Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 11

Book of Tribulations

Hadith 12357–12396

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12357

Majma al-Zawaid #12357

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يُفَارِقُ الرَّجُلُ فِيهَا أَخَاهُ وَأَبَاهُ، تَطِيرُ الْفِتْنَةُ فِي قُلُوبِ رِجَالٍ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُعَيَّرُ الرَّجُلُ بِهَا كَمَا تُعَيَّرُ الزَّانِيَةُ بِزِنَاهَا» ".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretold a tribulation in which a man would part from his brother and father, with tribulation flying into the hearts of men among them until the Day of Resurrection, until a man would be taunted for it as an adulteress is taunted for her adultery. > **"There shall be a tribulation in which a man parts from his brother and his father. Tribulation shall fly into the hearts of men among them until the Day of Resurrection, until a man is taunted for it as the adulteress is taunted for her adultery."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب ایسے فتنے ہوں گے ، جن میں آدمی اپنے بھائی اور اپنے باپ سے جدا ہو جائے گا ، اور فتنہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں قیامت تک برقرار رہے گا ، یہاں تک کہ اس فتنے کے حوالے سے کسی شخص کو یوں عار دلائی جائے گی ، جس طرح زنا کرنے والی عورت کو ، اُس کے زنا کرنے کے حوالے سے عار دلائی جاتی ہے ۔‘‘

12358

Majma al-Zawaid #12358

وَبِسَنَدِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَتَتْكُمُ الْقُرَيْعَاءُ "". قُلْنَا: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" فِتْنَةٌ يَكُونُ فِيهَا مِثْلُ الْبَيْضَةِ» "". رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

By the same chain it was reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, announced the coming of the Quayʿa, and when asked what it was explained it as a tribulation therein like an egg in intensity and encompassing. > **"The Quayʿa has come to you. It is a tribulation therein like an egg."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے پاس قریعاء آئے گا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : فتنہ ہے ، جس میں خود کی مانند ہو گا ( یعنی قتل و غارت گری ہو گی ) ۔‘‘ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن سفیان حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جو کمزور ہے ۔

12359

Majma al-Zawaid #12359

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: «كَتَبَ إِلَيَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - حِينَ أَلْقَى الشَّامَ بَوَانِيَةً بَثْنِيَةً وَعَسَلًا - وَشَكَّ عَفَّانُ مَرَّةً فَقَالَ: حِينَ أَلْقَى الشَّامَ كَذَا وَكَذَا - فَأَمَرَنِي أَنْ أَسِيرَ إِلَى الْهِنْدِ، وَالْهِنْدُ فِي أَنْفُسِنَا يَوْمَئِذٍ الْبَصْرَةُ. قَالَ: وَأَنَا لِذَلِكَ كَارِهٌ. قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا أَبَا سُلَيْمَانَ، فَإِنَّ الْفِتَنَ قَدْ ظَهَرَتْ. قَالَ: فَقَالَ: وَابْنُ الْخَطَّابِ حَيٌّ! إِنَّمَا تَكُونُ بَعْدَهُ وَالنَّاسُ بِذِي بِلِّيَانَ - وَذِي بِلِّيَانَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا - فَيَنْظُرُ الرَّجُلُ فَيُفَكِّرُ هَلْ يَجِدُ مَكَانًا لَمْ يَنْزِلْ [بِهِ] مِثْلُ مَا نَزَلَ بِمَكَانِهِ الَّذِي هُوَ بِهِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَالشَّرِّ فَلَا يَجِدُهُ، وَتِلْكَ الْأَيَّامُ الَّتِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامَ الْهَرْجِ، فَنَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكَنَا وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأَيَّامُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Khalid ibn al-Walid, may Allah be pleased with him, reported that the Commander of the Faithful, meaning ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, wrote to him when Syria had yielded its stores of fine wheat and honey, ordering him to march toward Hind, by which they then meant Basrah, a command Khalid disliked. A man stood and urged him to fear Allah, for tribulations had appeared. Khalid asked whether the son of al-Khattab was alive, for tribulations would only be after him, when people would be at Dhu Billiyan, a named place, where a man would look and consider whether he could find any spot untouched by the like of the tribulation and evil that had descended upon his own place, and would find none. Those, Khalid said, would be the days the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, mentioned before the Hour, the days of Harj, from which he sought refuge in Allah for himself and his hearers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : امیرالمؤمنین یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا ، یہ اس وقت کی بات ہے ، جب شام میں ، میں نے بہت سی نعمتیں پائیں اور عمدہ قسم کی گندم اور شہد پایا ، ایک مرتبہ عفان نامی راوی نے اس میں شک کیا ہے کہ جب میں نے شام میں یہ یہ چیزیں پائیں ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں ہند کی طرف روانہ ہو جاؤں ، ہم اس وقت ہند اس کو سمجھتے تھے ، جو آج کل بصرہ ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس بات کو ناپسند کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا : اے ابوسلیمان ! آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں کیونکہ فتنے ظاہر ہو چکے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : کیا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زندہ ہیں ؟ فتنے تو ان کے بعد ہوں گے ، اور لوگ ذی بلیان کے مقام پر ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : ذی بلیان ایک مقام ہے جو فلاں فلاں جگہ پر ہے ، وہاں کوئی شخص غور و فکر کرے گا کہ کیا اسے کوئی ایسی جگہ ملتی ہے کہ جہاں وہ پڑاؤ کر سکے ؟ اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اس نے جس فتنے اور خرابی کا سامنا کیا ہو گا ، وہ اس سے بچنا چاہ رہا ہو گا ، تو اسے کوئی ایسی جگہ نہیں ملے گی ، یہ وہ ایام ہونگے ، جن کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ذکر کی ہے کہ قیامت سے پہلے وہ آئیں گے اور ان میں قتل و غارت گری ہو گی ، تو ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ وہ زمانہ ہمیں یا تمہیں نصیب ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔

12360

Majma al-Zawaid #12360

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَيَكُونُ بَعْدِي أَرْبَعُ فِتَنٍ: فِتْنَةٌ يُسْتَحَلُّ فِيهَا الدَّمُ، وَالثَّانِيَةُ يَسْتَحِلُّ فِيهَا الدَّمُ وَالْمَالُ، وَالثَّالِثَةُ يُسْتَحَلُّ فِيهَا الدَّمُ وَالْمَالُ وَالْفَرْجُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَلَمْ يَذْكُرْ غَيْرَ ثَلَاثٍ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Husayn, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretold four tribulations after him, though only three were enumerated in the wording, in which blood, then blood and wealth, then blood and wealth and private parts would be deemed lawful. > **"There shall be after me four tribulations: a tribulation in which blood is deemed lawful, and the second in which blood and wealth are deemed lawful, and the third in which blood and wealth and private parts are deemed lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب میرے بعد چار فتنے ہوں گے ، ایک فتنے میں خون بہانا حلال قرار دیا جائے گا ، دوسرے میں خون بہانا اور مال حلال قرار دیا جائے گا ، تیسرے میں خون بہانا ، مال اور شرمگاہ کو حلال قرار دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے تین کا ذکر نہیں کیا ، اس روایت کی سند میں ایک راوی حفص بن غیلان ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے جو کمزور ہے ۔

12361

Majma al-Zawaid #12361

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فِتْنَةٌ، يُحْصَلُ النَّاسُ فِيهَا كَمَا يُحْصَلُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ مِنَ الْمَعْدِنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAli ibn Abi Talib, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretold a tribulation at the end of time in which people would be sifted as gold and silver are sifted from ore. > **"There shall be in the end of time a tribulation in which people are sifted as gold and silver are sifted from ore."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آخری زمانے میں ایسا فتنہ ہو گا ، جس میں لوگوں کو یوں نکالا جائے گا ، جس طرح کان میں سے سونے اور چاندی کو نکالا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے اور اس میں ایک راوی محمد بن سفیان حضرمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

12362

Majma al-Zawaid #12362

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «سَيُصِيبُ أُمَّتِي دَاءُ الْأُمَمِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا دَاءُ الْأُمَمِ؟ قَالَ: "" الْأَشَرُ وَالْبَطَرُ وَالتَّدَابُرُ وَالتَّنَافُسُ وَالتَّبَاغُضُ وَالْبُخْلُ حَتَّى يَكُونَ الْبَغْيُ ثُمَّ الْهَرْجُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْغِفَارِيُّ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, warn that his community would be struck by the disease of nations. When asked what it was, he listed arrogance, insolence, mutual turning away, rivalry, hatred, and miserliness, culminating in transgression then Harj. > **"My community shall be struck by the disease of nations: arrogance, insolence, mutual estrangement, rivalry, hatred, and miserliness, until there is transgression, then Harj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب میری امت کو دوسری امتوں کی بیماریاں لاحق ہوں گی ، لوگوں نے عرض کی : دوسری امتوں کی بیماریاں کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تکبر ، خود پسندی ، مقابلے بازی ، ایک دوسرے سے بغض ، بخل ، یہاں تک کہ سرکشی ہو گی ، پھر قتل و غارتگری ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعید غفاری ہے ، حمید بن ہانی کے علاوہ کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

12363

Majma al-Zawaid #12363

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُعَاذٍ وَحُذَيْفَةُ وَسَعْدٌ، بَعْدَ الْهِجْرَةِ بِثَمَانِ سِنِينَ فِي السَّنَةِ التَّاسِعَةِ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا فِي الْفِتَنِ. قَالَ: "" يَا حُذَيْفَةُ، أَمَا إِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الْقَائِمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْقَاعِدُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ مَرْوَانَ الْخَلَّالُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, reported that they sat with the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, eight years after the Hijrah in the ninth year, in a company including Abu Bakr, ʿUmar, ʿUthman, ʿAli, Talhah, al-Zubayr, ʿAbd al-Rahman, Muʿadh, Hudhayfah, and Saʿd, may Allah be pleased with them. Hudhayfah asked, with ransom of father and mother, for a narration on tribulations, and was told of a time when the standing would be better than the walking and the seated better than the standing, with killer and killed in the Fire. > **"O Hudhayfah, there shall come upon people a time in which the standing is better than the walking, and the seated is better than the standing. The killer and the killed shall be in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم متعدد افراد ، نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ تھے ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ تھے ، یہ ہجرت کے آٹھ سال گزرنے کے بعد نویں سال کا واقعہ ہے ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہمیں فتنوں کے بارے میں بتائیے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے حذیفہ ! لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہو گا اور بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا اور قاتل اور مقتول جہنم میں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن مروان خلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12364

Majma al-Zawaid #12364

وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ حِينَ مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ فِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ، يَمُوتُ فِيهَا قَلْبُ الرَّجُلِ كَمَا يَمُوتُ بَدَنُهُ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ وَدِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا» ""، وَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَدْ مَاتَ، وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا فَلَا تَسْبِقُونَا حَتَّى نَخْتَارَ لَأَنْفُسِنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ فِيهَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan reported that al-Dahhak ibn Qays, may Allah be pleased with him, wrote to Qays ibn al-Haytham when Yazid ibn Muʿawiyah died with greetings, reporting what he had heard from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, about tribulations before the Hour like portions of the dark night and like portions of smoke, in which a man's heart would die as his body dies, a man a believer in the morning and a disbeliever in the evening and conversely, with peoples selling their share and religion for worldly goods. He added that Yazid had died and that they were brothers and counterparts, urging them not to precede his side until they chose for themselves. > **"Before the Hour are tribulations like portions of the dark night, tribulations like portions of smoke. The heart of a man dies therein as his body dies. A man is a believer in the morning and a disbeliever in the evening, and a believer in the evening and a disbeliever in the morning. Peoples sell their share and their religion for goods of this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے ، قیس بن ہیثم کو یزید بن معاویہ کے انتقال پر خط لکھا : ’’ تمہیں سلام ہو ! امابعد ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے ، کچھ فتنے ایسے ہوں گے جو دھوئیں کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، ان میں آدمی کا دل یوں مر جائے گا ، جس طرح آدمی کا جسم مر جاتا ہے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کو مومن ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، لوگ اپنا حصہ اور اپنا دین ، دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں فروخت کر دیں گے ۔‘‘ یزید بن معاویہ مر چکا ہے ، اور تم لوگ ہمارے بھائی اور ہمارے ساتھی ہو ، تو تم ( اگلے خلیفہ کے انتخاب کے سلسلے میں ) ہم سے سبقت نہ لے جانا ، یہاں تک کہ ہم اپنے لئے ( نیا خلیفہ ) اختیار کر لیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12365

Majma al-Zawaid #12365

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: "" «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ثُمَّ يُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا [يَسِيرٍ] "" [أَوْ بِعَرَضِ الدُّنْيَا] قَالَ الْحَسَنُ: وَ [اللَّهِ] لَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ صُوَرًا وَلَا عُقُولَ، أَجْسَامًا وَلَا أَحْلَامَ، فِرَاشَ نَارٍ وَذِئَابَ طَمَعٍ يَغْدُو بِدِرْهَمَيْنِ وَيَرُوحُ بِدِرْهَمَيْنِ، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِثَمَنِ الْعَنْزِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ لِينٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿman ibn Bashir, may Allah be pleased with him, reported that they accompanied the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, and heard him foretell tribulations before the Hour like portions of the dark night, with rapid inversion of faith and peoples selling their share for a small worldly price or worldly goods. Al-Hasan added, with an oath, that he had seen such people as mere forms without minds and bodies without discernment, moths of fire and wolves of greed, going out for two dirhams and returning for two dirhams, one selling his religion for the price of a goat. > **"Before the Hour are tribulations like portions of the dark night. A man is a believer in the morning and a disbeliever in the evening, and a believer in the evening, then a disbeliever in the morning. Peoples sell their share for goods of this world, a small price."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ رہے ہیں اور ہم نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت سے پہلے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ہوں گے ، جن میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کے وقت مومن ہو گا ، تو پھر صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، لوگ دنیاوی معمولی ساز و سامان کے عوض میں اپنا آخرت کا حصہ بیچ دیں گے ‘‘ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ حسن بصری کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ہم نے ان لوگوں کو دیکھا ہے کہ ان کی شکلیں تھیں ، لیکن عقلیں نہیں تھیں ، جسم تھے ، لیکن سمجھ بوجھ نہیں تھی ، وہ جہنم کے پتنگے تھے اور لالچ کے بھیڑیے تھے ، صبح دو درہم لے کے جاتے تھے اور شام کو دو درہم لے کے آتے تھے ، ان میں سے کوئی ایک شخص اپنا دین ، بکری کی قیمت کے عوض میں فروخت کر دیتا تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12366

Majma al-Zawaid #12366

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ عَمَّارٌ قَالَ: أَدْرَبْنَا عَامًا، ثُمَّ قَفَلْنَا وَفِينَا شَيْخٌ مِنْ خَثْعَمٍ، فَذُكِرَ الْحَجَّاجُ فَسَبَّهُ وَشَتَمَهُ. فَقُلْتُ لَهُ: لِمَ تَشْتُمُهُ وَهُوَ يُقَاتِلُ أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي طَاعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: إِنَّهُ هُوَ الَّذِي أَكْفَرَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَمْسُ فِتَنٍ، فَقَدْ مَضَتْ أَرْبَعٌ، وَبَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الصَّيْلَمُ، وَهِيَ فِيكُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ حَجَرًا فَكُنْهُ، وَلَا تَكُنْ مَعَ وَاحِدٍ مِنَ الْفَرِيقَيْنِ، أَلَا فَاتَّخِذْ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ».

EnglishUnverified translation

A man of Syria called ʿAmmar reported that after campaigning for a year they returned with an aged man of Khathʿam, and when al-Hajjaj was mentioned the elder reviled him. When ʿAmmar asked why he reviled one fighting the Iraqis in obedience to the Commander of the Faithful, the elder replied that it was he who had rendered them disbelievers, then reported hearing the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, speak of five tribulations of this community, four already past and one remaining, the Saylam, which would be among the Syrians. If reached, one able to be as a stone should be so, should join neither of the two parties, and should take provision from the earth. > **"There shall be in this community five tribulations; four have passed and one remains, and it is the Saylam. It shall be among you, O people of Syria. If you reach it, then if you are able to be a stone, be so, and do not be with either of the two parties. Take a tunnel in the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اہل شام سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا نام عمار ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم کہیں گئے ، پھر ہم واپس آئے تو ہمارے درمیان خثم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک بوڑھا تھا ، اس نے حجاج کا ذکر کرتے ہوئے اس پر تنقید کی ، اسے برا بھلا کہا ، میں نے اس سے کہا : تم اسے کیوں برا بھلا کہہ رہے ہو ؟ جبکہ وہ امیرالمؤمنین کی اطاعت کرتے ہوئے اہل عراق کے ساتھ جنگ کر رہا ہے ؟ تو اس نے کہا : یہی وہ شخص ہے ، جس نے انہیں کافر بنایا ہے ، پھر اس نے یہ بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت میں پانچ فتنے ہوں گے ۔‘‘ ( شاید آگے والے کلمات صحابی کے ہیں : ان میں سے ) چار رخصت ہو چکے ہیں اور ایک باقی رہ گیا ہے اور وہ ’’ صیلم ‘‘ ہو گا اور اے اہل شام ! وہ تمہارے درمیان ہو گا ، اگر تم نے اس کا زمانہ پایا ، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم پتھر بن جانا اور تم دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کے ساتھ نہ ہونا ، خبردار ! تم زمین میں سے خرچ حاصل کر لینا ۔‘‘

12367

Majma al-Zawaid #12367

وَفِي رِوَايَةٍ «فَقُلْنَا: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعَمَّارٌ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a variant of the preceding account of the five tribulations, those present asked the aged narrator whether he had himself heard it from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and he affirmed it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہم نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺ سے یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور عمار نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12368

Majma al-Zawaid #12368

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: "" عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي وَلَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ، وَلَكِنْ أُخْبِرُكَ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهَا، إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا، فَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: "" بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ "". قَالَ: "" وَيُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يَعْرِفُ أَحَدًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, was asked about the Hour and replied that its knowledge is with his Lord and none manifests it in its time but He, but he would inform of its preconditions and what precedes it, namely tribulation and Harj. When told tribulation was known but Harj unknown, he explained in the tongue of Abyssinia it means killing, and added that mutual estrangement would be cast among people until hardly anyone knew another. > **"Its knowledge is with my Lord; none manifests it in its time but He. But I inform you of its preconditions and what precedes it. Before it are tribulation and Harj, in the tongue of Abyssinia, killing. And mutual estrangement shall be cast among people, so hardly anyone shall know anyone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے ، اس کے صحیح وقت کا وہی علم رکھتا ہے ، البتہ میں تمہیں اس کی نشانیوں کے بارے میں اور جو کچھ اس سے پہلے ہو گا ، اُس کے بارے میں بتا دیتا ہوں ، اس سے پہلے فتنہ اور ہرج ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : فتنے کا تو ہمیں پتہ ہے ، ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حبشہ کی زبان میں اس سے مراد قتل و غارت گری ہے ، آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے عدم شناسائی یوں ڈال دی جائے گی کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو پہچانتا نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12369

Majma al-Zawaid #12369

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ، وَإِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُمْسِي الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، وَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ أَوَّلِهِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said Islam began strange and shall return strange as it began, with blessedness for the strangers, and that before the Hour would be tribulations like portions of the dark night with rapid inversion of faith and peoples selling religion for worldly goods. > **"Islam began strange, and it shall return strange as it began, so blessedness is for the strangers. Before the Hour are tribulations like portions of the dark night. A man is a believer in the evening and a disbeliever in the morning, and a believer in the morning and a disbeliever in the evening. Peoples sell their religion for goods of this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارک باد ہے ، قیامت سے پہلے کچھ فتنے ہوں گے ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، آدمی ان میں شام کے وقت مومن ہو گا ، تو صبح کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا صبح کے وقت مومن ہو گا ، تو شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، لوگ دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں ، اپنا دین فروخت کر دیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں ابتدائی حصے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔

12370

Majma al-Zawaid #12370

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيَفْتِنَنَّ أُمَّتِي بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَافِيَةُ بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, swore that his community after him would surely be tried with tribulations like portions of the dark night, with rapid inversion of faith and peoples selling religion for a small worldly price. > **"My community after me shall surely be tried with tribulations like portions of the dark night. A man is a believer in the morning and a disbeliever in the evening, and a believer in the evening and a disbeliever in the morning. Peoples sell their religion for a small price of this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت ، میرے بعد ضرور فتنوں میں مبتلا ہو گی ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، کوئی شخص صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کے وقت کافر ہو چکا ہو گا ، یا شام کو مومن ہو گا تو صبح کافر ہو چکا ہو گا ، اُن ( فتنوں ) کے دوران لوگ معمولی سے دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں اپنا دین فروخت کر دیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12371

Majma al-Zawaid #12371

وَعَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ: "" مَا أَنْتُمْ إِذَا مَرِجَ الدِّينُ وَسُفِكَ الدِّمَاءُ وَظَهَرَتِ الزِّينَةُ وَشَرُفَ الْبُنْيَانُ وَاخْتَلَفَ الْإِخْوَانُ وَحُرِّقَ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ»، وَفِي رِوَايَةٍ "" وَاخْتَلَفَ الْأَحْبَارُ "" بَدَلَ "" الْإِخْوَانُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Maymunah, may Allah be pleased with her, reported that the Prophet of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said to them one day, asking what they would be when religion became confused, blood was shed, adornment appeared, buildings were raised high, brothers or, in a variant, scholars differed, and the Ancient House was burned. > **"What shall you be when religion is confused, blood is shed, adornment appears, buildings are raised high, brothers differ, and the Ancient House is burned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ہم سے ارشاد فرمایا : ’’ اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب دین سمٹ جائے گا ، خون بہایا جایا جائے گا ، زینت ظاہر ہو جائے گی ، عمارتیں بلند ہو جائیں گی ، بھائیوں کے درمیان اختلاف ہو جائے گا اور بیت عقیق کو جلا دیا جائے گا ۔‘‘ ایک روایت میں ’’ بھائیوں کے درمیان اختلاف ‘‘ کی بجائے ’’ علماء کے درمیان اختلاف ‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12372

Majma al-Zawaid #12372

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْهَرْجُ، ثَلَاثًا. قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: الْقَتْلُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ غَيْرِ رَفْعٍ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid reported, without elevation to the Prophet in this chain, that the Hour shall not come until Harj increases among them, thrice repeated, and when asked what Harj was he said killing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک تمہارے درمیان ہرج زیادہ نہیں ہو گا ، یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، لوگوں نے عرض کی : ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12373

Majma al-Zawaid #12373

وَعَنْ فَيْرُوزٍ الدَّيْلِمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَكُونُ فِي رَمَضَانَ صَوْتٌ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي أَوَّلِهِ أَوْ فِي وَسَطِهِ أَوْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَ: "" بَلْ فِي النِّصْفِ مِنْ رَمَضَانَ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ يَكُونُ صَوْتٌ مِنَ السَّمَاءِ يُصْعَقُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا [يَخْرِسُ سَبْعُونَ أَلْفًا، يَعْمَى سَبْعُونَ أَلْفًا] وَيُصَمُّ سَبْعُونَ أَلْفًا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنِ السَّالِمُ مِنْ أَمُّتِكَ؟ قَالَ: "" مَنْ لَزِمَ بَيْتَهُ وَتَعَوَّذَ بِالسُّجُودِ وَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ لِلَّهِ. ثُمَّ يَتْبَعُهُ صَوْتٌ آخَرُ، فَالصَّوْتُ الْأَوَّلُ صَوْتُ جِبْرِيلَ وَالثَّانِي صَوْتُ الشَّيْطَانِ، فَالصَّوْتُ فِي رَمَضَانَ، وَالْمَعْمَعَةُ فِي شَوَّالٍ، وَتُمَيِّزُ الْقَبَائِلَ فِي ذِي الْقِعْدَةِ، وَيُغَارُ عَلَى الْحَاجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ وَمَا الْمُحَرَّمُ! أَوَّلُهُ بَلَاءٌ عَلَى أُمَّتِي وَآخِرُهُ فَرَجٌ لِأُمَّتِي، الرَّاحِلَةُ [فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ] بِقَتَبِهَا يَنْجُو عَلَيْهَا الْمُؤْمِنُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ دَسْكَرَةٍ تَغُلُّ مِائَةَ أَلْفٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Fayruz al-Daylami, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretold a cry in Ramadan. When asked in which part, he specified the middle, on a Friday night at mid-Ramadan, a cry from heaven stunning seventy thousand, muting seventy thousand, blinding seventy thousand, and deafening seventy thousand. When asked who among his community would be safe, he named one who stays in his house, seeks refuge in prostration, and proclaims Allah's greatness aloud. Then another cry would follow, the first the voice of Jibril and the second the voice of Satan, with the cry in Ramadan, turmoil in Shawwal, distinction of tribes in Dhu al-Qaʿdah, raiding of pilgrims in Dhu al-Hijjah, and Muharram whose beginning is trial for his community and whose end is relief, when a mounted camel with its saddle by which a believer escapes is better than a estate yielding a hundred thousand. > **"There shall be in Ramadan a cry, in the middle of Ramadan, on a Friday night at mid-month, a cry from heaven stunning seventy thousand, muting seventy thousand, blinding seventy thousand, and deafening seventy thousand. Whoever stays in his house, seeks refuge in prostration, and proclaims Allah's greatness aloud is safe. Then another cry follows; the first cry is the voice of Jibril and the second the voice of Satan. The cry is in Ramadan, turmoil in Shawwal, distinction of tribes in Dhu al-Qaʿdah, raiding of pilgrims in Dhu al-Hijjah, and Muharram, its beginning trial for my community and its end relief. A mount with its saddle upon which the believer escapes is better for him than an estate yielding a hundred thousand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رمضان میں ایک آواز ہو گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اس کے ابتدائی حصے میں ہو گی یا درمیانی حصے میں ہو گی یا آخری حصے میں ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلکہ رمضان کے نصف حصے میں ہو گی ، جب نصف حصے والی رات آئے گی ، وہ جمعہ کی رات ہو گی ، اُس میں آسمان سے ایک آواز آئے گی ، اس میں ستر ہزار لوگوں کو بے ہوش کیا جائے گا ، ستر ہزار گونگے ہو جائیں گے ، ستر ہزار اندھے ہو جائیں گے ، ستر ہزار بہرے ہو جائیں گے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی امت میں سے سلامتی والا کون ہو گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے گھر میں رہے گا اور سجدوں کے ذریعے پناہ مانگے گا اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی بلند آواز میں بیان کرے گا ، پھر اس کے بعد ایک اور آواز آئے گی ، پہلی آواز حضرت جبرائیل علیہ السلام کی آواز ہو گی اور دوسری آواز شیطان کی آواز ہو گی ، ایک آواز رمضان میں ہو گی ، اور پھر ایک ’’ معمعہ ‘‘ ( جنگ کے دوران کی آوازیں ) شوال میں ہو گی ، ذی القعدہ میں قبائل کے درمیان امتیاز ہو جائے گا ، ذوالحج میں حاجیوں پر حملہ کیا جائے گا اور محرم ، محرم کیا ہے ؟ اس کا ابتدائی حصہ میری امت کے لئے آزمائش ہو گا اور اس کا آخری حصہ میری امت کے لئے کشادگی ہو گی ، اس زمانے میں ایک سواری ، جس پر اس کا ساز و سامان موجود ہو اور مؤمن اس پر سوار ہو کر نجات پا لے ، وہ مومن کے لئے اس ساز و سامان سے زیادہ بہتر ہو گی ، جس کی قیمت ایک لاکھ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔

12374

Majma al-Zawaid #12374

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «فِي شَهْرِ رَمَضَانَ الصَّوْتُ، وَفِي ذِي الْقِعْدَةِ تُمَيَّزُ الْقَبَائِلُ، وَفِي ذِي الْحِجَّةِ يُسْلَبُ الْحَاجُّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَالْبَخْتَرِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretold a cry in the month of Ramadan, distinction of tribes in Dhu al-Qaʿdah, and despoiling of the pilgrim in Dhu al-Hijjah. > **"In the month of Ramadan is the cry, in Dhu al-Qaʿdah is distinction of tribes, and in Dhu al-Hijjah the pilgrim is despoiled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رمضان کے مہینے میں ایک آواز ہو گی ، ذیقعدہ کے مہینے میں قبائل کے درمیان امتیاز ہو جائے گا اور ذوالحج کے مہینے میں حاجیوں کو سلب کر لیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور ایک راوی بختری بن عبدالحمید ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

12375

Majma al-Zawaid #12375

عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ، ثُمَّ يَكُونُونَ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ، فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Samurah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said Allah, mighty and exalted, would soon fill their hands with non-Arabs who would become lions that do not flee, killing their fighters and consuming their war gains. > **"Allah, mighty and exalted, shall soon fill your hands with non-Arabs, then they shall be lions that do not flee. They shall kill your fighters and consume your war gains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمیوں کو بھر دے گا اور پھر وہ لوگ شیر دل ہوں گے ، وہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہارے جنگجو لوگوں کو قتل کر دیں گے اور وہ تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12376

Majma al-Zawaid #12376

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ، ثُمَّ يَجْعَلُهُمْ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ، فَيُقَاتِلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مُسْلِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said Allah would soon fill their hands with non-Arabs, then make them lions that do not flee, fighting their fighters and consuming their war gains. > **"Allah shall soon fill your hands with non-Arabs, then He shall make them lions that do not flee. They shall fight your fighters and consume your war gains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمیوں کو بھر دے گا ، پھر وہ انہیں شیر بنا دے گا ، وہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہارے جنگو لوگوں کو مار دیں گے اور تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن مسلم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12377

Majma al-Zawaid #12377

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ، ثُمَّ يَجْعَلُهُمْ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ، يَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَيُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reported from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, that Allah would soon fill their hands with non-Arabs, then make them lions that do not flee, killing their fighters and consuming their war gains. > **"Allah shall soon fill your hands with non-Arabs, then He shall make them lions that do not flee. They shall kill your fighters and consume your war gains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمیوں کو بھر دے گا ، پھر وہ انہیں شیر بنا دے گا ، وہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہارے جنگجو لوگوں کو قتل کریں گے اور وہ تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے اور ایک راوی یونس بن خباب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

12378

Majma al-Zawaid #12378

وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ، وَيَجْعَلَهُمْ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ، فَيَضْرِبُونَ رِقَابَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو فَرْوَةَ الرُّهَاوِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, that Allah would soon fill their hands with non-Arabs and make them lions that do not flee, striking their necks and consuming their war gains. > **"Allah shall soon fill your hands with non-Arabs, and make them lions that do not flee. They shall strike your necks and consume your war gains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے عجمیوں کو بھر دے گا اور وہ انہیں شیر بنا دے گا ، جو راہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہاری گردنیں ماریں گے اور وہ تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ابوفروہ رہاوی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12379

Majma al-Zawaid #12379

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يُوشِكُ أَنْ يَكْثُرَ فِيكُمْ مِنَ الْعَجَمِ أُسْدٌ لَا يَفِرُّونَ، فَيَقْتُلُونَ مَقَاتِلَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said lions from among the non-Arabs that do not flee would soon multiply among them, killing their fighters and consuming their war gains. > **"There shall soon multiply among you lions from among the non-Arabs that do not flee. They shall kill your fighters and consume your war gains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب تمہارے درمیان عجمی کثرت سے ہوں گے ، جو شیر ہوں گے ، وہ راہ فرار اختیار نہیں کریں گے ، وہ تمہارے جنگجو لوگوں کو مار دیں گے اور وہ تمہارا مال غنیمت کھا جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12380

Majma al-Zawaid #12380

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ، وَحَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ خُنْسَ الْأَنْفِ صِغَارَ الْأَعْيُنِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan reported as a mursal narration that he had received that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said the Hour would not come until they fought a people wearing hair footwear and until they fought a people broad of face, flat of nose, small of eye, as though their faces were hammered shields. > **"The Hour shall not come until you fight a people wearing hair footwear, and until you fight a people broad of face, flat of nose, small of eye, as though their faces are hammered shields."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک تم ایک ایسی قوم کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے ، جو بالوں سے بنے ہوئے جوتے پہنتے ہوں گے ، یہاں تک کہ تم ایسی قوم کے ساتھ جنگ کرو گے ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، ان کے ناک چپٹے ہوں گے ، ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، اُن کے چہرے تہہ والی ڈھالوں کی مانند ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12381

Majma al-Zawaid #12381

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ أُمَّتِي يَسُوقُهَا قَوْمٌ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْحَجَفُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى تُلْحِقُوهُمْ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، أَمَّا السَّائِقَةُ الْأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَيَنْجُو بَعْضٌ وَيَهْلِكُ بَعْضٌ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَيُصْطَلَمُونَ [كُلُّهُمْ] مَنْ بَقِيَ مِنْهُمْ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ: "" التُّرْكُ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَرْبِطُنَّ خُيُولَهُمْ إِلَى سَوَارِي مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ "". قَالَ: وَكَانَ بُرَيْدَةُ لَا يُفَارِقُهُ بَعِيرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ وَمَتَاعُ السَّفَرِ وَالْأَسْقِيَةُ، يَعُدُّ ذَلِكَ لِلْهَرَبِ مِمَّا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْبَلَاءِ مِنَ [أُمَرَاءِ] التُّرْكِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allah be pleased with him, reported that while seated with the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, he heard him say his community would be driven by a broad-faced, small-eyed people whose faces were as shields, thrice repeated, until they would be pushed back to the Arabian Peninsula. The first wave would spare whoever fled, the second would spare some and destroy some, and the third would wholly uproot those remaining. When asked who they were, he named the Turks and swore they would tie their horses to the pillars of Muslim mosques. Buraydah thereafter never parted from two or three camels with travel gear and waterskins prepared for flight because of what he had heard of trial from Turkish rulers. > **"My community shall be driven by a broad-faced, small-eyed people, as though their faces are shields, three times, until you attach them to the Arabian Peninsula. The first wave: whoever flees among them is saved. The second: some are saved and some perish. The third: all who remain among them are uprooted. They are the Turks. By Him in whose Hand is my soul, they shall surely tie their horses to the pillars of the mosques of the Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ میری امت کو ایک قوم ہانک کر لے جائے گی ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ان کے چہرے ڈھال کی مانند ہوں گے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا : یہاں تک کہ تم ان لوگوں کو جزیرہ عرب سے ملا دو گے ، جہاں تک پہلے والوں کا تعلق ہے ، تو ان میں سے جو بھاگے گا وہ نجات پا جائے گا اور جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے ، تو ان میں سے بعض نجات پا جائیں گے اور بعض ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے اور جہاں تک تیسروں کا تعلق ہے ، تو ان میں سے جو باقی بچے گا ، وہ سب ختم کر دیے جائیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : وہ ترک ہوں گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ اپنے گھوڑے مسلمانوں کی مساجد کے ستونوں کے ساتھ ضرور باندھیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنے ساتھ دو یا تین اونٹ رکھتے تھے اور سفر کا ساز و سامان مشکیزے رکھتے تھے ، وہ اس کو اس لئے تیار رکھتے تھے تاکہ بھاگنے کا وقت آئے تو بھاگ سکیں ، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی ترک حکمرانوں کی طرف سے آزمائش کے بارے میں بات سنی ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

12382

Majma al-Zawaid #12382

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ حِينَ جَاءَهُ كِتَابٌ مِنْ عَامِلِهِ يُخْبِرُهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِالتُّرْكِ وَهَزَمَهُمْ وَكَثْرَةَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ وَكَثْرَةَ مَنْ غَنِمَ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يُكْتَبَ إِلَيْهِ: قَدْ فَهِمْتُ مِمَّا قُلْتَ مَا قَتَلْتَ وَغَنِمْتَ، فَلَا أَعْلَمَنَّ مَا عُدْتَ لِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَلَا قَاتَلْتَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي. قُلْتُ لَهُ: لِمَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَتَظْهَرَنَّ التُّرْكُ عَلَى الْعَرَبِ حَتَّى تُلْحِقَهَا بِمَنَابِتِ الشِّيحِ وَالْقَيْصُومِ» "". فَأَنَا أَكْرَهُ قِتَالَهُمْ لِذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Muʿawiyah ibn Hudayj reported that he was with Muʿawiyah ibn Abi Sufyan, may Allah be pleased with him, when a letter came from his governor reporting an attack upon the Turks, their defeat, many slain, and much booty. Muʿawiyah grew angry and ordered a reply acknowledging the report but forbidding any repetition or further fighting without his command. When asked why, he reported hearing the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, foretell Turkish ascendancy over the Arabs until they would push them back to the growths of wormwood and southernwood, and said he therefore disliked fighting them. > **"The Turks shall surely prevail over the Arabs until they attach them to the growths of wormwood and southernwood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن حدیج بیان کرتے ہیں : میں حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، جب ان کے پاس ان کے ایک گورنر کا خط آیا ، جس میں اس نے یہ بتایا تھا کہ اس نے ترکوں پر حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا ہے اور ان کے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا ہے اور ان سے بہت سا مال غنیمت حاصل کیا ہے ، تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات پر غصے میں آ گئے ، پھر انہوں نے حکم دیا کہ اس گورنر کو یہ خط لکھا جائے کہ تم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم نے اتنا قتل کیا ہے اور اتنا مال غنیمت حاصل کیا ہے ، لیکن اب مجھے یہ پتہ نہ چلے کہ تم نے دوبارہ یہ کام کیا ہے ، تم نے ان کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہیں کرنی ، جب تک تمہارے پاس میرا حکم نہیں آتا ، راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : اے امیرالمؤمنین ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ترک ، عربوں پر ضرور غالب آ جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ انہیں شیح اور قیصوم ( نامی بوٹیوں ) کے اُگنے کی جگہ تک پہنچا دیں گے ۔‘‘ ( حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اس لئے میں اُن لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کو ناپسند کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12383

Majma al-Zawaid #12383

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «اتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ، فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَسْلُبُ أُمَّتِي مُلْكَهُمْ وَمَا خَوَّلَهُمُ اللَّهُ بَنُو قَنْطُورَاءَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ يَحْيَى الْقُرْقُسَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, commanded leaving the Turks while they leave them, for the first to strip his community of its kingdom and what Allah entrusted to them would be the sons of Qantura. > **"Leave the Turks while they leave you. The first to strip my community of its kingdom and what Allah entrusted to them are the sons of Qantura."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ترکوں کو ( اُن کے حال پر چھوڑے رکھو ) جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھتے ہیں ، کیونکہ جو قوم سب سے پہلے میری امت کی بادشاہی کو سلب کرے گی اور جنہیں اللہ تعالیٰ مختلف قسم کی نعمتیں عطا کرے گا ، وہ بنو قنطوراء ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن یحیی قرقسانی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12384

Majma al-Zawaid #12384

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تَبْلُغُ الْعَرَبُ مَوْلِدَ آبَائِهِمْ مَنَابِتَ الشِّيحِ وَالْقَيْصُومِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn al-Saʾib, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said the Arabs would reach the birthplace of their forefathers at the growths of wormwood and southernwood. > **"The Arabs shall reach the birthplace of their forefathers at the growths of wormwood and southernwood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عرب اپنے آباؤ اجداد کے پیدائش کے مقام تک پہنچ جائیں گے ، جہاں شیح اور قیصوم نامی بوٹیاں اُگتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل تیمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12385

Majma al-Zawaid #12385

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تُقَاتِلُونَ قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ صِغَارَ الْأَعْيُنِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، وَكَأَنَّ أَعْيُنَهُمْ حَدَقُ الْجَرَادِ، يَبْتَلِعُونَ الشَّعَرَ، وَيَتَّخِذُونَ الدَّرَقَ، يَرْبُطُونَ خُيُولَهُمْ بِالنَّخْلِ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, a coming fight with a broad-faced, small-eyed people whose faces were as hammered shields and whose eyes were as locusts' eyes, wearing hair, taking leather shields, and tying their horses to date-palms. > **"You shall fight a broad-faced, small-eyed people, as though their faces are hammered shields, and as though their eyes are the eyes of locusts. They wear hair, take leather shields, and tie their horses to date-palms."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ ایسی قوم کے ساتھ جنگ کرو گے ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ان کے چہرے تہہ والی ڈھالوں کی مانند ہوں گے اور ان کی آنکھیں ٹڈی دل کی طرح ہوں گی ، وہ بالوں سے بنے ہوئے جوتے پہنتے ہوں گے اور وہ چمڑے کی ڈھالیں رکھیں گے ، اور وہ اپنے گھوڑوں کو کھجور کے درختوں کے ساتھ باندھیں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے ۔

12386

Majma al-Zawaid #12386

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: كَأَنِّي بِالتُّرْكِ قَدْ أَتَتْكُمْ عَلَى بَرَاذِينَ مُجَذَّمَةِ الْآذَانِ حَتَّى تَرْبُطَهَا بِشَطِّ الْفُرَاتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ سَمِعَ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Sirin reported that Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, used to say it was as though he saw the Turks coming to them upon mules with cropped ears until they would tie them at the bank of the Euphrates.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے : یوں ہے ، جیسے ترک تمہارے پاس خچروں پر سوار ہو کر آئیں گے ، جن کے کان کٹے ہوئے ہوں گے ، یہاں تک کہ دریائے فرات کے کنارے پر وہ انہیں باندھ دیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اگر ابن سیرین نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو ۔

12387

Majma al-Zawaid #12387

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا رَأَيْتُمْ قَوْمًا - أَوْ أَتَاكُمْ قَوْمٌ - فُطْحُ الْوُجُوهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Muʿawiyah al-ʿAmiri reported that he heard ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, ask how they would be when they saw, or when there came to them, a flat-faced people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن معاویہ عامری بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تم ایسی قوم کو دیکھو گے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تمہارے پاس ایسی قوم آئے گی ، جن کے چہرے لتھڑے ہوئے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12388

Majma al-Zawaid #12388

وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدَّيْلِيِّ قَالَ: أَسْلَمْتُ أَنَا وَزُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ مَعَ الْأَشْعَرِيِّ، فَلَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو. قَالَ: فَجَلَسْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَجَلَسَ زُرْعَةُ عَنْ يَسَارِهِ، «فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: يُوشِكُ أَنْ لَا يَبْقَى فِي أَرْضِ الْعَرَبِ مِنَ الْعَجَمِ إِلَّا قَتِيلٌ أَوْ أَسِيرٌ يَحْكُمُ فِي دَمِهِ. فَقَالَ لَهُ زُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ: أَيَظْهَرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ؟ فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ بِنَاءً أَوْ بَيْتًا كَانَ يُسَمَّى فِي الْجَاهِلِيَّةِ. قَالَ: فَذَكَرْتُ لِعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ عُمَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ. قَالَ: فَخَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "" لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ "". قَالَ: فَذَكَرْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: صَدَقَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَاءَ ذَاكَ كَانَ الَّذِي قُلْتُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ أَبِي سَعِيدٍ فَإِنْ كَانَ هُوَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ فَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Aswad al-Dayli reported that he and Zurʿah ibn Damrah accepted Islam with al-Ashʿari and met ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, sitting to his right and left respectively. ʿAbdullah ibn ʿAmr said soon no non-Arab would remain in Arab land except slain or captive whose blood awaited judgment. When Zurʿah asked whether polytheists would prevail over Muslims and stated his lineage from Banu ʿAmir ibn Saʿsaʿah associated with Dhu al-Khalasah in pagan times, the narrator mentioned the statement to ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, who thrice affirmed ʿAbdullah ibn ʿAmr knew best what he said, then preached on Friday quoting the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, on the enduring victorious party upon truth until Allah's command. When this was mentioned to ʿAbdullah ibn ʿUmar, he confirmed the Prophet had spoken truth and that his own prediction would follow that stage. > **"There shall not cease to be a party of my community upon the truth, victorious, until the command of Allah comes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود دیلی بیان کرتے ہیں : میں نے اور زرعہ بن ضمرہ نے اشعری کے ہمراہ اسلام قبول کیا ، ہماری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، راوی کہتے ہیں : میں ان کے دائیں طرف بیٹھ گیا اور زرعہ ان کی بائیں طرف بیٹھ گئے ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ عنقریب عرب کی سرزمین پر عجمیوں میں سے کوئی شخص باقی نہیں رہے گا ، صرف کوئی مقتول ہو گا یا کوئی قیدی ہو گا ، جس کے خون کا فیصلہ دیا جانا ہو گا “ تو زرعہ بن ضمرہ نے ان سے کہا : کیا مشرکین اہل اسلام پر غالب آ جائیں گے ؟ انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے بتایا : بنو عامر بن صعصہ سے ، جنہوں نے ذی خلصہ بنایا تھا ، اس گھر یا تعمیر کو زمانہ جاہلیت میں یہ نام دیا گیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا : عبداللہ بن عمرو جو کہتا ہے وہ اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر جمعہ کے دن انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : نبی اکرم ﷺ یہ ارشاد فرماتے تھے : ’’ میری امت کا ایک گروہ مسلسل حق پر گامزن رہے گا ، اُن کی مدد کی جاتی رہے گی ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کے نبی ﷺ نے سچ فرمایا ہے ، جب یہ صورت حال ہو جائے گی تو پھر وہی ہو گا ، جو میں نے بیان کیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ کی نے اپنے استاد ابوسعید کے حوالے سے نقل کی ہے ، اگر تو یہ بنو ہاشم سے نسبت ولاء رکھتا ہے ، تو پھر اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12389

Majma al-Zawaid #12389

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ مُضَرَ لَا تَدَعُ لِلَّهِ عَبْدًا صَالِحًا إِلَّا فَتَنَتْهُ وَأَهْلَكَتْهُ، حَتَّى يُدْرِكَهَا اللَّهُ بِجُنُودٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُذِلُّهَا حَتَّى لَا يمْنَعَ ذَنَبَ تَلْعَةٍ».

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say this clan of Mudar would not leave any righteous servant of Allah without tempting and destroying him, until Allah reached them with soldiers from Himself and abased them until they could not defend even the tail of a mountain stream. > **"This clan of Mudar shall not leave any righteous servant of Allah without tempting him and destroying him, until Allah reaches them with soldiers from Himself and abases them until they cannot defend the tail of a mountain stream."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مضر قبیلہ ، اللہ تعالیٰ کا کوئی نیک بندہ باقی نہیں رہنے دے گا ، مگر یہ کہ اسے آزمائش کا اور ہلاکت کا شکار کر دے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان تک اپنے پاس سے لشکر بھیجے گا اور انہیں ذلت کا شکار کرے گا ، یہاں تک کہ وہ کسی وادی کے نشیبی حصے کو بھی رکاوٹ نہیں بننے دے گا ۔‘‘

12390

Majma al-Zawaid #12390

وَفِي رِوَايَةٍ «لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبْدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوهُ أَوْ قَتَلُوهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ وَالْبَزَّارُ مِنْ طُرُقٍ، وَفِي بَعْضِهَا قَالَ حُذَيْفَةُ: ادنوا يَا مَعَاشِرَ مُضَرَ، فَوَاللَّهِ لَا تَزَالُونَ بِكُلِّ مُؤْمِنٍ تَفْتِنُوهُ وَتَقْتُلُوهُ أَوْ لَيَضْرِبَنَّكُمُ اللَّهُ وَمَلَائِكَتُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا تَمْنَعُوا بَطْنَ تَلْعَةٍ. قَالُوا: فَلِمَ قَدِمْتَنَا وَنَحْنُ كَذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّ مِنْكُمْ سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّ مِنْكُمْ سَوَابِقَ كَسَوَابِقِ الْخَيْلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording, Mudar would not leave any believing servant of Allah without tempting or killing him. Hudhayfah addressed the assembly of Mudar to draw near, swearing they would persist in tempting and killing every believer until Allah and His angels and the believers struck them so they could not defend a valley's belly. When asked why he had brought them forward despite this, he replied that among them were the chief of Adam's descendants, peace and blessings of Allah be upon him, and forerunners like the forerunners of horses. > **"Mudar shall not leave any believing servant of Allah without tempting him or killing him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ مضر قبیلے کے لوگ اللہ تعالیٰ کے کسی مومن بندے کو نہیں چھوڑیں گے ، مگر یہ کہ اسے یا تو آزمائش کا شکار کر دیں گے ، یا اسے قتل کر دیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام بزار نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض میں یہ الفاظ ہیں : ’’ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے مضر قبیلے کے لوگو ! قریب آ جاؤ ، اللہ کی قسم ! تم ہمیشہ ہر مومن کو آزمائش کا شکار کرتے رہو گے اور اسے قتل کرتے رہو گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور اہل ایمان تم پر ضرب لگائیں گے ، یہاں تک کہ تم کسی وادی کے نشیبی حصے میں بھی رکاوٹ نہیں بن سکو گے ، لوگوں نے کہا : جب ہماری یہ صورت حال ہے ، تو آپ نے ہمیں آگے کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کے سردار ہوئے ہیں اور تم میں سے سبقت لے جانے والے لوگ ہوئے ہیں ، جس طرح گھڑ دوڑ میں آگے نکلنے والے گھوڑے ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کی مختلف اسانید اور امام بزار کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12391

Majma al-Zawaid #12391

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَتَضْرِبَنَّ مُضَرُ عِبَادَ اللَّهِ حَتَّى لَا يُعْبَدَ لِلَّهِ اسْمٌ أَوْ لَيَضْرِبَنَّهُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said Mudar would surely strike the servants of Allah until no name of Allah was worshipped, or until the believers struck them so they could not defend the tail of a mountain stream. > **"Mudar shall surely strike the servants of Allah until no name of Allah is worshipped, or the believers shall surely strike them until they cannot defend the tail of a mountain stream."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مضر قبیلے کے لوگ اللہ کے بندوں پر ضرب لگائیں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت براے نام رہ جائے گی ، یہاں تک کہ اہل ایمان ان پر ضرب لگائیں گے اور وہ لوگ کسی وادی کے نشیبی حصے میں بھی رکاوٹ نہیں بن سکیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12392

Majma al-Zawaid #12392

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «وُلِدَ لَأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ فَسَمَّوْهُ الْوَلِيدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سَمَّيْتُمُوهُ بِاسْمِ فَرَاعِنَتِكُمْ، لَيَكُونَنَّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْوَلِيدُ، لَهُوَ أَشَرُّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ فِرْعَوْنَ لِقَوْمِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, reported that a boy was born to the brother of Umm Salamah, wife of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and they named him al-Walid. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said they had named him after their Pharaohs, and that there would be in this community a man called al-Walid more evil to it than Pharaoh was to his people. > **"You have named him after your Pharaohs. There shall be in this community a man called al-Walid, more evil to this community than Pharaoh was to his people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ، جس کا نام ان لوگوں نے ولید رکھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم نے اس کا نام اپنے فرعونوں کے نام کے مطابق رکھا ہے ، اس اُمت میں ایک شخص ہو گا ، جس کا نام ولید ہو گا ، وہ اس امت کے لئے اس سے زیادہ برا ہو گا ، جتنا فرعون اپنی قوم کے لئے برا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12393

Majma al-Zawaid #12393

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ، يُبْعَثُ عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا، يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ، يُقَسِّمُ الْمَالَ صِحَاحًا "". قَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا صِحَاحًا؟ قَالَ: "" بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ، وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غِنَاءً، وَيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ، حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي فَيَقُولُ: مَنْ لَهُ فِي مَالٍ حَاجَةٌ؟ فَمَا يَقُومُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ فَيَقُولُ: أَنَا. فَيَقُولُ: إِئِتِ السَّدَّانَ - يَعْنِي الْخَازِنَ - فَقُلْ لَهُ: إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا. فَيَقُولُ لَهُ: احْثُ، حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ وَائْتَزَرَهُ نَدِمَ، فَيَقُولُ: كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ عَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ "". قَالَ: "" فَيَرُدُّهُ فَلَا يَقْبَلُ مِنْهُ، فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ، فَيَكُونُ كَذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ، ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ "". أَوْ قَالَ: "" ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, gave glad tidings of the Mahdi, sent amid division and earthquakes, who would fill the earth with equity and justice as it had been filled with tyranny and wrong. Dwellers of heaven and earth would be pleased with him, he would distribute wealth soundly, meaning equally among people, Allah would fill the hearts of Muhammad's community with richness, and his justice would encompass them. A crier would call for any in need of wealth, only one man would rise claiming need, he would be sent to the treasurer with the Mahdi's order to give, the treasurer would tell him to scoop, he would fill his lap and garment, then regret his greed above all the community or his inability to accept what sufficed them, seek to return it, be refused on the ground that gifts given are not taken back, and this order would last seven or eight or nine years, after which there would be no good in life. > **"I give you glad tidings of the Mahdi. He shall be sent amid division of people and earthquakes. He shall fill the earth with equity and justice as it was filled with tyranny and wrong. The dweller of heaven and the dweller of earth shall be pleased with him. He shall distribute wealth soundly, equally among people. Allah shall fill the hearts of the community of Muhammad, peace and blessings of Allah be upon him, with richness, and his justice shall encompass them, until he commands a crier to call: Who is in need of wealth? None shall rise except one man. He shall say: Go to the treasurer and say: The Mahdi commands you to give me wealth. He shall say: Scoop. When he has placed it in his lap and wrapped it, he shall regret and say: I was the greediest of the community of Muhammad, or what sufficed them failed me. He shall return it and it shall not be accepted, and it shall be said: We do not take back anything we gave. It shall be so seven years or eight years or nine years. Then there is no good in life after him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں مہدی کے بارے میں خوشخبری دیتا ہوں ، اسے اختلاف کے وقت بھیجا جائے گا ، جسے لوگوں کے اختلاف اور زلزلوں کے وقت بھیجا جائے گا ، وہ زمین کو انصاف اور عدل سے یوں بھر دے گا ، جس طرح پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ، آسمان کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے اس سے راضی ہوں گے اور وہ صحیح طریقے سے مال تقسیم کرے گا ، ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : صحیح طریقے سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : لوگوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر کرے گا اور اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کی امت کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا اور اس شخص کا عدل ان لوگوں کے لئے کفایت کرے گا ، یہاں تک کہ وہ منادی کو حکم دے گا ، وہ منادی اعلان کرے گا اور کہے گا : کسی شخص کو مال کی ضرورت ہے ؟ تو لوگوں میں سے صرف ایک شخص کھڑا ہو گا اور وہ کہے گا : مجھے ( ضرورت ) ہے ، تو مہدی کہے گا : تم خازن کے پاس چلے جاؤ اور اس سے کہو : مہدی تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم مجھے مال دو ! وہ شخص اس سے کہے گا ، تو خازن کہے گا : تم دونوں ہاتھوں سے اس کو بھر لو ، وہ ان کو بھرے گا ، پھر وہ ندامت کا شکار ہو کر یہ کہے گا : کیا میں حضرت محمد ﷺ کی امت میں سب سے زیادہ حریص ہوں ، یا جو چیز ان کے لئے پوری آ رہی ہے وہ مجھے کیوں نہیں پوری آ رہی ؟ پھر وہ اس مال کو واپس کرنا چاہے گا ، تو اس سے وہ مال قبول نہیں کیا جائے گا ، اور اس سے یہ کہا جائے گا : ہم جو چیز دیدیتے ہیں وہ واپس نہیں لیتے ، تو مہدی اس طرح سات سال یا آٹھ سال یا نو سال تک حکمران رہے گا ، پھر اس کے بعد زندگی میں کوئی بھلائی نہیں ہو گی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے بعد حیات میں کوئی بھلائی نہیں ہو گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

12394

Majma al-Zawaid #12394

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَخْرُجُ عِنْدَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَانِ وَظُهُورٍ مِنَ الْفِتَنِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السَّفَّاحُ، يَكُونُ إِعْطَاؤُهُ الْمَالَ حَثْيًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, it was reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said that at a break in time and emergence of tribulations a man called al-Saffah would appear whose giving of wealth would be by scoops. > **"There shall appear at a break in time and emergence of tribulations a man called al-Saffah. His giving of wealth shall be by scoops."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمانے کے منقطع ہونے کے وقت اور فتنوں کے ظہور کے وقت ایک شخص نکلے گا ، جس کا نام سفاح ہو گا اور وہ مال دونوں ہاتھ میں بھر بھر کے دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12395

Majma al-Zawaid #12395

وَعَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَيَقُومَنَّ عَلَى أُمَّتِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي أَقْنَى أَجْلَى، يُوسِعُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا وُسِعَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا، يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ أَبِي عُمَارَةَ، قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: فِي حَدِيثِهِ اضْطِرَابٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, that there would surely rise over his community from his Household one aquiline of nose and bright of forehead, filling the earth with justice as it had been filled with wrong and tyranny, ruling seven years. > **"There shall surely rise over my community from my Household one aquiline and bright. He shall fill the earth with justice as it was filled with wrong and tyranny. He shall rule seven years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے : ’’ میری امت کا حکمران ، میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہو گا ، جس کی ناک اونچی اور رنگ روشن ہو گا ، وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا ، جس طرح پہلے یہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی اور وہ سات سال تک حکومت کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عدی بن ابوعمارہ ہے ، عقیلی کہتے ہیں : اس کی حدیث میں اضطراب پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12396

Majma al-Zawaid #12396

وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَتُمْلَأَنَّ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَجَوْرًا، فَإِذَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا بَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنِّي، اسْمُهُ اسْمِي، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمُ أَبِي، يَمْلَؤُهَا عَدْلًا وَقِسْطًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا، فَلَا تَمْنَعُ السَّمَاءُ شَيْئًا مِنْ قَطْرِهَا، وَلَا الْأَرْضُ شَيْئًا مِنْ نَبَاتِهَا، يَلْبَثُ فِيكُمْ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا أَوْ تِسْعًا - يَعْنِي سِنِينَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ دَاوُدَ بْنِ الْمُحَبَّرِ بْنِ قَحْذَمٍ عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Qurrah ibn Iyas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said the earth would surely be filled with wrong and tyranny, and when so filled Allah would send a man from him whose name matched his name and whose father's name matched his father's name, filling it with justice and equity as it had been filled, with heaven withholding nothing of rain nor earth anything of growth, remaining among them seven or eight or nine years. > **"The earth shall surely be filled with wrong and tyranny. When it is filled with tyranny and wrong, Allah shall send a man from me, his name my name and his father's name my father's name. He shall fill it with justice and equity as it was filled with tyranny and wrong. Heaven shall withhold nothing of its rain, nor earth anything of its growth. He shall remain among you seven or eight or nine, meaning years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمین ضرور ظلم و ستم سے بھر جائے گی ، اور جب یہ ظلم و ستم سے بھر جائے گی ، تو اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک شخص کو بھیجے گا ، جس کا نام میرے نام کے مطابق ہو گا ، اس کے باپ کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہو گا ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گا ، جس طرح وہ پہلے ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ، اس وقت آسمان اپنی بارش میں سے کوئی چیز نہیں روکے گا ، اور زمین اپنی نباتات میں سے کوئی چیز نہیں روکے گی ، وہ حکمران تمہارے درمیان سات یا آٹھ یا نو سال رہے گا ( یہ شک راوی کو ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ، داؤد بن محبر بن قحذم کے حوالے سے اس کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔