Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 11

Book of Good Manners

Hadith 13010–13049

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13010

Majma al-Zawaid #13010

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that cursing the believer is like killing him. > **"Cursing the believer is like killing him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی مانند ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ۔

13011

Majma al-Zawaid #13011

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَفَعَهُ - قَالَ: "" «سِبَابُ الْمُسْلِمِ، كَالْمُشْرِفِ عَلَى الْهَلَكَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reported in a raised chain that reviling the Muslim is like one who overlooks destruction. > **"Reviling the Muslim is like one who overlooks destruction."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ مسلمان کو برا کہنا ہلاکت کی طرف جھانکنے والے شخص کی مانند ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13012

Majma al-Zawaid #13012

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: «انْتَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلٌ مِنْهُمْ كَانَ يُعْرَفُ بِالْبَذَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Nuʿmān ibn Muqarrin, may Allah be pleased with him, said that the Prophet ﷺ came to a gathering of the Anṣār in which there was a man known for obscenity, and the Prophet ﷺ said that reviling the Muslim is wickedness and fighting him is disbelief. > **"Reviling the Muslim is wickedness, and fighting him is disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار کی ایک محفل کے پاس تشریف لائے جن کے درمیان ایسا شخص موجود تھا جو بدزبانی کے حوالے سے معروف تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ جنگ کرنا ( یا اسے قتل کرنا ) کفر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13013

Majma al-Zawaid #13013

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Mughaffal, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that reviling the Muslim is wickedness and fighting him is disbelief. > **"Reviling the Muslim is wickedness, and fighting him is disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ قتال کرنا ( یا اسے قتل کرنا ) کفر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13014

Majma al-Zawaid #13014

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ إِلَّا وَبَيْنَهُمَا سِتْرٌ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ هَجْرًا، هَتْكَ سِتْرَهُ، وَإِذَا قَالَ: يَا كَافِرٌ، فَقَدْ كَفَرَ أَحَدُهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that there is no pair of Muslims but that a veil from Allah lies between them, and that when one of them speaks foully to his companion he tears his veil, and that when he says to him that he is a disbeliever, then one of the two has fallen into disbelief. > **"There is no pair of Muslims but that a veil from Allah lies between them; when one of them speaks foully to his companion he tears his veil, and when he says: O disbeliever, then one of the two has fallen into disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر دو مسلمانوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پردہ ہوتا ہے ، جب ان میں سے کوئی ایک شخص دوسرے کو بری بات کہتا ہے ، تو وہ پردہ پھٹ جاتا ہے ، اور جب وہ یہ کہہ دے اے کافر ! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے امام بزار کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13015

Majma al-Zawaid #13015

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ، وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr, may Allah be pleased with him, said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that no man accuses another man of wickedness or accuses him of disbelief but that it returns upon him, if his companion is not so. > **"No man accuses another man of wickedness, nor accuses him of disbelief, but that it returns upon him, if his companion is not so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فاسق ہونے کا الزام نہ لگائے یا کفر کا الزام نہ لگائے اگر وہ ایسا کرتا ہے ، تو یہ چیز اس کی طرف لوٹ آتی ہے ، اگر دوسرا شخص اس طرح کا نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13016

Majma al-Zawaid #13016

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ. فَهُوَ كَقَتْلِهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that when a man says to his brother that he is a disbeliever, it is like killing him. > **"When a man says to his brother: O disbeliever, it is like killing him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص اپنے بھائی سے یہ کہے : اے کافر ! تو یہ اسے قتل کرنے کی مانند ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13017

Majma al-Zawaid #13017

عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ أَرْبَى الرِّبَا أَنْ يَسْتَطِيلَ الرَّجُلُ فِي شَتْمِ أَخِيهِ، وَإِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ، أَنْ يَشْتُمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ "". قَالُوا: وَكَيْفَ يَشْتُمُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" يَشْتُمُ أَبَا الرَّجُلِ، فَيَشْتُمُهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ طَاهِرِ بْنِ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ لِينٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the worst form of unlawful excess is for a man to indulge at length in reviling his brother, and that among the greatest of major sins is for a man to revile his parents. They asked how he could revile them, O Messenger of Allah, and he said that he reviles another man's father, whereupon the other reviles his parents in return. > **"The worst form of unlawful excess is for a man to indulge at length in reviling his brother, and among the greatest of major sins is for a man to revile his parents. He reviles another man's father, whereupon he reviles his parents in return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سب سے زیادہ برا کام یہ ہے کہ ایک شخص اپنے بھائی کو زیادہ برا بھلا کہے ، اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ ان دونوں کو کیسے برا کہہ سکتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ دوسرے کے ماں باپ کو برا کہتا ہے ، تو دوسرا اس کے ماں باپ کو کہہ دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف طاہر بن خالد بن نزار کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔

13018

Majma al-Zawaid #13018

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَسُبَّ وَقَالَ: "" إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ سَابًّا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ، فَلَا يَفْتَرِ، وَلَا يَسُبَّ وَالِدَيْهِ، وَلَا يَسُبَّ قَوْمَهُ، وَلَكِنْ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ: إِنَّكَ بَخِيلٌ، أَوْ لِيَقُلْ: إِنَّكَ لَجَبَانٌ، أَوْ لِيَقُلْ: إِنَّكَ لَكَذُوبٌ، أَوْ لِيَقُلْ: إِنَّكَ لَئُومٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ فِيهِ مَتْرُوكٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَجَاهِيلُ.

EnglishUnverified translation

Samura ibn Jundub, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ forbade them to revile, and said that if one of them must inevitably speak against his companion, he should not invent falsehood, nor revile his parents, nor revile his tribe, but if he knows it to be true he may say that he is miserly, or that he is cowardly, or that he is a liar, or that he is base. > **"If one of you must inevitably speak against his companion, let him not invent falsehood, nor revile his parents, nor revile his tribe; but if he knows it to be true, let him say: You are miserly, or you are cowardly, or you are a liar, or you are base."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم کسی کو ( برا کہیں ) آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر کسی شخص نے لازمی طور پر اپنے ساتھی کو برا کہنا ہی ہو ، تو وہ اس پر کوئی جھوٹا الزام نہ لگائے اور اس کے ماں باپ کو برا نہ کہے ۔ اس کی قوم کو برا نہ کہے بلکہ یہ ہے کہ اگر وہ جانتا ہے کہ ( یہ خامی اس شخص میں پائی جاتی ہے ) تو پھر وہ یہ کہہ دے کہ تم کنجوس ہو یا یہ کہہ دے کہ تم بزدل ہو یا یہ کہہ دے کہ تم جھوٹے ہو یا یہ کہہ دے کہ تم قابل مذمت ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام بزار کی سند میں ایک متروک راوی ہے ، اور امام طبرانی کی سند میں ایک مجہول راوی ہے ۔

13019

Majma al-Zawaid #13019

«عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ، أَنَّهُ كَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ زَارَهُ فِي أَهْلِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ عَلَى أَهْلِهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَسْقَى، فَبَعَثْتُ الْجَارِيَةَ تَجِيئُهُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِيرَانِ، فَأَبْطَأَتْ فَلَعَنَهَا، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ، فَجَاءَ أَبُو عُمَيْرٍ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَيْسَ مِثْلُكَ يُغَارُ عَلَيْهِ، هَلَّا سَلَّمْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيكَ، وَجَلَسْتَ وَأَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، فَأَرْسَلْتُ الْجَارِيَةَ فَأَبْطَأَتْ، إِمَّا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ شَرَابٌ، وَإِمَّا رَغِبُوا عَمَّا عِنْدَهُمْ، فَأَبْطَأَتِ الْخَادِمَةُ فَلَعَنْتَهَا، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّعْنَةَ إِذَا وُجِّهَتْ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ، فَإِنْ أَصَابَتْ عَلَيْهِ سَبِيلًا، أَوْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا، وَإِلَّا قَالَتْ: يَا رَبِّ، وُجِّهْتُ إِلَى فُلَانٍ، فَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا، وَلَمْ أَجِدُ عَلَيْهِ سَبِيلًا. فَيُقَالُ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ. فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ الْخَادِمُ مَعْذُورَةً، فَتَرْجِعُ اللَّعْنَةُ فَأَكُونُ سَبَبَهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو عُمَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَلَكِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ صَدِيقَ ابْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي يَزُورُهُ هُوَ ثِقَةٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAyzār ibn Jarwal reports from a man among them called Abū ʿUmayr, who was a friend of ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, that Ibn Masʿūd visited him among his household but did not find him. He sought permission to enter upon his household, greeted them, and asked for a drink. The mistress of the house sent a slave girl to fetch a drink from the neighbours, but she was delayed, so he cursed her. Then ʿAbd Allāh went out, and Abū ʿUmayr arrived and said to him that one like him should not be resented, asking why he had not greeted his brother's household, sat down, and taken some drink. He replied that he had done so, but the slave girl they had sent was delayed, either because the neighbours had no drink or because they withheld what they had, and when the servant was delayed he had cursed her. He said that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that when a curse is directed toward its target, if it finds a way to him it proceeds, but if not, it says that it was directed to such-and-such a person and found no path to him, whereupon it is told to return whence it came. He said that he feared the servant might have been excused, so that the curse would return and he would be its cause. > **"When a curse is directed toward its target, if it finds a way to him it proceeds; otherwise it says: My Lord, I was directed to such-and-such a person but found no path to him. It is then told: Return whence you came."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیزار بن جرول اپنی قوم کے ایک فرد جن کی کنیت ابوعمیر تھی ، ان کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دوست تھے ، ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے گھر ان سے ملنے کے لئے آئے ، تو انہوں نے ان کو گھر نہیں پایا ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے گھر والوں سے اندر آنے کی اجازت مانگی ، سلام کیا ، پینے کے لئے کچھ مانگا ، تو اس شخص کی اہلیہ نے ایک کنیز کو بھیجا ، جو پڑوسیوں کے پاس سے مشروب ان کے پاس لے کے آئی ، اس کو آنے میں تاخیر ہو گئی ، تو حضرت عبداللہ اللہ رضی اللہ عنہ نے ان کنیز پر لعنت کی ، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ گھر سے باہر نکل آئے ، اسی دوران ابوعمیر آ گئے ، انہوں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن آپ جیسے افراد پر غصہ نہیں کیا جا سکتا ہے ، آپ نے اپنے بھائی کی بیوی ( یا گھر والوں کو ) سلام کیوں نہیں کیا اور بیٹھ کر کچھ پیا کیوں نہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے ایسا ہی کیا تھا ، تو اس خاتون نے کنیز کو بھیجا ، اسے آنے میں تاخیر ہو گئی ، یا تو یہ ہے کہ پڑوسیوں کے پاس پینے کے لئے کچھ نہیں ہو گا یا پھر یہ ہے کہ وہ کسی وجہ سے دینا نہیں چاہتے ہوں گے ، جب خادمہ کو آنے میں تاخیر ہو گئی تو میں نے اس پر لعنت کر دی اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب لعنت کسی طرف بھیجی جاتی ہے ، تو جس کی طرف وہ بھیجی گئی ہو اگر اس کو وہاں تک جانے کے لئے راستہ مل جائے ( راوی کو شک ہے ، یہاں کچھ الفاظ مختلف ہیں لیکن مفہوم یہی ہے ) تو ٹھیک ہے ورنہ وہ یہ کہتی ہے : اے میرے پروردگار ! مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا اور میں نے وہاں جانے کا راستہ نہیں پایا اور میں نے اس کی کوئی گزرگاہ نہیں پائی ، تو اس لعنت سے کہا جاتا ہے : تو تم اس طرف واپس چلی جاؤ جہاں سے تم آئی ہو ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ خادمہ معذور ہو گی اور لعنت واپس آ جائے گی اور میں اس کا ہدف بن جاؤں گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ ابوعمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا وہ دوست جس سے وہ ملنے کے لئے آئے تھے وہ ثقہ ہی ہو گا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

13020

Majma al-Zawaid #13020

وَعَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَلْعَنَ شَيْئًا فَافْعَلْ، فَإِنَّ اللَّعْنَةَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ صَاحِبِهَا فَكَانَ الْمَلْعُونُ لَهَا أَهْلًا أَصَابَتْهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا أَهْلًا فَكَانَ اللَّاعِنُ لَهَا أَهْلًا، رَجَعَتْ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا أَهْلًا أَصَابَتْ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا أَوْ مَجُوسِيًّا، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَلْعَنَ شَيْئًا أَبَدًا فَافْعَلْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: يَضَعُ الْحَدِيثَ، وَكَذَّبَهُ غَيْرُهُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that if he is able never to curse anything, he should do so, for when a curse leaves its utterer, if the one cursed deserves it, it strikes him, and if he does not deserve it, then if the curser deserves it, it returns upon him, and if neither deserves it, it strikes a Jew, a Christian, or a Magian. So if he is able never to curse anything at all, he should do so. > **"If you are able never to curse anything, then do so, for when a curse leaves its utterer, if the one cursed deserves it, it strikes him; if he does not deserve it, then if the curser deserves it, it returns upon him; and if neither deserves it, it strikes a Jew, a Christian, or a Magian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر تم سے ہو سکے کہ تم کسی پر لعنت نہ کرو ، تو تم ایسا کرو کیونکہ جب لعنت اپنے متعلقہ فرد سے نکلتی ہے ، تو اگر ملعون شخص اس کا اہل ہو ، تو وہ اس تک پہنچ جاتی ہے ، اور اگر وہ اس کا اہل نہ ہو ، تو پھر لعنت کرنے والا اس کا اہل ہو گا ، اور وہ اس کی طرف واپس آ جاتی ہے ، اور اگر وہ بھی اس کا اہل نہ ہو ، تو وہ کسی یہودی یا عیسائی یا مجوسی تک پہنچ جاتی ہے ، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم کبھی کسی چیز پر لعنت نہ کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن جعد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا ہے ان کے علاوہ دیگر افراد نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے ، اور اس روایت کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13021

Majma al-Zawaid #13021

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَهُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوبُ يَقُولُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا إِنَّ مَلَكًا يَذُبُّ عَنْكَ، كُلَّمَا شَتَمَكَ هَذَا قَالَ لَهُ: بَلْ أَنْتَ، وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ، فِإِذَا قَالَ لَهُ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ قَالَ: لَا بَلْ أَنْتَ أَحَقُّ بِهِ "".». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Muqarrin al-Muzanī, may Allah be pleased with him, said that a man reviled another man in the presence of the Messenger of Allah ﷺ, and the man who was reviled began to reply with words of peace. The Messenger of Allah ﷺ said that an angel was defending him, and that each time the other reviled him, the angel said to him that rather he himself was so and was more deserving of it, but that when he replied with words of peace, the angel said to him that rather he himself was more deserving of peace. > **"An angel defends you; each time he reviles you, he says to him: Rather you are so, and you are more deserving of it. Then when you said: Peace be upon you, he said: Rather you are more deserving of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص نے دوسرے شخص کو برا کہا تو جس شخص کو برا کہا گیا تھا اس نے یہ کہنا شروع کیا کہ تم پر سلامتی نازل ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم دونوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود تھا جو تم سے ہر وہ چیز پرے کر رہا تھا جو وہ تمہارے خلاف برا کہہ رہا تھا ، اور فرشتہ اس کو یہ کہہ رہا تھا بلکہ تم ایسے ہو ، اور تم اس کے زیادہ حق دار ہو ، اور جب تم نے اسے جواب میں یہ کہا کہ تم پر سلامتی نازل ہو ، تو فرشتے نے کہا : جی نہیں بلکہ تم اس کے زیادہ حق دار ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوخالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13022

Majma al-Zawaid #13022

عَنْ عِيَاضِ بْنِ حَمَّادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِثْمُ الْمُسْتَبَّيْنِ مَا قَالَا عَلَى الْبَادِئِ مِنْهُمَا، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ، وَالْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَكَاذَبَانِ وَيَتَهَاتَرَانِ» "".

EnglishUnverified translation

ʿIyāḍ ibn Ḥimār, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the sin of two men who revile one another for what they say lies upon the one who began, so long as the wronged party does not transgress, and that two men who revile one another are two devils who lie against one another and utter falsehood against one another. > **"The sin of two men who revile one another for what they say lies upon the one who began, so long as the wronged party does not transgress; and two men who revile one another are two devils who lie against one another and utter falsehood against one another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک دوسرے کو برا کہنے والے دو افراد میں گناہ اس شخص پر ہوتا ہے ، جس نے آغاز کیا ہو ، جب تک مظلوم نے زیادتی نہ کی ہو اور ایک دوسرے کو برا کہنے والے دو افراد دو شیطان ہوتے ہیں ، وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلے میں جھوٹ بولتے ہیں اور ایک دوسرے کے مقابلے میں باطل بات کا دعویٰ کرتے ہیں ۔‘‘

13023

Majma al-Zawaid #13023

وَفِي رِوَايَةٍ «عَنْ عِيَاضٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي يَسُبُّنِي، وَهُوَ دُونِي، عَلَيَّ بَأْسٌ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهُ»؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿIyāḍ, may Allah be pleased with him, said in another narration that he asked the Messenger of Allah ﷺ whether there would be any harm upon him if he retaliated against a man of his tribe who reviled him although he was beneath him, and he mentioned the like of the preceding report. > **"The sin of two men who revile one another lies upon the one who began, so long as the wronged party does not transgress."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عیاض رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری قوم کے ایک فرد نے مجھے برا کہا ، وہ مجھ سے کمتر حیثیت رکھتا ہے ، کیا مجھ پر کوئی حرج ہو گا کہ اگر میں اس سے بدلہ لوں ؟....... بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13024

Majma al-Zawaid #13024

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا، فَعَلَى الْبَادِئِ مِنْهُمَا، حَتَّى يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، عَنْ شَيْخِهِ أَبِي يَعْلَى وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whatever two men who revile one another say, the blame lies upon the one who began, until the wronged party transgresses. > **"Whatever two men who revile one another say, the blame lies upon the one who began, until the wronged party transgresses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک دوسرے کو برا کہنے والے دو افراد جو کچھ بھی کہتے ہیں تو اس کا وبال ان میں سے آغاز کرنے والے پر ہی ہوتا ہے ، جب تک مظلوم زیادتی نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد ابوعلی سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13025

Majma al-Zawaid #13025

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِيَّاكَ وَمَشَّارَّةَ النَّاسِ ; فَإِنَّهَا تَدْفِنُ الْغُرَّةَ وَتُظْهِرُ الْعَوْرَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، عَنْ شَيْخِهِ ابْنِ الْحَسَنِ بْنِ هُزَيْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, said that the Messenger of Allah ﷺ said to beware of quarrelling with people, for it buries honour and exposes faults. > **"Beware of quarrelling with people, for it buries honour and exposes faults."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کے ساتھ جھگڑا کرنے سے بچو کیونکہ یہ چیز عزت کو دفن کر دیتی ہے اور پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کر دیتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اپنے استاد محمد بن حسن بن ہزیم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13026

Majma al-Zawaid #13026

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يُحِبُّ اللَّهُ الشَّيْخَ الْجَهُولَ، وَلَا الْغَنِيَّ الظَّلُومَ، وَلَا الْفَقِيرَ الْمُخْتَالَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allah be pleased with him, said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that Allah does not love the ignorant elder, nor the unjust rich man, nor the arrogant poor man. > **"Allah does not love the ignorant elder, nor the unjust rich man, nor the arrogant poor man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ جاہل بوڑھے ظالم خوشحال اور متکبر غریب کو پسند نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

13027

Majma al-Zawaid #13027

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْغَنِيَّ الْحَلِيمَ الْمُتَعَفِّفَ، وَيُبْغِضُ الْبَذِيءَ الْفَاجِرَ السَّائِلَ الْمُلِحَّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that no servant truly believes until his neighbour is safe from his harms, that whoever believes in Allah and the Last Day should honour his guest, that whoever believes in Allah and the Last Day should speak good or remain silent, that Allah, blessed and exalted, loves the rich, forbearing, and chaste man, and hates the obscene, wicked, persistently begging man. > **"No servant truly believes until his neighbour is safe from his harms; whoever believes in Allah and the Last Day should honour his guest; whoever believes in Allah and the Last Day should speak good or remain silent; Allah loves the rich, forbearing, and chaste man, and hates the obscene, wicked, persistently begging man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوتا جب تک اس کا پڑوسی اس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے یا خاموش رہنا چاہئے ، ہے شک اللہ تعالیٰ خوشحال بردبار پاکدامن شخص کو پسند کرتا ہے ، اور وہ بدزبان گنہگار مانگنے والے لپٹ جانے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

13028

Majma al-Zawaid #13028

عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: «نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ عَنْ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَانَا عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَقَدْ مَاتَ»؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَنَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ziyād ibn ʿIlāqa said that al-Mughīra ibn Shuʿba, may Allah be pleased with him, spoke against ʿAlī, may Allah be pleased with him, whereupon Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, said to him that he knew the Messenger of Allah ﷺ used to forbid them from reviling the dead, so why did he revile ʿAlī, may Allah have mercy upon him, when he had died. > **"You know that the Messenger of Allah ﷺ used to forbid us from reviling the dead, so why do you revile ʿAlī when he has died."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں : حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں مرحومین کو برا کہنے سے منع کیا ہے ، تو آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کیوں تنقید کر رہے ہیں جبکہ وہ انتقال کر چکے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

13029

Majma al-Zawaid #13029

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَسُبُّوا تُبَّعًا، فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that they should not revile Tubbaʿ, for he had embraced Islam. > **"Do not revile Tubbaʿ, for he had embraced Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تبع ‘‘ کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13030

Majma al-Zawaid #13030

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَسُبُّوا تُبَّعًا، فَإِنَّهُ قَدْ أَسْلَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ الْمَكِّيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, said that the Messenger of Allah ﷺ said that they should not revile Tubbaʿ, for he had embraced Islam. > **"Do not revile Tubbaʿ, for he had embraced Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تبع ‘‘ کو برا نہ کہو کیونکہ اس نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی احمد بن ابوبزہ مکی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13031

Majma al-Zawaid #13031

وَعَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ziyād ibn ʿIlāqa said that he heard a man in the presence of al-Mughīra ibn Shuʿba, may Allah be pleased with him, report that the Messenger of Allah ﷺ said that they should not revile the dead, lest they harm the living thereby. > **"Do not revile the dead, lest you harm the living."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم مرحومین کو برا نہ کہو ورنہ یوں تم زندوں کو اذیت پہنچاؤ گے ‘‘ ( یا یہ مطلب ہو گا کہ مردوں کو برا بھلا کہہ کر زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13032

Majma al-Zawaid #13032

وَعَنْ صَخْرٍ - وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَقَالَ: عَنِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: الْكُفَّارَ الَّذِينَ أَسْلَمَ أَوْلَادُهُمْ. وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣakhr, may Allah be pleased with him, who had met the Prophet ﷺ, said that the Messenger of Allah ﷺ said that they should not revile the dead lest they harm the living, meaning unbelievers whose children had embraced Islam. > **"Do not revile the dead, lest you harm the living."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صخر رضی اللہ عنہ جنہیں نبی اکرم ﷺ کا زمانہ نصیب ہوا ہے وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم مرحومین کو برا کہہ کر زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ کلمات نقل کے ہیں : ان کفار کو برا نہ کہو جن کی اولاد مسلمان ہو چکی ہے ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13033

Majma al-Zawaid #13033

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْفَعُهُ قَالَ: «سِبَابُ الْمَيِّتِ - وَقَالَ مَرَّةً: الْمَوْتَى - كَالْمُشْرِفِ عَلَى الْهَلَكَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reported in a raised chain that reviling the dead, and on one occasion he said the dead in the plural, is like one who overlooks destruction. > **"Reviling the dead is like one who overlooks destruction."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ میت کو ، اور ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : مردوں کو برا بھلا کہنا ، ہلاکت کی طرف جھانکنے والے شخص کی مانند ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13034

Majma al-Zawaid #13034

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تُؤْذُوا الْحَيَّ بِالْمَيِّتِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوَّلِ وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ نَبْهَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي قِصَّةِ «النَّهْيِ عَنْ سَبِّ أَبِي لَهَبٍ، لَمَّا شَكَتِ ابْنَتُهُ إِلَيْهِ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ لَهُ لَمَّا أَسْلَمَتْ: هَذِهِ بِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ. فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَسُبُّوا أَمْوَاتَنَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا» "".

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, said that the Messenger of Allah ﷺ said that they should not harm the living through the dead, meaning through reviling the dead. He added the report concerning the prohibition of reviling Abū Lahab, when his daughter complained to him ﷺ after she had embraced Islam that people said to her that she was the daughter of the enemy of Allah, whereupon he ﷺ said not to revile their dead lest they harm their living. > **"Do not harm the living through the dead. Do not revile our dead, lest you harm our living."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میت کے جالے سے زندہ کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبہان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ابولہب کو برا کہنے کی ممانعت کہنے والے واقعہ پر مشتمل حدیث آئے گی کہ جب اس کی بیٹی نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ شکایت کی تھی کہ اس خاتون کے اسلام قبول کرنے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے یہ کہا کہ یہ اللہ کے دشمن کی بیٹی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم ہمارے مرحومین کو برا کہہ کر ہمارے زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔‘‘

13035

Majma al-Zawaid #13035

«عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَلَعَنَتْ بَعِيرًا لَهَا، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُرَدَّ، وَقَالَ: "" لَا يَصْحَبُنِي شَيْءٌ مَلْعُونٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha, may Allah be pleased with her, said that she was travelling with the Messenger of Allah ﷺ when she cursed a camel belonging to her, whereupon the Prophet ﷺ ordered that it be sent back, saying that nothing accursed would accompany him. > **"Nothing accursed shall accompany me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہی تھیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر لعنت کی گئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے واپس کر دیا جائے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لعنت یافتہ کوئی چیز ہمارے ساتھ نہیں رہے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمرو بن مالک نکری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13036

Majma al-Zawaid #13036

وَعَنْهَا أَنَّهَا رَكِبَتْ جَمَلًا فَلَعَنَتْهُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَرْكَبِيهِ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ يَحْيَى بْنَ وَثَّابٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ وَإِنْ كَانَ تَابِعِيًّا.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha, may Allah be pleased with her, once mounted a camel and cursed it, whereupon the Prophet ﷺ said to her not to ride it. > **"Do not ride it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہوئیں تو انہوں نے اس اونٹ پر لعنت کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس پر سوار نہ ہونا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ یحیی بن وثاب نامی راوی نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے اگرچہ وہ تابعی ہے ۔

13037

Majma al-Zawaid #13037

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَةً، فَقَالَ: "" أَيْنَ صَاحِبُ النَّاقَةِ؟ "". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا. فَقَالَ: "" أَخِّرْهَا، فَقَدَ: أُجِبْتَ فِيهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ was on a journey when a man cursed a she-camel, so he asked where the owner of the she-camel was. The man said that it was he, and he said to him to put her behind, for his supplication against her had been answered. > **"Where is the owner of the she-camel. Put her behind, for your supplication against her has been answered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے ایک شخص نے اونٹنی پر لعنت کی ، آپ نے دریافت کیا : اونٹنی والا شخص کہاں ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : میں ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے پیچھے کر دو کیونکہ اس کے بارے میں تمہاری ( لعنت مستجاب ) ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13038

Majma al-Zawaid #13038

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «سَارَ رَجُلٌ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَعَنَ بَعِيرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَا تَسِرْ مَعَنَا عَلَى بَعِيرٍ مَلْعُونٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, said that a man travelled with the Prophet ﷺ and cursed his camel, whereupon the Prophet ﷺ said to him that he should not travel with them upon an accursed camel. > **"O servant of Allah, do not travel with us upon an accursed camel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہا تھا اس نے اپنے اونٹ پر لعنت کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے اللہ کے بندے ! تم ہمارے ساتھ ایک لعنت یافتہ اونٹ پر سفر نہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13039

Majma al-Zawaid #13039

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَلَعَنَ رَجُلٌ بَعِيرًا لَهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُنَحَّى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, said that they were with the Prophet ﷺ on a journey when a man cursed a camel belonging to him, whereupon the Prophet ﷺ ordered that it be set aside.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ایک شخص نے اپنے اونٹ پر لعنت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ اس اونٹ کو پیچھے کر دیا جائے ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13040

Majma al-Zawaid #13040

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - «أَنَّ دِيكًا صَرَخَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَبَّهُ رَجُلٌ، فَنَهَى عَنْ سَبِّ الدِّيكِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «لَا تَلْعَنْهُ وَلَا تَسُبَّهُ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ» "". وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, said that a rooster crowed in the presence of the Messenger of Allah ﷺ and a man reviled it, whereupon he forbade reviling the rooster, saying in another wording not to curse it nor revile it, for it calls to prayer. > **"Do not curse it nor revile it, for it calls to prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرغ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس بانگ دی ، ایک شخص نے اسے برا کہا ، تو نبی اکرم ﷺ نے مرغ کو برا کہنے سے منع کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ تم اس پر لعنت نہ کرو اور اسے برا نہ کہو کیونکہ یہ نماز کی طرف بلاتا ہے ۔‘‘ امام بزار کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13041

Majma al-Zawaid #13041

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ دِيكًا صَرَخَ قَرِيبًا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَجُلٌ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَهْ، كَلَّا إِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَثَّقَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with them both, said that a rooster crowed near the Prophet ﷺ and a man said that Allah should curse it, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said to him to stop, for it calls to prayer. > **"Stop; nay, it calls to prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرغ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس بانگ دی تو ایک شخص نے کہا : اے اللہ تو اس پر لعنت کر ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رک جاؤ ، خبردار یہ نماز کی طرف بلاتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے ، جسے یحیی القطان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13042

Majma al-Zawaid #13042

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَدَغَتْ رَجُلًا بُرْغُوثٌ، فَلَعَنَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَلْعَنْهَا، فَإِنَّهَا نَبَّهَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لِلصَّلَاةِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «لَا تَسُبُّهُ، فَإِنَّهُ أَيْقَظَ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ» "". وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ: ذُكِرَتِ الْبَرَاغِيثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهَا تُوقِظُ لِلصَّلَاةِ "". وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ، وَفِي سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ضَعْفٌ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, said that they were with the Messenger of Allah ﷺ when a flea bit a man and he cursed it, whereupon the Prophet ﷺ told him not to curse it, for it had awakened one of the Prophets for prayer. In another wording he said not to revile it, for it awakened one of the Prophets for the dawn prayer, and in another wording, when fleas were mentioned before the Messenger of Allah ﷺ, he said that they awaken one for prayer. > **"Do not curse it, for it awakened one of the Prophets for prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ایک شخص کو پسو نے ڈنگ مار دیا ، اس نے اس پر لعنت کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس پر لعنت نہ کرو کیونکہ اس نے ایک نبی کو نماز کے لئے بیدار کیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ’’ تم اسے برا نہ کہو کیونکہ اس نے ایک نبی کو صبح کی نماز کے لئے بیدار کیا تھا ۔‘‘ امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پسوؤں کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ نماز کے لئے بیدار کرتا ہے ۔‘‘ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ، اور سعید بن بشیر نامی راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی سوید بن ابراہیم جسے ابن عدی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13043

Majma al-Zawaid #13043

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَآذَتْنَا الْبَرَاغِيثُ، فَسَبَبْنَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَسُبُّوهَا، فَنِعْمَتِ الدَّابَّةُ، فَإِنَّهَا أَيْقَظَتْكُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طُرَيْقٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allah be pleased with him, said that they halted at a resting place where fleas harmed them, so they reviled them, whereupon the Messenger of Allah ﷺ told them not to revile them, for they were an excellent creature, since they had awakened them for the remembrance of Allah. > **"Do not revile them, for they are an excellent creature, since they awakened you for the remembrance of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا تو پسوؤں نے ہمیں اذیت پہنچائی ، تو ہم نے انہیں برا بھلا کہا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ انہیں برا نہ کہو کیونکہ یہ اچھا جانور ہے ، اس نے تمہیں اللہ کے ذکر کے لئے بیدار کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریق ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13044

Majma al-Zawaid #13044

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَسْبِقَ الْقَدَرَ، وَكَادَتِ الْحَاجَةُ أَنْ تَكُونَ كُفْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that envy almost outruns the decree, and that need almost becomes disbelief. > **"Envy almost outruns the decree, and need almost becomes disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قریب ہے کہ حسد تقدیر ( کے لکھے پر ) سبقت لے جائے اور غربت ( انسان کو ) کفر کے قریب کر دیتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان کلابی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13045

Majma al-Zawaid #13045

وَعَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَتَحَاسَدُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḍamra ibn Thaʿlaba, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that people will remain well so long as they do not envy one another. > **"People will remain well so long as they do not envy one another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگ مسلسل بھلائی پر گامزن رہیں گے جب تک وہ ایک دوسرے سے حسد نہیں کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13046

Majma al-Zawaid #13046

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثٌ لَازِمَاتُ أُمَّتِي: الطِّيَرَةُ، وَالْحَسَدُ، وَسُوءُ الظَّنِّ "". فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يُذْهِبُهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّنْ هُنَّ فِيهِ؟ قَالَ: "" إِذَا حَسَدْتَ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ، وَإِذَا ظَنَنْتَ فَلَا تَتَحَقَّقُ، وَإِذَا تَطَيَّرْتَ فَامْضِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥāritha ibn al-Nuʿmān, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that three things cleave to his nation: taking omens, envy, and evil suspicion. A man asked what removes them from one in whom they occur, O Messenger of Allah, and he said that when one envies he should seek Allah's forgiveness, that when one suspects he should not pursue verification, and that when one takes omens he should proceed. > **"When you envy, seek Allah's forgiveness; when you suspect, do not pursue verification; and when you take omens, proceed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں میری امت کو لاحق ہوں گی ، فال نکالنا ، حسد کرنا اور بدگمانی کرنا ۔ ایک شخص نے عرض کی : ان کو کون سی چیز ختم کر سکتی ہے ؟ یا رسول اللہ ! ان لوگوں سے جن میں یہ چیزیں پائی جاتی ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم حسد کرو ، تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور جب تم بدگمانی کرو ، تو اس کی تحقیق نہ کرو اور جب تم فال نکالو تو ( بدشگونی کی صورت میں بھی ) اسے کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13047

Majma al-Zawaid #13047

وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: اشْتَرَيْنَا مِنَ ابْنِ عُمَرَ بَيْتًا، فَجَلَسَ عَلَى الْبَابِ، فَكَثُرَ الْغُبَارُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا لَا نَأْخُذُ إِلَّا حَقًّا وَلَا نَخُونُكَ. قَالَ: "" إِنِّي أَخَافُ الظَّنَّ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥāzim said that they bought a house from Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, and he sat at the door while dust grew thick. They said to him that they would take only their right and would not betray him, and he replied that he feared suspicion. > **"I fear suspicion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحازم بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک گھر خریدا وہ دروازے پر بیٹھ گئے غبار زیادہ ہو گیا ، تو ہم نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ہم صرف حق حاصل کریں گے اور آپ کے ساتھ خیانت نہیں کریں گے ، تو انہوں نے فرمایا : مجھے بدگمانی کا اندیشہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13048

Majma al-Zawaid #13048

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَطْلُعُ الْآنَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَطَلَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَنْطُفُ لِحْيَتُهُ مِنْ وُضُوئِهِ، وَقَدْ تَعَلَّقَ نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ الشِّمَالِ. فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِثْلَ ذَلِكَ، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِثْلَ الْمَرَّةِ الْأُولَى. فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِثْلَ مَقَالَتِهِ أَيْضًا، فَطَلَعَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى مِثْلِ حَالِهِ الْأُولَى. فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ: إِنِّي لَاحَيْتُ أَبِي، فَأَقْسَمْتُ أَنْ لَا أَدْخُلَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُؤْوِيَنِي إِلَيْكَ حَتَّى تَمْضِيَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَاتَ مَعَهُ تِلْكَ الثَّلَاثَ اللَّيَالِيَ، فَلَمْ يَرَهُ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّهُ إِذَا تَعَارَّ تَقَلَّبَ عَلَى فِرَاشِهِ، ذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَبَّرَ حَتَّى يَقُومَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: غَيْرَ أَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ إِلَّا خَيْرًا. فَلَمَّا مَضَتِ الثَّلَاثُ اللَّيَالِي، وَكِدْتُ أَنْ أَحْتَقِرَ عَمَلَهُ قُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي غَضَبٌ وَلَا هِجْرَةٌ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: "" يَطْلُعُ عَلَيْكُمُ الْآنَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَطَلَعْتَ أَنْتَ الثَّلَاثَ الْمَرَّاتِ، فَأَرَدْتُ أَنْ آوِيَ إِلَيْكَ، فَأَنْظُرَ مَا عَمَلُكَ فَأَقْتَدِي بِكَ، فَلَمْ أَرَكَ عَمِلْتَ كَثِيرَ عَمَلٍ، فَمَا الَّذِي بَلَّغَ بِكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ. قَالَ: فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ: مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ، غَيْرَ أَنِّي لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِشًّا، وَلَا أَحْسُدُ أَحَدًا عَلَى خَيْرٍ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذِهِ الَّتِي بَلَّغَتْ بِكَ، وَهِيَ الَّتِي لَا نُطِيقُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَطَلَعَ سَعْدٌ، بَدَلَ قَوْلِهِ: فَطَلَعَ رَجُلٌ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ سَعْدٌ: مَا هُوَ إِلَّا مَا رَأَيْتَ يَا ابْنَ أَخِي، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَبِتْ ضَاغِنًا عَلَى مُسْلِمٍ»، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ، إِلَّا أَنَّ سِيَاقَ الْحَدِيثِ لِابْنِ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, said that they were sitting with the Messenger of Allah ﷺ when he said that a man of Paradise would now appear before them. Then a man of the Anṣār appeared, his beard dripping from his ablution, holding his sandals in his left hand. On the next day the Prophet ﷺ said the like, and the same man appeared as on the first occasion. On the third day the Prophet ﷺ said the like again, and the same man appeared in his first state. When the Prophet ﷺ rose, ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, followed the man and said that he had quarrelled with his father and sworn not to enter upon him for three nights, asking him to shelter him until they passed. The man agreed. Anas said that ʿAbd Allāh reported that he spent those three nights with him but never saw him rise for night prayer, except that when he stirred and turned upon his bed he remembered Allah, mighty and exalted, and uttered the takbīr until he rose for the dawn prayer. ʿAbd Allāh said that he never heard him say anything but good. When the three nights had passed and he had almost deemed his deeds insignificant, he said to him that there had been no anger or estrangement between him and his father, but that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say three times that a man of Paradise would appear before them, and he had appeared all three times, so he had wished to stay with him and observe his deeds in order to follow him, yet he had not seen him perform many deeds, and he asked what had raised him to what the Messenger of Allah ﷺ had announced. He replied that it was nothing but what he had seen. When ʿAbd Allāh turned away, the man called him back and said that it was nothing but what he had seen, except that he found no deceit in himself toward any Muslim, nor did he envy anyone for any good Allah had granted him. ʿAbd Allāh said to him that this was what had raised him, and that it was what they could not bear. > **"A man of Paradise will now appear before you. I harbour no deceit in myself toward any Muslim, nor do I envy anyone for any good Allah has granted him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا ، راوی کہتے ہیں : تو ایک انصاری شخص سامنے آیا جس کی داڑھی سے وضو کرنے کی وجہ سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور اس نے اپنے دونوں جوتے بائیں ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھے ، اگلے دن نبی اکرم ﷺ نے اس کی مانند کلمات ارشاد فرمائے ، تو وہی شخص پہلے کی مانند آیا تیسرا دن ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے اسی کے مطابق بات ارشاد فرمائی ، تو وہی شخص پہلے والی حالت میں سامنے آیا ، جب نبی اکرم ﷺ ( اپنی نشست سے ) اٹھ گئے ، تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اس شخص کے پیچھے گئے اور انہوں نے فرمایا : میرا اپنے والد کے ساتھ جھگڑا ہو گیا ہے ، اور میں نے یہ قسم اٹھائی ہے کہ میں تین دن تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا ، اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ تم مجھے اپنے ہاں پناہ دے سکتے ہو ، تو تم ایسا کر لو ، اس شخص نے کہا : ٹھیک ہے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ وہ اس شخص کے ساتھ تین دن رہے ، اور انہوں نے اس شخص کو رات کو نفل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ یہ ہے کہ جب اس کی آنکھ کھلتی تھی اور وہ اپنے بستر پر پہلو بدلتا تھا تو وہ اللہ کا ذکر کر لیتا تھا اور تکبیر کہہ لیتا تھا اور پھر وہ فجر کی نماز کے لئے ہی بیدار ہوتا تھا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تاہم میں نے اسے ہمیشہ بھلائی کی بات کہتے ہوئے ہی سنا ، جب تین دن گزر گئے تو قریب تھا کہ میں اس شخص کے عمل کو حقیر سمجھتا ، میں نے کہا : اے اللہ کے بندے میرے اور میرے والد کے درمیان کوئی ناراضگی اور لاتعلقی نہیں ہے ، اصل بات یہ ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو تین مرتبہ ہم سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ابھی تمہارے سامنے ایک جنتی شخص آئے گا ، تو تینوں مرتبہ تم ہی سامنے آئے ، تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تمہارے ہاں آتا ہوں اور تمہارے عمل کا جائزہ لیتا ہوں اور تمہاری پیروی کروں گا ، تو میں نے تمہیں دیکھا کہ تم زیادہ عمل تو نہیں کرتے ہو ، تو تم کیسے اس مقام تک پہنچے ؟ جو اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا ہے : تو اس نے کہا : یہی چیز ہے جو تم نے دیکھ لی ہے ، راوی کہتے ہیں : جب میں وہاں سے واپس مڑا تو اس نے مجھے بلایا اور بولا : اور کچھ نہیں ہے صرف وہی ہے ، جو تم نے دیکھا ہے ، تاہم یہ ہے کہ میں نے اپنے من میں کسی بھی مسلمان کے لئے کوئی کھوٹ نہیں پایا اور میں کسی بھلائی کے حوالے سے کسی شخص سے حسد نہیں کرتا جو بھلائی اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہوئی ہو ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہی وہ چیز ہے ، جس نے تمہیں اس مقام تک پہنچا دیا ہے ، اور یہ وہ چیز ہے ، جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ایک شخص کی جگہ یہ کہا ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور آخر میں یہ کہا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ کہا کہ صرف وہی چیز ہے ، جو تم نے دیکھی ہے ، اے میرے بھتیجے البتہ میں نے کبھی ایسی حالت میں رات بسر نہیں کی کہ میں نے کسی مسلمان کے خلاف غصہ رکھا ہو یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ انہوں نے کہا تھا ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کی حالت اسی طرح ہے ، تاہم اس حدیث کا سیاق ابن لہیعہ کا نقل کردہ ہے ۔

13049

Majma al-Zawaid #13049

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَدَخَلَ سَعْدٌ، قَالَ ذَلِكَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَدْخُلُ سَعْدٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ الرَّقَاشِيُّ، قَالَ الْعَقِيلِيُّ: لَا يُتَابَعُ حَدِيثُهُ، قُلْتُ: لَا أَدْرِي أَيُّ حَدِيثٍ عَنَى هَذَا أَوْ غَيْرَهُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ said that a man of Paradise would enter upon them, whereupon Saʿd entered. He said this on three days, and each time Saʿd entered. > **"A man of Paradise will enter upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ تمہارے سامنے ایک جنتی شخص آئے گا ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ آئے ، تین دن تک نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی اور ہر مرتبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہی آئے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قیس رقاشی ہے عقیلی بیان کرتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کون سی حدیث مراد لی ہے ؟ صرف یہی حدیث ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور حدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔