Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 10

Book of Good Manners

Hadith 12970–13009

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12970

Majma al-Zawaid #12970

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا فِي الْإِسْلَامِ فَاهْتَجَرَا، لَكَانَ أَحَدُهُمَا خَارِجًا مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى يَرْجِعَ - يَعْنِي الظَّالِمَ -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said that if two men entered Islam and then abandoned each other, one of them would be outside Islam until he returns, meaning the wrongdoer among them. If two men who had entered Islam then abandoned one another, the wrongdoer among them would stand outside its protection until he returns.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اگر دو آدمی اسلام میں داخل ہوں اور ایک دوسرے سے لاتعلقی اختیار کریں تو ان دونوں میں سے ایک اسلام سے خارج ہونے والا ہو گا ، جب تک وہ رجوع نہیں کرتا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یعنی ظالم ایسا ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12971

Majma al-Zawaid #12971

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said it is not lawful for a Muslim to abandon his brother beyond three days. > **"It is not lawful for a Muslim to abandon his brother beyond three days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12972

Majma al-Zawaid #12972

وَعَنْهُ قَالَ: لَا يَتَهَاجَرُ الرَّجُلَانِ قَدْ دَخَلَا فِي الْإِسْلَامِ، إِلَّا خَرَجَ أَحَدُهُمَا مِنْهُ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهُ. وَرُجُوعُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَيُسَلِّمَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِصْمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said that two men who have entered Islam do not abandon one another except that one of them exits from it until he returns to what he left, and his return is that he comes to him and greets him. If two Muslims who had entered Islam abandon one another, one of them leaves its fold until he returns, and his return is to come to the other and greet him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : دو آدمی جو اسلام میں داخل ہو چکے ہوں وہ جب ایک دوسرے سے لاتعلقی اختیار کرتے ہیں تو ان دونوں میں سے ایک اسلام سے نکل جاتا ہے ، جب تک وہ اس چیز کی طرف واپس نہیں آتا جس سے وہ نکلا ہے ، اور اس کا واپس آنا یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کے پاس آ کر اسے سلام کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عصمہ بن سلیمان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12973

Majma al-Zawaid #12973

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، أَحَدُهُمَا ضَعِيفٌ، وَفِي الْآخَرِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said it is not lawful for a believer to abandon his brother beyond three days. > **"It is not lawful for a believer to abandon his brother beyond three days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان میں سے ایک ضعیف ہے اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابواسید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12974

Majma al-Zawaid #12974

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَحِلُّ الْهَجْرُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَإِنِ الْتَقَيَا فَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ فَرَدَّ السَّلَامَ، اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ، وَإِنْ أَبَى الْآخَرُ أَنْ يَرُدَّ السَّلَامَ بَرِئَ هَذَا مِنَ الْإِثْمِ وَبَاءَ بِهِ الْآخَرُ، وَقَدْ خَشِيتُ إِنْ مَاتَا وَهُمَا مُتَهَاجِرَانِ، لَا يَجْتَمِعَانِ فِي الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ: إِنَّهُ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said abandonment beyond three days is not lawful. If the two meet and one greets the other and the other returns the greeting, both share in the reward. If the other refuses to return the greeting, this one is freed of the sin and the other bears it. He feared that if they die while mutually abandoning, they will not gather together in Paradise. > **"Abandonment beyond three days is not lawful; if they meet and one greets the other and the other returns the greeting, both share in the reward. If the other refuses to return the greeting, this one is freed of the sin and the other bears it, and I fear that if they die while mutually abandoning, they will not gather together in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرنا جائز نہیں ہے ، جب وہ دونوں ملیں تو ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرے اور دوسرا سلام کا جواب دیدے ، تو وہ دونوں ثواب میں حصے دار ہو جاتے ہیں ، اور اگر دوسرا شخص سلام کا جواب دینے سے انکار کر دے تو پہلے شخص سے گناہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور دوسرا شخص اس گناہ کو لے کے واپس جاتا ہے ، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر وہ دونوں اس حالت میں مریں کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے لاتعلقی اختیار کیے ہوئے ہوں ، تو وہ جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید نے یہ کہا ہے کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12975

Majma al-Zawaid #12975

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا. وَالَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ يَسْبِقُ إِلَى الْجَنَّةِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said not to envy one another nor turn backs upon one another, but to be servants of Allah as brothers. It is not lawful for a Muslim to abandon his brother beyond three days, with the two meeting and each turning away, and the one who begins with greeting hastens toward Paradise. > **"Do not envy one another, do not turn your backs upon one another, and be servants of Allah as brothers. It is not lawful for a Muslim to abandon his brother beyond three days, with the two meeting and each turning away, and the one who begins with greeting hastens toward Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو ، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو ، اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ ( یا اے اللہ کے بندو ! تم بھائی بھائی بن جاؤ ) کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے ، یوں کہ جب وہ دونوں ملیں تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ( ان دونوں میں سے ) جو شخص سلام میں پہل کرے گا وہ جنت کی طرف سبقت لے جائے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12976

Majma al-Zawaid #12976

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، هَجْرُ الْمُؤْمِنَيْنِ ثَلَاثًا، فَإِنْ تَكَلَّمَا، وَإِلَّا أَعْرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُمَا حَتَّى يَتَكَلَّمَا». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb al-Anṣārī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said not to turn backs nor sever ties, but to be servants of Allah as brothers. The abandonment of two believers is three days; if they speak, then well, otherwise Allah the Exalted turns away from them until they speak. > **"Do not turn your backs upon one another, do not sever ties, and be servants of Allah as brothers. The abandonment of two believers is three days; if they speak then well, otherwise Allah the Exalted turns away from them until they speak."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو ، ایک دوسرے سے لاتعلقی اختیار نہ کرو ، اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن جاؤ ( یا اے اللہ کے بندو ! تم بھائی بھائی بن جاؤ ) مومنین کی لاتعلقی تین دن ہو گی ، اگر وہ دونوں بات چیت کر لیں تو ٹھیک ہے ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان دونوں سے لاتعلق ہو جائے گا ، جب تک وہ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12977

Majma al-Zawaid #12977

وَعَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَلَا خَمِيسٍ إِلَّا تُرْفَعُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ، إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said there is no Monday nor Thursday except that deeds are raised therein, save for the two who abandon one another. > **"There is no Monday nor Thursday except that deeds are raised therein, save for the two who abandon one another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے : ’’ ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال بلند کیے جاتے ہیں ( یعنی اوپر لے جائے جاتے ہیں ) البتہ آپس میں لاتعلقی اختیار کرنے والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12978

Majma al-Zawaid #12978

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَهُوَ فِي النَّارِ، إِلَّا أَنْ يَتَدَارَكَهُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Faḍālah ibn ʿUbayd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said whoever abandons his brother beyond three days is in the Fire, unless Allah overtakes him with His mercy. > **"Whoever abandons his brother beyond three days is in the Fire, unless Allah overtakes him with His mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لاتعلقی اختیار کرے وہ جہنم میں جائے گا ، البتہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اس کو نصیب کر دے ، تو معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12979

Majma al-Zawaid #12979

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «سَأُحَدِّثُكُمْ بِأُمُورِ النَّاسِ وَاخْتِلَافِهِمْ. الرَّجُلُ يَكُونُ سَرِيعَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ، فَلَا عَلَيْهِ وَلَا لَهُ كَفَافًا، وَالرَّجُلُ يَكُونُ بَعِيدَ الْغَضَبِ، سَرِيعَ الْفَيْءِ، فَذَاكَ لَهُ وَلَا عَلَيْهِ، وَالرَّجُلُ يَقْتَضِي الَّذِي لَهُ وَيَقْتَضِي الَّذِي عَلَيْهِ، فَذَاكَ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ، وَالرَّجُلُ يَقْتَضِي الَّذِي لَهُ، وَيَمْطُلُ النَّاسَ بِالَّذِي عَلَيْهِ، فَذَاكَ عَلَيْهِ وَلَا لَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا ثِقَتَانِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said he would tell of the affairs of men and their differences. One man is swift to anger and swift to return, so it is even, neither for him nor against him. One man is slow to anger and swift to return, so it is for him and not against him. One man demands what is his and pays what is upon him, so it is neither for him nor against him. One man demands what is his yet delays the people in what is upon him, so it is against him and not for him. > **"A man is swift to anger and swift to return, so it is even, neither for him nor against him. A man is slow to anger and swift to return, so it is for him and not against him. A man demands what is his and pays what is upon him, so it is neither for him nor against him. A man demands what is his and delays the people in what is upon him, so it is against him and not for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں عنقریب تمہیں لوگوں کے امور اور ان کے اختلاف ( یعنی درجہ کے اعتبار سے مختلف ہونے ) کے بارے میں بتاؤں گا ، ایک شخص غصے کا تیز ہوتا ہے ، اور اس کا غصہ جلدی ختم ہو جاتا ہے ، ایسے شخص پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اور اس کو کوئی ثواب بھی نہیں ملے گا ، برابر کا معاملہ ہو گا ، ایک شخص دیر سے غصے میں آتا ہے اور جلدی غصہ ختم ہو جاتا ہے ۔ اس شخص کو اجر ملے گا ، اس شخص کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہو گا ، ایک شخص وہ چیز چاہتا ہے جو اس کا حق ہوتا ہے ، اور وہ ادا کرتا ہے جو اس کے ذمہ لازم ہوتی ہے ، تو نہ اس شخص کے حق میں کچھ ہو گا اور نہ اس کے خلاف کچھ ہو گا ، ایک وہ شخص ہے جو اس چیز کو چاہتا ہے جو اس کا حق ہو ، اور اس چیز کے بارے میں لوگوں کے ساتھ ٹال مٹول کرتا ہے جو اس کا فرض ہوتا ہے ، تو ایسے شخص کے ذمہ گناہ ہو گا اسے ثواب نہیں ملے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے عبدالرحمن بن شریک کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، یہ دونوں ثقہ ہیں اور ان دونوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12980

Majma al-Zawaid #12980

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «خِيَارُ أُمَّتِي أَحْدَاؤُهُمُ الَّذِينَ إِذَا غَضِبُوا رَجَعُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَغْنَمُ بْنُ سَالِمِ بْنِ قَنْبَرَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the best of his nation are its sharp-tempered ones who, when they grow angry, return. > **"The best of my nation are its sharp-tempered ones who, when they grow angry, return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو تیز مزاج کے ہوں گے ، جب وہ غصے میں آئیں گے تو رجوع کر لیں گے ( یعنی غصے پر قابو پا لیں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یغنم بن سالم بن قنبر ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

12981

Majma al-Zawaid #12981

عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يَرْفَعُونَ حَجَرًا، فَقَالَ: "" مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ "". قَالُوا: يَرْفَعُونَ حَجَرًا يُرِيدُونَ الشِّدَّةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ؟ - أَوْ كَلِمَةٌ نَحْوَهَا - الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ».

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ passed by a people lifting a stone, and asked what they were doing. They said they were lifting a stone seeking strength. The Prophet ﷺ asked whether he should not guide them to one stronger than them, namely the one who masters himself at anger. > **"Shall I not guide you to one stronger than them? The one who masters himself at the time of anger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جنہوں نے پتھر اٹھائے ہوے تھے ، آپ نے فرمایا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ لوگ پتھر اٹھا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی اس شخص کی طرف نہ کروں جو ایسے شخص سے زیادہ طاقتور ہو ( راوی کو شک ہے شاید اس کی مانند کوئی اور کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا : ) یہ وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے ۔

12982

Majma al-Zawaid #12982

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يَصْطَرِخُونَ فَقَالَ: "" مَا هَذَا؟ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فُلَانٌ الصَّرِيعُ، مَا يُصَارِعُ أَحَدًا إِلَّا صَرَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ؟ رَجُلُ ظَلَمَهُ رَجُلٌ، فَكَظَمَ غَيْظَهُ، فَغَلَبَهُ وَغَلَبَ شَيْطَانَهُ، وَغَلَبَ شَيْطَانَ صَاحِبِهِ» "". رَوَاهُمَا الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ، وَفِيهِ شُعَيْبُ بْنُ بَيَانٍ وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ، وَوَثَّقَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُمَا غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported in another narration that the Prophet ﷺ passed by a people wrestling and asked what this was. They said that such-and-such a champion throws everyone he wrestles. The Messenger of Allah ﷺ asked whether he should not guide them to one stronger than him: a man wronged by another who swallows his rage, thereby overcoming him and his own Satan and the Satan of his companion. > **"Shall I not guide you to one stronger than him? A man wronged by another who swallows his rage, thereby overcoming him and his own Satan and the Satan of his companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان صحابی کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو ایک دوسرے کے ساتھ کشتی کر رہے تھے ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ فلاں پہلوان ہے ، جو شخص اس کے مقابلے میں آتا ہے یہ شخص اسے پچھاڑ دیتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی اس شخص کی طرف نہ کروں جو اس شخص سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے ؟ وہ شخص جس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص زیادتی کرے اور وہ شخص اپنے غصے پر قابو پا لے ، وہ شخص اپنے اوپر بھی غالب آ جاتا ہے اور اپنے شیطان پر بھی غالب آ جاتا ہے ، اور اپنے ساتھی کے شیطان پر بھی غالب آ جاتا ہے ۔‘‘ یہ دونوں روایات امام بزار نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کی ہیں ان کی سند میں ایک راوی شعیب بن بیان ہے اور ایک راوی عمران قطان ہے ۔ ابن حبان نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے حضرات نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12983

Majma al-Zawaid #12983

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ دَفَعَ غَضَبَهُ دَفَعَ اللَّهُ عَنْهُ عَذَابَهُ، وَمَنْ حَفِظَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said whoever repels his anger, Allah will repel His punishment from him, and whoever guards his tongue, Allah will veil his faults. > **"Whoever repels his anger, Allah will repel His punishment from him, and whoever guards his tongue, Allah will veil his faults."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے غصے کو پرے کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اپنے غصے کو پرے کر دیتا ہے ، اور جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ہاشم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12984

Majma al-Zawaid #12984

وَعَنْ «رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فَقَالَ: "" تَدْرُونَ مَا الرَّقُوبُ؟ "". قَالُوا: الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ. فَقَالَ: "" الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ، الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ، الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا "". قَالَ: "" تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ؟ "". قَالُوا: الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ. قَالَ: "" الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ، الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا "". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا الصُّرَعَةُ؟ "". قَالُوا: الصَّرِيعُ. قَالَ: "" الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ، الرَّجُلُ الَّذِي يَغْضَبُ فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ، وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ، وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ، فَيَصْرَعُ غَضَبَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو حَصْبَةَ أَوِ ابْنُ حَصْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A man who witnessed the Messenger of Allah ﷺ preaching reported that he asked whether they knew who the raqūb is. They said it is one without children. He said the complete raqūb is one who has children yet death takes them without sending any of them ahead in reward. He then asked who the destitute is. They said one without wealth. He said the complete destitute is one who has wealth yet dies without sending any of it ahead. Then the Prophet ﷺ asked what wrestling strength is. They said it is the champion. He said complete strength is that of a man who grows angry with intensified rage, reddened face, and bristling hair, yet overcomes his anger. > **"Do you know who the raqūb is? The complete raqūb is one who has children and then dies without sending any of them ahead. Do you know who the destitute is? The complete destitute is one who has wealth and then dies without sending any of it ahead. What is wrestling strength? Complete strength is that of a man who grows angry with intensified anger, reddened face, and bristling hair, yet overcomes his anger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صحابی ، جو نبی اکرم ﷺ کے خطبے میں موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ کیا تم لوگ جانتے ہو رقوب ( یعنی لاولد ) کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : اس کو جس کی اولاد نہ ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رقوب جو مکمل طور پر رقوب ہو ، جو مکمل طور پر رقوب ہو ، وہ رقوب جو مکمل طور پر رقوب ہو ، یہ وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہو اور وہ شخص مر جائے اور اس نے ان ( یعنی اولاد ) میں سے کسی کو آگے نہ بھیجا ہو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو صعلوک ( یعنی کنگال ) کون ہوتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ کنگال جو مکمل کنگال ہو ، وہ کنگال جو مکمل کنگال ہو ، وہ کنگال جو مکمل کنگال ہو ، یہ وہ شخص ہے جس کے پاس مال موجود ہو اور وہ مر جائے اور اس نے اس مال میں سے کچھ بھی آگے نہ بھیجا ہو ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو طاقت کیا ہوتی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جو پہلوان میں ہو ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ طاقت جو مکمل طاقت ہو ، وہ طاقت جو مکمل طاقت ہو ، وہ طاقت جو مکمل طاقت ہو ، وہ اس شخص کی ہوتی ہے جو غصے میں آئے اور اس کا غضب شدید ہو جائے ، اس کا چہرہ سرخ ہو جائے ، اس کے بال کپکپانے لگیں اور اس وقت وہ اپنے غصے پر قابو پا لے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصبہ یا ابن حصبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12985

Majma al-Zawaid #12985

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا يُبَاعِدُنِي مِنْ غَضَبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: "" لَا تَغْضَبْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reports that he asked the Messenger of Allah ﷺ what keeps him far from the anger of Allah, mighty and exalted, and he replied that he should not become angry. > **"Do not become angry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کون سی چیز مجھے اللہ کے غضب سے دور کر سکتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔ اس حدیث کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12986

Majma al-Zawaid #12986

وَعَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ عَلَيَّ، لَعَلِّي أَعِيَهُ. قَالَ: "" لَا تَغْضَبْ "". فَأَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: "" لَا تَغْضَبْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمِّهِ وَعَمُّهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ كَذَلِكَ. وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ أَنَّ عَمَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ... وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ، أَخْبَرَنِي عَمُّ أَبِي أَنَّهُ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jāriya ibn Qudāma, may Allah be pleased with him, reports that a man said to the Messenger of Allah ﷺ to tell him a brief saying that he might retain, and he replied that he should not become angry. The man repeated his request several times, and each time he said to him that he should not become angry. > **"Do not become angry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے اور مختصر بات عنایت کیجئے گا تاکہ میں اس کو محفوظ رکھوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ، اس نے چند مرتبہ اپنی بات دہرائی ، نبی اکرم ﷺ نے ہر مرتبہ اسے یہی فرمایا کہ تم غصہ نہ کرنا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : یہ روایت احنف نے اپنے چچا کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان کے چچا حضرت جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسی بات ارشاد فرمایئے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ....... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے ۔ یہ پوری روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے اور انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : حضرت جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ان کے چچا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کے چچا زاد کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ بات بیان کی ہے حضرت جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے چچا نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12987

Majma al-Zawaid #12987

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، «عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: "" لَا تَغْضَبْ "". قَالَ: فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ، فَإِذَا الْغَضَبُ يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥumayd ibn ʿAbd al-Raḥmān reports from a man among the Companions of the Prophet ﷺ that a man said to the Messenger of Allah ﷺ to counsel him, and he said to him not to become angry. The narrator said that he reflected upon what the Messenger of Allah ﷺ had said, and behold, anger gathers all evil together. > **"Do not become angry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن عبدالرحمن ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تو میں نے اس میں تھوڑی دیر غور و فکر کیا ، تو اس میں یہ بات سامنے آئی کہ غصے میں ہر قسم کی برائی اکٹھی ہو جاتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12988

Majma al-Zawaid #12988

«وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعْقِلَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَغْضَبْ "". فَأَعَدْتُ مَرَّتَيْنِ، كُلُّ ذَلِكَ يُرَجِّعُ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَغْضَبْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, said that he asked the Messenger of Allah ﷺ to tell him a brief saying that he might comprehend, and the Messenger of Allah ﷺ said to him not to become angry. He repeated his request twice, and each time the Prophet ﷺ answered him that he should not become angry. > **"Do not become angry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے اور مختصر ارشاد فرمائیے تاکہ میں اسے سمجھ لوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔ میں نے دو مرتبہ اپنی بات دہرائی تو نبی اکرم ﷺ نے ہر مرتبہ مجھے یہی جواب دیا : تم غصہ نہ کرنا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12989

Majma al-Zawaid #12989

وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ. قَالَ: "" لَا تَغْضَبْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ صَالِحٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَلَمْ أَعْرِفْ صَالِحًا هَذَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ṣāliḥ reports from one of the Companions of the Prophet ﷺ that he said to the Messenger of Allah ﷺ to teach him a deed that would admit him to Paradise without laying much upon him, and he said to him not to become angry. > **"Do not become angry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصالح ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں تعلیم دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے اور مجھے زیادہ باتیں نہ بتائیے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، جو صالح نے اعمش کے حوالے سے نقل کی ہے میں صالح نامی اس راوی سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12990

Majma al-Zawaid #12990

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَغْضَبْ، وَلَكَ الْجَنَّةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, said that he asked the Messenger of Allah ﷺ to guide him to a deed that would admit him to Paradise, and the Messenger of Allah ﷺ said to him not to become angry, and Paradise would be his. > **"Do not become angry, and Paradise is yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ، تمہیں جنت نصیب ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

12991

Majma al-Zawaid #12991

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا أَنْتَفِعُ بِهِ، وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعْقِلُهُ. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَغْضَبْ "". فَعَاوَدَهُ مِرَارًا يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، يَقُولُ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَغْضَبْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ وَلَمْ يُعْرَفْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sufyān ibn ʿAbd Allāh al-Thaqafī, may Allah be pleased with him, said that he asked the Prophet ﷺ to tell him a brief and beneficial saying that he might retain, and the Prophet of Allah ﷺ said to him not to become angry. He kept asking him about it repeatedly, and the Prophet of Allah ﷺ said to him each time not to become angry. > **"Do not become angry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے جس سے میں نفع حاصل کروں اور مختصر بات ارشاد فرمائیے گا تاکہ میں اسے اچھی طرح سمجھ لوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم غصہ نہ کرنا ۔ انہوں نے چند مرتبہ اپنے سوال کو دہرایا تو نبی اکرم ﷺ نے یہی فرمایا کہ تم غصہ نہ کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤد ہے جو معروف نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12992

Majma al-Zawaid #12992

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ دَفَعَ غَضَبَهُ دَفَعَ اللَّهُ عَنْهُ عَذَابَهُ، وَمَنْ حَفِظَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هلال (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever repels his anger, Allah will repel His punishment from him, and whoever guards his tongue, Allah will conceal his faults. > **"Whoever repels his anger, Allah will repel His punishment from him, and whoever guards his tongue, Allah will conceal his faults."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے غصے کو پرے کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اپنے عذاب کو پرے کر دیتا ہے ، اور جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ہلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12993

Majma al-Zawaid #12993

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عَلِّمُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ؛ لِأَنَّ لَيْثًا صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ مِنْ طَاوُسٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ said that they should teach, make matters easy and not make them difficult, and that when one of them becomes angry he should remain silent, repeating that when one of them becomes angry he should remain silent. > **"Teach, and make things easy and do not make them difficult, and when one of you becomes angry, let him remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تعلیم دو ، آسانی فراہم کرو تنگی کا شکار نہ کرو اور جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آ جائے ، تو اسے خاموش ہو جانا چاہیے ، جب تم میں سے کسی ایک شخص کو غصہ آ جائے تو اسے خاموش ہو جانا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ لیث نامی راوی نے طاؤس سے سماع کی صراحت کی ہے ۔

12994

Majma al-Zawaid #12994

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ يَقُولُ أَحَدُكُمْ إِذَا غَضِبَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ذَهَبَ عَنْهُ غَضَبُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, said that the Messenger of Allah ﷺ said that if one of them, when he becomes angry, were to say that he seeks refuge with Allah from the accursed Satan, his anger would depart from him. > **"If one of you becomes angry and says: I seek refuge with Allah from the accursed Satan, his anger will depart from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کسی شخص کو غصہ آئے اگر وہ اس وقت «اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم» پڑھ لے تو اس کا غصہ اس سے رخصت ہو جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12995

Majma al-Zawaid #12995

وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، «عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: كَانَ يَسْقِي عَلَى حَوْضٍ، فَجَاءَ قَوْمٌ فَقَالَ: أَيُّكُمْ يُورِدُ عَلَى أَبِي ذَرٍّ، وَيَحْتَسِبُ شُعَيْرَاتٍ مِنْ رَأْسِهِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. فَجَاءَ الرَّجُلُ فَأَوْرَدَ عَلَيْهِ الْحَوْضَ، فَدَقَّهُ، وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ قَائِمًا، فَجَلَسَ ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ جَلَسْتَ ثُمَّ اضْطَجَعْتَ؟ قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا: "" إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ، وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارِ الْقِصَّةِ، وَدُونَ ذِكْرِ أَبِي الْأَسْوَدِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Aswad reports from Abū Dharr, may Allah be pleased with him, that he was giving water at a cistern when some people came, and he asked which of them would come to Abū Dharr and earn reward as great as counting the hairs of his head. A man said that he would, then he came to him at the cistern and jostled him. Abū Dharr was standing, so he sat down and then reclined. When he was asked why he had sat and then reclined, he said that the Messenger of Allah ﷺ had told them that when one of them becomes angry while standing he should sit, and if his anger departs, well and good, otherwise he should recline. > **"When one of you becomes angry while he is standing, let him sit; if his anger leaves him, well and good, otherwise let him recline."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ حوض پر پانی پلایا کرتے تھے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے فرمایا : تم میں سے کون شخص حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس جائے گا اور ان کے سر کے بال گنے گا ، ایک شخص نے کہا : میں ۔ وہ شخص گیا ، وہ حوض میں ان کے پاس آیا ، اس نے انہیں تھپ تھپایا ، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے ، وہ بیٹھ گئے ، پھر وہ لیٹ گئے ، ان سے دریافت کیا گیا : آپ پہلے بیٹھ کیوں گئے اور پھر لیٹ کیوں گئے ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے ہم سے ارشاد فرمایا تھا : ’’ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہوا ہو تو اسے بیٹھ جانا چاہیے ، اگر اس کا غصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے لیٹ جانا چاہیے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے واقعہ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس میں ابواسود کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12996

Majma al-Zawaid #12996

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا اسْتَشَاطَ السُّلْطَانُ، تَسَلَّطَ الشَّيْطَانُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAṭiyya reported from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said that when the ruler blazes with rage, Satan gains mastery over him. > **"When the ruler blazes with rage, Satan gains mastery over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عطیہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے میرے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب حکمران غصے میں آتا ہے ، تو شیطان مسلط ہو جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12997

Majma al-Zawaid #12997

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بَابٌ لِلنَّارِ لَا يَدْخُلُهُ أَحَدٌ إِلَّا مَنْ يَشْفِي غَيْظَهُ بِسُخْطِ اللَّهِ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ فِي بَابِ صِفَةِ النَّارِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ الطَّائِفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, said that the Messenger of Allah ﷺ said that there is a gate of Hell which none shall enter except one who relieves his rage at the cost of Allah's displeasure. He then mentioned the remainder of the ḥadīth, which belongs in the chapter describing Hell. > **"There is a gate of Hell which none shall enter except one who relieves his rage at the cost of Allah's displeasure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جہنم کا ایک دروازہ ایسا ہے جس میں سے صرف وہ شخص داخل ہو گا ، جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ذریعے اپنے غصے کو تسکین فراہم کرے گا ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو آگے چل کے جہنم کی صفت سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ طائفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12998

Majma al-Zawaid #12998

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Qatāda, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that they should not revile time, for Allah is the disposer of time. > **"Do not revile time, for Allah is time."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمانے کو برا نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12999

Majma al-Zawaid #12999

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: أَنَا الدَّهْرُ، الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي لِي، أُجَدِّدُهَا وَأُبْلِيهَا، وَآتِي بِمُلُوكٍ بَعْدَ مُلُوكٍ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ وَفِي هَذَا: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: أَنَا الدَّهْرُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that they should not revile time, for Allah, mighty and exalted, has said that He is time, that the days and nights belong to Him, that He renews them and wears them out, and that He brings kings after kings. > **"Do not revile time, for Allah, mighty and exalted, has said: I am time; the days and nights belong to Me; I renew them and wear them out, and I bring kings after kings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمانے کو برا نہ کہو ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں ہی زمانہ ہوں ، رات اور دن میری ملکیت میں ہیں ، میں انہیں نیا کرتا ہوں اور پرانا کرتا ہوں اور بادشاہوں کے بعد دوسرے بادشاہ لے آتا ہوں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میں ہی زمانہ ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13000

Majma al-Zawaid #13000

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ الْغَسَّانِيُّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that they should not revile time, for Allah is the disposer of time. > **"Do not revile time, for Allah is time."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمانے کو برا نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام غسانی ہے ، جسے ابن حبان نے اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13001

Majma al-Zawaid #13001

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَسُبُّوا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَلَا الشَّمْسَ وَلَا الْقَمَرُ وَلَا الرِّيحَ؛ فَإِنَّهَا رَحْمَةٌ لِقَوْمٍ وَعَذَابٌ لِآخَرِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that they should not revile night and day, nor the sun, the moon, or the wind, for they are a mercy to some people and a punishment to others. > **"Do not revile night and day, nor the sun, the moon, or the wind, for they are a mercy to some people and a punishment to others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رات اور دن کو برا نہ کہو ، سورج اور چاند اور ہوا کو برا نہ کہو کیونکہ یہ کچھ لوگوں کے لئے رحمت ہوتے ہیں اور دوسروں کے لے عذاب ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

13002

Majma al-Zawaid #13002

«عَنْ جُرْمُوزٍ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: "" أُوصِيكَ أنْ لَا تَكُونُ لَعَّانًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ هَوْذَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جُرْمُوزٍ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ هَوْذَةَ، عَنْ جُرْمُوزٍ، وَهَذِهِ الطَّرِيقُ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ، فَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ جُرْمُوزًا فَقَالَ: لَهُ صُحْبَةٌ، رَوَى عَنْهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ ..

EnglishUnverified translation

Jarmūz al-Hujaymī, may Allah be pleased with him, said that he asked the Messenger of Allah ﷺ to counsel him, and he said that he counseled him never to be one who curses frequently. > **"I counsel you never to be one who curses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جرموز ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں یہ تلقین کرتا ہوں کہ تم لعنت کرنے والے نہ ہونا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے عبیداللہ بن ہوزہ کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے حضرت جرموز میسور سے نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک اور سند کے حوالے سے عبیداللہ بن ہوزہ کے حوالے سے حضرت جرموز سے نقل کی ہے ، اور اس طریق کے رجال ثقہ ہیں ، ابن ابوحاتم نے حضرت جرموز رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے عبیداللہ بن ہوزہ نے ان سے روایات نقل کی ہیں ۔

13003

Majma al-Zawaid #13003

وَعَنْ أَبِي تَمِيمِيَّةَ الْهُجَيْمِيِّ، «عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ: أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَوْ قَالَ: أَنْتَ مُحَمَّدٌ؟ فَقَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: مَا تَدْعُو؟ قَالَ: "" أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ. مَنْ إِذَا كَانَ لَكَ ضُرٌّ فَدَعْوَتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَمَنْ إِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ لَكَ، وَمَنْ إِذَا كُنْتَ فِي أَرْضٍ قَفْرٍ فَأَضْلَلْتَ، فَدَعْوَتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ "". فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ، ثُمَّ قَالَ: أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" لَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا "" - أَوْ قَالَ: "" أَحَدًا "" شَكَّ الْحَكَمُ - قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعِيرًا وَلَا شَاةً، مُنْذُ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Tamīma al-Hujaymī, may Allah be pleased with him, reports from a man of his tribe that the man came to the Messenger of Allah ﷺ, or that he was present with the Messenger of Allah ﷺ when a man came to him and asked whether he was the Messenger of Allah ﷺ, or whether he was Muḥammad. He replied that he was. The man asked to what he called, and he said that he called to Allah alone, who removes harm when one calls upon Him in distress, who causes growth for one when famine strikes and one calls upon Him, and who restores one's lost mount when one is in a barren land and calls upon Him. The man then embraced Islam and asked the Messenger of Allah ﷺ to counsel him, and he said to him never to revile anything, or any person, the narrator being uncertain of the exact word. The man said that since the Messenger of Allah ﷺ gave him this counsel, he never reviled even a camel or a sheep. > **"I call to Allah alone, who removes harm from you when you call upon Him in distress, who causes growth for you when famine strikes and you call upon Him, and who restores to you your lost mount when you are in a barren land and call upon Him. Never revile anything."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک فرد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے دریافت کیا : کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : کیا آپ حضرت محمد ( ﷺ ) ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے دریافت کیا : آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ( کا اقرار کرنے ) کی دعوت دیتا ہوں جو ایسا ہے کہ جب تمہیں کوئی تکلیف لاحق ہو ، اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تم سے اس تکلیف کو دور کر دے گا ، اور جب تمہیں قحط سالی لاحق ہو اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تمہارے لئے چیزیں اگا دے گا ، اور جب تم کسی ویرانے میں موجود ہو ، اور تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تمہاری سواری واپس کر دے گا ، اس شخص نے اسلام قبول کر لیا ، پھر اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی یہ تلقین کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم کسی چیز کو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کسی فرد کو برا ہرگز نہ کہنا ، یہ شک حکم نامی راوی کو ہے وہ صاحب بیان کرتے ہیں : جب سے نبی اکرم ﷺ نے مجھے تلقین کی ہے ۔ اس کے بعد میں نے کبھی کسی اونٹ اور بکری کو بھی برا نہیں کہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن فضیل ہے ، جسے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13004

Majma al-Zawaid #13004

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ اللَّعَّانُونَ صِدِّيقِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّيْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that it is not fitting for those given to cursing to be among the most truthful saints. > **"Those given to cursing should not be among the most truthful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ مناسب نہیں ہے کہ لعنت کرنے والے لوگ صدیقین ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق صیبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13005

Majma al-Zawaid #13005

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَجَمَاعَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that the believer is neither one who stabs at honour, nor one who curses, nor one who speaks obscenely, nor one who is foul-mouthed. > **"The believer is neither one who stabs at honour, nor one who curses, nor one who speaks obscenely, nor one who is foul-mouthed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن طعنہ دینے والا لعنت کرنے والا فحش کلامی کرنے والا بدزبانی کرنے والا نہیں ہوتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے جسے ابوزرعہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13006

Majma al-Zawaid #13006

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِطَعَّانٍ وَلَا لَعَّانٍ. قَالَ: وَمَا سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَلْعَنُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ لِينٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, said that the believer is neither given to stabbing at honour nor to cursing. The narrator said that he never heard Ibn ʿUmar curse anyone at all, except for one man.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مومن طعنہ دینے والا یا لعنت کرنے والا نہیں ہوتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کبھی کسی پر لعنت کرتے ہوئے نہیں سنا ، البتہ ایک شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس میں کمزوری پائی جاتی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13007

Majma al-Zawaid #13007

«وَعَنْ كَرِيزِ بْنِ أُسَامَةَ - وَقَدْ كَانَ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ عَلَى بَنِي عَامِرٍ. فَقَالَ: "" إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Karīz ibn Usāma, may Allah be pleased with him, who had come in a delegation to the Prophet ﷺ, said that it was said to the Messenger of Allah ﷺ to supplicate against the tribe of Banū ʿĀmir, and he replied that he had not been sent as one who curses. > **"I was not sent as one who curses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کریز بن اسامہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں وفد کے ساتھ حاضر ہوئے تھے وہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ بنو عامر کے خلاف دعائے ضرر کریں تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے لعنت کرنے والے کے طور پر مبعوث نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13008

Majma al-Zawaid #13008

«وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَشْتُمُ رَجُلًا رَافِعًا صَوْتَهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْبَذَاءُ لُؤْمٌ، وَسُوءُ الْمَلَكَةِ لُؤْمٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, once heard a man reviling another man in a raised voice, and he said that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that obscenity is baseness, and that ill treatment of those under one's authority is baseness. > **"Obscenity is baseness, and ill treatment of those under one's authority is baseness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے ایک شخص کو دوسرے شخص کو بلند آواز میں برا کہتے ہوئے سنا ، تو یہ بات بیان کی ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بدزبانی قابل ملامت چیز ہے اور برا مالک ہونا قابل ملامت چیز ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عرادہ ہے ، جسے امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

13009

Majma al-Zawaid #13009

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: كُنَّا إِذَا رَأَيْنَا الرَّجُلَ يَلْعَنُ أَخَاهُ، رَأَيْنَا أَنَّهُ قَدْ أَتَى بَابًا مِنَ الْكَبَائِرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُ الْأَوْسَطِ جَيِّدٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Salama ibn al-Akwaʿ, may Allah be pleased with him, said that whenever they saw a man cursing his brother, they considered that he had approached one of the doors of the major sins.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب بھی ہم کسی ایسے شخص کو دیکھتے تھے کہ جو اپنے بھائی پر لعنت کر رہا ہو تو ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس نے ایک کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، معجم اوسط کی سند عمدہ ہے اور معجم کبیر کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔