Majma al-Zawaid #12437
وَعَنْهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ كِتَابُ اللَّهِ عَارًا، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَتَنْتَقِضَ عُرَاهُ، وَتَنْتَقِصَ السُّنُونَ وَالثَّمَرَاتُ، وَيُؤْتَمَنَ التُّهَمَاءُ، وَيُتَّهَمَ الْأُمَنَاءُ، وَيُصَدَّقَ الْكَاذِبُ، وَيُكَذَّبَ الصَّادِقُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ "". قَالُوا: مَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْقَتْلُ، وَيَظْهَرَ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ وَالشُّحُّ، وَتَخْتَلِفَ الْأُمُورُ بَيْنَ النَّاسِ، وَيُتَّبَعَ الْهَوَى، وَيُقْضَى بِالظَّنِّ، وَيُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَكُونُ الْوَلَدُ غَيْظًا وَالشِّتَاءُ قَيْظًا، وَيُجْهَرُ بِالْفَحْشَاءِ، وَتُرْوَى الْأَرْضُ دَمًا» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.
EnglishUnverified translation
Abū Mūsā (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ listed approaching inversions including dishonored scripture, contracted time, broken bonds, diminished years and fruits, trusted accused, liars believed, abundant harj explained as killing, then manifest transgression, envy, stinginess, discord, desire, conjecture, vanishing knowledge, ignorance, angry child, scorching winter, open lewdness, and earth soaked in blood. > **"The Hour will not come until the Book of Allah is dishonor, time draws near, its bonds break, years and fruits diminish, the accused are trusted, the trustworthy accused, the liar believed, the truthful denied, harj abounds. Killing, manifest transgression, envy, stinginess, matters differ among people, desire is followed, judgment by conjecture, knowledge is taken, ignorance appears, the child is anger, winter is scorch, lewdness is proclaimed, earth is soaked in blood."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ کی کتاب عار نہیں ہو جائے گی اور زمانہ سمٹ جائے گا ، اور زمانے کی رسیاں ٹوٹ جائیں گی ، سال اور پھل کم ہو جائیں گے ، تہمت یافتہ لوگوں کو امین بنایا جائے گا ، اور امین لوگوں پر تہمت عائد کی جائے گی ، جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور بچے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا ، اور ہرج بکثرت ہو گا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : قتل و غارت گری اور فحاشی ، حسد اور کنجوسی ظاہر ہو گی ، لوگوں کے درمیان امور میں اختلاف ہو گا ، نفسانی خواہش کی پیروی کی جائے گی ، گمان کے مطابق فیصلہ دیا جائے گا ، علم کو اٹھا لیا جائے گا ، جہالت ظاہر ہو جائے گی ، اولاد نافرمان ہو گی ۔ بری بات کھلے عام کی جائے گی اور زمین خون سے سیراب ہو جائے گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔