«وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْعَقِيقِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عَلَى الثَّنِيَّةِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا ثَنِيَّةُ الْحَوْضِ الَّتِي بِالْعَقِيقِ أَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: "" إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ عَدُوِّ اللَّهِ الْمَسِيحِ، إِنَّهُ يُقْبِلُ حَتَّى يَنْزِلَ مِنْ كَذَا حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيْهِ غَوْغَاءُ النَّاسِ، مَا مِنْ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ أَوْ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهِ، مَعَهُ صُورَتَانِ صُورَةُ الْجَنَّةِ وَصُورَةُ النَّارِ [خَضْرَاءُ]، مَعَهُ شَيَاطِينُ يُشَبَّهُونَ بِالْأَمْوَاتِ يَقُولُونَ لِلْحَيِّ: تَعْرِفُنِي؟ أَنَا أَخُوكَ أَوْ أَبُوكَ أَوْ ذُو قَرَابَةٍ مِنْهُ، أَلَسْتَ قَدِمْتَ؟ هَذَا رَبُّنَا فَاتَّبِعْهُ. فَيَقْضِ اللَّهُ مَا يَشَاءُ مِنْهُ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيُسْكِتُهُ وَيُبَكِّتُهُ وَيَقُولُ [هَذَا الْكَذَّابُ]: أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَغُرَّنَّكُمْ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ وَيَقُولُ بَاطِلًا وَلَيْسَ رَبُّكُمْ بِأَعْوَرَ. فَيَقُولُ: هَلْ أَنْتَ مُتَّبِعِي؟ فَيَأْبَى، فَيَشُقُّهُ شَقَّتَيْنِ، وَيُعْطَى ذَلِكَ، وَيَقُولُ: أُعِيدُهُ لَكُمْ؟ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدَّ مَا كَانَ تَكْذِيبًا وَأَشَدَّهُ شَتْمًا، فَيَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مَا رَأَيْتُمْ بَلَاءٌ ابْتُلِيتُمْ بِهِ وَفِتْنَةٌ افْتُتِنْتُمْ بِهَا، إِنْ كَانَ صَادِقًا فَلْيُعِدْنِي مَرَّةً أُخْرَى، أَلَا هُوَ كَذَّابٌ. فَيَأْمُرُ بِهِ إِلَى هَذِهِ النَّارِ وَهِيَ صُورَةُ الْجَنَّةِ فَيَخْرُجُ قِبَلَ الشَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
EnglishUnverified translation
Salamah ibn al-Akwaʿ رضي الله عنه reported that returning with the Messenger of Allah ﷺ from al-ʿAqīq at Thaniyyat al-Ḥawḍ, the Prophet ﷺ gestured east and said he beheld the stations of the Masīḥ, his advance and alighting, the rabble joining him, every Madīnah pass guarded by one or two angels, two images of garden and fire with him, devils in the likeness of the dead telling the living I am your brother or father or kinsman, this is our lord so follow him, then Allah decreeing, and Allah sending a Muslim man silencing and refuting him and warning people he is a liar speaking falsehood and their Lord is not one-eyed, asked will you follow me and refusing, so split in two then restored more denouncing, challenging return him again, then ordered to the fire which is the image of garden, then setting out toward Shām. > **"I behold the stations of the enemy of Allah, the Masīḥ. He advances until alighting at such-and-such, until the rabble go out to him. No pass of Madīnah but upon it an angel or two angels guarding it. With him are two images, the image of garden and the image of fire. With him are devils resembling the dead, saying to the living, do you know me, I am your brother or your father or your kinsman, have I not gone before, this is our lord so follow him. O people, let him not deceive you, for he is a liar speaking falsehood, and your Lord is not one-eyed. O people, what you have seen is a trial you are tried with and a fitnah you are afflicted with. He is a liar. He goes out toward Shām."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عقیق سے آ رہا تھا ، یہاں تک کہ جب ہم اس گھاٹی کے پاس پہنچے جسے ثنیہ حوض کہتے ہیں : جو عقیق کے مقام پر ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : گویا کہ میں اس وقت بھی اللہ کے دشمن دجال کے آغاز والی جگہ کو دیکھ رہا ہوں ، وہ آئے گا ، یہاں تک کہ فلاں جگہ پر پڑاؤ کرے گا ، اور برے لوگ نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے ، اس وقت مدینہ منورہ کے ہر راستے پر ایک یا دو فرشتے موجود ہوں گے جو اس کی حفاظت کر رہے ہوں ، دجال کے ساتھ دو ظاہری شکل و صورت والی چیزیں ہوں گی ، ایک کی ظاہری شکل جنت کی ہو گی ، ایک کی ظاہری شکل جہنم کی ہو گی ، دجال کے ساتھ شیاطین ہوں گے جو مرحومین کی شکل و صورت اختیار کر لیں گے ، اور وہ زندہ شخص سے کہیں گے تم مجھے پہچانتے ہو ، میں تمہارا بھائی ہوں یا تمہارا باپ ہوں یا تمہارا رشتے دار ہوں ، کیا میرا انتقال نہیں ہو چکا ہے ، یہ ہمارا پروردگار ہے ، تم اس کی پیروی کر لو ، پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں جو چاہے گا فیصلہ کر لے گا ، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں سے ایک شخص کو بھیجے گا ، وہ دجال کو خاموش کروائے گا ، اور اس پر تنقید کرتے ہوئے کہے گا : یہ کذاب ہے ، لوگو یہ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کیونکہ یہ کذاب ہے ، اور یہ جھوٹ بولتا ہے ، تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ، دجال کہے گا : کیا تم میری پیروی کرو گے ؟ وہ شخص انکار کر دے گا ، تو دجال اسے دو حصوں میں چیر دے گا ، پھر دجال کہے گا : میں اسے تمہارے سامنے دوبارہ زندہ کرتا ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوبارہ زندہ کرے گا ، تو وہ دجال کی اس سے زیادہ تکذیب کرنے والا ہو گا ، اور اس سے زیادہ اس پر تنقید کرنے والا ہو گا ، پھر وہ شخص کہے گا : اے لوگو تم نے جو آزمائش دیکھی ہے تمہیں اس حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے ، یہ ایک فتنہ ہے جس میں تمہیں مبتلا کیا گیا ہے ، اگر یہ سچا ہے ، تو اسے کہو کہ یہ دوبارہ میرے ساتھ ایسا کر لے ، خبردار ! یہ کذاب ہے ، پھر دجال اسے آگ کی طرف لے جانے کا حکم دے گا ، جو درحقیقت جنت ہو گی ، پھر دجال نکل کر شام کی طرف چلا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔