Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 7

Book of Tribulations

Hadith 12197–12236

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12197

Majma al-Zawaid #12197

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Salman, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that Islam began strange and will return strange. > **"Islam began strange and it will return strange."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیس بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔

12198

Majma al-Zawaid #12198

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُرْوَى الْأَرْضُ دَمًا وَيَكُونُ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا» "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashʿari, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that the Hour will not come until the earth is drenched with blood and Islam becomes strange, after which the narrator related the remainder of the hadith. > **"The Hour will not come until the earth is drenched with blood and Islam becomes strange."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک زمین خون سے سیراب نہیں ہو گی ، اور اسلام غریب الوطن نہیں ہو جائے گا ......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلیمان بن احمد واسطی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12199

Majma al-Zawaid #12199

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: يَا فُلَانُ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْعَتُ الْإِسْلَامَ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ جَذَعًا ثُمَّ ثَنِيًّا ثُمَّ رَبَاعِيًّا ثُمَّ سَدِيسًا ثُمَّ بَازِلًا» "". فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا بَعْدَ الْبُزُولِ إِلَّا النُّقْصَانُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah ibn ʿAbd Allah al-Muzani reports from an unnamed man who was present in a gathering in Madinah with ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, that ʿUmar asked him how he heard the Messenger of Allah ﷺ describe Islam, and when the Prophetic description through the stages of a young camel to full maturity was given, ʿUmar remarked that after full maturity nothing remains except decline. > **"Islam began as a jadhaʿ, then became a thani, then a rabaʿi, then a sadis, then a bazil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن عبداللہ مزنی بیان کرتے ہیں : مجھے ایک صاحب نے یہ بات بتائی ہے : وہ کہتے ہیں : میں ایک ایسی محفل میں موجود تھا ، جس میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، یہ مدینہ منورہ کی بات ہے ، انہوں نے حاضرین میں سے ایک شخص سے کہا : اے فلاں ! تم نے نبی اکرم ﷺ کو اسلام کی صفت بیان کرتے ہوئے کیسے سنا ہے ؟ تو ان صاحب نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اسلام کا آغاز جذع ہونے ( یعنی کم سن اونٹ ہونے ) کے عالم میں ہوا ، پھر وہ ثنی ( یعنی تیسرے سال میں داخل ہونے والا ) ہو گیا ، پھر وہ رباعی ( یعنی چوتھے سال میں داخل ہونے والا ) اونٹ ہو گیا ، پھر وہ سدیس ( یعنی آٹھویں سال میں داخل ہونے والا ) اونٹ ہو گیا ، پھر وہ بازل ( یعنی جس کے آٹھ سال پورے ہو گئے اور وہ نویں سال میں داخل ہو گیا ہو ، وہ ) ہو گیا ۔‘‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ بازل ‘‘ ہو جانے کے بعد تو کم ہونا ہی باقی رہ جاتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12200

Majma al-Zawaid #12200

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ إِذْ بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَتُهُمْ وَاخْتَلُّوا وَصَارُوا هَكَذَا؟ "" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ؟ قَالَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَأْخُذُ مَا تَعْرِفُ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتُقْبِلُ عَلَى خَاصَّتِكَ، وَتَدَعُ عَوَامَّهُمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that the Prophet ﷺ addressed ʿAbd Allah ibn ʿUmar about the time when he would remain among worthless remnants of people whose covenants and trusts would be entangled and who would differ until they became like interlaced fingers, which the Prophet ﷺ illustrated by interlacing his fingers, and when asked what to do the Prophet ﷺ instructed him to hold to what he recognizes, abandon what he rejects, attend to his private affairs, and leave the common masses. > **"How will you be, O ʿAbd Allah ibn ʿUmar, when you remain among worthless remnants of people whose covenants and trusts have become entangled and they have differed and become like this? Take what you recognize, leave what you reject, attend to your private affairs, and leave the common masses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے عبداللہ بن عمر ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، جن کے عہد اور ان کی امانتیں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ اختلاف کا شکار ہوں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر لیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس چیز کو قبول کرو ، جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو چھوڑ دو ، جسے تم منکر ( یا برائی ) سمجھو اور تم بطور خاص اپنی ذات کی طرف متوجہ رہو اور لوگوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑ دو !‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12201

Majma al-Zawaid #12201

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَابْنَيْهِ، فَقَالَ: " تَرَوْنَ إِذَا أُخِّرْتُمْ إِلَى زَمَانِ حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَنُذُورُهُمْ فَاشْتَبَكُوا وَكَانُوا هَكَذَا؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَيُقْبِلُ أَحَدُكُمْ عَلَى خَاصَّةِ نَفْسِهِ، وَيَذَرُ أَمْرَ الْعَامَّةِ ".

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Saʿidi, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ came out to them one day while they were in the gathering of ʿAmr ibn al-ʿAs and his two sons, and asked how they would fare if they were left until the time of worthless remnants whose covenants and vows would be entangled and interlocked like interlaced fingers, which he illustrated by interlacing his fingers, and when they replied that Allah and His Messenger know best he instructed them to hold to what they recognize, abandon what they reject, let each attend to his private self, and leave the affair of the common masses. > **"What will you think if you are left until the time of worthless remnants of people whose covenants and vows have become entangled and interlocked and they become like this? Take what you recognize, leave what you reject, let each of you attend to his private self, and leave the affair of the common masses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اس وقت حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں صاحبزادوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو کہ اگر تمہیں ایسے زمانے تک باقی رکھا گیا کہ جب ردّی لوگ باقی رہ گئے ہوں گے ، جن کے عہد اور ان کی نذریں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اُس چیز کو لے لینا جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دینا ، جو تمہیں منکر محسوس ہو اور تم میں سے ہر ایک شخص بطور خاص اپنا خیال رکھے ، اور لوگوں کے عمومی معاملے کو ( اُن کے حال پر ) چھوڑ دے ۔‘‘

12202

Majma al-Zawaid #12202

وَفِي رِوَايَةٍ "" وَإِيَّاكَ وَالتَّلَوُّنَ فِي دِينِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording of the preceding report from Sahl, may Allah be pleased with him, the Prophet ﷺ warned against fickleness in the religion of Allah. > **"Beware of shifting colours in the religion of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تم لوگ اللہ کے دین میں تلوّن ( رنگ برنگی چیزیں اختیار کرنے ) سے بچ کے رہنا !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

12203

Majma al-Zawaid #12203

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ وَاخْتَلَفُوا حَتَّى كَانُوا هَكَذَا؟ "" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" خُذْ مَا تَعْرِفُ، وَدَعْ مَا تُنْكِرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَزِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ asked how he would fare when among worthless remnants who differ until they become like interlaced fingers, which he illustrated by interlacing his fingers, and when ʿUbadah replied that Allah and His Messenger know best the Prophet ﷺ instructed him to take what he recognizes and leave what he rejects. > **"How will you be when you are among worthless remnants of people and they differ until they become like this? Take what you recognize and leave what you reject."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، جو اختلاف کا شکار ہوں گے ، یہاں تک وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم وہ چیز لے لو جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دو جسے تم منکر ( یا برائی ) سمجھو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی زیاد بن عبداللہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12204

Majma al-Zawaid #12204

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: خَالِطُوا النَّاسَ، وَصَافُوهُمْ بِمَا يَشْتَهُونَ وَدِينَكُمْ فَلَا تَكْلِمُنَّهُ،

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, said that one should mix with people and associate with them outwardly according to their desires, but one must not injure or compromise ones religion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے ہیں : ’’ لوگوں کے ساتھ گھل مل کے رہو ! لیکن ان کی خواہشات اور اپنے دین کا دھیان رکھنا کہ کہیں تم اس ( دین ) کو مجروح نہ کر دو ۔‘‘

12205

Majma al-Zawaid #12205

وَفِي رِوَايَةٍ: خَالِطُوا النَّاسَ وَزَايِلُوهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another wording from Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, he said to mix with people while keeping oneself distinct from them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ لوگوں کے ساتھ ملو جلو ، لیکن ان سے الگ بھی رہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

12206

Majma al-Zawaid #12206

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ضَافَ ضَيْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَفِي دَارِهِ كَلْبَةٌ مُجِحٌّ، فَقَالَتِ الْكَلْبَةُ: وَاللَّهِ لَا أَنْبَحَ ضَيْفَ أَهْلِي. قَالَ: فَعَوَى جِرَاؤُهَا فِي بَطْنِهَا. قَالَ: قِيلَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: فَأَوْحَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ: هَذَا مَثَلُ أُمَّةٍ تَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ يَقْهَرُ سُفَهَاؤُهَا حُلَمَاءَهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ the parable of a guest who stayed with a man of the Children of Israil in whose house was a bitch near delivery which resolved by Allah that it would not bark at the guests household, after which its puppies cried out in its belly, and when asked about this Allah revealed to one of their men that this is the likeness of a nation coming after them whose foolish ones will overpower its forbearing ones. > **"A guest stayed with a man of the Children of Israil, and in his house was a bitch near delivery, so the bitch said: By Allah, I will not bark at the guest of my household. Then its puppies cried out in its belly. It was said: What is this? So Allah, Mighty and Majestic, revealed to one of their men: This is the likeness of a nation that will come after you, whose foolish ones will overpower its forbearing ones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک مرتبہ ایک شخص بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ہاں مہمان ٹھہرا ، میزبان کے گھر میں ایک کتیا تھی ، جس کے ہاں بچے ہونے والے تھے ، اُس کتیا نے سوچا : اللہ کی قسم ! آج میں اپنے گھر والوں کے مہمان کے لے نہیں بھونکوں گی ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو اُس کتیا کے بچے اس کے پیٹ میں مر گئے ، دریافت کیا گیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک شخص کی طرف وحی کی : یہ مثال ہے ، اُس امت کی جو تمہارے بعد آئے گی اور اس کے بے وقوف اس کے بردبار لوگوں پر زیادتی کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

12207

Majma al-Zawaid #12207

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَأْمُرُونَ فِيهِ بِمَعْرُوفٍ، وَلَا يَنْهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بِسْطَامُ بْنُ حَبِيبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that a time will come upon people in which they will neither enjoin good nor forbid evil. > **"There will come upon people a time in which they neither enjoin good nor forbid evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں وہ نیکی کا حکم نہیں دیں گے اور برائی سے منع نہیں کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بسطام بن حبیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

12208

Majma al-Zawaid #12208

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ، وَيَبْقَى أَهْلُ الرِّيَبِ مَنْ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, said that the righteous will depart and the people of doubt will remain, those who neither recognize good nor reject evil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نیک لوگ رخصت ہو جائیں گے اور مشکوک لوگ باقی رہ جائیں گے ، جو نیکی کو نیکی نہیں سمجھیں گے اور منکر کو منکر قرار نہیں دیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12209

Majma al-Zawaid #12209

وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عُلَاثَةَ، وَأَنَّهَا هَلَكَتْ فَحَمَلَهَا إِلَى الْمَقَابِرِ، فَحَالَ إِخْوَتُهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تَفْعَلُوا، فَإِنِّي أَحَقُّ بِالصَّلَاةِ مِنْكُمْ. قَالُوا: صَدَقَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهَا. ثُمَّ إِنَّهُ دَخَلَ الْقَبْرَ فَدَفَعُوهُ دَفْعًا عَنِيفًا فَوَقَعَ فَغُشِيَ عَلَيْهِ، فَحُمِلَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَرَخَ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ عِشْرُونَ مِنِ ابْنٍ وَبِنْتٍ لَهُ. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مِنْ أَصْغَرِهِمْ، فَأَفَاقَ إِفَاقَةً، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تَصْرُخُوا عَلَيَّ، فَوَاللَّهِ مَا مِنْ نَفْسٍ تَخْرُجُ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِ أَبِي بَكْرَةَ. فَفَزِعَ الْقَوْمُ فَقَالُوا: لِمَ يَا أَبَانَا؟ قَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ أُدْرِكَ زَمَانًا لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ وَلَا خَيْرَ يَوْمَئِذٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-ʿAziz ibn Abi Bakrah reports that Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, married a woman of Banu ʿUlathah who then died, that he carried her to the graveyard where her brothers prevented him from leading the funeral prayer, that he told them not to do so for he had more right to lead the prayer than they did, that they acknowledged the Companion of the Messenger of Allah ﷺ spoke truly so he led the prayer over her, that he then entered the grave and they pushed him away harshly so he fell and lost consciousness, that he was carried to his family while twenty of his sons and daughters cried out over him that day, that ʿAbd al-ʿAziz was then among the youngest of them, that when Abu Bakrah recovered he told them not to cry out over him for by Allah no soul departing is dearer to him than the soul of Abu Bakrah, that the people became alarmed and asked why, and that he replied he feared reaching a time in which he could neither enjoin good nor forbid evil, in which there would be no good.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالعزیز بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بنو علاثہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کی ، اس خاتون کا انتقال ہو گیا ، وہ ان کی میت اٹھا کے قبرستان آئے ، اس خاتون کے بھائی اس بات میں رکاوٹ بن گئے کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں ، حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا : تم لوگ ایسا نہ کرو ! کیونکہ تمہارے مقابلے میں ، میں نماز پڑھانے کا زیادہ حق رکھتا ہوں ، ان لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول کے صحابی ٹھیک کہہ رہے ہیں ، حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کی نماز جنازہ پڑھائی ، پھر وہ قبر میں داخل ہونے لگے تو اس کے بھائیوں نے انہیں ہلکا سا دھکا دیا ، وہ گر گئے ، پھر انہیں اٹھا کر ان کے اہل خانہ کے پاس لایا گیا ، تو اس دن ان کے بیس بیٹوں اور بیٹیوں نے ان کے لے چیخ و پکار کی ۔ عبدالعزیز نامی راوی کہتے ہیں : میں اُس وقت ان میں سب سے کمسن تھا ، جب حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا ، تو انہوں نے ان لوگوں سے کہا : تم لوگ مجھ پر چیخ و پکار نہ کرو ! اللہ کی قسم ! کسی بھی سانس کا نکل جانا ، میرے نزدیک ، ابوبکرہ کی سانس نکل جانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، تو لوگ پریشان ہو گئے ، انہوں نے ان سے دریافت کیا : اے ہمارے ابا جان ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں ایسے زمانے تک پہنچ جاؤں گا ، جس میں ، میں نیکی کا حکم نہیں دے سکوں گا اور برائی سے منع نہیں کر سکوں گا اور اس وقت میں کوئی بھلائی نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12210

Majma al-Zawaid #12210

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كَيْفَ بِكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا طَغَى نِسَاؤُكُمْ وَفَسَقَ فِتْيَانُكُمْ؟ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا لَكَائِنٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، وَأَشَدُّ مِنْهُ، كَيْفَ بِكُمْ إِذَا تَرَكْتُمُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ؟ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا لَكَائِنٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، وَأَشَدُّ مِنْهُ، كَيْفَ بِكُمْ إِذَا رَأَيْتُمُ الْمُنْكَرَ مَعْرُوفًا وَالْمَعْرُوفَ مُنْكَرًا»؟ "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" فَسَقَ شَبَابُكُمْ ""، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ جَرِيرُ بْنُ الْمُسْلِمِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَالرَّاوِي عَنْهُ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ asked the people how they would fare when their women transgress and their youths become corrupt, and when they asked whether that would really happen he affirmed it and worse, then asked how they would fare when they abandoned enjoining good and forbidding evil, and when they asked whether that would happen he affirmed it and worse, then asked how they would fare when they regarded the reprehensible as good and the good as reprehensible. > **"How will you be, O people, when your women transgress and your youths become corrupt? Yes, and worse than that. How will you be when you abandon enjoining good and forbidding evil? Yes, and worse than that. How will you be when you regard the reprehensible as good and the good as reprehensible?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ اے لوگو ! جب تمہاری عورتیں سرکش ہو جائیں گی اور تمہارے نوجوان فاسق ہو جائیں گے ۔‘‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ایسا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں اور اس سے بھی زیادہ سخت چیز ہو گی ، اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ دو گے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ایسا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے بھی زیادہ سخت چیز ہو گی ، اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم منکر کو معروف سمجھو گے اور معروف کو منکر سمجھو گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں :” تمہارے نوجوان فاسق ہو جائیں گے ۔‘‘ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی جریر بن مسلم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس سے روایت نقل کرنے والا شخص امام طبرانی کا استاد ہمام بن یحییٰ ہے اور میں اس سے بھی واقف نہیں ہوں ۔

12211

Majma al-Zawaid #12211

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَتُنْتَقَضَنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً، فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا، وَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا الْحُكْمُ وَآخِرُهُنَّ الصَّلَاةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ فِي الْأَصْلِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَصَوَابُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ، فَإِنَّهُ رَوَى عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَرَوَى عَنْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that the bonds of Islam will be undone one by one, that whenever one bond is undone people will cling to the next, and that the first of them to be undone is judgment while the last is prayer. > **"The bonds of Islam will surely be undone one by one, so whenever one bond is undone people will cling to the one that follows it, and the first of them to be undone is judgment and the last of them is prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلام کی رسّی ٹوٹتی چلی جائے گی ، جب کبھی ایک حصہ ٹوٹے گا ، تو لوگ اس کے بعد والے کو مضبوطی سے تھام لیں گے ، ان میں سب سے پہلے عدالتی فیصلے میں کمی آئے گی ، اور اس میں سب سے آخر میں نماز کے حوالے سے کوتاہی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور اصل میں یہ الفاظ ہیں : یہ حبیب بن سلیمان کے حوالے سے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، حالانکہ درست یہ ہے کہ سلیمان بن حبیب محاربی راوی کا نام ہے ، انہوں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں اور ان سے عبدالعزیز بن اسماعیل بن عبیداللہ نے روایات نقل کی ہیں ۔

12212

Majma al-Zawaid #12212

عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ فَجَاءَنِي جَابِرٌ يُسَلِّمُ عَلَيَّ، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ عَنِ افْتِرَاقِ النَّاسِ وَمَا أَحْدَثُوا. فَجَعَلَ جَابِرٌ يَبْكِي، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا، وَسَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَفْوَاجًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَجَارُ جَابِرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Shaddad Abu ʿAmmar reports from a neighbour of Jabir ibn ʿAbd Allah, may Allah be pleased with him, that the neighbour returned from a journey and Jabir came to greet him, that the neighbour began speaking about the division of people and what they had innovated, that Jabir wept and then said he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that people entered the religion of Allah in crowds and will leave it in crowds. > **"People entered the religion of Allah in crowds, and they will leave it in crowds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شداد ابوعمار بیان کرتے ہیں : مجھے حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما کے ایک پڑوسی نے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ میں سفر سے واپس آیا ، تو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما میرے ساتھ سلام دعا کرنے کے لئے میرے پاس تشریف لائے ، میں نے انہیں لوگوں کے باہمی اختلافات کے بارے میں بتانا شروع کیا اور ان لوگوں نے جو نئی صورت حال پیدا کر دی ہے ، اس کے بارے میں بتایا ، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ لوگ گروہوں کی شکل میں اللہ کے دین میں داخل ہوئے ہیں اور عنقریب گروہوں کی شکل میں اس سے نکل جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پڑوسی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12213

Majma al-Zawaid #12213

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَا بَنِي هَاشِمٍ، إِنَّكُمْ سَيُصِيبُكُمْ بَعْدِي جَفْوَةٌ، فَاسْتَعِينُوا عَلَيْهَا بِأَرِقَّاءِ النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed Banu Hashim about the harsh estrangement that would befall them after him and instructed them to seek help against it through the weakest of people. > **"O Banu Hashim, harsh estrangement will befall you after me, so seek help against it through the weakest of people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے بنو ہاشم ! عنقریب تمہیں میرے بعد زیادتی کا سامنا کرنا پڑے گا ، تو اس کے حوالے سے تم کمزور لوگوں سے مدد حاصل کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہاشمی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کو امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

12214

Majma al-Zawaid #12214

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، يَبِيعُ قَوْمٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ، الْمُتَمَسِّكُ بِدِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ "". أَوْ قَالَ: "" عَلَى الشَّوْكِ ""، وَفِي رِوَايَةٍ "" بِخَبَطِ الشَّوْكِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ مِنْ قَوْلِهِ: الْمُتَمَسِّكُ بِدِينِهِ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ أَحَادِيثِ هَذَا الْبَابِ فِي بَابِ الصَّبْرِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ warned of woe to the Arabs from an approaching evil with trials like portions of dark night, in which a man will be a believer in the morning and a disbeliever in the evening, people will sell their religion for a small portion of the world, and the one clinging to his religion will be like one grasping a burning coal, or like grasping a thorn, and in another wording like grasping thorny branches. > **"Woe to the Arabs from an evil that has drawn near, trials like portions of dark night. A man will be a believer in the morning and a disbeliever in the evening. People will sell their religion for a small portion of the world. The one clinging to his religion will be like one grasping a burning coal, or like grasping a thorn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عربوں کے لئے اس برائی کے حوالے سے بربادی ہے ، جو قریب آ چکی ہے ، ایسے فتنے ہوں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہو گا تو شام کو کافر ہو جائے گا ، لوگ دنیاوی ساز و سامان کے عوض میں ، اپنا دین فروخت کر دیں گے ، اس وقت دین کو تھامنے والے لوگ تھوڑے ہوں گے اور دین کو تھامنے والے کی مثال یوں ہو گی ، جیسے مٹھی میں انگارہ لیا ہو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کانٹے لیے ہوں ۔‘‘ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” کانٹوں کی شاخ لی ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ دین کو تھامنے والا شخص .......‘‘۔ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اس باب سے متعلق باقی احادیث ، صبر سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

12215

Majma al-Zawaid #12215

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ - وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ - أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامُ الصَّبْرِ، لِلْمُتَمَسِّكِ فِيهِنَّ يَوْمَئِذٍ بِمِثْلِ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ لَهُ كَأَجْرِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ "". قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَوَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: "" بَلْ مِنْكُمْ "". قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَوَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: "" بَلْ مِنْكُمْ ""، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ أَرْبَعًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ، وَكِلَاهُمَا قَدْ وُثِّقَ وَفِيهِمَا خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn Ghazwan, may Allah be pleased with him, being among the Companions, reports that the Prophet of Allah ﷺ declared that after them would come days of patience in which one who clings then to the like of what they are upon would have the reward of fifty of them, and when asked whether fifty from among the later people or from among the Companions the Prophet ﷺ replied three or four times that they would be from among the Companions. > **"After you there are days of patience. For one who clings therein to the like of what you are upon, his reward will be like the reward of fifty of you. Rather, from among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ ، جو صحابہ کرام میں سے ایک ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے بعد صبر والے دن آئیں گے اور ان دنوں میں دین کو مضبوطی سے تھامنے والے شخص کو تم میں سے پچاس افراد کے اجر کی مانند اجر ملے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ ( پچاس ) افراد ان میں سے ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ ( وہ پچاس افراد ) تم میں سے ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا وہ ( پچاس افراد ) ان میں سے ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم میں سے ہوں گے ‘‘ یہ مکالمہ تین یا شاید چار مرتبہ ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے عبداللہ بن یوسف سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اور ان دونوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12216

Majma al-Zawaid #12216

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِيهِنَّ كَقَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهَا أَجْرُ خَمْسِينَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ أَوْ خَمْسِينَ مِنَّا؟ قَالَ: "" خَمْسِينَ مِنْكُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «لِلْمُتَمَسِّكِ أَجْرُ خَمْسِينَ شَهِيدًا "". فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ؟ قَالَ: "" مِنْكُمْ» ""، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ سَهْلِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that after them would come days of patience in which patience would be like grasping a burning coal and the worker therein would have the reward of fifty, and when asked whether fifty from among the later people or from among the Companions the Prophet ﷺ said fifty from among the Companions, and in a similar wording that the one who clings will have the reward of fifty martyrs, whereupon ʿUmar asked whether from among the Companions or the later people and the Prophet ﷺ said from among the Companions. > **"After you there are days of patience. Patience therein is like grasping a burning coal. For the worker therein is the reward of fifty. Fifty of you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے بعد صبر والے دن آئیں گے ، اُن میں صبر کرنا ، انگارہ ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے اور ان دنوں میں عمل کرنے والے شخص کو پچاس افراد کا اجر ملے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان میں سے پچاس افراد کا ؟ یا ہم میں سے پچاس افراد کا اجر ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے پچاس افراد کا ( اجر ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ’’ مضبوطی سے تھامے رکھنے والے کے لئے ، پچاس شہیدوں کا اجر ہو گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ ( شہید ) ہم میں سے ہوں گے ؟ یا اُن میں سے ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سہل بن عامر بجلی کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔

12217

Majma al-Zawaid #12217

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: تَعَوَّدُوا الصَّبْرَ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ بِكُمُ الْبَلَاءُ، مَعَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُكُمْ بَلَاءٌ أَشَدُّ مِمَّا أَصَابَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَجَالِدٌ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, said to accustom yourselves to patience, for trials are about to descend upon you, though no trial striking you will be more severe than what befell the Companions alongside the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ صبر کی عادت بناؤ ! کیونکہ عنقریب تم پر آزمائشیں نازل ہوں گی ، باوجودیکہ تم کسی ایسی آزمائش کا سامنا نہیں کرو گے جو اس سے زیادہ سخت ہو ، جس طرح کی آزمائش کا سامنا ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12218

Majma al-Zawaid #12218

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَيَأْتِيَّنَ عَلَيْكُمْ زَمَانٌ تَغْبِطُونَ فِيهِ الرَّجُلَ بِخِفَّةِ الْحَاذِ كَمَا تَغْبِطُونَهُ الْيَوْمَ بِكَثْرَةِ الْمَالِ وَالْوَلَدِ، حَتَّى يَمُرَّ أَحَدُكُمْ بِقَبْرِ أَخِيهِ فَيَتَمَعَّكُ كَمَا تَتَمَعَّكُ الدَّابَّةُ فِي مَرَاعِيهَا وَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَكَ، مَا بِهِ شَوْقٌ إِلَى اللَّهِ وَلَا عَمَلٍ صَالِحٍ قَدَّمَهُ إِلَّا لِمَا نَزَلَ بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that a time will surely come upon them in which a man will be envied for lightness of burden just as today he is envied for abundance of wealth and children, until one of them will pass by the grave of his brother and roll in the dust as an animal rolls in its pasture and say that he wishes he were in his place, not from longing for Allah nor from righteous deeds he sent forth but because of the trials that befell him. > **"There will surely come upon you a time in which a man will be envied for lightness of burden just as today he is envied for abundance of wealth and children, until one of you will pass by the grave of his brother and roll in the dust as the animal rolls in its pasture and say: Would that I were in your place. It is not from longing for Allah nor from righteous deeds he sent forth, but from the trials that befell him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب تم لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں تم ایسے شخص پر رشک کرو گے ، جس کی ذمہ داریاں کم ہوں ، بالکل اسی طرح جس طرح آج تم ایسے شخص پر رشک کرتے ہو ، جس کا مال اور اولاد زیادہ ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ( اس زمانے میں ) تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے گا ، تو مٹی کے ساتھ یوں لوٹ پوٹ ہو جائے گا ، جس طرح چراگاہ میں کوئی جانور مٹی میں لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے اور وہ شخص یہ کہے گا : اے کاش ! میں تمہاری جگہ ہوتا ، وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے شوق کی وجہ سے یہ بات نہیں کہے گا ، یا اس نے کوئی ایسا نیک عمل نہیں آگے بھیجا ہو گا ، جس کی وجہ وہ یہ کہے گا ، بلکہ اس پر جو آزمائش نازل ہوئی ہو گی ، اس کی وجہ سے وہ یہ بات کہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12219

Majma al-Zawaid #12219

وَعَنْهُ قَالَ: «لَيَأْتِيَّنَ عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمُرُّ الرَّجُلُ بِالْقَبْرِ فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَ هَذَا، مَا بِهِ مِنْ حُبِّ لِقَاءِ اللَّهِ وَلَكِنْ شِدَّةُ مَا يَرَى مِنَ الْبَلَاءِ. قِيلَ: أَيُّ شَيْءٍ عِنْدَ ذَلِكَ خَيْرٌ؟ قَالَ: فَرَسٌ شَدِيدٌ وَسِلَاحٌ شَدِيدٌ يَزُولُ بِهِ الرَّجُلُ حَيْثُ زَالَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ أَبِي الزَّعْرَاءِ الْكَبِيرِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

From Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, it is reported that he said a time will surely come upon them when a man will pass by a grave and say that he wishes he were in the place of its occupant, not from love of meeting Allah but from the severity of trials he sees, and when asked what is best then he said a strong horse and strong weapons by which a man may move wherever circumstances shift.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ فرماتے ہیں : ’’ تم پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ جس میں آدمی قبر کے پاس سے گزرے گا ، تو یہ کہے گا : کاش میں اس مردے کی جگہ ہوتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ حاضری کے شوق کی وجہ سے یہ نہیں کہے گا ، بلکہ جس آزمائش کا اس نے سامنا کیا ہو گا ، اُس کی شدت کی وجہ سے یہ بات کہے گا ، عرض کی گئی : اس وقت کون سی چیز زیادہ بہتر ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا : مضبوط گھوڑا ، مضبوط ہتھیار ، جس کے ذریعے آدمی جہاں چاہے جا سکے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوزعراء کبیر کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12220

Majma al-Zawaid #12220

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ؟ "" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "" اصْبِرِ اصْبِرْ، خَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ، وَخَالِفُوهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ asked him how he would be when among worthless remnants of people, interlacing his fingers, and when Abu Dharr asked what he commanded him to do the Prophet ﷺ twice commanded patience, outward social conduct according to their manners, and opposition to them in deeds. > **"O Abu Dharr, how will you be when you are among worthless remnants of people? Be patient, be patient. Deal with people according to their manners, but oppose them in deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر لیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم صبر سے کام لینا ! تم صبر سے کام لینا ! لوگوں سے ان کے اخلاق کے حوالے سے ملتے جلتے رہنا اور لوگوں کے اعمال کے حوالے سے اُن کے برخلاف کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12221

Majma al-Zawaid #12221

وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا أَوْ دَعَا إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ""، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" كَيْفَ أَنْتُمْ فِي قَوْمٍ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَصَارُوا حُثَالَةً؟ "" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قَالُوا: فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" اصْبِرُوا اصْبِرُوا، وَخَالِقُوا النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ، وَخَالِفُوهُمْ فِي أَعْمَالِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that whoever innovates an evil matter, shelters an innovator, ascribes himself to other than his father, or allies himself with other than his patrons bears the curse of Allah, the angels, and all people with neither obligatory nor voluntary deeds accepted from him, and that the Prophet ﷺ then asked how they would fare among people whose covenants and trusts were entangled and who had become worthless remnants, interlacing his fingers, and when asked what to do commanded patience twice, outward conduct according to their manners, and opposition to them in deeds. > **"Whoever innovates a matter, or shelters an innovator, or ascribes himself to other than his father, or allies himself with other than his patrons, upon him is the curse of Allah, the angels, and all people. Neither obligatory nor voluntary deeds are accepted from him. How will you fare among people whose covenants and trusts have become entangled and who have become worthless remnants? Be patient, be patient. Deal with people according to their manners, but oppose them in deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے ، یا کسی بدعتی کو پناہ دے ، یا اپنے باپ کے علاوہ ، یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ، تو اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں ، سب کی لعنت ہو گی ، اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے ، جن کے عہد اور ان کی امانتیں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ لوگ ردّی ہو چکے ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول الله ! ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم صبر سے کام لینا ، تم صبر سے کام لینا ، تم لوگوں کے ساتھ اُن کے اخلاق کے مطابق پیش آنا اور اُن کے اعمال کے بارے میں اُن ( لوگوں ) کے برخلاف کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔

12222

Majma al-Zawaid #12222

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ؟ "". قَالَ: فَذَاكَ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" ذَاكَ إِذَا مَرِجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ فَصَارُوا هَكَذَا "" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قَالَ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَعْمَلُ بِمَا تَعْرِفُ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed ʿAbd Allah ibn ʿAmr about remaining among worthless remnants, and when asked what that condition would be described it as the time when trusts and covenants become entangled until people become like interlaced fingers, which he illustrated by interlacing his fingers, and when asked what to do instructed him to act upon what he recognizes, abandon what he rejects, attend to his private self, and leave the common masses. > **"How will you be, O ʿAbd Allah ibn ʿAmr, when you are among worthless remnants of people? That is when their trusts and covenants become entangled and they become like this. Act upon what you recognize, abandon what you reject, attend to your private self, and leave the common masses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عبداللہ بن عمرو ! اس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ ردّی لوگوں میں رہ جاؤ گے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا صورت حال ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت لوگوں کی امانتیں اور ان کے عہد ، ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم وہ عمل کرنا جسے تم نیکی سمجھو اور اسے ترک کر دینا ، جسے تم منکر ( یا برائی ) سمجھو اور تم بطور خاص اپنی ذات کے لئے عمل کرنا اور لوگوں کو ( ان کے حال پر ) چھوڑ دینا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12223

Majma al-Zawaid #12223

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَتُغَرْبَلُونَ حَتَّى تَصِيرُوا فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَرِبَتْ أَمَانَتُهُمْ "". فَقَالَ قَائِلُنَا: فَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَعْمَلُونَ بِمَا تَعْرِفُونَ، وَتَتْرُكُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَتَقُولُونَ: أَحَدٌ أَحَدٌ انْصُرْنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَاكْفِنَا مَنْ بَغَانَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ declared that people will be sifted until they remain as worthless remnants whose covenants are entangled and whose trusts are ruined, and when one of them asked what they should then do the Prophet ﷺ instructed them to act upon what they recognize, abandon what they reject, and say: One, One, help us against whoever wronged us and suffice us against whoever transgresses against us. > **"You will surely be sifted until you remain as worthless remnants of people whose covenants are entangled and whose trusts are ruined. Act upon what you recognize, abandon what you reject, and say: One, One, help us against whoever wronged us and suffice us against whoever transgresses against us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عنقریب تمہیں آزمایا جاتا رہے گا ، یہاں تک کہ تم ردّی لوگوں میں رہ جاؤ گے ، جن کے عہد ایک دوسرے میں داخل ہو چکے ہوں گے اور ان کی امانتیں خراب ہو چکی ہوں گی ، ہم میں سے کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم وہ عمل کرنا جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دینا جسے تم منکر سمجھو اور تم یہ کہنا : کوئی ہے ؟ کوئی ہے ؟ کون اس شخص کے خلاف مدد کرے گا ، جس نے ہم پر ظلم کیا ہے اور اس شخص کے حوالے سے ہماری کفایت کرے گا ، جس نے ہم سے سرکشی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12224

Majma al-Zawaid #12224

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «سَيَكُونُ بَعْدِي أَثْرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا "". قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ, and ʿAbd Allah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that after him there will be selfish preference and matters they will reject, and when asked what he commands whoever encounters that he instructed them to render the duty incumbent upon them and ask Allah for what belongs to them. > **"After me there will be selfish preference and matters you will reject. Render the right incumbent upon you, and ask Allah for what belongs to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میرے بعد ترجیحی سلوک ہو گا اور کچھ اور امور ہوں گے ، جنہیں تم منکر قرار دو گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو شخص اس صورت حال کو پاتا ہے ، آپ اسے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اس حق کو ادا کرنا جو تمہارے ذمہ لازم ہے اور جو تمہارا حق ہے ، وہ اللہ تعالیٰ سے مانگنا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی احمد بن عبدالعزیز واسطی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12225

Majma al-Zawaid #12225

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَيَأْتِيَّنَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُكَذَّبُ فِيهِ الصَّادِقُ، وَيُصَدَّقُ فِيهِ الْكَاذِبُ، وَيُخَوَّنُ فِيهِ الْأَمِينُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهِ الْخَائِنُ، وَيَشْهَدُ الْمَرْءُ وَإِنْ لَمْ يُسْتَشْهَدْ، وَيَحْلِفُ الْمَرْءُ وَإِنْ لَمْ يُسْتَحْلَفْ، وَيَكُونُ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعٍ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reports that she heard the Messenger of Allah ﷺ declare that a time will surely come upon people in which the truthful will be belied, the liar believed, the trustworthy deemed treacherous, the treacherous trusted, a man will testify though not asked for testimony, a man will swear though not asked for an oath, and the happiest of people with the world will be the despicable son of the despicable who does not believe in Allah and His Messenger. > **"There will surely come upon people a time in which the truthful will be belied, the liar believed, the trustworthy deemed treacherous, the treacherous trusted, a man will testify though not asked for testimony, a man will swear though not asked for an oath, and the happiest of people with the world will be the despicable son of the despicable who does not believe in Allah and His Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا ، جس میں سچے کو جھوٹا قرار ضرور دیا جائے گا اور جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی ، جس میں امین کو خائن قرار دیا جائے گا اور خائن کو امین بنا دیا جائے گا ، آدمی گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی ، آدمی حلف اٹھاے گا ، حالانکہ اس سے حلف نہیں مانگا گیا ہو گا ، اور دنیا میں سب سے زیادہ سعادت مند ( یعنی دنیاوی اعتبار سے سب سے زیادہ صاحب حیثیت ) وہ شخص ہو گا ، جو خود بے وقوف ہو گا اور بے وقوف کا بچہ ہو گا ، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12226

Majma al-Zawaid #12226

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً، يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيَتَكَلَّمُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ "". قِيلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: "" الْفَاسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that before the Antichrist there will be deceitful years in which the truthful will be belied, the liar believed, the trustworthy deemed treacherous, the treacherous trusted, and the Ruwaybidah will speak, and when asked what the Ruwaybidah are he said the corrupt man speaking about public affairs. > **"Before the Antichrist there are deceitful years. The truthful will be belied therein, the liar believed therein, the trustworthy deemed treacherous therein, the treacherous trusted therein, and the Ruwaybidah will speak therein. The corrupt man speaking about public affairs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دجال سے پہلے کچھ سال دھوکے کے ہوں گے ، جن میں سچے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا اور ان میں جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا ، اُن میں امین کو خائن قرار دیا جائے گا اور خائن کو ان میں امین بنا دیا جائے گا ، ان میں رویبضہ کلام کریں گے ، عرض کی گئی : رویبضہ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فاسق شخص کا عمومی معاملات میں بات چیت کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔

12227

Majma al-Zawaid #12227

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ سِنِينَ خَدَّاعَةً، يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: " الِامْرُؤُ التَّافِهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ» ".

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that before the Hour there will be deceitful years in which the liar will be believed, the truthful belied, the treacherous trusted, the trustworthy deemed treacherous, and the Ruwaybidah will speak, and when asked what the Ruwaybidah is he said the contemptible man speaking about public affairs. > **"Before the Hour there are deceitful years. The liar will be believed therein, the truthful belied therein, the treacherous trusted therein, the trustworthy deemed treacherous therein, and the Ruwaybidah will speak therein. The contemptible man speaking about public affairs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت سے پہلے کچھ سال دھوکے کے ہوں گے ، جن میں جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا اور ان میں سچے کو جھوٹا قرار دیا جائے گا ، ان میں خائن کو امین بنا دیا جائے گا اور امین کو ان میں خائن قرار دیا جائے گا ، اور ان میں رویبضہ کلام کریں گے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ رویبضہ سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : حقیر شخص ، جو عمومی معاملات میں کلام کرے ۔‘‘

12228

Majma al-Zawaid #12228

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ بَعْضُ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Ibn Isḥaq reports that ʿAbd Allah ibn Dinar narrated to him from Anas, may Allah be pleased with him, from the Prophet ﷺ a similar narration concerning the deceitful years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن دینار نے مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، ابن اسحاق نے اس میں عبداللہ بن دینار سے سماع کی تصریح کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں ، اس میں سے کچھ روایات آئیں گی ۔

12229

Majma al-Zawaid #12229

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَامِ وَتَخْوِينُ الْأَمِينِ وَائْتِمَانُ الْخَائِنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that among the signs of the Hour are obscenity, foul speech, severing kinship, deeming the trustworthy treacherous, and trusting the treacherous. > **"Among the signs of the Hour are obscenity, foul speech, severing kinship, deeming the trustworthy treacherous, and trusting the treacherous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کی نشانیوں میں فحاشی ، فحش گفتگو کرنا ، رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا ، امین کو خائن قرار دینا اور خائن کو امین بنا لینا ، شامل ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12230

Majma al-Zawaid #12230

وَعَنْ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمْلَى عَلَيَّ، فَكَتَبْتُ بِيَدِي، فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ أَنْقُصْ حَرْفًا، حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ - أَوْ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ - وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَاحُشُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَسُوءُ الْمُجَاوَرَةِ وَحَتَّى يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَأَبُو سَبْرَةَ هَذَا اسْمُهُ: سَالِمُ بْنُ سَبْرَةَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sabrah, whose name is Salim ibn Sabrah, reports that he met ʿAbd Allah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with him, who narrated what he heard from the Messenger of Allah ﷺ and dictated it to him so that he wrote it in his own hand without adding or omitting a letter, namely that Allah does not love obscenity, or hates the obscene and foul-mouthed person, and that the Hour will not come until obscenity, foul speech, severing kinship, and evil neighbourhood appear, and until the treacherous is trusted and the trustworthy deemed treacherous. > **"Allah does not love obscenity, or hates the obscene and foul-mouthed person, and the Hour will not come until obscenity, foul speech, severing kinship, and evil neighbourhood appear, and until the treacherous is trusted and the trustworthy deemed treacherous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسبرہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اللہ سے ہوئی تو انہوں نے مجھے وہ احادیث بیان کیں ، جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنی تھیں ، اور وہ روایات مجھے املاء کروائیں ، میں نے اپنے ہاتھ سے روایات نوٹ کیں اور کوئی ایک حرف زائد نہیں کیا اور کوئی حرف کم نہیں کیا ، انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ فحاشی کو پسند نہیں کرتا ہے ، وہ فحاشی والے شخص اور فحش گفتگو کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے ، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک فحاشی اور فحش گفتگو اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا اور برا پڑوس ظاہر نہیں ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ خائن شخص کو امین بنایا جائے گا اور امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، ابوسبرہ ( نامی راوی ) کا نام سالم بن سبرہ ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔

12231

Majma al-Zawaid #12231

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَمَنَّوْنَ فِيهِ الدَّجَّالَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي وَأُمِّي، مِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: "" مِمَّا يَلْقَوْنَ مِنَ الْعَنَاءِ وَالْعَنَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that a time will come upon people in which they will wish for the Antichrist, and when Hudhayfah asked at the cost of his father and mother what the cause would be the Prophet ﷺ said it would be from the successive hardships they encounter. > **"There will come upon people a time in which they will wish for the Antichrist. From the hardship upon hardship they encounter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں وہ لوگ دجال کی آرزو کریں گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ قربان ہوں ، اس کی وجہ کیا ہو گی ؟ آپ نے فرمایا : کیونکہ ان لوگوں کو یکے بعد دیگرے اتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔

12232

Majma al-Zawaid #12232

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ النَّاسَ شَجَرَةٌ ذَاتُ جَنْيٍ، وَيُوشِكُ أَنْ يَعُودُوا شَجَرَةً ذَاتَ شَوْكٍ، إِنَّ نَافَذْتَهُمْ نَافَذُوكَ، وَإِنْ تَرَكْتَهُمْ لَمْ يَتْرُكُوكَ، وَإِنْ هَرَبْتَ مِنْهُمْ طَلَبُوكَ "". قَالَ: فَكَيْفَ الْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تُقْرِضُهُمْ عَرَضَكَ لِيَوْمِ فَاقَتِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ جِدًّا وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that people are like a tree bearing fruit and will soon become like a thorny tree, such that if you contend with them they contend with you, if you leave them they will not leave you, and if you flee from them they seek you, and when asked about the way out the Prophet ﷺ said to lend them ones honour for the day of ones need. > **"People are a tree bearing fruit, and they will soon become a tree bearing thorns. If you contend with them they will contend with you, if you leave them they will not leave you, and if you flee from them they will seek you. Lend them your honour for the day of your need."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ لوگ ایسے درخت کی مانند ہیں ، جس پر پھل لگا ہو اور عنقریب وہ ایسے درخت کی مانند ہو جائیں گے ، جو کانٹے والا ہوتا ہے ، اگر تم انہیں کھینچو گے تو وہ تمہیں کھینچیں گے اور اگر تم انہیں چھوڑ دو گے ، تو وہ تمہیں چھوڑیں گے ، اگر تم ان سے بھاگو گے ، تو وہ تمہیں تلاش کریں گے ، راوی نے عرض کی : یا رسول اللہ اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے فاقہ کے دن ، اپنی عزت نہیں دیدینا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ مدلس ہے اور ایک راوی صدقہ بن عبداللہ ہے جو انتہائی ضعیف ہے ، دحیم اور ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

12233

Majma al-Zawaid #12233

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا يَزْدَادُ الْمَالُ إِلَّا إِفَاضَةً، وَلَا يُزَادُ النَّاسُ إِلَّا شُحًّا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ ضَعْفٌ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that affairs will only increase in severity, wealth will only increase in abundance, people will only increase in miserliness, and the Hour will come only upon the worst of people. > **"Affairs will only increase in severity, wealth will only increase in abundance, people will only increase in miserliness, and the Hour will come only upon the worst of people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ معاملے کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور مال پھیلتا چلا جائے گا اور لوگوں کی کنجوسی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں ضعف پایا جاتا ہے انہوں نے یہ روایت ایک اور ضعیف سند کے ساتھ بھی نقل کی ہے ۔

12234

Majma al-Zawaid #12234

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ الصَّلَاةُ فِيهِ طَوِيلَةٌ، وَالْخُطْبَةُ فِيهِ قَصِيرَةٌ، وَعُلَمَاؤُهُ كَثِيرٌ، وَخُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّلَاةُ فِيهِ قَصِيرَةٌ، وَالْخُطْبَةُ فِيهِ طَوِيلَةٌ، خُطَبَاؤُهُ كَثِيرٌ، وَعُلَمَاؤُهُ قَلِيلٌ، يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعَشِيِّ إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَلْيَجْعَلْهَا مَعَهُمْ تَطَوُّعًا، إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ يُغْبَطُ فِيهِ الرَّجُلُ عَلَى قِلَّةِ عِيَالِهِ وَخِفَّةِ حَاذِهِ، مَا أَدَعُ بَعْدِي فِي أَهْلِي أَحَبَّ إِلَيَّ مَوْتًا مِنْهُمْ وَلَا أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْجُعْلَانِ، وَإِنِّي لَأُحِبُّهُمْ كَمَا تُحِبُّونَ أَهْلِيكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الزُّهْدِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْعِلْمِ نَحْوُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, said that they live in a time when prayer is long, the sermon short, scholars many, and orators few, but a time will come upon people when prayer will be short, the sermon long, orators many, and scholars few, when prayers will be delayed until the late afternoon prayer is performed when the light of the dead has dimmed, so whoever of them encounters that should perform prayer at its proper time and treat his prayer with them as voluntary, and that they live in a time when a man is envied for few dependents and light burden, and he leaves nothing after him among his family dearer to him than their death nor any household more beloved, loving them as people love their families.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ’’ تم لوگ ایسے زمانے میں ہو ، جس میں نماز طویل ادا کی جاتی ہے اور خطبہ مختصر دیا جاتا ہے ، اس زمانے کے علماء بہت زیادہ ہیں اور خطیب کم ہیں ، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں نماز مختصر ادا کی جائے گی اور خطبہ طویل دیا جائے گا ، اس زمانے میں خطیب زیادہ ہوں گے اور علماء کم ہوں گے ، وہ لوگ نمازیں تاخیر سے ادا کریں گے ، یہاں تک کہ وہ عصر کی نماز اس وقت ادا کریں گے جب سورج کی روشنی کمزور ہو چکی ہو گی ، تم میں سے جو شخص وہ زمانہ پائے ، وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کر لے اور ان لوگوں کے ساتھ ادا کی جانے والی اپنی نماز کو نفل قرار دیدے ، تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو ، جس میں ایسے شخص پر رشک کیا جاتا ہے ، جس کے بال بچے کم ہوں اور اخراجات کم ہوں ، میں اپنے بعد اپنے اہل خانہ کے لئے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا ، جو میرے نزدیک ان کے لئے موت سے زیادہ محبوب ہو ، اور نہ ہی جعلان سے زیادہ کوئی گھرانہ چھوڑوں گا ، میں ان سے اسی طرح محبت کرتا ہوں ، جس طرح تم اپنے اہل خانہ سے محبت رکھتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس کا ایک طریق کتاب الزہد میں گزر چکا ہے ، اس سے پہلے کتاب العلم میں اس کی مانند روایت گزر چکی ہے ۔

12235

Majma al-Zawaid #12235

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خُلَيْدَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْهِ وَقَدْ نَصَبَ مَتَاعًا فِي بَيْتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: اسْتَخِفَّ مِنْ شَوَارِ بَيْتِكَ، فَإِنَّ النَّاسَ يُوشِكُونَ أَنْ يَكُونُوا عَلَى قَتَبٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Zayd ibn Khulaydah reports that ʿAbd Allah, may Allah be pleased with him, entered upon him while he had arranged goods in his house, so ʿAbd Allah told him to lighten the furnishings of his house, for people will soon be in a state of turmoil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن زید بن خلیدہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، انہوں نے گھر میں موجود سامان تیار رکھا ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم اپنے گھر کے ساز و سامان کو پوشیدہ رکھو ، کیونکہ لوگ عنقریب اشتعال میں آ جائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12236

Majma al-Zawaid #12236

عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ - لِامْرَأَتِهِ: الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ أَمْسِ؟ فَقَالَتْ: لَا أَدْرِي. فَقَالَ: لَكِنِّي أَدْرِي، أَمْسِ خَيْرٌ مِنَ الْيَوْمِ، وَالْيَوْمُ خَيْرٌ مِنْ غَدٍ، وَكَذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَلَهُ آثَارٌ فِي الزُّهْدِ.

EnglishUnverified translation

Khaythamah reports that ʿAbd Allah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, asked his wife whether today is better or yesterday, that she said she did not know, and that he replied he knew that yesterday was better than today, today better than tomorrow, and so it will continue until the Hour comes.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خیمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے دریافت کیا : آج بہتر ہے یا گزشتہ کل ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں جانتا ہوں گزشتہ کل ، آج سے بہتر تھا ، اور آج ، آنے والے کل سے بہتر ہے ، اور قیامت قائم ہونے تک اسی طرح ہوتا رہے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کچھ آثار کتاب الزہد میں گزر چکے ہیں ۔