وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ذَاتَ يَوْمٍ، وَكَانَتِ امْرَأَةً تَلْطُفُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" كَيْفَ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ؟ "". قَالَتْ: بِخَيْرٍ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأُمِّي، فَكَيْفَ أَنْتَ؟ قَالَ: "" بِخَيْرٍ "". قَالَتْ: عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا. قَالَ: "" وَكَيْفَ؟ "". قَالَتْ: حَرَّمَ النَّوْمَ فَلَا يَنَامُ، وَلَا يُفْطِرُ، وَلَا يَطْعَمُ اللَّحْمَ، وَلَا يُؤَدِّي إِلَى أَهْلِهِ حَقَّهُمْ. قَالَ: "" فَأَيْنَ هُوَ؟ "". قَالَتْ: خَرَجَ وَيُوشِكُ. قَالَ: "" فَإِذَا رَجَعَ فَاحْبِسِيهِ "". قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ، فَأَوْشَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّجْعَةَ وَقَالَ: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكَ؟ "". قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بَلَغَنِي أَنَّكَ لَا تَنَامُ وَلَا تُفْطِرُ "". قَالَ: أَرَدْتُ بِذَلِكَ الْأَمْنَ مِنْ يَوْمِ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ. "" وَبَلَغَنِي أَنَّكَ لَا تَطْعَمُ اللَّحْمَ "". قَالَ: أَرَدْتُ بِذَلِكَ طَعَامًا خَيْرًا مِنْهُ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: "" وَبَلَغَنِي أَنَّكَ لَا تُؤَدِّي إِلَى أَهْلِكَ حَقَّهُمْ "". قَالَ: أَرَدْتُ بِذَلِكَ نِسَاءً هُنَّ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةً حَسَنَةً، فَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ وَيُفْطِرُ، وَيَنَامُ وَيَقُومُ، وَيَأْكُلُ اللَّحْمَ، وَيُؤَدِّي إِلَى أَهْلِهِ حَقَّهُمْ. يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِبَدَنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ خَمْسَةَ أَيَّامٍ وَأُفْطِرَ يَوْمًا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: فَأَصُومَ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَأُفْطِرَ يَوْمًا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: فَأَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَأُفْطِرَ يَوْمًا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: فَأَصُومَ يَوْمَيْنِ وَأُفْطِرَ يَوْمًا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: أَفَأَصُومُ يَوْمًا وَأُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: "" ذَلِكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، وَكَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرَجَتْ عُهُودُهُمْ وَمَوَاثِيقُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا ""، وَخَالَفَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قَالَ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "" تَأْخُذُ بِمَا تَعْرِفُ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتَعْمَلُ لِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَتَدَعُ النَّاسَ وَعَوَامَّ أُمُورِهِمْ "". ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَأَقْبَلَ يَمْشِي بِهِ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِ أَبِيهِ، قَالَ: "" أَطِعْ أَبَاكَ "". فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ قَالَ لَهُ أَبُوهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، اخْرُجْ فَقَاتِلْ. فَقَالَ: يَا أَبَتَاهُ، تَأْمُرُنِي أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَ، وَقَدْ سَمِعْتَ مَا سَمِعْتَ يَوْمَ يَعْهَدُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَعْهَدُ؟ قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَلَمْ يَكُنْ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَخَذَ بِيَدِكَ فَوَضَعَهَا فِي يَدِي ثُمَّ قَالَ: "" أَطِعْ أَبَاكَ؟ "". قَالَ: بَلَى. قَالَ: فَإِنِّي أَعْزِمُ أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَ. فَخَرَجَ مُتَقَلِّدًا بِسَيْفٍ، فَلَمَّا انْكَشَفَتِ الْحَرْبُ أَنْشَأَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَقُولُ: شَبَّتِ الْحَرْبُ فَأَعْدَدْتُ لَهَا ... مُقَرَّعَ الْحَارِكِ مَرْوِيَّ الثَبَجْ يَصِلُ الشَّدَّ بِشَدٍّ وَإِذَا ... وَثَبَ الْحَبْلُ مِنَ الشَّدِّ مَعَجْ جَرْشَعَ أَعْظُمُهُ جِفْرَتُهُ ... فَإِذَا ابْتَلَّ مِنَ الْمَاءِ حَدَجْ. وَأَنْشَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَقُولُ: وَلَوْ شَهِدَتْ جَمَلٌ مَقَامِي وَمَشْهَدِي ... بِصِفِّينَ يَوْمًا شَابَ مِنْهَا الذَّوَائِبُ عَشِيَّةَ جَا أَهْلُ الْعِرَاقِ كَأَنَّهُمْ ... سَحَابُ رَبِيعٍ رَفَعَتْهُ الْجَنَائِبُ وَجِئْنَاهُمْ نُرْدَى كَأَنَّ صُفُوفَنَا ... مِنَ الْبَحْرِ مَوْجٌ مَدُّهُ مُتَرَاكِبُ إِذَا قُلْتُ: قَدْ وَلَّوْا سِرَاعًا بَدَتْ لَنَا ... كَتَائِبُ مِنْهُمْ وَارْجَحَنَّتْ كَتَائِبُ فَدَارَتْ رَحَانَا وَاسْتَدَارَتْ رَحَاهُمْ ... سَرَاةَ النَّهَارِ مَا تَوَلَّى الْمَنَاكِبُ فَقَالُوا لَنَا إِنَّا نَرَى أَنْ تُبَايِعُوا ... عَلِيًّا فَقُلْنَا لَا نَرَى أَنْ تُضَارِبُوا». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَغَيْرُهُ.
EnglishUnverified translation
ʿAbdullah ibn ʿAmr ibn al-ʿAs, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ once visited the mother of ʿAbdullah ibn ʿAmr, a woman who treated the Messenger of Allah ﷺ with kindness, and after exchanging greetings she told him her son had cut himself off from the world by forbidding himself sleep, fasting without break, refusing meat, and withholding his family's rights, so the Prophet ﷺ asked where he was, was told he had gone out but would soon return, and told her to detain him upon his return, and when ʿAbdullah came and the Messenger of Allah ﷺ soon returned, he questioned him about these reports, to which ʿAbdullah answered that he sought thereby safety from the day of the greatest terror, food better than meat in Paradise, and wives better than his wife in Paradise, whereupon the Prophet ﷺ reminded him that in the Messenger of Allah there is an excellent example, for he fasts and breaks fast, sleeps and prays by night, eats meat, and renders his family their rights, and that Allah, his body, and his family each have rights over him, and when ʿAbdullah proposed various schemes of fasting, the Prophet ﷺ declined them until ʿAbdullah proposed fasting one day and breaking fast one day, which the Prophet ﷺ approved as the fast of his brother Dawud, and he further warned him of a time when he would remain among worthless people whose covenants would be corrupted, intertwining his fingers to depict their confusion, and instructed him then to hold to what he recognized, leave what he disapproved, attend to his private affair, and leave the people and their public matters, then took his hand, walked with him, placed it in his father's hand, and told him to obey his father, and the narration concludes that on the Day of Siffin his father ordered him to go out and fight, and when ʿAbdullah reminded him of the Prophet's ﷺ covenant, his father adjured him that the last of that covenant was precisely the placing of his hand in his father's with the command to obey him, so ʿAbdullah went out girt with his sword, and after the battle lifted, ʿAmr ibn al-ʿAs and ʿAbdullah ibn ʿAmr each recited verses describing how war had blazed, how the Iraqis had come like spring clouds, how ranks had surged like sea waves, how the day had turned, and how the call to pledge ʿAli had been refused. > **"O Abdullah ibn Amr, you have in the Messenger of Allah an excellent example; obey your father; hold to what you recognize and leave what you disapprove."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی والدہ کے پاس تشریف لائے ، وہ ایک ایسی خاتون تھیں ، جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بڑی مہربانی سے پیش آتی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ام عبداللہ ! تمہارا کیا حال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بہتر ہوں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کا کیا حال ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہوں ، انہوں نے عرض کی : عبداللہ ایک ایسا شخص ہے ، جو دنیا سے لاتعلق ہو چکا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس خاتون نے بتایا : اس نے سونے کو حرام قرار دیدیا ہے ، وہ سوتا نہیں ہے ، نفلی روزہ ترک نہیں کرتا ، گوشت نہیں کھاتا اور اپنی بیوی کو اس کا حق نہیں دیتا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ ہے کہاں ؟ اس خاتون نے بتایا : وہ باہر گیا ہوا ہے تھوڑی دیر تک آ جائے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب وہ واپس آئے تو تم اسے روک کے رکھنا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، پھر عبداللہ آیا ، تھوڑی دیر بعد نبی اکرم ﷺ بھی واپس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن عمرو ! تمہارے بارے میں مجھے کیا بات پتہ چلی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا بات ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے پتہ چلا ہے کہ تم سوتے نہیں ہو اور کوئی نفلی روزہ نہیں چھوڑتے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں نے اس کے ذریعے یہ ارادہ کیا ہے کہ بڑی پریشانی کے دن میں پریشانی سے بچا رہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تم گوشت نہیں کھاتے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں نے اس کے ذریعے اس کھانے کا ارادہ کیا ہے ، جو اس سے زیادہ بہتر ہو گا اور جو جنت میں ملے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تم اپنے اہل خانہ کو ان کا حق نہیں دیتے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں نے اس کے ذریعے ایسی خواتین کے حصول کا ارادہ کیا ہے ، جو ان سے بہتر ہوں گی اور جو جنت میں ملیں گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عبداللہ بن عمرو ! تمہارے لئے اللہ کے رسول ﷺ کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے ، اللہ کے رسول نفلی روزہ رکھتے بھی ہیں اور ترک بھی کر دیتے ہیں ( رات کے وقت ) سو بھی جاتے ہیں اور نوافل بھی پڑھتے ہیں اور وہ گوشت بھی کھاتے ہیں اور وہ اپنے اہل خانہ کو ان کا حق بھی دیتے ہیں اے عبداللہ ! بے شک اللہ تعالیٰ کا تم پر حق ہے ، تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے یہ اجازت دیجئے کہ میں پانچ دن نفلی روزے رکھا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : چار دن روزے رکھ لیا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : میں تین دن روزے رکھ لیا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : میں دو دن روزہ رکھ لیا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : پھر میں ایک دن نفلی روزہ رکھ لیا کروں اور ایک دن ترک کر دیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے ۔ اے عبداللہ بن عمرو ! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب تم ردّی ( یا برے ) لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، ان لوگوں کے عہد اور میثاق ختم ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں مخالف سمت میں کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اس چیز کو اختیار کرنا ، جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دینا ، جسے تم منکر سمجھو ، اور تم صرف اپنی ذات کے لئے عمل کرنا ، لوگوں کو اور ان کے عمومی مسائل کو ( ان کے حال پر ) چھوڑ دینا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا آپ انہیں ساتھ لے کر چلتے ہوئے گئے اور ان کا ہاتھ اُن کے والد کے ہاتھ میں رکھ دیا اور فرمایا : ’’ تم اپنے باپ کی اطاعت کرنا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو ان کے والد نے ان سے کہا : اے عبداللہ ! تم نکلو اور جنگ کرو ، انہوں نے عرض کی : اے ابا جان ! آپ مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ میں نکل کے جنگ کروں ؟ جبکہ آپ نے اس دن وہ بات سنی تھی ، جس دن نبی اکرم ﷺ نے مجھے تاکید کی تھی کہ جو بھی آپ نے تاکید کی تھی ، تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں : اے عبداللہ بن عمرو ! کہ کیا اللہ کے رسول نے تمہیں جو آخری تلقین کی تھی ، وہ یہ نہیں تھی ؟ کہ نبی اکرم ﷺ نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر اسے میرے ہاتھ میں دیا تھا اور پھر فرمایا تھا :” اپنے باپ کی اطاعت کرنا ‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر میں یہ تاکید کرتا ہوں کہ تم نکل کر جنگ میں حصہ لو ، تو وہ تلوار گردن میں لڑکا کر نکلے ، جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے : ’’ جنگ بھڑک اُٹھی ہے اور میں نے اس کے لیے تیاری کی ہے کہ کمر ہمت باندھ لی اور پشت کو مضبوط کر لیا ، ایک بندش کو دوسری بندش سے ملا دیا ہے ، جب بندش کی وجہ سے رسی اچھلے گی تو تیز ہو جائے گی ، بڑے اونٹ کی جسامت بھرپور ہے ، جب وہ پانی سے تر ہو گا ، تو گرم ( یعنی غصے والی ) نگاہ سے دیکھے گا ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے : ’’ صفین کے مقام پر میرے کھڑے ہونے اور موجود ہونے ( کی کیفیت ) اونٹ کو کسی دن لاحق ہو ، تو اس کے بال سفید ہو جائیں وہ شام جس میں اہل عراق آئے اور وہ یوں تھے ، جیسے وہ موسم بہار کا بادل ہوں ، جنہیں جنوب نامی ہوائیں بلند کرتی ہیں ، اور ہم پچھاڑے ہوئے ہونے کے عالم میں آئے ، اور ہماری صفیں یوں تھیں ، جیسے سمندر کی موجیں مدوجزر کے عالم میں ایک دوسرے پر سوار ہوتی ہیں ، جب مجھے لگا کہ وہ لوگ تیزی سے پیٹھ پھیر جائیں گے ، تو ان کے دستے ہمارے سامنے آئے ، جو دستے جوش سے حرکت کر رہے تھے ، دن بھر ہماری چکی گھومی اور ان کی بھی چکی گھومی ، تو کندھے نہیں مڑے ، انہوں نے ہم سے کہا : ہم یہ سمجھتے ہیں تم لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لینی چاہیے ، تو ہم نے کہا : ہم یہ نہیں سجھتے کہ تم لوگوں کو جنگ کرنی چاہیے ‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے عبدالملک بن قدامہ جمحی کی عمرو بن شعیب سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبدالملک نامی راوی کو یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔