Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 4

Book of Tribulations

Hadith 12077–12116

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12077

Majma al-Zawaid #12077

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَهُوَ جَالِسٌ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَجَلَسَ شَدَّادٌ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: هَلْ تَدْرِيَانِ مَا يُجْلِسُنِي بَيْنَكُمَا؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا جَمِيعًا فَفَرِّقُوا بَيْنَهُمَا، فَوَاللَّهِ مَا اجْتَمَعَا إِلَّا عَلَى غَدْرَةٍ» ""، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُفَرِّقَ بَيْنَكُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddad ibn Aws, may Allah be pleased with him, reports that he entered upon Muʿawiyah while he sat with ʿAmr ibn al-ʿAs seated on his bedding, so Shaddad sat between them and asked whether they knew why he sat between them, explaining that he had heard the Messenger of Allah ﷺ declare that when they are seen together they should be separated, for by Allah they come together only upon treachery, and that he had therefore wished to separate them. > **"When you see these two together, separate them, for by Allah they come together only upon treachery."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بچھونے پر بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت شداد رضی اللہ عنہ ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور انہوں نے فرمایا : کیا تم دونوں یہ بات جانتے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان کیوں بیٹھا ہوں ؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم لوگ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھو ، تو ان دونوں کو الگ کروا دینا کیونکہ اللہ کی قسم ! یہ دونوں کسی عہد شکنی پر ہی اکٹھے ہوں گے ۔‘‘ ( پھر حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں تم دونوں کو الگ کروا دوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یعلیٰ بن شداد ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12078

Majma al-Zawaid #12078

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَسْتَخْلِفَ يَزِيدَ بَعَثَ إِلَى عَامِلِ الْمَدِينَةِ أَنْ أَوْفِدْ إِلَيَّ مَنْ تَشَاءُ. قَالَ: فَوَفَدَ إِلَيْهِ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَاسْتَأْذَنَ، فَجَاءَ حَاجِبُ مُعَاوِيَةَ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ: هَذَا عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ قَدْ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ. فَقَالَ: مَا حَاجَتُهُمْ إِلَيَّ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، جَاءَ يَطْلُبُ مَعْرُوفَكَ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَلْيَكْتُبْ مَا شَاءَ، فَأُعْطِيهِ مَا شَاءَ وَلَا أَرَاهُ. قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَاجِبُ فَقَالَ: مَا حَاجَتُكَ؟ اكْتُبْ مَا شِئْتَ. فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَجِيءُ إِلَى بَابِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأُحْجَبُ عَنْهُ؟! أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَأُكَلِّمَهُ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْحَاجِبِ: عِدْهُ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ فَلْيَجِئْ. قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى مُعَاوِيَةُ الْغَدَاةَ أَمَرَ بِسَرِيرٍ [فَجُعِلَ] فِي إِيوَانٍ لَهُ، ثُمَّ أَخْرَجَ النَّاسَ عَنْهُ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ أَحَدٌ سِوَى كُرْسِيٍّ وُضِعَ لِعَمْرٍو. فَجَاءَ عَمْرٌو فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَى الْكُرْسِيِّ. فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: حَاجَتَكَ؟ قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: لَعَمْرِي لَقَدْ أَصْبَحَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ وَاسِطَ الْحَسَبِ فِي قُرَيْشٍ غَنِيًّا عَنِ الْمُلْكِ غَنِيًّا إِلَّا عَنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَسْتَرْعِ عَبْدًا رَعِيَّةً إِلَّا وَهُوَ سَائِلُهُ عَنْهَا [كَيْفَ صَنَعَ فِيهَا» "". وَإِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ يَا مُعَاوِيَةَ فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ تَسْتَخْلِفُ عَلَيْهَا] قَالَ: فَأَخَذَ مُعَاوِيَةَ رَبْوُةُ وَأَخَذَ يَتَنَفَّسُ فِي غَدَاةِ قُرٍّ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ وَجْهِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاقَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّكَ امْرُؤٌ نَاصِحٌ، قُلْتَ بِرَأْيِكَ بَالِغَ مَا بَلَغَ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ إِلَّا ابْنِي وَأَبْنَاؤُهُمْ، وَابْنِي أَحَقُّ مِنْ أَبْنَائِهِمْ، حَاجَتَكَ؟ قَالَ: مَا لِي حَاجَةٌ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ لَهُ أَخُوهُ: إِنَّمَا جِئْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نَضْرِبُ أَكْبَادَهَا مِنْ أَجْلِ كَلِمَاتٍ. قَالَ: مَا جِئْتَ إِلَّا لِكَلِمَاتٍ. قَالَ: فَأَمَرَ لَهُمْ بِجَوَائِزِهِمْ. قَالَ: وَخَرَجَ لِعَمْرٍو مِثْلُهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Sirin reports that when Muʿawiyah resolved to appoint Yazid as successor he wrote to his governor of Madinah to send a deputation of whomsoever he wished, so ʿAmr ibn Hazm al-Ansari came as a deputy and sought permission, and Muʿawiyah's chamberlain announced him, but Muʿawiyah asked what need they had of him and, told that he sought his favour, ordered the chamberlain to have him write whatever he wished and be granted it without audience, yet ʿAmr protested that having come to the Commander of the Believers' door he would be veiled from him, insisting on meeting and speaking with him, so Muʿawiyah appointed a morning after dawn prayer on such-and-such a day, and when he had prayed dawn he ordered a couch placed in his portico, cleared the people away so that none remained but a chair set for ʿAmr, admitted him, received his greeting, and asked his need, whereupon ʿAmr praised Allah and declared that Muʿawiyah's son had become of central lineage in Quraysh, needing neither kingship nor any good thing, and reminded him that he had heard the Messenger of Allah ﷺ declare that Allah never entrusts a servant with subjects but will question him over them how he dealt with them, adjuring Muʿawiyah by Allah concerning the community of Muhammad ﷺ in whom he would appoint over them, at which Muʿawiyah was seized with trembling and heavy breathing on a cold morning, wiping sweat from his face thrice before recovering, praising Allah, and answering that ʿAmr was a sincere adviser who had spoken his view to its utmost, but that none remained except his own son and their sons, and his son was worthier than theirs, then asked again his need, and ʿAmr said he had none, while his brother remarked they had travelled from Madinah only for these words, and Muʿawiyah ordered gifts for them, with a like share for ʿAmr. > **"Allah never entrusts a servant with subjects but He will question him over them how he dealt with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے مدینہ منورہ کے گورنر کو خط لکھا کہ تم میری طرف جسے چاہو وفد کی شکل میں بھجواؤ ، راوی بیان کرتے ہیں ، تو حضرت عمرو بن حزم انصاری رضی اللہ عنہ وفد کی شکل میں ان کے پاس گئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربان نے آ کر بتایا کہ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اسے مجھ سے کیا کام ہے ؟ دربان نے بتایا : امیرالمؤمنین وہ آپ سے بھلائی کے حصول کے لئے آئے ہیں ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو تو وہ جو چاہتا ہے تم لکھ کے دے دو اور جو وہ چاہتا ہے وہ اسے دے دو ، میں اسے نہ دیکھوں ، دربان نکل کر ان کے پاس آیا اور بولا : آپ کو کیا کام ہے ، آپ جو چاہتے ہیں ، میں وہ لکھ دیتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ ! میں امیرالمؤمنین کے دروازے پر آیا ہوں ، کیا مجھے ان سے ملنے نہیں دیا جائے گا ، میں ان سے ملنا چاہتا ہوں اور ان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہوں ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دربان سے کہا کہ تم ان کے ساتھ فلاں فلاں دن کا طے کر لو کہ فجر کی نماز کے بعد وہ آ جائیں ، راوی کہتے ہیں جب اس مخصوص دن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز ادا کر لی تو ان کے حکم کے تحت ان کے ایوان میں پلنگ رکھا گیا اور لوگوں کو ان کے پاس سے نکال دیا گیا ، اس وقت ایک کرسی کے علاوہ اور کوئی ان کے پاس نہیں تھا اور وہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے لئے رکھی گئی تھی ، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی ، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا اور پھر وہ کرسی پر بیٹھ گئے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر بولے : ’’ مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی اب یہ حالت ہے کہ وہ قریش میں سب سے بہتر نسب کا مالک ہے اور بادشاہی سے بے نیاز ہے اور ہر قسم کی بھلائی اسے حاصل ہے اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب کوئی بندہ رعایا کا نگران بنتا ہے تو اس سے اس رعایا کے بارے میں حساب لیا جائے گا کہ اس نے رعایا کے بارے میں کیا طریقہ کار اختیار کیا تھا ؟“۔ تو اے حضرت معاویہ ! میں آپ کو حضرت محمد ﷺ کی اُمت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، اس شخص کے حوالے سے ، جسے آپ اس امت کا نگران مقرر کریں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے گہرا سانس لیا ، وہ کچھ دیر تک گہرے سانس لیتے رہے ، پھر انہوں نے اپنے چہرے سے تین مرتبہ پسینہ پونچھا ، پھر ان کی طبیعت بہتر ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر بولے : امابعد ! تم ایک خیرخواہی کرنے والے شخص ہو ، تم نے اپنی رائے کا بھرپور طریقے سے اظہار کیا ہے ، اب صرف میرا بیٹا ہے اور ان لوگوں کے بیٹے باقی رہ گئے ہیں ، اور میرا بیٹا ان لوگوں کے بیٹوں سے زیادہ حق رکھتا ہے ، تمہیں کوئی اور کام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اور کوئی کام نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا : ہم مدینہ منورہ سے سفر کر کے صرف ان چند باتوں کے لئے آئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہم صرف اسی بات کے لئے آئے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو تحفے تحائف دینے کا حکم دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو کے لیے اس کی مانند نکلا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12079

Majma al-Zawaid #12079

وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: هَلَكَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ فُسْتُقَةَ -: وَبَلَغَنِي أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدَ الْخُزَاعِيَّ خَرَجَ هُوَ وَالْمُسَيَّبُ بْنُ نَجَبَةَ الْفَزَارِيُّ فِي أَرْبَعَةِ آلَافٍ، فَعَسْكَرُوا بِالنَّخِيلَةِ يَطْلُبُونَ بِدَمِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَعَلَيْهِمْ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ، وَذَلِكَ لِمُسْتَهَلِّ رَبِيعٍ الْآخِرِ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ، ثُمَّ سَارُوا إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَلَقَوْا مُقَدِّمَتَهُ، فَاقْتَتَلُوا، فَقُتِلَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ وَالْمُسَيَّبُ، وَذَلِكَ لِمُسْتَهَلِّ رَبِيعٍ الْآخِرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Haytham ibn ʿAdi reports that Sulayman ibn Surad died in the year sixty-five, while Muhammad ibn ʿAli, meaning Ibn al-Madini Fustuqah, adds that it reached him that Sulayman ibn Surad al-Khuzaʿi and al-Musayyab ibn Najabah al-Fazari set out with four thousand men, encamped at al-Nukhaylah seeking vengeance for the blood of al-Husayn ibn ʿAli under the command of Sulayman ibn Surad at the opening of Rabiʿ al-Akhir in the year sixty-five, then marched against ʿUbaydullah ibn Ziyad, met his vanguard, fought, and both Sulayman ibn Surad and al-Musayyab were killed at the opening of Rabiʿ al-Akhir.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : سلیمان بن صرد کا انتقال پینسٹھ ہجری میں ہوا تھا ۔ محمد بن علی مدینی کہتے ہیں : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ سلیمان بن صرد خزاعی اور مسیب بن نجوہ فزاری چار ہزار کا لشکر لے کر نکلے ، انہوں نے نخیلہ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، یہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلے کے طلبگار تھے ، سلیمان بن صرد ان کا امیر تھا ، یہ ربیع الثانی پینسٹھ ہجری کے پہلی کے چاند کے آس پاس کی بات ہے ، پھر وہ لوگ نکل کر عبیداللہ بن زیاد کی طرف گئے ، ان کا سامنا اس کے ہر اول دستے سے ہوا ، انہوں نے آپس میں جنگ کی اور ربیع الثانی کے آخر میں سلیمان بن صرد اور مسیب مارے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

12080

Majma al-Zawaid #12080

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ - يَعْنِي ابْنَ رُمَّانَةَ - أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِيَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ: قَدْ وَطَّأْتُ لَكَ الْبِلَادَ، وَفَرَشْتُ لَكَ النَّاسَ، وَلَسْتُ أَخَافُ عَلَيْكُمْ إِلَّا أَهْلَ الْحِجَازِ، فَإِنْ رَابَكَ مِنْهُمْ رَيْبٌ فَوَجِّهْ إِلَيْهِمْ مُسْلِمَ بْنَ عُقْبَةَ الْمُرِّيَّ، فَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ فَلَمْ أَجِدْ لَهُ مِثْلًا لِطَاعَتِهِ وَنَصِيحَتِهِ. فَلَمَّا جَاءَ يَزِيدَ خِلَافُ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَدُعَاؤُهُ إِلَى نَفْسِهِ دَعَا مُسْلِمَ بْنَ عُقْبَةَ الْمُرِّيَّ وَقَدْ أَصَابَهُ الْفَالِجُ، وَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَهِدَ إِلَيَّ فِي مَرَضِهِ إِنْ رَابَنِي مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ رَائِبٌ أَنْ أُوَجِّهَكَ إِلَيْهِمْ، وَقَدْ رَابَنِي. فَقَالَ: إِنِّي كَمَا ظَنَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، اعْقِدْ لِي وَعَبِّ الْجُيُوشَ. قَالَ: فَوَرَدَ الْمَدِينَةَ فَأَنَاخَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى بَيْعَةِ يَزِيدَ، إِنَّهُمْ أَعْبُدٌ لَهُ قِنٌّ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَمَعْصِيَتِهِ، فَأَجَابُوهُ إِلَى ذَلِكَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا مِنْ قُرَيْشٍ أُمُّهُ أُمُّ وَلَدٍ، فَقَالَ لَهُ: بَايِعْ لِيَزِيدَ عَلَى أَنَّكَ عَبْدٌ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَمَعْصِيَتِهِ. قَالَ: لَا، بَلْ فِي طَاعَةِ اللَّهِ. فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ ذَلِكَ مِنْهُ وَقَتَلَهُ. فَأَقْسَمَتْ أُمُّهُ قَسَمًا لَئِنْ أَمْكَنَهَا اللَّهُ مِنْ مُسْلِمٍ حَيًّا أَوْ مَيِّتًا أَنْ تَحْرِقَهُ بِالنَّارِ. فَلَمَّا خَرَجَ مُسْلِمُ بْنُ عُقْبَةَ مِنَ الْمَدِينَةِ اشْتَدَّتْ عِلَّتُهُ فَمَاتَ. فَخَرَجَتْ أُمُّ الْقُرَشِيِّ بِأَعْبُدٍ لَهَا إِلَى قَبْرِ مُسْلِمٍ، فَأَمَرَتْ بِهِ أَنْ يُنْبَشَ مِنْ عِنْدِ رَأْسِهِ، فَلَمَّا وَصَلُوا إِلَيْهِ إِذَا ثُعْبَانٌ قَدِ الْتَوَى عَلَى عُنُقِهِ قَابِضًا بِأَرْنَبَةِ أَنْفِهِ يَمُصُّهَا. قَالَ: فَكَاعَ الْقَوْمُ عَنْهُ وَقَالُوا: يَا مَوْلَاتِنَا، انْصَرِفِي فَقَدْ كَفَاكِ اللَّهُ شَرَّهُ، وَأَخْبَرُوهَا. قَالَتْ: لَا، أَوْ أَفِي لِلَّهِ بِمَا وَعَدْتُهُ، ثُمَّ قَالَتْ: انْبِشُوا مِنْ عِنْدِ الرِّجْلَيْنِ، فَنَبَشُوا فَإِذَا الثُّعْبَانُ لَاوٍ ذَنَبَهُ بِرِجْلَيْهِ. قَالَ: فَتَنَحَّتْ فَصَلَّتْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا غَضِبْتُ عَلَى مُسْلِمِ بْنِ عُقْبَةَ الْيَوْمَ لَكَ فَخَلِّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ تَنَاوَلَتْ عُودًا فَمَضَتْ إِلَى ذَنَبِ الثُّعْبَانِ فَانْسَلَّ مِنْ مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَبْرِ، ثُمَّ أَمَرَتْ بِهِ فَأُخْرِجَ مِنَ الْقَبْرِ فَأُحْرِقَ بِالنَّارِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَابْنُ رُمَّانَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Saʿid, meaning Ibn Rummanah, reports that when death approached Muʿawiyah he told Yazid ibn Muʿawiyah that he had smoothed the lands and peoples for him and feared for him only the people of the Hijaz, so if any suspicion arose from them he should send Muslim ibn ʿUqbah al-Murri against them, for he had tried him repeatedly and found none like him in obedience and counsel, and that when the defiance of Ibn al-Zubayr and his call to himself reached Yazid, he summoned Muslim ibn ʿUqbah al-Murri, who suffered from paralysis, reminded him of the Commander of the Believers' covenant in his illness to send him if any suspicion arose from the Hijaz, and was answered that he was as the Commander of the Believers supposed, so Yazid should appoint him and mobilize the armies, and Muslim then came to Madinah, halted there three days, summoned them to pledge Yazid as owned bondsmen in obedience to Allah and in disobedience, and they complied except one Qurashi man born of a slave mother, who refused except in obedience to Allah, so Muslim refused to accept it from him and killed him, whereupon the man's mother swore that if Allah empowered her over Muslim, alive or dead, she would burn him with fire, and when Muslim left Madinah his illness worsened and he died, so the Qurashi's mother went with her slaves to Muslim's grave, ordered it dug from the head side, and when they reached him they found a serpent coiled about his neck seizing the tip of his nose and sucking it, and though the people shrank back and told her Allah had sufficed her against his evil, she insisted on fulfilling her vow to Allah, ordered digging from the feet, and they found the serpent trailing its tail about his legs, so she withdrew, prayed two cycles, supplicated that if her anger at Muslim ibn ʿUqbah was for Allah's sake He should let her at him, then took a stick to the serpent's tail until it slipped from behind his head and left the grave, after which she ordered him taken out and burned with fire.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سعید بن رمانہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے یزید بن معاویہ سے کہا : میں نے تمہارے لئے شہروں کو زیرنگیں کر دیا ہے اور لوگوں کو تمہارے لئے پابند کر دیا ہے ، مجھے تمہارے بارے میں صرف اہل حجاز کے حوالے سے اندیشہ ہے ، اگر تمہیں ان کی طرف سے کوئی مشکوک صورت حال نظر آئے ، تو تم مسلم بن عقبہ مری کو ان کی طرف بھیجنا ، کیونکہ میں اسے ایک سے زیادہ مرتبہ آزما چکا ہوں ، اطاعت و فرمانبرداری اور خیرخواہی کے حوالے سے مجھے اس جیسا شخص اور نہیں ملتا ، راوی کہتے ہیں : جب یزید کو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے اختلاف کا پتہ چلا کہ وہ کیسے اپنی حکومت کی طرف دعوت دے رہے ہیں ، تو اس نے مسلم بن عقبہ مری کو بلایا اس شخص کو فالج ہو چکا تھا ، یزید نے کہا : امیرالمؤمنین نے اپنی بیماری کے دوران مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اگر مجھے اہل حجاز کی طرف سے کوئی مشکوک صورت حال نظر آئے ، تو میں تمہیں ان کی طرف بھیجوں ، تو مجھے یہ صورت حال نظر آ گئی ہے ، تو مسلم بن عقبہ نے کہا : میں ویسا ہی ہوں جس طرح امیرالمؤمنین کا گمان ہے ، آپ میرے لئے لشکر تیار کروائیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ مدینہ منورہ میں تین دن مقیم رہا ، اس نے لوگوں کو یزید کی بیعت کرنے کی دعوت دی کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور معصیت ، ہر معاملے میں یزید بن معاویہ کے حکم کے پابند ہوں گے ، لوگوں نے اس کی بات مان لی ، قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اس کی بات نہیں مانی ، اس شخص کی ماں ایک اُم ولد تھی ، انہوں نے اس سے کہا : تم یزید کی بیعت اس بات پر لے رہے ہو کہ تم اللہ کی اطاعت اور نافرمانی ، ہر حالت میں اس کے غلام ہو ؟ تو اس شخص نے کہا : جی نہیں ! بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے بارے میں ، میں اس کی پیروی کروں گا ، اس نے یہ بات قبول کرنے سے انکار کیا ، تو مسلم بن عقبہ نے اسے قتل کروا دیا ۔ اس شخص کی ماں نے یہ قسم اٹھائی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مسلم پر اسے قابو دیا ، خواہ اس وقت مسلم زندہ ہو یا مردہ ہو ، تو وہ عورت مسلم کو آگ کے ذریعے جلائے گی ، جب مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ سے نکلا اور اس کی بیماری شدید ہو گئی اور وہ مر گیا ، تو اس قریشی شخص کی ماں اپنے غلاموں کو لے کر مسلم کی قبر کے پاس آئی ، اس نے حکم دیا کہ سرہانے کی طرف سے مسلم کی قبر کو کھودا جائے ، جب وہ لوگ مسلم کی لاش کے پاس پہنچے تو وہاں ایک سانپ موجود تھا ، جس نے اس کی گردن کو لپیٹا ہوا تھا اور وہ اس کے ناک کو چوس رہا تھا ، لوگ ڈر گئے ، انہوں نے کہا : اے ہماری مالکن ! آپ واپس چلی جائیں ، کیونکہ اس شخص کے شر کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کر دی ہے ، ان لوگوں نے اس خاتون کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو اس عورت نے کہا : جی نہیں ، میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا کروں گی ، پھر اس عورت نے کہا : پاؤں کی طرف سے اس کی قبر کھودو ! ان لوگوں نے اس کی قبر کھودی ، تو ایک سانپ اس کے دونوں پاؤں سے بھی لپٹا ہوا تھا ، راوی کہتے ہیں : اس خاتون نے ایک طرف ہٹ کر دو رکعت ادا کیں اور پھر عرض کی : اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ تو نے آج مسلم بن عقبہ پر اپنے غضب کا اظہار کر دیا ہے ، تو اب مجھے بھی اس کا موقع دے ، پھر اس عورت نے ایک لکڑی پکڑی اور اس کے ذریعے سانپ کی دم کو ہٹایا ، تو وہ سر کے پچھلی طرف سے کھسک گیا اور قبر کی بائیں طرف سے باہر نکل گیا ، پھر اس عورت نے مسلم کے بارے میں حکم دیا ، تو اس کی لاش کو قبر سے نکالا گیا اور پھر آگ کے ذریعے جلا دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن عبدالرحمن ذماری ہے ، جسے ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا ہے ، ابن رمانہ نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12081

Majma al-Zawaid #12081

وَعَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ مُمَّعِطَ اللِّحْيَةِ، فَقَالَ: تَعْبَثُ بِلِحْيَتِكَ؟ قَالَ: لَا، هَذَا مَا رَأَيْتُ مِنْ ظَلَمَةِ أَهْلِ الشَّامِ، دَخَلُوا عَلَيَّ زَمَانَ الْحَرَّةِ، فَأَخَذُوا مَا كَانَ فِي الْبَيْتِ مِنْ مَتَاعٍ أَوْ خُرْثِيٍّ، ثُمَّ دَخَلَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى فَلَمْ يَجِدُوا فِي الْبَيْتِ شَيْئًا فَأَسِفُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ، فَقَالُوا: أَضْجِعُوا الشَّيْخَ، فَأَضْجَعُونِي، فَجَعَلَ كُلٌّ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِي خَصْلَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو هَارُونَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Harun al-ʿAbdi reports that he saw Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, with his beard plucked out, and when he asked whether he toyed with his beard, Abu Saʿid answered no, but that this was what he had suffered from the oppressors of Syria, who entered upon him in the days of al-Harrah, seized whatever furnishings were in the house, and when a second party found nothing and grieved to leave empty-handed, they ordered the elder laid down, laid him down, and each man tore a lock from his beard.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوہارون عبدی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اُن کے داڑھی کے بال گر چکے ہوئے تھے ، راوی نے کہا : کیا آپ اپنی داڑھی کے ساتھ کھیلتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی نہیں ! اہل شام سے تعلق رکھنے والے ظالم لوگوں کی طرف سے مجھے اس کا سامنا کرنا پڑا ، واقعہ حرہ کے زمانے میں وہ میرے گھر میں آئے ، انہوں نے گھر میں موجود سب مال و اسباب لوٹ لیا ، پھر دوسرا گروہ گھر میں آیا تو انہیں گھر میں کچھ نہیں ملا ، انہیں اس بات پر افسوس ہوا کہ وہ کچھ لیے بغیر واپس جائیں گے ، تو انہوں نے کہا : اس بڈھے کو لٹاؤ ! تو انہوں نے مجھے لٹا دیا ، اور ان میں سے ہر ایک نے میری داڑھی کے بال نوچے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوہارون نامی راوی متروک ہے ۔

12082

Majma al-Zawaid #12082

وَعَنْ إِيَادِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: كَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْبَيْعَةِ، فَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ، فَظَنَّ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ إِنَّمَا امْتَنَعَ عَلَيْهِ لِمَكَانِهِ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ: [ابْنَ عَبَّاسٍ] أَمَّا بَعْدُ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ الْمُلْحِدَ ابْنَ الزُّبَيْرِ دَعَاكَ إِلَى بَيْعَتِهِ لِيُدْخِلَكَ فِي طَاعَتِهِ فَتَكُونَ عَلَى الْبَاطِلِ ظَهِيرًا، وَفِي الْمَأْثَمِ شَرِيكًا، فَامْتَنَعْتَ عَلَيْهِ، وَانْقَبَضْتَ لِمَا عَرَّفَكَ اللَّهُ فِي نَفْسِكَ مِنْ حَقِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَجَزَاكَ اللَّهُ أَفْضَلَ مَا جَزَى الْوَاصِلِينَ عَنْ أَرْحَامِهِمُ الْمُوفِينَ بِعُهُودِهِمْ، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَنْ أَنْسَى بِرَّكَ وَصِلَتَكَ، وَحُسْنَ جَائِزَتِكَ الَّتِي أَنْتَ أَهْلُهَا فِي الطَّاعَةِ، وَالشَّرَفِ، وَالْقَرَابَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْظُرْ مَنْ قِبَلَكَ مِنْ قَوْمِكَ وَمَنْ يَطْرَأُ عَلَيْكَ مِنْ أَهْلِ الْآفَاقِ مِمَّنْ يَسْحَرُهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِلِسَانِهِ، وَزُخْرُفِ قَوْلِهِ، فَخَذِّلْهُمْ عَنْهُ، فَإِنَّهُمْ لَكَ أَطْوَعُ، وَمِنْكَ أَسْمَعُ مِنْهُمْ لِلْمُلْحِدِ، وَالْخَارِقِ الْمَارِقِ، وَالسَّلَامُ. فَكَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ جَاءَنِي كِتَابُكَ، تَذْكُرُ فِيهِ دُعَاءَ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِيَّايَ لِلَّذِي دَعَانِي إِلَيْهِ، وَأَنِّي امْتَنَعْتُ عَلَيْهِ مَعْرِفَةً لِحَقِّكَ، فَإِنْ يَكُنْ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَلَسْتُ بِرَّكَ أَرْجُو بِذَلِكَ، وَلَكِنَّ اللَّهَ بِمَا أَنْوِي بِهِ عَلِيمٌ. وَكَتَبْتَ إِلَيَّ أَنْ أَحُثَّ النَّاسَ عَلَيْكَ وَأَخْذُلَهُمْ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَلَا وَلَا سُرُورَ وَلَا حُبُورَ، بِفِيكَ الْكَثْكَثُ، وَلَكَ الْأَثْلَبُ، إِنَّكَ الْعَازِبُ إِنْ مَنَّتْكَ نَفْسُكَ، وَإِنَّكَ لَأَنْتَ الْمَفْقُودُ الْمَثْبُورُ. وَكَتَبْتَ إِلَيَّ بِتَعْجِيلِ بِرِّي وَصِلَتِي، فَاحْبِسْ أَيُّهَا الْإِنْسَانُ عَنِّي بِرَّكَ وَصِلَتَكَ، فَإِنِّي حَابِسٌ عَنْكَ وُدِّي وَنُصْرَتِي، وَلَعَمْرِي مَا تُعْطِينَا مِمَّا فِي يَدِكَ لَنَا إِلَّا الْقَلِيلَ وَتَحْبِسُ مِنْهُ الطَّوِيلَ الْعَرِيضَ، لَا أَبَا لَكَ، أَتُرَانِي أَنْسَى قَتْلَكَ حُسَيْنًا وَفِتْيَانَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مَصَابِيحَ الدُّجَى وَنُجُومَ الْأَعْلَامِ، وَغَادَرَتْهُمْ خُيُولُكَ بِأَمْرِكَ فَأَصْبَحُوا مُصْرَعِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، مُزَمَّلِينَ بِالدِّمَاءِ، مَسْلُوبِينَ بِالْعَرَاءِ، لَا مُكَفَّنِينَ وَلَا مُوَسَّدِينَ، تُسَفِّيهُمُ الرِّيَاحُ، وَتَغْزُوهُمُ الذِّئَابُ، وَتَنْتَابُهُمْ عُرْجُ الضِّبَاعِ، حَتَّى أَتَاحَ اللَّهُ لَهُمْ قَوْمًا لَمْ يُشْرِكُوا فِي دِمَائِهِمْ فَكَفَّنُوهُمْ وَأَجْنَوْهُمْ، وَبِهِمْ وَاللَّهِ وَبِي مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، فَجَلَسْتَ فِي مَجْلِسِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْلِيطَكَ عَلَيْهِمُ الدَّعِيَّ ابْنَ الدَّعِيِّ الَّذِي كَانَ لِلْعَاهِرَةِ الْفَاجِرَةِ، الْبَعِيدَ رَحِمًا، اللَّئِيمَ أَبًا وَأُمًّا، الَّذِي اكْتَسَبَ أَبُوكَ فِي ادِّعَائِهِ لَهُ الْعَارَ وَالْمَأْثَمَ وَالْمَذَلَّةَ وَالْخِزْيَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» "". وَإِنَّ أَبَاكَ يَزْعُمُ أَنَّ الْوَلَدَ لِغَيْرِ الْفِرَاشِ وَلَا يَضِيرُ الْعَاهِرَ، وَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهُ كَمَا يَلْحَقُ وَلَدُ الْبَغِيِّ الرَّشِيدُ، وَلَقَدْ أَمَاتَ أَبُوكَ السُّنَّةَ جَهْلًا، وَأَحْيَا الْأَحْدَاثَ الْمُضِلَّةَ عَمْدًا. وَمَهْمَا أَنْسَ مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْيِيرَكَ حُسَيْنًا مِنْ حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَرَمِ اللَّهِ، وَتَسْيِيرَكَ إِلَيْهِ الرِّجَالَ، وَادِّسَاسَكَ إِلَيْهِمْ أَنْ يُدْرِيَكُمْ، فَعَالَجُوهُ فَمَا زِلْتَ بِذَلِكَ وَكَذَلِكَ حَتَّى أَخْرَجْتَهُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ الْكُوفَةِ، تَزْأَرُ بِهِ إِلَيْهِ خَيْلُكَ وَجُنُودُكَ زَئِيرَ الْأَسَدِ، عَدَاوَةً مِنْكَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلَأَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَى ابْنِ مَرْجَانَةَ يَسْتَقْبِلُهُ بِالْخَيْلِ وَالرِّجَالِ وَالْأَسِنَّةِ وَالسُّيُوفِ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَيْهِ بِمُعَالَجَتِهِ وَتَرْكِ مُطَاوَلَتِهِ حَتَّى قَتَلْتَهُ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ فِتْيَانِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِيرًا، نَحْنُ كَذَلِكَ لَا كَآبَائِكَ [الْأَجْلَافِ] الْجُفَاةِ أَكْبَادِ الْحَمِيرِ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ كَانَ أَعَزَّ أَهْلِ الْبَطْحَاءِ بِالْبَطْحَاءِ قَدِيمًا وَأَعَزَّهُ بِهَا حَدِيثًا، لَوَّثُوا الْحَرَمَيْنِ مَقَامًا، وَاسْتَحَلَّ بِهَا قِتَالًا، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْتَحِلُّ [بِهِ] حَرَمَ اللَّهِ وَحَرَمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحُرْمَةَ الْبَيْتِ الْحَرَامِ، [فَطَلَبَ إِلَيْكُمْ الْحُسَيْنُ الْمُوَادَعَةَ وَسَأَلَكُمُ الرَّجْعَةَ فَاغْتَنَمْتُمْ] قِلَّةَ أَنْصَارِهِ وَاسْتِئْصَالَ أَهْلِ بَيْتِهِ، كَأَنَّكُمْ تَقْتُلُونَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ التُّرْكِ أَوْ كَابُلَ. وَكَيْفَ تَجِدُنِي عَلَى وُدِّكَ، وَتَطْلُبُ نَصْرِي، وَقَدْ قَتَلْتَ بَنِي أَبِي، وَسَيْفُكَ يَقْطُرُ مِنْ دَمِي، وَأَنْتَ تَطْلُبُ ثَأْرِي، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا يُطِلُّ إِلَيْكَ دَمِي، وَلَا تَسْبِقُنِي بِثَأْرِي، وَإِنْ تَسْبِقْنَا بِهِ فَقَبِلْنَا مَا قُتِلَتِ النَّبِيُّونَ [وَآلُ النَّبِيِّينَ]، فَطَلَبَ دِمَاءَهُمْ فِي الدِّمَاءِ، وَكَانَ الْمُوعِدَ اللَّهُ، وَكَفَى بِاللَّهِ لِلْمَظْلُومِينَ نَاصِرًا مِنَ الظَّالِمِينَ مُنْتَقِمًا. وَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ مَا عِشْتَ يُرِيكَ الدَّهْرُ الْعَجَبَ، حَمْلَكَ بَنَاتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَحَمْلَكَ أَبْنَاءَهُمْ أُغَيْلِمَةً صِغَارًا إِلَيْكَ بِالشَّامِ، تُرِي النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ قَهَرْتَنَا وَأَنَّكَ تُذِلُّنَا، وَبِهِمْ وَاللَّهِ وَبِي مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ وَأُمِّكَ مِنَ السِّبَاءِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُصْبِحُ وَتُمْسِي آمِنًا لِجِرَاحِ يَدِي وَلَيَعْظُمَنَّ جَرْحُكَ بِلِسَانِي وَبَنَانِي وَنَقْضِي وَإِبْرَامِي، لَا يَسْتَغِرَّنَّكَ الْجَدَلُ، فَلَنْ يُمْهِلَكَ اللَّهُ بَعْدَ قَتْلِكَ عِتْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَأْخُذَكَ اللَّهُ أَخْذًا أَلِيمًا، وَيُخْرِجَكَ مِنَ الدُّنْيَا آثِمًا مَذْمُومًا، فَعِشْ لَا أَبَا لَكَ مَا شِئْتَ فَقَدْ أَرْدَاكَ عِنْدَ اللَّهِ مَا اقْتَرَفْتَ. لَمَّا قَرَأَ يَزِيدُ الرِّسَالَةَ قَالَ: لَقَدْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُنْصَبَّا عَلَى الشَّرِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Iyad ibn al-Walid reports that ʿAbdullah ibn al-Zubayr wrote to Ibn ʿAbbas concerning allegiance but Ibn ʿAbbas refused to pledge him, so Yazid ibn Muʿawiyah supposed the refusal was on his own account and wrote to Ibn ʿAbbas that the heretic Ibn al-Zubayr had invited him to his allegiance to make him a helper in falsehood and a partner in sin, but that Ibn ʿAbbas had refused out of recognition of the rights of Yazid's household, for which Allah would reward him as He rewards those who join kinship and fulfil covenants, and that whatever else he forgot he would never forget Ibn ʿAbbas's kindness, kinship, handsome gift, obedience, honour, and kinship to the Messenger of Allah ﷺ, urging him to dissuade his people and visitors from distant lands whom Ibn al-Zubayr had bewitched with his tongue and embellished speech, since they obeyed Ibn ʿAbbas more readily than that heretical, divisive renegade, and Ibn ʿAbbas replied that his letter had reached him with its claim that Ibn al-Zubayr's invitation had been refused out of recognition of Yazid's right, but even were it so he sought no favour thereby and Allah knew his intention, and as for urging the people toward Yazid and deterring them from Ibn al-Zubayr, never would there be joy therein, but dust in Yazid's mouth and ruin upon him, a lonely outcast deluded by his soul, lost and accursed, and as for hastening favour and kinship, Yazid should withhold his favour since Ibn ʿAbbas would withhold his affection and support, for whatever Yazid gave from what was in his hands was little while he withheld the broad and ample, and how could he forget Yazid's killing of Husayn and the youths of Banu ʿAbd al-Muttalib, lamps of darkness and stars of battalions, left by his horses at his command fallen in one plain, shrouded in blood, stripped in the open, neither shrouded nor pillowed, swept by winds, preyed upon by wolves and limping hyenas, until Allah brought a people innocent of their blood who shrouded and buried them, and by them and by Ibn ʿAbbas himself Allah had favoured Yazid so that he sat in his present seat, and whatever else he forgot he would never forget Yazid's empowering over them the claimant son of a claimant, born of an adulterous profligate woman, distant in kinship, base in father and mother, through whose claimed paternity Yazid's father earned disgrace, sin, abasement, and shame in this world and the next, since the Messenger of Allah ﷺ had declared that the child belongs to the bed and the adulterer gets the stone, whereas Yazid's father claimed the child for other than the bed, and had killed the prophetic practice in ignorance while reviving misleading innovations deliberately, nor would he forget Yazid's driving of Husayn from the sanctuary of the Messenger of Allah ﷺ to the sanctuary of Allah, sending men against him and instigating them, pursuing him until he was driven from Makkah to Kufa with horses and troops roaring at him like lions, out of enmity toward Allah, His Messenger, and his household, then writing to Ibn Marjanah to confront him with cavalry, men, spears, and swords, then ordering his prosecution without delay until he and the youths of Banu ʿAbd al-Muttalib of the household, whom Allah had purified, were killed, not like Yazid's coarse forefathers, and Husayn had been the mightiest of the valley's people of old and of recent times, who defiled neither sanctuary by settling nor by fighting therein, but refused to be the one to violate Allah's sanctuary, the sanctuary of His Messenger ﷺ, and the inviolable House, while Husayn had sought truce and asked to return, but they exploited his few helpers and the extermination of his household as though slaying a household of Turks or Kabul, and how could Ibn ʿAbbas befriend Yazid or grant him support while Yazid had killed his father's sons with his sword dripping from his own blood while demanding his vengeance, for Allah willing his blood would not go unavenged, and if they were preceded therein, prophets and the families of prophets had been killed before and their blood sought, with Allah as the tryst and sufficient as avenger for the oppressed, and most wondrous of all was Yazid's carrying of the daughters of ʿAbd al-Muttalib and their little children to Syria to display them as conquered and humiliated, though by them and by Ibn ʿAbbas Allah had favoured Yazid and his parents from captivity, and Yazid might pass mornings and evenings safe from Ibn ʿAbbas's hand but his tongue, pen, censure, and resolve would wound him grievously, and disputation should not delude him, for Allah would grant him only brief respite after killing the progeny of the Messenger of Allah ﷺ before seizing him painfully and expelling him from the world sinful and blameworthy, so let him live as he wished, for his deeds had already destroyed him with Allah, and when Yazid read the letter he remarked that Ibn ʿAbbas had long been bent upon evil. > **"The child belongs to the bed, and the adulterer gets the stone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایاد بن ولید بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیعت کے حوالے سے خط لکھا ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا ، یزید بن معاویہ یہ سمجھا کہ انہوں نے اُس ( یعنی یزید بن معاویہ ) کی وجہ سے انکار کیا ہے ، تو یزید نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا ، جس میں یہ تحریر تھا : ( اے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ! ) امابعد ! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ ابن زبیر ملحد نے آپ کو اپنی بیعت کرنے کی دعوت دی تھی ، تاکہ وہ آپ کو اپنی اطاعت میں داخل کرے ، اور آپ باطل کے مددگار بن جائیں ، اور گناہ میں حصے دار ہو جائیں ، لیکن آپ نے انکار کر دیا اور ہاتھ پیچھے کر لیا ، کیونکہ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے من میں ہمارے حق کی معرفت داخل کر دی ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو وہ سب سے اچھی جزا عطا فرمائے ، جو جزا وہ صلہ رحمی کرنے والوں اور اپنے عہد کو پورا کرنے والوں کو دیتا ہے ۔ ہو سکتا ہے میں بہت سی چیزیں بھول جاؤں ، لیکن میں آپ کی اچھائی ، آپ کی صلہ رحمی اور آپ کی مہربانی کو نہیں بھولوں گا ، اطاعت ، شرف اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ قرابت کے حوالے سے آپ اس کے اہل ہیں ۔ آپ اپنی طرف موجود اپنی قوم اور دور دراز کے علاقوں سے جو لوگ آپ کے پاس آتے ہیں ، آپ ان کا جائزہ لیں ، کہ جنہیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی زبان کے ذریعے اپنی آراستہ جھوٹی گفتگو سے مسحور کیا ہوا ہے ، آپ ان لوگوں کو اس سے الگ کروا دیں ، کیونکہ اس ملحد ، دراڑ ڈالنے والے باغی کے مقابلے میں ، لوگ آپ کے زیادہ فرمانبردار ہیں ، اور آپ کی بات زیادہ سنتے ہیں ، والسلام ! حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُس کو ( جوابی خط میں ) لکھا : امابعد ! تمہارا خط مجھے ملا ، جس میں تم نے یہ ذکر کیا کہ ابن زبیر نے مجھے دعوت دی ، اس چیز کی ، جس کی اس نے مجھے دعوت دی اور میں نے تمہارے حق کی معرفت کی وجہ سے اس کو انکار کر دیا ، اگر یہ بات اسی طرح ہوتی ، تو بھی میں اس کے ذریعے تمہاری طرف سے کسی مہربانی کی توقع نہ رکھتا ، بلکہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں میری نیت کے بارے میں بہتر جانتا ہے ، تم نے مجھے یہ تحریر کیا : کہ میں لوگوں کو تمہارے بارے میں ترغیب دوں اور انہیں ابن زبیر سے ہٹا دوں ، تو یہ نہیں ہو گا ، نہ یہ خوشی کی بات ہے اور نہ ہی اچھائی کی ہے ، تمہارے منہ میں خاک ہو ، تمہیں پتھر ملیں ، اگر تمہارا نفس تم پر مہربانی کر دے ، تو تم دور کے فرد ہو ، اور تم ایک گمشده ، برباد شدہ فرد ہو ۔ تم نے مجھے میرے ساتھ اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں جلدی کرنے کے حوالے سے جو لکھا ہے ، تو اے فرد ! تم اپنی اچھائی اور صلہ رحمی ( مجھ سے ) دور ہی رکھو ! اور میں نے بھی اپنی محبت اور نصرت تم سے روک کے ہی رکھی ہوئی ہے ۔ اور میری عمر کی قسم ، تم اپنے ہاتھ میں موجود چیزوں میں سے جو کچھ بھی دو گے ، وہ تھوڑا ہو گا اور اس میں سے بہت سے لمبے چوڑے حصے کو تم روک لو گے ، تمہارا باپ نہ رہے ، کیا تم میرے بارے میں یہ سمجھتے ہو ؟ کہ میں یہ بات بھول جاؤں گا کہ تم نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور خاندان عبدالمطلب کے نوجوانوں کو شہید کروایا ہے ، جو اندھیرے میں چراغ اور روشن ستاروں کی حیثیت رکھتے تھے ، اور تمہارے حکم سے تمہارے گھڑ سواروں نے اُن کی لاشوں کی بے حرمتی کی ، اور وہ ایک میدان میں یوں پڑے ہوئے تھے کہ انہوں نے خون کی چادریں اوڑھی ہوئی تھیں ، انہیں رسیوں سے باندھ دیا گیا تھا ، نہ انہیں کفن دیا گیا اور نہ انہیں ٹیک دی گئی ، ہوائیں ان پر گرد اڑاتی رہیں ، بھیڑیے اُن کے پاس آتے رہے ، بجو انہیں نوچتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے پاس ایک ایسی قوم کو لے کر آ گیا ، جو اُن کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں رکھتے تھے ، اور ان لوگوں نے اُن ( شہداء ) کے کفن دفن کا انتظام کیا ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ احسان کیا کہ تم اس مقام پر موجود ہو ، جو تمہاری حیثیت ہے ، میں ہر چیز بھول سکتا ہوں ، لیکن میں یہ بات نہیں بھول سکتا کہ تم نے اُن لوگوں پر ایک ایسے شخص کو مسلط کیا ، جو نطفہ ناتحقیق ہے ، جو ایک گناہگار زانیہ کا بیٹا ہے ، رحم ( یا رشتہ داری ) کے حوالے سے دور ہے ، اور ماں باپ کے حوالے سے کمتر ہے ، یہ وہ شخص ہے کہ تمہارے والد نے اس کا دعویٰ کر کے دنیا و آخرت میں اپنے لیے شرمندگی ، گناہ اور ذلت کمائی ہے ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بچہ فراش والے کا شمار ہوتا ہے ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ( یا پتھر ) ملتا ہے ۔‘‘ اور تمہارے والد یہ گمان کرتے تھے کہ بچہ فراش والے کے علاوہ کو بھی دیا جا سکتا ہے ، اور زنا کرنے والے کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے ، اور اس کا ( ناجائز ) بچہ ، اس کے ساتھ لاحق کر دیا جائے ، جس طرح فاحشہ کے بچے کو نیک آدمی کے ساتھ لاحق کیا جاتا ہے ، تو تمہارے والد نے جہالت کی وجہ سے سنت کو موت دی ، اور جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی بدعتیں پیدا کیں ۔ میں بہت سی چیزیں بھول سکتا ہوں ، لیکن یہ بات نہیں بھول سکتا کہ تم نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول ﷺ کے حرم سے اللہ تعالیٰ کے حرم کی طرف جانے پر مجبور کیا اور پھر تم نے ان کی طرف اپنے آدمی اور سازشی لوگ بھیجے ، کہ اگر صورتحال قابو سے باہر ہوئی تو تم لوگ انہیں سنبھال لینا ، اور تم مسلسل اُن کے ساتھ ایسا کرتے رہے ، یہاں تک کہ تم نے انہیں مکہ سے نکل کر کوفہ کی سرزمین کی طرف جانے پر مجبور کر دیا ، جہاں تم نے اپنے شہوار اور لشکر ان کی گھات میں یوں تیار رکھے تھے ، جیسے شیر گھات میں ہوتا ہے ، اور یہ سب کچھ تمہاری اُس عداوت کی وجہ سے تھا ، جو عداوت اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ﷺ اور ان ( یعنی رسول ﷺ ) کے اہل بیت کے لیے تھی ۔ پھر تم نے ابن مرجانہ کو خط لکھا اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ اپنے گھڑ سواروں ، پیادہ افراد کو نیزوں اور تلواروں کے ہمراہ ان کا سامنا کرے اور پھر تم نے اسے یہ بھی لکھا کہ وہ یہ کام جلدی کرے ، اس میں تاخیر نہ کرے ، یہاں تک کہ تم نے انہیں ( یعنی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ) اور ان کے ساتھ اولاد عبدالمطلب کے نوجوانوں کو قتل کروا دیا ، جو ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ، جن سے اللہ تعالیٰ نے گندگی کو دور کر دیا تھا ، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دیا تھا ، ہم بھی اسی طرح ہیں ، تمہارے بیوقوف اور سخت آباؤ اجداد کی طرح نہیں ہیں جو گدھوں کی طرح کے جگر ( یعنی دل ) رکھتے تھے ، تم یہ بات جانتے ہو کہ وہ ( یعنی حضرت حسین رضی اللہ عنہ ) بطحاء میں زمانہ قدیم کے اعتبار سے بھی ، اہل بطحاء میں سب سے زیادہ عزت والے تھے ، اور زمانہ جدید کے اعتبار سے بھی ان سب سے زیادہ عزت والے تھے ، تم لوگوں نے حرمین کی بے حرمتی کی ، وہاں قتل و غارتگری کو حلال قرار دیا ، لیکن انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ وہ ایسے فرد بن جائیں ، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حرم ، اللہ کے رسول ﷺ کے حرم اور بیت الحرام کی حرمت کو نقصان پہنچے ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ کہا : انہیں جانے دیا جائے ، انہوں نے تم سے واپسی کے لئے کہا ، لیکن تم نے اُن کے مددگاروں کے کم ہونے کو غنیمت سمجھا اور ان کے گھرانے کے افراد کو یوں ختم کر دیا ، جیسے تم ترکوں یا کابل کے کسی گھرانے کے افراد کو قتل کرتے ہو ۔ تم مجھ سے کیسے اپنے لئے محبت پا سکتے ہو اور کیسے میری مدد مانگ سکتے ہو ؟ جبکہ تم نے میرے باپ کی اولاد کو قتل کیا ہے ، تمہاری تلوار سے میرے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ، اور تم میرا ساتھ چاہتے ہو ؟ اگر اللہ نے چاہا ، تو میرا خون رائیگاں نہیں جائے گا ، اور اس کا بدلہ ضرور لیا جائے گا ، اور اگر اُس کا بدلہ نہ لیا جا سکا ، تو ہم اس چیز کو قبول کر لیں گے کہ انبیاء کرام اور انبیاء کی آل کو بھی شہید کیا گیا تھا ، اُن کے قتل کا بھی حساب مانگا گیا ، بہرحال اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو ہے ( یعنی ایک دن وہ سب سے حساب لے گا ) مظلوموں کے لیے مددگار ہونے ، اور ظالموں سے انتقام لینے والے کے طور پر ، اللہ تعالیٰ کافی ہے ، حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے کہ جب تک تم زندہ رہو گے ، زمانہ تمہیں حیران کن چیزیں دکھاتا رہے گا ، جناب عبدالمطلب کے خاندان کی بیٹیاں اور اُن کے خاندان کے کم سن بچے تمہارے پاس شام لے جائے گئے ، تاکہ تم لوگوں کو یہ دکھا سکو کہ تم نے ہم پر غلبہ پا لیا ہے ، اور تم نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے ، حالانکہ اللہ کی قسم ! اُن لوگوں کی وجہ سے اور میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تم پر ، تمہارے باپ پر اور تمہاری ماں پر احسان کیا ۔ اللہ کی قسم ! تم ایسی حالت میں صبح اور شام کرتے ہو کہ تم میرے ہاتھوں زخمی ہونے سے محفوظ ہوتے ہو ، لیکن میری زبان میرے پوروں ( یعنی لکھنے ) اور میرے نقض و ابرام ( یا خاموشی ) کے حوالے سے لگنے والا ، تمہارا زخم بڑا ہوتا جائے گا ، لڑائی تمہیں کامیاب نہیں کر سکے گی ، اور تمہارے اللہ کے رسول ﷺ کی عترت کو قتل کرنے کے بعد ، اللہ تعالیٰ تمہیں تھوڑی مہلت ہی دے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک گرفت میں لے گا ، اور وہ تمہیں ایسی حالت میں دنیا سے لے جائے گا کہ تم قابل مذمت اور گناہ گار ہو گے ، تو تمہارا باپ نہ رہے ، تم جیسے چاہتے ہو زندہ رہو ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہیں اس چیز نے بے حیثیت کر دیا ہے ، جس کا تم نے ارتکاب کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب یزید نے یہ مکتوب پڑھا ، تو وہ بولا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ’’ شر ‘‘ کو نصب کرنے والے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12083

Majma al-Zawaid #12083

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَمَّا مَاتَ مُعَاوِيَةُ تَثَاقَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ طَاعَةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَأَظْهَرَ شَتْمَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ يَزِيدَ، فَأَقْسَمَ لَا يُؤْتَى بِهِ إِلَّا مَغْلُولًا، وَإِلَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِ. فَقِيلَ لِابْنِ الزُّبَيْرِ: أَلَا نَصْنَعُ لَكَ أَغْلَالًا مِنْ فِضَّةٍ تَلْبَسُ عَلَيْهَا الثَّوْبَ، وَتَبَرُّ قَسَمَهُ، فَالصُّلْحُ أَجْمَلُ بِكَ، قَالَ: فَلَا أَبَرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ، ثُمَّ قَالَ: وَلَا أَلِينُ لِغَيْرِ الْحَقِّ أَسْأَلُهُ ... حَتَّى يَلِينَ لِضِرْسِ الْمَاضِغِ الْحَجَرُ. ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَضَرْبَةٌ بِسَيْفٍ فِي عِزٍّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ضَرْبَةٍ بِسَوْطٍ فِي ذُلٍّ. ثُمَّ دَعَا إِلَى نَفْسِهِ، وَأَظْهَرَ الْخِلَافَ لِيَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ. فَوَجَّهَ إِلَيْهِ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ مُسْلِمَ بْنَ عُقْبَةَ الْمُرِّيَّ فِي جَيْشِ أَهْلِ الشَّامِ، وَأَمَرَهُ بِقِتَالِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ ذَلِكَ سَارَ إِلَى مَكَّةَ. قَالَ: فَدَخَلَ مُسْلِمُ بْنُ عُقْبَةَ الْمَدِينَةَ، وَهَرَبَ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ بَقَايَا أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَبَثَ فِيهَا، وَأَسْرَفَ فِي الْقَتْلِ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْهَا. فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَاتَ وَاسْتَخْلَفَ حُصَيْنَ بْنَ نُمَيْرٍ الْكِنْدِيَّ، وَقَالَ: يَا ابْنَ بَرْدَعَةِ الْحِمَارِ، احْذَرْ خَدَائِعَ قُرَيْشٍ، وَلَا تُعَامِلْهُمْ إِلَّا بِالثِّقَافِ ثُمَّ بِالْقِطَافِ. فَمَضَى حُصَيْنٌ حَتَّى وَرَدَ مَكَّةَ، فَقَاتَلَ بِهَا ابْنَ الزُّبَيْرِ أَيَّامًا، وَضَرَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فُسْطَاطًا فِي الْمَسْجِدِ، فَكَانَ فِيهِ نِسَاءٌ يَسْقِينَ الْجَرْحَى وَيُدَاوِينَهُمْ، وَيُطْعِمْنَ الْجَائِعَ، وَيَكْتُمْنَ إِلَيْهِمُ الْمَجْرُوحَ. فَقَالَ حُصَيْنٌ: مَا يَزَالُ يَخْرُجُ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ الْفُسْطَاطِ أَسَدٌ كَأَنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ عَرِينِهِ، فَمَنْ يَكْفِينِيهِ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ: أَنَا. فَلَمَّا جَنَّ اللَّيْلُ وَضَعَ شَمْعَةً فِي طَرَفِ رُمْحِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ فَرَسَهُ، ثُمَّ طَعَنَ الْفُسْطَاطَ فَالْتَهَبَ نَارًا، وَالْكَعْبَةُ يَوْمَئِذٍ مُؤَزِّرَةٌ بِالطَّنَافِسِ، وَعَلَى أَعْلَاهَا الْحِبَرَةُ، فَطَارَتِ الرِّيحُ بِاللَّهَبِ عَلَى الْكَعْبَةِ حَتَّى احْتَرَقَتْ، فَاحْتَرَقَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ قَرْنَا الْكَبْشِ الَّذِي فُدِيَ بِهِ إِسْحَاقُ. قَالَ: وَبَلَغَ حُصَيْنَ بْنَ نُمَيْرٍ مَوْتُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَهَرَبَ حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ. فَلَمَّا مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ دَعَا مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ إِلَى نَفْسِهِ، فَأَجَابَهُ أَهْلُ حِمْصَ وَأَهْلُ الْأُرْدُنِ وَفِلَسْطِينَ. فَوَجَّهَ إِلَيْهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّ فِي مِائَةِ أَلْفٍ، فَالْتَقَوْا بِمَرْجِ رَاهِطَ، وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ فِي خَمْسَةِ آلَافٍ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ وَمَوَالِيهِمْ وَأَتْبَاعِهِمْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِمَوْلًى لَهُ يُقَالُ لَهُ كِدَةُ: احْمِلْ عَلَى أَيِّ الطَّرَفَيْنِ شِئْتَ. فَقَالَ: كَيْفَ أَحْمِلُ عَلَى هَؤُلَاءِ لِكَثْرَتِهِمْ؟ قَالَ: هُمْ بَيْنَ مُكْرَهٍ وَمُسْتَأْجَرٍ، احْمِلْ عَلَيْهِمْ لَا أُمَّ لَكَ، فَيَكْفِيكَ الطِّعَانُ النَّاصِعُ هُمْ يَكْفُونَكَ أَنْفُسَهُمْ، إِنَّمَا هَؤُلَاءِ عَبِيدُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ. فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ فَهَزَّهُمْ، وَقُتِلَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ، وَانْصَدَعَ الْجَيْشُ. فَفِي ذَلِكَ يَقُولُ زُفَرُ: لَقَدْ أَبْقَتْ وَقِيعَةُ رَاهِطَ ... لِمَرْوَانَ صَرْعَى بَيْنَنَا مُتَنَائِيَا أَتَنْسَى سِلَاحِي لَا أَبَا لَكَ إِنَّنِي ... أَرَى الْحَرْبَ لَا تَزْدَادُ إِلَّا تَمَادِيَا وَقَدْ يَنْبُتُ الْمَرْعَى عَلَى دِمَنِ الثَّرَى ... وَتَبْقَى حَزَازَاتُ النُّفُوسِ كَمَا هِيَا. وَفِيهِ يَقُولُ أَيْضًا: أَفِي الْحَقِّ أَمَّا بَحْدَلٌ وَابْنُ بَحْدَلٍ ... فَيَحْيَا وَأَمَّا ابْنُ الزُّبَيْرِ فَيُقْتَلُ كَذَبْتُمْ وَبَيْتِ اللَّهِ لَا تَقْتُلُونَهُ ... وَلَمَّا يَكُنْ يَوْمٌ أَغَرُّ مُحَجَّلُ وَلَمَّا يَكُنْ لِلْمَشْرَفِيَّةِ فِيكُمُ ... شُعَاعٌ كَنُورِ الشَّمْسِ حِينَ تَرَحَّلُ. قَالَ: ثُمَّ مَاتَ مَرْوَانُ، وَدَعَا عَبْدُ الْمَلِكِ لِنَفْسِهِ، وَقَامَ فَأَجَابَهُ أَهْلُ الشَّامِ، فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَالَ: مَنْ لِابْنِ الزُّبَيْرِ مِنْكُمْ؟ فَقَالَ الْحَجَّاجُ: أَنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَأَسْكَتَهُ، ثُمَّ عَادَ، فَأَسْكَتَهُ، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: أَنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنِّي رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي انْتَزَعْتُ جُبَّتَهُ فَلَبِسْتُهَا. فَعَقَدَ لَهُ فِي الْجَيْشِ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى وَرَدَهَا عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَاتَلَهُ بِهَا. فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَأَهْلِ مَكَّةَ: احْفَظُوا هَذَيْنِ الْجَبَلَيْنِ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ أَعِزَّةً مَا لَمْ يَظْهَرُوا عَلَيْهِمَا. فَلَمْ يَلْبَسُوا أَنْ ظَهْرَ الْحَجَّاجُ وَمَنْ مَعَهُ عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ، وَنَصَبَ عَلَيْهِ الْمَنْجَنِيقَ، فَكَانَ يَرْمِي بِهِ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ. فَلَمَّا كَانَتِ الْغَدَاةُ الَّتِي قُتِلَ فِيهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ مِائَةِ سَنَةٍ لَمْ يَسْقُطْ لَهَا سِنٌّ وَلَمْ يُفْقَدْ لَهَا بَصَرٌ، فَقَالَتْ لِابْنِهَا: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا فَعَلْتَ فِي حِزْبِكَ؟ قَالَ: بَلَغُوا مَكَانَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: وَضَحِكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: إِنَّ فِي الْمَوْتِ لَرَاحَةً. قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، لَعَلَّكَ تَتَمَنَّاهُ لِي؟ مَا أُحِبُّ أَنْ أَمُوتَ حَتَّى آتِيَ عَلَى أَحَدِ طَرَفَيْكَ، إِمَّا أَنْ تَمْلِكَ فَتَقَرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي، وَإِمَّا أَنْ تُقْتَلَ فَأَحْتَسِبَكَ. قَالَ: ثُمَّ وَدَّعَهَا. قَالَتْ لَهُ: يَا بُنَيَّ، إِيَّاكَ أَنْ تُعْطِيَ خَصْلَةً مِنْ دِينِكَ مَخَافَةَ الْقَتْلِ. وَخَرَجَ عَنْهَا، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَقَدْ جَعَلَ مِصْرَاعَيْنِ عَلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ يَتَّقِي بِهِمَا أَنْ يُصِيبَهُ الْمَنْجَنِيقُ، وَأَتَى ابْنَ الزُّبَيْرِ آتٍ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَالَ: أَلَا نَفْتَحُ لَكَ بَابَ الْكَعْبَةِ فَتَصْعَدُ فِيهَا؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ: مِنْ كُلِّ شَيْءٍ تَحْفَظُ أَخَاكَ إِلَّا مِنْ نَفْسِهِ - يَعْنِي أَجَلَهُ - وَهَلْ لِلْكَعْبَةِ حُرْمَةٌ لَيْسَتْ لِهَذَا الْمَكَانِ؟ وَاللَّهِ لَوْ وَجَدُوكُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ لَقَتَلُوكُمْ. فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تُكَلِّمُهُمْ فِي الصُّلْحِ؟ قَالَ: أَوَحِينَ صُلْحٍ هَذَا؟ وَاللَّهِ لَوْ وَجَدُوكُمْ فِيهَا لَذَبَحُوكُمْ جَمِيعًا، وَأَنْشَدَ يَقُولُ: وَلَسْتُ بِمُبْتَاعِ الْحَيَاةِ بِسَبَّةٍ وَلَا مُرْتَقٍ مِنْ خَشْيَةِ الْمَوْتِ سُلَّمَا ... أُنَافِسُ سَهْمًا إِنَّهُ غَيْرُ بَارِحٍ مُلَاقِي الْمَنَايَا أَيَّ حَرْفٍ تَيَمَّمَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى آلِ الزُّبَيْرِ يَعِظُهُمْ وَيَقُولُ: لِيُكِنَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ كَمَا يُكِنُّ وَجْهَهُ لَا يَنْكَسِرُ، فَيَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهِ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ امْرَأَةٌ، وَاللَّهِ مَا لَقِيتُ زَحْفًا قَطُّ إِلَّا فِي الرَّعِيلِ الْأَوَّلِ، وَلَا أَلَمْتُ جُرْحًا قَطُّ إِلَّا أَنْ أَلَمَ الدَّوَاءَ. قَالَ: فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَابِ بَنِي جُمَحَ فِيهِمْ أَسْوَدُ، قَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: أَهْلُ حِمْصَ. فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ وَمَعَهُ سَيْفَانِ فَأَوَّلُ مَنْ لَقِيَهُ الْأَسْوَدُ فَضَرَبَهُ بِسَيْفِهِ حَتَّى أَطَنَّ رِجْلَهُ، فَقَالَ لَهُ الْأَسْوَدُ: أَخْ يَا ابْنَ الزَّانِيَةِ. فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ: اخْسَأْ يَا ابْنَ حَامٍ أَسْمَاءُ زَانِيَةٌ؟ ثُمَّ أَخْرَجَهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَانْصَرَفَ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ دَخَلُوا مِنْ بَابِ بَنِي سَهْمٍ، فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: أَهْلُ الْأُرْدُنَ. فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ وَهُوَ يَقُولُ: لَا عَهْدَ لِي بِغَارَةٍ مِثْلِ السَّيْلِ ... لَا يَنْجَلِي غُبَارُهَا حَتَّى اللَّيْلِ. فَأَخْرَجَهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَإِذَا بِقَوْمٍ قَدْ دَخَلُوا مِنْ بَابِ بَنِي مَخْزُومٍ. فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ وَهُوَ يَقُولُ: لَوْ كَانَ قَرْنِي وَاحِدًا كَفَيْتُهُ قَالَ: وَعَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَعْوَانِهِ مَنْ يَرْمِي عَدُوَّهُ بِالْآجُرِّ وَغَيْرِهِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَتْهُ آجُرَّةٌ فِي مَفْرِقِهِ حَتَّى فَلَقَتْ رَأْسَهُ، فَوَقَفَ وَهُوَ يَقُولُ: وَلَسْنَا عَلَى الْأَعْقَابِ تُدْمَى كُلُومُنَا ... وَلَكِنْ عَلَى أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدَّمَا. قَالَ: ثُمَّ وَقَعَ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ مَوْلَيَانِ لَهُ وَهُمَا يَقُولَانِ: الْعَبْدُ يَحْمِي رَبَّهُ وَيَحْتَمِي قَالَ: ثُمَّ سُيِّرَ إِلَيْهِ فَحَزَّ رَأْسَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr reports that when Muʿawiyah died, ʿAbdullah ibn al-Zubayr withheld obedience from Yazid ibn Muʿawiyah and openly reviled him, and when this reached Yazid he swore Ibn al-Zubayr would only be brought to him in fetters or he would send against him, so it was suggested to Ibn al-Zubayr that silver fetters be made for him to wear beneath his robe to fulfil the oath, since reconciliation befitted him, but he prayed Allah would not fulfil Yazid's oath and recited that he would never yield for other than truth until stone softened to the grinder's tooth, declaring by Allah that a sword-stroke in honour was dearer to him than a whip-stroke in disgrace, then he called the people to himself and openly opposed Yazid ibn Muʿawiyah, so Yazid dispatched Muslim ibn ʿUqbah al-Murri with the Syrian army, ordering him to fight the people of Madinah and then march to Makkah, and Muslim entered Madinah while the remnants of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ fled from him, wrought havoc and excessive killing, then departed, and dying on the way appointed Husayn ibn Numayr al-Kindi, warning him as son of a donkey's packsaddle to beware Qurashi deceits and to deal with them only by arms and then by reaping, and Husayn marched to Makkah, fought Ibn al-Zubayr for days while Ibn al-Zubayr pitched a tent in the mosque where women watered and nursed the wounded, fed the hungry, and sheltered the injured, until Husayn complained that a lion kept emerging from that tent as from its den and asked who would suffice him, and a Syrian volunteered, and when night fell placed a torch at his spear-tip, spurred his horse, stabbed the tent so it blazed, while the Kaʿbah that day was draped in carpets with striped cloth above, so the wind carried the flames to the Kaʿbah until it burned, consuming that day the ram's horns with which Ishaq had been ransomed, and when news of Yazid ibn Muʿawiyah's death reached Husayn he fled, and after Yazid died Marwan ibn al-Hakam called the people to himself and was answered by Hims, Jordan, and Palestine, so Ibn al-Zubayr sent al-Dahhak ibn Qays al-Fihri with one hundred thousand men, and they met at Marj Rahit while Marwan stood with five thousand of Banu Umayyah, their clients and Syrian followers, and Marwan told his client Kidah to charge whichever flank he wished, and when Kidah balked at their numbers Marwan told him they were pressed men and hirelings, slaves of gold and silver, whom bright spear-thrusts would make to destroy themselves, so he charged, routed them, killed al-Dahhak ibn Qays, and shattered the army, concerning which Zufar recited verses on the carnage of Rahit left for Marwan, on war's persistence, on pastures regrowing while rancours remain, and on Bahdal's house living while Ibn al-Zubayr is slain, swearing by Allah's House they would not kill him before a bright fateful day and flashing swords like sunlight, and then Marwan died, ʿAbd al-Malik called the people to himself, the Syrians answered, and he asked from the minbar who would deal with Ibn al-Zubayr, and al-Hajjaj thrice volunteered, saying he had dreamt he stripped Ibn al-Zubayr's robe and wore it, so ʿAbd al-Malik appointed him over the army to Makkah, and al-Hajjaj fought Ibn al-Zubayr there, while Ibn al-Zubayr urged the Makkans to hold the two mountains, for they would remain well and honoured so long as the enemy did not dominate them, but soon al-Hajjaj and his men dominated Abu Qubays, mounted the catapult upon it, and pelted Ibn al-Zubayr and his men in the mosque, and on the morning Ibn al-Zubayr was killed he entered upon his mother Asmaʾ daughter of Abu Bakr, then a hundred years old with neither tooth lost nor sight impaired, and when she asked how his party fared and he told her, he laughed and said in death there is rest, but she replied, O my son, do you wish it for me, for she would not die until she attained one of his two ends, either his rule to cool her eyes or his martyrdom to commend him to Allah, and as he bade her farewell she warned him never to surrender any of his religion for fear of killing, and he left her, entered the mosque, set two door-leaves by the Black Stone to shield himself from the catapult, and when a comer suggested opening the Kaʿbah's door for him to ascend, he answered that he guarded his brother against everything but his own appointed term, and asked whether the Kaʿbah had sanctity this place lacked, for by Allah if they found them clinging to the Kaʿbah's curtains they would kill them, and when asked about treating for peace he asked whether this was an hour of peace, for by Allah if found therein they would all be slaughtered, reciting that he would neither buy life with disgrace nor climb a ladder from fear of death, but would meet fates like an unswerving arrow, then he exhorted the Zubayrids to sheath each his sword as he guards his face and not let it break so he must fend with his hand like a woman, swearing he had never met an assault but in the foremost rank nor felt a wound but the touch of medicine, and while thus engaged men entered through the Banu Jumah gate including a dark man, and told they were Himsis he charged them with two swords, struck the dark man first severing his leg, and when the man cursed him as son of an adulteress he answered, silence, son of Ham, is Asmaʾ an adulteress, then drove them from the mosque, and likewise charged Jordanians entering through the Banu Sahm gate reciting that he had never known a torrent-like raid whose dust clears not till night, driving them out, and charged Makhzum-gate entrants declaring one adversary alone would suffice him, while his helpers atop the mosque pelted the enemy with bricks, until a brick struck his crown, split his head, and he stood reciting that their wounds bleed not on their heels but drip upon their feet, then fell, his two clients crouched over him declaring the slave guards his master and is guarded, and then his head was severed and carried away.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یزید بن معاویہ کی اطاعت کرنے میں تاخیر کی اور اسے برا بھلا کہنے لگے ، یزید کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو اُس نے قسم اٹھائی کہ انہیں اس کے پاس باندھ کر لایا جائے گا ، ورنہ وہ اُن کی طرف لشکر بھیج دے گا ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے یہ کہا گیا : ہم ایسا کرتے ہیں ، آپ کے لئے چاندی کی بیڑی بنوا لیتے ہیں ، جس پر آپ کپڑے پہن لیجیے گا اور یوں آپ اُس کی قسم پوری کروا دیں ، کیونکہ صلح کر لینا آپ کے لئے زیادہ مناسب ہے ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کی قسم پوری نہیں کروائے گا ، پھر انہوں نے یہ شعر پڑھا : ’’ میں ناحق چیز کے لئے ، جس کا میں مطالبہ کروں ، اس کے لئے اس وقت تک کمزور نہیں ہوؤں گا ، جب تک چبانے والے شخص کی داڑھ کے لیے پتھر کمزور نہیں ہوتا ۔‘‘ پھر انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! عزت کی حالت میں تلوار کی ضرب لگ جائے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گی کہ ذلت کے عالم میں کوڑے کی ضرب لگ جائے ، پھر انہوں نے اپنی خلافت کا دعوی کر دیا ، اور کھلے عام یزید بن معاویہ کی مخالفت کی ، یزید بن معاویہ نے مسلم بن عقبہ مری کو اہل شام کے لشکر کے ہمراہ ان کی طرف بھیجا اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ اہل مدینہ کے ساتھ جنگ کرے ، جب وہ اُن سے فارغ ہو جائے تو وہ مکہ کی طرف چلا جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : جب مسلم بن عقبہ ، مدینہ میں داخل ہوا ، تو وہاں باقی رہ جانے والے صحابہ کرام اُس جگہ کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ مسلم بن عقبہ نے وہاں بہت سی زیادتیاں کیں ، بہت زیادہ قتل و غارتگری کی ، پھر وہ وہاں سے چلا گیا ، راستے میں ایک جگہ پر وہ مر گیا ، اس نے حصین بن نمیر کندی کو اپنا جانشین مقرر کیا اور بولا : اے گدھے کی زین کے بیٹے ! تم قریش کے دھوکوں سے بچ کے رہنا ، اور ان کے ساتھ صرف ہتھیاروں کی بنیاد پر معاملہ کرنا ، پھر پھل توڑنے کا معاملہ کرنا ، حصین روانہ ہوا ، یہاں تک کہ وہ مکہ آ گیا ، وہاں اس نے چند دنوں تک حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جنگ کی ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مسجد میں ایک خیمہ لگایا ہوا تھا ، جس میں خواتین زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں ، اور ان کو دوا دیتی تھیں ، وہ بھوکے افراد کے لیے کھانا تیار کرتی تھیں ، زخمی لوگ ان کے پاس آ کر چھپ جاتے تھے ، حصین نے کہا : اس خیمے میں سے ہمیشہ ایک شیر نکل کر ہمارے سامنے آتا ہے ، یوں جیسے شیر اپنی کچھار سے نکلتا ہے ، تو تم میں سے کون اس پر قابو پائے گا ؟ اہل شام سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا : میں ایسا کروں گا ، جب رات تاریک ہو گئی تو اس نے اپنے نیزے کے کنارے پر ایک شمع رکھی اور پھر اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور پھر وہ نیزہ اس خیمے میں مار دیا تو آگ بھڑک اٹھی ، اس دور میں خانہ کعبہ پر مختلف قسم کے کپڑے ڈالے جاتے تھے اور ان پر یمنی چادر ہوتی تھی ، ہوا کی وجہ سے وہ آگ خانہ کعبہ تک پہنچ گئی اور وہ جلنے لگا ، اس آگ کی وجہ سے اُس دنبے کے دو سینگ بھی جل گئے ، جو حضرت اسحاق علیہ السلام کے فدیے کے طور پر دیے گئے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران حصین بن نمیر کو یہ اطلاع ملی کہ یزید بن معاویہ مر گیا ہے ، تو وہ یہ لڑائی چھوڑ کر واپس چلا گیا ۔ یزید بن معاویہ کے مرنے کے بعد مروان بن حکم نے اپنی خلافت کا دعویٰ کر دیا ، حمص کے رہنے والے لوگوں نے اس کی بات کو قبول کر لیا ، اردن اور فلسطین کے لوگوں نے بھی یہ بات مان لی ، تو اس نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف ضحاک بن قیس فہری کو ایک لاکھ کے لشکر کے ہمراہ بھیجا ’’ مرج راہط “ کے مقام پر دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا ، اس وقت مروان بنو امیہ ان کے موالی اور اہل شام سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکار پانچ ہزار افراد میں موجود تھا ، مروان نے ’’ کدہ “ نامی اپنے ایک غلام سے کہا : تم دونوں اطراف میں سے جس طرف سے چاہو حملہ کر دو ، اس نے کہا : میں کیسے ان پر حملہ کروں ، ان کی تعداد زیادہ ہے ، مروان نے کہا : ان میں سے کچھ لوگ زبردستی آئے ہیں ، کچھ پیسے کے عوض میں آئے ہیں ، تمہاری ماں نہ رہے ، تم ان پر حملہ کرو ، واضح وار تمہارے لئے کافی ہو گا ، یہ لوگ اپنا بچاؤ خود ہی کر لیں گے ، یہ دینار اور درہم کے بندے ہیں ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان لوگوں پر حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا ، ضحاک بن قیس قتل ہو گیا ، اور وہ لشکر بکھر گیا ۔ اس صورتحال کے بارے میں زفر نے یہ اشعار کہے ہیں : ’’ میری عمر کی قسم ہے ، راہط کے واقعہ نے مروان کے لیے یہ صورت حال چھوڑی ہے کہ ہمارے درمیان پچھاڑے ہوئے لوگ دور دور پڑے ہیں ، کیا تم میرا ہتھیار بھول گئے ، تمہارا باپ نہ رہے ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ جنگ صرف نقصان میں ہی اضافہ کرتی ہے ، زمین کا سینہ چیرنے سے نباتات اگ آتے ہیں ، لیکن لوگوں کا نقصان ( یعنی مارا جانا ) اسی طرح باقی رہ جاتا ہے جیسے وہ پہلے تھا ۔‘‘ اور اس نے اس بارے میں یہ بھی کہا ہے : ’’ کیا یہ ہو گا کہ حق کے بارے میں ایک سست رفتار شخص ، جو ایک سست رفتار کا بیٹا ہے ، وہ زندہ رہے گا اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما قتل کر دیے جائیں گے ، تم لوگ جھوٹ بولتے ہو ، بیت اللہ کی قسم ! اگر تم نے انہیں قتل کر دیا تو دن روشن و چمکدار نہیں رہے گا ، اور پھر تمہارے درمیان بزرگی صرف یوں رہ جائے گی ، جیسے غروب ہونے کے وقت سورج کی شعاع بالکل ہلکی ہو چکی ہوتی ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب مروان مر گیا ، تو عبدالملک نے خلافت کا دعویٰ کر دیا وہ کھڑا ہوا ، تو اہل شام نے اس کی بات مان لی ، اس نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ کہا : تم میں سے کون ابن زبیر پر قابو پائے گا ؟ تو حجاج نے کہا : امیرالمومنین ! میں ایسا کروں گا ، عبدالملک نے اسے خاموش کروا دیا ، پھر دوبارہ ایسا ہی ہوا ، تو اس نے پھر خاموش کروا دیا ، پھر ایسا ہی ہوا ، تو حجاج نے کہا : امیرالمومنین میں ایسا کروں گا ، کیونکہ میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ میں نے اُن کا جبہ اُتار کے اسے پہن لیا ہے ، تو عبدالملک نے حجاج کو لشکر فراہم کیا ، تاکہ وہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تک مکہ پہنچے اور ان کے ساتھ وہاں جنگ کرے ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اہل مکہ سے کہا : تم لوگ ان دو پہاڑوں کی حفاظت کرنا ، کیونکہ تم لوگ اس وقت تک بھلائی کے ساتھ رہو گے اور غالب رہو گے ، جب تک دشمن ان دو پہاڑوں کی طرف سے ظاہر نہیں ہوتا ، تو یہ صورتحال ہوئی کہ حجاج اور اس کے ساتھی افراد جبل ابوقبیس پر نہ آ سکے ، حجاج نے ان کے لئے منجنیق نصب کروائیں ، وہ ان کے ذریعے گولے پھینکتا رہا ، وہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور مسجد میں ان کے ساتھ موجود لوگوں پر سنگ باری کرتا رہا ، جس دن حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما شہید ہوئے ، اُس دن کی صبح وہ اپنی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، جو اس وقت ایک سو سال کی ہو چکی تھیں ، اور نہ تو ان کا کوئی دانت گرا تھا ، اور نہ ہی ان کی بینائی متاثر ہوئی تھی ، انہوں نے اپنے صاحبزادے سے دریافت کیا : عبداللہ تمہارے ( دشمن ) لشکر کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے بتایا : کہ وہ فلاں فلاں جگہ تک پہنچ گئے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہنس پڑے اور بولے : موت میں آرام ہے ، سیدہ اسماء ہیرضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! شاید تم میری وجہ سے اس کی آرزو کر رہے ہو ، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں مر جاؤں ، یہاں تک کہ وہ تمہارے دو اطراف میں سے کسی ایک پر آئے ، اگر تم حکمران بن جاتے ہو ، تو اس کے ذریعے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی ، اور اگر تم شہید ہو جاتے ہو ، تو میں تمہارے حوالے سے ثواب کی امید رکھوں گی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے اپنی والدہ کو رخصت کیا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم اس چیز سے بچنا کہ تم قتل کے خوف کی وجہ سے اپنے دین میں سے کوئی چیز چھوڑ دو ! حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اس خاتون کے پاس سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ، انہوں نے دو مصراع ، حجر اسود پر رکھے ہوئے تھے اور ان دونوں کے ذریعے وہ اس بات سے بچ جاتے تھے ، منجنیق کا گولا انہیں نقصان پہنچائے ، جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما آئے تو وہ حجر اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا ہم آپ کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ کھول دیں ، تاکہ آپ چڑھ کر اس کے اندر چلے جائیں ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف دیکھا اور پھر ان سے فرمایا : تم اپنے بھائی کی ہر چیز کے حوالے سے حفاظت کر سکتے ہو ، لیکن موت کے حوالے سے نہیں کر سکتے ، کیا خانہ کعبہ کی حرمت نہیں ہے ؟ کیا وہ حرمت اس جگہ کی نہیں ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر وہ لوگ تمہیں خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹا ہوا بھی پائیں گے ، تو بھی وہ تمہیں قتل کر دیں گے ، اُن سے کہا گیا : پھر آپ ان کے ساتھ صلح کے بارے میں بات چیت کیوں نہیں کرتے ؟ انھوں نے فرمایا : کیا یہ صلح کا وقت ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر وہ لوگ تمہیں پائیں گے ، تو تم سب کو ذبح کر دیں گے ، انہوں نے یہ شعر سنائے : ’’ میں کسی عار کی وجہ سے زندگی خریدنے والا نہیں ہوں ، اور نہ ہی موت کے خوف کی وجہ سے کوئی سیڑھی چڑھنے والا ہوں ، میں تیر کے ساتھ مقابلہ کروں گا ، وہ چھوڑنے والا نہیں ہے ، اور موت سے مل جاؤں گا ، کہ اس نے کون سے کنارے کا قصد کیا ہے ۔‘‘ پھر وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے خاندان کے افراد کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں وعظ و نصیحت کرتے ہوئے یہ کہنے لگے : تم میں سے ہر ایک شخص اپنی تلوار کو یوں بچا کے رکھے ، جس طرح وہ اپنے چہرے کو بچاتا ہے ، ایسا نہ ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور پھر اسے اپنے ہاتھ کے ذریعے اپنے اوپر حملہ روکنا پڑے ، جیسے وہ کوئی عورت ہوتی ہے ، اللہ کی قسم ! میں نے گھسٹنے کا سامنا صرف پہلے والی تھوڑی سی جماعت میں کیا ہے ، اور میں نے زخم کی تکلیف صرف اس وقت محسوس کی جب اس پر دوا لگائی گئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران بنو جمح کے دروازے کی طرف سے کچھ لوگ ان کے پاس آئے ، ان میں اسود بھی تھا ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا گیا : یہ حمص کے رہنے والے لوگ ہیں ، وہ ان پر حملہ کرنے کے لئے گئے ، ان کے پاس دو تلواریں تھیں ، سب سے پہلے ان کے مقابلے میں اسود آیا ، انہوں نے اس پر تلوار کے ذریعے حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا ، تو اسود نے ان سے کہا : پرے ہو جاؤ ! اے زنا کرنے والی عورت کے بیٹے ! حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اُس سے کہا : تم پرے ہو جاؤ ! اے حمایتی کے بیٹے ! کیا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا زنا کرنے والی ہیں ؟ پھر انہوں نے ان لوگوں کو مسجد سے نکال دیا اور واپس آ گئے ، تو یہ صورتحال پائی کہ کچھ لوگ بنو سہم والے دروازے کی طرف سے اندر آ چکے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ تو انھیں بتایا گیا : یہ اردن کے رہنے والے ہیں ، تو انہوں نے ان پر حملہ کیا اور وہ اس وقت یہ شعر پڑھ رہے تھے : ’’ مجھے ایسے حملے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جو سیلاب کی مانند ہے ، جس کا غبار رات ہونے تک نہیں چھٹے گا ۔‘‘ انہوں نے ان لوگوں کو بھی مسجد سے نکال دیا ، تو کچھ لوگ بنو مخزوم کی طرف والے دروازے سے آ گئے ، انہوں نے ان لوگوں پر حملہ کیا اور وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے : ’’ اگر میرا ایک قرن ( تلوار یا سینگ ) ہوتا ، تو ان کے مقابلے میں میری کفایت ہو جانی تھی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : مسجد کی چھت پر ان کے کچھ مددگار تھے ، جو دشمن پر اینٹیں مار رہے تھے ، انہوں نے ان دشمنوں پر حملہ کیا ، اسی دوران ایک اینٹ اُن کی مانگ پر آ کر لگی ، جس نے ان کے سر کو پھاڑ دیا ، وہ رک گئے اور یہ شعر پڑھنے لگے : ’’ ہم وہ نہیں ہیں کہ ہماری ایڑیوں پر ہمارے زخموں سے خون نکل رہا ہو ، بلکہ مارے قدموں پر خون کے قطرے ٹپکتے ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : پھر وہ گر گئے ، اُن کے دو غلام اُن پر جھک گئے اور وہ دونوں یہ شعر پڑھ رہے تھے : ’’ ایک ایسا بندہ جو اپنے پروردگار ( کے دین کا ) دفاع کر رہا تھا اور وہ خود بچاؤ کا طلب گار تھا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان کے جسم کو دشمن کی طرف لے جایا گیا ، تو اُس نے ان کا سر کٹوا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن عبدالرحمن ذماری ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اُسے ضعیف کہا ہے ۔

12084

Majma al-Zawaid #12084

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: مَا شَيْءٌ كَانَ يُحَدِّثُنَاهُ كَعْبٌ إِلَّا قَدْ آتَى عَلَيَّ مَا قَالَ، إِلَّا قَوْلُهُ: فَتَى ثَقِيفٍ يَقْتُلُنِي، وَهَذَا رَأْسُهُ بَيْنَ يَدِي - يَعْنِي الْمُخْتَارَ. قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: وَلَا يَشْعُرُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ قَدْ خُبِّئَ لَهُ - يَعْنِي الْحَجَّاجَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Sirin reports that Ibn al-Zubayr said everything Kaʿb had foretold them had befallen him as foretold, except his saying that a youth of Thaqif would kill him, though that one's head, meaning al-Mukhtar's, lay before him, while Ibn Sirin remarked that Ibn al-Zubayr did not perceive that Abu Muhammad, meaning al-Hajjaj, had been kept in store for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی کہ کعب نے ہمیں جو بات بھی بتائی تھی ، تو وہ بات میرے حوالے سے ، اُن کے کہے ہوئے کے مطابق پوری ثابت ہوئی ، البتہ ان کی یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ ثقیف قبیلے کا ایک نوجوان مجھے قتل کرے گا ، حالانکہ اس کا سر میرے سامنے موجود ہے ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی مراد مختار ثقفی تھا ۔ ابن سیرین بیان کرتے ہیں : انہیں یہ اندازہ نہیں ہو پایا کہ ان کے لئے ابومحمد کو تیار رکھا گیا ہے ، ابن سیرین کی مراد حجاج بن یوسف تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12085

Majma al-Zawaid #12085

وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: أَنَا حَاضِرٌ قَتْلَ ابْنِ الزُّبَيْرِ يَوْمَ قُتِلَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، جُعِلَتِ الْجُيُوشُ تَدْخُلُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَكُلَّمَا دَخَلَ قَوْمٌ مِنْ بَابٍ حَمَلَ عَلَيْهِمْ وَحْدَهُ حَتَّى يُخْرِجَهُمْ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ إِذْ جَاءَتْ شُرْفَةٌ مِنْ شُرُفَاتِ الْمَسْجِدِ فَوَقَعَتْ عَلَى رَأْسِهِ فَصَرَعَتْهُ، وَهُوَ يَتَمَثَّلُ بِهَذِهِ الْأَبْيَاتِ: تَقُولُ أَسْمَاءُ: أَلَا تُبْكِينِي ... لَمْ يَبْقَ إِلَّا حَسَبِي وَدِينِي وَصَارِمٍ لَانَتْ بِهِ يَمِينِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ishaq ibn Abi Ishaq reports that he was present at the killing of Ibn al-Zubayr on the day he was killed in the Sacred Mosque, when troops kept entering through the mosque gates and every party that entered through any gate was charged single-handedly by Ibn al-Zubayr until he expelled them, and while thus engaged a parapet from the mosque's parapets fell upon his head and felled him, while he recited verses in which Asmaʾ says weep for me not, for nothing remains but my lineage and my religion and a sharp sword my right hand wielded.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسحاق بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیے جانے کے وقت وہاں موجود تھا ، یہ اس دن کی بات ہے جب انہیں مسجد حرام میں قتل کیا گیا ، دشمن کے سپاہی مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہوتے تھے ، جب بھی کچھ لوگ کسی دروازے سے داخل ہوتے تھے ، تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اکیلے ان پر حملہ کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ انہیں باہر نکلنے پر مجبور کر دیتے تھے ، ابھی وہ یہی کچھ کر رہے تھے کہ اسی دوران مسجد کا ایک اوپری حصہ آیا اور ان کے سر پر گرا ، اس نے انہیں گرا دیا ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ’’ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا یہ کہتی ہیں : تم مجھے نہ رلاؤ ، صرف میرا حسب اور میرا دین باقی رہ گیا ہے ، اور مضبوط شخص نے میرا دایاں ہاتھ کمزور کر دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12086

Majma al-Zawaid #12086

وَعَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ الْعَرْنَجِيِّ قَالَ: صَلَبَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ لِيُرِيَ ذَلِكَ قُرَيْشًا، فَلَمَّا أَنْ تَفَرَّقُوا جَعَلُوا يَمُرُّونَ فَلَا يَقِفُونَ عَلَيْهِ، حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خَبِيبٍ - لَقَدْ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكَ عَنْ ذَا - قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ كُنْتَ صَوَّامًا قَوَّامًا، تَصِلُ الرَّحِمَ. فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ، فَاسْتَنْزَلَهُ، فَرَمَى بِهِ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ، وَبَعَثَ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ تَأْتِيَهُ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا، فَأَبَتْ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا: لَتَجِيئِنَّ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ. قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ، لَا آتِيكَ حَتَّى تُرْسِلَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي. فَأَتَاهُ رَسُولُهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا غُلَامُ، نَاوِلْنِي سَبْتَيَّ، فَنَاوَلَهُ نَعْلَيْهِ، فَقَامَ وَهُوَ يَتَّقِدُ حَتَّى أَتَاهَا، فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِ اللَّهَ صَنَعَ بِعَدُوِّ اللَّهِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ، وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ، وَأَمَّا مَا كُنْتَ تُعَيِّرُهُ بِذَاتِ النِّطَاقَيْنِ، أَجَلْ، لَقَدْ كَانَ لِي نِطَاقَانِ، نِطَاقٌ أُغَطِّي بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ النَّمْلِ، وَنِطَاقٌ آخَرُ لَا بُدَّ لِلنِّسَاءِ مِنْهُ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ فِي ثَقِيفٍ مُبِيرًا وَكَذَّابًا» "". فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ ذَاكَ. قَالَ: فَخَرَجَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Nawfal ibn Abi ʿAqrab al-ʿAranji reports that al-Hajjaj crucified Ibn al-Zubayr upon the pass of Madinah to display him to Quraysh, and after the crowds dispersed they passed by without stopping until ʿAbdullah ibn ʿUmar passed, stopped, greeted him thrice as Abu Khubayb, thrice reminded him that he had forbidden him this course, and bore witness that he had been fasting, praying by night, and joining kinship, and when al-Hajjaj learned of ʿAbdullah ibn ʿUmar's stand he had the body taken down and cast among Jewish graves, then summoned Asmaʾ daughter of Abu Bakr, though her sight had gone, and when she refused he threatened to send one to drag her by her forelocks, to which she swore by Allah she would not come until he sent one to drag her thus, and when his messenger reported this he demanded his sandals, rose in fury to her, and asked how she saw Allah had dealt with His enemy, so she answered that he had ruined Ibn al-Zubayr's world while Ibn al-Zubayr had ruined his hereafter, and as for taunting him as son of the woman of two sashes, indeed she had owned two sashes, one with which she covered the Messenger of Allah's ﷺ food from ants and another indispensable to women, and she had heard the Messenger of Allah ﷺ declare that among Thaqif there would be a destroyer and a liar, and as for the liar they had seen him, while as for the destroyer, he was al-Hajjaj, whereupon he departed. > **"Among Thaqif there will be a destroyer and a liar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونوفل بن ابوعقرب عرنجی بیان کرتے ہیں : حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مدینہ کی گھاٹی پر مصلوب کیا تھا ، تاکہ یہ چیز قریش کو دکھا دے ، جب وہ لوگ منتشر ہو گئے تو ان کے پاس سے گزرنے لگے ، وہ ان کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے ، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے گزرے تو وہ وہاں ٹھہر گئے ، اور انہوں نے کہا : اے ابوخبیب ! تم پر سلام ہو ، یہ کلمات انہوں نے تین مرتبہ کہے اور پھر فرمایا : میں تمہیں اس بات سے منع کیا کرتا تھا ، یہ کلمات بھی انہوں نے تین مرتبہ کہے ، تم روزہ دار تھے ، نماز پڑھنے والے تھے ، صلہ رحمی کرنے والے تھے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کے بارے میں حجاج کو اطلاع ملی ، تو اس نے حکم دیا تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی میت کو اتارا گیا اور یہودیوں کے قبرستان میں ڈال دیا گیا ، پھر حجاج نے سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئیں ، اس خاتون کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، اس خاتون نے آنے سے انکار کر دیا ، تو حجاج نے انہیں پیغام بھیجا کہ یا تو آپ آئیں گی یا میں آپ کی طرف اس شخص کو بھیجوں گا ، جو آپ کے بالوں سے پکڑ کر آپ کو لے کر آئے گا ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم میں تمہارے پاس اس وقت تک نہیں آؤں گی ، جب تک تم میری طرف اس شخص کو نہیں بھیجتے ، جو مجھے بالوں سے پکڑ کر لے جائے ، حجاج کا قاصد اس کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے اپنے خادم سے کہا : اے لڑکے مجھے میرے جوتے پکڑاؤ ! اس نے اسے جوتے پکڑائے ، وہ اُٹھا اور چلتا ہوا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اس نے کہا : آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمن کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟ تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم نے اس کی دنیا اس کے لئے خراب کر دی ، اور اس نے تمہاری آخرت تمہارے لئے خراب کر دی ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ تم دو کمر بندوں والی ( کا بیٹا ہونے ) کے حوالے سے اُسے عار دلایا کرتے تھے ، تو یہ بات ٹھیک ہے ، میرے دو کمربند تھے ، ایک کمربند کے ذریعے میں نبی اکرم ﷺ کے کھانے کو باندھ دیتی تھی ، تاکہ چیونٹیاں اس تک نہ پہنچیں اور دوسرا کمربند وہ تھا جس کے بغیر چارہ نہیں ہے ، اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ثقیف قبیلے میں ایک خون بہانے والا شخص ہو گا ، اور ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ) ہو گا ۔‘‘ جہاں تک کذاب شخص کا تعلق ہے ، اسے تو ہم نے دیکھ لیا تھا ( یعنی مختار ثقفی تھا ) اور جہاں تک خون بہانے والے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ تم ہو گے ، راوی کہتے ہیں : تو حجاج وہاں سے چلا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12087

Majma al-Zawaid #12087

وَعَنْ أَبِي الْمُحَيَّاةِ - يَعْنِي الْمُخْتَارَ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا صُلِبَ - أَوْ قُتِلَ - ابْنُ الزُّبَيْرِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكَلَّمَتْ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الْحَجَّاجَ فَقَالَتْ: أَمَا آنَ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ؟ قَالَ: الْمُنَافِقُ؟ قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ، مَا كَانَ بِمُنَافِقٍ، وَلَقَدْ كَانَ صَوَّامًا قَوَّامًا. قَالَ: فَاسْكُتِي، فَإِنَّكِ عَجُوزٌ قَدْ خَرِفْتِ. قَالَتْ: مَا خَرِفْتُ [مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ "". أَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ - يَعْنِى الْمُخْتَارَ -، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ. زَادَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: فَقَالَ الْحَجَّاجُ: فِي حَدِيثِهِ: مُبِيرُ الْمُنَافِقِينَ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو الْمُحَيَّاةِ وَأَبُوهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Abu al-Muhayyah, meaning al-Mukhtar, reports from his father that he arrived in Makkah three days after Ibn al-Zubayr had been crucified, or killed, and that his mother Asmaʾ daughter of Abu Bakr addressed al-Hajjaj asking whether it was not time for that rider to descend, and when al-Hajjaj asked whether she meant the hypocrite, she swore by Allah he was no hypocrite and had indeed been fasting and praying by night, so he told her to be silent as a doting old woman, but she denied dotage ever since hearing the Messenger of Allah ﷺ declare that there would emerge from Thaqif a liar and a destroyer, explaining that as for the liar they had seen him, meaning al-Mukhtar, while as for the destroyer, it was al-Hajjaj, with Abu Bakr ibn Abi Shaybah adding in his version that al-Hajjaj retorted in his report that he was the destroyer of hypocrites. > **"There will emerge from Thaqif a liar and a destroyer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومحیاۃ ، یعنی مختار اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیے جانے کے جانے کے تین بعد مکہ آیا ، ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے حجاج کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا : اب وہ وقت آ گیا ہے کہ یہ سوار نیچے اتر آئے ( یعنی ان کی لاش کو سولی سے اتار دیا جائے ) تو حجاج نے دریافت کیا : منافق کی ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! وہ منافق نہیں تھا بلکہ وہ تو روزہ دار اور نفلی نماز پڑھنے والا شخص تھا ، حجاج نے کہا : تم خاموش رہو تم ایک بوڑھی عورت ہو ، جو خرافات بولتی ہو ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میں نے کبھی کوئی خرافات بیان نہیں کی ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ ثقیف قبیلے سے ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ) اور ایک خون بہانے والا شخص نکلے گا ۔‘‘ جہاں تک کذاب کا تعلق ہے ، تو اُسے ہم نے دیکھ لیا ( اس سے مراد مختار ثقفی ہے ) اور جہاں تک خون بہانے والے کا تعلق ہے تو اس سے مراد تم ہو ۔ ابوبکر بن ابوشیبہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : حجاج نے کہا : میں منافقین کا خون بہانے والا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابومحیاۃ اور اس کے والد ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12088

Majma al-Zawaid #12088

وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: جَاءَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ مَعَ جِوَارٍ لَهَا، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا، فَقَالَتْ: أَيْنَ الْحَجَّاجُ؟ فَقُلْنَا: لَيْسَ هُوَ هُنَا، قَالَتْ: فَمُرُوهُ فَلْيَأْمُرْ لَنَا بِهَذِهِ الْعِظَامِ [فَأِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ، قُلْنَا إِذَا جَاءَ قُلْنَا لَهُ. قَالَتْ: فِإِذَا جَاءَ فَأَخْبِرُوهُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَخْرُجُ فِي ثَقِيفَ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ ""]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Qasim ibn Muhammad reports that Asmaʾ daughter of Abu Bakr came with her slave girls, though her sight had gone, asking where al-Hajjaj was, and when told he was not there, she instructed them to order him to release those bones, for she had heard the Messenger of Allah ﷺ forbid mutilation, and to inform him when he came that she had heard the Messenger of Allah ﷺ declare that there would emerge among Thaqif a liar and a destroyer. > **"There will emerge among Thaqif a liar and a destroyer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما اپنی لڑکیوں کے ساتھ آئیں ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، انہوں نے دریافت کیا : حجاج کہاں ہے ؟ ہم نے کہا : وہ یہاں نہیں ہے ، انہوں نے کہا : تم اسے کہہ دینا کہ وہ یہ ہڈیاں ( یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی میت ) ہمیں دینے کا حکم دیدے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا : جب وہ آئے گا تو ہم اس سے یہ بات کہہ دیں گے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب وہ آئے تو اسے یہ بات بھی بتا دینا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ثقیف قبیلے میں ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ) اور ایک خون بہانے والا شخص نکلے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، زیادہ تر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12089

Majma al-Zawaid #12089

وَعَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ مَعَ الْحَجَّاجِ لَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَبَعَثَهُ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ: قُلْ لَهَا: يَقُولُ لَكِ الْحَجَّاجُ: اعْزِلِي مَا كَانَ مِنْ مَالٍ عَنْ مَالِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. فَقَالَتْ: افْعَلْهَا يَا ابْنَ أَسْمَاءَ [سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ ثَقِيفٍ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَكْذِِبُ، وَالْآخَرُ مُبِيرٌ. فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ وَمَا أَحْسَبُهُ إِلَّا الْمُبِيرُ. فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَلَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْغَمْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAqil ibn Khalid reports that his father was with al-Hajjaj when Ibn al-Zubayr was killed, and al-Hajjaj sent him to Asmaʾ daughter of Abu Bakr telling her through him to separate her own wealth from the wealth of ʿAbdullah ibn al-Zubayr, whereupon she answered, do it, O son of Asmaʾ, for she had heard the Messenger of Allah ﷺ declare that there would emerge from this clan of Thaqif two men, one a liar and the other a destroyer, and as for the liar they had known him, nor did she deem the other but the destroyer, and when her answer was conveyed al-Hajjaj did not dislike it. > **"There will emerge from this clan of Thaqif two men, one a liar and the other a destroyer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں : اُن کے والد حجاج کے ساتھ تھے ، جب اس نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا ، حجاج نے انہیں سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور ان سے کہا : تم اس خاتون سے یہ کہہ دینا کہ حجاج آپ سے یہ کہہ رہا ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا جو مال ہے ، اس کے مال میں سے اپنا مال الگ کر لیں ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا اسماء کے بیٹے نے ایسا کیا ہو گا ، میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ثقیف قبیلے سے دو آدمی نکلیں گے ، جن میں سے ایک جھوٹ بولتا ہو گا ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعوی کرے گا ) اور دوسرا خون بہانے والا ہو گا ۔‘‘ ( پھر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) جہاں تک نبوت کے جھوٹے دعویدار کا تعلق ہے تو اسے تو ہم جان چکے ہیں اور خون بہانے والے سے مراد ، میرے خیال میں یہی ( یعنی حجاج بن یوسف ) ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں واپس حجاج کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے اس بات کو ناپسند نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید عبدالرحمن بن ابوغمر ہے اور میں اس راوی سے واقف نہیں ہوں ۔

12090

Majma al-Zawaid #12090

وَعَنْ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ كُلُّهُمُ ابْنَ الزُّبَيْرِ إِلَّا أَهْلَ الْأُرْدُنِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رُؤُوسُ بَنِي أُمَيَّةَ وَنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَشْرَافِهِمْ، فِيهِمْ رَوْحُ بْنُ الزِّنْبَاعِ الْجُذَامِيُّ، قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّ الْمُلْكَ كَانَ فِينَا أَهْلَ الشَّامِ فَيَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِ الْحِجَازِ؟ لَا نَرْضَى بِذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Maʿshar reports that when Muʿawiyah ibn Yazid died, all the Syrians pledged Ibn al-Zubayr except the people of Jordan, and when the chiefs of Banu Umayyah and Syrian notables, among them Rawh ibn Zinbaʿ al-Judhami, saw this, they asked one another whether kingship that had lain among them, the Syrians, should pass to the Hijazis, declaring they would not accept it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومعشر بیان کرتے ہیں : جب معاویہ بن یزید کا انتقال ہو گیا ، تو تمام اہل شام نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کر لی ، صرف اہل اردن نے نہیں کی ، جب بنو امیہ کے اکابرین نے یہ صورت حال دیکھی اور شام کے کچھ افراد اور معززین نے یہ بات دیکھی ، جن میں ایک روح بن زنباع جذامی بھی تھا ، تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : حکومت تو ہمارے یعنی اہل شام کے درمیان رہنی چاہیے اور یہ اب منتقل ہو کے اہل حجاز کی طرف چلی جائے گی ، تو ہم اس سے راضی نہیں ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

12091

Majma al-Zawaid #12091

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «تُرْفَعُ زِينَةُ الدُّنْيَا سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn ʿAwf, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said the adornment of the world would be lifted in the year one hundred and twenty-five. > **"The adornment of the world will be lifted in the year one hundred and twenty-five."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک سو پچیس سال بعد ، دنیا کی زینت کو اٹھا لیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن مصعب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12092

Majma al-Zawaid #12092

عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ، وَإِنَّ أَجَلَ أُمَّتِي مِائَةٌ، فَإِذَا مَرَّ عَلَى أُمَّتِي مِائَةُ سَنَةٍ أَتَاهَا مَا وَعَدَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Mustawrid ibn Shaddad, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that every community has a term, that his community's term is one hundred years, and that when one hundred years pass over his community, what Allah, Mighty and Majestic, promised it will come to it. > **"Every community has a term, and my community's term is one hundred; when one hundred years pass over my community, what Allah promised it will come to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر امت کی ایک مخصوص مدت ہوتی ہے اور میری امت کی مدت ایک سو سال ہے ، جب میری امت پر ایک سو سال گزر جائیں گے ، تو ان کے پاس وہ چیز آ جائے گی ، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔

12093

Majma al-Zawaid #12093

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا: عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلًا، وَإِنَّ لِأُمَّتِي مِائَةَ سَنَةٍ، فَإِذَا مَرَّتْ عَلَى أُمَّتِي مِائَةُ سَنَةٍ أَتَاهَا مَا وَعَدَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -» ". قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ: يَعْنِي كَثْرَةَ الْفِتَنِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيجُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو أَوْ حَدِيجُ بْنُ عَمْرٍو كَمَا هُوَ فِي إِحْدَى رِوَايَتَيِ الطَّبَرَانِيِّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَلَكِنِ ابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another version with al-Tabarani, al-Mustawrid, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that every community has a term and his community's term is one hundred years, and when one hundred years pass over his community what Allah, Mighty and Majestic, promised it will come to it, with Ibn Lahiʿah explaining that he meant the abundance of tribulations. > **"Every community has a term, and my community's term is one hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرائی کی ایک روایت ، جو حضرت مستورد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ، اس میں یہ مذکور ہے : وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر امت کی ایک مخصوص مدت ہوتی ہے اور میری امت کی مخصوص مدت ایک سوسال ہے ، جب میری امت پر ایک سو سال گزر جائیں گے ، تو ان پر وہ چیز آ جائے گی ، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا ہے ۔‘‘ ابن لہیعہ کہتے ہیں : اس سے مراد فتنوں کا زیادہ ہونا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور ایک راوی حدیج بن ابوعمرو ہے ، یا حدیج بن عمرو ہے ، جیسا کہ طبرانی کی دو روایات میں سے ایک میں یہ بات مذکور ہے ، اس راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن ابن لہیعہ ضعیف ہے ۔

12094

Majma al-Zawaid #12094

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «وَكُلُّ مَا تُوعَدُونَ فِي مِائَةِ سَنَةٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that all they are promised lies within one hundred years. > **"All that you are promised lies within one hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے ساتھ جس چیز کا بھی وعدہ کیا گیا ہے ، وہ سب ایک سو سال میں رونما ہو جائیں گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

12095

Majma al-Zawaid #12095

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «ذُكِرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ نِكَايَةٌ فِي الْعَدُوِّ وَاجْتِهَادٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا أَعْرِفُ هَذَا "". قَالَ: بَلْ نَعْتُهُ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: "" مَا أَعْرِفُهُ "". فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: هُوَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" مَا كُنْتُ أَعْرِفُ هَذَا، هَذَا أَوَّلُ قَرْنٍ رَأَيْتُهُ فِي أُمَّتِي، إِنَّ فِيهِ لَسَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ "". فَلَمَّا دَنَا الرَّجُلُ سَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ حَدَّثْتَ نَفْسُكَ حِينَ طَلَعْتَ عَلَيْنَا أَنْ لَيْسَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكَ؟ "". قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأَبِي بَكْرٍ: "" قُمْ فَاقْتُلْهُ "". فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَوَجَدَهُ قَائِمًا يُصَلِّي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي نَفْسِهِ: إِنَّ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا، وَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَجَاءَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" قَتَلْتَهُ؟ "". قَالَ: لَا، رَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي، وَرَأَيْتُ لِلصَّلَاةِ حُرْمَةً وَحَقًّا، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: "" لَسْتَ بِصَاحِبِهِ، اذْهَبْ أَنْتَ يَا عُمَرُ فَاقْتُلْهُ "". فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ، فَانْتَظَرَهُ طَوِيلًا، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ فِي نَفْسِهِ: إِنَّ لِلسُّجُودِ حَقًّا، وَلَوْ أَنِّي اسْتَأْمَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِ اسْتَأْمَرَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي. فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَقَتَلْتَهُ؟ "". قَالَ: لَا، رَأَيْتُهُ سَاجِدًا، وَرَأَيْتُ لِلسُّجُودِ حَقًّا، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقْتُلَهُ قَتَلْتُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَسْتَ بِصَاحِبِهِ، قُمْ يَا عَلِيُّ أَنْتَ صَاحِبُهُ إِنْ وَجَدْتَهُ "". فَدَخَلَ، فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَقَتَلْتَهُ؟ "". قَالَ: لَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَوْ قُتِلَ مَا اخْتَلَفَ رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ "". ثُمَّ حَدَّثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْأُمَمِ فَقَالَ: "" تَفَرَّقَتْ أُمَّةُ مُوسَى عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ مِلَّةً، سَبْعُونَ مِنْهَا فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ. وَتَفَرَّقَتْ أُمَّةُ عِيسَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، إِحْدَى وَسَبْعُونَ مِنْهَا فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ "". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَتَعْلُو أُمَّتِي عَلَى الْفِرْقَتَيْنِ جَمِيعًا بِمِلَّةٍ، اثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ "". قَالَ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الْجَمَاعَاتُ "". قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ: وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَا مِنْهُ قُرْآنًا {وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ} [الأعراف: 159] ثُمَّ ذَكَرَ أُمَّةَ عِيسَى فَقَالَ: {وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ} [المائدة: 65] ثُمَّ ذَكَرَ أُمَّتَنَا فَقَالَ: {وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ} [الأعراف: 181]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي قِتَالِ الْخَوَارِجِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that a man renowned for harming the enemy and striving was mentioned to the Messenger of Allah ﷺ, who said he did not know him, and when his description was repeated the Prophet ﷺ still said he did not know him, until the man appeared and they identified him, whereupon the Prophet ﷺ declared he had never known him, that this was the first horn he had seen in his community, and that there was in him a dark touch of Satan, and when the man drew near and greeted, the Prophet ﷺ returned his greeting and adjured him by Allah whether, as he approached them, his soul had whispered that none among the people was better than himself, to which the man answered, O Allah, yes, so he entered the mosque and prayed, and the Messenger of Allah ﷺ told Abu Bakr to rise and kill him, but Abu Bakr entered, found him standing in prayer, deemed prayer inviolable, and returned to seek further leave, asking whether he should still kill him, and the Prophet ﷺ told him he was not his slayer and sent ʿUmar instead, but ʿUmar entered, found him prostrate, waited long, deemed prostration inviolable, and likewise returned to seek leave, and the Prophet ﷺ told him he too was not his slayer and commanded ʿAli, saying he was his slayer if he found him, but ʿAli entered to find he had already left the mosque and returned empty-handed, whereupon the Messenger of Allah ﷺ declared that had he been killed no two men of his community would have disputed until the Dajjal emerged, and then the Messenger of Allah ﷺ discoursed on the nations, declaring that the community of Musa split into seventy-one sects, seventy in the Fire and one in Paradise, that the community of ʿIsa split into seventy-two sects, seventy-one in the Fire and one in Paradise, and that his own community would exceed both sects together by one, with seventy-two in the Fire and one in Paradise, and when asked who they were he answered, the united congregations, while Yaʿqub ibn Zayd adds that ʿAli ibn Abi Talib, whenever he narrated this report from the Messenger of Allah ﷺ, would recite concerning the people of Musa that among the people of Musa there is a community guiding by truth and judging thereby, concerning the community of ʿIsa that had the People of the Book believed and feared Allah He would have expiated their sins and admitted them to blissful Gardens, and concerning their own community that among those He created there is a community guiding by truth and judging thereby. > **"Had he been killed, no two men of my community would have disputed until the Dajjal emerges; my community will divide into seventy-three sects, seventy-two in the Fire and one in Paradise: the united congregation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا ، جو عبادت و ریاضت میں بڑا اہتمام کرتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اسے نہیں پہچانا ، راوی نے عرض کی : اس کا حلیہ اس اس طرح کا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اسے نہیں پہچانا ، راوی بیان کرتے ہیں ، اسی دوران وہ شخص سامنے آ گیا ، تو راوی نے کہا : یہ وہ شخص ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اسے نہیں پہچانا تھا ، یہ وہ پہلا سینگ ہے ، جسے میں اپنی امت میں دیکھ رہا ہوں اور اس میں شیطان کا داغ موجود ہے ، جب وہ شخص قریب آیا تو اس نے سلام کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے سلام کا جواب دیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : جب تم ہمارے سامنے آئے تھے ، تو کیا تم نے من میں یہ سوچا تھا کہ ان سب لوگوں میں کوئی بھی تم سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ؟ اس نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے جی ہاں !۔ پھر وہ شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز ادا کرنا شروع کی ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اٹھو اور اسے قتل کر دو ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر گئے ، انہوں نے اس شخص کو کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے پایا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دل میں سوچا کہ نماز کی ایک مخصوص حرمت اور حق ہے ، اگر میں نبی اکرم ﷺ سے دوبارہ اس بارے میں معلوم کر لوں تو یہ مناسب ہو گا ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : کیا تم نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا ، تو میں نے یہ سوچا کہ نماز کی حرمت اور مخصوص حق ہوتا ہے ، اگر آپ یہ چاہیں کہ میں اسے قتل کر دوں ، تو میں اسے قتل کر دیتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کے متعلقہ فرد نہیں ہو ، اے عمر ! تم جاؤ اور اسے قتل کر دو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ، تو وہ شخص سجدے کی حالت میں تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا خاصی دیر انتظار کیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے من میں سوچا کہ سجدے کا مخصوص حق ہوتا ہے ، اگر میں نبی اکرم ﷺ سے دوبارہ اس بارے میں معلوم کر لوں تو یہ مناسب ہو گا ، کیونکہ ان صاحب نے نبی اکرم ﷺ سے دوبارہ معلوم کیا تھا ، جو مجھ سے بہتر ہیں ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! میں نے اسے سجدے کی حالت میں دیکھا ، تو میں نے یہ سوچا کہ سجدے کا مخصوص حق ہوتا ہے ، لیکن اگر آپ چاہیں کہ میں اسے قتل کر دوں ، تو میں اسے قتل کر دیتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کے متعلقہ فرد نہیں ہو ، اے علی ! تم اس کے متعلقہ فرد ہو ، اگر تم نے اسے پا لیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے ، تو انہوں نے اس شخص کو پایا کہ وہ مسجد سے جا چکا تھا ، وہ واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے قتل کر دیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر شخص قتل ہو جاتا تو دجال کے نکلنے تک میری امت کے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہیں کرنا تھا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں اُمتوں کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت اکہتر گروہوں میں تقسیم ہو گئی تھی ، جن میں سے ستر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت بہتر گروہوں میں تقسیم ہو گئی تھی ، جن میں سے اکہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت ان دونوں گروہوں پر ایک فرقے کے حوالے سے غالب ہو گی ، ان میں سے بہتّر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ ( یعنی جنت میں جانے والے ) کون ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جماعت ۔ یعقوب بن زید بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ جب نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے تھے ، تو اُس کے ساتھ قرآن کی یہ آیت بھی تلاوت کرتے تھے : ’’ اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسا تھا جو حق کے مطابق رہنمائی کرتا تھا اور اس کے مطابق فیصلے کرتا تھا ۔‘‘ پھر جب انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کا ذکر کیا ، تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور اگر اہل کتاب ( نبی اکرم ﷺ پر ) ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے ، تو ہم نے ان سے ان کے گناہ دور کر دینے تھے اور انہیں نعمتوں والی جنت میں داخل کر دینا تھا ۔‘‘ پھر جب انہوں نے ہماری اُمت کا ذکر کیا تو یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایک گروہ ایسا ہے ، جو حق کے مطابق رہنمائی کرتے ہیں اور اس ( حق ) کے مطابق عدل ( یا فیصلے ) کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے خوارج کے ساتھ جنگ کرنے سے متعلق باب میں ، اس حدیث کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔

12096

Majma al-Zawaid #12096

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَفَرَّقَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَأُمَّتِي تَزِيدُ عَلَيْهِمْ فِرْقَةً، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ أَبُو غَالِبٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that the Children of Israʾil split into seventy-one sects, the Christians into seventy-two sects, and his community would exceed them by one sect, all of them in the Fire except the great mass. > **"The Children of Israil split into seventy-one sects, the Christians into seventy-two, and my community will exceed them by one; all are in the Fire except the great mass."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بنی اسرائیل ( یعنی یہودی ) اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور عیسائی بہتّر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے ، اور میری امت ایک فرقے کے حوالے سے اُن سے زائد ہو گی ، وہ سب جہنم میں جائیں گے ، صرف سواد اعظم کا معاملہ مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوغالب ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کی حالت بھی اسی طرح ہے ۔

12097

Majma al-Zawaid #12097

وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «افْتَرَقَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَلَنْ تَذْهَبَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامُ حَتَّى تَفْتَرِقَ أُمَّتِي عَلَى مِثْلِهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd, meaning Ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said the Children of Israʾil split into seventy-one creeds, and nights and days would not pass before his community split into the like thereof. > **"The Children of Israil split into seventy-one creeds, and my community will split into the like thereof."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بنی اسرائیل اکہتر گروہوں میں تقسیم ہوئے تھے ، اور رات اور دن اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے ، جب تک میری امت بھی اتنے حصوں میں تقسیم نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12098

Majma al-Zawaid #12098

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ فِي أُمَّتِي نَيِّفًا وَسَبْعِينَ دَاعِيًا، كُلُّهُمْ دَاعٍ إِلَى النَّارِ، لَوْ أَشَاءُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that in his community there would be more than seventy callers, each calling to the Fire, whose fathers, mothers, and tribes he could name if he wished. > **"In my community there will be more than seventy callers, each calling to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں ستر سے زیادہ داعی ہوں گے ، وہ سب جہنم کی طرف دعوت دینے والے ہوں گے ، اگر میں چاہوں تو تمہیں ان کے آباء و اجداد اور قبائل کے نام بھی بیان کر سکتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12099

Majma al-Zawaid #12099

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي أُمَامَةَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالُوا: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَمَارَى فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ، ثُمَّ انْتَهَرَنَا فَقَالَ: "" مَهْلًا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا. ذَرُوا الْمِرَاءَ لِقِلَّةِ خَيْرِهِ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُمَارِي، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُمَارِيَ قَدْ نَمَتْ خَسَارَتُهُ، ذَرُوا الْمِرَاءَ، فَكَفَاكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُمَارِيًا، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُمَارِيَّ لَا أَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَأَنَا زَعِيمٌ بِثَلَاثَةِ أَبْيَاتٍ فِي الْجَنَّةِ فِي رِبَاضِهَا وَوَسَطِهَا وَأَعْلَاهَا لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ صَادِقٌ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ مَا نَهَانِي عَنْهُ رَبِّي بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ الْمِرَاءُ وَشُرْبُ الْخَمْرِ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِالتَّحْرِيشِ، وَهُوَ الْمِرَاءُ، ذَرُوا الْمِرَاءَ، فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَالنَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ إِلَّا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ السَّوَادُ الْأَعْظَمُ؟ قَالَ: "" مَنْ كَانَ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ أَنَا وَأَصْحَابِي، مَنْ لَمْ يُمَارِ فِي دِينِ اللَّهِ، وَمَنْ لَمْ يُكَفِّرْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ غُفِرَ لَهُ "". ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: "" الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ، وَلَا يُمَارُونَ فِي دِينِ اللَّهِ، وَلَا يُكَفِّرُونَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ الْمِرَاءِ فِي الْعِلْمِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Dardaʾ, Abu Umamah, Wathilah ibn al-Asqaʿ, and Anas ibn Malik, may Allah be pleased with them, report that the Messenger of Allah ﷺ once came out to them while they disputed over some religious matter, grew angrier than ever before, rebuked them, and warned them gently as the community of Muhammad, for those before them perished through such disputation, commanding them again and again to abandon quarrelling for its scant good, since the believer does not quarrel, the quarreller's loss only grows, mere persistence in quarrelling suffices as sin, he would not intercede on the Day of Resurrection for the quarreller, he guarantees three houses in Paradise, in its meadows, its midst, and its heights, for whoever abandons quarrelling though truthful, his Lord first forbade him quarrelling after idol-worship along with wine-drinking, Satan has despaired of being worshipped but contents himself with incitement among them, which is quarrelling, and the Children of Israʾil split into seventy-one sects and the Christians into seventy-two, all upon error except the great mass, and when asked who the great mass were he answered those upon what he and his Companions were upon, who do not quarrel over Allah's religion and do not declare any monotheist an unbeliever for a forgiven sin, then declared that Islam began strange and would return strange, and when asked who the strangers were he answered those who set things right when people corrupt them, who do not quarrel over Allah's religion, and who do not declare any monotheist an unbeliever for a sin. > **"Abandon quarrelling, for the believer does not quarrel; whoever abandons it though truthful, I guarantee him three houses in Paradise; Islam began strange and will return strange."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء ، حضرت ابوامامہ ، حضرت واثلہ بن اسقع اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں : ’’ ایک دن نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم کسی دینی معاملے کے بارے میں بحث کر رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ شدید غصے میں آ گئے ، آپ اس طرح پہلے کبھی اتنے غصے میں نہیں آئے تھے ، پھر آپ نے ہمیں جھڑکتے ہوئے ارشاد فرمایا : رک جاؤ ! اے محمد ( ﷺ ) کی امت ! تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ اس میں بھلائی کم ہے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ مومن بحث نہیں کرتا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ بحث کرنے والے کا خسارہ بڑھتا رہتا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ، کیونکہ تمہارے گنہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم مسلسل بحث کرتے رہو ، بحث کو چھوڑ دو کیونکہ مسلسل بحث کرنے والے شخص کی ، قیامت کے دن میں شفاعت نہیں کروں گا ، بحث کو چھوڑ دو کیونکہ میں ، جنت میں تین مقامات پر گھر ملنے کی ضمانت دوں گا ، اس کے اطراف والے حصے میں ، اس کے درمیانی حصے میں اور اس کے بالائی حصے میں ( یہ ضمانت ، میں ) اُس شخص کو دوں گا ، جو بحث کو ترک کر دے گا ، جبکہ وہ سچا ہو ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ میرے پروردگار نے بتوں کی عبادت اور شراب نوشی کے بعد ، جس پہلی چیز سے مجھے منع کیا ہے ، وہ بحث کرنا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے ، لیکن وہ تمہارے باہمی اختلاف سے بھی راضی ہو جائے گا ، اور وہ باہمی اختلاف بحث کی صورت میں ہوتا ہے ، تم بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور عیسائی بہتّر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے ، سواد اعظم کے علاوہ وہ سب گمراہی پر ہوں گے ۔ ( مطبوعہ نسخے میں یہ روایت اسی طرح ہے ، لیکن شاید کسی کے سہو کی وجہ سے کچھ عبارت نقل ہونے سے رہ گئی ہے ، کیونکہ سواد اعظم والے کلمات تو امت محمدیہ کے بارے میں ہیں ) ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سواد اعظم کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ ( لوگ ) جو اُس چیز پر گامزن ہوں ، جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں ، وہ شخص جو اللہ کے دین کے بارے میں بحث نہیں کرتا اور گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اہل توحید میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا ، اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا ، اور یہ عنقریب دوبارہ غریب الوطن ہو جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب الوطن لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو لوگوں کی خرابی کے وقت ٹھیک رہیں اور اللہ کے دین کے بارے میں بحث مباحثہ نہ کریں ، اور اہل توحید میں سے کسی کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہ دیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کتاب العلم میں بحث کرنے سے متعلق کچھ روایات گزر چکی ہیں ۔

12100

Majma al-Zawaid #12100

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدٍ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِالْوَحْيِ، فَتَغَشَّى رِدَاءَهُ، فَمَكَثَ طَوِيلًا حَتَّى سُرِّيَ عَنْهُ، ثُمَّ كَشَفَ رِدَاءَهُ فَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ عَرَقًا شَدِيدًا وَإِذَا هُوَ قَابِضٌ عَلَى شَيْءٍ، فَقَالَ: "" أَيُّكُمْ يَعْرِفُ مَا يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ؟ "". قُلْنَا: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِآبَائِنَا أَنْتَ وَأُمَّهَاتِنَا، لَيْسَ شَيْءٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّخْلِ إِلَّا نَحْنُ نَعْرِفُهُ، نَحْنُ أَصْحَابُ نَخْلٍ. ثُمَّ فَتَحَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا نَوًى، فَقَالَ: "" مَا هَذَا؟ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَوًى. فَقَالَ: "" نَوَى أَيِّ شَيْءٍ؟ "". قَالُوا: نَوَى سَنَةٍ. قَالَ: "" صَدَقْتُمْ، جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَتَعَاهَدُ دِينَكُمْ، لَتَسْلُكُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلِكُمْ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ، وَلَتَأْخُذُنَّ بِمِثْلِ أَخْذِهِمْ إِنْ شِبْرًا فَشِبْرٌ وَإِنْ ذِرَاعًا فَذِرَاعٌ وَإِنْ بَاعًا فَبَاعٌ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ دَخَلْتُمْ فِيهِ. أَلَا إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقَتْ عَلَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - سَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا ضَالَّةٌ إِلَّا فِرْقَةً وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ. ثُمَّ إِنَّهَا افْتَرَقَتْ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا ضَالَّةٌ إِلَّا وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ. ثُمَّ إِنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ لَهُ حَدِيثًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAwf reports that while they sat around the Messenger of Allah ﷺ in a Madinan mosque, Jibril, peace be upon him, came with revelation, the Prophet ﷺ wrapped himself in his cloak, tarried long until it was lifted from him, then uncovered his cloak dripping with heavy sweat while clutching something, and asked which of them knew what emerges from the palm tree, to which they answered, with their fathers and mothers as ransom, that as owners of palms they knew all its yield, so he opened his hand to reveal date-stones, asked what they were and the stones of what year, to which they answered stones of that year, and he confirmed them, then declared that Jibril, peace be upon him, had come to inspect their religion, and that they would surely follow the ways of those before them sole to sole, adopting their practices span for span, cubit for cubit, and fathom for fathom, until were they to enter a lizard's hole they would enter it too, adding that the Children of Israʾil split over Musa, peace be upon him, into seventy sects, all astray save one, Islam and its congregation, then split over ʿIsa, peace be upon him, into seventy-one sects, all astray save one, Islam and its congregation, and that they would become seventy-two sects, all in the Fire save one, Islam and its congregation. > **"You will surely follow the ways of those before you sole to sole, until were they to enter a lizard's hole you would enter it; all sects are in the Fire save one: Islam and its congregation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم مدینہ منورہ میں ، مسجد میں نبی اکرم ﷺ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے ، نبی اکرم ﷺ نے چادر اوڑھ لی ، آپ خاصی دیر تک ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی اور آپ نے چادر ہٹائی تو آپ کو بہت زیادہ پسینہ آ چکا تھا اور آپ نے کوئی چیز مٹھی میں لی ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم میں سے کون شخص اس چیز کو جانتا ہے جو کھجور کے درخت سے نکلتی ہے ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کھجوروں میں سے جو چیز بھی نکلتی ہے ، ہم اس سے واقف ہیں ، کیونکہ ہم کھجوروں کا کام کرتے ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک کھولا تو اس میں گٹھلی موجود تھی ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گٹھلی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کسی چیز کی گٹھلی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : قحط سالی کے دنوں کی گٹھلی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک کہا ہے ، ابھی جبرائیل آئے اور وہ تمہارے دین کے بارے میں بیان کر رہے تھے کہ تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر ضرور چلو گے ، جس طرح ایک جوتا ، دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے ، اور تم ان چیزوں کو ضرور اختیار کرو گے ، جنہیں ان لوگوں نے اختیار کیا تھا ، بالشت در بالشت ، ذراع در ذراع ( درمیانی سب سے بڑی انگلی کے کنارے سے لے کر کہنی تک کی مقدار کو ’’ ذراع ‘‘ کہتے ہیں ) اور باغ در باغ ( دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ کی مقدار کو ’’ باع “ کہتے ہیں ) یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تھے ، تو تم لوگ بھی اُس میں داخل ہو جاؤ گے ، البتہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ستر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے ، وہ تمام فرقے گمراہ تھے ، صرف ایک فرقے کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ اسلام اور اس کی جماعت تھے ، پھر عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اکہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے ، سب فرقے گمراہ تھے ، صرف ایک کا معاملہ مختلف تھا ، اور وہ اسلام اور ان کی جماعت تھا ، اور تم لوگ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو جاؤ گے ، سب جہنم میں جائیں گے ، صرف ایک فرقے کا معاملہ مختلف ہے ، وہ اسلام اور ان لوگوں کی جماعت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام ترمذی نے اسے حسن الحدیث قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12101

Majma al-Zawaid #12101

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ". فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَهَا ثَلَاثًا -. قَالَ: " تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ ". قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " فَإِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ أَفْضَلُهُمْ عَمَلًا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ ". ثُمَّ قَالَ: " يَا ابْنَ مَسْعُودٍ ". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ ". قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ، وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي الْعَمَلِ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ زَحْفًا. وَاخْتَلَفَ مَنْ كَانَ قَبْلِي عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، نَجَا مِنْهَا ثَلَاثَةٌ وَهَلَكَ سَائِرُهُنَّ، فِرْقَةٌ وَازَتِ الْمُلُوكَ وَقَاتَلُوهُمْ عَلَى دِينِهِمْ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَأَخَذُوهُمْ وَقَتَلُوهُمْ وَقَطَّعُوهُمْ بِالْمَنَاشِيرِ. وَفِرْقَةٌ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ طَاقَةٌ بِمُوَازَاةِ الْمُلُوكِ وَلَا بِأَنْ يُقِيمُوا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَيَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَسَاحُوا فِي الْبِلَادِ وَتَرَهَّبُوا» ". قَالَ: " «وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: " {رَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ} [الحديد: 27]» " الْآيَةَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَاتَّبَعَنِي فَقَدْ رَعَاهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا، وَمَنْ لَمْ يَتَّبِعْنِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ»

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ entered and called him thrice, to each of which he answered at your service, O Messenger of Allah, then asked whether he knew which people are best, and when he deferred to Allah and His Messenger, explained that the best people are the best in deeds when they understand their religion, then called him again, asked whether he knew which people are most knowledgeable, and when he again deferred, explained that the most knowledgeable are the keenest-sighted upon truth when people differ, even if deficient in deeds and even if crawling upon his buttocks, and that those before him split into seventy-two sects, of which three were saved and the rest perished: one party that confronted kings and fought them over their religion and the religion of ʿIsa son of Maryam until they were seized, killed, and sawn with saws, another party lacking strength to confront kings or to dwell among them calling them to Allah and the religion of ʿIsa son of Maryam, so they roamed the lands and embraced monastic life, namely those of whom Allah, Mighty and Majestic, said they innovated monasticism which was not prescribed for them save seeking Allah's pleasure, and the Prophet ﷺ added that whoever believed in him, confirmed him, and followed him had observed it duly, while whoever did not follow him were the perishing. > **"The best people are the best in deeds when they understand their religion; the most knowledgeable are the keenest-sighted upon truth when people differ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ دریافت کی : پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا کون ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا شخص وہ ہے ، جو عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو ، جبکہ وہ لوگ دین کا علم رکھتے ہوں ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا کون ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص اور حق کے بارے میں ان میں سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والا شخص وہ ہے ، جو لوگوں کے اختلاف کے وقت ایسا کرتا ہوا ، اگرچہ اس کے عمل میں کمی پائی جاتی ہو ، اگرچہ وہ سرین کے بل گھسٹ کر چلتا ہو ، مجھ سے پہلے کے لوگ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے ، ان میں سے تین نے نجات پائی تھی اور باقی سب ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے ( وہ تین فرقے یہ تھے : ) ایک گروہ ، وہ تھا کہ جس نے بادشاہوں کے خلاف بغاوت کی اور اپنے دین اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کے حوالے سے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی ، بادشاہوں نے انہیں پکڑا اور انہیں قتل کر دیا اور آروں کے ذریعے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ، ان میں سے ایک ( یعنی دوسرا ) گروہ وہ تھا ، جو بادشاہوں کے خلاف لڑنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا اور وہ ان کے درمیان ٹھہر بھی نہیں سکتا تھا ، وہ لوگوں کو اللہ کی طرف اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دیتے تھے وہ مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور انہوں نے رہبانیت اختیار کی ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ وہی لوگ ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور رہبانیت کا آغاز ، انہوں نے کیا تھا ، یہ ہم نے ان پر لازم قرار نہیں دی تھی اور انہوں نے اُسے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لئے اختیار کیا تھا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھ پر ایمان لائے ، میری تصدیق کرے ، میری پیروی کرے ، تو اُس نے رہبانیت کا حقیقی خیال رکھا اور جس نے میری پیروی نہیں کی ، تو وہی لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہوں گے ۔‘‘

12102

Majma al-Zawaid #12102

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «فِرْقَةٌ أَقَامَتْ فِي الْمُلُوكِ وَالْجَبَابِرَةِ فَدَعَتْ إِلَى دِينِ عِيسَى، فَأُخِذَتْ وَقُتِلَتْ بِالْمَنَاشِيرِ وَحُرِّقَتْ بِالنِّيرَانِ، فَصَبَرَتْ حَتَّى لَحِقَتْ بِاللَّهِ» ""، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

In another version the Prophet ﷺ declared that one party remained among kings and tyrants calling to the religion of ʿIsa, so they were seized, killed with saws, and burned with fires, yet endured until they met Allah, with the remainder as before. > **"A party remained among kings and tyrants calling to the religion of Isa, so they were killed with saws and burned with fires, yet endured until they met Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ایک گروہ بادشاہوں اور ظالم لوگوں کے درمیان مقیم ہوا ، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دینے لگا ، اُن لوگوں کو پکڑا گیا اور آروں کے ذریعے کاٹ دیا گیا اور آگ میں جلا دیا گیا ، تو ان لوگوں نے صبر سے کام لیا ، یہاں تک کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے .......‘‘۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بکیر بن معروف کا معاملہ مختلف ہے ، جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12103

Majma al-Zawaid #12103

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِثْلًا بِمِثْلٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ: "" «حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَاتَّبَعْتُمُوهُ» "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: "" «فَمَنْ إِلَّا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى» "" ; وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Ansari, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that by Him in whose hand his soul is they would surely ride the ways of those before them measure for measure, with the added wording that were they to enter a lizard's hole they would follow them, and when asked whether he meant the Jews and Christians he answered who else but the Jews and Christians. > **"By Him in whose hand my soul is, you will surely ride the ways of those before you measure for measure, even were they to enter a lizard's hole."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم اپنے پہلے کے لوگوں کی بالکل برابر ضرور پیروی کرو گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے بل میں داخل ہوئے تھے ، تو تم ان کی پیروی کرو گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ( پہلے لوگوں سے مراد ) یہودی اور عیسائی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ اور کون ہوں گے ؟“۔ امام احمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان ہے جس نے ابوحازم کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12104

Majma al-Zawaid #12104

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَيَحْمِلَنَّ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى سُنَنِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ.

EnglishUnverified translation

Shaddad ibn Aws, may Allah be pleased with him, reports from the report of the Messenger of Allah ﷺ that the worst of this community would surely adopt the ways of the former Scripture folk who passed before them, arrow-feather to arrow-feather. > **"The worst of this community will surely adopt the ways of the former Scripture folk who passed before them, feather to feather."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اس اُمت کے برے لوگ ، اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی ضرور پیروی کریں گے ، جن پہلے لوگوں کا تعلق اہل کتاب سے تھا ، اور وہ یوں پیروی کریں گے ، جس طرح تیر کا ایک پر دوسرے کے برابر ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12105

Majma al-Zawaid #12105

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ وَبَاعًا بِبَاعٍ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ دَخَلَ جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ، وَحَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ جَامَعَ أُمَّهُ لَفَعَلْتُمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said they would surely ride the ways of those before them span for span, cubit for cubit, and fathom for fathom, until were any of them to enter a lizard's hole they would enter it, and were any of them to consort with his own mother they would do likewise. > **"You will surely ride the ways of those before you span for span, cubit for cubit, and fathom for fathom, until were any of them to enter a lizard's hole you would enter it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر ضرور عمل کرو گے ، جو بالشت در بالشت ، ذراع در ذراع ( درمیانی سب سے بڑی انگلی کے کنارے سے لے کر کہنی تک کی مقدار کو ’’ ذراع ‘‘ کہتے ہیں ) اور باع در باع ( دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ کی مقدار کو ’’ باع “ کہتے ہیں ) ہو گا ، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی ایک شخص گوہ کے بل میں داخل ہوا تھا ، تو تم بھی داخل ہو جاؤ گے ، یہاں تک کہ ان میں سے اگر کسی شخص نے اپنی ماں کے ساتھ صحبت کی تھی ، تو تم بھی ایسا کرو گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12106

Majma al-Zawaid #12106

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَنْتُمْ أَشْبَهُ الْأُمَمِ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ، لَتَرْكَبُنَّ طَرِيقَهُمْ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ، حَتَّى لَا يَكُونَ فِيهِمْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ فِيكُمْ مِثْلُهُ، حَتَّى أَنَّ الْقَوْمَ لَتَمُرُّ عَلَيْهِمُ الْمَرْأَةُ فَيَقُومُ إِلَيْهَا بَعْضُهُمْ فَيُجَامِعُهَا ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ إلَيهِمْ وَيَضْحَكُونَ إِلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said they are the most resembling of nations to the Children of Israʾil and would surely ride their path feather to feather, until there would be nothing among them but its like would be among this community, even to a woman passed by the folk while one of them rises to her, consorts with her, then returns to his companions laughing to them while they laugh to him. > **"You are the most resembling of nations to the Children of Israil; you will surely ride their path feather to feather."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ بنی اسرائیل کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والی امت ہو ، اور تم ان کے طریقوں پر یوں عمل کرو گے ، جس طرح تیر کا ایک پر دوسرے کے برابر ہوتا ہے ، یہاں تک کہ ان میں جو چیز بھی تھی ، وہ تمہارے درمیان بھی اس کی مانند ہو گی ، یہاں تک کہ کچھ لوگوں کے پاس سے ایک عورت گزرے گی ، تو ان لوگوں میں سے ایک شخص اُٹھ کر اس عورت کے پاس جائے گا اور اس کے ساتھ صحبت کرے گا ، اور پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آ جائے گا ، وہ شخص انہیں دیکھ کے ہنس رہا ہو گا اور وہ لوگ اُسے دیکھ کے ہنس رہے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12107

Majma al-Zawaid #12107

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَتْرُكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ شَيْئًا مِنْ سُنَنِ الْأَوَّلِينَ حَتَّى تَأْتِيَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Mustawrid ibn Shaddād, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning this Ummah and its relation to the practices of earlier peoples. > **"This Ummah will not abandon anything from the ways of the earlier peoples until it adopts it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ یہ امت پہلے والے لوگوں کے ہر ایک طریقے پر عمل کرے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12108

Majma al-Zawaid #12108

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ فِي أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، سَمِعَ مِنْهُ الثَّوْرِيُّ فِي الصِّحَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān al-Ḥaḍramī reports that a man who had heard the Prophet ﷺ informed him of the Prophet's ﷺ statement about a group in his Ummah. > **"Indeed, among my Ummah there are a people who will be given reward like the reward of its first ones; they reject evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن حضرمی بیان کرتے ہیں : مجھے اُن صاحب نے یہ بات بتائی ہے ، جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے ، جنہیں امت کے پہلے لوگوں کے اجر کی مانند اجر دیا جائے گا ، یہ وہ لوگ ہوں گے جو منکر کا انکار کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، ثوری نے تندرستی کے زمانے میں اس سے سماع کیا ہے اور عبدالرحمن بن حضرمی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12109

Majma al-Zawaid #12109

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ لِهَذَا الدِّينِ إِقْبَالًا وَإِدْبَارًا، أَلَا وَإِنَّ مِنْ إِقْبَالِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَفْقَهَ الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا حَتَّى لَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَاسِقُ أَوِ الْفَاسِقَانِ ذَلِيلَانِ، فَهُمَا إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا. وَإِنَّ مِنْ إِدْبَارِ هَذَا الدِّينِ أَنْ تَجْفُوَ الْقَبِيلَةُ بِأَسْرِهَا فَلَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَقِيهُ وَالْفَقِيهَانِ، فَهُمَا ذَلِيلَانِ إِنْ تَكَلَّمَا قُهِرَا وَاضْطُهِدَا. وَيَلْعَنُ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، أَلَا وَعَلَيْهِمْ حَلَّتِ اللَّعْنَةُ حَتَّى يَشْرَبُوا الْخَمْرَ عَلَانِيَةً حَتَّى تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالْقَوْمِ فَيَقُومَ إِلَيْهَا بَعْضُهُمْ فَيَرْفَعُ بِذَيْلِهَا كَمَا يَرْفَعُ بِذَنْبٍ النَّعْجَةِ، فَقَائِلٌ يَقُولُ يَوْمَئِذٍ: أَلَا وَارَيْتَهَا وَرَاءَ الْحَائِطِ، فَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِيهِمْ مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِيكُمْ، فَمَنْ أَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَلَهُ أَجْرُ خَمْسِينَ مِمَّنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَأَطَاعَنِي وَبَايَعَنِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the advance and retreat of this religion, the state of scholars and sinners, open sin, and the reward of enjoining good in corrupt times. > **"Indeed, this religion has an advance and a retreat. Among its advance is that a whole tribe gains understanding until none remains in it except one or two sinners, both humiliated; if they speak they are overpowered and oppressed. And among its retreat is that a whole tribe becomes neglectful so none remains in it except one or two learned men, both humiliated; if they speak they are overpowered and oppressed. And the last of this Ummah will curse its first. Upon them falls the curse, until they drink wine openly, until a woman passes by a group and one of them rises to her and lifts her skirt as one lifts the tail of a ewe, and one who speaks on that day will say: Had you concealed her behind a wall. On that day he among them will be like Abū Bakr and ʿUmar among you. Whoever enjoins good and forbids evil on that day will have the reward of fifty of those who saw me and believed in me and obeyed me and pledged to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس دین کی ایک آمد ہے اور ایک رخصتی ہو گی ، اس دین کی آمد میں یہ بات شامل ہے کہ پورا قبیلہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر لے گا اور پورے قبیلے میں ایک یا دو فاسق رہ جائیں گے ، جو کمتر ہوں گے اور ان دونوں کا یہ عالم ہو گا کہ اگر وہ کوئی بات کریں گے ، تو دب کے کریں گے اور زیرنگیں ہو کر کریں گے ، اور اس دین کی رخصتی یہ ہو گی کہ پورا قبیلہ زیادتی کرے گا ، ان میں صرف ایک یا دو عالم ہوں گے اور وہ دونوں کمتر ہوں گے ، اگر وہ بات چیت کریں گے ، تو دب کر کریں گے اور مجبور ہو کر کریں گے ، اور اس امت کا آخری حصہ پہلے والوں پر لعنت کرے گا ، خبردار ! ان لوگوں پر لعنت حلال ہو جائے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ اعلانیہ طور پر شراب نوشی کریں گے ، یہاں تک ایک عورت کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے گی ، تو ان میں سے ایک شخص اُٹھ کر اُس عورت کے پاس جائے گا اور اس عورت کے دامن کو یوں اٹھائے گا ، جس طرح بکری کی دم کو اوپر کیا جاتا ہے ، اس وقت کوئی شخص یہ کہے گا : تم اسے دیوار کے پیچھے لے جاؤ ، تو ان لوگوں کے درمیان اُس شخص کا یہ عالم ہو گا ، جو تمہارے درمیان ابوبکر اور عمر کی حالت ہے ، اس وقت میں جو شخص نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا ، اُسے ان پچاس افراد کی مانند اجر ملے گا ، جنہوں نے مجھے دیکھا ، مجھ پر ایمان لائے ، میری اطاعت کی اور میری بیعت کی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ متروک ہے ۔

12110

Majma al-Zawaid #12110

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا رَأَيْتَ أُمَّتِي تَهَابُ الظَّالِمَ أَنْ تَقُولَ لَهُ: أَنْتَ ظَالِمٌ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ أَحْمَدَ، إِلَّا أَنَّهُ وَقَعَ فِيهِ فِي الْأَصْلِ غَلَطٌ فَلِهَذَا لَمْ أَذْكُرْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ speak about his Ummah fearing to confront an oppressor. > **"When you see my Ummah fearing the oppressor, that they say to him: You are an oppressor, then they have been left without support."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو یہ کہتے ہوئے خوف زدہ ہوتی ہے کہ تم ظالم ہو ، تو پھر اُن کی رخصتی کا وقت آ جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام احمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، البتہ ان کی اصل روایت میں غلطی آ گئی تھی ، اس لئے میں نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

12111

Majma al-Zawaid #12111

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ لَخَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ وَيُوعِدُهُمُ الْخَيْرَ. وَأَمَّا الْمُنْكَرُ فَيَقُولُ: إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ، وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ swore by the One in Whose Hand is the soul of Muḥammad ﷺ and described good and evil as two creations set forth for people. > **"By the One in Whose Hand is the soul of Muḥammad, indeed good and evil are two natures set forth for people on the Day of Resurrection. As for good, it will give glad tidings to its people and promise them good. And as for evil, it will say: To me, to me, and they will be unable to do anything but cling to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، نیکی اور برائی دو قسم کی مخلوق ہیں ، جنہیں لوگوں کے لئے قیامت کے دن نصب کیا جائے گا ، جہاں تک نیکی کا تعلق ہے ، تو وہ اپنے متعلقہ افراد کو خوشخبری دے گی اور ان کے ساتھ بھلائی کا وعدہ کرے گی ، اور جہاں تک برائی کا تعلق ہے ، تو وہ یہ کہے گی : تم خود کو سنبھالو ! تم خود کو سنبھالو ! اور وہ لوگ اس کے ساتھ ہی چمٹے رہیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

12112

Majma al-Zawaid #12112

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ خَازِمٌ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Prophet ﷺ described the people of good and the people of evil in this world and the next. > **"The people of good in this world are the people of good in the Hereafter, and the people of evil in this world are the people of evil in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دنیا میں نیکیاں کرنے والے ، آخرت میں نیکیاں کرنے والے ہوں گے ، اور دنیا میں برائیاں کرنے والے ، آخرت میں برائیاں کرنے والے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خازم ابومحمد ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔

12113

Majma al-Zawaid #12113

وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ بُرْمَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" «أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هُوَ صَدُوقٌ، إِلَّا أَنَّهُ تَرَكَ حَدِيثَهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ يَتَوَقَّفُ فِي الْقُرْآنِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Qabīṣah ibn Burmah al-Asadī, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he was sitting with the Prophet ﷺ and heard him describe the people of good and evil in both abodes. > **"The people of good in this world are the people of good in the Hereafter, and the people of evil in this world are the people of evil in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قبیصہ بن برمہ اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ دنیا میں نیکیاں کرنے والے ، آخرت میں نیکیاں کرنے والے ہوں گے اور دنیا میں برائیاں کرنے والے ، آخرت میں برائیوں والے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوہاشم ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، البتہ اس کی حدیث کو اس لئے متروک قرار دیا گیا ، کیونکہ یہ قرآن کے بارے میں تؤقف سے کام لیتا تھا ، اس روایت کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12114

Majma al-Zawaid #12114

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا يَحْيَى بْنُ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَلَا وَلَدَهُ أَحْمَدَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي الْأَخِيرِ الْمُسَيَّبِ بْنُ وَاضِحٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُخْطِئُ كَثِيرًا، فَإِذَا قِيلَ لَهُ لَمْ يَرْجِعْ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the people of good and evil in this world and the next. > **"The people of good in this world are the people of good in the Hereafter, and the people of evil in this world are the people of evil in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا میں نیکیوں والے ، آخرت میں نیکیوں والے ہوں گے اور دنیا میں برائیوں والے ، آخرت میں برائیوں والے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یحیی بن خالد بن حیان رقی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور نہ ہی اس کے بیٹے احمد سے واقف ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، دوسری روایت میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ بہت زیادہ غلطی کرتا ہے اور جب اس کو غلطی پر تنبیہ کی جائے ، تو یہ رجوع نہیں کرتا ہے ۔

12115

Majma al-Zawaid #12115

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the people of good and evil in both abodes. > **"The people of good in this world are the people of good in the Hereafter, and the people of evil in this world are the people of evil in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا میں نیکی والے ، آخرت میں نیکی والے ہوں گے اور دنیا میں برائی والے ، آخرت میں برائی والے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

12116

Majma al-Zawaid #12116

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمَعْرُوفِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الدُّنْيَا أَهْلُ الْمُنْكَرِ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ الْفَرَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِي الْآخَرِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ described the people of good and evil in this world and the next. > **"The people of good in this world are the people of good in the Hereafter, and the people of evil in this world are the people of evil in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا میں نیکی والے ، آخرت میں نیکی والے ہوں گے اور دنیا میں برائی والے ، آخرت میں برائی والے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہارون فروی ہے اور وہ ضعیف ہے ، دوسری روایت میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ۔