Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 13

Book of Good Manners

Hadith 13090–13129

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

13090

Majma al-Zawaid #13090

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ذُكِرَ عِنْدَهُ شَرَفُ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: دَعُوا هَذَا فَإِنَّ الْإِسْلَامَ عَمَّرَ بُيُوتًا كَانَتْ خَامِلَةً، وَأَخْمَلَ بُيُوتًا كَانَتْ عَامِرَةً، فَإِنْ أَبَيْتُمْ، فَإِنَّ أَخَا بَنِي تَمِيمِ بْنِ جُدْعَانَ لَمَّا مَاتَ تَقَسَّمَ النَّاسُ الْمَجْدَ بَعْدَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Hisham ibn Urwa reports that he heard Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنهما, when the nobility of ignorance was mentioned before him, say leave this aside, for Islam gave life to houses that were obscure and obscured houses that were flourishing; and if you refuse, then when the man of Banu Taym ibn Jud'an died, men divided glory after him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا ، ان کے سامنے زمانہ جاہلیت کے شرف کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اسے چھوڑ دو کیونکہ اسلام نے ایسے گھروں کو آباد کیا ہے ، جو بے آباد تھے اور ایسے گھروں کو بے آباد کر دیا ہے ، جو پہلے آباد تھے ، اگر تم نہیں مانتے تو بنو تمیم بن جدعان سے تعلق رکھنے والا فرد جب مر جاتا ہے ، تو اس کے بعد لوگ بزرگی کو تقسیم کر لیتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13091

Majma al-Zawaid #13091

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «سَبَبْتُ رَجُلًا فِي الْإِسْلَامِ بِأُمٍّ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاسْتَعْدَى عَلَيَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ فِيكَ شُعْبَةٌ مِنَ الْكُفْرِ "". فَلَمَّا ذَكَرَ الْكُفْرَ اضْطَرَبَتْ رِجْلَايَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَسُبُّ مُسْلِمًا بَعْدَهُ أَبَدًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه reports that he reviled a Muslim man by his mother from the days of ignorance, so the man complained against him to the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ﷺ said in you is a branch of disbelief. When disbelief was mentioned his feet trembled, and he said O Messenger of Allah, by Him Who sent you with the truth, I shall never revile a Muslim after this. > **"In you is a branch of disbelief."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک مسلمان شخص کو اس کی زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ماں کے حوالے سے برا کہا ، اس شخص نے میرے خلاف نبی اکرم ﷺ کے سامنے شکایت کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے اندر کفر کا ایک شعبہ ہے ‘‘ جب نبی اکرم ﷺ نے کفر کا ذکر کیا تو میری ٹانگیں کانپنے لگیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں اس کے بعد کبھی کسی مسلمان کو برا نہیں کہوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13092

Majma al-Zawaid #13092

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلَيَانِ، حَبَشِيٌّ وَقِبْطِيٌّ، فَاسْتَبَّا وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: يَا حَبَشِيٌّ. وَقَالَ الْآخَرُ: يَا قِبْطِيٌّ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَقُولُوا هَذَا، إِنَّمَا أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَا قِبْطِيُّ مَكَانَ: يَا نَبَطِيُّ، وَقَالَ: "" مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ "" مَكَانَ: "" أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". وَفِي إِسْنَادِهِمَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ عَلَى ضَعْفِهِ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ had two freedmen, an Abyssinian and a Copt, and they reviled one another while the Prophet ﷺ listened; one said to his companion O Abyssinian, and the other said O Copt, so the Prophet ﷺ said do not say this, you are but two men of the companions of Muhammad ﷺ, and in another wording: of the household of Muhammad ﷺ. > **"Do not say this; you are but two men of the companions of Muhammad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے دو غلام تھے ، ان میں سے ایک حبشی تھا اور ایک قبطی تھا ، ان دونوں کا جھگڑا ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ یہ سن رہے تھے ، اُن میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : اے حبشی ! دوسرے نے کہا : اے قبطی ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ اس طرح نہ کہو ! تم دونوں حضرت محمد ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ’’ اے نبطی “ کی جگہ ’’ اے قبطی ‘‘ کے الفاظ نقل کئے ہیں اور ’’ اصحاب محمد ‘‘ کی جگہ ’’ آل محمد ‘‘ کے الفاظ نقل کئے ہیں ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوز یاد ہے اور وہ اپنے ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ۔

13093

Majma al-Zawaid #13093

وَعَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، وَلَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ تَطَلَّبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that he said do not harm the servants of Allah, nor taunt them, nor seek out their faults, for whoever seeks out the fault of his Muslim brother, Allah shall seek out his fault until He disgraces him in his own house. > **"Do not harm the servants of Allah, nor taunt them, nor seek out their faults; for whoever seeks out the fault of his Muslim brother, Allah shall seek out his fault until He disgraces him in his own house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ کے بندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ، تم انہیں عار نہ دلاؤ ، تم ان کے پوشیدہ معاملات تلاش نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ معاملے کی تلاش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملے کی طرف متوجہ ہو کر اس شخص کو رسوائی کا شکار کر دے گا ، جبکہ وہ ( شخص ) اپنے گھر میں موجود ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

13094

Majma al-Zawaid #13094

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ، بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِأَهْلِ الْإِيمَانِ كَمَا يَأْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِي الرَّأْسِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللهِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ رَوَاهُ الطِّبَرَانِيُّ فِي الَّأُسْطِ وَالْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَوَّارِ بْنِ عُمَارَةَ الرَّمْلِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sa'd al-Sa'idi رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that he said the believer, among the people of faith, is like the head to the body; the believer aches for the people of faith as the body aches for what is in the head. > **"The believer, among the people of faith, is like the head to the body; the believer aches for the people of faith as the body aches for what is in the head."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل ایمان سے تعلق رکھنے والا ایک مومن جسم میں موجود سر کی مانند ہے کہ مومن کو اہل ایمان کے حوالے سے تکلیف محسوس ہوتی ہے ، جس طرح جسم کو سر میں موجود ( تکلیف کی وجہ سے ) تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن ثابت کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سوار بن عمارہ رملی معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

13095

Majma al-Zawaid #13095

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ نَبْهَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه and Abu Sa'id رضي الله عنه report from the Prophet ﷺ that he said the believer to the believer is like a building, one part strengthening another. > **"The believer to the believer is like a building, one part strengthening another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک مومن دوسرے مومن کے لئے ایک عمارت کی حیثیت رکھتا ہے ، جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبہان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ آگے چل کر نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث آئے گی ۔

13096

Majma al-Zawaid #13096

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ وَيُؤْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said the believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended. > **"The believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مؤمن الفت رکھتا ہے اور اس سے الفت رکھی جاتی ہے ، ایسے شخص میں بھلائی نہیں ہے جو الفت نہیں رکھتا اور اس سے الفت نہیں رکھی جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13097

Majma al-Zawaid #13097

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ وَيُؤْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sa'd رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said the believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended. > **"The believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن الفت رکھتا ہے اور اس سے الفت رکھی جاتی ہے ، اور ایسے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جو الفت نہیں رکھتا اور اس سے الفت نہیں رکھی جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13098

Majma al-Zawaid #13098

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يُؤَالِفُ وَلَا يُؤْلَفُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Mas'ud رضي الله عنه, said the believer befriends, and there is no good in one who neither keeps affection nor is befriended.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مومن الفت رکھتا ہے ، اور ایسے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جو الفت نہیں رکھتا اور اس سے الفت نہیں رکھی جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13099

Majma al-Zawaid #13099

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ وَيُؤْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ بَهْرَامَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said the believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended. > **"The believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن الفت رکھتا ہے ، اور اس سے الفت رکھی جاتی ہے ، اور ایسے شخص میں بھلائی نہیں ہے ، جو الفت نہیں رکھتا اور اس سے الفت نہیں رکھی جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں علی بن بہرام کے حوالے سے عبدالملک بن ابوکریمہ سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13100

Majma al-Zawaid #13100

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said souls are mobilized troops; those of them that recognized one another harmonized, and those that were strangers to one another differed. > **"Souls are mobilized troops; those of them that recognized one another harmonized, and those that were strangers to one another differed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( عالم ارواح میں ) ارواح مختلف گروہوں کی شکل میں ہوتی ہیں ، ان میں سے جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے متعارف ہوتی ہیں وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے ناآشنا ہوتی ہے ۔ وہ ( دنیا میں بھی ) لاتعلق ہوتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13101

Majma al-Zawaid #13101

«وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدَائِنَ، فَإِذَا أَنَا بَرَجُلٍ عَلَيْهِ ثِيَابٌ خُلْقَانٌ، وَمَعَهُ أَدِيمٌ أَحْمَرُ يَعْرِكُهُ، فَالْتَفَتَ فَنَظَرَ إِلَيَّ، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ: مَكَانَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ. فَقُمْتُ، فَقُلْتُ لِمَنْ كَانَ عِنْدِي: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالُوا: هَذَا سَلْمَانُ، فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَلَبِسَ ثِيَابًا بَيَاضًا، ثُمَّ أَقْبَلَ، وَأَخَذَ بِيَدِي، وَصَافَحَنِي وَسَايَلَنِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا رَأَيْتَنِي فِيمَا مَضَى وَلَا رَأَيْتُكَ، وَلَا عَرَفْتَنِي وَلَا عَرَفْتُكَ. قَالَ: بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ عَرَفَتْ رُوحِي رُوحَكَ حِينَ رَأَيْتُكَ، أَلَسْتَ الْحَارِثَ بْنَ عُمَيْرَةَ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا فِي اللَّهِ ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا فِي اللَّهِ اخْتَلَفَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ بِاخْتِصَارٍ. وَفِي إِسْنَادِ هَذَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَفِي بَقِيَّتِهَا الْحَجَّاجُ بْنُ فُرَافِصَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَأَبُو عَمْرٍو أَوْ أَبُو عُمَيْرٍ الرَّاوِي عَنْ سَلْمَانَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

al-Harith ibn Umayra reports that he set out until he reached al-Mada'in, where he saw a man in worn garments rubbing a red hide; the man glanced at him and signalled with his hand stay where you are O servant of Allah. He asked those with him who this man was, and they said this is Salman رضي الله عنه. He entered his house, dressed in white garments, then came forward, took his hand, shook it, and asked after him. al-Harith said O Abu Abdillah, you never saw me before nor did I see you, you did not know me nor did I know you. He said indeed, by Him in Whose Hand is my soul, my soul recognized your soul when it saw you; are you not al-Harith ibn Umayra? He said yes. He then said I heard the Messenger of Allah ﷺ say souls are mobilized troops; those of them that recognized one another for the sake of Allah harmonized, and those that were strangers to one another for the sake of Allah differed. > **"Souls are mobilized troops; those of them that recognized one another for the sake of Allah harmonized, and those that were strangers to one another for the sake of Allah differed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بن عمیرہ بیان کرتے ہیں : میں روانہ ہوا یہاں تک کہ میں مدائن آیا ، وہاں ایک شخص موجود تھا ، جس کے جسم پر پرانے کپڑے موجود تھے اور اس کے پاس سرخ چمڑا تھا ، جسے وہ مل رہا تھا ، اس نے توجہ کی اور میری طرف دیکھا ، اس نے مجھے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا : اے اللہ کے بندے ! تم اپنی جگہ پر رہو ! میں کھڑا ہو گیا ، میں نے اپنے پاس موجود شخص سے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے ، انہوں نے سفید کپڑے پہنے پھر وہ تشریف لائے ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ، میرے ساتھ مصافحہ کیا ، میرا حال چال پوچھا ، میں نے کہا : اے ابوعبداللہ ! آپ نے مجھ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا اور میں نے بھی آپ کو نہیں دیکھا ، نہ آپ مجھ سے واقف ہیں اور نہ میں آپ سے واقف ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میری روح نے تمہاری روح کو اس وقت پہچان لیا ، جب میں نے تمہیں دیکھا ، کیا تم حارث بن عمیرہ نہیں ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ( عالم ارواح میں ) روحیں مختلف گروہوں کی شکل میں ہوتی ہیں ، جو ( عالم ارواح میں ) اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے آشنا ہوتی ہیں ، ان کے درمیان ( دنیا میں ) الفت ہوتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک دوسرے سے ناآشنا ہوتی ہے ان کے درمیان ( دنیا میں ) لاتعلقی رہتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے اور وہ متروک ہے ۔ اس کی دوسری روایت میں ایک راوی حجاج بن فرافصہ ہے جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک راوی ابوعمرو یا ابوعمیر ہے ، جس نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13102

Majma al-Zawaid #13102

وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ: «كَانَتِ امْرَأَةٌ بِمَكَّةَ مَزَّاحَةً، فَنَزَلَتْ عَلَى امْرَأَةٍ شَبَهًا لَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: صَدَقَ حِبِّي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ» "". قَالَ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَا تعْرِفُ تِلْكَ الْمَرْأَةَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amra bint Abd al-Rahman reports that there was a jesting woman in Makkah who lodged with a woman like her, and when this reached A'isha رضي الله عنها she said my beloved spoke the truth; I heard the Messenger of Allah ﷺ say souls are mobilized troops; those of them that recognized one another harmonized, and those that were strangers to one another differed. The narrator added, as I know, that the first woman had not known the other before. > **"Souls are mobilized troops; those of them that recognized one another harmonized, and those that were strangers to one another differed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں : مکہ میں ایک خاتون تھی جن کے مزاج میں مزاح کا عنصر تھا ، وہ اپنے جیسی ایک خاتون کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہری ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا : میرے محبوب نے سچ فرمایا تھا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ارواح ( عالم ارواح میں ) مختلف گروہوں کی شکل میں رہتی ہیں ، جو ان میں سے ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے آشنا ہوتی ہیں وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے ناآشنا ہوتی ہیں وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتی ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ وہ خاتون اس دوسری خاتون سے پہلے سے واقف نہیں تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13103

Majma al-Zawaid #13103

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا، عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بِغَيْضَكَ هَوْنًا مَا، عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمِيلُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said love your beloved in measure, for perhaps he will become hateful to you one day, and hate your enemy in measure, for perhaps he will become your beloved one day. > **"Love your beloved in measure, for perhaps he will become hateful to you one day; and hate your enemy in measure, for perhaps he will become your beloved one day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے دوست سے محبت مناسب حد تک رکھو کیونکہ ہو سکتا ہے وہ کبھی تمہاری ناراضگی کا مرکز بن جائے اور اپنی ناراضگی کو بھی مناسب حد تک رکھو ، ہو سکتا ہے کسی دن وہ ( دشمن ) تمہارا دوست بن جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیل بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13104

Majma al-Zawaid #13104

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا، عَسَى أَنْ يَكُونَ بِغَيْضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا، عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْنهْرِيُّ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said love your beloved in measure, for perhaps he will become your enemy one day, and hate your enemy in measure, for perhaps he will become your beloved one day. > **"Love your beloved in measure, for perhaps he will become your enemy one day; and hate your enemy in measure, for perhaps he will become your beloved one day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے دوست کے ساتھ محبت مناسب حد تک رکھو کیونکہ ہو سکتا ہے کسی دن وہ تمہارا دشمن بن جائے ، اور اپنے دشمن کے ساتھ دشمنی مناسب حد تک رکھو ، ہو سکتا ہے کسی دن وہ تمہارا دوست بن جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر فہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13105

Majma al-Zawaid #13105

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ، مَا يُرِيدُ بِهِ سُوءًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهِ (الْقَوْمَ)، فَيَخِرُّ بِهِ أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said a man speaks a word intending thereby no evil except to make the people laugh by it, yet by it he falls further than the heaven is distant. > **"A man speaks a word intending thereby no evil except to make the people laugh by it, yet by it he falls further than the heaven is distant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک کوئی شخص کوئی بات کہتا ہے ۔ اس کا مقصد اس کے ذریعے کسی برائی کا نہیں ہوتا صرف یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہنس پڑیں ، لیکن اس بات کی وجہ سے وہ اس سے زیادہ بلندی سے ( جہنم میں ) گرتا ہے ، جتنا آسمان دور ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13106

Majma al-Zawaid #13106

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي لَأَمْزَحُ وَلَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said I jest, but I speak only the truth. > **"I jest, but I speak only the truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں بھی مزاح کرتا ہوں لیکن میں صرف حق بات کہتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

13107

Majma al-Zawaid #13107

وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِابْنِ عُمَرَ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنِّي لَأَمْزَحُ وَلَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا (قَالَ نَعَمْ)» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ubayd ibn Umayr reports that he heard a man say to Ibn Umar رضي الله عنهما did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say I jest but I speak only the truth, and he replied yes. > **"I jest, but I speak only the truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ’’ میں بھی مزاح کرتا ہوں لیکن میں صرف حق بات کہتا ہوں ۔‘‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

13108

Majma al-Zawaid #13108

وَعَنْ قُرَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ سِيرِينَ: هَلْ كَانُوا يَتَمَازَحُونَ؟ قَالَ: مَا كَانُوا إِلَّا كَالنَّاسِ، كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْزَحُ وَيُنْشِدُ: يُحِبُّ الْخَمْرَ مِنْ مَالِ النَّدَامَى ... وَيَكْرَهُ أَنْ تُفَارِقَهُ الْفُلُوسُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي حُسْنِ خُلُقِهِ

EnglishUnverified translation

Qurra reports that he asked Ibn Sirin whether they used to jest, and he said they were but like other men; Ibn Umar رضي الله عنهما used to jest and recite: he loves wine at the expense of his boon-companions, yet hates that his coins should part from him. > **"He loves wine at the expense of his boon-companions, yet hates that his coins should part from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قرہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابن سیرین سے دریافت کیا : کیا وہ لوگ ( یعنی صحابہ کرام ) ایک دوسرے کے ساتھ مزاح کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ لوگ بھی دوسرے لوگوں کی طرح تھے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزاح کرتے ہوئے یہ شعر سناتے تھے : ’’ وہ دوستوں کے مال کے ذریعے شراب پینے کو پسند کرتا ہو اور اس بات کو ناپسند کرتا ہو کہ ( اس کے اپنے ) سکّے اس سے جدا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث نبوت کی علامات سے متعلق کتاب میں نبی اکرم ﷺ کے اخلاق کی اچھائی سے متعلق باب میں آئے گی ۔

13109

Majma al-Zawaid #13109

عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ: "" تَنَقَّهُ وَتَوَقَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَقَالَ: مَعْنَى هَذَا عِنْدَنَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ -: أَنََّكَ تَنَقَّ الصَّدِيقَ وَاحْذَرْهُ، وَبَلَغَنِي عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ فَسَّرَهُ بِمَعْنًى آخَرَ قَالَ: مَعْنَاهُ: اتَّقِ الذُّنُوبَ، وَاحْذَرْ عُقُوبَتَهَا. وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ said to a man: choose well and beware. Tabarani explained, and Allah knows best, that in his view it means choose a friend carefully and beware of him, while it reached him from some people of knowledge that it means guard against sins and beware their punishment. > **"Choose well and beware."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : ’’ بچ کے رہو اور پرہیز کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ، ویسے تو اللہ بہتر جانتا ہے ، لیکن ہمارے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم دوست اچھا اختیار کرو اور اس سے بچ کے رہو ، اور بعض اہل علم کے حوالے سے مجھ تک یہ بات پہنچی ہے ۔ انہوں نے اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم گناہوں سے بچ کے رہو اور اس کی سزا سے پرہیز کرو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مسعر بن کدام ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13110

Majma al-Zawaid #13110

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «احْتَرِسُوا مِنَ النَّاسِ بِسُوءِ الظَّنِّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said guard yourselves against men through misgiving. > **"Guard yourselves against men through misgiving."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کے بارے میں برے گمان سے احتیاط کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

13111

Majma al-Zawaid #13111

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ هُمْ ذِئَابٌ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذِئْبًا أَكَلَتْهُ الذِّئَابُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَزِيَادُ النُّمَيْرِيُّ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said there shall come upon men a time when they are wolves; whoever is not a wolf, the wolves devour him. > **"There shall come upon men a time when they are wolves; whoever is not a wolf, the wolves devour him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ بھیڑیے ہو جائیں گے ، اور جو شخص بھیڑیا نہیں ہو گا : اسے بھیڑیے کھا لیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی زیاد نمیری ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

13112

Majma al-Zawaid #13112

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟ "" قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" شِرَارُكُمْ مَنْ يُتَّقَى شَرُّهُ، وَلَا يُرْجَى خَيْرُهُ، وَخِيَارُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ، وَلَا يُتَّقَى شَرُّهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said shall I not inform you of the worst of you? They said indeed. He said the worst of you are those whose evil is feared and whose good is not hoped for, and the best of you are those whose good is hoped for and whose evil is not feared. > **"The worst of you are those whose evil is feared and whose good is not hoped for; and the best of you are those whose good is hoped for and whose evil is not feared."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کیا میں تمہیں تمہارے سب سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے سب سے برے لوگ وہ ہیں کہ جن کے شر سے بچنے کی کوشش کی جائے اور ان سے بھلائی کی توقع نہ رکھی جائے اور تمہارے سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جن سے بھلائی کی توقع رکھی جائے اور جن کے شر سے بچنے کی ضرورت نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔

13113

Majma al-Zawaid #13113

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيِّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ وَهُمَا ضَعِيفَانِ وَقَدْ وُثِّقَا.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf al-Muzani رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said the believer is not stung from one burrow twice. > **"The believer is not stung from one burrow twice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اسحاق بن ابراہیم حنینی کے حوالے سے کثیر بن عبداللہ مزنی سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

13114

Majma al-Zawaid #13114

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَخْبُرْ تَقْلُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that he said test and you will dislike. > **"Test and you will dislike."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم ( لوگوں کو ) آزما لو ، تم انہیں ناپسند کرو گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13115

Majma al-Zawaid #13115

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ثِقْ بِالنَّاسِ رُوَيْدًا. وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَخْبُرْ تَقْلَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ..

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه used to say trust men slowly, and he also said test and you will dislike.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ وہ یہ فرماتے تھے : ’’ لوگوں پر اعتماد کرنے میں مہلت دو ! ( یعنی جلدی نہ کرو ) ۔‘‘ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے تھے :” تم ( لوگوں کو ) آزما لو ، تم انہیں ناپسند کرو گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13116

Majma al-Zawaid #13116

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: "" اعْتَبَرُوا النَّاسُ بِإِخْوَانِهِمْ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Mas'ud رضي الله عنه, said judge men by their brethren.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ لوگوں کا اندازہ ان کے بھائیوں ( یعنی دوستوں ) کے حوالے سے لگاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر بن عطاء ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

13117

Majma al-Zawaid #13117

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْهَدْيُ الصَّالِحُ وَالسَّمْتُ الصَّالِحُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» "". قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ: "" «خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ فَايِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said right guidance, good comportment, and moderation are one part of forty-seven parts of prophethood, while in the narration with Abu Dawud the figure is twenty-five parts. > **"Right guidance, good comportment, and moderation are one part of forty-seven parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اچھا طور طریقہ اور اچھی عادات اور میانہ روی نبوت کے پینتالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے امام ابوداؤد نے یہ الفاظ نقل کے ہیں :” نبوت کا پچیسواں جزء ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن فائد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

13118

Majma al-Zawaid #13118

وَعَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْهَدْيُ الصَّالِحُ وَالسَّمْتُ الصَّالِحُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that he said right guidance and good comportment are one part of seventy parts of prophethood. > **"Right guidance and good comportment are one part of seventy parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان صحابی کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے : ’’ اچھی عادات اور اچھا طور طریقہ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

13119

Majma al-Zawaid #13119

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا رَضِيَ هَدْيَ الرَّجُلِ وَعَمَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Uqba ibn Amir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said when a man is pleased with the conduct and deed of another man, he is like him. > **"When a man is pleased with the conduct and deed of another man, he is like him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے طور طریقوں اور عمل سے راضی ہو ، تو وہ ان کی مانند شمار ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13120

Majma al-Zawaid #13120

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَلُومُ عَلَى الْعَجْزِ، فَابْذُلْ مِنْ نَفْسِكَ الْجَهْدَ، فَإِنْ غُلِبْتَ فَقُلْ: تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، أَوْ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الشَّهْرُزُورِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umama رضي الله عنه reports from the Messenger of Allah ﷺ that he said Allah the Mighty and Majestic indeed blames incapacity, so exert yourself to the utmost; then if you are overcome say I have placed my trust in Allah, or Allah suffices me and He is the best Disposer. > **"Allah indeed blames incapacity, so exert yourself to the utmost; then if you are overcome say: I have placed my trust in Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ عاجز ہونے پر ملامت کرتا ہے ، تو تم اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرو اور اگر تم مغلوب ہو جاؤ تو تم یہ کہو : میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مغیرہ شہر زوری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

13121

Majma al-Zawaid #13121

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَارْتَفَعَتْ رِيحٌ مُنْتِنَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟ هَذِهِ رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِينَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah رضي الله عنهما reports that they were with the Prophet ﷺ when a foul wind rose, so the Messenger of Allah ﷺ said do you know what this wind is? This is the wind of those who backbite the believers. > **"Do you know what this wind is? This is the wind of those who backbite the believers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے اسی دوران ایک بدبودار ہوا آئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کس چیز کی ہوا ہے ؟ یہ ان لوگوں کی بُو ہے جو اہل ایمان کی غیبت کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

13122

Majma al-Zawaid #13122

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْغِيبَةِ وَعَنْ الِاسْتِمَاعِ إِلَى الْغِيبَةِ».

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade backbiting and listening to backbiting.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں غیبت کرنے اور غیبت سننے سے منع کیا ہے ۔

13123

Majma al-Zawaid #13123

وَبِسَنَدِهِ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّمِيمَةِ وَالِاسْتِمَاعِ إِلَى النَّمِيمَةِ». رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

By the same chain Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade tale-bearing and listening to tale-bearing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے چغلی کرنے اور چغلی سننے سے منع کیا ہے ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

13124

Majma al-Zawaid #13124

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «النَّمِيمَةُ وَالشَّتِيمَةُ وَالْحَمِيَّةُ فِي النَّارِ (وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي صَدْرِ مُؤْمِنٍ)» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَا.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say tale-bearing, reviling, and zealous partisanship are in the Fire, and they do not gather together in the breast of a believer. > **"Tale-bearing, reviling, and zealous partisanship are in the Fire, and they do not gather together in the breast of a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ چغلی کرنا برا کہنا اور حمیت ، جہنم میں ہوں گی اور یہ کسی مومن کے سینے میں اکٹھی نہیں ہو سکتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے محمد بن یزید بن سنان کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

13125

Majma al-Zawaid #13125

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: الْقَائِلُ الْفَاحِشَةَ، وَالَّذِي يَسْمَعُ فِي الْإِثْمِ سَوَاءٌ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَسَّانِ بْنِ كُرَيْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه used to say the utterer of obscenity and the one who listens to it are equal in sin.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : بری بات کہنے والا اور اسے سننے والا گناہ میں برابر ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسان بن کریب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

13126

Majma al-Zawaid #13126

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَيْسَ مِنِّي ذُو حَسَدٍ، وَلَا نَمِيمَةٍ، وَلَا كِهَانَةٍ، وَلَا أَنَا مِنْهُ "". ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ: {وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا} [الأحزاب: 58]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Busr رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that he said the envious, the tale-bearer, and the soothsayer are not of me, nor am I of them. Then the Messenger of Allah ﷺ recited the verse: Those who harm the believing men and believing women undeservedly bear the burden of slander and manifest sin. > **"The envious, the tale-bearer, and the soothsayer are not of me, nor am I of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حسد کرنے والے ، چغلی کرنے والے ، کہانت کرنے والے کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے ، اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی عمل ( یعنی جرم ) کے بغیر اذیت پہنچاتے ہیں تو ایسے لوگ بہتان اور واضح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ متروک ہے ۔

13127

Majma al-Zawaid #13127

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَلَا إِنَّ الْكَذِبَ يُسَوِّدُ الْوَجْهَ، وَالنَّمِيمَةُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Barza رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say behold, lying blackens the face, and tale-bearing is of the punishment of the grave. > **"Behold, lying blackens the face, and tale-bearing is of the punishment of the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ خبردار ! جھوٹ چہرے کو سیاہ کر دیتا ہے اور چغلی قبر کے عذاب کا باعث ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ کذاب ہے ۔

13128

Majma al-Zawaid #13128

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا "". فَقِيلَ: وَكَيْفَ؟ قَالَ: "" الرَّجُلُ يَزْنِي ثُمَّ يَتُوبُ، فَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يَغْفِرَ لَهُ صَاحِبُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah رضي الله عنهما and Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه report that the Messenger of Allah ﷺ said backbiting is more severe than adultery. It was asked how so? He said a man commits adultery then repents, and Allah pardons him, but the backbiter is not forgiven until his victim forgives him. > **"Backbiting is more severe than adultery; a man commits adultery then repents and Allah pardons him, but the backbiter is not forgiven until his victim forgives him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ غیبت زنا سے زیادہ سخت ہے ۔ عرض کی گئی : وہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا : ایک شخص زنا کرتا ہے پھر وہ توبہ کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، لیکن غیبت کرنے والے شخص کی اس وقت تک توبہ قبول نہیں ہوتی ، جب تک متعلقہ فرد اس کو معاف نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔

13129

Majma al-Zawaid #13129

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَكَلَ لَحْمَ أَخِيهِ فِي الدُّنْيَا قُرِّبَ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ: كُلْهُ حَيًّا كَمَا أَكَلْتَهُ مَيِّتًا، فَيَأْكُلُهُ وَيَكْلَحُ وَيَصِيحُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayra رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever eats the flesh of his brother in this world shall have it brought near to him on the Day of Resurrection and it shall be said to him eat it alive as you ate it dead, so he shall eat it, grimacing and screaming. > **"Whoever eats the flesh of his brother in this world, it shall be said to him: Eat it alive as you ate it dead."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھاتا ہے ، قیامت کے دن اسے اس کے قریب کیا جائے گا ، اور اس سے کہا جائے گا : تم اس کے زندہ ہونے کے عالم میں اس کو کھاؤ ، جس طرح تم نے اسے مردہ ہونے کے طور پر کھایا تھا ، تو وہ اس کو کھائے گا اور ماتھے پر بل ڈالے گا اور چیخے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔