Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 10

Book of Tribulations

Hadith 12317–12356

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12317

Majma al-Zawaid #12317

وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: لَمَّا هَاجَتِ الْفِتْنَةُ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ لِحُجَيْرِ بْنِ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيِّ: اذْهَبْ إِلَى قَوْمِكَ فَانْهَهُمْ عَنِ الْفِتْنَةِ. قَالَ: إِنِّي لَمَغْمُوزٌ فِيهِمْ وَمَا أَطَاعَ. قَالَ: فَأَبْلَغَهُمْ عَنِّي وَانْهَهُمْ عَنْهَا. قَالَ: وَسَمِعْتُ عِمْرَانَ يُقْسِمُ بِاللَّهِ: لَأَنْ أَكُونَ عَبْدًا حَبَشِيًّا أَسْوَدَ فِي أَعْنُزٍ حَصَبَاتٍ فِي رَأْسِ جَبَلٍ أَرْعَاهُنَّ حَتَّى يُدْرِكَنِي أَجَلِي أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَرْمِيَ أَحَدَ الصَّفَّيْنِ بِسَهْمٍ أَخْطَأْتُ أَمْ أَصَبْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥumayd ibn Hilāl reports that when tribulation erupted, ʿImrān ibn Ḥuṣayn, may Allah be pleased with him, told Ḥujayr ibn al-Rabīʿ al-ʿAdawī to go to his people and forbid them from the tribulation, Ḥujayr replied that he was held in low regard among them and would not be obeyed, ʿImrān told him to convey the message on his behalf and forbid them, and the narrator heard ʿImrān swear by Allah that being a black Abyssinian servant herding goats on a mountaintop until death would be dearer to him than shooting an arrow at either of two ranks, whether it hit or missed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : جب فتنہ پھیل گیا تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے حجیر بن ربیع عدوی سے فرمایا : تم اپنی قوم کی طرف جاؤ اور انہیں فتنے میں حصہ لینے سے منع کرو ، انہوں نے کہا : مجھے ان کے درمیان نمایاں حیثیت حاصل نہیں ہے اور میری بات نہیں مانی جاتی ، تو حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم انہیں میری طرف سے یہ پیغام دو اور انہیں اس سے منع کر دو ، راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت عمران رضی اللہ عنہ کو سنا : انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کر یہ کہا کہ اگر میں ایک سیاہ فام حبشی غلام ہوؤں اور بکریوں میں رہ کر پہاڑ کی چوٹی پر ان کو چراتا رہوں ، یہاں تک کہ میری موت مجھ تک آ جائے ، تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں نے کسی جنگ میں کسی ایک فریق کی طرف سے تیر مارا ہو ، خواہ وہ نشانے تک پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12318

Majma al-Zawaid #12318

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: لَمَّا قِيلَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَلَا تُقَاتِلُ، إِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الشُّورَى، وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ غَيْرِكَ؟ قَالَ: لَا أُقَاتِلُ حَتَّى يَأْتُونِي بِسَيْفٍ لَهُ عَيْنَانِ وَلِسَانٍ وَشَفَتَانِ يَعْرِفُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الْكَافِرِ، فَقَدْ جَاهَدْتُ وَأَنَا أَعْرِفُ الْجِهَادَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Sīrīn reports that when Saʿd ibn Abī Waqqās, may Allah be pleased with him, was asked why he did not fight, since he was among the people of consultation and most entitled to the matter, he replied that he would not fight until brought a sword possessing eyes, tongue, and lips that could distinguish believer from disbeliever, affirming that he had struggled and knew struggle.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ کہا گیا : آپ جنگ میں حصہ کیوں نہیں لیتے ؟ آپ اہل شوریٰ میں سے ہیں اور آپ کسی اور کے مقابلے میں اس معاملے کے زیادہ حق دار ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں اس وقت تک جنگ میں حصہ نہیں لوں گا ، جب تک وہ لوگ میرے پاس ایسی تلوار لے کر نہیں آتے ، جس کی دو آنکھیں ہوں ، ایک زبان ہو ، دو ہونٹ ہوں اور وہ کافر کے مقابلے میں مومن کو پہچان سکتی ہو ، اگر ایسا ہو گا تو میں جنگ میں حصہ لوں گا ، کیونکہ مجھے جہاد کا پتہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12319

Majma al-Zawaid #12319

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَشْقَى النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: عَاقِرُ نَاقَةِ ثَمُودَ، وَابْنُ آدَمَ الَّذِي قَتَلَ أَخَاهُ، مَا سَفَكَ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمٍ إِلَّا لَحِقَهُ مِنْهُ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ» "". قُلْتُ: وَأَسْقَطَ الثَّالِثَ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ قَاتِلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ كَمَا وَرَدَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَابْنُ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke of three most wretched people, naming the hamstringer of the she-camel of Thamūd and the son of Adam who killed his brother and bears a share of every blood shed on earth as the first to institute killing, while the third was omitted, apparently the killer of ʿAlī ibn Abī Ṭālib as indicated elsewhere. > **"The most wretched of people are three: the hamstringer of the she-camel of Thamūd, and the son of Adam who killed his brother; no blood is shed on earth except that a share of it reaches him, because he was the first to institute killing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( اولاد آدم میں ) سب سے زیادہ بدنصیب لوگ تین ہیں ، قوم ثمود کی اوٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص ، حضرت آدم علیہ السلام کا وہ بیٹا ، جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا ، روئے زمین پر جو بھی خون بہایا جائے گا ، اُس میں اسے حصہ ملے گا ، کیونکہ سب سے پہلے اس نے قتل کے طریقے کا آغاز کیا تھا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : راوی نے تیسرے فرد کا ذکر نہیں کیا ، لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ تیسرا فرد ، حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے ، جیسا کہ دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور وہ متروک ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابوزرعہ کہتے ہیں : اس کا عمل صدق ہو گا ، اگر اللہ نے چاہا اور ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔

12320

Majma al-Zawaid #12320

عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ، فَقَالَ: "" قَسَّمْتُ النَّارَ سَبْعِينَ جُزْءًا، فَلِلْآمِرِ تِسْعَةٌ وَسِتُّونَ وَلِلْقَاتِلِ جُزْءٌ وَحَسْبُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Marthad ibn ʿAbd Allāh al-Yazanī reports from a man among the Companions of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the killer and the one who commands killing, and he described the division of the Fire into seventy parts between them. > **"I have divided the Fire into seventy parts: for the commander sixty-nine, and for the killer one part, and it suffices him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مرثد بن عبداللہ یزنی ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے قتل کرنے والے شخص اور اس کا حکم دینے والے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ آگ کو ستّر اجزاء میں تقسیم کیا جائے گا ، تو حکم دینے والے کو انہتر اجزاء ملیں گے اور قاتل کو ایک جزء ملے گا اور وہ بھی اس کے لئے کافی ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ مدلس ہے ۔

12321

Majma al-Zawaid #12321

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ النَّارَ سَبْعِينَ جُزْءًا، تِسْعَةٌ وَسِتُّونَ لِلْآمِرِ وَجُزْءٌ لِلْقَاتِلِ وَحَسْبُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the division of the Fire into seventy portions between the commander and the killer. > **"Indeed Allah has divided the Fire into seventy portions: sixty-nine for the commander and one portion for the killer, and it suffices him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے آگ کے ستّر حصے کئے ، انہتر حصے حکم دینے والے کے لئے ہوں گے اور ایک حصہ قاتل کے لئے ہو گا اور وہی اس کے لئے کافی ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12322

Majma al-Zawaid #12322

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُؤْتَى بِالْقَاتِلِ وَالْمَقْتُولِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَمَرَنِي هَذَا. فَيُؤْخَذُ بِأَيْدِيهِمَا جَمِيعًا فَيُقْذَفَانِ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ a scene in which killer and slain are brought on Resurrection, the slain asks inquiry, the killer blames one who commanded him, and both are seized and cast into the Fire. > **"The killer and the slain will be brought on the Day of Resurrection, and he will say: O Lord, ask this one for what he killed me. And he will say: O Lord, this one commanded me. Both will be seized by their hands together and cast into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن قاتل اور مقتول کو لایا جائے گا ، تو مقتول عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو وہ قاتل بتائے گا : اے میرے پروردگار ! اُس ( فلاں ) شخص نے مجھے اس کا حکم دیا تھا ، تو ان دونوں افراد کے ہاتھوں کو پکڑا جائے گا اور انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔

12323

Majma al-Zawaid #12323

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَقْعُدُ الْمَقْتُولُ بِالْجَادَّةِ، فَإِذَا مَرَّ بِهِ الْقَاتِلُ فَأَخَذَهُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، هَذَا قَطَعَ عَلَيَّ صَوْمِي وَصَلَاتِي. قَالَ: فَيُعَذِّبُ الْقَاتِلَ وَالْآمِرَ بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ "" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ "" فِي الْأَدَبِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ described the slain sitting on the roadway, seizing the killer as he passes, complaining that his fasting and prayer were cut off, whereupon both killer and commander are tormented. > **"The slain will sit on the roadway, and when the killer passes him he will seize him and say: O Lord, this one cut off my fasting and my prayer. The killer and the one who commanded him will be tormented."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مقتول راستے میں بیٹھ جائے گا ، جب قاتل اس کے پاس سے گزرے گا ، تو مقتول اسے پکڑ لے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اس شخص نے میری نماز اور روزے ختم کروا دیے تھے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو قاتل کو اور اس قتل کا حکم دینے والے کو عذاب دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر یہ احادیث آئیں گی کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور قتل کرنا کفر ہے یہ ( روایات ) کتاب الادب میں آئیں گی ۔

12324

Majma al-Zawaid #12324

عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَشْهَدَنَّ أَحَدُكُمْ قَتِيلًا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قُتِلَ مَظْلُومًا فَتُصِيبُهُ السَّخْطَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" فَتَنْزِلُ السَّخْطَةُ عَلَيْهِمْ فَتُصِيبُهُ مَعَهُمْ ""، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Kharashah ibn al-Ḥurr, may Allah be pleased with him, who was among the Companions of the Prophet ﷺ, reports from the Prophet ﷺ a warning against witnessing a killing lest the victim be wronged and divine anger afflict the witness. > **"Let none of you witness a slain one, for perhaps he was killed wrongfully, and anger afflicts him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خرشہ بن حر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص ، کسی مقتول کے قتل کے وقت ہرگز موجود نہ ہو ، کیونکہ ہو سکتا ہے اُسے مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا جا رہا ہو ، اور پھر اس ( موجود ہونے والے شخص ) کو بھی ( اللہ تعالیٰ کی ) ناراضگی لاحق ہو جائے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں :” تو اُن لوگوں پر ناراضگی نازل ہو اور ان کے ہمراہ اس شخص کو بھی لاحق ہو جائے ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

12325

Majma al-Zawaid #12325

عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «سَيَكُونُ بَعْدِي فِتْنَةٌ النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَمَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ فَلْيَمْشِ بِسَيْفِهِ إِلَى صَفَاةٍ فَلْيَضْرِبْهُ بِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعَ لَهَا حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو كَثِيرٍ الْمُحَارِبِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kharashah ibn al-Ḥurr, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe the coming tribulation in which the sleeper is better than the wakeful and the seated better than the striver, and command breaking the sword upon rock and lying down until it clears. > **"After me there will be a tribulation in which the sleeper is better than the wakeful, and the seated is better than the striver. Whoever encounters it, let him walk with his sword to a rock and strike it until it breaks, then let him lie down for it until it clears as it clears."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خرشہ بن حر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب میرے بعد ایسا فتنہ آئے گا ، جس میں سویا ہوا شخص ، بیدار شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں بیٹھا ہوا شخص ، چلنے والے سے بہتر ہو گا ، تم میں سے جس شخص کو وہ صورت حال درپیش ہو ، وہ اپنی تلوار لے کر کسی چٹان کے پاس جائے اور وہ تلوار اس چٹان پر مار کر اس تلوار کو توڑ دے اور پھر وہ لیٹ جائے ، یہاں تک کہ وہ فتنہ ختم ہو جائے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوکثیر محاربی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12326

Majma al-Zawaid #12326

وَعَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ: بَعَثَنِي يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَمَعِي نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمْتُ فَقُلْتُ: مَا تَأْمُرُونَ بِهِ النَّاسَ؟ «فَقَالَ: أَوْصَانِي أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ أَنَا أَدْرَكْتُ شَيْئًا مِنْ هَذِهِ أَنْ أَعْمِدَ إِلَى أُحُدٍ وَأَكْسِرَ سَيْفِي وَأَقْعُدَ فِي بَيْتِي، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي قَالَ: "" اقْعُدْ فِي مَخْدَعِكَ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْكَ فَاجْثُ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَتَقُولُ: بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ، فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ "". فَقَدْ كَسَرْتُ سَيْفِي، فَإِذَا دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي دَخَلْتُ مَخْدَعِي، فَإِذَا دَخَلَ عَلَيَّ مَخْدَعِي جَثَوْتُ عَلَى رُكْبَتَيَّ فَقُلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقُولَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ashʿath al-Ṣanʿānī reports that Yazīd ibn Muʿāwiyah sent him to ʿAbd Allāh ibn Abī Awfā, may Allah be pleased with him, with some Companions of the Messenger of Allah ﷺ, he asked what they commanded people, and Ibn Abī Awfā replied that Abū al-Qāsim ﷺ enjoined him, if he encountered such events, to head to Uḥud, break his sword, and sit in his house, retreating to an inner room if pursued, kneeling and reciting the verse of bearing sin and being among the companions of the Fire as the recompense of wrongdoers, and Ibn Abī Awfā affirmed he had broken his sword and would act accordingly. > **"Sit in your inner room, and if he enters upon you, kneel upon your knees and say: Bear my sin and your sin, so you will be among the companions of the Fire, and that is the recompense of the wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں : یزید بن معاویہ نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ، میرے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ، میں آیا ، میں نے دریافت کیا : آپ اس کے بارے میں لوگوں کو کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : حضرت ابوالقاسم ﷺ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اگر میں اس طرح کی صورت حال پاؤں تو اُحد پہاڑ کی طرف جا کر اپنی تلوار توڑ دوں اور اپنے گھر میں بیٹھ جاؤں ، میں نے عرض کی : اگر وہ ( قاتل ) شخص میرے گھر میں میرے پاس آ جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم گھر کے اندرونی حصے میں جا کے بیٹھ جانا ، اگر وہ وہاں بھی تمہارے پاس آئے ، تو تم گھٹنوں کے بل جھک جانا اور یہ کہہ دینا : تم میرا اور اپنا گناہ لے کر واپس جاؤ ! تم اہل جہنم میں سے ہو گے اور ظلم کرنے والوں کی جزاء یہی ہے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو میں نے اپنی تلوار توڑ دی ہے ، اگر کوئی شخص میرے گھر میں میرے پاس آیا ، تو میں گھر کے اندرونی حصے میں چلا جاؤں گا ، اگر وہ گھر کے اندرونی حصے میں بھی میرے پاس آیا ، تو میں گھٹنوں کے بل جھک جاؤں گا اور وہ بات کہوں گا ، جو نبی اکرم ﷺ نے کہنے کے لئے ارشاد فرمائی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12327

Majma al-Zawaid #12327

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يَقْتَتِلُونَ عَلَى الدُّنْيَا فَاعْمِدْ بِسَيْفِكَ عَلَى أَعْظَمِ صَخْرَةٍ فِي الْحَرَّةِ فَاضْرِبْهُ بِهَا حَتَّى يَنْكَسِرَ، ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ "". فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Maslamah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded, upon seeing people fighting over worldly life, striking the sword against the greatest rock in the lava field until it breaks, then sitting at home until an erring hand or a decreed death arrives, and the narrator affirms he did as commanded. > **"When you see people fighting over worldly life, take your sword to the greatest rock in the lava field and strike it until it breaks, then sit in your house until an erring hand or a decreed death comes to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ دنیا کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں ، تو تم اپنی تلوار لے کر پتھریلی زمین میں موجود سب سے بڑی چٹان کے پاس جاؤ اور وہ تلوار اُس چٹان پر مار کر اسے توڑ دو ، پھر تم اپنے گھر میں بیٹھ جاؤ ، یہاں تک کہ گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ ) یا طبعی موت تم تک آ جائے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو میں نے ویسا ہی کیا ، جو نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12328

Majma al-Zawaid #12328

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيِّ أَنَّهُ «أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفًا مِنْ نَجْرَانَ أَوْ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفٌ مِنْ نَجْرَانَ [فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ] أَعْطَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ: "" جَاهِدْ بِهَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ النَّاسِ فَاضْرِبْ بِهِ الْحَجَرَ، ثُمَّ ادْخُلْ بَيْتَكَ فَكُنْ حِلْسًا مُلْقًى حَتَّى تَقْتُلَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Zayd al-Ashhalī, may Allah be pleased with him, reports that he gifted a sword from Najrān to the Prophet ﷺ, or a sword from Najrān was gifted to the Prophet ﷺ, and when Muḥammad ibn Maslamah came to him, the Prophet ﷺ gave it to him with instruction to strive therewith in the path of Allah, then to strike it upon stone and remain home like a discarded mat when people differ violently, until an erring hand kills him or a decreed death comes. > **"Strive with this in the path of Allah, then when the necks of people differ, strike it upon stone, enter your house, and remain like a discarded mat until an erring hand kills you or a decreed death comes to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک تلوار تحفے کے طور پر دی ، جو نجران سے آئی تھی ، راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : نجران سے آئی ہوئی ایک تلوار نبی اکرم ﷺ کو تحفے کے طور پر دی گئی ، جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے وہ تلوار حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیدی اور ارشاد فرمایا : تم اس کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور جب لوگوں کی گردنیں ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جائیں ، تو تم یہ تلوار پتھر پر مار کر اپنے گھر کے اندر چلے جانا اور اپنے گھر کی چٹائی بن جانا ، یہاں تک کہ گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ تمہیں قتل کر دے ) یا طبعی موت آ جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔

12329

Majma al-Zawaid #12329

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ سَيْفًا، فَقَالَ: "" قَاتِلِ الْمُشْرِكِينَ مَا قُوتِلُوا، فَإِذَا رَأَيْتَ سَيْفَيْنِ اخْتَلَفَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَاضْرِبْ بِهِ حَتَّى يَنْثَلِمَ، وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ "". ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَحَذَا لِي عَلَى مِثَالِهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ gave Muḥammad ibn Maslamah, may Allah be pleased with him, a sword with instruction to fight polytheists while they are fought, then to blunt it and sit at home when swords differ among Muslims until a decreed death or an erring hand arrives, and the narrator then came to Ibn ʿUmar who narrated a similar report from the Prophet ﷺ. > **"Fight the polytheists while they are fought, then when you see two swords differing among the Muslims, strike with it until it is blunted, sit in your house until a decreed death or an erring hand comes to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو تلوار دی اور ارشاد فرمایا : ’’ مشرکین کے ساتھ جنگ کرتے رہنا ، جب تک جنگ کی جائے ، اور جب تم دیکھو کہ تلواریں مسلمانوں کے درمیان ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئی ہیں ، تو تم اس تلوار کو مار کر اسے ناکارہ کر دینا اور اپنے گھر میں بیٹھ جانا ، یہاں تک کہ طبعی موت یا گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ ) تم تک آ جائے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : پھر میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، تو انہوں نے بھی نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند حدیث مجھے بیان کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12330

Majma al-Zawaid #12330

وَعَنِ ابْنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو جَالِسًا حِينَ جَاءَهُ رَسُولُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: إِنَّكَ أَحَقُّ مَنْ أَعَانَنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ. فَقَالَ: سَمِعْتُ خَلِيلِي ابْنَ عَمِّكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِذَا كَانَ هَكَذَا أَوْ مِثْلَ هَذَا أَنِ اتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ ""، فَقَدِ اتَّخَذْتُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Ḥakam ibn ʿAmr al-Ghifārī reports from his grandfather that he was sitting with al-Ḥakam ibn ʿAmr, may Allah be pleased with him, when a messenger of ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allah be pleased with him, came saying he was most entitled to aid them in the matter, and al-Ḥakam replied that he heard his close friend, the cousin of the messenger's sender ﷺ, instruct taking a wooden sword in such circumstances, which he had done. > **"When it is like this, or similar to this, take a sword of wood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : ’’ ایک مرتبہ میں حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ان کے پاس حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا قاصد آیا اور اس نے کہا : آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ اس بارے میں ہماری مدد کریں ، تو انہوں نے فرمایا : میرے خلیل ﷺ جو آپ کے چچا زاد ہیں ، میں نے انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب اس طرح کی صورت حال ہو ، تو میں لکڑی کی تلوار رکھ لوں ۔‘‘ تو میں نے لکڑی کی تلوار رکھ لی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12331

Majma al-Zawaid #12331

وَعَنْ حُذَيْفَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ: "" «أَتَتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَحَدُكُمْ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ "" قُلْتُ: فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَكْسِرُ يَدَكَ "" قُلْتُ: فَإِنِ انْجَبَرَتْ؟ قَالَ: "" تَكْسِرُ الْأُخْرَى "". قُلْتُ: فَإِنِ انْجَبَرَتْ؟ قَالَ: "" تَكْسِرُ رِجْلَكَ "". قُلْتُ: فَإِنِ انْجَبَرَتْ؟ قَالَ: "" تَكْسِرُ الْأُخْرَى "". قُلْتُ: حَتَّى مَتَى؟ قَالَ: "" حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah, may Allah be pleased with him, raises the report that the Prophet ﷺ warned of tribulations coming like portions of dark night in which faith shifts between morning and evening and religion is sold for paltry worldly goods, and when asked what to do, repeatedly commanded symbolic breaking of limbs until an erring hand or decreed death arrives. > **"Tribulations will come to you like portions of the dark night; a man will be a believer in the morning and a disbeliever in the evening, and a believer in the evening and a disbeliever in the morning; one of you will sell his religion for a paltry portion of worldly life. Break your hand. Break the other. Break your leg. Break the other. Until an erring hand or a decreed death comes to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ تمہارے پاس فتنے یوں آئیں گے ، جیسے وہ تاریک رات کے ٹکڑے ہوں ، اُن میں کوئی شخص صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کو کافر ہو جائے گا ، یا شام کو مومن ہو گا تو صبح کافر ہو چکا ہو گا ، تم میں سے کوئی ایک شخص دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض میں اپنے دین کو فروخت کر دے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر میں کیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنا ہاتھ توڑ دینا ۔ میں نے عرض کی : اگر اس پر جبیرہ ( یعنی ٹوٹی ہوئی ہڈی پر باندھی جانے والی پٹی ) باندھ دی جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دوسرا توڑ دینا ، میں نے عرض کی : اگر اس پر جبیرہ باندھ دی جائے ؟ آپ نے فرمایا : تم اپنا پاؤں توڑ دینا ، میں نے عرض کی : اگر اس پر جبیرہ باندھ دی جائے ؟ آپ نے فرمایا : تم دوسرا پاؤں بھی توڑ دینا ، میں نے عرض کی : ایسا کب تک رہے گا ؟ آپ نے فرمایا : جب تک گنہگار ہاتھ ( یعنی قاتل کا ہاتھ ) یا طبعی موت تم تک نہیں آ جاتے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

12332

Majma al-Zawaid #12332

وَعَنْ رِبْعِيٍّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَجُلًا فِي جَنَازَةِ حُذَيْفَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ صَاحِبُ هَذَا السَّرِيرِ يَقُولُ: مَا بِي بَأْسٌ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لَأَدْخُلَنَّ بَيْتِي، فَلَئِنْ دَخَلَ عَلَيَّ فَلْأَقُولَنَّ: هَا، بُؤْ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّجُلِ الْمُبْهَمِ.

EnglishUnverified translation

Ribʿi reported that he heard an unnamed man speaking at the funeral of Hudhayfah, may Allah be pleased with him, who attributed a statement to the occupant of that bier concerning what he had heard from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, about withdrawing into one's house at the time of mutual fighting and responding to an intruder with a statement of bearing sin. > **"There is no harm upon me for what I heard from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him. If you fight one another, I shall surely enter my house, and if one enters upon me, I shall surely say: Ha, bear my sin and your sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربعی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک شخص کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، اس نے بتایا کہ اس پلنگ پر لیٹے ہوئے صاحب نے یہ بات بیان کی ہے : مجھے کوئی حرج نہیں ہے ، جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے کہ اگر تم لوگ آپس میں جنگ کرو گے ، تو میں اپنے گھر میں داخل ہو جاؤں ، اگر کوئی شخص میرے گھر میں مجھ تک آ جائے ، تو میں ضرور یہ کہوں کہ : تم میرا اور اپنا گناہ لے کر واپس جاؤ ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ایک مبہم شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔

12333

Majma al-Zawaid #12333

وَعَنْ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ: إِنِّي بِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَلِجُ؟ قُلْتُ: عَلَيْكُمْ السَّلَامُ [فَلِجْ]. فَلَمَّا دَخَلَ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ. قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ [وَذَلِكَ] فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ؟! قَالَ: طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ، فَذَكَرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ. قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُحَدِّثُهُ. قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَكُونُ فِتْنَةٌ النَّائِمِ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ، وَالرَّاكِبُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرِي. قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: "" ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ "". قُلْتُ: وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ؟ قَالَ: "" حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ "". قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" اكْفُفْ يَدَكَ وَلِسَانَكَ وَادْخُلْ دَارَكَ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَيَّ دَارِي؟ قَالَ: "" فَادْخُلْ بَيْتَكَ "". قَالَ: قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ: "" فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ، وَاصْنَعْ هَكَذَا - وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ - وَقُلْ: رَبِّيَ اللَّهُ، حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wabisah al-Asadi, may Allah be pleased with him, reported that while he was at home in Kufah at midday he heard a greeting at the door and gave permission to enter, and the visitor proved to be ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, who said the day had grown long upon him and he recalled one with whom he might converse. They exchanged narrations from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, until Ibn Masʿud reported what he had heard about successive degrees of safety during tribulation, when its slain would be in the Fire, identified as the days of Harj when a man would not trust his companion, and gave layered instructions for seclusion ending in the mosque with a gesture and a declaration of lordship until death. > **"There shall be a tribulation in which the sleeper is better than the one reclining, and the one reclining is better than the one sitting, and the one sitting is better than the one standing, and the one standing is better than the one walking, and the one walking is better than the rider, and the rider is better than the one urging his mount. All its slain are in the Fire. That is in the days of Harj, when a man shall not trust his companion. Restrain your hand and your tongue and enter your house, then enter your inner room, then enter your place of prayer, and do thus, holding the wrist with the right hand, and say: My Lord is Allah, until you die upon that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وابصہ اسدی بیان کرتے ہیں : میں کوفہ میں اپنے گھر میں موجود تھا ، اسی دوران میں نے دروازے پر کسی شخص کی آواز سنی ، السلام علیکم کیا میں اندر آ جاؤں ؟ میں نے کہا : وعلیکم السلام اندر آ جاؤ ! جب وہ صاحب اندر آئے ، تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! ملنے کے لئے آنے کا یہ کون سا وقت ہے ؟ راوی کہتے ہیں : یہ دن چڑھے کے وقت کی بات ہے ، انہوں نے فرمایا : دن طویل ہو چکا تھا ، مجھے ایک بات یاد آئی ، جو میں بیان کرنا چاہتا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے احادیث بیان کرنا شروع کیں ، انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایسا فتنہ ہو گا کہ اُس میں سویا ہوا شخص ، لیٹے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں لیٹا ہوا شخص ، بیٹھے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا ، اس میں بیٹھا ہوا شخص ، کھڑے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں کھڑا ہوا شخص ، چلنے والے سے بہتر ہو گا اور اس میں چلنے والا شخص ، سوار شخص سے بہتر ہو گا اور اس میں سوار شخص ، دوڑنے والے سے زیادہ بہتر ہو گا ، اس کے دوران مرنے والے سب لوگ جہنم میں جائیں گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کب ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : یہ قتل و غارت گری کے دن ہوں گے ، میں نے عرض کی : قتل و غارت گری کے دن کب ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت جب کوئی شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے محفوظ نہیں ہو گا ، میں نے عرض کی : اگر میں وہ زمانہ پا لیتا ہوں تو آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے ہاتھ اور اپنی زبان کو روک کے رکھنا اور اپنے گھر میں داخل ہو جانا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر کوئی شخص میرے گھر میں میرے پاس آ جاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے گھر میں رہنا ، میں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ شخص میرے گھر میں میرے پاس آ جاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم مسجد میں داخل ہو جانا اور پھر اس طرح کرنا ، آپ نے اپنی دائیں ہتھیلی کو بند کیا اور فرمایا : تم یہ کہنا : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہیں موت آ جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

12334

Majma al-Zawaid #12334

«وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا خَالِدُ، إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أَحْدَاثٌ وَفِتَنٌ وَاخْتِلَافٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ لَا الْقَاتِلَ فَافْعَلْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Khalid ibn ʿUrfutah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, addressed him by name concerning events, tribulations, and disagreement that would occur after him, and commanded him, if able, to take the station of the murdered servant of Allah rather than the murderer. > **"O Khalid, there shall be after me events and tribulations and disagreement, so if you are able to be the slain servant of Allah, not the slayer, then do so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ’’ اے خالد ! عنقریب میرے بعد نئی صورت حال ، فتنے اور اختلافات ہوں گے ، اگر تم سے ہو سکے ، تو تم اللہ کا مقتول بندہ بننا ، قاتل نہ بننا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12335

Majma al-Zawaid #12335

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ كَانَ مِعَ الْخَوَارِجِ ثُمَّ فَارَقَهُمْ قَالَ: دَخَلُوا قَرْيَةً، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ ذَعِرًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالُوا: لِمَ تُرَعُ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ رُعْتُمُونِي. قَالُوا: أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ حَدِيثًا يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُحَدِّثُنَاهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، «سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ ذَكَرَ فِتْنَةً الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي "". قَالَ: "" فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَلِكَ فَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - وَلَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ». قَالُوا: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِيكَ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَقَدَّمُوهُ عَلَى ضَفَّةِ النَّهْرِ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ فَسَالَ دَمُهُ كَأَنَّهُ شِرَاكُ نَعْلٍ امْدَقَرَّ، وَبَقَرُوا أُمَّ وَلَدِهِ عَمَّا فِي بَطْنِهَا. وَفِي رِوَايَةٍ: مَا ابْذَقَرَّ - يَعْنِي لَمْ يَتَفَرَّقْ - قَالَ: "" وَلَا تَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ "" مِنْ غَيْرِ شَكٍّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَوَّلُهُ: لَمَّا تَفَرَّقَتِ النَّاسُ صَحِبْتُ قَوْمًا لَمْ أَصْحَبْ قَوْمًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُمْ، فَسِرْنَا عَلَى شَطِّ نَهْرٍ، فَرُفِعَ لَنَا مَسْجِدٌ فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى نَوَاصِي الْخَيْلِ خَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، فَقَالَ لَهُ أَمِيرُنَا: لِمَ تُرَعُ؟ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمْ أَصْحَبْ قَوْمًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُمْ حَتَّى وَجَدْتُ خَلْوَةً فَانْفَلَتُّ. وَلَمْ أَعْرِفِ الرَّجُلَ الَّذِي مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

A man of ʿAbd al-Qays who had been with the Khawarij then left them reported that they entered a village and ʿAbdullah ibn Khabbab, may Allah be pleased with him, came out alarmed dragging his cloak, and when questioned he said they had frightened him. They asked whether he was the Companion of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, and whether he had heard from his father a narration from the Messenger, peace and blessings of Allah be upon him, about tribulation. He affirmed and reported the gradation of the seated over the standing and the walking over the striving, with the command to be the slain servant of Allah and not the slaying servant. When they pressed him whether he had himself heard it from his father from the Messenger, he affirmed. They then brought him to the bank of the river, struck his neck so that his blood flowed as a thong remains undivided and unseparated, and they ripped open his concubine mother of his child. In the fuller account the narrator had accompanied a people dear to him along a riverbank, saw a mosque containing a man who came out startled at the forelocks of horses, their leader asked why he was alarmed, and after the killing the narrator found no people more hateful to him until he found solitude and escaped. > **"There shall be a tribulation in which the seated is better than the standing, and the standing is better than the walking, and the walking is better than the striving. If you reach it, be the slain servant of Allah, and do not be the slaying servant of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جو پہلے خوارج کے ساتھ تھے اور پھر ان سے الگ ہو گئے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ ایک بستی میں داخل ہوئے ، تو حضرت عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ چادر کو گھسیٹتے ہوئے پریشانی کے عالم میں باہر آئے ، لوگوں نے کہا : آپ پریشان نہ ہوں ، انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم لوگوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، لوگوں نے کہا : آپ اللہ کے رسول کے صحابی حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لوگوں نے دریافت کیا : کیا آپ نے اپنے والد کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جو آپ ہمیں بیان کریں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں میں نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فتنے کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ’’ اس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا ، اس میں کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہو گا اور اس میں چلنے والا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم وہ صورت حال پاؤ ، تو تم مقتول بندے بننا ‘‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ اللہ کے قاتل بندے نہ بننا ۔‘‘ لوگوں نے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ حدیث اپنے والد کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے ان صاحب کو آگے کیا ، نہر کے کنارے لائے اور ان کی گردن اڑا دی ، ان کا خون بہتا ہوا یوں جا رہا تھا جیسے وہ جوتے کا تسمہ ہوتا ہے ، پھر ان لوگوں نے ان صاحب کی ام ولد کو بھی ذبح کر دیا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی مار دیا ، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لفظ «مَا ابْذَقَر» اس کا مطلب یہ ہے وہ متفرق نہیں ہوئے ، اور اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ’’ تم اللہ کے قاتل بندے نہ بننا ........‘‘ اور یہ الفاظ کسی شک کے بغیر ہیں ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب لوگ اختلافات کا شکار ہوئے ، تو میں ایک ایسی قوم کے ساتھ ہو گیا کہ کوئی قوم میرے نزدیک ان سے زیادہ محبوب نہیں تھی ، ہم نہر کے کنارے چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران ایک مسجد ہمارے سامنے آئی ، اس میں ایک شخص موجود تھا ، جب اس نے گھوڑوں کی پیشانیاں دیکھیں ، تو وہ پریشانی کے عالم میں اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا باہر آیا ، ہمارے امیر نے اس سے کہا : تم پریشان نہ ہو !‘‘۔ اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ’’ میں کسی ایسی قوم کے ساتھ نہیں رہا کہ جو میرے نزدیک ان لوگوں سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ، یہاں تک کہ جب مجھے موقع ملا ، تو میں وہاں سے کھسک گیا ۔‘‘ ( مصنف فرماتے ہیں : ) میں اُس شخص سے واقف نہیں ہوں ، جس کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا ( اور جو اس روایت کا راوی ہے ) اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12336

Majma al-Zawaid #12336

وَعَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: كَيْفَ نَصْنَعُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" ادْخُلُوا بُيُوتَكُمْ وَأَخْمِلُوا ذِكْرَكُمْ "". فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَى أَحَدِنَا بَيْتَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لِيُمْسِكْ بِيَدِهِ، وَلْيَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْمَقْتُولَ وَلَا يَكُنْ عَبْدَ اللَّهِ الْقَاتِلَ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَكُونُ فِي قُبَّةِ الْإِسْلَامِ فَيَأْكُلُ مَالَ أَخِيهِ وَيَسْفِكُ دَمَهُ وَيَعْصِي رَبَّهُ وَيَكْفُرُ بِخَالِقِهِ وَتَجِبُ لَهُ النَّارُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامٍ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Jundab ibn Sufyan, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretold tribulations after him like portions of the dark night in which a man would be a believer in the morning and a disbeliever in the evening. When a Muslim asked what to do then, he commanded entering houses and obscuring mention, and when asked about one whose house was entered upon, he commanded restraint of the hand and the station of the slain servant, explaining that a man within the stronghold of Islam might consume his brother's wealth, shed his blood, disobey his Lord, disbelieve in his Creator, and thereby earn the Fire. > **"There shall be after me tribulations like portions of the dark night; a man shall be a believer in the morning and a disbeliever in the evening. Enter your houses and obscure your mention. Withhold your hand, and be the slain servant of Allah and do not be the slaying servant of Allah. For a man shall be within the stronghold of Islam, then he consumes the wealth of his brother, sheds his blood, disobeys his Lord, disbelieves in his Creator, and the Fire becomes due for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میرے بعد تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کو کافر ہو چکا ہو گا ، مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے گھروں میں داخل ہو جانا اور اپنے آپ کو چھپا لینا ، ایک شخص نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص ہم میں سے کسی ایک کے گھر میں داخل ہو جاتا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ ( گھر والا ) شخص اپنا ہاتھ روک کے رکھے اور اللہ کا مقتول بندہ بن جائے ، وہ اللہ کا قاتل بندہ نہ بنے ، کیونکہ آدمی اسلام کے قبہ میں ہوتا ہے ، پھر وہ اپنے بھائی کا مال کھاتا ہے ، اس کا خون بہاتا ہے ، اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا ہے ، اپنے خالق کا کفر کرتا ہے ، تو اُس کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب اور ایک راوی عبدالحمید بن بہرام ہے ، ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12337

Majma al-Zawaid #12337

وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللِّيثِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى بِسَاطٍ: "" إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ "". قَالُوا: فَكَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَرَدَّ يَدَهُ إِلَى الْبِسَاطِ فَأَمْسَكَ بِهِ فَقَالَ: "" تَفْعَلُونَ هَكَذَا "". وَذَكَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا: "" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ "". فَلَمْ يَسْمَعْهُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالُوا: مَا قَالَ؟ قَالَ: "" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ "". فَقَالُوا: فَكَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ وَكَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: "" تَرْجِعُونَ إِلَى أَمْرِكُمُ الْأَوَّلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Waqid al-Laythi, may Allah be pleased with him, reported that while they sat upon a mat the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, announced coming tribulation, and when asked what to do he returned his hand to the mat, grasped it, and indicated imitation of that clinging. On another day when many did not hear the announcement, Muʿadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, called attention to it, and when asked what to do the Prophet commanded return to the first state of affairs. > **"There shall be tribulation. Do thus, clinging as this. Return to your first affair."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب فتنے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک چٹائی کی طرف بڑھایا ، اسے پکڑا اور فرمایا : تم لوگ اس طرح کرنا ، ایک دن نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ عنقریب فتنے ہوں گے ، بہت سے لوگوں نے یہ بات نہیں سنی ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ( ان لوگوں سے ) کہا ، نبی اکرم ﷺ جو ارشاد فرما رہے ہیں ، کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟ لوگوں نے دریافت کیا : آپ ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عنقریب فتنے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمارے لے کیا ہو گا ؟ اور ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے پہلے معاملے کی طرف لوٹ جانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12338

Majma al-Zawaid #12338

وَعَنْ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيِّ قَالَ: أَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ: "" «إِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ خَيْرَ مَالِ النَّاسِ غَنَمٌ بَيْنَ شَجَرٍ تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمِيَاهَ، يَأْكُلُ أَهْلُهَا مِنْ رِسْلِهَا وَيَشْرَبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَيَلْبَسُونَ مِنْ أَشْعَارِهَا "". أَوْ قَالَ: "" مِنْ أَصْوَافِهَا، وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِمِ الْعَرَبِ، يُفْتَنُونَ وَاللَّهِ يُفْتَنُونَ وَاللَّهِ يُفْتَنُونَ وَاللَّهِ "" يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: لِمُخَوَّلٍ حَدِيثٌ طَوِيلٌ أَخَّرْتُهُ سَهْوًا، [يَكْتُبُ هَاهُنَا] مِنْ مَقْلُوبِهَا فِي بَابٍ مِنْهُ فِيمَا يَفْعَلُ فِي الْفِتَنِ.

EnglishUnverified translation

Mikhwal al-Bahzi, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, conversed with them in the evening and foretold a time when the best wealth would be goats pasturing among trees, eating foliage and coming to water, whose owners would eat of their meat, drink of their milk, and wear of their hair or wool, while tribulations would churn among the dwelling-places of the Arabs. He thrice swore by Allah that people would be put to trial. > **"There shall come upon people a time when the best wealth of people shall be goats among trees, eating the trees and coming to water; their owners shall eat of their meat and drink of their milk and wear of their hair. And tribulations shall churn among the dwelling-places of the Arabs. By Allah they shall be tried, by Allah they shall be tried, by Allah they shall be tried."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مخول بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ شام کے وقت ہمارے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں لوگوں کے مال میں سب سے بہتر وہ بکریاں ہوں گی ، جو درختوں کے درمیان ہوں گی ، وہ درختوں کے پتے کھا لیں گی اور پانی تک پہنچ جائیں گی ، ان کے مالکان ان کا گوشت کھا لیں گے ، ان کا دودھ پی لیں گے ، ان کے بالوں کا لباس بنا لیں گے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کی اون کا لباس بنا لیں گے اور اس وقت فتنے عربوں کے رہائشی مقامات میں گھومتے پھر رہے ہوں گے ، اور لوگ آزمائش کا شکار ہوں گے ، اللہ کی قسم ! لوگ آزمائش کا شکار ہوں گے ، اللہ کی قسم ! لوگ آزمائش کا شکار ہوں گے ، اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) حضرت مخول رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث مذکور ہے ، جسے میں نے بھول کر بعد میں ذکر کیا ہے وہ یہاں نوٹ ہونی چاہیے تھی ، وہ اس باب میں آئے گی کہ فتنوں کے زمانے میں کیا کرنا چاہیے ؟

12339

Majma al-Zawaid #12339

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّهَا سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا "". قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَأَيُّ الرِّجَالِ أَرْشَدُ؟ قَالَ: "" رَجُلٌ بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَرَمَيْنِ فِي قِلَّةٍ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ لِمَوَاقِيتِهَا وَيَحُجُّ وَيَعْتَمِرُ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى تَأْتِيَهُ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretell tribulations after him in which a man would be a believer in the morning and a disbeliever in the evening and conversely. When Saʿd asked, with ransom of father and mother, which man would be most rightly guided, he described one upon a hilltop between the two Sanctuaries who maintains prayer at its times, performs Hajj and ʿUmrah, and remains so until an erring hand or a decreed death reaches him. > **"There shall be after me tribulations; a man shall be a believer in the morning and a disbeliever in the evening, and a believer in the evening and a disbeliever in the morning. A man upon a hilltop between these two Sanctuaries, maintaining prayer at its times, performing Hajj and ʿUmrah, and remaining so until an erring hand or a decreed death comes to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب میرے بعد ایسے فتنے آئیں گے ، جن میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کے وقت مومن ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ( اس زمانے میں ) کون سا شخص زیادہ سمجھ دار ہو گا ( یا ہدایت یافتہ ہو گا ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو ان دو حرموں ( یعنی حرمین شریفین ) کے درمیان کسی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہ کر نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرتا ہو ، وہ حج کرے اور عمرہ کرے اور وہ مسلسل ایسے ہی رہے ، یہاں تک کہ کوئی گنہگار ہاتھ ( یعنی قتل کرنے والے کا ہاتھ ) یا طبعی موت اس تک آ جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12340

Majma al-Zawaid #12340

وَعَنْ أَبِي الْغَادِيَةِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «سَتَكُونُ فِتَنٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ، خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا مُسْلِمُو أَهْلِ الْبَوَادِي الَّذِينَ لَا يَتَنَدَّوْنَ مِنْ دِمَاءِ النَّاسِ وَلَا أَمْوَالِهِمْ شَيْئًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَيَّانُ بْنُ حَجَرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Ghadiyah al-Muzani, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretold thick and severe tribulations and identified the best people therein as the Muslims of the deserts who do not stain themselves with the blood or wealth of people. > **"There shall be thick and severe tribulations; the best people therein shall be the Muslims of the deserts, who do not soil themselves with anything of the blood of people nor their wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوغادیہ مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب بڑے اور مضبوط فتنے ہوں گے ، ان کے دوران لوگوں میں سب سے بہتر ، ویرانوں میں رہنے والے مسلمان ہوں گے ، جو لوگوں کا خون نہیں بہائیں گے اور ان کے اموال کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حیان بن حجر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12341

Majma al-Zawaid #12341

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ أَسْلَمُ النَّاسِ فِيهَا - أَوْ خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا - الْجُنْدَ الْغَرْبِيُّ» ""، قَالَ ابْنُ الْحَمِقِ: فَلِذَلِكَ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِصْرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمِيرَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُدْرَى مَنْ هُوَ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-Hamiq, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretold a tribulation in which the safest or best people would be the western detachment. Ibn al-Hamiq added that it was for this reason he had come to them in Egypt. > **"There shall be a tribulation in which the safest of people therein, or the best of people therein, shall be the western detachment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب فتنہ ہو گا ، اس میں لوگوں میں سب سے زیادہ سلامتی والا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس میں لوگوں میں سب سے بہتر مغربی لشکر ہو گا ۔‘‘ حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اسی وجہ سے میں تم لوگوں کے پاس مصر آیا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمیرہ بن عبداللہ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے ؟

12342

Majma al-Zawaid #12342

عَنْ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ قَالَ: «نُصِبَتْ حَبَائِلُ لِي بِالْأَبْوَاءِ، فَوَقَعَ فِي حَبْلٍ مِنْهَا ظَبْيٌ فَأَفْلَتَ، فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا قَدْ أَخَذَهُ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ، فَتَسَاوَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْنَاهُ نَازِلًا بِالْأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ يَسْتَظِلُّ بِنِطْعٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَيْهِ، فَقَضَى بِهِ بَيْنَنَا شَطْرَيْنِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَلْقَى الْإِبِلَ وَبِهَا لَبَنٌ وَهِيَ مُصَرَّاةٌ وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ. قَالَ: "" نَادِ صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ جَاءَ، وَإِلَّا فَاحْلُلْ صِرَارَهَا ثُمَّ اشْرَبْ ثُمَّ صُرَّ وَأَبْقِ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الضَّوَالُّ تَرِدُ عَلَيْنَا هَلْ لَنَا أَجْرٌ أَنْ نَسْقِيَهَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ، فِي كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ "". ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا قَالَ: "" سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ خَيْرُ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ رِسْلِهَا وَيَشْرَبُ مِنْ أَلْبَانِهَا وَيَلْبَسُ مِنْ أَصْوَافِهَا - أَوْ قَالَ: أَشْعَارِهَا - وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ، وَاللَّهِ مَا تَعْبَئُونَ "". يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: "" أَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَحُجَّ [الْبَيْتَ]، وَاعْتَمِرْ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، وَصِلْ رَحِمَكَ، وَأَقْرِ الضَّيْفَ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ زَالَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Mikhwal al-Bahzi then al-Sulami, may Allah be pleased with him, reported that traps set for him at Abwa caught a gazelle which escaped, and he went in pursuit and found another man had taken it, so they disputed and proceeded together to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, whom they found halted at Abwa beneath a tree shading himself with a leather mat. He judged the gazelle to be divided between them in halves. Mikhwal then asked about finding milk-bearing camels whose udders were tied while in need, and was told to call their owner thrice, and otherwise to untie, drink, then retie while leaving the means of milk for its owner. Asked whether watering stray animals brought reward, he affirmed reward in every living thirsty creature. Then the Prophet began to speak of a time when the best wealth would be goats between the two mosques, eating trees and coming to water, with their owner eating, drinking milk, and wearing wool or hair, while tribulations churned among the Arabs and people would not care, thrice repeated. When asked for counsel, he enjoined prayer, zakat, fasting Ramadan, Hajj of the House and ʿUmrah, kindness to parents, joining kin, honoring the guest, enjoining right, forbidding wrong, and remaining with the truth wherever it turns. > **"Call the owner of the camels thrice; if he comes, well, otherwise untie its udder, then drink, then tie, and leave for the milk its means. Yes, in every moist liver is reward. There shall come upon people a time when the best wealth is goats between the two mosques, eating trees and coming to water; its owner eats of its meat, drinks of its milk, and wears of its wool. Tribulations shall churn among the dwelling-places of the Arabs. By Allah you shall not care. Establish prayer, give zakat, fast Ramadan, perform Hajj of the House and ʿUmrah, be dutiful to your parents, join your kin, honor the guest, enjoin the right, forbid the wrong, and remain with the truth wherever it turns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مخول بہزی سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ’’ ابواء ‘‘ کے مقام پر جال لگایا ، اس کی ایک رسی میں ایک ہرن کا بچہ پھنس گیا ، پھر وہ وہاں سے نکلا ، میں اس کے پیچھے گیا ، تو میں نے ایک اور شخص کو پایا کہ وہ اس کو پکڑ چکا تھا ، ہم نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ، پھر ہم اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ کو پایا کہ آپ نے ’’ ابواء ‘‘ مقام پر ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا اور ایک چمڑے کے ٹکڑے کے ذریعے آپ نے سایہ کیا ہوا تھا ، ہم نے اپنا مقدمہ آپ کے سامنے پیش کیا ، تو آپ نے اس بارے میں یہ حکم دیا کہ وہ دو حصوں میں ہمارے درمیان تقسیم ہو جائے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں ایسے اونٹ ملتے ہیں ، جن میں دودھ ہوتا ہے اور وہ اونٹنیاں مصراۃ ہوتی ہیں اور ہمیں ضرورت بھی ہوتی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اونٹ کے مالکان کو تین مرتبہ آواز دو ، اگر وہ آ جائے تو ٹھیک ہے ، ورنہ اس کی تھیلی کھول کے دودھ پی لو اور پھر اسے باندھ دو اور اونٹ کے مالکان کے لئے بھی دودھ باقی رہنے دینا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بعض اوقات گمشدہ جانور ہمارے پاس آ جاتے ہیں ، تو اگر ہم انہیں پانی پلائیں تو کیا اس کا اجر ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ہر جاندار کے ساتھ ( بھلائی کرنے کا ) اجر ہو گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمارے ساتھ گفتگو شروع کی ، آپ نے ارشاد فرمایا : عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں سب سے بہتر مال وہ بکریاں ہوں گی ، جو دو مسجدوں کے درمیان ہوں گی ، جو درخت سے کھا لیں گی ، پانی تک پہنچ جائیں گی ، ان کا مالک ان کا گوشت کھا لے گا ، ان کا دودھ پی لے گا ، اور ان کے اون ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے بالوں سے بنا ہوا لباس پہن لے گا ، اور عربوں کی رہائشی جگہوں میں فتنے گھوم پھر رہے ہوں گے ، اللہ کی قسم ! تم لوگ پرواہ نہیں کرو گے ، یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے تلقین کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم نماز قائم کرو ، تم زکوة دو ، تم رمضان کے روزے رکھو ، تم بیت اللہ کا حج کرو اور عمرہ کرو ، اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، مہمان نوازی کرو ، نیکی کا حکم دو ، برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو ، وہ جہاں بھی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ابویعلیٰ کی سند میں محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی داؤد بن سلیمان شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12343

Majma al-Zawaid #12343

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ الْفِتْنَةَ تُرْسَلُ وَيُرْسَلُ مَعَهَا الْهَوَى وَالصَّبْرُ، فَمَنِ اتَّبَعَ الْهَوَى كَانَتْ قِتْلَتُهُ سَوْدَاءَ، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّبْرَ كَانَتْ قِتْلَتُهُ بَيْضَاءَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashʿari, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said tribulation would be sent and with it desire and patience, with dark and white outcomes for killing according to which path was followed. > **"Tribulation shall be sent, and with it desire and patience shall be sent. Whoever follows desire, his killing shall be black, and whoever follows patience, his killing shall be white."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک فتنوں کو چھوڑا جائے گا اور ان کے ساتھ نفسانی خواہش اور ان کے ساتھ صبر کو بھی چھوڑا جائے گا ، تو جو شخص نفسانی خواہش کی پیروی کرے گا ، اس کا قتل ہونا سیاہ ہو گا اور جو شخص صبر کے پیچھے جائے گا ، اس کا قتل ہونا سفید ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12344

Majma al-Zawaid #12344

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَقْرُبُوا الْفِتْنَةَ إِذَا حَمِيَتْ، وَلَا تَعَرَّضُوا لَهَا إِذَا [أَ] عْرَضَتْ، وَأَضْرِبُوا إِذَا أَقْبَلَتْ "". قُلْتُ: لَعَلَّهُ "" وَاصْبِرُوا لَهَا إِذَا أَقْبَلَتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Dardaʾ, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, a prohibition of approaching tribulation when it blazes and exposing oneself when it appears, with a command whose wording the compiler suggests may intend patience when it advances rather than striking. > **"Do not approach tribulation when it blazes, and do not expose yourselves to it when it appears, and be patient toward it when it advances."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب فتنہ پھیل چکا ہو ، تو فتنے کے قریب نہ جاؤ ، اور جب وہ سامنے آئے ، تو اس کے سامنے نہ آؤ ، اور جب وہ آئے ، تو اسے مارو !‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شاید ( درست ) الفاظ یہ ہیں :” جب وہ آئے ، تو تم اس پر صبر کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

12345

Majma al-Zawaid #12345

عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهًى؟ قَالَ: " نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ ". قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. قَالَ: " بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ثُمَّ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»، قَالَ سُفْيَانُ: الْحَيَّةُ السَّوْدَاءُ تَنْصِبُ: أَيْ تَرْتَفِعُ.

EnglishUnverified translation

Kurz ibn ʿAlqamah al-Khuzaʿi, may Allah be pleased with him, reported that a man asked whether Islam had a limit, and was told that whenever Allah intends good for an Arab or non-Arab household He brings Islam into it, but tribulations would then fall like canopies. When the questioner denied it by Allah, the Prophet swore by Him in whose Hand is his soul that people would return therein as black serpents rising, striking one another's necks. Sufyan explained the black serpent's erect posture as its rising. > **"Yes, whatever Arab or non-Arab household Allah intends good for, He brings Islam into it. Then tribulations fall like canopies. Yes, by Him in whose Hand is my soul, then you shall return therein as black serpents rearing, striking the necks of one another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اسلام کی کوئی آخری حد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب عربوں یا عجمیوں سے تعلق رکھنے والے کسی گھرانے کے افراد کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے گا ، تو ان پر اسلام کو داخل کر دے گا ، پھر فتنے واقع ہوں گے ، یوں جیسے بادل ہوتے ہیں ، اس شخص نے عرض کی : اللہ کی قسم ! کیا ایسا ہی ہو گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، پھر تم ان میں دوبارہ سیاہ رنگ کے سانپوں کی طرح ہو جاؤ گے ، اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے ۔‘‘ سفیان کہتے ہیں : سیاہ رنگ کے سانپ کے کھڑے ہونے سے مراد ، اس کا بلند ہونا ہے ۔

12346

Majma al-Zawaid #12346

وَفِي رِوَايَةٍ «فَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a variant narration completing the preceding account of tribulations, the most excellent person was described as a believer withdrawn in a mountain ravine, fearing his Lord, blessed and exalted, and sparing people his evil. > **"The most excellent of people is a believer secluded in a ravine among the ravines, fearing his Lord and sparing people his evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ مومن ہو گا ، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ رہے گا ، اپنے پروردگار سے ڈرتا رہے گا ، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12347

Majma al-Zawaid #12347

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " «إِنَّمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ وَمُضِلَّاتِ الْفِتَنِ» ".

EnglishUnverified translation

Abu Barzah al-Aslami, may Allah be pleased with him, reported, as far as he knew from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, the Prophet's fear for his community concerning the lusts of deviation in bellies and private parts and misleading tribulations. > **"I fear for you only the lusts of deviation in your bellies and your private parts, and the misleading tribulations."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے تم لوگوں کے بارے میں گمراہ کرنے والی خواہشات کا اندیشہ ہے ، جن کا تعلق تمہارے پیٹ ، تمہاری شرمگاہوں سے ہو گا اور گمراہ کرنے والے فتنوں کا اندیشہ ہے ۔‘‘

12348

Majma al-Zawaid #12348

وَفِي رِوَايَةٍ «وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording of the preceding narration the phrase concerning misleading desires was reported as misleading caprices in place of misleading tribulations. > **"And the misleading desires."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ گمراہ کرنے والی نفسانی خواہشات .......‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12349

Majma al-Zawaid #12349

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً، أَلَا وَإِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً، وَتَتَّبِعُونِي أَفْنَادًا يُهْلِكُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Wathilah ibn al-Asqaʿ, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, came out to them and corrected their assumption that he would be the last of them to die, stating he would be the first to die and they would follow him as separate bands destroying one another. > **"You claim that I shall be the last of you to die, yet I shall be the first of you to die, and you shall follow me as separate bands, destroying one another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں تم سب کے بعد انتقال کروں گا ؟ خبردار ! میں تم سب سے پہلے انتقال کر جاؤں گا ، اور تم لوگ میرے بعد مختلف گروہوں کی شکل میں ہو جاؤ گے ، اور ایک دوسرے کو ہلاک کرو گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12350

Majma al-Zawaid #12350

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ السَّكُونِيِّ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أَتَيْتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَاءِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: وَبِمَاذَا؟ قَالَ: "" بِمُسَخِّنَةٍ "". قَالَ: فَهَلْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ عَنْكَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: فَمَا فُعِلَ بِهِ؟ قَالَ: "" رُفِعَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَكْفُوتٌ غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ، وَلَسْتُمْ لَابِثِينَ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى تَقُولُوا: مَتَى؟ وَسَتَأْتُونِي أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَبَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَوْتَانِ شَدِيدٌ وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn Nufayl al-Sakuni, may Allah be pleased with him, reported that while they sat with the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, a speaker asked whether food had come from heaven. He affirmed it came in a heated vessel, affirmed that something remained after him, and said it was raised while it was revealed to him that his stay among them was withheld and brief, and theirs after him brief, until they would ask how long, and they would come to him as bands annihilating one another, with two severe deaths before the Hour followed by years of earthquakes. > **"Yes, in a heated vessel. Yes, it was raised, and it is revealed to me that I am withheld, not remaining among you, and you shall not remain after me except a little, until you say: How long? And you shall come to me as bands, annihilating one another. Before the Hour are two severe deaths, and after them years of earthquakes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن نفیل سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران کسی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آسمان سے کھانا آیا ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : کس چیز میں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ہنڈیا میں ، اُس نے دریافت کیا : کیا اس میں آپ سے بچ کے بھی کچھ ہوا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : اس کے ساتھ کیا ہوا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اٹھا لیا گیا اور پھر میری طرف یہ بات وحی کی گئی کہ میں انتقال کر جاؤں گا ، تمہارے درمیان نہیں رہوں گا اور تم بھی میرے بعد تھوڑا عرصہ رہو گے ، یہاں تک کہ تم لوگ کہو گے : کتنا عرصہ ہوا ہے ؟ پھر تم میرے پاس مختلف گروہوں کی شکل میں آؤ گے کہ تم نے ایک دوسرے کو ہلاک کیا ہو گا اور قیامت سے پہلے دو شدید قسم کی موتیں ہوں گی اور اس کے بعد کئی سال زلزلے آتے رہیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے ، امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12351

Majma al-Zawaid #12351

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً، أَلَا وَأَنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً، وَلَتَتَّبِعُنِّي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَلَفْظُهُ فِيهِ: عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّكُمْ تَتَحَدَّثُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً، أَلَا وَإِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً، وَتَتَّبِعُنِّي أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا "". ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ} [الأنعام: 65] حَتَّى بَلَغَ {لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ} [الأنعام: 67] "" ثُمَّ قَالَ: "" لَا تَبْرَحُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ، لَا يُبَالُونَ خِذْلَانَ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَلَى ذَلِكَ "". ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 55]». وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿawiyah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, corrected the claim that he would be the last to die and foretold division into bands striking one another's necks. In the fuller wording from Muʿawiyah ibn Abi Sufyan, they sat in the mosque when the Prophet came out, repeated the correction and prediction, then quoted the verses on punishment from above and beneath and that every tidings has its appointed place, then gave glad tidings that a party of his community would continue fighting for truth, manifest, unharmed by abandonment or opposition until Allah's command comes, then quoted the verse on ʿIsa being taken up, purified, and his followers set above the disbelievers until Resurrection. > **"You claim that I shall be the last of you to die, yet I shall be the first of you to die, and you shall follow me as bands, striking the necks of one another. There shall not cease to be a party of my community fighting for the truth, manifest, not caring for the abandonment of whoever abandons them nor whoever opposes them, until the command of Allah comes upon that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میرا انتقال تم سب کے بعد ہو گا ، حالانکہ میں تم سب سے پہلے وفات پا جاؤں گا اور تم میرے بعد مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گے ، اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑاؤ گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں ان کے الفاظ یہ ہیں : حضرت معایہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ باتیں کر رہے ہو کہ میرا انتقال تم سب کے بعد ہو گا ؟ خبردار ! میں تم سب سے پہلے انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد گروہوں میں تقسیم ہو کے ایک دوسرے کو فنا کرو گے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ تم فرما دو ! وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے ، یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے ، تم پر عذاب بھیج دے .......‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ’’ ہر خبر ( کے واقع ہونے ) کا متعین وقت ہے ، اور عنقریب تم لوگ جان لو گے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جنگ کرتا رہے گا اور وہ غالب رہیں گے ، اور جو شخص ان کو رسوا کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ انہیں رسوا نہیں کر سکے گا اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا ، وہ بھی انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، یہاں تک کہ اسی طرح کی صورت حال میں اللہ کا حکم ( یعنی قیامت ) آ جائے گا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اے عیسیٰ ! بے شک میں تمہیں وفات دوں گا اور تمہیں اپنی طرف بلند کر لوں گا اور تمہیں ان لوگوں سے پاک کر دوں گا ، جنہوں نے کفر کیا ، اور جن لوگوں نے تمہاری پیروی کی انہیں کفر کرنے والوں کے اوپر کر دوں گا اور ایسا قیامت کے دن تک ہو گا ۔‘‘ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

12352

Majma al-Zawaid #12352

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنِّي آخِرُكُمْ مَوْتًا، وَإِنِّي أَوَّلُكُمْ ذَهَابًا، ثُمَّ تَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي أَفْنَادًا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Wathilah ibn al-Asqaʿ, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, correct their claim that he would be the last of them in death and foretell that they would come after him as bands killing one another. > **"You claim that I am the last of you in death, yet I am the first of you in departure. Then you shall come after me as bands, killing one another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں تم سے آخر میں وفات پاؤں گا ، حالانکہ میں تم سے پہلے رخصت ہو جاؤں گا ، پھر تم میرے بعد مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کو قتل کرو گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12353

Majma al-Zawaid #12353

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَعْدَهَا قَتْلٌ وَصَلْبٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Talhah ibn ʿUbaydillah, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, state that no prophethood ever existed except that killing and crucifixion followed it. > **"There was never any prophethood except that after it came killing and crucifixion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب بھی نبوت ہوئی ، تو اس کے بعد قتل کرنا اور سولی چڑھانا ضرور ہوا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12354

Majma al-Zawaid #12354

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلًا، وَإِنَّ لِأُمَّتِي مِائَةَ سَنَةٍ، فَإِذَا مَضَى عَلَى أُمَّتِي سَنَةٌ أَتَاهَا مَا وَعَدَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ» -، قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: يَعْنِي كَثْرَةَ الْفِتَنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Mustawrid ibn Shaddad, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, assign to every community a term and to his community a hundred years, after which would come what Allah, mighty and exalted, had promised them. Ibn Lahiʿah explained the intent as abundance of tribulations. > **"Every community has a term, and my community has a hundred years. When a hundred years pass over my community, there shall come to it what Allah, mighty and exalted, promised it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر امت کی مخصوص مدت ہوتی ہے اور میری امت کی مخصوص مدت ایک سو سال ہے ، جب میری امت پر ایک سو سال گزر جائیں گے ، تو ان کے پاس وہ چیز آ جائے گی ، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے ۔‘‘ ابن لہیعہ نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد فتنوں کا بکثرت ہونا ہے ۔ اس روایت کو امام طبرانی نے نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ راوی ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ۔

12355

Majma al-Zawaid #12355

«وَعَنْ بِلَالٍ يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: "" سُبْحَانَ الَّذِي يُرْسِلُ عَلَيْهِمُ الْفِتَنَ إِرْسَالَ الْقَطْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Bilal, may Allah be pleased with him, raised to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, that he lifted his gaze to the sky and glorified the One who sends tribulations upon people as rain is sent. > **"Glory be to the One who sends tribulations upon them as rain is sent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھائی اور پھر ارشاد فرمایا : ’’ ہر طرح کے عیب سے پاک ہے وہ ذات ، جس نے لوگوں پر یوں فتنے بھیجے ہیں ، جس طرح بارش بھیجی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12356

Majma al-Zawaid #12356

وَعَنْ جَرِيرٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: "" سُبْحَانَ الَّذِي يُرْسِلُ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفِتَنِ إِرْسَالَ الْقَطْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, that he raised his gaze to the sky and glorified the One who sends tribulations upon them as rain is sent. > **"Glory be to the One who sends upon them of tribulations as rain is sent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور پھر ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، جس نے ان پر ایسے فتنے بھیجے ہیں جو بارش کی مانند ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔