وَعَنْ رَافِعِ بْنِ بُسْرٍ أَوْ بِشْرٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ حُبْسِ سَيْلٍ، تَسِيرُ سَيْرَ بَطِيئَةِ الْإِبِلِ، تَسِيرُ النَّهَارَ، وَتُقِيمُ اللَّيْلَ، تَغْدُو وَتَرُوحُ، يُقَالُ: غَدَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَاغْدُوا، قَالَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ قِيلُوا، رَاحَتِ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ رُوحُوا، مَنْ أَدْرَكَتْهُ أَكَلَتْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَافِعٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.
EnglishUnverified translation
From Rafiʿ ibn Busr or Bishr al-Sulami, from his father, may Allah be pleased with them, that the Messenger of Allah ﷺ said: A fire is about to emerge from Habs Sayl, moving like a slow camel, moving by day and resting by night, going in the morning and evening, it being said: The fire went in the morning, O people, so go, the fire rested at midday, O people, so rest, the fire went in the evening, O people, so go, whomever it overtakes it devours him. > **"Whomever it overtakes it devours him."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت رافع بن بسر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بشر سلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب ایک آگ ’’ حبس سیل ‘‘ کے مقام سے نکلے گی اور وہ یوں چلے گی جیسے سست رفتار اونٹ ہوتا ہے ، وہ دن کے وقت چلتی رہے گی ، رات کے وقت ٹھہر جائے گی ۔ وہ صبح جائے گی شام کو جائے گی ، یہ بات کہی جائے گی : آگ صبح کے وقت گئی ہے ، لوگو ! تو تم بھی چلو ، آگ نے آرام کیا ہے : اے لوگو ! تم لوگ آرام کرو ، آگ شام کو روانہ ہو گئی ہے ۔ اے لوگو ! تم روانہ ہو جاؤ ، جس شخص کو وہ پائے گی اس کو کھا لے گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف رافع کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔