وَعَنْ أَبِي سَلَامٍ قَالَ: «كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ: أَنْ عَلِّمِ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ،، فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَلَا تَغْلُوا فِيهِ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ "". ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا؟ قَالَ: "" بَلَى، وَلَكِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ "". ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ الْفُسَّاقُ؟ قَالَ: "" النِّسَاءُ "". قَالُوا: أَوَ لَيْسَ أُمَّهَاتُنَا وَبَنَاتُنَا وَأَخَوَاتُنَا؟ قَالَ: "" بَلَى، وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطَيْنَ لَمْ يَشْكُرْنَ، وَإِنِ ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ "". ثُمَّ قَالَ: "" يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الرَّاجِلِ، وَالرَّاجِلُ عَلَى الْجَالِسِ، وَالْأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ، فَمَنْ أَجَابَ السَّلَامَ كَانَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَلَا شَيْءَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abū Sallām reports that Muʿāwiyah, may Allah be pleased with him, wrote to ʿAbd al-Raḥmān ibn Shibl, may Allah be pleased with him, to teach the people what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ, so he gathered them and said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say to learn the Qurʾān, and when they learn it not to go to excess in it, nor to turn away from it, nor to eat by it, nor to seek abundance through it. He then said that merchants are the wicked, and when asked whether Allah has made trade lawful and forbidden usury, he said yes, but they swear oaths and sin thereby. He then said that the corrupt are the people of the Fire, and when asked who the corrupt are, he said women, and when asked whether they are not mothers, daughters and sisters, he said yes, but when they are given they are not grateful and when tested they are not patient. He then said that the rider greets the pedestrian, the pedestrian greets the seated, and the fewer greet the more, so whoever answers the greeting gains its reward, and whoever does not answer gains nothing. > **"Learn the Qurʾān, and when you have learned it, do not go to excess in it, do not turn away from it, do not eat by it, and do not seek abundance through it."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوسلام بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن شبل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی جو باتیں سنی ہیں ، ان کے حوالے سے لوگوں کو تعلیم دیں ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور پھر یہ بات بیان کی ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرو اور جب تم اس کا علم حاصل کر لو ، تو اس کے بارے میں غلو نہ کرو ، اس کو چھوڑو نہیں ، اس کا معاوضہ نہ کھاؤ اور اس کے ذریعے مال میں اضافہ نہ کرو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تاجر لوگ ہی گنہگار ہوتے ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال قرار نہیں دیا ہے ، اور سود کو حرام قرار نہیں دیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن وہ لوگ حلف ( یعنی جھوٹی قسمیں ) اٹھاتے ہیں ، اور گنہگار ہوتے ہیں ۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : فاسق لوگ ہی جہنمی ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فاسق لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عورتیں ۔ لوگوں نے عرض کی : کیا وہ ہماری مائیں ، ہماری بیٹیاں اور بہنیں نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن ان کا یہ عالم ہے کہ جب انہیں کچھ دیا جائے ، تو وہ شکرگزار نہیں ہوتی ہیں ، اور جب وہ آزمائش کا شکار ہو جائیں تو صبر نہیں کرتی ہیں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سوار شخص پیدل شخص کو سلام کرے ، پیدل بیٹھے ہوئے شخص کو کرے ، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو کریں ، جو شخص سلام کا جواب دیدے گا ، تو اسے اس کا اجر ملے گا ، اور جو جواب نہیں دے گا ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام احمد نے بھی نقل کیا ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔