Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 15

Book of Tribulations

Hadith 12517–12556

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12517

Majma al-Zawaid #12517

«وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى، بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ وَالْآخَرُ نَارٌ، فَجَنَّتُهُ نَارٌ وَنَارُهُ جَنَّةٌ، مَعَهُ مَلَكَانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُشَبَّهَانِ بِنَبِيَّيْنِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، وَذَلِكَ فِتْنَةُ النَّاسِ، يَقُولُ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أُحْيِي وَأُمِيتُ؟ فَيَقُولُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ: كَذَبْتَ، فَمَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ، فَيَقُولُ لَهُ: صَدَقْتَ وَيَسْمَعُهُ النَّاسُ، فَيَحْسَبُونَ أَنَّهُ صَدَّقَ الدَّجَّالَ، وَذَلِكَ فِتْنَةٌ، ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُ فِيهَا، ثُمَّ يَقُولُ: هَذِهِ قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ، ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Safīnah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ preached that no prophet before him but warned his Ummah of the Dajjāl, blind in the left eye with thick film over the right, kāfir between his eyes, with two valleys a garden and a fire whose garden is fire and whose fire is garden, with two angels resembling two prophets at his right and left as trial, saying am I not your lord giving life and death, while one angel says you lie heard by none but his fellow, who says you spoke truth heard by people who think he affirmed the Dajjāl, then journeying to Madīnah refused entry and calling it the town of that man, then to Shām where Allah destroys him at ʿAqabat Afīq. > **"No prophet before me but warned his Ummah of the Dajjāl. He is blind in his left eye, upon his right eye a thick film, written between his eyes is kāfir. With him emerge two valleys, one a garden and the other a fire: his garden is a fire and his fire a garden. With him are two angels resembling two prophets, one at his right and the other at his left, and that is the trial of people. He says, am I not your lord, giving life and death. One of the two angels says, you lie, none of people hears it but his fellow, who says to him, you spoke truth, and people hear it and think he affirmed the Dajjāl, and that is a trial. Then he journeys until coming to Madīnah, not permitted therein, then says, this is the town of that man. Then he journeys until coming to Shām, and Allah destroys him at ʿAqabat Afīq."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، وہ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا ، اس کی دائیں آنکھ پر بڑا سا ٹکڑا ہو گا ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی جن میں سے ایک جنت ہو گی اور دوسری آگ ہو گی ، اس کی جنت درحقیقت آگ ہو گی اور اس کی آگ درحقیقت جنت ہو گی ، اس کے ساتھ فرشتوں میں سے دو فرشتے ہوں گے جو دو انبیاء کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں گے ، ان میں سے ایک اس کے دائیں طرف ہو گا ، اور دوسرا اس کے بائیں طرف ہو گا ، اور یہ چیز لوگوں کے لئے آزمائش کی وجہ ہو گی ، وہ کہے گا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، میں زندگی دیتا ہوں اور میں موت دیتا ہوں ، تو دونوں فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہے گا : تم جھوٹ بول رہے ہو ، لوگوں میں سے کوئی بھی یہ بات نہیں سن سکے گا ، صرف دوسرا فرشتہ یہ بات سن سکے گا ، اور وہ ( یعنی دوسرا فرشتہ ) یہ کہے گا : تم نے ٹھیک کہا ہے ، لیکن دوسرے فرشتے کی بات لوگ سن لیں گے ، اور لوگ یہ سمجھیں گے کہ اس نے دجال کی تصدیق کی ہے ، تو یہ ایک آزمائش ہو گی ، پھر وہ چلتا رہے گا ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے گا ، اسے اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی تو وہ کہے گا : یہ ان صاحب ( نبی اکرم ﷺ ) کی بستی ہے ، پھر وہ چلے گا ، اور شام آ جائے گا ، وہاں عقبہ افیق کے مقام پر اللہ تعالیٰ اسے ہلاکت کا شکار کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

12518

Majma al-Zawaid #12518

«وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ مُعْتِمٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" الدَّجَّالُ لَيْسَ بِهِ خَفَاءٌ، إِنَّهُ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَيَدْعُو لِي فَيُتَّبَعُ،» وَيَنْصَبُ لِلنَّاسِ فَيُقَاتِلُهُمْ وَيَظْهَرُ عَلَيْهِمْ، فَلَا يَزَالُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يَقْدَمَ الْكُوفَةَ، فَيُظْهِرُ دِينَ اللَّهِ وَيَعْمَلُ بِهِ فَيُتَّبَعُ وَيُحَبُّ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنِّي نَبِيٌّ، فَيَفْزَعُ مِنْ ذَلِكَ كُلُّ ذِي لُبٍّ وَيُفَارِقُهُ، فَيَمْكُثُ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَقُولَ: أَنَا اللَّهُ، فَتُغْشَى عَيْنُهُ، وَتُقْطَعُ أُذُنُهُ، وَيُكْتَبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، فَلَا يَخْفَى عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَيُفَارِقُهُ كُلُّ أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَيَكُونُ أَصْحَابُهُ وَجُنُودُهُ الْمَجُوسَ وَالْيَهُودَ وَالنَّصَارَى وَهَذِهِ الْأَعَاجِمُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ثُمَّ يَدْعُو بِرَجُلٍ فِيمَا يَرَوْنَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَقْطَعُ أَعْضَاءَهُ كُلَّ عُضْوٍ عَلَى حِدَةٍ، فَيُفَرِّقُ بَيْنَهَا حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهَا، ثُمَّ يَضْرِبُ بِعَصَاهُ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، فَيَقُولُ: أَنَا اللَّهُ الَّذِي أُحْيِي وَأُمِيتُ، وَذَلِكَ كُلُّهُ سِحْرٌ يَسْحَرُ بِهِ أَعْيُنَ النَّاسِ لَيْسَ يَعْمَلُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Sulaymān ibn Shihāb reported that ʿAbdullāh ibn Muʿtam رضي الله عنه, a Companion, stayed with him and narrated from the Prophet ﷺ that the Dajjāl is unhidden, coming from the east calling and followed, raising a banner and fighting and prevailing, until reaching al-Kūfah displaying the dīn of Allah and acting by it so followed and loved, then claiming I am a prophet so every sound mind flees and leaves him, then saying I am Allah, whereupon his eye is covered and his ear cut and kāfir written between his eyes unhidden to any Muslim, so all with a mustard grain of faith leave him, his companions the Magians Jews Christians and non-Arab polytheists, then a man summoned and killed and severed limb by limb before people, then gathered and struck with his staff and standing, claiming I am Allah who gives life and death, all sorcery upon eyes working nothing. > **"The Dajjāl is unhidden. He comes from the east and calls on my behalf and is followed. He sets up for people, fights them, prevails over them, until coming to al-Kūfah. He displays the dīn of Allah and acts by it, and is followed and loved for that. Then after that he says, I am a prophet, and every sound mind flees from that and leaves him. He remains after that until saying, I am Allah. His eye is covered, his ear is cut, written between his eyes is kāfir, hidden to no Muslim. Every one of creation with a mustard grain of faith in his heart leaves him. His companions and troops are the Magians and the Jews and the Christians and these non-Arabs of the polytheists. All that is sorcery bewitching peoples eyes, working nothing of that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن شہاب بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن معتم رضی اللہ عنہ میرے ہاں ٹھہرے ، وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں ، انہوں نے مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے ۔ وہ مشرق کی طرف سے آئے گا اور دعوت دے گا ، تو اس کی پیروی کی جائے گی ، وہ لوگوں کے لئے جھنڈا نصب کرے گا ، پھر لوگوں کے ساتھ جنگ کرے گا ، اور وہ ان پر غالب آ جائے گا ، وہ اسی طرح کرتا رہے گا ، یہاں تک کہ کوفہ آ جائے گا ، پھر وہ اللہ کے دین کو ( یعنی خود کو اس کا پیروکار ) ظاہر کرے گا ، اور اس پر عمل کرے گا ، تو اس کی پیروی کی جائے گی اور اس بارے میں اس کے پیچھے چلا جائے گا ، پھر اس کے بعد وہ یہ کہے گا : میں نبی ہوں ۔ اس وقت ہر سمجھ دار شخص خوف زدہ ہو جائے گا ، اور اس سے الگ ہو جائے گا ، اس کے بعد وہ اسی حالت میں رہے گا یہاں تک کہ پھر وہ یہ کہے گا : میں اللہ تعالیٰ ہوں ، پھر اس کی ایک آنکھ ضائع ہو جائے گی اور اس کا کان کٹ جائے گا ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا جائے گا ، اور یہ بات کسی مسلمان سے پوشیدہ نہیں رہے گی ، مخلوق میں سے ہر وہ شخص اس سے جدا ہو جائے گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے جتنا ایمان موجود ہو گا ، دجال کے ساتھی اور اس کے لشکر کے افراد مجوسی یہودی اور عیسائی ہوں گے ، اور مشرکین سے تعلق رکھنے والے عجمی ہوں گے ، پھر دجال ایک شخص کو بلائے گا ، لوگ یہ دیکھ رہے ہوں گے اس شخص کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا ، پھر اس کے اعضاء کو کاٹ دیا جائے گا ، ان میں سے ہر ایک عضو کو الگ سے کاٹا جائے گا ، اس کے اعضاء لوگوں کی نظر میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ، پھر دجال انہیں اکٹھا کرے گا اور ان پر عصا مارے گا ، تو وہ شخص کھڑا ہو جائے گا ، تو دجال کہنے گا : میں وہ اللہ ہوں جو زندگی دیتا ہے اور میں وہ اللہ ہوں اور میں موت دیتا ہوں ، حالانکہ یہ سب کچھ جادو کا نتیجہ ہو گا ، جو لوگوں کی نظروں کو باندھ دے گا ، اس نے ایسا کچھ نہیں کیا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

12519

Majma al-Zawaid #12519

وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ: شَهِدْتُ يَوْمًا خُطْبَةً لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ: فَذَكَرَ حَدِيثَ كُسُوفِ الشَّمْسِ حَتَّى قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ جُلُوسُهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ. قَالَ زُهَيْرٌ: حَسِبْتُهُ قَالَ: فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَنْشُدُكُمُ اللَّهُ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ "". قَالَ: فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ [ثُمَّ سَكَتُوا]. ثُمَّ قَالَ: "" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُمْ كَذَبُوا، وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - يَخْتَبِرُ بِهَا عِبَادَهُ، فَيَنْظُرُ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُوهُ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا، آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبَى تَحْيَا - لِشَيْخٍ حِينَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - وَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجُ - أَوْ قَالَ: فَإِنَّهُ مَتَى مَا يَخْرُجُ - فَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ [وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ: بِسَيِّءٍ مِنْ عَمَلِهِ] سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ أَوْ قَالَ سَوْفَ يَظْهَرُ - عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يُحْصَرُ الْمُؤْمِنُونَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيُزَلْزَلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا، ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حَتَّى أَنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ - أَوْ قَالَ: أَصْلَ الْحَائِطِ - وَقَالَ حَسَنُ الْأَشْيَبُ: أَوْ أَصْلَ الشَّجَرَةِ - لَيُنَادِي - أَوْ قَالَ: يَقُولُ: يَا مُؤْمِنُ - أَوْ قَالَ: يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ - أَوْ قَالَ: كَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْهُ "". قَالَ: "" وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْ هَذَا ذِكْرًا وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا "". قَالَ: "" ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ "". قَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ ذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ مَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعِهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ، وَقَالَ فِيهِ: "" فَمَنِ اعْتَصَمَ بِاللَّهِ فَقَالَ: رَبِّيَ اللَّهُ حَيٌّ لَا يَمُوتُ فَلَا عَذَابَ عَلَيْهِ، وَمَنْ قَالَ: أَنْتَ رَبِّي فَقَدْ فُتِنَ ""، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ثَعْلَبَةَ بْنِ عُبَادَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Thaʿlabah ibn ʿAbbād al-ʿAbdī of Baṣrah reported attending a khuṭbah of Samurah ibn Jundab رضي الله عنه in which the eclipse ḥadīth was cited until the sun cleared at sitting in the second rakʿah, then salām and praise and testimony that he is Allahs servant and Messenger, then adjuring whether he fell short in conveying, the men testifying conveyance and counsel and duty, then ammā baʿd refuting claims of eclipse for deaths of great men as signs testing servants for repentance, swearing he saw since praying what they will meet of world and hereafter, that the Hour stands not till thirty liars emerge last the one-eyed Dajjāl effaced left eye like the eye of Abū Taḥyā, an aged Anṣārī then between him and ʿĀʾishahs chamber, claiming divinity when he emerges, nullifying prior good of believers in him and excusing prior ill of deniers, appearing over all earth except the Ḥaram and Bayt al-Maqdis, believers besieged therein shaken severely, then Allah destroying him till wall base or tree root calls O believer, O Muslim, this Jew or kāfir, come kill him, only after grave matters and mutual questioning and mountains moved, then seizure after that, repeated verbatim in another khuṭbah, with a variant that holding to Allah and saying my Lord is Allah living undying brings no torment, and saying you are my lord is fitnah. > **"O people, I adjure you by Allah, if you know I fell short in anything of conveying the messages of my Lord, tell me that. Ammā baʿd, men claim this eclipse of sun and eclipse of moon and falling of stars from their risings is for deaths of great men of earth, and they lied. They are signs of Allah testing thereby His servants, seeing who brings forth repentance. The Hour will not stand until thirty liars emerge, last of them the one-eyed Dajjāl, effaced left eye as the eye of Abū Taḥyā. When he emerges he claims he is Allah. Whoever believes him and affirms him and follows him, no prior righteous deed benefits him, and whoever disbelieves him and belies him is not punished for any prior deed. He appears over all the earth except the Ḥaram and Bayt al-Maqdis. The believers are besieged in Bayt al-Maqdis and shaken severely, then Allah destroys him, until the base of a wall or the root of a tree calls, O believer, O Muslim, this Jew, this kāfir, come kill him. Whoever holds fast to Allah and says, my Lord is Allah, living undying, there is no torment upon him, and whoever says, you are my lord, is tried."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثعلبہ بن عباد عبدی جن کا تعلق اہل بصرہ سے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھا ۔ انہوں نے اپنے خطبے میں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ایک حدیث ذکر کی ، مصنف کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے سورج گرہن کے بارے میں حدیث نقل کی ہے ، جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : ’’ پھر نبی اکرم ﷺ کے دوسری رکعت کے بعد بیٹھنے کے دوران سورج روشن ہو گیا ، یہاں زہیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میرا خیال ہے کہ روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سلام پھیرا ، پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر آپ نے یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ اگر تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے حکم کی تبلیغ میں کوئی کوتاہی کی ہو ، تو تم مجھے اس کے بارے میں بتاؤ ، راوی بیان کرتے ہیں : تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ کر دی ہے ، اپنی امت کی خیرخواہی کی ہے ، اور اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کیا ہے ، پھر وہ لوگ خاموش ہو گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ امابعد : کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگنا یا چاند گرہن لگنا یا ستاروں کا ٹوٹنا زمین میں موجود بڑے لوگوں کے انتقال کی وجہ سے ہوتا ہے ، ایسا لوگ غلط سوچتے ہیں ، یہ چیزیں اللہ کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں ہیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو متوجہ کرتا ہے ، اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے ، اللہ کی قسم ! جب میں یہاں کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا تو میں نے وہ چیزیں دیکھیں جن کا تم اپنے دنیاوی معاملات کے حوالے سے اور اپنی آخرت میں سامنا کرو گے ، اللہ کی قسم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک نبوت کے تیس جھوٹے دعوے دار نہیں نکلیں گے ، جن میں سے آخر میں کانا دجال ہو گا ، جس کی بائیں آنکھ ضائع ہو چکی ہو گی ، وہ ابوتحیا کی آنکھ کی مانند ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے ایک بوڑھے شخص کے بارے میں یہ بات کہی جو انصار سے تعلق رکھتا تھا ، اور اس وقت نبی اکرم ﷺ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب وہ نکلے گا ، تو وہ یہ کہے گا : وہ اللہ ہے ، جو شخص اس پر ایمان لائے گا اور اس کی تصدیق کرے گا اور اس کی پیروی کرے گا ، تو اس شخص نے اس سے پہلے جو بھی نیک عمل کیا ہو گا ، وہ اسے فائدہ نہیں دے گا ، اور جو شخص اس کو جھٹلائے گا اس کی تکذیب کرے گا ، تو اس شخص کے کسی عمل کے حوالے سے اسے سزا نہیں دی جائے گی ، جو عمل اس نے پہلے کیا تھا ( یہاں کچھ الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، تاہم اس کا مفہوم یہی ہے ) وہ عنقریب ظاہر ہو گا ، پوری روے زمین پر غالب آ جائے گا ، صرف حرم اور بیت المقدس پر غالب نہیں آئے گا ، اس وقت اہل ایمان بیت المقدس میں قلعہ بند ہو جائیں گے ، پھر وہاں شدید زلزلہ آئے گا اور پھر اللہ تعالیٰ دجال کو ہلاکت کا شکار کرے گا ، یہاں تک کہ کسی دیوار کی بنیاد یا کسی درخت کی جڑ پکار کر یہ کہے گی : اے مومن ، یا اے مسلمان ! یہ یہودی ہے یا یہ کافر ہے ، تم آؤ اور اسے قتل کر دو ( یہ تمام شک راویوں کو ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک تم لوگ ایسے امور نہیں دیکھ لو گے ، جن کے بارے میں تم پریشانی کا شکار ہو گے ، اور ایک دوسرے سے دریافت کرو گے کہ کیا تمہارے نبی ﷺ نے ان میں سے کسی چیز کے بارے میں تمہارے سامنے ذکر کیا ہے ؟ اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک پہاڑ اپنی جگہ سے ہل نہیں جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر اس کے بعد قبض کرنا ہو گا ( یعنی دنیا ختم ہو جائے گی ) ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک مرتبہ میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں موجود تھا ۔ انہوں نے اس خطبہ میں یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے کوئی ایک کلمہ اپنی جگہ سے نہ آگے کیا نہ پیچھے کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جو شخص اللہ ( کے دین ) کو مضبوطی سے تھام لے گا ، اور یہ کہے گا : میرا پروردگار تو اللہ تعالیٰ ہے ، جو زندہ ہے ، جسے موت نہیں آئے گی ، تو اس شخص کو کوئی عذاب نہیں ہو گا ، اور جو شخص دجال سے یہ کہے گا : تو میرا پروردگار ہے ، تو وہ آزمائش میں مبتلا ہو جائے گا ۔‘‘

12520

Majma al-Zawaid #12520

«وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْجُمُعَةُ أَمَرَنَا فَاغْتَسَلْنَا، ثُمَّ أَتَيْنَا بِطِيبٍ فَتَطَيَّبْنَا، ثُمَّ جِئْنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْنَا. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَكُونُ لِلْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةُ أَمْصَارٍ: مِصْرٌ بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ، وَمِصْرٌ بِالْحَيْرَةِ، وَمِصْرٌ بِالشَّامِ، فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ، فَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أَعْرَاضِ النَّاسِ فَيَهْزِمُ مَنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، فَأَوَّلُ مِصْرٍ يَرِدُونَ الْمِصْرَ الَّذِي بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ، فِرْقَةٌ تَبْقَى تَقُولُ: نُشَامُّهُ نَنْظُرُ مَا هُوَ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْأَعْرَابِ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ، وَمَعَ الدَّجَّالِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ، فَأَكْثَرُ تَبَعِهِ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ. ثُمَّ يَأْتِي الْمِصْرَ الَّذِي يَلِيهِمْ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ، فِرْقَةٌ تَقُولُ: نُشَامُّهُ نَنْظُرُ مَا هُوَ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْأَعْرَابِ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَقَبَةِ أَفِيقَ فَيَبْعَثُونَ سَرْحًا لَهُمْ، فَيُصَابُ سَرْحُهُمْ فَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، وَتُصِيبُهُمْ مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ شَدِيدٌ، حَتَّى أَنَّ أَحَدَهُمْ لَيَخْرِقُ وَتَرَ قَوْسِهِ فَيَأْكُلُهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّحَرِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَتَاكُمُ الْغَوْثُ، ثَلَاثًا، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ رَجُلٍ شَبْعَانَ. وَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَيَقُولُ لَهُ أَمِيرُهُمْ: يَا رَوْحَ اللَّهِ، تَقَدَّمْ فَصَلِّ. فَيَقُولُ: هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ. فَيَتَقَدَّمُ أَمِيرُهُمْ فَيُصَلِّي، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَخَذَ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - حَرْبَتَهُ فَيَذْهَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ، فَإِذَا رَآهُ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرُّصَاصُ، فَيَضَعُ حَرْبَتَهُ بَيْنَ ثَنْدُوَتَيْهِ فَيَقْتُلُهُ، وَيَنْهَزِمُ أَصْحَابُهُ، فَلَيْسَ شَيْءٌ يَوْمَئِذٍ يُوَارِي مِنْهُمْ أَحَدًا، حَتَّى أَنَّ الشَّجَرَةَ لَتَقُولُ: يَا مُؤْمِنُ، هَذَا كَافِرٌ، وَيَقُولُ الْحَجَرُ: يَا مُؤْمِنُ، هَذَا كَافِرٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Naḍrah reported that they came to ʿUthmān ibn Abī al-ʿĀṣ رضي الله عنه on Friday to collate their muṣḥaf, were ordered to bathe and perfume and sit in the mosque, where he said he heard the Messenger of Allah ﷺ foretell three Muslim garrisons at the junction of two seas and at al-Ḥīrah and in Shām, three frights, the Dajjāl among people repelled from the east, first reaching the junction town whose people split into examiners and desert-joiners and joiners of the next town, with seventy thousand cloaked and most followers Jews and women, then the next town likewise splitting toward western Shām, Muslims withdrawing to ʿAqabat Afīq, their herds struck, severe hunger till eating bowstrings, then a dawn caller thrice relief has come, deemed a satiated voice, then ʿĪsā ibn Maryam at Fajr, his commander inviting him forward while he says this Ummah are commanders over one another, the commander leading, then ʿĪsā taking his spear toward the Dajjāl who melts like lead, placing it between his clavicles killing him, his companions routed, nothing sheltering them till tree and stone say O believer, this kāfir. > **"There will be three garrisons of the Muslims: a garrison at the junction of the two seas, and a garrison at al-Ḥīrah, and a garrison in Shām. People are seized by three frights. The Dajjāl emerges among people and is repelled from the east. The first garrison he comes to is the garrison at the junction of the two seas: its people become three bands, a band remaining saying, we examine him and see what he is, a band joining the Bedouins, and a band joining the garrison next to them. With the Dajjāl are seventy thousand wearing cloaks, most of his followers the Jews and the women. The Muslims withdraw to ʿAqabat Afīq. O people, relief has come to you. This Ummah are commanders, some over others. O believer, this kāfir."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے پاس جمعہ کے دن آئے تاکہ ان کے سامنے اپنا قرآن مجید پیش کریں اور ان کے قرآن مجید کے ساتھ ملا لیں ، جب جمعہ کا وقت ہوا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا ، ہم نے غسل کیا ، پھر وہ ہمارے پاس خوشبو لے کر آئے ، ہم نے خوشبو لگائی ، پھر ہم مسجد میں آئے ، پھر ہم بیٹھ گئے ، پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے ، ایک شہر دو سمندروں کے ملنے کی جگہ کے پاس ہو گا ، ایک شہر حیرہ میں ہو گا ، اور ایک شہر شام میں ہو گا ، لوگ تین مرتبہ پریشانی کا شکار ہوں گے ، دجال لوگوں کے درمیان نکلے گا ، مشرق کی طرف سے اسے پسپا کر دیا جائے گا ، تو وہ لوگ جو سب سے پہلے اسے مسترد کریں گے ، وہ اس شہر کے لوگ ہوں گے جو دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ہے ، وہاں رہنے والے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ یہ کہے گا : ہم اس کے پاس جا کر اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ کیا ، ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ جا کے مل جائے گا ، اور ایک گروہ اس کے ساتھ والے شہر میں چلا جائے گا ، دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے ، جن کے جسم پر سبز طیلسانی کپڑے ہوں گے ، اس کے زیادہ تر پیروکار یہودی اور خواتین ہوں گے ، پھر وہ والے شہر میں آئے گا ، وہاں کے رہنے والے بھی تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ کہے گا : ہم اس کے پاس جا کے اس کا جائزہ لیتے ہیں ، یہ کیا ہے ، ایک گروہ دیہاتیوں کے پاس چلا جائے گا ، اور ایک گروہ اس کے ساتھ والے شہر میں چلا جائے گا ، جو شام کے مغربی حصے میں موجود ہو گا ، مسلمان اس وقت افیق نامی گھاٹی کے پاس اکٹھے ہو جائیں گے ، پھر وہ اپنے جانوروں کو بھیجیں گے ، تو ان کے جانوروں کو نقصان پہنچا دیا جائے گا ( یا وہ جانور مر جائیں گے ) یہ بات ان پر بہت گراں گزرے گی اور مسلمانوں کو شدید بھوک لاحق ہو جائے گی اور سخت مشقت لاحق ہو گی ، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک شخص اپنی کمان کے تانت کو چیر کر اسے کھائے گا ، ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے لوگو ! مدد تمہارے پاس آ گئی ہے ۔ وہ تین مرتبہ یہ کہے گا ، تو لوگ کہیں گے یہ تو کسی سیر شخص کی آواز لگتی ہے ، پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نزول کریں گے ، یہ فجر کی نماز کے قریب کی بات ہو گی ، مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا : اے روح اللہ ! آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں ، تو وہ فرمائیں گے : اس امت کے لوگ ایک دوسرے کے امیر ہیں ، تو مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کے نماز پڑھائے گا ، جب وہ نماز ختم کر لے گا ، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا نیزہ پکڑیں گے ، اور پھر دجال کی طرف چل پڑیں گے ، جب دجال انہیں دیکھے گا تو وہ یوں پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے ، پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اپنا نیزہ اس کے سینے پر رکھ کر اسے قتل کر دیں گے ، اور دجال کے ساتھی پسپا ہو جائیں گے ، اس وقت جو بھی چیز ان ( کفار ) میں سے جس بھی شخص کو چھپائے گی ، یہاں تک کہ اگر کوئی درخت ہو گا ، تو وہ یہ کہے گا : اے مومن ! یہ کافر موجود ہے ، پتھر ہو گا ، تو وہ یہ کہے گا : یہ کافر موجود ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12521

Majma al-Zawaid #12521

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ رَأْسَ الدَّجَّالِ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ، فَمَنْ قَالَ: أَنْتَ رَبِّي، افْتُتِنَ، وَمَنْ قَالَ: كَذَبْتَ، رَبِّيَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، فَلَا يَضُرُّهُ "". أَوْ قَالَ: "" فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Hishām ibn ʿĀmir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described the Dajjāls head braided behind, with whoever says you are my lord tried, and whoever says you lie, my Lord is Allah, upon Him I rely, unharmed, or no fitnah upon him. > **"The head of the Dajjāl from behind is braided, braided. Whoever says, you are my lord, is tried, and whoever says, you lie, my Lord is Allah, upon Him I rely, he is not harmed. There is no fitnah upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال کے سر پر پیچھے کی طرف بالوں کی لٹیں ہوں گی جو شخص یہ کہے گا : تو میرا پروردگار ہے ، وہ آزمائش کا شکار ہو جائے گا ، اور جو شخص یہ کہے گا : تم جھوٹ بول رہے ہو ، میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، میں اسی پر توکل کرتا ہوں ، تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کو فتنہ لاحق نہیں ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔

12522

Majma al-Zawaid #12522

«وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِالْمَدِينَةِ قَدْ أَطَافَ النَّاسُ بِهِ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: "" إِنَّ بَعْدَكُمُ الْكَذَّابَ الْمُضِلَّ، وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ حُبُكٌ، وَإِنَّهُ سَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَمَنْ قَالَ: لَسْتَ بِرَبِّنَا وَلَكِنَّ رَبَّنَا اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبْنَا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شِرْكٍ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Qilābah reported seeing a man in Madīnah surrounded by people narrating that the Messenger of Allah ﷺ said, and he was a Companion, heard saying after them comes the misleading liar with knotted hair behind, claiming I am your lord, with safety for whoever disowns him and holds to Allah and turns to Him and seeks refuge from shirk. > **"After you is the misleading liar, his head from behind knotted, knotted, knotted. He will say, I am your lord. Whoever says, you are not our lord but our Lord is Allah, upon Him we rely and to Him we turn, we seek refuge with Allah from shirk, he has no power over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : میں نے مدینہ منورہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ جس کے گرد لوگ چکر لگاتے تھے اور وہ یہ بیان کر رہا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے ، راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ تمہارے بعد گمراہ کرنے والا کذاب ہو گا جس کے سر پر پیچھے کی طرف بالوں کی لٹیں ہوں گی اور وہ یہ کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، جو شخص یہ کہے گا : تو ہمارا پروردگار نہیں ہے بلکہ ہمارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، ہم نے اسی پر توکل کیا اور ہم اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں ، اور ہم اس شخص سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ، جو شرک کرے ، تو دجال کو اس پر غلبہ حاصل نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12523

Majma al-Zawaid #12523

«وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ: أَتَيْنَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا تُحَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّاسِ، فَشَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا، فَقَالَ: "" أُنْذِرُكُمُ الْمَسِيحَ، وَهُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - الْيُسْرَى، يَسِيرُ مَعَهُ جِبَالُ الْخُبْزِ وَأَنْهَارُ الْمَاءِ، عَلَامَتُهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، يَبْلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ، لَا يَأْتِي أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ: الْكَعْبَةَ وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَالطُّورَ، وَمَهْمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ ""، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: أَحْسَبُهُ قَالَ: "" يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحَيِّيهِ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Junādah ibn Abī Umayyah رضي الله عنه reported that he and others came to an Anṣārī Companion and pressed him to narrate only what he heard from the Messenger of Allah ﷺ, not from people, whereupon he told that the Prophet ﷺ stood among them warning of the Masīḥ wiped in the left eye, with mountains of bread and rivers of water, remaining forty mornings with dominion reaching every watering place, not entering four mosques, and Allah not one-eyed, with Ibn ʿAwn adding power over one man alone killed then revived. > **"I warn you of the Masīḥ, wiped in the eye, the left. With him journey mountains of bread and rivers of water. His mark is remaining in the earth forty mornings, his dominion reaching every watering place. He comes to no four mosques: the Kaʿbah and the mosque of the Messenger and al-Masjid al-Aqṣā and al-Ṭūr. Whatever is dubious to you, know Allah is not one-eyed. He is given power over a man, killing him then giving him life, and given power over none besides him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جنادہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کے پاس آئے ، ہم ان کے پاس آئے ، ہم نے کہا : آپ ہمیں وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ سے سنی ہے ، آپ کوئی ایسی بات بیان نہ کیجئے گا ، جو آپ نے لوگوں سے سنی ہو ، ہم نے اس بارے میں ان سے زیادہ گزارش کی ، تو انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں دجال سے تمہیں ڈرا رہا ہوں ، اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی ، اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی ، اس کی علامت یہ ہے کہ وہ زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، اور اس کی بادشاہی ہر چشمے تک پہنچ جائے گی ، تاہم وہ چار مساجد تک نہیں آ سکے گا ، خانہ کعبہ ، مسجد نبوی ، مسجد اقصیٰ اور مسجد طور ، بہرحال جو بھی ہو ، تم یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ۔‘‘ ابن عون کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں :” اسے ایک شخص پر تسلط دیا جائے گا ، وہ اسے قتل کر دے گا ، پھر وہ اسے زندہ کرے گا ، اس شخص کے علاوہ کسی پر اس کو تسلط نہیں کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12524

Majma al-Zawaid #12524

«وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَزْدِيِّ قَالَ: ذَهَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ عَنِ الدَّجَّالِ. قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ - ثَلَاثًا - فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا أَنْذَرَهُ، وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ، وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٍ مِنْ مَاءٍ، وَإِنَّهُ يُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَا يُنْبِتُ الشَّجَرَ، وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا، وَإِنَّهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ كُلَّ مَنْهَلٍ، لَا يَقْرَبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ: مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ الطُّورِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَمَا شُبِّهَ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ رَبَّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Junādah ibn Abī Umayyah al-Azdī reported that he and an Anṣārī went to a Companion asking for a ḥadīth heard from the Messenger of Allah ﷺ about the Dajjāl, who told that the Prophet ﷺ preached thrice warning, every prophet warned, he is among this Ummah, curly wheat-hued wiped left eye with garden and fire and bread mountains and water river, raining without growing, power over one soul alone, forty mornings reaching every watering place, not nearing four mosques, and their Lord not one-eyed. > **"I warn you of the Dajjāl, I warn you of the Dajjāl, I warn you of the Dajjāl. No prophet but warned of him. He is among you, O Ummah. He is curly wheat-hued, wiped left eye, with him a garden and a fire, with him mountains of bread and a river of water. He rains rain yet grows no trees. He is given power over a soul, killing it, and given power over none besides it. He remains in the earth forty mornings reaching every watering place, not approaching four mosques: the Sacred Mosque and the mosque of Madīnah and the mosque of al-Ṭūr and al-Masjid al-Aqṣā. Whatever is dubious to you, your Lord is not one-eyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جنادہ بن ابوامیہ ازدی بیان کرتے ہیں : میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، نبی اکرم ﷺ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے پاس گئے ، ہم نے کہا : آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو ، جس میں نبی اکرم ﷺ نے دجال کے بارے میں ذکر کیا ہو ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں دجال سے ڈرا رہا ہوں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( پھر فرمایا : ) ہر نبی نے اس سے ڈرایا ہے ، اور اے امت ! وہ تمہارے درمیان ظاہر ہو گا ، وہ بکھرے ہوئے بالوں والا گندمی رنگت کا مالک شخص ہو گا ، اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی ، اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ، اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ ہوں گے ، اور پانی کی نہر ہو گی ، وہ بارش نازل کروائے گا ، لیکن وہ پیداوار نہیں کر سکے گی ، اسے ایک شخص پر مسلط کیا جائے گا ، وہ اسے قتل کر دے گا ، اسے اس شخص کے علاوہ کسی اور شخص پر مسلط نہیں کیا جائے گا ، وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا ، وہ ہر جگہ تک پہنچ جائے گا لیکن وہ چار مسجدوں کے قریب نہیں آ سکے گا ، مسجد حرام ، مسجد نبوی ، مسجد طور اور مسجد اقصیٰ اور تمہیں اس کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12525

Majma al-Zawaid #12525

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنَ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ، وَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يُسَيِّحُهَا فِي الْأَرْضِ، الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ، ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ، وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا، فَيَقُولُ لِلنَّاسِ: أَنَا رَبُّكُمْ، وَهُوَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ [ك ف ر] مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ، يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ، وَقَامَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا، مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ، وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنِ تَبَعَهُ، وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ، نَهْرٌ يَقُولُ الْجَنَّةُ وَنَهْرٌ يَقُولُ النَّارُ، فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ، وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ "". قَالَ: "" وَتُبْعَثُ مَعَهُ شَيَاطِينُ تُكَلِّمُ النَّاسَ، وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ، يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ، فَيَقُولُ لِلنَّاسِ: أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ؟ "". قَالَ: "" فَيَفِرُّ النَّاسُ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ فِي الشَّامِ فَيُحَاصِرُهُمْ، فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا. ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَيُنَادِي مِنَ السَّحَرِ فَيَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى هَذَا الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ؟ فَيَقُولُونَ: هَذَا رَجُلٌ جِنِيٌّ، فَيَنْطَلِقُونَ. فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَيُقَالُ لَهُ: تَقَدَّمْ يَا رَوْحَ اللَّهِ. فَيَقُولُ: لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَيُصَلِّي بِكُمْ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ خَرَجَ إِلَيْهِ "". قَالَ: "" فَحِينَ يَرَاهُ الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ، فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ، حَتَّى أَنَّ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ يُنَادِي: هَذَا يَهُودِيٌّ، فَلَا يُتْرَكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا تَبِعَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَلِجَابِرٍ حَدِيثٌ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ فِي الْحَجِّ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said the Dajjāl emerges amid faltering religion and retreating knowledge, with forty nights roaming earth, a day like a year and like a month and like a week then as their days, riding a donkey forty cubits between ears, saying I am your lord while one-eyed and their Lord not one-eyed, kāfir spelled between his eyes read by every believing literate and illiterate, reaching every water except Madīnah and Makkah forbidden him with angels at gates, mountains of bread while people hunger except followers, two rivers whose true nature the Prophet knows better, his garden fire and his fire garden, devils speaking to people with great fitnah, commanding sky to rain before eyes and asking who but a lord does this, people fleeing to Jabal al-Dukhān in Shām besieged in dire hardship, then ʿĪsā calling at dawn who prevents going out to the vile liar, deemed a jinnī, finding ʿĪsā at prayer, inviting Rūḥ Allah forward while he bids their imam lead, then after Fajr going out, the liar melting like salt in water, ʿĪsā killing him till trees and stones call, no follower left but pursued. > **"The Dajjāl emerges amid faltering religion and retreating knowledge. He has forty nights roaming the earth: a day of them like a year, and a day of them like a month, and a day of them like a week, then the rest of his days as these days of yours. He has a donkey he rides, forty cubits between its ears. He says to people, I am your lord, while he is one-eyed and your Lord is not one-eyed. Written between his eyes is kāfir, spelled, read by every believer literate and illiterate. He comes to every water and watering place except Madīnah and Makkah, forbidden him, with angels standing at their gates. With him are mountains of bread, and people are in hardship except whoever follows him. With him are two rivers, I know them better than he: a river he calls garden and a river he calls fire. Whoever enters what he names garden, it is fire, and whoever enters what he names fire, it is garden. With him are sent devils speaking to people, and with him a great fitnah. He commands the sky and it rains as people see. O people, does any but a lord do the like of this. O people, what prevents you going out to this vile liar. The imam of yours should advance and pray with you. When the liar sees him he melts as salt melts in water. This is a Jew."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال دین کے کمزور ہونے اور علم کے رخصت ہونے کے وقت نکلے گا ، اس کی چالیس راتیں ہوں گی ، وہ پوری زمین میں گھومے گا ، ان راتوں میں سے ایک دن ایک سال کی مانند ہو گا ، ایک دن ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک دن ایک ہفتے کی مانند ہو گا ، اور باقی کے دن تمہارے عام دنوں کی مانند ہوں گے ، اس کے پاس ایک گدھا ہو گا جس کے دونوں کانوں کے درمیان کی چوڑائی چالیس ذراع ہو گی ، وہ لوگوں سے کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، حالانکہ وہ کانا ہو گا ، اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر یعنی ک ف ر لکھا ہوا ہو گا ، جو ہجوں کی شکل میں ہو گا ، جسے ہر پڑھا لکھا یا غیر پڑھا لکھا مومن پڑھ سکے گا ، وہ ہر پانی اور گھاٹ تک آئے گا ، صرف مدینہ منورہ اور مکہ نہیں آئے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں شہر اس کے لئے حرام قرار دیے ہیں ، ان شہروں کے دروازوں پر فرشتے کھڑے ہوئے ہیں ، دجال کے ساتھ روٹی کے پہاڑ ہوں گے اور لوگ اس وقت فاقہ کشی کا شکار ہوں گے ، البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اس کی پیروی کر رہے ہوں گے ، دجال کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ، میں ان دونوں کے بارے میں دجال سے زیادہ بہتر جانتا ہوں ، ایک نہر جس کے بارے میں وہ یہ کہے گا : یہ جنت ہے اور ایک نہر جس کے بارے میں وہ یہ کہے گا : یہ جہنم ہے ، تو جو شخص اس میں داخل ہو گا ، جسے وہ جنت کا نام دے گا ، تو وہ درحقیقت جہنم ہو گی اور جو شخص اس میں داخل ہو گا ، جسے اس نے جہنم کا نام دیا ہو گا ، تو وہ درحقیقت جنت ہو گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے ساتھ شیاطین کو بھیجا جائے گا ، جو لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں گے ، اور ان کے ساتھ بڑا فتنہ ہو گا ، وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش نازل کرے گا ، جو لوگوں کو نظر آ رہا ہو گا ، پھر وہ لوگوں کو کہے گا : اے لوگو ! کیا یہ کام صرف رب ہی کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگ نکل کر شام میں موجود جبل دخان کے پاس جائیں گے وہ ان کا محاصرہ کر لے گا ، ان کا محاصرہ شدید ہو جائے گا ، اور ان لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو جائے گی ، پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نزول کریں گے ، اور وہ بلند آواز میں پکار کر یہ کہیں گے : اے لوگو ! تمہیں کس چیز نے اس بات سے روکا ہوا ہے کہ تم اس خبیث کذاب کی طرف نکل کے جاؤ تو وہ لوگ کہیں گے : یہ شخص جن ہے ، پھر وہ لوگ جائیں گے ، تو وہاں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے ، پھر نماز کھڑی ہو گی تو ان سے کہا جائے گا : اے روح اللہ ! آپ آگے آئیں ، تو وہ فرمائیں گے : تمہارے امام کو آگے ہونا چاہیے ، وہ امام تمہیں نماز پڑھائے ، جب وہ صبح کی نماز ادا کر لیں گے تو نکل کر اس کی طرف جائیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کذاب انہیں دیکھے گا تو وہ یوں پگھلنا شروع ہو گا جس طرح نمک پانی میں حل ہو جاتا ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام چلتے ہوئے اس کے پاس جائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے ، یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی پکار کر یہ کہیں گے کہ یہ یہودی ( میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ) تو اس کے پیروکاروں میں سے ہر ایک کو وہ قتل کر دیں گے ۔ یه روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اس سے پہلے کتاب الحج میں مدینہ منورہ کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

12526

Majma al-Zawaid #12526

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ [سَنَةً]: تَمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالثَّانِيَةَ تَمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا، وَالثَّالِثَةَ تَمْسِكُ السَّمَاءَ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ، وَلَا تَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَتْ، وَإِنَّ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنْ يَأْتِيَ الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ ". قَالَ: " فَيَقُولُ: بَلَى. فَتُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا تَكُونُ ضُرُوعُهَا وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً ". قَالَ: " وَيَأْتِي الرَّجُلُ قَدْ مَاتَ أَبُوهُ وَمَاتَ أَخُوهُ، فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَحْيَيْتُ لَكَ أَخَاكَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى. فَتُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ ". ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَةٍ لَهُ، ثُمَّ رَجَعَ. قَالَتْ: وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ. قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلُحْمَتَيِ الْبَابِ، وَقَالَ: " مَهْيَمْ أَسْمَاءُ ". قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ. قَالَ: " إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ، وَإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ ". قَالَتْ أَسْمَاءُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجْنَتَنَا فَمَا نَخْبِزُهَا حَتَّى نَجُوعَ، فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: " يُجْزِيُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ»

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint Yazīd al-Anṣāriyyah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ was in her house mentioning the Dajjāl, telling of three years before him withholding a third then two-thirds then all rain and growth till every cloven and molar beast perishes, his severest trial coming to a Bedouin offering to revive his camels for lordship acknowledged, devils imaged as finest camels, and to a bereaved man offering father and brother, devils imaged as them, then the Prophet ﷺ left for a need and returned to grieving people, grasped the doorposts and said mahyam, Asmāʾ saying he tore their hearts, he answering if he emerges while alive he contends him else his Lord suffices every believer, and when she asked how believers eat while dough hungers them before baking, he said glorification and sanctification as suffices heaven-dwellers suffices them. > **"Before him are three years: the sky withholds a third of its rain and the earth a third of its growth, then a second withholds two-thirds of its rain and the earth two-thirds of its growth, then a third withholds all its rain and the earth all its growth. No cloven nor molar beast remains but perishes. Among his severest fitnah is coming to a Bedouin saying, if I revive your camels for you, do you not know I am your lord. The devils image for him like his camels finest in udders and greatest in humps. He comes to a man whose father and brother died, saying, if I revive your father and your brother for you, do you not know I am your lord. Mahyam, O Asmāʾ. If he emerges while I am alive, I contend him, else my Lord suffices every believer. What suffices the heaven-dwellers of tasbīḥ and taqdīs suffices them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے گھر میں موجود تھے ، آپ ﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت سے پہلے تین سال قحط سالی کے ہوں گے ، ان کے دوران ( پہلے سال میں ) آسمان اپنی بارش کے ایک تہائی حصے کو روک لے گا ، زمین اپنی پیداوار کے ایک تہائی حصے کو روک لے گی ، پھر دوسری مرتبہ آسمان اپنی بارش کے دو تہائی حصے کو روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کے دو تہائی حصے کو روک لے گی اور تیسری مرتبہ آسمان اپنی پوری بارش کو روک لے گا ، اور زمین اپنی پوری پیداوار کو روک لے گی ، اس وقت کوئی کھروں والا یا دانتوں والا جانور باقی نہیں رہے گا ، وہ ( سب ) ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، اور اس کے فتنے میں سب سے زیادہ سخت یہ بات ہو گی کہ وہ کسی دیہاتی کے پاس آ کر کہے گا : تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر میں تمہارے اونٹ کو تمہارے لئے زندہ کر دوں ، تو کیا تم یہ بات نہیں جان لو گے کہ میں تمہارا پروردگار ہوں ، تو وہ دیہاتی کہے گا : جی ہاں ، تو شیاطین اس شخص کے سامنے اس کے اونٹ کی مانند بن کے آ جائیں گے ، جس کے تھن پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے اور جس کی کوہان پہلے سے زیادہ بڑی ہو گی ، نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : ایک شخص آئے گا جس کا باپ یا بھائی انتقال کر چکے ہوں گے ، تو دجال کہے گا : اگر میں تمہارے باپ کو تمہارے لئے زندہ کر دوں یا تمہارے بھائی کو تمہارے لئے زندہ کر دوں ، تو کیا تم یہ بات نہیں جان لو گے کہ میں تمہارا پروردگار ہوں ، وہ شخص جواب دے گا : جی ہاں ۔ تو وہ شیاطین اس کے سامنے اس کے باپ کی مانند یا اس کے بھائی کے مانند بن کے آ جائیں گے ، پھر نبی اکرم ﷺ کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے ، جب آپ واپس تشریف لائے ، تو راوی خاتون بیان کرتی ہیں : لوگ پریشانی کا شکار تھے اور نبی اکرم ﷺ نے انہیں جو بات بتائی تھی ، اس کے حوالے سے غمگین تھے ، راوی خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا اور فرمایا : اے اسماء کیا ہوا ہے ، راوی خاتون کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دجال کا ذکر کر کے آپ نے ہمیں پریشان کر دیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر وہ نکلا اور میں اس وقت زندہ ہوا تو میں اس کے لئے رکاوٹ بن جاؤں گا ورنہ میرا پروردگار میری جگہ ہر مومن کے لئے کافی ہو گا ۔‘‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! ہم آٹا گوندھتی ہیں ، اور ابھی ہم نے روٹی نہیں پکائی ہوئی ہوتی کہ ہمیں بھوک لگ جاتی ہے ، تو اس وقت مومنین کا کیا عالم ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مومنین کے لئے وہ چیز کفایت کر جائے گی جو آسمان والوں کے لئے کفایت کر جاتی ہے ، جس کا تعلق تسبیح و تقدیس سے ہے ۔

12527

Majma al-Zawaid #12527

وَفِي رِوَايَةٍ «: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ مَجْلِسًا مَرَّةً فَحَدَّثَهُمْ عَنْ أَعْوَرَ الدَّجَّالِ، وَزَادَ فِيهِ: فَقَالَ: "" مَهْيَمْ "". وَكَانَتْ كَلِمَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَقُولُ: "" مَهْيَمْ ""، وَزَادَ "" فَمَنْ حَضَرَ مَجْلِسِي وَسَمِعَ كَلَامِي مِنْكُمْ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - صَحِيحٌ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَأَنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ، وَفِي إِحْدَاهَا "" «يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِهِ سُنُونَ خَمْسٌ جُدْبٌ»، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوَشْبٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint Yazīd رضي الله عنها reported in a narration that the Messenger of Allah ﷺ once sat and spoke of the one-eyed Dajjāl, saying mahyam, his word when asked, commanding witnesses to convey to the absent, declaring Allah sound not one-eyed while the Dajjāl is wiped with kāfir between his eyes read by every believing literate and illiterate, with one route adding five barren years before emergence. > **"Mahyam. Whoever of you attends my gathering and hears my speech, let the witness convey to the absent. Know Allah is sound, not one-eyed, and the Dajjāl is one-eyed wiped, between his eyes written kāfir, read by every believer literate and illiterate. Before his emergence are five barren years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ ایک محفل میں تشریف فرما تھے ، آپ نے کانے دجال کے بارے میں ان لوگوں کو بتایا ، اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میہم ! یہ وہ کلمہ ہے ، جو نبی اکرم ﷺ اس وقت ارشاد فرماتے تھے جب کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جاتا تھا تو آپ یہ فرماتے تھے : میہم ! اور اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ’’ تم میں سے جو شخص میری محفل میں موجود ہے ، اور اس نے میرا کلام سنا ہے تو موجود شخص غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دے اور تم لوگ یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ صحیح ہے ۔ وہ کانا نہیں ہے اور دجال کانا ہو گا اس کی ایک آنکھ نہیں ہو گی اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص ( ہر کوئی ) پڑھ سکے گا ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے مختلف طرق سے نقل کی ہیں ۔ اس کے ایک طرق میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اس کے خروج سے پہلے کے پانچ سال قحط سالی کے ہوں گے ......‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12528

Majma al-Zawaid #12528

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَيَنْزِلَنَّ الدَّجَّالُ خَوْزَ وَكَرْمَانَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَّانِ الْمُطْرَقَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَتَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ swear the Dajjāl will alight at Khūz and Kirmān among seventy thousand faces like hammered shields. > **"The Dajjāl will alight at Khūz and Kirmān among seventy thousand, their faces like hammered shields."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’ دجال ستر ہزار لوگوں کے ساتھ خوض اور کرمان میں پڑاؤ کرے گا ، ان لوگوں کے چہرے اوپر نیچے تہہ والی ڈھالوں کی مانند ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اور یہ روایت امام بزار نے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔

12529

Majma al-Zawaid #12529

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَجْمَعِ السُّيُولِ، فَقَالَ: "" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَنْزِلِ الدَّجَّالِ مِنَ الْمَدِينَةِ؟ هَذَا مَنْزِلُهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ rode to the confluence of torrents and asked shall he tell of the Dajjāls station from Madīnah, pointing to his station. > **"Shall I not tell you of the Dajjāls station from Madīnah. This is his station."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سوار ہو کر نالوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ پر پہنچے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں یہ بات نہ بتاؤں کہ مدینہ منورہ میں دجال کے پڑاؤ کرنے کی جگہ کون سی ہو گی ؟ یہ اس کے پڑاؤ کی جگہ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12530

Majma al-Zawaid #12530

وَعَنْهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَمَسِيحُ الضَّلَالَةِ، فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ، فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهَا، وَسَأَشْدُو لَكُمْ مِنْهَا، أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ، عَرِيضُ النَّحْرِ، فِيهِ دَفَأٌ كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ؟ قَالَ: "" لَا، أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said he came out with Laylat al-Qadr and the Masīḥ of misguidance made clear, then two men quarrelled at the mosque bench and his intervening made him forget them, retaining to seek the Night in the last ten, describing the misguidance Masīḥ one-eyed clear-browed broad-chested stooping like Qaṭan ibn ʿAbd al-ʿUzzā, and when asked does his resemblance harm, answered no, the questioner Muslim and he kāfir. > **"I came out to you with Laylat al-Qadr and the Masīḥ of misguidance made clear. Two men quarrelled at the mosque bench, I came to separate them and was made to forget them. Seek Laylat al-Qadr in the last ten. As for the Masīḥ of misguidance, he is one-eyed, clear-browed, broad-chested, stooping, like Qaṭan ibn ʿAbd al-ʿUzzā. No, you are a Muslim man and he is a kāfir man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نکل کر تمہارے پاس آیا ، مجھے لیلۃ القدر کے بارے میں اور گمراہی والے دجال کے بارے میں بتایا گیا تھا ، تو مسجد کے دروازے کے پاس دو آدمی جھگڑا کر رہے تھے ، میں ان دونوں کے پاس آیا تاکہ ان کا جھگڑا ختم کروں ، تو مجھے یہ دونوں چیزیں بھلا دی گئیں ، البتہ میں ان میں سے تھوڑی سی چیز تمہارے سامنے ذکر کرتا ہوں ، جہاں تک شب قدر کا تعلق ہے ، تو تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور جہاں تک دجال کا تعلق ہے ، تو وہ کانا ہو گا اس کا ماتھا صاف ہو گا ( یعنی اس کے آگے کے بال نہیں ہوں گے ) اس کی پیشانی چوڑی ہو گی ، اس میں آگے کی طرف جھکنا ہو گا ، وہ قطن بن عبدالعزیٰ سے مشابہت رکھتا ہو گا ، اُن صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے ساتھ مشابہت رکھنا کیا مجھے نقصان پہنچائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ، تم ایک مسلمان شخص ہو اور وہ کافر شخص ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کے حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت آئے گی ۔

12531

Majma al-Zawaid #12531

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ: "" كَيْفَ بِكُمْ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِعَبْدٍ قَدْ سُخِّرَتْ لَهُ أَنْهَارُ الْأَرْضِ وَثِمَارُهَا؟ فَمَنِ اتَّبَعَهُ أَطْعَمَهُ وَأَكْفَرَهُ، وَمَنْ عَصَاهُ حَرَمَهُ وَمَنَعَهُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْجَارِيَةَ لَتَجْلِسُ عِنْدَ التَّنُّورِ سَاعَةً لِخُبْزِهَا فَأَكَادُ أَفْتَتِنُ فِي صَلَاتِي، فَكَيْفَ بِنَا إِذَا كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ يَعْصِمُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ بِمَا عَصَمَ بِهِ الْمَلَائِكَةَ مِنَ التَّسْبِيحِ، إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint ʿUmays رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ entered upon her for a need then left, she complained of want, and he asked how they will fare tried by a servant with earths rivers and fruits subjected, feeding followers and disbelieving them while depriving opponents, and when she said a slave-girl at the oven an hour for bread nearly unsettles her prayer, how then, he said Allah will protect believers that day as He protected angels, with kāfir between his eyes read by every believing literate and illiterate. > **"How will you fare when tried by a servant with the rivers of the earth and its fruits subjected to him. Whoever follows him, he feeds him and disbelieves him, and whoever disobeys him, he deprives and withholds from him. Allah will protect the believers that day with what He protected the angels thereby of tasbīḥ. Between his eyes is kāfir, read by every believer literate and illiterate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کسی کام کے سلسلے میں ان کے ہاں تشریف لائے ، پھر آپ تشریف لے گئے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے فاقہ کشی کی شکایت کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب تمہیں ایک ایسے بندے کے حوالے سے آزمائش میں مبتلاء کیا جائے گا کہ جس کے لئے زمین کی نہریں اور زمین کے پھل مسخر کر دیے جائیں گے ، جو شخص اس کی پیروی کرے گا وہ اسے کھانے کے لئے دے گا ، اور جو شخص اس کی نافرمانی کرے گا ، وہ اسے محروم رکھے گا اور روک دے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کنیز تنور کے پاس گھڑی بھر کے لئے بیٹھتی ہے ، تاکہ روٹی لگائے ، تو اسی دوران ( بھوک کی شدت کی وجہ سے ) میں اپنی نماز کے حوالے سے آزمائش کا شکار ہو جاتی ہوں ، تو جب اس طرح کی صورت حال ہو گی ، اس وقت ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس چیز کے حوالے سے بچا لے گا ، جس کے حوالے سے فرشتے بچے ہوئے ہیں ، اور وہ تسبیح ہے ، دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا ، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا پڑھا لکھا نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12532

Majma al-Zawaid #12532

«وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَجْمَعْكُمْ لِخَبَرٍ جَاءَ مِنَ السَّمَاءِ "". فَذَكَرَ حَدِيثَ الْجَسَّاسَةِ وَزَادَ فِيهِ "" هُوَ الْمَسِيحُ تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ طَيْبَةَ "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَطَيْبَةُ الْمَدِينَةُ، مَا بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ مُصْلِتٌ سَيْفَهُ يَمْنَعُهُ، وَبِمَكَّةَ مِثْلُ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ stood upon the minbar saying he gathered them for no heavenly news, then mentioned the ḥadīth of al-Jassāsah adding he is the Masīḥ for whom earth is folded in forty days except Ṭaybah, which is Madīnah with an unsheathed angel at every gate barring him, and likewise Makkah. > **"O people, I gathered you for no news from heaven. He is the Masīḥ, earth is folded for him in forty days except Ṭaybah. Ṭaybah is Madīnah: no gate of its gates but upon it an angel baring his sword barring him, and likewise at Makkah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! میں نے تمہیں اس لئے جمع نہیں کیا کہ آسمان سے کوئی خبر آئی ہے .......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے جساسہ والی روایت ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کے : ’’ وہ دجال ہو گا جس کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جائے گا ، وہ چالیس دن میں ( پوری زمین کا چکر لگا لے گا ) البتہ وہ طیبہ میں نہیں آ سکے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے ۔ اس کے ہر دروازے پر فرشتہ تلوار سونت کر کھڑا ہوا ہو گا ، جو اسے ( یعنی دجال کو ) اندر داخل ہونے نہیں دے گا ، اور مکہ میں بھی اسی طرح ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12533

Majma al-Zawaid #12533

«وَعَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ: هَلْ تُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ؟ فَقُلْتُ لَا، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ أَوْ أَكْثَرَ، مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي فِي أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ لَا تَخْفَى كَأَنَّهَا نُخَاعَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ، وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ، وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تُدَاخِّنُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ وَقَالَ فِي أُخْرَى: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Waddāk reported that Abū Saʿīd رضي الله عنه asked him whether the Khawārij affirm the Dajjāl, and hearing no, cited the Messenger of Allah ﷺ as seal of a thousand prophets or more, every followed prophet warning his Ummah, with clarification to him never given another, one-eyed while their Lord not one-eyed, right eye blind bulging unhidden like spittle on plastered wall, left like glittering star, with him of every tongue and a green image of garden with flowing water and a black smoking image of fire. > **"I am the seal of a thousand prophets or more. No prophet followed but warned his Ummah of the Dajjāl. Clarified to me concerning him what was clarified to none. He is one-eyed, and your Lord is not one-eyed. His right eye is blind bulging unhidden, like spittle on a plastered wall, and his left eye like a glittering star. With him is of every tongue, and with him an image of garden green with water flowing therein and an image of fire black smoking."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووداک بیان کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم لوگ خوارج کو دجال قرار دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میں ایک ہزار یا اس سے زیادہ ( یہ شک راوی کو ہے ) انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، جس بھی نبی کو پیدا کیا گیا ، جس کی پیروی کی گئی ، تو اس ( نبی ) نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میرے لئے اس کے حوالے سے ایک ایسی چیز کو واضح کیا گیا ہے ، جو کسی اور نبی کے لئے واضح نہیں کی گئی ، وہ ( یعنی دجال ) کانا ہو گا اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ اس کی دائیں آنکھ کانی ہو گی اور وہ ابھری ہوئی ہو گی جو چھپے گی نہیں ، وہ دیوار پر موجود بلغم کی طرح ہو گی ۔ اس کی بائیں آنکھ یوں ہو گی جیسے چمکتا ہوا ستارہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہر زبان ہو گی ( یعنی ہر زبان کے ماننے والے ہوں گے یا اسے ہر زبان آتی ہو گی ) اس کے ساتھ جنت کی شکل کی چیز ہو گی جو سرسبز ہو گی ، جس میں پانی چل رہا ہو گا ، اور جہنم کی شکل کی چیز ہو گی جو سیاہ ہو گی ، جس میں دھواں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی نے ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ قومی نہیں ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

12534

Majma al-Zawaid #12534

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِي هَذِهِ السَّبْخَةِ بِمَرِّ قَنَاةَ، فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْجِعُ إِلَى حَمِيمِهِ وَإِلَى أُمِّهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ وَعَمَّتِهِ فَيُوثِقُهَا رِبَاطًا مَخَافَةَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ، ثُمَّ يُسَلِّطُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ فَيَقْتُلُونَهُ وَيَقْتُلُونَ شِيعَتَهُ، حَتَّى إِنَّ الْيَهُودِيَّ لَيَخْتَبِئُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَوِ الْحَجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرَةُ لِلْمُسْلِمِ: هَذَا يَهُودِيٌّ تَحْتِي فَاقْتُلْهُ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said the Dajjāl alights in this salt flat at Marr Qanāh, most going out to him women, till a man returns to his kinswoman and mother and daughter and sister and aunt binding her fearing her exit, then Allah empowers Muslims killing him and his party till a Jew hides under tree or stone and it says to the Muslim, this Jew beneath me, kill him. > **"The Dajjāl alights in this salt flat at Marr Qanāh. Most going out to him are women, till a man returns to his kinswoman and to his mother and his daughter and his sister and his aunt, binding her fearing she goes out to him. Then Allah empowers the Muslims over him, killing him and killing his party, till a Jew hides under a tree or a stone, and the stone or the tree says to the Muslim, this Jew is beneath me, kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال مرقناة ‘‘ کے مقام پر اس شوریدہ زمین پر پڑاؤ کرے گا ، اس کے پاس نکل کر جانے والوں میں اکثریت عورتوں کی ہو گی ، یہاں تک کہ ایک شخص اپنے قریبی شخص یا اپنی ماں یا اپنی بیٹی یا اپنی پھوپھی کے پاس آئے گا ، اور اسے باندھ دے گا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ نکل کر اس ( دجال ) کے پاس نہ چلی جائے ، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر غلبہ عطا کرے گا ، اور مسلمان اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیں گے ، یہاں تک کہ کوئی یہودی کسی درخت کے یا پتھر کے پیچھے چھپے گا ، تو وہ پتھر یا درخت ، مسلمان سے کہیں گے : یہ یہودی میرے پیچھے موجود ہے ، تم اسے قتل کر دو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

12535

Majma al-Zawaid #12535

«وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ: "" أُحَذِّرُكُمُ الْمَسِيحَ وَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَكُلُّ نَبِيٍّ قَدْ حَذَّرَهُ قَوْمَهُ، وَهُوَ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ، وَسَأَحْكِي لَكُمْ مِنْ نَعْتِهِ مَا لَمْ تَحْكِ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلِي لِقَوْمِهِمْ، يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِهِ سُنُونَ خَمْسٌ جُدْبٌ حَتَّى يَهْلِكَ كُلُّ ذِي حَافِرٍ "". فَنَادَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبِمَ يَعِيشُ الْمُؤْمِنُونَ؟ قَالَ: "" بِمَا يَعِيشُ بِهِ الْمَلَائِكَةُ. وَهُوَ أَعْوَرُ، وَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْوَرَ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ، أَكْثَرُ مَنْ يَتَّبِعُهُ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ وَالْأَعْرَابُ، تَرَوْنَ السَّمَاءَ تُمْطِرُ وَهِيَ لَا تُمْطِرُ وَالْأَرْضَ تُنْبِتُ وَهِيَ لَا تُنْبِتُ، وَيَقُولُ لِلْأَعْرَابِ: مَا تَبْغُونَ مِنِّي؟ أَلَمْ أُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَأُحْيِي لَكُمْ أَنْعَامَكُمْ شَاخِصَةً ذُرَاهَا خَارِجَةً خَوَاصِرُهَا دَارَّةً أَلْبَانُهَا؟ وَتُبْعَثُ مَعَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ مَنْ مَاتَ مِنَ الْآبَاءِ وَالْإِخْوَانِ وَالْمَعَارِفِ، فَيَأْتِي أَحَدُهُمْ إِلَى أَبِيهِ وَأَخِيهِ وَذِي رَحِمِهِ فَيَقُولُ: أَلَسْتَ فُلَانًا؟ أَلَسْتَ تَعْرِفُنِي؟ هُوَ رَبُّكَ فَاتَّبِعْهُ، يُعَمَّرُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، السَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ، وَالْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ، وَالسَّاعَةُ كَاحْتِرَاقِ السَّعْفَةِ فِي النَّارِ، يَرِدُ كُلَّ مَنْهَلٍ إِلَّا الْمَسْجِدَيْنِ "". ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ فَسَمِعَ بُكَاءَ النَّاسِ وَشَهِيقَهُمْ، فَرَجَعَ فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَالَ: "" أَبْشِرُوا، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَاللَّهُ كَافِيكُمْ وَرَسُولُهُ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَلَا يَحْتَمِلُ مُخَالَفَتَهُ لِلْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ إِنَّهُ يَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَفِي هَذَا أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Asmāʾ bint Yazīd رضي الله عنها reported hearing the Messenger of Allah ﷺ among his Companions warning of the Masīḥ as every prophet warned, describing an unmentioned trait, five barren years before emergence destroying every hoofed creature, asked how believers live, answering as angels live, one-eyed while Allah not one-eyed, kāfir between eyes read by every believing literate and illiterate, followers most Jews women Bedouins, sky seen raining yet not raining and earth sprouting yet not sprouting, saying to Bedouins did I not send copious rain and revive cattle lofty humps bulging flanks flowing milk, devils sent in images of dead fathers brothers kin urging this is your lord follow him, remaining forty years with year like month and month like week and week like day and day like hour and hour like palm-frond burning, reaching every watering place but the two mosques, then the Prophet ﷺ rising for wuḍūʾ hearing weeping, returning and giving glad tidings that if he emerges while among them Allah and His Messenger suffice, and after him Allah is his caliph over every Muslim. > **"I warn you of the Masīḥ and warn you of him. Every prophet warned his people of him. He is among you, O Ummah. I shall tell you of his description untold by prophets before me to their peoples. Before his emergence are five barren years destroying every hoofed creature. Believers live by what angels live by. He is one-eyed, and Allah is not one-eyed. Between his eyes is kāfir, read by every believer literate and illiterate. Most following him are Jews and women and Bedouins. You see sky raining while it rains not and earth sprouting while it sprouts not. He says to the Bedouins, what do you seek from me. Did I not send heaven copiously upon you and revive your cattle lofty humps, bulging flanks, flowing milk. Rejoice, if he emerges while I am among you, Allah and His Messenger suffice you, and if he emerges after me, Allah is my caliph over every Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اصحاب کے درمیان یہ ارشاد فرماتے ہوے سنا : ’’ میں تمہیں دجال سے بچنے کی تلقین کر رہا ہوں اور تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں ، ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ، اور اے امت وہ تمہارے درمیان رونما ہو گا ، اور میں تمہارے سامنے اس کے حلیے میں سے ایک ایسی چیز بیان کر دوں گا ، جو دیگر انبیاء نے اپنی اقوام کے سامنے بیان نہیں کی ، اس کے نکلنے سے پہلے خشک سالی کے پانچ سال ہوں گے ، یہاں تک کہ ہر جانور مر جائے گا ، ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! تو مومنین کیسے زندہ رہیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس چیز ( یعنی ذکر اذکار ) کے ذریعے ، جس کے ذریعے فرشتے زندہ رہتے ہیں ، دجال کانا ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ؟ جسے ہر مومن پڑھ سکے گا ، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا پڑھا لکھا نہ ہو ، دجال کے پیروکاروں میں اکثریت یہودیوں عیسائیوں اور دیہاتیوں کی ہو گی ، تم لوگ آسمان کو دیکھو گے کہ وہ بارش نازل کر رہا ہے ، حالانکہ بارش نازل نہیں ہو رہی ہو گی ، تم زمین کو دیکھو گے کہ وہ نباتات اگا رہی ہے ، حالانکہ وہ نباتات نہیں اگا رہی ہو گی ، دجال دیہاتیوں سے کہے گا : تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ کیا میں نے تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش نازل نہیں کی ہے ؟ کیا میں نے تمہارے لے تمہارے جانوروں کو زندہ نہیں کر دیا کہ وہ صحت مند ہو چکے ہیں اور ان کے دودھ زیادہ ہو چکے ہیں ؟ پھر دجال کے ساتھ کچھ شیاطین کو بھیجا جائے گا ، جو لوگوں کے مرے ہوئے آباؤ اجداد ، بھائیوں اور رشتے داروں کی شکل و صورت والے ہوں گے ، لوگوں میں سے کوئی ایک شخص رشتہ دار کے پاس آئے گا ، اور کہے گا : کیا تم فلاں نہیں ہو ، کیا تم مجھے پہچانتے نہیں ہو ؟ یہ تمہارا پروردگار ہے ، تم اس کی پیروی کرو ، دجال چالیس دن تک رہے گا جس میں ایک سال مہینے کی مانند ہو گا ، اور مہینہ ہفتے کی مانند ہو گا ، اور ہفتہ دن کی مانند ہو گا ، اور دن گھڑی کی مانند ہو گا ، اور گھڑی آگ میں جلنے کے دھبے کی مانند ہو گی ، وہ ہر جگہ تک پہنچ جائے گا ، صرف دو مسجدوں تک نہیں پہنچے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ اٹھے آپ وضو کرنے لگے ، آپ نے لوگوں کی چیخ و پکار کی آواز سنی ، آپ واپس تشریف لائے اور لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ خوشخبری حاصل کرو کہ اگر وہ نکلا اور اس وقت میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو اللہ اور اس کا رسول تمہارے لئے کفایت کرنے والے ہوں گے ، اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو میرے بعد ہر مسلمان کا اللہ تعالیٰ نگہبان ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کا صحیح احادیث کے برخلاف نقل کرنا معتبر نہیں ہو گا ، کیونکہ اُن میں یہ مذکور ہے کہ وہ زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، اور اس میں یہ مذکور ہے کہ یہ چالیس سال تک رہے گا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12536

Majma al-Zawaid #12536

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنِّي لَخَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ أَوْ أَكْثَرَ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْهُمْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ، وَإِنَّهُ قَدْ يَتَبَيَّنْ لِي مَا لَمْ يَتَبَيَّنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَفِيهِ تَوْثِيقٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said he is the seal of a thousand prophets or more, none but warned his people of the Dajjāl, with clarity to him given none of them, one-eyed while their Lord not one-eyed. > **"I am the seal of a thousand prophets or more. None of them a prophet but warned his people of the Dajjāl. Clarified to me what was clarified to none of them: he is one-eyed, and your Lord is not one-eyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں ایک ہزار ( راوی کو شک ہے ) اس سے زیادہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میرے سامنے ایک ایسی چیز واضح ہوئی ہے ، جو ان انبیاء میں سے کسی کے سامنے واضح نہیں ہوئی ، دجال کانا ہو گا اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12537

Majma al-Zawaid #12537

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: "" إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَكُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr from his father reported that the Messenger of Allah ﷺ mentioned the Dajjāl and said if he emerges while among them he contends him, and if not among them every man contends himself with Allah his caliph over every Muslim. > **"If he emerges while I am among you, I contend you against him, and if he emerges while I am not among you, every man contends himself and Allah is my caliph over every Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبیر بن نفیر نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو میں تمہارے لے رکاوٹ بن جاؤں گا ، اور اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود نہ ہوا ، تو ہر بندہ اپنی حفاظت خود کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ میری جگہ ہر مسلمان کا نگہبان ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ۔ اس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12538

Majma al-Zawaid #12538

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدَّجَّالِ قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: "" يَخْرُجُ مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the Dajjāl and, as the narrator recalls, said he emerges from the east. > **"He emerges from the east."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے دجال کے بارے میں دریافت کیا گیا : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12539

Majma al-Zawaid #12539

وَعَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَرَأَيْتُ مَسِيحَ الضَّلَالَةِ، فَإِذَا رَجُلَانِ فِي أَنْدَرِ فُلَانٍ يَتَلَاحَيَانِ فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهَا، فَاطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَرَجُلٌ أَجْلَى الْجَبْهَةِ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، عَرِيضُ النَّحْرِ كَأَنَّهُ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

al-Falatān ibn ʿĀṣim رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said he was shown Laylat al-Qadr then made to forget it, and saw the Masīḥ of misguidance while two men quarrelled at someones threshing floor and his separating them made him forget, so seek it in the last ten, describing the misguidance Masīḥ clear-browed wiped left eye broad-chested like ʿAbd al-ʿUzzā ibn Qaṭan. > **"I was shown Laylat al-Qadr then made to forget it. I saw the Masīḥ of misguidance: two men at someones threshing floor quarrelling, I separated them and was made to forget it. Seek it in the last ten. As for the Masīḥ of misguidance, a man clear-browed, wiped left eye, broad-chested, like ʿAbd al-ʿUzzā ibn Qaṭan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر وہ مجھے بھلا دی گئی ہے ، میں نے دجال کو دیکھا ، پھر دو آدمی فلاں جگہ پر لڑائی کر رہے تھے ، میں ان دونوں کے درمیان لڑائی ختم کروانے لگا ، اسی دوران وہ چیز مجھے بھلا دی گئی ، تو تم شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو ، جہاں تک دجال کا تعلق ہے ، تو وہ ایک ایسا شخص ہے ، جس کی پیشانی روشن ہو گی ( یعنی اس کے آگے کے بال اڑے ہوئے ہوں گے ) اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی ، اس کی گردن چوڑی ہو گی ، وہ عبدالعزیٰ بن قطن سے مشابہت رکھتا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، جو اس کی مانند ہے ۔

12540

Majma al-Zawaid #12540

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ رَابِطَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِمَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ بُولَانُ حَتَّى يُقَاتِلُوا بَنِي الْأَصْفَرِ، يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَرُومِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ، فَيَهْدِمُ حِصْنَهَا وَحَتَّى يُقَسِّمُوا الْمَالَ بِالْأَتْرِسَةِ "". قَالَ: "" ثُمَّ يَصْرُخُ صَارِخٌ: يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، قَدْ خَرَجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي بِلَادِكُمْ وَدِيَارِكُمْ. فَيَقُولُونَ: مَنْ هَذَا الصَّارِخُ؟ فَلَا يَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ، فَيَبْعَثُونَ طَلِيعَةً تَنْظُرُ هَلْ هُوَ الْمَسِيحُ فَيَرْجِعُونَ إِلَيْهِمْ فَيَقُولُونَ: لَمْ نَرَ شَيْئًا وَلَمْ نَسْمَعْهُ. فَيَقُولُونَ: وَاللَّهِ إِنَّهُ، وَاللَّهِ مَا صَرَخَ الصَّارِخُ إِلَّا مِنَ السَّمَاءِ أَوْ مِنَ الْأَرْضِ، تَعَالَوْا نَخْرُجْ بِأَجْمَعِنَا، فَإِنْ يَكُنِ الْمَسِيحُ بِهَا نُقَاتِلْهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ، وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنَّهَا بِلَادُكُمْ وَعَسَاكِرُكُمْ وَعَشَائِرُكُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْهَا» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAwf رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the world ends not till a Muslim frontier post at Būlān fights Banū al-Aṣfar striving heedless of blame till Allah opens Constantinople and Rome by tasbīḥ and takbīr, demolishing its fortress, dividing wealth in shields, then a crier shouting O people of Islām, the Masīḥ al-Dajjāl emerged in your lands, they ask who cries unknowing, send scouts finding nothing heard, swear the cry was from heaven or earth, resolve to march all together, if the Masīḥ there fight till Allah judges, He best of judges, else return to lands troops kin. > **"The world will not end until a frontier post of Muslims at a place called Būlān fights Banū al-Aṣfar, striving in Allahs path heedless of any blamer concerning Allah, until Allah opens Constantinople and Rome by tasbīḥ and takbīr. Its fortress is demolished, wealth divided in shields. Then a crier cries, O people of Islām, the Masīḥ al-Dajjāl emerged in your lands and homes. They say, who is this crier. They know not who he is. They send scouts to see, is he the Masīḥ. They return saying, we saw nothing and heard it not. They say, the crier cried only from heaven or from earth. Come, we march all together: if the Masīḥ is there, we fight him until Allah judges between us and him, He best of judges, and if the other, they are your lands and troops and kin, you return to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک مسلمانوں کے رابطے کی جگہ ’’ بولان ‘‘ نامی جگہ نہیں ہو گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ بنو اصفر کے ساتھ جنگ کریں گے ، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں گرفت میں نہیں لے گی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح کر دے گا ، جو تسبیح اور تکبیر کے ذریعے ہو گا ، وہاں کے قلعے کو مسمار کر دیا جائے گا ، اور وہ لوگ مال کو ڈھالوں میں رکھ کے تقسیم کریں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : اے اہل اسلام ! تمہارے علاقوں میں اور تمہارے شہروں میں دجال نکل آیا ، تو وہ لوگ کہیں گے یہ پکارنے والا شخص کون ہے ؟ وہ لوگ یہ نہیں جانیں گے کہ وہ کون ہے ؟ پھر وہ ایک شخص کو بھیجیں گے ، تاکہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ کیا دجال آ گیا ہے ، وہ آگے جانے والے لوگ واپس آ کر یہ بتائیں گے کہ ہمیں تو کوئی چیز نہیں دکھائی دی ، اور ہم نے تو یہ بات نہیں سنی ، تو وہ لوگ کہیں گے : اللہ کی قسم ! اس پکارنے والے نے آسمان سے پکارا ہو گا یا زمین سے پکارا ہو گا ، چلو آؤ ہم سب نکلتے ہیں ، اگر تو دجال نکل آیا ہوا ، تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ دیدے اور وہ بہترین فیصلہ دینے والا ہے ، اور اگر دوسری صورت حال ہوئی ، تو وہ تمہارے علاقے ہیں ، تمہارے لشکر ہیں ، تمہارے خاندان وہاں ہے ، تم ان کی طرف واپس چلے جاؤ گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

12541

Majma al-Zawaid #12541

«وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى حَسِبْتُ - وَذَكَرَ كَلِمَةً - أَلَا وَإِنَّهُ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ لَيْسَتْ بِقَائِمَةٍ وَلَا جَحْرَاءَ، فَإِنِ الْتَبَسَ عَلَيْكُ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ لَنْ تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said he had spoken of the Dajjāl at length, describing him short bow-legged curly one-eyed with eye effaced neither standing nor deep, and that confusion is removed by knowing they see not their Lord until death. > **"I spoke to you of the Dajjāl at length. He is a man short bow-legged curly one-eyed, eye effaced neither standing nor deep. If confused over him, know you shall not see your Lord until you die."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں دجال کے بارے میں بتانے والا تھا ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے فرمایا : خبردار ! وہ ایک کوتاہ قامت کا شخص ہو گا ، جس کے دو زانوں کے درمیان کی جگہ چوڑی ہو گی ، وہ گھنگریالے بالوں والا کانا شخص ہو گا ، جس کی ایک آنکھ نہیں ہو گی ، نہ تو وہ قائم ہو گی اور نہ ہی وہ خالی گڑھا ہو گی ، اگر تمہیں اس حوالے سے الجھن ہے ، تو تم لوگ یہ بات جان لو کہ تم اپنے پروردگار کا دیدار اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک تم مر نہیں جاؤ گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

12542

Majma al-Zawaid #12542

وَعَنْ نَهْيِكِ بْنِ صُرَيْمٍ السَّكُونِيِّ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَتُقَاتِلُنَّ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُقَاتِلَ بَقِيَّتُكُمُ الدَّجَّالَ عَلَى نَهْرِ الْأُرْدُنِّ أَنْتُمْ شَرْقِيَّهُ وَهُمْ غَرْبِيَّهُ» ""، وَلَا أَدْرِي أَيْنَ الْأُرْدُنُّ يَوْمَئِذٍ [مِنَ الْأَرْضِ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nuhayk ibn Ṣuraym al-Sakūnī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ swore they will fight the polytheists until their remnant fights the Dajjāl at the Jordan river, they east of it and they west, with the narrator unsure where the Jordan then lies. > **"You shall fight the polytheists until your remnant fights the Dajjāl at the Jordan river, you east of it and they west of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نہیک بن صریم سکونی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ ضرور مشرکین کے ساتھ جنگ کرو گے ، یہاں تک کہ تمہارے باقی رہ جانے والے لوگ نہر اردن کے پاس دجال کے ساتھ جنگ کریں گے ، تم مشرق کی سمت میں ہو گے ، اور وہ مغربی سمت میں ہو گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم اس وقت اردن زمین میں کہاں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔

12543

Majma al-Zawaid #12543

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ: "" يَخْرُجُ أَعْوَرُ الدَّجَّالِ مَسِيحُ الضَّلَالَةِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فِي زَمَنِ اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَفُرْقَةٍ، فَيَبْلُغُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ مِنَ الْأَرْضِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا اللَّهُ أَعْلَمُ مَا مِقْدَارُهَا، فَيَلْقَى الْمُؤْمِنُونَ شِدَّةً شَدِيدَةً. ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ السَّمَاءِ فَيَؤُمُّ النَّاسَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ رَكْعَتِهِ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَتَلَ اللَّهُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ وَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ "". فَأَحْلِفُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّهُ لَحَقٌّ، وَأَمَّا أَنَّهُ قَرِيبٌ فَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported hearing Abū al-Qāsim the truthful believed ﷺ tell of the one-eyed Dajjāl of misguidance emerging east amid division, traversing what Allah wills in forty days whose measure Allah knows, believers in dire hardship, then ʿĪsā ibn Maryam descending from heaven leading people, raising from bowing with tasmiʿ while Allah kills the Dajjāl and Muslims prevail, swearing it truth and near as all coming is near. > **"The one-eyed Dajjāl, Masīḥ of misguidance, emerges east in a time of peoples division and discord. He reaches what Allah wills him to reach of earth in forty days, Allah knows their measure. The believers meet dire hardship. Then ʿĪsā ibn Maryam descends from heaven and leads people. When he raises his head from his bowing saying, Allah hears who praises Him, Allah kills the Masīḥ al-Dajjāl and the Muslims prevail. It is truth, and that it is near, all coming is near."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوالقاسم ﷺ جو صادق و مصدوق ہیں ، انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ’’ کانا دجال جو گمراہی والا ہو گا وہ مشرق کی طرف سے اس وقت نکلے گا ، جب لوگوں کے درمیان اختلافات اور فرقہ بندی پائی جاتی ہو گی اور وہ چالیس دن تک جہاں تک اللہ کو منظور ہو گا ، وہاں تک جائے گا ، اس کی مقدار کے بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے ، مومنین کو اس دوران سخت مشکل کا سامنا ہو گا ، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے ، وہ لوگوں کی امامت کریں گے ، پھر جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے ، اور سمع اللہ لمن حمدہ کہیں گے ، تو اللہ تعالیٰ دجال کو مار دے گا ، اور مسلمان غلبہ پا لیں گے ۔‘‘ میں یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ حضرت ابوالقاسم صادق و مصدوق ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ بات حق ہے اور یہ بات قریب ہے ، جو چیز بھی آنے والی ہو وہ قریب ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن منذر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12544

Majma al-Zawaid #12544

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مَدِينَةَ هِرَقْلَ أَوْ قَيْصَرَ وَتَقْتَسِمُونَ أَمْوَالَهَا بِالتِّرْسَةِ، وَيُسْمِعُهُمُ الصَّرِيخُ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي أَهَالِيهِمْ، فَيُلْقُونَ مَا مَعَهُمْ وَيَخْرُجُونَ فَيُقَاتِلُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ foretold opening the city of Heraclius or Caesar and dividing its wealth in shields, then a cry that the Dajjāl succeeded them among families, so casting aside holdings they march to fight. > **"You shall open the city of Heraclius or Caesar and divide its wealth in shields. A cry reaches them that the Dajjāl succeeded them among their families. They cast what is with them and go out fighting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ عنقریب ہرقل ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) قیصر کا شہر فتح کر لو گے ، اور تم وہاں کے اموال کو ڈھالوں میں ڈال کے تقسیم کرو گے ، اسی دوران کوئی شخص پکار کر کہے گا : تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں میں دجال آ چکا ہے ، تو وہ لوگ اپنے پاس موجود سب چیزوں کو ایک طرف رکھیں گے ، اور نکل کھڑے ہوں گے ، اور جنگ کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12545

Majma al-Zawaid #12545

وَعَنْهُ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا يَنْزِلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ وَلَكِنَّهُ بَيْنَ الْخَنْدَقِ، وَعَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةٌ يَحْرُسُونَهَا، فَأَوَّلُ مَنْ يَتَّبِعُهُ النِّسَاءُ فَيُؤْذُونَهُ، فَيَرْجِعُ غَضْبَانَ حَتَّى يَنْزِلَ الْخَنْدَقَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُقْبَةَ بْنِ مُكْرَمِ بْنِ عُقْبَةَ الضَّبِّيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said the Dajjāl alights not in Madīnah but at the trench, angels guarding every pass, the first following him women who harm him, so returning angry to the trench, whereupon ʿĪsā ibn Maryam descends. > **"The Dajjāl alights not in Madīnah but between the trench, upon every pass thereof angels guarding it. The first following him are women, harming him. He returns angry until alighting at the trench. Thereupon ʿĪsā ibn Maryam descends."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکے گا بلکہ وہ خندق کے درمیان ٹھہرے گا ، مدینہ کے ہر راستے پر فرشتے موجود ہوں گے جو اس شہر کی حفاظت کر رہے ہوں گے ، سب سے پہلے اس کی پیروی کرنے والی عورتیں ہوں گی ، وہ لوگ اسے اذیت پہنچائیں گے ، یہاں تک کہ وہ غصے کے عالم میں واپس جائے گا ، یہاں تک کہ خندق کے پاس پڑاؤ کرے گا ، اس وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عقبہ بن مکرم بن عقبہ ضبی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12546

Majma al-Zawaid #12546

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَذْكُرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ: "" إِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ كَلِمَةً مَا قَالَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْوَرَ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ كِتَابٌ كَافِرٌ ""، قَالَ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ، يَسِيحُ فِي الْأَرْضَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، يَرِدُ كُلَّ بَلَدٍ غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَدِينَتَيْنِ: الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ، يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِهِ كَالسَّنَةِ، وَيَوْمٌ كَالشَّهْرِ، وَيَوْمٌ كَالْجُمُعَةِ، وَبَقِيَّةُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ، لَا يَبْقَى إِلَّا أَرْبَعِينَ يَوْمًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ mentioning the Masīḥ al-Dajjāl promised a word no prophet before him spoke, that he is one-eyed while Allah is not, with kāfir written between his eyes, adding every believing literate and illiterate reads it, roaming earth forty days reaching every land but Madīnah and Makkah forbidden him, a day like a year and like a month and like a week, the rest as their days, remaining only forty days. > **"I shall say to you concerning him a word no prophet before me said: he is one-eyed, and Allah is not one-eyed. Between his eyes is written kāfir. Every believer literate and illiterate reads it. He roams the earth forty days, coming to every land but these two cities: Madīnah and Makkah, forbidden him. A day of his days like a year, and a day like a month, and a day like a week, and the rest of his days as these days of yours. He remains only forty days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتاؤں گا ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے نہیں بتائی ، وہ کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، اور دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ۔‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بھی بات نقل کرتے ہیں : ہر مومن شخص خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا پڑھا لکھا نہ ہو ، اس لفظ کو پڑھ سکے گا ، دجال زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، وہ ہر شہر تک پہنچ جائے گا ، صرف ان دو شہروں تک نہیں آ سکے گا ، مدینہ اور مکہ ، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں شہروں کو اس کے لئے حرام قرار دیا ہے ۔ اس کے دنوں میں سے ایک دن ایک سال کا ہو گا ، ایک دن ایک مہینے کا ہو گا ، ایک دن ایک ہفتے کا ہو گا اور باقی کے دن تمہارے عام دنوں کی مانند ہوں گے وہ صرف چالیس دن رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12547

Majma al-Zawaid #12547

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشْفَعُ، وَسَيُدْرِكُ رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَيَشْهَدُونَ قِتَالَ الدَّجَّالِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ وَاهِبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said he is first to enter Garden on Resurrection Day and to intercede, and men of his Ummah will reach ʿĪsā ibn Maryam and witness the battle against the Dajjāl. > **"I am first to enter Garden on Resurrection Day and to intercede. Men of my Ummah shall reach ʿĪsā ibn Maryam and witness the battle against the Dajjāl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا فرد اور شفاعت کرنے والا سب سے پہلا فرد ’’ میں ‘‘ ہوؤں گا ، اور میری امت کے کچھ افراد حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور وہ دجال کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن واہب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

12548

Majma al-Zawaid #12548

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَيُدْرِكَنَّ الدَّجَّالَ مَنْ أَدْرَكَنِي أَوْ لَيَكُونَنَّ قَرِيبًا مِنْ مَوْتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى بْنِ شُعَيْبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Busr رضي الله عنه reported hearing the Messenger of Allah ﷺ swear those who reached him will reach the Dajjāl, or emergence stands near his death. > **"Those who reached me shall reach the Dajjāl, or it shall be near my death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ دجال کو وہ لوگ پا لیں گے جنہوں نے مجھے پایا ہے ، یا پھر وہ میرے انتقال کے قریب ہی ظاہر ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عیسیٰ بن شعیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12549

Majma al-Zawaid #12549

وَعَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخَذَ مِرْفَقَتَهُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا. قُلْنَا: مَنْ هَذَا؟ قَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو. قَالَ بَعْضُنَا: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّا لَنُحَدِّثُ عَنْكَ أَحَادِيثَ. قَالَ: إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَأْخُذُونَ الْأَحَادِيثَ مِنْ أَسَافِلِهَا وَلَا تَأْخُذُونَهَا مِنْ أَعَالِيهَا. وَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، فَقَالَ: أَبِأَرْضِكُمْ أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا كُوثًا ذَاتُ سِبَاخٍ وَنَخْلٍ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: فَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

al-ʿUryān ibn al-Haytham reported entering upon Yazīd ibn Muʿāwiyah where a man took his cushion and reclined, identified as ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما, who reproached Iraqis for taking ḥadīth from lower levels not upper, then when the Dajjāl was mentioned asked whether their land held a salt flat with palms called Kūthā, and on assent named it his place of emergence. > **"In your land is there a land called Kūthā of salt flats and palms. He emerges from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عریان بن ہیثم بیان کرتے ہیں : میں یزید بن معاویہ کے پاس آیا ، ہم اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا ، اس نے ان کی کہنی پکڑی اور انہیں ٹیک دی ، ہم نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ تو کسی نے بتایا : یہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، ہم میں سے کسی نے کہا : اے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ! ہم آپ کے حوالے سے احادیث سنتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : اے اہل عراق تم لوگ ہر نیچے کے طبقے سے حدیث حاصل کر لیتے ہو اور بلند طبقے سے حاصل نہیں کرتے ہو ، لوگوں نے دجال کا ذکر کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اللہ نے دریافت کیا : کیا تمہارے علاقے میں کوئی ایسی جگہ ہے جس کا نام ” کوثا ‘‘ ہو گا ، جو شوریدہ زمین ہو اور وہاں کھجوروں کے درخت بھی ہوں ، تو ہم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا : دجال وہاں سے نکلے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12550

Majma al-Zawaid #12550

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ: "" مَا شُبِّهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ، يَخْرُجُ فَيَكُونُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، يَرِدُ مِنْهَا كُلَّ مَنْهَلٍ إِلَّا الْكَعْبَةَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ وَالْمَدِينَةَ، الشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ، وَمَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ، مَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ، يَدْعُو بِرَجُلٍ لَا يُسَلِّطُهُ اللَّهُ إِلَّا عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: مَا تَقُولُ فِيَّ؟ فَيَقُولُ: أَنْتَ عَدُوُّ اللَّهِ، وَأَنْتَ الدَّجَّالُ الْكَذَّابُ. فَيَدْعُو بِمِنْشَارٍ فَيَضَعُهُ حَذْوَ رَأْسِهِ فَيَشُقُّهُ حَتَّى يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ: مَا تَقُولُ؟ فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي فِيكَ الْآنَ، أَنْتَ عَدُوُّ اللَّهِ الدَّجَّالُ الَّذِي أَخْبَرَنَا عَنْكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: "" فَيَهْوِي إِلَيْهِ بِسَيْفِهِ فَلَا يَسْتَطِيعُهُ فَيَقُولُ: أَخِّرُوهُ عَنِّي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported from the Messenger of Allah ﷺ concerning the Dajjāl that whatever is dubious, Allah is not one-eyed, emerging forty mornings reaching every watering place but the Kaʿbah and Bayt al-Maqdis and Madīnah, month like week and week like day, with garden and fire reversed, mountain of bread and river of water, summoning a man over whom alone power is granted, asking what he says, answered enemy of Allah lying Dajjāl, sawn from head till fallen, revived and questioned again, answering insight only sharpened identifying the enemy the Messenger foretold, then sword lunged powerless and order to remove him. > **"Whatever is dubious to you of him, Allah is not one-eyed. He emerges remaining in the earth forty mornings, coming to every watering place but the Kaʿbah and Bayt al-Maqdis and Madīnah. The month like the week, and the week like the day. With him a garden and a fire: his fire a garden and his garden a fire. With him a mountain of bread and a river of water. He calls a man, Allah granting him power over him alone, saying, what do you say of me. He says, you are Allahs enemy, the lying Dajjāl. He calls for a saw placed at his head, sawing him till fallen upon earth. Then he revives him saying, what do you say. He says, I was never more insightful concerning you than now: you are Allahs enemy, the Dajjāl whom the Messenger of Allah told us of. He lunges at him with his sword yet cannot prevail over him, saying, keep him from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے دجال کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ تمہیں اس کے حوالے سے کوئی اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، دجال نکلے گا وہ زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، وہ ہر جگہ تک پہنچ جائے گا ، وہ صرف خانہ کعبہ بیت المقدس اور مدینہ منورہ تک نہیں پہنچ سکے گا ( اس وقت ) ایک مہینہ ایک ہفتے کی مانند ہو گا ، ایک ہفتہ ایک دن کی مانند ہو گا ، دجال کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ، اس کی جہنم درحقیقت جنت ہو گی اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہو گی ، اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ ہو گا ، اور پانی کی نہر ہو گی وہ ایک شخص کو بلائے گا ، اللہ تعالیٰ دجال کو صرف اسی شخص پر تسلط دے گا ، دجال دریافت کرے گا : میرے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ وہ شخص کہے گا : تم اللہ کے دشمن ہو ، تم دجال کذاب ہو ، تو دجال آرا منگوائے گا اور وہ اس کے سر پر رکھ دے گا ، اور وہ اسے دو حصوں میں تقسیم کر دے گا ، یہاں تک کہ اس شخص کی لاش زمین پر گر جائے گی ، پھر دجال اسے زندہ کرے گا ، اور دریافت کرے گا : تم کیا کہتے ہو ، تو وہ شخص کہے گا : اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں جتنی بصیرت مجھے اس وقت حاصل ہے ۔ اس سے پہلے حاصل نہیں تھی ، تم اللہ کے دشمن دجال ہو ، جس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں بتایا تھا ، ہی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : پھر دجال اپنی تلوار اس کی طرف بڑھائے گا ، لیکن اس پر قابو نہیں پا سکے گا ، تو یہ کہے گا : اسے میرے پاس سے دور کر دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12551

Majma al-Zawaid #12551

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: "" إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُكُمْ مِنْهُ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَكُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ. أَلَا وَإِنَّهُ مَطْمُوسُ الْعَيْنِ كَأَنَّهُ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ الْخُزَاعِيُّ، أَلَا وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، أَلَا وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا. يَا عِبَادَ اللَّهِ، اثْبُتُوا "". ثَلَاثًا. قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا سُرْعَتُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: "" كَالسَّحَابِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا مُكْثُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: "" أَرْبَعُونَ يَوْمًا، يَوْمٌ مِنْهَا كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ مِنْهَا كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُهَا كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ يَوْمَئِذٍ صَلَاةُ يَوْمٍ أَوْ نُقَدِّرُ لَهُ؟ قَالَ: "" بَلِ اقْدُرُوا لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr from his father reported that the Messenger of Allah ﷺ mentioned the Dajjāl and said if he emerges while among them he contends him else every man contends himself with Allah his caliph, describing him eyeless like ʿAbd al-ʿUzzā ibn Qaṭan al-Khuzāʿī with kāfir between eyes read by every Muslim, commanding whoever meets him to recite the Opening of the Book, seeing him emerge from a pass between Shām and al-ʿIrāq ravaging right and left, thrice commanding O servants of Allah stand firm, and when asked his speed answering like cloud driven by wind, and his stay forty days a day like a year and like a month and like a week and rest as their days, and when asked about prayer therein commanding estimation. > **"If he emerges while I am among you, I contend you against him, and if he emerges while I am not among you, every man contends himself and Allah is my caliph over every Muslim. He is eyeless as ʿAbd al-ʿUzzā ibn Qaṭan al-Khuzāʿī. Written between his eyes is kāfir, read by every Muslim. Whoever of you meets him, let him recite over him the Opening of the Book. I saw him emerging from a pass between Shām and al-ʿIrāq, ravaging right and left. O servants of Allah, stand firm. Like a cloud driven by wind. Forty days: a day of them like a year, and a day of them like a month, and a day like a week, and the rest as these days of yours. Rather estimate for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبیر بن نفیر اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا ، تو میں تمہارے حوالے سے اس کے لئے رکاوٹ بن جاؤں گا ، اور اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود نہ ہوا ، تو ہر شخص اپنی حفاظت خود کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ میری جگہ ہر مسلمان کا نگہبان ہو گا ، خبردار ! اس کی ایک آنکھ نہیں ہو گی ، وہ عبدالعزیٰ بن قطن خزاعی کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو گا ، خبردار ! اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا ، تم میں سے جو شخص اس سے ملے وہ اس کے سامنے سورت فاتحہ پڑھ لے ، خبردار ! میں نے اسے دیکھا ہے کہ وہ شام اور عراق کے درمیان موجود ایک جگہ سے نکلے گا اور دائیں اور بائیں طرف جائے گا : اے اللہ کے بندو ! تم ثابت قدم رہنا ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! زمین میں اس کے چلنے کی رفتار کیا ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس طرح وہ بادل ہوتا ہے ، جسے ہوا لے کے چلتی ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چالیس دن رہے گا ، جن میں سے ایک دن ایک سال کی مانند ہو گا ، ان میں سے ایک دن ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک دن ایک ہفتے کی مانند ہو گا اور باقی کے دن تمہارے عام دنوں کی مانند ہوں گے ۔‘‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس موقع پر نماز کو کیسے ادا کریں گے ؟ ایک دن کی نماز ادا کریں گے یا اندازہ لگا لیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم اس کے لئے اندازہ لگا لو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12552

Majma al-Zawaid #12552

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ لَيْلَةً فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: "" لَا تَفْعَلِي، فَإِنَّهُ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ يَكْفِكُمُ اللَّهُ رَبِّي، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ يَكْفِكُمُوهُ بِالصَّالِحِينَ "". ثُمَّ قَامَ فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: "" مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَإِنِّي أُحَذِّرُكُمُوهُ، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانَ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr reported that Umm Salamah رضي الله عنها said she mentioned the Dajjāl one night and sleep left her, and in the morning told the Messenger of Allah ﷺ, who forbade such fear, saying if he emerges while among them his Lord suffices through him, and after his death suffices through the righteous, then stood mentioning the Dajjāl warning as every prophet warned, one-eyed while Allah not one-eyed, his eye like a floating grape. > **"Do not do so. If he emerges while I am among you, my Lord suffices you through me, and if he emerges after I die, He suffices you through the righteous. Every prophet warned his Ummah, and I warn you of him. He is one-eyed, and Allah is not one-eyed. The Masīḥ al-Dajjāl, as though his eye a floating grape."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے : ایک رات میں نے دجال کا ذکر کیا تو مجھے نیند نہیں آئی ، جب صبح ہوئی تو میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ایسے نہ کرو ، اگر وہ اس وقت نکلا جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا ، تو اللہ میرے ذریعے تمہاری کفایت کرے گا ، اور اگر وہ میرے مرنے کے بعد نکلا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں نیک لوگوں کے ذریعے تمہاری مدد کرے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ، آپ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ، اور میں بھی تمہیں اس سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں وہ کانا ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، خبردار ! دجال کی ایک آنکھ پھولے ہوئے انگور کی مانند ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد احمد بن محمد بن نافع طحان کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

12553

Majma al-Zawaid #12553

وَعَنْ أَبِي صَادِقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَهْلَ أَبْيَاتٍ يُفْزِعُهُمُ الدَّجَّالُ. قَالُوا: مَنْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: بُيُوتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ أَبَا صَادِقٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Ṣādiq reported that ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said he knew households frightened by the Dajjāl, and when asked who, O Abū ʿAbd al-Raḥmān, named the houses of Kūfah. > **"I know households frightened by the Dajjāl: the houses of the people of al-Kūfah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصادق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ میں ان گھرانے والوں کے بارے میں جانتا ہوں جنہیں دجال خوف زدہ کرے گا ، لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ انہوں نے جواب دیا : کوفہ کے لوگ ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوصادق نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

12554

Majma al-Zawaid #12554

وَعَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لَا تُكْثِرُوا ذِكْرَهُ، فَإِنَّهُ الْأَمْرَ إِذَا قُضِيَ فِي السَّمَاءِ كَانَ أَسْرَعَ لِنُزُولِهِ إِلَى الْأَرْضِ أَنْ يَظْهَرَ عَلَى أَلْسِنَةِ النَّاسِ، وَكَيْفَ بِكُمْ وَالْقَوْمُ آمِنُونَ وَأَنْتُمْ خَائِفُونَ؟ وَكَيْفَ بِكُمْ وَالْقَوْمُ فِي الظِّلِّ وَأَنْتُمْ فِي الضُّحِ؟ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ. وَقَدْ رَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَذْهَلَ النَّاسُ عَنْ ذِكْرِهِ وَحَتَّى تَتْرُكَ الْأَئِمَّةُ ذِكْرَهُ عَلَى الْمَنَابِرِ» ".

EnglishUnverified translation

Abū al-Shaʿthāʾ reported that the Dajjāl was mentioned before ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه, who said speak not much of him, for a decree in heaven descends fastest when upon peoples tongues, asking how they will fare when foes secure and they fearful, foes in shade and they in sun, with the narration adding the Prophetic word that he emerges not till people forget him and imams abandon him on minbars. > **"Speak not much of him. When a matter is decreed in heaven, fastest for its descent to earth is its appearing upon peoples tongues. How will you fare when the people are secure and you fearful. How will you fare when the people are in shade and you in sun. The Dajjāl emerges not until people forget his mention and imams abandon his mention upon the minbars."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوشعثاء بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس کا ذکر کثرت سے نہ کرو کیونکہ جب آسمان میں کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ ہو جائے ، تو وہ زمین کی طرف زیادہ تیزی سے اس وقت نازل ہوتا ہے ، جب وہ لوگوں کی زبانوں پر ظاہر ہو جاتا ہے ۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا ، جب دشمن امن میں ہو گا اور تم خوف کے عالم میں ہو گے ، اس وقت تمہارا کیا بنے گا ، جب دشمن سائے میں ہو گا اور تم لوگ دھوپ میں ہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، امام احمد نے یہ روایت نقل کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا ، جب تک لوگ اس کے تذکرے سے غافل نہیں ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ ائمہ منبروں پر اس کا ذکر کرنا ترک کر دیں گے ۔‘‘

12555

Majma al-Zawaid #12555

وَعَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ خَرَجَ لَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ أَصْبَحَ بِبَابِلَ أَصْبَحَ بَعْضُهُمْ [يَشْكُو] إِلَيْهِ الْحَفَاءَ مِنَ السُّرْعَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ خَيْثَمَةَ لَمْ أَجِدْ مَنْ قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Khaythamah reported that the Dajjāl was mentioned before ʿAbdullāh رضي الله عنه, some saying had he emerged they would pelt him with stones, whereupon ʿAbdullāh answered were he at Bābil in the morning some would in the morning complain to him of bare feet from haste. > **"Were he at Bābil in the morning, some of them in the morning would complain to him of bare feet from haste."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خیثمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ اللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا تو کسی نے کہا : اگر وہ نکل آیا تو ہم اسے پتھر ماریں گے ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ بابل میں ہو ، تو ان میں سے کچھ لوگ جلدبازی کی وجہ سے ننگے پاؤں ہونے کی ، اس سے شکایت کریں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ خیثمہ نامی راوی کے بارے میں ، میں نے یہ بات نہیں پائی کہ یہ کسی نے یہ بات بیان کی ہو کہ اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

12556

Majma al-Zawaid #12556

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "" «تَلِدُهُ أُمُّهُ وَهِيَ مَنْبُوذَةٌ فِي قَبْرِهَا، فَإِذَا وَلَدَتْهُ حَمَلَتِ النِّسَاءُ بِالْخَطَّائِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Dajjāl was mentioned before the Prophet ﷺ, who told of his mother bearing him cast aside in her grave, and when she bears him women conceive by erring men. > **"His mother bears him cast aside in her grave. When she bears him, women conceive by erring men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے دجال کا ذکر کیا گیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس کی ماں اسے اس وقت جنم دے گی جب وہ قبر میں پڑی ہوئی ہو گی ، جب وہ عورت اسے جنم دیدے گی تو پھر عورتیں گنہگار لوگوں سے حاملہ ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن جمحی ہے ، امام بخاری کہتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔