وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: اجْتَمَعَ أَشْرَافُ قُرَيْشٍ عِنْدَ بَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فِيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَتِلْكَ الْعَبِيدُ وَالْمَوَالِي مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ آذِنُهُ، فَأَذِنَ لِبِلَالٍ وَصُهَيْبٍ وَغَيْرِهِمَا وَتَرَكَ الْآخَرِينَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ، إِنَّهُ أَذِنَ لِهَذِهِ الْعَبِيدِ، وَتَرَكَنَا جُلُوسًا بِبَابِهِ لَا يَأْذَنُ لَنَا! فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو - وَكَانَ رَجُلًا عَاقِلًا -: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى الَّذِي فِي وُجُوهِكُمْ، فَإِنْ كُنْتُمْ غِضَابًا فَاغْضَبُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، دُعِيَ الْقَوْمُ وَدُعِيتُمْ، فَأَسْرَعُوا وَأَبْطَأْتُمْ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَمَا سُبِقْتُمْ إِلَيْهِ مِنَ الْفَضْلِ أَشُدُّ عَلَيْكُمْ فَوْتًا مِنْ بَابِكُمُ الَّذِي تَنَافَسْتُمْ عَلَيْهِ. قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ، لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَبْدًا أَسْرَعَ إِلَيْهِ كَعَبْدٍ أَبْطَأَ عَنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ.
EnglishUnverified translation
Al-Ḥasan reports that the nobles of Quraysh gathered at the door of ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allah be pleased with him, among them al-Ḥārith ibn Hishām, Abū Sufyān ibn Ḥarb and Suhayl ibn ʿAmr, along with slaves and freedmen from the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, and his chamberlain came out and permitted Bilāl, may Allah be pleased with him, and Ṣuhayb, may Allah be pleased with him, and others, leaving the rest, so Abū Sufyān said he had never seen the like of this day, that he permitted these slaves and left them sitting at his door without permission, whereupon Suhayl ibn ʿAmr, who was a man of reason, said O people, by Allah he saw what was in their faces, and if they were angry they should be angry at themselves, for the people were called and they were called, but they hastened and they delayed, then he said by Allah the virtue they were preceded to is a more severe loss upon them than this door over which they compete. Al-Ḥasan said by Allah, Allah does not make a servant hastening to Him like a servant delaying from Him.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حسن بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ قریش کے کچھ معززین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دروازے کے پاس اکٹھے ہوئے ، ان لوگوں میں حارث بن ہشام ، ابوسفیان بن حرب اور سہیل بن عمرو شامل تھے اور اس کے علاوہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ غلام یا آزاد شدہ غلام بھی تھے ، پھر اطلاع دینے والا شخص باہر آیا اور اس نے بتایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگوں کو اجازت دیدی ہے ، اور باقی لوگوں کو ابھی نہیں دی ، ابوسفیان نے کہا : میں نے آج کی طرح کا دن کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے غلاموں کو اجازت دیدی ہے اور ہمیں اپنے دروازے پر بیٹھا چھوڑ دیا ہے ، اور ہمیں اجازت نہیں دی ، تو سہیل بن عمرو جو ایک عقل مند شخص تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم ! تمہارے چہروں کی جو صورت حال ہے ۔ وہ میں دیکھ رہا ہوں ، اگر تم نے غضبناک ہونا ہے ، تو تم اپنی ذات کے حوالے سے غضبناک ہو ، کیونکہ ان لوگوں کو بھی دعوت دی گئی تھی اور تمہیں بھی دعوت دی گئی تھی ، تو ان لوگوں نے ( دعوت قبول کرنے میں ) جلدی کی اور تم لوگوں نے تاخیر کی ، پھر انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تمہیں جو فضیلت نصیب نہیں ہوئی وہ اس سے زیادہ شدید ہے ، جو تم اس دروازے پر ( اجازت نہ ملنے پر ) غصہ کر رہے ہو ۔ حسن بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف تیزی سے آنے والے بندے کو ، اس بندے کی مانند نہیں بنایا ہے ، جو اس کی طرف تاخیر سے آتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حسن نامی راوی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔