Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 8

Book of Tribulations

Hadith 12237–12276

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12237

Majma al-Zawaid #12237

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَوْ كَانَ الْمُؤْمِنُ فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَقَيَّضَ إِلَيْهِ فِيهِ مَنْ يُؤْذِيهِ "". أَوْ قَالَ: "" مُنَافِقًا يُؤْذِيهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعُذْرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that even if the believer were inside the hole of a lizard, one who harms him would be sent to him therein, or a hypocrite who harms him. > **"If the believer were inside the hole of a lizard, one who harms him would surely be sent to him therein, or a hypocrite who harms him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر مومن گوہ کے بل میں ہو ، تو وہاں بھی اس کے پاس وہ آ جائے گا ، جو اسے اذیت پہنچائے گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ منافق آ جائے گا ، جو اسے اذیت پہنچائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوقتادہ بن ابویعقوب بن عبداللہ عذری ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12238

Majma al-Zawaid #12238

«عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى يُتْرَكُ الْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَهُمَا سَيِّدَا أَعْمَالِ أَهْلِ الْبِرِّ؟ قَالَ: "" إِذَا أَصَابَكُمْ مَا أَصَابَ بَنِي إِسْرَائِيلَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا أَصَابَ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: "" إِذَا دَاهَنَ خِيَارُكُمْ فُجَّارَكُمْ، وَصَارَ الْفِقْهُ فِي شِرَارِكُمْ، وَصَارَ الْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَلْبَسُكُمْ فِتْنَةٌ تَكُرُّونَ وَيُكَرُّ عَلَيْكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reports that he asked the Prophet ﷺ when enjoining good and forbidding evil, the two masters of the deeds of the righteous, would be abandoned, that the Prophet ﷺ said when there befalls them what befell the Children of Israil, and when asked what befell the Children of Israil he said when their best flatter their wicked, knowledge passes to their worst, and authority passes to their youngest, whereupon trials envelop them which advance and are advanced against them. > **"When there befalls you what befell the Children of Israil. When your best flatter your wicked, knowledge passes to your worst, and authority passes to your youngest, then trials will envelop you which advance and are advanced against you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا کب چھوڑیں گے ؟ جبکہ یہ دونوں نیکوکار لوگوں کے اعمال کے سردار ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس وقت ( چھوڑیں گے ) جب تمہیں وہی چیز لاحق ہو گی ، جو بنی اسرائیل کو لاحق ہوئی تھی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بنی اسرائیل کو کیا چیز لاحق ہوئی تھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تمہارے بہترین لوگ ، تمہارے گنہگار لوگوں کے سامنے مداھنت کریں گے ( یعنی جو اُن لوگوں کے من میں ہو گا اس کے برخلاف ظاہر کریں گے ) اور علم ، تمہارے بدترین لوگوں میں چلا جائے گا اور بادشاہی تمہارے کمسن لوگوں میں چلی جائے گی ، تو اُس وقت تمہیں فتنے اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ، جو حملہ آور ہونے والے ہوں گے اور تم پر حملہ کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمار بن سیف ہے ، جسے عجلی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12239

Majma al-Zawaid #12239

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَبِرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that in the last age there will be people who are brothers in public and enemies in secret, and when asked how that would be he said through the desire of some toward others and the fear of some toward others. > **"In the last age there will be people who are brothers in public and enemies in secret. Through the desire of some of them toward others and the fear of some of them toward others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے ، جو کھلے عام ( گناہ ) کرنے والے ہوں گے اور پوشیدہ طور پر ( گناہ کرنے ) کے دشمن ہوں گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیونکہ وہ ایک دوسرے سے رغبت رکھتے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ڈرتے بھی ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12240

Majma al-Zawaid #12240

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «سَيَجِيءُ أَقْوَامٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَكُونُ وُجُوهُهُمْ وُجُوهَ الْآدَمِيِّينَ، وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبَ الشَّيَاطِينِ، أَمْثَالُ الذِّئَابِ الضَّوَارِي، لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ شَيْءٌ مِنَ الرَّحْمَةِ، سَفَّاكُونَ لِلدِّمَاءِ لَا يَرْعَوْنَ عَنْ قُبْحٍ، إِنْ تَابَعْتَهُمْ وَارَوْكَ، وَإِنْ تَوَارَيْتَ عَنْهُمُ اغْتَابُوكَ، وَإِنْ حَدَّثُوكَ كَذَبُوكَ، وَإِنِ ائْتَمَنْتَهُمْ خَانُوكَ، صَبِيُّهُمْ عَارِمٌ، وَشَابُّهُمْ شَاطِرٌ، وَشَيْخُهُمْ لَا يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، الِاعْتِزَازُ بِهِمْ ذُلٌّ، وَطَلَبُ مَا فِي أَيْدِيهِمْ فَقْرٌ، الْحَلِيمُ فِيهِمْ غَاوٍ، وَالْآمِرُ فِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ مُتَّهَمٌ، وَالْمُؤْمِنُ فِيهِمْ مُسْتَضْعَفٌ، وَالْفَاسِقُ فِيهِمْ مُشَرَّفٌ، السُّنَّةُ فِيهِمْ بِدْعَةٌ، وَالْبِدْعَةُ فِيهِمْ سُنَّةٌ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُسَلِّطُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ، وَيَدْعُو خِيَارُهُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that in the last age there will come people whose faces are the faces of men and whose hearts are the hearts of devils, like predatory wolves, with no mercy in their hearts, shedding blood, never refraining from vileness, such that if you follow them they conceal you, if you hide from them they backbite you, if they speak to you they lie to you, if you trust them they betray you, their child insolent, their youth cunning, their elder neither enjoining good nor forbidding evil, honour through them being disgrace, seeking what is in their hands being poverty, the forbearing among them astray, the one enjoining good among them accused, the believer among them weak, the corrupt among them honoured, the practice among them innovation and innovation among them practice, whereupon Allah will set their worst over them and their best will supplicate without being answered. > **"In the last age there will come people whose faces are the faces of men and whose hearts are the hearts of devils, like predatory wolves. There is nothing of mercy in their hearts. They shed blood and do not refrain from vileness. If you follow them they conceal you, if you hide from them they backbite you, if they speak to you they lie to you, and if you trust them they betray you. Their child is insolent, their youth is cunning, and their elder neither enjoins good nor forbids evil. Honour through them is disgrace, seeking what is in their hands is poverty, the forbearing among them is astray, the one enjoining good among them is accused, the believer among them is weak, the corrupt among them is honoured, the practice among them is innovation and innovation among them is practice. Then Allah will set their worst over them, and their best will supplicate without being answered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آخری زمانے میں عنقریب ایسے لوگ آئیں گے ، جن کے چہرے آدمیوں کے چہرے جیسے ہوں گے ، اور ان کے دل شیاطین کے دلوں جیسے ہوں گے ، وہ چیر پھاڑ کرنے والے بھیڑیوں کی مانند ہوں گے ، ان کے دلوں میں کوئی رحمت نہیں ہو گی ، وہ بہت زیادہ خون بہانے والے ہوں گے اور کسی قبیح چیز سے نہیں رکیں گے ، اگر تم ان کی پیروی کرو گے ، تو وہ تمہیں پس پشت ڈال دیں گے اور اگر تم ان سے چھپنے کی کوشش کرو گے ، تو وہ تمہیں تلاش کریں گے ، اگر وہ تمہارے ساتھ بات چیت کریں گے ، تو تمہارے ساتھ جھوٹ بولیں گے ، اگر تم انہیں امین بناؤ گے ، تو وہ تمہارے ساتھ خیانت کریں گے ، ان کے بچے خبیث ہوں گے ، ان کے نوجوان شاطر ہوں گے اور بوڑھے نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے منع نہیں کریں گے ، اُن کے حوالے سے عزت حاصل کرنا ، درحقیقت ذلت ہو گا اور ان کے پاس ، جو ( مال وغیرہ ) موجود ہے ، اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا ، غربت ہو گی ، ان کے درمیان بردبار شخص گمراہ ہو گا ، ان کے درمیان نیکی کا حکم دینے والا شخص تہمت یافتہ ہو گا ، ان کے درمیان مؤمن کمزور ہو گا ، ان کے درمیان فاسق کو نمایاں حیثیت حاصل ہو گی ، ان کے درمیان سنت ، بدعت ہو گی اور ان کے درمیان بدعت ، سنت ہو گی ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر ان میں سے بدترین لوگوں کو مسلط کر دے گا ، پھر ان کے نیک لوگ دعا کریں گے ، لیکن وہ قبول نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشاپوری ہے اور وہ متروک ہے ۔

12241

Majma al-Zawaid #12241

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا ظَهَرَ الْقَوْلُ وَخُزِنَ الْعَمَلُ وَاخْتَلَفَتِ الْأَلْسُنُ وَتَبَاغَضَتِ الْقُلُوبُ وَقَطَعَ كُلُّ ذِي رَحِمٍ رَحِمَهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Salman, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that when speech becomes prominent, deeds are hoarded, tongues differ, hearts hate one another, and every kinsman severs his kinship, then Allah curses them, deafens them, and blinds their sight. > **"When speech becomes prominent, deeds are hoarded, tongues differ, hearts hate one another, and every kinsman severs his kinship, then Allah curses them, deafens them, and blinds their sight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب قول ظاہر ہو جائے ، اور عمل کو چھپا لیا جائے اور زبانوں میں اختلاف آ جائے اور دل ایک دوسرے سے بغض رکھنے لگیں اور ہر رشتہ دار اپنی رشتہ داری کے حقوق پامال کرنے لگے ، تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے گا ، انہیں بہرہ کر دے گا اور اُن کی بینائی ختم کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12242

Majma al-Zawaid #12242

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ "" يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ هُمْ ذِئَابٌ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذِئْبًا أَكَلَتْهُ الذِّئَابُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ foretold a time when people will be like wolves, devouring whoever fails to be a wolf like them. > **"There will come upon people a time when they are wolves, so whoever is not a wolf will be devoured by the wolves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ بھیڑیے ہوں گے اور جو شخص بھیٹریا نہیں ہو گا ، تو بھیڑیے اُسے کھا لیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12243

Majma al-Zawaid #12243

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ فَلْيَخْتَرِ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that a time will come upon people in which a man will be given choice between helplessness and sin, so whoever encounters that time should choose helplessness over sin. > **"There will come upon people a time in which a man will be given choice between helplessness and sin, so whoever encounters that time should choose helplessness over sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں آدمی کو اختیار دیا جائے گا کہ یا تو وہ عاجز ہو جائے ، یا وہ گناہوں کا ارتکاب کرے ، تو جو شخص وہ زمانہ پائے ، اُسے چاہیے کہ وہ گناہوں کے ارتکاب کی بجائے عاجز ہونے کو اختیار کرے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12244

Majma al-Zawaid #12244

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِثَوْبَانَ: "" كَيْفَ بِكَ يَا ثَوْبَانُ إِذَا تَدَاعَتْ عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ تُصِيبُونَ مِنْهُ؟ "". قَالَ ثَوْبَانُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا؟ قَالَ: "" لَا، أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ "". قَالُوا: وَمَا الْوَهْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" حُبُّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتُكُمُ الْقِتَالَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say to Thawban, may Allah be pleased with him, asking how he would be when nations summon one another against them as diners summon one another to a bowl of food from which they take, that Thawban asked at the cost of his father and mother whether it would be from fewness, that the Prophet ﷺ said they would then be many but weakness would be cast into their hearts, and when asked what weakness is he said their love of the world and hatred of fighting. > **"How will you be, O Thawban, when nations summon one another against you as diners summon one another to a bowl of food from which they take? No, you will then be many, but weakness will be cast into your hearts. Your love of the world and your hatred of fighting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے ثوبان ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب مختلف اُمتیں تمہارے خلاف اس طرح ایک دوسرے کو دعوت دیں گی ، جس طرح تم ایک دوسرے کو کھانے کے پیالے کے لئے دعوت دیتے ہو ، تمہیں اس صورتحال میں نقصان ہو گا ، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا یہ ہماری قلت کی وجہ سے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس وقت زیادہ تعداد میں ہو گے ، لیکن تمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دی جائے گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کمزوری سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا دنیا سے محبت کرنا ، اور تمہارا جنگ کو ناپسند کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد کی سند عمدہ ہے ۔

12245

Majma al-Zawaid #12245

عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: يَا أَهْلَ الشَّامِ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ - قَالَ شُعْبَةُ: يَعْنِي زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ "". وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا هُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muʿawiyah, may Allah be pleased with him, addressed the people of Syria saying that an Ansari, whom Shuʿbah identified as Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, narrated to him that the Messenger of Allah ﷺ declared that a party of his nation will remain manifest upon the truth, and Muʿawiyah added that he hoped they, O people of Syria, are them. > **"A party of my nation will remain manifest upon the truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : انہوں نے فرمایا : اے اہل شام ! مجھے ایک انصاری نے یہ حدیث بیان کی ہے ، یہاں شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے ، اُن انصاری سے مراد ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کا ایک گروہ ، ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا ۔‘‘ ( حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے اہل شام ! مجھے امید ہے کہ اس سے مراد تم لوگ ہو گے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی ابوعبداللہ شامی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12246

Majma al-Zawaid #12246

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا تُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ» "،

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with him, reports that he was informed that the Prophet ﷺ declared that this religion will remain established while a band of Muslims fights for it until the Hour comes. > **"This religion will remain established while a band of Muslims fights for it until the Hour comes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ دین مسلسل غالب رہے گا اور مسلمانوں کا ایک گروہ اس کی خاطر جنگ کرتا رہے گا ، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی ( یعنی قیامت قائم ہونے تک ایسا ہوتا رہے گا ) ۔‘‘

12247

Majma al-Zawaid #12247

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ مَنْ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَهُ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ نَفْسِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording from Jabir ibn Samurah, may Allah be pleased with him, through one who narrated to him from the Messenger of Allah ﷺ, the same meaning as the preceding report was related, corresponding to what is established in the sound collection from Jabir ibn Samurah himself.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت جو حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، ایک شخص کے حوالے سے ، نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے ، اس میں بھی اس کی مانند مذکور ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں وہ روایت صحیح میں ، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12248

Majma al-Zawaid #12248

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الدِّينِ ظَاهِرِينَ، لِعَدُوِّهِمْ قَاهِرِينَ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ إِلَّا مَا أَصَابَهُمْ مِنْ لَأْوَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَيْنَ هُمْ؟ قَالَ: "" بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وِجَادَةً عَنْ خَطِّ أَبِيهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَفِي فَضْلِ أَهْلِ الشَّامِ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that a party of his nation will remain manifest upon religion, dominant over its enemy, unharmed by those who oppose them except for hardship that befalls them, until the command of Allah comes to them in that state, and when asked where they are he said at the Sacred House and the environs of the Sacred House. > **"A party of my nation will remain manifest upon religion, dominant over its enemy. Those who oppose them will not harm them except for hardship that befalls them, until the command of Allah comes to them while they are in that state. At the Sacred House and the environs of the Sacred House."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس امت کا ایک گروہ ہمیشہ دین پر گامزن رہے گا ، اور وہ لوگ اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے ، اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا ، وہ اُن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، البتہ انہیں کچھ شدت ( یعنی تنگی اور مشقت ) کا سامنا کرنا پڑے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ( یعنی قیامت ) اُن کے پاس آئے گا ، تو وہ اسی حالت میں ہوں گے ۔‘‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیت المقدس میں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بیت المقدس کے اطراف و اکناف میں ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ نے ’’ وجادۃ ‘‘ کے طور پر ، اپنے والد کی تحریر سے نقل کی ہے ، اسے امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) اہل شام کی فضیلت سے متعلق باب میں ، اس نوعیت کی کچھ احادیث ذکر ہوں گی ۔

12249

Majma al-Zawaid #12249

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that a party of his nation will remain manifest upon the truth until the Hour comes. > **"A party of my nation will remain manifest upon the truth until the Hour comes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا ، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12250

Majma al-Zawaid #12250

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَزَالُ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ حَتَّى يَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، فَيَقُولُ إِمَامُهُمْ: تَقَدَّمْ، فَيَقُولُ: أَنْتَ أَحَقُّ، بَعْضُكُمْ أُمَرَاءُ عَلَى بَعْضٍ، أَمْرٌ أَكْرَمَ بِهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that his nation will remain manifest upon the truth until Jesus son of Mary descends, that their leader will say to advance, that Jesus will say they are more entitled and that some of them are leaders over others as an honour by which this nation was honoured. > **"My nation will remain manifest upon the truth until Jesus son of Mary descends, then their leader will say: Advance. Then he will say: You are more entitled. Some of you are leaders over others, a matter by which this nation was honoured."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت ہمیشہ حق پر گامزن رہے گی ، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تشریف لائیں گے ، تو اُن لوگوں کا امام یہ کہے گا : آپ آگے ہوں ! تو وہ یہ فرمائیں گے : تم زیادہ حق رکھتے ہو ، تم ایک دوسرے کے امیر ہو ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) یہ ایک ایسا معاملہ ہے ، جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عزت عطا کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

12251

Majma al-Zawaid #12251

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «سَيُدْرِكُ رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَيَشْهَدُونَ قِتَالَ الدَّجَّالِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that men of his nation will reach the time of Jesus son of Mary and witness the battle against the Antichrist. > **"Men of my nation will reach the time of Jesus son of Mary and witness the battle against the Antichrist."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے کچھ لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور وہ دجال کے ساتھ جنگ میں شریک ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12252

Majma al-Zawaid #12252

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ - أَوْ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ - عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ قَمِيرَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that a band of his nation will remain upon this affair, or over this affair, unharmed by the opposition of whoever opposes them until the command of Allah comes to them. > **"A band of my nation will remain upon this affair, unharmed by the opposition of whoever opposes them until the command of Allah comes to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ یہ معاملہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میری امت کا ایک گروہ اس معاملے ( یعنی دین ) پر گامزن رہے گا اور جو شخص اُن کی مخالفت کرے گا ، اس کا اختلاف انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم ان لوگوں کے پاس آ جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زہیر بن محمد بن قمیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12253

Majma al-Zawaid #12253

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ دِمَشْقَ وَمَا حَوْلَهُ عَلَى أَبْوَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَا حَوْلَهُ، لَا يَضُرُّهُمْ خِذْلَانُ مَنْ خَذَلَهُمْ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبَّادٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that a party of his nation will continue fighting at the gates of Damascus and surroundings and at the gates of the Sacred House and surroundings, unharmed by the abandonment of whoever abandons them, manifest until the Day of Resurrection. > **"A party of my nation will continue fighting at the gates of Damascus and surroundings and at the gates of the Sacred House and surroundings. The abandonment of whoever abandons them will not harm them, manifest until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دمشق کے دروازوں کے پاس ، میری امت کا ایک گروہ مسلسل جنگ کرتا رہے گا ، اور بیت المقدس کے دروازوں کے پاس اور اس کے اردگرد ایک گروہ جنگ کرتا رہے گا ، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس کی کوشش ان لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی اور وہ لوگ قیامت کے دن تک غالب رہیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عباد ہے اور وہ مجہول ہے ۔

12254

Majma al-Zawaid #12254

وَعَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ، وَهُمْ كَالْإِنَاءِ بَيْنَ الْأَكَلَةِ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَيْنَ هُمْ؟ قَالَ: "" بِأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ "". قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَنَّ الرَّمَلَةَ هِيَ الرَّبْوَةُ وَذَلِكَ أَنَّهَا مُغْرِبَةٌ وَمُشْرِقَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Murrah al-Bahzi, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that a party of his nation will remain manifest upon the truth, dominant over whoever opposes them, like a vessel among eaters, until the command of Allah comes while they are in that state, and when asked where they are he said at the environs of the Sacred House, adding that Ramalah is the elevated land comprising east and west. > **"A party of my nation will remain manifest upon the truth, dominant over whoever opposes them, like a vessel among eaters, until the command of Allah comes while they are in that state. At the environs of the Sacred House."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مره بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر گامزن رہے گا اور وہ ان لوگوں پر غالب رہیں گے ، جو ان کے مقابلے میں آئیں گے اور وہ کھانے والوں کے درمیان برتن کی مانند ہوں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا ، تو وہ اسی حالت میں ہوں گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! وہ لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیت المقدس کے اطراف میں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے مجھے یہ بات بھی بیان کی ہے :” رملہ ‘‘ سے مراد ٹیلہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مغربی حصہ ہے اور ایک مشرقی حصہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12255

Majma al-Zawaid #12255

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbd Allah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that the throne of Iblis is upon the sea, that he then sends his detachments to tempt people, and that the greatest of them in his estimation is the greatest of them in temptation. > **"The throne of Iblis is upon the sea, then he sends his detachments and they tempt people, and the greatest of them in his estimation is the greatest of them in temptation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابلیس کا تخت سمندر پر ہے ، پھر وہ اپنے لشکر بھیجتا ہے ، تاکہ وہ لوگوں کو آزمائش کا شکار کریں ، تو ابلیس کے نزدیک ان میں سے سب سے زیادہ عظمت والا وہ ہوتا ہے ، جو ( کسی انسان کو ) زیادہ بڑی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12256

Majma al-Zawaid #12256

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: أَنْتَقِمُ مِمَّنْ أُبْغِضُ بِمَنْ أُبْغِضُ، ثُمَّ أُصَيِّرُ كُلًّا إِلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that Allah, Mighty and Majestic, says He avenges Himself upon those He hates through those He hates, then renders all to the Fire. > **"I avenge Myself upon those I hate through those I hate, then I render all to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میں ان لوگوں سے انتقام لیتا ہوں ، جنہیں میں ناپسند کرتا ہوں ( اور انتظام ) ان لوگوں کے ذریعے لیتا ہوں ، جنہیں میں ناپسند کرتا ہوں اور پھر میں اُن سب کو جہنم میں بھیج دوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احمد بن بکر بالسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12257

Majma al-Zawaid #12257

عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَسْرَعُ الْأَرْضِ خَرَابًا يُسْرَاهَا ثُمَّ يُمْنَاهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ صَبَاحٍ الرَّقِّيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jarīr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke about which regions of the earth will hasten most quickly toward ruin. > **"The swiftest parts of the earth to fall into ruin are its left side, then its right side."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ زمین میں سے زیادہ جلدی ، اُس کا بایاں حصہ برباد ہو گا ، پھر دایاں ( برباد ) ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر بن صباح رقی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12258

Majma al-Zawaid #12258

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الشَّامُ، فَإِذَا خُيِّرْتُمُ الْمَنَازِلَ فِيهَا فَعَلَيْكُمْ بِمَدِينَةٍ فِيهَا يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ، فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلَاحِمِ وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَفِي فَضْلِ الشَّامِ أَحَادِيثُ فِي أَوَاخِرِ الْمَنَاقِبِ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr reports from a man among the Companions of Muḥammad ﷺ, who conveyed from the Prophet ﷺ guidance about the coming opening of Sham and where to settle when choice of dwellings is offered there. > **"Sham will soon be opened for you, so when you are given choice of dwellings therein, you must take a city therein called Damascus, for it is the stronghold of the Muslims in the great battles, and their encampment is from it at a land called al-Ghūṭah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : حضرت محمد ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عنقریب تمہارے لئے شام کو فتح کر دیا جائے گا ، جب تمہیں وہاں رہائش کے لئے اختیار دیا جائے ، تو تم پر اس شہر میں رہنا لازم ہو گا ، جس کا نام ” دمشق ‘‘ ہو گا ، کیونکہ وہ جنگ کے موقع پر مسلمانوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ ہو گی ، اور مسلمانوں کا خیمہ ، ایک ایسی سرزمین پر ہو گا ، جس کا نام ” غوطہ ‘‘ ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : شام کی فضیلت کے بارے میں کچھ احادیث ہیں ، جو کتاب المناقب کے آخر میں آئیں گی ۔

12259

Majma al-Zawaid #12259

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَعَمَدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْطَاكِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described a dream in which the pillar of the Book was lifted from beneath his head and he followed it with his gaze. > **"While I was sleeping I saw the pillar of the Book carried away from beneath my head, and I thought it was being taken, so I followed it with my gaze, and it was taken straight to Sham. Indeed, faith, when tribulations occur, will be in Sham."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک مرتبہ میں سو رہا تھا ، میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ میرے سر سے ایک لمبی کتاب اٹھائی گئی ہے ، میں نے یہ گمان کیا کہ یہ شاید یہ چلی جائے گی ، میں نے اس کے پیچھے نگاہ رکھی ، پھر وہ شام لے جائی گی ، خبردار ! جب فتنے واقع ہوں گے ، تو ایمان کی جگہ ’’ شام ‘‘ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عامر انطاکی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12260

Majma al-Zawaid #12260

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أَقْبَلَ سَعْدٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ فِي وَجْهِ سَعْدٍ لَخَيْرًا "". قَالَ: قُتِلَ كِسْرَى. قَالَ: يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَعَنَ اللَّهُ كِسْرَى، إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا الْعَرَبُ ثُمَّ أَهْلُ فَارِسَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that Saʿd came to the Prophet ﷺ, and when the Prophet ﷺ saw him he remarked upon goodness in the face of Saʿd, after which mention was made of the killing of Kisrā. > **"May Allah curse Kisrā. Indeed, the first of people to perish are the Arabs, then the people of Persia."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، جب آپ نے انہیں ملاحظہ فرمایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سعد کے چہرے میں بھلائی ہے ، انہوں نے دریافت کیا : کسریٰ کو قتل کرنے کی ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے تھے : ’’ اللہ تعالیٰ کسریٰ پر لعنت کرے ، لوگوں میں سے سب سے پہلے ہلاکت عربوں کی ہو گی اور پھر اہل فارس کی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اؤدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12261

Majma al-Zawaid #12261

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَقَدْ وُثِّقَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ warned the Arabs concerning an evil that has drawn near. > **"Woe to the Arabs from an evil that has drawn near."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عربوں کے لئے اس ’’ شر ‘‘ کے حوالے سے بربادی ہے ، جو قریب آ چکا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12262

Majma al-Zawaid #12262

عَنِ الْحُسَيْنِ - يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ - وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ شَهِدَ أَمْرًا فَكَرِهَهُ كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهُ، وَمَنْ غَابَ عَنْ أَمْرٍ فَرَضِيَ بِهِ كَانَ كَمَنْ شَهِدَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَكَذَلِكَ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ الصَّبَّاغُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَمَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥusayn, meaning the son of ʿAlī, may Allah be pleased with him, conveys, with the narrator knowing it only as from the Prophet ﷺ, a ruling about one who witnesses a matter and dislikes it and one who is absent yet approves of it. > **"Whoever witnesses a matter and dislikes it is like one who was absent from it, and whoever is absent from a matter and approves of it is like one who witnessed it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی معاملے میں موجود ہو اور اسے ناپسند کرے ، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا ، جو وہاں موجود نہ ہو ، اور جو شخص کسی معاملے میں موجود نہ ہو اور وہ اس سے راضی ہو ، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا ، جو وہاں موجود ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شبیب ہے ، جسے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، یوسف بن میمون صباغ کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا ہے ، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، ایک راوی منصور بن ابومزاحم ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12263

Majma al-Zawaid #12263

وَعَنْ عَوْنٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ - قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَمَنْ رَضِيَهَا مِمَّنْ غَابَ عَنْهَا فَهُوَ كَمَنْ شَهِدَهَا، وَمَنْ كَرِهَهَا مِمَّنْ شَهِدَهَا فَهُوَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا. فَأَعْجَبَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَوْنٌ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَالْمَسْعُودِيُّ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAwn, meaning the son of ʿAbd Allāh ibn ʿUtbah, reports that he said to ʿUmar ibn ʿAbd al-ʿAzīz, may Allah have mercy on him, that Ibn Masʿūd, may Allah be pleased with him, used to say that there will be ambiguous matters, and that whoever is absent from them yet approves of them is like one who witnessed them, while whoever witnesses them yet dislikes them is like one who was absent from them, and this pleased ʿUmar ibn ʿAbd al-ʿAzīz.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے : ’’ عنقریب کچھ مشتبہ امور آئیں گے اور جو شخص ان کے پاس موجود نہ ہونے کے باوجود ان سے راضی ہو ، تو وہ ان کے پاس موجود ہونے والے کی مانند ہو گا ، اور جو شخص اُن کے پاس موجود ہو ، لیکن پھر بھی انہیں ناپسند کرے ، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا ، جو وہاں موجود نہ ہو ۔‘‘ تو حضرت عمر بن عبدالعزیز کو یہ بات اچھی لگی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عون نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور مسعودی نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

12264

Majma al-Zawaid #12264

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّلَاحِ فِي الْفِتْنَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السَّقَّاءُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn, may Allah be pleased with him, reports a prohibition issued by the Prophet ﷺ concerning commerce at a time of disorder. > **"Do not sell weapons during the tribulation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فتنے کے دوران ہتھیار فروخت کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔

12265

Majma al-Zawaid #12265

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا مَسْلُولًا فَقَالَ: "" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا. أَوَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا؟ "". ثُمَّ قَالَ: "" إِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَأَرَادَ أَنْ يُنَاوِلَهُ أَخَاهُ فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ came upon people passing an unsheathed sword among themselves, censured the act, reminded them of his prior prohibition, and then instructed how one should hand a sword to his brother. > **"May Allah curse whoever does this. Have I not forbidden this? When one of you draws his sword and looks at it, then wishes to hand it to his brother, let him sheathe it first, then hand it to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جو ایک دوسرے کو ننگی تلواریں پکڑا رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اُس شخص پر لعنت کرے ، جو ایسا کرتا ہے ، کیا تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا گیا ؟ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب کسی شخص نے تلوار میان سے نکالی ہوئی ہو ، وہ اُس کی طرف دیکھے ، پھر وہ تلوار اپنے بھائی کو پکڑانے کا ارادہ کرے ، تو پہلے اسے میان میں ڈالے ، پھر وہ اُس کو پکڑائے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ مدلس ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12266

Majma al-Zawaid #12266

وَعَنْ بَنَّةَ الْجُهَنِيِّ «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ - أَوْ فِي الْمَجْلِسِ - يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ - يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ - غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ: "" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ، لَوْ لَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا، فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ كَذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ لِينٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Bannah al-Juhanī, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet of Allah ﷺ passed by people in the mosque, or in a gathering, who were drawing a sword among themselves and passing it unsheathed, whereupon he cursed such conduct, referred to his prior deterrence, and commanded sheathing before giving. > **"May Allah curse whoever does that. If I had not already restrained you from this, then when you draw the sword, a man must sheathe it, then give it in that state."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بنہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مسجد میں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کسی محفل میں ، کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، جنہوں نے تلواریں میان سے نکالی ہوئی تھیں ، اور وہ ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے ، جو میان کے بغیر تھیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص ایسا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، اگر میں نے تمہیں اس سے پہلے منع نہ کیا ہوتا ( تو میں تمہیں سزا دیتا ) جب تم نے تلوار میان سے نکالی ہوئی ہو ، تو آدمی پہلے اسے میان میں ڈالے اور پھر وہ دوسرے شخص کو اس حالت میں دے ( کہ وہ تلوار میان میں موجود ہو ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12267

Majma al-Zawaid #12267

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ فِي مَجْلِسٍ يَسُلُّونَ سَيْفًا يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ: "" أَلَمْ أَزْجُرْ عَنْ هَذَا؟ فَإِذَا سَلَّ أَحَدُكُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ أَخَاهُ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ passed by people in a gathering who were drawing a sword and passing it among themselves unsheathed, questioned them about his prior restraint, and commanded sheathing before handing to a brother. > **"Did I not restrain you from this? When one of you draws the sword, let him sheathe it, then give it to his brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک محفل میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، جنہوں نے تلواریں میانوں سے نکالی ہوئی تھیں اور وہ میان میں ڈالے بغیر ایک دوسرے کو وہ تلواریں پکڑا رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے اس سے تمہیں منع نہیں کیا ہے ؟ اگر تم میں سے کسی شخص نے تلوار میان سے نکالی ہوئی ہو ، تو وہ پہلے اُسے میان میں ڈالے اور پھر وہ اس کو اپنے بھائی کو دے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12268

Majma al-Zawaid #12268

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ مَرَّ مِنْكُمْ فِي هَذِهِ الْأَسْوَاقِ وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيَقْبِضْ عَلَى النِّصَالِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded those passing through markets while carrying arrows to grasp them in a safe manner. > **"Whoever among you passes through these markets while carrying arrows, let him grasp them by their heads."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے جو شخص بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو ، تو اس ( شخص ) کو پھل کی طرف سے اُسے پکڑنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12269

Majma al-Zawaid #12269

عَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا شَهَرَ الْمُسْلِمُ عَلَى أَخِيهِ سِلَاحًا فَلَا تَزَالُ مَلَائِكَةُ اللَّهِ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَشِيمَهُ عَنْهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the continued cursing by angels upon a Muslim who draws a weapon against his brother until he puts it away from him. > **"When a Muslim draws a weapon against his brother, the angels of Allah continue to curse him until he puts it away from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی مسلمان اپنے بھائی پر ہتھیار اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے مسلسل اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں ، جب تک وہ اس ( بھائی ) سے ہٹا کر اسے میان میں نہیں ڈال دیتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن ابراہیم ہے ، جسے امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ابوزرعہ نے اسے ثقہ کہا ہے اور وہ کمزور ہے ۔

12270

Majma al-Zawaid #12270

وَعَنْ سَمُرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَى أَنْ يَسُلَّ الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ السِّلَاحَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah, may Allah be pleased with him, reports a prohibition the Messenger of Allah ﷺ used to issue regarding conduct between Muslims. > **"A Muslim must not draw a weapon against a Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس بات سے منع کیا کرتے تھے کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان پر ہتھیار اٹھائے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12271

Majma al-Zawaid #12271

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ شَهَرَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ disavowed one who draws weapons against the community. > **"Whoever draws weapons against us is not of us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھا لیتا ہے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، امام ترندی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

12272

Majma al-Zawaid #12272

وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn al-Zubayr, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ a disavowal of one who carries weapons against the community. > **"One who carries weapons against us is not of us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو ہم پر ہتھیار اٹھا لے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12273

Majma al-Zawaid #12273

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ a disavowal of one who bears arms against the community. > **"Whoever bears weapons against us is not of us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھا لے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

12274

Majma al-Zawaid #12274

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يُشْهِرَنَّ أَحَدٌ عَلَى أَخِيهِ بِالسَّيْفِ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ حُفَرِ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade brandishing the sword at a brother because Satan may cause the hand to slip and cast the doer into a pit of Hell. > **"Let none of you brandish the sword at his brother, for perhaps Satan will stir his hand so that he falls into a pit from the pits of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی شخص اپنے بھائی کے سامنے تلوار ہرگز نہ لہرائے ، ہو سکتا ہے شیطان اُس کے ہاتھ سے وہ گرا دے ( اور دوسرا شخص زخمی ہو کے مر جائے ) اور وہ ( تلوار لہرانے والا ) شخص جہنم کے کسی گڑھے میں گر جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور وہ مدلس ہے ۔

12275

Majma al-Zawaid #12275

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أَخِيهِ فِي قِصَّةٍ قَالَ: ذَكَرَهَا. فَقَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ أَشَارَ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِحَدِيدَةٍ يُرِيدُ قَتْلَهُ فَقَدْ وَجَبَ دَمُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَخُو عَلْقَمَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah ibn Abī ʿAlqamah reports in a story from his brother, who said he heard ʿĀʾishah, may Allah be pleased with her, say that she heard the Messenger of Allah ﷺ declare the gravity of pointing a sharp iron implement at a Muslim with intent to kill. > **"Whoever points at anyone among the Muslims with a piece of iron, intending to kill him, his blood has become due."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن ابوعلقمہ اپنے بھائی کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں : جس میں انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : وہ کہتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کسی دھار دار چیز کے ذریعے کسی مسلمان کی طرف اشارہ کرے اور وہ اُس کو قتل کرنا چاہتا ہو ، تو اس ( اشارہ کرنے والے ) کا خون واجب ہو جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، علقمہ کے بھائی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12276

Majma al-Zawaid #12276

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ رَمَانَا بِالنَّبْلِ فَلَيْسَ مِنَّا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ disavowed one who shoots arrows at the community. > **"Whoever shoots arrows at us is not of us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ہمیں تیر مارے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوسلیمان ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔