Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 12

Book of Good Manners

Hadith 13050–13089

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13050

Majma al-Zawaid #13050

عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُلْهُ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رُبَّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رُوحٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ، وَرِوَايَتُهُ عَنْ عَقِيلٍ وِجَادَةٌ. وَبَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الزُّهْدِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that most of the people of Paradise are the simple-hearted, and the Messenger of Allah ﷺ also said that many a weak and despised man, if he were to swear by Allah, Allah would fulfil his oath. > **"Most of the people of Paradise are the simple-hearted. Many a weak and despised man, if he were to swear by Allah, Allah would fulfil his oath."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل جنت کی اکثریت سادہ لوح لوگوں کی ہو گی ( یعنی جو برائی سے غافل ہوتے ہوں اور جن کی فطرت میں بھلائی ہو ) ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا :’’ کئی عام سے ، کمزور نظر آنے والے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ وہ ( قسم ) پوری کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ احمد بن صالح اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، عقیل سے ان کی نقل کردہ روایت ” وجادہ “ کے طور پر ہے ۔ اس نوعیت کی بقیہ احادیث کتاب الزہد میں آئیں گی ۔

13051

Majma al-Zawaid #13051

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا أَبَا أَيُّوبَ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ يُحِبُّهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟ تُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَبَاغَضُوا وَتَفَاسَدُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said to him that he should guide him to a charity loved by Allah and His Messenger, namely to reconcile between people when they hate one another and their relations are corrupt. > **"O Abū Ayyūb, shall I not guide you to a charity loved by Allah and His Messenger. Reconcile between people when they hate one another and their relations are corrupt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوایوب ! کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے صدقہ کی طرف نہ کروں جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ، آدمی لوگوں کے درمیان اس وقت صلح کروائے جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھتے ہوں اور ایک دوسرے سے خراب تعلق رکھتے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

13052

Majma al-Zawaid #13052

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي أَيُّوبَ: "" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى تِجَارَةٍ؟ "". قَالَ: بَلَى. قَالَ: "" صِلْ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَفَاسَدُوا، وَقَرِّبْ بَيْنَهُمْ إِذَا تَبَاعَدُوا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said to Abū Ayyūb, may Allah be pleased with him, asking whether he should guide him to a trade. He replied that he should, and he said to him to join people together when their relations are corrupt, and to bring them near when they have grown distant. > **"Shall I not guide you to a trade. Join people together when their relations are corrupt, and bring them near when they have grown distant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ کیا میں تمہاری رہنمائی تجارت کی طرف نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لوگوں کے درمیان تعلق قائم کرواؤ ، جب وہ ایک دوسرے کے خلاف ہو چکے ہوں اور ان کے درمیان قربت پیدا کرو ، جب وہ ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ عمری ہے اور وہ متروک ہے ۔

13053

Majma al-Zawaid #13053

«وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي أَيُّوبَ بْنِ زَيْدٍ: "" يَا أَبَا أَيُّوبَ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى عَمَلٍ يَرْضَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟ "". قَالَ: بَلَى. قَالَ: "" تُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ إِذَا تَفَاسَدُوا، وَتُقَرِّبُ بَيْنَهُمْ إِذَا تَبَاعَدُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāma, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said to Abū Ayyūb ibn Zayd, may Allah be pleased with him, asking whether he should guide him to a deed pleasing to Allah and His Messenger. He replied that he should, and he said to him to reconcile between people when their relations are corrupt, and to bring them near when they have grown distant. > **"O Abū Ayyūb, shall I not guide you to a deed pleasing to Allah and His Messenger. Reconcile between people when their relations are corrupt, and bring them near when they have grown distant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوایوب بن زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ اے ابوایوب ! کیا تمہاری رہنمائی ایسے عمل کی طرف نہ کروں جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی ہوتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ جب وہ آپس میں ناچاقی کا شکار ہوں اور تم ان کے درمیان قربت پیدا کرو ، جب وہ ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا شاگرد عبداللہ بن حفص ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13054

Majma al-Zawaid #13054

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا عَدَاوَةٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَ ذَلِكَ، وَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ، فَبَيْنَا هُمْ قُعُودٌ فِي مَجْلِسٍ لَهُمْ، إِذْ تَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَوْسِ بِبَيْتٍ فِيهِ هِجَاءُ الْخَزْرَجِ، وَتَمَثَّلَ رَجُلٌ مِنَ الْخَزْرَجِ بِبَيْتٍ فِيهِ هِجَاءُ الْأَوْسِ، فَلَمْ يَزَلْ هَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ، وَهَذَا يَتَمَثَّلُ بِبَيْتٍ، حَتَّى وَثَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، وَأَخَذُوا أَسْلِحَتَهُمْ وَانْطَلَقُوا لِلْقِتَالِ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ الْحَيَّ، فَجَاءَ مُسْرِعًا قَدْ حَسَرَ عَنْ سَاقَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُمْ نَادَاهُمْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَاتِ، فَوَحَشُوا بِأَسْلِحَتِهِمْ فَرَمُوا بِهَا، وَاعْتَنَقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا يَبْكُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, said that Aws and Khazraj were two tribes of the Anṣār between whom there had been enmity in the pre-Islamic age, but that when the Messenger of Allah ﷺ came to them it vanished and Allah united their hearts. While they were sitting in one of their gatherings, a man of Aws recited a verse containing lampoon of Khazraj, and a man of Khazraj recited a verse containing lampoon of Aws. Each kept reciting verses in turn until some of them rose against others, seized their weapons, and set out to fight. When this reached the Messenger of Allah ﷺ, he came hurrying with his shanks uncovered. When he saw them he called to them and recited that O you who believe, fear Allah as He should be feared and do not die except as Muslims, continuing through the verses. Thereupon they lowered their weapons, cast them down, embraced one another, and wept. > **"O you who believe, fear Allah as He should be feared, and do not die except as Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے اوس اور خزرج قبیلوں کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی تھی جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، تو ان کی یہ دشمنی ختم ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں کے درمیان الفت پیدا کر دی ایک مرتبہ وہ لوگ ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران اوس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے شعر سنایا جس میں خزرج قبیلے کی ہجو بیان کی گئی تھی ، پھر خزرج قبیلے کے ایک شخص نے ایک شعر سنایا جس میں اوس قبیلے کی ہجو بیان کی گئی تھی تو وہ لوگ مسلسل اس طرح کے اشعار سنانے لگے ، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لئے تیار ہو گئے ، انہوں نے ہتھیار اٹھا لئے اور لڑائی کے لئے چل پڑے ، جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ پر وحی نازل ہوئی ، آپ تیزی سے چلتے ہوئے آئے ، آپ نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا ، جب آپ نے ان لوگوں کو ملاحظہ کیا تو انہیں پکار کر یہ آیت پڑھی : ’’ اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے یوں ڈرو جو اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور جب تم مرو تو تم مسلمان ہی ہونا ۔‘‘ یہاں تک کہ آپ یہ آیات تلاوت کر کے فارغ ہوئے تو ان لوگوں نے اپنا اسلحہ پکڑ کے ایک طرف کر دیا اور ایک دوسرے کو گلے لگا کر رونے لگے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غسان بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13055

Majma al-Zawaid #13055

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, said that the Messenger of Allah ﷺ said that the best charity is the reconciling of relations. > **"The best charity is the reconciling of relations."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ آپس میں صلح کروانا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13056

Majma al-Zawaid #13056

«وَعَنْ أَبِي كَاهِلٍ قَالَ: وَقَعَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَلَامٌ حَتَّى تَصَارَمَا، فَلَقِيتُ أَحَدَهُمَا فَقُلْتُ: مَا لَكَ وَلِفُلَانٍ؟ قَدْ سَمِعْتُهُ يُحْسِنُ عَلَيْكَ الثَّنَاءَ، وَيُكْثِرُ لَكَ مِنَ الدُّعَاءِ. وَلَقِيتُ الْآخَرَ فَقُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِكَ، فَمَا زِلْتُ أَمْشِي بَيْنَهُمَا حَتَّى اصْطَلَحَا. فَقُلْتُ: مَا فَعَلْتُ؟ أَهْلَكْتُ نَفْسِي، وَأَصْلَحْتُ بَيْنَهُمَا. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِالْأَمْرِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا سَمِعْتُ مِنْ ذَا شَيْئًا وَلَا مِنْ ذَا شَيْئًا. فَقَالَ: "" يَا أَبَا كَاهِلٍ، أَصْلِحْ بَيْنَ النَّاسِ وَلَوْ بِكَذَا وَكَذَا - كَلِمَةٌ لَمْ أَفْهَمْهَا - فَقُلْتُ: مَا عَنَى بِهَا؟ قَالَ: عَنَى الْكَذِبَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Kāhil, may Allah be pleased with him, said that harsh words passed between two men among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ until they severed relations. He met one of them and asked what was the matter with him and the other, saying that he had heard him praise him highly and supplicate for him often. He met the other and said the like to him. He kept walking between them until they were reconciled. Then he thought about what he had done, fearing that he had ruined himself while reconciling them. He came to the Prophet ﷺ and informed him of the matter, saying that by the One who sent him with the truth, he had heard nothing from either of them. He said to him that he should reconcile between people even with such-and-such words he did not fully grasp, and when he asked what was meant by it, he was told that lying was meant. > **"O Abū Kāhil, reconcile between people even with such words."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوکاہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے دو افراد کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور وہ ایک دوسرے سے ناراض ہو گئے ، میری ان دو میں سے ایک سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا : کیا وجہ ہے تم فلاں سے کیوں ناراض ہو جبکہ میں نے تو اسے تمہاری تعریف کرتے ہوئے سنا ہے ، اور وہ تمہارے لئے بکثرت دعا کر رہا تھا ، پھر میری دوسرے شخص سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے بھی اس کی مانند بات کہی ، میں مسلسل ان دونوں کے درمیان آتا جاتا رہا ، یہاں تک کہ ان دونوں کے درمیان صلح ہو گئی ، پھر میں نے سوچا کہ یہ میں نے کیا کیا ہے ؟ میں نے اپنے آپ کو ہلاکت کا شکار کر لیا ہے ، اور ان دونوں کے درمیان صلح کروا دی ہے ، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، نہ میں نے اس سے کچھ سنا ہے اور نہ میں نے دوسرے سے کچھ سنا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوکاہل ! لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ ، خواہ اس اس کے عوض میں اسی طرح کرواؤ ، راوی کہتے ہیں : اس کی مانند کوئی کلمہ تھا ، جسے میں سمجھ سکا ، میں نے دریافت کیا : اس کے ذریعے آپ کی مراد کیا تھی ، تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد غلط بیانی کرنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13057

Majma al-Zawaid #13057

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ قَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَّى خَيْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ جُرْجَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَقَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّاوِي عَنْهُ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Shaddād ibn Aws, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that one who speaks good or spreads good is not a liar. > **"One who speaks good or spreads good is not a liar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو بھلائی کی بات کہتا ہے یا بھلائی کو بڑھاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن جرجہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، جس نے اس سے روایت نقل کی ہے اسے بھی یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13058

Majma al-Zawaid #13058

وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ، قَالَ: «الْكَذِبُ مَكْتُوبٌ، إِلَّا مَا نَفَعَ بِهِ مُسْلِمٌ أَوْ دَفَعَ بِهِ عَنْهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رِشْدِينُ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ.

EnglishUnverified translation

Thawbān, the freedman of the Messenger of Allah ﷺ, may Allah be pleased with him, reportedly raised the report that lying is recorded against one, except for what benefits a Muslim thereby or wards off harm from him thereby. > **"Lying is recorded, except for what benefits a Muslim thereby or wards off harm from him thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں ، ان کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ انہوں نے اس کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ جھوٹ لکھا جاتا ہے البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جس کے ذریعے کسی مسلمان کو نفع پہنچایا جائے یا اس کے ذریعے کوئی ناگوار ( چیز ) کو پرے کیا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں رشدین اور دیگر ضعیف راوی ہیں ۔

13059

Majma al-Zawaid #13059

وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ الْكَذِبِ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثًا: الرَّجُلُ يَكْذِبُ فِي الْحَرْبِ ; فَإِنَّ الْحَرْبَ خُدْعَةٌ، وَالرَّجُلُ يَكْذِبُ الْمَرْأَةَ فَيُرْضِيهَا، وَالرَّجُلُ يَكْذِبُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُصْلِحُ بَيْنَهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي بَابِ الصُّلْحِ فِي الْأَحْكَامِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nawwās ibn Samʿān, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah ﷺ said that every lie is recorded against the son of Adam except for three: a man who lies in war, for war is deceit; a man who lies to his wife and thereby pleases her; and a man who lies between two men and thereby reconciles them. > **"Every lie is recorded against the son of Adam except for three: a man who lies in war, for war is deceit; a man who lies to his wife and thereby pleases her; and a man who lies between two men and thereby reconciles them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر جھوٹ انسان کے خلاف نوٹ کیا جاتا ہے البتہ تین قسموں کا معاملہ مختلف ہے ، آدمی جنگ کے دوران غلط بیانی کرے کیونکہ جنگ دھوکے کا نام ہے ، آدمی عورت ( یعنی بیوی ) کے ساتھ جھوٹ بولے اور اسے راضی کرے ، آدمی دو آدمیوں کے درمیان صلح کروانے کے لئے جھوٹ بولے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے احکام سے متعلق کتاب میں صلح کرنے سے متعلق باب میں احادیث گزر چکی ہیں ۔

13060

Majma al-Zawaid #13060

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلَيَانِ: حَبَشِيٌّ وَقِبْطِيٌّ، فَاسْتَبَّا يَوْمًا فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا حَبَشِيُّ، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا قِبْطِيُّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَقُولَا هَكَذَا، أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ had two freedmen, one Abyssinian and one Copt. One day they reviled one another, one saying O Abyssinian and the other saying O Copt, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said do not speak thus, for you are two men of the household of Muhammad ﷺ. > **"Do not speak thus; you are two men of the household of Muhammad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے دو غلام تھے ایک حبشی تھا اور ایک قبطی تھا ، ایک دن ان دونوں کے درمیان تکرار ہو گئی تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا : اے حبشی ، دوسرے نے کہا : اے قبطی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس طرح نہ کہو ! تم دونوں آل محمد سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند اسی طرح نقل کی ہے ۔

13061

Majma al-Zawaid #13061

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ فَلَمْ يَعْذُرْ، أَوْ لَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهُ، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ خَطِيئَةِ صَاحِبِ مَكْسٍ» "". قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَالْمِكَاسُ: الْعِشَارُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah رضي الله عنهما reports from the Messenger of Allah ﷺ that he said whoever offers an excuse to his brother and he does not excuse him, or does not accept his excuse, upon him shall be the like of the sin of the collector of unjust dues, and Abu al-Zubayr explained that al-maks means the tithe-taker. > **"Whoever offers an excuse to his brother and he does not excuse him, or does not accept his excuse, upon him shall be the like of the sin of the collector of unjust dues."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے بھائی کے سامنے عذر پیش کرے اور وہ اس کا عذر قبول نہ کرے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو اس شخص کو ٹیکس ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے کی مانند گناہ ہوتا ہے ۔‘‘ مکاس سے مراد عشار ہے ( یعنی عشر یعنی بھتہ وصول کرنے والا شخص ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اعین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13062

Majma al-Zawaid #13062

وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنِ تُنُصِّلَ إِلَيْهِ فَلَمْ يَقْبَلْ، لَمْ يَرِدْ عَلَى الْحَوْضِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ قُتَيْبَةَ الرِّفَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever is offered exoneration and does not accept it shall not come to me at the Basin. > **"Whoever is offered exoneration and does not accept it shall not come to me at the Basin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس کے سامنے بری ہونے کا اظہار کیا جائے ( یا معذرت پیش کی جائے ) اور وہ قبول نہ کرے ، تو وہ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن قتیبہ رفاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13063

Majma al-Zawaid #13063

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ، وَبَرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ مِنْ شَيْءٍ بَلَغَهُ عَنْهُ، فَلَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهُ، لَمْ يَرِدْ عَلَى الْحَوْضِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

A'isha رضي الله عنها reports from the Prophet ﷺ that he said be chaste and your women will be chaste, be dutiful to your fathers and your sons will be dutiful to you, and whoever offers an excuse to his Muslim brother concerning something reported about him, and he does not accept his excuse, he shall not come to the Basin. > **"Be chaste and your women will be chaste; be dutiful to your fathers and your sons will be dutiful to you; and whoever offers an excuse to his Muslim brother and it is not accepted, he shall not come to the Basin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ پاکدامن رہو تمہاری عورتیں پاکدامن رہیں گی ، تم لوگ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ نیکی کرو تمہارے بچے تمہارے ساتھ نیکی کریں گے ، جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے سامنے کسی ایسی چیز کے حوالے سے عذر پیش کرے جو اس کے بارے میں اس تک پہنچی ہو ، اور وہ دوسرا شخص اس کے عذر کو قبول نہ کرے ، تو وہ ( دوسرا شخص ) میرے حوض پر وارد نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن زید عمری ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

13064

Majma al-Zawaid #13064

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَعَافُّوا تَسْقُطُ الضَّغَائِنُ بَيْنَكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said pardon one another and the hatreds between you shall fall away. > **"Pardon one another; the hatreds between you shall fall away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک دوسرے کو معاف کر دو تمہارے درمیان ناراضگیاں ختم ہو جائیں گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13065

Majma al-Zawaid #13065

عَنْ شَيْبَةَ الْحَجَبِيِّ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثٌ يُصَفِّينَ لَكَ وُدَّ أَخِيكَ: تُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيتَهُ، وَتُوَسِّعُ لَهُ فِي الْمَجْلِسِ، وَتَدْعُوهُ بِأَحَبِّ أَسْمَائِهِ إِلَيْهِ» "".

EnglishUnverified translation

Shayba al-Hajabi reports from his uncle that the Messenger of Allah ﷺ said three things purify for you the love of your brother: that you greet him when you meet him, that you make room for him in the gathering, and that you call him by the names most beloved to him. > **"Three things purify for you the love of your brother: that you greet him when you meet him, that you make room for him in the gathering, and that you call him by the names most beloved to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شیبہ حجبی اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں ، تمہارے لئے تمہارے بھائی کی محبت کو نکھار دیں گی ، جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو محفل میں اس کے لئے گنجائش پیدا کرو اور اسے اس نام سے پکارو جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو ۔‘‘

13066

Majma al-Zawaid #13066

وَفِي رِوَايَةٍ: "" وَتَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording of the preceding report there is the addition: and that you visit him when he is ill. > **"And that you visit him when he is ill."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب وہ بیمار ہو تو تم اس کی عیادت کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالملک بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13067

Majma al-Zawaid #13067

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ: "" «يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ تَوَاضَعَ لِي هَكَذَا - وَجَعَلَ يَزِيدُ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى الْأَرْضِ وَأَدْنَاهَا إِلَى الْأَرْضِ - رَفَعْتُهُ هَكَذَا - وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، وَرَفَعَهُمَا نَحْوَ السَّمَاءِ» - "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَلَفْظُهُ: «قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَيُّهَا النَّاسُ تَوَاضَعُوا; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ وَقَالَ: انْتَعِشْ نَعَشَكَ اللَّهُ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمٌ وَفِي نَفْسِهِ صَغِيرٌ، وَمَنْ تَكَبَّرَ قَصَمَهُ اللَّهُ وَقَالَ: اخْسَأْ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ وَفِي نَفْسِهِ كَبِيرٌ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ سَعِيدُ بْنُ سَلَامٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه, marfu in wording, reports that Allah the Blessed and Exalted says whoever humbles himself to Me like this, lowering the palm of his hand toward the earth, I shall raise him like this, raising the palms toward the heaven. In the wording of his address upon the pulpit he said O people be humble, for I heard the Messenger of Allah ﷺ say whoever humbles himself for Allah, Allah raises him and says rise, may Allah raise you, so he is great in the eyes of men though small in himself, and whoever is proud, Allah breaks him and says be debased, so he is small in the eyes of men though great in himself. > **"Whoever humbles himself for Allah, Allah raises him and says: Rise, may Allah raise you; and whoever is proud, Allah breaks him and says: Be debased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے اور شاید یہ مرفوع حدیث ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جو شخص میرے لئے اس طرح تواضع اختیار کرتا ہے ، یہاں یزید نامی راوی نے اپنی ہتھیلی زمین کی طرف کی اور اسے زمین کے قریب کر دیا ( اور پھر یہ الفاظ نقل کے : ) میں اسے اس طرح بلند کرتا ہوں ، پھر انہوں نے اپنی ہتھیلی آسمان کی طرف کی اور دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر دیے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ان کے الفاظ یہ ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات بیان کی : ’’ اے لوگو ! تواضع اختیار کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے سربلندی عطا کرتا ہے اور وہ فرماتا ہے : تم قائم ( یا سیدھے ) ہو جاؤ ! اللہ تعالیٰ تمہیں قائم ( یا سیدھا ) رکھے ، تو ایسا شخص لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوتا ہے ، اور اپنے من میں چھوٹا ہے ، اور جو شخص تکبر اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دیتا ہے اور فرماتا ہے : تم رسوا ہو جاؤ ، تو وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہوتا ہے ، اور خود کو بڑا سمجھ رہا ہوتا ہے ۔‘‘ امام احمد کے رجال اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی سعید بن سلام عطار ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13068

Majma al-Zawaid #13068

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ تَوَاضَعَ لِي هَكَذَا - وَأَشَارَ بِبَاطِنِ كَفِّهِ إِلَى الْأَرْضِ - رَفَعْتُهُ هَكَذَا - وَأَشَارَ بِبَاطِنِ كَفِّهِ إِلَى السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports, raised to the Prophet ﷺ, that he said whoever humbles himself to Me like this, gesturing with the palm toward the earth, I shall raise him like this, gesturing with the palm toward the heaven. > **"Whoever humbles himself to Me like this, I shall raise him like this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص میرے لئے اس طرح تواضع اختیار کرتا ہے ، راوی نے اپنی ہتھیلی زمین کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی ، میں اسے اس طرح بلند کر دیتا ہوں ، راوی نے اپنی تھیلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن مثنیٰ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13069

Majma al-Zawaid #13069

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا فِي رَأْسِهِ حِكْمَةٌ بِيَدِ مَلَكٍ، فَإِذَا تَوَاضَعَ قِيلَ لِلْمَلَكِ: ارْفَعْ حِكْمَتَهُ، وَإِذَا تَكَبَّرَ قِيلَ لِلْمَلَكِ: ضَعْ حِكْمَتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports from the Messenger of Allah ﷺ that he said there is no human being except that in his head is a bridle in the hand of an angel; when he is humble it is said to the angel raise his bridle, and when he is proud it is said to the angel lower his bridle. > **"There is no human being except that in his head is a bridle in the hand of an angel; when he is humble it is said to the angel: Raise his bridle, and when he is proud it is said to the angel: Lower his bridle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر انسان کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے ، جو فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے ، جب وہ تواضع اختیار کرتا ہے ، تو فرشتے سے کہا جاتا ہے : اس کی لگام کو بلند کرو اور جب وہ تکبر کرتا ہے ، تو فرشتے سے کہا جاتا ہے : اس کی لگام کو پست کر دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

13070

Majma al-Zawaid #13070

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاضُعِ، فَإِنَّ التَّوَاضُعَ فِي الْقَلْبِ، وَلَا يُؤْذِيَّنَ مُسْلِمٌ مُسْلِمًا، فَلَرُبَّ مُتَلَفِّعٍ فِي أَطْمَارٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَصْلُوبُ وَهُوَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said hold fast to humility, for humility is in the heart, and no Muslim shall harm another Muslim; many a man wrapped in worn garments, if he were to swear by Allah, Allah would fulfil it for him. > **"Hold fast to humility, for humility is in the heart, and no Muslim shall harm another Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم پر تواضع اختیار کر نالازم ہے کیونکہ تواضع دل میں ہوتی ہے ، کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اذیت نہ پہنچائے کیونکہ بعض اوقات عام سے کپڑے پہنے ہوئے کوئی شخص ( اس کا یہ عالم ہوتا ہے ) کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید مصلوب ہے اور وہ حدیث ایجاد کرتا ہے ۔

13071

Majma al-Zawaid #13071

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ تَوَاضَعَ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ رَفَعَهُ اللَّهُ، وَمَنِ ارْتَفَعَ عَلَيْهِ وَضَعَهُ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَظِيمِ بْنُ حَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever humbles himself for his Muslim brother, Allah raises him, and whoever exalts himself over him, Allah abases him. > **"Whoever humbles himself for his Muslim brother, Allah raises him, and whoever exalts himself over him, Allah abases him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے ، اور جو شخص مسلمان کے خلاف خود کو بلند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پست کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعظیم بن حبیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13072

Majma al-Zawaid #13072

وَعَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنِ امْرِئٍ إِلَّا وَفِي رَأْسِهِ حِكْمَةٌ، وَالْحِكْمَةُ بِيَدِ مَلَكٍ، فَإِنْ تَوَاضَعَ قِيلَ لِلْمَلَكِ: ارْفَعِ الْحِكْمَةَ. وَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ قِيلَ لِلْمَلَكِ: ضَعِ الْحِكْمَةَ، أَوْ حِكْمَتَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that he said there is no man except that in his head is a bridle, and the bridle is in the hand of an angel; if he is humble it is said to the angel raise the bridle, and if he seeks to exalt himself it is said to the angel lower the bridle. > **"There is no man except that in his head is a bridle in the hand of an angel; if he is humble it is said to the angel: Raise the bridle, and if he seeks to exalt himself it is said to the angel: Lower the bridle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی شخص ہو اس کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے اور وہ لگام فرشتے کے ہاتھ میں ہوتی ہے ، اگر وہ تواضع کرتا ہے ، تو فرشتے سے کہا جاتا ہے : تم لگام کو بلند کر دو اور جب وہ شخص خود کو بلند کرنا چاہتا ہے ( یعنی تکبر کے طور پر ایسا کرتا ہے ) تو فرشتے سے کہا جاتا ہے تم لگام کو پست کر دو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم اس کی لگام کو پست کر دو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

13073

Majma al-Zawaid #13073

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا وَفِي رَأْسِهِ سِلْسِلَتَانِ. سِلْسِلَةٌ إِلَى السَّمَاءِ وَسِلْسِلَةٌ إِلَى الْأَرْضِ، فَإِنْ تَوَاضَعَ رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالسِّلْسِلَةِ الَّتِي فِي السَّمَاءِ، وَإِذَا تَجَبَّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ بِالسِّلْسِلَةِ الَّتِي فِي الْأَرْضِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said there is no human being except that in his head are two chains, a chain toward the heaven and a chain toward the earth; if he is humble Allah the Mighty and Majestic raises him by the chain in the heaven, and if he is tyrannical Allah lowers him by the chain in the earth. > **"There is no human being except that in his head are two chains, a chain toward the heaven and a chain toward the earth; if he is humble Allah raises him by the heavenly chain, and if he is tyrannical Allah lowers him by the earthly chain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر انسان کے سر میں دو زنجیریں ہوتی ہیں ایک زنجیر آسمان کی طرف جا رہی ہوتی ہے ، اور ایک زنجیر زمین کی طرف جا رہی ہوتی ہے ، جب وہ تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اس زنجیر کو بلند کر دیتا ہے ، جو اس کے سر میں ہوتی ہے ، اور جب وہ شخص تکبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اُس زنجیر کو پست کر دیتا ، جو زمین ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13074

Majma al-Zawaid #13074

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَشَيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْتَبِرُهُ، هَلْ يَكْرَهُ ذَلِكَ، فَالْتَمَسَنِي بِيَدِهِ فَأَلْحَقَنِي ثُمَّ تَخَلَّفْتُ أَخْتَبِرُهُ، هَلْ يَكْرَهُ ذَلِكَ، فَالْتَمَسَنِي بِيَدِهِ فَأَلْحَقَنِي، ثُمَّ تَخَلَّفْتُ أَخْتَبِرُهُ، فَالْتَمَسَنِي فَأَلْحَقَنِي»، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that he walked behind the Prophet ﷺ testing whether he disliked it, so the Prophet ﷺ reached back with his hand and drew him alongside, then he fell behind again testing whether he disliked it, and he again drew him alongside, then he fell behind a third time and he again drew him alongside, so he knew that he disliked walking behind him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے چلتا ہوا جا رہا تھا ، میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا آپ اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے ساتھ ملا لیا ، پھر میں آپ کے پیچھے چلتا ہوا جا رہا تھا ، میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا آپ اس کو ناپسند کرتے ہیں ، آپ نے اپنے دست مبارک سے مجھے پکڑا اور مجھے اپنے ساتھ ملا لیا پھر میں آپ کے پیچھے جا رہا تھا اور میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا ( آپ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں ) تو آپ نے مجھے پکڑ کر اپنے ساتھ ملا لیا تو مجھے پتہ چل گیا کہ آپ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہاشمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13075

Majma al-Zawaid #13075

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَعِرْضُهُ وَمَالُهُ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَلْبِ - وَحَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ» "". قُلْتُ: عَزَاهُ إِلَى التِّرْمِذِيِّ بِاخْتِصَارٍ وَلَمْ أَجِدُهُ فِي نُسْخَتِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Wathila ibn al-Asqa رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say the Muslim is inviolable to the Muslim in his blood, his honour, and his wealth; the Muslim is the brother of the Muslim, he does not wrong him nor forsake him; piety is here, gesturing with his hand to his heart; and sufficient evil it is for a man to despise his Muslim brother. > **"The Muslim is inviolable to the Muslim in his blood, his honour, and his wealth; the Muslim is the brother of the Muslim, he does not wrong him nor forsake him; piety is here; and sufficient evil it is for a man to despise his Muslim brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مسلمان کی جان عزت اور مال دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہوتے ہیں ، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اسے رسوا نہیں کرتا ، تقویٰ یہاں ہوتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ( اور مزید فرمایا : ) آدمی کے برا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے اس روایت کی نسبت امام ترمذی کی طرف کی ہے ، جو اختصار کے ساتھ منقول ہے ، تاہم میں نے اپنے پاس موجود ( جامع ترمذی کے نسخے میں ) وہ روایت نہیں پائی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

13076

Majma al-Zawaid #13076

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِسِبَابٍ عَلَى أَحَدٍ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَؤْهُ. لَيْسَ لِأَحَدٍ فَضْلٌ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِالدِّينِ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ، حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ فَحَّاشًا بَذِيئًا بَخِيلًا جَبَانًا».

EnglishUnverified translation

Uqba ibn Amir رضي الله عنه reports from the Messenger of Allah ﷺ that he said these lineages of yours are no grounds for reviling anyone; you are all the children of Adam, like an unfilled measure; no one has merit over another except by religion or righteous deed; sufficient it is for a man to be foul-mouthed, obscene, miserly, and cowardly. > **"These lineages of yours are no grounds for reviling anyone; you are all the children of Adam; no one has merit over another except by religion or righteous deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تمہارے یہ نسب اس لائق نہیں ہیں کہ تم ان کی وجہ سے کسی کو برا کہو ، تم لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہو ، صاع میں ایسی کمی جس ک تم بھر نہیں سکتے ( یعنی ہر انسان میں کوئی کمی کوتاہی ہوتی ہے ) کسی شخص کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے ، البتہ دین یا نیک عمل کے حوالے سے فضیلت کا معاملہ مختلف ہے ، اور آدمی کے لئے ( برا ہونے کے لئے ) اتنا ہی کافی ہے کہ وہ فحش کلام کرنے والا ، بدزبان ، کنجوس یا بزدل ہو ۔‘‘

13077

Majma al-Zawaid #13077

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلَى أَحَدٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ لِينٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

In another wording of the preceding report: these lineages of yours are no cause for disparaging anyone. > **"These lineages of yours are no cause for disparaging anyone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تمہارے یہ نسب کسی کو برا کہنے کا سبب نہیں ( بن سکتے ) ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

13078

Majma al-Zawaid #13078

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ: "" انْظُرْ، فَإِنَّكَ لَسْتَ بِخَيْرٍ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ، إِلَّا أَنَّ تَفْضُلَهُ بِتَقْوَى» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said to him consider, for you are no better than a red man nor a black man, except that you excel him by piety. > **"You are no better than a red man nor a black man, except that you excel him by piety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ تم اس بات کا جائزہ لو ! کیونکہ تم کسی سرخ فام ( یعنی سفید فام ) یا سیاہ فام سے زیادہ بہتر نہیں ہو ، البتہ تم تقویٰ کے حوالے سے اس پر فضیلت رکھتے ہو گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ بکر بن عبداللہ مزنی نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

13079

Majma al-Zawaid #13079

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ، فَلَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ إِلَّا بِالتَّقْوَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ دِينَكُمْ وَاحِدٌ، أَبُوكُمْ آدَمُ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ» "". وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said your Lord is One and your father is one, so there is no merit for an Arab over a non-Arab, nor for a red man over a black man, except by piety. In the wording of al-Bazzar: your father is one and your religion is one, your father is Adam, and Adam was created from dust. > **"Your Lord is One and your father is one, so there is no merit for an Arab over a non-Arab, nor for a red man over a black man, except by piety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا پروردگار ایک ہے ، تمہارے جدامجد ایک ہیں ، کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت حاصل نہیں ہے اور کسی سرخ ( یعنی سفید فام ) کو کسی سیاہ فام پر برتری حاصل نہیں ہے ، البتہ تقویٰ کے حوالے سے ( برتری ہونے کا ) معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ تمہارے جدامجد ایک ہیں اور تمہارا دین ایک ہے ، تمہارے جدامجد حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ۔‘‘ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13080

Majma al-Zawaid #13080

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ خِرَاشٍ الْعَصْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْمُسْلِمُونَ أُخْوَةٌ، لَا فَضْلَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِالتَّقْوَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Habib ibn Khirash al-Asari رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say the Muslims are brothers; there is no merit of one over another except by piety. > **"The Muslims are brothers; there is no merit of one over another except by piety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حبیب بن خراش عصری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مسلمان بھائی بھائی ہیں ، کسی کو کسی دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں ہے ، البتہ تقویٰ ( کے حوالے سے فضیلت حاصل ہونے ) کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن عمرو بن جبلہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13081

Majma al-Zawaid #13081

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا أُعْجِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَيْءٍ، وَلَا أَعْجَبَهُ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيهَا ذُو تُقًى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A'isha رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ was not impressed by anything, nor did anything of the world please him, except that piety be in it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کو کوئی بھی چیز پسند نہیں تھی اور نہ ہی دنیا کی کوئی چیز آپ کو اچھی لگتی تھی البتہ اگر اس میں پرہیزگاری کا پہلو ہو تو حکم مختلف ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13082

Majma al-Zawaid #13082

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَجُلًا يَقُولُ: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: غَيْرُكَ أَوْلَى بِهِ مِنْكَ، وَلَكَ نَسَبُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Humayd ibn Abd al-Rahman ibn Awf reports that Abd al-Rahman ibn Awf رضي الله عنه heard a man say I am the closest of men to the Messenger of Allah ﷺ, so he said another besides you is closer to him than you, though kinship to him belongs to you. > **"Another besides you is closer to him than you, though kinship to him belongs to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نبی اکرم ﷺ کا زیادہ قریبی ہوں ، تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے علاوہ دوسرے ( لوگ ) نبی اکرم ﷺ سے تم سے زیادہ قریب ہیں ، البتہ تمہیں آپ ﷺ کے ساتھ نسبی تعلق کا شرف حاصل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13083

Majma al-Zawaid #13083

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَمَرَ اللَّهُ مُنَادِيًا يُنَادِي: أَلَا إِنِّي جَعَلْتُ نَسَبًا وَجَعَلْتُمْ نَسَبًا، فَجَعَلْتُ أَكْرَمَكُمْ أَتْقَاكُمْ، فَأَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَقُولُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ خَيْرٌ مِنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، فَالْيَوْمَ أَرْفَعُ نَسَبِي وَأَضَعُ نَسَبَكُمْ، أَيْنَ الْمُتَّقُونَ؟» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said when the Day of Resurrection comes Allah shall command a caller to proclaim: Behold, I made a lineage and you made a lineage; I made the noblest of you the most God-fearing, but you refused except to say So-and-so son of So-and-so is better than So-and-so son of So-and-so; today I raise My lineage and lower yours; where are the God-fearing? > **"I made the noblest of you the most God-fearing, but you refused except to say So-and-so is better than So-and-so; today I raise My lineage and lower yours; where are the God-fearing?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا ، جو یہ اعلان کرے گا ، خبردار ! ایک نسب میں نے بنایا تھا ، اور ایک نسب تم لوگوں نے بنایا ، میں نے تم میں سے سب سے زیادہ معزز اس شخص کو بنایا جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ، لیکن تم لوگوں نے یہ بات نہیں مانی اور یہ کہا کہ فلاں بن فلاں جو ہے ۔ وہ فلاں بن فلاں سے بہتر ہے ، آج میں اپنے نسب کو سربلندی عطا کروں گا اور تمہارے نسب کو پست کر دوں گا ، پرہیزگار لوگ کہاں ہیں ؟‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔

13084

Majma al-Zawaid #13084

وَعَنْ قَنْبَرَ حَاجِبٍ مُعَاوِيَةَ قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُغْلِظُ لِمُعَاوِيَةَ قَالَ: فَشَكَاهُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَإِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَإِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَإِلَى أُمِّ حَرَامٍ فَقَالَ: إِنَّكُمْ صَحِبْتُمْ كَمَا صَحِبْتُ، وَرَأَيْتُمْ كَمَا رَأَيْتُ، فَإِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُكَلِّمُوهُ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَجَاءَ، فَكَلَّمُوهُ فَقَالَ: أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ، فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَبْلِي وَلَكَ السِّنُّ وَالْفَضْلُ عَلَيَّ، وَقَدْ كُنْتُ أَرْغَبُ بِكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَإِنْ كَادَتْ وَفَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَتَفُوتُكَ، ثُمَّ أَسْلَمْتَ، فَكُنْتَ مِنْ صَالِحِي الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو، فَقَدْ جَاهَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَّا أَنْتِ يَا أُمَّ حَرَامٍ، فَإِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ، وَعَقْلُكِ عَقْلُ امْرَأَةٍ، فَمَا أَنْتِ وَذَاكَ؟ فَقَالَ عُبَادَةُ: لَا جَرَمَ لَا جَلَسْتُ مِثْلَ هَذَا الْمَجْلِسِ أَبَدًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ قَنْبَرُ حَاجِبُ مُعَاوِيَةَ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ (وَلَمْ يَجْرَحْهُ)، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qanbar, the chamberlain of Mu'awiya رضي الله عنه, reports that Abu Dharr رضي الله عنه spoke harshly to Mu'awiya, so Mu'awiya complained to Ubada ibn al-Samit, Abu al-Darda, Amr ibn al-As, and Umm Haram رضي الله عنهم, saying you companied as he companied and you hold a view as he holds; if you see fit, speak to him. They sent for Abu Dharr and he came, and they spoke to him, whereupon he said: As for you O Abu al-Walid, you embraced Islam before me, and age and merit belong to you over me, yet I would have spared you such a gathering; as for you O Abu al-Darda, the death of the Messenger of Allah ﷺ nearly passed you by, then you embraced Islam and became of the righteous Muslims; as for you O Amr, you strove alongside the Messenger of Allah ﷺ; as for you O Umm Haram, you are but a woman, and your mind is the mind of a woman, so what have you to do with this? Ubada then said: Decidedly, I shall never sit in such a gathering again. > **"As for you O Abu al-Walid, you embraced Islam before me and merit belongs to you; as for you O Abu al-Darda, you became of the righteous Muslims; as for you O Amr, you strove alongside the Messenger of Allah; as for you O Umm Haram, you are but a woman, so what have you to do with this?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربان ، قنبر بیان کرتے ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے تھے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی شکایت حضرت عبادہ بن صامت ، حضرت ابودرداء اور حضرت عمرو بن العاص اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہم سے کی اور یہ کہا کہ آپ لوگ بھی اسی طرح صحابی ہیں ، جس طرح وہ صحابی ہیں ، اور آپ لوگ بھی ایک رائے رکھتے ہیں جس طرح ان کی ایک رائے ہے ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کے ساتھ بات چیت کریں ، پھر انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا ، وہ تشریف لائے ، ان حضرات نے ان کے ساتھ بات چیت کی تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے حضرت ابوولید ! آپ نے مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا آپ کو عمر میں برتری کا شرف بھی حاصل ہے اور مجھ پر فضیلت بھی حاصل ہے اور میں اس طرح کی محفل میں آپ کے ساتھ میں رغبت رکھتا ہوں ، اسے حضرت ابودرداء ! جہاں تک آپ کا تعلق ہے ، تو قریب تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات کی وجہ سے آپ ( صحابی ہونے ) سے رہ جاتے ، لیکن پھر بھی آپ نے اسلام قبول کیا ، پھر بھی آپ صحابہ میں سے ہیں ، اے حضرت عمرو ! جہاں تک آپ کا تعلق ہے ، تو آپ نے اللہ کے رسول کے ساتھ جہاد کیا ، اے ام حرام ! جہاں تک آپ کا تعلق ہے ، تو آپ ایک خاتون ہیں اور آپ کی عقل ایک خاتون کی عقل ہے ، تو پھر آپ کا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ، تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ ضروری ہے کہ میں اس طرح کی محفل میں کبھی نہ بیٹھوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قنبر ہے ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دربان ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13085

Majma al-Zawaid #13085

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا تَفْخَرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لِمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخَرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" لَلَّذِي يُدَهْدِهُ الْجِعْلَانُ بِأَنْفِهِ خَيْرٌ مِنْهُمْ "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ said do not boast of your fathers who died in ignorance, for by Him in Whose Hand is my soul, what the dung-beetle rolls with its nostrils is better than your fathers who died in ignorance. In another wording: what the beetle rolls with its nose is better than them. > **"Do not boast of your fathers who died in ignorance, for by Him in Whose Hand is my soul, what the dung-beetle rolls with its nostrils is better than them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اپنے ان آباؤ اجداد کے حوالے سے فخر نہ کرو جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جعل ( نامی کیڑہ یا پرندہ ) اپنے نتھنوں سے جو کچھ نکالتا ہے وہ تمہارے ان آباؤ اجداد سے زیادہ بہتر ہے ، جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جعلان ( نامی پرندے یا کیڑے ) کے ناک میں سے جو نکلتا ہے وہ ان لوگوں سے زیادہ بہتر ہے ۔‘‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13086

Majma al-Zawaid #13086

وَعَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنِ انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ كُفَّارٍ، يُرِيدُ بِهِمْ عِزًّا وَكَرَامَةً، فَهُوَ عَاشِرُهُمْ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rayhana رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever ascribes himself to nine unbelieving forefathers, seeking thereby honour and nobility, he shall be their tenth in the Fire. > **"Whoever ascribes himself to nine unbelieving forefathers, seeking thereby honour, he shall be their tenth in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص نو کافر آباؤ اجداد کی طرف نسبت کر کے ( یعنی ان کے حوالے سے اپنا نسب بیان کر کے ) عزت اور کرامت کے اظہار کا ارادہ کرتا ہے ، تو جہنم میں وہ ان کے ساتھ دسواں فرد ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

13087

Majma al-Zawaid #13087

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: «انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، حَتَّى عَدَّ تِسْعَةً، فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ؟ فَقَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ ابْنِ الْإِسْلَامِ. قَالَ: فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ هَذَيْنِ الْمُنْتَسِبَيْنِ: أَمَّا أَنْتَ أَيُّهَا الْمُنْتَمِي - أَوِ الْمُنْتَسِبُ - إِلَى تِسْعَةٍ فِي النَّارِ فَأَنْتَ عَاشِرُهُمْ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا هَذَا الْمُنْتَسِبُ إِلَى اثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ فَأَنْتَ ثَالِثُهُمَا فِي الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Ka'b رضي الله عنه reports that two men boasted lineage in the time of the Messenger of Allah ﷺ; one said I am So-and-so son of So-and-so, so who are you, may you be bereft of your mother? The Messenger of Allah ﷺ said two men boasted lineage in the time of Musa عليه السلام; one said I am So-and-so son of So-and-so until he counted nine; who are you, may you be bereft of your mother? The other said I am So-and-so son of So-and-so, son of Islam. Allah revealed to Musa that as for these two boasters: as for you who ascribe yourself to nine in the Fire, you are their tenth, and as for you who ascribe yourself to two in Paradise, you are their third in Paradise. > **"As for you who ascribe yourself to nine in the Fire, you are their tenth; and as for you who ascribe yourself to two in Paradise, you are their third in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں دو آدمیوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں نسب بیان کیا ، ان میں سے ایک نے کہا : میں فلاں بن فلاں ہوں ، تم کون ہو ؟ تمہاری ماں نہ رہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمیوں نے نسب بیان کیا ، ان میں سے ایک نے یہ کہا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں ، یہاں تک کہ اس نے اپنے نو اجداد شمار کروائے ( اور پھر بولا ) تم کون ہو ، تمہاری ماں نہ رہے ۔ اس شخص نے جواب دیا : میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی : یہ دو افراد ہیں ، جنہوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں نسب کا اظہار کیا ہے ، تو اے وہ شخص جس نے اپنی نسبت ان نو افراد کی طرف کی ، جو جہنم میں ہیں تو تم ان کے ساتھ دسویں ہو گے ، اور اے وہ شخص جس نے اپنی نسبت دو افراد کی طرف کی ، جو جنت میں ہیں ، تو تم ان کے ساتھ تیسرے فرد جنت میں ہو گے ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن زیاد بن ابوالجعد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13088

Majma al-Zawaid #13088

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ، فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ فَقَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّ تِسْعَةَ آبَاءٍ. ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ: انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ. فَقَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ. فَنَادَى مُوسَى فِي النَّاسِ فَجَمَعَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا، أَمَّا أَنْتَ الَّذِي انْتَسَبْتَ إِلَى آبَاءٍ، فَإِنَّكَ تُوَفِّيهِمُ الْعَاشِرَ فِي النَّارِ، وَأَمَّا أَنْتَ الَّذِي انْتَسَبْتَ إِلَى أَبَوَيْكَ فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ مَوْقُوفًا عَلَى مُعَاذٍ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ.

EnglishUnverified translation

Mu'adh ibn Jabal رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that two men of the Children of Israel boasted lineage in the time of Musa عليه السلام, one a Muslim and the other a polytheist; the polytheist ascribed himself saying I am So-and-so son of So-and-so until he counted nine forefathers, then said to his companion ascribe yourself, may you be bereft of your mother; he said I am So-and-so son of So-and-so, and I disavow what lies beyond that. Musa gathered the people and said judgment has been passed between you: as for you who ascribed yourself to forefathers, you complete them as the tenth in the Fire, and as for you who ascribed yourself to your two parents, you are a man of the people of Islam. > **"As for you who ascribed yourself to nine forefathers, you complete them as the tenth in the Fire; and as for you who ascribed yourself to your two parents, you are a man of the people of Islam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے دو افراد نے ایک دوسرے کے سامنے اپنا نسب بیان کیا ، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک تھا ، مشرک نے نسب بیان کرتے ہوئے یہ کہا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں ، یہاں تک کہ اس نے اپنے نو آباء کے نام بیان کئے ، پھر اس نے اپنے دوسرے فریق سے کہا : تم اپنا نسب بیان کرو تمہاری ماں نہ رہے ، تو اس نے کہا : میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں اس چیز سے بری ہوں ، جو اس سے پیچھے ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لوگوں میں اعلان کروا کے انہیں جمع کروایا اور پھر فرمایا : جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، اے وہ شخص ! جس نے اپنا نسب نو آباء تک بیان کیا ہے ، تم جہنم میں ان کے ساتھ مل کے دس کی تعداد کو پورا کر دو گے ، اور اے وہ شخص جس نے اپنے دو آباء تک کے نسب کو بیان کیا ہے تم اہل اسلام میں سے ایک فرد ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد نے اسے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام احمد کے رجال کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔

13089

Majma al-Zawaid #13089

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ، وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ، لَيَنْتَهِيَنَّ قَوْمٌ يَفْخَرُونَ بِآبَائِهِمْ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfa رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said all of you are the children of Adam, and Adam is from dust; a people boasting of their fathers shall either cease, or they shall be more contemptible to Allah than the dung-beetle. > **"All of you are the children of Adam, and Adam is from dust; a people boasting of their fathers shall either cease, or they shall be more contemptible to Allah than the dung-beetle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہو ، اور حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا تھا ، لوگ اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے یا تو باز آ جائیں گے ، یا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جعلان ( نامی کیڑے یا پرندے ) سے زیادہ بے حیثیت ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حسین عرنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔