Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 5

Book of Tribulations

Hadith 12117–12156

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12117

Majma al-Zawaid #12117

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ أَهْلَ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ، تَرَكَهُ أَحْمَدُ وَقَوَّاهُ النَّسَائِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the people of good and evil in this world and the next. > **"Indeed, the people of good in this world are the people of good in the Hereafter, and indeed the people of evil in this world are the people of evil in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا میں نیکی والے لوگ ، آخرت میں نیکی والے ہوں گے اور دنیا میں برائی والے لوگ ، آخرت میں برائی والے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے جسے امام احمد نے متروک قرار دیا ہے ، امام نسائی نے اسے قوی قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12118

Majma al-Zawaid #12118

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ أَهْلَ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَإِنَّ أَوَّلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the people of good and their early entry into Paradise. > **"Indeed, the people of good in this world are the people of good in the Hereafter, and indeed the first of the people of Paradise to enter Paradise are the people of good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا میں نیکی والے لوگ ہی آخرت میں نیکی والے ہوں گے اور اہل جنت میں سے ، سب سے پہلے نیکی والے جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12119

Majma al-Zawaid #12119

وَعَنْ دُرَّةَ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَتْ: «قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: "" خَيْرُ النَّاسِ أَقْرَؤُهُمْ وَأَتْقَاهُمْ وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَهَذَا لَفَظَهُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ: قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَجِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّهُ نَادَاهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَتْ: فَأَتَى الرَّجُلُ فَأُخِذَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي ذَنْبٌ أَمَرَنِي فُلَانٌ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Durrah bint Abī Lahab, raḍiya Allāhu ʿanhā, reports that a man stood before the Prophet ﷺ while he was on the pulpit and asked who the best of people is, and the Prophet ﷺ answered with qualities of recitation, piety, enjoining good, forbidding evil, and joining kinship. In the addition of al-Ṭabarānī, she said she was with ʿĀʾishah when a man was brought to the Prophet ﷺ as though calling to him upon the pulpit with the same question, then the man was seized and said he had no fault but that another had commanded him, and the rest is similar. > **"The best of people are the most reciting, the most God-fearing, the most enjoining of good, the most forbidding of evil, and the most joining of kinship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده دُرّه بنت ابولہب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا ، آپ ﷺ اس وقت منبر پر موجود تھے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگوں میں کون شخص سب سے بہتر ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ عالم ہو ، سب سے زیادہ پرہیزگار ہو ، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والا ہو ، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والا ہو ، اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، اسی دوران ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے بلند آواز میں نبی اکرم ﷺ کو پکارا ، نبی اکرم ﷺ اس وقت منبر پر موجود تھے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگوں میں کون زیادہ بہتر ہے ؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : ایک شخص آیا ، اس کو پکڑا گیا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا کوئی گناہ نہیں ہے ، مجھے فلاں شخص نے یہ کہا تھا ....... باقی روایت حسب سابق ہے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

12120

Majma al-Zawaid #12120

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ: الْغَالِبُ عَلَى حَدِيثِهِ الْوَهْمُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the believer in relation to his brother. > **"The believer is the mirror of the believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مومن ( دوسرے ) مومن کا آئینہ ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن محمد ہے ، جو ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کی اولاد میں سے ہے ، ابن قطان کہتے ہیں : اس کی حدیث پر وہم غالب ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12121

Majma al-Zawaid #12121

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، إِنْ كَانَ ظَالِمًا فَرُدَّهُ، وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَخُذْ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ وَفِيهَا ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, raḍiya Allāhu ʿanhā, reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded helping one's brother in both states and explained how. > **"Help your brother whether oppressor or oppressed; if he is an oppressor then restrain him, and if he is oppressed then secure his right for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے بھائی کی مدد کرو ! خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو ، اگر وہ ظالم ہو ، تو اسے روک دو اور اگر وہ مظلوم ہو ، تو اُس کا حق دلواؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جو اسماعیل بن عیاش کی اہل حجاز سے نقل کردہ روایت ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12122

Majma al-Zawaid #12122

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «شَهِدْتُ حِلْفَ بَنِي هَاشِمٍ وَزُهْرَةَ وَتَيْمٍ فَمَا يَسُرُّنِي أَنْ نَعْصِيَهُ وَلِي حُمْرُ النَّعَمِ، وَلَوْ دُعِيتُ لَهُ الْيَوْمَ لَأَجَبْتُ عَلَى أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَأْخُذَ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَهُ طَرِيقٌ آخَرُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ recalled witnessing a pact of Banū Hāshim, Zuhrah, and Taym, and his willingness to answer a like call for justice. > **"I witnessed a pact of Banū Hāshim, Zuhrah, and Taym, and it would not please me to break it even for red camels. If I were called to it today I would answer, upon enjoining good and forbidding evil and taking for the oppressed from the oppressor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں بنو ہاشم بنو زہرہ اور بنو تیم کے حلف کے وقت موجود تھا ، اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس عہد کو توڑ دوں ، اگرچہ اس کے بدلے میں ، مجھے سرخ اونٹ مل رہے ہوں ، اگر آج بھی مجھے اس کے حوالے سے بلایا جائے گا ، تو میں جاؤں گا ، اس شرط پر کہ نیکی کا حکم دیا جائے ، برائی سے منع کیا جائے ، اور ظالم سے مظلوم کا حق لیا جائے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ۔

12123

Majma al-Zawaid #12123

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَفَعَهُ قَالَ: "" «الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا أَمْرًا بِمَعْرُوفٍ وَنَهْيًا عَنِ الْمُنْكَرِ وَذِكْرَ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ مُطَرِّفٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports as a raised narration from the Prophet ﷺ concerning the curse upon the world and its exceptions. > **"The world is cursed, and cursed is what is in it, except enjoining good and forbidding evil and remembrance of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ موجود ہے ، وہ ملعون ہے ، البتہ نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اور اللہ کے ذکر کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن مطرف ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

12124

Majma al-Zawaid #12124

«وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ وَأَبُو ذَرٍّ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَجُلٌ آخَرُ عَلَى أَنْ لَا تَأْخُذَهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَيَّاشٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he along with Abū Dharr, Abū Saʿīd al-Khudrī, Muḥammad ibn Maslamah, and another man pledged to the Messenger of Allah ﷺ that the blame of no blamer would affect them concerning Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اور ایک اور صحابی نے ، اس بات پر نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اُن پر اثر انداز نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12125

Majma al-Zawaid #12125

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ حَدَّثَ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: اصْطَحَبَ قَيْسُ بْنُ خَرَشَةَ وَكَعْبٌ حَتَّى إِذَا بَلَغَا صِفِّينَ وَقَفَ كَعْبٌ سَاعَةً فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَيُهْرَقَنَّ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ شَيْءٌ لَا يُهْرَاقُ بِبُقْعَةٍ مِنَ الْأَرْضِ. فَغَضِبَ قَيْسٌ، ثُمَّ قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ مَا هَذَا؟ هَذَا مِنَ الْغَيْبِ الَّذِي اسْتَأْثَرَ اللَّهُ بِهِ. فَقَالَ كَعْبٌ: مَا مِنَ الْأَرْضِ شِبْرٌ إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى مَا يَكُونُ عَلَيْهِ وَمَا يَخْرُجُ فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: وَمَنْ قَيْسُ بْنُ خَرَشَةَ؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، وَمَا تَعْرِفُهُ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بِلَادِكَ؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ. قَالَ: إِنَّ قَيْسَ بْنَ خَرَشَةَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى مَا جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَا قَيْسُ، عَسَى إِنْ مَدَّ بِكَ الدَّهْرُ أَنْ يَلِيَكَ بَعْدِي وُلَاةٌ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَقُولَ بِالْحَقِّ مَعَهُمْ» "". قَالَ قَيْسٌ: وَاللَّهِ لَا أُبَايِعُكَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا وَفَيْتُ لَكَ بِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذًا لَا يَضُرُّكَ شَيْءٌ» "". قَالَ: فَكَانَ قَيْسٌ يَعِيبُ عَلَى زِيَادٍ وَابْنِهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَفْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ مَنْ يَفْتَرِي عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ، مَنْ تَرَكَ الْعَمَلَ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Yazīd ibn Abī Ḥabīb reports that Muḥammad ibn Yazīd ibn Abī Ziyād narrated that Qays ibn Kharashah and Kaʿb traveled together until they reached Ṣiffīn, where Kaʿb paused a while and swore that Muslim blood would be shed in that place as in no other spot on earth. Qays became angry and asked how he knew this hidden matter reserved to Allah. Kaʿb replied that no span of earth exists except that what will occur upon it and emerge from it until the Day of Resurrection is written in the Torah Allah sent to Mūsā. When Muḥammad ibn Yazīd asked who Qays ibn Kharashah was, he was told he was a man of Qays from his own land whom he did not know. He then told that Qays came to the Prophet ﷺ offering pledge upon what came from Allah and upon speaking truth, that the Prophet ﷺ warned him of later rulers with whom he might be unable to speak truth, that Qays swore to fulfill whatever he pledged, and that the Prophet ﷺ assured him of safety. Thereafter Qays used to criticize Ziyād and his son ʿUbayd Allāh ibn Ziyād, who summoned him and accused him of fabricating against Allah and His Messenger, to which Qays replied that the fabricator is one who abandons action upon the Book of Allah and the practice of His Messenger ﷺ. > **"O Qays, perhaps if life is prolonged for you, rulers will come after me with whom you will be unable to speak truth. Then nothing will harm you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوحبیب بیان کرتے ہیں : محمد بن یزید بن ابوزید نے یہ بات بیان کی ہے : ’’ ایک مرتبہ قیس بن خرشہ اور کعب ایک ساتھ تھئے ، یہ دونوں صفین کے مقام پر پہنچے ، تو وہاں کعب گھڑی بھر کے لئے ٹھہر گئے اور بولے : اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس مقام پر مسلمانوں کا خون ضرور بہایا جائے گا کہ اتنا خون زمین کے کسی اور حصے میں نہیں بہایا جائے گا ، تو قیس غصے میں آ گئے اور بولے : اے ابواسحاق ! تمہیں اس بات کا کیسے پتہ چلا ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ تو وہ غیب ہے ، جس کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا ہے ، تو کعب نے فرمایا : روئے زمین کا کوئی ایک بالشت ایسا نہیں ہے ، جس کا ذکر اس ” تورات ‘‘ میں نہ ہو ، جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا ، زمین پر جو کچھ ہو گا اور جو قیامت تک اس میں سے نکلے گا ( اُن سب کا ذکر اس میں ہے ) ۔ محمد بن یزید نے دریافت کیا : قیس بن خرشہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں ، تم انہیں نہیں جانتے ، حالانکہ وہ تمہارے علاقے کے آدمی ہیں ، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں انہیں نہیں جانتا ، تو انہوں نے بتایا کہ حضرت قیس بن خرشہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، انہوں نے عرض کی : میں اس چیز پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں ، جو آپ ﷺ کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ، اور اس بات پر بھی بیعت کرنے کے لئے کہ میں حق بات کہوں گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے قیس ! ہو سکتا ہے کہ جب طویل زمانہ گزر جائے اور میرے بعد ایسے لوگ حکمران بن جائیں کہ تم ان کے سامنے حق نہ کہہ سکو ۔‘‘ قیس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں کسی چیز پر آپ کی بیعت نہیں کروں گا ، مگر یہ کہ آپ کی خاطر اسے پورا بھی کروں گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسی صورت میں تمہیں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت قیس رضی اللہ عنہ ، زیاد اور اُس کے بیٹے عبیداللہ بن زیاد پر تنقید کیا کرتے تھے ، اس نے انہیں پیغام بھیج کر بلایا اور کہا : کیا تم وہ شخص ہو کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو ؟ تو حضرت قیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! اگر تم چاہو تو میں تمہیں یہ بات بتا دیتا ہوں کہ کون شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، یہ وہ شخص ہے جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت پر عمل کو ترک کر دیتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

12126

Majma al-Zawaid #12126

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنِّي، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَوْصَانِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ، وَأَوْصَانِي بِقَوْلِ الْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَوْصَانِي بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَأَوْصَانِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا، وَأَوْصَانِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ: «وَأَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا»، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that his close friend ﷺ enjoined him to let no blame of a blamer affect him concerning Allah, to look to one below him and not above him, to love the poor and draw near them, to speak truth even if bitter, to join kinship even if it turns away, to ask people for nothing, and to say often: Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh al-ʿAlī al-ʿAẓīm, for it is among the treasures of Paradise. > **"My close friend ﷺ enjoined me to let no blame of a blamer affect me concerning Allah, to look to one below me and not above me, to love the poor and draw near them, to speak truth even if bitter, to join kinship even if it turns away, to ask people for nothing, and to say often: Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh al-ʿAlī al-ʿAẓīm, for it is among the treasures of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والی ملامت ، مجھ پر اثر انداز نہ ہو ، اور میں اُس کا جائزہ لوں کہ جو شخص مجھ سے نیچے ہے ، اس کی طرف نہ دیکھوں ، جو مجھ سے اوپر ہے اور آپ ﷺ نے مجھے مسکینوں کے ساتھ محبت رکھنے اور ان کے ساتھ رہنے کی تلقین کی تھی اور آپ ﷺ نے مجھے حق بات کہنے کی تلقین کی تھی ، اگرچہ وہ کڑوی ہو اور آپ نے مجھے صلہ رحمی کرنے کی تلقین کی تھی ، اگرچہ دوسرا شخص پیٹھ پھیر رہا ہو ، اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ، اور آپ نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ میں کثرت کے ساتھ «لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم» پڑھتا رہوں گا ، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ اور یہ کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ۔‘‘ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلام بن ابومنذر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

12127

Majma al-Zawaid #12127

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، لَا تَدْخُلَنَّ عَلَى أَمِيرٍ، فَإِنْ غُلِبْتَ عَلَى ذَلِكَ فَلَا تُجَاوِزْ سُنَّتِي، وَلَا تَخَافَنَّ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ أَنْ تَأْمُرَهُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَطَاعَتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بِشْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed him about entering upon rulers and commanding piety without fear. > **"O Abā Hurayrah, do not enter upon a ruler; if you are compelled to that, do not exceed my practice, and do not fear his sword and his whip in commanding them to fear Allah and obey Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے ابوہریرہ ! تم کسی امیر ( یا حکمران ) کے پاس نہ جانا اور اگر تم اس کے پاس چلے جاؤ ، تو میری سنت سے تجاوز نہ کرنا اور اس کی تلوار یا کوڑے سے اس حوالے سے خوف زدہ نہ ہونا کہ تم اُسے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے اور اس کی فرمانبرداری کا حکم دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12128

Majma al-Zawaid #12128

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ رَهْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا رَآهُ وَيُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ فَإِنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبَاعِدُ مِنْ رِزْقٍ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ أَوْ يُذَكِّرَ بِعَظِيمٍ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports from the Messenger of Allah ﷺ that fear of people must not prevent speaking truth or reminding of greatness, for it neither hastens death nor withholds provision. > **"Let not fear of people prevent one of you from speaking truth when he sees it and reminding of greatness, for speaking truth or reminding of greatness neither brings near a term nor keeps away provision."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ لوگوں کا خوف ، تم میں سے کسی ایک شخص کو اس بات سے ہرگز نہ روکے کہ وہ شخص جب حق کو دیکھے ، تو حق کے مطابق بات کرے ، یا وہ شخص کسی بڑے شخص ( یعنی حکمران ) کو نصیحت کرے ، کیونکہ یہ چیز نہ تو موت کو قریب کرتی ہے ، اور نہ ہی رزق کو دور کرتی ہے ، آدمی کو حق کے مطابق بات کہنی چاہیے اور بڑے ( یعنی حکمران ) کو نصیحت کرنی چاہیے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12129

Majma al-Zawaid #12129

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَنَّ مُوسَى قَالَ: يَا رَبِّ، أَخْبِرْنِي بِأَكْرَمِ خَلْقِكَ عَلَيْكَ. فَقَالَ: الَّذِي يُسْرِعُ فِي هَوَايَ إِسْرَاعَ النَّسْرِ إِلَى مَثْوَاهُ، وَالَّذِي تَكَلَّفَ بِعِبَادِي الصَّالِحِينَ كَمَا يُكَلَّفُ الصَّبِيُّ بِالنَّاسِ، وَالَّذِي يَغْضَبُ إِذَا انْتُهِكَتْ مَحَارِمِي غَضَبَ النَّمِرِ لِنَفْسِهِ، فَإِنَّ النَّمِرَ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُبَالِ أَقَلَّ النَّاسُ أَمْ كَثُرُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ (*) وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, raḍiya Allāhu ʿanhā, reports from the Prophet ﷺ that Mūsā, peace be upon him, asked his Lord about His most honored creation, and his Lord described three qualities concerning zeal, attachment to the righteous, and anger over violated sanctities. > **"My most honored creation to Me is he who hastens to My desire as an eagle hastens to its abode, and he who attaches himself to My righteous servants as a child is attached to people, and he who becomes angry when My sanctities are violated like a leopard angry for itself, for when the leopard is angry it cares not whether people are few or many."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو مجھے بتا کہ تیرے نزدیک تیری مخلوق میں سب سے زیادہ معزز کون شخص ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو میرے حکم کی پیروی کے لئے اس طرح تیزی کرتا ہے ، جس طرح کوئی عقاب اپنے ٹھکانے کی طرف تیزی سے جاتا ہے اور وہ شخص جو میرے نیک بندوں کی بہ تکلف پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے ، جس طرح بچے کو لوگوں کی پیروی کروائی جاتی ہے ، اور وہ شخص کہ جب میری کسی حرمت کی پامالی ہو رہی ہو ، تو وہ یوں غضبناک ہوتا ہے ، جس طرح کوئی چیتا اپنی ذات کے لئے غضبناک ہوتا ہے ، کیونکہ جب چیتا غضبناک ہو ، تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کم ہیں یا زیادہ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

12130

Majma al-Zawaid #12130

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ فَقَتَلَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ شَخْصٌ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ named the master of martyrs and one who stands to an unjust ruler with command and forbiddance and is killed. > **"The master of martyrs is Ḥamzah ibn ʿAbd al-Muṭṭalib, and a man who stands to an unjust ruler, enjoins him and forbids him, and he kills him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن شہداء کے سردار حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہوں گے اور وہ شخص ہو گا ، جو کسی ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہو کر اسے نیکی کا حکم دے ، یا اسے برائی سے منع کرے اور وہ حکمران اُسے قتل کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے جو حدیث میں ضعیف ہے ۔

12131

Majma al-Zawaid #12131

وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ أَنَّ جَدَّهُ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبِ بْنِ حَمَاشَةَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ احْتِلَامِهِ، أَوْصَى وَلَدَهُ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، إِيَّاكَ وَمُجَالَسَةَ السُّفَهَاءِ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ، وَمَنْ يَحْلُمْ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرُّ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمْ، وَمَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَلْيُوَطِّنْ نَفْسَهُ عَلَى الصَّبْرِ عَلَى الْأَذَى وَيَثِقْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ - تَعَالَى - فَإِنَّهُ مَنْ وَثِقَ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَضُرَّهُ مَسُّ الْأَذَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Jaʿfar al-Khaṭmī reports that his grandfather ʿUmayr ibn Ḥabīb ibn Ḥamāshah, raḍiya Allāhu ʿanhu, who had reached the Prophet ﷺ near his maturity, advised his son with counsel against sitting with fools, its harm, forbearance and regret, contentment with little and much, and preparation with patience and trust in reward from Allah the Exalted when enjoining good and forbidding evil, for whoever trusts in reward from Allah, Mighty and Majestic, will not be harmed by affliction. His words were: O my son, beware sitting with fools, for their company is disease; whoever is forbearing toward a fool rejoices, whoever answers him regrets, whoever is not content with little brought by a fool will be content with much; when one of you intends to enjoin good or forbid evil, let him prepare himself for patience over harm and trust in reward from Allah the Exalted, for whoever trusts in reward from Allah, Mighty and Majestic, the touch of harm will not harm him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجعفر خطمی بیان کرتے ہیں : ان کے دادا حضرت عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ ، جنہوں نے بلوغت کے وقت نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے ، اُنہوں نے اپنے بیٹے کو تلقین کی اور یہ کہا : ’’ اے میرے بیٹے ! تم بے وقوف لوگوں کی ہمنشینی سے بچ کے رہنا ، کیونکہ ان کی ہمنشینی ، بیماری ہوتی ہے اور جو شخص بے وقوف شخص کے حوالے سے بردباری اختیار کرے ، وہ ٹھیک رہتا ہے ، جو شخص اُسے جواب دے وہ ندامت کا شکار ہوتا ہے ، اور جو شخص بے وقوف کی لائی ہوئی تھوڑی چیز سے راضی نہیں ہوتا ، وہ زیادہ سے راضی ہو جاتا ہے ، اور جب تم میں سے کوئی شخص نیکی کا حکم دے یا برائی سے منع کرے ، تو اپنے آپ کو تکلیف دہ چیز پر صبر کرنے کے لئے تیار کرے ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب کی توقع رکھے ، کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب پر یقین رکھے گا ، تو تکلیف کا پہنچنا اُسے نقصان نہیں دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12132

Majma al-Zawaid #12132

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنَّهُ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا. فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُوَنِي فَلَا أُجِيبُكُمْ وَتَسَلُونِي فَلَا أُعْطِيكُمْ وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرُكُمْ» "". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ أَحَدُ الْمَجَاهِيلِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, raḍiya Allāhu ʿanhā, reports that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her with signs of distress on his face, performed ablution, went out without speaking to anyone, and she drew near the chambers and heard him address people about enjoining good and forbidding evil before invocation and appeal for help go unanswered. > **"O people, indeed Allah says: Enjoin good and forbid evil before you call upon Me and I do not answer you, and you ask Me and I do not give you, and you seek My help and I do not help you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ، آپ ﷺ کے چہرے سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کو کوئی ناگوار صورت حال پیش آئی ہے ، آپ نے وضو کیا اور آپ نے کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی ، میں حجروں کے قریب ہوئی تو میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے ، کہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور تم برائی سے منع کرو ، اس سے پہلے کہ تم لوگ مجھ سے دعا کرو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں ، تم لوگ مجھ سے مانگو ، تو میں تمہیں عطا نہ کروں ، تم لوگ مجھ سے مدد مانگو ، تو میں تمہاری مدد نہ کروں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر ہے ، جو مجہول راویوں میں سے ایک ہے ۔

12133

Majma al-Zawaid #12133

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ قَبْلَ أَنْ تَدْعُوَا اللَّهَ فَلَا يَسْتَجِيبُ لَكُمْ وَقَبْلَ أَنْ تَسْتَغْفِرُوهُ فَلَا يَغْفِرُ لَكُمْ. إِنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ لَا يُقَرِّبُ أَجَلًا، وَإِنَّ الْأَحْبَارَ مِنَ الْيَهُودِ وَالرُّهْبَانَ مِنَ النَّصَارَى لَمَّا تَرَكُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ لَعَنَهُمُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ أَنْبِيَائِهِمْ وَعَمَّهُمُ الْبَلَاءُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed people about enjoining good and forbidding evil before supplication and seeking forgiveness go unanswered, and about the fate of Jewish scholars and Christian monks who abandoned it. > **"O people, enjoin good and forbid evil before you call upon Allah and He does not answer you, and before you seek His forgiveness and He does not forgive you. Enjoining good does not bring near a term. When the rabbis of the Jews and the monks of the Christians abandoned enjoining good and forbidding evil, Allah cursed them upon the tongues of their prophets and tribulation encompassed them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو ، اس سے پہلے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، تو وہ تمہاری دعا قبول نہ کرے ، اس سے پہلے کہ تم اس سے مغفرت طلب کرو ، تو وہ تمہاری مغفرت قبول نہ کرے ، بے شک نیکی کا حکم دینا ، موت کو قریب نہیں کرتا ہے ، یہودیوں کے علماء اور عیسائیوں کے راہب ، جب اُنہوں نے نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ترک کر دیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے انبیاء کی زبانی اُن ( لوگوں ) پر لعنت کی اور آزمائش نے اُن سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12134

Majma al-Zawaid #12134

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلْتَنْهُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُسَلِّطَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ ثُمَّ يَدْعُو خِيَارَكُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ warned that people must enjoin good and forbid evil or else their worst will be set over them and the supplication of their best will go unanswered. > **"You shall enjoin good and you shall forbid evil, or Allah will set your worst over you, then your best will supplicate and they will not be answered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یا تو تم لوگ نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ، یا پھر اللہ تعالیٰ تمہارے بدترین لوگوں کو تم پر مسلط کر دے گا اور پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے اور اُن کی دعا قبول نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12135

Majma al-Zawaid #12135

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «قَالَ رَبُّكَ - جَلَّ وَعَزَّ -: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَأَنْتَقِمَنَّ مِنَ الظَّالِمِ فِي عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، وَلَأَنْتَقِمَنَّ مِمَّنْ رَأَى مَظْلُومًا فَقَدَرَ أَنْ يَنْصُرَهُ فَلَمْ يَفْعَلْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ conveyed that his Lord, Mighty and Majestic, swore by His might and majesty to take recompense from the oppressor sooner and later, and from one who sees an oppressed person and can help him yet does not. > **"Your Lord, Mighty and Majestic, says: By My might and majesty, I shall take vengeance from the oppressor in his present and his future, and I shall take vengeance from one who sees an oppressed person and is able to help him yet does not do so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا پروردگار یہ ارشاد فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ میں ظالم سے ضرور بدلہ لوں گا ، خواہ جلدی لوں یا تاخیر سے لوں ، اور میں اس شخص سے بھی ضرور بدلہ لوں گا ، جو کسی مظلوم کو دیکھے اور وہ اُس کی مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور پھر بھی وہ ایسا نہ کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12136

Majma al-Zawaid #12136

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ أُذِلَّ عِنْدَهُ مُؤْمِنٌ فَلَمْ يَنْصُرْهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَنْصُرَهُ أَذَلَّهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Ḥunayf, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports from the Prophet ﷺ about one in whose presence a believer is humiliated and who, though able, does not help him, and his humiliation before creation on the Day of Resurrection. > **"Whoever has a believer humiliated in his presence and does not help him while able to help him, Allah, Mighty and Majestic, will humiliate him before all creation on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کے پاس کسی مومن کو ذلیل کیا جا رہا ہو ، اور وہ اُس کی مدد نہ کرے ، جبکہ وہ اس کی مدد کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے اُسے ذلت کا شکار کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12137

Majma al-Zawaid #12137

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ حَدَّثَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: ثَنَا مَوْلًى لَنَا أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّى يَرَوُا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، وَهُمْ قَادِرُونَ عَلَى أَنْ يُنْكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَذَّبَ اللَّهُ الْخَاصَّةَ وَالْعَامَّةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ، إِحْدَاهَا هَذِهِ، وَالْأُخْرَى عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ حَدَّثَنِي مَوْلًى لَنَا وَهُوَ الصَّوَابُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAdī ibn ʿAdī al-Kindī reports from Mujāhid, from a freedman, from his grandfather, that he heard the Messenger of Allah ﷺ state that Allah does not punish the general for the deed of the elite until they see evil among them, are able to reject it, and do not, whereupon Allah punishes elite and general alike. > **"Indeed Allah, Mighty and Majestic, does not punish the general for the deed of the elite until they see evil among them, while able to reject it, and they do not reject it; when they do that, Allah punishes the elite and the general."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عدی بن عدی کندی نے مجاہد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میرے آقا نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے اپنے دادا کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ خواص لوگوں کے عمل کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا ، جب تک یہ صورت حال نہ ہو کہ وہ ( یعنی خواص ) لوگ اپنے درمیان منکر کو دیکھیں اور وہ اس کا انکار کرنے کی قدرت رکھتے ہوں ، لیکن پھر بھی اس کا انکار نہ کریں ، جب وہ لوگ یہ کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ خاص و عام ( سب کو ) عذاب دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک حوالہ یہ ہے اور دوسری روایت عدی بن عدی کے حوالے سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھے میرے آقا نے یہ حدیث بیان کی ہے اور یہی درست ہے ، امام طبرانی نے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

12138

Majma al-Zawaid #12138

وَعَنْ جَابِرٍ وَأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا مِنِ امْرِئٍ يَخْذُلُ مُسْلِمًا فِي مَوْطِنٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ. وَمَا مِنِ امْرِئٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْطِنٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ جَابِرٍ وَحْدَهُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir and Abū Ayyūb al-Anṣārī, raḍiya Allāhu ʿanhumā, report that the Messenger of Allah ﷺ described the recompense for forsaking a Muslim where his honor is diminished and his sanctity violated, and for supporting him in such a place. > **"There is no man who forsakes a Muslim in a place where his honor is diminished and his sanctity violated except that Allah will forsake him in a place where he desires His support. And there is no man who supports a Muslim in a place where his honor is diminished and his sanctity violated except that Allah will support him in a place where he desires His support."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بھی شخص کسی مسلمان کو کسی ایسے مقام پر رسوائی کا شکار کرے ، جہاں اس کی عزت میں کمی کی جا رہی ہو اور اس کی حرمت پامال کی جا رہی ہو ، تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کو ایسے مقام پر رسوائی کا شکار کرے گا ، جہاں وہ شخص اللہ تعالیٰ کی مدد چاہتا ہو گا اور جو بھی شخص کسی مسلمان کی ایسے مقام پر مدد کرے ، جہاں اس کی عزت میں کمی کی جا رہی ہو ، یا اس کی حرمت پامال کی جا رہی ہو ، تو اللہ تعالیٰ ایسے مقام پر اس کی مدد کرے گا ، جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی مدد چاہ رہا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے صرف حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

12139

Majma al-Zawaid #12139

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ نَصَرَ أَخَاهُ بِالْغَيْبِ وَهُوَ يَسْتَطِيعُ نَصْرَهُ نَصَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُهَا مَوْقُوفٌ عَلَى عِمْرَانَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْمَرْفُوعِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the reward for one who supports his brother in absence while able to do so, in this world and the next. > **"Whoever supports his brother in absence while able to support him, Allah will support him in this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اُس کی مدد کرتا ہے اور وہ شخص اس کی مدد کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دنیا اور آخرت میں مدد کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، یہ مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہے جن میں سے ایک روایت حضرت عمران رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے اور مرفوع کی مخلف اسانید میں سے ایک کے رجال صیح کے جال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

12140

Majma al-Zawaid #12140

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أُدْخِلَ رَجُلٌ فِي قَبْرِهِ، فَأَتَاهُ مَلَكَانِ فَقَالَا لَهُ: إِنَّا ضَارِبُوكَ ضَرْبَةً. فَقَالَ لَهُمَا: عَلَى مَا تَضْرِبَانِي؟ فَضَرَبَاهُ ضَرْبَةً امْتَلَأَ قَبْرُهُ مِنْهَا نَارًا، ثُمَّ تَرَكَاهُ حَتَّى أَفَاقَ وَذَهَبَ عَنْهُ الرُّعْبُ، فَقَالَ لَهُمَا: عَلَى مَا ضَرَبْتُمَانِي؟ فَقَالَا: إِنَّكَ صَلَّيْتَ صَلَاةً وَأَنْتَ عَلَى غَيْرِ طَهُورٍ، وَمَرَرْتَ بِرَجُلٍ مَظْلُومٍ فَلَمْ تَنْصُرْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ tell of a man placed in his grave, visited by two angels who struck him until his grave filled with fire, then answered his question about the cause with prayer without purification and passing a wronged man without helping him. > **"A man was placed in his grave, and two angels came to him and said to him: We shall strike you a blow. He said to them: For what will you strike me? They struck him a blow with which his grave filled with fire, then they left him until he awoke and terror left him, and he said to them: For what did you strike me? They said: You prayed a prayer while not in a state of purity, and you passed by a wronged man and did not help him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ ایک شخص کو قبر میں اتارا گیا ، دو فرشتے اس کے پاس آئے ، ان دونوں نے اس سے کہا : ہم تم پر ایسی ضرب لگائیں گے ، تو اس شخص نے ان سے دریافت کیا : تم دونوں کیوں مجھ پر ضرب لگاؤ گے ؟ ان دونوں نے اس پر ضرب لگائی جس کی وجہ سے اس کی قبر آگ سے بھر گئی ، پھر ان دونوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب اسے افاقہ ہوا اور اس کا رعب ختم ہوا تو اس نے ان دونوں سے کہا : تم دونوں نے مجھے کیوں ضرب لگائی ہے ؟ تو دونوں فرشتوں نے کہا : تم نماز پڑھتے تھے جبکہ تم بے وضو ہوتے تھے ( یا مکمل طور پر پاک نہیں ہوتے تھے ) اور تم ایک مظلوم شخص کے پاس سے گزرے تھے اور تم نے اُس کی مدد نہیں کی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12141

Majma al-Zawaid #12141

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا خَفِيَتِ الْخَطِيئَةُ لَمْ تَضُرَّ إِلَّا صَاحِبَهَا، وَإِذَا ظَهَرَتْ فَلَمْ تُغَيَّرْ ضَرَّتِ الْعَامَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الْغِفَارِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ distinguished between hidden sin which harms only its doer and open sin which, left unchanged, harms the general. > **"When sin is hidden it harms none but its doer, and when it appears and is not changed it harms the general."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب برائی پوشیدہ ہو ، تو وہ صرف متعلقہ فرد کو نقصان دیتی ہے اور جب وہ ظاہر ہو جائے اور اُسے مٹایا نہ جائے ، تو وہ عمومی لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم غفاری ہے اور وہ متروک ہے ۔

12142

Majma al-Zawaid #12142

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ بِمَعَاصِي اللَّهِ فِيهِمْ، وَهُمْ أَكْثَرُ مِنْهُ وَأَعَزُّ، ثُمَّ يَدَّهِنُونَ فِي شَأْنِهِ إِلَّا عَاقَبَهُمُ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ warn about a man who practices disobedience among a people more numerous and mightier than he, while they are negligent toward him, and Allah's punishment upon them. > **"There is no man among a people who practices disobedience to Allah among them, while they are more numerous than he and mightier, then they are negligent toward him, except that Allah punishes them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو بھی شخص ایسی قوم میں موجود ہو کہ وہ ان لوگوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ گناہوں پر عمل کرتا ہو اور دوسرے لوگ اس سے زیادہ تعداد میں ہوں اور غلبہ بھی رکھتے ہوں ، اور پھر بھی وہ اس شخص کے بارے میں کوتاہی کا اظہار کریں ، تو اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو عذاب دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12143

Majma al-Zawaid #12143

وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّى تَعْمَلَ الْخَاصَّةُ بِعَمَلٍ تَقْدِرُ الْعَامَّةُ أَنْ تُغَيِّرَهُ وَلَا تَغَيُّرُهُ، فَذَاكَ حِينَ يَأْذَنُ اللَّهُ فِي هَلَاكِ الْعَامَّةِ وَالْخَاصَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿUrs ibn ʿAmīrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that Allah does not punish the general for the deed of the elite until the elite act and the general, though able to change it, does not, whereupon Allah permits the ruin of general and elite. > **"Indeed Allah does not punish the general for the deed of the elite until the elite do a deed which the general are able to change and do not change; then Allah permits the destruction of the general and the elite."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ مخصوص لوگوں کے عمل کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا ، جب مخصوص لوگ کوئی عمل کریں اور عام لوگ اسے ختم کرنے کی قدرت رکھتے ہوں اور پھر اسے ختم نہ کریں ، تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ عام اور خاص ( سب کو ) ہلاک کرنے کا حکم دیدیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12144

Majma al-Zawaid #12144

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُهْلَكُ الْقَرْيَةُ فِيهِمُ الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَقِيلَ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بِشَهَادَتِهِمْ وَسُكُوتِهِمْ عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that it was asked whether a town with righteous people would perish, the Prophet ﷺ affirmed, and when asked why he attributed it to their witnessing disobedience and silence. > **"Yes. It was asked: Why, O Messenger of Allah? He said: Because of their witnessing disobedience to Allah and their silence toward it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا ایسی بستی بھی ہلاکت کا شکار ہو جائے گی ، جس میں نیک لوگ موجود ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیونکہ وہ لوگ موجود تھے اور پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کے معاصی کے حوالے سے خاموش رہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام بزار نے یہ روایت اسی طرح اس کی مانند نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسے نقل کیا ہے ۔

12145

Majma al-Zawaid #12145

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَاصِي فِي أُمَّتِي عَمَّهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ عِنْدِهِ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا فِيهِمْ صَالِحُونَ؟ قَالَ: "" بَلَى "". قُلْتُ: فَكَيْفَ يُصْنَعُ بِأُولَئِكَ؟ قَالَ: "" يُصِيبُهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, raḍiya Allāhu ʿanhā, reports that she heard the Messenger of Allah ﷺ warn that when sins appear in his Ummah Allah will encompass them with punishment from Him, and she asked about the righteous among them and was told they would be afflicted then move to forgiveness and pleasure. > **"When sins appear in my Ummah, Allah will encompass them with punishment from Him. I said: O Messenger of Allah, are there not righteous among them? He said: Yes. I said: What will be done with them? He said: What afflicts people will afflict them, then they will pass to forgiveness from Allah and pleasure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب میری امت میں معاصی ظاہر ہو جائیں گے ، تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان سب کو عمومی عذاب دے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ان میں نیک لوگ نہیں ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ہوں گے ، میں نے عرض کی : تو پھر ان لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جو چیز ان ( گناہگار ) لوگوں کو لاحق ہو گی وہ ان ( نیک لوگوں ) کو بھی لاحق ہو گی ، اور پھر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضامندی کی طرف چلے جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12146

Majma al-Zawaid #12146

وَعَنْ عَائِشَةَ تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي أَرْضٍ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِأَهْلِ الْأَرْضِ بِأَسْهُ "". قَالَتْ: وَفِيهَا أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، ثُمَّ يَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ امْرَأَةٌ لَمْ تُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, raḍiya Allāhu ʿanhā, conveying from the Prophet ﷺ, reports that when evil appears in a land Allah sends His might upon its people, and when asked about the obedient among them she was told they would pass to Allah's mercy. > **"When evil appears in a land, Allah, Mighty and Majestic, sends His might upon the people of the land. She said: And among them are those obedient to Allah? He said: Yes, then they will pass to the mercy of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہیں اس بات کا پتہ چلا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب زمین میں برائی غالب ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ تمام اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : زمین میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے بھی تو ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! پھر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف چلے جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک خاتون ایسی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

12147

Majma al-Zawaid #12147

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، ثُمَّ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - عَلَى أَعْمَالِهِمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that when Allah sends punishment upon a people it afflicts all among them, then Allah will raise them according to their deeds. > **"When Allah, Blessed and Exalted, sends punishment upon a people, the punishment afflicts whoever is among them, then Allah, Blessed and Exalted, will raise them according to their deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو وہ عذاب ان کے درمیان سب کو لاحق ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال کے حساب سے اُن لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12148

Majma al-Zawaid #12148

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «ذُكِرَ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَسْفٌ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُخْسَفُ بِأَرْضٍ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ؟ فَقَالَ: "" نَعَمْ، إِذَا كَانَ أَكْثَرُ أَهْلِهَا الْخَبَثَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that a swallowing of the earth toward the east was mentioned in the time of the Messenger of Allah ﷺ, a man asked whether a land with Muslims would be swallowed, and the Prophet ﷺ linked it to the prevalence of corruption. > **"Yes, when most of its people are corrupt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں یہ بات پتہ چلی کہ مشرق کی سمت میں کوئی جگہ زمین میں دھنس گئی ہے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک ایسی زمین دھنس گئی ہے ، جس میں مسلمان بھی موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی ہاں ! ایسا اُس وقت ہوتا ہے ، جب وہاں کے رہنے والے زیادہ تر لوگ برائیوں میں مبتلا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12149

Majma al-Zawaid #12149

وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ "" وَحَلَّقَ تِسْعِينَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Ḥabībah, raḍiya Allāhu ʿanhā, reports that the Messenger of Allah ﷺ entered upon her saying words of return to Allah and warning of approaching evil and the opening of the barrier of Yaʾjūj and Maʾjūj, and when she asked about destruction with righteous present he linked it to abundance of corruption. > **"Indeed we belong to Allah and indeed to Him we return. Woe to the Arabs from an evil that has drawn near; opened from the barrier of Yaʾjūj and Maʾjūj is like this, and he made a circle of ninety. I said: O Messenger of Allah, shall we perish while righteous are among us? He said: Yes, when corruption abounds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ، اور بے شک ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، عربوں کے لئے اس برائی کے حوالے سے بربادی ہے ، جو قریب آ چکی ہے ، یا جوج اور ماجوج کی دیوار کا اتنا حصہ کھل گیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے نوے کا حلقہ بنا کر یہ بات ارشاد فرمائی ، میں نے عرض کی : کیا ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ؟ جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجود ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! جب برائی کثرت سے ہو گی ( تو ایسا ہی ہو گا ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12150

Majma al-Zawaid #12150

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ إِلَّا كَانَ الْقَتْلُ بَيْنَهُمْ، وَلَا ظَهَرَتْ فَاحِشَةٌ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ، وَلَا مَنَعَ قَوْمٌ قَطُّ الزَّكَاةَ إِلَّا حَبَسَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَجَاءِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described three consequences for breach of covenant, open lewdness, and withholding zakāh concerning killing, death, and rain. > **"No people break a covenant except that killing spreads among them, no lewdness ever appears among a people except that Allah sets death over them, and no people ever withhold zakāh except that Allah withholds rain from them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی کوئی قوم عہدشکنی کرتی ہے ، تو ان کے درمیان قتل و غارت گری شروع ہو جاتی ہے ، اور جب بھی کسی قوم کے درمیان فحاشی غالب ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کر دیتا ہے ، اور جب بھی کوئی قوم زکوۃ دینے سے انکار کرتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف رجاء بن محمد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12151

Majma al-Zawaid #12151

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ قَالَ: "" «الطَّابَعُ مُعَلَّقٌ بِقَائِمَةِ الْعَرْشِ، فَإِذَا اشْتَكَتِ الرَّحِمُ وَعُمِلَ بِالْمَعَاصِي وَاجْتُرِئَ عَلَى اللَّهِ بَعَثَ اللَّهُ الطَّابِعَ فَيَطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ فَلَا يَعْقِلُ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَشَّابُ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports as a raised narration from the Prophet ﷺ about a seal suspended at the leg of the Throne, sent when kinship is severed, sins are practiced, and boldness is shown toward Allah, sealing the heart beyond understanding. > **"The seal is suspended at the leg of the Throne; when kinship complains and sins are practiced and boldness is shown toward Allah, Allah sends the seal and seals his heart, so he understands nothing thereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ ایک مہر عرش کے پائے کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے ، جب رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے اور گناہوں پر عمل کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے خلاف جرأت کا اظہار کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس مہر کو بھیجتا ہے اور وہ مہر آدمی کے دل پر مہر لگا دیتی ہے ، اس کے بعد اُس ( آدمی ) کو کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن مسلم خشاب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

12152

Majma al-Zawaid #12152

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ عَمِلَ بِالْمَعَاصِي بَيْنَ ظَهْرَانَيْ قَوْمٍ هُو مِنْهُمْ لَمْ يَمْنَعُوهُمْ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يُغَيِّرُوا الْمُنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ هَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports from the Prophet ﷺ that when sins are practiced among a people of whom the doer is one, and they do not prevent it or change evil, the protection of Allah is removed from them. > **"Whoever practices sins among a people of whom he is one, and they do not prevent him from that until they change evil, the protection of Allah is removed from them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کچھ لوگوں کے درمیان گناہوں پر عمل کیا جائے اور وہ لوگ اس سے منع نہ کریں اور برائی کو ختم نہ کریں ، تو ان سے اللہ کا ذمہ ختم ہو جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12153

Majma al-Zawaid #12153

عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّهُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا عَمِلَ فِيهِمُ الْعَامِلُ الْخَطِيئَةَ فَنَهَاهُ النَّاهِي تَعْذِيرًا، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ جَالَسَهُ وَوَاكَلَهُ وَشَارَبَهُ كَأَنَّهُ لَمْ يَرَهُ عَلَى خَطِيئَةٍ بِالْأَمْسِ، فَلَمَّا رَأَى اللَّهُ - تَعَالَى - ذَلِكَ مِنْهُمْ ضَرَبَ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلْتَنْهُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى أَيْدِي الْمُسِيءِ وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا، أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللَّهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ وَيَلْعَنُكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports from the Prophet ﷺ that among Banū Isrāʾīl before them, one who forbade a sinner would the next day sit, eat, and drink with him as if he had not seen him in sin, so Allah joined their hearts and cursed them upon the tongues of Dāwūd and ʿĪsā son of Maryam, and he warned his Ummah to enjoin good, forbid evil, restrain the wrongdoer, and bend him to truth. > **"Among those before you of Banū Isrāʾīl, when a doer practiced sin among them, one who forbade would forbid him as reproof, then the next day he would sit with him and eat with him and drink with him as if he had not seen him in sin yesterday. When Allah the Exalted saw that from them, He joined the hearts of some to others upon the tongue of Dāwūd and ʿĪsā son of Maryam, for they disobeyed and transgressed. By the One in Whose Hand is my soul, you shall enjoin good and you shall forbid evil and you shall seize the hand of the wrongdoer and bend him to truth, or Allah will join the hearts of some of you to others and curse you as He cursed them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں جب کوئی عمل کرنے والا ، کوئی برا کام کرتا تھا ، تو کوئی روکنے والا اسے تعزیر کے طور پر روکتا تھا ، لیکن اگلے دن روکنے والا شخص اُس کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا ، اس کے ساتھ کھاتا پیتا تھا ، یوں جیسے اس نے گزشتہ دن اس کی برائی دیکھی ہی نہیں ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی یہ صورت حال دیکھی ، تو ان کے دل ایک دوسرے کی مانند کر دیے ، اور حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی ان پر لعنت کی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی اور حد سے تجاوز کیا تھا ، اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم لوگ ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ، اور برا کام کرنے والا ہاتھ ضرور پکڑو گے اور اسے حق کی پیروی کرنے پر ضرور مجبور کرو گے ، ورنہ پھر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کو ایک جیسا کر دے گا اور تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا ، جس طرح اس نے اُن لوگوں پر لعنت کی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12154

Majma al-Zawaid #12154

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي تَهَابُ الظَّالِمَ أَنْ تَقُولَ لَهُ: أَنْتَ الظَّالِمُ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ إِسْنَادُ أَحْمَدَ إِلَّا أَنَّهُ وَقَعَ فِيهِ فِي الْأَصْلِ غَلَطٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ speak about his Ummah fearing to name the oppressor as oppressor. > **"When you see my Ummah fearing the oppressor, that they say to him: You are an oppressor, then they have been left without support."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم سے اس حوالے سے خوف زدہ ہے کہ اسے یہ کہے : تم ظالم ہو ، تو پھر ان کی رخصتی کا وقت آ گیا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کی مختلف اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام احمد کی سند کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، البتہ اس کی اصل میں غلطی پائی جاتی ہے ۔

12155

Majma al-Zawaid #12155

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي تَهَابُ الظَّالِمَ أَنْ تَقُولَ لَهُ: أَنْتَ ظَالِمٌ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ هَارُونَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke about his Ummah fearing to name the oppressor as oppressor. > **"When you see my Ummah fearing the oppressor, that they say to him: You are an oppressor, then they have been left without support."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم سے اس بات سے خوف زدہ ہے کہ اسے یہ کہے : تم ظالم ہو ، تو پھر ان کی رخصتی کا وقت آ گیا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سنان بن ہارون ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12156

Majma al-Zawaid #12156

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مَلَكٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَنِ اقْلِبْ مَدِينَةَ كَذَا وَكَذَا عَلَى أَهْلِهَا. قَالَ: إِنَّ فِيهَا عَبْدَكَ فُلَانًا لَمْ يَعْصِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ؟ قَالَ: اقْلِبْهَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ، فَإِنَّ وَجْهَهُ لَمْ يَتَمَعَّرْ فِي سَاعَةٍ قَطُّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ عُبَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَيْفٍ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَ عَمَّارَ بْنَ سَيْفٍ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَجَمَاعَةٌ، وَرَضِيَ أَبُو حَاتِمٍ عُبَيْدَ بْنَ إِسْحَاقَ.

EnglishUnverified translation

Jābir, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ told of Allah's revelation to an angel to overturn a certain city, the angel's mention of a servant who had never disobeyed for a blink, and Allah's command to overturn it upon him and them because his face never changed for His sake. > **"Allah revealed to an angel among the angels: Overturn such and such a city upon its people. He said: In it is Your servant so-and-so who never disobeyed You for a blink? He said: Overturn it upon him and upon them, for his face never changed for a moment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کی طرف یہ وحی کی کہ تم فلاں فلاں شہر کو ، اس کے رہنے والوں پر الٹا دو ، اس فرشتے نے عرض کی : اس شہر میں تیرا فلاں بندہ رہتا ہے ، جس نے پلک جھپکنے کے عرصے کے لئے بھی تیری نافرمانی نہیں کی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس شہر کو اس شخص پر اور ان لوگوں پر الٹا دو ! کیونکہ اُس ( نیک ) شخص کا چہرہ گھڑی بھر کے لئے بھی میری ذات کی خاطر متغیر ( یعنی غضبناک ) نہیں ہوا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبید بن اسحاق عطار کی عمار بن سیف سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، عمار بن سیف کو عبداللہ بن مبارک اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم ، عبید بن اسحاق نامی راوی سے راضی ہیں ۔