Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 6

Book of Tribulations

Hadith 12157–12196

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12157

Majma al-Zawaid #12157

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «سَيَكُونُ بَعْدِي خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ، وَسَيَكُونُ بَعْدِي خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا لَا يَعْلَمُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ عَلَيْهِمْ بَرِئَ، وَمَنْ أَمْسَكَ يَدَهُ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ foretold rulers after him who act with knowledge and as commanded, and rulers who act without knowledge and do what is not commanded, and distinguished one who rejects, one who withholds, and one who approves and follows. > **"There will be successors after me who act upon what they know and do what they are commanded, and there will be successors after me who act upon what they do not know and do what they are not commanded. Whoever rejects them is absolved, and whoever withholds his hand is safe, but whoever approves and follows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میرے بعد ایسے خلفاء ہوں گے ، جو اپنے علم کے مطابق عمل کریں گے اور وہ کام کریں گے ، جن کا انہیں حکم دیا گیا ہو گا ، اور میرے بعد ایسے خلفاء بھی ہوں گے ، جو ایسا عمل کریں گے جس کے بارے میں وہ علم نہیں رکھتے ہوں گے اور وہ کام کریں گے ، جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا ہو گا ، جو شخص ان پر انکار کرے گا وہ لاتعلق ہو جائے گا ، جو شخص اپنے ہاتھ کو روک کے رکھے گا ، وہ سلامت رہے گا ، لیکن جو شخص راضی ہو گا اور پیروی کرے گا ( اُس کا معاملہ مختلف ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوبکر محمد بن عبدالملک بن زنجویہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔

12158

Majma al-Zawaid #12158

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ، وَسَيَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ أُمَرَاءُ يَعْمَلُونَ مَا لَا يَعْلَمُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، مَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ foretold rulers who act with knowledge and as commanded, then rulers after them who act without knowledge and do what is not commanded, and the safety of one who rejects. > **"There will be rulers over you who act upon what they know and do what they are commanded, and there will be after them rulers who act upon what they do not know and do what they are not commanded. Whoever rejects is safe, but whoever approves and follows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو وہ عمل کریں گے جس کے بارے میں وہ علم نہیں رکھتے ہوں گے اور وہ کام کریں گے ، جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا ہو گا ، پھر ان کے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو وہ عمل کریں گے ، جن کا ان کو علم نہیں ہو گا اور وہ کام کریں گے ، جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا ہو گا ، جو شخص انکار کرے گا وہ سلامت رہے گا ، لیکن جو شخص راضی رہے گا اور ( ان کی ) پیروی کرے گا ( اس کا معاملہ مختلف ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ متروک ہے ۔

12159

Majma al-Zawaid #12159

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّكُمْ عَلَى تَقِيَّةٍ مِنْ رَبِّكُمْ مَا لَمْ تَظْهَرْ فِيكُمْ سَكْرَتَانِ: سَكْرَةُ الْجَهْلِ وَسَكْرَةُ حُبِّ الْعَيْشِ، وَأَنْتُمْ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ حُبُّ الدُّنْيَا فَلَا تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَا تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، الْقَائِلُونَ يَوْمَئِذٍ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ كَالسَّابِقِينَ الْأَوَّلِينَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that they remain under protection from their Lord while two intoxications have not appeared, while they enjoin good, forbid evil, and strive, and described speakers by Book and practice in times of worldliness as like the foremost Emigrants and Helpers. > **"You remain under protection from your Lord while two intoxications have not appeared among you: the intoxication of ignorance and the intoxication of love of life, while you enjoin good and forbid evil and strive in the path of Allah. When love of the world appears among you, you will not enjoin good nor forbid evil nor strive in the path of Allah; those who speak by the Book and the practice on that day will be like the foremost predecessors among the Emigrants and the Helpers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنے پروردگار کی طرف سے بچاؤ کے عالم میں رہو گے ، جب تک تمہارے درمیان دو قسم کی کوتاہی ظاہر نہیں ہو گی ، جہالت کی کوتاہی اور زندگی کی محبت کی کوتاہی ، تم لوگ نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو گے ، لیکن جب تمہارے درمیان دنیا کی محبت ظاہر ہو جائے گی ، تو پھر تم نیکی کا حکم نہیں دو گے اور برائی سے منع نہیں کرو گے اور اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرو گے ، اس موقع پر کتاب و سنت کے مطابق کہنے والے لوگ ، مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے ’’ السابقون الاولون ‘‘ کی مانند ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن بشر ہے جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12160

Majma al-Zawaid #12160

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ لِهَذَا الدِّينِ إِقْبَالًا وَإِدْبَارًا، أَلَا وَإِنَّ مِنْ إِقْبَالِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَفْقَهَ الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا حَتَّى لَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَاسِقُ أَوِ الْفَاسِقَانِ ذَلِيلَيْنِ، فَهُمَا إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا. وَإِنَّ مِنْ إِدْبَارِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَجْفُوَا الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا فَلَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَقِيهُ وَالْفَقِيهَانِ فَهُمَا ذَلِيلَانِ، إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا. وَيَلْعَنُ آخِرُ هَذَا الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، أَلَا وَعَلَيْهِمْ حَلَّتِ اللَّعْنَةُ حَتَّى يَشْرَبُوا الْخَمْرَ عَلَانِيَةً، حَتَّى تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالْقَوْمِ فَيَقُومُ إِلَيْهَا بَعْضُهُمْ فَيَرْفَعُ بِذَيْلِهَا كَمَا يَرْفَعُ بِذَنَبِ النَّعْجَةِ، فَقَائِلٌ يَقُولُ يَوْمَئِذٍ: أَلَا وَارَيْتَهَا وَرَاءَ هَذَا الْحَائِطِ، فَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِيهِمْ مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِيكُمْ، فَمَنْ أَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَلَهُ أَجْرُ خَمْسِينَ مِمَّنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَأَطَاعَنِي وَبَايَعَنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the advance and retreat of religion, the humiliation of the learned in corrupt times, open wine-drinking and shamelessness, and the reward of fifty of the Prophet's ﷺ companions for one who enjoins good then. > **"Indeed, this religion has an advance and a retreat. Among its advance is that a whole tribe gains understanding until none remains in it except one or two sinners, both humiliated; if they speak they are overpowered and oppressed. And among its retreat is that a whole tribe becomes neglectful so none remains in it except one or two learned men, both humiliated; if they speak they are overpowered and oppressed. And the last of this Ummah will curse its first. Upon them falls the curse, until they drink wine openly, until a woman passes by a group and one of them rises to her and lifts her skirt as one lifts the tail of a ewe, and one who speaks on that day will say: Had you concealed her behind this wall. On that day he among them will be like Abū Bakr and ʿUmar among you. Whoever enjoins good and forbids evil on that day will have the reward of fifty of those who saw me and believed in me and obeyed me and pledged to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس دین کی ایک آمد ہے اور ایک رخصتی ہے ، خبردار ! اس دین کی آمد میں یہ بات شامل ہے کہ پورا قبیلہ دین کا علم حاصل کرے گا ، یہاں تک کہ ان میں ایک یا دو فاسق رہ جائیں گے جو دونوں کمتر ہوں گے اور وہ دونوں اگر بات چیت کریں گے ، تو دب کے کریں گے اور مجبور ہو کے کریں گے ، اور اس دین کی رخصتی میں یہ بات شامل ہے کہ پورے کا پورا قبیلہ زیادتی کرنے والا ہو گا ، ان میں ایک یا دو عالم ہوں گے اور وہ دونوں کمتر ہوں گے ، اگر وہ بات چیت کریں گے ، تو دب کر کریں گے اور مجبور ہو کر کریں گے اور اس امت کا آخری حصہ پہلے والوں پر لعنت کرے گا ، خبردار ! ان لوگوں پر لعنت حلال ہو جائے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ علانیہ طور پر شراب پیئیں گے ، یہاں تک کہ کوئی عورت کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے گی ، تو ان لوگوں میں سے کوئی اُٹھ کر اس عورت کے پاس جائے گا اور اس کے دامن کو یوں اٹھائے گا ، جس طرح وہ بکری کی دم کو اٹھاتا ہے ، اس دن کوئی شخص یہ کہے : تم اسے اس دیوار کے پیچھے لے جاؤ ، تو ان لوگوں کے درمیان اس وقت اس شخص کی مثال وہی ہو گی ، جو تمہارے درمیان ابوبکر و عمر کی ہے ، اس وقت جو شخص نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا ، اُسے ان لوگوں میں سے پچاس افراد کی مانند اجر ملے گا ، جنہوں نے مجھے دیکھا ، مجھ پر ایمان لائے ، میری اطاعت کی اور میری بیعت کی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ متروک ہے ۔

12161

Majma al-Zawaid #12161

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn al-Ḥaḍramī reports that a man who had heard the Prophet ﷺ informed him of the Prophet's ﷺ statement about a people in his Ummah who reject evil and receive like the reward of its first. > **"Indeed, among my Ummah are a people who will be given like the reward of its first; they reject evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے ، جس نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے ، جنہیں اس امت کے پہلے لوگوں کے اجر کی مانند اجر دیا جائے گا ، یہ وہ لوگ ہوں گے جو منکر کو روکیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، عبدالرحمن نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12162

Majma al-Zawaid #12162

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الذَّنْبِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: اتَّقِ اللَّهَ. فَيَقُولُ: عَلَيْكَ نَفْسَكَ، أَنْتَ تَأْمُرُنِي؟ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, raḍiya Allāhu ʿanhu, states that among the greatest sins is for a man to say to his brother, Fear Allah, and for the other to reply, Mind yourself, do you command me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی سے یہ کہے : تم اللہ سے ڈرو اور دوسرا شخص یہ کہے تم اپنا خیال رکھو ! کیا تم مجھے حکم دے رہے ہو ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12163

Majma al-Zawaid #12163

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ: كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا إِذَا قِيلَ لَهُ: اتَّقِ اللَّهَ غَضِبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ فِيمَنْ يَتَكَلَّمُ مِنَ الْحُكَّامِ فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهِمْ أَنَّهُمْ يَتَهَافَتُونَ فِي النَّارِ فِي الْخِلَافَةِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, raḍiya Allāhu ʿanhu, states that it suffices a man for sin that when it is said to him, Fear Allah, he becomes angry.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ’’ آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب اُسے یہ کہا جائے : تم اللہ سے ڈرو ! تو وہ غصے میں آ جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے منقول حدیث گزر چکی ہے ، جو اس شخص کے بارے میں ہے کہ جب کوئی حاکم کلام کرے ، تو ان ( حکمرانوں کی غلط ) بات کو مسترد نہ کیا جائے ، تو ایسے لوگ جہنم میں جائیں گے ، یہ روایت کتاب الخلافہ میں گزری ہے ۔

12164

Majma al-Zawaid #12164

عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَفْضَلُ الْجِهَادِ أَنْ يُكَلَّمَ بِالْحَقِّ عِنْدَ سُلْطَانٍ ""، أَوْ قَالَ: "" عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the most excellent striving as speaking truth before authority, with a narrator's doubt whether he said before an unjust ruler. > **"The best striving is to speak truth before a ruler, or he said: Before an unjust ruler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد یہ ہے کہ حاکم کے سامنے حق بات کی جائے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ظالم حکمران کے سامنے .......‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12165

Majma al-Zawaid #12165

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ فَقَتَلَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ شَخْصٌ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ named the master of martyrs on the Day of Resurrection and one who stands to an unjust ruler with command and forbiddance and is killed. > **"The master of martyrs on the Day of Resurrection is Ḥamzah ibn ʿAbd al-Muṭṭalib, and a man who stands to an unjust ruler, enjoins him and forbids him, and he kills him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن تمام شہداء کے سردار ، حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہوں گے اور وہ شخص ہو گا ، جو کسی ظالم کے سامنے کھڑا ہو اور اسے نیکی کا حکم دے یا برائی سے منع کرے اور وہ حکمران اُسے قتل کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ضعیف شخص ہے ۔

12166

Majma al-Zawaid #12166

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجِرَاحِ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: "" رَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ بِمَعْرُوفٍ وَنَهَاهُ عَنْ مُنْكَرٍ فَقَتَلَهُ "". قِيلَ: فَأَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ عَذَابًا؟ قَالَ: "" رَجُلٌ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَ رَجُلًا أَمَرَهُ بِمَعْرُوفٍ وَنَهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ "". ثُمَّ قَرَأَ {وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ} [آل عمران: 21]. ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، قَتَلَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ ثَلَاثَةً وَأَرْبَعِينَ نَبِيًّا فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَامَ مِائَةُ رَجُلٍ وَاثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ عُبَّادِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ فَقُتِلُوا جَمِيعًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مِمَّنْ لَمْ أَعْرِفْهُ اثْنَانِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUbaydah ibn al-Jarrāḥ, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he asked the Messenger of Allah ﷺ about the most honored martyr and the severest punishment, and the Prophet ﷺ answered with one killed for enjoining good, one who kills a prophet or a counselor, recited the verse of Āl ʿImrān about those who kill prophets and those who enjoin justice, and told of forty-three prophets killed in one hour and one hundred twelve worshippers of Banū Isrāʾīl killed for enjoining good. > **"A man who stands to an unjust ruler, enjoins him to good and forbids him evil, and he kills him. It was asked: Which people suffer severest punishment? He said: A man who kills a prophet or kills a man who enjoined him to good and forbade him evil. Then he recited: And they kill the prophets without right and kill those who enjoin justice among people, so give them tidings of painful punishment. Then he said: O Abā ʿUbaydah, Banū Isrāʾīl killed forty-three prophets in one hour, and one hundred and twelve men among the worshippers of Banū Isrāʾīl rose, enjoined good and forbade evil, and all were killed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شہداء میں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز کون ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ شخص جو کسی ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہو اور اسے نیکی کا حکم دے یا اسے برائی سے منع کرے اور وہ حکمران اسے قتل کروا دے ، عرض کی گئی : لوگوں میں سب سے زیادہ شدید عذاب کسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جس نے کسی نبی کو شہید کیا ہو ، یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا ہو ، جس نے اسے کسی نیکی کا حکم دیا ہو ، یا اسے برائی سے منع کیا ہو ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور وہ لوگ انبیاء کو ناحق طور پر قتل کر دیتے ہیں اور وہ ان لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں ، جو لوگوں میں سے انصاف کے مطابق حکم دیتے ہیں ، تو تم انہیں دردناک عذاب کی اطلاع دے دو !‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوعبیدہ ! بنی اسرائیل نے تینتالیس انبیاء کرام علیہم السلام کو ایک ہی وقت میں شہید کر دیا تھا اور بنی اسرائیل میں سے ایک سو بارہ افراد جو عبادت گزار تھے ، وہ اُٹھے انہوں نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا ، تو ان سب کو قتل کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12167

Majma al-Zawaid #12167

عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ قَالَ: لَمَّا هَزَمَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ أَهْلَ الْبَصْرَةِ قَالَ الْمُعَلَّى: فَخَشِيتُ أَنْ أَجْلِسَ فِي حَلْقَةِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ فَأُوجَدَ فِيهَا فَأُعْرَفَ، فَأَتَيْتُ الْحَسَنَ فِي مَنْزِلِهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، كَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: أَيَّةُ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ؟ قُلْتُ: قَوْلُ اللَّهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: "" {وَتَرَى كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [المائدة: 62] "". قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ الْقَوْمَ عَرَضُوا السَّيْفَ فَحَالَ السَّيْفُ دُونَ الْكَلَامِ. قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَهَلْ تَعْرِفُ لِمُتَكَلِّمٍ فَضْلًا؟ قَالَ: لَا. قَالَ الْمُعَلَّى: ثُمَّ حَدَّثْتُ بِحَدِيثَيْنِ، قَالَ: ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَدِيثٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ، فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبْعِدُ مِنْ رِزْقٍ» ""، قَالَ: ثُمَّ حَدَّثَ الْحَسَنُ بِحَدِيثٍ آخَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيْسَ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ "". قِيلَ: وَمَا إِذْلَالُهُ نَفْسَهُ؟ قَالَ: "" يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لَمَّا لَا يُطِيقُ» "". قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَيَزِيدُ الضَّبِّيُّ وَكَلَامُهُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَخْرُجْ مِنَ السِّجْنِ حَتَّى نَدِمَ. قَالَ الْمُعَلَّى: فَقُمْتُ مِنْ مَجْلِسِ الْحَسَنِ، فَأَتَيْتُ يَزِيدَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مَوْدُودٍ، بَيْنَا أَنَا وَالْحَسَنُ نَتَذَاكَرُ إِذْ نَصَبَ أَمْرَكَ نَصْبًا. فَقَالَ: مَهْ يَا أَبَا الْحَسَنِ. قَالَ: قُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ. قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قُلْتُ: قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَخْرُجْ مِنَ السِّجْنِ حَتَّى نَدِمَ عَلَى مَقَالَتِهِ. قَالَ يَزِيدُ: مَا نَدِمْتُ عَلَى مَقَالَتِي وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ قُمْتُ مَقَامًا أُخْطِرُ فِيهِ بِنَفْسِي. قَالَ يَزِيدُ: فَأَتَيْتُ الْحَسَنَ قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، غُلِبْنَا عَلَى كُلِّ شَيْءٍ تَغَلَّبَ عَلَى صِلَاتِنَا. فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا، إِنَّكَ تَعْرِضُ نَفْسَكَ لَهُمْ. ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ. قَالَ: فَقُمْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ، وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: رَحِمَكَ اللَّهُ، الصَّلَاةُ، فَلَمَّا قُلْتُ ذَلِكَ احْتَوَشَتْنِي الرِّجَالُ يَتَعَاوَرُونِي، فَأَخَذُوا بِلِحْيَتِي وَتَلْبِيبَتِي، وَجَعَلُوا يُجْؤُونَ بَطْنِي بِنِعَالِ سُيُوفِهِمْ. قَالَ: وَمَضَوْا بِي نَحْوَ الْمَقْصُورَةِ، فَمَا وَصَلْتُ إِلَيْهَا حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُونِي دُونَهَا. قَالَ: فَفُتِحَ لِي بَابُ الْمَقْصُورَةِ. قَالَ: فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيِ الْحَكَمِ وَهُوَ سَاكِتٌ. فَقَالَ: أَمْجَنُونٌ أَنْتَ؟ وَمَا كُنَّا فِي صَلَاةٍ. فَقُلْتُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، هَلْ مِنْ كَلَامٍ أَفْضَلَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَشَرَ مُصْحَفًا يَقْرَؤُهُ غُدْوَةً إِلَى اللَّيْلِ كَانَ ذَلِكَ قَاضٍ عَنْهُ صَلَاتَهُ؟ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَحْسَبُكَ مَجْنُونًا. قَالَ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ جَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِهِ سَاكِتٌ، فَقُلْتُ: يَا أَنَسُ يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ، فَقَدْ خَدَمْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَحِبْتَهُ، أَبِمَعْرُوفٍ قُلْتُ أَمْ بِمُنْكَرٍ؟ أَبِحَقٍّ قُلْتُ أَمْ بِبَاطِلٍ؟ قَالَ: فَلَا وَاللَّهِ، مَا أَجَابَنِي بِكَلِمَةٍ. قَالَ لَهُ الْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ: يَا أَنَسُ، قَالَ: يَقُولُ: لَبَّيْكَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ. قَالَ وَكَانَ وَقْتُ الصَّلَاةِ قَدْ ذَهَبَ. قَالَ: كَانَ بَقِيَ مِنَ الشَّمْسِ بَقِيَّةٌ. قَالَ: احْبِسُوهُ. قَالَ يَزِيدُ: فَأُقْسِمُ لَكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ - يَعْنِي لِلْمُعَلَّى - لَمَا لَقِيتُ مِنْ أَصْحَابِي كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ مَقَالِي، قَالَ بَعْضُهُمْ: مُرَاءٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَجْنُونٌ. قَالَ: وَكَتَبَ الْحَكَمُ إِلَى الْحَجَّاجِ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي ضُبَّةَ قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ: الصَّلَاةَ وَأَنَا أَخْطُبُ، وَقَدْ شَهِدَ الشُّهُودُ الْعُدُولُ عِنْدِي أَنَّهُ مَجْنُونٌ. فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ: إِنْ كَانَتْ قَامَتِ الشُّهُودُ الْعُدُولُ أَنَّهُ مَجْنُونٌ فَخَلِّ سَبِيلَهُ، وَإِلَّا فَاقْطَعْ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ وَاسْمُرْ عَيْنَيْهِ وَاصْلِبْهُ. قَالَ: فَشَهِدُوا عِنْدَ الْحَكَمِ أَنِّي مَجْنُونٌ فَخَلَّى عَنِّي. قَالَ الْمُعَلَّى عَنْ يَزِيدَ الضَّبِّيِّ: مَاتَ أَخٌ لَنَا فَتَبِعْنَا جَنَازَتَهُ فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَلَمَّا دُفِنَ تَنَحَّيْتُ فِي عِصَابَةٍ، فَذَكَرْنَا اللَّهَ وَذَكَرْنَا مَعَادَنَا، فَإِنَّا كَذَلِكَ إِذْ رَأَيْنَا نَوَاصِيَ الْخَيْلِ وَالْحِرَابِ، فَلَمَّا رَآهُ أَصْحَابِي قَامُوا وَتَرَكُونِي وَحْدِي، فَجَاءَ الْحَكَمُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيَّ فَقَالَ: مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قُلْتُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، مَاتَ صَاحِبٌ لَنَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ وَدَفَنَّاهُ وَقَعَدْنَا نَذْكُرُ رَبَّنَا وَنَذْكُرُ مَعَادَنَا وَنَذْكُرُ مَا صَارَ إِلَيْهِ. قَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَفِرَّ كَمَا فَرُّوا؟ قُلْتُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، أَنَا أَبْرَأُ مِنْ ذَلِكَ سَاحَةً وَآمَنُ الْأَمِيرَ أَنْ أَفِرَّ. قَالَ: فَسَكَتَ الْحَكَمُ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمُهَلَّبِ وَكَانَ عَلَى شُرْطَتِهِ: تَدْرِي مَنْ هَذَا؟ قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْمُتَكَلِّمُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. قَالَ: فَغَضِبَ الْحَكَمُ، وَقَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَجَرِئٌ، خُذَاهُ. قَالَ: فَأُخِذْتُ فَضَرَبَنِي أَرْبَعَمِائَةِ سَوْطٍ، فَمَا دَرِيتُ مَتَى تَرَكَنِي مِنْ شِدَّةِ مَا ضَرَبَنِي. قَالَ: وَبَعَثَنِي إِلَى وَاسِطَ، فَكُنْتُ فِي دِيمَاسِ الْحَجَّاجِ حَتَّى مَاتَ الْحَجَّاجُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Muʿallā ibn Ziyād reports that when Yazīd ibn al-Muhallab routed the people of Basra, he feared to sit in the circle of al-Ḥasan ibn Abī al-Ḥasan lest he be singled out and recognized, so he visited al-Ḥasan at his house. He asked him about a verse of the Book of Allah concerning those hastening in sin, aggression, and devouring unlawful gain, and al-Ḥasan replied that the people had brought forth the sword and the sword had come between speech. When asked whether he knew any merit for one who speaks in such time, al-Ḥasan answered that he did not. Al-Muʿallā then cited two narrations through Abū Saʿīd al-Khudrī, raḍiya Allāhu ʿanhu, from the Messenger of Allah ﷺ. Al-Ḥasan then cited another narration from the Messenger of Allah ﷺ. When asked about Yazīd al-Ḍabbī and his speech concerning prayer, al-Ḥasan said he would not leave prison until he regretted. Al-Muʿallā then left the gathering of al-Ḥasan and went to Yazīd, telling him that he and al-Ḥasan had discussed and set forth his affair, and conveyed al-Ḥasan's remark about regret. Yazīd swore by Allah that he had not regretted his statement and that he had stood a stand risking himself. Yazīd then went to al-Ḥasan complaining that they were overcome in all things including prayer, and al-Ḥasan replied that he had done nothing but exposed himself to them, repeating the same on a second visit. Then Yazīd stood on Friday in the mosque while al-Ḥakam ibn Ayyūb was sermonizing and called out for prayer. Men surrounded him, seized his beard and collar, and struck his belly with sword hilts and sandals. They took him toward the enclosure, and he thought they would kill him before reaching it. When brought before al-Ḥakam, who was silent, al-Ḥakam asked whether he was mad and denied neglect of prayer. Yazīd asked whether any speech is superior to the Book of Allah and whether reciting a copy from morning to night would suffice for prayer, to which al-Ḥakam deemed him mad. Anas ibn Mālik, raḍiya Allāhu ʿanhu, sat silent beneath the pulpit, and when Yazīd adjured him by Allah concerning his service to the Messenger of Allah ﷺ and whether his word was right or wrong, good or evil, Anas answered not a word. Al-Ḥakam addressed Anas, who responded in deference. With prayer time elapsed except a remnant of sun, al-Ḥakam ordered imprisonment. Yazīd swore to al-Muʿallā that what he met from his companions, some calling him ostentatious and some mad, was harder than his statement. Al-Ḥakam wrote to al-Ḥajjāj that a man of Banū Ḍabbah had risen on Friday calling for prayer during the sermon and that upright witnesses deemed him mad, and al-Ḥajjāj replied to release him if upright witnesses affirmed madness, otherwise to sever hands and feet, blind eyes, and crucify. Witnesses affirmed madness before al-Ḥakam, so he released him. Al-Muʿallā further reports from Yazīd al-Ḍabbī that after a brother's death and burial, he sat apart with a group remembering Allah and the return, companions fled at sight of horses and spears, al-Ḥakam questioned his conduct and flight, Yazīd professed innocence and trust, and ʿAbd al-Malik ibn al-Muhallab identified him as the Friday speaker. Al-Ḥakam grew angry, ordered seizure, inflicted four hundred lashes until Yazīd lost awareness, then sent him to Wāsiṭ, where he remained in the prison of al-Ḥajjāj until al-Ḥajjāj died. > **"Let not fear of people prevent one of you from speaking truth when he sees it or reminding of greatness, for it neither brings near a term nor keeps away provision. It is not for the believer to humiliate himself. It was asked: What is his humiliating himself? He said: He exposes himself to trial which he cannot bear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معلیٰ بن زیاد بیان کرتے ہیں : جب یزید بن مہلب نے اہل بصرہ کو پسپا کر دیا ، تو معلیٰ کہتے ہیں : مجھے اندیشہ ہوا کہ میں حسن بن ابوالحسن کی محفل میں بیٹھوں اور پھر میرے خلاف کاروائی ہو اور میری شناخت کر لی جائے ، تو میں حسن کے ہاں ان کے گھر آیا ، میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : اے ابوسعید ! اللہ کی کتاب کی اس آیت کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے دریافت کیا : اللہ کی کتاب کی کون سی آیت ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ’’ اور تم اُن میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ گناہ اور سرکشی کے کاموں میں جلدبازی کرتے ہیں اور حرام کھانے میں بھی ، تو وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں ، وہ برا ہے ‘‘ تو انہوں نے فرمایا : اے عبداللہ ( یا اے اللہ کے بندے ! ) جب لوگوں کو تلوار کے سامنے لایا جائے ، تو تلوار بات چیت کرنے کے درمیان رکاوٹ بن جاتی ہے ، میں نے کہا : اے ابوسعید ! کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ایسے وقت میں کلام کرنے والے کو کوئی فضیلت حاصل ہوتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! معلیٰ بیان کرتے ہیں : پھر میں نے دو حدیثیں بیان کیں ، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی اکرم ﷺ نام کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کا خوف تم میں سے کسی ایک شخص کو اس بات سے منع نہ کرے کہ وہ حق کے مطابق بات کرے ، جبکہ وہ حق کو دیکھ رہا ہو ، یا ( لوگوں کا خوف تم میں سے کسی ایک شخص کو اس بات سے منع نہ کرے کہ ) وہ کسی حکمران کو کوئی نصیحت کرے ، کیونکہ یہ چیز نہ تو موت کو قریب کرتی ہے اور نہ ہی رزق کو دور کرتی ہے ۔‘‘ پھر انہوں نے ایک اور حدیث بیان کی : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مومن کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خود ذلیل کرے ، عرض کی گئی : اس کے اپنے آپ کو ذلیل کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ وہ خود کو ایسی آزمائش کے سامنے پیش کرے ، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔‘‘ ان سے کہا گیا : اے ابوسعید ! یزید ضبی اور نماز کے بارے میں اس کے کلام کا کیا حکم ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : وہ جیل سے اس وقت تک نہیں نکلے گا ، جب تک ندامت کا شکار نہیں ہوتا ، معلیٰ کہتے ہیں : پھر میں حسن بصری کی محفل سے اُٹھا اور یزید کے پاس آیا ، میں نے کہا : اے ابومودود ! میں اور حسن بصری بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران انہوں نے تمہارے معاملے کے بارے میں ایک رائے دی ہے ، اس نے کہا : اے ابوالحسن رک جاؤ ! میں نے کہا : میں نے ایسا ہی کیا ، اس نے کہا : انہوں نے کیا کہا ؟ میں نے کہا : انہوں نے یہ کہا : وہ جیل سے اس وقت تک باہر نہیں آئے گا ، جب تک اپنی کہی ہوئی بات پر ندامت کا شکار نہیں ہو گا ، تو یزید نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنی کہی ہوئی بات پر ندامت کا شکار نہیں ہوا ہوں ، میں نے ایک ایسی جگہ پر قیام کیا ہے ، جہاں مجھے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہے ، یزید کہتے ہیں : پھر میں حسن کے پاس آیا ، میں نے کہا : اے ابوسعید ! ہم ہر چیز کے حوالے سے مغلوب ہو گئے ہیں ، یہاں تک کہ اپنی نماز کے حوالے سے بھی مغلوب ہو گئے ہیں ( یعنی ہم نماز بھی وقت پر نہیں پڑھ سکتے ) تو انہوں نے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! تم کچھ نہیں کر سکتے ، تم اپنے آپ کو ان کے سامنے پیش کر دو ، پھر میں ان کے پاس آیا ، تو انہوں نے اس کی مانند بات کہی ، جو پہلے کہی تھی ۔ وہ بیان کرتے ہیں : پھر میں جمعہ کے دن مسجد میں کھڑا ہوا ، حکم بن ایوب اس وقت خطبہ دے رہا تھا ، میں نے اس سے کہا : اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، نماز کا وقت ہو گیا ہے ، جب میں اُٹھا تو اس کے آدمیوں نے مجھے گھیر لیا اور وہ مجھے مارنے پیٹنے لگے ، انہوں نے میری داڑھی کھینچی ، میرے بال کھینچے میرے پیٹ میں تلواریں چبھوئیں ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ مجھے لے کے مکسورہ کی طرف بڑھے اور اس تک پہنچنے سے پہلے ہی مجھے قتل کر دیں گے ، پھر انہوں نے میرے لئے مقصورہ کا دروازہ کھولا ، تو میں حکم بن ایوب کے سامنے آ کر کھڑا ہوا ، وہ خاموش تھا ، اس نے کہا : کیا تم پاگل ہو ؟ ہم نماز میں نہیں ہیں ، میں نے کہا : اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ، کیا اللہ کی کتاب سے کوئی زیادہ فضیلت والا کوئی کلام ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! میں نے کہا : اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ، ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر کوئی شخص قرآن کھول کر صبح سے شام تک پڑھتا رہتا ہے ، تو کیا یہ چیز نماز کی ادائیگی کی جگہ کفایت کر جائے گی ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم پاگل ہو ، راوی کہتے ہیں : اس وقت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ منبر کے پاس خاموش بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے کہا : اے حضرت انس رضی اللہ عنہ ! اے حضرت ابوحمزہ ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، آپ نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کی ہے ، آپ اُن کے صحابی ہیں ، میں نے جو بات کی ہے ، کیا وہ معروف ہے ؟ یا منکر ہے ؟ کیا وہ حق ہے یا باطل ہے ؟ جو میں نے کہا ہے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! انہوں نے مجھے جواب میں ایک کلمہ بھی نہیں کہا ، حکم بن ایوب نے ان سے کہا : اے انس ! تو انہوں نے کہا : میں حاضر ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک رکھے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت نماز کا وقت رخصت ہو چکا تھا اور سورج تھوڑا سا باقی تھا ، امیر نے کہا : اسے قید کر دو ! یزید نے کہا : اے ابوالحسن ! میں آپ کو قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، یعنی اس نے معلیٰ سے کہا کہ میں نے اپنے ساتھیوں کی طرف سے جس صورت حال کا سامنا کیا ہے ، وہ میرے نزدیک میری بات سے زیادہ سخت ہے ، بعض نے کہا : یہ بحث کر رہا ہے ، بعض نے کہا یہ پاگل ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر حکم نے حجاج کو خط لکھا کہ بنوضبہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جمعہ کے دن کھڑا ہو گیا تھا اور بولا : نماز پڑھیں جی ! میں اس وقت خطبہ دے رہا تھا اور میرے سامنے عادل گواہوں نے یہ گواہی دی ہے کہ یہ پاگل ہے ، تو حجاج نے اسے جوابی خط میں لکھا کہ اگر عادل گواہ یہ گواہی دیدیتے ہیں کہ یہ پاگل ہے ، تو پھر تم اسے چھوڑ دینا ، ورنہ اس کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دینا ، اس کی آنکھوں میں سلائیاں پھیروا دینا اور اسے سولی پر چڑھا دینا ، راوی کہتے ہیں : تو حکم کے سامنے لوگوں نے یہ گواہی دی کہ میں پاگل ہوں ، تو اس نے مجھے چھوڑ دیا ۔ معلیٰ نے یزید ضبی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ہمارا ایک بھائی فوت ہو گیا ، ہم اس کے جنازے میں جا رہے تھے ، ہم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ، جب اسے دفن کر دیا گیا ، تو ہم کچھ لوگ ایک طرف ہٹ گئے ، ہم اللہ کا ذکر کرنے لگے اور آخرت کا ذکر کرنے لگے ، ہم ابھی یہی کچھ کر رہے تھے کہ اسی دوران ہمیں گھوڑوں کی پیشانیاں اور نیزے نظر آئے ، تو میرے ساتھیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو وہ اٹھے اور وہ مجھے اکیلا چھوڑ گئے ، اسی دوران حکم آ گیا اور میرے پاس آ کر ٹھہر گیا ، اس نے کہا : تم لوگ کیا کر رہے تھے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ، ہمارا ساتھی فوت ہوا تھا ، ہم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ، اسے دفن کیا اور پھر بیٹھ کر اپنے پروردگار کا ذکر کر رہے تھے اور آخرت کا ذکر کر رہے تھے اور اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ جس کی طرف ہم نے جانا ہے ، اس نے کہا : جس طرح باقی لوگ فرار ہوئے ہیں ، تم کیوں نہیں فرار ہوئے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ، میں اس چیز سے لاتعلق ہوں اور میں امیر سے یہ اندیشہ نہیں رکھتا کہ مجھے فرار ہونا پڑے ، راوی کہتے ہیں : تو حکم خاموش ہو گیا ، عبدالملک بن مہلب جو اس کا کوتوال تھا ، اس نے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے ؟ اس نے کہا : یہ کون ہے ؟ کوتوال نے کہا : یہ جمعہ کے دن کلام کرنے والا شخص ہے ، راوی کہتے ہیں : تو حکم غصے میں آ گیا اور اس نے کہا : تم تو بہت بدتمیز ہو ، اسے پکڑ لو ، راوی کہتے ہیں : پھر مجھے پکڑ لیا گیا ، انہوں نے مجھے چار سو کوڑے مارے ، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے مجھے کب چھوڑا ، اس کی وجہ تھی کہ انہوں نے جو میری پٹائی کی تھی ، اس کی تکلیف اتنی زیادہ تھی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اس نے مجھے واسط بھجوا دیا اور میں حجاج کے مرنے تک حجاج کے قید خانے میں رہا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12168

Majma al-Zawaid #12168

عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: كُنْتُ فِي الْقَصْرِ مَعَ الْحَجَّاجِ وَهُوَ يُعَرِّضُ النَّاسَ مِنْ أَجْلِ ابْنِ الْأَشْعَثِ، فَجَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ حَتَّى دَنَا، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: هِيهِ يَا خِبْثَةُ، يَا جَوَّالُ فِي الْفِتَنِ، مَرَّةً مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَمَرَّةً مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَمَرَّةً مَعَ ابْنِ الْأَشْعَثِ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَسْتَأْصِلَنَّكَ كَمَا تُسْتَأْصَلُ الصَّمْغَةُ، وَلَأُجَرِّدَنَّكَ كَمَا يُجَرَّدُ الضَّبُّ. فَقَالَ: مَنْ يَعْنِي الْأَمِيرُ أَصْلَحَهُ اللَّهُ؟ قَالَ الْحَجَّاجُ: إِيَّاكَ أَعْنِي، أَصَمَّ اللَّهُ سَمْعَكَ. فَاسْتَرْجَعَ فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. ثُمَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي ذَكَرْتُ وَلَدِي فَخَشِيتُهُ عَلَيْهِمْ لَكَلَّمْتُهُ فِي مَقَامِي بِكَلَامٍ لَا يَسْتَجِيبُنِي بَعْدَهُ أَبَدًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Zayd reports that he was in the palace with al-Ḥajjāj while he interrogated people over Ibn al-Ashʿath. Anas ibn Mālik, raḍiya Allāhu ʿanhu, came forward until he drew near, and al-Ḥajjāj addressed him with abuse, calling him wicked and a wanderer in trials, at times with ʿAlī ibn Abī Ṭālib, at times with Ibn al-Zubayr, at times with Ibn al-Ashʿath, swearing by the One in Whose Hand is his soul to uproot him like gum is uprooted and strip him like a lizard is stripped. Anas asked whom the commander, may Allah keep him right, meant, and al-Ḥajjāj replied that he meant him and invoked deafness upon his hearing. Anas recited return to Allah and left him, then said that but for remembering his children and fearing for them, he would have addressed him in that standing with words after which al-Ḥajjāj could never answer him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن زید بیان کرتے ہیں : میں محل میں حجاج کے پاس موجود تھا اور وہ ابن اشعث کی وجہ سے لوگوں کو سزا دے رہا تھا ، اسی دوران حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور قریب ہو گئے ، تو حجاج نے ان سے کہا : اے خبیث آگے آ جاؤ ! اے فتنے میں گھومنے پھرنے والے ! کبھی علی بن ابوطالب کے ساتھ ہوتے ہو ، کبھی ابن زبیر کے ساتھ ہوتے ہو ، کبھی ابن اشعث کے ساتھ ہوتے ہو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں تمہیں جڑ سے یوں اکھاڑ دوں گا ، جس طرح پھوڑے کو اکھاڑا جاتا ہے اور میں تمہیں یوں الگ الگ کر دوں گا ، جس طرح گوہ کو الگ الگ کیا جاتا ہے ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : امیر کو اللہ تعالیٰ ٹھیک رکھے ! وہ کون سے شخص کو مراد لے رہے ہیں ؟ حجاج نے کہا : میں تمہیں ہی مراد لے رہا ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہاری سماعت کو بہرا کر دے ، تو انہوں نے «انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور پھر اس کے پاس سے اٹھ کر تشریف لے گئے ، بعد میں انہوں نے فرمایا : اگر مجھے اپنی اولاد کا خیال نہ ہوتا اور ان کے حوالے سے اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں اس جگہ پر کھڑا ہو کر ایسا کلام کرتا کہ وہ اس کے بعد کبھی مجھے جواب دینے کے قابل نہ رہتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ایک راوی علی بن زید ہے جو ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12169

Majma al-Zawaid #12169

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ، فَذَكَرَ كَلَامًا أَنْكَرْتُهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُغَيِّرَ فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: "" يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ جَيِّدٌ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الضَّرِيرِ ذَكَرَهُ الْخَطِيبُ، رَوَى عَنْ جَمَاعَةٍ وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that he heard al-Ḥajjāj deliver a sermon with objectionable speech, intended to correct him, then recalled the statement of the Messenger of Allah ﷺ that the believer should not humiliate himself by exposing himself to unbearable trial. > **"It is not fitting for the believer to humiliate himself. He said: I said: O Messenger of Allah, how does he humiliate himself? He said: He exposes himself to trial which he cannot bear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے حجاج کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، اس نے ایسا کلام ذکر کیا ، جسے میں نے منکر قرار دیا ، پہلے میں نے اسے روکنے کا ارادہ کیا ، پھر مجھے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان یاد آ گیا : ’’ مومن کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خود کو ذلت کا شکار کرے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیسے خود کو ذلت کا شکار کرے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ کہ وہ خود کو ایسی آزمائش کے لئے پیش کرے ، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی کی معجم کبیر میں جو سند ہے ، وہ عمدہ ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زکریا بن یحیی بن ایوب ضریر کا معاملہ مختلف ہے ، خطیب نے اس کا ذکر کیا ہے اس نے ایک جماعت سے روایات نقل کی ہیں اور ایک جماعت نے اس سے روایات نقل کی ہیں ، اس کے بارے میں کسی نے کلام نہیں کیا ہے ۔

12170

Majma al-Zawaid #12170

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيْسَ لِلْمُسْلِمِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: "" يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ لِمَا لَا يُطِيقُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ الْخَضِرِ عَنِ الْجَارُودِ، وَلَمْ يُنْسَبَا وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that the Muslim should not humiliate himself, and when asked how, explained it as undertaking unbearable trial. > **"It is not for the Muslim to humiliate himself. They said: O Messenger of Allah, how does he humiliate himself? He said: He exposes himself to trial which he cannot bear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خود کو ذلت کا شکار کرے ، لوگوں نے عرض کی : وہ کیسے خود کو ذلت کا شکار کرے گا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ خود کو ایسی آزمائش کے لئے پیش کرے ، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں خضر کے حوالے سے جارود سے نقل کی ہے ، ان دونوں کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12171

Majma al-Zawaid #12171

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْمُؤْمِنُ أَنْ يُغَيِّرَ فِيهَا بِيَدٍ وَلَا بِلِسَانٍ "". فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ إِيمَانِهِمْ شَيْئًا؟ قَالَ: "" لَا، إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْقَطْرُ مِنَ السِّقَاءِ "". قَالَ: وَلِمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" يَكْرَهُونَهُ بِقُلُوبِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ warn of trials in which the believer cannot change evil by hand or tongue, and when ʿAlī ibn Abī Ṭālib, raḍiya Allāhu ʿanhu, asked whether that diminishes faith, the Prophet ﷺ likened it to a drop from a waterskin, because they hate it in their hearts. > **"There will be trials in which the believer cannot change by hand nor by tongue. ʿAlī ibn Abī Ṭālib said: O Messenger of Allah, will that diminish anything from their faith? He said: No, except as a drop diminishes from a waterskin. He said: Why is that? He said: They hate it in their hearts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب ایسے فتنے آئیں گے کہ مومن اُن میں ہاتھ یا زبان کے ذریعے ( منکر کو ) ختم کرنے کی استطاعت نہیں رکھے گا ، حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس وجہ سے ان لوگوں کے ایمان میں کوئی کمی ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! صرف اتنی ہو گی ، جتنی ( ایک ) قطرہ ، مشکیزہ میں کمی کرتا ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ اُس ( منکر ) کو دل میں ناپسند کرتے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید قرشی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

12172

Majma al-Zawaid #12172

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كُنْتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ وَاخْتَلَفُوا حَتَّى يَكُونُوا هَكَذَا "" وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" خُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَزِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ asked how he would fare among worthless people in disagreement, interlacing his fingers, and when ʿUbādah replied that Allah and His Messenger know best, commanded holding to the known and leaving the rejected. > **"How will you fare when among worthless people who differ until they become like this, and he interlaced his fingers? He said: Allah and His Messenger know best. He said: Take what you know and leave what you reject."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تم ردّی لوگوں میں رہ جاؤ گے ، جو اختلاف کریں گے یہاں تک کہ وہ اس طرح ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اس چیز کو لے لینا ، جسے تم نیکی سجھو اور اسے چھوڑ دینا ، جسے تم برائی سمجھو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی زیاد بن عبدالله بکائی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12173

Majma al-Zawaid #12173

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «بِحَسْبِ الْمَرْءِ أَنْ يَرَى مُنْكَرًا لَا يَسْتَطِيعُ لَهُ غِيَرًا أَنْ يَعْلَمَ اللَّهَ أَنَّهُ لَهُ مُنْكِرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that it suffices a man who sees evil he cannot change that Allah knows he rejects it. > **"It suffices a man who sees evil which he cannot change, that Allah knows he rejects it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ کوئی ایسا منکر دیکھے ، جسے وہ ختم کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہو کہ وہ چیز اس شخص کے لئے منکر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سہل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12174

Majma al-Zawaid #12174

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِذَا رَأَيْتُمْ أَمْرًا لَا تَسْتَطِيعُونَ تَغْيِيرَهُ فَاصْبِرُوا حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي يُغَيِّرُهُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْإِنْكَارِ بِالْيَدِ وَاللِّسَانِ وَالْقَلْبِ فِي بَابِ مَرَاتِبِ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports from the Prophet ﷺ that when people see a matter they cannot change, they should be patient until Allah Himself changes it. > **"When you see a matter which you cannot change, be patient until Allah Himself changes it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم کوئی ایسا معاملہ دیکھو ، جسے تم تبدیل ( یا ختم ) کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہو ، تو تم صبر سے کام لو ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے نیکی کا حکم دینے کے مختلف مراتب سے متعلق باب میں ، ایسی احادیث گزر چکی ہیں جو ہاتھ ، یا زبان ، یا دل کے ذریعے انکار کرنے کے بارے میں ہیں ۔

12175

Majma al-Zawaid #12175

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: جَاءَ عِتْرِيسُ بْنُ عُرْقُوبٍ الشَّيْبَانِيُّ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ: هَلَكَ مَنْ لَمْ يَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ. فَقَالَ: بَلْ هَلَكَ مَنْ لَمْ يَعْرِفْ قَلْبُهُ الْمَعْرُوفَ وَيُنْكِرِ الْمُنْكَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn Shihāb reports that ʿItrīs ibn ʿUrqūb al-Shaybānī came to ʿAbd Allāh and said that ruined is one who does not enjoin good and forbid evil, but ʿAbd Allāh replied that ruined is one whose heart does not know good nor reject evil.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : عتریس بن عرقوب شیبانی ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آے اور بولے : وہ شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا جس نے نیکی کا حکم نہیں دیا اور جو برائی سے منع نہیں کرتا ، تو انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ شخص ہلاکت کا شکار ہوتا ہے جس کا دل نیکی کو نیکی نہیں سمجھتا اور برائی کو برائی نہیں سمجھتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12176

Majma al-Zawaid #12176

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: النَّاسُ ثَلَاثَةٌ فَمَا سِوَاهُمْ فَلَا خَيْرَ فِيهِ: رَجُلٌ رَأَى فِئَةً تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَجَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ جَاهَدَ بِلِسَانِهِ وَأَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ بِقَلْبِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, raḍiya Allāhu ʿanhu, states that people are three, and no good in others besides them: a man who sees a band fighting in the path of Allah and strives with himself and wealth, a man who strives with his tongue and enjoins good and forbids evil, and a man who knows truth in his heart.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں ، ان کے علاوہ لوگوں میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، ایک وہ شخص ، جو کسی گروہ کو دیکھے ، جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینے لگا ہے ، تو وہ اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد میں حصہ لے ، ایک وہ شخص جو اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرتا ہے ، نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے ، اور ایک وہ شخص جو اپنے دل کے ذریعے حق کو پہچانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12177

Majma al-Zawaid #12177

وَعَنْهُ قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ الْفَاجِرَ فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تُغَيِّرَ عَلَيْهِ فَاكْفَهِرَّ فِي وَجْهِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا شَرِيكٌ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِيمَنْ غَابَ عَنْ أَمْرٍ وَرَضِيَ بِهِ وَمِنْ شَهِدَهُ فَكَرِهَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, raḍiya Allāhu ʿanhu, states that when one sees a sinner and cannot change his conduct, one should meet him with a stern face.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : جب تم کسی گنہگار شخص کو دیکھو اور تم اس ( کے عمل ) کو ختم کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہو ، تو تم ماتھے پر بل ڈال کر اُس ( شخص ) کا سامنا کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی شریک ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کے اس شخص کے بارے میں حدیث آئے گی ، جو کسی معاملے کے پاس موجود نہیں ہوتا ، لیکن اس سے راضی ہوتا ہے اور جو شخص اس معاملے کے پاس موجود ہوتا ہے ، لیکن اُس کو ناپسند کرتا ہے ۔

12178

Majma al-Zawaid #12178

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ: إِذَا كُنْتُ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ وُجُوهَهُمْ فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يُهَابُ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Busr, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he long ago heard a narration that when one is among twenty men or fewer or more, examines their faces, and finds none feared for the sake of Allah, Mighty and Majestic, then affairs have become weak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک طویل عرصہ پہلے ایک حدیث سنی تھی کہ جب تم بیس افراد میں موجود ہو ، یا ( وہ افراد ) اس سے کم ہوں ، یا اس سے زیادہ ہوں ، اور تم ان کے چہروں کا بغور جائزہ لو اور ان میں تمہیں کوئی ایسا شخص نظر نہ آئے ، جس سے اللہ تعالیٰ کی خاطر خوف زدہ ہوا جائے تو تم یہ بات جان لو کہ معاملہ کمزور ہو چکا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کی سند عمدہ ہے ۔

12179

Majma al-Zawaid #12179

عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَطَلَّعُونَ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُونَ: بِمَا دَخَلْتُمُ النَّارَ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْنَا الْجَنَّةَ إِلَّا بِمَا تَعَلَّمْنَا مِنْكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: إِنَّا كُنَّا نَقُولُ وَلَا نَفْعَلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Al-Walīd ibn ʿUqbah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described people of Paradise looking toward people of Fire and asking how they entered Fire when Paradise was reached through learning from them, and their answer that they spoke without acting. > **"Some people of Paradise will look toward some people of Fire and say: How did you enter Fire, when by Allah we entered Paradise only through what we learned from you? They will say: We used to speak and not act."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اہل جہنم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھیں گے اور یہ کہیں گے : تم لوگ کس وجہ سے جہنم میں داخل ہو گے ہو ؟ اللہ کی قسم ! ہم تو جنت میں صرف اس وجہ سے داخل ہوئے ہیں ، جو ہم نے تم سے علم حاصل کیا تھا ، تو وہ جواب دیں گے : ہم کہا کرتے تھے ، لیکن ( عمل ) نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

12180

Majma al-Zawaid #12180

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي عَلَى رِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ told of the night of his Ascension, when he came upon men whose lips were clipped with shears of fire, asked Jibrīl who they were, and was told they were the preachers of his Ummah who enjoined righteousness yet forgot themselves while reciting the Book. > **"I came on the night I was taken by night upon men whose lips were clipped with shears of fire. I said: Who are these, O Jibrīl? He said: These are the preachers of your Ummah who enjoined people to righteousness and forgot themselves while reciting the Book; do they not understand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس آیا ، جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں کے ذریعے کاٹے جا رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کی امت کے خطیب ہیں ، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے ، حالانکہ یہ لوگ کتاب کی تلاوت کرتے تھے ، کیا یہ عقل نہیں رکھتے تھے ؟“۔

12181

Majma al-Zawaid #12181

وَفِي رِوَايَةٍ " تُقْرَضُ أَلْسِنَتُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ ". أَوْ قَالَ: " مِنْ حَدِيدٍ

EnglishUnverified translation

In another version of the Ascension narration concerning preachers who enjoined good yet neglected themselves, the wording mentions tongues clipped with shears of fire, with a narrator's doubt whether he said shears of iron. > **"Their tongues are clipped with shears of fire, or he said: Of iron."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ان کی زبانیں آگ کی قینچیوں کے ذریعے کائی جائیں گی ‘‘ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :’’ لوہے کی قینچیوں ۔‘‘

12182

Majma al-Zawaid #12182

وَفِي رِوَايَةٍ " أَتَيْتُ عَلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَرَأَيْتُ فِيهَا رِجَالًا تُقْطَعُ أَلْسِنَتُهُمْ وَشِفَاهُهُمْ» " فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهَا كُلَّهَا أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهَا وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording of the preceding report, the Prophet ﷺ describes coming to the lowest heaven on the night he was taken by night journey and seeing men there whose tongues and lips were being cut off, after which the narrator related a similar account to the previous one. > **"I came to the lowest heaven on the night I was taken by night journey, and I saw therein men whose tongues and lips were being cut off."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جس رات مجھے معراج کراوئی گئی ، میں آسمانِ دنیا پر آیا ، تو میں نے وہاں کچھ لوگوں کو دیکھا ، جن کی زبانیں اور ہونٹ کاٹے جا رہے تھے .......“ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے ان میں سے کچھ روایات نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسے نقل کیا ہے ، امام ابویعلیٰ کے مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12183

Majma al-Zawaid #12183

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ دَعَا النَّاسَ إِلَى قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَلَمْ يَعْمَلْ هُوَ بِهِ لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اللَّهِ حَتَّى يَكُفَّ أَوْ يَعْمَلَ مَا قَالَ أَوْ دَعَا إِلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ warned about a man who invites others to a saying or deed while failing to act upon it himself, explaining how long divine displeasure remains upon him and what removes it. > **"Whoever calls people to a saying or a deed while he himself does not act upon it will remain under the displeasure of Allah until he desists or acts upon what he said or invited to."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص لوگوں کو کسی قول یا عمل کی طرف دعوت دے اور وہ خود اس پر عمل نہ کرے ، تو وہ شخص مسلسل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اس عمل سے رک جائے ، یا وہ عمل کرے ، جو اُس نے کہا تھا ، یا جس کی طرف اس نے دعوت دی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12184

Majma al-Zawaid #12184

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «خُذُوا بِقَوْلِ قُرَيْشٍ وَدَعُوا فِعْلَهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmir ibn Shahr, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ command adherence to the sound speech of Quraysh while abandoning their wrongful conduct. > **"Take the speech of Quraysh and leave their deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن شہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قریش کے ( اچھے ) قول کو اختیار کر لو اور اُن کے ( برے فعل کو چھوڑ دو !‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12185

Majma al-Zawaid #12185

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا نَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى نَعْمَلَ بِهِ، وَلَا نَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى نَجْتَنِبَهُ كُلَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" بَلْ مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَإِنْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَإِنْ لَمْ تَجْتَنِبُوهُ كُلَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ عَبْدِ الْقُدُّوسِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا ضَعِيفَانِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Companions asked the Messenger of Allah ﷺ whether they should refrain from enjoining good until they practiced it fully and refrain from forbidding evil until they abandoned it entirely, and the Prophet ﷺ answered them. > **"Rather, enjoin good even if you do not act upon it, and forbid evil even if you do not avoid all of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نیکی کا حکم اس وقت تک نہ دیں ، جب تک ہم خود اس پر عمل نہیں کرتے ؟ اور ہم برائی سے اس وقت تک منع نہ کریں ، جب تک ہم خود سب برائیوں سے اجتناب نہیں کرتے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( جی نہیں ! ) بلکہ تم نیکی کا حکم دو ، اگرچہ تم اس پر عمل نہیں کرتے ، اور تم برائی سے منع کرو اگرچہ تم تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کرتے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں عبدالسلام بن عبدالقدوس بن حبیب کے حوالے سے ، ان کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

12186

Majma al-Zawaid #12186

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا يَزَالُ أَهْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ بِخَيْرٍ مَا بَالُوا مَا انْتُقِصَ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ فِي صَلَاحِ دُنْيَاهُمْ، فَإِذَا لَمْ يُبَالُوا مَا انْتُقِصَ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ فِي صَلَاحِ دُنْيَاهُمْ رُدَّتْ عَلَيْهِمْ وَقِيلَ لَهُمْ: لَسْتُمْ بِصَادِقِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAishah, may Allah be pleased with her, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the condition under which the people of the declaration of divine unity remain upon good, and what is said to them when they cease to care about deficiencies in religion caused by pursuit of worldly welfare. > **"The people of La ilaha illa Allah will remain upon good so long as they care about what is diminished from the affair of their religion in the pursuit of the welfare of their worldly life, but when they cease to care about what is diminished from the affair of their religion for the welfare of their worldly life, it will be thrown back at them and it will be said to them: You are not truthful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لا اله الا الله کے ماننے والے مسلسل بھلائی پر گامزن رہیں گے ، جب تک وہ اس چیز کا خیال رکھیں گے کہ ان کے دنیاوی معاملات ان کے دین میں کوئی کمی تو نہیں کر رہے ، اور جب وہ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ان کی دنیا کی بہتری کی وجہ سے ، ان کے دین میں کیا کمی ہو رہی ہے ؟ تو پھر انہیں لوٹا دیا جائے گا ( یا مسترد کر دیا جائے گا ) اور یہ کہا جائے گا : تم لوگ بچے نہیں تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔

12187

Majma al-Zawaid #12187

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَزَالُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تَدْفَعُ عَنْ قَائِلِهَا مَا بَالَى قَائِلُوهَا مَا أَصَابَهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ إِذَا سَلِمَ لَهُمْ دِينُهُمْ، فَإِذَا لَمْ يُبَالِ قَائِلُوهَا مَا أَصَابَهُمْ فِي دِينِهِمْ بِسَلَامَةِ دُنْيَاهُمْ فَقَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قِيلَ لَهُمْ: كَذَبْتُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ explained how long the declaration of divine unity repels harm from its speaker, and what is said when its speakers no longer care about harm to their religion so long as their worldly life is secure. > **"La ilaha illa Allah will continue to repel harm from its speaker so long as its speakers care about what befalls them in their worldly life while their religion remains sound for them, but when its speakers cease to care about what befalls them in their religion for the safety of their worldly life, and they say: La ilaha illa Allah, it will be said to them: You have lied."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لا اله الا الله اپنے پڑھنے والے سے مسلسل ( عذاب یا ناراضگی ) کو پرے کرتا رہے گا ، جب تک اس کو پڑھنے والے اس چیز کا خیال رکھیں گے کہ انہیں جو دنیا نصیب ہو رہی ہے ، اس کے حوالے سے ان کا دین سلامت ہے ؟ لیکن جب اس کلمے کو پڑھنے والے ، اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ان کی دنیا کی سلامتی کی وجہ سے ، اُن کے دین کا کتنا نقصان ہو رہا ہے ؟ اور پھر بھی وہ لا الہ الا اللہ پڑھیں گے ، تو ان سے کہا جائے گا : تم غلط بیانی کر رہے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عجلان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

12188

Majma al-Zawaid #12188

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تَمْنَعُ الْعَبْدَ مِنْ سُخْطِ اللَّهِ، مَا لَمْ يُؤْثِرُوا سَفْقَةَ دُنْيَاهُمْ عَلَى دِينِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ثُمَّ قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ اللَّهُ: كَذَبْتُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that the declaration of divine unity shields the servant from divine anger until worldly transactions are preferred over religion, and what Allah says when it is then uttered. > **"La ilaha illa Allah shields the servant from the anger of Allah so long as they do not prefer their worldly bargain over their religion, but when they do that and then say: La ilaha illa Allah, Allah says: You have lied."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لا اله الا اللہ بندے کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے روکے رکھتا ہے ، جب تک بندہ اپنے دنیاوی سودوں کو اپنے دین پر ترجیح نہیں دیتا ، جب وہ ایسا کر لے اور پھر وہ لا الہ الا اللہ پڑھے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم نے غلط بیانی کی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

12189

Majma al-Zawaid #12189

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ «الْإِيمَانَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى يَوْمَئِذٍ لِلْغُرَبَاءِ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ. وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ، لَيَأْرِزَنَّ الْإِيمَانُ إِلَى بَيْنِ هَذَيْنِ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe how faith began in strangeness and will return to strangeness as it began, give glad tidings to the strangers when people become corrupt, swear by Him in Whose Hand is the soul of Abu al-Qasim, and liken the retreat of faith between the two mosques to a serpent retreating to its hole. > **"Faith began strange, and it will return strange as it began, so glad tidings that day belong to the strangers when people become corrupt. By Him in Whose Hand is the soul of Abu al-Qasim, faith will surely retreat to between these two mosques just as the serpent retreats to its hole."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا اور یہ پہلے کی طرح عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو اس وقت غریب لوگوں کے لئے مبارک باد ہے جب ( دوسرے ) لوگ خراب ہو چکے ہوں گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے ، ایمان ان دو مسجدوں کے درمیان یوں لوٹ آئے گا ، جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف لوٹتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام احمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12190

Majma al-Zawaid #12190

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا، ثُمَّ يَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنَ الْغُرَبَاءِ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَنْحَازَنَّ الْإِيْمَانُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا يَجُوزُ السَّيْلُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ الْإِسْلَامُ إِلَى بَيْنِ هَذَيْنِ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn Sannah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Prophet ﷺ declare that Islam began strange and will return strange as it began with glad tidings for the strangers, and when asked who the strangers are he described them as those who remain upright when people become corrupt, then swore by Him in Whose Hand is his soul that faith will withdraw toward Madinah like a torrent flows and that Islam will return to between the two mosques like a serpent returns to its hole. > **"Islam began strange, then it will return strange as it began, so glad tidings belong to the strangers. They are those who remain upright when people become corrupt. By Him in Whose Hand is my soul, faith will surely withdraw to Madinah just as the torrent flows, and by Him in Whose Hand is my soul, Islam will surely return to between these two mosques just as the serpent returns to its hole."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن سنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا ، پھر یہ دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، جس طرح پہلے تھا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارک باد ہے ۔‘‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ لوگ کہ جب لوگوں میں فساد ہو ، تو وہ ٹھیک ہوں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ایمان مدینہ منورہ کی طرف تیزی سے آئے گا ، جس طرح سیلابی پانی تیزی سے جاتا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اسلام ان دو مسجدوں کے درمیان والی جگہ کی طرف یوں لوٹ آئے گا ، جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف لوٹتا ہے ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

12191

Majma al-Zawaid #12191

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ: "" «طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "". فَقِيلَ: مَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أُنَاسٌ صَالِحُونَ فِي أُنَاسٍ سُوءٍ، كَثِيرٌ مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: "" أُنَاسٌ صَالِحُونَ قَلِيلٌ ""، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with him, reports that while the Companions were with the Messenger of Allah ﷺ one day, the Prophet ﷺ gave glad tidings to the strangers, and when asked who the strangers are he described them as righteous people among evil people whose disobedient opponents outnumber their obedient followers. > **"Glad tidings belong to the strangers. They are righteous people among evil people, those who disobey them being more numerous than those who obey them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک دن ارشاد فرمایا ، اس وقت ہم آپ کے پاس موجود تھے ، آپ نے فرمایا : غریب لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ نیک لوگ جو بہت سے برے لوگوں کے درمیان موجود ہوں گے ، اور ان کی نافرمانی کرنے والے ، اُن کی اطاعت کرنے والوں سے زیادہ ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” وہ لوگ جو نیک ہوں گے اور تھوڑے ہوں گے ......‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12192

Majma al-Zawaid #12192

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَرْبَعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ بِسَنَدٍ وَاحِدٍ فِي بَابِ افْتِرَاقِ الْأُمَمِ قَبْلَ هَذَا بِكُرَّاسَةٍ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that Islam began strange and will return strange as it began, with glad tidings for the strangers. > **"Islam began strange, and it will return strange as it began, so glad tidings belong to the strangers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا ، اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، جیسے آغاز میں تھا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ تو غریب لوگوں کے لے مبارکباد ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے چار صحابہ کرام کی نقل کردہ حدیث جو ایک سند کے ساتھ منقول ہے ، وہ اس باب میں گزر چکی ہے ، جو امت کے افتراق سے متعلق باب ہے اور وہ کچھ پہلے گزری ہے ۔

12193

Majma al-Zawaid #12193

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ يُصْلِحُونَ عِنْدَ فَسَادِ النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بَكْرِ بْنِ سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Saʿidi, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that Islam began strange and will return strange as it began with glad tidings for the strangers, and when asked who they are he identified them as those who remain upright when people become corrupt. > **"Islam began strange, and it will return strange as it began, so glad tidings belong to the strangers. They are those who remain upright when people become corrupt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا ، اور یہ اپنے آغاز کی طرح عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو ( دوسرے ) لوگوں کے فساد کے وقت ٹھیک رہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بکر بن سلیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12194

Majma al-Zawaid #12194

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ يُصْلِحُونَ حِينَ تَفْسَدُ النَّاسُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbd Allah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that Islam began strange and will again become strange with glad tidings for the strangers, and when asked who the strangers are he identified them as those who remain upright when people become corrupt. > **"Islam began strange, and it will return strange, so glad tidings belong to the strangers. They are those who remain upright when people become corrupt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا ، اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ، راوی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( دوسرے ) لوگوں کے فساد کے وقت جو ٹھیک رہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

12195

Majma al-Zawaid #12195

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that Islam began strange and will return strange with glad tidings for the strangers, after which the narrator related the full hadith which will come later. > **"Islam began strange, and it will return strange, so glad tidings belong to the strangers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارک باد ہے .......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر بھی آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے جو مدلس ہے ۔

12196

Majma al-Zawaid #12196

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ declared that Islam began strange and will return strange as it began, with glad tidings for the strangers. > **"Islam began strange, and it will return strange as it began, so glad tidings belong to the strangers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا ، اور یہ اپنے آغاز کی طرح عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، تو غریب لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔