وَعَنْ أَبِي تَمِيمِيَّةَ الْهُجَيْمِيِّ، «عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ: أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَوْ قَالَ: أَنْتَ مُحَمَّدٌ؟ فَقَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: مَا تَدْعُو؟ قَالَ: "" أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ. مَنْ إِذَا كَانَ لَكَ ضُرٌّ فَدَعْوَتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَمَنْ إِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ لَكَ، وَمَنْ إِذَا كُنْتَ فِي أَرْضٍ قَفْرٍ فَأَضْلَلْتَ، فَدَعْوَتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ "". فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ، ثُمَّ قَالَ: أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" لَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا "" - أَوْ قَالَ: "" أَحَدًا "" شَكَّ الْحَكَمُ - قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعِيرًا وَلَا شَاةً، مُنْذُ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abū Tamīma al-Hujaymī, may Allah be pleased with him, reports from a man of his tribe that the man came to the Messenger of Allah ﷺ, or that he was present with the Messenger of Allah ﷺ when a man came to him and asked whether he was the Messenger of Allah ﷺ, or whether he was Muḥammad. He replied that he was. The man asked to what he called, and he said that he called to Allah alone, who removes harm when one calls upon Him in distress, who causes growth for one when famine strikes and one calls upon Him, and who restores one's lost mount when one is in a barren land and calls upon Him. The man then embraced Islam and asked the Messenger of Allah ﷺ to counsel him, and he said to him never to revile anything, or any person, the narrator being uncertain of the exact word. The man said that since the Messenger of Allah ﷺ gave him this counsel, he never reviled even a camel or a sheep. > **"I call to Allah alone, who removes harm from you when you call upon Him in distress, who causes growth for you when famine strikes and you call upon Him, and who restores to you your lost mount when you are in a barren land and call upon Him. Never revile anything."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک فرد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے دریافت کیا : کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : کیا آپ حضرت محمد ( ﷺ ) ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے دریافت کیا : آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ( کا اقرار کرنے ) کی دعوت دیتا ہوں جو ایسا ہے کہ جب تمہیں کوئی تکلیف لاحق ہو ، اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تم سے اس تکلیف کو دور کر دے گا ، اور جب تمہیں قحط سالی لاحق ہو اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تمہارے لئے چیزیں اگا دے گا ، اور جب تم کسی ویرانے میں موجود ہو ، اور تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اس سے دعا کرو ، تو وہ تمہاری سواری واپس کر دے گا ، اس شخص نے اسلام قبول کر لیا ، پھر اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی یہ تلقین کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم کسی چیز کو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کسی فرد کو برا ہرگز نہ کہنا ، یہ شک حکم نامی راوی کو ہے وہ صاحب بیان کرتے ہیں : جب سے نبی اکرم ﷺ نے مجھے تلقین کی ہے ۔ اس کے بعد میں نے کبھی کسی اونٹ اور بکری کو بھی برا نہیں کہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن فضیل ہے ، جسے امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔