Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 3

Book of Tribulations

Hadith 12037–12076

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

12037

Majma al-Zawaid #12037

وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبُو مُوسَى عِنْدَهُ، وَأَخَذَ الْوَالِي رَجُلًا فَضَرَبَهُ وَحَمَلَهُ عَلَى جَمَلٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: الْجَمَلَ الْجَمَلَ. فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَذَا الْجَمَلُ الَّذِي كُنَّا نَسْمَعُ. قَالَ: فَأَيْنَ الْبَارِقَةُ؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmayr ibn Saʿid reports that they were sitting with Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, while Abu Musa was with him, when the governor seized a man, beat him, and mounted him upon a camel, and the people began crying out about the camel, until one man asked, O Abu ʿAbd al-Rahman, is this the camel we used to hear about, and Ibn Masʿud replied by asking where then was the flashing of swords.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمیر بن سعید بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اُن کے پاس حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، گورنر نے ایک شخص کو پکڑ کر اسے مارا تھا ، اسے ایک اونٹ پر سوار کر دیا تھا ، تو لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ تو وہی اونٹ ہے ، وہی اونٹ ہے ، ایک شخص نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! کیا یہ وہی اونٹ ہے ؟ جس کے بارے میں ہم سنا کرتے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : تلواروں کی چمک کہاں ہے ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12038

Majma al-Zawaid #12038

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ كُوزٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَوْلَايَ يَوْمَ الْجَمَلِ، فَأَقْبَلَ فَارِسٌ فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَلُوهُ مَنْ هُوَ؟ قِيلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ. قَالَتْ: قُولُوا لَهُ: مَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِكِ، أَتَعْلَمِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَ عَلِيًّا وَصِيًّا عَلَى أَهْلِهِ وَفِي أَهْلِهِ؟ قَالَتْ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: فَمَا لَكِ؟ قَالَتْ: أَطْلُبُ بِدَمِ عُثْمَانَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ: فَتَكَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ فَوَارِسُ أَرْبَعَةٌ فَهَتَفَ بِهِمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ. قَالَ: تَقُولُ عَائِشَةُ: ابْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، سَلُوهُ مَا يُرِيدُ؟ قَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. قَالَتْ: سَلُوهُ مَا يُرِيدُ؟ قَالُوا: مَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِكِ، أَتَعْلَمِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَنِي وَصِيًّا عَلَى أَهْلِهِ وَفِي أَهْلِهِ؟ قَالَتْ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: فَمَا لَكِ؟ قَالَتْ: أَطْلُبُ بِدَمِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ. قَالَ: أَرِينِي قَتَلَةَ عُثْمَانَ. ثُمَّ انْصَرَفَ وَالْتَحَمَ الْقِتَالُ. قَالَ: فَرَأَيْتُ هِلَالَ بْنَ وَكِيعٍ رَأْسَ بَنِي تَمِيمٍ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ حَبَشِيٌّ مِثْلُ الْجَانِّ، وَهُوَ يُقَاتِلُ بَيْنَ يَدَيْ عَائِشَةَ وَهُوَ يَقُولُ: أَضْرِبُهُمْ بِذَكَرِ الْقِطَاطْ إِذْ فَرَّ عَوْنٌ وَأَبُو حِمَاطْ وَنَكَبَ النَّاسُ عَنِ الصِّرَاطِ. فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَإِذَا هُوَ قَدْ شُدِخَ وَغُلَامُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ كُوزٍ، وَأَسْبَاطُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿid ibn Kawz reports that he was with his master on the Day of the Camel when a horseman approached calling out, O Mother of the Believers, and ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, told them to ask who he was, and when asked he said he was ʿAmmar ibn Yasir, so she told them to ask what he wanted, and he adjured her by Allah who had sent down the Book upon the Messenger of Allah ﷺ in her house, asking whether she knew that the Messenger of Allah ﷺ had appointed ʿAli as guardian over his family and concerning his family, to which she answered, O Allah, yes, and when he asked what then was her course, she said she sought retribution for the blood of ʿUthman, Commander of the Believers, after which he spoke further and withdrew, and then four horsemen came, one of whom called out, and ʿAʾishah declared by the Lord of the Kaʿbah that it was the son of Abu Talib and told them to ask what he wanted, and when asked he said he was ʿAli ibn Abi Talib, and he put to her the same adjuration about the Book sent down in her house and whether the Messenger of Allah ﷺ had appointed him guardian over his family and concerning his family, to which she again answered, O Allah, yes, and when he asked what then was her course, she again said she sought the blood of ʿUthman, Commander of the Believers, so he told her to show him the killers of ʿUthman, then he turned away and battle was joined, and the narrator adds that he saw Hilal ibn Wakiʿ, chief of Banu Tamim, with a dark servant boy like a serpent fighting before ʿAʾishah while chanting verses about striking them, the flight of ʿAwn and Abu Himat, and the people straying from the path, until, when the narrator glanced again, both Hilal and his boy lay crushed dead.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن کوز بیان کرتے ہیں : جنگ جمل کے موقع پر میں اپنے آقا کے ساتھ تھا ، ایک شہسوار آیا اور بولا : اے اُم المؤمنین ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس سے پوچھو کہ یہ کون ہے ؟ اس سے دریافت کیا گیا : تم کون ہو ؟ تو اس نے بتایا : میں عمار بن یاسر ہوں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم لوگ اس سے پوچھو کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر یہ بات دریافت کرتا ہوں ، جس نے آپ کے گھر میں اللہ کے رسول پر کتاب نازل کی تھی ، کیا آپ یہ بات جانتی ہیں ؟ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے اہل خانہ پر اور اپنے اہل خانہ کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصی مقرر کیا تھا ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تو پھر آپ کیا کرنا چاہتی ہیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص چاہتی ہوں ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے کوئی بات چیت کی ، پھر چار شہسوار آئے ، ان میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں پکارا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! یہ تو ابن ابوطالب ہیں ، تم اُن سے دریافت کرو ، یہ کون ہیں اور یہ کیا چاہتے ہیں ؟ لوگوں نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں علی بن ابوطالب ہوں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم لوگ ان سے دریافت کرو کہ یہ کیا چاہتے ہیں ؟ لوگوں نے دریافت کیا : آپ کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں آپ کو اُس اللہ کا واسطہ دے کر یہ بات دریافت کرتا ہوں کہ جس نے آپ کے گھر میں اللہ کے رسول پر کتاب نازل کی ، کہ کیا آپ یہ بات جانتی ہیں ؟ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے اہل خانہ پر اور اپنے اہل خانہ کے بارے میں مجھے ’’ وصی ‘‘ بنایا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر آپ کیا چاہتی ہیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص چاہتی ہوں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین دکھا دیں ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے اور لڑائی شروع ہو گئی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں نے بنو تمیم کے سردار ہلال بن وکیع کو دیکھا ، اس کے ساتھ اس کا ایک حبشی غلام تھا ، جو جن لگتا تھا ، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آگے لڑائی کر رہا تھا اور یہ شعر پڑھ رہا تھا : ’’ میں ان پر بھرپور حملے کرتا ہوں ، جب عون اور ابوحماط فرار ہوتے ہیں ، اور لوگ راستے سے ہٹ جاتے ہیں ۔‘‘ پھر میری توجہ ذرا سی ہٹی ، تو میں نے دیکھا کہ اس سردار اور اس کے غلام کو قتل کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سعید بن کوز نامی راوی اور اس سے روایت نقل کرنے والا شخص اسباط بن عمرو ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12039

Majma al-Zawaid #12039

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَمَلِ رَأَى عَلِيٌّ الرُّءُوسَ تَنْدُرُ، فَأَخَذَ بِيَدِ الْحُسَيْنِ فَوَضَعَهَا عَلَى بَطْنِهِ ثُمَّ قَالَ: أَيُّ خَيْرٍ بَعْدَ هَذَا؟. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, reports that on the Day of the Camel, when ʿAli, may Allah be pleased with him, saw heads falling severed, he took the hand of al-Husayn, placed it upon his own belly, and asked what good could remain after this.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنگ جمل کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سر گرتے ہوئے دیکھے ، تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پیٹ پر رکھا اور پھر بولے : اس کے بعد پھر کون سی بھلائی ہو گی ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فہد بن عوف ہے اور وہ کذاب ہے ۔

12040

Majma al-Zawaid #12040

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: ذُكِرَ لِعَائِشَةَ يَوْمُ الْجَمَلِ قَالَتْ: وَالنَّاسُ يَقُولُونَ: يَوْمُ الْجَمَلِ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ جَلَسْتُ كَمَا جَلَسَ أَصْحَابِي، وَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ وَلَدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِضْعَ عَشْرَةَ كُلُّهُمْ مِثْلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَمِثْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Qays reports that when the Day of the Camel was mentioned before ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, and the people asked whether they meant the Day of the Camel, she said she wished she had remained seated as her fellow wives had remained seated, and that she would have loved to have borne the Messenger of Allah ﷺ more than ten children, each like ʿAbd al-Rahman ibn al-Harith ibn Hisham and like ʿAbdullah ibn al-Zubayr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یوم جمل کا ذکر کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ یوم جمل ہے ، لوگوں نے بتایا : جی ہاں ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ میں اُس وقت بیٹھی رہتی ، جس طرح میری دیگر ساتھی خواتین ( یعنی دیگر ازواج مطہرات ) بیٹھی رہی تھیں ، اور میری یہ بھی خواہش تھی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے دس سے زیادہ بچوں کو جنم دیا ہوتا ، جو سب عبدالرحمن بن حارث بن ہشام اور عبداللہ بن زبیر جیسے ہوتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12041

Majma al-Zawaid #12041

عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ عَلِيٌّ إِلَى صِفِّينَ اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَى الْكُوفَةِ، وَكَانَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ اسْتَخْفُوا [عَلِيًّا]. فَلَمَّا خَرَجَ ظَهَرُوا، فَكَانَ نَاسٌ يَأْتُونَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَيَقُولُونَ: قَدْ وَاللَّهِ أَهْلَكَ اللَّهُ أَعْدَاءَهُ وَأَظْفَرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَيَقُولُ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَعُدُّهُ ظَفَرًا وَلَا عَافِيَةً أَنْ تَظْهَرَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى. قَالُوا: فَمَهْ؟ قَالَ: يَكُونُ بَيْنَ الْقَوْمِ صُلْحٌ. فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ، ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: اعْتَزِلْ عَمَلَنَا. قَالَ: وَذَاكَ مَهْ؟ قَالَ: إِنَّا وَجَدْنَاكَ لَا تَعْقِلُ عَقْلَةً. قَالَ: أَمَّا أَنَا فَقَدَ بَقِيَ مِنْ عَقْلِي مَا أَعْلَمُ، أَمَّا الْآخَرُ شَرٌّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmir al-Shaʿbi reports that when ʿAli, may Allah be pleased with him, set out for Siffin he left Abu Masʿud in charge of Kufa, and that certain Kufans who had kept hidden from ʿAli emerged after his departure and came to Abu Masʿud saying that Allah had destroyed his enemies and granted the believers victory, to which Abu Masʿud replied that by Allah he did not count the triumph of one of the two parties over the other as victory or well-being, and when they asked what then, he said there should be a truce between the people, and when ʿAli returned and this was reported to him, he told Abu Masʿud to withdraw from his office, and when Abu Masʿud asked why, ʿAli said they had found him lacking understanding, to which Abu Masʿud answered that what understanding remained to him told him the other course was worse.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر شعبی بیان کرتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین کی طرف جانے کے لئے نکلے ، تو انہوں نے کوفہ میں حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا ، کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے چھپے ہوئے تھے ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ، تو وہ لوگ ظاہر ہوئے ، وہ لوگ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر یہ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کر دیا اور مومنین کو کامیاب کر دیا ، تو حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اسے کامیابی شمار نہیں کرتا ہوں ، اس میں عافیت نہیں ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کوئی ایک غالب آ جائے ، لوگوں نے کہا : پھر کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں کے درمیان صلح ہونی چاہیے ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے تو لوگوں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ہمارے منصب سے الگ ہو جاؤ ! انہوں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے تمہیں پایا ہے کہ تم میں عقل نہیں ہے ، تو انہوں نے فرمایا : جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میرے پاس جو عقل باقی ہے اور مجھے جس چیز کا علم ہے ، اس کے مطابق دوسری صورت حال بری ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12042

Majma al-Zawaid #12042

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ».

EnglishUnverified translation

ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ made a covenant with him concerning fighting the oath-breakers, the unjust partisans, and the renegades. > **"Fight the oath-breakers, the unjust, and the renegades."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں ’’ ناکثین ‘‘ ( عہد شکنوں ) قاسطین ( انصاف کا نعرہ لگانے والوں ) اور ’’ مارقین ‘‘ ( دین سے نکل جانے والوں ) کے ساتھ جنگ کروں گا ۔

12043

Majma al-Zawaid #12043

وَفِي رِوَايَةٍ: أُمِرْتُ بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ. فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّبِيعِ بْنِ سَعِيدٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

In another narration ʿAli, may Allah be pleased with him, reports that he was commanded to fight the oath-breakers, with the rest of the report as before. > **"I was commanded to fight the oath-breakers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” مجھے ’’ ناکثین ‘‘ ( عہد شکنوں ) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا .......‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ربیع بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

12044

Majma al-Zawaid #12044

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «أُمِرَ عَلِيٌّ بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that ʿAli, may Allah be pleased with him, was commanded to fight the oath-breakers, the unjust partisans, and the renegades. > **"Ali was commanded to fight the oath-breakers, the unjust, and the renegades."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ’’ ناکثین ‘‘ ( عہد شکنوں ) ’’ قاسطین ‘‘ ( انصاف کا نعرہ لگانے والوں ) اور ’’ مارقین ‘‘ ( دین سے نکل جانے والوں ) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12045

Majma al-Zawaid #12045

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عُقَيْصَاءَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا، وَنَحْنُ نُرِيدُ صِفِّينَ يَقُولُ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ، وَالْقَاسِطِينَ، وَالْمَارِقِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَتْرُوكٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid ʿUqaysa reports that he heard ʿAmmar, may Allah be pleased with him, while they were heading for Siffin, saying that the Messenger of Allah ﷺ had commanded fighting the oath-breakers, the unjust partisans, and the renegades. > **"I was commanded to fight the oath-breakers, the unjust, and the renegades."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسعید عقیصاء بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : اُس وقت ہم صفین کی طرف جا رہے تھے ، انہوں نے یہ فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے ’’ ناکثین ‘‘ ( عہد شکنوں ) ’’ قاسطین ‘‘ ( انصاف کا نعرہ لگانے والوں ) اور ’’ مارقین ‘‘ ( دین سے نکل جانے والوں ) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوسعید نامی راوی متروک ہے ۔ یہ روایت ابویعلیٰ نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

12046

Majma al-Zawaid #12046

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: انْفِرُوا إِلَى بَقِيَّةِ الْأَحْزَابِ، انْفِرُوا بِنَا إِلَى مَا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، إِنَّا نَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَيَقُولُونَ: كَذَبَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ لَيِّنٌ، وَفِي الْآخَرِ السَّيِّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ الْأَزْدِيُّ: لَيْسَ بِذَاكَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim reports that ʿAli, may Allah be pleased with him, said to march forth against the remnant of the confederates and to hasten with him to what Allah and His Messenger had decreed, for his party said Allah and His Messenger had spoken the truth while their opponents said Allah and His Messenger had lied.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : باقی رہ جانے والے لشکروں کی طرف چل پڑو ! ہمارے ساتھ اس چیز کی طرف چلو ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے ، ہم یہ کہتے ہیں : اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے غلط کہا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یونس بن ارقم ہے اور وہ کمزور ہے جبکہ دوسری سند میں ایک راوی سید بن عیسیٰ ہے ، ازدی کہتے ہیں : وہ اتنے پائے کا نہیں ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12047

Majma al-Zawaid #12047

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ذَاتَ يَوْمٍ، وَكَانَتِ امْرَأَةً تَلْطُفُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" كَيْفَ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ؟ "". قَالَتْ: بِخَيْرٍ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأُمِّي، فَكَيْفَ أَنْتَ؟ قَالَ: "" بِخَيْرٍ "". قَالَتْ: عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا. قَالَ: "" وَكَيْفَ؟ "". قَالَتْ: حَرَّمَ النَّوْمَ فَلَا يَنَامُ، وَلَا يُفْطِرُ، وَلَا يَطْعَمُ اللَّحْمَ، وَلَا يُؤَدِّي إِلَى أَهْلِهِ حَقَّهُمْ. قَالَ: "" فَأَيْنَ هُوَ؟ "". قَالَتْ: خَرَجَ وَيُوشِكُ. قَالَ: "" فَإِذَا رَجَعَ فَاحْبِسِيهِ "". قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ، فَأَوْشَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّجْعَةَ وَقَالَ: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكَ؟ "". قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بَلَغَنِي أَنَّكَ لَا تَنَامُ وَلَا تُفْطِرُ "". قَالَ: أَرَدْتُ بِذَلِكَ الْأَمْنَ مِنْ يَوْمِ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ. "" وَبَلَغَنِي أَنَّكَ لَا تَطْعَمُ اللَّحْمَ "". قَالَ: أَرَدْتُ بِذَلِكَ طَعَامًا خَيْرًا مِنْهُ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: "" وَبَلَغَنِي أَنَّكَ لَا تُؤَدِّي إِلَى أَهْلِكَ حَقَّهُمْ "". قَالَ: أَرَدْتُ بِذَلِكَ نِسَاءً هُنَّ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: "" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةً حَسَنَةً، فَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ وَيُفْطِرُ، وَيَنَامُ وَيَقُومُ، وَيَأْكُلُ اللَّحْمَ، وَيُؤَدِّي إِلَى أَهْلِهِ حَقَّهُمْ. يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِبَدَنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ خَمْسَةَ أَيَّامٍ وَأُفْطِرَ يَوْمًا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: فَأَصُومَ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَأُفْطِرَ يَوْمًا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: فَأَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَأُفْطِرَ يَوْمًا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: فَأَصُومَ يَوْمَيْنِ وَأُفْطِرَ يَوْمًا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ: أَفَأَصُومُ يَوْمًا وَأُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: "" ذَلِكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، وَكَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرَجَتْ عُهُودُهُمْ وَمَوَاثِيقُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا ""، وَخَالَفَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. قَالَ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "" تَأْخُذُ بِمَا تَعْرِفُ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتَعْمَلُ لِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَتَدَعُ النَّاسَ وَعَوَامَّ أُمُورِهِمْ "". ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَأَقْبَلَ يَمْشِي بِهِ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِ أَبِيهِ، قَالَ: "" أَطِعْ أَبَاكَ "". فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ قَالَ لَهُ أَبُوهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، اخْرُجْ فَقَاتِلْ. فَقَالَ: يَا أَبَتَاهُ، تَأْمُرُنِي أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَ، وَقَدْ سَمِعْتَ مَا سَمِعْتَ يَوْمَ يَعْهَدُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَعْهَدُ؟ قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَلَمْ يَكُنْ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَخَذَ بِيَدِكَ فَوَضَعَهَا فِي يَدِي ثُمَّ قَالَ: "" أَطِعْ أَبَاكَ؟ "". قَالَ: بَلَى. قَالَ: فَإِنِّي أَعْزِمُ أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَ. فَخَرَجَ مُتَقَلِّدًا بِسَيْفٍ، فَلَمَّا انْكَشَفَتِ الْحَرْبُ أَنْشَأَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَقُولُ: شَبَّتِ الْحَرْبُ فَأَعْدَدْتُ لَهَا ... مُقَرَّعَ الْحَارِكِ مَرْوِيَّ الثَبَجْ يَصِلُ الشَّدَّ بِشَدٍّ وَإِذَا ... وَثَبَ الْحَبْلُ مِنَ الشَّدِّ مَعَجْ جَرْشَعَ أَعْظُمُهُ جِفْرَتُهُ ... فَإِذَا ابْتَلَّ مِنَ الْمَاءِ حَدَجْ. وَأَنْشَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَقُولُ: وَلَوْ شَهِدَتْ جَمَلٌ مَقَامِي وَمَشْهَدِي ... بِصِفِّينَ يَوْمًا شَابَ مِنْهَا الذَّوَائِبُ عَشِيَّةَ جَا أَهْلُ الْعِرَاقِ كَأَنَّهُمْ ... سَحَابُ رَبِيعٍ رَفَعَتْهُ الْجَنَائِبُ وَجِئْنَاهُمْ نُرْدَى كَأَنَّ صُفُوفَنَا ... مِنَ الْبَحْرِ مَوْجٌ مَدُّهُ مُتَرَاكِبُ إِذَا قُلْتُ: قَدْ وَلَّوْا سِرَاعًا بَدَتْ لَنَا ... كَتَائِبُ مِنْهُمْ وَارْجَحَنَّتْ كَتَائِبُ فَدَارَتْ رَحَانَا وَاسْتَدَارَتْ رَحَاهُمْ ... سَرَاةَ النَّهَارِ مَا تَوَلَّى الْمَنَاكِبُ فَقَالُوا لَنَا إِنَّا نَرَى أَنْ تُبَايِعُوا ... عَلِيًّا فَقُلْنَا لَا نَرَى أَنْ تُضَارِبُوا». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr ibn al-ʿAs, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ once visited the mother of ʿAbdullah ibn ʿAmr, a woman who treated the Messenger of Allah ﷺ with kindness, and after exchanging greetings she told him her son had cut himself off from the world by forbidding himself sleep, fasting without break, refusing meat, and withholding his family's rights, so the Prophet ﷺ asked where he was, was told he had gone out but would soon return, and told her to detain him upon his return, and when ʿAbdullah came and the Messenger of Allah ﷺ soon returned, he questioned him about these reports, to which ʿAbdullah answered that he sought thereby safety from the day of the greatest terror, food better than meat in Paradise, and wives better than his wife in Paradise, whereupon the Prophet ﷺ reminded him that in the Messenger of Allah there is an excellent example, for he fasts and breaks fast, sleeps and prays by night, eats meat, and renders his family their rights, and that Allah, his body, and his family each have rights over him, and when ʿAbdullah proposed various schemes of fasting, the Prophet ﷺ declined them until ʿAbdullah proposed fasting one day and breaking fast one day, which the Prophet ﷺ approved as the fast of his brother Dawud, and he further warned him of a time when he would remain among worthless people whose covenants would be corrupted, intertwining his fingers to depict their confusion, and instructed him then to hold to what he recognized, leave what he disapproved, attend to his private affair, and leave the people and their public matters, then took his hand, walked with him, placed it in his father's hand, and told him to obey his father, and the narration concludes that on the Day of Siffin his father ordered him to go out and fight, and when ʿAbdullah reminded him of the Prophet's ﷺ covenant, his father adjured him that the last of that covenant was precisely the placing of his hand in his father's with the command to obey him, so ʿAbdullah went out girt with his sword, and after the battle lifted, ʿAmr ibn al-ʿAs and ʿAbdullah ibn ʿAmr each recited verses describing how war had blazed, how the Iraqis had come like spring clouds, how ranks had surged like sea waves, how the day had turned, and how the call to pledge ʿAli had been refused. > **"O Abdullah ibn Amr, you have in the Messenger of Allah an excellent example; obey your father; hold to what you recognize and leave what you disapprove."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی والدہ کے پاس تشریف لائے ، وہ ایک ایسی خاتون تھیں ، جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بڑی مہربانی سے پیش آتی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ام عبداللہ ! تمہارا کیا حال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بہتر ہوں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کا کیا حال ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہوں ، انہوں نے عرض کی : عبداللہ ایک ایسا شخص ہے ، جو دنیا سے لاتعلق ہو چکا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس خاتون نے بتایا : اس نے سونے کو حرام قرار دیدیا ہے ، وہ سوتا نہیں ہے ، نفلی روزہ ترک نہیں کرتا ، گوشت نہیں کھاتا اور اپنی بیوی کو اس کا حق نہیں دیتا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ ہے کہاں ؟ اس خاتون نے بتایا : وہ باہر گیا ہوا ہے تھوڑی دیر تک آ جائے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب وہ واپس آئے تو تم اسے روک کے رکھنا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، پھر عبداللہ آیا ، تھوڑی دیر بعد نبی اکرم ﷺ بھی واپس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن عمرو ! تمہارے بارے میں مجھے کیا بات پتہ چلی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا بات ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے پتہ چلا ہے کہ تم سوتے نہیں ہو اور کوئی نفلی روزہ نہیں چھوڑتے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں نے اس کے ذریعے یہ ارادہ کیا ہے کہ بڑی پریشانی کے دن میں پریشانی سے بچا رہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تم گوشت نہیں کھاتے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں نے اس کے ذریعے اس کھانے کا ارادہ کیا ہے ، جو اس سے زیادہ بہتر ہو گا اور جو جنت میں ملے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تم اپنے اہل خانہ کو ان کا حق نہیں دیتے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں نے اس کے ذریعے ایسی خواتین کے حصول کا ارادہ کیا ہے ، جو ان سے بہتر ہوں گی اور جو جنت میں ملیں گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عبداللہ بن عمرو ! تمہارے لئے اللہ کے رسول ﷺ کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے ، اللہ کے رسول نفلی روزہ رکھتے بھی ہیں اور ترک بھی کر دیتے ہیں ( رات کے وقت ) سو بھی جاتے ہیں اور نوافل بھی پڑھتے ہیں اور وہ گوشت بھی کھاتے ہیں اور وہ اپنے اہل خانہ کو ان کا حق بھی دیتے ہیں اے عبداللہ ! بے شک اللہ تعالیٰ کا تم پر حق ہے ، تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے یہ اجازت دیجئے کہ میں پانچ دن نفلی روزے رکھا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : چار دن روزے رکھ لیا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : میں تین دن روزے رکھ لیا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : میں دو دن روزہ رکھ لیا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : پھر میں ایک دن نفلی روزہ رکھ لیا کروں اور ایک دن ترک کر دیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے ۔ اے عبداللہ بن عمرو ! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب تم ردّی ( یا برے ) لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، ان لوگوں کے عہد اور میثاق ختم ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں مخالف سمت میں کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم اس چیز کو اختیار کرنا ، جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دینا ، جسے تم منکر سمجھو ، اور تم صرف اپنی ذات کے لئے عمل کرنا ، لوگوں کو اور ان کے عمومی مسائل کو ( ان کے حال پر ) چھوڑ دینا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا آپ انہیں ساتھ لے کر چلتے ہوئے گئے اور ان کا ہاتھ اُن کے والد کے ہاتھ میں رکھ دیا اور فرمایا : ’’ تم اپنے باپ کی اطاعت کرنا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو ان کے والد نے ان سے کہا : اے عبداللہ ! تم نکلو اور جنگ کرو ، انہوں نے عرض کی : اے ابا جان ! آپ مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ میں نکل کے جنگ کروں ؟ جبکہ آپ نے اس دن وہ بات سنی تھی ، جس دن نبی اکرم ﷺ نے مجھے تاکید کی تھی کہ جو بھی آپ نے تاکید کی تھی ، تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں : اے عبداللہ بن عمرو ! کہ کیا اللہ کے رسول نے تمہیں جو آخری تلقین کی تھی ، وہ یہ نہیں تھی ؟ کہ نبی اکرم ﷺ نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر اسے میرے ہاتھ میں دیا تھا اور پھر فرمایا تھا :” اپنے باپ کی اطاعت کرنا ‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر میں یہ تاکید کرتا ہوں کہ تم نکل کر جنگ میں حصہ لو ، تو وہ تلوار گردن میں لڑکا کر نکلے ، جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے : ’’ جنگ بھڑک اُٹھی ہے اور میں نے اس کے لیے تیاری کی ہے کہ کمر ہمت باندھ لی اور پشت کو مضبوط کر لیا ، ایک بندش کو دوسری بندش سے ملا دیا ہے ، جب بندش کی وجہ سے رسی اچھلے گی تو تیز ہو جائے گی ، بڑے اونٹ کی جسامت بھرپور ہے ، جب وہ پانی سے تر ہو گا ، تو گرم ( یعنی غصے والی ) نگاہ سے دیکھے گا ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے : ’’ صفین کے مقام پر میرے کھڑے ہونے اور موجود ہونے ( کی کیفیت ) اونٹ کو کسی دن لاحق ہو ، تو اس کے بال سفید ہو جائیں وہ شام جس میں اہل عراق آئے اور وہ یوں تھے ، جیسے وہ موسم بہار کا بادل ہوں ، جنہیں جنوب نامی ہوائیں بلند کرتی ہیں ، اور ہم پچھاڑے ہوئے ہونے کے عالم میں آئے ، اور ہماری صفیں یوں تھیں ، جیسے سمندر کی موجیں مدوجزر کے عالم میں ایک دوسرے پر سوار ہوتی ہیں ، جب مجھے لگا کہ وہ لوگ تیزی سے پیٹھ پھیر جائیں گے ، تو ان کے دستے ہمارے سامنے آئے ، جو دستے جوش سے حرکت کر رہے تھے ، دن بھر ہماری چکی گھومی اور ان کی بھی چکی گھومی ، تو کندھے نہیں مڑے ، انہوں نے ہم سے کہا : ہم یہ سمجھتے ہیں تم لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لینی چاہیے ، تو ہم نے کہا : ہم یہ نہیں سجھتے کہ تم لوگوں کو جنگ کرنی چاہیے ‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے عبدالملک بن قدامہ جمحی کی عمرو بن شعیب سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبدالملک نامی راوی کو یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

12048

Majma al-Zawaid #12048

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: شَهِدْنَا مَعَ عَلِيٍّ صِفِّينَ، وَقَدْ وَكَّلْنَا بِفَرَسِهِ رَجُلَيْنِ، فَكَانَتْ إِذَا كَانَتْ مِنَ الرَّجُلِ غَفْلَةٌ غَمَزَ عَلِيٌّ فَرَسَهُ فَإِذَا هُوَ فِي عَسْكَرِ الْقَوْمِ فَيَرْجِعُ إِلَيْنَا وَقَدْ خَضَّبَ سَيْفَهُ دَمًا وَيَقُولُ: يَا أَصْحَابِي، اعْذُرُونِي اعْذُرُونِي. فَكُنَّا إِذَا تَوَادَعْنَا دَخَلَ هَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ، فَكَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ عَلَمًا لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَسْلُكُ عَمَّارٌ وَادِيًا مِنْ أَوْدِيَةِ صِفِّينَ إِلَّا تَبِعَهُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَهَيْنَا إِلَى هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَقَدْ رَكَزَ الرَّايَةَ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا هَاشِمُ أَعَوَرًا وَجُبْنًا؟ لَا خَيْرَ فِي أَعْوَرَ لَا يَغْشَى النَّاسَ. فَنَزَعَ هَاشِمٌ الرَّايَةَ وَهُوَ يَقُولُ: أَعْوَرُ يَبْغِي أَهْلَهُ مَحَلًّا قَدْ عَالَجَ الْحَيَاةَ حَتَّى مَلَّا ... لَا بُدَّ أَنْ يَفِلَّ أَوْ يُفَلَّا. فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: أَقْبِلْ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ الْأَبَارِقَةِ، وَقَدْ تَزَيَّنَ الْحُورُ الْعِينُ مَعَ مُحَمَّدٍ وَحِزْبِهِ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى. فَمَا رَجَعَا حَتَّى قُتِلَا. وَكُنَّا إِذَا تَوَادَعْنَا دَخَلَ هَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَرْبَعَةٌ يَسِيرُونَ: مُعَاوِيَةُ، وَأَبُو الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَابْنُهُ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: إِنْ أَخَذْتُ عَنْ يَمِينِي اثْنَيْنِ لَمْ أَسْمَعْ كَلَامَهُمْ، فَاخْتَرْتُ لِنَفْسِي أَنْ أَضْرِبَ فَرَسِي فَأُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ، فَفَعَلْتُ، فَجَعَلْتُ اثْنَيْنِ عَنْ يَمِينِي وَاثْنَيْنِ عَنْ يَسَارِي، فَجَعَلْتُ أُصْغِي بِسَمْعِي أَحْيَانًا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَإِلَى أَبِي الْأَعْوَرِ، وَأَحْيَانًا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَإِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ لِأَبِيهِ: يَا أَبَتِ، قَدْ قَتَلْنَا هَذَا الرَّجُلَ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ. قَالَ: وَأَيُّ رَجُلٍ؟ قَالَ: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَنَحْنُ نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَعَمَّارٌ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، وَأَنْتَ تَرْحَضُ: "" «أَمَا إِنَّهُ سَتَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: اسْكُتْ، فَوَاللَّهِ مَا تَزَالُ تَدْحَضُ فِي بَوْلِكَ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ، إِنَّمَا قَتَلَهُ مَنْ جَاءُوا بِهِ فَأَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا. قَالَ: فَتَنَادَوْا فِي عَسْكَرِ مُعَاوِيَةَ: إِنَّمَا قَتَلَ عَمَّارًا مَنْ جَاءَ بِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِ الطَّبَرَانِيِّ، وَالْبَزَّارُ بِقَوْلِهِ: "" تَقْتُلُ «عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» "" عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَحْدَهُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ، وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu ʿAbd al-Rahman al-Sulami reports that they were present with ʿAli at Siffin, having assigned two men to guard his horse, yet whenever the guards grew heedless ʿAli would spur his horse into the enemy camp and return with his sword dyed in blood, saying, O my companions, excuse me, excuse me, and that during truces men of each camp entered the other, while ʿAmmar ibn Yasir served as a banner for the Companions of Muhammad ﷺ, so that wherever ʿAmmar walked in the valleys of Siffin the Companions followed him, until they reached Hashim ibn ʿUtbah ibn Abi Waqqas, who had planted the standard, and ʿAmmar reproached him for hanging back as a one-eyed coward, upon which Hashim seized the standard reciting verses about the one-eyed man seeking a place for his family, wearied of life, bound either to blunt the enemy or be blunted, and ʿAmmar told him to advance, for Paradise lies beneath the flashing swords and the wide-eyed maidens stand adorned with Muhammad and his party in the highest company, and neither returned until both were slain, and the narrator adds that during a truce he saw four men riding, Muʿawiyah, Abu al-Aʿwar al-Sulami, ʿAmr ibn al-ʿAs and his son, so he spurred his horse between them, placing two on his right and two on his left, and listened as ʿAbdullah ibn ʿAmr said to his father that they had killed that man concerning whom the Messenger of Allah ﷺ had said what he said, and when his father asked which man, he said ʿAmmar ibn Yasir, reminding him of the day of the building of the mosque when they carried one brick at a time while ʿAmmar carried two at a time, and the Prophet ﷺ had declared that the rebellious party would kill him and that he was of the people of Paradise, whereupon Muʿawiyah told him to be silent and accused him of blundering, claiming that they had not killed him but that those who brought him and cast him between their spears had killed him, until it was proclaimed in Muʿawiyah's camp that only those who brought ʿAmmar had killed him. > **"The rebellious party will surely kill him, and he is of the people of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک ہوئے ، ہم نے دو آدمیوں کو ان کے گھوڑے کا نگران مقرر کیا ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان افراد کی طرف سے تھوڑی سی غفلت نظر آئی ، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور دشمن کے لشکر میں چلے گئے ، جب وہ واپس آئے تو ان کی تلوار پر خون لگا ہوا تھا ، انہوں نے کہا : اے میرے ساتھیو ! مجھے معذور سمجھو ، مجھے معذور سمجھو ، کیونکہ ہم نے جب طے کیا تو ادھر کے کچھ لوگ اس لشکر میں داخل ہو گئے ، تو حضرت محمد ﷺ کے اصحاب کے لئے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نشان کی حیثیت رکھتے ہیں ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ صفین کی جس بھی وادی میں چلیں گے ، تو حضرت محمد ﷺ کے اصحاب ان کے پیچھے جائیں گے ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ ہاشم بن عتبہ بن ابووقاص کے پاس آئے ، جس نے جھنڈا لہرایا ہوا تھا ، انہوں نے کہا : اے ہاشم ! تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ کیا تم کانے یا بزدل ہو ؟ ایسے کانے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جو لوگوں پر حملہ نہ کر سکے ، تو ہاشم نے جھنڈا الگ کیا اور یہ اشعار پڑھے : ’’ کانا شخص اپنی بیوی کے لیے راستہ تلاش کرتا ہے ، وہ یوں زندگی گزارتا ہے کہ اکتاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے ، تو یہ ضروری ہے کہ وہ حدت کو ختم کرے یا اس کو ختم کر دیا جائے ۔‘‘ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا : تم آگے آؤ ! کیونکہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے ، اور حورعین آراستہ ہو چکی ہیں جو حضرت محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ رفیق اعلیٰ میں ہیں ، راوی کہتے ہیں : پھر ہمارے واپس آنے سے پہلے وہ دونوں شہید ہو گئے ، جب ہم ایک دوسرے کے مدمقابل آئے اور لشکر ایک دوسرے کے ساتھ ملے ، تو میں نے دیکھا ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے جا رہے ہیں ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت اعور سلمی رضی اللہ عنہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے ( حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ) میں نے دل میں سوچا کہ اگر میں دائیں طرف ہو کے جاتا ہوں ، تو میں ان لوگوں کا کلام نہیں سن سکوں گا ، تو میں نے یہ کیا کہ میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی ، اور ان کے درمیان آ گیا ، تو دو افراد میرے دائیں طرف ہو گئے اور دو افراد میرے بائیں طرف ہو گئے ، میں نے توجہ سے سننے کی کوشش کی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابواعور رضی اللہ عنہ کیا بات کر رہے ہیں ؟ اور یہ بھی توجہ سے سننے کی کوشش کی کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کیا بات کر رہے ہیں ؟ تو میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اپنے والد سے یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابا جان ! ہم نے ان صاحب ( یعنی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ) کو شہید کر دیا ہے ، جبکہ ان کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے ایک مخصوص بات ارشاد فرمائی تھی ، انہوں نے دریافت کیا : کون سے صاحب ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، کیا آپ نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جب آپ مسجد تعمیر کروا رہے تھے اور ہم ایک ایک اینٹ اُٹھا کے لا رہے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اُٹھا کے لا رہے تھے اور آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ گومگو کا شکار تھے ( یعنی اس وقت آپ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ) ، تو نبی اکرم ﷺ نے ( حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے ) ارشاد فرمایا تھا : ’’ عنقریب ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا اور تم اہل جنت میں سے ہو گے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم نے ان صاحب کو قتل کر دیا ہے جبکہ ان کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، جو فرمائی ہے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سے صاحب ؟ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، جب نبی اکرم ﷺ مسجد نبوی تعمیر کروا رہے تھے اور ہم ایک ایک اینٹ منتقل کر رہے تھے اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں منتقل کر رہے تھے ، اس دن وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابویقظان ! کیا تم دو دو اینٹیں اٹھا رہے ہو ، عنقریب ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا اور تم اہل جنت میں سے ہو گے ۔‘‘ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ خاموش ہو جائیں ! اللہ کی قسم ! آپ الٹی بات کر رہے ہیں ، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہیں تو اُن لوگوں نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں لے کے آئے تھے اور انہیں ہمارے دو نیزوں کے درمیان ڈال دیا ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے درمیان یہ بات پھیل گئی کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو اس شخص نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں لے کر ( میدان جنگ میں ) آیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اسے امام طبرانی کی مانند نقل کیا ہے ، اور امام بزار نے روایت کے یہ الفاظ :’’ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔‘‘ یہ الفاظ صرف حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کئے ہیں ، امام احمد اور ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔

12049

Majma al-Zawaid #12049

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» "". فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ [فَزِعًا] يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: [مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ]. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ، فَمَاذَا؟ قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» "". فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: دَحَضْتَ فِي بَوْلِكَ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ، إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ، جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا، أَوْ قَالَ: بَيْنَ سُيُوفِنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحْمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn ʿAmr ibn Hazm reports that when ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, was killed, ʿAmr ibn Hazm went to ʿAmr ibn al-ʿAs and said ʿAmmar had been killed although the Messenger of Allah ﷺ had declared that the rebellious party would kill him, so ʿAmr ibn al-ʿAs rose in alarm repeating remembrance of Allah until he entered upon Muʿawiyah, and when Muʿawiyah asked what troubled him and ʿAmr told him ʿAmmar had been killed, Muʿawiyah asked what of it, and when ʿAmr cited the Prophet's ﷺ declaration, Muʿawiyah accused him of blundering and argued that they had not killed him, but that ʿAli and his companions had killed him by bringing him and casting him between their spears, or, as doubtfully worded, between their swords. > **"The rebellious party will kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، تو حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، جبکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔‘‘ تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پریشانی کے عالم میں کھڑے ہوئے اور وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، تو کیا ہوا ؟ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔‘‘ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ غلط بات کر رہے ہیں ، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے انہیں قتل کروایا ہے ، جو انہیں ( میدان جنگ میں ) لے کر آئے تھے ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے اُن صاحب کو ہمارے نیزوں کے درمیان ڈال دیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہماری تلواروں کے درمیان ڈال دیا ۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12050

Majma al-Zawaid #12050

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: مَا زَالَ جَدِّي كَافًّا سِلَاحَهُ حَتَّى قُتِلَ عَمَّارٌ بِصِفِّينَ، فَسَلَّ سَيْفَهُ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ وَهُوَ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn ʿUmarah ibn Khuzaymah ibn Thabit reports that his grandfather kept his weapon sheathed until ʿAmmar was killed at Siffin, whereupon he unsheathed his sword, fought until he was killed, and declared that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that the rebellious party would kill ʿAmmar. > **"The rebellious party will kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمارہ بن خزیمہ بن ثابت بیان کرتے ہیں : میرے والد مسلسل اپنے ہتھیاروں کو روک کے رکھتے رہے ( یعنی انہوں نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا ) یہاں تک کہ جب صفین کے مقام پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو میرے والد نے اپنی تلوار نکال لی اور جنگ میں حصہ لیا ، یہاں تک کہ شہید ہو گئے ، انہوں نے یہ بتایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور وہ کمزور ہے ۔

12051

Majma al-Zawaid #12051

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى أُنَاسٍ هَدَايَا، فَفَضَّلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارِ الْهَدِيَّةِ.

EnglishUnverified translation

It is reported about ʿAmr ibn al-ʿAs, may Allah be pleased with him, that he distributed gifts to some people while giving ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, preference, and when questioned about it he said he had heard the Messenger of Allah ﷺ declare that the rebellious party would kill him. > **"The rebellious party will kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے لوگوں کو کچھ تحائف دیے اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کچھ اضافی ادائیگی کی ، اُن سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں صرف تحفہ دینے کا ذکر ہے ۔

12052

Majma al-Zawaid #12052

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: كَانَ عَمَّارٌ قَدْ وَلِعَ بِقُرَيْشٍ وَوَلِعَتْ بِهِ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَضَرَبُوهُ، فَخَرَجَ عُثْمَانُ بِعَصًا، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا لِي وَلِقُرَيْشٍ، فَعَلَ اللَّهُ بِقُرَيْشٍ وَفَعَلَ، فَغَدَوْا عَلَى رَجُلٍ فَضَرَبُوهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَمَّارٍ: "" «تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ بِاخْتِصَارِ الْقِصَّةِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ الرَّمْلِيُّ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Wahb reports that ʿAmmar had become embroiled with Quraysh and they with him, so they came upon him in the morning and beat him, whereupon ʿUthman, may Allah be pleased with him, came out with a staff, ascended the minbar, praised Allah, and protested against Quraysh for falling upon a man in the morning and beating him, declaring that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say to ʿAmmar that the rebellious party would kill him. > **"The rebellious party will kill you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا قریش کے کچھ لوگوں سے جھگڑا ہو گیا ، وہ لوگ ان کے پاس آئے اور ان کی پٹائی کی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نکلے ان کے پاس عصا تھا ، وہ منبر پر چڑھے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! میرا قریش کے ساتھ کیا واسطہ ؟ اللہ تعالیٰ قریش کے ساتھ یہ یہ کرے اور وہ کرے ۔‘‘ یہ لوگ ایک شخص کے پاس گئے اور اُس کی پٹائی کی ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں واقعہ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احمد بن بدیل رملی ہے ، جسے امام نسائی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

12053

Majma al-Zawaid #12053

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «كَانَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ، وَكَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَحْمِلُ صَخْرَتَيْنِ، فَقَالَ: "" وَيْحَ ابْنَ سُمَيَّةَ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى مُنْقَطِعٌ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْعَلَّافُ الرَّازِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that while the Messenger of Allah ﷺ was building the mosque, ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, was carrying two stones at a time, whereupon the Prophet ﷺ lamented over Ibn Sumayyah and declared that the rebellious party would kill him. > **"Alas for Ibn Sumayyah; the rebellious party will kill him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مسجد تعمیر کروا رہے تھے ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو اینٹیں اٹھا کے لا رہے تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ابن سمیہ کا ستیاناس ہو ! ایک باغی گروہ اسے قتل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کی سند منقطع ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی احمد بن عمر علاف رازی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

12054

Majma al-Zawaid #12054

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ أَجِدْنِي آسَى عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَمْ أُقَاتِلِ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ مَعَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, said he grieved over nothing so much as that he had not fought the rebellious party alongside ʿAli, may Allah be pleased with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مجھے کسی بھی چیز پر اتنا افسوس محسوس نہیں ہوتا ، جتنا اس بات پر افسوس ہوتا ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر باغی گروہ کے ساتھ جنگ کیوں نہیں کی ؟ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک ( سند ) کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12055

Majma al-Zawaid #12055

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: «ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خَاصِرَتِي، فَقَالَ: "" خَاصِرَةٌ مُؤْمِنَةٌ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، آخِرُ زَادِكَ ضَيَاحٌ مِنْ لَبَنٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَأَسَانِيدُهُ كُلُّهَا فِيهَا ضَعْفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا كَثِيرَةٌ فِي مَنَاقِبِ عَمَّارٍ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ struck him on his side and declared it a believing side, that the rebellious party would kill him, and that his last provision would be a draught of milk diluted with water. > **"A believing side; the rebellious party will kill you, and your last provision will be a draught of milk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے میرے پہلو پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ’’ یہ ایک مومن پہلو ہے ، تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور تمہاری آخری خوراک پانی ملا ہوا ، دودھ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی بہت سی احادیث حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

12056

Majma al-Zawaid #12056

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَمَّارًا يَوْمَ صِفِّينَ شَيْخًا كَبِيرًا آدَمَ طِوَالًا، أَخَذَ الْحَرْبَةَ بِيَدِهِ وَيَدُهُ تُرْعِدُ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ قَاتَلْتُ بِهَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ ضَرَبُونَا حَتَّى بَلَغُوا بِنَا شَعَفَاتِ هَجَرَ، لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِينَا عَلَى الْحَقِّ وَأَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ: لَقَدْ قَاتَلْتُ صَاحِبَ هَذِهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Salamah reports that he saw ʿAmmar on the Day of Siffin as a tall, elderly, dark-skinned man holding a spear in a trembling hand, swearing by Him in whose hand his soul is that he had fought under this banner with the Messenger of Allah ﷺ three times and that this was the fourth, and that even if the enemy struck them back to the heights of Hajar he would still know that his own party was upon the truth and that they were upon error.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے دن میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ ایک بوڑھے عمر رسیده ، گندمی رنگت کے مالک ، طویل القامت شخص تھے ، انہوں نے اپنے ہاتھ میں نیزہ پکڑا ہوا تھا اور ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا ، انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں نے اس جھنڈے کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تین جنگوں میں حصہ لیا ہے اور یہ چوتھی جنگ ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ لوگ ہم پر حملہ کرتے ہوئے ہمیں لے کر ’’ ھجر “ کے بالائی حصے تک پہنچ جائیں ، تو بھی میں یہ بات جانتا ہوں کہ ہم لوگ حق پر ہیں اور وہ لوگ گمراہی پر ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن سلمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” میں نے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تین جنگوں میں حصہ لیا ہے اور یہ چوتھی ہے ۔‘‘

12057

Majma al-Zawaid #12057

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: قِيلَ لِعَمَّارٍ: قَدْ هَاجَرَ أَبُو مُوسَى، وَاللَّهِ لَيُخْذَلَنَّ جُنْدُهُ، وَلَيَفِرَّنَّ جَهْدُهُ، وَلَيُنْقَضَنَّ عَهْدُهُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى قَوْمًا لَيَضْرِبُنَّكُمْ ضَرْبًا يَرْتَابُ لَهُ الْمُبْطِلُونَ، وَاللَّهِ لَوْ قَاتَلُوا حَتَّى بَلَغُوا بِنَا شَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْتُ أَنَّ صَاحِبَنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Salamah reports that when it was said to ʿAmmar, may Allah be pleased with him, that Abu Musa had withdrawn, he swore by Allah that Abu Musa's troops would surely be deserted, his efforts would flee, and his covenant would be broken, and that he saw a people who would strike such a blow as to make the partisans of falsehood doubt, yet even if they fought back to the heights of Hajar he would still know that his companion was upon the truth and that they were upon falsehood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے لاتعلقی اختیار کی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اس کا لشکر ضرور رسوائی کا شکار ہو گا ، اس نے کوشش سے فرار اختیار کیا ہے اور اپنے عہد کو توڑ دیا ہے ، اللہ کی قسم ! میں دشمن کے بارے میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ اگر وہ تمہیں ایسی ضرب لگائیں جو باطل لوگوں کو شک کا شکار کر دے اور وہ ہمارے ساتھ جنگ کرتے ہوئے ہمیں ’’ ھجر ‘‘ کے بالائی حصے تک لے جائیں ، تو ہمیں یہ بات پتہ ہو گی کہ ہمارے ساتھی حق پر ہیں اور وہ لوگ باطل پر ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12058

Majma al-Zawaid #12058

وَعَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ قَالَ: قَالَتْ بَنُو عَبْسٍ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: آمُرُكُمْ أَنْ تَلْزَمُوا عَمَّارًا. قَالُوا: إِنَّ عَمَّارًا لَا يُفَارِقُ عَلِيًّا. قَالَ: إِنَّ الْحَسَدَ هُوَ أَهْلَكَ الْجَسَدَ، وَإِنَّمَا يُنَفِّرُكُمْ مِنْ عَمَّارٍ قُرْبُهُ مِنْ عَلِيٍّ، فَوَاللَّهِ لَعَلِيٌّ أَفْضَلُ مِنْ عَمَّارٍ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ التُّرَابِ وَالسَّحَابِ، وَإِنَّ عَمَّارًا لَمِنَ الْأَخْيَارِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ إِنْ لَزِمُوا عَمَّارًا كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَعْرِفِ الرَّجُلَ الْمُبْهَمَ.

EnglishUnverified translation

Sayyar Abu al-Hakam reports that Banu ʿAbs asked Hudhayfah, may Allah be pleased with him, for his counsel after the killing of ʿUthman, Commander of the Believers, and he commanded them to cling to ʿAmmar, and when they objected that ʿAmmar never separated from ʿAli, he replied that envy destroys the body and that only ʿAmmar's closeness to ʿAli estranged them from him, swearing by Allah that ʿAli was superior to ʿAmmar by as much as is between dust and clouds, while ʿAmmar was surely among the excellent, and he knew well that if they clung to ʿAmmar they would be with ʿAli.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیار ابوحکم بیان کرتے ہیں : بنو عبس نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا : امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں ، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ تم لوگ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہو ، لوگوں نے بتایا : حضرت عمار رضی اللہ عنہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے الگ نہیں ہوتے ہیں ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حسد ، جسم کو ہلاک کر دیتا ہے ، تم لوگ حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے اس لئے متنفر ہو رہے ہو کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہیں ، اللہ کی قسم ! حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے اس سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، جتنا مٹی ( یعنی زمین ) اور بادل کے درمیان فاصلہ ہے ، اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ نیک لوگوں میں سے ایک ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ اگر وہ لوگ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا کے ملیں گے ، تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میں مبہم شخص سے واقف نہیں ہوں ۔

12059

Majma al-Zawaid #12059

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فَابْنُ سُمَيَّةَ مَعَ الْحَقِّ» "". ابْنُ سُمَيَّةَ هُوَ عَمَّارٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that when people differ, Ibn Sumayyah, that is ʿAmmar, will be with the truth. > **"When people differ, Ibn Sumayyah is with the truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گا ، تو سمیہ کا بیٹا حق کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : سمیہ کے بیٹے سے مراد ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12060

Majma al-Zawaid #12060

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَوْلَعْتُهُمْ بِعَمَّارٍ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ يَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said he had earnestly commended ʿAmmar to them, for he would call them to Paradise while they called him to the Fire. > **"I commend him to you concerning Ammar; he calls them to Paradise and they call him to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں انہیں عمار کے حوالے سے تلقین کرتا ہوں ، وہ ان لوگوں کو جنت کی طرف بلائے گا ، اور وہ لوگ اُسے جہنم کی طرف بلائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

12061

Majma al-Zawaid #12061

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ يَوْمَ صِفِّينَ: ائْتُونِي بِشَرْبَةِ لَبَنٍ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «آخِرُ شَرْبَةٍ تَشْرَبُهَا مِنَ الدُّنْيَا شَرْبَةُ لَبَنٍ» "". فَأُتِيَ بِشَرْبَةِ لَبَنٍ فَشَرِبَهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقُتِلَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَبَيَّنَ أَنَّ الَّذِي سَقَاهُ أَبُو الْمُخَارِقِ، وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ نَظَرَ إِلَى لِوَاءِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: قَاتَلْتُ صَاحِبَ هَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Bakhtari reports that on the Day of Siffin ʿAmmar, may Allah be pleased with him, asked for a drink of milk, explaining that the Messenger of Allah ﷺ had told him his last drink in this world would be a drink of milk, so milk was brought, he drank it, then advanced and was killed, with the added detail that he looked toward Muʿawiyah's banner and said he had fought its bearer alongside the Messenger of Allah ﷺ. > **"The last drink you shall drink in this world will be a drink of milk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبختری بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے دن حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے پاس دودھ لے کر آؤ ! کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ دنیا میں ، جو تم آخری چیز پیو گے ، وہ دودھ ہو گا ۔‘‘ ان کے پاس دودھ لایا گیا ، انہوں نے پیا پھر وہ آگے بڑھے اور پھر شہید ہو گئے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : انہیں ابومخارق نے دودھ پینے کے لئے دیا تھا اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : پھر انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کی طرف دیکھا اور بولے : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مل کر اس جھنڈے والے شخص کے خلاف جنگ کی تھی ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یہ روایت منقطع ہے ۔

12062

Majma al-Zawaid #12062

وَعَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ: كُنَّا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى [بْنِ عَبْدِ اللَّهِ] بْنِ عَامِرٍ، فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْغَادِيَةِ اسْتَسْقَى، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مُفَضَّضٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فَذَكَرَ [هَذَا] الْحَدِيثَ: "" «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا - شَكَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ - يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» "". فَإِذَا رَجُلٌ يَسُبُّ فُلَانًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْكَ فِي كَتِيبَةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ، قَالَ: فَفَطِنْتُ إِلَى الْفُرْجَةِ مِنْ جُرَيَانِ الدِّرْعِ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ، فَإِذَا هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ. قَالَ: فَقُلْتُ: [وَأَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ] يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ فِي إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ، وَقَدْ قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا أَتَمَّ مِنْهُ، وَيَأْتِي فِي فَضْلِ عَمَّارٍ.

EnglishUnverified translation

Kulthum ibn Jabr reports that while they were at Wasit al-Qasab with ʿAbd al-Aʿla ibn ʿAbdillah ibn ʿAmir, a man called Abu al-Ghadiyah asked for water, was brought a silver-plated vessel, refused to drink from it, and cited the Prophet ﷺ as declaring that they must not return after him into disbelief or error striking one another's necks, and Abu al-Ghadiyah added that when a man reviled someone, he had sworn that if Allah empowered him over him in battle he would act, and that on the Day of Siffin he found the man in armor, noticed a gap where the armor flowed, thrust through it and killed him, only to discover he was ʿAmmar ibn Yasir, whereupon the narrator marvelled at a hand that scrupled to drink from a silvered vessel yet had killed ʿAmmar ibn Yasir. > **"Do not return after me into disbelief or error, striking one another's necks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کلثوم بن جبر بیان کرتے ہیں : ہم ” واسط القصب ‘‘ کے مقام پر عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر کے پاس موجود تھے ، ان کے پاس ایک صاحب موجود تھے ، جن کا نام ابوغادیہ تھا ، انہوں نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، ان کے پاس ایک ایسے برتن میں پانی لایا گیا ، جس پر سونا یا چاندی لگے ہوئے تھے ، تو انہوں نے اس میں پینے سے منع کر دیا اور نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم لوگ میرے بعد کافر ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو ۔‘‘ ان صاحب نے بتایا کہ ایک شخص فلاں صاحب کو برا کہہ رہا تھا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر کسی جنگ کے دوران اللہ تعالیٰ نے مجھے تم پر قابو دے دیا تو پھر دیکھنا ، پھر جنگ صفین کا موقع آیا ، تو وہ شخص میرے سامنے آ گیا ، اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی ، مجھے زرہ کے درمیان میں سے ایک جگہ کھلی نظر آئی ، تو میں نے وہاں نیزہ مار کے اسے قتل کر دیا ، وہ شخص عمار بن یاسر تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : یہ بھی عجیب آدمی ہے کہ سونا یا چاندی لگے ہوئے برتن میں پینے کو مکروہ سمجھتا ہے ، اور اس نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید بھی کر دیا ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، یہ روایت انہوں نے معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ، جو اس سے زیادہ روایت ہے اور وہ آگے چل کر حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی فضیلت سے متعلق باب میں آئے گی ۔

12063

Majma al-Zawaid #12063

وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ، يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» "". فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا بَالُكَ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ ""، فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hanzalah ibn Khuwaylid al-ʿAnbari reports that while he was with Muʿawiyah, may Allah be pleased with him, two men came disputing over the head of ʿAmmar, each claiming to have killed him, so ʿAbdullah ibn ʿAmr told one of them to yield it gladly to his fellow, for he had heard the Messenger of Allah ﷺ declare that the rebellious party would kill him, and when Muʿawiyah asked why he was then with them, ʿAbdullah explained that his father had complained of him to the Messenger of Allah ﷺ, who had commanded him to obey his father as long as he lived and not disobey him, so he was with them but would not fight. > **"The rebellious party will kill him; obey your father as long as he lives and do not disobey him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حنظلہ بن خویلد عنبری بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، اسی دوران دو افراد ان کے پاس آئے وہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ، ان میں سے ہر ایک کا یہ کہنا تھا : میں نے انہیں شہید کیا ہے ، تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی کے مقابلے میں دست بردار ہو جائے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔‘‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ ہمارے ساتھ کیوں ہیں ؟ تو حضرت عبدالله رضی اللہ عنہ اللہ نے بتایا : میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے میری شکایت کی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ تمہارا والد جب تک زندہ رہے گا ، تم اس کی اطاعت کرتے رہنا اور اس کی نافرمانی نہ کرنا ۔‘‘ تو میں آپ لوگوں کے ساتھ آ تو گیا ہوں ، لیکن میں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12064

Majma al-Zawaid #12064

وَعَنْ أَبِي غَادِيَةَ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ» "". فَقِيلَ لِعَمْرٍو: فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ؟ قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: "" «قَاتِلُهُ وَسَالِبُهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَمَّارٍ وَسَلَبِهِ، فَقَالَ: خَلِّيَا عَنْهُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ قَاتِلَ عَمَّارٍ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ» ""، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ghadiyah reports that after ʿAmmar was killed and ʿAmr ibn al-ʿAs was informed, ʿAmr declared that he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that his killer and despoiler would be in the Fire, and when it was objected that he himself was fighting him, he replied that the Prophet ﷺ had specified only the killer and the despoiler, with a parallel version stating that two men came to ʿAmr disputing over the blood and spoils of ʿAmmar and were told to leave it, for the killer of ʿAmmar and his despoiler would be in the Fire. > **"The killer of Ammar and his despoiler will be in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوغادیہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اس نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ، پھر جب حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس ( یعنی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ) کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان لینے والا شخص ، جہنم میں جائے گا ۔‘‘ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : آپ بھی تو ان کے خلاف جنگ کر ہی رہے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے عمار کے قاتل اور اس کا سامان لینے والے کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے کہ دو آدمی حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قتل اور ان کے سامان کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ، تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : ان کو چھوڑ دو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عمار کا قاتل اور اُس کا سامان لینے والا شخص ، جہنم میں جائے گا ۔‘‘ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

12065

Majma al-Zawaid #12065

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ قَالَ: فَكَانَ إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا أَوْ رَقِيَ عَلَى أَكَمَةٍ أَوْ هَبَطَ وَادِيًا قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ؟ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا، أَوْ هَبَطْتَ وَادِيًا، أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ قُلْتَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنَّا، وَأَلْحَحْنَا عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهْدًا إِلَّا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ، وَلَكِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا فِي عُثْمَانَ فَقَتَلُوهُ، فَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأَ حَالًا أَوْ فِعْلًا مِنِّي، ثُمَّ إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَذَا الْأَمْرِ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn ʿAbbad reports that they were with ʿAli, may Allah be pleased with him, who whenever he witnessed a battle, ascended a hill, or descended into a valley would exclaim glory be to Allah, Allah and His Messenger have spoken the truth, so he and a man of Banu Yashkur went to the Commander of the Believers to ask about this saying and whether the Messenger of Allah ﷺ had given him any particular covenant concerning it, and after ʿAli turned away and they pressed him, he swore by Allah that the Messenger of Allah ﷺ had given him no covenant apart from what he gave to the people at large, but that the people had fallen upon ʿUthman and killed him, with others in worse state and deed therein than himself, and that he had then seen himself as the most entitled of them to authority and had seized it, and Allah alone knows whether they were right or wrong.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن عباد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، وہ جب بھی کسی جنگ میں حصہ لیتے تھے ، یا جب کسی ٹیلے پر چڑھتے تھے ، یا کسی نشیبی علاقے میں اُتر رہے ہوتے تھے ، تو یہ کہا کرتے تھے : سبحان اللہ ! اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے بنو یشکر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے کہا : تم ہمارے ساتھ امیرالمؤمنین کے پاس چلو ! تاکہ ہم ان سے ان کے اس جملے کے بارے میں دریافت کریں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، ہم نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! ہم نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ جنگ میں حصہ لیتے ہیں ، یا جب کسی نشیبی جگہ پر اتر رہے ہوتے ہیں ، یا جب کسی ٹیلے پر چڑھ رہے ہوتے ہیں ، تو آپ یہ فرماتے ہیں : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، تو کیا اس بارے میں نبی اکرم ﷺ نے آپ کو کوئی خصوصی تلقین کی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : انہوں نے ہم سے منہ پھیر لیا ، ہم نے ان کی خدمت میں اہتمام سے گزارش کی ، جب انہوں نے یہ چیز ملاحظہ فرمائی ، تو یہ ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ نے مجھے کوئی خصوصی تلقین نہیں کی ، وہی امور ہیں ، جو آپ ﷺ نے لوگوں کو تلقین کیے تھے ، لیکن جب لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ، تو میرے علاوہ دوسرے لوگ حالت کے اعتبار سے اور طرز عمل کے اعتبار سے زیادہ برے تھے ، پھر میں نے یہ بات دیکھی کہ حکومت کا ، میں ان سب سے زیادہ حق دار ہوں ، تو میں نے حکومت کو اختیار کر لیا ، اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں نے ٹھیک کیا یا غلط کیا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے وہ خراب حافظے مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔

12066

Majma al-Zawaid #12066

وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ زُودِيٍّ قَالَ: خَطَبَهُمْ عَلِيٌّ، فَقَطَعُوا عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ، وَضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا كَمَثَلِ ثَلَاثَةِ أَثْوَارٍ [أَسَدٍ] اجْتَمَعْنَ فِي أَجَمَةٍ أَسْوَدَ، وَأَحْمَرَ، وَأَبْيَضَ، فَكَانَ الْأُسْدُ إِذَا أَرَادُوا وَاحِدًا مِنْهُمُ اجْتَمَعْنَ عَلَيْهِ، فَامْتَنَعْنَ عَلَيْهِ، فَقَالَ الْأُسْدُ لِلْأَسْوَدِ، وَالْأَحْمَرِ: إِنَّمَا يَفْضَحُنَا وَيُشَهِّرُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذِهِ الْأَبْيَضُ، فَدَعَانِي حَتَّى آكُلَهُ، فَلَوْنُكُمَا عَلَى لَوْنِي، وَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكُمَا، فَحَمَلَ عَلَيْهِ الْأَسَدُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَتَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ: إِنَّمَا يَفْضَحُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذِهِ الْأَحْمَرُ، فَدَعْنِي حَتَّى آكُلَهُ، فَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكَ، وَلَوْنُكَ عَلَى لَوْنِي، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ: إِنِّي آكِلُكَ. قَالَ: دَعْنِي أُصَوِّتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعُمَيْرٌ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmayr ibn Zawdi reports that ʿAli, may Allah be pleased with him, addressed the people but they interrupted his sermon, so he declared that he was only weakened on the day ʿUthman was killed, and he struck for them the parable of three bulls, black, red, and white, gathered with a lion in a thicket, who held together against the lions whenever one was sought, until the lions told the black and red bulls that the white one disgraced them in their thicket and asked to be left to devour him, since their colour matched his, so the lion pounced and soon killed him, then told the black bull that the red one disgraced them and asked to be left to devour him, since their colours matched, so he pounced and killed him, then told the black bull that now he would devour him, whereupon the black bull asked leave to cry out three times that he was only devoured on the day the white bull was devoured, repeating it thrice, and ʿAli concluded that likewise he was only weakened on the day ʿUthman was killed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمیر بن زودی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو خطبہ دیا ، پھر اس خطبہ کے دوران انہوں نے اس خطبے کو روک دیا اور بولے : جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس دن میں کمزور ہو گیا تھا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے مثال بیان کی ، جیسے تین بیل ہوتے ہیں اور ایک شیر ہوتا ہے ، وہ ایک علاقے میں اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک بیل سیاہ رنگ کا ہے اور ایک سرخ رنگ کا ہے ، ایک سفید رنگ کا ہے ، شیر جب ان میں سے کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اسے روک دیتے ہیں ، تو شیر سیاہ اور سرخ بیل سے یہ کہتا ہے : ہمارے اس علاقے میں یہ سفید بیل ہمیں رسوائی کا شکار کر رہا ہے ، تو تم لوگ مجھے موقع دو کہ میں اسے کھا لوں ، تم دونوں کا رنگ تو میرے جیسا ہے اور میرا رنگ تم دونوں کے رنگ جیسا ہے ، پھر شیر اس پر حملہ کر کے اسے کھا لیتا ہے ، تھوڑی دیر بعد وہ سیاہ بیل سے کہتا ہے : ہمارے اس علاقے میں یہ سرخ رنگ کا بیل ہمیں رسوائی کا شکار کر رہا ہے ، تم مجھے موقع دو کہ میں اسے کھا لیتا ہوں ، کیونکہ میرا اور تمہارا رنگ تو ایک جیسا ہے اور تمہارا اور میرا رنگ ایک جیسا ہے ، پھر وہ اس بیل پر حملہ کر کے اسے بھی کھا لیتا ہے ، پھر وہ سیاہ بیل سے کہتا ہے : اب میں تمہیں کھاؤں گا ، تو سیاہ بیل کہتا ہے : تم مجھے موقع دو کہ میں تین مرتبہ بلند آواز میں کچھ کہوں ، پھر وہ بیل کہتا ہے : میں اُسی دن کھایا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا ، خبردار ! میں اُسی دن کھایا گیا تھا جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا ، خبردار ! میں اسی دن کھایا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا ۔ ( پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خبردار ! میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ہی کمزور ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12067

Majma al-Zawaid #12067

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: أُسَيْدُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو عَمْرَةَ، وَيُقَالُ: يَسِيرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مِحْصَنٍ، وَيُقَالُ: ثَعْلَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مِحْصَنٍ، وَيُقَالُ: عَمْرُو بْنُ مِحْصَنٍ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ، وَيُقَالُ: إِنَّ أَبَا عَمْرَةَ أَعْطَى عَلِيًّا مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ أَعَانَهُ بِهَا يَوْمَ الْجَمَلِ، وَقُتِلَ يَوْمَ صِفِّينَ جَبَلَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَالْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْقِتَالِ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَتُرِيدُونَ أَنْ نَقُولَ لِرَبِّنَا إِذَا لَقِينَاهُ: {رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا} [الأحزاب: 67]؟، وَحَنْظَلَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَخَالِدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَخَالِدُ بْنُ أَبِي دُجَانَةَ، وَخُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو، بَدْرِيٌّ مَنْ بَنِي سَلَمَةَ، وَرَبِيعَةُ بْنُ قَيْسِ بْنِ عَدْوَانَ، وَرَبِيعَةُ بْنُ عَبَّادٍ الدُّؤَلِيُّ. ذَكَرَهُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، وَفِي الْإِسْنَادِ إِلَيْهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Tabarani records, through ʿUbaydullah ibn Abi Rafiʿ, the names of those concerned: Usayd ibn Malik Abu ʿAmrah, also called Yasir ibn ʿAmr ibn Mihsan, or Thaʿlabah ibn ʿAmr ibn Mihsan, or ʿAmr ibn Mihsan of Banu Mazin ibn al-Najjar, of whom it is said that Abu ʿAmrah gave ʿAli one hundred thousand dirhams to aid him on the Day of the Camel, and those killed on the Day of Siffin including Jabalah ibn ʿAmr, al-Hajjaj ibn ʿAmr ibn Ghaziyah, who used to cry out in battle, O company of Ansar, do you wish to say to your Lord when you meet Him that you obeyed your chiefs and great ones and they led you astray, along with Hanzalah ibn al-Nuʿman, Khalid ibn Abi Khalid, Khalid ibn Abi Dujanah, Khuwaylid ibn ʿAmr, a veteran of Badr of Banu Salamah, Rabiʿah ibn Qays ibn ʿAdwan, and Rabiʿah ibn ʿAbbad al-Duʾali.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : ان میں سے ایک حضرت اُسید بن مالک ابوعمرہ رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ بات کہی جاتی ہے ایک صاحب حضرت یسیر بن عمرو محصن رضی اللہ عنہ ہیں ، اور ایک روایت کے مطابق حضرت ثعلبہ بن عمرو بن محصن رضی اللہ عنہ اور ایک روایت کے مطابق حضرت عمرو بن محصن رضی اللہ عنہ ہیں ، ان کا تعلق بنو مازن بن نجار سے ہے ، ایک روایت کے مطابق ابوعمرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جنگ صفین کے دن ایک لاکھ درہم دیے تھے ، وہ ان کے ذریعے جنگ جمل کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدد کرنا چاہ رہے تھے ، جنگ صفین کے موقع پر حضرت جبلہ بن عمرو رضی اللہ عنہ حضرت حجاج بن عمرو غزیہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے ، یہ وہ صاحب تھے جنہوں نے جنگ کے موقع پر یہ کہا تھا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جب ہم اپنے پرودگار کی بارگاہ میں حاضر ہوں ، تو اس سے یہ کہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی تھی ، تو انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا ۔ ایک صاحب حضرت حنظلہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں ، ایک صاحب حضرت خالد بن خالد رضی اللہ عنہ ، ایک صاحب حضرت خالد بن ابودجانہ رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت خویلد بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف ہے اور وہ بنو سلمہ سے تعلق رکھتے ہیں ، حضرت ربیعہ بن قیس بن عدوان رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت ربیعہ بن عباد دؤلی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ان سب کا ذکر عبیداللہ بن ابورافع نے کیا ہے ، اور ان تک سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12068

Majma al-Zawaid #12068

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَاتَلَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ يَوْمَ صِفِّينَ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn ʿUmarah ibn Khuzaymah ibn Thabit reports that Khuzaymah ibn Thabit, may Allah be pleased with him, fought on the Day of Siffin until he was killed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عمارہ بن خزیمہ بن ثابت بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے موقع پر حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جنگ میں حصہ لیا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

12069

Majma al-Zawaid #12069

عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"" «يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ حَكَمَانِ ضَالَّانِ، ضَالٌّ مَنْ تَبِعَهُمَا» "". فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُوسَى، انْظُرْ لَا تَكُنْ أَحَدَهُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: هَذَا عِنْدِي بَاطِلٌ لِأَنَّ جَعْفَرَ بْنَ عَلِيٍّ شَيْخٌ مَجْهُولٌ لَا يُعْرَفُ، قُلْتُ: إِنَّمَا ضَعْفُهُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ عَابِسٍ الْأَسَدِيِّ فَإِنَّهُ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Suwayd ibn Ghafalah reports that he heard Abu Musa al-Ashʿari, may Allah be pleased with him, quoting the Messenger of Allah ﷺ as saying that there would be in this community two misguided arbiters, and misguided is whoever follows them, whereupon the narrator warned Abu Musa to take care not to be one of them. > **"There will be in this community two misguided arbiters; misguided is whoever follows them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس امت میں دو ثالث ہوں گے ، وہ دونوں گمراہ ہوں گے اور اُن دونوں کی پیروی کرنے والا بھی گمراہ ہو گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اے ابوموسیٰ ! آپ اس بات کا جائزہ لیجئے گا کہ کہیں آپ ان دونوں میں سے ایک نہ ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے نزدیک یہ روایت جھوٹی ہے ، کیونکہ جعفر بن علی نامی شخص ایک مجہول بوڑھا ہے ، جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : علی بن عابس اسدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور وہ متروک ہے ۔

12070

Majma al-Zawaid #12070

وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقُولُ: يَا أَبَا مُوسَى، أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» "". فَأَنَا سَائِلُكَ عَنْ حَدِيثٍ فَإِنْ صَدَقْتَ، وَلَا يَعْتِبُ عَلَيْكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ يُقَرِّرُكَ، ثُمَّ أَنْشُدُكَ اللَّهَ، أَلَيْسَ إِنَّمَا عَنَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَفْسِكَ، فَقَالَ: "" «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ فِي أُمَّتِي، أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى فِيهَا، نَائِمٌ خَيْرٌ مِنْكَ قَاعِدٌ، وَقَاعِدٌ خَيْرٌ مِنْكَ قَائِمٌ، وَقَائِمٌ خَيْرٌ مِنْكَ مَاشٍ» "". فَخَصَّكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَعُمَّ النَّاسَ، فَخَرَجَ أَبُو مُوسَى وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَاللَّفْظُ لَهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Maryam reports that he heard ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, addressing Abu Musa, asking whether he had not heard the Messenger of Allah ﷺ declare that whoever deliberately lies about him should take his seat in the Fire, then announcing he would question him, and if he spoke truthfully the Companions who confirmed him would not blame him, then adjuring him by Allah whether the Messenger of Allah ﷺ had not singled him out personally by declaring that there would be a trial in his community in which, O Abu Musa, his sleeping would be better than his sitting, his sitting better than his standing, and his standing better than his walking, emphasizing that the Messenger of Allah ﷺ had specified him and not people at large, whereupon Abu Musa departed without answering. > **"There will be a trial in my community; O Abu Musa, in it the one asleep is better than the one seated, the seated better than the standing, and the standing better than the walking."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومریم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابوموسیٰ ! کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ’’ جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ اور میں آپ سے ایک حدیث کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں ، اگر آپ نے سچ بیانی کی ، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب آپ پر عتاب نہیں کریں گے ، میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے بطور خاص ، آپ کو مخاطب کر کے یہ ارشاد نہیں فرمایا تھا : ’’ عنقریب میری امت میں ایک فتنہ رونما ہو گا ، اے ابوموسیٰ ! جس میں تم بھی موجود ہو گے ، جس میں سویا ہوا شخص بیٹھنے والے سے زیادہ بہتر ہو گا ، بیٹھنے والا شخص کھڑے ہونے والے سے زیادہ بہتر ہو گا اور کھڑا ہونیوالا شخص چلنے والے سے زیادہ بہتر ہو گا ( یا مراد یہ ہو سکتی کہ اگر تم اس میں سوئے رہے ، تو یہ تمہارے لئے بیٹھے رہنے سے زیادہ بہتر ہو گا اور اگر تم بیٹھے رہے ، تو یہ تمہارے کھڑے ہونے سے زیادہ بہتر ہو گا اور اگر تم کھڑے رہے ، تو یہ تمہارے لئے چلنے سے زیادہ بہتر ہو گا ) ۔ پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کے رسول ﷺ نے بطور خاص تمہارا ذکر کیا تھا ، عمومی طور پر لوگوں کو مراد نہیں لیا تھا ، تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے اور انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ۔

12071

Majma al-Zawaid #12071

وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّبَرَانِيِّ: عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي فَاطِمَةَ، وَهُوَ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

In a version of al-Tabarani, ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke to a certain man, though the chain contains ʿAli ibn Abi Fatimah, that is ʿAli ibn al-Hazawwar, who is abandoned.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن ابوفاطمہ ہے اور وہ علی بن حزور ہے اور وہ متروک ہے ۔

12072

Majma al-Zawaid #12072

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْحَرَامِيِّ قَالَ: قَامَ عَلِيٌّ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ حِينَ اخْتَلَفَ الْحَكَمَانِ، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْحُكُومَةِ فَعَصَيْتُمُونِي. فَقَامَ إِلَيْهِ فَتًى آدَمُ فَقَالَ: إِنَّكَ وَاللَّهِ مَا نَهَيْتَنَا، وَلَكِنَّكَ أَمَرْتَنَا وَدَمَّرْتَنَا، فَلَمَّا كَانَ فِيهَا مَا تَكْرَهُ بَرَّأْتَ نَفْسَكَ وَنَحَلْتَنَا ذَنْبَكَ. فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: وَمَا أَنْتَ وَهَذَا الْكَلَامُ؟ قَبَّحَكَ اللَّهُ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَتِ الْجَمَاعَةُ وَكُنْتَ فِيهَا خَامِلًا، فَلَمَّا كَانَتِ الْفِتْنَةُ نَجَمَتْ فِيهَا نُجُومُ قَرْنِ الْمَاعِزَةِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ فَقَالَ: لِلَّهِ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ ذَنْبًا إِنَّهُ لَصَغِيرٌ مَغْفُورٌ، وَلَئِنْ كَانَ حَسَنًا إِنَّهُ لَعَظِيمٌ مَشْكُورٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ وَوَلَدُهُ يَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn al-Dahhak al-Harami reports that ʿAli, may Allah be pleased with him, stood upon the minbar of Kufa when the two arbiters disagreed and said he had forbidden them this arbitration but they had disobeyed him, whereupon a dark-complexioned youth stood and accused him of commanding rather than forbidding it, ruining them, then disowning himself and loading his sin upon them when its outcome displeased him, so ʿAli rebuked him for meddling in such speech, invoked ugliness upon him, reminded him that he had been obscure during unity but had sprouted like a goat's horn in tribulation, then turned to the people praising the station taken by Saʿd ibn Malik and ʿAbdullah ibn ʿUmar, swearing by Allah that if it was a sin it was small and forgiven, and if it was good it was great and gratefully rewarded.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن ضحاک حزامی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے منبر پر کھڑے ہوئے ، یہ اُس وقت کی بات ہے جب ثالثوں کے درمیان اختلاف ہو گیا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہیں اس ثالثی سے منع کیا تھا ، اور تم لوگوں نے میری بات نہیں مانی ، تو گندمی رنگت کا ایک نوجوان ان کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا : اللہ کی قسم ! آپ نے ہمیں منع نہیں کیا تھا ، بلکہ آپ نے تو ہمیں حکم دیا تھا اور آپ نے ہمیں برباد کروا دیا ، اور جب اس صورت حال میں وہ چیز سامنے آئی ، جو آپ کو پسند نہیں تھی ، تو آپ نے خود کو بری الذمہ ظاہر کر دیا اور اپنا گناہ ہمارے ذمہ ڈال دیا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم کون ہو اور یہ کلام کس بنیاد پر کر رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تمہیں قبیح کرے ، یہ ایک اجتماعی معاملہ تھا ، اور میں اس میں سست ( یا پوشیدہ رہا ) تھا ، جب فتنہ آیا تو تم اس میں بکرے کے سینگ کی طرح ( خوامخواہ ) آ گئے ، پھر وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ تیار کی ہے ، جس میں سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر پڑاؤ کریں گے ، اللہ کی قسم ! اگر یہ گناہ تھا ، تو پھر یہ چھوٹا گناہ ہے ، جس کی مغفرت ہو جائے گی اور اگر یہ اچھائی ہے ، تو یہ بڑی چیز ہے ، جس کا شکر قبول کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، محمد بن ضحاک اور اس کا بیٹا یحیی ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔

12073

Majma al-Zawaid #12073

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ أَنَّهُ قَالَ حِينَ هَاجَ النَّاسُ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ: أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَقْتُلُوا هَذَا الشَّيْخَ، وَاسْتَعْتِبُوهُ، فَإِنَّهُ لَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا فَيَصْلُحُ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا فَيَصْلُحُ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا. فَلَمْ يَنْظُرُوا فِيمَا قَالَ وَقَتَلُوهُ، فَجَلَسَ لِعَلِيٍّ عَلَى الطَّرِيقِ، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَرْضَ الْعِرَاقِ. قَالَ: لَا تَأْتِ الْعِرَاقَ، وَعَلَيْكَ بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَوَثَبَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ وَهَمُّوا بِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: دَعُوهُ، فَإِنَّهُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ. فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِابْنِ مَعْقِلٍ: هَذِهِ رَأْسُ الْأَرْبَعِينَ وَسَيَكُونُ عَلَى رَأْسِهَا صُلْحٌ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ أَرْبَعُونَ أَلْفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُ هَذِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَلَهُ طَرِيقٌ فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Salam, may Allah be pleased with him, reports that when the people rose over the affair of ʿUthman he addressed them not to kill that elder but to seek his satisfaction, for no community kills its prophet without its affairs remaining disordered until seventy thousand of them shed their blood, and no community kills its caliph without its affairs remaining disordered until forty thousand shed their blood, but they disregarded his words and assaulted ʿUthman, and that he later sat waiting for ʿAli upon the road and asked where he intended to go, and when ʿAli said the land of Iraq, he told him not to go to Iraq but to keep to the minbar of the Messenger of Allah ﷺ, whereupon some of ʿAli's companions rushed at him, but ʿAli told them to leave him, for he was of them, of the household, and that after ʿAli was killed ʿAbdullah told Ibn Maʿqil that this was the head of the fortieth year, that at its close there would be a truce, and that no community kills its prophet but seventy thousand are slain for him, and no community kills its caliph but forty thousand are slain for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں جب لوگوں نے احتجاج کیا تو انہوں نے یہ فرمایا : اے لوگو ! تم اس بزرگ کو قتل نہ کرنا اور ان کا خیال رکھنا کیونکہ جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کو شہید کیا تو ان لوگوں کا معاملہ اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوا ، جب تک ان میں سے ستر ہزار لوگوں کا خون نہیں بہا دیا گیا اور جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کے خلیفہ کو شہید کیا تو ان لوگوں کا معاملہ اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوا ، جب تک ان میں سے چالیس ہزار افراد کا خون نہیں بہا دیا گیا ، لیکن لوگوں نے ان کی کہی ہوئی بات پر توجہ نہیں دی اور انہیں مارا پیٹا ، ایک مرتبہ وہ راستے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : عراق کی سرزمین کی طرف جانا چاہتا ہوں ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ عراق نہ جائیں ، آپ اللہ کے رسول کے منبر پر تشریف فرما ہوں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے کچھ ان پر حملہ کرنے لگے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہیں چھوڑ دو کیونکہ یہ ہم میں سے ، اہل بیت میں سے ایک ہیں ، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ابن معقل سے کہا : یہ چالیس ہجری ہے ، اس کے اختتام پر صلح ہو گی ، جب بھی کسی امت نے اپنے نبی کو شہید کیا ، تو اس کے بدلے میں ستر ہزار افراد شہید کیے گئے اور جب بھی کسی امت نے نبی کے خلیفہ کو شہید کیا ، تو اس کے بدلے میں چالیس ہزار لوگ قتل کئے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس روایت کا ایک طریق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گا ۔

12074

Majma al-Zawaid #12074

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ ابْنِي هَذَا - يَعْنِي الْحَسَنَ - سَيِّدٌ، وَلَيُصْلِحَنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said of his son, meaning al-Hasan, may Allah be pleased with him, that he is a chief and that Allah, Mighty and Majestic, will surely reconcile through him between two parties of Muslims. > **"This son of mine is a chief, and Allah will surely reconcile through him between two parties of Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا : ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12075

Majma al-Zawaid #12075

وَعَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: قَالَ عَمْرٌو وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَجُلٌ عَيِيٌّ، وَإِنَّ لَهُ كَلَامًا وَرَأْيًا، وَإِنَّا قَدْ عَلِمْنَا كَلَامَهُ فَنَتَكَلَّمُ كَلَامَهُ فَلَا يَجِدُ كَلَامًا. قَالَ: لَا تَفْعَلُوا. فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَصَعِدَ عَمْرٌو الْمِنْبَرَ، فَذَكَرَ عَلِيًّا وَوَقَعَ فِيهِ، ثُمَّ صَعِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ وَقَعَ فِي عَلِيٍّ. ثُمَّ قِيلَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: اصْعَدْ. فَقَالَ: لَا أَصْعَدُ وَلَا أَتَكَلَّمُ حَتَّى تُعْطُونِي إِنْ قُلْتُ حَقًّا أَنْ تُصَدِّقُونِي، وَإِنْ قُلْتُ بَاطِلًا أَنْ تُكَذِّبُونِي. فَأَعْطَوْهُ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَمَا بِاللَّهِ يَا عَمْرُو وَيَا مُغِيرَةُ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَعَنَ اللَّهُ السَّابِقَ وَالرَّاكِبَ "" أَحَدُهُمَا فُلَانٌ؟ قَالَا: اللَّهُمَّ بَلَى. قَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا مُعَاوِيَةُ وَيَا مُغِيرَةُ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ عَمْرًا بِكُلِّ قَافِيَةٍ قَالَهَا لَعْنَةً؟ قَالَا: اللَّهُمَّ بَلَى. قَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَمْرُو وَيَا مُعَاوِيَةُ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ قَوْمَ هَذَا؟ قَالَا: بَلَى. قَالَ الْحَسَنُ: فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي وَقَعْتُمْ فِيمَنْ تَبَرَّأَ مِنْ هَذَا، قَالَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى السَّاجِيِّ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: أَحَدُ الْأَثْبَاتِ مَا عَلِمْتُ فِيهِ جَرْحًا أَصْلًا، وَقَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ: مُخْتَلَفٌ فِيهِ فِي الْحَدِيثِ، وَثَّقَهُ قَوْمٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Mijlaz reports that ʿAmr and al-Mughirah ibn Shuʿbah said to Muʿawiyah that al-Hasan ibn ʿAli was a man of weak speech with a fixed discourse and view, and that since they knew his speech they could preempt it and leave him speechless, but Muʿawiyah told them not to do so, and when they insisted, ʿAmr ascended the minbar, mentioned ʿAli and disparaged him, then al-Mughirah ibn Shuʿbah ascended, praised Allah, and likewise disparaged ʿAli, after which al-Hasan ibn ʿAli was told to ascend, and he refused to ascend or speak until they pledged that if he spoke truth they would confirm him and if he spoke falsehood they would refute him, and when they pledged, he ascended the minbar, praised Allah, and adjured ʿAmr and al-Mughirah by Allah whether they knew that the Messenger of Allah ﷺ had said, Allah curse the driver and the rider, one of whom was a certain man, to which both answered, O Allah, yes, then adjured Muʿawiyah and al-Mughirah by Allah whether they knew that the Messenger of Allah ﷺ had cursed ʿAmr with a curse for every rhyme he uttered, to which both answered, O Allah, yes, then adjured ʿAmr and Muʿawiyah ibn Abi Sufyan by Allah whether they knew that the Messenger of Allah ﷺ had cursed the folk of this man, to which both answered yes, whereupon al-Hasan praised Allah against whom they had offended, since they had reviled one who was clear of such curses, and continued his discourse. > **"Allah curse the driver and the rider; Allah cursed Amr for every rhyme he uttered and cursed the folk of this man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومجلز بیان کرتے ہیں حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما ایک کمزور رائے شخص ہیں اور ان کا ایک مخصوص موقف ہے ، ہم ان کے موقف کو جانتے ہیں ، ہم اس حوالے سے کلام کر لیں گے ، تو ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں رہے گا ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ ایسا نہ کرو ! لیکن ان لوگوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات نہیں مانی ، پھر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے ، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان پر تنقید کی ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے یہ کہا گیا : آپ منبر پر چڑھیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں ( اس وقت تک منبر پر ) نہیں چڑھوں گا اور اس وقت تک بات چیت نہیں کروں گا ، جب تک تم میرے ساتھ یہ طے نہیں کرتے کہ اگر میں نے سچ بات بیان کی ، تو تم میری تصدیق کرو گے اور اگر میں نے غلط بات بیان کی ، تو تم مجھے جھٹلا دو گے ، لوگوں نے ان کے ساتھ یہ طے کر لیا ، وہ منبر پر چڑھئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : اے عمرو ! اور اے مغیرہ ! میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ ہانک کر لے جانے والے اور سوار شخص پر ، اللہ تعالیٰ لعنت کرے ۔‘‘ اور ان دونوں میں سے ایک شخص فلاں تھا ، ان دونوں صاحبان نے جواب دیا ، اللہ جانتا ہے ایسا ہی ہے ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے معاویہ اور اے مغیرہ ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے عمرو ( بن العاص ) پر لعنت کی تھی ، ان دونوں نے جواب دیا ، اللہ جانتا ہے جی ہاں ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عمرو ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں اور اے معاویہ بن ابوسفیان ! آپ سے بھی دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے اس قوم پر لعنت کی ہے ، ان دونوں نے جواب دیا ، جی ہاں ، تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات پر اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے جن صاحب پر تنقید کی تھی وہ اس چیز سے لاتعلق ہیں ( کہ اللہ کے رسول نے ان پر لعنت کی ہو ) ...... راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد زکریا بن یحیی ساجی کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں یہ مثبت راویوں میں سے ایک ہے ، مجھے اس کے بارے میں سرے سے کسی جرح کا علم نہیں ہے ، ابن قطان کہتے ہیں حدیث کے بارے میں اس شخص کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، ایک قوم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12076

Majma al-Zawaid #12076

وَعَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ بِالْكُوفَةِ فَحَجَبَهُ مَلِيًّا، وَعِنْدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَقَالَ: أَعَنْ هَذَيْنِ حَجَبْتَنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ تَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَهُمْ جَاءَنَا فَمَلَأَنَا كَذِبًا - يَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ عِنْدَهُ مَهَرَةُ جَدِّكَ، وَطَعْنٌ فِي اسْتِ أَبِيكَ. فَقَالَ: أَلَا تَسْمَعُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا يَقُولُ؟ قَالَ: أَنْتَ بَدَأْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿIsa ibn Yazid reports that al-Ashʿath ibn Qays sought permission to enter upon Muʿawiyah at Kufa, was kept waiting awhile, and upon entering found Ibn ʿAbbas and al-Hasan ibn ʿAli with him, so he asked, O Commander of the Believers, did you veil me on account of these two, knowing that their master came to them and filled them with lies, meaning ʿAli, whereupon Ibn ʿAbbas retorted that with ʿAli stood the steeds of al-Ashʿath's grandfather and a thrust at his father, and when al-Ashʿath protested at these words, Muʿawiyah replied that he himself had begun it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ بن یزید بیان کرتے ہیں : اشعث بن قیس نے کوفہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے اجازت دینے میں ذرا تاخیر کی ، پھر جب وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو حضرت معاویہ کے پاس حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے ، اشعث نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! کیا آپ نے ان دو افراد کی وجہ سے مجھے اندر آنے نہیں دیا ؟ جبکہ آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے آقا ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہمیں جھوٹ سے بھر دیا ، راوی کہتے ہیں : اس کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان صاحب ( یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کے پاس تمہارے دادا کا گھوڑا تھا اور انہوں نے تمہارے باپ پر وار کیا تھا ( یعنی ان صاحب نے اسلام کی سربلندی کی خاطر تمہارے باپ دادا کے ساتھ جنگ کی تھی ) تو اشعث نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! آپ سن رہے ہیں یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بات شروع تم نے کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔