عطا کی ہے ، اور تم لوگ باغ میں انگور کو کرم کہتے ہو ، خبردار ! اس کا نام حفر ہے ، اور آدمی کرم ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ تم لوگ انگور کو عنب کہتے ہو حالانکہ اس کا نام جوہر ہے ۔‘‘ امام طبرانی کی سند میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں ، اور امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12894

Majma al-Zawaid #12894

عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ حِذْيَمٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ الرَّجُلَ بِأَحَبِّ أَسْمَائِهِ إِلَيْهِ وَأَحَبِّ كُنَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي غَيْرُ حَدِيثٍ فِيمَا يُصَفِّي الْوُدَّ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ḥanẓala ibn Ḥidhyam رضي الله عنه reported that it pleased the Messenger of Allah ﷺ to call a man by the name most beloved to him and by his most beloved kunya. > **"The Messenger of Allah ﷺ liked to call a man by his most beloved name to him and his most beloved kunya."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ کسی شخص کو اس نام سے بلائیں جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو ، یا اس کنیت سے بلائیں جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کے اس کے علاوہ اور احادیث آئیں گی جو اس شخص کے بارے میں ہوں گی جو محبت کو صاف ستھرا رکھتا ہے ، اگر اللہ نے چاہا ۔

12895

Majma al-Zawaid #12895

عَنْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ إِذَا لَمْ يَحْفَظِ اسْمَ الرَّجُلِ قَالَ: "" يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ الْأَنْمَاطِيُّ أَوْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yazīd ibn Jāriya al-Anṣārī رضي الله عنه reported that he was with the Prophet ﷺ, and when he did not remember a man's name he would address him as son of ʿAbd Allāh. > **"When he did not remember a man's name, he said: O son of ʿAbd Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا جب نبی اکرم ﷺ کو کسی شخص کا نام یاد نہیں ہوتا تو آپ اس سے یہ فرماتے تھے کہ اے اللہ کے بندے کے بیٹے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب انماطی ہے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ابوایوب انصاری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12896

Majma al-Zawaid #12896

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ -: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَنَّاهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَلَمْ يُولَدْ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ gave him the kunya Abū ʿAbd al-Raḥmān, though no child had been born to him. > **"The Messenger of Allah ﷺ gave him the kunya Abū ʿAbd al-Raḥmān, though no child had been born to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان کی کنیت ابوعبدالرحمن رکھی تھی حالانکہ ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12897

Majma al-Zawaid #12897

وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عُمَرَ الْأَسْلَمِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَنَّاهُ أَبَا صَالِحٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ.

EnglishUnverified translation

Ḥamza ibn ʿUmar al-Aslamī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ gave him the kunya Abū Ṣāliḥ. > **"The Messenger of Allah ﷺ gave him the kunya Abū Ṣāliḥ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حمزہ بن عمر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان کی کنیت ابوصالح رکھی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12898

Majma al-Zawaid #12898

وَعَنْ أَبِي الْوَرْدِ قَالَ: «رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَآنِي رَجُلًا أَحْمَرَ، فَقَالَ: "" أَنْتَ أَبُو الْوَرْدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، وَثَّقَهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَنَسَبَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ إِلَى الْكَذِبِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ward رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ saw him as a ruddy man and gave him his kunya. > **"You are Abū al-Ward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوورد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ملاحظہ کیا ، آپ نے میرے چہرے میں سرخی ملاحظہ کی تو ارشاد فرمایا : تم ابوالورد ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جبارہ بن مغلس ہے ، جسے ابن نمیر نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک سے زیادہ افراد نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی ہے ۔

12899

Majma al-Zawaid #12899

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا عَطَسَ خَمِرَ وَجْهُهُ، وَخَفُضَ صَوْتُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَمِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، وَقَدْ وُثِّقَا، وَضَعَّفَهُمَا جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that when the Messenger of Allah ﷺ sneezed he would cover his face and lower his voice. > **"When the Messenger of Allah ﷺ sneezed, he covered his face and lowered his voice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جب چھینک آتی تھی تو آپ اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے تھے ، اور آپ اپنی آواز کو پست رکھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، اور ایک راوی مندل بن علی ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ایک جماعت نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12900

Majma al-Zawaid #12900

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ذِي الْجَنَاحَيْنِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا عَطَسَ حَمَدَ اللَّهَ، فَيُقَالُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَيَقُولُ: "" يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar Dhū al-Janāḥayn رضي الله عنهما reported that when the Messenger of Allah ﷺ sneezed he would praise Allah, it would be said, May Allah have mercy on you, and he would reply with guidance and rectification. > **"May Allah have mercy on you. May Allah guide you and set right your state."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر ( یہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ وہ ہیں ) جو ذوالجناحین ہیں ( یعنی پروں والے ہیں ) وہ ( یعنی عبداللہ بن جعفر ) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جب چھینک آتی تھی تو آپ اللہ کی حمد بیان کرتے تھے ، آپ سے یہ کہا جاتا تھا اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، تو آپ یہ فرماتے تھے : اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک کرے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اگرچہ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12901

Majma al-Zawaid #12901

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَطَسَ فَحَمِدَ اللهَ، فَقَالُوا: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَسْبَاطُ بْنُ عَزْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that they were sitting with the Prophet ﷺ, he sneezed and praised Allah, they said, May Allah have mercy on you, and the Messenger of Allah ﷺ replied with guidance and rectification. > **"May Allah have mercy on you. May Allah guide you and set right your state."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ ﷺ کو چھینک آئی آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ رحم کرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسباط بن عزرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12902

Majma al-Zawaid #12902

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا إِذَا عَطَسَ أَحَدُنَا أَنْ نُشَمِّتَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ used to teach them, when one of them sneezed, to answer his sneeze. > **"The Messenger of Allah ﷺ used to teach us, when one of us sneezed, to answer his sneeze."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کسی ایک کو چھینک آ جائے ، تو ہم اُسے چھینک کا جواب دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

12903

Majma al-Zawaid #12903

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" قُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ "". قَالُوا: مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" قُولُوا: يَرْحَمُكَ اللَّهُ "". قَالَ: مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" قُلْ لَهُمْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها reported that a man sneezed before the Messenger of Allah ﷺ and asked what to say, those present asked what to say to him, and he then asked what to reply to them. The Prophet ﷺ taught each of the three responses in turn. > **"Say: Praise be to Allah. Say: May Allah have mercy on you. Say to them: May Allah guide you and set right your state."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص کو چھینک آ گئی ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! میں کیا کہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم الحمدللہ کہو ! لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ہم اسے کیا کہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے یہ کہو : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اُس شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! پھر میں انہیں کیا کہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان سے یہ کہو : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک کرے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ حدیث میں کمزور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12904

Majma al-Zawaid #12904

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ، فَلْيَقُلْ مَنْ عِنْدَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ، فَلْيَقُلْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ taught them that when one of them sneezes he should say praise to Allah, Lord of the worlds, those with him should invoke mercy upon him, and he should then invoke forgiveness for himself and them. > **"When one of you sneezes, let him say: Praise be to Allah, Lord of the worlds. When he says that, let those with him say: May Allah have mercy on you. When he says that, let him say: May Allah forgive me and you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب کوئی شخص چھینکے تو وہ الحمدللہ کہے ، اور اس کے پاس موجود شخص یرحمک اللہ کہے ، جب وہ شخص یہ کہہ دے تو ( چھینکنے والا شخص ) یہ کہے : اللہ تعالیٰ میری اور تمہاری مغفرت کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

12905

Majma al-Zawaid #12905

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ مَنْ حَوْلَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ هُوَ لِمَنْ حَوْلَهُ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ taught the sneezer to praise Allah in every condition, those around him to invoke mercy, and him to reply with guidance and rectification for those around him. > **"When a man sneezes, let him say: Praise be to Allah in every condition, and let those around him say: May Allah have mercy on you, and let him say to those around him: May Allah guide you and set right your state."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص چھینکے تو وہ یہ کہے : ہر حال میں اللہ کا شکر ہے ، اور اس کے آس پاس موجود افراد یہ کہیں : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اور اس شخص کو اپنے آس پاس موجود افراد سے یہ کہنا چاہیے : اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک رکھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12906

Majma al-Zawaid #12906

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَإِذَا قَالَ: رَبُّ الْعَالَمِينَ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: رَحِمَكَ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that when one of them sneezes and says praise be to Allah, the angels say Lord of the worlds, and when he says Lord of the worlds, the angels invoke mercy upon him. > **"When one of you sneezes and says: Praise be to Allah, the angels say: Lord of the worlds, and when he says: Lord of the worlds, the angels say: May Allah have mercy on you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص چھینکے تو وہ الحمدللہ کہے ، تو فرشتے یہ کہتے ہیں : رب العالمین ( یعنی اس اللہ کے لئے حمد مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ) اور جب بندے نے ساتھ رب العالمین بھی کہا ، تو فرشتے یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

12907

Majma al-Zawaid #12907

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ - أَحْسَبُهُ، قَالَ: عَلَى كُلِّ حَالٍ - وَلْيَقُلْ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ هُوَ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَسْبَاطُ بْنُ عَزْرَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ taught that when one of them sneezes he should say praise be to Allah in every condition, it should be said to him, May Allah have mercy on you, and he should reply with forgiveness for them and him. > **"When one of you sneezes, let him say: Praise be to Allah in every condition, and let it be said to him: May Allah have mercy on you, and let him say: May Allah forgive us and you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم میں سے کسی ایک شخص کو چھینک آئے ، تو اسے الحمد للہ کہنا چاہیے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ہر حال میں اور اس کو یہ کہا جانا چاہیے اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اور اس شخص کو یہ کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت کرے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسباط بن عزرہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12908

Majma al-Zawaid #12908

وَعَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلْيَقُلْ مَنْ عِنْدَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that when one of them sneezes he should praise Allah, those with him should invoke mercy, and he should reply with guidance and rectification. > **"When one of you sneezes, let him say: Praise be to Allah, and let those with him say: May Allah have mercy on you, and let him say: May Allah guide you and set right your state."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم میں سے کسی ایک شخص کو چھینک آئے ، تو اسے الحمدللہ کہنا چاہیے اور اس کے پاس موجود شخص کو یرحمک اللہ کہنا چاہیے اور اس شخص کو یہ کہنا چاہیے : اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے معاملات ٹھیک رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12909

Majma al-Zawaid #12909

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ بَادَرَ الْعَاطِسَ بِالْحَمْدِ عُوفِيَ مِنْ وَجَعِ الْخَاصِرَةِ، وَلَمْ يَشْتَكِ ضِرْسَهُ أَبَدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ، وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ promised protection from flank pain and never complaining of a molar to one who hastens the sneezer with praise. > **"Whoever hastens the sneezer with praise is protected from pain of the flank and will never complain of his molar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص چھینکنے والے سے پہلے حمد کہے وہ پہلو کے درد سے بچا لیا جاتا ہے ، اور اس کی داڑھوں میں کبھی تکلیف نہیں ہوتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12910

Majma al-Zawaid #12910

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَطَسَ الْآخَرُ، فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَقَالَ الشَّرِيفُ: عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ؟ قَالَ: فَقَالَ: "" إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ، وَأَنْتَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that two men sneezed in the presence of the Prophet ﷺ, one of them nobler in rank than the other. The nobler man sneezed and did not praise Allah, so the Prophet ﷺ did not respond to him with tashmīt, while the other man sneezed and praised Allah, so the Prophet ﷺ responded to him. The nobler man then said that he had sneezed before him and received no response, while this other man had received a response, whereupon he explained the difference between remembrance and forgetfulness. > **"Indeed this one remembered Allah, so I remembered him, while you forgot Allah, so I forgot you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود دو افراد کو چھینک آئی ، ان میں سے ایک شخص دوسرے سے نمایاں حیثیت رکھتا تھا ، نمایاں حیثیت رکھنے والے شخص نے چھینکا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے جواب بھی نہیں دیا ، دوسرے شخص نے چھینکا ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے جواب دیا ( یعنی جوابی دعا دی ) تو اس نمایاں حیثیت کے شخص نے کہا : میں نے آپ کے پاس چھینکا لیکن آپ نے مجھے جواب نہیں دیا ، لیکن اس شخص نے آپ کے پاس چھینکا تو آپ نے اسے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس شخص نے اللہ کا ذکر کیا تھا تو میں نے اس کا ذکر کیا اور تم اللہ تعالیٰ ( کا ذکر کرنا ) بھول گئے تھے ، تو میں بھی تمہیں بھول گیا ( یعنی میں نے تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ربعی بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔

12911

Majma al-Zawaid #12911

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ «أَنَّ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، فَرَاجَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَفَعَ صَوْتُهُ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَائِمٌ بِسَيْفِهِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا عَامِرُ غُضَّ مِنْ صَوْتِكَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: وَمَا أَنْتَ وَذَاكَ؟ فَقَالَ ثَابِتٌ: أَمَا وَالَّذِي أَكْرَمَهُ، لَوْلَا أَنْ يَكْرَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَضَرَبْتُ بِهَذَا السَّيْفِ رَأْسَكَ. فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرٌ وَهُوَ جَالِسٌ، وَثَابِتٌ قَائِمٌ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِي لَتُوَلِّيَنَّ عَنِّي، فَقَالَ ثَابِتٌ: أَمَا وَاللَّهِ يَا عَامِرُ لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِلِسَانِي لَتَكْرَهَنَّ حَيَاتِي. فَعَطَسَ ابْنُ أَخٍ لِعَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عَطَسَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَامِرٌ: شَمَّتَّ هَذَا الصَّبِيَّ وَتَرَكْتَنِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَهُوَ بِطُولِهِ فِي غَزْوَةِ بِئْرِ مَعُونَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that ʿĀmir ibn al-Ṭufayl came to the Prophet ﷺ in Madīnah and disputed with him in a raised voice, while Thābit ibn Qays رضي الله عنه stood over the Prophet ﷺ with his sword and ordered ʿĀmir to lower his voice. Harsh words passed between ʿĀmir and Thābit, each threatening the other. Then a nephew of ʿĀmir sneezed and praised Allah, so the Prophet ﷺ responded to him, while ʿĀmir sneezed without praising Allah and received no response. When ʿĀmir objected that a boy had been answered and he had been left, the Prophet ﷺ gave the reason. > **"Indeed this one praised Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عامر بن طفیل نبی اکرم ﷺ کے پاس مدینہ منورہ آیا ، وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بحث کرنے لگا ، اس کی آواز بلند ہو گئی ، اس وقت حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس کھڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا : اے عامر ! نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنی آواز کو پست رکھو ، اس نے کہا : تمہارا اس بات کے ساتھ کیا واسطہ ہے ، حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے نبی اکرم ﷺ کو عزت عطا کی ہے ، اگر یہ بات نبی اکرم ﷺ کو ناگوار نہ گزرتی ہوتی تو میں نے اس تلوار کے ذریعے تمہارا سر اڑا دینا تھا ، عامر نے نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھا آپ تشریف فرما تھے اور حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اے ثابت اگر تم اپنے آپ کو میرے مقابلے میں پیش کرو ، تو تم ضرور مجھ سے پھر جاؤ گے ، تو حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اے عامر اگر تم اپنے آپ کو صرف میری زبان کے مقابلے میں پیش کر دو ، تو تمہیں میری زندگی بری لگے گی ، اس وقت عامر بن طفیل کے بھتیجے کو چھینک آئی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کو چھینک کا جواب دیا : پھر عامر بن طفیل کو چھینک آئی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے جواب نہیں دیا ، تو عامر نے کہا : آپ نے اس بچے کو جواب دیدیا ہے ، اور مجھے نہیں دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو طویل حدیث کے طور پر غزوہ بئر معونہ میں موجود ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12912

Majma al-Zawaid #12912

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ، فَشَمِّتْهُ، وَلَوْ مِنْ خَلْفِ سَبْعَةِ أَبْحُرٍ، وَمَنْ شَمَّتَ عَاطِسًا، ذَهَبَ عَنْهُ ذَاتُ الْجَنْبِ وَوَجَعُ الضِّرْسِ وَالْأُذُنَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَاشِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when a sneezer sneezes, he should be answered with tashmīt even from beyond seven seas, and that whoever answers a sneezer is freed from pleurisy and from pain of the molars and the ears. > **"When the sneezer sneezes, respond to him with tashmīt, even from beyond seven seas, and whoever responds to a sneezer, pleurisy and pain of the molars and ears depart from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی چھینکنے والا چھینکے تو تم اسے جواب دو ، خواہ سات سمندروں سے پار سے دو ، جو شخص چھینکنے والے کو جواب دیتا ہے اس سے ذات الجنب کی بیماری اور داڑھوں اور کان کا درد رخصت ہو جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12913

Majma al-Zawaid #12913

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ فَعُطِسَ عِنْدَهُ، فَهُوَ حَقٌّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever is narrating a report and sneezes at that moment, then it is true. > **"Whoever narrates a report and then sneezes in the course of it, it is true."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کوئی بات کر رہا ہو اور اس دوران چھینک آ جائے ، تو وہ حق پر ہو گا ( یا وہ بات حق ہو گی ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12914

Majma al-Zawaid #12914

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَصْدَقُ الْحَدِيثِ مَا عُطِسَ عِنْدَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، عَنْ شَيْخِهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَاجِدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَعِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَجَمَاعَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the truest speech is that at which sneezing occurs. > **"The truest speech is that at which sneezing occurs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بات میں سب سے سچا وہ شخص ہو گا ، جسے اس بات کے وقت چھینک آ جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد جعفر بن محمد بن ماجد کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے جسے ابوزرعہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12915

Majma al-Zawaid #12915

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَيِّدًا، وَإِنَّ سَيِّدَ الْمَجَالِسِ قُبَالَةَ الْقِبْلَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that everything has a chief, and that the chief of sittings is that which faces the qiblah. > **"Everything has a chief, and the chief of sittings is that which faces the qiblah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر چیز کا ایک سردار ہوتا ہے اور محفل میں بیٹھنے کا سردار قبلہ کی طرف رخ کرنا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

12916

Majma al-Zawaid #12916

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَكْرَمُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the most honourable of sittings are those faced toward the qiblah. > **"The most honourable of sittings are those faced toward the qiblah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بیٹھنے کا سب سے معزز طریقہ وہ ہے کہ جس میں قبلہ کی طرف رخ کیا گیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوحمزہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

12917

Majma al-Zawaid #12917

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شَرَفًا، وَإِنَّ أَشْرَفَ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said that everything has an honour, and that the most honourable of sittings are those faced toward the qiblah. > **"Everything has an honour, and the most honourable of sittings are those faced toward the qiblah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر چیز کا ایک شرف ہوتا ہے اور محفل میں بیٹھنے کا شرف یہ ہے کہ اس میں قبلہ کی طرف رخ رکھا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ابومقدام ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12918

Majma al-Zawaid #12918

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the best of sittings are the most spacious of them. > **"The best of sittings are the most spacious of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے زیادہ بہتر محفل وہ ہے جو زیادہ گنجائش والی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے اور وہ ثقہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12919

Majma al-Zawaid #12919

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَإِنْ وُسِّعَ لَهُ فَلْيَجْلِسْ، وَإِلَّا فَلْيَنْظُرْ أَوْسَعَ مَكَانٍ يَرَاهُ، فَيَجْلِسُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muṣʿab ibn Shaybah, reporting from his father رضي الله عنه, said that the Messenger of Allah ﷺ said that when one of you reaches the end of a gathering, if room is made for him he should sit, and otherwise he should look for the widest place he sees and sit there. > **"When one of you reaches the gathering, if room is made for him then let him sit, and otherwise let him look for the widest place he sees and sit there."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن شیبہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص محفل کی آخری حد تک آئے اگر اس کے لئے گنجائش موجود ہو تو وہاں بیٹھ جائے ، اگر نہ ہو تو پھر وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کون سی جگہ زیادہ گنجائش والی ہے ، جو وہ دیکھ رہا ہے ، تو وہ وہاں بیٹھ جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

12920

Majma al-Zawaid #12920

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ مِنَ التَّوَاضُعِ الرِّضَا بِالدُّونِ مِنْ شَرَفِ الْمَجَالِسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَدْلَمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَلَا وَالِدُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ṭalḥah ibn ʿUbayd رضي الله عنه said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that part of humility is contentment with the lower portion of the gathering rather than its honoured front. > **"Part of humility is contentment with the lower portion of the honoured gathering."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تواضع میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ محفل کے نمایاں حیثیت والے حصے کی بجائے کمتر حصے پر راضی ہو جایا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سلیمان بن عبداللہ بن حدلم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور نہ اس کے باپ سے واقف ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12921

Majma al-Zawaid #12921

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ رَجُلٍ يَأْتِي قَوْمًا وَيُوَسِّعُونَ لَهُ حَتَّى يَرْضَى، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ رِضَاهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said there is no man who comes to a people and they make room for him until he is pleased, except that it becomes binding upon Allah to please them. > **"There is no man who comes to a people and they make room for him until he is pleased, except that it becomes binding upon Allah to please them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی شخص لوگوں کے پاس آئے اور وہ لوگ اس کے لئے گنجائش پیدا کر دیں ، یہاں تک کہ وہ شخص راضی ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ان لوگوں سے راضی ہو جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ متروک ہے ۔

12922

Majma al-Zawaid #12922

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «اتَّقُوا هَذِهِ الْمَذَابِحَ "". يَعْنِي الْمَحَارِيبَ. قُلْتُ: الْمَحَارِيبُ صُدُورُ الْمَجَالِسِ.» كَذَلِكَ ذَكَرَهُ ابْنُ الْأَثِيرِ فِي مَادَّةِ: حَرَبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ فِي رِوَايَتِهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ وَلَيْسَ هَذَا مِنْهَا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that he said to beware of these madhābiḥ, meaning the maḥārīb, which are the foremost seats of gatherings. > **"Beware of these slaughter-places, meaning the prayer-niches, that is the foremost seats of gatherings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ان مذابح سے بچنے کی کوشش کرو ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد محاریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں محاریب سے مراد محفل میں نمایاں حیثیت کی جگہ ( یعنی محفل میں صاحب صدر کی جگہ ہے ) ابن اثیر نے حرب کے مادہ میں اسی طرح اس کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغرا ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابن مدینی نے اسے اس روایت میں ضعیف قرار دیا ہے ، جو یہ اعمش سے نقل کرتا ہے ، اور یہ روایت ان روایات میں سے ایک نہیں ہے ۔

12923

Majma al-Zawaid #12923

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْلِسُ الْقُرَيْفِصَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah ibn Thaʿlabah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to sit in the posture of qurayfiṣāʾ, crouched upon his feet. The Prophet ﷺ used to sit crouched in the posture known as qurayfiṣāʾ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ اکڑوں بیٹھنے کے طور پر تشریف فرما ہوتے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12924

Majma al-Zawaid #12924

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَضَمَّ رِجْلَيْهِ فَأَقَامَهُمَا، وَاحْتَبَى بِيَدَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ لِاخْتِلَاطِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ sat by the Kaʿbah with his legs drawn together and set upright, and he wrapped them with his hands in the posture of iḥtibāʾ. The Messenger of Allah ﷺ sat by the Kaʿbah with his legs drawn together and raised, enclosing them with his hands.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ کے پاس تشریف فرما تھے آپ نے اپنی دونوں ٹانگیں ملا کے انہیں کھڑا کیا ہوا تھا ، اور دونوں ہاتھوں کے ذریعے احتباء کیا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے متروک ہے ۔

12925

Majma al-Zawaid #12925

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَلَسَ نَصَبَ رُكْبَتَيْهِ وَاحْتَبَى بِيَدَيْهِ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: احْتَبَى بِيَدَيْهِ فَقَطْ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْغِفَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ sat, he would set his knees upright and wrap them with his hands in iḥtibāʾ. The Messenger of Allah ﷺ, when he sat, would raise his knees and enclose them with his hands.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ جب تشریف فرما ہوتے تھے ، تو آپ اپنے گھٹنے کھڑے کر لیتے تھے اور دونوں ہاتھوں کے ذریعے احتباء کر لیتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے کہ آپ اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے احتباء کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم بن ابوعمرہ غفاری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12926

Majma al-Zawaid #12926

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَقُومُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ، وَلَكِنِ افْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that a man should not be made to rise from his seat for another man, but rather room should be made, and Allah will make room for you. > **"Let no man rise for another man from his seat, but make room, and Allah will make room for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی شخص دوسرے شخص کے لئے اپنی جگہ سے نہ کھڑا ہو بلکہ تم کشادگی اختیار کرو ، اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی نصیب کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12927

Majma al-Zawaid #12927

عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى أَنْ يُجْلَسَ بَيْنَ الضِّحِّ وَالظِّلِّ وَقَالَ: "" مَجْلِسُ الشَّيْطَانَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كَثِيرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿIyāḍ, reporting from a man among the Companions of the Prophet ﷺ رضي الله عنهم, reported that the Prophet ﷺ forbade sitting between the bright sun and the shade, and said that it is the sitting-place of Satan. > **"Do not sit between the sun and the shade, for it is the sitting-place of Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعیاض ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع کیا ہے کہ دھوپ اور ساے کے درمیان میں بیٹھا جائے ( یعنی بیک وقت دونوں میں بیٹھا جائے ) آپ نے فرمایا : یہ شیطان کے بیٹھنے کا طریقہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف کثیر بن ابوکثیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12928

Majma al-Zawaid #12928

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «نَهَى أَنْ يَقْعُدَ - أَوْ يَجْلِسَ - الرَّجُلُ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ forbade a man to sit down between the shade and the sun. The Prophet ﷺ forbade a man to sit between the shade and the sun.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی سائے اور دھوپ کے درمیان بیٹھے ( یعنی ایک وقت میں دونوں میں بیٹھے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12929

Majma al-Zawaid #12929

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَا يُجْلَسُ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ إِلَّا أَنْ يُسْرَجَ فِيهِ سِرَاجٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ would not sit in a dark house unless a lamp was lit therein. The Messenger of Allah ﷺ would not remain seated in a dark house without a lamp being lit in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کسی تاریک گھر میں تشریف فرما نہیں ہوتے تھے ، وہاں چراغ جلا لیا جاتا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے اور وہ متروک ہے ۔