وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ أَنَّ جَدَّهُ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبِ بْنِ حَمَاشَةَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ احْتِلَامِهِ، أَوْصَى وَلَدَهُ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، إِيَّاكَ وَمُجَالَسَةَ السُّفَهَاءِ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ، وَمَنْ يَحْلُمْ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرُّ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمْ، وَمَنْ لَا يَرْضَى بِالْقَلِيلِ مِمَّا يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَلْيُوَطِّنْ نَفْسَهُ عَلَى الصَّبْرِ عَلَى الْأَذَى وَيَثِقْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ - تَعَالَى - فَإِنَّهُ مَنْ وَثِقَ بِالثَّوَابِ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَضُرَّهُ مَسُّ الْأَذَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Abū Jaʿfar al-Khaṭmī reports that his grandfather ʿUmayr ibn Ḥabīb ibn Ḥamāshah, raḍiya Allāhu ʿanhu, who had reached the Prophet ﷺ near his maturity, advised his son with counsel against sitting with fools, its harm, forbearance and regret, contentment with little and much, and preparation with patience and trust in reward from Allah the Exalted when enjoining good and forbidding evil, for whoever trusts in reward from Allah, Mighty and Majestic, will not be harmed by affliction. His words were: O my son, beware sitting with fools, for their company is disease; whoever is forbearing toward a fool rejoices, whoever answers him regrets, whoever is not content with little brought by a fool will be content with much; when one of you intends to enjoin good or forbid evil, let him prepare himself for patience over harm and trust in reward from Allah the Exalted, for whoever trusts in reward from Allah, Mighty and Majestic, the touch of harm will not harm him.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوجعفر خطمی بیان کرتے ہیں : ان کے دادا حضرت عمیر بن حبیب بن حماشہ رضی اللہ عنہ ، جنہوں نے بلوغت کے وقت نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے ، اُنہوں نے اپنے بیٹے کو تلقین کی اور یہ کہا : ’’ اے میرے بیٹے ! تم بے وقوف لوگوں کی ہمنشینی سے بچ کے رہنا ، کیونکہ ان کی ہمنشینی ، بیماری ہوتی ہے اور جو شخص بے وقوف شخص کے حوالے سے بردباری اختیار کرے ، وہ ٹھیک رہتا ہے ، جو شخص اُسے جواب دے وہ ندامت کا شکار ہوتا ہے ، اور جو شخص بے وقوف کی لائی ہوئی تھوڑی چیز سے راضی نہیں ہوتا ، وہ زیادہ سے راضی ہو جاتا ہے ، اور جب تم میں سے کوئی شخص نیکی کا حکم دے یا برائی سے منع کرے ، تو اپنے آپ کو تکلیف دہ چیز پر صبر کرنے کے لئے تیار کرے ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب کی توقع رکھے ، کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ثواب پر یقین رکھے گا ، تو تکلیف کا پہنچنا اُسے نقصان نہیں دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔