Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 13

Book of Tribulations

Hadith 12437–12476

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12437

Majma al-Zawaid #12437

وَعَنْهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ كِتَابُ اللَّهِ عَارًا، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَتَنْتَقِضَ عُرَاهُ، وَتَنْتَقِصَ السُّنُونَ وَالثَّمَرَاتُ، وَيُؤْتَمَنَ التُّهَمَاءُ، وَيُتَّهَمَ الْأُمَنَاءُ، وَيُصَدَّقَ الْكَاذِبُ، وَيُكَذَّبَ الصَّادِقُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ "". قَالُوا: مَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْقَتْلُ، وَيَظْهَرَ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ وَالشُّحُّ، وَتَخْتَلِفَ الْأُمُورُ بَيْنَ النَّاسِ، وَيُتَّبَعَ الْهَوَى، وَيُقْضَى بِالظَّنِّ، وَيُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَكُونُ الْوَلَدُ غَيْظًا وَالشِّتَاءُ قَيْظًا، وَيُجْهَرُ بِالْفَحْشَاءِ، وَتُرْوَى الْأَرْضُ دَمًا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ listed approaching inversions including dishonored scripture, contracted time, broken bonds, diminished years and fruits, trusted accused, liars believed, abundant harj explained as killing, then manifest transgression, envy, stinginess, discord, desire, conjecture, vanishing knowledge, ignorance, angry child, scorching winter, open lewdness, and earth soaked in blood. > **"The Hour will not come until the Book of Allah is dishonor, time draws near, its bonds break, years and fruits diminish, the accused are trusted, the trustworthy accused, the liar believed, the truthful denied, harj abounds. Killing, manifest transgression, envy, stinginess, matters differ among people, desire is followed, judgment by conjecture, knowledge is taken, ignorance appears, the child is anger, winter is scorch, lewdness is proclaimed, earth is soaked in blood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ کی کتاب عار نہیں ہو جائے گی اور زمانہ سمٹ جائے گا ، اور زمانے کی رسیاں ٹوٹ جائیں گی ، سال اور پھل کم ہو جائیں گے ، تہمت یافتہ لوگوں کو امین بنایا جائے گا ، اور امین لوگوں پر تہمت عائد کی جائے گی ، جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور بچے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا ، اور ہرج بکثرت ہو گا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری اور فحاشی ، حسد اور کنجوسی ظاہر ہو گی ، لوگوں کے درمیان امور میں اختلاف ہو گا ، نفسانی خواہش کی پیروی کی جائے گی ، گمان کے مطابق فیصلہ دیا جائے گا ، علم کو اٹھا لیا جائے گا ، جہالت ظاہر ہو جائے گی ، اولاد نافرمان ہو گی ۔ بری بات کھلے عام کی جائے گی اور زمین خون سے سیراب ہو جائے گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12438

Majma al-Zawaid #12438

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالْبُخْلُ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ، وَتَهْلِكُ الْوُعُولُ، وَتَظْهَرُ التُّحُوتُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْوُعُولُ وَمَا التُّحُوتُ؟ قَالَ: "" الْوُعُولُ وُجُوهُ النَّاسِ وَأَشْرَافُهُمْ، وَالتُّحُوتُ الَّذِينَ كَانُوا تَحْتَ أَقْدَامِ النَّاسِ لَا يُعْلَمُ بِهِمْ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ وَالِبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported from the Messenger of Allah ﷺ an oath that the Hour awaits manifest lewdness and miserliness, inverted trust, perishing eminent and emerging lowly, explained as notable faces versus those beneath feet unknown. > **"By the One in Whose Hand is my soul, the Hour will not come until lewdness and miserliness appear, the trustworthy is betrayed, the traitor trusted, the eminent perish, the lowly appear. The eminent are faces and nobles of people, the lowly those beneath peoples feet unknown."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک فحاشی اور بخل ظاہر نہیں ہو جائیں گے ، امین کو خائن قرار دیا جائے گا ، اور خائن کو امین بنا دیا جائے گا ، وعول ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، اور تحوت ظاہر ہو جائیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وعول سے کیا مراد ہے ، اور تحوت سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وعول سے مراد لوگوں کے بڑے اور معززین ہیں اور تحوت سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پاؤں کے نیچے ہوتے تھے ( یعنی معاشرتی طور پر کم حیثیت ہوتے تھے ) اور ان کے بارے میں پتہ بھی نہیں ہوتا تھا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن والبہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12439

Majma al-Zawaid #12439

«وَعَنْ أُمِّ الضِّرَابِ قَالَتْ: تُوُفِّيَ أَبِي وَتَرَكَنِي وَأَخًا لِي، وَلَمْ يَدَعْ لَنَا مَالًا، فَقَدِمَ عَمِّي مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَخْرَجَنَا إِلَى عَائِشَةَ، فَأَدْخَلَتْنِي مَعَهَا فِي الْخِدْرِ لِأَنِّي كُنْتُ جَارِيَةً، وَلَمْ يَدْخُلِ الْغُلَامُ، فَشَكَا عَمِّي إِلَيْهَا الْحَاجَةَ، فَأَمَرَتْ لَنَا بِقَرِيصَتَيْنِ وَغِرَارَتَيْنِ وَمَقْعَدَيْنِ، ثُمَّ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ الْوَلَدُ غَيْظًا، وَالْمَطَرُ قَيْظًا، وَتَفِيضَ اللِّئَامُ فَيْضًا، وَيَغِيضَ الْكِرَامُ غَيْضًا، وَيَجْتَرِئَ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَاللَّئِيمَ عَلَى الْكَرِيمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Umm al-Ḍirāb (radiya Allahu ʿanha) reported her fathers death leaving her and a brother without wealth, her uncles arrival from Madīnah taking them to ʿĀʾishah, her admission behind the curtain as a girl while the boy remained outside, her uncles complaint of need, ʿĀʾishahs order of two griddle-cakes, two provision sacks, and two seats, then her quotation of the Prophet ﷺ on disobedient children, withheld rain, dominant mean, vanishing noble, and daring of small against great. > **"The Hour will not come until the child is anger, rain is scorch, the mean overflow, the noble ebb, the small dares against the great and the mean against the noble."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ضراب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے پس ماندگان میں مجھے اور میرے بھائی کو چھوڑا ، انہوں نے ہمارے لئے کوئی مال نہیں چھوڑا ، میرے چچا مدینہ منورہ سے آئے اور وہ ہمیں لے کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے ، انہوں نے مجھے پردے کے پیچھے داخل کر دیا کیونکہ میں لڑکی تھی ، البتہ لڑکے کو اندر نہیں جانے دیا ، میرے چچا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ضرورت مند ہونے کی شکایت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں روٹیوں کے برتن ، دو گندم کے برتن اور دو بچھونے دینے کا حکم دیا ، پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اولاد نافرمان نہیں ہو گی ، اور بارش ہونا بند نہیں ہو جائے گی اور کمینے لوگ زیادہ نہیں ہو جائیں گے ، اور معززین ختم نہیں ہو جائیں گے ، چھوٹا بڑے کے خلاف جرأت کرے گا ، اور کمینہ معزز شخص کے خلاف جرأت کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12440

Majma al-Zawaid #12440

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ كَثُرَ لُبْسُ الطَّيَالِسَةِ، وَكَثُرَتِ التِّجَارَةُ، وَكَثُرَ الْمَالُ، وَعَظُمَ رَبُّ الْمَالِ، وَكَثُرَتِ الْفَاحِشَةُ، وَكَانَتْ إِمْرَةُ الصِّبْيَانِ، وَكَثُرَ النِّسَاءُ، وَجَارَ السُّلْطَانُ، وَطُفِّفَ فِي الْمِكْيَالِ وَالْمِيزَانِ، يُرَبِّي الرَّجُلُ جَرْوَ كَلْبٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَ وَلَدًا، وَلَا يُوَقَّرُ كَبِيرٌ، وَلَا يُرْحَمُ صَغِيرٌ، وَيَكْثُرَ أَوْلَادُ الزِّنَا حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ لَيَغْشَى الْمَرْأَةَ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، فَيَقُولُ أَمْثَلُهُمْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ: لَوِ اعْتَزَلْتُمْ عَنِ الطَّرِيقِ، يَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ عَلَى قُلُوبِ الذِّئَابِ، أَمْثَلُهُمْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ الْمُدَاهِنُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr al-Ghifārī (radiya Allahu ʿanhu) reported from the Prophet ﷺ a comprehensive description of the nearing time including Ṭayālisah garments, trade, wealth, miserly rich, lewdness, child rule, many women, unjust sultan, short measure, preference for pups over children, disrespect to elders, mercilessness to young, abundant illegitimacy with roadside indecency mildly rebuked, wolf hearts in sheep skins, and exemplary dissemblers. > **"When time draws near, wearing of Ṭayālisah increases, trade increases, wealth increases, the owner of wealth is magnified, lewdness increases, rule is by children, women increase, the sultan tyrannizes, measure and scale are diminished. A man raising a pup is better for him than raising a child. The elder is not revered, the young not pitied. Children of adultery increase until a man assaults a woman on the roadside. The best among them then says: Had you withdrawn from the road. They wear sheep skins over wolf hearts. The best among them then is the flatterer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب ( قیامت قائم ہونے ) کا زمانہ قریب آ جائے گا ، تو طیالسی کپڑا بکثرت پہنا جائے گا ، تجارت زیادہ ہو جائے گی ، مال زیادہ ہو جائے گا ، مال والے شخص کو بڑا قرار دیا جائے گا ، فحاشی بکثرت ہو جائے گی ، بچوں کی حکومت ہو گی ، عورتیں زیادہ ہو جائیں گی ، حکمران ظلم کرے گا ، ناپنے اور وزن کرنے میں ناانصافی کی جائے گی ، آدمی کتے کے پلے کو پالنا اس سے زیادہ بہتر سجھے گا کہ وہ بچے کو پالے ، بڑے شخص کی تعظیم نہیں ہو گی ، چھوٹے پر رحم نہیں کیا جائے گا ، زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بکثرت ہو جائے گی ، یہاں تک کہ ایک شخص راستے میں عورت کے ساتھ صحبت کرے گا ، اور اس وقت میں سب سے زیادہ اچھا شخص وہ ہو گا ، جو یہ کہے گا : اگر تم راستے سے ہٹ کے یہ کام کر لیتے تو مناسب تھا ، وہ لوگ بھیڑوں کی کھالیں پہنے ہوئے ہوں گے ، اور ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہوں گے ، اور اس زمانے میں سب سے زیادہ مثالی شخص وہ ہو گا جو اپنا آپ چھپا کر رکھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12441

Majma al-Zawaid #12441

«وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ مِنْ أَمَارَاتِ السَّاعَةِ أَنْ يُرَى الْهِلَالُ لِلَيْلَةٍ، فَيُقَالُ: لِلَيْلَتَيْنِ، وَأَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا، وَأَنْ يَظْهَرَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طُرُقُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الصِّيَامِ فِي رُؤْيَةِ الْهِلَالِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik (radiya Allahu ʿanhu) reported in marfūʿ form from the Prophet ﷺ three among the portents including the crescent appearing enlarged, mosques taken as thoroughfares, and sudden death. > **"Among the portents of the Hour are that the crescent is seen for a night and said to be of two nights, mosques are taken as roads, and sudden death appears."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت کے قریب ہونے کی نشانیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ پہلی کا چاند ایک رات نظر آئے گا ، تو کہا جائے گا یہ دو راتوں کا چاند ہے ، مساجد کو راستہ بنا لیا جائے گا اور اچانک موت عام ہو جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد ہیثم بن خالد مصیصی سے نقل کیا ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس روایت کے طرق ، کتاب الصیام میں پہلی کا چاند دیکھنے سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

12442

Majma al-Zawaid #12442

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ، فَخَيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ counted among the portents the dominance of the vilest and the excellence of a believer between two noble parents. > **"Among the portents of the Hour is that Lukaʿ ibn Lukaʿ overcomes the world. The best of people then is a believer between two noble parents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ بے وقوف ، جو بے وقوف کا بچہ ہو گا وہ دنیا پر غالب آ جائے گا ، اور اس وقت لوگوں میں سب سے بہتر وہ مومن شخص ہو گا جس کے ماں باپ بھی معزز ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

12443

Majma al-Zawaid #12443

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسَرِّحٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that days and nights will not pass until the happiest with the world is the vilest of the vile. > **"Days and nights will not pass until the happiest of people with the world is Lukaʿ ibn Lukaʿ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رات اور دن اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک دنیا میں سب سے زیادہ سعادت مند شخص وہ ہو گا ، جو بے وقوف ہو ، اور بے وقوف کا بچہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ولید بن عبدالملک بن مسرح کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12444

Majma al-Zawaid #12444

«وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْلِبَ عَلَى الدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَيْنَ كَرِيمَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ بَابٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr (radiya Allahu ʿanhu) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ condition the Hour upon vilest dominance and identify the nobly-born believer as most excellent. > **"The Hour will not come until Lukaʿ ibn Lukaʿ overcomes the world, and the best of people is a believer between two noble parents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کوئی بے وقوف ، جو بے وقوف کا بچہ ہو ، وہ دنیا پر غالب نہیں آ جائے گا ، اور لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا وہ مومن ہو گا ، جو نیک ماں باپ کی اولاد ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس کے بعض راویوں میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس سے پہلے ایک باب گزر چکا ہے ، جو اسی مفہوم کے بارے میں ہے ۔

12445

Majma al-Zawaid #12445

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سَيَجِيءُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ تَكُونُ وُجُوهُهُمْ وُجُوهَ الْآدَمِيِّينَ، وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبَ الشَّيَاطِينِ، أَمْثَالُ الذِّئَابِ الضَّوَارِي، لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ شَيْءٌ مِنَ الرَّحْمَةِ، سَفَّاكِينَ لِلدِّمَاءِ، لَا يَرْعَوُونَ عَنْ قَبِيحٍ، إِنْ تَابَعْتَهُمْ وَارَوْكَ، وَإِنْ تَوَارَيْتَ عَنْهُمُ اغْتَابُوكَ، وَإِنْ حَدَّثُوكَ كَذَبُوكَ، وَإِنِ ائْتَمَنْتَهُمْ خَانُوكَ، صَبِيُّهُمْ عَارِمٌ، وَشَابُّهُمْ شَاطِرٌ، وَشَيْخُهُمْ لَا يَأْمُرُ بِمَعْرُوفٍ وَلَا يَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ، الِاعْتِزَازُ بِهِمْ ذُلٌّ، وَطَلَبُ مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَقْرٌ، الْحَلِيمُ فِيهِمْ غَاوٍ، وَالْآمِرُ فِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ مُتَّهَمٌ، الْمُؤْمِنُ فِيهِمْ مُسْتَضْعَفٌ، وَالْفَاسِقُ فِيهِمْ مُشَرَّفٌ، السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ، وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُسَلِّطُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ، وَيَدْعُو خِيَارُهُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās (radiya Allahu ʿanhuma) reported that the Messenger of Allah ﷺ foretold latter-day peoples with human faces and devil hearts, wolf-like rapacity, merciless bloodshed, shamelessness, flattery and backbiting, lying and betrayal, corrupt young and heedless elders, humiliating honor, impoverishing greed, misguided clemency, accused reformers, weakened believers, honored profligates, Sunnah deemed innovation and innovation Sunnah, then tyrannical overlords and unanswered supplication of the best. > **"There will come in the latter time peoples whose faces are human faces and hearts devil hearts, like rapacious wolves, no mercy in their hearts, shedders of blood, unrestrained from ugliness. If you follow them they conceal you, if you hide from them they backbite you, if they speak they lie to you, if you trust them they betray you. Their child is insolent, youth profligate, elder enjoins no good nor forbids evil. Honor through them is humiliation, seeking what is in their hands is poverty. The forbearing among them is astray, the enjoiner of good among them accused, the believer among them weakened, the profligate among them honored, Sunnah among them innovation, innovation among them Sunnah. Then Allah empowers their wicked over them, their best supplicate and are not answered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے ، جن کے چہرے آدمیوں کے چہروں کی مانند ہوں گے ، اور ان کے دل شیاطین کے دلوں کی مانند ہوں گے وہ چیر پھاڑ کرنے والے بھیڑیوں کی مانند ہوں گے ، ان کے دلوں میں ذرا بھی رحمت نہیں ہو گی ، وہ بہت زیادہ خون بہانے والے ہوں گے ، ہر قبیح چیز کے مرتکب ہوں گے ، اگر تم ان کی پیروی کرو گے ، تو وہ تمہیں چھپا دیں گے ، اگر تم ان سے چھپ جاؤ گے ، تو وہ تمہاری غیبت کریں گے ، اگر وہ تمہارے ساتھ بات چیت کریں گے تو وہ تمہارے ساتھ جھوٹ بولیں گے ، اگر تم انہیں امین بناؤ گے ، تو وہ تمہارے ساتھ خیانت کریں گے ، ان کا بچہ گناہ گار ہو گا ، ان کا جوان شاطر ہو گا ، ان کا بوڑھا نہ نیکی کا حکم دے اور نہ برائی سے منع کرے گا ، ان کے حوالے سے عزت حاصل کرنا ، درحقیقت ذلت ہو گا اور جو کچھ ان کے پاس موجود ہے ۔ اس کے حصول کی خواہش غربت ہو گی ، ان کے درمیان بردبار شخص بہکا ہوا ہو گا ، اور ان کے درمیان نیکی کا حکم دینے والا شخص تہمت یافتہ ہو گا ، ان کے درمیان مومن شخص کمزور ہو گا ، اور ان کے درمیان فاسق شخص نمایاں حیثیت کا مالک ہو گا ، ان کے درمیان سنت ، بدعت شمار ہو گی اور ان کے درمیان بدعت ، سنت شمار ہو گی ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر اپنے بدترین لوگوں کو مسلط کرے گا ، اس وقت ان کے نیک لوگ دعا کریں گے ، لیکن ان کی دعا قبول نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشاپوری ہے اور وہ متروک ہے ۔

12446

Majma al-Zawaid #12446

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ أَنْ تُرْفَعَ الْأَشْرَارُ، وَيُوضَعَ الْأَخْيَارُ، وَيُقَبَّحَ الْقَوْلُ، وَيُحْبَسَنَّ الْعَمَلُ، وَيُقْرَأُ فِي الْقَوْمِ الْمَثْنَاةُ "". قُلْتُ: وَمَا الْمَثْنَاةُ؟ قَالَ: "" مَا كُتِبَ سِوَى كِتَابِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr (radiya Allahu ʿanhuma) reported from the Messenger of Allah ﷺ that nearness of the Hour includes raising the wicked, lowering the good, ugly speech, withheld action, and recitation of al-Mathnāh, explained as writings besides the Book of Allah. > **"Among the nearness of the Hour is that the wicked are raised, the good lowered, speech is fouled, action is withheld, and al-Mathnāh is recited among the people. What is written besides the Book of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت قریب ہونے کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ برے لوگوں کو بلندی عطا کی جائے گی اور نیک لوگوں کو پست کیا جائے گا ، قبیح بات کی جائے گی ، عمل روک لیا جائے گا اور لوگوں میں مثناة کو پڑھا جائے گا ، میں نے دریافت کیا : مثناة سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی کتاب کے علاوہ جو کچھ بھی لکھا گیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12447

Majma al-Zawaid #12447

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَزُولَ الْجِبَالُ عَنْ أَمَاكِنِهَا، وَتَرَوْنَ الْأُمُورَ الْعِظَامَ الَّتِي لَمْ تَكُونُوا تَرَوْنَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon mountains shifting and the sight of unprecedented mighty matters. > **"The Hour will not come until mountains shift from their places, and you see mighty matters you never saw."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ نہیں جائیں گے ، اور تم بڑے بڑے امور کو دیکھو گے کہ تم نے اس سے پہلے انہیں نہیں دیکھا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12448

Majma al-Zawaid #12448

وَعَنْهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سَتَرَوْنَ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ أَشْيَاءَ تَسْتَنْكِرُونَهَا عِظَامًا، تَقُولُونَ: هَلْ كُنَّا حَدَّثْنَا بِهَذَا؟ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ - تَعَالَى - وَاعْلَمُوا أَنَّهَا أَوَائِلُ السَّاعَةِ ""، حَتَّى قَالَ: "" سَوْفَ تَرَوْنَ جِبَالًا تَزُولُ قَبْلَ حَقِّ الصَّيْحَةِ "". وَكَانَ يَقُولُ لَنَا: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَدُلَّ الْحَجَرُ عَلَى الْيَهُودِيِّ مُخْتَبِئًا، كَانَ يَطْرُدُهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، فَاطَّلَعَ قُدَّامَهُ فَاخْتَفَى، فَيَقُولُ الْحَجَرُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا مَا تَبْغِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Samurah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ warned of dreadful unprecedented sights before the Hour bidding remembrance of Allah, mountains shifting before the Blast, and a stone directing a Muslim pursuer to a hidden Jew concealed ahead. > **"You will see before the Hour comes things you deny as mighty, saying: Were we told of this. When you see that, remember Allah and know they are the beginnings of the Hour. You will see mountains shift before the Blast. The Hour will not come until the stone directs to the Jew hiding, pursued by a Muslim man, appearing before him and hiding, and the stone says: O servant of Allah, this is what you seek."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت قائم ہونے سے پہلے تم ایسی چیزیں دیکھو گے ، جنہیں تم بڑا منکر سمجھو گے ، تم کہو گے : کیا ہمیں ان کے بارے میں بتایا گیا تھا ؟ جب تم ان چیزوں کو دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو اور یہ بات جان لو کہ یہ قیامت ( قریب آنے ) کا آغاز ہے ، یہاں تک کہ آپ نے یہ فرمایا : ’’ عنقریب تم پہاڑوں کو دیکھو گے کہ وہ صور پھونکے جانے سے پہلے اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے ۔‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں ) نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ بھی فرمایا کرتے تھے :’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک کوئی پتھر یہودی کے خلاف رہنمائی نہیں کرے گا ، جو یہودی اس کے پیچھے چھپا ہوا ہو گا ، اسے کسی مسلمان نے پیچھے جانے پر مجبور کیا ہو گا ، وہ سامنے سے آئے گا ، وہ یہودی چھپا ہوا ہو گا ، وہ پتھر کہے گا : اے اللہ کے بندے ! یہ ہے وہ شخص جسے تم تلاش کر رہے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12449

Majma al-Zawaid #12449

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: "" مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الشُّحُّ وَالْفُحْشُ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ، وَتَظْهَرَ ثِيَابٌ تَلْبَسُهَا نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، وَيَعْلُو التُّحُوتُ الْوُعُولَ ""، أَكَذَاكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ سَمِعْتَهُ مِنْ حِبِّي؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. قُلْنَا: وَمَا التُّحُوتُ؟ قَالَ: فُسُولُ الرِّجَالِ وَأَهْلُ الْبُيُوتِ الْغَامِضَةِ يُرْفَعُونَ فَوْقَ صَالِحِهِمْ، وَالْوُعُولُ أَهْلُ الْبُيُوتِ الصَّالِحَةِ». قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحْدَهُ فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ سُفْيَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported as a portent that stinginess and lewdness appear, trust inverts, women clad yet naked appear in garments, and the lowly rise above the eminent, whereupon he asked ʿAbdullāh ibn Masʿūd whether he heard it likewise from his beloved, who swore by the Lord of the Kaʿbah affirmatively, and explained the lowly as base men of obscure houses raised above their righteous, and the eminent as people of righteous houses. > **"Among the portents of the Hour are that stinginess and lewdness appear, the traitor is trusted, the trustworthy betrayed, garments appear worn by women clad yet naked, and the lowly rise above the eminent. The lowly are base men and people of obscure houses raised above their righteous, and the eminent are people of righteous houses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ کنجوسی اور فحاشی پھیل جائے گی ، خائن شخص کو امین بنایا جائے گا ، امین کو خائن قرار دیا جائے گا ، ایسے لباس ظاہر ہوں گے ، جنہیں عورتیں پہنیں گی تو وہ لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی ، لوگ تحوت اور وعول لوگوں پر غالب ہو جائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : اے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کیا آپ نے میرے محبوب کی زبانی اسی طرح سنا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! جی ہاں ، ہم نے دریافت کیا : تحوت سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : گھٹیا لوگ اور تنگ گھروں میں رہنے والے لوگ ، وہ لوگ اپنے نیک لوگوں کے اوپر آ جائیں گے ، اور وعول سے مراد نیک گھرانے کے لوگ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث منقول ہے ، اور وہ بھی کچھ حصہ مذکور ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حارث بن سفیان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12450

Majma al-Zawaid #12450

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ، وَتَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ ""، قُلْتُ: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: "" الْقَتْلُ "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ: "" وَيَكْثُرَ الْكَذِبُ، وَتَتَقَارَبَ الْأَسْوَاقُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon manifest fitnahs, abundant lying, near markets, near time, and abundant harj explained as killing. > **"The Hour will not come until fitnahs appear, lying increases, markets draw near, time draws near, harj increases. Killing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک فتنے ظاہر نہیں ہو جائیں گے ، جھوٹ ظاہر نہیں ہو جائے گا ، بازار سمٹ جائیں گے ، زمانہ سمٹ جائے گا اور ہرج بکثر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” جھوٹ بکثرت ہو جائے گا اور بازار سمٹ جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن سمعان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12451

Majma al-Zawaid #12451

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَسُوءُ الْجَارِ، وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ الْمُؤْمِنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "" كَالنَّخْلَةِ، وَقَعَتْ فَلَمْ تَفْسَدْ، وَأُكِلَتْ فَلَمْ تُكْسَرْ، وَوَضَعَتْ طَيِّبًا [وَكَقِطْعَةِ الذَّهَبِ دَخَلَتِ النَّارَ فَأُخْرِجَتْ فَلَمْ تَزْدَدْ إِلَّا جُودًا]» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr (radiya Allahu ʿanhuma) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon manifest lewdness, severed kinship, evil neighbor, and betrayed trust, then upon inquiry likened the believer to a palm unspoiled when fallen and unbroken when eaten yielding wholesomeness, and to gold emerging purer from fire. > **"The Hour will not come until lewdness, severance of kinship, evil neighbor appear, and the trustworthy is betrayed. Like the palm, fallen yet unspoiled, eaten yet unbroken, yielding wholesomeness, and like a piece of gold entering fire and emerging only purer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک فحاشی اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا عام نہیں ہو جائے گا ، برا ہمسایہ ہو گا ، امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس وقت مومن کا عالم کیا ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شہد کی مکھی کی مانند ہو گا کہ اگر وہ ( کھانے کی چیز میں ) گر جائے ، تو اسے خراب نہیں کرتی اور اگر کھا لی جائے تو توڑی نہیں جاتی ہے ۔ وہ پاکیزہ چیز باہر نکالتی ہے ، اور ( مومن کی مثال ) سونے کے ٹکڑے کی مانند ہو گی ، جو آگ میں داخل ہو جائے ، تو جب اسے نکالا جائے ، تو اس کی عمدگی میں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ابوزرعہ اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، علی بن مدینی نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12452

Majma al-Zawaid #12452

وَعَنْهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَسَافَدُوا فِي الطَّرِيقِ تَسَافُدَ الْحَمِيرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr (radiya Allahu ʿanhuma) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon public roadside indecency like donkeys. > **"The Hour will not come until they mate in the road mating as donkeys."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک لوگ راستوں میں اس طرح ( کھلے عام ) صحبت نہیں کریں گے ، جس طرح گدھے جنسی عمل کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12453

Majma al-Zawaid #12453

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَقَطِيعَةَ الْأَرْحَامِ وَائْتِمَانَ الْخَائِنِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: وَتَخْوِينَ الْأَمِينِ» "" أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ counted among the portents lewdness and foul speech, severed kinships, and trusting the traitor, with a doubtful addition about betraying the trustworthy or similar wording. > **"Among the portents of the Hour are lewdness and foul speech, severance of kinships, trusting the traitor, and betraying the trustworthy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کی نشانیوں میں فحاشی ، فحش کلامی ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا اور خائن شخص کو امین بنانا شامل ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’ امین شخص کو خائن قرار دینا ‘‘ یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شبیب بن بشر ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12454

Majma al-Zawaid #12454

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قِصَّةٌ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon every tribe being led by its hypocrites. > **"The Hour will not come until every tribe is led by its hypocrites."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ہر قبیلے کا سردار اس کا منافق شخص نہیں بن جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس میں پورا واقعہ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12455

Majma al-Zawaid #12455

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَحَبِيبُ بْنُ فَرُّوخٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon every tribe being led by its hypocrites. > **"The Hour will not come until every tribe is led by its hypocrites."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ہر قبیلے کا سردار اس قبیلے کا منافق شخص نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی حبیب بن فروخ ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12456

Majma al-Zawaid #12456

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَلَمَّا صَلَّى صَلَاتَهُ نَادَاهُ رَجُلٌ: مَتَى السَّاعَةُ؟ فَزَجَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْتَهَرَهُ وَقَالَ: "" اسْكُتْ "". حَتَّى إِذَا أَسْفَرَ رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: "" تَبَارَكَ رَافِعُهَا وَمُدَبِّرُهَا "". ثُمَّ رَمَى بِبَصَرِهِ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَ: "" تَبَارَكَ دَاحِيهَا وَخَالِقُهَا "". ثُمَّ قَالَ: "" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟ "". فَجَثَا رَجُلٌ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ: أَنَا بِأَبِي وَأُمِّي سَأَلْتُكَ. فَقَالَ: "" ذَاكَ عِنْدَ حَيْفِ الْأَئِمَّةِ، وَتَصْدِيقٍ بِالنُّجُومِ، وَتَكْذِيبٍ بِالْقَدَرِ، وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْأَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالصَّدَقَةُ مَغْرَمًا وَالْفَاحِشَةُ زِيَادَةً، فَعِنْدَ ذَلِكَ هَلَكَ قَوْمُكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ led them in dawn prayer, a man called asking about the Hour, was rebuked to silence, then at brightness the Prophet ﷺ gazed to heaven praising its Raiser and Disposer and to earth praising its Spreader and Creator, summoned the inquirer who knelt in filial devotion, then linked the Hour to unjust leaders, belief in stars, denial of decree, trust as spoil, charity as fine, and increased lewdness bringing ruin to his people. > **"Be silent. Blessed is its Raiser and Disposer. Blessed is its Spreader and Creator. That is at injustice of leaders, belief in stars, denial of decree, until trust is taken as spoil, charity as fine, lewdness as increase. Then your people perish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ، جب آپ نے نماز ادا کر لی تو ایک شخص نے آپ کو بلند آواز میں پکار کر کہا کہ قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے اسے ڈانٹا اور جھڑکا اور فرمایا : تم خاموش رہو ، پھر جب سفیدی پھیل گئی ، تو آپ نے نگاہ اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا : برکت والی ہے وہ ذات ، جس نے اسے بلند کیا ہے ، جو اس کی تدبیر کرتی ہے ، پھر آپ نے نگاہ زمین کی طرف کی اور ارشاد فرمایا : برکت والی ہے ، وہ ذات جس نے اسے بچھایا ہے ، اور جس نے اسے پیدا کیا ہے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ وہ شخص گھٹنوں کے بل جھک گیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں ، میں نے آپ سے سوال کیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اس وقت ہو گا ، جب حکمرانوں کو رسوا کیا جائے گا ، نجوم کی تصدیق کی جائے گی ، تقدیر کو جھٹلایا جائے گا ، یہاں تک کہ امانت کو مال غنیمت سمجھ لیا جائے گا ، اور صدقہ کو جرمانہ سمجھا جائے گا ، فحاشی زیادہ ہو جائے گی ، اس وقت تمہاری قوم ہلاکت کا شکار ہو جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12457

Majma al-Zawaid #12457

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّهَا حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا إِلَّا جَعَلَ لَهُ نِهَايَةً يَنْتَهِي إِلَيْهَا، وَإِنَّ الْإِسْلَامَ قَدْ أَقْبَلَ لَهُ ثَبَاتٌ وَأَنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَبْلُغَ نِهَايَتَهُ، ثُمَّ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَآيَةُ ذَلِكَ [أنْ تَكْثُرَ] الْفَاقَةُ وَيُقْطَعَ حَتَّى لَا يَجِدَ الْفَقِيرُ مَنْ يَعُودُ عَلَيْهِ، وَحَتَّى يَرَى الْغَنِيُّ أَنَّهُ لَا يَكْفِيهِ مَا عِنْدَهُ، حَتَّى أَنَّ الرَّجُلَ يَشْكُو إِلَى أَخِيهِ وَابْنِ عَمِّهِ فَلَا يَعُودُ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، وَحَتَّى أَنَّ السَّائِلَ لَيَمْشِي بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ فَلَا يُوضَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَلِكَ خَارَتِ الْأَرْضُ خَوْرَةً لَا يَرَى أَهْلُ كُلِّ سَاحَةٍ إِلَّا أَنَّهَا خَارَتْ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ تَهْدَأُ عَلَيْهِمْ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ تَفْجَأُهُمُ الْأَرْضُ تَقِيءُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا. قِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا أَفْلَاذُ كَبِدِهَا؟ قَالَ: أَسَاطِينُ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ، فَمِنْ يَوْمِئِذٍ لَا يُنْتَفَعُ بِذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطُّرُقِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd (radiya Allahu ʿanhu) enjoined obedience and community as the rope of Allah, preferring disliked unity to beloved division, observing that all creation has an appointed end and Islām after firm advent nears its end fluctuating until the Hour, whose sign is spreading want with severed provision so the poor finds none to sustain him and the rich deems his own insufficient, kinsmen withholding complaint, beggars walking between Fridays receiving nothing, then earth convulsing each courtyard supposing its own, calming by divine will, then suddenly disgorging its liver-pieces, explained when asked as pillars of gold and silver after which gold and silver benefit none until the Hour.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اے لوگو ! تم پر ( حاکم وقت کی ) اطاعت کرنا اور جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے کیونکہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے ، جس کے بارے میں اُس نے یہ حکم دیا ہے ، تم لوگ جماعت میں جس چیز کو ناگوار سمجھتے ہو ، وہ اس سے بہتر ہے ، جسے تم علیحدگی میں پسند کرتے ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے ۔ اس کے لئے اس نے کوئی آخری حد مقرر کی ہے ، جس پر وہ ختم ہو جاتی ہے ، اسلام جب آیا تو اس کو ثبات حاصل تھا ، اور یہ عنقریب اپنی آخری حد تک پہنچ جائے گا ، یہ قیامت تک کم اور زیادہ ہوتا رہے گا ، اس کی نشانی یہ ہے کہ فاقہ کثرت کے ساتھ ہو گا اور رزق منقطع ہو جائے گا ، یہاں تک کہ فقیر شخص کوئی ایسا شخص نہیں پائے گا ، جو اس کو کچھ دے سکے ، یہاں تک کہ خوشحال شخص یہ سمجھے گا ، جو کچھ اس کے پاس ہے ۔ وہ اس کے لئے کفایت نہیں کرے گا ، یہاں تک کہ کوئی شخص اپنے بھائی یا اپنے چچا زاد کے سامنے اپنی فاقہ کشی کی شکایت کرے گا ، تو وہ اسے کچھ نہیں دے گا ، یہاں تک کہ ایک سائل پورا ہفتہ گھومتا رہے گا ، لیکن اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رکھا جائے گا ، جب اس طرح کی صورت حال ہو جائے گی تو زمین اپنے جگر کے ٹکڑے اگل دے گی ۔ عرض کی گئی : اے ابوعبدالرحمن زمین کے جگر کے ٹکڑوں سے مراد کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : سونے اور چاندی کے ٹکڑے اور اس وقت سے لے کر قیامت تک سونا یا چاندی سے آدمی نفع نہیں لے سکے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اس کے ایک طریق کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12458

Majma al-Zawaid #12458

«وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ عَشْرُ آيَاتٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَالدَّجَّالُ، وَنُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَالدَّابَّةُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ تَحْشُرُ الذَّرَّ وَالنَّمْلَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ (radiya Allahu ʿanhu) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ condition the Hour upon ten signs spanning east and west, Arabia, Dajjāl, descent of ʿĪsā ibn Maryam, Gog and Magog, the Beast, sunrise from the west, and a fire from the depths of ʿAdan driving people including ants to the gathering. > **"The Hour will not come until ten signs: swallowing in the east, swallowing in the west, swallowing in the Arabian Peninsula, Dajjāl, descent of ʿĪsā ibn Maryam, Gog and Magog, the Beast, sunrise from its west, a fire emerging from the depths of ʿAdan driving people to the gathering, gathering ants and small creatures."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دس نشانیاں نہیں آ جائیں گی ، مشرق میں زمین میں دھنسایا جانا ، مغرب میں زمین میں دھنسایا جانا ، جزیرہ نما عرب میں زمین میں دھنسایا جانا دجال ( کا خروج ) حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا ، یاجوج ماجوج کا آنا ، دابۃ الارض کا نکلنا ، سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا اور ایک آگ جو عدن کے گڑھے سے نکلے گی ، لوگوں کو ہانک کر محشر کی طرف لے جائے گی ، وہ چھوٹی چیونٹیوں اور بڑی چیونٹیوں کو بھی اکٹھا کرے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ہارون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12459

Majma al-Zawaid #12459

«وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - جُلُوسًا، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: قَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ رَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا وَمَشَيْنَا وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ. فَمَرَّ رَجُلٌ يُسْرِعُ فَقَالَ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ. فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ. فَلَمَّا صَلَّيْنَا وَرَجَعْنَا وَدَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ جَلَسْنَا، فَقَالَ بَعْضُنَا: أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّهُ عَلَى الرَّجُلِ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ؟ أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ؟ فَقَالَ طَارِقٌ: أَنَا أَسْأَلُهُ، فَسَأَلَهُ حِينَ خَرَجَ. فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ، وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ حِينَ تُعِينُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا [عَلَى التِّجَارَةِ]، وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ، وَشَهَادَةَ الزُّورِ، وَكِتْمَانَ شَهَادَةِ الْحَقِّ، وَظُهُورَ الْعِلْمِ» ".

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn Shihāb reported that they sat with ʿAbdullāh ibn Masʿūd, a man announced prayer, they entered finding people bowing at the mosques front, bowed and advanced likewise, a hurrying man greeted Abū ʿAbd al-Raḥmān, who replied that Allah and His Messenger spoke truth and messengers conveyed, and after prayer and return his companions sought explanation through Ṭāriq, who asked and received a Prophetic statement about exclusive greeting, spreading trade with wifely aid, severed kinship, false witness, concealed true witness, and manifest knowledge. > **"Before the Hour are exclusive greeting, spread of trade when the wife aids her husband in trade, severance of kinship, false witness, concealment of true witness, appearance of knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک شخص آیا ، اس نے کہا : نماز کھڑی ہو چکی ہے ۔ وہ کھڑے ہوئے ، ان کے ساتھ ہم بھی اٹھ گئے ، جب ہم مسجد میں داخل ہوئے تو ہم نے مسجد کے آگے والے حصے میں لوگوں کو رکوع کی حالت میں پایا ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے ، ہم نے بھی رکوع کر لیا ، پھر ہم چلتے ہوئے گئے ، ہم نے اس طرح کیا ، جس طرح انہوں نے کیا تھا ، اسی دوران ایک شخص تیزی سے گزرا اور بولا : اے ابوعبدالرحمن السلام علیکم ! حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اور اللہ کے رسولوں نے رسالت کی تبلیغ کر دی ہے ، جب ہم نے نماز ادا کر لی اور ہم واپس آ گئے ، تو وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ، ہم باہر بیٹھ گئے ، ہم میں سے کسی نے کہا : کیا تم نے سنا نہیں کہ انہوں نے اس شخص کو جواب میں یہ کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اللہ کے رسولوں نے تبلیغ کر دی ہے ، تو تم میں سے کون ان سے اس بارے میں دریافت کرے گا ، تو طارق بن شہاب نے کہا : میں ان سے پوچھوں گا ، جب وہ باہر تشریف لائے ، تو طارق نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات ذکر کی ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کیا جائے گا ، اور تجارت پھیل جائے گی ، تجارت کے بارے میں عورت اپنے شوہر کی مدد کرے گی ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا جائے گا ، جھوٹی گواہی دی جائے گی ، سچی گواہی کو چھپایا جائے گا اور علم کا ظہور ہو گا ۔‘‘

12460

Majma al-Zawaid #12460

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «: "" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ لَا يُسَلِّمُ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ، وَزَادَ "" وَأَنْ يَجْتَازَ الرَّجُلُ بِالْمَسْجِدِ فَلَا يُصَلِّي فِيهِ "".

EnglishUnverified translation

The narrator reported a Prophetic variant that among the portents a man greets only for acquaintance, with an addition that a man passes the mosque without praying therein. > **"Among the portents of the Hour is that a man greets, greeting only for acquaintance. A man passes the mosque and does not pray therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی سلام کرے گا ، تو وہ صرف جان پہچان والے شخص کو سلام کرے گا ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، امام بزار نے اس میں سے کچھ روایات نقل کی ہیں ، اور یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ’’ ایک شخص مسجد سے گزر جائے گا لیکن وہ اس میں نماز ادا نہیں کرے گا ۔‘‘

12461

Majma al-Zawaid #12461

وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ السَّلَامُ عَلَى الْمَعْرِفَةِ "، وَإِنَّ هَذَا عَرَفَنِي مِنْ بَيْنِكُمْ فَسَلَّمَ عَلَيَّ، " وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا فَلَا يُسْجَدُ لِلَّهِ فِيهَا، وَحَتَّى يَبْعَثَ الْغُلَامُ الشَّيْخَ بَرِيدًا بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ، وَحَتَّى يَبْلُغَ التَّاجِرُ بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ فَلَا يَجِدُ رِبْحًا ".

EnglishUnverified translation

The narrator reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ condition the Hour upon greeting by acquaintance, noting the greeter recognized him among them, and added mosques taken as roads without prostration, youths dispatching elders as couriers between horizons, and merchants traversing horizons without profit. > **"The Hour will not come until greeting is by acquaintance. Mosques are taken as roads and Allah is not prostrated to therein, the boy sends the elder as courier between horizons, the merchant reaches between horizons finding no profit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو نہیں کیا جائے گا ، اس شخص نے تمہارے درمیان میں سے صرف مجھے پہچانا تو مجھے سلام کر دیا ( نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ) مساجد کو راستہ بنا لیا جائے گا ، ان میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ ایک لڑکا ایک بوڑھے شخص کو دور دراز کے علاقے میں ڈاکیے کے طور پر بھیجے گا ، یہاں تک کہ تاجر دور دراز کے علاقوں تک پہنچے گا لیکن اسے منافع نہیں ملے گا ۔‘‘

12462

Majma al-Zawaid #12462

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ "" «وَأَنْ تَغْلُوَ النِّسَاءُ وَالْخَيْلُ ثُمَّ تَرْخُصُ فَلَا تَغْلُو إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَأَنْ يَتَّجِرَ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ جَمِيعًا» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

The narrator reported a variant in his version that women and horses grow costly then cheap never to be costly until the Hour, and man and wife trade together. > **"Women and horses grow costly then cheap and are never costly until the Hour. Man and wife trade together."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ عورتیں اور گھوڑے مہنگے ہو جائیں گے ، پھر یہ کم قیمت ہو جائیں گے ، پھر یہ قیامت تک مہنگے نہیں ہوں گے ، اور مرد و عورت سب تجارت کریں گے ۔‘‘ امام احمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12463

Majma al-Zawaid #12463

«وَعَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُسَلِّمَ الرَّجُلُ إِلَّا عَلَى مَنْ يَعْرِفُ، وَحَتَّى تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا، وَحَتَّى تَتَّجِرَ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا، وَحَتَّى تَرْخُصَ النِّسَاءُ وَالْخَيْلُ فَلَا تَغْلُو إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAddāʾ ibn Khālid (radiya Allahu ʿanhu) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ condition the Hour upon greeting only acquaintances, mosques as roads, joint trade of woman and husband, and cheapening of women and horses never costly until the Hour. > **"The Hour will not come until a man greets only whom he knows, mosques are taken as roads, the wife and her husband trade, women and horses cheapen and are never costly until the Hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عداء بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک آدمی صرف جان پہچان والے لوگوں کو سلام نہیں کرے گا ، اور جب تک مساجد کو راستے نہیں بنا لیا جائے گا ، یہاں تک کہ عورت اور اس کا شوہر تجارت کریں گے ، یہاں تک کہ خواتین اور گھوڑے سستے ہو جائیں گے ، اور پھر وہ قیامت کے دن تک مہنگے نہیں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12464

Majma al-Zawaid #12464

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ مِنْ عَلَامَاتِ الْبَلَاءِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تَعْزُبَ الْعُقُولُ، وَتَنْقُصَ الْأَحْلَامُ، وَيَكْثُرَ الْقَتْلُ، وَتُرْفَعَ عَلَامَاتُ الْخَيْرِ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَافِيَةُ بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar (radiya Allahu ʿanhuma) reported that the Messenger of Allah ﷺ counted among the signs of tribulation and the Hour the withdrawal of minds, decrease of forbearance, increase of killing, removal of marks of good, and appearance of fitnahs. > **"Among the signs of tribulation and portents of the Hour are that minds are withdrawn, forbearance decreases, killing increases, marks of good are lifted, fitnahs appear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آزمائش کی علامات اور قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ عقلیں ماؤف ہو جائیں گی ، سمجھ داری کم ہو جائے گی ، بھلائی کی علامات اٹھا دی جائیں گی اور فتنے ظاہر ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عافیہ بن ایوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12465

Majma al-Zawaid #12465

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِينِكُمُ الْأَمَانَةُ، وَآخِرُ مَا يَبْقَى مِنْ دِينِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَيُصَلِّيَنَّ قَوْمٌ لَا دِينَ لَهُمْ، وَلَيُنْزَعَنَّ الْقُرْآنُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ. قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَسْنَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَقَدْ أَثْبَتْنَاهُ فِي مَصَاحِفِنَا؟ قَالَ: يُسْرَى عَلَى الْقُرْآنِ لَيْلًا فَيَذْهَبُ مِنْ أَجْوَافِ الرِّجَالِ فَلَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd (radiya Allahu ʿanhu) stated that the first lost of religion is trust and the last remaining is prayer, that a people will pray without religion, and that the Qurʾān will be removed from among them, explaining upon astonishment at recitation and codices that it will travel by night leaving mens breasts with nothing upon earth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ تم اپنے دین میں جو چیز سب سے پہلے غیر موجود پاؤ گے وہ امانت ہے ، اور تمہارے دین میں سے آخر میں باقی رہ جانے والی چیز نماز ہے ، کچھ لوگ نماز ادا کریں گے ، جن کا کوئی دین نہیں ہو گا ، تم لوگوں کے درمیان میں سے قرآن کو الگ کر دیا جائے گا ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے عرض کی : اے ابوعبدالرحمن ! کیا ہم قرآن پڑھتے نہیں ہیں ، کیا ہم نے اسے کتاب کی شکل میں محفوظ نہیں کر لیا ہے ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قرآن پر ایک رات ایسی آئے گی جب یہ لوگوں کے سینوں سے رخصت ہو جائے گا اور پھر روئے زمین پر اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شداد بن معقل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12466

Majma al-Zawaid #12466

وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: شُكِيَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ الْفُرَاتُ. فَقَالُوا: إِنَّا نَخَافُ أَنْ يَنْبَثِقَ عَلَيْنَا، فَلَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ مَنْ يُسَكِّرُهُ. قَالَ: لَا أُسَكِّرُهُ، فَوَاللَّهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَوِ الْتَمَسْتُمْ فِيهِ مِلْءَ طَسْتٍ مِنْ مَاءٍ مَا وَجَدْتُمُوهُ، وَلَيَرْجِعَنَّ كُلُّ مَاءٍ إِلَى عُنْصُرِهِ، فَيَكُونُ فِيهِ الْمَاءُ وَالْمُسْلِمُونَ بِالشَّامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ الْقَاسِمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Qāsim reported that the Euphrates was complained of to Ibn Masʿūd with fear of inundation and a request to dam it, he refused to dam, swore of a coming time when a basin of water is unfound, all water returns to its origin containing water while Muslims are in Shām.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے دریائے فرات کی شکایت کی گئی ، ہم نے کہا : ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر سیلاب لے آئے گا ۔ اگر آپ اس کی طرف کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو اس پر بن باندھ دے تو یہ مناسب ہو گا ۔ انہوں نے فرمایا : میں اس کے پانی کو ضائع نہیں کروں گا ۔ اللہ کی قسم ! لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر تم اس زمانے میں ایک طشت پانی کا تلاش کرو گے ، تو وہ بھی نہیں ملے گا ، ہر پانی اپنے عنصر کی طرف لوٹ جائے گا ، اور وہاں پر پانی ہو گا ، اور ( اس وقت ) مسلمان شام میں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ قاسم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

12467

Majma al-Zawaid #12467

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" ثَلَاثٌ إِذَا رَأَيْتَهُنَّ فَعِنْدَكَ عِنْدَكَ: إِخْرَابُ الْعَامِرِ، وَإِعْمَارُ الْخَرَابِ، وَأَنْ يَكُونَ الْغَزْوُ رَفْدًا، وَأَنْ يَتَمَرَّسَ الرَّجُلُ بِأَمَانَتِهِ تَمَرُّسَ الْبَعِيرِ بِالشَّجَرَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابُلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn Muḥammad al-Saʿdī reported from his father from the Messenger of Allah ﷺ that three sights signal imminence including ruin of flourishing, flourishing of ruin, warfare as stipend, and a man abrading his trust as a camel abrades a tree. > **"Three, when you see them then imminence is at hand: ruin of the flourishing, flourishing of the ruin, warfare as stipend, a man abrading with his trust as the camel abrades the tree."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن محمد سعدی اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین چیزیں جب تم دیکھو گے ، تو اس وقت ( قیامت قریب ہو گی ) آباد چیز کو برباد کیا جانا ، برباد چیز کو آباد کیا جانا اور جنگ نوکری ہو گی اور آدمی امانت کو یوں کھا جائے گا جس طرح اونٹ درخت سے ( پتے وغیرہ ) کھاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12468

Majma al-Zawaid #12468

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُدَبِّرَ الرَّجُلُ أَمْرَ خَمْسِينَ امْرَأَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn ʿUjrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon a single man managing the affairs of fifty women. > **"The Hour will not come until a man manages the affairs of fifty women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ایک مرد پچاس خواتین کے معاملات کا نگران نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عیسیٰ رملی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12469

Majma al-Zawaid #12469

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَكُونُ أَمَامَ الدَّجَّالِ سُنُونَ خَوَادِعُ يَكْثُرُ فِيهَا الْمَطَرُ، وَيَقِلُّ فِيهَا النَّبْتُ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: "" مَنْ لَا يُؤْبَهُ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَفِي أَحْسَنِهَا ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Mālik (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ foretold deceptive years before Dajjāl with abundant rain but scant vegetation, truthful denied and liar believed, traitor trusted and trustworthy betrayed, and speech by Ruwaybiḍah, explained upon inquiry as the disregarded. > **"Before Dajjāl are deceptive years, rain therein abundant, vegetation therein scant, the truthful therein denied, the liar therein believed, the traitor therein trusted, the trustworthy therein betrayed, and Ruwaybiḍah speaks therein. One given no heed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال سے پہلے کچھ سال ایسے آئیں گے جو قحط سالی کے ہوں گے ، ان میں بارش کثرت سے ہو گی ، لیکن پیداوار کم ہو گی ، اس دوران سچے شخص کو جھوٹا قرار دیا جائے گا ، اور جھوٹے کی اس وقت میں تصدیق کی جائے گی ، اس دوران خائن شخص کو امین بنایا جائے گا ، اور امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا ، اور اس دوران رویبضہ کلام کریں گے ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! رویبضہ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص جس کی کوئی پرواہ نہ کی جاتی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سب سے بہتر سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12470

Majma al-Zawaid #12470

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْطِرَ السَّمَاءُ مَطَرًا عَامًّا، وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ شَيْئًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، فَقَالَ: «عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ، وَحَتَّى أَنَّ الْمَرْأَةَ تَمُرُّ بِالرَّجُلِ فَيَأْخُذُهَا فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا فَيَقُولُ: لَقَدْ كَانَ لِهَذِهِ مَرَّةً رَجُلٌ»، وَقَالَ: ذَكَرَهُ حَمَّادٌ هَكَذَا. وَقَدْ ذَكَرَهُ حَمَّادٌ أَيْضًا عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[لَا يَشُكُّ، وَقَدْ قَالَ لَهُ أَيْضًا: ثَابِتٌ؛ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -] فِيمَا أَحْسَبُ. وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon general rain without growth, with a variant discussion about fifty women under one guardian and a woman passing a man seized and inspected with remark about her former husband, transmitted through Ḥammād from Thābit without doubt. > **"The Hour will not come until heaven rains a general rain and earth sprouts nothing, until fifty women have one guardian, until a woman passes a man who seizes her and looks at her saying: She once had a husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ( جب تک یہ صورت حال نہ ہو کہ ) لوگوں پر ایک سال بارش ہوتی رہے گی اور زمین کوئی بھی چیز پیدا نہیں کرے گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : ’’ ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ( جب تک یہ صورت حال نہ ہو کہ ) آسمان سے بارش ہو گی لیکن زمین سے پیداوار نہیں ہو گی ، جب تک پچاس خواتین کا نگران ایک مرد نہیں ہو گا ، اور اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کوئی عورت کسی مرد کے پاس سے گزرے گی وہ مرد اس عورت کو پکڑ کر اسے دیکھے گا ، اور یہ کہے گا : کبھی اس عورت کا بھی ایک مرد ہوتا تھا ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے اس کو اسی طرح نقل کیا ہے حماد نے اسے ثابت کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے ، جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ یہ ثابت کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے ، جو میرے خیال کے مطابق ہے ۔ ان تمام روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

12471

Majma al-Zawaid #12471

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ، وَحَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ، وَحَتَّى يَكُونَ لِلْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ، وَحَتَّى تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ فَتَقُولُ: لَقَدْ كَانَ لَهَا مَرَّةً رَجُلٌ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon cessation of Allah Allah upon earth, rain without growth, one guardian for fifty women, and a shod woman remarking about a former husband. > **"The Hour will not come until Allah Allah is no longer said upon earth, people are rained upon yet earth sprouts not, fifty women have one guardian, a woman passes in sandals saying: She once had a husband."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا ، اور جب تک یہ عالم نہیں ہو گا کہ لوگوں پر بارش ہو گی لیکن زمین پیداوار نہیں دے گی ، یہاں تک کہ پچاس خواتین کا نگران ایک شخص ہو گا ، یہاں تک کہ ایک عورت جوتا پہن کر گزرے گی اور یہ کہے گی کہ اس عورت کا بھی ایک مرد ہوتا تھا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12472

Majma al-Zawaid #12472

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ كَثْرَةُ الْمَطَرِ، وَقِلَّةُ النَّبَاتِ، وَكَثْرَةُ الْقُرَّاءِ، وَقِلَّةُ الْفُقَهَاءِ، وَكَثْرَةُ الْأُمَرَاءِ، وَقِلَّةُ الْأُمَنَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ وَهُوَ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān al-Anṣārī (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ counted among the nearness abundant rain, scant vegetation, many reciters, few jurists, many leaders, few trustworthy. > **"Among the nearness of the Hour are abundant rain, scant vegetation, many reciters, few jurists, many leaders, few trustworthy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت قریب ہونے کی نشانیوں میں بارش کا بکثرت ہونا اور پیداوار کا کم ہونا ، قاریوں کا زیادہ ہونا ، فقہاء کا کم ہونا ، امراء کا زیادہ ہونا اور امین لوگوں کا کم ہونا شامل ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے ، اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔

12473

Majma al-Zawaid #12473

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُمْطِرَ السَّمَاءُ مَطَرًا لَا تَكُنْ مِنْهَا بُيُوتُ الْمَدَرِ، وَلَا تَكُنْ مِنْهَا إِلَّا بُيُوتُ الشَّعَرِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon sheltering rain that mud-brick houses cannot withstand, only hair houses withstand. > **"The Hour will not come until heaven rains a rain that mud-brick houses do not shelter from, and only hair houses shelter from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک آسمان سے اتنی بارش نازل نہیں ہو گی کہ مٹی کا کوئی بھی گھر اس کے لئے رکاوٹ نہیں بن سکے گا ، اس سے بچاؤ کے لئے صرف بالوں سے بنے ہوئے گھر رکاوٹ بن سکیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12474

Majma al-Zawaid #12474

وَعَنْهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا، وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا ضُلَّالَ الطَّرِيقِ [وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ "" قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْقَتْلُ ""]» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon Arabia returning to meadows and rivers, safe riding between Iraq and Makkah fearing only straying, and abundant harj explained as killing. > **"The Hour will not come until the land of the Arabs returns to meadows and rivers, a rider travels between Iraq and Makkah fearing only straying from the road, harj increases. Killing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب کی سرزمین پر سبزہ اور نہریں نہیں ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ ایک سوار شخص عراق اور مکہ کے درمیان چلے گا ، تو اسے صرف راستے سے گمراہ کرنے والے لوگوں کا اندیشہ ہو گا ، اور یہاں تک کہ ہرج کثرت سے ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12475

Majma al-Zawaid #12475

وَعَنْهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَرِبَ الزَّمَانُ، وَتَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ، وَالْيَوْمُ كَاحْتِرَاقِ الْخُوصَةِ» [يَعْنِي: السَّعْفَةَ] "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon nearness of time with the year like the month, month like the week, week like the day, day like the burning of a palm frond. > **"The Hour will not come until time draws near, the year is like the month, the month like the week, the week like the day, the day like the burning of the palm-leaf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک زمانہ سمٹ نہیں جائے گا یہاں تک کہ ایک سال ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک مہینہ ایک ہفتے کی مانند ہو گا اور ایک ہفتہ ایک دن کی مانند ہو گا ، اور ایک دن یوں ہو گا جیسے پتہ جلتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12476

Majma al-Zawaid #12476

وَعَنْهُ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَفْنَى هَذِهِ الْأُمَّةُ حَتَّى يَقُومَ الرَّجُلُ إِلَى الْمَرْأَةِ فَيَفْتَرِشُهَا فِي الطَّرِيقِ، فَيَكُونُ خِيَارُهُمْ يَوْمَئِذٍ مَنْ يَقُولُ: لَوْ وَارَيْتَهَا وَرَاءَ هَذَا الْحَائِطِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported from the Prophet ﷺ an oath that this Ummah will not perish until a man approaches a woman spreading her in the road, whose best then suggests concealment behind a wall. > **"By the One in Whose Hand is my soul, this Ummah will not perish until a man rises to a woman and spreads her in the road. The best among them then says: Had you concealed her behind this wall."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ امت اس وقت تک فنا نہیں ہو گی جب تک کوئی شخص اٹھ کر کسی عورت کی طرف نہیں جائے گا ، اور راستے میں ہی اسے لٹا لے گا ، تو اس وقت ان میں سے بہتر شخص وہ ہو گا ، جو یہ کہے گا : اگر تم اسے اس دیوار کے پیچھے لے جاتے تو یہ مناسب تھا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔