Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 12

Book of Tribulations

Hadith 12397–12436

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12397

Majma al-Zawaid #12397

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ عِدَّةٌ عِدَّةَ أَهْلِ بَدْرٍ، فَيَأْتِيهِ عَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ أَهْلِ الشَّامِ، فَيَغْزُوهُمْ جَيْشٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ، فَيَغْزُوهُمْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ، فَيَلْتَقُونَ فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ، فَالْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيمَةِ كَلْبٍ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said pledge would be given to a man between the Corner and the Station by a number like the people of Badr, the bands of Iraq and the substitutes of Syria would come to him, an army from Syria would raid them and be swallowed at Bayda, then a Qurashi man whose maternal uncles were of Kalb would raid, they would meet, Allah would defeat them, and the loser would be whoever lost the spoils of Kalb. > **"Pledge shall be given to a man between the Corner and the Station, a number like the people of Badr. The bands of the people of Iraq and the substitutes of the people of Syria shall come to him. An army from the people of Syria shall raid them, until at Bayda they are swallowed. Then a man of Quraysh whose maternal uncles are of Kalb shall raid them. They shall meet and Allah shall defeat them. The loser is whoever loses the spoils of Kalb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک شخص کی حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی ، جو اتنی تعداد میں لوگ کریں گے ، جتنی اہل بدر کی تعداد تھی ، پھر اہل عراق کے لشکر اس کے پاس آئیں گے اہل شام کے ابدال اس کے پاس آئیں گے اور اہل شام کا ایک لشکر ان کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آئے گا ، یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے ، تو ان لوگوں کو دھنسا دیا جائے گا ، پھر قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے ساتھ جنگ کرے گا ، جس کی ننہیال بنو کلب سے ہو گی ، ان دونوں لشکروں کا سامنا ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ دشمن کو پسپا کر دے گا ، تو وہ شخص خسارے والا ہو گا ، جو بنو کلب کی غنیمت کے حوالے سے خسارے والا ہوا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران قطان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12398

Majma al-Zawaid #12398

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَسِيرُ مَلِكُ الْمَشْرِقِ إِلَى مَلِكِ الْمَغْرِبِ فَيَقْتُلُهُ، فَيَبْعَثُ جَيْشًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَيَخْسِفُ بِهِمْ، ثُمَّ يَبْعَثُ جَيْشًا فَيَنْسَى نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَيَعُوذُ عَائِذٌ بِالْحَرَمِ فَيَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ كَالطَّيْرِ الْوَارِدَةِ الْمُتَفَرِّقَةِ حَتَّى يَجْتَمِعَ إِلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَأَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا فِيهِمْ نِسْوَةٌ، فَيَظْهَرُ عَلَى كُلِّ جَبَّارٍ وَابْنِ جَبَّارٍ، وَيُظْهِرُ مِنَ الْعَدْلِ مَا يَتَمَنَّى لَهُ الْأَحْيَاءُ أَمْوَاتَهُمْ، فَيَحْيَا سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ مَا تَحْتَ الْأَرْضِ خَيْرٌ مِمَّا فَوْقَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Umm Salamah, may Allah be pleased with her, it was reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said the king of the east would march to the king of the west and kill him, send an army to Madinah which would be swallowed, send another and forget some Medinans, a refuge-seeker would take refuge at the Sanctuary, people would gather to him like scattered arriving birds until three hundred and fourteen men including women gathered, he would prevail over every tyrant and son of tyrant, manifest such justice that the living would wish their dead present, live seven years, after which what is beneath the earth would be better than what is above it. > **"The king of the east shall march to the king of the west and kill him. He shall send an army to Madinah and it is swallowed. Then he sends an army and some Medinans are overlooked. A refuge-seeker takes refuge at the Sanctuary, and people gather to him like scattered arriving birds, until three hundred and fourteen men, including women, gather to him. He prevails over every tyrant and son of tyrant, manifests such justice that the living wish their dead alive, lives seven years, then what is beneath the earth is better than what is above it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مشرق کی حکمرانی ، مغرب کی حکمرانی کی طرف چل کے جائے گی اور اسے قتل کر دے گی ، پھر وہ ایک لشکر مدینہ کی طرف بھیجیں گے ، انہیں دھنسا دیا جائے گا ، پھر اس لشکر کو زندہ کیا جائے گا ، تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص لوگوں کو بھول جائے گا ، اور ایک پناہ لینے والا حرم میں پناہ لے گا ، لوگ اس کی طرف اکٹھے ہو کر یوں جائیں گے ، جس طرح متفرق پرندے آتے ہیں ، یہاں تک کہ تین سو چودہ افراد ، اُن میں خواتین بھی شامل ہوں گی ، وہ اکٹھے ہو کر ان کے پاس آ جائیں گے اور پھر وہ حکمران ، ہر ظالم حکمران اور ظالم کے بیٹے پر غالب آ جائے گا ، وہ عدل کو ظاہر کرے گا ، کہ زندہ لوگ اپنے مردوں کے لیے آرزو کریں ، وہ سات سال زندہ رہے گا ، پھر اس کے بعد ( ایسا وقت آ جائے گا ) کہ زمین کے نیچے والا حصہ ، اُس کے اوپر والے حصے سے زیادہ بہتر ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12399

Majma al-Zawaid #12399

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَيَأْتِي مَكَّةَ، فَيَسْتَخْرِجُهُ النَّاسُ مِنْ بَيْتِهِ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، فَيُجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْشٌ مِنَ الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ، فَيَأْتِيهِ عَصَائِبُ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ الشَّامِ، وَيَنْشَأُ رَجُلٌ بِالشَّامِ أَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ، فَيُجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْشٌ فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ فَتَكُونُ الدَّائِرَةُ عَلَيْهِمْ، فَذَلِكَ يَوْمُ كَلْبٍ، الْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيمَةِ كَلْبٍ، فَيَسْتَفْتِحُ الْكُنُوزَ، وَيُقَسِّمُ الْأَمْوَالَ، وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ، فَيَعِيشُونَ بِذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ "". أَوْ قَالَ: "" تِسْعَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Umm Salamah, may Allah be pleased with her, it was reported that she heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say there would be dispute at the death of a caliph, a man of Banu Hashim would emerge to Makkah, people would bring him out from his house between the Corner and the Station, an army from Syria would be dispatched until at Bayda they are swallowed, the bands of Iraq and substitutes of Syria would come to him, a Syrian whose maternal uncles were of Kalb would arise and dispatch an army, Allah would defeat them and the rout would be upon them, that being the Day of Kalb, the loser whoever lost the spoils of Kalb. He would open treasures, divide wealth, settle Islam firmly upon the earth, and they would live so seven years, or he said nine. > **"There shall be dispute at the death of a caliph. A man of Banu Hashim shall emerge and come to Makkah. People shall bring him out from his house between the Corner and the Station. An army from Syria shall be dispatched toward him, until at Bayda they are swallowed. The bands of Iraq and the substitutes of Syria shall come to him. A man in Syria whose maternal uncles are of Kalb shall arise and an army shall be dispatched toward him, and Allah shall defeat them, and the rout shall be upon them. That is the Day of Kalb. The loser is whoever loses the spoils of Kalb. He shall open treasures, divide wealth, settle Islam upon the earth, and they shall live so seven years, or nine."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ خلیفہ کے انتقال کے وقت اختلاف رونما ہو گا ، پھر بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نکلے گا ، وہ مکہ آئے گا ، لوگ اسے اس کے گھر سے نکلنے پر مجبور کریں گے ، وہ حجراسود اور مقام ابراہیم کے درمیان آئے گا ، پھر شام کا ایک لشکر اس کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آئے گا ، یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے ، تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ، پھر عراق کے لشکر اور شام کے ابدال اس کے پاس آئیں گے اور پھر شام میں ایک شخص نمودار ہو گا ، جس کی ننھیال بنو کلب سے ہو گی ، اس کا لشکر ( مہدی سے لڑنے کے لئے ) آئے گا ، اللہ تعالیٰ ان کو پسپا کر دے گا اور وہ لوگ ہار جائیں گے اور اس دن بنو کلب ہار جائیں گے ، وہ شخص خسارے کا شکار ہو گا جو بنو کلب کی مال غنیمت کے حوالے سے خسارے کا شکار ہو گا ، پھر خزانوں کا منہ کھول دیا جائے گا ، وہ ( یعنی مہدی ) مال تقسیم کرے گا اور زمین میں اسلام کو غلبہ دے گا ، اور وہ لوگ اسی حالت میں سات سال ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) نو سال گزار دیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12400

Majma al-Zawaid #12400

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْمَحْرُومُ مِنْ حُرِمَ غَنِيمَةَ كَلْبٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say the deprived is whoever is deprived of the spoils of Kalb. > **"The deprived is whoever is deprived of the spoils of Kalb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ محروم وہ شخص ہے جو بنو کلب کی غنیمت سے محروم رہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔

12401

Majma al-Zawaid #12401

وَعَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَيَضْرِبُهُمْ حَتَّى يَرْجِعُوا إِلَى الْحَقِّ "". قَالَ: قُلْتُ: وَكَمْ يَمْلِكُ؟ قَالَ: "" خَمْسًا وَاثْنَتَيْنِ "". قَالَ: قُلْتُ: مَا خَمْسًا وَاثْنَتَيْنِ؟ قَالَ: "" لَا أَدْرِي». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْمُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, it was reported that his intimate friend Abu al-Qasim, peace and blessings of Allah be upon him, told him the Hour would not come until a man of his Household rose against them and struck them until they returned to truth. When asked how long he would rule, he said five and two, and when asked what five and two meant his transmitter said he did not know. > **"The Hour shall not come until a man of my Household rises against them and strikes them until they return to the truth. He shall rule five and two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل حضرت ابوالقاسم ﷺ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان لوگوں پر نہیں آئے گا ، اور وہ ان پر ضربیں لگائے گا یہاں تک کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : وہ کتنا عرصہ حکومت کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : پچیس ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : پچیسں سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مرجیٰ بن رجاء ہے ، جسے ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12402

Majma al-Zawaid #12402

وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَأْتِي نَاسٌ مِنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ يُرِيدُونَ رَجُلًا عِنْدَ الْبَيْتِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ، فَيَلْحَقُ بِهِمْ مَنْ تَخَلَّفَ فَيُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَهُمْ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ كَانَ أُخْرِجَ مُسْتَكْرَهًا؟ قَالَ: "" يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ كُلَّ امْرِئٍ عَلَى نِيَّتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ. وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي إِذِ احْتَفَزَ جَالِسًا وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ. قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا شَأْنُكَ تَسْتَرْجِعُ؟ قَالَ: "" لِجَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَجِيئُونَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ، لِرَجُلٍ يَمْنَعُهُمْ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ مِنْ ذِيِ الْحُلَيْفَةِ خُسِفَ بِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى "". قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى؟ قَالَ: "" إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Habibah, may Allah be pleased with her, reported that she heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say people from the east would come seeking a man at the House, until at a desert plain they would be swallowed, those lagging catching up would share their fate, and when asked about one brought under compulsion he said they would share the fate then Allah would raise each upon his intention. Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported that while the Messenger, peace and blessings of Allah be upon him, reclined in her house he sat up uttering the return to Allah. When asked why, he spoke of an army from his community coming from Syria aiming for the House against a man prevented from them, until at Bayda of Dhu al-Hulayfah they would be swallowed though their starting points differed. When asked how all could be swallowed despite differing starting points, he thrice affirmed some among them were compelled. > **"People from the east shall come seeking a man at the House, until at a desert plain they are swallowed, and those who lag join them and share what befell them. They share what befell people, then Allah raises each upon his intention. An army of my community shall come from Syria aiming for the House against a man prevented from them, until at Bayda of Dhu al-Hulayfah they are swallowed, though their starting points differ. Among them are those compelled, among them are those compelled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے جو بیت اللہ کے قریب ایک شخص کے پاس کے جانا چاہتے ہوں گے ، یہاں تک کہ وہ جب بیداء کے مقام پر پہنچیں گے ، تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ، ان کے پیچھے والے لوگ جب ان تک پہنچیں گے ، تو انہیں بھی وہ چیز لاحق ہو گی جو ان لوگوں کو لاحق ہوئی تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کا کیا بنے گا ، جسے زبردستی لایا گیا ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو مصیبت دوسروں کو لاحق ہوئی ہے ۔ وہ انہیں بھی لاحق ہو گی اور پھر اللہ تعالیٰ ہر فرد کو اس کی نیت کے مطابق زندہ کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اُسے ضعیف کہا ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے گھر میں آرام فرما رہے تھے اسی دوران آپ اٹھ کر بیٹھ گئے ، آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا وجہ ہے ، آپ نے انا اللہ وانا الیہ راجعون کیوں پڑھا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنی امت کے ایک لشکر کے حوالے سے یہ پڑھا ہے ، جو شام کی طرف سے آئیں گے وہ بیت اللہ کا قصد رکھتے ہوں گے ، اور ایک شخص کے خلاف آئیں گے ، اور وہ اس تک نہیں پہنچ پائیں گے ، یہاں تک کہ جب وہ ذوالحلیفہ کے بیداء کے مقام پر ہوں گے ، تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا ، اگرچہ ان کی آمد کا مقصد ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اُن سب کو کیوں دھنسا دیا جائے گا ، جب کہ ان کی آمد کا مقصد ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان میں سے کچھ وہ ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ، ان میں سے کچھ وہ ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12403

Majma al-Zawaid #12403

وَرُوِيَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

By the same chain it was similarly reported from ʿA'ishah, may Allah be pleased with her, from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, the like of the preceding account.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے اس کی مانند روایت نقل کی گئی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12404

Majma al-Zawaid #12404

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ نَائِمًا فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَانْتَبَهَ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّ تَسْتَرْجِعُ؟ قَالَ: "" مِنْ قِبَلِ جَيْشٍ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ فِي طَلَبِ رَجُلٍ مِنَ الْمَدِينَةِ، يَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ، فَإِذَا عَلَوُا الْبَيْدَاءَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ خُسِفَ بِهِمْ، فَلَا يُدْرِكُ أَعْلَاهُمْ أَسْفَلَهُمْ وَلَا يُدْرِكُ أَسْفَلُهُمْ أَعْلَاهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى "". قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُخْسَفُ بِهِمْ مصَادِرُهُمْ شَتَّى؟ قَالَ: "" إِنَّ فِيهِمْ أَوْ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ الْحَكَمِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ ذَكَرَهُ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, slept in the house of Umm Salamah, may Allah be pleased with her, then awoke uttering the return to Allah. When asked why, he spoke of an army from Iraq seeking a man of Madinah whom Allah would prevent from them, until at Bayda of Dhu al-Hulayfah they would be swallowed, upper never reaching lower nor lower upper until Resurrection though their starting points differed. When asked how despite differing starting points, he said among them were the compelled. > **"An army shall come from Iraq seeking a man of Madinah, and Allah shall prevent him from them. When they ascend Bayda of Dhu al-Hulayfah they are swallowed. Their upper shall never reach their lower, nor their lower their upper, until the Day of Resurrection, though their starting points differ. Among them are those compelled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں سوئے ہوئے تھے ، آپ بیدار ہوئے تو آپ نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنا شروع کر دیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ پڑھ رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک لشکر کی وجہ سے جو عراق کی طرف سے مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی تلاش میں آئے گا اور انہیں اس شخص تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا ، جب وہ ذوالحلیفہ میں بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا ، ان کے اوپر والے ، نیچے والوں تک نہیں پہنچ سکیں گے اور نیچے والے اوپر والوں تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ ایسا قیامت کے دن تک ہو گا حالانکہ ان کی آمد کا مقصد مختلف ہو گا ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سب کو دھنسا دیا جائے گا ۔ جب کہ ان سب کی آمد کا مقصد مختلف ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے ، جن کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن حکم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، البتہ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے نہ اس پر جرح کی ہے اور نہ اس کی توثیق کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12405

Majma al-Zawaid #12405

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «تَجِيءُ رَايَاتٌ سُودٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَتَخُوضُ الْخَيْلُ فِي الدِّمَاءِ إِلَى ثَنْدُوَتِهَا» ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said black banners would come from the east and horses would wade in blood to their breastplates, then mentioned the full narration. > **"Black banners shall come from the east, and horses shall wade in blood to their breastplates."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مشرق کی طرف سے سیاہ جھنڈے آئیں گے اور گھوڑے سینوں تک خون میں ڈوب جائیں گے ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12406

Majma al-Zawaid #12406

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَهْدِيَّ فَقَالَ: "" إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَثَمَانٍ وَإِلَّا فَتِسْعٌ، وَلَيَمْلَأَنَّ الْأَرْضَ عَدْلًا وَقِسْطًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ بَعْضُ ضَعْفٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, mentioned the Mahdi and said if shortened it would be seven, otherwise eight, otherwise nine, and he would surely fill the earth with justice and equity as it had been filled with tyranny and wrong. > **"If shortened, seven, otherwise eight, otherwise nine. He shall surely fill the earth with justice and equity as it was filled with tyranny and wrong."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مہدی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اس کی مدت کم ہوئی تو وہ سات سال ہو گی ، ورنہ آٹھ سال ہو گی ، ورنہ نو سال ہو گی اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے ضرور بھر دے گا ، جس طرح وہ پہلے ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ۔

12407

Majma al-Zawaid #12407

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثُو الْمَالَ فِي النَّاسِ حَثْيًا لَا يَعُدُّهُ عَدًّا "". ثُمَّ قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَعُودَنِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ foretold a caliph in his Ummah distinguished by unstinted generosity, then added an oath about a return. > **"There will be in my Ummah a caliph who scoops wealth among the people in handfuls without counting it. By the One in Whose Hand is my soul, it will surely return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت میں ایک خلیفہ ہو گا ، جو لوگوں کو مال ، ہاتھ بھر بھر کے دے گا ، وہ اس کا شمار نہیں کرے گا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ۔ وہ لوگ دوبارہ ایسا کریں گے ( یعنی اور مانگیں گے یا لیں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12408

Majma al-Zawaid #12408

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَتَكُونُ فِتْنَةٌ لَا يَهْدَأُ مِنْهَا جَانِبٌ إِلَّا جَاشَ مِنْهَا جَانِبٌ، حَتَّى يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَمِيرُكُمْ فُلَانٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُثَنَّى ابْنُ الصَّبَّاحِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Ṭalḥah ibn ʿUbaydillāh (radiya Allahu ʿanhu) reported from the Prophet ﷺ a restless tribulation shifting from side to side until a heavenly proclamation appoints a leader. > **"There will be a fitnah, no side of it calms but another side of it surges, until a caller from heaven calls out: Your leader is so-and-so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب ایسا فتنہ ہو گا ، جب اس کی ایک طرف پرسکون ہو گی تو دوسری طرف سے جوش آ جائے گا ، یہاں تک کہ آسمان سے ایک منادی یہ اعلان کرے گا کہ تمہارا امیر فلاں شخص ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور انہوں نے اسے ضعیف بھی کہا ہے ۔

12409

Majma al-Zawaid #12409

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ: أَمِنَّا الْمَهْدِيُّ أَمْ مِنْ غَيْرِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بَلْ مِنَّا، بِنَا يَخْتِمُ اللَّهُ كَمَا بِنَا فَتَحَ، وَبِنَا يَسْتَنْقِذُونَ مِنَ الشِّرْكِ، وَبِنَا يُؤَلِّفُ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ بَعْدَ عَدَاوَةٍ بَيِّنَةٍ، كَمَا بِنَا أَلَّفَ بَيْنِ قُلُوبِهِمْ بَعْدَ عَدَاوَةِ الشِّرْكِ "". قَالَ عَلِيٌّ: أَمُؤْمِنُونَ أَمْ كَافِرُونَ؟ قَالَ: "" مَفْتُونٌ وَكَافِرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib (radiya Allahu ʿanhu) reported that he asked the Messenger of Allah ﷺ whether the Mahdī would be from them or others, received an answer about sealing and unity through his house, then asked about belief and received a stern reply. > **"Rather from us. Through us Allah seals as through us He began, and through us they are rescued from shirk, and through us Allah joins their hearts after open enmity, as through us He joined their hearts after the enmity of shirk. Tested and disbelieving."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول الله ! مہدی ہم میں سے ہو گا یا ہمارے علاوہ کسی اور خاندان سے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ وہ ہم میں سے ہو گا ، ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ اس کو ختم کرے گا ، جس طرح ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس کو شروع کیا تھا ، اور ہمارے ذریعے لوگوں کو شرک سے بچایا گیا اور ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان واضح دشمنی کے بعد الفت پیدا کر دی ، جس طرح اس نے لوگوں کے دلوں میں شرک کی عداوت کے بعد باہمی الفت پیدا کر دی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا وہ مومن ہوں گے یا کافر ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ فتنے کا شکار ہوں گے ، اور کافر ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر حضرمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

12410

Majma al-Zawaid #12410

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فِتْنَةٌ تَحْصَلُ النَّاسُ كَمَا يُحْصَلُ الذَّهَبُ فِي الْمَعْدِنِ، فَلَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ، وَلَكِنِ سُبُّوا شِرَارَهُمْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْأَبْدَالَ، يُوشِكُ أَنْ يُرْسَلَ عَلَى أَهْلِ الشَّامِ سَيْبٌ فَيُفَرِّقُ جَمَاعَتَهُمْ، حَتَّى لَوْ قَاتَلَتْهُمُ الثَّعَالِبُ غَلَبَتْهُمْ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ خَارِجٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فِي ثَلَاثِ رَايَاتٍ، الْمُكْثِرُ يَقُولُ: خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا، وَالْمُقِلُّ يَقُولُ: اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، أَمَارَتُهُمْ أَمُتْ أَمُتْ، يُلْقُونَ سَبْعَ رَايَاتٍ، تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ مِنْهَا رَجُلٌ يَطْلُبُ الْمُلْكَ، فَيَقْتُلُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا وَيَرُدُّ إِلَى الْمُسْلِمِينَ أُلْفَتَهُمْ وَنِعْمَتَهُمْ وَقَاصِيَهُمْ وَدَانِيَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ described a sifting latter-day fitnah, forbade reviling Shām except its wicked, mentioned the Abdāl and a dispersing flood, then foretold a man of his house with banners and the killing of seven rival claimants. > **"There will be in the latter time a fitnah sifting people as gold is sifted in the mine. Do not revile the people of Shām, but revile their wicked, for among them are the Abdāl. A flood is about to be sent upon the people of Shām dispersing their unity, until if foxes fought them they would defeat them. At that a man from my household emerges with three banners. The exaggerator says fifteen thousand, the minimizer says twelve thousand. Their sign is: Kill, kill. They meet seven banners, under each a man seeking kingship. Allah kills them all and restores to the Muslims their affection and blessing, far and near."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آخری زمانے میں ایسا فتنہ ہو گا ، جو لوگوں کو یوں خراب کرے گا جس طرح معدن میں سے سونے کو نکالا جاتا ہے ، تم اہل شام کو برا نہ کہو ، بلکہ وہاں کے برے لوگوں کو برا کہو ، کیونکہ ان میں ابدال بھی ہیں ، عنقریب اہل شام پر آزمائشوں کو بھیجا جائے گا ، وہ ان کی اجتماعیت کو بکھیر دیں گی ، یہاں تک کہ اگر لومڑیاں بھی ان پر حملہ کریں گی ، تو ان پر غالب آ جائے گی ، اس وقت میرے اہل بیت میں سے ایک شخص نکلے گا ، جس کے تین جھنڈے ہوں گے ، جو شخص یہ سمجھے گا کہ ان کی تعداد زیادہ ہے ۔ وہ کہے گا : یہ پندرہ ہزار ہیں ، جو شخص یہ کہے گا : ان کی تعداد کم ہے ۔ وہ یہ کہے گا : بارہ ہزار ہے ، ان کا مخصوص لفظ یہ ہو گا ’’ مار دو مار دو ‘‘ وہ سات جھنڈوں کا سامنا کریں گے ، جن میں سے ہر ایک جھنڈے کے نیچے ایک شخص ہو گا ، جو حکمرانی کا طلبگار ہو گا ، وہ ان سب کو مار دے گا ، اور مسلمانوں کی الفت اور نعمت ان کے ہر قریبی اور دور کے فرد تک لوٹا دی جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12411

Majma al-Zawaid #12411

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ، إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَثَمَانٍ وَإِلَّا فَتِسْعٌ، تَنْعَمُ أُمَّتِي فِيهَا نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا، يُرْسِلُ السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا، وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ شَيْئًا مِنَ النَّبَاتِ، وَالْمَالُ كُدُوسٌ، يَقُومُ الرَّجُلُ يَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ، أَعْطِنِي، فَيَقُولُ: خُذْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported from the Prophet ﷺ the advent of the Mahdī, his possible tenure, unmatched bounty, abundant rain and vegetation, heaped wealth, and openhanded giving. > **"There will be in my Ummah the Mahdī. If shortened, then seven, otherwise eight, otherwise nine. My Ummah enjoys therein a bliss never enjoyed before. Heaven sends down abundant rain upon them, earth withholds nothing of vegetation, wealth lies heaped. A man stands saying: O Mahdī, give me. He says: Take."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت میں مہدی ہو گا ، اگر اس کی مدت کم ہوئی تو سات سال ہو گی ، یا آٹھ سال ہو گی ، یا نو سال ہو گی ، اس عرصے کے دوران میری امت کو نعمتیں ملیں گی ، کہ اس طرح کی نعمتیں انہیں پہلے کبھی نہیں ملی ہوں گی ، آسمان سے موسلا دھار بارش نازل ہو گی ، زمین کے نباتات میں سے چھپی نہیں رہے گی ، مال زیادہ ہو جائے گا ، ایک شخص کھڑا ہو کر یہ کہے گا : اے مہدی مجھے کچھ دو ، تو وہ کہے گا لے لو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12412

Majma al-Zawaid #12412

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُولُ بِسُنَّتِي، يُنْزِلُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَيُنْبِتُ اللَّهُ لَهُ الْأَرْضَ مِنْ بَرَكَتِهَا، تُمْلَأُ الْأَرْضُ مِنْهُ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا، يَعْمَلُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَبْعَ سِنِينَ وَيَنْزِلُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī (radiya Allahu ʿanhu) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ foretell a man of his Ummah ruling by his Sunnah with rain, blessing, equity, and residence at Jerusalem. > **"A man from my Ummah emerges speaking by my Sunnah. Allah sends down rain for him from heaven, and Allah sprouts for him the earth in its blessing. The earth is filled through him with equity and justice as it was filled with tyranny and injustice. He governs this Ummah seven years and settles at Bayt al-Maqdis."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت میں ایک شخص نکلے گا ، جو میری سنت کے مطابق بات کہے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے آسمان سے بارش نازل کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے زمین سے اس کے لئے برکتیں اگائے گا ، اور زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دیا جائے گا ، جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی ، وہ سات سال تک اس امت کی حکومت کرے گا ، اور وہ بیت المقدس میں رہے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے اور امام بن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12413

Majma al-Zawaid #12413

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَنْ يَسَارِهِ وَالْعَبَّاسُ عَنْ يَمِينِهِ، إِذْ تَلَاحَى الْعَبَّاسُ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَغْلَظَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْعَبَّاسِ. فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِ الْعَبَّاسِ وَيَدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: "" سَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِ هَذَا فَتًى يَمْلَأُ الْأَرْضَ جَوْرًا وَظُلْمًا، وَسَيَخْرُجُ مِنْ هَذَا فَتًى يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَعَلَيْكُمْ بِالْفَتَى التَّمِيمِيِّ فَإِنَّهُ يُقْبِلُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَهُوَ صَاحِبُ رَايَةِ الْمَهْدِيِّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ لِينٌ، وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ مُنْكَرٌ، فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ يَسْتَقْبِلُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ، وَخَاصَّةً عَمَّهُ الْعَبَّاسَ الَّذِي قَالَ فِيهِ: إِنَّهُ صِنْوُ أَبِيهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar (radiya Allahu ʿanhuma) reported that the Prophet ﷺ sat among Muhājirūn and Anṣār with ʿAlī on his left and al-ʿAbbās on his right, a quarrel arose with an Anṣārī speaking harshly to al-ʿAbbās, whereupon the Prophet ﷺ took their hands and foretold two youths and enjoined adherence to the Tamīmī vanguard from the east. > **"From the loins of this a youth will emerge filling the earth with tyranny and injustice, and from this a youth will emerge filling the earth with equity and justice. When you see that, keep to the Tamīmī youth, for he advances from the east, and he is the bearer of the Mahdī's banner."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تشریف فرما تھے ۔ حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں طرف تھے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف تھے ، اسی دوران حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے درمیان تکرار ہو گئی ، انصاری نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے ، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور ارشاد فرمایا : ان کی اولاد میں سے ایک شخص نکلے گا ، جو زمین کو ظلم و ستم سے بھر دے گا ، اور پھر ان کی اولاد میں سے ایک شخص نکلے گا ، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ، جب تم یہ صورت حال دیکھو تو تم پر لازم ہے کہ تمیم قبیلے کے نوجوان کے ساتھ رہو کیونکہ وہ مشرق کی طرف سے آئے گا ، اور وہ مہدی کا علمبردار ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، تاہم یہ روایت منکر ہے ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کسی بھی شخص کے ساتھ اس طرح سامنا نہیں کرتے تھے کہ آپ کے چہرے سے ناگواری کا اظہار ہو رہا ہو ، اور بطور خاص اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا تو خاص کر خیال رکھتے تھے ، جن کے بارے میں آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ میرے والد کی جگہ ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

12414

Majma al-Zawaid #12414

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّ سُلْطَانَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ كَذَّابٌ. قُلْتُ: وَحَدِيثُ عَلِيٍّ الْهِلَالِيِّ فِي الْمَهْدِيِّ يَأْتِي فِي فَضَائِلِ أَهْلِ الْبَيْتِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Ḥārith ibn Jazʾ al-Zubaydī (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ foretold a people from the east establishing dominion for the Mahdī. > **"A people emerge from the east preparing his dominion for the Mahdī."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مشرق کی طرف سے ایک قوم نکلے گی وہ مہدی کے لئے اس کی حکومت کو بچھا دے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں علی ہلالی کی نقل کردہ حدیث جو مہدی کے بارے میں ہے ۔ وہ اہل بیت کے فضائل سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

12415

Majma al-Zawaid #12415

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا مَلَكَ الْعَتِيقَانِ عَتِيقُ الْعَرَبِ وَعَتِيقُ الرُّومِ كَانَتْ عَلَى أَيْدِيهِمَا الْمَلَاحِمُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar (radiya Allahu ʿanhuma) reported from the Messenger of Allah ﷺ that rule by two freedmen precedes great slaughter. > **"When the two freedmen rule, the freedman of the Arabs and the freedman of the Romans, at their hands will be the great battles."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب دو آزاد شدہ لوگ حکمران بن جائیں گے ایک عربوں کا آزاد شدہ شخص ہو گا ، اور ایک رومیوں کا آزاد شدہ شخص ہو گا ، اور پھر ان دونوں کے ہاتھوں جنگیں ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس سے روایت نقل کرنے والا شخص محمد بن سفیان ہے ۔ اس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12416

Majma al-Zawaid #12416

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْمَلَاحِمُ عَلَى يَدَيِ الْخَامِسِ مِنْ أَهْلِ هِرَقْلَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ assigned the great battles to a specific descendant of Heraclius. > **"The great battles will be at the hands of the fifth from the household of Heraclius."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آل ہرقل میں سے پانچویں فرد کے ہاتھوں جنگیں ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12417

Majma al-Zawaid #12417

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّهُ سَيَكُونُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ بِمِصْرَ يَلِي سُلْطَانًا، ثُمَّ يُغْلَبُ عَلَى سُلْطَانِهِ - أَوْ يُنْزَعُ مِنْهُ - فَيَفِرُّ إِلَى الرُّومِ، فَيَأْتِي بِالرُّومِ إِلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَتِلْكَ أَوَّلُ الْمَلَاحِمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو النَّجْمِ صَاحِبُ أَبِي ذَرٍّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ فِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr (radiya Allahu ʿanhu) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ foretell an Umayyad ruler in Egypt, his deposition, flight to Rome, and return with Romans as the first of the battles. > **"There will be a man from Banū Umayyah in Egypt holding power, then he is overpowered in his power, or it is stripped from him, so he flees to Rome and brings the Romans against the people of Islam. That is the first of the great battles."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب بنوامیہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مصر میں حکمران بنے گا ، پھر اس کی حکومت کو مغلوب کر دیا جائے گا یا اس کی حکومت کو الگ کر دیا جائے گا ، پھر وہ فرار ہو کر روم کی طرف چلا جائے گا ، پھر وہ رومیوں کو ساتھ لے کر اہل اسلام کی طرف آئے گا ، تو وہ جنگوں کا آغاز ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ابونجم ہیں ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔

12418

Majma al-Zawaid #12418

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لِيَأْرِزَنَّ الْإِسْلَامُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذِ اشْتَعَلَتْ نَارُ الْعَرَبِ بِأَعْرَابِهَا، فَيَخْرُجُ كَالصَّالِحِ مِمَّنْ مَضَى وَخَيْرُ مَنْ بَقِيَ حَتَّى يَلْتَقُونَ هُمْ وَالرُّومُ فَيَقْتَتِلُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Sannah (radiya Allahu ʿanhu) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe Islam retreating between Makkah and Madīnah, an Arab blaze, and a fateful encounter with Rome. > **"Islam will contract between Makkah and Madīnah as the snake contracts to its hole. While they are thus, the fire of the Arabs blazes with its bedouins. Then emerges like the righteous of those past and the best of those remaining until they meet the Romans and fight one another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن سنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اسلام مکہ اور مدینہ کے درمیان والی جگہ کی طرف یوں لوٹ آئے گا ، جس طرح سانپ اپنی بل کی طرف پلٹ جاتا ہے ، ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ عربوں کی آگ بھڑک اٹھے گی اور پھر پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے ہر نیک شخص نکلے گا ، اور باقی رہ جانے والوں میں سے ہر بہتر شخص نکلے گا ، یہاں تک کہ ان کا اور رومیوں کا مقابلہ ہو گا ، اور وہ ایک دوسرے کو قتل کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12419

Majma al-Zawaid #12419

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «سَيَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الرُّومِ أَرْبَعُ هُدَنٍ، الرَّابِعَةُ عَلَى يَدِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ هِرَقْلَ تَدُومُ سَبْعَ سِنِينَ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يُقَالُ لَهُ: الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ خَيْلَانَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ إِمَامُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "" مِنْ وَلَدِي، ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، كَأَنَّ وَجْهَهُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، فِي خَدِّهِ الْأَيْمَنِ خَالٌ أَسْوَدُ، عَلَيْهِ عَبَاءَتَانِ قَطْوَانِيَّتَانِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ بَنِي إِسْرَائِيلَ، يَمْلِكُ عِشْرِينَ سَنَةً، يَسْتَخْرِجُ الْكُنُوزَ، وَيَفْتَحُ مَدَائِنَ الشِّرْكِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ foretold four truces with Rome, the fourth through a Heraclian lasting seven years, whereupon al-Mustawrid ibn Khaylān of ʿAbd al-Qays asked about the peoples leader and received a detailed description of a forty-year-old descendant, his reign, treasures, and conquests. > **"There will be between you and Rome four truces, the fourth at the hand of a man from the household of Heraclius lasting seven years. From my progeny, a man of forty years, as if his face is a shining star, on his right cheek a black mole, upon him two white Qaṭwānī cloaks, as if from the men of Banū Isrāʾīl. He rules twenty years, extracts the treasures, and conquers the cities of shirk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح کے چار معاہدے ہوں گے اور چوتھی مرتبہ آل ہرقل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ یہ معاہدہ ہو گا ، جو سات سال تک رہے گا ۔ اس وقت عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا مستورد بن خیلان ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت لوگوں کا حکمران کون ہو گا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : میری اولاد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو چالیس سال کا ہو گا ، اس کا چہرہ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو گا ، اس کے رخسار پر سیاہ رنگ کا تل ہو گا ، اس نے دو سفید عبائیں پہنی ہوئی ہوں گی ، یوں جیسے اس کا تعلق بنو اسرائیل سے ہو ، وہ بیس سال تک حکمران رہے گا ، وہ خزانے نکالے گا ، اور مشرکین کے علاقے فتح کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن ابوصغیرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12420

Majma al-Zawaid #12420

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فِي بَيْتِهِ، وَحَوْلَهُ سِمَاطَانِ مِنَ النَّاسِ وَلَيْسَ عَلَى فِرَاشِهِ أَحَدٌ، فَجَلَسْتُ عَلَى فِرَاشِهِ مِمَّا يَلِي رِجْلَيْهِ. فَجَاءَ رَجُلٌ أَحْمَرُ عَظِيمُ الْبَطْنِ فَجَلَسَ، فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ. فَقَالَ: وَمَنْ أَبُو بَكْرَةَ؟ فَقَالَ: وَمَا تَذْكُرُ الرَّجُلَ الَّذِي وَثَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ سُورِ الطَّائِفِ؟ فَقَالَ: بَلَى. ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا فَقَالَ: "" يُوشِكُ أَنْ يَخْرُجَ ابْنُ حَمَلِ الضَّأْنِ [ثَلَاثَ مَرَّاتٍ] "". قُلْتُ: وَمَا حَمَلُ الضَّأْنِ؟ قَالَ: "" رَجُلٌ أَحَدُ أَبَوَيْهِ شَيْطَانٌ، يَمْلِكُ الرُّومَ، يَجِيءُ فِي أَلْفِ أَلْفٍ مِنَ النَّاسِ خَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ فِي الْبَرِّ وَخَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ فِي الْبَحْرِ، يَنْزِلُونَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْعَمِيقُ. فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ: إِنَّ لِي فِي سَفِينَتِكُمْ بَقِيَّةً، فَيَحْرِقُهَا بِالنَّارِ ثُمَّ يَقُولُ: لَا رُومِيَّةَ لَكُمْ وَلَا قُسْطَنْطِينِيَّةَ لَكُمْ، مَنْ شَاءَ أَنْ يَفِرَّ. وَيَسْتَمِدُّ الْمُسْلِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَمُدَّهُمْ أَهْلُ عَدَنِ أَبْيَنَ، فَيَقُولُ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ: الْحَقُوا بِهِمْ فَكُونُوا سِلَاحًا وَاحِدًا، فَيَقْتَتِلُونَ شَهْرًا حَتَّى يَخُوضَ فِي سَنَابِكِهَا الدِّمَاءُ، وَلِلْمُؤْمِنِ يَوْمَئِذٍ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَهُ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا كَانَ آخِرُ يَوْمٍ مِنَ الشَّهْرِ قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: الْيَوْمَ أَسُلُّ سَيْفِي وَأَنْصُرُ دِينِي وَأَنْتَقِمُ مِنْ عَدُوِّي. فَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُمُ الدَّائِرَةَ عَلَيْهِمْ، فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ حَتَّى تُسْتَفْتَحَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: لَا غُلُولَ الْيَوْمَ. فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ يُقَسِّمُونَ بِتِرْسِهِمُ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ إِذْ نُودِيَ فِيهِمْ: أنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَّفَكُمْ فِي دِيَارِكُمْ، فَيَدَعُونَ مَا بِأَيْدِيهِمْ وَيَقْتُلُونَ الدَّجَّالَ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Bakrah reported that he visited ʿAbdullāh ibn ʿAmr at his house amid two rows of people, sat by his feet, a red large-bellied man entered and questioned his lineage through Abū Bakrah who descended from the wall of Ṭāʾif, then began narrating thrice about the son of Ḥamal al-Ḍaʾn, his origin, Roman dominion, vast host by land and sea, encampment at ʿAmīq, burning of ships, severance from Rome and Constantinople, Muslim mutual reinforcement from ʿAdan Abyan, a month of slaughter with blood in hooves, doubled reward except the Companions, divine aid on the final day, conquest of Constantinople, division of gold and silver, and the cry of Dajjāl among dwellings. > **"It is imminent that the son of Ḥamal al-Ḍaʾn emerges. A man one of whose parents is a devil, ruling Rome, coming with a thousand thousands, five hundred thousand by land and five hundred thousand by sea, alighting at land called al-ʿAmīq. He says to his companions: I have a remnant in your ships, then burns them with fire and says: No Rome for you nor Constantinople for you, whoever wishes may flee. The Muslims reinforce one another until the people of ʿAdan Abyan reinforce them. The Muslims say to them: Join them and be one weapon. They fight a month until blood flows in their hooves. For the believer that day is a double share of reward over those before him, except what belonged to the Companions of Muḥammad. When the last day of the month comes Allah says: Today I draw My sword, aid My religion, and avenge My enemy. Allah turns the circle against them, Allah routs them until Constantinople is opened. Their leader says: No misappropriation today. While they divide gold and silver in their shields, it is called among them: Dajjāl has taken your place in your homes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے اردگرد لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، فرش پر کوئی نہیں بیٹھا ہوا تھا ، میں فرش پر ان کے پاؤں کے قریب بیٹھ گیا ، ایک سرخ رنگ کا شخص آیا ، جس کا پیٹ بڑھا ہوا تھا ، وہ بیٹھ گیا ، انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں عبدالرحمن بن ابوبکرہ ہوں ، انہوں نے کہا : ابوبکرہ کون ؟ عبدالرحمن نے کہا : کیا آپ کو وہ صاحب یاد ہیں ، جو طائف کے قلعے کی دیوار سے نیچے اتر کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : ہاں پھر انہوں نے ہمیں حدیث بیان کرنا شروع کی اور یہ بات بیان کی : ’’ عنقریب بکرے کے حمل کا بیٹا نکلے گا ، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ، میں نے عرض کی : بکرے کے حمل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ایک شخص جس کے ماں باپ میں سے ایک شیطان ہو گا ، وہ روم کا حکمران بنے گا ، وہ ایک ہزار ہزار لوگوں کو لے کے آئے گا ، جن میں سے پانچ سو ہزار خشکی کے راستے آئیں گے ، اور پانچ سو ہزار سمندر کے راستے آئیں گے ۔ وہ لوگ ایک ایسی سرزمین پر پڑاؤ کریں گے ، جس کا نام عمیق ہو گا وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہاری کشتی میں میرے کچھ باقی ساتھی ہیں ، پھر وہ ان کو آگ کے ذریعے جلا دے گا ، پھر وہ کہے گا : اب نہ روم تمہارے لے رہے گا ، اور نہ قسطنطنیہ تمہارے لئے رہے گا ، جو شخص چاہے ، وہ فرار ہو جائے ، پھر مسلمان ایک دوسرے سے مدد مانگیں گے ، یہاں تک کہ عدن کے رہنے والے لوگ ان کی مدد کریں گے ، مسلمان ان سے کہیں گے تم ان سے مل جاؤ اور ایک ہتھیار بن جاؤ ، پھر وہ ایک مہینے تک جنگ کرتے رہیں گے ، یہاں تک کہ خون ہی خون ہو جائے گا ، اس وقت ہر مومن کو اپنے سے پہلے لوگوں سے دگنا اجر ملے گا ، البتہ حضرت محمد ( ﷺ ) کے اصحاب کو جو ملتا ہے ۔ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جب مہینے کا آخری دن آئے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج میں اپنی تلوار نکالوں گا اور اپنے دین کی مدد کروں گا ، اور اپنے دشمن سے انتقام لوں گا ، تو اللہ تعالیٰ ان پر موت وارد کر دے گا ، پھر اللہ تعالیٰ ان کو پسپا کر دے گا ، یہاں تک کہ قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا ، تو ان کا امیر یہ کہے گا ، آج کوئی خیانت نہیں ہو گی ، ابھی وہ اپنی ڈھالوں میں سونا اور چاندی بھر کے تقسیم کر رہے ہوں گے کہ اسی دوران ان کے درمیان یہ اعلان ہو گا کہ تمہارے علاقوں میں تمہارے پیچھے دجال آ چکا ہے ، تو جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہو گا ، وہ اسے چھوڑیں گے ، اور دجال کے ساتھ لڑنے کے لئے چل پڑیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12421

Majma al-Zawaid #12421

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أَقْبَلَ سَعْدٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ فِي وَجْهِ سَعْدٍ لَخَبَرًا "". قَالَ: قُتِلَ كِسْرَى. قَالَ: يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَعَنَ اللَّهُ كِسْرَى، إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا الْعَرَبُ ثُمَّ أَهْلُ فَارِسَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that Saʿd approached the Prophet ﷺ, whose face showed news, announced the killing of Khosrau, whereupon the Prophet ﷺ cursed him and stated the order of ruin. > **"May Allah curse Khosrau. The first of people to perish are the Arabs, then the people of Persia."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی طرف آ رہے تھے ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سعد کے چہرے میں ایک خبر ہے ۔ انہوں نے کہا : کسریٰ کے قتل ہونے کی راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کسریٰ پر لعنت کرے ، لوگوں میں سب سے پہلے عرب ہلاکت کا شکار ہوں گے ، اور پھر اہل فارس ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس پر کلام پہلے گزر چکا ہے ۔

12422

Majma al-Zawaid #12422

عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا مَرِجَ الدِّينُ وَظَهَرَتِ الرَّغْبَةُ وَالرَّهْبَةُ وَحُرِقَ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ: "" وَشَرُفَ الْبُنْيَانُ وَاخْتَلَفَ الْإِخْوَانُ ""، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Maymūnah (radiya Allahu ʿanha) reported that the Messenger of Allah ﷺ asked how they would fare when religion decays, craving and fear appear, and the Ancient House is burned, with an addition about lofty buildings and brothers differing. > **"How will you be when religion is confused, craving and fear appear, the Ancient House is burned, buildings are raised high, and brothers differ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ، جب دین سمٹ جائے گا ، رغبت اور ڈر ظاہر ہو گا ، اور بیت عقیق کو جلا دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ’’ عمارات اونچی تعمیر ہوں گی اور بھائیوں کے درمیان اختلاف ہو جائے گا ۔‘‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

12423

Majma al-Zawaid #12423

«عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَيَزِيدُ بْنُ حَسَنٍ، بَيْنَنَا ابْنُ رُمَّانَةَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ، قَدْ نَصَبْنَا أَيْدِيَنَا فَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهَا دَاخِلَ الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِهِ ابْنُ نِيَارٍ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ [ائْتِنِي]، فَأَتَاهُ فَقَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ رُمَّانَةَ بَيْنَكُمَا يَتَوَكَّأُ عَلَيْكَ وَعَلَى زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ عِنْدَ لُكَعِ بْنِ لُكَعٍ» ".

EnglishUnverified translation

Abū Bakr ibn Abī al-Jahm reported that he and Yazīd ibn Ḥasan came with Ibn Rummānah, freedman of ʿAbd al-ʿAzīz ibn Marwān, leaning upon their raised hands into the mosque of the Messenger ﷺ, where Ibn Niyār, a Companion, summoned Abū Bakr, remarked on the youth leaning between them, then quoted the Prophet ﷺ on the worlds transfer to the vilest. > **"The world will not pass until it is with Lukaʿ ibn Lukaʿ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن ابوجہم بیان کرتے ہیں : میں اور یزید بن حسن آئے ، ہمارے درمیان عبدالعزیز بن مروان کا غلام رمانہ تھا ، ہم نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور اس نے ان پر ٹیک لگائی ہوئی تھی ، وہ مسجد میں داخل ہوا ، یعنی نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں داخل ہوا ، وہاں نبی اکرم ﷺ کے صحابی حضرت ابن نیار رضی اللہ عنہ موجود تھے ۔ انہوں نے ابوبکر کو پیغام بھیجا تم میرے پاس آؤ ، وہ ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا : میں نے ابن رمانہ کو تمہارے درمیان ٹیک لگا کر چلتے ہوئے دیکھا ہے ، تمہارے اور زید بن حسن کے درمیان اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک وہ کسی احمق کے بیٹے احمق کو نہیں ملے گی ۔‘‘

12424

Majma al-Zawaid #12424

وَفِي رِوَايَةٍ «لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ لِلُكَعِ بْنِ لُكَعٍ». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

The narrator reported a variant wording of the same Prophetic statement that the world will not end until it belongs to the vilest of the vile. > **"The world will not pass until it belongs to Lukaʿ ibn Lukaʿ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک وہ احمق کے بیٹے احمق کو نہیں ملے گی ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12425

Majma al-Zawaid #12425

وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُوشِكُ أَنْ يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنُ بَيْنَ كَرِيمَيْنِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَنَسٍ وَأَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -.

EnglishUnverified translation

Some Companions of the Prophet (radiya Allahu ʿanhum) reported the imminent dominance of the vilest and the excellence of a believer born of two noble parents. > **"It is imminent that Lukaʿ ibn Lukaʿ overcomes the world, and the best of people is a believer between two noble parents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب بیان کرتے ہیں : ’’ عنقریب احمق کا بیٹا احمق دنیا پر غالب آ جائے گا ، اور لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ مومن ہے ، جو دو نیک ماں باپ کی اولاد ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں اس حدیث کے مختلف طرق آگے چل کر قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں آئیں گے جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہے ۔

12426

Majma al-Zawaid #12426

عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، وَتَبْقَى حُثَالَةٌ كَحُثَالَةِ التَّمْرِ لَا يُبَالِي اللَّهُ بِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Mustawrid ibn Shaddād (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ likened the successive departure of the righteous to refuse and divine disregard for the remnant. > **"The righteous depart, first then first, and there remains refuse like the refuse of dates. Allah pays them no heed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نیک لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہو جائیں گے ، اور ردّی لوگ رہ جائیں گے جس طرح ردّی کھجوریں ہوتی ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12427

Majma al-Zawaid #12427

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَوَّلُ مَا يُرْفَعُ مِنَ النَّاسِ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ، وَرُبَّ مُصَلٍّ لَا خَيْرَ فِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ stated what is first taken and what last remains, with worthless worshippers. > **"The first taken from people is trust, and the last remaining is prayer, and many a worshipper in whom is no good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں میں سے سب سے پہلے امانت کو اٹھا لیا جائے گا ، اور سب سے آخر میں باقی رہ جانے والی چیز نماز ہو گی اور کئی نمازی ایسے ہوں گے ، جن میں بھلائی نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، جس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12428

Majma al-Zawaid #12428

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَوَّلُ مَا يُرْفَعُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْحَيَاءُ وَالْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ ""، يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ قَالَ: "" وَقَدْ يُصَلِّي قَوْمٌ لَا خَلَاقَ لَهُمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ بَرَّازٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَيَأْتِي قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْبَابِ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ stated that modesty and trust are first lifted from this Ummah while prayer last remains, with a doubtful addition about prayer without portion. > **"The first lifted from this Ummah is modesty and trust, and the last remaining is prayer. A people may pray having no share."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس امت میں سے سب سے پہلے حیا اور امانت کو اٹھا لیا جائے گا ، اور آخر میں نماز باقی رہ جائے گی ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : کچھ لوگ نماز ادا کریں گے لیکن ان کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ اس کے بعد والے باب میں اس بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان بھی آئے گا ۔

12429

Majma al-Zawaid #12429

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْآيَاتُ خَرَزَاتٍ مَنْظُومَاتٍ فِي سِلْكٍ، فَإِنِ يُقْطَعِ السِّلْكُ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr (radiya Allahu ʿanhuma) reported that the Messenger of Allah ﷺ likened the signs to strung beads following one another when the thread breaks. > **"The signs are beads strung on a thread. If the thread is cut, some follow others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( قیامت کے قریب ہونے کی ) نشانیاں دھاگے میں پروئی ہوئے پتھر ہیں کہ اگر وہ دھاگہ ٹوٹ جائے ، تو وہ ایک دوسرے کے بعد گرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

12430

Majma al-Zawaid #12430

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَخْرُجُ الْآيَاتِ بَعْضِهَا عَلَى أَثَرِ بَعْضٍ تَتَابَعْنَ كَمَا تَتَابَعُ الْخَرَزُ فِي النِّظَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَدَاوُدَ الزَّهْرَانِيِّ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported from the Prophet ﷺ that the signs emerge consecutively like beads in a string. > **"The signs emerge, some upon the traces of others, following as beads follow in a string."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ( قیامت کے قریب ہونے کی ) نشانیاں یکے بعد دیگرے یوں نکلیں گی ، جس طرح لڑی میں سے پتھر ( یا موتی ) یکے بعد دیگرے گرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن احمد بن حنبل اور داؤد زہرانی کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

12431

Majma al-Zawaid #12431

«عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ: "" سِتٌّ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ: مَوْتُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". فَكَأَنَّمَا انْتُزِعَ قَلْبِي مِنْ مَكَانِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَاحِدَةٌ، [قَالَ] وَيَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ، حَتَّى إنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى عَشَرَةَ آلَافٍ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُهَا "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" ثِنْتَيْنِ "". قَالَ: "" وَفِتْنَةٌ تَدْخُلُ بَيْتَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" ثَلَاثٌ "". قَالَ: "" وَمَوْتٌ كَقِعَاصِ الْغَنَمِ "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَرْبَعٌ، وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ، فَيَجْمَعُونَ لَكُمْ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ كَقَدْرِ حَمْلِ الْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَكُونُونَ أَوْلَى بِالْغَدْرِ مِنْكُمْ "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" خَمْسٌ "". قَالَ: "" وَفَتْحُ مَدِينَةٍ "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سِتٌّ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَدِينَةٍ؟ قَالَ: "" قُسْطَنْطِينِيَّةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr (radiya Allahu ʿanhuma) reported that he entered upon the Prophet ﷺ while he performed ablution deliberately, was told of six matters amid his Ummah beginning with his Prophets death which shook his heart, then affluence resented despite ten thousand, universal fitnah, plague like sheep murrain, truce and treachery with Banū al-Aṣfar after nine months, and a city asked about and named. > **"Six are among you, O Ummah: the death of your Prophet, one. Wealth overflows among you until a man is given ten thousand yet resents it, two. A fitnah entering the house of every man among you, three. Death like the murrain of sheep, four. A truce between you and Banū al-Aṣfar, they gather against you nine months like a womans pregnancy, then they are more treacherous than you, five. And conquest of a city, six. Constantinople."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ آرام آرام سے وضو کر رہے تھے ، آپ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ’’ اے اُمت ! تمہارے درمیان چھ نشانیاں نمودار ہوں گی تمہارے نبی کا وصال فرما جانا ، راوی کہتے ہیں : مجھے یوں لگا جیسا میرا دل اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ایک نشانی ہوئی ، پھر آپ نے فرمایا : تمہارے درمیان مال پھیل جائے گا ، یہاں تک کہ کسی شخص کو دس ہزار دیا جائے گا ، تو وہ پھر بھی ناراض ہی رہے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ دو ہو گئیں ، آپ نے فرمایا : ایک فتنہ آئے گا ، جو تم میں سے ہر ایک شخص کے گھر میں داخل ہو جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ تین ہو گئیں ، آپ نے فرمایا : یوں ( عمومی طور پر ) موت واقع ہو گی جیسے بکریوں کی مخصوص بیماری قصاص کی وجہ سے بکریوں کی موت واقع ہوتی ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ چار ہو گئیں ، پھر تمہارے اور بنو اصفر کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو گا ، وہ نو ماہ تک تمہارے خلاف اکٹھے ہوتے رہیں گے ، یہ وہ مدت ہے جتنا کسی عورت کو حمل ہوتا ہے ، پھر وہ عہد شکنی میں پہل کریں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ پانچ ہو گئیں ، پھر آپ نے فرمایا : اور ایک شہر فتح ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ چھٹی نشانی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون سا شہر ہے ؟ آپ نے فرمایا : قسطنطنیہ ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

12432

Majma al-Zawaid #12432

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: مَوْتِي، وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ، وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرْبُهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ، وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَسَتَخَّطُهَا، وَأَنْ يَغْدِرَ الرُّومُ فَيَسِيرُونَ بِثَمَانِينَ بَنْدًا تَحْتَ كُلِّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ enumerated six among the portents of the Hour from his death to Roman hosts under eighty banners. > **"Six are among the portents of the Hour: my death, conquest of Bayt al-Maqdis, death seizing people like the murrain of sheep, fitnah whose violence enters the house of every Muslim, a man given a thousand dīnārs yet resenting it, and Rome treacherously marching with eighty banners, under each twelve thousand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ چھ چیزیں ، قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانیوں میں سے ہیں ، میرا انتقال کرنا ، بیت المقدس کا فتح ہو جانا ، اس موت کا واقع ہونا جو لوگوں کو یوں گرفت میں لے گی جیسے قصاص کی بیماری ( بکریوں کی موت کا سبب بنتی ہے ) اور ایسا فتنہ جس کی تباہی ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہو گی اور یہ کہ آدمی کو ایک ہزار دینار دیے جائیں گے ، تو وہ اس پر بھی ناراض ہو گا ، اور یہ کہ رومی عہد شکنی کریں گے ، اور اسّی جھنڈے لے کے چلیں گے ، جن میں سے ہر ایک جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار لوگ ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12433

Majma al-Zawaid #12433

«وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَلَّ الْجَرَادُ فِي سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ الَّتِي وَلِيَ فِيهَا، فَسَأَلَ عَنْهَا فَلَمْ يُخْبَرْ بِشَيْءٍ، فَاغْتَمَّ لِذَلِكَ، فَأَرْسَلَ رَاكِبًا فَضَرَبَ إِلَى الْيَمَنِ، وَآخَرَ إِلَى الشَّامِ، وَآخَرَ إِلَى الْعِرَاقِ يَسْأَلُ: هَلْ رَأَى مِنَ الْجَرَادِ شَيْئًا أَمْ لَا؟ قَالَ: فَأَتَاهُ الرَّاكِبُ الَّذِي مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ بِقَبْضَةٍ مِنْ جَرَادٍ فَأَلْقَاهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَآهَا كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" خَلَقَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلْفَ أُمَّةٍ، سِتَّمِائَةٍ فِي الْبَحْرِ وَأَرْبَعَمِائَةٍ فِي الْبَرِّ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يُهْلَكُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَمِ الْجَرَادُ، فَإِذَا هَلَكَتْ تَتَابَعَتْ مِثْلَ النِّظَامِ إِذَا قُطِعَ سِلْكُهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh (radiya Allahu ʿanhuma) reported scarcity of locusts in a year of ʿUmars rule, his distress and dispatch of riders to Yemen, Shām, and Iraq, the arrival of a handful from Yemen, three takbīrs, then a Prophetic statement about a thousand communities and the locusts perishing first followed by succession like a severed string. > **"Allah created a thousand communities, six hundred in the sea and four hundred on land. The first of these communities to perish is the locust. When it perishes, they follow like a string when its thread is cut."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ٹڈی دل کم ہو گئے ، انہوں نے ٹڈی دل کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہیں اس بارے میں بتایا نہیں گیا ( یعنی کہیں سے یہ اطلاع نہیں ملی کہ وہاں ٹڈی دل پائے جاتے ہیں ) وہ اس بات سے پریشان ہو گئے ، انہوں نے کسی کو یمن بھیجا ، کسی کو شام کی طرف بھیجا ، کسی کو عراق کی طرف بھیجا اور یہ دریافت کیا : کیا وہاں ٹڈی دل نظر آتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : یمن کی طرف سے سوار ان کے پاس آیا اس کے پاس مٹھی بھر ٹڈی دل تھے ، وہ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آگے رکھ دیے ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو تین مرتبہ تکبیر کہی اور پھر یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار قسم کی مخلوق پیدا کی ہے جن میں سے چھ سو قسم کی مخلوق سمندر میں ہے ، اور چار سو قسم کی مخلوق خشکی پر ہے ۔ اس امت میں جو چیز سب سے پہلے ہلاکت کا شکار ہو گی وہ ٹڈی دل ہے ، جب وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گی تو پھر ( باقی چیزوں کی ہلاکت ) یوں ہو گی ، جس طرح دھاگہ ٹوٹ جائے ، تو دانے بکھر جاتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12434

Majma al-Zawaid #12434

«وَعَنْ عُتَيٍّ السَّعْدِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ حَتَّى قَدِمْتُ الْكُوفَةَ، فَإِذَا أَنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَأُرْشِدْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ فِي مَسْجِدِهَا الْأَعْظَمِ. فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي جِئْتُ إِلَيْكَ أَضْرِبُ إِلَيْكَ أَلْتَمِسُ مِنْكَ عِلْمًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ بَعْدَكَ. فَقَالَ لِي: مِمَّنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ. قَالَ: مِمَّنْ؟ قُلْتُ: مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ بَنِي سَعْدٍ. فَقَالَ: يَا سَعْدِيُّ، لَأُحَدِّثَنَّ فِيكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى قَوْمٍ كَثِيرَةٍ أَمْوَالُهُمْ كَثِيرَةٍ شَوْكَتُهُمْ تُصِيبُ مِنْهُمْ مَالًا دَثْرًا - أَوْ قَالَ كَثِيرًا - قَالَ: "" مَنْ هُمْ؟ "" قَالَ: هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي سَعْدٍ مِنْ أَهْلِ الرِّمَالِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَهْ، فَإِنَّ بَنِي سَعْدٍ عِنْدَ اللَّهِ ذَوُو حَظٍّ عَظِيمٍ "". سَلْ يَا سَعْدِيُّ. قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَلْ لِلسَّاعَةِ مِنْ عَلَمٍ تُعْرَفُ بِهِ؟ قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاسْتَوَى جَالِسًا، فَقَالَ: يَا سَعْدِيُّ، سَأَلْتَنِي عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلسَّاعَةِ مَنْ عَلَمٍ تُعْرَفُ بِهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ لِلسَّاعَةِ أَعْلَامًا، وَإِنَّ لِلسَّاعَةِ أَشْرَاطًا، أَلَا وَإِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكُونَ الْوَلَدُ غَيْظًا، وَأَنْ يَكُونَ الْمَطَرُ قَيْظًا، وَأَنْ تَفِيضَ الْأَشْرَارُ فَيْضًا. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ، وَأَنْ يُخَوَّنَ الْأَمِينُ [وَأَنْ يُصَدَّقَ الْكَاذِبُ وَأَنْ يُكَذَّبَ الصَّادِقُ]. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تُوَاصَلَ الْأَطْبَاقُ، وَأَنْ تُقْطَعَ الْأَرْحَامُ. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا، وَكُلَّ سُوقٍ فُجَّارُهَا. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تُزَخْرَفَ الْمَحَارِيبُ، وَأَنْ تَخْرَبَ الْقُلُوبُ. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكُونَ الْمُؤْمِنُ فِي الْقَبِيلَةِ أَذَلَّ مِنَ النَّقْدِ. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكْتَفِيَ الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا مُلْكَ الصِّبْيَانِ وَمُؤَامَرَةَ النِّسَاءِ. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَأَعْلَامِهَا أَنْ يُعَمَّرَ خَرَابُ الدُّنْيَا، وَيُخَرَّبَ عُمْرَانُهَا. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ تَظْهَرَ الْمَعَازِفُ وَالْكِبْرُ وَتُشْرَبَ الْخُمُورُ. [يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا: الشُّرَطُ وَالْغَمَّازُونَ وَاللَّمَّازُونَ]. يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، إِنَّ مِنْ أَعْلَامِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا أَنْ يَكْثُرَ أَوْلَادُ الزِّنَا "". قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُمْ مُسْلِمُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالْقُرْآنُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَنَّى ذَلِكَ؟ قَالَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُطَلِّقُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ [ثُمَّ يَجْحَدُ] طَلَاقَهَا فَيُقِيمُ عَلَى فِرَاشِهَا فَهُمَا زَانِيَانِ مَا أَقَامَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUtayy al-Saʿdī reported that he journeyed seeking knowledge to Kūfah, found ʿAbdullāh ibn Masʿūd among its people in its great mosque, sought beneficial knowledge, was questioned about his Basran Saʿdī origin, heard a Prophetic commendation of Banū Saʿd after a mans offer of abundant wealth, was invited to ask, inquired about a recognizable sign of the Hour, saw Ibn Masʿūd sit upright, heard that he had asked the same of the Messenger ﷺ, then received a long enumeration of signs and moral inversion ending with four mosques, alliances sundered, and hopes with works following. > **"Yes, O Ibn Masʿūd. The Hour has landmarks and portents. Among its landmarks and portents are that the child is anger, rain is scorching heat, the wicked overflow, the treacherous is trusted, the trustworthy is betrayed, the liar is believed, the truthful is denied, every tribe is led by its hypocrites, every market by its wicked, the mosque is adorned, pulpits are raised, hearts are estranged, increase traverses kinship, knowledge spreads while fornication and usury appear, the Qurʾān is taken as flutes, trust is taken as spoil, charity as loss, kinship visitation as favor, the liar is called truthful, the truthful called liar, the treacherous called trustworthy, the trustworthy called treacherous, rain increases while trees decrease, scholars decrease while reciters increase, hopes are pursued with works, the poor is scorned, knowledge is sought for other than Allah, the child angers his parents, a man satisfies his friend and angers his father, rain comes in unsuitable season, beggars circumambulate finding none to give, a man is honored from fear of his evil, nations call one another as diners to a bowl from every horizon, Mosque, mosque, and people hope. Alliances are cut, the year is like a month, a thousand dīnārs profit nothing, blood is lawful, the strong devours the weak, trade increases, women assist husbands, markets draw near, desires are followed, judgments by conjecture, earthquakes, enmity and envy and stinginess appear. O Ibn Masʿūd, among its landmarks are that the shepherds compete in building, brothers differ. This is the dawn whose morning is the Hour. Then four mosques are built: the Sacred Mosque, the mosque of Madīnah or the mosque of the Messenger, the mosque of Bayt al-Maqdis, and a mosque on a market of theirs called Quds. Alliances are sundered, unsheathed swords are many, hopes are pursued with works."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عتی سعدی بیان کرتے ہیں : میں علم کے حصول کے لئے نکلا ، یہاں تک کہ میں کوفہ آیا ، اس وقت اہل کوفہ کے درمیان حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موجود تھے ، میں نے ان کے بارے میں دریافت کیا : ان کے بارے میں میری رہنمائی کی گئی ، دو سب سے بڑی مسجد میں موجود تھے ، میں ان کے پاس آیا ، میں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں آپ سے علم کے حصول کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے آپ کے بعد بھی اس علم کے ذریعے نفع دے ، تو انہوں نے فرمایا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ تو میں نے جواب دیا : اہل بصرہ سے ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : کون سے قبیلے سے ہے ؟ میں نے جواب دیا : بنو سعد کے قبیلے سے ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : اے سعدی میں تم لوگوں کے بارے میں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ۔ ’’ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ، ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کی رہنمائی ایسی قوم کی طرف نہ کروں ، جن کے مال زیادہ ہیں اور جن کی پیداوار زیادہ ہے آپ کو ان سے بہت سا مال حاصل ہو گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کون لوگ ہیں ؟ اس شخص نے بتایا : یہ بنو سعد کا قبیلہ یہ رمال ( ریتلے ٹیلوں ) والے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھہر جاؤ ، بنو سعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑی حیثیت رکھتے ہیں ( پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا ) اے سعدی تم پوچھو ، میں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! کیا قیامت کی کوئی مخصوص نشانی ہے ، جس کے ذریعے اس کی پہچان ہو سکے ، راوی کہتے ہیں : وہ ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئے تھے وہ سیدھے ہو کے بیٹھ گئے ، انہوں نے فرمایا : اے سعدی تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت کی کوئی مخصوص نشانی ہے ، جس کے ذریعے اس کی شناخت ہو سکے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی ہاں ! اے ابن مسعود ! قیامت کی کچھ علامتیں ہیں ، اور قیامت کی کچھ نشانیاں ہیں ، خبردار ! قیامت کی علامتوں اور اس کی نشانیوں میں یہ بات ہے کہ بچہ نافرمان ہو گا ، بارش ہونا بند ہو جائے گی ، برے لوگ پھیل جائیں گے ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ خیانت کرنے والے کو امین بنا دیا جائے گا ، اور امین کو خائن قرار دیا جائے گا ، جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور بچے کی تکذیب کی جائے گی ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ دور کے لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے گی اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا جائے گا : اے ابن مسعود ! قیامت کی نشانیوں اور اس کی علامات میں یہ بات شامل ہے کہ ہر قبیلے کے منافق لوگ ہر قبیلے کے سردار ہوں گے ، اور فاجر لوگ بازار میں ہوں گے ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ محرابوں کو آراستہ کیا جائے گا ، اور دل برباد ہو جائیں گے ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامتوں اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ قبیلے میں مومن کی حیثیت لکڑی سے زیادہ کمتر ہو گی ، اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ مرد مردوں پر اکتفاء کریں گے ، اور عورتیں عورتوں پر اکتفا کریں گی ، اے ابن مسعود قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ بچوں کی حکمرانی ہو گی اور خواتین کی حکومت ہو گی ، اے ابن مسعود ! قیامت کی نشانیوں اور اس کی علامات میں یہ بات شامل ہے کہ دنیا کی خرابی کو آباد کیا جائے گا ، اور اس کی آبادی کو خراب کیا جائے گا : اے ابن مسعود ! قیامت کی نشانی اور اس کی علامات میں یہ شامل ہے کہ آلات موسیقی تکبر اور شراب پیا جانا ظاہر ہو گا : اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ شرطیں لگائیں جائیں گی ( اشارے کنائے کرنے والے ہوں گے ) ۔ اے ابن مسعود ! قیامت کی علامات اور اس کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بکثرت ہو گی ۔‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں ) میں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! کیا وہ لوگ مسلمان ہوں گے ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! قرآن ان لوگوں کے درمیان ہو گا ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! پھر یہ کیسے ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا ، اور پھر اس کو طلاق دینے کا انکار کرے گا ، اور وہ اس عورت کے بستر پر مقیم رہے گا ، اور وہ دونوں جب تک اکٹھے رہیں گے ، زنا کرنے والے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12435

Majma al-Zawaid #12435

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" كَيْفَ أَنْتَ يَا عَوْفُ إِذَا افْتَرَقَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةٍ، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَسَائِرُهُنَّ فِي النَّارِ؟ "". قُلْتُ: وَمَتَى ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" إِذَا كَثُرَتِ الشُّرَطُ، وَمُلِّكَتِ الْإِمَاءُ، وَقَعَدَتِ الْحِمْلَانُ عَلَى الْمَنَابِرِ، وَاتُّخِذَ الْقُرْآنُ مَزَامِيرَ، وَزُخْرِفَتِ الْمَسَاجِدُ، وَرُفِعَتِ الْمَنَابِرُ، وَاتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلًا وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَتُفُقِّهَ فِي الدِّينِ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، وَسَادَ الْقَبِيلَةَ فَاسِقُهُمْ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ، فَيَوْمَئِذٍ يَكُونُ ذَلِكَ، وَيَفْزَعُ النَّاسُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مَدِينَةٍ مِنْهَا يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مُدُنِ الشَّامِ فَتُحَصِّنُهُمْ مِنْ عَدُوِّهِمْ "". قُلْتُ: وَهَلْ تُفْتَحُ الشَّامُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، وَشِيكًا ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ بَعْدَ فَتْحِهَا، ثُمَّ تَجِيءُ فِتْنَةٌ غَبْرَاءُ مُظْلِمَةٌ، ثُمَّ يَتْبَعُ الْفِتَنَ بَعْضُهَا بَعْضًا حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُقَالُ لَهُ الْمَهْدِيُّ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ فَاتَّبِعْهُ وَكُنْ مِنَ الْمَهْدِيِّينَ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Mālik al-Ashjaʿī (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ asked how he would fare when the Ummah splits into seventy-three sects, then upon inquiry detailed police, slave-mothers ruling, lowly on pulpits, Qurʾān as flutes, adorned mosques, raised pulpits, spoils as private wealth, zakāh as fine, trust as spoil, knowledge for other than Allah, disobedience to parents, cursing of predecessors, wicked chiefs, honored evil, refuge in Shām and Damascus, swift conquest then dark dusty fitnahs, and finally a man of his house called Mahdī to be followed. > **"How are you, O ʿAwf, when this Ummah splits into seventy-three sects, one in Paradise and the rest in Fire. When police increase, slave-girls own, litters sit upon pulpits, the Qurʾān is taken as flutes, mosques are adorned, pulpits raised, spoils taken as private wealth, zakāh as fine, trust as spoil, knowledge in religion sought for other than Allah, a man obeys his wife, disobeys his mother, distances his father, the last of this Ummah curses its first, the tribe is led by its profligate, the chief of the people is their vilest, a man is honored from fear of his evil. Then that occurs, people flee to Shām and to a city therein called Damascus, among the best cities of Shām, fortifying them from their enemy. Yes, soon. Then fitnahs occur after its conquest, then comes a dusty dark fitnah, then fitnahs follow one another until a man from my household emerges called Mahdī. If you reach him, follow him and be among the guided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے عوف ! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور باقی سب جہنم میں جائیں گے ۔‘‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسا کب ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب شرطیں زیادہ ہوں گی ، کنیزیں مالک بن جائیں گی ، بے حیثیت لوگ منبر پر بیٹھیں گے ، قرآن کو موسیقی بنا لیا جائے گا ، مساجد کو آراستہ کیا جائے گا ، منبروں کو بلند بنایا جائے گا ، مال غنیمت کو ذاتی دولت قرار دیدیا جائے گا ، زکوۃ کو جرمانہ سمجھا جائے گا ، امانت کو مال غنیمت سمجھا جائے گا اور دین کا علم اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے حاصل نہیں کیا جائے گا ، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے گا ، اور ماں کی نافرمانی کرے گا اپنے باپ کو دور کر دے گا ، اور اس امت کا آخری حصہ پہلے والوں پر لعنت کرے گا ، ہر قبیلے کا سردار اس کا فاسق شخص ہو گا ، لوگوں کا بڑا کمینہ ترین شخص ہو گا ، آدمی کے شر سے بچنے کے لئے اس کی عزت کی جائے گی ، اس وقت ایسا ہو گا ، اور لوگ پریشانی کے عالم میں شام کی طرف جائیں گے اور ایک شہر کی طرف جائیں گے جو شام کا ہو گا ، جس کا نام دمشق ہو گا ، وہ شام کا بہترین شہر ہو گا ، وہ لوگوں کو ان کے دشمن سے بچائے گا ، میں نے دریافت کیا : کیا شام فتح ہو جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ عنقریب ایسا ہو گا ، پھر اس کے فتح ہونے کے بعد فتنے واقع ہوں گے ، پھر ایک غبار آلود تاریک فتنہ آئے گا ، پھر یکے بعد دیگرے فتنے آئیں گے ، پھر میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا شخص نکلے گا ، جسے مہدی کہا جائے گا ، اگر تم اس کا زمانہ پاؤ تو تم اس کی پیروی کرنا اور تم مہدی کے ماننے والوں میں سے ہو جانا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن ابراہیم ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12436

Majma al-Zawaid #12436

«وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَقَالَ: "" لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ، وَلَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا بَيْنَ يَدَيْهَا، أَلَا إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتَنًا وَهَرْجًا "". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا الْفِتَنُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا، أَرَأَيْتَ هَرْجَ مَا هُوَ؟ قَالَ: "" هُوَ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ، وَأَنْ يُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَعْرِفُ أَحَدٌ أَحَدًا، وَتَجِفُّ قُلُوبُ النَّاسِ وَتَبْقَى رَجْرَاجَةٌ لَا تَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا تُنْكِرُ مُنْكَرًا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the Hour in his presence, declared its knowledge with Allah alone, promised portents including fitnah and harj, explained harj in the Abyssinian tongue as killing, and described mutual estrangement, hardened hearts, and a wavering remnant unrecognizing good or evil. > **"None knows it but Allah, none manifests it in its time but He. But I tell you its conditions and what precedes it. Before it are fitnahs and harj. Harj in the Abyssinian tongue is killing. Mutual estrangement is cast among people so none knows another, hearts of people dry, and there remains a trembling remnant knowing no good nor denying evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا گیا : میں اس وقت وہاں موجود تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس ( کے متعین وقت ) کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، اور اس وقت کے بارے میں صرف وہی جانتا ہے ، البتہ میں اس کی نشانیوں کے بارے میں اور جو کچھ اس سے پہلے ہو گا اس کے بارے میں تمہیں بتا دیتا ہوں ، خبردار ! اس سے پہلے فتنے ہوں گے اور ہرج ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! جہاں تک فتنوں کا تعلق ہے ، تو ان کا تو ہمیں پتہ ہے ، ہرج سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ حبشہ کی زبان میں قتل و غارت گری کو کہتے ہیں : ( اور دوسری نشانی یہ ہے ) کہ لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے عدم شناسائی ڈال دی جائے گی ، یہاں تک کہ کوئی ایک شخص کسی دوسرے سے واقف نہیں ہو گا ، اور لوگوں کے دل غصے والے ہو جائیں گے ، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے جو کسی بھلائی کو بھلائی نہیں سمجھیں گے ، اور منکر کو منکر نہیں سمجھیں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔