Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 5

Book of Good Manners

Hadith 12770–12809

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12770

Majma al-Zawaid #12770

وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: «لَقِيَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَصَافَحَنِي، وَضَحِكَ فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ: تَدْرِي لِمَ أَخَذْتُ بِيَدِكَ؟ قَالَ: لَا، لَا، إِنِّي ظَنَنْتُ لَمْ تَفْعَلْهُ إِلَّا لِخَيْرٍ. فَقَالَ: إِنِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَنِي فَفَعَلَ بِي ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: "" تَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ بِكَ ذَلِكَ؟ "". قُلْتُ: لَا. فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الْمُسْلِمَيْنِ إِذَا الْتَقَيَا وَتَصَافَحَا، وَضَحِكَ كُلٌّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي وَجْهِ صَاحِبِهِ، لَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ إِلَّا لِأَنَّهُ لَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو دَاوُدَ الرَّاوِي عَنِ الْبَرَاءِ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Dāwūd reports that al-Barāʾ ibn ʿĀzib, may Allah be pleased with him, met him, took his hand, shook it, smiled in his face and said whether he knew why he took his hand, and he answered that he thought it was only for some good, so al-Barāʾ said that the Prophet ﷺ had met him and done the same, then asked whether he knew why he did that, and when he said no, the Prophet ﷺ said that when two Muslims meet and shake hands and each smiles in the face of his companion, doing so only for Allah, they do not separate until they are forgiven. > **"When two Muslims meet and shake hands and each smiles in the face of his companion, they do not separate until they are forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوداؤد بیان کرتے ہیں : حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ، میرے ساتھ مصافحہ کیا اور میرے ساتھ مسکرا کے ملے اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو میں نے تمہارا ہاتھ کیوں پکڑا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ، لیکن مجھے یہ اندازہ ہے کہ آپ نے کسی بھلائی کی وجہ سے ہی ایسا کیا ہو گا ، انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کی ایک مرتبہ مجھ سے ملاقات ہوئی ، تو آپ ﷺ نے میرے ساتھ اس طرح کیا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں ، تو جب وہ ایسا کرتے ہیں ، تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ امام ابوداؤد نے اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، حضرت براء رضی اللہ عنہ سے نقل کرنے والا شخص ابوداؤد متروک ہے ۔

12771

Majma al-Zawaid #12771

وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا لَقِيَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ، تَحَاتَّتْ عَنْهُمَا ذُنُوبُهُمَا، كَمَا يَتَحَاتُّ الْوَرَقُ عَنِ الشَّجَرَةِ الْيَابِسَةِ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ، وَإِلَّا غُفِرَ لَهُمَا، وَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُهُمَا مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān al-Fārisī, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that when a Muslim meets his Muslim brother and takes his hand, their sins fall from them as leaves fall from a dry tree on a day of violent wind, and they are forgiven even if their sins are like the foam of the sea. > **"When a Muslim meets his Muslim brother and takes his hand, their sins fall from them as leaves fall from a dry tree on a day of violent wind, and they are forgiven even if their sins are like the foam of the sea."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے ، اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے ، تو ان دونوں کے گناہ یوں جھڑ جاتے ہیں جس طرح تیز ہوا والے دن میں خشک درخت کے پتے گر جاتے ہیں ، اور ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اگرچہ ان دونوں کے گناہ سمندر کے جھاگ کی مانند ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سالم بن غیلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12772

Majma al-Zawaid #12772

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا تَصَافَحَ الْمُسْلِمَانِ لَمْ تُفْرَقْ أَكُفُّهُمَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُهَلَّبُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when two Muslims shake hands, their palms do not part until they are forgiven. > **"When two Muslims shake hands, their palms do not part until they are forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب دو مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کی ہتھیلیاں جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہلب بن علاء ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12773

Majma al-Zawaid #12773

عَنْ سَلْمَانَ - يَعْنِي الْفَارِسِيَّ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ سَرَّهُ أَنْ لَا يَجِدَ الشَّيْطَانُ عِنْدَهُ طَعَامًا وَلَا مَقِيلًا وَلَا مَبِيتًا، فَلْيُسَلِّمْ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ، وَلْيُسَمِّ عَلَى طَعَامِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو الصَّبَاحِ عَبْدُ الْغَفُورِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān al-Fārisī, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that whoever wishes that Satan finds with him neither food nor midday rest nor night lodging should greet with peace when he enters his house and name Allah over his food. > **"Whoever wishes that Satan finds with him neither food nor midday rest nor night lodging, let him greet with peace when he enters his house and name Allah over his food."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ شیطان اس کے ہاں کھانے یا سونے یا رات بسر کرنے میں موجود نہ ہو ، تو جب وہ گھر میں داخل ہو ، تو اسے سلام کرنا چاہیے اور اپنے کھانے پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوصباح عبدالغفور ہے اور وہ متروک ہے ۔

12774

Majma al-Zawaid #12774

عَنْ جَرِيرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «مَرَّ بِنِسَاءٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ طَارِقٍ التَّمِيمِيِّ. وَفِي الْآخَرِ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ طَارِقٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ وَجَابِرِ بْنِ طَارِقٍ: لَمْ أَعْرِفْهُ، وَجَابِرٌ عَنْ طَارِقٍ، فَإِنْ كَانَ جَابِرٌ هُوَ الْجُعْفِيُّ فَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jarīr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ passed by some women and greeted them with peace.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ خواتین کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں سلام کیا ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کی دو میں سے ایک سند میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ شعبہ کے حوالے سے جابر کے حوالے سے طارق تمیمی سے منقول ہے ، جبکہ دوسری سند میں یہ بات منقول ہے ، یہ شعبہ کے حوالے سے جابر کے حوالے سے طارق تمیمی کے حوالے سے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور جابر بن طارق سے میں واقف نہیں ہوں اور جابر کے حوالے سے طارق سے منقول روایت میں اگر تو یہ جابر جعفی ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ۔

12775

Majma al-Zawaid #12775

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَرَدَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِشَارَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: "" كُنَّا نَرُدُّ السَّلَامَ فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ - كَاتِبُ اللَّيْثِ - وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reports that a man greeted the Prophet ﷺ while he was in prayer, so the Prophet ﷺ returned it by gesture, and when he finished the prayer he said that they used to return the greeting in prayer but were then forbidden from that. > **"We used to return the greeting, then we were forbidden from that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے اشارے کے ساتھ جواب دیا ، جب آپ نے سلام پھیر لیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : پہلے ہم ( نماز کے دوران ) سلام کا جواب دیدیا کرتے تھے ، پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ۔ اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف بھی قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12776

Majma al-Zawaid #12776

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, reports that he passed by the Messenger of Allah ﷺ while he was praying, greeted him, and he gestured to him in reply.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا ، آپ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارے کے ساتھ جواب دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12777

Majma al-Zawaid #12777

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَوْ دَخَلْتَ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ يَصَلُّونَ مَا سَلَّمْتَ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, said that if he entered upon people who were praying, he would not greet them with peace.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں کچھ لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز ادا کر رہے ہوں ، تو میں انہیں سلام نہیں کروں گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12778

Majma al-Zawaid #12778

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَسْلِيمُ الرَّجُلِ بِإِصْبَعٍ وَاحِدَةٍ يُشِيرُ بِهَا فِعْلُ الْيَهُودِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that greeting a man with one finger by gesturing with it is the act of the Jews. > **"Greeting with one finger by gesturing with it is the act of the Jews."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کے ساتھ سلام کرنا ، یہودیوں کا طریقہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12779

Majma al-Zawaid #12779

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - أَظُنُّهُ مَرْفُوعًا - قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا، لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى، فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الْإِشَارَةُ بِالْأَصَابِعِ، وَإِنَّ تَسْلِيمَ النَّصَارَى بِالْأَكُفِّ، وَلَا تَقُصُّوا النَّوَاصِيَ، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى، وَلَا تَمْشُوا فِي الْمَسَاجِدِ وَالْأَسْوَاقِ، وَعَلَيْكُمُ الْقُمُصُ، إِلَّا وَتَحْتَهَا الْأُزُرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with him, reports, thinking it raised to the Prophet ﷺ, that he said that whoever imitates other than us is not of us, so do not imitate the Jews nor the Christians, for the greeting of the Jews is gesture with the fingers and the greeting of the Christians is with the palms, and do not clip only the forelocks, and trim the mustaches, and leave the beards full, and do not walk in the mosques and markets wearing only shirts without lower garments beneath them. > **"He is not of us who imitates other than us. Do not imitate the Jews nor the Christians, for the greeting of the Jews is gesture with the fingers and the greeting of the Christians is with the palms."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( راوی کہتے ہیں : ) میرا خیال ہے ۔ انہوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے علاوہ کسی کی مشابہت اختیار کرے ، تم لوگ یہودیوں یا عیسائیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو ، کیونکہ یہودیوں کا سلام کرنے کا طریقہ انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرنا ہے ، اور عیسائیوں کا سلام کرنے کا طریقہ ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کرنا ہے ، اور تم صرف پیشانی سے بال چھوٹے نہ کرو ، اور تم مونچھیں چھوٹی رکھو اور تم داڑھی بڑھا کے رکھو اور تم مساجد اور بازاروں میں یوں نہ چلو کہ تم نے صرف قمیص پہنی ہوئی ہو ، بلکہ ساتھ تہبند بھی ہونا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12780

Majma al-Zawaid #12780

عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ إِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى كِسْرَى وَإِلَى صَاحِبِ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ، وَبَعَثَ عَمْرًا إِلَى النَّجَاشِيِّ، فَلَمَّا أَتَى عَمْرٌو النَّجَاشِيَّ، وَجَدَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَدْخُلُونَ مُكَفِّرِينَ مِنْ خَوْخَةٍ، فَلَمَّا رَأَى الْخَوْخَةَ وَدُخُولَهُمْ عَلَيْهِ، وَلَى ظَهْرَهُ، ثُمَّ دَخَلَ يَمْشِي الْقَهْقَرِيَّ، فَلَمَّا دَخَلَ مِنْهَا اعْتَدَلَ، فَفَزِعَتِ الْحَبَشَةُ وَهَمُّوا بِقَتْلِهِ، قَالُوا: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ كَمَا دَخَلْنَا؟ قَالَ: لَا نَصْنَعُ ذَلِكَ بِنَبِيِّنَا، فَهُوَ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ ذَلِكَ بِهِ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ: اتْرُكُوهُ، صَدَقَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Umayyah al-Ḍamrī, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ sent three men to Caesar, to Kisrā and to the ruler of Alexandria, and sent ʿAmr to the Negus, and when ʿAmr came to the Negus he found that those with him entered bending low through a small door, so when he saw the small door and their entering through it, he turned his back and entered walking backward, then straightened when inside, so the Abyssinians were alarmed and intended to kill him and asked what prevented him from entering as they entered, and he said that they do not do that even with their Prophet, who is more deserving of it, so the Negus said to leave him, for he speaks the truth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن امیہ بن ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے تین افراد کو بھیجا ، ایک کو قیصر کی طرف ، ایک کو کسریٰ کی طرف اور ایک کو اسکندریہ کے حکمران کی طرف بھیجا ، آپ نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا ، جب حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نجاشی کے پاس آئے ، تو انہوں نے یہ صورت حال پائی کہ جو لوگ بھی نجاشی کے پاس آتے تھے ، وہ ایک چھوٹے دروازے میں سے داخل ہوتے تھے ، جب حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے اس چھوٹے دروازے کو اور ان لوگوں کے داخل ہونے کے طریقے کو دیکھا تو انہوں نے پیٹھ پھیر لی اور پھر الٹے قدم چلتے ہوئے اندر داخل ہوئے ، جب وہ اندر داخل ہو گئے ، تو سیدھے ہو گئے ، حبشی لوگ اس بات پر مشتعل ہو گئے ، انہوں نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ، ان لوگوں نے کہا : تم اس طرح کیوں نہیں داخل ہوئے جس طرح ہم داخل ہوتے ہیں ؟ تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم اپنے نبی کے ساتھ بھی ایسا نہیں کرتے ہیں ، جو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ اس طرح کیا جائے ، تو نجاشی نے کہا : اسے چھوڑ دو یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

12781

Majma al-Zawaid #12781

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ بِمَكَّةَ حِينَ شَطَّتْ بِهِمْ عَشَائِرُهُمْ: "" تَفَرَّقُوا فِي الْأَرْضِ "". فَتَفَرَّقُوا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ عَمْرٌو وَعَبْدُ اللَّهِ لِلنَّجَاشِيِّ: لَا يُحَيُّوكَ بِالتَّحِيَّةِ الَّتِي يُحَيِّيكَ بِهَا مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْكَ مِنَّا. فَقَالَ لِجَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ: مَا لَكُمْ مَا تُحَيُّونِي كَمَا يُحَيِّي أَصْحَابُكُمْ؟ قَالَ: نُحَيِّيكُمْ بِتَحِيَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهَا تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُ بِسَبَبِ التَّدْلِيسِ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ عَنْ شَيْخٍ ثِقَةٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي قَوْلِهِ: "" «لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا» "". مِنْ طُرُقٍ فِي النِّكَاحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reports that when their clans oppressed them in Makkah, the Messenger of Allah ﷺ told the Muslims to disperse in the land, so they dispersed to the land of Abyssinia, and Quraysh sent ʿAbd Allāh ibn Abī Rabīʿah and ʿAmr ibn al-ʿĀṣ, and among what ʿAmr and ʿAbd Allāh said to the Negus was that they do not greet him with the greeting with which those from us greet him, so he asked Jaʿfar, may Allah be pleased with him, and his companions why they do not greet him as their companions greet him, and he replied that they greet him with the greeting of their Prophet ﷺ, for it is the greeting of the people of Paradise. > **"Disperse in the land."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مکہ میں جب مسلمانوں کے خاندانوں نے انہیں تنگ کرنا شروع کیا تو نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم زمین میں ادھر ادھر چلے جاؤ ، تو وہ لوگ حبشہ کی سرزمین کی طرف چلے گئے ، قریش نے عبداللہ بن ابوربیعہ اور عمرو بن العاص کو بھیجا ، عمرو اور عبداللہ نے نجاشی سے جو باتیں کی تھیں ، ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ یہ لوگ آپ کو اس طرح سلام نہیں کریں گے ، جس طرح ہم میں سے آپ کے پاس آنے والا شخص آپ کو سلام کرتا ہے ، نجاشی نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس طرح سلام نہیں کرتے ہو ، جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ہم آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح ہمارے نبی کو سلام کیا جاتا ہے ، اور یہ اہل جنت کا سلام کرنے کا طریقہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یعقوب زہری ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کی تدلیس کی وجہ سے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، تاہم اس نے ایک ایسے شیخ کے حوالے سے تحدیث کی صراحت کی ہے ، جو ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جن میں نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان مذکور ہے : ’’ اگر میں نے کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کی اجازت دینی ہوتی ، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔‘‘ اس روایت کے مختلف طرق کتاب النکاح میں گزرے ہیں ۔

12782

Majma al-Zawaid #12782

عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ بَيْنَ يَدَيْهِ قِيَامًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Murrah al-Juhanī, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever loves that men stand before him in attendance should take his seat in the Fire. > **"Whoever loves that men stand before him in attendance, let him take his seat in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12783

Majma al-Zawaid #12783

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَنَّهُمْ عَظَّمُوا مُلُوكَهُمْ، بِأَنْ قَامُوا وَقَعَدُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that those before them perished only because they magnified their kings by standing while the kings remained seated. > **"Those before you perished only because they magnified their kings by standing while they sat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ وہ اپنے بادشاہوں کی ( غیر شرعی طور پر ) تعظیم کرتے تھے کہ وہ لوگ کھڑے رہتے تھے اور بادشاہ بیٹھے رہتے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن قتبیہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12784

Majma al-Zawaid #12784

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: قُومُوا نَسْتَغِيثْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا يُقَامُ لِي إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ came out to them, and Abū Bakr, may Allah be pleased with him, said to stand and seek aid with the Messenger of Allah ﷺ against this hypocrite, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said that no one should stand for him, for standing is only for Allah, Blessed and Exalted. > **"Do not stand for me; standing is only for Allah, Blessed and Exalted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ اٹھو ! تاکہ اس منافق کے مقابلے میں اللہ کے رسول سے مدد طلب کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے لئے قیام نہ کیا جائے ، قیام اللہ تعالیٰ کے لئے کیا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔

12785

Majma al-Zawaid #12785

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَقُومُ الرَّجُلُ مِنْ مَحَلِّهِ لِأَخِيهِ، إِلَّا بَنِي هَاشِمٍ لَا يَقُومُونَ لِأَحَدٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that a man stands from his place for his brother, except the Banū Hāshim who do not stand for anyone. > **"A man stands from his place for his brother, except the Banū Hāshim who do not stand for anyone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی شخص اپنے بھائی کے لئے اپنی جگہ سے کھڑا ہو جاتا ہے البتہ بنو ہاشم کا معاملہ مختلف ہے وہ کسی کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

12786

Majma al-Zawaid #12786

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا خَرَجَ قُمْنَا لَهُ حَتَّى يَدْخُلَ بَيْتَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِيمَا جَمَعْتُهُ، وَلَعَلَّهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ الظَّاهِرُ، فَإِنَّ هِلَالًا تَابِعِيٌّ ثِقَةٌ، أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَهُوَ بَعِيدٌ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Hilāl reports from his father that when the Prophet ﷺ would come out, they would stand for him until he entered his house.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن ہلال اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب نکلتے تھے ، تو ہم آپ کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے ، یہاں تک کہ آپ اپنے گھر میں داخل ہو جاتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، میں نے جن روایات کو جمع کیا ہے ، ان میں یہ اسی طرح میں نے پائی ہے ، لیکن شاید یہ محمد بن ہلال کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، اور یہی بات ظاہر ہے کیونکہ ہلال نامی راوی تابعی ہیں ، اور ثقہ ہیں یا پھر یہ روایت محمد بن ہلال بن ابوہلال کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے منقول ہے ، لیکن یہ بعید از امکان ہے ، امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

12787

Majma al-Zawaid #12787

وَعَنْ وَاثِلَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ - قَالَ: «دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ وَحْدَهُ، فَتَزَحْزَحَ لَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَكَانَ وَاسِعٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لِلْمُسْلِمِ حَقًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُمَيْرٍ عِيسَى بْنَ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسَ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ, may Allah be pleased with him, reports that a man entered the mosque while the Prophet ﷺ was alone in it, so the Prophet ﷺ moved over for him, and the man said that the place was spacious, whereupon the Prophet ﷺ said that the Muslim has a right to such consideration. > **"The Muslim has a right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، نبی اکرم ﷺ اس وقت مسجد میں اکیلے موجود تھے ۔ نبی اکرم ﷺ اس کے لئے اپنی جگہ سے ہلے تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کافی جگہ موجود ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مسلمان کا حق ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوعمیر عیسیٰ بن محمد نحاس کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے اس کے ابواسود سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

12788

Majma al-Zawaid #12788

عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: جَاءَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ إِلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، فَدَخَلَا عَلَيْهِ فِي حِصْنٍ فِي نَاحِيَةِ الْمَدَائِنِ، فَأَتَيَاهُ، فَسَلَّمَا عَلَيْهِ وَحَيَّيَاهُ، ثُمَّ قَالَا: أَنْتَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَا: أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. فَارْتَابَا وَقَالَا: لَعَلَّهُ لَيْسَ الَّذِي نُرِيدُ، قَالَ لَهُمَا: أَنَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تُرِيدَانِ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَالَسْتُهُ، فَإِنَّمَا صَاحِبُهُ مَنْ دَخَلَ مَعَهُ الْجَنَّةَ، فَمَا حَاجَتُكُمَا؟ قَالَا: جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ أَخٍ لَكَ بِالشَّامِ. فَقَالَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَا: أَبُو الدَّرْدَاءِ. قَالَ: فَأَيْنَ هَدِيَّتُهُ الَّتِي أَرْسَلَ بِهَا مَعَكُمَا؟ قَالَا: مَا أَرْسَلَ مَعَنَا هَدِيَّةً. قَالَ: اتَّقِيَا اللَّهَ وَأَدِّيَا الْأَمَانَةَ، مَا جَاءَنِي أَحَدٌ مِنْ عِنْدِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ بِهَدِيَّةٍ. قَالَا: لَا يَرْفَعُ عَلَيْنَا هَذَا، إِنَّ لَنَا أَمْوَالًا فَاحْتَكِمْ فِيهَا. قَالَ: مَا أُرِيدُ أَمْوَالَكُمَا، وَلَكِنِّي أُرِيدُ الْهَدِيَّةَ الَّتِي بَعَثَ بِهَا مَعَكُمَا. قَالَا: وَاللَّهِ مَا بَعَثَ مَعَنَا بِشَيْءٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَنَا: إِنَّ فِيكُمْ رَجُلًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَلَا بِهِ لَمْ يَبْغِ أَحَدًا غَيْرَهُ، فَإِذَا أَتَيْتُمَاهُ فَأَقْرِئَاهُ مِنِّي السَّلَامَ. قَالَ: فَأَيُّ هَدِيَّةٍ كَنْتُ أُرِيدُ مِنْكُمَا غَيْرَ هَذِهِ؟ وَأَيُّ هَدِيَّةٍ أَفْضَلُ مِنَ السَّلَامِ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَسْعُودِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Bakhtarī reports that al-Ashʿath ibn Qays and Jarīr ibn ʿAbd Allāh al-Bajalī, may Allah be pleased with them, came to Salmān al-Fārisī, may Allah be pleased with him, in a fortress on the outskirts of al-Madāʾin, greeted him and asked whether he was Salmān al-Fārisī, and he said yes, then they asked whether he was the companion of the Messenger of Allah ﷺ, and he said he did not know, so they doubted and thought he might not be the one they sought, whereupon he told them that he was indeed the companion they sought, that he had seen the Messenger of Allah ﷺ and sat with him, but the true companion is whoever enters Paradise with him, and asked their need, so they said they had come from a brother of his in Sham, and when asked who, they said Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, so he asked where was the gift he had sent with them, and they said he sent no gift, so he told them to fear Allah and fulfill the trust, for no one came to him from Abū al-Dardāʾ except with a gift, and they said not to press this upon them since they had wealth for him to decide about, but he said he did not want their wealth but the gift sent with them, so they swore by Allah that he sent nothing with them except that he told them that among them was a man with whom the Messenger of Allah ﷺ, when alone with him, desired no one else, and that when they reached him they should convey his greeting of peace, whereupon Salmān said what gift did he want from them other than this, and what gift is better than peace, a blessed wholesome greeting from Allah. > **"What gift did I want from you other than this, and what gift is better than peace, a blessed wholesome greeting from Allah?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالبختری بیان کرتے ہیں : ابواشعث بن قیس اور جریر بن عبداللہ بجلی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، یہ دونوں حضرات مدائن کے نواحی علاقے میں موجود ایک قلعے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، ان دونوں حضرات نے انہیں سلام کیا ، پھر ان دونوں نے دریافت کیا : کیا آپ سلمان فارسی ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ان دونوں نے دریافت کیا : کیا آپ اللہ کے رسول کے ساتھی ہیں ، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، ان دونوں کو اس بارے میں شک ہوا ، ان دونوں نے سوچا کہ شاید یہ وہ والے فرد نہیں ہیں ، جن سے ہم ملنا چاہتے ہیں ، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا کہ میں تمہارا وہی متعلقہ فرد ہوں جس سے تم ملنا چاہتے ہو ، میں نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہے ، آپ کے ساتھ بیٹھا ہوں ، لیکن نبی اکرم ﷺ کا ساتھی وہ ہو گا ، جو آپ کے ساتھ جنت میں داخل ہو گا ، تم دونوں کو کیا کام ہے ؟ ان دونوں نے جواب دیا : ہم دونوں آپ کے پاس شام میں موجود آپ کے بھائی کی طرف سے آئے ہیں ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ کون ہیں ؟ ان دونوں نے جواب دیا : حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس کا تحفہ کہاں ہے جو اس نے تم دونوں کے ہمراہ بھیجا ہے ، تو ان دونوں نے جواب دیا : انہوں نے تو ہمارے ساتھ کوئی تحفہ نہیں بھیجا ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم دونوں اللہ سے ڈرو اور امانت ادا کرو ، اس کے پاس سے جو بھی شخص میرے پاس آتا ہے وہ اس کی طرف سے تحفہ ساتھ لاتا ہے ، ان دونوں نے کہا : یہ چیز ہمارے سامنے نہ اٹھائی جائے ، ہمارے پاس اپنا مال ہے ، آپ اس کے بارے میں جو چاہیں ارشاد فرمائیں ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم دونوں کا مال نہیں چاہتا ، میں وہ تحفہ چاہتا ہوں ، جو اس نے تم دونوں کے ہمراہ بھیجا ہو گا ، تو ان دونوں نے کہا : اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمارے ہمراہ کوئی چیز نہیں بھیجی ، البتہ انہوں نے ہم سے یہ کہا تھا کہ تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب اس کے ساتھ تنہا ہوتے تھے ، تو آپ اس کی موجودگی میں کسی اور کے ساتھ ہونے کے طلب گار نہیں ہوتے تھے ، تو جب تم دونوں اس کے پاس جاؤ ، تو اسے میری طرف سے سلام کہنا ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہی تو وہ تحفہ ہے جو میں تم سے حاصل کرنا چاہ رہا تھا ، سلام سے زیادہ اچھا تحفہ اور کون سا ہو سکتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحیت ہے ، برکت والی چیز ہے اور پاکیزہ چیز ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یحیی بن ابراہیم مسعودی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12789

Majma al-Zawaid #12789

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فَارْدُدْ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ مَجُوسِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا} [النساء: 86]. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, said that whoever of Allah's creation greets you, return his greeting, even if he is a Magian, for Allah says that when you are greeted with a greeting, greet with better than it or return it. > **"Whoever of Allah's creation greets you, return it upon him, even if he is a Magian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ کی مخلوق میں سے جو بھی تمہیں سلام کرے ، تم اسے جواب دو البتہ اگر وہ مجوسی ہو تو اس کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے زیادہ اچھے طریقے سے یا ( اس کی مانند ) جواب دو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12790

Majma al-Zawaid #12790

وَعَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: مَشَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الْقَصْرِ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ تَمِيمَ بْنَ سَلَمَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Tamīm ibn Salamah reports that some people of polytheism walked with ʿAbd Allāh, may Allah be pleased with him, and when he reached the gate of the palace, he greeted them with peace.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

تمیم بن سلمہ بیان کرتے ہیں : اہل شرک سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے ، جب وہ باب قصر تک پہنچے تو انہوں نے ان لوگوں کو سلام کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ تمیم بن سلمہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

12791

Majma al-Zawaid #12791

وَعَنْ أَبِي بَصْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّا غَادُونَ عَلَى يَهُودَ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ: «فَلَمَّا جِئْنَاهُمْ سَلَّمُوا عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: وَعَلَيْكُمْ». وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Baṣrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that they would go to the Jews in the morning, so they should not begin them with peace, but if they greeted them they should say: and upon you. He added that when they came to them and they greeted them, they said: and upon you. > **"We shall go to the Jews in the morning, so do not begin them with peace, and if they greet you, say: And upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبصرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ صبح ہم یہودیوں کے پاس جائیں گے تو تم انہیں سلام میں پہل نہ کرنا ، اگر وہ تمہیں سلام کریں ، تو تم انہیں جواب میں ’’ وعلیکم ‘‘ کہہ دینا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ’’ جب ہم ان کے پاس آئے اور انہوں نے ہمیں سلام کیا تو ہم نے کہا : وعلیکم ۔‘‘ امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے اور امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12792

Majma al-Zawaid #12792

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «نُهِينَاهُ - أَوْ قَالَ: أُمِرْنَا - أَنْ لَا نَزِيدَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَلَى: "" وَعَلَيْكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, said that they were forbidden — or he said they were commanded — not to add for the People of the Book over saying: and upon you. > **"Do not add for the People of the Book over: And upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم اہل کتاب کو ( سلام کا جواب دیتے ہوئے ) ’’ وعلیکم ‘‘ سے زیادہ کچھ نہ کہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12793

Majma al-Zawaid #12793

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ؟ قَالَ: "" لَا» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا اسْتِئْذَانَ عُمَرَ فِي قَتْلِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that a man of the People of the Book came and greeted the Prophet ﷺ saying death be upon you, so ʿUmar, may Allah be pleased with him, asked whether he should strike his neck, and he said no. > **"No."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا اور بولا : السام علیکم ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12794

Majma al-Zawaid #12794

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَجْلِسٍ، فَمَرَّ يَهُودِيٌّ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا قَالَ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ، سَلَّمَ. قَالَ: "" فَإِنَّهُ قَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، أَيْ: تُسَامُونَ دِينَكُمْ، رُدُّوهُ عَلَيَّ، كَيْفَ قُلْتَ؟ "". فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا: عَلَيْكُمْ، أَيْ: عَلَيْكُمْ مَا قُلْتُمْ» "". قُلْتُ: لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that they were with the Prophet ﷺ in a gathering when a Jew passed and greeted them, and the Companions of the Messenger of Allah ﷺ returned it, whereupon he asked whether they knew what he had said, and they said yes, he had greeted, so he said that he had said death be upon you, meaning you grow weary of your religion, and told them to return him to him, then asked him how he had spoken, and he said death be upon you, so the Prophet ﷺ said that when the People of the Book greet them they should say: upon you, meaning upon you what you have said. > **"When the People of the Book greet you, say: Upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک محفل میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھے ، ایک یہودی گزرا ، اس نے ان لوگوں کو سلام کیا ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے اسے سلام کا جواب دیا : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو ، اس نے کیا کہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں اس نے سلام کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے یہ کہا ہے السام علیکم ، یعنی تمہارے دین کے حوالے سے تمہیں اکتاہٹ ہو جائے ، تم اسے میرے پاس واپس لاؤ ( پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : ) تم نے کیا کہا تھا ؟ اس نے کہا : السام علیکم ( کہا تھا ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب اہل کتاب تم لوگوں کو سلام کریں تو تم کہو : علیکم ، یعنی تم نے جو کہا ہے یہ چیز تم پر آئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12795

Majma al-Zawaid #12795

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ: ثَعْلَبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ: "" وَعَلَيْكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, reports that while he was with the Prophet ﷺ, a Jewish man called Thaʿlabah ibn al-Ḥārith came and said death be upon you, O Muḥammad, so he said: and upon you. > **"And upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، اسی دوران ایک یہودی شخص آیا جس کا نام ثعلبہ بن حارث تھا ، اس نے کہا : السام علیک یا محمد ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وعلیک ( یعنی تمہیں بھی آئے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔

12796

Majma al-Zawaid #12796

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تُصَافِحُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said not to shake hands with the Jews and Christians. > **"Do not shake hands with the Jews and Christians."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مصافحہ نہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12797

Majma al-Zawaid #12797

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّهُ لَمَّا نَزَلَ عُذْرُهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَقَبَّلَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Mālik, may Allah be pleased with him, reports that when the verse of his pardon was revealed, he came to the Prophet ﷺ, took his hand and kissed it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ان کی معافی کا حکم نازل ہوا تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کی دست بوسی کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12798

Majma al-Zawaid #12798

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ قَالَ: لَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فَقُلْتُ: بَايَعْتَ بِيَدِكَ هَذِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَعْطِنِي يَدَكَ أُقَبِّلْهَا. فَأَعْطَانِيهَا، فَقَبَّلْتُهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ الْفَزَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn al-Ḥārith al-Dhimārī reports that he met Wāthilah ibn al-Asqaʿ, may Allah be pleased with him, and asked whether he had pledged the Messenger of Allah ﷺ with this hand of his, and he said yes, so he asked him to extend his hand so he could kiss it, and he extended it and he kissed it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن حارث ذماری بیان کرتے ہیں : میری ملاقات حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا : آپ نے اپنے اس ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر بیعت کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو میں نے کہا : آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں تاکہ میں اسے بوسہ دوں ۔ انہوں نے اپنا ہاتھ مجھے دیا تو میں نے اس کو بوسہ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک فزاری ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12799

Majma al-Zawaid #12799

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي هَذِهِ، فَقَبَّلْنَاهَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ الْبَيْعَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Razīn reports from Salamah ibn al-Akwaʿ, may Allah be pleased with him, that he said he had pledged the Prophet ﷺ with this hand of his, so they kissed it and he did not disapprove of that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن رزین حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں : انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے اس ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی تھی ( راوی کہتے ہیں : ) تو ہم نے ان کے ہاتھ کو بوسہ دیا ، تو انہوں نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے بیعت کرنے والا حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12800

Majma al-Zawaid #12800

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّهُ قَبَّلَ يَدَ النَّبِيِّ» - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with him, reports that he kissed the hand of the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک کو بوسہ دیا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔ اس حدیث کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12801

Majma al-Zawaid #12801

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَبَّلَ ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, reports that when the Messenger of Allah ﷺ returned from a journey, he would kiss his daughter Fāṭimah, may Allah be pleased with her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تھے تو آپ اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بوسہ دیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

12802

Majma al-Zawaid #12802

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ بَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقْرَعُ بِالْأَظَافِيرِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the door of the Prophet ﷺ would be knocked with the fingernails.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انگلیوں کے پوروں کے ذریعے دروازہ کھٹکھٹاتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12803

Majma al-Zawaid #12803

عَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُودٌ فَقَالَ: "" لَوْ أَعْلَمُ تَنْظُرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ» "". أَوْ نَحْوَ هَذَا. هَذَا رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو حَاتِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that a man peered at the Prophet ﷺ while the Prophet ﷺ had a stick with him, whereupon he said that if he had known he was watching him, he would have thrust it into his eye, or words to that effect. > **"If I knew you were watching me, I would have thrust it into your eye."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے گھر میں جھانکا ، نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں لکڑی موجود تھی ، آپ نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو ، تو میں نے یہ تمہاری آنکھ میں چبھود دینی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : یا شاید اس کی مانند کوئی کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن ابراہیم ابوحاتم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12804

Majma al-Zawaid #12804

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَيُّمَا رَجُلٍ كَشَفَ سِتْرًا، فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَقَأَ عَيْنَهُ لَهَدَرَتْ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ، فَرَأَى عَوْرَةً، فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ، إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ» "". قُلْتُ: عَزَاهُ إِلَى التِّرْمِذِيِّ وَلَمْ أَجِدْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever uncovers a curtain and inserts his sight before he is given permission has committed a violation not lawful for him to commit, and if a man were to poke out his eye it would be void of compensation, but if a man passes a door with no curtain and sees something private, there is no sin upon him, for the fault is upon the people of the house. > **"Whoever uncovers a curtain and inserts his sight before he is given permission has committed a violation not lawful for him, and if a man were to poke out his eye it would be void."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی شخص پردہ ہٹا کر اپنی نگاہ ( گھر کے اندر ) داخل کرے ، اس سے پہلے کہ اسے اجازت دی گئی ہو ، تو اس نے ایک ایسے کام کا ارتکاب کیا ہے ، جو اس کے لئے جائز نہیں تھا ، اور اگر کوئی شخص اس کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے ، تو وہ آنکھ رائیگاں جائے گی اور اگر کوئی شخص کسی ایسے دروازے کے پاس سے گزرے جس پر پردہ نہ لگا ہو ، اور وہ کوئی پوشیدہ چیز دیکھ لے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، کیونکہ غلطی گھر والوں کی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : انہوں نے اس روایت کی نسبت امام ترمذی کی طرف کی ہے ، اور میں نے اس روایت کو نہیں پایا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12805

Majma al-Zawaid #12805

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِنَّمَا كَانَ نَفْيُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَكَمَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الطَّائِفِ، بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حُجْرَتِهِ إِذَا هُوَ بِإِنْسَانٍ يَطَّلِعُ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْوَزَغَ الْوَزَغَ ""، فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ الْحَكَمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْرُجْ، لَا تُسَاكِنِّي فِي الْمَدِينَةِ مَا بَقِيتُ "". فَنَفَاهُ إِلَى الطَّائِفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُدْرِكُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ exiled al-Ḥakam ibn Abī al-ʿĀṣ from Madīnah to al-Ṭāʾif because, while the Prophet ﷺ was in his chamber, a man peered at him, so the Prophet ﷺ said: a lizard, a lizard, and when they looked it was al-Ḥakam, so the Prophet ﷺ said to go out and never dwell with him in Madīnah as long as he lived, and exiled him to al-Ṭāʾif. > **"Go out; you shall never dwell with me in Madīnah as long as I live."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حکم بن ابوالعاص کو مدینہ منورہ سے طائف کی طرف جلاوطن کر دیا تھا ، کیونکہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے حجرے میں موجود تھے ، اسی دوران کسی شخص نے آپ کو جھانک کر دیکھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چھپکلی ہے چھپکلی ہے ، جب لوگوں نے دیکھا تو وہاں حکم بن ابوالعاص موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نکل جاؤ ! جب تک میں زندہ ہوں ، تم میرے ساتھ مدینہ میں نہیں رہو گے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے طائف کی طرف جلاوطن کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مدرک بن سلیمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12806

Majma al-Zawaid #12806

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَا يَشْهَدِ الصَّلَاةَ حَاقِنًا حَتَّى يَتَخَفَّفَ، وَمَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَأَمَّ قَوْمًا فَلَا يَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ، وَمَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَا يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ حَتَّى يَسْتَأْنِسَ وَيُسَلِّمَ، فَإِذَا نَظَرَ فِي قَعْرِ الْبَيْتِ فَقَدْ دَخَلَ» "".

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that whoever testifies that he is the Messenger of Allah should not attend prayer while retaining urine or stool until he relieves himself, and whoever testifies that he is the Messenger of Allah and leads people should not single himself out in supplication, and whoever testifies that he is the Messenger of Allah should not enter a household until he seeks familiarity and greets, for if he looks into the depths of the house he has already entered. > **"Whoever testifies that I am the Messenger of Allah, let him not enter a household until he seeks familiarity and greets, for if he looks into the depths of the house he has already entered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو وہ نماز میں ایسی حالت میں شریک نہ ہو کہ اس نے پیشاب یا پاخانے کو روک کے رکھا ہوا ہو ، جب تک وہ ہلکا پھلکا نہیں ہو جاتا ، اور جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر وہ کسی قوم کی امامت کرے ، تو وہ دعا کرتے ہوئے بطور خاص اپنے لئے ہی دعا نہ کرے ( بلکہ سب کے لئے دعا کرے ) اور جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، وہ کسی گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو ، جب تک اجازت نہیں لے لیتا اور پہلے سلام نہیں کر لیتا ، اگر وہ گھر کے اندرونی حصے میں نظر داخل کرتا ہے ، تو گویا وہ داخل ہو گیا ۔‘‘

12807

Majma al-Zawaid #12807

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «وَمَنْ أَدْخَلَ عَيْنَيْهِ فِي بَيْتٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ، فَقَدْ دَمَّرَ، وَمَنْ صَلَّى بِقَوْمٍ فَخَصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَقَدْ خَانَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بِالرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الشَّيْبَانِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording, whoever inserts his eyes into a house without the permission of its people has brought ruin, and whoever leads people in prayer and singles himself out in supplication to their exclusion has betrayed them. > **"Whoever inserts his eyes into a house without the permission of its people has brought ruin, and whoever leads people and singles himself out in supplication to their exclusion has betrayed them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جو شخص اجازت لئے بغیر اپنی نگاہوں کو گھر میں داخل کرتا ہے وہ ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے ، اور جو شخص لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے صرف اپنے لئے دعا کرتا ہے ، لوگوں کے لئے نہیں کرتا تو وہ ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد نے دوسری روایت نقل کی ہے ، پہلی سند میں ایک راوی سفر بن نسیر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ، اور ایک راوی عبداللہ بن رجاء شیبانی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12808

Majma al-Zawaid #12808

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ «أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْبَابَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَسْتَأْذِنْ وَأَنْتَ مُسْتَقْبِلٌ الْبَابَ» "".

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn ʿUbādah, may Allah be pleased with him, reports that he sought permission while facing the door, so the Prophet ﷺ told him not to seek permission while facing the door. > **"Do not seek permission while facing the door."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، ایک مرتبہ انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ دروازے کے بالکل سامنے کھڑے ہوئے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم اس وقت اجازت نہ مانگو جب تم دروازے کے بالکل سامنے کھڑے ہوئے ہو ۔

12809

Majma al-Zawaid #12809

وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي بَيْتٍ فَقُمْتُ مُقَابِلَ الْبَابِ، فَاسْتَأْذَنْتُ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ تَبَاعَدْ، ثُمَّ جِئْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ فَقَالَ: "" وَهَلِ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ؟» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording he said that he came to the Prophet ﷺ while he was in a house, stood opposite the door and sought permission, so he gestured to him to move away, then he came again and sought permission, whereupon he said whether seeking permission is for anything but the sake of sight. > **"Is seeking permission for anything but the sake of sight?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت گھر میں موجود تھے ، میں دروازے کے مدمقابل کھڑا ہوا اور میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے اشارہ کیا کہ تم ذرا دور ہو جاؤ ، پھر میں آیا ، پھر میں نے اجازت مانگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اجازت لینے کا حکم صرف اسی وجہ سے ہے کہ نگاہ نہ پڑے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور دوسری روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔