«وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدَائِنَ، فَإِذَا أَنَا بَرَجُلٍ عَلَيْهِ ثِيَابٌ خُلْقَانٌ، وَمَعَهُ أَدِيمٌ أَحْمَرُ يَعْرِكُهُ، فَالْتَفَتَ فَنَظَرَ إِلَيَّ، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ: مَكَانَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ. فَقُمْتُ، فَقُلْتُ لِمَنْ كَانَ عِنْدِي: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالُوا: هَذَا سَلْمَانُ، فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَلَبِسَ ثِيَابًا بَيَاضًا، ثُمَّ أَقْبَلَ، وَأَخَذَ بِيَدِي، وَصَافَحَنِي وَسَايَلَنِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا رَأَيْتَنِي فِيمَا مَضَى وَلَا رَأَيْتُكَ، وَلَا عَرَفْتَنِي وَلَا عَرَفْتُكَ. قَالَ: بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ عَرَفَتْ رُوحِي رُوحَكَ حِينَ رَأَيْتُكَ، أَلَسْتَ الْحَارِثَ بْنَ عُمَيْرَةَ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا فِي اللَّهِ ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا فِي اللَّهِ اخْتَلَفَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ بِاخْتِصَارٍ. وَفِي إِسْنَادِ هَذَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَفِي بَقِيَّتِهَا الْحَجَّاجُ بْنُ فُرَافِصَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَأَبُو عَمْرٍو أَوْ أَبُو عُمَيْرٍ الرَّاوِي عَنْ سَلْمَانَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
al-Harith ibn Umayra reports that he set out until he reached al-Mada'in, where he saw a man in worn garments rubbing a red hide; the man glanced at him and signalled with his hand stay where you are O servant of Allah. He asked those with him who this man was, and they said this is Salman رضي الله عنه. He entered his house, dressed in white garments, then came forward, took his hand, shook it, and asked after him. al-Harith said O Abu Abdillah, you never saw me before nor did I see you, you did not know me nor did I know you. He said indeed, by Him in Whose Hand is my soul, my soul recognized your soul when it saw you; are you not al-Harith ibn Umayra? He said yes. He then said I heard the Messenger of Allah ﷺ say souls are mobilized troops; those of them that recognized one another for the sake of Allah harmonized, and those that were strangers to one another for the sake of Allah differed. > **"Souls are mobilized troops; those of them that recognized one another for the sake of Allah harmonized, and those that were strangers to one another for the sake of Allah differed."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حارث بن عمیرہ بیان کرتے ہیں : میں روانہ ہوا یہاں تک کہ میں مدائن آیا ، وہاں ایک شخص موجود تھا ، جس کے جسم پر پرانے کپڑے موجود تھے اور اس کے پاس سرخ چمڑا تھا ، جسے وہ مل رہا تھا ، اس نے توجہ کی اور میری طرف دیکھا ، اس نے مجھے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا : اے اللہ کے بندے ! تم اپنی جگہ پر رہو ! میں کھڑا ہو گیا ، میں نے اپنے پاس موجود شخص سے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے ، انہوں نے سفید کپڑے پہنے پھر وہ تشریف لائے ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ، میرے ساتھ مصافحہ کیا ، میرا حال چال پوچھا ، میں نے کہا : اے ابوعبداللہ ! آپ نے مجھ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا اور میں نے بھی آپ کو نہیں دیکھا ، نہ آپ مجھ سے واقف ہیں اور نہ میں آپ سے واقف ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میری روح نے تمہاری روح کو اس وقت پہچان لیا ، جب میں نے تمہیں دیکھا ، کیا تم حارث بن عمیرہ نہیں ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ( عالم ارواح میں ) روحیں مختلف گروہوں کی شکل میں ہوتی ہیں ، جو ( عالم ارواح میں ) اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے آشنا ہوتی ہیں ، ان کے درمیان ( دنیا میں ) الفت ہوتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک دوسرے سے ناآشنا ہوتی ہے ان کے درمیان ( دنیا میں ) لاتعلقی رہتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے اور وہ متروک ہے ۔ اس کی دوسری روایت میں ایک راوی حجاج بن فرافصہ ہے جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک راوی ابوعمرو یا ابوعمیر ہے ، جس نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔