Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 16

Book of Tribulations

Hadith 12557–12596

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12557

Majma al-Zawaid #12557

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ، وَمَشَى فِي الْأَسْوَاقِ. يَعْنِي الدَّجَّالَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ النَّحْوِيُّ الْأَهْوَازِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From ʿImran ibn Husayn, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said, meaning the Dajjal: He has eaten food and walked in the markets. > **"He has eaten food, and walked in the markets."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ کھانا کھائے گا اور بازاروں میں چلے پھرے گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد دجال تھا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ۔ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن منصور نحوی اہوازی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12558

Majma al-Zawaid #12558

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «لَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ، وَمَشَى فِي الْأَسْوَاقِ. يَعْنِي الدَّجَّالَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، وَهُوَ لَيِّنٌ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

From Maʿqil ibn Yasar, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said, meaning the Dajjal: He has eaten food and walked in the markets. > **"He has eaten food, and walked in the markets."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وہ کھانا کھائے گا اور وہ بازاروں میں چلے پھرے گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کی مراد دجال تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید بن جدعان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ کمزور ہے ، عجلی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12559

Majma al-Zawaid #12559

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «لَأَنْ أَحْلِفَ عَشْرَ مَرَّاتٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ هُوَ الدَّجَّالُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ مَرَّةً وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ. قَالَ: وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَنِي إِلَى أُمِّهِ فَقَالَ: "" سَلْهَا كَمْ حَمَلَتْ بِهِ؟ "". قَالَ: فَأَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: حَمَلْتُ بِهِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا. قَالَ: ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهَا فَقَالَ: "" سَلْهَا، عَنْ صَيْحَتِهِ حِينَ وَقَعَ "". قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: صَاحَ صِيَاحَ الصَّبِيِّ ابْنِ شَهْرٍ. ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً، قَالَ: خَبَّأْتَ لِي خَطْمَ شَاةٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ "". قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ يَقُولَ الدُّخَانَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَقَالَ: الدُّخْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْسَأْ، فَإِنَّكَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَقَالَ: "" إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً فَمَا هُوَ؟ "". وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Dharr, may Allah be pleased with him, who said: That I swear ten times that Ibn Sayyad is the Dajjal is dearer to me than that I swear once that he is not he. He also said: The Messenger of Allah ﷺ sent me to his mother and said: Ask her how long she bore him. He said: So I came to her and asked her, and she said: I bore him for twelve months. He said: Then he sent me again to her and said: Ask her about his cry when he fell at birth. He said: So I returned to her and asked her, and she said: He cried with the cry of a one-month-old boy. Then the Messenger of Allah ﷺ said to him: I have concealed for you something hidden. He said: You concealed for me the rope of a dusty sheep and smoke. He intended to say al-dukhan but could not manage it, so he said: Al-dukh. So the Messenger of Allah ﷺ said: Begone, for you will never exceed your measure. > **"Ask her how long she bore him?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں دس مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ ابن صیاد ہی دجال ہے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے اس کی ماں کی طرف بھیجا اور فرمایا : تم اس عورت سے پوچھو کہ اسے کتنا عرصہ اس کا حمل رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں اس عورت کے پاس آیا ، میں نے اس سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو اس عورت نے بتایا : مجھے بارہ مہینے تک اس کا حمل رہا تھا ۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے پھر مجھے اس عورت کی طرف بھیجا اور فرمایا : تم اس عورت سے دریافت کرنا کہ جب یہ پیدا ہوا تھا تو یہ چیخا کس طرح سے تھا ، راوی کہتے ہیں : میں دوبارہ اس کے پاس گیا ، میں نے اس عورت سے دریافت کیا ، تو اس نے بتایا : یہ یوں ( بلند آواز میں ) چیخا تھا جیسے ایک ماہ کا بچہ چیختا ہے ۔ حضرت ابوزر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر بعد میں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے ابن صیاد سے دریافت کیا : میں نے تمہارے لئے ایک بات دل میں سوچی ہے ۔ اس نے کہا : آپ نے مٹیالی بکری کی رسی اور دھویں کے بارے میں سوچا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اس نے دھویں کے لئے لفظ دخان کہنا چاہا لیکن وہ نہیں کہہ سکا ، لیکن اس نے صرف ’’ دخ ‘‘ کہا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ! تم اپنی اوقات سے آگے نہیں جا سکو گے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہارے لئے ایک چیز سوچی ہے ، وہ کیا ہے ؟ امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن جبیرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12560

Majma al-Zawaid #12560

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ، طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ، فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِ. فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ. ثُمَّ قَالَ: "" يَا ابْنَ صَيَّادٍ مَا تَرَى؟ "". قَالَ: أَرَى حَقًّا، وَأَرَى بَاطِلًا، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَلُبِّسَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "". فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ "". ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى، فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ "". فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا، فَيَعْلَمُ أَهُوَ هُوَ أَمْ لَا، قَالَ: "" يَا ابْنَ صَيَّادٍ مَا تَرَى؟ "". قَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ "". فَلُبِّسَ عَلَيْهِ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُ. ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ، قَالَ: فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَيْدِينَا، رَجَاءَ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا، فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ "". فَقَالَ: "" يَا ابْنَ صَيَّادٍ، مَا تَرَى؟ "". فَقَالَ: أَرَى حَقًّا، وَأَرَى بَاطِلًا، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، قَالَ: "" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "". قَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ "". فَلُبِّسَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا ابْنَ صَيَّادٍ، إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا، فَقَالَ: هُوَ الدُّخُّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْسَأْ، اخْسَأْ "". فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ، وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ "". قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَيْقِنًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them, who said: A woman of the Jews in Madinah bore a boy whose eye was wiped out, protruding and bulging, so the Messenger of Allah ﷺ feared that he was the Dajjal. He found him beneath a velvet cloth muttering, and his mother alerted him, saying: O ʿAbdullah, here is Abu al-Qasim come, so go out to him. He came out from the cloth, so the Messenger of Allah ﷺ said: What is wrong with her, may Allah destroy her? Had she left him it would have become clear. Then he said: O Ibn Sayyad, what do you see? He said: I see truth, and I see falsehood, and I see a throne upon water, so the matter became confused for him. He said: Do you testify that I am the Messenger of Allah? So he said: Do you testify that I am the messenger of Allah? So the Messenger of Allah ﷺ said: I believe in Allah and His messengers. Then he left and abandoned him. Then he came to him a second time and found him in his date-palms muttering, and his mother alerted him, saying: O ʿAbdullah, here is Abu al-Qasim come. So the Messenger of Allah ﷺ said: What is wrong with her, may Allah destroy her? Had she left him it would have become clear. The Messenger of Allah ﷺ loved to hear something of his speech so as to know whether he was he or not. He said: O Ibn Sayyad, what do you see? He said: Do you testify that I am the messenger of Allah? So the Messenger of Allah ﷺ said: I believe in Allah and His messengers. So the matter became confused for him, and he left and abandoned him. Then he came a third or fourth time, with Abu Bakr and ʿUmar, may Allah be pleased with them, among a party of the Muhajirun and Ansar, and I was with him. He said: So the Messenger of Allah ﷺ hastened before us, hoping to hear something of his speech, but his mother raced ahead of him and said: O ʿAbdullah, here is Abu al-Qasim come. So the Messenger of Allah ﷺ said: What is wrong with her, may Allah destroy her? Had she left him it would have become clear. He said: O Ibn Sayyad, what do you see? He said: I see truth, and I see falsehood, and I see a throne upon water. He said: Do you testify that I am the Messenger of Allah? He said: Do you testify that you are the messenger of Allah? So the Messenger of Allah ﷺ said: I believe in Allah and His messengers. So the matter became confused for him. So the Messenger of Allah ﷺ said: O Ibn Sayyad, I have concealed for you something hidden. He said: It is al-dukh. So the Messenger of Allah ﷺ said: Begone, begone. Then ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: Permit me, O Messenger of Allah. So the Messenger of Allah ﷺ said: If he is he, you are not his man; his man is only ʿIsa ibn Maryam, peace be upon him, and if he is not he, it is not for you to kill a man of the covenant people. He said: The Messenger of Allah ﷺ remained convinced that he was the Dajjal. > **"O Ibn Sayyad, what do you see?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہودیوں کی ایک عورت نے مدینہ منورہ میں ایک بچے جو جنم دیا جس کی ایک آنکھ خراب تھی ، وہ باہر کی طرف ابھری ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو ، ایک مرتبہ آپ نے اس لڑکے کو چادر کے نیچے پایا ، اس بچے کی ماں نے اسے اطلاع دیدی اور بولی : اے اللہ کے بندے ! یہ حضرت ابوالقاسم تشریف لائے ہیں ، نبی اکرم ﷺ اس کی طرف بڑھے تو وہ چادر میں سے نکل آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ، اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، اگر یہ اس کو رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ، اس نے کہا : میں ایک حق چیز دیکھتا ہوں اور ایک باطل چیز دیکھتا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں ، تو یہ معاملہ اس کے لئے الجھن کا باعث بن گیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے دریافت کیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے ( حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے اور آپ نے اسے چھوڑ دیا ۔ پھر آپ دوسری مرتبہ اس کے پاس آئے ، تو آپ نے اس کو پایا کہ وہ کھجوروں کے باغ میں موجود تھا ، آپ نے اس کی طرف جانے کا قصد کیا ، لیکن اس کی ماں نے اسے بتا دیا اور بولی : اے اللہ کے بندے ! یہ ابوالقاسم تشریف لے آئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے اگر یہ اسے رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، نبی اکرم ﷺ یہ چاہتے تھے کہ اس کے کلام میں سے کوئی بات سن لیں اور آپ کو پتا چل جائے کہ کیا یہ وہی ہے یا نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ، اس ( ابن صیاد ) نے یہ دریافت کیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ اور اس کے ( سچے اور حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو یہ معاملہ آپ کے لئے الجھن کا باعث بن گیا آپ نے اسے چھوڑا اور تشریف لے گئے ۔ پھر جب تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ تشریف لائے ، تو آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ اور افراد تھے ، میں بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، نبی اکرم ﷺ ہم سے آگے جلدی چلے گئے ، آپ کو یہ توقع تھی کہ آپ اس کے کلام میں سے کوئی بات سن لیں گے ، لیکن آپ سے پہلے اس کی ماں نے اسے کہا : اے اللہ کے بندے ! یہ حضرت ابوالقاسم تشریف لے آئے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، اگر یہ اسے ایسے ہی رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ؟ اس نے کہا : میں ایک حق چیز دیکھتا ہوں اور ایک باطل دیکھتا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے ( حقیقی اور سچے ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ، یہ معاملہ آپ کے لئے الجھن کا باعث بن گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن صیاد ! میں نے تمہارے لئے ایک بات سوچی ہے ۔ اس نے کہا : وہ دخ ( یعنی دھواں ہے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے ( کہ میں اسے قتل کر دوں ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تو یہ وہی ہوا ، تو پھر میں اس کا متعلقہ فرد نہیں ہوں ، کیونکہ اس کے متعلقہ فرد حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے اور اگر یہ وہ ( یعنی دجال ) نہیں ہے ، تو تمہیں اس بات کا حق نہیں ہے کہ تم ذمیوں سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کرو ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ مسلسل پریقین رہے کہ وہی دجال ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12561

Majma al-Zawaid #12561

«وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، وَسُئِلَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: فَهَلْ كَلَّمْتَهُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى أَتَى دَارًا قَوْرَاءَ، فَقَالَ: "" افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ "". فَفُتِحَ، وَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلْتُ مَعَهُ، فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسَطِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: "" ارْفَعُوا هَذِهِ الْقَطِيفَةَ "". فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ: "" قُمْ يَا غُلَامُ "". فَقَامَ الْغُلَامُ، فَقَالَ: "" يَا غُلَامُ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "". قَالَ الْغُلَامُ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا» "". مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ.

EnglishUnverified translation

From Abu al-Tufayl, may Allah be pleased with him, when he was asked: Did you see the Messenger of Allah ﷺ? He said: Yes. It was said: Did you speak to him? He said: No, but I saw him set out for such-and-such a place with ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, and men of his Companions, until he came to a spacious house, and said: Open this door. So it was opened, and the Prophet ﷺ entered, and I entered with him, and there was a velvet cloth in the middle of the house. He said: Lift this cloth. So they lifted the cloth, and there was a one-eyed boy beneath the cloth. He said: Rise, O boy. So the boy rose, and he said: O boy, do you testify that I am the Messenger of Allah ﷺ? The boy said: Do you testify that I am the messenger of Allah? The Messenger of Allah ﷺ said twice: Seek refuge in Allah from the evil of this. > **"Seek refuge in Allah from the evil of this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ان سے دریافت کیا گیا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ فلاں فلاں جگہ سے تشریف لے جا رہے تھے ، آپ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے کچھ اصحاب تھے ، یہاں تک کہ آپ کشادہ گھر میں آئے ، آپ نے فرمایا : تم لوگ یہ دروازہ کھولو ، دروازہ کھولا گیا ، نبی اکرم ﷺ اندر داخل ہوئے ، آپ کے ساتھ میں بھی داخل ہوا ، وہاں گھر کے درمیان میں ایک چادر پڑی ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس چادر کو اٹھاؤ ، لوگوں نے چادر کو اٹھایا تو اس کے نیچے ایک کانا لڑکا تھا ، جو اس چادر کے نیچے موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے لڑکے اٹھ جاؤ ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے لڑکے کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس لڑکے نے کہا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے دو مرتبہ یہ ارشاد فرمایا : تم لوگ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہدی بن عمران ہے امام بخاری کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ۔

12562

Majma al-Zawaid #12562

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: «قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ: "" انْطَلِقْ "". فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلُوا بَيْنَ حَائِطَيْنِ فِي زُقَاقٍ طَوِيلٍ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى الدَّارِ إِذَا امْرَأَةٌ قَاعِدَةٌ، وَإِذَا قِرْبَةٌ صَغِيرَةٌ مَلْأَى مَاءً، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَرَى قِرْبَةً، وَلَا أَرَى حَامِلَهَا "". فَأَشَارَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى قَطِيفَةٍ فِي نَاحِيَةِ الدَّارِ، فَقَامُوا إِلَى الْقَطِيفَةِ فَكَشَفُوهَا، فَإِذَا تَحْتَهَا إِنْسَانٌ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" شَاهَتِ الْوُجُوهُ "". فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لِمَ تُفْحِشُ عَلَيَّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً، فَأَخْبِرْنِي مَا هُوَ؟ "". وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ خَبَّأَ لَهُ سُورَةَ الدُّخَانِ، فَقَالَ: الدُّخُّ. فَقَالَ: "" اخْسِ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ "". ثُمَّ انْصَرَفَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

From Zayd ibn Harithah, may Allah be pleased with him, who said: The Prophet ﷺ said to some of his Companions: Go forth. So the Messenger of Allah ﷺ went forth with his Companions with him, until they entered between two walls in a long lane, and when they reached the house there was a woman sitting, and there was a small waterskin full of water. The Prophet ﷺ said: I see a waterskin, but I do not see its bearer. So the woman pointed to a velvet cloth in a corner of the house. They went to the cloth and uncovered it, and beneath it was a man. He raised his head, so the Prophet ﷺ said: Disfigured be the faces. He said: O Muhammad, why do you speak harshly to me? The Prophet ﷺ said: I have concealed for you something hidden, so tell me what it is. The Prophet ﷺ had concealed for him Surat al-Dukhan, so he said: Al-dukh. He said: Begone, what Allah wills shall be. Then he departed. > **"I have concealed for you something hidden, so tell me what it is?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن حارثہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے بعض اصحاب سے فرمایا چلو پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب تھے ، یہاں تک کہ یہ لوگ ایک طویل راستے میں دو باغوں کے درمیان جگہ پر داخل ہوئے ، جب یہ لوگ گھر تک پہنچے تو وہاں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک بڑا مشکیزہ تھا جو پانی سے بھرا ہوا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں مشکیزہ دیکھ رہا ہوں لیکن مجھے اس کا اٹھانے والا نظر نہیں آ رہا ، تو اس عورت نے گھر کے کونے میں موجود ایک چادر کی طرف اشارہ کیا ، وہ لوگ اٹھ کر اس چادر کی طرف گئے ، انہوں نے اس چادر کو ہٹایا تو اس کے نیچے ایک انسان موجود تھا ، اس نے اپنا سر اٹھایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ چہرے قبیح ہو جائیں ، اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) آپ میرے بارے میں کیوں سختی سے بات کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تمہارے لئے ایک چیز سوچی ہے ، تم مجھے بتاؤ کہ وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے سورت دخان سوچی تھی ، تو اس نے کہا : دخ ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ، اللہ تعالیٰ نے جو چاہا وہ ہو کے رہے گا ، پھر آپ تشریف لے گئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن حسن بن فرات ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اُسے ثقہ کہا ہے ۔

12563

Majma al-Zawaid #12563

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ: "" مَا تَرَى؟ "". قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ وَحَوْلَهُ الْحِيَاتُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said to Ibn Sayyad: What do you see? He said: I see a throne upon the sea and snakes around it. The Messenger of Allah ﷺ said: You see the throne of Iblis. > **"What do you see?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا : تم کیا دیکھتے ہو ، اس نے کہا : میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے اردگرد سانپ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرا خیال ہے وہ شیطان کا تخت ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12564

Majma al-Zawaid #12564

وَعَنْهُ قَالَ: ذُكِرَ ابْنُ صَيَّادٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ: [إِنَّهُ يَزْعُمُ] إِنَّهُ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا كَلَّمَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, who said: Ibn Sayyad was mentioned before the Messenger of Allah ﷺ, so ʿUmar, may Allah be pleased with him, said: He claims that he does not pass by anything except that it speaks to him. > **"He does not pass by anything except that it speaks to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے ابن صیاد کا ذکر کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ جس بھی چیز کے پاس سے گزرتا ہے وہ چیز اس کے ساتھ بات چیت کرتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12565

Majma al-Zawaid #12565

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَأَنْ أَحْلِفَ بِاللَّهِ تِسْعًا أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ هُوَ الدَّجَّالُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ. وَلَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُتِلَ شَهِيدًا، أَحَبُّ لِي مِنْ أَنْ أَحْلِفَ أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ ; وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا، وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, who said: That I swear by Allah nine times that Ibn Sayyad is the Dajjal is dearer to me than that I swear once that he is not he. And that I swear nine times that the Messenger of Allah ﷺ was slain as a martyr is dearer to me than that I swear that he was not slain; and that is because Allah made him a Prophet and took him as a martyr. > **"That Ibn Sayyad is the Dajjal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نو مرتبہ اللہ کے نام کا حلف اٹھاؤں اس بات پر کہ ابن صیاد ہی دجال ہے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے ، اور میں نو مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ نبی اکرم ﷺ کو شہید ہونے کے طور پر قتل کیا گیا ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ نبی اکرم ﷺ کو قتل نہیں کیا گیا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بھی بنایا تھا اور آپ کو شہادت کے مرتبے پر بھی فائز کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12566

Majma al-Zawaid #12566

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَّأَ لِابْنِ الصَّيَّادِ دُخَّانًا، فَسَأَلَهُ عَمَّا خَبَّأَ لَهُ، فَقَالَ: دُخُّ. فَقَالَ: "" اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ "". فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا قَالَ؟ "". قَالَ بَعْضُهُمْ: وَخُّ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَالَ: دُخُّ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدِ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، فَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلَافًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From al-Husayn ibn ʿAli, may Allah be pleased with them, that the Prophet ﷺ concealed smoke for Ibn al-Sayyad, then asked him about what he had concealed for him, so he said: Dukh. He said: Begone, you will never exceed your measure. When he turned away, the Prophet ﷺ said: What did he say? Some said: Wakh. And some said: Rather he said: Dukh. So the Prophet ﷺ said: You have differed while I am among you, so after me you will differ more severely. > **"Begone, you will never exceed your measure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ابن صیاد کے لئے ایک چیز دل میں سوچی اور اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا : جو آپ نے اس کے بارے میں سوچی تھی ، تو اس نے کہا : دخ ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ تم اپنی اوقات سے آگے نہیں جا سکو گے ، پھر نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس نے کیا کہا تھا ؟ کسی نے کہا : اس نے وخ کہا تھا ، کسی نے کہا : بلکہ دخ کہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور پھر بھی تم اختلاف کا شکار ہو گئے ، تو میرے بعد تو تم لوگ زیادہ شدید اختلاف کا شکار ہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12567

Majma al-Zawaid #12567

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: «مَا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ فَقَالَ: "" مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ لَيْسَ بِضَارِّكَ "". قُلْتُ: أَلَا أَقْتُلُ ابْنَ صَيَّادٍ؟ قَالَ: "" مَا تَصْنَعُ بِقَتْلِهِ؟ إِنْ كَانَ هُوَ الدَّجَّالُ فَلَنْ تَخْلُصَ إِلَى قَتْلِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الدَّجَّالُ فَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قِصَّةِ قَتْلِ ابْنِ صَيَّادٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ جَهْوَرِ بْنِ مَنْصُورٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

From al-Mughirah ibn Shuʿbah, may Allah be pleased with him, who said: None asked the Prophet ﷺ about the Dajjal more than I asked him, so he said: What will you do with him? He will not harm you. I said: Shall I not kill Ibn Sayyad? He said: What would you do by killing him? If he is the Dajjal you will never attain to killing him, and if he is not the Dajjal then what will you do with him? > **"He will not harm you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے دریافت کیا ہے : اس سے زیادہ کسی اور نے دریافت نہیں کیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس کا کیا کرو گے ، وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا پائے گا ، میں نے عرض کی : کیا میں ابن صیاد کو قتل نہ کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے قتل کر کے کیا کرو گے ، اگر تو وہ دجال ہوا تو تم اسے قتل نہیں کر پاؤ گے ، اور اگر وہ دجال نہ ہوا تو پھر تم اس کا کیا کرو گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ اس میں ابن صیاد کے قتل والا واقعہ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جہور بن منصور کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12568

Majma al-Zawaid #12568

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يُوشِكُ الْمَسِيحُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ أَنْ يَنْزِلَ حَكَمًا مُقْسِطًا وَإِمَامًا عَدْلًا، فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَتَكُونُ الدَّعْوَةُ وَاحِدَةً، فَاقْرِئُوهُ - أَوْ أَقْرِئْهُ - السَّلَامَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُحَدِّثُهُ فَيُصَدِّقُنِي "". فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: "" أَقْرِئُوهُ مِنِّي السَّلَامَ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: The Messiah ʿIsa ibn Maryam, peace be upon him, is about to descend as a just judge and equitable Imam, so he will kill the pig, and break the cross, and the call will be one, so convey to him – or convey to him – greeting from the Messenger of Allah ﷺ, and I shall speak to him and he will believe me. When death approached him he said: Convey to him greeting from me. > **"Convey to him greeting from the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عنقریب حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام انصاف کرنے والے حکمران اور عادل امام ہونے کے طور پر نازل ہوں گے ، وہ خنزیر کو مار دیں گے ، صلیب کو توڑ دیں گے ، اس وقت دعوت ایک ہی ہو گی ، تم انہیں اللہ کے رسول کی طرف سے سلام کہنا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) میں ان کے ساتھ بات چیت کروں گا ، تو وہ میری بات کی تصدیق کریں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا : انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دینا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے امام احمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12569

Majma al-Zawaid #12569

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمْرٌ، أَنْ أَلْقَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ عَجَّلَ بِي مَوْتٌ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ: مَرْفُوعٌ وَهُوَ هَذَا، وَمَوْقُوفٌ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, from the Prophet ﷺ who said: I do hope, if my life is prolonged, to meet ʿIsa ibn Maryam, peace be upon him, but if death is hastened for me, then whoever of you meets him, let him convey to him greeting from me. > **"Whoever of you meets him, let him convey to him greeting from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے یہ امید ہے کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ملاقات کروں گا لیکن اگر مجھے جلدی موت آ گئی تو تم میں سے جو شخص انہیں ملے وہ انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ایک مرفوع ہے ، اور وہ یہ والی ہے ، اور ایک موقوف ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12570

Majma al-Zawaid #12570

عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ - وَهُوَ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ - عَنْ خَالَتِهِ قَالَ: «خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَاصِبٌ رَأْسَهُ مِنْ لَدْغَةِ عَقْرَبٍ فَقَالَ: "" إِنَّكُمْ تَقُولُونَ: لَا عَدُوَّ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا، حَتَّى يَأْتِيَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، عِرَاضُ الْوُجُوهِ، صِغَارُ الْعُيُونِ، صُهْبُ الشِّعَافِ، وَمِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمِجَانُّ الْمُطْرَقَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Ibn Harmalah – and he is Khalid ibn ʿAbdillah ibn Harmalah – from his maternal aunt, may Allah be pleased with them, who said: The Messenger of Allah ﷺ gave a sermon while his head was bandaged from the sting of a scorpion, and said: You say: There is no enemy, yet you will not cease fighting an enemy until Yaʾjuj and Maʾjuj come, broad of face, small of eye, reddish of hair, hastening from every mound, as though their faces were hammered shields. > **"You will not cease fighting an enemy until Yaʾjuj and Maʾjuj come."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن حرملہ یہ خالد بن عبداللہ بن حرملہ ہیں وہ اپنی پھوپھی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا آپ ﷺ نے بچھو کے ڈنک مارنے کی وجہ سے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ یہ کہتے ہو کہ دشمن نہیں رہا ، تم لوگ مسلسل دشمن کے ساتھ جنگ کرتے رہو گے ، یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آ جائیں گے ، جن کے چہرے چوڑے ہوں گے ، آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ان کا رنگ سیاہی مائل سرخ ہو گا ، وہ ہر ایک بلندی سے تیزی سے چلتے ہوئے نیچے کی طرف آئیں گے ، اور ان کے چہرے تہہ والی ڈھالوں کی مانند ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12571

Majma al-Zawaid #12571

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، [وَ] لَوْ أُرْسِلُوا لَأَفْسَدُوا عَلَى النَّاسِ مَعَايِشَهُمْ، وَلَنْ يَمُوتَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا تَرَكَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ أَلْفًا فَصَاعِدًا، وَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ ثَلَاثَ أُمَمٍ: تَاوِيلُ، وَتَارِيسُ، وَمَنْسَكُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them, from the Prophet ﷺ who said: Yaʾjuj and Maʾjuj are from the children of Adam, and were they released they would corrupt the livelihoods of people, and none of them dies until he leaves among his progeny a thousand or more, and beyond them are three nations: Tawil, and Taris, and Mansak. > **"Yaʾjuj and Maʾjuj are from the children of Adam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ یاجوج ماجوج حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے ، اگر انہیں چھوڑ دیا جائے تو وہ لوگوں کی زندگی خراب کر دیں ، ان میں سے کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک وہ اپنی اولاد میں سے ایک ہزار سے زیادہ ذریت کو نہیں چھوڑے گا ، اور ان کے بعد تین امتیں ہوں گی ، تاویل ، تاریس اور منسک ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12572

Majma al-Zawaid #12572

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ فَقَالَ: "" يَأْجُوجُ أُمَّةٌ، وَمَأْجُوجُ أُمَّةٌ، كُلُّ أُمَّةٍ أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفِ أُمَّةٍ، لَا يَمُوتُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى أَلْفِ ذَكَرٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ صُلْبِهِ، كُلٌّ قَدْ حَمَلَ السِّلَاحَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا. قَالَ: "" هُمْ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ: فَصِنْفٌ مِنْهُمْ أَمْثَالَ الْأَرْزِ "". قُلْتُ: وَمَا الْأَرْزُ؟ قَالَ: "" شَجَرٌ بِالشَّامِ، طُولُ الشَّجَرَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةَ ذِرَاعٍ فِي السَّمَاءِ "". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَا يَقُومُ لَهُمْ خَيْلٌ وَلَا حَدِيدٌ، وَصِنْفٌ مِنْهُمْ يَفْتَرِشُ بِأُذُنِهِ وَيَلْتَحِفُ بِالْأُخْرَى، لَا يَمُرُّونَ بِفِيلٍ وَلَا وَحْشٍ وَلَا جَمَلٍ وَلَا خِنْزِيرٍ إِلَّا أَكَلُوهُ، وَمَنْ مَاتَ مِنْهُمْ أَكَلُوهُ، مُقَدِّمَتُهُمْ بِالشَّامِ، وَسَاقَتُهُمْ بِخُرَاسَانَ، يَشْرَبُونَ أَنْهَارَ الْمَشْرِقِ، وَبُحَيْرَةَ طَبَرِيَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From Hudhayfah ibn al-Yaman, may Allah be pleased with him, who said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about Yaʾjuj and Maʾjuj, so he said: Yaʾjuj is a nation, and Maʾjuj is a nation, each nation consisting of four hundred thousand nations, and no man dies until he looks upon a thousand males before him from his own loins, each bearing arms. I said: O Messenger of Allah, describe them for us. He said: They are three kinds: a kind of them like al-arz. I said: What is al-arz? He said: A tree in Sham, the tree being one hundred and twenty cubits tall into the sky. Then the Messenger of Allah ﷺ said: These are they whom no horses nor iron can withstand, and a kind of them who spread one ear as a bed and wrap themselves in the other, who pass by no elephant nor wild beast nor camel nor pig except that they eat it, and whoever of them dies they eat him, their vanguard in Sham and their rear in Khurasan, drinking the rivers of the east and the Lake of Tiberias. > **"Yaʾjuj is a nation, and Maʾjuj is a nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے یاجوج ماجوج کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ یاجوج ایک امت ہے اور ماجوج ایک امت ہے ، ان میں سے ہر ایک امت چار لاکھ امتوں پر مشتمل ہے ، اور ان میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک وہ اپنی اولاد ( اور اولاد کی اولاد ) میں سے اپنے آگے ایک ہزار مذکر افراد کو نہیں دیکھ لے گا ، جن میں سے ہر ایک نے ہتھیار اٹھایا ہوا ہو گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ تین قسم کے ہوں گے ، ایک قسم وہ ہو گی جو صنوبر کے درخت کی مانند ہوں گے ، میں نے دریافت کیا : ارز سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : شام میں موجود ایک درخت ہے ۔ اس درخت کی لمبائی ایک سو بیس ذراع ( کہنی سے درمیانی سب سے بڑی انگلی کے کنارے تک کی مقدار ) ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے سامنے کوئی گھوڑا یا ہتھیار قائم نہیں رہ سکتا ، ان میں سے ایک گروہ وہ ہو گا جو ایک کان کو بطور فرش بچھائے گا ، اور دوسرے کو لحاف کے طور پر لپیٹ لے گا ۔ وہ لوگ جس بھی ہاتھی یا اونٹ یا خنزیر کے پاس سے گزریں گے اسے کھا جائیں گے ، یہاں تک کہ ان میں سے جو شخص مرے گا ، وہ اس کو بھی کھا جائیں گے ، ان کا پہلا حصہ شام میں ہو گا ، اور ہانک کر لے جانے والا خراسان میں ہو گا ، وہ مشرق کی نہروں کو پی جائیں گے اور بحیرہ طبریہ کو پی جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12573

Majma al-Zawaid #12573

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «تَخْرُجُ الدَّابَّةُ تَسِمُ النَّاسَ عَلَى خَرَاطِيمِهِمْ، ثُمَّ يَغْمُرُونَ فِيهِ، حَتَّى يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِيرَ فَيَقُولُ: مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهُ؟ فَيَقُولُ: اشْتَرَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِينَ» ".

EnglishUnverified translation

From Abu Umamah, may Allah be pleased with him, raising it to the Prophet ﷺ who said: The Beast will emerge and mark people upon their noses, then they will remain engrossed therein, until a man buys a camel and says: From whom did you buy it? So he says: I bought it from one of the bridled ones. > **"The Beast will emerge and mark people upon their noses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ دابۃ الارض نکلے گا جو لوگوں کے ناک پر نشان لگائے گا ، پھر وہ لوگ اسی حالت میں رہیں گے ، یہاں تک کہ کوئی اونٹ خریدے گا تو کہے گا : یہ تم نے کس سے خریدا ہے ، تو وہ جواب دے گا : یہ میں نے ایسے شخص سے خریدا ہے جس پر لگام ڈالی گئی تھی ( یعنی نشان لگایا گیا تھا ) ۔‘‘

12574

Majma al-Zawaid #12574

وَفِي رِوَايَةٍ: "" ثُمَّ يَغْمُرُونَ فِيكُمْ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Umamah, may Allah be pleased with him, in a variant: Then they will dwell among you, meaning the marked people will remain and mingle among you after the emergence of the Beast. > **"Then they will dwell among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ پھر وہ لوگ تمہارے درمیان داخل ہو جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمر بن عبدالرحمن بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

12575

Majma al-Zawaid #12575

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: أَلَا أُرِيكُمُ الْمَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَرَى أَنَّ الدَّابَّةَ تَخْرُجُ مِنْهُ "". فَضَرَبَ بِعَصَاهُ الشَّقَّ الَّذِي فِي الصَّفَا وَقَالَ: "" إِنَّهَا ذَاتُ رِيشٍ وَزَغَبٍ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ ثُلْثُهَا حُضْرُ الْفَرَسِ الْجَوَادِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَثَلَاثَ لَيَالٍ، وَإِنَّهَا لَتَمُرُّ عَلَيْهِمْ إِنَّهُمْ لَيَفِرُّونَ مِنْهَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، فَتَقُولُ لَهُمْ: أَتَرَوْنَ الْمَسَاجِدَ تُنْجِيكُمْ مِنِّي؟ فَتَخْطِمُهُمْ، يُسَاقُونَ فِي الْأَسْوَاقِ وَيَقُولُ: يَا كَافِرُ، يَا مُؤْمِنُ "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them, who said: Shall I not show you the place of which the Messenger of Allah ﷺ said: I deem that the Beast will emerge therefrom. So he struck with his staff the cleft that is in al-Safa and said: It is possessed of feathers and down, and a third of it will emerge at the pace of a swift horse for three days and three nights, and it will pass upon them while they flee from it to the mosques, so it will say to them: Do you deem the mosques will save you from me? Then it will mark them, they will be driven in the markets, and it will say: O disbeliever, O believer. > **"Do you deem the mosques will save you from me?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ جگہ نہ دکھاؤں جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے یہ چیز دیکھی ہے کہ دابۃ الارض اس میں سے نکلے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا عصا صفا پہاڑ میں موجود اس خالی جگہ پر ڈالا اور فرمایا : وہ جانور پروں والا اور بالوں ( یا کمزور جلد ) والا ہو گا ، اس کا ایک تہائی حصہ یوں نکلے گا ، جتنی تیزی سے تیز رفتار گھوڑا جاتا ہے ، تین دن اور تین راتیں لگیں گے ، وہ لوگوں کے پاس سے گزرے گا ، لوگ اس سے بھاگ کر مساجد کی طرف جائیں گے ، تو وہ ان سے کہے گا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مسجدیں تمہیں مجھ سے بچا لیں گی ، پھر وہ ان کو نشان لگانا شروع کرے گا ، ان لوگوں کو بازار میں لایا گیا جائے گا ، تو وہ یہ کہے گا : اے کافر ! اے مومن ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12576

Majma al-Zawaid #12576

وَعَنْ أَبِي سَرِيحَةَ - يَعْنِي حُذَيْفَةَ بْنَ أَسِيدٍ -، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «الدَّابَّةُ لَهَا ثَلَاثُ خُرُجَاتٍ مِنَ الدَّهْرِ: [فَتَخْرُجُ] خُرْجَةٌ فِي أَقْصَى الْيَمَنِ، حَتَّى يَفْشُوَ ذِكْرُهَا فِي الْبَادِيَةِ وَلَا يَدْخُلَ ذِكْرُهَا الْقَرْيَةَ، ثُمَّ تَكْمُنُ زَمَانًا طَوِيلًا بَعْدَ ذَلِكَ، ثُمَّ تَخْرُجُ خُرْجَةً قَرِيبًا مِنْ مَكَّةَ، فَيَفْشُو ذِكْرُهَا فِي أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَيَفْشُو ذِكْرُهَا فِي مَكَّةَ، ثُمَّ تَمْكُثُ زَمَانًا طَوِيلًا، ثُمَّ تَفْجَأُ النَّاسَ فِي أَعْظَمِ الْمَسَاجِدِ عَلَى اللَّهِ حُرْمَةً وَخَيْرِهَا وَأَكْرَمِهَا عَلَى اللَّهِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، لَمْ يَرُعْهُمْ إِلَّا نَاحِيَةَ الْمَسْجِدِ، تَرْجُو مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ إِلَى بَابِ بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ يَمِينِ الْخَارِجِ [مِنَ الْمَسْجِدِ]، فَانْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا سِتًّا وَمَعًا، وَثَبَتَ لَهَا عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَعَرَفُوا أَنَّهُمْ لَنْ يَعْجِزُوا اللَّهَ، فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ تَنْفُضُ عَنْ رَأْسِهَا التُّرَابَ، فَبَدَتْ فَجَلَتْ وُجُوهُهُمْ، حَتَّى تَرَكَتْهَا كَأَنَّهَا الْكَوَاكِبُ الدُّرِّيَّةُ، ثُمَّ وَلَّتْ فِي الْأَرْضِ لَا يُدْرِكُهَا طَالِبٌ وَلَا يُعْجِزُهَا هَارِبٌ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَقُومُ يَتَعَوَّذُ مِنْهَا بِالصَّلَاةِ فَتَأْتِيهِ، فَتَقُولُ: أَيْ فُلَانُ، الْآنَ تُصَلِّي؟ فَيُقْبِلُ عَلَيْهَا بِوَجْهِهِ، فَتَسِمُهُ فِي وَجْهِهِ، وَيَذْهَبُ. وَتَجَاوَزُ النَّاسُ فِي دُورِهِمْ، وَفِي أَسْفَارِهِمْ، وَيَشْتَرِكُونَ فِي الْأَمْوَالِ، وَيُعْرَفُ الْكَافِرُ مِنَ الْمُؤْمِنِ، حَتَّى أَنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَقُولُ لِلْكَافِرِ: يَا كَافِرٌ اقْضِنِي حَقِّي، وَحَتَّى أَنَّ الْكَافِرَ لَيَقُولُ لِلْمُؤْمِنِ: يَا مُؤْمِنُ اقْضِنِي حَقِّي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Sarihah – meaning Hudhayfah ibn Asid, may Allah be pleased with him – from the Messenger of Allah ﷺ that he said: The Beast has three emergences in time: an emergence in the farthest Yemen, until its mention spreads in the desert while its mention does not enter the town, then it hides for a long time after that, then it emerges an emergence near Makkah, so its mention spreads among the people of the desert, and its mention spreads in Makkah, then it remains for a long time, then it surprises people in the greatest mosque in sanctity before Allah and the best and most honoured before Allah, the Sacred Mosque, none being startled except at the side of the mosque, coming between the Corner and the Station toward the door of Banu Makhzum, to the right of one exiting the mosque, so the people scatter from it in groups and together, and a band of Muslims stands firm for it, knowing they cannot escape Allah, so it emerges upon them shaking dust from its head, then it appears and brightens their faces until it leaves them as though brilliant stars, then it turns into the earth, no seeker overtakes it and no fleer escapes it, until a man rises seeking refuge from it in prayer, so it comes to him and says: O so-and-so, now you pray? Then it turns to him with its face, marks him in his face, and departs. And people will associate in their homes, and in their journeys, and share in wealth, and the disbeliever will be known from the believer, until the believer says to the disbeliever: O disbeliever, fulfill my right, and until the disbeliever says to the believer: O believer, fulfill my right. > **"O so-and-so, now you pray?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسریحہ رضی اللہ عنہ یعنی حضرت حذیفہ بن اسید بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دابۃ الارض تین مختلف زمانوں میں نکلے گا ، ایک مرتبہ وہ یمن کے دور دراز علاقے میں نکلے گا ، یہاں تک کہ اس کا تذکرہ ویرانے میں رہنے والے لوگوں میں ہو گا ، بستیوں میں اس کا تذکرہ نہیں ہو گا ، پھر وہ ایک طویل عرصے تک اس کے بعد چھپا رہے گا ، پھر وہ دوسری مرتبہ مکہ کے قریب نکلے گا ، اس وقت اس کا ذکر ویرانوں میں بھی ہو گا ، اور اس کا ذکر مکہ میں بھی ہو گا ، پھر وہ ایک طویل عرصہ تک ٹھہرا رہے گا ، پھر وہ لوگوں کے پاس اس وقت آئے گا ، جو اللہ کی مساجد میں سے حرمت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والی ہے ، سب سے زیادہ بہتری والی ہے ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہے ، اور وہ مسجد حرام ہے ، صرف مسجد کا کنارہ ان لوگوں کو سنبھال سکے گا ، بنو مخزوم والے دروازے کی طرف حجر اسود اور مقام ابراہیم کی درمیانی جگہ کی طرف سے وہ آئے گا ، وہ مسجد کے دائیں طرف سے آئے گا ، تو لوگ متفرق ہو کر اس سے دور جائیں گے ، مسلمانوں کا ایک گروہ اس کے سامنے جمع رہے گا ، وہ لوگ یہ بات جان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے ، وہ ان کے سامنے نکلے گا ، اس کے سر سے مٹی جھڑ رہی ہو گی ، وہ ظاہر ہو گا ، ان کے چہرے پریشان ہوں گے ، یہاں تک کہ وہ انہیں چھوڑے گا ، تو ان کے چہرے چمکتے ہوئے ستاروں کی مانند ہوں گے ، پھر وہ زمین میں جائے گا ، کوئی پیچھا کرنے والا اس تک نہیں پہنچ سکے گا ، اور کوئی بھاگنے والا اس سے بچ نہیں سکے گا ، یہاں تک کہ ایک شخص کھڑا ہو گا ، اور نماز کے ذریعے اس سے بچنا چاہے گا ، تو وہ اس کے پاس آئے گا اور کہے گا : اے فلاں اب تم نماز پڑھ رہے ہو ؟ پھر وہ سامنے سے اس کی طرف آئے گا ، اور اس کے چہرے پر نشان لگا دے گا ، پھر وہ جائے گا ، تو لوگ اپنے علاقوں سے باہر نکل جائیں گے ، سفر کرنے لگیں گے ، اموال میں شراکت دار ہوں گے ، مومن کے مقابلے میں کافر کو پہچان لیا جائے گا ، یہاں تک کہ مومن شخص کافر سے کہے گا : اے کافر تم میرا حق مجھے ادا کرو اور کافر شخص مومن سے کہے گا : اے مومن تم میرا حق مجھے ادا کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔

12577

Majma al-Zawaid #12577

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بِئْسَ الشَّعْبُ جِيَادٌ "". قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: فِيمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَخْرُجُ الدَّابَّةُ، فَتَصْرُخُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ، فَيَسْمَعُهَا مَنْ بَيْنِ الْخَافِقَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رِيَاحُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: Wretched is the mountain path Jiyad. He said it twice or thrice. He said: For what, O Messenger of Allah? He said: The Beast will emerge, and cry three cries, so all between the two horizons will hear it. > **"The Beast will emerge, and cry three cries."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پہاڑ کا اچھا راستہ ہی برا ہو گا ، یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے دابۃ الارض نکلے گا اور تین مرتبہ چیخے گا ، تو دونوں کناروں کے درمیان موجود ہر چیز اسے سن لے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ریاح بن عبیداللہ بن عمر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12578

Majma al-Zawaid #12578

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ - أَرَاهُ رَفَعَهُ - قَالَ: "" «تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ أَعْظَمِ الْمَسَاجِدِ، فَبَيْنَا هُمْ إِذْ دَبَّتِ الْأَرْضُ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ تَصَدَّعَتْ» "". قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: تَخْرُجُ حِينَ يَسْرِي الْإِمَامُ مِنْ جَمْعٍ، وَإِنَّمَا جُعِلَ سَابِقَ الْحَاجِّ لِيُخْبِرَ النَّاسَ أَنَّ الدَّابَّةَ لَمْ تَخْرُجْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، خَرَّ إِبْلِيسُ سَاجِدًا يُنَادِي وَيَجْهَرُ: إِلَهِي، مُرْنِي أَنْ أَسْجُدَ لِمَنْ شِئْتَ، قَالَ: فَتَجْتَمِعُ إِلَيْهِ زَبَانِيَتُهُ، فَيَقُولُونَ: يَا سَيِّدَّهُمْ، مَا هَذَا التَّضَرُّعُ؟ فَيَقُولُ: إِنَّمَا سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُنْظِرَنِي إِلَى الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ، وَهَذَا الْوَقْتُ الْمَعْلُومُ "". قَالَ: "" ثُمَّ تَخْرُجُ دَابَّةُ [الْأَرْضِ] مِنْ صَدْعٍ فِي الصَّفَا، فَأَوَّلُ خُطْوَةٍ تَضَعُهَا بِأَنْطَاكِيَّةَ، فَتَأْتِي إِبْلِيسَ فَتَلْطِمُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From Hudhayfah ibn Asid, may Allah be pleased with him – I deem he raised it – who said: The Beast will emerge from the greatest mosque, and while they are there the earth will tremble, and while they are thus it will split open. Ibn ʿUyaynah said: It will emerge when the Imam hastens from Muzdalifah, and the vanguard of the pilgrims was appointed only to inform people that the Beast has not emerged. And from ʿAbdullah ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: When the sun rises from its west, Iblis will fall prostrate, calling aloud: My God, command me to prostrate to whomsoever You will. He said: So his devils gather to him and say: O their master, what is this supplication? He says: I asked my Lord, mighty and majestic, to grant me respite till the known time, and this is the known time. He said: Then the Beast of the earth will emerge from a cleft in al-Safa, its first step falling at Antioch, then it will come to Iblis and strike him. > **"When the sun rises from its west, Iblis will fall prostrate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ دابۃ الارض سب سے بڑی مسجد سے نکلے گا ، ابھی وہ لوگ وہاں ہوں گے کہ اسی دوران زمین ہل جائے گی اور ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ وہ تھرتھراے گی ۔‘‘ ابن عیینہ بیان کرتے ہیں : یہ اس وقت نکلے گا جب اس وقت کا حاکم مزدلفہ سے روانہ ہو گا ، حاجیوں سے پہلے جانے والوں کو اسی لئے مقرر کیا گیا ہے ، تاکہ وہ لوگوں کو یہ بتا دیں کہ ابھی دابۃ الارض نہیں نکلا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب سورج مغرب سے نکل آئے گا ، تو ابلیس سجدے میں گر جائے گا ، اور وہ بلند آواز میں پکار کر کہے گا : اے میرے معبود ! تو مجھے حکم دے جسے تو چاہتا ہے ، میں اسے سجدہ کر دوں گا ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو اس کے ساتھی اس کے پاس اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے : اے آقا ! یہ گریہ و زاری کس وجہ سے ہے ؟ وہ کہے گا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ مجھے ایک متعین وقت تک کی مہلت دے ، تو یہ وہ متعین وقت ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : پھر دابۃ الارض صفا پہاڑ میں موجود ایک سوراخ سے نکلے گا ، اور اس کا پہلا قدم انطاکیہ میں ہو گا ، پھر وہ ابلیس کے پاس آئے گا اور اس کو تھپڑ مارے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12579

Majma al-Zawaid #12579

وَعَنْ أَبِي زَرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ: جَلَسَ ثَلَاثُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ، فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ فِي الْآيَاتِ، أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ قَالَ: فَانْصَرَفَ الْقَوْمُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثُوهُ بِالَّذِي سَمِعُوهُ مِنْ مَرْوَانَ فِي الْآيَاتِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا، قَدْ حَفِظْتُ مِنْ [رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مِثْلِ ذَلِكَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ، سَمِعْتُ] رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَ [خُرُوجُ] الدَّابَّةُ ضُحًى، فَأَيَّتُهُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا، فَالْأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا» "". ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - وَكَانَ يَقْرَأُ الْكُتُبَ -: وَأَظُنُّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ; وَذَلِكَ أَنَّهَا كُلَّمَا غَرَبَتْ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ، وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ، فَأُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ، حَتَّى إِذَا بَدَا لِلَّهِ أَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِهَا فَعَلَتْ كَمَا كَانَتْ تَفْعَلُ، أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ، وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فِي الرُّجُوعِ، فَلَا يَرُدُّ عَلَيْهَا شَيْئًا، حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْهَبَ، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ إِنْ أُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ لَمْ تُدْرِكِ الْمَشْرِقَ قَالَتْ: رَبِّ، مَا أَبْعَدَ الْمَشْرِقَ، مَنْ لِي بِالنَّاسِ؟ حَتَّى إِذَا صَارَ الْأُفُقُ كَأَنَّهُ طَوْقٌ، اسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ، فَيُقَالُ لَهَا: مِنْ مَكَانِكِ فَاطْلُعِي. فَطَلَعَتْ عَلَى النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِهَا. ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: 158] قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Abu Zurʿah ibn ʿAmr ibn Jarir, may Allah have mercy on him, who said: Three men of the Muslims sat with Marwan in Madinah and heard him speaking about the Signs, that the first of them is the emergence of the Dajjal. So the people went to ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them, and told him what they had heard from Marwan about the Signs. So ʿAbdullah said: Marwan said nothing. I have memorized from the Messenger of Allah ﷺ in like manner a hadith I have not yet forgotten, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The first of the Signs to emerge is the rising of the sun from its west, and the Beast in the forenoon, so whichever of the two is before its companion, the other follows upon its trace. Then ʿAbdullah – and he used to read the books – said: And I deem the first of them to emerge is the rising of the sun from its west; and that is because whenever it sets it comes beneath the Throne, prostrates, and seeks permission to return, so it is permitted to return, until when it appears to Allah that it rise from its west, it does as it used to do, comes beneath the Throne, prostrates, and seeks permission to return, but nothing is returned to it, then it seeks permission to return, but nothing is returned to it, until when as much of the night as Allah wills to pass has passed, and it knows that if it were permitted to return it would not reach the east, it says: My Lord, how distant is the east, who is for the people? Until when the horizon becomes as a ring, it seeks permission to return, so it is said to it: Rise from your place. So it rises upon people from its west. Then ʿAbdullah recited this verse: On the day when some of the signs of your Lord come, no soul will benefit from its faith if it had not believed before or earned good in its faith. > **"The first of the Signs to emerge is the rising of the sun from its west."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوزرعہ بن عمرو بن جریر بیان کرتے ہیں : مسلمانوں میں سے تین افراد مردان کے پاس مدینہ منورہ میں بیٹھے اور اس کی باتیں سننے لگے ، اس نے ( قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی ) نشانیوں کے بارے میں بات چیت کی کہ ان میں سب سے پہلے دجال نکلے گا ، پھر وہ لوگ اٹھ کر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہوں نے مروان کی زبانی جو باتیں سنی تھیں ، وہ ان کے سامنے بیان کی ، جو قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیوں کے بارے میں تھیں ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو بات مروان نے بیان کی ہے ۔ وہ ٹھیک نہیں ہے ، مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات یاد ہے ، جو اس بارے میں ہے ، اور میں اسے نہیں بھولا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ نشانیوں میں سب سے پہلے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے کا ظہور ہو گا ، پھر دابۃ الارض چاشت کے وقت نکلے گا ، ان میں سے جو بھی پہلے نکلے گا دوسرا اس کے بالکل بعد آ جائے گا ‘‘ پھر اس کے بعد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تحریریں ملاحظہ کرنے کے بعد یہ بات بیان کی ہے کہ میرا خیال ہے کہ ان میں سے پہلے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے والی نشانی ظاہر ہو گی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جب بھی غروب ہوتا ہے ، وہ عرش کے نیچے آ جاتا ہے ، وہ سجدہ کرتا ہے اور پھر واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے ، اسے واپس جانے کی اجازت دی جاتی ہے ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ یہ طے کرے گا کہ اب اسے مغرب کی طرف سے نکلنا چاہیے ، تو سورج ویسا ہی کرے گا جیسے پہلے کرتا تھا ، وہ عرش کے نیچے آئے گا اور سجدے میں چلا جائے گا ، اور واپس جانے کی اجازت مانگے گا ، تو اسے جواب نہیں ملے گا ، پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگے گا ، اسے جواب نہیں ملے گا ، یہاں تک کہ جتنا عرصہ اللہ کو منظور ہو گا ، رات کا اتنا حصہ گزر جائے گا ، تو سورج کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ اب اگر اسے واپس جانے کی اجازت مل بھی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا ، تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! مشرق کتنی دور ہے ، اب میں لوگوں تک کیسے پہنچوں گا ؟ یہاں تک کہ جب وہ افق میں طوق کی مانند ہو جائے گا ، تو پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگے گا ، تو اس سے کہا جائے گا : تم اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور طلوع ہو جاؤ ، تو وہ مغرب کی طرف سے لوگوں کے سامنے طلوع ہو گا ، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جس دن تمہارے پروردگار کی نشانیوں میں سے ایک آ جائے گی ، اس دن کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا ، ایسا شخص جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا ، یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہیں کمائی تھی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12580

Majma al-Zawaid #12580

وَعَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَجِيءُ الرِّيحُ الَّتِي يَقْبِضُ اللَّهُ فِيهَا نَفْسَ كُلِّ مُؤْمِنٍ، ثُمَّ تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَهِيَ الْآيَةُ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Sarihah Hudhayfah ibn Asid, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: There will come the wind in which Allah takes the soul of every believer, then the sun will rise from its west, and it is the Sign which Allah mentioned in His Book. > **"Then the sun will rise from its west."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسریحہ حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایسی ہوا آئے گی ، جس میں اللہ تعالیٰ ہر مومن کی جان کو قبض کر لے گا ، پھر سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا ، اور یہ وہ نشانی ہے ، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔

12581

Majma al-Zawaid #12581

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَوَّلُ الْآيَاتِ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ فَضَالَةُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَأَنْكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ.

EnglishUnverified translation

From Abu Umamah, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: The first of the Signs is the rising of the sun from its west. > **"The first of the Signs is the rising of the sun from its west."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے پہلی نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضالہ بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ انہوں نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے ۔

12582

Majma al-Zawaid #12582

عَنْ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، فَيُقَالُ: مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟ "". قَالَ: فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ: "" قَبَائِلَ "" أَنَّهَا الْعَرَبُ ; لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Suhar al-ʿAbdi, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: The Hour will not stand until tribes are swallowed, so it is said: Who remains of Banu Fulan? He said: So I knew when he said tribes that they are the Arabs; for the non-Arabs are ascribed to their villages. > **"The Hour will not stand until tribes are swallowed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صحار عبدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مختلف قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا : بنو فلاں میں سے کون بچا ہے ؟“ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے لفظ قبائل استعمال کیا تو اس سے مجھے پتہ چل گیا کہ اس سے مراد عرب ہیں کیونکہ عجمی لوگ تو اپنی بستیوں کے حوالے سے منسوب ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12583

Majma al-Zawaid #12583

وَعَنْ بُقَيْرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ قَالَتْ: «إِنِّي لَجَالِسَةٌ فِي صُفَّةِ النِّسَاءِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى قَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، إِذَا سَمِعْتُمْ بِخَسْفٍ هَهُنَا، فَقَدْ أَطَلَّتِ السَّاعَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Buqayrah, wife of al-Qaʿqaʿ, may Allah be pleased with her, who said: I was sitting in the women's portico, and I heard the Messenger of Allah ﷺ preaching while gesturing with his left hand, saying: O people, when you hear of a swallowing here, then the Hour has loomed. > **"O people, when you hear of a swallowing here, then the Hour has loomed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں خواتین والے چبوترے پر بیٹھی ہوئی تھی ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو خطبے کے دوران اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے لوگو ! جب تم سنو کہ یہاں زمین میں دھنسایا گیا ہے ، تو اس کا مطلب ہو گا قیامت آنے والی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ، امام احمد کی مختلف اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12584

Majma al-Zawaid #12584

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ، حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: مَنْ صُعِقَ قِبَلَكُمُ الْغَدَاةَ؟ فَيَقُولُونَ: صُعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said: Thunderbolts will increase near the approach of the Hour, until a man comes and says: Who was struck before you this morning? So they say: So-and-so and so-and-so were struck. > **"Thunderbolts will increase near the approach of the Hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے قریب ہونے کے زمانے میں آسمانی بجلی بہت گرے گی ، یہاں تک کہ کوئی شخص آئے گا اور یہ کہے گا : آج صبح تمہاری طرف کسی شخص پر بجلی گری ہے ، تو وہ جواب دیں گے فلاں اور فلاں پر گری ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے محمد بن مصعب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

12585

Majma al-Zawaid #12585

وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مُدَّةُ أُمَّتِكَ مِنَ الرَّخَاءِ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَيْنَ السَّائِلُ؟ "". فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَالَ: "" لَقَدْ سَأَلْتَنِي، عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، مُدَّةُ أُمَّتِي مِنَ الرَّخَاءِ مِائَةُ سَنَةٍ "". قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ أَمَارَةٍ أَوْ عَلَامَةٍ أَوْ آيَةٍ؟ فَقَالَ: "" نَعَمْ، الْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَإِرْسَالُ الشَّيَاطِينِ الْمُجَلِّبَةِ عَلَى النَّاسِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سَعْدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Junadah ibn Umayyah, who heard ʿUbadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, mention that a man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, what is the duration of ease for your ummah? He did not return anything to him, until he asked him three times, each time he did not answer him, then the man departed, then the Prophet ﷺ said: Where is the questioner? So they returned him to him, and he said: You asked me about a thing none of my ummah asked me about, the duration of ease for my ummah is one hundred years. He said it twice or thrice. The man said: O Messenger of Allah, is there for that a portent or sign or verse? He said: Yes, swallowing, and quaking, and dispatch of raiding devils upon people. > **"The duration of ease for my ummah is one hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جنادہ بن امیہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی امت کی سہولت مدت کب تک رہے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا ، ہر مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے اسے جواب نہیں دیا ، وہ شخص واپس چلا گیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ لوگ اسے آپ کے پاس واپس لے کر آئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک ایسی چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا ہے کہ جس کے بارے میں مجھ سے کسی نے دریافت نہیں کیا ، میری امت کی سہولت والی مدت ایک سو سال ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے دو یا شاید تین مرتبہ یہ بات بیان کی ، تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس کی کوئی نشانی یا علامت یا آیت ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! زمین میں دھنسایا جانا ، زلزلے آنا اور کھینچ لینے والے شیاطین کا لوگوں کی طرف بھیجا جانا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سعد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12586

Majma al-Zawaid #12586

وَعَنْ فَرْقَدَ السَّبَخِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبٌ أَبُو حَبِيبٍ الشَّامِيُّ، عَنْ أَبِي عَطَاءٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَحَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ - أَوْ حُدِّثْتُ عَنْهُ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيَبِيتَنَّ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَشَرٍ وَبَطَرٍ وَلَعِبٍ وَلَهْوٍ، فَيُصْبِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ، بِاسْتِحْلَالِهِمُ الْحَرَامَ، وَاتِّخَاذِهِمُ الْقَيْنَاتِ، وَشُرْبِهِمُ الْخَمْرَ، وَبِأَكْلِهِمُ الرِّبَا، وَلُبْسِهِمُ الْحَرِيرَ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ أَبِي أُمَامَةَ فَقَطْ، وَفَرْقَدٌ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From Farqad al-Sabakhi who said: Habib Abu Habib al-Shami narrated to me, from Abu ʿAtaʾ, from ʿUbadah ibn al-Samit, from the Messenger of Allah ﷺ. He said: And Shahr ibn Hawshab narrated to me, from ʿAbd al-Rahman ibn Ghanm, from the Messenger of Allah ﷺ. He said: ʿAsim ibn ʿAmr al-Bajali narrated to me, from Abu Umamah, from the Messenger of Allah ﷺ. He said: And Saʿid ibn al-Musayyab narrated to me – or it was narrated to me from him – from Ibn ʿAbbas, from the Messenger of Allah ﷺ who said: By Him in Whose Hand is the soul of Muhammad, men of my ummah will spend the night upon insolence and wantonness and play and amusement, then in the morning become apes and pigs, for deeming the unlawful lawful, and taking singing women, and drinking wine, and devouring usury, and wearing silk. > **"They will in the morning become apes and pigs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فرقد سبخی بیان کرتے ہیں : حبیب ابوحبیب شامی نے ابوعطاء کے حوالے سے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : شہر بن حوشب نے حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ وہ یہ کہتے ہیں : عاصم بن عمرو بجلی نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سعید بن مسیب نے مجھے حدیث بیان کی ہے ، یا ان کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، میری امت کے کچھ لوگ تکبر و خودسری اور لہو و لعب کی حالت میں رات بسر کریں گے ، اور صبح کے وقت وہ لوگ بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے کیونکہ وہ حرام چیزوں کو حلال قرار دیتے ہوں گے ، انہوں نے گانے والی عورتیں رکھی ہوئی ہوں گی ، اور وہ شراب پیتے ہوں گے ، گانے گاتے ہوں گے ، اور وہ سود کھاتے ہوں گے ، اور ریشم پہنتے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس میں سے صرف حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نقل کی ہے ، اور فرقد نامی راوی ضعیف ہے ۔

12587

Majma al-Zawaid #12587

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَرَجْفٌ وَقَذْفٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّازُ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

From Anas, may Allah be pleased with him, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: There will be in this ummah swallowing, and transformation, and quaking, and pelting. > **"There will be in this ummah swallowing, and transformation, and quaking, and pelting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس امت میں زمین میں دھنسائے جانے ، مسخ کیے جانے ، زلزلے آنے اور پتھر مارے جانے ( کا عذاب ) ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔

12588

Majma al-Zawaid #12588

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَقَعَ بِهِمُ الْخَسْفُ وَالْقَذْفُ وَالْمَسْخُ "". قَالُوا: وَمَتَى ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" إِذَا رَأَيْتَ النِّسَاءَ رَكِبْنَ السُّرُوجَ، وَكَثُرَتِ الْقَيْنَاتُ، وَفَشَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ، وَاسْتَغْنَى الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ، وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ: "" وَشَرِبَ الْمَصْلُوبُ فِي آنِيَةِ الشُّرْكِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ "". قَالَ: "" وَاسْتَغْنَى الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ، وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ، وَاسْتَذْفَرُوا وَاسْتَعَدُّوا "". وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ، فَوَضَعَهَا عَلَى جَبْهَتِهِ، فَسَتَرَ وَجْهَهُ». وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, from the Prophet ﷺ who said: By Him Who sent me with the truth, the world will not pass until swallowing, and pelting, and transformation befall them. They said: And when is that, O Messenger of Allah? He said: When you see women riding saddles, and singing women increase, and false testimony spreads, and men suffice themselves with men, and women with women. And he added: And the crucified one drinks in vessels of idolatry, gold and silver. He said: And men suffice themselves with men, and women with women, and they draw close and prepare. And he gestured with his hand, placing it upon his forehead, covering his face. > **"When you see women riding saddles, and singing women increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک ان لوگوں کو زمین میں دھنسائے جانے ، پتھر مارے جانے اور مسخ کیے جانے کا عذاب نہیں ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کب ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم عورتوں کو دیکھو کہ وہ زینوں پر سواری کر رہی ہیں ، اور گانے والی عورتیں زیادہ ہو گئی ہیں ، اور جھوٹی گواہی پھیل چکی ہے ، مرد مردوں پر اور عورتیں ، عورتوں پر اکتفاء کر رہی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ’’ مصلوب شخص سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیے گا ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مرد مردوں کے حوالے سے اور خواتین ، خواتین کے حوالے سے بے نیاز ہو جائیں گے ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی جنسی عمل کریں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا اور پھر آپ نے اسے چہرے پر رکھ کر اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12589

Majma al-Zawaid #12589

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَمَسْخٌ "". قِيلَ: وَمَتَى ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَيْنَاتُ، وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ إِحْدَى الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Sahl ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said: There will be in the latter days swallowing, and pelting, and transformation. It was said: And when is that, O Messenger of Allah? He said: When musical instruments and singing women appear, and wine is deemed lawful. > **"When musical instruments and singing women appear, and wine is deemed lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آخری زمانے میں زمین میں دھنسائے جانے ، پتھر مارے جانے اور مسخ کیے جانے کا عذاب ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ کب ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب گانے بجانے کے آلات اور گانے بجانے والی عورتیں ظاہر ہو جائیں گی ( یعنی زیادہ ہو جائیں گی ) اور شراب کو حلال قرار دیدیا جائے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس کے دو طریقوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12590

Majma al-Zawaid #12590

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَيَبِيتَنَّ قَوْمٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى طَعَامٍ وَشَرَابٍ وَلَهْوٍ، فَيُصْبِحُوا قَدْ مُسِخُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ فَرَقَدُ السَّبَخِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: A people of this ummah will spend the night over food and drink and amusement, then in the morning they will have been transformed into apes and pigs. > **"They will have been transformed into apes and pigs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس امت کے کچھ لوگ کھاتے پیتے ہوئے اور لہو و لعب میں رات بسر کریں گے ، اور صبح کے وقت انہیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرقد سبخی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12591

Majma al-Zawaid #12591

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ، فِي مُتَّخِذِي الْقِيَانِ، وَشَارِبِي الْخَمْرِ، وَلَابِسِي الْحَرِيرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْجَصَّاصُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, from the Prophet ﷺ who said: There will be in this ummah swallowing, and transformation, and pelting, among users of singing women, and drinkers of wine, and wearers of silk. > **"There will be in this ummah swallowing, and transformation, and pelting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اس امت میں زمین میں دھنسایا جانا ، مسخ کیا جانا اور پتھر مارے جانا ( ان سب صورتوں کا عذاب ) ہو گا ، یہ گانے والی عورتیں رکھنے کی وجہ سے ، شراب پینے کی وجہ سے اور ریشم پہننے کی وجہ سے ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند ایک راوی زیاد بن ابوزیاد جصاص ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12592

Majma al-Zawaid #12592

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" «إِنَّهُ يَكُونُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ بَيْنَا هُمْ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ وَضَرْبِ الْمَعَازِفِ، حَتَّى يَأْفِكَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَيَعُودُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

From ʿAbdullah ibn Bishr, Companion of the Messenger of Allah ﷺ, may Allah be pleased with him, who said: I heard him say: There will be in the latter part of this ummah a people, while they are drinking wine and striking instruments, until Allah overturns upon them, and they return as apes and pigs. > **"They return as apes and pigs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس امت میں آخری زمانے میں ایک قوم ہو گی وہ لوگ شراب پی رہے ہوں گے باجے بجا رہے ہوں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناراضگی نازل کرے گا ، اور وہ لوگ بندر اور خنزیر بن جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12593

Majma al-Zawaid #12593

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ فِي أُمَّتِي خَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ [بِنَحْوِهِ]، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مُجَمِّعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

From Saʿid ibn Abi Rashid, may Allah be pleased with him, who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: In my ummah there is swallowing, and transformation, and pelting. > **"In my ummah there is swallowing, and transformation, and pelting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن ابوراشد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت میں دھنسائے جانے ، مسخ کیے جانے اور پتھر مارے جانے ( کا عذاب ) ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12594

Majma al-Zawaid #12594

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تُدَاوِي الْجَرْحَى فِي عَسْكَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ لِابْنِي. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أُنَيْسٌ؟ "". قَالَتْ: نَعَمْ. فَأَقْعَدَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ: "" يَا أُنَيْسُ، إِنَّ الْمُسْلِمِينَ يُمَصِّرُونَ بَعْدِي أَمْصَارًا، مِمَّا يُمَصِّرُونَ. مِصْرًا يُقَالُ لَهَا: الْبَصْرَةُ، فَإِنْ أَنْتَ وَرَدْتَهَا، فَإِيَّاكَ وَمَقْصِفَهَا وَسُوقَهَا وَبَابَ سُلْطَانِهَا، فَإِنَّهَا سَيَكُونُ بِهَا خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ، آيَةُ ذَلِكَ أَنْ يَمُوتَ الْعَدْلُ، وَيَفْشُوَ فِيهَا الْجُورُ، وَيَكْثُرَ فِيهَا الزِّنَا، وَتَفْشُوَ فِيهَا شَهَادَةُ الزُّورِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

From Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, who said: Umm Sulaym, may Allah be pleased with her, used to tend the wounded in the army of the Messenger of Allah ﷺ, so she said: O Messenger of Allah, would that you supplicate for my son. The Messenger of Allah ﷺ said: Unays? She said: Yes. So he seated me before him and wiped over my head and said: O Unays, the Muslims after me will found cities, among what they found a city called al-Basrah, so if you come to it, beware its places of dissipation and its market and the door of its ruler, for therein will be swallowing, and transformation, and pelting, the sign of that being that justice dies, and tyranny spreads therein, and adultery increases therein, and false testimony spreads therein. > **"Beware its places of dissipation and its market and the door of its ruler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے لشکر میں زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ میرے بیٹے کے لئے دعا کر دیں تو ( عنایت ہو گی ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ننھے انس کے لئے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعا کی : اے ننھے انس ! مسلمان میرے بعد مختلف شہر آباد کریں گے ، جو شہر وہ آباد کریں گے ، ان میں سے ایک ایسا شہر ہو گا جس کا نام بصرہ ہو گا ، اگر تم وہاں جاؤ تو وہاں کے لہو و لعب کے مقامات ، وہاں کے بازار اور وہاں کے حکمران کے دروازے سے بچ کے رہنا ، کیونکہ وہاں زمین میں دھنسائے جانے ، مسخ کیے جانے اور پتھر مارے جانے کا عذاب ہو گا ، اس کی نشانی یہ ہے کہ عادل شخص مر جائے گا ، تو وہاں ظلم پھیل جائے گا ، اور وہاں زنا کثرت سے پھیل جائے گا ، اور وہاں جھوٹی گواہیاں پھیل جائیں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12595

Majma al-Zawaid #12595

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «سَيَكُونُ بَعْدِي خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُخْسَفُ بِالْأَرْضِ وَفِيهَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا أَكْثَرَ أَهْلُهَا الْخَبَثَ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

From Umm Salamah, may Allah be pleased with her, who said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: After me there will be a swallowing in the east, and a swallowing in the west, in the Arabian Peninsula. I said: O Messenger of Allah, will the earth be swallowed while the righteous are among it? The Messenger of Allah ﷺ said to her: When its people increase in filth. > **"When its people increase in filth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب میرے بعد مشرق میں ایک زمین میں دھنسایا جانا اور مغرب میں جزیرہ نما عرب میں ایک زمین میں دھنسایا جانا ہو گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا زمین میں لوگوں کو دھنسا دیا جائے گا جبکہ ان میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : جب وہاں کے رہنے والوں میں کثرت خبیث لوگوں کی ہو گی ( تو ایسا ہی ہو گا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12596

Majma al-Zawaid #12596

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - قَالَتْ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّنْ مُسِخَ، أَيَكُونُ لَهُ نَسْلٌ؟ قَالَ: "" مَا مُسِخَ أَحَدٌ قَطُّ فَكَانَ لَهُ نَسْلٌ وَلَا عَقِبٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

From Umm Salamah, Mother of the Believers, may Allah be pleased with her, who said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about one transformed, will he have progeny? He said: No one ever transformed then had progeny nor descendants. > **"No one ever transformed then had progeny nor descendants."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے مسخ کیے جانے کے بارے میں دریافت کیا : کیا ان لوگوں کی نسل ہو گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کسی قوم کو مسخ کیا گیا تو نہ ان کی نسل ہوئی اور نہ ان کی اولاد رہی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔