Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 6

Book of Good Manners

Hadith 12810–12849

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12810

Majma al-Zawaid #12810

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا، وَلَكِنِ ائْتُوهَا مِنْ جَوَانِبِهَا، فَاسْتَأْذِنُوا، فَإِنْ أُذِنَ لَكُمْ فَادْخُلُوا، وَإِلَّا فَارْجِعُوا» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ هَذَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Busr, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say not to come to houses from their doors, but to come to them from their sides, then seek permission, and if permitted enter, otherwise return. > **"Do not come to houses from their doors, but come to them from their sides and seek permission; if you are permitted, enter, otherwise return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم گھروں کے دروازے کے بالکل سامنے نہ آؤ ، بلکہ اطراف میں آؤ اور پھر اجازت مانگو اگر تمہیں اجازت مل جائے ، تو داخل ہو جاؤ ورنہ واپس چلے جاؤ ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے ایک اور حدیث مذکور ہے ، جسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالرحمن بن عرق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12811

Majma al-Zawaid #12811

وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ -: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الِاسْتِئْذَانِ فِي الْبُيُوتِ، فَقَالَ: "" مَنْ دَخَلَتْ عَيْنُهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ وَيُسَلِّمَ فَلَا إِذْنَ، وَقَدْ عَصَى رَبَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ was asked about seeking permission in houses and said that whoever's eye enters before he seeks permission and greets has no permission left and has disobeyed his Lord. > **"Whoever's eye enters before he seeks permission and greets, there is no permission left and he has disobeyed his Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کی نگاہ اجازت لینے اور سلام کرنے سے پہلے داخل ہو گئی ، تو پھر اجازت تو باقی نہ رہی اور اس شخص نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12812

Majma al-Zawaid #12812

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَيَدْخُلُ عُمَرُ»؟. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, reports that ʿUmar, may Allah be pleased with him, came to the Prophet ﷺ while he was in his upper chamber and said peace be upon you, O Messenger of Allah, peace be upon you all, may ʿUmar enter. > **"Peace be upon you, O Messenger of Allah; peace be upon you all; may ʿUmar enter?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت اپنے بالاخانے میں موجود تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر سلام ہو ! السلام علیکم ، کیا عمر اندر آ جائے ؟ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12813

Majma al-Zawaid #12813

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: أَرْسَلَنِي مُدْرِكُ أَوِ ابْنُ مُدْرِكٍ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ تُصَلِّي الضُّحَى، فَقُلْتُ: أَقْعُدُ حَتَّى تَفْرَغَ. فَقَالُوا: هَيْهَاتَ. فَقُلْتُ لَآذَنَّهَا: كَيْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا؟ فَقَالَ: قُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، السَّلَامُ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Abī Mūsā reports that Mudrik sent him to ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, to ask her about some matters, so he came to her while she was praying the forenoon prayer, and thought to sit until she finished, but they said what was the matter, so he said he wanted to announce himself and asked how to seek permission from her, and he said to say peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings, peace be upon us and upon the righteous servants of Allah, peace be upon the Mothers of the Believers, the wives of the Prophet ﷺ, peace be upon you all, then he mentioned the rest of the account.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں : مدرک نے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن مدرک نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کروں ۔ راوی کہتے ہیں : میں ان کے پاس آیا تو وہ اس وقت چاشت کی نماز ادا کر رہی تھیں ، میں نے سوچا میں بیٹھ جاتا ہوں ، جب تک یہ فارغ نہیں ہو جاتیں ، لوگوں نے کہا : کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : میں ان سے اجازت لینا چاہتا ہوں ، میں ان سے کیسے اجازت لوں ، تو اس شخص نے کہا : تم یہ کہو : اے نبی ! آپ پر سلام ہو ، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، ہم پر بھی اور تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو ! امہات المؤمنین اور نبی اکرم ﷺ کی ازواج پر سلام ہو ، اسلام علیکم ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12814

Majma al-Zawaid #12814

وَعَنْ أَبِي سُوَيْدٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ فَجَلَسْنَا بِبَابِهِ لِيُؤْذَنَ لَنَا، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ، فَقُمْتُ إِلَى جُحْرٍ فِي الْبَابِ، فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِيهِ، فَفَطِنَ بِي، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا، فَقَالَ: أَيُّكُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِي دَارِي؟ قُلْتُ: أَنَا. قَالَ: بِأَيِّ شَيْءٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِي دَارِي؟ قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَيْنَا فَنَظَرْتُ، فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَلِكَ. قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ، قَلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا تَقُولُ فِي الْجِهَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ وَبَرَكَةُ بْنُ يَعْلَى التَّمِيمِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abū Suwayd al-ʿAbdī reports that they came to Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with him, and sat at his door to be given permission, but permission was delayed, so he rose to a hole in the door and began to peer through it, and Ibn ʿUmar noticed him, and when they were permitted and sat, he asked which of them had peered into his house a short while before, and he said it was he, so he asked by what right he deemed it lawful to peer into his house, and he said permission had been delayed so he looked without intending it, then they asked him about matters, and he asked O Abū ʿAbd al-Raḥmān what he said about jihād, and he said that whoever strives strives only for himself.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسوید عبدی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر بیٹھ گئے تاکہ ہمیں اجازت مل جائے ، انہوں نے ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی ، تو میں اٹھ کر دروازے کی جھری کی طرف بڑھا اور میں نے اندر جھانکنا شروع کیا ، انہیں میرے بارے میں پتہ چل گیا ، جب انہوں نے ہمیں اجازت دی اور ہم بیٹھ گئے ، تو انہوں نے فرمایا : ابھی تھوڑی دیر پہلے تم میں سے کس نے میرے گھر میں جھانکا تھا ؟ میں نے کہا : میں نے ، انہوں نے فرمایا : تم نے کس بنیاد پر اس چیز کو حلال قرار دیا کہ تم میرے گھر میں جھانکو ؟ میں نے جواب دیا : آپ نے ہمارے حوالے سے تاخیر کر دی تھی ، اس لئے میں یہ دیکھ رہا تھا ، میں نے جان بوجھ کر یہ نہیں کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان لوگوں نے ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا : میں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! جہاد کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جو شخص جہاد کرتا ہے وہ اپنی ذات کے لئے جہاد کرتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور ابواسود اور برکہ بن یعلیٰ تمیمی نامی دونوں راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12815

Majma al-Zawaid #12815

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حُجْرَتِهِ إِذِ اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَصَاصِ الْبَيْتِ، فَنَظَرَ وَمَعَهُ مِدْرَى فَقَالَ: "" لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي، لَقُمْتُ حَتَّى أُدْخِلَ هَذَا فِي عَيْنِكَ، فَإِنَّمَا الْإِذْنُ لِيَكُفَّ الْبَصَرُ» "". قُلْتُ: هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَهِيَ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Ḥunayf, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that while the Messenger of Allah ﷺ was in his chamber, a man peered through a crevice of the house, and he saw him with a comb-like stick in his hand and said that if he had known he was watching him, he would have risen to insert it into his eye, for permission was legislated only to restrain the gaze. > **"If I knew you were watching me, I would have risen to insert this into your eye, for permission is only to restrain the gaze."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے ، اسی دوران کسی شخص نے دروازے کی جھری میں سے جھانک کر دیکھا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے دیکھ لیا ، آپ کے ہاتھ میں اس وقت ایک لکڑی تھی ( جس کے ذریعے خارش کی جاتی تھی ) آپ نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے یہ پتہ چل جاتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو ، تو میں نے اٹھ کر یہ ( لکڑی ) تمہاری آنکھ میں مار دینی تھی ، اجازت لینے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے ، تاکہ نگاہ رکی رہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح سفیان بن حسین کی زہری کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ روایت ضعیف ہے ۔

12816

Majma al-Zawaid #12816

وَعَنْ جَرِيرٍ «أَنَّ عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ إِلَى جَانِبِكَ؟ قَالَ: "" عَائِشَةُ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أَنْزِلُ لَكَ عَنْ خَيْرٍ مِنْهَا؟ - يَعْنِي امْرَأَتَهُ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا "". فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْرُجْ فَاسْتَأْذِنْ "". فَقَالَ لَهُ: إِنَّهَا يَمِينٌ عَلَيَّ أَنْ لَا أَسْتَأْذِنَ عَلَى مُضَرِيٍّ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: "" هَذَا أَحْمَقُ مُتَّبَعٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ حَافِظٌ رَحَّالٌ، قِيلَ فِيهِ: لَيْسَ بِذَاكَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُطِيعٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jarīr, may Allah be pleased with him, reports that ʿUyaynah ibn Ḥiṣn entered upon the Prophet ﷺ while ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, was with him, and asked who was beside him, so he said ʿĀʾishah, whereupon he asked whether he should step down for him one better than her, meaning his own wife, but the Prophet ﷺ said no, then the Prophet ﷺ told him to go out and seek permission, and he replied that he had taken an oath upon himself never to seek permission from a Muḍarī, so ʿĀʾishah asked who this was, and he said this was a foolish man who is followed. > **"Go out and seek permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں ، اس نے دریافت کیا : یہ آپ کے پہلو میں موجود خاتون کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عائشہ ہے ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے لئے اس سے زیادہ بہتر عورت سے لاتعلقی اختیار نہ کر لوں ۔ اس کی مراد اس کی اپنی بیوی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم باہر جاؤ اور اجازت مانگو ، اس نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : میں نے یہ قسم اٹھائی ہوئی ہے کہ میں مضر قبیلے کے کسی شخص سے اندر آنے کی اجازت نہیں مانگوں گا ( اس کے چلے جانے کے بعد ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دریافت کیا : یہ کون تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا احمق تھا جس کی پیروی کی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ حافظ الحدیث ہے ، جس نے علم حدیث کی طلب میں بہت زیادہ سفر کیا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اتنے پائے کا نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن محمد بن مطیع کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12817

Majma al-Zawaid #12817

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجِئْنَا، فَاسْتَأْذَنَّا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ sent for them, so they came and sought permission to enter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں پیغام بھیج کر بلوایا ، ہم آئے اور ہم نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12818

Majma al-Zawaid #12818

وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَسْتَأْذِنُ، فَدَقَّ الْبَابَ دَقًّا خَفِيفًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا سَفِينَةُ، افْتَحْ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Safīnah, may Allah be pleased with him, reports that he was with the Prophet ﷺ when ʿAlī, may Allah be pleased with him, came seeking permission and knocked the door lightly, so the Prophet ﷺ said O Safīnah, open for him. > **"O Safīnah, open for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، انہوں نے اجازت مانگتے ہوئے دروازہ آرام سے کھٹکھٹایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے سفینہ اس کے لئے درواز کھول دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12819

Majma al-Zawaid #12819

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: اجْتَمَعَ أَشْرَافُ قُرَيْشٍ عِنْدَ بَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فِيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، وَسُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَتِلْكَ الْعَبِيدُ وَالْمَوَالِي مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ آذِنُهُ، فَأَذِنَ لِبِلَالٍ وَصُهَيْبٍ وَغَيْرِهِمَا وَتَرَكَ الْآخَرِينَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ، إِنَّهُ أَذِنَ لِهَذِهِ الْعَبِيدِ، وَتَرَكَنَا جُلُوسًا بِبَابِهِ لَا يَأْذَنُ لَنَا! فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو - وَكَانَ رَجُلًا عَاقِلًا -: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى الَّذِي فِي وُجُوهِكُمْ، فَإِنْ كُنْتُمْ غِضَابًا فَاغْضَبُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، دُعِيَ الْقَوْمُ وَدُعِيتُمْ، فَأَسْرَعُوا وَأَبْطَأْتُمْ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَمَا سُبِقْتُمْ إِلَيْهِ مِنَ الْفَضْلِ أَشُدُّ عَلَيْكُمْ فَوْتًا مِنْ بَابِكُمُ الَّذِي تَنَافَسْتُمْ عَلَيْهِ. قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ، لَا يَجْعَلُ اللَّهُ عَبْدًا أَسْرَعَ إِلَيْهِ كَعَبْدٍ أَبْطَأَ عَنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reports that the nobles of Quraysh gathered at the door of ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allah be pleased with him, among them al-Ḥārith ibn Hishām, Abū Sufyān ibn Ḥarb and Suhayl ibn ʿAmr, along with slaves and freedmen from the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, and his chamberlain came out and permitted Bilāl, may Allah be pleased with him, and Ṣuhayb, may Allah be pleased with him, and others, leaving the rest, so Abū Sufyān said he had never seen the like of this day, that he permitted these slaves and left them sitting at his door without permission, whereupon Suhayl ibn ʿAmr, who was a man of reason, said O people, by Allah he saw what was in their faces, and if they were angry they should be angry at themselves, for the people were called and they were called, but they hastened and they delayed, then he said by Allah the virtue they were preceded to is a more severe loss upon them than this door over which they compete. Al-Ḥasan said by Allah, Allah does not make a servant hastening to Him like a servant delaying from Him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ قریش کے کچھ معززین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دروازے کے پاس اکٹھے ہوئے ، ان لوگوں میں حارث بن ہشام ، ابوسفیان بن حرب اور سہیل بن عمرو شامل تھے اور اس کے علاوہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ غلام یا آزاد شدہ غلام بھی تھے ، پھر اطلاع دینے والا شخص باہر آیا اور اس نے بتایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور دیگر لوگوں کو اجازت دیدی ہے ، اور باقی لوگوں کو ابھی نہیں دی ، ابوسفیان نے کہا : میں نے آج کی طرح کا دن کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے غلاموں کو اجازت دیدی ہے اور ہمیں اپنے دروازے پر بیٹھا چھوڑ دیا ہے ، اور ہمیں اجازت نہیں دی ، تو سہیل بن عمرو جو ایک عقل مند شخص تھے ۔ انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم ! تمہارے چہروں کی جو صورت حال ہے ۔ وہ میں دیکھ رہا ہوں ، اگر تم نے غضبناک ہونا ہے ، تو تم اپنی ذات کے حوالے سے غضبناک ہو ، کیونکہ ان لوگوں کو بھی دعوت دی گئی تھی اور تمہیں بھی دعوت دی گئی تھی ، تو ان لوگوں نے ( دعوت قبول کرنے میں ) جلدی کی اور تم لوگوں نے تاخیر کی ، پھر انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تمہیں جو فضیلت نصیب نہیں ہوئی وہ اس سے زیادہ شدید ہے ، جو تم اس دروازے پر ( اجازت نہ ملنے پر ) غصہ کر رہے ہو ۔ حسن بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف تیزی سے آنے والے بندے کو ، اس بندے کی مانند نہیں بنایا ہے ، جو اس کی طرف تاخیر سے آتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حسن نامی راوی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

12820

Majma al-Zawaid #12820

وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَلْيَرْجِعْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْعَبَّاسِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدُّورِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jundub ibn Sufyān, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that when one of them seeks permission three times and is not permitted, he should return. > **"When one of you seeks permission three times and is not permitted, let him return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص تین مرتبہ اجازت مانگ لے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس چلے جانا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عباس بن محمد دوری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12821

Majma al-Zawaid #12821

وَعَنْ أَعْيَنَ الْجَرَامِيزِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ فِي دِهْلِيزٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، قُلْتُ: أَدْخُلُ؟ قَالَ: هَذَا مَكَانٌ لَا يُسْتَأْذَنُ فِيهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَعْيَنُ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Aʿyan al-Jarāmīzī reports that he came to Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, while he was in a corridor, greeted him and asked whether he should enter, and he said this was a place in which no permission is sought.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اعین جرامیزی بیان کرتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، وہ اس وقت دہلیز میں موجود تھے ، میں نے انہیں سلام کیا ، میں نے دریافت کیا : کیا میں اندر آ جاؤں ؟ تو انہوں نے فرمایا : یہ وہ والی جگہ ہے ، جس میں اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اعین نامی راوی مجہول ہے ۔

12822

Majma al-Zawaid #12822

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: إِذَا دَعَوْتَ الرَّجُلَ فَقَدْ أَذِنْتَ لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, said that when you invite a man, you have already given him permission.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب میں کسی شخص کو بلاؤں تو گویا میں نے اسے اجازت دیدی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12823

Majma al-Zawaid #12823

وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَّا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَذِنَ لَنَا، وَأَلْقَى عَلَى امْرَأَتِهِ قَطِيفَةً، وَقَالَ: إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَالرَّجُلُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man reports that they sought permission from ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, after the dawn prayer, so he permitted them, cast a cloak over his wife and said that he disliked detaining them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں صبح کی نماز کے بعد اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو انہوں نے ہمیں اجازت دیدی ، انہوں نے اپنی بیوی پر چادر ڈال دی ، انہوں نے فرمایا : مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں تم لوگوں کو روک کے رکھوں ( یا اندر نہ آنے دوں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12824

Majma al-Zawaid #12824

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِلَّا بِإِذْنٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said not to enter the houses of the protected non-Muslims except with permission. > **"Do not enter the houses of the protected non-Muslims except with permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ذمیوں کے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12825

Majma al-Zawaid #12825

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ: "" كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا فُلَانُ؟ "". قَالَ: أَحْمَدُ اللَّهَ إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا الَّذِي أَرَدْتُ مِنْكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ asked a man how he was, O so-and-so, and he said he praised Allah to him, O Messenger of Allah, so the Messenger of Allah ﷺ said this is what he wanted from him. > **"How are you, O so-and-so?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے دریافت کیا : اے فلاں تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ میں آپ کے سامنے اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہی چیز میں تم سے چاہتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ وہ کہتے ہیں : یہ روایت نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔

12826

Majma al-Zawaid #12826

عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: «اسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلَى فَاطِمَةَ، فَأَذِنَتْ لَهُ، فَقَالَ: ثَمَّ عَلِيٌّ؟ قَالُوا: لَا. فَرَجَعَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: ثَمَّ عَلِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ حِينَ لَمْ تَجِدْنِي هَاهُنَا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغَيَّبَاتِ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ فَاطِمَةَ أَسْمَاءَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا صَالِحٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ فَاطِمَةَ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ عَمْرٍو.

EnglishUnverified translation

Abū Ṣāliḥ reports that ʿAmr ibn al-ʿĀṣ, may Allah be pleased with him, sought permission from Fāṭimah, may Allah be pleased with her, and she permitted him, so he asked whether ʿAlī was there, and they said no, so he returned, then sought permission from her another time and asked whether ʿAlī was there, and they said yes, so he entered, whereupon ʿAlī, may Allah be pleased with him, asked what had prevented him from entering when he had not found him there, and he said that the Messenger of Allah ﷺ had forbidden them from entering upon women whose husbands were absent.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصالح بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اجازت دیدی ، انہوں نے دریافت کیا : کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ گھر والوں نے بتایا : جی نہیں ۔ تو وہ واپس چلے گئے ۔ پھر بعد میں انہوں نے دوسری مرتبہ ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی اور دریافت کیا : حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ تو گھر والوں نے بتایا : جی ہاں ، تو وہ گھر آ گئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : آپ نے جب مجھے نہیں پایا تھا تو آپ اس وقت اندر کیوں نہیں آئے تھے ؟ تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم ایسی خواتین کے پاس جائیں ، جن کے شوہر گھر میں موجود نہ ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی جگہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوصالح نامی راوی نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔ اس نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ۔

12827

Majma al-Zawaid #12827

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ، وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِغَيْرِ كَذِبٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ would take good omens and would not take evil omens, and a good name pleased him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ فال لے لیتے تھے لیکن آپ شگون نہیں لیتے تھے اور آپ کو اچھا نام پسند تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ جھوٹ کے بغیر ضعیف ہے ۔

12828

Majma al-Zawaid #12828

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَأَلَ عَنِ اسْمِ الرَّجُلِ وَكَانَ حَسَنًا، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ كَرِهَهُ، فَإِذَا نَزَلَ بِالْقَرْيَةِ سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ كَانَ اسْمُهَا حَسَنًا سُرَّ بِذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn al-Shikhkhīr, may Allah be pleased with him, reports that when the Messenger of Allah ﷺ asked about a man's name and it was good, that would be recognized in his face, and if it was otherwise he disliked it, and when he stopped at a village he would ask its name, and if its name was good he rejoiced at that, and if it was otherwise that would be seen in his face.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب کسی شخص کا نام پوچھتے تھے ، تو اگر وہ اچھا ہوتا تھا تو اچھائی کا اندازہ آپ کے چہرے سے ہو جاتا تھا ، اور اگر وہ اس کے علاوہ ہوتا تھا تو آپ اس کو ناپسند کرتے تھے ، جب آپ کسی بستی میں پڑاؤ کرتے تھے ، تو وہاں کا نام دریافت کر لیتے تھے ، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تھا تو آپ اس بات پر خوش ہوتے تھے اور اگر وہ اس کے علاوہ ( یعنی برا ) ہوتا تھا تو اس کا اندازہ آپ کے چہرے سے ہو جاتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن بشیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12829

Majma al-Zawaid #12829

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ مِنْ حَقِّ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ أَنْ يُحْسِنَ اسْمَهُ، وَأَنْ يُحْسِنَ أَدَبَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that part of the right of a child upon his father is that he make his name good and make his upbringing good. > **"Part of the right of a child upon his father is that he make his name good and make his upbringing good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ والد کے ذمہ اولاد کے حقوق میں یہ بات شامل ہے کہ والد اس کا نام اچھا رکھے اور اس کی تربیت اچھی طرح سے کرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12830

Majma al-Zawaid #12830

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا أَبْرَدْتُمْ إِلَيَّ بَرِيدًا، فَابْعَثُوهُ حَسَنَ الْوَجْهِ حَسَنَ الِاسْمِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَطَرِيقُ الْبَزَّارِ ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when they send a messenger to him, they should send one of handsome face and handsome name. > **"When you send a messenger to me, send one of handsome face and handsome name."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم لوگ میری طرف کسی قاصد کو بھیجو ، تو ایسے شخص کو بھیجو جس کا چہرہ بھی اچھا ہو اور نام بھی اچھا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، امام بزار کا طریق ضعیف ہے ۔

12831

Majma al-Zawaid #12831

وَعَنْ يَعِيشَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: «دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاقَةً يَوْمًا فَقَالَ: "" مَنْ يَحْلِبُهَا؟ "". فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. فَقَالَ: "" مَا اسْمُكَ؟ "". قَالَ: مُرَّةُ. قَالَ: "" اقْعُدْ "". ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: "" مَا اسْمُكَ؟ "". قَالَ: مُرَّةُ. قَالَ: "" اقْعُدْ "". ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: "" مَا اسْمُكَ؟ "". قَالَ: جَمْرَةُ. فَقَالَ: "" اقْعُدْ "". ثُمَّ قَامَ يَعِيشُ، فَقَالَ: "" مَا اسْمُكَ؟ "". قَالَ: يَعِيشُ. قَالَ: "" احْلِبْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Yaʿīsh al-Ghifārī, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ called for a she-camel one day and asked who would milk it, so a man said he would, and asked his name, and he said Murrah, so he told him to sit, then another stood and asked his name, and he said Murrah, so he told him to sit, then another stood and asked his name, and he said Jamrah, so he told him to sit, then Yaʿīsh stood and asked his name, and he said Yaʿīsh, so he told him to milk it. > **"What is your name? Milk it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعیش غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے اونٹنی منگوائی ، آپ نے دریافت کیا : کون اس کا دودھ دوہ لے گا ؟ ایک صاحب نے عرض کی : میں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : مرہ ( یعنی کڑوا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا کیا نام ہے ؟ اس نے کہا : مرہ ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جمرہ ( یعنی انگارہ ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ۔ پھر حضرت یعیش رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یعیش ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کا دودھ دوہ لو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

12832

Majma al-Zawaid #12832

وَعَنْ أَبِي حَدْرَدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ يَسُوقُ إِبِلَنَا هَذِهِ؟ "" - أَوْ: "" مَنْ يُبَلِّغُ إِبِلَنَا هَذِهِ؟ "" - فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: "" مَا اسْمُكَ؟ "" قَالَ: فُلَانٌ. قَالَ: "" اجْلِسْ "". ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: أَنَا. قَالَ: "" مَا اسْمُكَ؟ "". قَالَ: نَاجِيَةُ. قَالَ: "" أَنْتَ لَهَا، فَسُقْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَمِّهِ، وَلَمْ أَرَ فِيهِمَا جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥadrad, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ asked who would drive these camels of theirs, or who would convey them, so a man stood and asked his name, and he said so-and-so, so he told him to sit, then another stood and said he would, and asked his name, and he said Nājiyah, so he said he was for it and told him to drive them. > **"What is your name? You are for it, so drive them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحددرد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کون ہمارے ان اونٹوں کو ہانک کر لے جائے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کون ہمارے اونٹوں کو ( منزل مقصود تک ) پہنچائے گا ، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : فلاں ۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں ایسا کر دوں گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ناجیہ ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ کام کرو گے ، تم انہیں لے جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے احمد بن بشیر کے حوالے سے اس کے چچا سے نقل کی ہے ، اور میں نے ان دونوں کے بارے میں کوئی جرح یا کوئی تعدیل نہیں پائی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12833

Majma al-Zawaid #12833

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنَ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī ʿAmrah reports from his uncle that the Messenger of Allah ﷺ said not to combine his name and his kunya. > **"Do not combine my name and my kunya."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوعمرہ اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے نام اور میری کنیت کو جمع نہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12834

Majma al-Zawaid #12834

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلَا يَكْتَنِي بِكُنْيَتِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥumayd, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever is named with his name should not use his kunya. > **"Whoever is named with my name, let him not use my kunya."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میرے نام کے مطابق نام رکھتا ہے ، تو وہ میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرے ‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

12835

Majma al-Zawaid #12835

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تُكَنُّوا بِكُنْيَتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما, the Messenger of Allah ﷺ gave instruction concerning his blessed name and kunya. > **"Name yourselves with my name, but do not take my kunya."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرے نام کے مطابق نام رکھو لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

12836

Majma al-Zawaid #12836

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ - يَعْنِي الظَّفَرِيَّ - قَالَ: «قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ابْنُ أُسْبُوعَيْنِ، فَأُتِيَ بِي إِلَيْهِ، فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ: "" سَمُّوهُ بِاسْمِي، وَلَا تُكَنُّوهُ بِكُنْيَتِي "". وَحُجَّ بِي مَعَهُ حِجَّةَ الْوَدَاعِ، وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ، فَلَقَدْ عَمَّرَ مُحَمَّدٌ حَتَّى شَابَ رَأْسُهُ، وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Faḍāla al-Ẓafarī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ arrived when he was two weeks old, he was brought to him, he wiped his head, commanded his naming, and he was later taken for Ḥajjat al-Wadāʿ at ten years of age. He lived long until his head grew white, except the spot touched by the hand of the Messenger of Allah ﷺ never grew white. > **"Name him with my name, and do not give him my kunya."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن فضالہ ظفری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو میں دو ہفتوں کا تھا ، مجھے آپ کی خدمت میں لایا گیا ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارشاد فرمایا : ’’ میرے نام کے مطابق اس کا نام رکھ دو لیکن میری کنیت کے مطابق اس کی کنیت نہ رکھنا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میرے والد مجھے ساتھ لے کر حجۃ الوداع پر گئے تھے اس وقت میری عمر دس سال تھی ، راوی کہتے ہیں : حضرت محمد بن فضالہ رضی اللہ عنہ کی عمر طویل ہوئی تھی ، یہاں تک کہ ان کے سر کے بال سفید ہو گئے تھے لیکن اس جگہ کے بال سفید نہیں ہوئے تھے جہاں نبی اکرم ﷺ نے دست مبارک رکھا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12837

Majma al-Zawaid #12837

وَعَنْ أَبِي غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ghaziyya al-Anṣārī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade joining his name and his kunya together. > **"Do not combine my name and my kunya."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوغزیہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے نام اور میری کنیت کو جمع نہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12838

Majma al-Zawaid #12838

وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَفْصَةُ بِنْتُ الْبَرَاءِ وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَمَنِ اخْتَلَفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbayd ibn ʿĀzib رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade joining his name with his kunya. > **"Do not combine my name and my kunya."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبید بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے نام اور میری کنیت کو جمع نہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفصہ بنت براء ہیں ، اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں اور ایک ایسا راوی ہے جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

12839

Majma al-Zawaid #12839

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تُسَمُّونَهُمْ مُحَمَّدًا ثُمَّ تَلْعَنُونَهُمْ»! "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ rebuked those who give the name Muḥammad and then curse its bearer. > **"You name them Muḥammad and then you curse them!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ ان ( بچوں ) کا نام محمد لکھ لیتے ہو ، اور پھر ان پر لعنت بھی کرتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے ، جسے امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12840

Majma al-Zawaid #12840

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا سَمَّيْتُمْ مُحَمَّدًا فَلَا تَضْرِبُوهُ وَلَا تَحْرِمُوهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ غَسَّانَ بْنِ عُبَيْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ command honour toward a child given the name Muḥammad. > **"When you name him Muḥammad, then do not beat him and do not deprive him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم ( کسی بچے کا ) نام محمد رکھ دو تو تم اس کی پٹائی نہ کرو اور تم اسے محروم نہ رکھو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد غسان بن عبید کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12841

Majma al-Zawaid #12841

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنَ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: نَظَرَ عُمَرُ إِلَى ابْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ - وَكَانَ اسْمُهُ مُحَمَّدًا - وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُ: فَعَلَ اللَّهُ بِكَ يَا مُحَمَّدُ. فَسَمَّاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي طَلْحَةَ وَهُمْ سَبْعَةٌ، سَيِّدُهُمْ وَكَبِيرُهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ فَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمْ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: أُذَكِّرُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللَّهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّانِي. فَقَالَ: قُومُوا، فَلَا سَبِيلَ إِلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Laylā reported that ʿUmar رضي الله عنه saw the son of ʿAbd al-Ḥamīd, whose name was Muḥammad, while a man was saying to him, May Allah do such-and-such to you, O Muḥammad. So he named him ʿAbd al-Raḥmān, then sent for Banū Ṭalḥa, who were seven, their chief and eldest being Muḥammad ibn Ṭalḥa, and changed their names. Muḥammad said, I remind you by Allah, O Commander of the Believers, for Muḥammad ﷺ himself named me. He then said, Rise, for there is no way against anything the Messenger of Allah ﷺ has named. > **"Rise, for there is no way against anything the Messenger of Allah ﷺ has named."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالحمید کے بیٹے کی طرف دیکھا ، اس کا نام محمد تھا ، اور وہ شخص اس سے یہ کہہ رہا تھا : اے محمد ! اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ یہ کرے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا نام عبدالرحمن رکھ دیا ، پھر انہوں نے بنو طلحہ کو پیغام بھیجا ، وہ سات افراد تھے ، ان سب کے سردار اور ان سب کے بڑے محمد بن طلحہ تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے نام تبدیل کیے ، تو محمد بن طلحہ نے کہا : اے امیرالمؤمنین میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ( کہ آپ ایسا نہ کریں ) کیونکہ حضرت محمد ﷺ نے میرا یہ نام رکھا ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اٹھ جاؤ ! کیونکہ جس کا نام نبی اکرم ﷺ نے تجویز کیا ہو اسے ( تبدیل کرنے کی ) کوئی صورت نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اور امام احمد نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12842

Majma al-Zawaid #12842

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ فَلَمْ يُسَمِّ أَحَدَهُمْ مُحَمَّدًا فَقَدْ جَهِلَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ described ignorance in one who has three children yet names none of them Muḥammad. > **"Whoever has three born to him and does not name one of them Muḥammad has indeed acted ignorantly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کے تین بچے ہوں اور وہ ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے تو اس نے جہالت کا مظاہرہ کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12843

Majma al-Zawaid #12843

وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ، لَمْ يُسَمِّ أَحَدَهُمْ مُحَمَّدًا فَقَدْ جَهِلَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthila رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described ignorance in one granted three sons yet naming none Muḥammad. > **"Whoever has three sons born to him and does not name one of them Muḥammad has indeed acted ignorantly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کے ہاں تین اولادیں ہوں ( یعنی تین بیٹے ہوں ) اور وہ ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے تو اس نے جہالت کا مظاہرہ کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ بن وجیہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔

12844

Majma al-Zawaid #12844

وَعَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي ظِئْرُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: «لَمَّا وُلِدَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟ "". قُلْنَا: مُحَمَّدٌ. قَالَ: "" هَذَا اسْمِي، وَكُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وُلِدَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّاهُ أَبَا الْقَاسِمِ.

EnglishUnverified translation

ʿĪsā ibn Ṭalḥa reported from the wet-nurse of Muḥammad ibn Ṭalḥa that when Muḥammad ibn Ṭalḥa was born she brought him to the Prophet ﷺ. He asked what they had named him, they said Muḥammad, and he affirmed his name and kunya. Muḥammad ibn Ṭalḥa ibn ʿUbayd Allāh رضي الله عنه was born in the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ, who named him Muḥammad and gave him the kunya Abū al-Qāsim. > **"What have you named him? This is my name, and his kunya is Abū al-Qāsim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : محمد بن طلحہ کی دائی ماں بیان کرتی ہیں کہ جب محمد بن طلحہ پیدا ہوئے ، تو میں انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگ اس کا کیا نام رکھو گے ؟ ہم نے عرض کی : محمد ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ میرے نام کے مطابق ہے اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان بن ابوشیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔ امام طبرانی کہتے ہیں : حضرت محمد بن طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں پیدا ہوئے تھے اور نبی اکرم ﷺ نے ان کا نام محمد رکھا تھا ، اور ان کی کنیت ابوالقاسم تجویز کی تھی ۔

12845

Majma al-Zawaid #12845

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَالْحَارِثُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ named the most beloved names to Allah. > **"The most beloved names to Allah are ʿAbd Allāh, ʿAbd al-Raḥmān, and al-Ḥārith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ ، عبدالرحمن اور حارث ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12846

Majma al-Zawaid #12846

وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَبْرَةَ: «أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ذَهَبَ مَعَ جَدِّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا اسْمُ ابْنِكَ؟ "". فَقَالَ: عَزِيزٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تُسَمِّهِ عَزِيزًا، وَلَكِنْ سَمِّهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ "". ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ خَيْرَ الْأَسْمَاءِ: عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَالْحَارِثُ» "".

EnglishUnverified translation

Khaythama ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn Sabra reported that his father ʿAbd al-Raḥmān went with his grandfather to the Messenger of Allah ﷺ. The Prophet ﷺ asked the name of his son, he said ʿAzīz, so the Prophet ﷺ ordered him not to call him ʿAzīz but to name him ʿAbd al-Raḥmān, then stated the best of names. > **"Do not name him ʿAzīz, but name him ʿAbd al-Raḥmān. Indeed the best of names are ʿAbd Allāh, ʿAbd al-Raḥmān, and al-Ḥārith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خیثمہ بن عبدالرحمن بن سبرہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے دادا کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تمہارے بیٹے کا کیا نام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : عزیز ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے عزیز نام نہ دو ، بلکہ تم اس کا نام عبدالرحمن رکھو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سب سے بہتر نام عبداللہ ، عبدالرحمن اور حارث ہیں ۔

12847

Majma al-Zawaid #12847

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ: «وُلِدَ لِجَدِّي غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ عَزِيزًا، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: وُلِدَ لِي غُلَامٌ. فَقَالَ: " مَا سَمَّيْتَهُ؟ ". قَالَ: قُلْتُ: عَزِيزًا. قَالَ: " لَا بَلْ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ» ".

EnglishUnverified translation

Khaythama reported in a variant that a boy was born to his grandfather, he named him ʿAzīz, then came to the Prophet ﷺ and said a boy was born to me. When asked his chosen name and answering ʿAzīz, the Prophet ﷺ corrected it. > **"What did you name him? No, rather he is ʿAbd al-Raḥmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خیثمہ کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میرے دادا کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ، انہوں نے اس کا نام عزیز رکھا ، وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : میرے ہاں بیٹا ہوا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : عزیز ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ عبدالرحمن ہے ۔

12848

Majma al-Zawaid #12848

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ اسْمُ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَزِيزًا، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ الرَّحْمَنِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَلَكِنَّ ظَاهِرَ الرِّوَايَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ الْإِرْسَالُ.

EnglishUnverified translation

Khaythama reported from his father that his father's name in Jāhiliyya was ʿAzīz, and the Messenger of Allah ﷺ named him ʿAbd al-Raḥmān. > **"In Jāhiliyya my father's name was ʿAzīz, so the Messenger of Allah ﷺ named him ʿAbd al-Raḥmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : خیثمہ اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں میرے والد کا نام عزیز تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا ۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، لیکن دونوں پہلے والی روایتوں سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ مرسل ہیں ۔

12849

Majma al-Zawaid #12849

وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا اسْمُ ابْنِكَ هَذَا؟ "". قَالَ: اسْمُهُ عَزِيزٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تُسَمِّهِ عَزِيزًا، وَلَكِنْ سَمِّهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Khaythama ibn ʿAbd al-Raḥmān reported from his father that he came with his father to the Prophet ﷺ as a boy. The Prophet ﷺ asked his father the boy's name, he said ʿAzīz, so the Messenger of Allah ﷺ ordered him to change it and stated the most beloved names to Allah. > **"Do not name him ʿAzīz, but name him ʿAbd al-Raḥmān, for indeed the most beloved names to Allah are ʿAbd Allāh and ʿAbd al-Raḥmān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خیثمہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں بچہ تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تمہارے بیٹے کا کیا نام ہے ؟ انہوں نے کہا : اس کا نام عزیز ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اس کا نام عزیز نہ رکھو بلکہ اس کا نام عبدالرحمن رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔