وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ، طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ، فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِ. فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ. ثُمَّ قَالَ: "" يَا ابْنَ صَيَّادٍ مَا تَرَى؟ "". قَالَ: أَرَى حَقًّا، وَأَرَى بَاطِلًا، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَلُبِّسَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "". فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ "". ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى، فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ "". فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا، فَيَعْلَمُ أَهُوَ هُوَ أَمْ لَا، قَالَ: "" يَا ابْنَ صَيَّادٍ مَا تَرَى؟ "". قَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ "". فَلُبِّسَ عَلَيْهِ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُ. ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ، قَالَ: فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَيْدِينَا، رَجَاءَ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا، فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ "". فَقَالَ: "" يَا ابْنَ صَيَّادٍ، مَا تَرَى؟ "". فَقَالَ: أَرَى حَقًّا، وَأَرَى بَاطِلًا، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، قَالَ: "" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "". قَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ "". فَلُبِّسَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا ابْنَ صَيَّادٍ، إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا، فَقَالَ: هُوَ الدُّخُّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اخْسَأْ، اخْسَأْ "". فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ، وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ "". قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَيْقِنًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
From Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them, who said: A woman of the Jews in Madinah bore a boy whose eye was wiped out, protruding and bulging, so the Messenger of Allah ﷺ feared that he was the Dajjal. He found him beneath a velvet cloth muttering, and his mother alerted him, saying: O ʿAbdullah, here is Abu al-Qasim come, so go out to him. He came out from the cloth, so the Messenger of Allah ﷺ said: What is wrong with her, may Allah destroy her? Had she left him it would have become clear. Then he said: O Ibn Sayyad, what do you see? He said: I see truth, and I see falsehood, and I see a throne upon water, so the matter became confused for him. He said: Do you testify that I am the Messenger of Allah? So he said: Do you testify that I am the messenger of Allah? So the Messenger of Allah ﷺ said: I believe in Allah and His messengers. Then he left and abandoned him. Then he came to him a second time and found him in his date-palms muttering, and his mother alerted him, saying: O ʿAbdullah, here is Abu al-Qasim come. So the Messenger of Allah ﷺ said: What is wrong with her, may Allah destroy her? Had she left him it would have become clear. The Messenger of Allah ﷺ loved to hear something of his speech so as to know whether he was he or not. He said: O Ibn Sayyad, what do you see? He said: Do you testify that I am the messenger of Allah? So the Messenger of Allah ﷺ said: I believe in Allah and His messengers. So the matter became confused for him, and he left and abandoned him. Then he came a third or fourth time, with Abu Bakr and ʿUmar, may Allah be pleased with them, among a party of the Muhajirun and Ansar, and I was with him. He said: So the Messenger of Allah ﷺ hastened before us, hoping to hear something of his speech, but his mother raced ahead of him and said: O ʿAbdullah, here is Abu al-Qasim come. So the Messenger of Allah ﷺ said: What is wrong with her, may Allah destroy her? Had she left him it would have become clear. He said: O Ibn Sayyad, what do you see? He said: I see truth, and I see falsehood, and I see a throne upon water. He said: Do you testify that I am the Messenger of Allah? He said: Do you testify that you are the messenger of Allah? So the Messenger of Allah ﷺ said: I believe in Allah and His messengers. So the matter became confused for him. So the Messenger of Allah ﷺ said: O Ibn Sayyad, I have concealed for you something hidden. He said: It is al-dukh. So the Messenger of Allah ﷺ said: Begone, begone. Then ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, said: Permit me, O Messenger of Allah. So the Messenger of Allah ﷺ said: If he is he, you are not his man; his man is only ʿIsa ibn Maryam, peace be upon him, and if he is not he, it is not for you to kill a man of the covenant people. He said: The Messenger of Allah ﷺ remained convinced that he was the Dajjal. > **"O Ibn Sayyad, what do you see?"**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہودیوں کی ایک عورت نے مدینہ منورہ میں ایک بچے جو جنم دیا جس کی ایک آنکھ خراب تھی ، وہ باہر کی طرف ابھری ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو ، ایک مرتبہ آپ نے اس لڑکے کو چادر کے نیچے پایا ، اس بچے کی ماں نے اسے اطلاع دیدی اور بولی : اے اللہ کے بندے ! یہ حضرت ابوالقاسم تشریف لائے ہیں ، نبی اکرم ﷺ اس کی طرف بڑھے تو وہ چادر میں سے نکل آیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ، اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، اگر یہ اس کو رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ، اس نے کہا : میں ایک حق چیز دیکھتا ہوں اور ایک باطل چیز دیکھتا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں ، تو یہ معاملہ اس کے لئے الجھن کا باعث بن گیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے دریافت کیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے ( حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے اور آپ نے اسے چھوڑ دیا ۔ پھر آپ دوسری مرتبہ اس کے پاس آئے ، تو آپ نے اس کو پایا کہ وہ کھجوروں کے باغ میں موجود تھا ، آپ نے اس کی طرف جانے کا قصد کیا ، لیکن اس کی ماں نے اسے بتا دیا اور بولی : اے اللہ کے بندے ! یہ ابوالقاسم تشریف لے آئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے اگر یہ اسے رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، نبی اکرم ﷺ یہ چاہتے تھے کہ اس کے کلام میں سے کوئی بات سن لیں اور آپ کو پتا چل جائے کہ کیا یہ وہی ہے یا نہیں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ، اس ( ابن صیاد ) نے یہ دریافت کیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ اور اس کے ( سچے اور حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو یہ معاملہ آپ کے لئے الجھن کا باعث بن گیا آپ نے اسے چھوڑا اور تشریف لے گئے ۔ پھر جب تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ تشریف لائے ، تو آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ اور افراد تھے ، میں بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، نبی اکرم ﷺ ہم سے آگے جلدی چلے گئے ، آپ کو یہ توقع تھی کہ آپ اس کے کلام میں سے کوئی بات سن لیں گے ، لیکن آپ سے پہلے اس کی ماں نے اسے کہا : اے اللہ کے بندے ! یہ حضرت ابوالقاسم تشریف لے آئے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، اگر یہ اسے ایسے ہی رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ؟ اس نے کہا : میں ایک حق چیز دیکھتا ہوں اور ایک باطل دیکھتا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے ( حقیقی اور سچے ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ، یہ معاملہ آپ کے لئے الجھن کا باعث بن گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن صیاد ! میں نے تمہارے لئے ایک بات سوچی ہے ۔ اس نے کہا : وہ دخ ( یعنی دھواں ہے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے ( کہ میں اسے قتل کر دوں ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تو یہ وہی ہوا ، تو پھر میں اس کا متعلقہ فرد نہیں ہوں ، کیونکہ اس کے متعلقہ فرد حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے اور اگر یہ وہ ( یعنی دجال ) نہیں ہے ، تو تمہیں اس بات کا حق نہیں ہے کہ تم ذمیوں سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کرو ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ مسلسل پریقین رہے کہ وہی دجال ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔