Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 9

Book of Tribulations

Hadith 12277–12316

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12277

Majma al-Zawaid #12277

عَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ رَمَانَا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ مِنَّا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ disavowed one who shoots at the community by night. > **"Whoever shoots at us by night is not of us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریده رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص رات کے وقت ہمیں تیر مارے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔

12278

Majma al-Zawaid #12278

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ رَمَانَا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ رَقَدَ عَلَى سَطْحٍ لَا جِدَارَ لَهُ فَسَقَطَ فَمَاتَ فَدَمُهُ هَدَرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ disavowed night shooting against the community and declared void the blood of one who sleeps on a roof without a wall and then falls and dies. > **"Whoever shoots at us by night is not of us, and whoever sleeps on a roof that has no wall and then falls and dies, his blood is void."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص رات کے وقت ہمیں تیر مارے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص ایسی چھت پر سویا ہوا ہو ، جس کے کنارے اونچے نہ ہوں اور پھر وہ شخص گر کے مر جائے ، تو اُس کا خون رائیگاں جائے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے اور وہ متروک ہے ۔

12279

Majma al-Zawaid #12279

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ رَمَانَا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ مِنَّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ. وَالظَّاهِرُ أَنَّ اللَّيْلَ هُنَا النَّبْلُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ disavowed one who shoots at the community by night. > **"Whoever shoots at us by night is not of us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص رات کے وقت ہمیں تیر مارے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اس سے پہلے والی روایت کی سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہاں ’’ اللیل ‘‘ ( یعنی رات ، کی جگہ ، صحیح لفظ ) النبل ( یعنی تیر ) ہے ۔

12280

Majma al-Zawaid #12280

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «شَرُّ قَتِيلٍ بَيْنَ صَفَّيْنِ أَحَدُهُمَا يَطْلُبُ الْمُلْكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَوَّلِ أَبُو نُعَيْمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the worst slain as one killed between two ranks when the fight is for kingship. > **"The worst slain between two ranks is one who seeks kingship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے برا مقتول وہ ہے ، جو دو ایسے گروہوں کے درمیان ( قتل ہوا ہو ) کہ ان دونوں میں سے کوئی ( بھی ) ایک گروہ حکومت چاہتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاول ابونعیم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12281

Majma al-Zawaid #12281

وَعَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَأْخُذُونَ الْمُلْكَ، يَقْتُلُ عَلَيْهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا» "". قَالَ: قُلْنَا لَهُ: لَوْ حَدَّثَنَا غَيْرُكَ مَا صَدَّقْنَاهُ. قَالَ: فَإِنَّهُ سَيَكُونُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ثَرْوَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Tharwān ibn Milḥān reports that while they were sitting in the mosque, ʿAmmār ibn Yāsir, may Allah be pleased with him, passed by them, they asked him to narrate what he heard from the Messenger of Allah ﷺ, and he described a people after the Prophet ﷺ seizing kingship and killing one another for it, and when they doubted any other narrator, he affirmed it will occur. > **"After me there will be a people who seize kingship, and some of them will kill others for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثروان بن ملحان بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے ، ہم نے کہا : آپ ہمیں کوئی ایسی احادیث بیان کیجئے ، جو آپ نے فتنے کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے ، جو حکومت حاصل ( کرنا چاہیں ) گے اور وہ اس کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کریں گے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان سے کہا : اگر آپ کی بجائے کسی اور نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہوتی ، تو ہم نے اس کی بات کی تصدیق نہیں کرنی تھی ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسا ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد ، امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ثروان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12282

Majma al-Zawaid #12282

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ لَهُ: فِي الْفِتْنَةِ لَا تَرَوْنَ الْقَتْلَ شَيْئًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِيمَا يَكُونُ مِنَ الْفِتَنِ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Ḥibbān reports that he was with ʿAbd Allāh ibn ʿUmar, may Allah be pleased with him, and that ʿAbd Allāh ibn ʿUmar said to him that during the tribulation people will consider killing as nothing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن حبان بیان کرتے ہیں : وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُن سے کہا : جب فتنہ ہو گا ، تو تم لوگ قتل کرنے کو کچھ بھی نہیں سمجھو گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن حبان کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اس نوعیت کی کچھ احادیث ، اس باب میں آئیں گی جو فتنوں سے متعلق ہے ۔

12283

Majma al-Zawaid #12283

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنِ اجْتَنَبَ أَرْبَعًا دَخَلَ الْجَنَّةَ: الدِّمَاءَ وَالْأَمْوَالَ وَالْفُرُوجَ وَالْأَشْرِبَةَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَقَالُوا: إِنَّمَا غَلَطٌ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، قُلْتُ: وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ سُفْيَانَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ promised Paradise for one who avoids four matters connected with blood, wealth, private parts, and drinks. > **"Whoever avoids four things will enter Paradise: blood, wealth, private parts, and drinks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص چار چیزوں سے اجتناب کرے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، خون ( یعنی قتل ) اموال ، شرمگاہیں اور مشروبات ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روّاد بن جراح ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے لوگ یہ کہتے ہیں : اس نے سفیان کی نقل کردہ حدیث میں غلطی کی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ان روایات میں سے ایک ہے ، جو اُس نے سفیان سے نقل کی ہیں ۔

12284

Majma al-Zawaid #12284

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً فَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ، فَشَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ، فَقَالَ إِنْسَانٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي مُسْلِمٌ إِنِّي مُسْلِمٌ. فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ. قَالَ: فَنُمِّيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ. قَالَ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَهُ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ مَنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ. قَالَ: ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ مَنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ. فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ، فَأَقْبِلْ عَلَيْهِ تَعْرِفِ الْمَسَاءَةَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَبَى عَلَيَّ أَنْ أَقْتُلَ مُؤْمِنًا "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ بَدَلَ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِطُولِهِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn Khālid al-Laythī, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ sent an expedition which raided a people, a man from the enemy fled, a man from the expedition followed him with drawn sword, the pursued man twice declared himself Muslim yet was struck and killed, the report reached the Messenger of Allah ﷺ who spoke severely about it, the killer addressed the Prophet ﷺ during a sermon three times claiming the declaration was only to avoid death, the Prophet ﷺ turned away from him twice, then faced him with displeasure visible on his face. > **"Indeed Allah, mighty and exalted, has refused me permission to kill a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن خالد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم بھیجی ، ان لوگوں نے دشمن پر حملہ کیا ، دشمن میں سے ایک شخص بھاگا ، مہم کے افراد میں سے ایک شخص اس کے پیچھے گیا ، اس کے پاس تلوار تھی ، جو اس نے لہرائی ہوئی تھی ، دشمن سے تعلق رکھنے والے شخص نے کہا : میں مسلمان ہوں ، میں مسلمن ہوں ، لیکن پیچھے جانے والے نے اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا ، جب یہ بات نبی اکرم ﷺ کو بتائی گئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا ، قتل کرنے والے شخص کو اس بات کی اطلاع ملی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے ، اسی دوران قتل کرنے والا شخص بولا : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس شخص نے جو بات کہی تھی ، وہ صرف قتل سے بچنے کے لئے کہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے اور اس طرف کے لوگوں سے منہ پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس شخص نے دوبارہ کھڑے ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص نے جو بات کہی تھی وہ صرف قتل سے بچنے کے لئے کہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے اور اس کی طرف موجود لوگوں سے منہ پھیر لیا ، اس شخص سے صبر نہیں ہوا ، یہاں تک کہ تیسری مرتبہ اس نے یہ بات کی ، تو نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ کے چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دی ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کروں ‘‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے حضرت عقبہ بن خالد رضی اللہ عنہ کی بجائے لفظ ’’ عقبہ بن مالک ‘‘ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف بشر بن عابس لیثی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12285

Majma al-Zawaid #12285

وَعَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: «إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّةٍ بَعَثَهَا، فَأَخْبَرَهُ بِنَصْرِ اللَّهِ الَّذِي نَصَرَ سَرِيَّتَهُ وَبِفَتْحِ اللَّهِ الَّذِي فَتَحَ لَهُمْ. قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثٍ تَقَدَّمَ لِجُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ وَزَادَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ ذَلِكَ: "" سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ تَصْدِمُ كَصَدْمِ الْحَمَاةِ وَفُحُولِ الثِّيرَانِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُسْلِمًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي فِيهَا مُسْلِمًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: فَكَيْفَ نَصْنَعُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" ادْخُلُوا بُيُوتَكُمْ وَأَخْمِلُوا ذِكْرَكُمْ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَى أَحَدِنَا فِي بَيْتِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ، وَلْيَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ، وَلَا يَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَكُونُ فِي قُبَّةِ الْإِسْلَامِ فَيَأْكُلُ مَالَ أَخِيهِ وَيَسْفِكُ دَمَهُ وَيَعْصِي رَبَّهُ وَيَكْفُرُ بِخَالِقِهِ وَتَجِبُ لَهُ جَهَنَّمُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Jundab ibn Sufyān, may Allah be pleased with him, reports that while he was with the Messenger of Allah ﷺ a bearer of glad tidings came from an expedition the Prophet ﷺ had sent, informing of Allah's help and victory, after which the Prophet ﷺ warned of coming tribulations in which a man's faith will shift between morning and evening, advised staying in homes and obscurity, commanded restraint of the hand and choosing to be the slain servant rather than the slaying servant, and described one who consumes his brother's wealth, sheds his blood, disobeys his Lord, and disbelieves in his Creator as deserving Hell. > **"There will be after me tribulations like portions of the dark night, colliding like the colliding of camels and mighty bulls; a man will be Muslim in the morning and disbeliever in the evening, and Muslim in the evening and disbeliever in the morning. Enter your houses and obscure your mention. Let him withhold his hand and be the slain servant of Allah, and not be the slaying servant of Allah, for a man will be within the dome of Islam, then he consumes his brother's wealth, sheds his blood, disobeys his Lord, disbelieves in his Creator, and Hell becomes due for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، اسی دوران ایک مہم کا خوشخبری سنانے والا شخص آیا ، جس مہم کو نبی اکرم ﷺ نے بھیجا تھا ، اس نے آپ کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوئی اور اس لشکر کی مدد ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو فتح نصیب کی ....... اس کے بعد راوی نے اس کی مانند حدیث نقل کی ہے ، جو حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے پہلے گزر چکی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس وقت یہ ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میرے بعد ایسے فتنے ہوں گے ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مسلمان ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کو مسلمان ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے گھروں میں داخل ہو جانا اور چھپ جانا ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر ہم میں سے کسی ایک کے گھر میں وہ شخص داخل ہو جاتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ( اپنے گھر میں موجود ) شخص کو اپنا ہاتھ روک کے رکھنا چاہیے ، اور اللہ کا مقتول بندہ بننا چاہیے ، اللہ کا قاتل بندہ نہیں بننا چاہیے ، کیونکہ آدمی اسلام کے قبہ میں ہوتا ہے ، پھر وہ اپنے بھائی کا مال کھاتا ہے اور اس کا خون بہاتا ہے ، اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا ہے ، اپنے خالق کا کفر کرتا ہے ، تو اُس کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن بہرام ہے اور ایک راوی شہر بن حوشب ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12286

Majma al-Zawaid #12286

وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدَبٍ: إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ. فَقَالَ: أَمْسِكْ. فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ. قَالَ: افْتَدِ بِمَالِكَ. فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ. فَقَالَ جُنْدَبٌ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ "". - قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: - "" عَلَى مَا قَتَلْتَهُ؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ» "". قَالَ: فَقَالَ جُنْدَبٌ: فَاتَّقِهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿImrān reports that he told Jundab, may Allah be pleased with him, that he had pledged allegiance to those with Ibn al-Zubayr and that they wished him to go with them to Sham, Jundab told him to hold back, he said they refused, Jundab told him to ransom himself with wealth, he said they insisted on his striking with the sword alongside them, so Jundab narrated from someone that the Messenger of Allah ﷺ described the slain bringing his killer on the Day of Resurrection to question him before the Lord about kingship, and Jundab warned him to avoid it. > **"The slain will come with his killer on the Day of Resurrection and will say: O Lord, ask this one for what he killed me. On what did you kill him? And he will say: I killed him for the kingship of so-and-so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعمران بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے کہا : میں نے ان لوگوں کی ، یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کر لی ہے ، اور وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نکل کر شام کی طرف جاؤں ، تو انہوں ( یعنی حضرت جندب رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا : تم رک جاؤ ! میں نے کہا : وہ لوگ نہیں مانتے ہیں ، انہوں نے کہا : تم مال فدیہ کے طور پر دے دو ! میں نے کہا : وہ لوگ اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ میں ان کے ساتھ تلوار لے کر حصہ لوں ، تو حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے فلاں شخص نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اس شخص سے پوچھ ! کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو وہ عرض کرے گا : میں نے فلاں شخص کی حکومت کی خاطر اسے قتل کیا تھا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا : تم اس چیز سے بچ کے رہنا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12287

Majma al-Zawaid #12287

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ قُرْصٍ «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَمَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْكُفَّارِ فَطَعَنَهُ بِالرُّمْحِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَتَلَهُ. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ أَنْ قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ؟ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي طَعَنْتُهُ بِالرُّمْحِ. فَأَعْرَضَ عَنِّي وَقَالَ: "" أَبَى أَبَى عَلَيَّ فِيمَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn Qurṣ, may Allah be pleased with him, reports that a Muslim charged a disbeliever and stabbed him with a spear, the wounded man turned and declared himself Muslim, yet the attacker killed him, the matter was mentioned to the Messenger of Allah ﷺ who questioned the killing and turned away, then declared refusal of permission concerning one who kills a Muslim. > **"Did you kill him after he said: I am a Muslim? He has refused me permission concerning one who kills a Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن قرص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کفار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر حملہ کیا ، اس نے اسے نیزہ مارا تو دوسرے شخص نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور بولا : میں مسلمان ہوں ، لیکن پہلے شخص نے اسے قتل کر دیا ، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کیا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا اس کے یہ کہنے کے بعد کہ میں مسلمان ہوں ، تم نے اسے قتل کر دیا ؟ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے نیزہ مارا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ کوئی شخص کسی مسلمان کو قتل کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل تیمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12288

Majma al-Zawaid #12288

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: لَمَّا مَاتَ دَفَنَهُ قَوْمُهُ فَلَفَظَتْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ دَفَنُوهُ فَلَفَظَتْهُ الْأَرْضُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَلْقَوْهُ بَيْنَ ضَوْجَيْ جَبَلٍ، وَرَمَوْا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ، فَأَكَلَتْهُ السِّبَاعُ. قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَخْبَرَ أَنَّ الْأَرْضَ لَفَظَتْهُ قَالَ: " «أَمَا إِنَّ الْأَرْضَ تَقْبَلُ مَنْ هُوَ شَرُّ مِنْهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَرَادَ أَنْ يُرِيَكُمْ عِظَمَ الدَّمِ عِنْدَهُ» ". قُلْتُ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ ضُمَيْرَةَ عَقِبَ قِصَّةِ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan, may Allah have mercy on him, reports that when the killer died his people buried him but the earth cast him out three times, so they threw him between two mountain slopes, covered him with stones, and wild beasts devoured him, and Ibn Abī al-Zinād reports that it reached him that when the Messenger of Allah ﷺ was informed that the earth had cast him out, he explained the divine intent behind the sign. > **"Indeed the earth accepts one worse than him, but Allah intended to show you the gravity of blood in His sight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : اس قتل کرنے والے شخص کا جب انتقال ہوا اور اس کی قوم کے افراد نے اسے دفن کیا ، تو زمین نے اُسے باہر پھینک دیا ، انہوں نے دوبارہ اسے دفن کیا ، تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، تو ان لوگوں نے اسے پہاڑ کے درمیان میں ڈال دیا اور اس پر پتھر پھینک دیے ، پھر درندوں نے اُسے کھا لیا ۔ ابن ابوزناد بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی کہ زمین نے اسے باہر پھینک دیا ہے ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمین اُس شخص کو بھی قبول کر لیتی ہے ، جو اس سے زیادہ برا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنی بارگاہ میں خون کی اہمیت تمہیں دکھا دے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام طبرانی نے ضمیرہ کے حالات میں محلم بن جثامہ کے واقعہ کے بعد نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

12289

Majma al-Zawaid #12289

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ فَقَالَ: "" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ "". قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ. قَالَ: "" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا» "". قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah and Abū Saʿīd, may Allah be pleased with them, report that the Messenger of Allah ﷺ delivered a sermon in which he asked what day it was, they answered that it was a sacred day, and he then likened the inviolability of blood and wealth to the sanctity of that day, month, and city. > **"What day is this? Indeed your blood and your wealth are sacred to you like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے دریافت کیا : یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ حرمت والا دن ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تمہاری جانیں ، تمہارے اموال ، ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارے اس دن کی ، تمہارے اس مہینے میں ، تمہارے اس شہر میں حرمت ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12290

Majma al-Zawaid #12290

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ "". قُلْنَا: يَوْمُ النَّحْرِ. قَالَ: "" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ "". قُلْنَا: ذُو الْحِجَّةِ شَهْرٌ حَرَامٌ. قَالَ: "" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ "". قُلْنَا: بَلَدٌ حَرَامٌ. قَالَ: "" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا [هَلْ] يُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ؟» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed them, asked in succession what day, month, and city this was, they answered the Day of Sacrifice, Dhū al-Ḥijjah as a sacred month, and a sacred city, and he then likened blood, wealth, and honour to that sanctity and commanded the present to convey to the absent. > **"What day is this? What month is this? What city is this? Indeed your blood, your wealth, and your honour are sacred to you like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours. Let the witness convey to the absent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے دریافت کیا : یہ کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ قربانی کا دن ہے ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا مہینہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ ذوالحج کا حرمت والا مہینہ ہے ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ حرمت والا شہر ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو تمہاری جانیں ، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے اُسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح یہ دن تمہارے لے قابل احترام ہے ، جو تمہارے اس مہینے میں ، تمہارے اس شہر میں ہے ، خبردار ! موجود افراد غیر موجود لوگوں تک تبلیغ کر دیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

12291

Majma al-Zawaid #12291

وَعَنِ الْبَرَاءِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْحَجِّ وَالدِّيَاتِ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ and Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with them, report that they heard the Messenger of Allah ﷺ liken the inviolability of blood and wealth to the sanctity of the present day, month, and city. > **"Indeed your blood and your wealth are sacred to you like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا بے : ’’ بے شک تمہاری جانیں اور تمہارے اموال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح تمہارے اس دن کی ، تمہارے اس مہینے میں ، تمہارے اس شہر میں حرمت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان حضرمی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الحج اور کتاب الدیات میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔

12292

Majma al-Zawaid #12292

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَقْتُلُ الْقَاتِلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَخْتَلِسُ خِلْسَةً وَهُوَ مُؤْمِنٌ، يَخْتَلِعُ مِنْهُ الْإِيمَانَ كَمَا يَخْلَعُ سِرْبَالَهُ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى الْإِيمَانِ رَجَعَ إِلَيْهِ، وَإِذَا رَجَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the departure of faith from one who kills, commits adultery, drinks wine, or seizes spoils while engaged in the act, likened it to removing a shirt, and described its return upon return to faith. > **"The killer does not kill while he is a believer, nor does the adulterer commit adultery while he is a believer, nor does the drinker drink wine while he is a believer, nor does the plunderer plunder while he is a believer; faith is stripped from him as one removes his shirt, then when he returns to faith, faith returns to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قتل کرنے والا شخص قتل کرتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، زنا کرنے والا شخص زنا کرتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، شراب پینے والا شخص شراب پیتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، کوئی چیز اچکنے والا شخص اس چیز کو اچکتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، اس سے ایمان یوں الگ ہو جاتا ہے ، جس طرح آدمی اپنی قمیص کو اُتارتا ہے ، جب وہ ایمان کی طرف رجوع کرتا ہے ، تو ایمان بھی اس کی طرف لوٹ آتا ہے ، جب وہ رجوع کرتا ہے ، تو ایمان بھی اس کی طرف لوٹ آتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن حسان ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12293

Majma al-Zawaid #12293

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ forbade returning after him to disbelief expressed through striking one another's necks. > **"Do not return after me as disbelievers, some of you striking the necks of others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12294

Majma al-Zawaid #12294

وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṣunābiḥī, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke of multiplying the nations through his followers and warned against returning after him to disbelief expressed through mutual killing. > **"I will multiply the nations through you, so do not return after me as disbelievers, some of you striking the necks of others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں دوسری اُمتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کا اظہار کروں گا ، تو تم میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12295

Majma al-Zawaid #12295

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّكُمُ الْيَوْمَ عَلَى دِينٍ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تَمْشُوا بَعْدِي الْقَهْقَرَى» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ reminded them of their present adherence to religion, of his boasting through their numbers, and warned against retreating after him. > **"Today you are upon a religion, and I will multiply the nations through you, so do not walk backward after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ آج دین پر قائم ہو اور میں تمہاری کثرت پر دیگر امتوں کے سامنے فخر کا اظہار کروں گا تم میرے بعد الٹے قدموں پلٹ نہ جانا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12296

Majma al-Zawaid #12296

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لَأَصْحَابِهِ: "" «لَا أَعْرِفَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ a warning addressed to his Companions against being found after him in a state of mutual neck-striking. > **"Let me not find you returning after me as disbelievers, some of you striking the necks of others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : ’’ میں ( قیامت کے دن ) تم لوگوں کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ تم میرے بعد کافر ہو گئے تھے اور ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔

12297

Majma al-Zawaid #12297

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Usāmah ibn Zayd, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade returning after him to killing one another. > **"Do not return after me as disbelievers, some of you striking the necks of others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12298

Majma al-Zawaid #12298

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا أَوْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that Allah may forgive every sin except death in polytheism and deliberate killing of a believer. > **"Every sin may be such that Allah forgives it, except one who dies as a polytheist or kills a believer deliberately."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کر دے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو مشرک ہونے کے عالم میں مرا ہو ، یا جس نے کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12299

Majma al-Zawaid #12299

وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَمَّا قَاتَلَ مَرْوَانُ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ أَرْسَلَ إِلَى أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ الْأَسَدِيِّ، فَقَالَ: إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تُقَاتِلَ مَعَنَا. فَقَالَ: إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا فَعَهِدَا إِلَيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ جِئْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ قَاتَلْتُ مَعَكَ. فَقَالَ: اذْهَبْ، وَوَقَعَ فِيهِ وَسَبَّهُ، فَأَنْشَأَ أَيْمَنُ يَقُولُ: وَلَسْتُ مُقَاتِلًا رَجُلًا يُصَلِّي ... عَلَى سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَيْشٍ لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ إِثْمِي ... مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ جَهْلٍ وَطَيْشِ. أُقَاتِلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ شَيْءٍ ... فَلَيْسَ بِنَافِعِي مَا عِشْتُ عَيْشِي رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي "". وَقَالَ: "" مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ فَشَلٍ وَطَيْشِ "". وَقَالَ: "" أَأَقْتُلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ جُرْمٍ "". وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀmir al-Shaʿbī reports that when Marwān fought al-Ḍaḥḥāk ibn Qays he sent to Ayman ibn Khuraym al-Asadī asking him to fight alongside him, Ayman replied that his father and uncle witnessed Badr and enjoined him never to fight one who testifies that none is worthy of worship but Allah, and that he would fight only if brought an exemption from the Fire, Marwān dismissed and reviled him, so Ayman composed verses declaring he will not fight a praying man for the rule of another Qurashī lord, that the ruler gains his rule while the sin remains upon the fighter, seeking refuge in Allah from ignorance and recklessness, and questioning what benefit remains in fighting a Muslim without cause for as long as he lives.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر شعبی بیان کرتے ہیں : جب مروان نے ضحاک بن قیس سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا ، تو اس نے حضرت ایمن بن خریم اسدی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور یہ کہا : کیا آپ یہ بات پسند کریں گے کہ ہمارے ساتھ جنگ میں حصہ لیں ، انہوں نے جواب دیا : میرے والد اور میرے چچا کو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، اُن دونوں نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں ایسے کسی شخص کے ساتھ جنگ نہ کروں ، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اگر تم میرے پاس جہنم سے بچ جانے کا ( کوئی حکم ) لے کر آتے ہو ، تو میں تمہارے ساتھ جنگ کر لوں گا ، اس نے کہا : آپ تشریف لے جائیں ، اس نے ان پر تنقید کی اور انہیں برا بھلا کہا ، تو حضرت ایمن بن خریم اسدی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ’’ میں ایسے شخص کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا ، جو نماز ادا کرتا ہو اور جنگ کا مقصد ، صرف قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی حکمرانی ہو ، اسے تو اس کی حکمرانی مل جائے گی اور میرے ذمہ گناہ لازم آئے گا ، میں جہالت اور طیش سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، کیا میں کسی وجہ کے بغیر کسی مسلمان کے ساتھ جنگ کروں ، یہ چیز تو مجھے کوئی فائدہ نہیں دے گی ، خواہ میں جب تک بھی زندہ رہوں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ’’ میں ایسے کسی شخص کو قتل نہیں کروں گا ، جو نماز ادا کرتا ہو ۔‘‘ اور اس میں یہ الفاظ ہیں :’’ پھسل جانے اور طیش سے اللہ کی پناہ ہے ۔‘‘ اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں :” کیا میں کسی جرم کے بغیر ، کسی مسلمان کو قتل کر دوں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن یحیی زحمویہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12300

Majma al-Zawaid #12300

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «قُتِلَ قَتِيلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطِيبًا فَقَالَ: "" أَمَا تَعْلَمُونَ مَنْ قَتَلَ هَذَا الْقَتِيلَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالُوا: اللَّهُمَّ لَا. فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا جَهَنَّمَ، وَلَا يُبْغِضُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd, may Allah be pleased with him, reports that when a slain man was found in the time of the Messenger of Allah ﷺ, the Prophet ﷺ ascended to preach, asked three times whether they knew who killed the slain among them, they answered they did not, and he then swore by the One in whose Hand is the soul of Muḥammad ﷺ concerning collective conspiracy to kill a believer and hatred of the People of the House. > **"Do you not know who killed this slain one among you? By the One in whose Hand is the soul of Muḥammad, if the people of the heavens and the people of the earth gathered to kill a believer, Allah would enter them all into Hell, and none hates us, the People of the House, except that Allah casts him into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص قتل ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ خطبہ دینے کے لئے ( منبر پر ) چڑھے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ تمہارے درمیان اس مقتول کو کس نے قتل کیا ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ دریافت کی ، تو لوگوں نے یہی کہا کہ اللہ جانتا ہے ، ہم نہیں جانتے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، اگر تمام آسمان والے اور تمام زمین والے کسی مومن کو قتل کرنے پر اکٹھے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں داخل کر دے گا ، اور ہم اہل بیت سے جو بھی شخص بغض رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالحمید ہے اور اس کے علاوہ دیگر ضعیف راوی ہیں ۔

12301

Majma al-Zawaid #12301

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قُتِلَ قَتِيلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُعْلَمُ قَاتِلُهُ، فَصَعِدَ مِنْبَرَهُ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُقْتَلُ قَتِيلٌ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ لَا يُعْلَمُ مَنْ قَتَلَهُ؟ لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِ مُسْلِمٍ لَعَذَّبَهُمُ اللَّهُ بِلَا عَدَدٍ وَلَا حِسَابٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, reports that when a slain man was found in the time of the Messenger of Allah ﷺ without his killer being known, the Prophet ﷺ ascended his pulpit, expressed astonishment that a killing occurred among them while he was present yet its doer was unknown, and warned of boundless torment for collective killing of a Muslim. > **"O people, is a slain one killed while I am among you and it is not known who killed him? If the people of heaven and earth gathered to kill a Muslim, Allah would torment them without number and without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص قتل ہو گیا ، جس کے قاتل کا پتہ نہیں چل سکا ، نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! کیا ایک شخص قتل ہو گیا ہے ؟ جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ، اور اس کے قتل کرنے والے کا پتہ نہیں چل سکا ؟ اگر آسمان والے اور زمین والے سب اکٹھے ہو کر کسی مسلمان کو قتل کر دیں ، تو اللہ تعالیٰ کسی گنتی اور حساب کے بغیر ان سب کو عذاب دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن ابومسلم کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12302

Majma al-Zawaid #12302

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِ مُسْلِمٍ لَكَبَّهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ جِسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ a warning that collective agreement to kill a Muslim results in being cast face-first into the Fire. > **"If the people of the heavens and the earth gathered to kill a Muslim, Allah would cast them all upon their faces into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکره رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر تمام آسمان اور زمین والے کسی مسلمان کے قتل پر اکٹھے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں ڈال دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12303

Majma al-Zawaid #12303

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَوِ اجْتَمَعَ أَهْلُ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ لَكَبَّهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الْأَعْوَرُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يَكْتُبُ حَدِيثَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that collective agreement to kill a believer results in being cast into the Fire. > **"If the people of heaven and earth gathered to kill a believer, Allah would cast them into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر تمام آسمان والے اور زمین والے کسی مومن کے قتل پر اکٹھے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں ڈال دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ اعور ہے اور وہ متروک ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12304

Majma al-Zawaid #12304

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا مَشَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فَقَتَلَهُ فَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ وَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿUmar, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare the distinct ends of one who walks to another and kills him. > **"When a man walks to a man and kills him, the slain is in Paradise and the killer is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب کوئی شخص چل کر دوسرے شخص کے پاس جائے اور اسے قتل کر دے ، تو مقتول جنت میں جائے گا اور قاتل جہنم میں جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12305

Majma al-Zawaid #12305

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَجِيءُ الْمَقْتُولُ آخِذًا قَاتِلَهُ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا عِنْدَ ذِي الْعِزَّةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ فَيَقُولُ: فِيمَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لِفُلَانٍ. قِيلَ: هِيَ لِلَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ a scene in which the slain comes holding his killer with his jugular veins gushing blood before the Possessor of Might, asking for inquiry, and the killer confesses killing for another man's power, whereupon it is declared that might belongs to Allah. > **"The slain will come holding his killer, with his jugular veins gushing blood, before the Possessor of Might, and will say: O Lord, ask this one for what he killed me. For what did you kill him? He will say: I killed him so that might would belong to so-and-so. It will be said: It belongs to Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ( قیامت کے دن ) مقتول آئے گا ، اُس نے اپنے قاتل کو پکڑا ہوا ہو گا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہو گا ، وہ رب العزت کی بارگاہ میں آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو اس سے پوچھ ! کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائے گا : تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو قاتل جواب دے گا : میں نے اس لئے اسے قتل کیا تھا تاکہ غلبہ فلاں شخص کو مل جائے ، تو اس سے کہا جائے گا : غلبہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیض بن وثیق ہے اور وہ کذاب ہے ۔

12306

Majma al-Zawaid #12306

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، هَلْ لِلْقَاتِلِ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَالْمُتَعَجِّبِ مِنْ شَأْنِهِ: مَاذَا تَقُولُ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَسْأَلَتَهُ. فَقَالَ: مَاذَا تَقُولُ؟ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَأْتِي الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا رَأْسُهُ بِإِحْدَى يَدَيْهِ مُلَبِّبًا قَاتِلَهُ بِالْيَدِ الْأُخْرَى تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ الْعَرْشَ، فَيَقُولُ الْمَقْتُولُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ: هَذَا قَتَلَنِي. فَيَقُولُ اللَّهُ لِلْقَاتِلِ: تَعِسْتَ. وَيَذْهَبُ بِهِ إِلَى النَّارِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, reports that a questioner asked him whether there is repentance for a killer, he expressed astonishment and repeated the question twice or thrice, then narrated that he heard their Prophet ﷺ describe the slain coming with his head held in one hand and his killer seized in the other, with veins gushing blood, until brought to the Throne, where the slain complains and Allah condemns the killer to ruin and orders him to the Fire. > **"The slain will come with his head attached in one of his hands, seizing his killer with the other hand, with his jugular veins gushing blood, until he brings him to the Throne. The slain will say to the Lord of the worlds: This one killed me. Allah will say to the killer: May you perish. And he will be taken to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص نے ان سے سوال کیا اور کہا : اے ابوعباس ! کیا قاتل کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : تم نے کیا کہا ؟ اس شخص نے اپنے سوال کو دہرایا ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پھر یہ کہا : تم نے کیا کہا ؟ یہ مکالمہ دو یا شاید تین مرتبہ ہوا ، پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ( قیامت کے دن ) مقتول آئے گا ، اس نے ایک ہاتھ میں اپنا سر پکڑا ہوا ہو گا اور دوسرے ہاتھ میں اس نے قاتل پکڑا ہوا ہو گا ، اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا ، یہاں تک کہ وہ اسے ساتھ لے کر عرش کے پاس آئے گا ، پھر مقتول تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کرے گا کہ اس نے مجھے قتل کیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ قاتل سے فرمائے گا : تم برباد ہو گئے ! پھر اس قاتل کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے آخری حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12307

Majma al-Zawaid #12307

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا حَرَجَ إِلَّا فِي قَتْلِ مُسْلِمٍ» "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ a thrice-repeated statement distinguishing the killing of a Muslim from all other harmless matters. > **"There is no harm except in killing a Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کوئی حرج نہیں ہے ، البتہ مسلمان کے قتل کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔

12308

Majma al-Zawaid #12308

وَعَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ يُهْرِيقُهُ كَأَنَّمَا يَذْبَحُ دَجَاجَةً كُلَّمَا يُعْرَضُ لِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَجْعَلَ فِي بَطْنِهِ إِلَّا طَيِّبًا فَإِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jundab ibn ʿAbd Allāh, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ warned that even a handful of blood shed like slaughtering a chicken will block every gate of Paradise, and enjoined keeping only wholesome food in the belly since the belly is the first part of man to decay. > **"Whoever is able not to place between himself and Paradise even a handful of blood which he sheds, as though slaughtering a chicken, whenever he approaches a gate of Paradise it will stand between him and it, and whoever among you is able not to place in his belly except what is wholesome, for the first part of man to decay is his belly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ کر سکتا ہو کہ اس کے اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون رکاوٹ نہ بنے ، جو ( خون ) اس نے بہایا ہو ، یوں جیسے وہ مرغی ذبح کرتا ہے ، تو ایسا شخص جب بھی جنت کے کسی دروازے پر آئے گا ، تو وہ خون اس کے اور جنت کے دروازے کے درمیان رکاوٹ بن جائے گا اور تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو ، اسے اپنے پیٹ میں پاکیزہ چیز داخل کرنی چاہیے ، کیونکہ انسان میں سے ، سب سے پہلے اس کا پیٹ بدبودار ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12309

Majma al-Zawaid #12309

وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدَبٍ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَيْهِ فِي إِمَارَةِ الْمُصْعَبِ، فَقَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ وَلَغُوا فِي دِمَائِهِمْ وَتَحَالَفُوا عَلَى الدُّنْيَا وَتَطَاوَلُوا فِي الْبِنَاءِ، وَإِنِّي أُقْسِمُ بِاللَّهِ، لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ إِلَّا يَسِيرٌ حَتَّى يَكُونَ الْجَمَلُ الضَّابِطُ وَالْحَبْلَانِ الْقَتَبُ أَحَبَّ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنَ الدَّسْكَرَةِ الْعَظِيمَةِ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reports from Jundab, may Allah be pleased with him, that he sat with him during the rule of al-Muṣʿab, Jundab said these people have plunged into their blood, allied over worldly life, and built tall buildings, and he swore by Allah that only a short time would pass before a sturdy camel with its ropes and saddle would be dearer to one of them than a great mansion, then he mentioned a similar narration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری ، حضرت جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : میں مصعب کی حکومت کے زمانے میں اُن کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : یہ لوگ قتل و غارت گری کر رہے ہیں اور دنیا کے بارے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں ، بلند عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں ، میں اللہ کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ تھوڑے عرصے ہی بعد تم پر وہ زمانہ آ جائے گا کہ جب ایک مضبوط اونٹ اور اس کی چادریں اور پالان کی لکڑیاں تم میں سے کسی ایک شخص کے نزدیک ، بڑے گھر سے زیادہ محبوب ہوں گی ........‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12310

Majma al-Zawaid #12310

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ: كُنْتُ أُجَالِسُ بَرِيرَةَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ أَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ، فَكَانَتْ تَقُولُ: يَا عَبْدَ الْمَلِكِ، إِنِّي لَأَرَى فِيكَ خِصَالًا وَخَلِيقٌ أَنْ تَلِيَ هَذِهِ الْأُمَّةَ، فَإِنْ وَلَيْتَهُ فَاحْذَرِ الدِّمَاءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْفَعُ عَنْ بَابِ الْجَنَّةِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا عَلَى مَحْجَمَةٍ مِنْ دَمٍ يُرِيقُهُ مِنْ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn Marwān reports that before assuming rule he used to sit with Barīrah in Madīnah, may Allah be pleased with her, she said she saw qualities in him suggesting he would govern this nation and warned him against bloodshed, saying she heard the Messenger of Allah ﷺ describe a man pushed back from the gate of Paradise from even looking at it because of cupped blood shed from a Muslim without right. > **"A man will be pushed back from the gate of Paradise from looking at it because of a cupping-glass of blood which he sheds from a Muslim without right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن مروان بیان کرتے ہیں : میں اس حکومتی عہدے کا نگران بننے سے پہلے مدینہ منورہ میں سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بیٹھا کرتا تھا ، وہ یہ فرماتی تھیں : اے عبدالملک ! میں تمہارے بارے میں یہ سمجھتی ہوں کہ تمہارے اندر یہ خصوصیات اور صلاحیتیں پائی جاتیں کہ تم اس اُمت کی حکومت کے نگران بنو ، اگر تم اس کے نگران بن گئے ، تو تم خون بہانے سے بچنا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک شخص کو جنت کے دوازے سے پیچھے کر دیا جائے گا کہ وہ جنت کی طرف دیکھے ، اُس کی وجہ وہ خون ہو گا ، جو اس نے کسی مسلمان کا ناحق طور پر بہایا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن زید بن واقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12311

Majma al-Zawaid #12311

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يُحِلَّ فِي الْفِتْنَةِ شَيْئًا حَرَّمَهُ قَبْلَ ذَلِكَ، مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَأْتِي أَخَاهُ فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ ثُمَّ يَجِيءُ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقْتُلُهُ»؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، وَثَّقَهُ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that Allah did not permit in tribulation anything He had forbidden before it, and questioned how one greets his brother and later kills him. > **"Indeed Allah, mighty and exalted, did not permit in tribulation anything He had forbidden before it. What is the matter with one of you that he comes to his brother and greets him, then comes after that and kills him?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے فتنے کے دوران کسی ایسی چیز کو حلال قرار نہیں دیا ، جسے اس نے اس سے پہلے حرام قرار دیا ہو ، تم میں سے کسی ایک شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ اپنے بھائی کے پاس آ کر اسے سلام کرے گا ، پھر اس کے بعد جب وہ اس کے پاس آئے گا تو اُسے قتل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن محمد صنعانی ہے ، جسے ایوب بن سلیمان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12312

Majma al-Zawaid #12312

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: لَا يَزَالُ الرَّجُلُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا، فَإِذَا أَصَابَ دَمًا حَرَامًا نُزِعَ مِنْهُ الْحَيَاءُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, said that a man remains in relief within his religion so long as he does not strike unlawful blood, but when he strikes unlawful blood, modesty is removed from him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : انسان اپنے دین کے بارے میں مسلسل گنجائش میں رہتا ہے ، جب تک اس نے حرام طور پر کسی قتل کا ارتکاب نہ کیا ہو ، جب وہ حرام طور پر قتل کا ارتکاب کر دے ، تو اس سے حیاء الگ کر دی جاتی ہے ۔

12313

Majma al-Zawaid #12313

وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَزَالُ الْعِبَادُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ سِتْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مَا أَقَامُوا الْعِبَادَةَ وَلَمْ يُهْرِقُوا دَمًا حَرَامًا. وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

In another wording, the servants remain in relief under the cover of Allah, mighty and exalted, so long as they maintain worship and do not shed unlawful blood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ بندے اللہ تعالیٰ کے پردے میں مسلسل رہتے ہیں ، جب تک وہ عبادت کرتے رہتے ہیں اور انہوں نے حرام طور پر خون نہیں بہایا ہوتا ہے ۔‘‘ پہلی روایت کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابراہیم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

12314

Majma al-Zawaid #12314

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَرْفَعُهُ قَالَ: "" «لَا يُعْجِبُكَ رَحْبُ الذِّرَاعَيْنِ بِالدَّمِ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ، وَلَا يُعْجِبُكَ امْرُؤٌ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ، فَإِنْ أَنْفَقَ مِنْهُ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ، وَإِنْ أَمْسَكَ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَإِنْ مَاتَ وَتَرَكَهُ كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّضْرَ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, raises the report that the Prophet ﷺ warned against admiring blood-stained forearms and wealth earned unlawfully, describing an undying killer appointed by Allah, rejected spending, unblessed retention, and provision toward Hell. > **"Let not the wide forearms stained with blood please you, for with Allah there is for him a killer who does not die, and let not a man please you who earns wealth unlawfully, for if he spends from it, it will not be accepted from him, if he withholds it, it will not be blessed for him, and if he dies leaving it, it will be his provision to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ کسی شخص کے ہاتھوں کا خون سے رنگا جانا تمہیں اچھا نہ لگے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے لئے ایک ایسا قتل کرنے والا ( عذاب کا فرشتہ ) ہو گا ، جسے موت نہیں آئے گی اور تمہیں کوئی ایسا شخص اچھا نہ لگے ، جس نے حرام طور پر کوئی مال کمایا ہو ، کیونکہ اگر وہ اس مال میں سے خرچ کرے گا ، تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہو گا ، اگر وہ اس مال کو روک کے رکھے گا ، تو اس کے لئے اس مال میں برکت نہیں رکھی جائے گی ، اور اگر وہ مر جائے گا اور اس مال کو چھوڑ جائے گا ، تو وہ مال جہنم تک جانے کے لئے اس کا زاد راہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن حمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12315

Majma al-Zawaid #12315

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ شَرَكَ فِي دَمٍ حَرَامٍ بِشَطْرِ كَلِمَةٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: رُبَّمَا أَخْطَأَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ warned that one who shares in unlawful blood even with half a word will come on Resurrection with despair of mercy written between his eyes. > **"Whoever shares in unlawful blood with even half a word will come on the Day of Resurrection with written between his eyes: Despairing of the mercy of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص نصف کلمے کے ہمراہ ، کسی ناحق قتل میں حصہ دار ہوا ہو ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوا ہو گا : یہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے امام بخاری اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12316

Majma al-Zawaid #12316

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِذَا وَقَعَ النَّاسُ فِي الْفِتْنَةِ فَقَالُوا: اخْرُجْ، لَكَ بِالنَّاسِ أُسْوَةٌ فَقُلْ: لَا أُسْوَةَ لِي بِالشَّرِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, said that when people fall into tribulation and tell one to go forth claiming others as precedent, one should reply that there is no precedent for him in evil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب لوگ فتنے میں واقع ہو جائیں گے ، تو یہ کہیں گے : تم لوگوں کے لئے کوئی نمونہ نکالو ! تو تم یہ کہنا : برائی میں میرے لیے کوئی نمونہ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ ہے ، جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔