Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 35 · Chapter 4

Book of Good Manners

Hadith 12730–12769

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12730

Majma al-Zawaid #12730

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ إِفْشَاءُ السَّلَامِ بَيْنَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: You will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another. Shall I not guide you to a thing which, if you do it, you will love one another? Spreading peace among you. > **"You will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another. Shall I not guide you to a thing which, if you do it, you will love one another? Spreading peace among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گے جب تک تم مومن نہیں ہوتے ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو گے ، جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھتے ، کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں ؟ جب تم وہ کام کر لو گے ، تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت رکھو گے ، اپنے درمیان سلام کو پھلاؤ ( یا وہ کام تمہارے درمیان سلام کو پھیلانا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن مسلم ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12731

Majma al-Zawaid #12731

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَنْ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا تَحَابُّونَ عَلَيْهِ؟ "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تَرَاحَمُوا "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّنَا رَحِيمٌ. قَالَ: "" إِنَّهُ لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ صَاحِبَهُ، وَلَكِنَّ رَحْمَةَ الْعَامَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ. وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طَرِيقٌ فِي كِتَابِ التَّوْبَةِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه, that he heard the Prophet ﷺ say: You will not believe until you love one another. Shall I not guide you to what you will love one another upon? They said: Yes, O Messenger of Allah. He said: Spread peace among you. By Him in Whose Hand is my soul, you will not enter Paradise until you show mercy to one another. They said: Yes, O Messenger of Allah, all of us are merciful. He said: It is not the mercy of one of you to his companion, but mercy to all. > **"Spread peace among you. By Him in Whose Hand is my soul, you will not enter Paradise until you show mercy to one another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھتے ، کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں ؟ جس کی وجہ سے تم ایک دوسرے سے محبت رکھو گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے درمیان سلام کو پھیلاؤ ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے ، جب تک ایک دوسرے پر رحم نہیں کرتے ، لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ہم سب رحم کرنے والے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے ساتھی پر رحمت کرے ، بلکہ یہ عمومی رحمت مراد ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کا ایک طریق کتاب التوبہ میں بھی ہے ۔

12732

Majma al-Zawaid #12732

وَعَنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ: الْبَغْضَاءُ وَالْحَسَدُ، وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ، لَيْسَ حَالِقَةَ الشَّعْرِ، وَلَكِنْ حَالِقَةَ الدِّينِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِمَا يُثْبِتُ لَكُمْ ذَلِكَ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of al-Zubayr رضي الله عنه, that the Messenger of Allah ﷺ said: There has crept to you the disease of the nations before you: hatred and envy, and hatred is the shaver, not the shaver of hair, but the shaver of religion. By Him in Whose Hand is my soul, you will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love one another. Shall I not inform you of what will establish that for you? Spread peace among you. > **"Hatred is the shaver, not the shaver of hair, but the shaver of religion. Spread peace among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم سے پہلے کی امتوں کی بیماری تم میں بھی آ جائے گی ، اور وہ آپس میں بغض رکھنا اور حسد رکھنا ہے ، اور بغض مونڈ دینے والی چیز ہے ، یہ بالوں کو مونڈنے والی چیز نہیں ہے ، بلکہ دین کو مونڈنے والی چیز ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے ، جب تک تم مومن نہیں ہو جاتے اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو گے ، جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھتے ، کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو تمہارے لئے اس چیز ( یعنی باہمی محبت ) کو ثابت کر دے ؟ تم اپنے درمیان سلام کو پھیلاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

12733

Majma al-Zawaid #12733

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَفْشُوا السَّلَامَ كَيْ تَعْلُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: Spread peace so that you may rise high. > **"Spread peace so that you may rise high."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سلام کو پھیلاؤ تاکہ تم غالب آ جاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

12734

Majma al-Zawaid #12734

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ سَلَّمَ عَلَى عِشْرِينَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي يَوْمٍ، جَمَاعَةً أَوْ فُرَادَى، ثُمَّ مَاتَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَفِي لَيْلَةٍ مِثْلُ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd Allāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما, from the Prophet ﷺ, he said: Whoever greets twenty men among the Muslims in a day, together or separately, then dies on that day of his, Paradise becomes obligatory for him, and in the night likewise. > **"Whoever greets twenty men among the Muslims in a day, together or separately, then dies on that day of his, Paradise becomes obligatory for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ایک دن میں بیس مسلمانوں کو سلام کر لیتا ہے خواہ وہ اجتماعی طور پر ان کو سلام کرے یا الگ الگ کرے ، اور پھر وہ اسی دن میں انتقال کر جاتا ہے ، تو اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ، اور رات میں بھی اسی کی مانند حکم ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12735

Majma al-Zawaid #12735

عَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي - ابْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُصْبَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ: "" وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، عِشْرُونَ لِي وَعَشْرٌ لَكَ "". قَالَ: فَدَخَلْتُ الثَّانِيَةَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَقَالَ: "" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ثَلَاثُونَ لِي وَعِشْرُونَ لَكَ "". فَدَخَلْتُ الثَّالِثَةَ، فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. فَقَالَ: "" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ثَلَاثُونَ لِي وَثَلَاثُونَ لَكَ، أَنَا وَأَنْتَ يَا عَلِيُّ فِي السَّلَامِ سَوَاءٌ، إِنَّهُ يَا عَلِيُّ مَا مِنْ رَجُلٍ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAlī, meaning Ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه, he said: I entered the mosque, and there was the Prophet ﷺ among a group of his Companions رضي الله عنهم, so I said: Peace be upon you. He said: And upon you be peace and the mercy of Allah, twenty for me and ten for you. He said: Then I entered a second time and said: Peace be upon you and the mercy of Allah. He said: And upon you be peace and the mercy of Allah and His blessings, thirty for me and twenty for you. Then I entered a third time and said: Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings. He said: And upon you be peace and the mercy of Allah and His blessings, thirty for me and thirty for you, I and you, O ʿAlī, are equal in greeting. Indeed, O ʿAlī, no man passes by a gathering and greets them but that Allah writes for him ten good deeds, and erases from him ten evil deeds, and raises him ten degrees. > **"No man passes by a gathering and greets them but that Allah writes for him ten good deeds, and erases from him ten evil deeds, and raises him ten degrees."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ اپنے کچھ صحابہ کرام کے ساتھ موجود تھے ، میں نے عرض کی : السلام علیکم ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ، مجھے بیس نیکیاں ملیں گی اور تمہیں دس ملیں گی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں دوسری مرتبہ داخل ہوا تو میں نے کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، مجھے تیس نیکیاں ملیں گی اور تمہیں بیس ملیں گی ، میں تیسری مرتبہ داخل ہوا تو میں نے کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وعلیک السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، مجھے تیس نیکیاں ملیں گی اور تمہیں بھی تیس نیکیاں ملیں گی : اے علی ! میں اور تم سلام کرنے کے حوالے سے برابر ہو گئے : اے علی ! جو بھی مسلمان کسی مجلس سے گزرے اور ان لوگوں کو سلام کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کو دس نیکیاں دیتا ہے ۔ اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔

12736

Majma al-Zawaid #12736

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ: "" عَشْرٌ "". ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَقَالَ: "" عِشْرُونَ "". ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ثَلَاثُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ عُمَارَةُ بْنُ جُوَيْنٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿUmar رضي الله عنهما, he said: A man came to the Prophet ﷺ and said: Peace be upon you. He said: Ten. Then another came and said: Peace be upon you and the mercy of Allah, so he said: Twenty. Then another came and said: Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings, so the Prophet ﷺ said: Thirty. > **"Ten. Twenty. Thirty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : السلام علیکم ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دس ملیں گی ، پھر دوسرا شخص آیا اس نے کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیس ملیں گی ، پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا : السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تیس ملیں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون عبدی عمارہ بن جوین ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12737

Majma al-Zawaid #12737

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ. وَمَنْ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، كُتِبَ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً، وَمَنْ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، كُتِبَ لَهُ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Sahl ibn Ḥanīf رضي الله عنه, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever says: Peace be upon you, ten good deeds are written for him. And whoever says: Peace be upon you and the mercy of Allah, twenty good deeds are written for him, and whoever says: Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings, thirty good deeds are written for him. > **"Whoever says: Peace be upon you, ten good deeds are written for him. And whoever says: Peace be upon you and the mercy of Allah, twenty good deeds are written for him, and whoever says: Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings, thirty good deeds are written for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص السلام علیکم کہے ۔ اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جو شخص السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہے ۔ اس کے لئے بیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جو شخص السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہے ۔ اس کے لئے تیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12738

Majma al-Zawaid #12738

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ التَّيْهَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، كُتِبَتْ لَهُ عِشْرُونَ حَسَنَةً، وَمَنْ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، كُتِبَتْ لَهُ خَمْسُونَ حَسَنَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Mālik ibn al-Tayyihān رضي الله عنه, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever says: Peace be upon you, ten good deeds are written for him, and whoever says: Peace be upon you and the mercy of Allah, twenty good deeds are written for him, and whoever says: Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings, fifty good deeds are written for him. > **"Whoever says: Peace be upon you, ten good deeds are written for him, and whoever says: Peace be upon you and the mercy of Allah, twenty good deeds are written for him, and whoever says: Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings, fifty good deeds are written for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن تیہان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص السلام علیکم کہے ۔ اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جو شخص السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے ۔ اس کے لئے بیس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جو شخص السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہے ۔ اس کے لئے پچاس نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12739

Majma al-Zawaid #12739

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَعْجَزُ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ فِي الدُّعَاءِ، وَأَبْخَلُ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَسْرُوقِ ابْنِ الْمَرْزُبَانِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Hurayrah رضي الله عنه, from the Prophet ﷺ, he said: The most helpless of people is he who is helpless in supplication, and the most miserly of people is he who is miserly with greeting. > **"The most helpless of people is he who is helpless in supplication, and the most miserly of people is he who is miserly with greeting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں میں سب سے زیادہ عاجز وہ ہے ، جو دعا کرنے میں عاجز ہو ، اور لوگوں میں سب سے زیادہ بخیل وہ ہے ، جو سلام کرنے کے حوالے سے بخیل ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مسروق بن مرزبان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12740

Majma al-Zawaid #12740

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا، وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانَ عَذْقِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَهَبْهُ لِي "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ "". قَالَ: لَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ، إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Jābir رضي الله عنه, that a man came to the Prophet ﷺ and said: So-and-so has a date-cluster in my garden, and he has harmed me and its place has become hard upon me. So the Messenger of Allah ﷺ sent to him and said: Sell me your cluster which is in the garden of so-and-so. He said: No. He said: Then grant it to me. He said: No. He said: Then sell it to me for a cluster in Paradise. He said: No. So the Messenger of Allah ﷺ said: I have not seen one more miserly than you, except one who is miserly with greeting. > **"I have not seen one more miserly than you, except one who is miserly with greeting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : فلاں شخص کا میرے باغ میں ایک گچھہ ہے ۔ وہ میرے ہاں آتا ہے ، تو اس کے گچھے کی جگہ میرے لئے دشواری کا باعث بنتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس دوسرے شخص کو پیغام بھیج کر فرمایا کہ تم فلاں شخص کے باغ میں موجود اپنے گچھے کو مجھے فروخت کر دو ، اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کو مجھے ہبہ کر دو ۔ اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جنت میں موجود ایک گچھے کے عوض میں اس کو مجھے فروخت کر دو ۔ اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو تم سے زیادہ بخیل ہو ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو سلام کرنے کے حوالے سے بخل سے کام لے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ۔ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12741

Majma al-Zawaid #12741

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ السَّلَامُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ، وَإِنَّ هَذَا عَرَفَنِي مِنْ بَيْنِكُمْ فَسَلَّمَ عَلَيَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ مِنْ حَدِيثِهِ وَحَدِيثِ وَغَيْرِهِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The Hour will not come until greeting is only by acquaintance, and this one knew me among you so he greeted me. > **"The Hour will not come until greeting is only by acquaintance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سلام صرف جان پہچان کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا ( پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) یہ شخص تم میں سے صرف مجھ سے جان پہچان رکھتا تھا تو اس نے مجھے ہی سلام کیا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، جو ان کی اور دیگر کی نقل کردہ روایت ہے ۔

12742

Majma al-Zawaid #12742

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ بَدَأَ بِالسُّؤَالِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِيبُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدٍ - أَبُو الطَّيِّبِ - وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿUmar رضي الله عنهما, he said: The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever begins with asking before greeting, do not answer him. > **"Whoever begins with asking before greeting, do not answer him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص سلام کرنے سے پہلے مانگے اسے جواب نہ دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن محمد ابوطیب ہے اور وہ کذاب ہے ۔

12743

Majma al-Zawaid #12743

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَأْذَنُوا لِمَنْ لَمْ يَبْدَأْ بِالسَّلَامِ» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ: مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Jābir رضي الله عنه, that the Prophet of Allah ﷺ said: Do not give permission to one who does not begin with greeting. > **"Do not give permission to one who does not begin with greeting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اس شخص کو اجازت نہ دو جو پہلے سلام نہیں کرتا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے ایک حدیث امام ترمذی نے نقل کی ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12744

Majma al-Zawaid #12744

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - أَشُكُّ فِي رَفْعِهِ - قَالَ: "" لَا يُؤْذَنُ لِلْمُسْتَأْذِنِ حَتَّى يَبْدَأَ بِالسَّلَامِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: رَوَى عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿAbd al-Malik ibn ʿAṭāʾ, from Abū Hurayrah رضي الله عنه, in doubt as to its being raised, he said: Permission is not given to one seeking permission until he begins with greeting. > **"Permission is not given to one seeking permission until he begins with greeting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، جس کے بارے میں مجھے شک ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ اجازت مانگنے والے کو اجازت اس وقت تک نہ دی جائے ، جب تک وہ پہلے سلام نہ کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ عبدالملک نامی راوی کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں ، میں نے کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں : اس نے یزید بن اصم سے روایات نقل کی ہیں ۔

12745

Majma al-Zawaid #12745

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَلْتَقِي، فَأَيُّنَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ؟ قَالَ: "" أَطْوَعُكُمْ للهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه, he said: We said: O Messenger of Allah, we meet, so which of us begins with greeting? He said: The most obedient of you to Allah. > **"The most obedient of you to Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم ( ایک دوسرے کے ساتھ ) ملاقات کرتے ہیں تو کون سلام میں پہل کرے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کا زیادہ فرمانبردار ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12746

Majma al-Zawaid #12746

وَعَنِ الْأَغَرِّ - أَغَرِّ مُزَيْنَةَ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ لِي بِجُزْءٍ مِنْ تَمْرٍ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَمَطَلَنِي بِهِ، فَكَلَّمْتُ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" اغْدُ مَعَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ فَخُذْ لَهُ ثَمَرَهُ "". فَوَعَدَنِي أَبُو بَكْرٍ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ، فَوَجَدْتُهُ حَيْثُ وَعَدَنِي، فَانْطَلَقْنَا، فَكُلَّمَا رَأَى أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَعِيدٍ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا تَرَى مَا يُصِيبُ الْقَوْمُ عَلَيْكَ مِنَ الْفَضْلِ، لَا يَسْبِقُكَ إِلَى السَّلَامِ أَحَدٌ. فَكُنَّا إِذَا طَلَعَ الرَّجُلُ بَادَرْنَاهُ بِالسَّلَامِ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَحَدِ إِسْنَادِيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of al-Agharr, Agharr Muzaynah رضي الله عنه, he said: The Messenger of Allah ﷺ had assigned for me a share of dates with a man from the Anṣār, but he delayed me in it, so I spoke to the Messenger of Allah ﷺ about him, and he said: Go with him tomorrow, O Abū Bakr, and take for him his dates. Abū Bakr promised me at the mosque after we prayed dawn, and I found him where he had promised me, so we set out, and whenever a man saw Abū Bakr from afar he greeted him, so Abū Bakr said: Do you not see what the people attain over you in excellence, no one precedes you in greeting. So whenever a man appeared we hastened to greet him before he greeted us. > **"No one precedes you in greeting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اغر رضی اللہ عنہ ، جو اغر مزینہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے انصار کے پاس موجود ایک شخص سے کچھ کھجوریں لینے کا حکم دیا ، اس شخص نے مجھے دینے میں ٹال مٹول کی ، میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے بات چیت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! تم کل اس کے ساتھ جانا اور اس کو کھجوریں دلوا دینا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ مسجد میں ملنے کا وعدہ کیا کہ جب ہم صبح کی نماز پڑھ لیں گے تو چلیں گے ، میں نے انہیں وعدے کے مطابق پایا ، پھر ہم روانہ ہوئے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو بھی شخص دور سے دیکھتا تھا ، وہ انہیں سلام کرتا تھا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم نے یہ بات دیکھی ہے کہ لوگ تم پر فضیلت حاصل کیے جا رہے ہیں ، ہر شخص سلام میں تم سے سبقت لے جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو پھر جو بھی شخص ہمارے سامنے آتا تھا ، اس کے سلام کرنے سے پہلے ہی ہم اسے سلام کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12747

Majma al-Zawaid #12747

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ «أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ مَنْ لَقِيَهُ، قَالَ: فَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا سَبَقَهُ بِالسَّلَامِ إِلَّا يَهُودِيًّا مَرَّةً، اخْتَبَأَ لَهُ خَلْفَ أُسْطُوَانَةٍ، فَخَرَجَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ: وَيْحَكَ يَا يَهُودِيُّ! مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ لَهُ: رَأَيْتُكَ رَجُلًا تُكْثِرُ السَّلَامَ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ فَضْلٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِهِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ: وَيْحَكَ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ السَّلَامَ تَحِيَّةً لِأُمَّتِنَا، وَأَمَانًا لِأَهْلِ ذِمَّتِنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ، وَقَالَ غَيْرُهُ: مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه, that he used to greet everyone he met. He said: I know of no one who preceded him in greeting except a Jew once, who hid for him behind a pillar, then came out and greeted him. So Abū Umāmah said to him: Woe to you, O Jew, what carried you to do what you did? He said to him: I saw you as a man who greets often, and I knew it was excellence, so I wanted to take it. So Abū Umāmah said to him: Woe to you, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah has made peace a greeting for our nation and a security for the people of our covenant. > **"Allah has made peace a greeting for our nation and a security for the people of our covenant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ ہر ملنے والے کو سلام کیا کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں علم کسی نے سلام میں ان سے سبقت کی ہو ، البتہ ایک یہودی کا معاملہ مختلف ہوا ، وہ ان کے سامنے آنے سے چھپ گیا ، وہ ایک ستون کے پیچھے چھپ گیا تھا ، جب وہ وہاں سے گزرے تو اس نے انہیں پہلے سلام کر دیا ، حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو اے یہودی ! تم نے ایسا کیوں کیا ہے ۔ اس نے ان سے کہا : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بکثرت سلام کرتے ہیں ، اور مجھے یہ پتہ ہے کہ اس کام میں فضیلت پائی جاتی ہے ، تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اس فضیلت کو حاصل کر لوں ، تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے سلام کو ہماری امت کے لئے تحیت اور ہمارے ذمیوں کے لئے امان بنایا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ، دیگر حضرات نے یہ بات بیان کی ہے یہ مقارب الحدیث ہے ۔

12748

Majma al-Zawaid #12748

عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ "". ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَ: "" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ "". ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَعَلَيْكَ "". فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَاكَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَحَيَّيْتَهُمَا بِأَفْضَلِ مِمَّا حَيَّيْتَنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّكَ لَنْ - أَوْ لَمْ - تَدَعْ شَيْئًا، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا} [النساء: 86] فَرَدَدْتُ عَلَيْكَ التَّحِيَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ قَوَّاهُ النَّسَائِيُّ، وَتَرَكَ أَحْمَدُ حَدِيثَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Salmān رضي الله عنه, he said: A man came and greeted the Messenger of Allah ﷺ, saying: Peace be upon you, O Messenger of Allah. He said: And upon you be peace and the mercy of Allah and His blessings. Then another came and said: Peace be upon you, O Messenger of Allah, and the mercy of Allah. He said: And upon you be peace and the mercy of Allah and His blessings. Then another came and said: Peace be upon you, O Messenger of Allah, and the mercy of Allah and His blessings. So the Messenger of Allah ﷺ said to him: And upon you. The man said: O Messenger of Allah, so-and-so and so-and-so came to you, and you greeted them with better than what you greeted me? So the Messenger of Allah ﷺ said: You left nothing, Allah, Mighty and Majestic, said: When you are greeted with a greeting, greet with better than it or return it, so I returned the greeting to you. > **"When you are greeted with a greeting, greet with better than it or return it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا ، اس نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا اور کہا : السلام علیک یا رسول الله ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وعلیک السلام ورحمة اللہ و برکاتہ پھر ایک اور شخص آیا اور بولا : السلام علیک یا رسول اللہ وحمۃ اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وعلیک السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ ۔ پھر ایک شخص آیا اور بولا : السلام علیک یا رسول اللہ ورحمة اللہ و برکاتہ ! نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : وعلیک ۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں اور فلاں جب آپ کے پاس آئے تھے تو آپ نے ان دونوں کو اس سے زیادہ اچھا جواب دیا تھا ، جو جواب آپ نے مجھے دیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تمہیں سلام کیا جائے ، تو تم اس سے زیادہ اچھے طریقے سے یا اس کے مطابق جواب دو ۔‘‘ تو میں نے تمہیں سلام کا جواب دیدیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، اسے امام نسائی نے قوی قرار دیا ہے ، امام احمد نے اس کی حدیث کو متروک قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12749

Majma al-Zawaid #12749

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَحَدُهُمُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَرَدَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ "". فَجَاءَ الثَّانِي فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ "". وَجَاءَ الثَّالِثُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: وَعَلَيْكُمْ. وَأَبُو الْفَتَى جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَلَمْ تَزِدِ ابْنِي شَيْئًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا وَجَدْنَا لَهُ مِنْ زِيَادَةٍ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مِثْلَ مَا قَالَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: نَافِعُ بْنُ هُرْمُزٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما, he said: Three men came to the Prophet ﷺ, so one of them said: Peace be upon you. So the Prophet ﷺ replied: And upon you and the mercy of Allah. Then the second came and said: Peace be upon you and the mercy of Allah, so the Prophet ﷺ replied to him: And the mercy of Allah and His blessings. And the third came and said: Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings. So the Prophet ﷺ replied to him: And upon you. And the father of the youth was sitting with the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, you added for so-and-so and so-and-so, and you added nothing for my son? So the Messenger of Allah ﷺ said: We found no addition for him, so we returned to him the like of what he said. > **"We found no addition for him, so we returned to him the like of what he said."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تین آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان میں سے ایک نے السلام علیکم کہا ، نبی اکرم ﷺ نے جواب دیتے ہوئے و علیک ورحمتہ اللہ کہا ، دوسرا آیا تو اس نے کہا : السلام علیکم و رحمتہ اللہ ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے جواب دیتے ہوئے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا ، تیسرا آیا اور اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہا ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے جواب دیتے ہوئے وعلیکم کہا ۔ اس نوجوان کا باپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اس نے کہا : آپ نے فلاں اور فلاں کو جواب دیتے ہوئے اضافہ کیا ، لیکن میرے بیٹے کو جواب دیتے ہوئے کوئی اضافہ نہیں کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہمیں اس کے لئے کوئی اضافہ نہیں ملا ، تو ہم نے اسے اس کی مانند جواب دیدیا ، جو اس نے کہا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

12750

Majma al-Zawaid #12750

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا: "" «يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ "". فَقُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وَذَهَبَتْ تَزِيدُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِلَى هَذَا انْتَهَى السَّلَامُ ""، فَقَالَ: "" {رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ} [هود: 73]» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of ʿĀʾishah رضي الله عنها, that the Messenger of Allah ﷺ said to her: O ʿĀʾishah, this is Jibrīl conveying peace to you. So I said: And upon you be peace and the mercy of Allah and His blessings, and she went to add, so the Prophet ﷺ said: To this greeting ends, then he said: The mercy of Allah and His blessings be upon you, people of the house. > **"O ʿĀʾishah, this is Jibrīl conveying peace to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ اے عائشہ ! یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے ، میں نے کہا : وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، میں ابھی مزید کچھ اور کہنا چاہتی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہاں پر سلام ختم ہو جاتا ہے ، تو انہوں نے ( یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ) یہ کہا : اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں آپ پر ہوں اے اہل بیت ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12751

Majma al-Zawaid #12751

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا لَقِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِرَارًا فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Ibn ʿUmar رضي الله عنهما, that the Messenger of Allah ﷺ said: When one of you meets his brother repeatedly, let him greet him. > **"When one of you meets his brother repeatedly, let him greet him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص اپنے بھائی سے بار بار ملے تو وہ اسے ( بار بار ) سلام کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوالعیزار ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

12752

Majma al-Zawaid #12752

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتُفَرِّقُ بَيْنَنَا شَجَرَةٌ، فَإِذَا الْتَقَيْنَا يُسَلِّمُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Anas ibn Mālik رضي الله عنه, he said: When we were with the Messenger of Allah ﷺ and a tree separated us, then when we met again, we would greet one another.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور ایک درخت درمیان میں آنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے جدا ہوتے تھے ، تو پھر جب ہم ملتے تھے ، تو ایک دوسرے کو سلام کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

12753

Majma al-Zawaid #12753

عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ - أَوْ غَيْرِهِ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. وَلَمْ يَسْمَعِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا، وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا، وَلَمْ يَسْمَعْهُ، فَرَجَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا وَهِيَ بِأُذُنِي، وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْبَيْتَ، فَقَرَّبَ إِلَيْهِ زَبِيبًا، فَأَكَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: "" أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» "". قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: عَنْ أَنَسٍ - وَلَمْ يَقُلْ: أَوْ غَيْرِهِ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزُورُ الْأَنْصَارَ، فَإِذَا جَاءَ إِلَى دُورِ الْأَنْصَارِ جَاءَ صِبْيَانُ الْأَنْصَارِ حَوْلَهُ لَهُ، فَيَدْعُو لَهُمْ، وَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَابَ سَعْدٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: "" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ "". فَرَدَّ سَعْدٌ فَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِ تَسْلِيمَاتٍ، فَإِنْ أُذِنَ لَهُ وَإِلَّا انْصَرَفَ، فَرَجَعَ». فَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Thābit al-Bunānī, from Anas, or another, from the Prophet ﷺ, that he sought permission at the house of Saʿd ibn ʿUbādah رضي الله عنه, saying: Peace be upon you and the mercy of Allah. So Saʿd said: And upon you be peace and the mercy of Allah. But the Prophet ﷺ did not hear him, until he greeted three times, and Saʿd replied three times without making him hear, so the Prophet ﷺ turned back, and Saʿd followed him and said: O Messenger of Allah, may my father and mother be ransom for you, no greeting did you give but that it reached my ear, and I replied to you without making you hear, for I loved to increase in your greeting and in blessing. Then he admitted him to the house and offered him raisins, so the Prophet ﷺ ate, and when he finished he said: The righteous have eaten your food, and the angels have prayed upon you, and the fasting have broken fast with you. > **"The righteous have eaten your food, and the angels have prayed upon you, and the fasting have broken fast with you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثابت بنانی ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، یا شاید کسی اور کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور فرمایا السلام علیکم ورحمتہ اللہ ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وعلیک السلام و رحمۃ اللہ ، لیکن ان کا جواب نبی اکرم ﷺ کو سنائی نہیں دیا ( یعنی انہوں نے پست آواز میں جواب دیا تھا : ) نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ سلام کیا ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے تینوں مرتبہ جواب دیا ، لیکن اتنی آواز میں نہیں دیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کو سنائی دیتا ( نبی اکرم ﷺ دروازے پر موجود تھے ) آپ واپس چلے گئے ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے جب بھی سلام کیا ، تو وہ میرے کانوں تک پہنچا اور میں نے بھی آپ کو جواب دیا ، لیکن میں نے جواب بلند آواز میں نہیں دیا کہ آپ سن سکتے ، مجھے یہ بات پسند تھی کہ آپ بکثرت سلام کرتے رہیں ، اور آپ کی طرف سے برکت نصیب ہو ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کو اپنے گھر میں لے گئے اور آپ کی خدمت میں زبیب پیش کی ، نبی اکرم ﷺ نے اسے کھایا ، پھر جب آپ کھا کر فارغ ہوئے تو آپ فرمایا : ’’ نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا ہے ، فرشتوں نے تمہارے لئے دعائے مغفرت کی ہے ، اور روزہ داروں نے تمہارے ہاں افطاری کی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ یہ کہتے ہیں : یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ۔ انہوں نے یہ کلمات نقل نہیں کئے ہیں کہ یا ان کے علاوہ کسی اور سے بھی منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے ، جب آپ انصار کے کسی محلے میں آتے تھے ، تو انصار کے بچے آپ کے اردگرد آ جاتے تھے ، آپ ان کے لئے دعا کرتے تھے ، آپ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور سلام کرتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے ، آپ نے ان لوگوں کو سلام کیا اور فرمایا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : لیکن اتنی اونچی آواز میں نہیں دیا کہ وہ آواز نبی اکرم ﷺ تک جاتی ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، نبی اکرم ﷺ تین مرتبہ سے زیادہ سلام نہیں کرتے تھے ، اگر آپ کو اندر آنے کی درخواست کی جاتی تھی تو ٹھیک ہے ، ورنہ آپ واپس تشریف لے جاتے تھے ....... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12754

Majma al-Zawaid #12754

وَعَنْ أُمِّ طَارِقٍ - مَوْلَاةُ سَعْدٍ - قَالَتْ: «جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدٍ فَاسْتَأْذَنَ، فَسَكَتَ سَعْدٌ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ، ثُمَّ أَعَادَ، فَسَكَتَ سَعْدٌ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الطِّبِّ فِي بَابِ الْحُمَّى.

EnglishUnverified translation

On the authority of Umm Ṭāriq, freedwoman of Saʿd رضي الله عنها, she said: The Prophet ﷺ came to Saʿd and sought permission, so Saʿd remained silent. Then he sought permission again, so Saʿd remained silent. Then he repeated, so Saʿd remained silent. So the Prophet ﷺ turned away, and Saʿd sent me to him: Nothing prevented us from giving you permission except that we wanted you to increase us. > **"Nothing prevented us from giving you permission except that we wanted you to increase us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام طارق رضی اللہ عنہا جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے ، آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، پھر آپ نے اجازت طلب کی ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، پھر آپ نے اجازت طلب کی ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے ۔ نبی اکرم ﷺ واپس مڑ گئے ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا اور عرض کی کہ ہم نے صرف اس لئے آپ کو اجازت نہیں پیش کی تھی کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ مزید ( سلام کرتے رہیں ) ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ پوری روایت کتاب الطب میں بخار سے متعلق باب میں ہے ۔

12755

Majma al-Zawaid #12755

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَلَا تَبْدَءُوا بِشَيْءٍ قَبْلَهُ، فَإِذَا قِيلَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» "".

EnglishUnverified translation

On the authority of Abū Hurayrah رضي الله عنه, from the Prophet ﷺ, he said: Allah is Peace, so do not begin with anything before Him. When it is said: Peace be upon you, say: Peace be upon you. > **"Allah is Peace, so do not begin with anything before Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ہی السلام ہے ، تو تم اس ( کے نام ) سے پہلے کوئی چیز نہ کہو ، جب السلام علیکم کہا جائے ، تو تم ( جواب دیتے ہوئے ) السلام علیکم کہو ۔‘‘

12756

Majma al-Zawaid #12756

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَلَا تَبْدَءُوا قَبْلَ اللَّهِ بِشَيْءٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي حَدِّ السَّلَامِ.

EnglishUnverified translation

And in a narration: When one of you intends, let him say: Peace be upon you, for Allah is Peace, so do not begin with anything before Allah. > **"Peace be upon you, for Allah is Peace, so do not begin with anything before Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص جب سلام کرنے کا ارادہ کرے تو وہ السلام علیکم کہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی السلام ہے ، تو تم اللہ تعالیٰ ( کے نام ) سے پہلے کسی اور چیز کے ذریعے آغاز نہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے سلام کی حد کے بارے میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔

12757

Majma al-Zawaid #12757

عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «حَقَّ عَلَى مَنْ قَامَ عَلَى جَمَاعَةٍ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ، وَحَقَّ عَلَى مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسٍ أَنْ يُسَلِّمَ "". فَقَامَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَكَلَّمُ، فَلَمْ يُسَلِّمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَزَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ، وَقَدْ ضُعِّفَا، وَحُسِّنَ حَدِيثُهُمَا.

EnglishUnverified translation

On the authority of Muʿādh ibn Anas رضي الله عنه, from the Messenger of Allah ﷺ, that he said: It is a duty upon whoever comes to a gathering to greet them, and a duty upon whoever rises from a gathering to greet. Then a man stood while the Messenger of Allah ﷺ was speaking, and he did not greet, so the Messenger of Allah ﷺ said: How quickly he forgot. > **"It is a duty upon whoever comes to a gathering to greet them, and a duty upon whoever rises from a gathering to greet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کسی جماعت کے پاس آتا ہے ، تو اس پر لازم ہے کہ ان کو سلام کرے اور جو شخص کسی محفل سے اٹھتا ہے ۔ اس پر لازم ہے کہ وہ سلام کرے ، اسی دوران ایک صاحب اٹھ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم ﷺ ابھی کلام فرما رہے تھے ۔ اس شخص نے سلام نہیں کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کتنی جلدی بھول گیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور ایک راوی زبان بن فائد ہے ، اور ان دونوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور ان دونوں کی حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔

12758

Majma al-Zawaid #12758

عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْقَوْمُ يَأْتُونَ الدَّارَ، فَيَسْتَأْذِنُ وَاحِدٌ مِنْهُمْ، أَيُجْزِئُ عَنْهُمْ جَمِيعًا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قِيلَ: فَيَرُدُّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، أَيُجْزِئُ عَنِ الْجَمِيعِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قِيلَ: فَالْقَوْمُ يَمُرُّونَ، فَيُسَلِّمُ وَاحِدٌ مِنْهُمْ أَيُجْزِئُ عَنِ الْجَمِيعِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قِيلَ: فَيَرُدُّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، أَيُجْزِئُ عَنِ الْجَمِيعِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

On the authority of al-Ḥasan ibn ʿAlī رضي الله عنهما, he said: It was said: O Messenger of Allah, a people come to a house, and one of them seeks permission, does it suffice for all of them? He said: Yes. It was said: And a man of the people replies, does it suffice for all? He said: Yes. It was said: And a people pass by, and one of them greets, does it suffice for all? He said: Yes. It was said: And a man of the people replies, does it suffice for all? He said: Yes. > **"Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کچھ لوگ کسی گھر میں آتے ہیں ، ان میں سے کوئی ایک اجازت مانگتا ہے ، تو کیا یہ ان سب کے لئے کفایت کر جائے گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! عرض کی گئی : اگر ان لوگوں میں سے کوئی ایک شخص سلام کا جواب دیدیتا ہے ، تو کیا ان سب کی طرف سے کفایت کر جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ عرض کی گئی : اگر کچھ لوگ گزر رہے ہوتے ہیں ، اور ان میں سے کوئی ایک شخص سلام کر دیتا ہے ، تو کیا یہ ان سب کی طرف سے کفایت کر جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ عرض کی گئی : اگر کوئی ان لوگوں میں سے ایک شخص سلام کا جواب دیدیتا ہے ، تو یہ سب لوگوں کی طرف سے کفایت کر جائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12759

Majma al-Zawaid #12759

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ: قَالَ أَبِي: "" «إِذَا مَرَرْتَ بِمَجْلِسٍ فَسَلِّمْ عَلَى أَهْلِهِ، فَإِنْ يَكُونُوا فِي خَيْرٍ كُنْتَ شَرِيكَهُمْ، وَإِنْ يَكُونُوا فِي غَيْرِ ذَلِكَ كَانَ لَكَ أَجْرٌ "". هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

On the authority of Muʿāwiyah ibn Qurrah, he said: My father said: When you pass by a gathering, greet its people, for if they are in good you will be their partner, and if they are in other than that you will have reward. Thus I heard the Messenger of Allah ﷺ say. > **"When you pass by a gathering, greet its people, for if they are in good you will be their partner, and if they are in other than that you will have reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھ سے کہا : جب تم کسی محفل سے گزرو تو اس محفل والوں کو سلام کرو ، اگر وہ بھلائی کر رہے ہوں گے تو تم ان کے شراکت دار بن جاؤ گے ، اور اگر وہ اس کے علاوہ صورت حال پر ہوں گے تو تمہیں تمہارا اجر مل جائے گا ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12760

Majma al-Zawaid #12760

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: يَا بُنَيَّ، إِذَا كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ تَرْجُو خَيْرَهُ، فَعَجَّلَتْ بِكَ حَاجَةٌ، فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّكَ شَرِيكُهُمْ فِيمَا يَصِيبُونَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِسِطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Qurrah reports from his father, may Allah be pleased with him, that his father advised him that when he sits in a gathering whose good he hopes for and a need hastens him to leave, he should say peace be upon you, for he shares with them in whatever reward they obtain in that gathering. > **"O my son, when you are in a gathering whose good you hope for and a need hastens you, say: Peace be upon you, for you are a partner with them in whatever they obtain in that gathering."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ اپنے والد کے بارے میں نقل کرتے ہیں : انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! جب تم کسی محفل میں ہو ، اور تمہیں اس کی بھلائی کی امید ہو ، اور تمہیں کسی کام کے سلسلے میں جلدی اٹھنا پڑے ، تو تم السلام علیکم کہو ، کیونکہ اس محفل میں ان لوگوں کو جو بھی اجر و ثواب حاصل ہو گا ، تم اس میں شریک ہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بسطام بن مسلم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12761

Majma al-Zawaid #12761

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْمَاشِيَانِ أَيُّهُمَا بَدَأَ فَهُوَ أَفْضَلُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the rider greets the walker, the walker greets the seated one, and when two walkers meet, whichever of them begins first is more excellent. > **"The rider greets the walker, the walker greets the seated one, and of two walkers, whichever begins first is more excellent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سوار شخص پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا ، اور پیدل چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے گا ، اور دو پیدل چلنے والوں میں سے جو سلام میں پہل کرے گا ، وہ زیادہ فضیلت والا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12762

Majma al-Zawaid #12762

وَعَنْ أَبِي سَلَامٍ قَالَ: «كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ: أَنْ عَلِّمِ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ،، فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَلَا تَغْلُوا فِيهِ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ "". ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا؟ قَالَ: "" بَلَى، وَلَكِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ "". ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ الْفُسَّاقُ؟ قَالَ: "" النِّسَاءُ "". قَالُوا: أَوَ لَيْسَ أُمَّهَاتُنَا وَبَنَاتُنَا وَأَخَوَاتُنَا؟ قَالَ: "" بَلَى، وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطَيْنَ لَمْ يَشْكُرْنَ، وَإِنِ ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ "". ثُمَّ قَالَ: "" يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الرَّاجِلِ، وَالرَّاجِلُ عَلَى الْجَالِسِ، وَالْأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ، فَمَنْ أَجَابَ السَّلَامَ كَانَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَلَا شَيْءَ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Sallām reports that Muʿāwiyah, may Allah be pleased with him, wrote to ʿAbd al-Raḥmān ibn Shibl, may Allah be pleased with him, to teach the people what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ, so he gathered them and said that he heard the Messenger of Allah ﷺ say to learn the Qurʾān, and when they learn it not to go to excess in it, nor to turn away from it, nor to eat by it, nor to seek abundance through it. He then said that merchants are the wicked, and when asked whether Allah has made trade lawful and forbidden usury, he said yes, but they swear oaths and sin thereby. He then said that the corrupt are the people of the Fire, and when asked who the corrupt are, he said women, and when asked whether they are not mothers, daughters and sisters, he said yes, but when they are given they are not grateful and when tested they are not patient. He then said that the rider greets the pedestrian, the pedestrian greets the seated, and the fewer greet the more, so whoever answers the greeting gains its reward, and whoever does not answer gains nothing. > **"Learn the Qurʾān, and when you have learned it, do not go to excess in it, do not turn away from it, do not eat by it, and do not seek abundance through it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلام بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن شبل رضی اللہ عنہ کو خط لکھا ، کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی جو باتیں سنی ہیں ، ان کے حوالے سے لوگوں کو تعلیم دیں ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور پھر یہ بات بیان کی ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرو اور جب تم اس کا علم حاصل کر لو ، تو اس کے بارے میں غلو نہ کرو ، اس کو چھوڑو نہیں ، اس کا معاوضہ نہ کھاؤ اور اس کے ذریعے مال میں اضافہ نہ کرو ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تاجر لوگ ہی گنہگار ہوتے ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال قرار نہیں دیا ہے ، اور سود کو حرام قرار نہیں دیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن وہ لوگ حلف ( یعنی جھوٹی قسمیں ) اٹھاتے ہیں ، اور گنہگار ہوتے ہیں ۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : فاسق لوگ ہی جہنمی ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فاسق لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عورتیں ۔ لوگوں نے عرض کی : کیا وہ ہماری مائیں ، ہماری بیٹیاں اور بہنیں نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن ان کا یہ عالم ہے کہ جب انہیں کچھ دیا جائے ، تو وہ شکرگزار نہیں ہوتی ہیں ، اور جب وہ آزمائش کا شکار ہو جائیں تو صبر نہیں کرتی ہیں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سوار شخص پیدل شخص کو سلام کرے ، پیدل بیٹھے ہوئے شخص کو کرے ، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو کریں ، جو شخص سلام کا جواب دیدے گا ، تو اسے اس کا اجر ملے گا ، اور جو جواب نہیں دے گا ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام احمد نے بھی نقل کیا ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12763

Majma al-Zawaid #12763

عَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا لَقِيَ أَصْحَابَهُ لَمْ يُصَافِحْهُمْ حَتَّى يُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jundub, may Allah be pleased with him, reports that when the Messenger of Allah ﷺ met his Companions, he would not shake hands with them until he had greeted them with peace.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جب اپنے اصحاب سے ملاقات کرتے تھے ، تو ان سے مصافحہ اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک پہلے سلام نہیں کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12764

Majma al-Zawaid #12764

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا، فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْضُرَ دُعَاءَهُمَا، وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُجِيبَ دُعَاءَهُمَا، وَلَا يَرُدَّ أَيْدِيَهُمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet of Allah ﷺ said that whenever two Muslims meet and one of them takes the hand of his companion, it is binding upon Allah, Mighty and Majestic, to attend their supplication and not to separate their hands until He forgives them, and in another wording it is binding upon Allah to answer their supplication and not to turn back their hands until He forgives them. > **"There are no two Muslims who meet and one of them takes the hand of his companion except that it is binding upon Allah to attend their supplication and not to separate their hands until He forgives them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب بھی دو مسلمان ایک دوسرے سے ملیں اور ان میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ لازم ہے کہ وہ ان دونوں کی دعا کے وقت موجود ہو ، اور ان دونوں کے ہاتھ جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ان دونوں کی دعا کو قبول کرے اور ان دونوں کے ہاتھ جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دے ۔‘‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور کسی نے اسے ضعیف نہیں کہا ہے ۔

12765

Majma al-Zawaid #12765

وَعَنْهُ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَلَاقَوْا تَصَافَحُوا، وَإِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ تَعَانَقُوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Companions of the Prophet ﷺ, when they met one another, would shake hands, and when they returned from a journey, they would embrace one another.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب جب ایک دوسرے سے ملتے تھے ، تو مصافحہ کرتے تھے ، اور جب وہ سفر سے واپس آتے تھے تو معانقہ کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12766

Majma al-Zawaid #12766

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا لَقِيَ الْمُؤْمِنَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ فَصَافَحَهُ، تَنَاثَرَتْ خَطَايَاهُمَا كَمَا يَتَنَاثَرُ وَرَقُ الشَّجَرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الطَّحْلَاءِ، رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah ibn al-Yamān, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that when a believer meets a believer, greets him with peace, takes his hand and shakes it, the sins of both fall away as the leaves of a tree fall away. > **"When a believer meets a believer and greets him with peace and takes his hand and shakes it, their sins fall away as the leaves of a tree fall away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی مومن کسی دوسرے مومن سے ملتا ہے ، اور اس کو سلام کرتا ہے ، اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے ، تو ان دونوں کے گناہ یوں جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں ایک راوی یعقوب بن محمد بن طحلاء ہے ، جس سے ایک سے زیادہ افراد نے روایات نقل کی ہیں اور کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12767

Majma al-Zawaid #12767

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا الْتَقَى الرَّجُلَانِ الْمُسْلِمَانِ فَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، فَإِنَّ أَحَبَّهُمَا إِلَى اللَّهِ أَحْسَنُهُمَا بِشْرًا بِصَاحِبِهِ، فَإِذَا تَصَافَحَا نَزَلَتْ عَلَيْهِمَا مِائَةُ رَحْمَةٍ، لِلْبَادِئِ مِنْهُمَا تِسْعُونَ، وَلِلْمُصَافِحِ عَشْرَةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when two Muslim men meet and one of them greets his companion, the more beloved of them to Allah is the one with the better cheerfulness toward his companion, and when they shake hands, one hundred mercies descend upon them, ninety for the one who begins and ten for the one who joins him. > **"When two Muslim men meet and one of them greets his companion, the more beloved of them to Allah is the better of them in cheerfulness toward his companion, and when they shake hands, one hundred mercies descend upon them, ninety for the one who begins and ten for the one who shakes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب دو مسلمان شخص ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرتا ہے ، تو ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے ، جو دوسرے کے ساتھ زیادہ خندہ پیشانی سے ملتا ہے ، اور جب وہ دونوں مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں پر سو رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، ان دونوں میں سے پہل کرنے والے کو نوے ( رحمتیں ) ملتی ہیں ، اور مصافحہ کرنے والے کو دس ( رحمتیں ) ملتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12768

Majma al-Zawaid #12768

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ حُذَيْفَةَ، فَأَرَادَ أَنْ يُصَافِحَهُ، فَتَنَحَّى حُذَيْفَةُ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ: "" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا صَافَحَ أَخَاهُ تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُمَا، كَمَا يَتَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ met Ḥudhayfah, may Allah be pleased with him, and intended to shake his hand, but Ḥudhayfah withdrew and said that he was in a state of major impurity, whereupon he said that when a Muslim shakes the hand of his brother, their sins fall away as the leaves of a tree fall away. > **"When a Muslim shakes the hand of his brother, their sins fall away as the leaves of a tree fall away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ملاقات حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ نے ان کے ساتھ مصافحہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے ، انہوں نے عرض کی : میں جنابت کی حالت میں ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب مسلمان اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے ، تو ان دونوں کے گناہ یوں جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12769

Majma al-Zawaid #12769

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الْمُسْلِمَيْنِ إِذَا الْتَقَيَا فَتَصَافَحَا وَتَسَايَلَا، أَنْزَلَ اللَّهُ بَيْنَهُمَا مِائَةَ رَحْمَةٍ، تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِأَبَشِّهِمَا وَأَطْلَقِهِمَا وَأَبَرِّهِمَا وَأَحْسَنِهِمَا صَابَلَةً بِأَخِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عَدِيٍّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when two Muslims meet and shake hands and inquire after one another, Allah sends down one hundred mercies between them, ninety-nine of them for the more cheerful, open, dutiful and best-mannered of them toward his brother. > **"When two Muslims meet and shake hands and inquire after one another, Allah sends down one hundred mercies between them, ninety-nine for the more cheerful, open, dutiful and best-mannered of them toward his brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے حال احوال پوچھتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان ایک سو رحمتیں نازل کرتا ہے ، جن میں سے ننانوے رحمتیں اس شخص کے لئے ہوتی ہیں ، جو زیادہ خندہ پیشانی ، خوش مزاجی ، اچھائی اور اچھے طریقے سے اپنے بھائی سے ملتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن کثیر بن عدی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔