وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا أَوْ دَعَا إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ""، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" كَيْفَ أَنْتُمْ فِي قَوْمٍ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَصَارُوا حُثَالَةً؟ "" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قَالُوا: فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" اصْبِرُوا اصْبِرُوا، وَخَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ، وَخَالِفُوهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
EnglishUnverified translation
Thawban, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that whoever innovates an evil matter, shelters an innovator, ascribes himself to other than his father, or allies himself with other than his patrons bears the curse of Allah, the angels, and all people with neither obligatory nor voluntary deeds accepted from him, and that the Prophet ﷺ then asked how they would fare among people whose covenants and trusts were entangled and who had become worthless remnants, interlacing his fingers, and when asked what to do commanded patience twice, outward conduct according to their manners, and opposition to them in deeds. > **"Whoever innovates a matter, or shelters an innovator, or ascribes himself to other than his father, or allies himself with other than his patrons, upon him is the curse of Allah, the angels, and all people. Neither obligatory nor voluntary deeds are accepted from him. How will you fare among people whose covenants and trusts have become entangled and who have become worthless remnants? Be patient, be patient. Deal with people according to their manners, but oppose them in deeds."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے ، یا کسی بدعتی کو پناہ دے ، یا اپنے باپ کے علاوہ ، یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ، تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں ، سب کی لعنت ہو گی ، اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے ، جن کے عہد اور ان کی امانتیں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ ردّی ہو چکے ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول الله ! ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم صبر سے کام لینا ، تم صبر سے کام لینا ، تم لوگوں کے ساتھ اُن کے اخلاق کے مطابق پیش آنا اور اُن کے اعمال کے بارے میں اُن ( لوگوں ) کے برخلاف کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔