Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 14

Book of Tribulations

Hadith 12477–12516

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12477

Majma al-Zawaid #12477

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يُوجَدَ النَّعْلُ فِي الْقُمَامَةِ فَيُقَالُ: كَأَنَّهَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ وَمَنْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Shibl (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that night and day will not pass until a sandal is found in rubbish attributed to Quraysh. > **"Night and day will not pass until a sandal is found in rubbish and said to be as if the sandal of a Qurashī."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دن اور رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک کچرے میں کوئی جوتا نہیں پایا جائے گا ، اور یہ کہا جائے گا کہ یہ تو کسی قریشی شخص کا جوتا لگتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور جنہیں جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

12478

Majma al-Zawaid #12478

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَظْهَرَ مَعَادِنُ كَثِيرَةٌ لَا يَسْكُنُهَا إِلَّا أَرَاذِلُ النَّاسِ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon many mines inhabited only by the vilest of people. > **"The Hour will not come until many mines appear inhabited only by the vilest of people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بہت سے معادن ظاہر نہیں ہوں گے ، اور ان میں صرف کمینے ترین لوگ ہی سکونت اختیار کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12479

Majma al-Zawaid #12479

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِذَا اسْتَحَلَّتْ أُمَّتِي سِتًّا فَعَلَيْهِمُ الدَّمَارُ: إِذَا ظَهَرَ فِيهِمُ التَّلَاعُنُ، وَشَرِبُوا الْخُمُورَ، وَلَبِسُوا الْحَرِيرَ، وَاتَّخَذُوا الْقِيَانَ، وَاكْتَفَى الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الرَّمْلِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ warned that when his Ummah deems six lawful, ruin befalls including mutual cursing, wine, silk, singing girls, and same-sex contentment of men with men and women with women. > **"When my Ummah deems six lawful, ruin is upon them: when mutual cursing appears among them, they drink wine, wear silk, take singing girls, men suffice with men and women with women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب میری اُمت چھ چیزوں کو حلال قرار دیدے گی تو ان پر بربادی آ جائے گی ، جب ان کے درمیان ایک دوسرے پر لعنت کرنا عام ہو جائے گا ، وہ لوگ شراب پئیں گے ، وہ ریشم پہنیں گے ، وہ گانے والی عورتیں رکھیں گے ، مرد ، مردوں پر اکتفاء کریں گے اور خواتین ، خواتین پر اکتفاء کریں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر رملی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12480

Majma al-Zawaid #12480

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ وَإِنَّ الْبَعِيرَ الضَّابِطَةَ وَالْمَزَادَتَيْنِ أَحَبُّ إِلَى الرَّجُلِ مِمَّا يَمْلِكُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ فِيمَا رَوَاهُ عَنْ غَيْرِ الشَّامِيِّينَ، وَهَذَا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ كُوفِيٌّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَبْوَابٌ بَعْدَ الدَّجَّالِ فِي الْخَسْفِ وَالْمَسْخِ وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَفِيمَنْ تَقُومُ عَلَيْهِمُ السَّاعَةُ وَنَحْوِ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Messenger of Allah ﷺ foretold a time when a sturdy camel and two waterskins are dearer to a man than his possessions. > **"There comes upon people a time when a sturdy camel and two waterskins are dearer to a man than what he owns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جب کوئی مضبوط اونٹ اور دو مشکیزے آدمی کے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہوں گے جس کا وہ مالک ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، جس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ، جو ان روایات کے حوالے سے ہے ، جو اس نے اہل شام کے علاوہ سے نقل کی ہیں ، اور انہوں نے یہ روایت اسماعیل بن ابوخالد سے نقل کی ہے ، اور وہ کوفی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کر دجال کے بعد زمین میں دھنسائے جانے مسخ کیے جانے ، دابۃ الارض کے نکلنے اور جن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی ان کے بارے میں اور دیگر امور کے بارے میں مختلف ابواب آئیں گے ۔

12481

Majma al-Zawaid #12481

«عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ وَدَجَّالُونَ سَبْعَةٌ وَعِشْرُونَ، مِنْهُمْ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah (radiya Allahu ʿanhu) reported that the Prophet of Allah ﷺ foretold twenty-seven liars and impostors in his Ummah including four women, affirming himself the seal with no prophet after him. > **"In my Ummah are twenty-seven liars and impostors, among them four women. I am the seal of prophets, no prophet after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت میں کذاب اور دجال ہوں گے جو ستائیس ہوں گے ، جن میں سے چار عورتیں ہوں گی اور میں انبیاء کرام کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12482

Majma al-Zawaid #12482

«وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ شَيْئًا. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ خَطِيبًا فَقَالَ: "" أَمَّا بَعْدُ، فَفِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِيهِ وَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا يَبْلُغُهَا رُعْبُ الْمَسِيحِ [إِلَّا الْمَدِينَةَ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ]» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، [وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ] رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه reported that people spoke excessively about Musaylimah before the Messenger of Allah ﷺ had said anything concerning him, until the Messenger of Allah ﷺ stood among them to deliver a khuṭbah about him, opening with ammā baʿd. > **"Ammā baʿd, concerning this man about whom you have spoken much, he is a liar among thirty liars who emerge before the Hour. There is no land but the terror of the Masīḥ reaches it, except Madīnah, upon every pass of its passes are two angels repelling from it the terror of the Masīḥ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ مسیلمہ کے بارے میں بکثرت بات کیا کرتے تھے ، یہ اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کے کچھ ارشاد فرمانے سے پہلے کی بات ہے ، ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ امابعد ! یہ شخص جس کا تم بکثرت ذکر کرتے ہو اس کے بارے میں بات یہ ہے کہ یہ ان تیس کذابوں میں سے ایک ہے ، جو قیامت سے پہلے نکلیں گے ، اور ہر شہر میں دجال کا رعب پہنچ جائے گا ، صرف مدینہ منورہ میں نہیں پہنچے گا ، کیونکہ اس کے ہر ایک راستے پر دو فرشتے موجود ہوں گے ، جو اس شہر سے دجال کے رعب کو پرے کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12483

Majma al-Zawaid #12483

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ، مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنْسِيُّ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرَ، وَمِنْهُمُ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ""، قَالَ جَابِرٌ: وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that before the Hour there will be liars, including the man of al-Yamāmah and the ʿAnsī of Ṣanʿāʾ and the man of Ḥimyar and the Dajjāl, with Jābir adding that some narrate the wording as near thirty liars. > **"Before the Hour there will be liars, among them the man of al-Yamāmah, and among them the ʿAnsī of Ṣanʿāʾ, and among them the man of Ḥimyar, and among them the Dajjāl, and he is the greatest of them in fitnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت سے پہلے کچھ کذاب ہوں گے ، جن میں سے ایک یمامہ سے تعلق رکھنے والا شخص ہے ، ان میں سے ایک صنعاء کا رہنے والا عنسی ہے ، ان میں سے ایک حمیر والا شخص ہے ، اور ان میں سے ایک دجال ہو گا ، جو ان میں سب سے بڑا فتنہ ہو گا ۔‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعض حضرات نے یہ الفاظ نقل کے ہیں ، تیس کے قریب کذاب ہوں گے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام احمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ کمزور ہے ۔

12484

Majma al-Zawaid #12484

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ عَنِ الْمُخْتَارِ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ دَجَّالًا كَذَّابًا»

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that a man of Kūfah was with him narrating about al-Mukhtār, whereupon Ibn ʿUmar replied that if the matter were as described, he had heard the Messenger of Allah ﷺ speak of thirty impostors before the Hour. > **"Before the Hour there will be thirty Dajjāls, liars."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے پاس اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص موجود تھا ، اس نے انہیں مختار کے بارے میں بتانا شروع کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جس طرح تم بیان کر رہے ہو ، اگر واقعی ایسا ہے تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت سے پہلے تیس دجال ، کذاب ہوں گے ۔‘‘

12485

Majma al-Zawaid #12485

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نَعِمٍ أَوْ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ - شَكَّ أَبُو الْوَلِيدِ - قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ - وَأَنَا عِنْدَهُ - عَنِ الْمُتْعَةِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَانِينَ وَلَا مُسَافِحِينَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَيَكُونَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الدَّجَّالُ وَكَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِقِصَّةِ الْمُتْعَةِ وَمَا بَعْدَهَا، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ الدَّجَّالُ، وَبَيْنَ يَدَيِ الدَّجَّالِ كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ "". قُلْنَا: مَا آيَتُهُمْ؟ قَالَ: "" أَنْ يَأْتُوكُمْ بِسُنَّةٍ لَمْ تَكُونُوا عَلَيْهَا يُغَيِّرُوا بِهَا سُنَّتَكُمْ وَدِينَكُمْ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاجْتَنِبُوهُمْ وَعَادُوهُمْ» "".

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Nuʿaym, with doubt of Abū al-Walīd whether Nuʿaym al-Aʿrajī, reported while present that a man asked Ibn ʿUmar رضي الله عنهما about mutʿah with women, and Ibn ʿUmar swore they were neither fornicators nor takers of secret lovers in the time of the Messenger of Allah ﷺ, then swore he heard the Messenger of Allah ﷺ foretell the Dajjāl and more than thirty liars, with a further narration that before the Dajjāl are thirty or more liars whose mark was described and avoidance commanded. > **"Before the Day of Resurrection there will be the Dajjāl and thirty liars or more. Before the Hour is the Dajjāl, and before the Dajjāl are thirty liars or more. Their sign is that they bring you a practice you were not upon, altering thereby your Sunnah and your dīn. When you see them, avoid them and oppose them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عبدالرحمن بن ابونعم ، یہاں ابوولید نامی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : عبدالرحمن بن ابونعیم اعرجی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے خواتین کے ساتھ متعہ کے بارے میں سوال کیا ، میں اس وقت ان کے پاس موجود تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں نہ تو ہم زنا کرنے والے تھے اور نہ ہی خفیہ دوستیاں رکھنے والے تھے ، پھر انہوں نے بتایا : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب قیامت سے پہلے تیس یا اس سے زیادہ دجال اور کذاب ہوں گے ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، امام ابویعلیٰ نے متعہ والا حصہ اور اس کے بعد والا حصہ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے بھی یہ روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ قیامت سے پہلے دجال آئے گا ، اور دجال سے پہلے تیس یا اس سے زیادہ کذاب آئیں گے ، ہم نے عرض کی : اس کی نشانی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ کہ وہ تمہارے پاس ایسے طریقے لے کے آئیں گے ، جن پر تم پہلے گامزن نہیں تھے اور وہ ان کے ذریعے تمہاری سنت اور تمہارے دین کو تبدیل کر دیں گے ، جب تم انہیں دیکھو تو ان سے اجتناب کرنا اور ان سے دشمنی رکھنا ۔‘‘

12486

Majma al-Zawaid #12486

«وَعَنْ أَبِي الْجُلَاسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ السَّبَائِيِّ: وَيْلَكَ، وَاللَّهِ مَا أَفْضَى إِلَيَّ بِشَيْءٍ كَتَمَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا، وَإِنَّكَ لَأَحَدُهُمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Jallās reported that he heard ʿAlī رضي الله عنه say to ʿAbdullāh al-Sabāʾī, woe to you, swearing that nothing was confided to him concealing it from people, but that he heard the Prophet ﷺ speak of thirty liars before the Hour, addressing the man as one of them. > **"Before the Hour there will be thirty liars, and you are indeed one of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجلاس بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عبداللہ سبائی سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے : تمہارا ستیاناس ہو ! اللہ کی قسم ! مجھے بطور خاص کوئی ایسی چیز نہیں دی گئی جو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں میں سے کسی سے چھپائی ہو ، البتہ میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت سے پہلے میں کذاب آئیں گے ۔‘‘ ( پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : ) اور تم ان میں سے ایک ہو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12487

Majma al-Zawaid #12487

وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ دَخَلَ عَلَى الْمُخْتَارِ فَقَالَ: يَا أَبَا عَامِرٍ، لَوْ سَبَقْتَ رَأَيْتَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ؟ قَالَ: حَقُرْتَ وَنَقُرْتَ، أَنْتَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ، كَذَّابٌ مُفْتَرٍ عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Unaysah bint Zayd ibn Arqam رضي الله عنها reported that Zayd ibn Arqam رضي الله عنه entered upon al-Mukhtār, who said, O Abū ʿĀmir, had you come earlier you would have seen Jibrīl and Mīkāʾīl, whereupon Zayd belittled him and declared him more insignificant before Allah than that. > **"You are petty and base. You are more insignificant before Allah than that, a liar fabricating against Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مختار کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : آپ ذرا پہلے آ جاتے تو آپ جبرائیل اور میکائیل کو بھی دیکھ لیتے ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس سے زیادہ حقیر اور کمتر ہو ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہو ، تم جھوٹے افتراء پرداز شخص ہو جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12488

Majma al-Zawaid #12488

وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّ الْمُخْتَارَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ. قَالَ: صَدَقَ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Isḥāq reported that he said to ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما that al-Mukhtār claimed revelation came to him, whereupon Ibn ʿUmar affirmed it in the sense of the verse that the devils inspire their allies. > **"He spoke the truth, for the devils indeed inspire their allies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : مختار یہ کہتا ہے کہ اس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : وہ ٹھیک کہتا ہے ( قرآن نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ بے شک شیاطین اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12489

Majma al-Zawaid #12489

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ نَيِّفٌ وَسَبْعُونَ دَجَّالًا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبِشْرٌ صَاحِبُ أَنَسٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ foretold more than seventy impostors before the emergence of the Dajjāl. > **"Before the emergence of the Dajjāl there will be seventy and some Dajjāls."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال کے نکلنے سے پہلے ستر سے زیادہ دجال آئیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس ( کی سند ) میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد بشر نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12490

Majma al-Zawaid #12490

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ [وَ] قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ سَبْعُونَ كَذَّابًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ conditioned the Hour upon the emergence of seventy liars. > **"The Hour will not stand until seventy liars emerge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ستر کذاب نہیں نکلیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12491

Majma al-Zawaid #12491

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا، مِنْهُمُ الْأَسْوَدُ الْعَنْسِيُّ وَصَاحِبُ صَنْعَاءَ وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that before the Hour there will be thirty liars, among them al-Aswad al-ʿAnsī and the man of Ṣanʿāʾ and the man of al-Yamāmah. > **"Before the Hour there will be thirty liars, among them al-Aswad al-ʿAnsī and the man of Ṣanʿāʾ and the man of al-Yamāmah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت سے پہلے تیس کذاب آئیں گے ، جن میں سے ایک اسود عنسی ہے ، اور ایک صنعاء کا رہنے والا شخص ہے ، اور ایک یمامہ والا شخص ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12492

Majma al-Zawaid #12492

«وَعَنْ شُعَيْبِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: حَجَجْنَا فَمَرَرْنَا بِطَرِيقِ الْمُنْكَدِرِ، وَكَانَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ فِيهِ، فَطَلَبْنَا الطَّرِيقَ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ نَحْنُ بِأَعْرَابِيٍّ كَأَنَّمَا نَبَعَ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ لِي: يَا شَيْخُ، تَدْرِي أَيْنَ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: أَنْتَ بِالذَّوَائِبِ، وَهَذَا التَّلُّ الْأَبْيَضُ الَّذِي تَرَاهُ عِظَامُ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ وَتَغْلِبَ، وَهَذَا قَبْرُ كُلَيْبٍ أَخِي مُهَلْهَلٍ. ثُمَّ قَالَ لِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ لَهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَحِيفَةٌ يَسْمَعُ مِنْهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَذَهَبَ بِي إِلَى قُبَّةِ أَدَمٍ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مَعْصُوبِ الْحَاجِبَيْنِ بِعِصَابَةٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ فَارِسُ الضَّحْيَاءِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَامَ قَوْمَةً لَهُ كَأَنَّهُ مُفْزَعٌ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ: بِأَبِي وَأُمِّي، قُمْتَ كَأَنَّكَ مُفْزَعٌ! قَالَ: "" إِيَّاكُمْ وَالدَّجَّالِينَ الثَّلَاثَةَ "". فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: بِأَبِي وَأُمِّي، قَدْ أَخْبَرْتَنَا عَنِ الدَّجَّالِ الْأَعْوَرِ وَعَنْ أَكْذَبِ الْكَذَّابِينَ، فَمِنَ الْكَذَّابُ الثَّالِثُ؟ قَالَ: "" رَجُلٌ يَخْرُجُ فِي قَوْمٍ أَوَّلُهُمْ مَثْبُورٌ وَآخِرُهُمْ مَبْتُورٌ، عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ دَائِمَةً فِي فِتْنَةٍ يُقَالُ لَهَا الْحَارِقَةُ، وَهُوَ الدَّجَّالُ الْأَطْلَسُ يَأْكُلُ عِبَادَ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Shuʿayb ibn ʿUmar reported that during ḥajj they lost the road at Munqadir, met a Bedouin who named the place al-Dhawāʾib and the white mound and the grave of Kulayb, then led him to a leather tent to a man with brow bandaged, identified as al-ʿAddāʾ ibn Khālid ibn ʿAmr ibn ʿĀmir, horseman of al-Ḍaḥyāʾ in Jāhiliyyah, whom he asked for a ḥadīth heard from the Messenger of Allah ﷺ, and the man told of the Prophet ﷺ rising alarmed while Ibn Masʿūd رضي الله عنه questioned him about the one-eyed Dajjāl and the greatest liar and the third liar. > **"Beware the three Dajjāls. A man emerges among a people whose first is destroyed and whose last is cut off, upon them lasting curse, in a fitnah called al-Ḥāriqah, and he is the gilded Dajjāl devouring the servants of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شعیب بن عمر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حج کے لئے گئے ، ہم منکدر کے راستے سے گزرے ، لوگ وہی راستہ اختیار کر رہے تھے ، ہم نے راستہ تلاش کیا ، ابھی ہم وہاں موجود تھے کہ ہمارے سامنے ایک دیہاتی آیا ، یوں لگا جیسے وہ زمین سے نکل کے آیا ہے ۔ اس نے مجھ سے کہا : اے شیخ ! تم جانتے ہو تم کہاں ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ، اس نے کہا : تم ذوئب میں ہو ، اور یہاں جو تم سفید ٹیلہ دیکھ رہے ہو یہ بکر بن وائل اور تغلب کی ہڈیاں ہیں ، اور یہ مہلہل کے بھائی کلیب کی قبر ہے ، پھر اس نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم کسی ایسے شخص میں دلچسپی رکھتے ہو کہ جس کے پاس نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ملنے والا صحیفہ موجود ہو کہ تم اس سے سماع کرو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو وہ مجھے ساتھ لے کے چمڑے کے خیمے کی طرف گیا ، وہاں ایک صاحب موجود تھے ، جنہوں نے پٹی کے ذریعے اپنی بھنویں باندھی ہوئی تھیں ، میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ حضرت عداء بن خالد بن عمرو بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں ضیاء کے شہسوار تھے ، میں نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے بتایا : ’’ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ۔ نبی اکرم ﷺ پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے ، حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میرے ماں باپ آپ آپ پر قربان ہوں آپ پریشانی کی حالت میں اٹھے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم تین دجالوں سے بچ کے رہنا ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے ہمیں کانے دجال کے بارے میں تو بتایا ہے ، اور سب سے بڑے جھوٹے کے بارے میں بھی بتایا ہے ، تو یہ تیسرا جھوٹا کون ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا شخص ہے ، جو ایسی قوم میں نکلے گا ، جن کا ابتدائی حصہ ہلاک شدہ اور آخری حصہ دم کٹا ہو گا ، ان پر لعنت ہو گی اور وہ ہمیشہ اس فتنے میں رہیں گے جس کا نام حارقہ ہو گا ، اور وہ دجال اطلس ہو گا ، جو اللہ کے بندوں کو کھا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12493

Majma al-Zawaid #12493

«وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةَ كَذَّابِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جَنْدَلِ بْنِ وَالِقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

al-Nuʿmān ibn Bashīr رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ foretell impostors before the Hour. > **"Before the Hour there will be liars."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت سے پہلے کذاب ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جندل بن والق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12494

Majma al-Zawaid #12494

«وَعَنْ سَلَّامَةَ بِنْتِ أَبْجَرَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نِسْوَةٌ مَسَاتِيرُ.

EnglishUnverified translation

Salāmah bint Abjar رضي الله عنها reported that she heard the Messenger of Allah ﷺ foretell two men in Thaqīf, a liar and a shedder of blood. > **"In Thaqīf there will be a liar and a destroyer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ سلامہ بنت ابجر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ثقیف قبیلے میں ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعوے دار ) اور ایک خون بہانے والا شخص ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں کچھ خواتین ہیں جن کی حالت مستور ہے ۔

12495

Majma al-Zawaid #12495

عَنْ عَلِيٍّ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: ذَكَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُهُ، فَقَالَ: "" غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ» "". ذَكَرَ كَلِمَةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that they mentioned the Dajjāl in his presence while he slept, then he awoke with reddened complexion and said something else was more fearful for them, uttering a word. > **"Other than that is more fearful for you from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ’’ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس دجال کا ذکر کر رہے تھے ، آپ اس وقت سوئے ہوئے تھے جب آپ بیدار ہوئے ، تو آپ کا رنگ سرخ ہو رہا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں کے بارے میں مجھے اس کی بجائے اور چیز کے حوالے سے زیادہ اندیشہ ہے ۔ اس کے بعد آپ نے ایک کلمہ ذکر کیا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12496

Majma al-Zawaid #12496

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ فَقَدْ نَجَا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - مَوْتِي، وَالدَّجَّالِ، وَقَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ يُعْطِيهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Ḥawālah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ thrice repeated that whoever is saved from three is saved, naming his death and the Dajjāl and the killing of a rightly patient caliph who renders what is due. > **"Whoever is saved from three is saved, whoever is saved from three is saved, whoever is saved from three is saved: my death, and the Dajjāl, and the killing of a rightly patient caliph who gives the right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن حوالہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص تین چیزوں سے نجات پا گیا ، اس نے نجات پا لی ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا : میری موت ، دجال اور اس خلیفہ کا قتل ہونا جو حق پر جما ہوا ہو ، اور وہ دینے والا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ربیعہ بن لقیط کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12497

Majma al-Zawaid #12497

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" ثَلَاثٌ مَنْ نَجَا مِنْهَا نَجَا: مَنْ نَجَا عِنْدَ قَتْلِ مُؤْمِنٍ فَقَدْ نَجَا، وَمَنْ نَجَا عِنْدَ قَتْلِ خَلِيفَةٍ يُقْتَلُ مَظْلُومًا وَهُوَ مُصْطَبِرٌ يُعْطِي الْحَقَّ مِنْ نَفْسِهِ فَقَدْ نَجَا، وَمَنْ نَجَا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ فَقَدْ نَجَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمِصْرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ named three trials from which salvation is true salvation, at the killing of a believer and at the killing of a wronged patient caliph who gives the right from himself and at the fitnah of the Dajjāl. > **"Three, whoever is saved from them is saved: whoever is saved at the killing of a believer is saved, and whoever is saved at the killing of a caliph killed wronged while he is patient giving the right from himself is saved, and whoever is saved from the fitnah of the Dajjāl is saved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان سے نجات پا لے گا وہ نجات پا لے گا ، جو شخص کسی مومن کے قتل کے وقت نجات پا لے ، تو اس نے نجات پا لی ، جو شخص کسی خلیفہ کے قتل کے وقت نجات پا لے ، جسے مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا جا رہا ہو ، اور وہ خلیفہ صبر کرنے والا ہو اور وہ اپنی ذات کی طرف سے حق کی ادائیگی کرتا ہو ، تو ایسا شخص بھی نجات پا لے گا ، اور جو شخص دجال کے فتنے سے نجات پا لے گا ، اس نے بھی نجات پا لی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید مصری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12498

Majma al-Zawaid #12498

«وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَأَنَا لِفِتْنَةِ بَعْضِكُمْ أَخْوَفُ عِنْدِي مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَلَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِمَّا قَبْلَهَا إِلَّا نَجَا مِنْهَا، وَمَا صُنِعَتْ فِتْنَةٌ مُنْذُ كَانَتِ الدُّنْيَا صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا لِفِتْنَةِ الدَّجَّالِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reported that the Dajjāl was mentioned before the Messenger of Allah ﷺ, who said he feared for them the fitnah of some among them more than the Dajjāl, that none escapes the prior trial but escapes the later, and that every fitnah since the world began serves the Dajjāl. > **"I fear for you the fitnah of some of you more than the fitnah of the Dajjāl. None is saved from what is before it but is saved from it. No fitnah has been wrought since the world began, small or great, except for the fitnah of the Dajjāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے تم لوگوں کے بارے میں دجال کے فتنے کے علاوہ ایک فتنے کے حوالے سے زیادہ اندیشہ ہے ، اور دجال سے پہلے والے اس فتنے سے جو بھی شخص نجات پا لے گا ، وہ نجات پا لے گا ، اور جب سے دنیا بنی ہے اس وقت سے چھوٹا یا بڑا جو بھی فتنہ بنا ہے وہ دجال کے فتنے کے لئے ہی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12499

Majma al-Zawaid #12499

«عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ إِصْطَخْرُ إِذَا مُنَادٍ يُنَادِي: أَلَا إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ. قَالَ: فَلَقِيَهُمُ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ فَقَالَ: لَوْلَا مَا تَقُولُونَ لَأَخْبَرْتُكُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَذْهَلَ النَّاسُ عَنْ ذِكْرِهِ، وَحَتَّى تَتْرُكَ الْأَئِمَّةُ ذِكْرَهُ عَلَى الْمَنَابِرِ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ رِوَايَةِ بَقِيَّةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، وَهِيَ صَحِيحَةٌ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rāshid ibn Saʿd reported that when Iṣṭakhr was conquered a caller cried that the Dajjāl had emerged, whereupon al-Ṣaʿb ibn Jaththāmah رضي الله عنه met them and said, but for what they were saying, he would tell them what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about people growing heedless of his mention and imams abandoning it on the minbars. > **"The Dajjāl will not emerge until people grow heedless of his mention, and until the imams abandon his mention upon the minbars."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

راشد بن سعد بیان کرتے ہیں : جب اصطخر فتح ہوا تو ایک منادی نے یہ اعلان کیا کہ خبردار ! دجال نکل چکا ہے ، راوی کہتے ہیں : حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی ان لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ یہ بات کہہ رہے ہو ، تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا ، جب تک لوگ اس کا ذکر کرنا بھول نہیں چکے ہوں گے ، یہاں تک کہ امام منبروں پر اس کا ذکر ترک کر چکے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے بقیہ کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو اس نے صفوان بن عمرو سے نقل کی ہے ، اور یہ روایت مستند ہے جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات کہی ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12500

Majma al-Zawaid #12500

عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ جَهْدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ الدَّجَّالِ. فَقَالُوا: أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "" غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ الْمَاءَ، وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ "". قَالُوا: فَمَا طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "" التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّهْلِيلُ "". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "" الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِيمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْجَهْدِ طِوَالٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ mentioned the hardship before the Dajjāl, and when asked about the best wealth then, named a strong youth watering his folk while there is no food, and when asked about the believers food, named glorification and magnification and declaration of unity, and when she asked about the Arabs then, said they will be few. > **"A strong youth watering his folk with water, and as for food, there is none. The food of the believers then is tasbīḥ and takbīr and tahlīl. The Arabs then will be few."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس فاقہ کشی کا ذکر کیا جو دجال سے پہلے ہو گی ، تو لوگوں نے دریافت کیا : اس وقت کون سا مال سب سے بہتر ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ مضبوط غلام جو اپنے مالکان کو پانی لا کے دے سکے ، جہاں تک کھانے کا معاملہ ہے ۔ وہ تو نہیں ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : پھر اس وقت مومنین کا کھانا کیا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تسبیح پڑھنا ، تکبیر کہنا لا الہ الا اللہ پڑھنا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : اس وقت عرب کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت عرب تھوڑے سے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ آگے چل کے کچھ احادیث آئیں گی جو اس سے پہلے فاقہ کشی کے بارے میں ہوں گی ۔

12501

Majma al-Zawaid #12501

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا أَهْبَطَ اللَّهُ - تَعَالَى - إِلَى الْأَرْضِ مُنْذُ خَلَقَ آدَمَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فِتْنَةً أَعْظَمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَقَدْ قُلْتُ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ أَحَدٌ قَبْلِي، إِنَّهُ آدَمُ جَعْدٌ، مَمْسُوحُ عَيْنِ الْيَسَارِ، عَلَى عَيْنِهِ ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكَمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَمَنْ قَالَ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ، وَمَنْ قَالَ: أَنْتَ رَبِّي، فَقَدِ افْتُتِنَ. يَلْبَثُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مِلَّتِهِ إِمَامًا مَهْدِيًّا وَحَكَمًا عَدْلًا فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ» "". فَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: وَنَرَى أَنَّ ذَلِكَ عِنْدَ السَّاعَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Mughaffal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said Allah sent no greater fitnah from the creation of Ādam to the Hour than the Dajjāl, then spoke a word none before him spoke, describing him wheat-coloured curly-haired with left eye effaced and thick film over it, healing the blind and leprous and claiming lordship, with safety for whoever says my Lord is Allah and trial for whoever accepts him, remaining as Allah wills, then ʿĪsā ibn Maryam descending affirming Muḥammad ﷺ upon his creed as guided imam and just judge, killing the Dajjāl, with al-Ḥasan holding that to be at the Hour. > **"Allah has sent down to earth since He created Ādam until the Hour no fitnah greater than the fitnah of the Dajjāl. I shall say concerning him a word none before me said: he is wheat-coloured curly-haired, the left eye effaced, upon his eye a thick film, healing the blind and the leprous, saying, I am your lord. Whoever says, my Lord is Allah, there is no fitnah upon him, and whoever says, you are my lord, is tried. He remains among you as Allah wills, then ʿĪsā ibn Maryam descends affirming Muḥammad upon his creed as guided imam and just judge, and kills the Dajjāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے جب سے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے ۔ اس وقت سے لے کر قیامت قائم ہونے تک اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف کوئی ایسا فتنہ نازل نہیں کیا ، جو دجال کے فتنے سے زیادہ بڑا ہو ، اور میں دجال کے بارے میں ایک ایسی بات بیان کرنے لگا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی ، وہ گندمی رنگ کا بکھرے بالوں والا شخص ہو گا ، جس کی بائیں آنکھ خراب ہو گی ، اس کی آنکھوں پر موٹا سا ٹکڑا ہو گا ، وہ پیدائشی اندھے اور برص ( یعنی پھلبہری ) کے مریض کو ٹھیک کر دے گا ، اور یہ کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، تو جو شخص یہ کہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس پر فتنہ واقع نہیں ہو گا ، اور جو شخص یہ کہے : تم میرے پروردگار ہو ، وہ شخص آزمائش میں مبتلا ہو جائے گا ، وہ تمہارے درمیان اس وقت تک رہے گا ، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا ، پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ، جو حضرت محمد ( ﷺ ) کے دین کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ، وہ حضرت محمد ( ﷺ ) کے دین کے مطابق ہدایت یافتہ امام کے طور پر اور عدل کرنے والے حکمران کے طور پر نازل ہوں گے ، اور وہ دجال کو قتل کر دیں گے ۔‘‘ حسن بصری یہ کہا کرتے تھے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قیامت کے قریب ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

12502

Majma al-Zawaid #12502

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: مَا كُنَّا نَسْمَعُ فَزْعَةً وَلَا رَجَّةً فِي الْمَدِينَةِ إِلَّا ظَنَنَّا أَنَّهُ الدَّجَّالُ، لِمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَنْهُ وَيُقَرِّبُهُ لَنَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Ḥārith ibn Jazʾ رضي الله عنه reported that they heard no fright nor clamour in Madīnah but thought it the Dajjāl, because of what the Messenger of Allah ﷺ narrated to them about him and drew near to them of his affair.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم جب بھی کوئی پریشانی کی خبر یا معاملہ مدینہ منورہ میں سنتے تھے ، تو یہ سمجھتے تھے کہ یہ دجال ہو گا ، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس کے بارے میں اتنا کچھ بتایا تھا ، اور اس کے قریب ہونے کا ذکر کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12503

Majma al-Zawaid #12503

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَبَيْنَ إِنْسَانٍ مُنَازَعَةٌ، فَقَالَ سَلْمَانُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَلَا تُمِتْهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ. فَلَمَّا سَكَنَ عَنْهُ الْغَضَبُ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا الَّذِي دَعَوْتَ بِهِ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: أُخْبِرُكَ، فِتْنَةُ الدَّجَّالِ، وَفِتْنَةُ أَمِيرٍ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَشُحٌّ شَحِيحٌ يُلْقَى عَلَى النَّاسِ، إِذَا أَصَابَ الرَّجُلُ الْمَالَ لَا يُبَالِي مِمَّا أَصَابَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Ḥunayf رضي الله عنه reported a dispute between Salmān al-Fārisī رضي الله عنه and a man, in which Salmān prayed that if the man lied Allah not cause him to die until overtaken by one of three, and when his anger subsided and he was asked what he invoked, he named the trials to be disclosed. > **"I tell you of the fitnah of the Dajjāl, and the fitnah of a ruler like the fitnah of the Dajjāl, and miserly avarice cast upon people, when a man gains wealth caring not from what he gained it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہو گیا ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ! اگر یہ شخص جھوٹا ہوا تو تُو اسے اس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک یہ تین میں سے کسی ایک چیز کو نہ پا لے ، جب ان کا غصہ کم ہوا تو میں نے کہا : اے ابوعبداللہ ! آپ نے اس شخص کے خلاف کیا دعا دی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں دجال کے فتنے کے بارے میں بتاتا ہوں اور ایک ایسے حکمران کے فتنے کے بارے میں بتاتا ہوں جو دجال کے فتنے کی مانند ہو گا ، اور بخیل شخص کے بخل کے بارے میں ( بتاتا ہوں ) جو بخل لوگوں پر ڈال دیا جائے گا ، جب آدمی کوئی مال حاصل کرے گا ، تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس نے وہ مال کہاں سے حاصل کیا ہے ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید اسلمی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12504

Majma al-Zawaid #12504

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ وَهُوَ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكَمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، وَيَقُولُ لِلنَّاسِ: أَنَا رَبُّكُمْ. فَمَنْ قَالَ: أَنْتَ رَبِّي، فَقَدْ فُتِنَ، وَمَنْ قَالَ: رَبِّيَ اللَّهُ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ، فَيَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ، وَإِنَّمَا هُوَ قِيَامُ السَّاعَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundab رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the Dajjāl will emerge blind in the left eye with thick film, healing the blind and leprous and giving life to the dead and saying to people I am your lord, with whoever affirms him tried and whoever holds to my Lord is Allah protected until death, remaining as Allah wills, then ʿĪsā ibn Maryam emerging before the west affirming Muḥammad ﷺ and killing the Dajjāl, and that is the standing of the Hour. > **"The Dajjāl will emerge blind in the left eye, upon it a thick film, healing the blind and the leprous, giving life to the dead, saying to people, I am your lord. Whoever says, you are my lord, is tried, and whoever says, my Lord is Allah, until dying upon that is protected from the fitnah of the Dajjāl and no fitnah is upon him. He remains in the earth as Allah wills, then ʿĪsā ibn Maryam emerges before the west affirming Muḥammad, and kills the Dajjāl, and that is the standing of the Hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک دجال نکلے گا ، اور وہ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا ، جس پر موٹی سی تہہ ہو گی اور وہ پیدائشی اندھے اور پھلبہری کے مریض کو ٹھیک کر دے گا ، اور مردوں کو زندہ کرے گا ، اور وہ لوگوں سے یہ کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، تو جو شخص یہ کہے گا ، تو میرا پروردگار ہے وہ آزمائش میں مبتلا ہو جائے گا ، اور جو شخص یہ کہے گا : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، یہاں تک کہ وہ شخص مرتے دم تک اسی چیز پر برقرار رہے گا ، تو اسے دجال کی آزمائش سے بچا لیا جائے گا ، اور اس پر فتنہ لاحق نہیں ہو گا ، دجال زمین میں اتنا عرصہ رہے گا ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور ہو گا ، پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مغرب کی طرف سے نکلیں گے ، اور وہ حضرت محمد ( ﷺ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ، وہ دجال کو قتل کر دیں گے ، اور پھر ( اس کے بعد ) قیامت آ جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

12505

Majma al-Zawaid #12505

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ذُو حَدَقَةٍ جَاحِظَةٍ وَلَا تَخْفَى [كَأَنَّهَا نُخَاعَةٌ فِي جَنْبِ جِدَارٍ وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى] كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، وَمَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَجَنَّتُهُ عَيْنٌ ذَاتُ دُخَانٍ، وَنَارُهُ رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلَانِ يُنْذِرَانِ أَهْلَ الْقُرَى، كُلَّمَا خَرَجَا مِنْ قَرْيَةٍ دَخَلَ أَوَائِلُهُمْ، فَيُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ فَيَذْبَحُهُ ثُمَّ يَضْرِبُهُ بِعَصَاهُ ثُمَّ يَقُولُ: قُمْ، فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ: كَيْفَ تَرَوْنَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالشِّرْكِ. فَيَقُولُ الرَّجُلُ الْمَذْبُوحُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَيَعُودُ أَيْضًا فَيَذْبَحُهُ، ثُمَّ يَضْرِبُهُ بِعَصَاهُ فَيَقُولُ لَهُ: قُمْ، فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ: كَيْفَ تَرَوْنَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالشِّرْكِ. فَيَقُولُ الْمَذْبُوحُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا زَادَنِي هَذَا فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً. وَيَعُودُ فَيَذْبَحُهُ الثَّالِثَةَ فَيَضْرِبُهُ [بِعَصَاهُ] فَيَقُولُ: قُمْ، فَيَقُولُ لَأَصْحَابِهِ: كَيْفَ تَرَوْنَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالشِّرْكِ. فَيَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا زَادَنِي هَذَا فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً. ثُمَّ يَعُودُ فَيَذْبَحُهُ الرَّابِعَةَ، فَيَضْرِبُ اللَّهُ عَلَى حَلْقِهِ بِصَفِيحَةِ نُحَاسٍ فَلَا يَسْتَطِيعُ ذَبْحَهُ ""، [فَوَااللَّهِ مَا رَأَيْتُ النُّحَاسَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ قَالَ: ""فَيَغْرِسُ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ وَيَزْرَعُونَ ""] قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: كُنَّا نَرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لِمَا نَعْلَمُ مِنْ قُوَّتِهِ وَجَلَدِهِ.» قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَعَطِيَّةُ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ warned his people as every prophet warned, describing the Dajjāl one-eyed bulging unhidden like spittle beside a wall with left eye like a glittering star, with a likeness of garden and fire whose garden is a smoky spring and whose fire is a green meadow, two men warning villagers before him, and power over one man alone whom he slaughters and strikes and raises, asking his companions am I not your lord while they testify shirk, while the slaughtered man calls out to people identifying the Masīḥ al-Dajjāl the Messenger warned of, repeated a second and third time with only insight increased, then a fourth attempt when Allah places a copper plate upon his throat so slaughter fails, after which people plant and sow, with Abū Saʿīd adding they thought the man ʿUmar. > **"Every prophet warned his people of the Dajjāl, and I warn you of him. He is one-eyed with bulging pupil unhidden, like spittle beside a wall, and his left eye like a glittering star. With him is a likeness of garden and fire: his garden is a smoky spring and his fire a green meadow. Before him are two men warning the villagers; whenever they leave a village his vanguard enters it. He is given power over a man, over none besides him: he slaughters him, strikes him with his staff, says, stand, says to his companions, what do you see, am I not your lord, and they testify to him with shirk. The slaughtered man says, O people, this is the Masīḥ al-Dajjāl whom the Messenger of Allah warned us of. This has only increased me in insight concerning you. Then Allah places upon his throat a plate of copper and he cannot slaughter him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر ایک نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میں تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں ، وہ کانا ہو گا ، جس کی ایک آنکھ واضح طور پر ابھری ہوئی ہو گی اور وہ دیوار پر موجود بلغم کی طرح ہو گی ، اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو گی ، اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ، اس کی جنت دھوئیں والا ایک چشمہ ہو گی اور اس کی جہنم ایک سرسبز باغ ہو گی ، اس سے پہلے دو افراد ہر بستی والوں کو ڈراتے رہیں گے ، جب بھی وہ دونوں افراد کسی بستی سے نکلیں گے ، تو دجال کے ماننے والوں میں سے ابتدائی لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے ، اور وہ ایک شخص پر مسلط ہو گا ، وہ اس کے علاوہ کسی اور پر مسلط نہیں ہو گا ، وہ اسے ذبح کرے گا ، پھر اسے عصا کے ذریعے مارے گا ، اور کہے گا : تم اٹھ جاؤ ، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے ، تو جس شخص کو ذبح کیا گیا ہو گا ، وہ یہ کہے گا : اے لوگو یہ دجال ہے ، جس کے بارے میں اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا ، پھر وہ دوبارہ اسے ذبح کرے گا ، پھر اسے عصا مارے گا ، اور اس سے کہے گا : تم اٹھ جاؤ ، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے ، اور ذبح ہونے والا شخص کہے گا : اے لوگو یہ دجال ہے ، جس سے اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا ، اور ( پھر وہ دجال کو مخاطب کر کے کہے گا ) تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے ، پھر دجال تیسری مرتبہ اس کو ذبح کرے گا ، پھر وہ اسے عصا مارے گا ، اور کہے گا اٹھ جاؤ ، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے دریافت کرے گا : تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے ، تو وہ ( شخص ) کہے گا : اے لوگو یہ دجال ہے ، جس سے اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا ، اور تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے ، پھر وہ چوتھی مرتبہ اسے ذبح کرنا چاہے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس دوسرے شخص کی گردن پر پیتل کا ٹکڑا رکھ دے گا ، تو دجال اسے ذبح نہیں کر سکے گا ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے لفظ ” نحاس ‘‘ ( یعنی تانبا ) صرف اسی دن سنا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے بعد لوگ کھیتی باڑی کریں گے ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم یہ سمجھتے تھے کہ وہ شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں گے کیونکہ ہمیں ان کی قوت اور مضبوطی کا پتہ تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی عطیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12506

Majma al-Zawaid #12506

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَصَفَ الدَّجَّالَ لِأُمَّتِهِ، وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said every prophet described the Dajjāl to his Ummah, and he would describe a trait none before him described, that he is one-eyed while Allah is not one-eyed. > **"Every prophet described the Dajjāl to his Ummah, and I shall describe him with a trait none before me described: he is one-eyed, and Allah is not one-eyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نبی نے اپنی امت کے سامنے دجال کا حلیہ بیان کیا ہے ، اور میں اس کا حلیہ اس طریقے سے بیان کروں گا کہ مجھ سے پہلے اس کا حلیہ اس طرح کسی ( نبی ) نے بیان نہیں کیا ہو گا وہ ( یعنی دجال ) کانا ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

12507

Majma al-Zawaid #12507

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الدَّجَّالُ أَعْوَرُ عَيْنِ الشِّمَالِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ: كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ الْأُمِّيُّ وَالْكَاتِبُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the Dajjāl is blind in the left eye with kāfir written between his eyes, read by the illiterate and the literate. > **"The Dajjāl is blind in the left eye, between his eyes is written kāfir, read by the illiterate and the literate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال بائیں آنکھ سے کانا ہو گا ۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص پڑھ لے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12508

Majma al-Zawaid #12508

وَعَنْ أُبَيٍّ - يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: "" إِحْدَى عَيْنَيْهِ كَأَنَّهَا زُجَاجَةٌ خَضْرَاءُ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ mentioned the Dajjāl, likening one of his eyes to green glass, and commanded seeking refuge from the torment of the grave. > **"One of his eyes is as though green glass. Seek refuge with Allah from the torment of the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اس کی ایک آنکھ یوں ہو گی جیسے اس میں سبز شیشہ ہو ، اور تم لوگ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12509

Majma al-Zawaid #12509

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ: "" أَعْوَرُ هِجَانُ أَزْهَرُ، كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ، أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ، فَأَمَّا هَلَكُ الْهُلَّكِ فَإِنَّ رَبَّكُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيْسَ بِأَعْوَرَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ concerning the Dajjāl that he is one-eyed fair ruddy as though his head a viper, most resembling ʿAbd al-ʿUzzā ibn Qaṭan, while the perishing perish, yet their Lord is not one-eyed. > **"One-eyed fair ruddy, as though his head a viper, most resembling ʿAbd al-ʿUzzā ibn Qaṭan. As for the destruction of the destroyed, your Lord is not one-eyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے دجال کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ کانا ہو گا اس کا رنگ سفید ہو گا ، اس کا سر بڑی ہڈی والا ہو گا ، اور وہ عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو گا ، پھر جس نے ہلاکت کا شکار ہونا ہو گا ، وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا ( لیکن تم یہ بات یاد رکھنا کہ ) کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

12510

Majma al-Zawaid #12510

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" رَأَيْتُ الدَّجَّالَ هِجَانًا ضَخْمًا فَيْلَمَانِيًّا، كَأَنَّ شَعْرَهُ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ، أَعْوَرُ كَأَنَّ عَيْنَيْهِ كَوْكَبُ الصُّبْحِ، أَشْبَهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ» ""، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported in a narration that the Prophet ﷺ said he saw the Dajjāl fair huge elephantine as though his hair tree branches, one-eyed as though his eyes the morning star, most resembling ʿAbd al-ʿUzzā ibn Qaṭan of Khuzāʿah. > **"I saw the Dajjāl fair huge elephantine, as though his hair tree branches, one-eyed as though his eyes the morning star, most resembling ʿAbd al-ʿUzzā ibn Qaṭan, a man of Khuzāʿah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے دجال کو دیکھا کہ وہ موٹا تازہ بڑے جثے کا مالک شخص ہے ۔ اس کے بال یوں ہیں جیسے درخت کی شاخیں ہوں ، اور وہ کانا ہو گا ، اس کی دونوں آنکھیں صبح کے ستارے کی مانند ہوں گی ، وہ خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عبدالعزیٰ بن قطن کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہے ۔‘‘ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

12511

Majma al-Zawaid #12511

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَمَا نَدْرِي أَنَّهُ الْوَدَاعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" مَا بَعَثَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ. لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّبِيُّونَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ - مِنْ بَعْدِهِ، أَلَا مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَيَّنَ عَلَيْكُمْ، أَنَّ رَبَّكُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيْسَ بِأَعْوَرَ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that they spoke of the Farewell Ḥajj unaware it was farewell, until in that ḥajj the Messenger of Allah ﷺ preached and dwelt at length on the Masīḥ al-Dajjāl, declaring every prophet warned his Ummah including Nūḥ and those after him, and that whatever is hidden of his affair, their Lord is not one-eyed. > **"Allah sent no prophet but he warned his Ummah of him. Nūḥ warned of him and the prophets after him. Whatever is hidden to you of his affair, let it not be hidden to you that your Lord is not one-eyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم حجۃ الوداع کے موقع پر بات چیت کر رہے تھے ، ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ نبی اکرم ﷺ کی طرف سے رخصتی والا حج ہے ، جب حجۃ الوداع کا موقع آیا تو آپ نے خطبہ دیتے ہوئے دجال کا ذکر کیا اور اس کے ذکر کو طول دیا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ہے ۔ اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، حضرت نوح علیہ السلام نے اور ان کے بعد آنے والے انبیاء نے بھی ایسا کیا ہے خبردار اس کا معاملہ تم لوگوں سے جتنا بھی مخفی رہے گا ، اور یہ بات بھی تم سے مخفی نہیں رہنی چاہیے کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12512

Majma al-Zawaid #12512

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكِ؟ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ كُفِيتُمُوهُ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَإِنَّ رَبَّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ، إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَيَنْزِلُ نَاحِيَتَهَا وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ مَدِينَةَ فِلَسْطِينَ بِبَابِ لُدٍّ "". قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً: "" حَتَّى يَأْتِيَ مَدِينَةَ فِلَسْطِينَ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَيَقْتُلُهُ، وَيَمْكُثُ عِيسَى فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her weeping, asked what made her weep, and she said remembrance of the Dajjāl, whereupon he said if he emerges while among them he suffices them, and if after him their Lord is not one-eyed, then told of emergence from the Jewry of Iṣbahān to Madīnah with seven gates each pass guarded by two angels, its worst joining him to Shām at Lud of Palestine, where ʿĪsā ibn Maryam descends and kills him and remains forty years a just imam and equitable judge. > **"What makes you weep. If he emerges while I am among you, you are sufficed against him, and if he emerges after me, your Lord is not one-eyed. He emerges from the Jewry of Iṣbahān until coming to Madīnah, alighting at its side, with seven gates that day, upon every pass two angels. Its worst go out to him until he comes to Shām, to Lud of Palestine. ʿĪsā ibn Maryam descends and kills him, and ʿĪsā remains in the earth forty years a just imam and equitable judge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے ، تو میں رو رہی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے دجال کا خیال آیا تو میں رونے لگی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر وہ اس وقت نکلا ، جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو تم سب کے مقابلے میں ، میں اس کے لئے کفایت کر جاؤں گا ، اور اگر وہ میرے بعد نکلا ، تو تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ، دجال اصبہان کے یہودیوں میں سے نکلے گا ، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ آئے گا ، اور اس کے کنارے پر پڑاؤ کرے گا ، اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے ، جن میں سے ہر ایک دروازے پر دو فرشتے موجود ہوں گے ، پھر یہاں کے رہنے والے برے لوگ نکل کر دجال کے پاس چلے جائیں گے ، پھر وہ شام میں فلسطین کے ایک شہر باب لد میں آئے گا ( یہاں ابوداؤد نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کے ہیں ) ، یہاں تک کہ وہ فلسطین کے شہر باب لد میں آئے گا ، تو وہاں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا ، پھر وہ اسے قتل کر دیں گے ، پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام چالیس سال تک عادل حکمران اور انصاف کرنے والے حکمران کے طور پر رہیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حضرمی بن لاحق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12513

Majma al-Zawaid #12513

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَزَادَ "" مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ» "" مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَرِوَايَتُهُ [عَنْهُ] جَيِّدَةٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the Dajjāl emerges from the Jews of Iṣbahān, with an addition that seventy thousand Jews wearing green cloaks are with him. > **"The Dajjāl emerges from the Jews of Iṣbahān, with him seventy thousand Jews wearing green cloaks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال اصبہان کے یہودیوں میں سے نکلے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے ، جن کے جسم پر سبز طیلسانی کپڑے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت محمد بن مصعب نے اوزاعی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اوزاعی سے ان کی نقل کردہ روایت عمدہ ہوتی ہے امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے انہیں ضعیف کہا ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی اسی طرح نقل کی ہے ۔

12514

Majma al-Zawaid #12514

وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أُمَيَّةَ «أَنَّ قَوْمًا دَخَلُوا عَلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالُوا لَهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُشْتَبَهْ عَلَيْكَ. [فَقَالَ أَجْلِسُونِي] فَأَخَذَ بَعْضُ الْقَوْمِ بِيَدِهِ، فَجَلَسَ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، وَأَنَا أُحَذِّرُكُمُ الدَّجَّالَ، إِنَّهُ أَعْوَرُ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ الْكَاتِبُ وَغَيْرُ الْكَاتِبِ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خُنَيْسُ بْنُ عَامِرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا. م - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ أَصْبَهَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْجَوْهَرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Junādah ibn Umayyah رضي الله عنه reported that people visited Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه ill and asked for an undoubted ḥadīth, so he sat up and narrated only what he heard from the Messenger of Allah ﷺ, that every prophet warned his Ummah of the Dajjāl, one-eyed with kāfir between his eyes read by literate and illiterate, with garden and fire whose fire is garden and whose garden is fire. ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه separately reported the Dajjāl emerges from Iṣbahān. > **"Every prophet warned his Ummah of the Dajjāl, and I warn you of the Dajjāl. He is one-eyed, written between his eyes is kāfir, read by the literate and the illiterate. With him are a garden and a fire: his fire is a garden and his garden a fire. The Dajjāl emerges from Iṣbahān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جنادہ بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت بیمار تھے ، لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جس میں آپ کو کوئی اشتباہ نہ ہو ، تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے بٹھا دو ! حاضرین میں سے کسی نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں بٹھا دیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کروں گا ، جو میں نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( آپ ﷺ نے فرمایا ہے : ) ’’ ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میں بھی تمہیں دجال سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں وہ کانا ہو گا ، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص پڑھ سکے گا ، اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ۔ اس کی آگ ( درحقیقت ) جنت ہو گی اور اس کی جنت ( درحقیقت ) جہنم ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خنیس بن عامر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال ، اصبہان کی طرف سے نکلے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں محمد بن محمویہ جوہری کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

12515

Majma al-Zawaid #12515

«وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَادَى: "" الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ "". فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الظُّهْرِ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ. قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعًا يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّ هَذِهِ طِيبَةُ؟ "" ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: "" أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ ""، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ أُرِيحَ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: "" بَلْ فِي بَحْرِ الْعِرَاقِ بَلْ هُوَ فِي بَحْرِ الْعِرَاقِ، يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَلْدَةٍ يُقَالُ لَهَا أَصْبَهَانُ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَاهَا يُقَالُ لَهَا رُسْتَقَابَاذُ يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ، مَعَهُ نَهْرَانِ نَهْرٌ مِنْ مَاءٍ وَنَهْرٌ مِنْ نَارٍ، فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ ذَلِكَ فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلِ الْمَاءَ فَلَا يَدْخُلْ فَإِنَّهُ نَارٌ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ: ادْخُلِ النَّارَ فَلْيَدْخُلْهَا فَإِنَّهَا مَاءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ فِي حَدِيثِهَا الطَّوِيلِ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Fāṭimah bint Qays رضي الله عنها reported that she heard the Messenger of Allah ﷺ call for congregational prayer, went with Anṣārī women, prayed Ẓuhr, then he ascended the minbar raising his hands till his armpits showed, thrice declaring this is Ṭaybah, then first placing him in the sea of Shām, then after a spell and relief correcting to the sea of al-ʿIrāq, emerging from Iṣbahān at Rustaqābādh with seventy thousand in cloaks before him, with a river of water and a river of fire, commanding whoever is told enter water not to enter for it is fire, and whoever is told enter fire to enter for it is water. > **"Shall I not tell you this is Ṭaybah. Shall I not tell you he is in the sea of Shām. Rather he is in the sea of al-ʿIrāq, rather he is in the sea of al-ʿIrāq. When he emerges, he emerges from a town called Iṣbahān, from a village of its villages called Rustaqābādh. When he emerges, at his vanguard are seventy thousand wearing cloaks. With him are two rivers, a river of water and a river of fire. Whoever of you reaches that and is told, enter the water, let him not enter, for it is fire, and when told, enter the fire, let him enter, for it is water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ، آپ نے اعلان کروایا ، لوگ اکٹھے ہو جائیں تو میں انصار کی کچھ خواتین کے ہمراہ نکلی ، یہاں تک کہ ہم مسجد میں آ گئیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر آپ منبر پر چڑھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے ، یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : خبردار میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ یہ ( شہر ) طیبہ ہے یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : خبردار ! میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ ( دجال ) شام کے سمندر میں ہے پھر آپ پر گھڑی بھر کے لئے مخصوص کیفیت طاری ہوئی ، جب آپ کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ وہ عراق کے سمندر میں ہے بلکہ وہ عراق کے سمندر میں ہے ، اور جب وہ نکلے گا تو وہ ایک ایسے شہر میں سے نکلے گا جس کا نام اصبہان ہو گا ۔ وہ یہ وہاں کی ایک بستی میں سے نکلے گا جس کا نام رستقا باذ ہو گا ، جب وہ نکلے گا تو اس کے آگے ستر ہزار لوگ ہوں گے ، جن کے جسم پر سبز طیلسانی کپڑے ہوں گے ، دجال کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ، ایک پانی کی نہر ہو گی اور ایک آگ کی نہر ہو گی ، تم میں سے جو شخص اس کا زمانہ پائے اور اس سے یہ کہا جائے کہ تم پانی میں داخل ہو جاؤ تو وہ داخل نہ ہو کیونکہ وہ درحقیقت آگ ہو گی اور جب اس سے یہ کہا : جاؤ تم آگ میں داخل ہو جائے ، تو وہ اس میں داخل ہو جائے کیونکہ وہ پانی ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جو ایک طویل حدیث ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

12516

Majma al-Zawaid #12516

«وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْعَقِيقِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عَلَى الثَّنِيَّةِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا ثَنِيَّةُ الْحَوْضِ الَّتِي بِالْعَقِيقِ أَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: "" إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ عَدُوِّ اللَّهِ الْمَسِيحِ، إِنَّهُ يُقْبِلُ حَتَّى يَنْزِلَ مِنْ كَذَا حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيْهِ غَوْغَاءُ النَّاسِ، مَا مِنْ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ أَوْ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهِ، مَعَهُ صُورَتَانِ صُورَةُ الْجَنَّةِ وَصُورَةُ النَّارِ [خَضْرَاءُ]، مَعَهُ شَيَاطِينُ يُشَبَّهُونَ بِالْأَمْوَاتِ يَقُولُونَ لِلْحَيِّ: تَعْرِفُنِي؟ أَنَا أَخُوكَ أَوْ أَبُوكَ أَوْ ذُو قَرَابَةٍ مِنْهُ، أَلَسْتَ قَدِمْتَ؟ هَذَا رَبُّنَا فَاتَّبِعْهُ. فَيَقْضِ اللَّهُ مَا يَشَاءُ مِنْهُ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيُسْكِتُهُ وَيُبَكِّتُهُ وَيَقُولُ [هَذَا الْكَذَّابُ]: أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَغُرَّنَّكُمْ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ وَيَقُولُ بَاطِلًا وَلَيْسَ رَبُّكُمْ بِأَعْوَرَ. فَيَقُولُ: هَلْ أَنْتَ مُتَّبِعِي؟ فَيَأْبَى، فَيَشُقُّهُ شَقَّتَيْنِ، وَيُعْطَى ذَلِكَ، وَيَقُولُ: أُعِيدُهُ لَكُمْ؟ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدَّ مَا كَانَ تَكْذِيبًا وَأَشَدَّهُ شَتْمًا، فَيَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مَا رَأَيْتُمْ بَلَاءٌ ابْتُلِيتُمْ بِهِ وَفِتْنَةٌ افْتُتِنْتُمْ بِهَا، إِنْ كَانَ صَادِقًا فَلْيُعِدْنِي مَرَّةً أُخْرَى، أَلَا هُوَ كَذَّابٌ. فَيَأْمُرُ بِهِ إِلَى هَذِهِ النَّارِ وَهِيَ صُورَةُ الْجَنَّةِ فَيَخْرُجُ قِبَلَ الشَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwaʿ رضي الله عنه reported that returning with the Messenger of Allah ﷺ from al-ʿAqīq at Thaniyyat al-Ḥawḍ, the Prophet ﷺ gestured east and said he beheld the stations of the Masīḥ, his advance and alighting, the rabble joining him, every Madīnah pass guarded by one or two angels, two images of garden and fire with him, devils in the likeness of the dead telling the living I am your brother or father or kinsman, this is our lord so follow him, then Allah decreeing, and Allah sending a Muslim man silencing and refuting him and warning people he is a liar speaking falsehood and their Lord is not one-eyed, asked will you follow me and refusing, so split in two then restored more denouncing, challenging return him again, then ordered to the fire which is the image of garden, then setting out toward Shām. > **"I behold the stations of the enemy of Allah, the Masīḥ. He advances until alighting at such-and-such, until the rabble go out to him. No pass of Madīnah but upon it an angel or two angels guarding it. With him are two images, the image of garden and the image of fire. With him are devils resembling the dead, saying to the living, do you know me, I am your brother or your father or your kinsman, have I not gone before, this is our lord so follow him. O people, let him not deceive you, for he is a liar speaking falsehood, and your Lord is not one-eyed. O people, what you have seen is a trial you are tried with and a fitnah you are afflicted with. He is a liar. He goes out toward Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عقیق سے آ رہا تھا ، یہاں تک کہ جب ہم اس گھاٹی کے پاس پہنچے جسے ثنیہ حوض کہتے ہیں : جو عقیق کے مقام پر ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : گویا کہ میں اس وقت بھی اللہ کے دشمن دجال کے آغاز والی جگہ کو دیکھ رہا ہوں ، وہ آئے گا ، یہاں تک کہ فلاں جگہ پر پڑاؤ کرے گا ، اور برے لوگ نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے ، اس وقت مدینہ منورہ کے ہر راستے پر ایک یا دو فرشتے موجود ہوں گے جو اس کی حفاظت کر رہے ہوں ، دجال کے ساتھ دو ظاہری شکل و صورت والی چیزیں ہوں گی ، ایک کی ظاہری شکل جنت کی ہو گی ، ایک کی ظاہری شکل جہنم کی ہو گی ، دجال کے ساتھ شیاطین ہوں گے جو مرحومین کی شکل و صورت اختیار کر لیں گے ، اور وہ زندہ شخص سے کہیں گے تم مجھے پہچانتے ہو ، میں تمہارا بھائی ہوں یا تمہارا باپ ہوں یا تمہارا رشتے دار ہوں ، کیا میرا انتقال نہیں ہو چکا ہے ، یہ ہمارا پروردگار ہے ، تم اس کی پیروی کر لو ، پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں جو چاہے گا فیصلہ کر لے گا ، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں سے ایک شخص کو بھیجے گا ، وہ دجال کو خاموش کروائے گا ، اور اس پر تنقید کرتے ہوئے کہے گا : یہ کذاب ہے ، لوگو یہ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کیونکہ یہ کذاب ہے ، اور یہ جھوٹ بولتا ہے ، تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ، دجال کہے گا : کیا تم میری پیروی کرو گے ؟ وہ شخص انکار کر دے گا ، تو دجال اسے دو حصوں میں چیر دے گا ، پھر دجال کہے گا : میں اسے تمہارے سامنے دوبارہ زندہ کرتا ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوبارہ زندہ کرے گا ، تو وہ دجال کی اس سے زیادہ تکذیب کرنے والا ہو گا ، اور اس سے زیادہ اس پر تنقید کرنے والا ہو گا ، پھر وہ شخص کہے گا : اے لوگو تم نے جو آزمائش دیکھی ہے تمہیں اس حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے ، یہ ایک فتنہ ہے جس میں تمہیں مبتلا کیا گیا ہے ، اگر یہ سچا ہے ، تو اسے کہو کہ یہ دوبارہ میرے ساتھ ایسا کر لے ، خبردار ! یہ کذاب ہے ، پھر دجال اسے آگ کی طرف لے جانے کا حکم دے گا ، جو درحقیقت جنت ہو گی ، پھر دجال نکل کر شام کی طرف چلا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔