Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 2

Book of Tribulations

Hadith 11997–12036

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11997

Majma al-Zawaid #11997

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ: إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تَضَعُوا رِجْلِي فِي الْقَيْدِ فَضَعُوهَا. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf reports that ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, declared that if they found in the Book of Allah Almighty that his foot should be placed in fetters, they might do so.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ بات پاتے ہو کہ میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی جائیں ، تو تم ایسا کر لو ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11998

Majma al-Zawaid #11998

وَعَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ: «شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ، وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ، فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَةِ الَّتِي تَلِي مَقَامَ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ؟ فَسَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ؟ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا؟ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّكَ تَكُونُ فِي جَمَاعَةِ قَوْمٍ يَسْمَعُونَ نِدَائِي آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ ثُمَّ لَا تُجِيبُنِي، أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ أَتَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا طَلْحَةُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا مَعَهُ مَنْ أُمَّتِهِ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ هَذَا - يَعْنِينِي - رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ ""؟ قَالَ طَلْحَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ. ثُمَّ انْصَرَفَ». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَفِيهِ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ وَأَسْقَطَ أَبَا عُبَادَةَ مِنَ السَّنَدِ.

EnglishUnverified translation

Aslam, the freedman of ʿUmar, reports that he witnessed ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, on the day he was besieged at the funeral ground, where the crowd was so dense that a thrown stone would only fall upon someone's head. ʿUthmān looked out from the skylight beside the station of Jibrīl and called out asking whether Ṭalḥah was present, repeating the call three times amid silence until Ṭalḥah ibn ʿUbayd Allāh stood. ʿUthmān expressed surprise that Ṭalḥah could hear his final calls among a crowd yet not answer, then adjured him to recall the day when only the two of them were with the Messenger of Allah ﷺ at a certain place and the Prophet ﷺ addressed Ṭalḥah concerning him. Ṭalḥah affirmed it before Allah, and ʿUthmān withdrew. > **"O Ṭalḥah, there is no prophet except that with him is a companion from his community in Paradise, and this ʿUthmān ibn ʿAffān is my companion in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم بیان کرتے ہیں : میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، جب جنازگاہ میں ان کا محاصرہ کیا گیا تھا اور وہاں اتنے لوگ تھے کہ اگر کوئی پتھر پھینکا جاتا ، تو وہ کسی نہ کسی شخص کے سر پر جا کے لگتا ، میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے مقام جبرائیل کے ساتھ والی کھڑکی کی طرف سے جھانک کر باہر دیکھا اور فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہیں ؟ لوگوں خاموش رہے ، پھر انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہیں ؟ تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : کیا میں تمہیں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ میری یہ رائے نہیں تھی کہ تم ایسی قوم کی جماعت میں ہو گے جو میری پکار کو سن رہے ہوں گے اور پھر بھی تم نے مجھے جواب نہیں دیا ؟ اے طلحہ ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کیا تمہیں وہ دن یاد ہے ؟ جب میں اور تم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ فلاں مقام پر موجود تھے ، آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے اصحاب میں سے میرے اور تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے تم سے یہ فرمایا تھا : ’’ اے طلحہ ! ہر ایک نبی کے ساتھ اُس کے اصحاب میں سے ایک رفیق ہوتا ہے ، جس کا تعلق اُس ( نبی ) کی امت سے ہوتا ہے اور وہ رفیق اُس کے ساتھ جنت میں ہو گا اور عثمان بن عفان جنت میں میرا رفیق ہو گا ‘‘ تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے اس کا ایک حصہ ’’ منقطع ‘‘ سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبادہ زرقی ہے اور وہ متروک ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے سند میں ابوعبادہ کا نام ساقط کر دیا ہے ۔

11999

Majma al-Zawaid #11999

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ أَزْهَرَ أَبِي رَوَّاعٍ قَالَ: «سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ قَالَ: إِنَّا وَاللَّهِ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا، وَيَغْزُو مَعَنَا، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ: فَقَالَ لَهُ أَعْيَنُ ابْنُ امْرَأَةِ الْفَرَزْدَقِ: يَا نَعْثَلُ، إِنَّكَ قَدْ بَدَّلْتَ. فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: أَعْيَنُ. فَقَالَ: بَلْ أَنْتَ أَيُّهَا الْعَبْدُ. قَالَ: فَوَثَبَ النَّاسُ إِلَى أَعْيَنَ. قَالَ: وَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يَزَعُهُمْ عَنْهُ حَتَّى أَدْخَلَهُ دَارَهُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبَّادِ بْنِ زَاهِرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn Azhar Abū Rawwāʿ reports that he heard ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, preaching that by Allah they had accompanied the Messenger of Allah ﷺ in travel and residence, that he visited their sick, followed their funerals, raided alongside them, and consoled them in little and much, yet now some people informed ʿUthmān about the Prophet ﷺ although perhaps none of them had ever even seen him. The narration adds that Aʿyan, son of the wife of al-Farazdaq, called out calling him Naʿthal and accusing him of altering, that ʿUthmān asked who he was and was told Aʿyan, that ʿUthmān retorted against him, that the people rushed at Aʿyan, and that a man of Banū Layth held them back until he brought Aʿyan into his house.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبادہ بن ازہر ابورواع بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! ہم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ سفر اور حضر میں ساتھ رہے ہیں ، اور آپ ﷺ ہمارے بیماروں کی عیادت کرتے تھے اور آپ ﷺ ہمارے جنازوں میں شریک ہوتے تھے ، ہمارے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے تھے ، تھوڑے اور زیادہ ہر معاملے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے ، اور کچھ لوگ مجھے آپ ﷺ کے بارے میں بتا رہے ہیں ، حالانکہ انہوں نے تو کبھی آپ ﷺ کی زیارت بھی نہیں کی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ فرزدق کی بیوی کے بیٹے اعین نے : اُن سے کہا : اے نعثل ! تم نے تبدیلی کر دی ہے ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ اعین ہے ، اس نے کہا : بلکہ تم غلام ہو ، راوی کہتے ہیں : تو لوگ اچھل کر اعین کی طرف گئے ، راوی بیان کرتے ہیں : بنو لیث سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لوگوں کو پیچھے کرنا شروع کیا ، یہاں تک کہ اعین کو اُس کے گھر میں داخل کیا ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عباد بن ظاہر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12000

Majma al-Zawaid #12000

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ: بَلَغَ عُثْمَانَ أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا، فَتَلَقَّاهُمْ فِي قَرْيَةٍ لَهُ خَارِجَ الْمَدِينَةِ، وَكَرِهَ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِ - أَوْ كَمَا قَالَ - فَلَمَّا عَلِمُوا بِمَكَانِهِ أَقْبَلُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا: ادْعُ لَنَا بِالْمُصْحَفِ، فَدَعَا - يَعْنِي بِهِ - فَقَالَ: افْتَحْ، فَقَرَأَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ: "" {قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ} [يونس: 59] ""، فَقَالُوا: أَحِمَى اللَّهِ أُذِنَ لَكَ بِهِ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرِي؟ فَقَالَ: امْضِ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، وَأَمَّا الْحِمَى فَإِنَّ عُمَرَ حَمَى الْحِمَى لِإِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا وُلِّيتُ فَعَلْتُ الَّذِي فَعَلَ، وَمَا زِدْتُ عَلَى مَا زَادَ، وَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَالَ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ كَذَا وَكَذَا سَنَةً. قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ جَعَلَ يَقُولُ: امْضِهِ، نَزَلَتْ فِي كَذَا كَذَا. ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ عَرَفَهَا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهَا مَخْرَجٌ، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ: مَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ لَا يَأْخُذَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْعَطَاءَ، فَإِنَّ هَذَا الْمَالَ لِلَّذِي قَاتَلَ عَلَيْهِ، وَلِهَذِهِ الشُّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَرَضِيَ وَرَضُوا. قَالَ: وَأَخَذُوا عَلَيْهِ. قَالَ: وَكَتَبُوا عَلَيْهِ كِتَابًا، وَأَخَذَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَشُقُّوا عَصًا، وَلَا يُفَارِقُوا جَمَاعَةً. قَالَ: فَرَضِيَ، وَرَضُوا. قَالَ: فَأَقْبَلُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي مَا رَأَيْتُ وَفْدًا هُمْ خَيْرٌ مِنْ هَذَا الْوَفْدِ، أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ فَلْيَلْحَقْ بِزَرْعِهِ وَمَنْ كَانَ لَهُ ضَرْعٌ فَلْيَحْتَلِبْهُ، أَلَا إِنَّهُ لَا مَالَ لَكُمْ عِنْدَنَا، إِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ وَلِهَذِهِ الشُّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَغَضِبَ النَّاسُ وَقَالُوا: هَذَا مَكْرُ بَنِي أُمَيَّةَ. وَرَجَعَ الْوَفْدُ رَاضِينَ، فَلَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ إِذَا رَاكِبٌ يَتَعَرَّضُ لَهُمْ ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ وَيَعُودُ إِلَيْهِمْ وَيَسُبُّهُمْ، فَأَخَذُوهُ فَقَالُوا: مَا شَأْنُكَ؟ إِنَّ لَكَ لَشَأْنًا؟ قَالَ: أَنَا رَسُولُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ، فَفَتَّشُوهُ فَإِذَا مَعَهُ كِتَابٌ عَلَى لِسَانِ عُثْمَانَ عَلَيْهِ خَاتَمُهُ: أَنْ يَصْلُبَهُمْ، أَوْ يَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، أَوْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، قَالَ: فَرَجَعُوا وَقَالُوا: قَدْ نَقَضَ الْعَهْدَ وَأَحَلَّ اللَّهُ دَمَهُ. فَقَدِمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا: أَلَمْ تَرَ إِلَى عَدُوِّ اللَّهِ كَتَبَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا؟ قُمْ مَعَنَا إِلَيْهِ. فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَقُومُ مَعَكُمْ. قَالُوا: فَلِمَ كَتَبَ إِلَيْنَا؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا كَتَبَ إِلَيْكُمْ كِتَابًا قَطُّ. فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ: أَلِهَذَا تُقَاتِلُونَ أَمْ لِهَذَا تَغْضَبُونَ؟ وَخَرَجَ عَلِيٌّ فَنَزَلَ قَرْيَةً خَارِجَ الْمَدِينَةِ، فَأَتَوْا عُثْمَانَ فَقَالُوا: كَتَبْتَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ أَنْ تُقِيمُوا شَاهِدَيْنِ، أَوْ يَمِينٌ بِاللَّهِ مَا كَتَبْتُ وَلَا أَمْلَيْتُ وَلَا عَلِمْتُ، وَقَدْ تَعْلَمُونَ الْكِتَابَ يُكْتَبُ عَلَى لِسَانِ الرَّجُلِ وَقَدْ يُنْقَشُ الْخَاتَمُ عَلَى الْخَاتَمِ. قَالَ: فَحَصَرُوهُ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَمَا أَسْمَعُ أَحَدًا رَدَّ عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَرُدَّ رَجُلٌ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، أَعَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي أَسْتَعْذِبُ بِهَا، فَجَعَلْتُ رِشَائِي فِيهَا كَرِشَاءِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قِيلَ: نَعَمْ. قَالَ: فَعَلَامَ تَمْنَعُونِي أَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: أَنْشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ، فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي فَزِدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ أَحَدًا مُنِعَ فِيهِ الصَّلَاةَ قَبْلِي؟ ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَأَرَاهُ ذَكَرَ كِتَابَتَهُ الْمُفَصَّلَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَفَشَا الْخَبَرُ، وَقِيلَ: مَهْلًا عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ. قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd, the freedman of Abū Usayd, reports that when ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, learned that a delegation of the people of Egypt was approaching, he met them in one of his villages outside Madīnah, disliking that they enter upon him directly. They asked for the Muṣḥaf, so he had it brought and read until reaching the verse commanding the Prophet ﷺ to ask what they thought of declaring part of Allah's provision lawful or unlawful and whether Allah had permitted them or they fabricated against Allah. They challenged him whether the preserve was by Allah's permission or a fabrication against Allah. He told them to proceed, explained the verse's occasion, and said ʿUmar had reserved the preserve for charity camels and that upon succeeding him he had done exactly the same without addition. They questioned him on further matters, some of which he answered in that manner and some of which he acknowledged without excuse, saying he sought Allah's forgiveness. They then demanded that Medinans take no stipends, since the wealth belonged to those who fought for it and to the elders among the Companions of Muḥammad ﷺ. He agreed, they agreed, undertakings were taken and written that they would neither split the staff nor leave the community, and they returned with him to Madīnah. There he praised Allah and declared he had never seen a better delegation, then told cultivators to return to their crops and herdsmen to their milking, for no funds remained with him except for those who fought and for those elders. The people grew angry and called it an Umayyad trick, while the delegation left satisfied. On the road a rider kept approaching, leaving, returning, and reviling them until they seized him. Claiming to be the Commander of the Faithful's messenger to his governor in Egypt, he was searched and found carrying a letter in ʿUthmān's name bearing his seal, ordering their crucifixion, beheading, or amputation. They returned declaring the covenant broken and his blood lawful, came to Madīnah, asked ʿAlī to rise with them against the enemy of Allah, but ʿAlī swore he would not and swore ʿUthmān had never written to them. They looked at one another in confusion while ʿAlī withdrew to a village outside Madīnah. They confronted ʿUthmān, who offered them two alternatives: produce two witnesses, or accept his oath by Allah that he neither wrote, dictated, nor knew of it, since letters are forged in men's names and seals imitated. They besieged him. Looking down one day he greeted them and barely anyone answered even inwardly. He adjured them whether they knew he had bought the well of Rūmah with his own wealth for sweet water yet shared his rope as any Muslim's, and they said yes. He asked why they then barred him from its water until he broke fast on seawater. He adjured them whether they knew he had enlarged the mosque with his own wealth, and they said yes. He asked whether anyone before him had ever been barred from praying in it. He then mentioned further things the Messenger of Allah ﷺ had said to him, including apparently his handwriting of the detailed chapters, until the report spread and men said to hold back from the Commander of the Faithful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسعید ، جو حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ’’ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی کہ اہل مصر کا ایک وفد آیا ہے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے باہر ایک بستی میں ان لوگوں سے ملے ، انہیں یہ بات ناپسند تھی کہ لوگ ان کے پاس آئیں ، یا جس طرح بھی انہوں نے بیان کیا ، جب ان لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں پتہ چلا ، تو وہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : آپ ہمارے لئے مصحف منگوائیں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ منگوایا ، انہوں نے کہا : آپ اسے کھولیں ، انہوں نے اسے پڑھنا شروع کیا ، یہاں تک کہ آپ اس مقام پر پہنچے : ’’ تم فرما دو ! تم لوگ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ کہ جو رزق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نازل کیا ہے اس میں سے کچھ کو تم نے ( اپنی طرف سے ) حرام یا حلال بنا لیا ہے ، تم فرما دو ! کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ( ایسا کرنے کی ) اجازت دی ؟ یا پھر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو ؟“۔ اُن لوگوں نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ کی چراگاہ کے بارے میں آپ کو اجازت دی گئی ہے ؟ یا آپ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : تم جاری رکھو ! یہ فلاں فلاں صورت حال کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جہاں تک چراگاہ کا تعلق ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چراگاہ مقرر کیا ہے ، جو صدقہ کے اونٹوں کے لئے مخصوص ہے ، جب میں نگران بنا تو میں نے بھی وہی کام کیا ، جو انہوں نے کیا تھا ، اور انہوں نے جو کیا تھا ، میں نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا ، راوی کہتے ہیں : ان کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا تھا : میں اس وقت اتنے اتنے سال کا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا ، جن کے بارے میں وہ یہ کہتے رہے : تم اس کو جاری رکھو ! یہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ پھر ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا ، جن سے وہ واقف تھے ، اور ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا ، تو انہوں نے کہا : میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، پھر انہوں نے فرمایا : تم لوگ کیا چاہتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ سرکاری عطیات وصول نہ کریں ، کیونکہ یہ مال اس شخص کو ملنا چاہیے ، جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ان بزرگوں کو ملنا چاہیے ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس بات پر راضی ہو گئے اور وہ لوگ بھی اس بات پر راضی ہو گئے ، راوی کہتے ہیں : ان لوگوں نے اس پر عہد لے لیا اور اس بارے میں تحریر لے لی اور اس بات پر بھی عہد لیا کہ وہ لوگ عصا کو نہیں توڑیں گے اور جماعت سے الگ نہیں ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس بات پر راضی ہو گئے اور وہ لوگ بھی راضی ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ آئے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے ایسا کوئی وفد نہیں دیکھا ، جو اس وفد سے زیادہ بہتر ہو ، جس شخص کی کھیتی باڑی ہو ، وہ اپنی کھیتی باڑی میں مشغول ہو جائے ، جس شخص کے پاس جانور ہوں ، وہ اُن کا دودھ دوہنے لگے ، کیونکہ اب تم لوگوں کو دینے کے لئے ہمارے پاس مال نہیں ہے ، یہ مال اب اُس شخص کو ملے گا ، جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو ، اور یہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب میں سے بزرگوں کو ملے گا ، راوی کہتے ہیں : تو لوگ غصے میں آ گئے اور انہوں نے کہا : یہ بنو امیہ کی طرف سے آنے والا فریب ہے ، وفد کے لوگ راضی ہو کر واپس چلے گئے ، جب وہ لوگ راستے میں کسی مقام پر پہنچے ، تو اسی دوران ایک سوار ان کے سامنے آیا ، پھر وہ سوار ان سے جدا ہو گیا ، پھر وہ ان کے پاس آیا اور انہیں برا کہنے لگا ، ان لوگوں نے اسے پکڑ لیا ، ان لوگوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ تمہارا کوئی خاص معاملہ لگتا ہے ، اس نے کہا : میں امیرالمؤمنین کا قاصد ہوں ، جو مصر میں ان کے گورنر کے پاس جا رہا ہے ، ان لوگوں نے اس کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک تحریر موجود تھی ، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھی اور اُس پر ان کی مہر بھی لگی ہوئی تھی ، کہ ان لوگوں کو مصلوب کر دیا جائے ، یا ان کی گردنیں اڑا دی جائیں ، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ لوگ واپس آ گئے اور انہوں نے کہا : انہوں نے عہد توڑ دیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے خون کو حلال قرار دیا ہے ، وہ لوگ مدینہ منورہ آئے ، وہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان لوگوں نے کہا : کیا آپ نے اللہ کے دشمن کو نہیں دیکھا ؟ انہوں نے ہمارے بارے میں اس اس طرح کی تحریر لکھوائی ہے ، آپ اُٹھ کر ہمارے ساتھ ان کی طرف جائیں ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ اٹھ کر نہیں جاؤں گا ، ان لوگوں نے کہا : پھر انہوں نے کیوں ہماری طرف خط لکھا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! انہوں نے تمہاری طرف کبھی کوئی خط نہیں لکھا ، پھر وہ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ، پھر ان میں سے کسی نے کہا : کیا ان کی خاطر تم لوگ جنگ کرنا چاہ رہے ہو ؟ کیا ان کی خاطر تم غصہ کر رہے ہو ؟ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے اور مدینہ منورہ کے باہر موجود ایک بستی میں آ کے ٹھہر گئے ، وہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : آپ نے ہمارے بارے میں اس اس طرح کا خط لکھا ہے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو صورتیں ہیں ، یا تو یہ ہے کہ تم لوگ دو گواہ پیش کرو ، یا پھر یہ ہے کہ میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیتا ہوں ، کہ نہ میں نے اسے لکھا ہے ، نہ املاء کروایا ہے اور نہ ہی مجھے اس بارے میں علم ہے ، اور تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کوئی شخص دوسرے کی طرف سے کچھ بھی لکھ سکتا ہے ، اور انگوٹھی کے نقش کی نقل بھی تیار کی جا سکتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا ، ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور فرمایا : السلام علیکم ! راوی کہتے ہیں : میں نے کسی کو ان کے سلام کا جواب دیتے ہوئے نہیں سنا ، البتہ کسی نے دل میں جواب دیدیا ہو تو اس کا معاملہ مختلف ہو گا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ میں نے اپنے مال میں سے بئر رومہ کو خریدا تھا ، تاکہ اس کے ذریعے میٹھا پانی حاصل کیا جائے اور میں نے اس کنویں کے بارے میں اپنے ڈول کو مسلمانوں کے کسی بھی فرد کے ڈول کی مانند قرار دیدیا تھا ، انہیں جواب دیا گیا : جی ہاں ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم مجھے اسی کنویں کا پانی پینے سے کیوں روک رہے ہو ؟ مجھے کھارے پانی کے ذریعے افطاری کرنا پڑی ہے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ میں نے اپنے مال میں سے اتنی اتنی رقم کے عوض میں ، مسجد میں توسیع کروائی تھی ، لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مجھ سے پہلے کسی کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہو ؟ پھر انہوں نے کچھ اور اُمور کا ذکر کیا ، جو نبی اکرم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمائے تھے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات ذکر کی تھی کہ انہوں نے مفصل سورتوں کی کتابت اپنے ہاتھ کے ذریعے کی تھی ، راوی کہتے ہیں : تو اسی دوران ممانعت پھیل گئی اور یہ کہا گیا : امیرالمؤمنین سے رک جاؤ ! ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوسعید کا معاملہ مختلف ہے جو حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12001

Majma al-Zawaid #12001

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ الْعَامَّةِ، وَقَدْ نَزَلَ بِكَ مَا تَرَى، وَأَنَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ خِصَالًا ثَلَاثًا، فَاخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ، إِمَّا أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَهُمْ، فَإِنَّ مَعَكَ عَدَدًا وَقُوَّةً، وَأَنْتَ عَلَى الْحَقِّ، وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ، وَإِمَّا أَنْ تَخْرِقَ لَكَ بَابًا سِوَى الْبَابِ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ فَتَقْعُدَ عَلَى رَوَاحِلِكَ فَتَلْحَقَ بِمَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّوكَ وَأَنْتَ بِهَا، وَإِمَّا أَنْ تَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ. فَقَالَ عُثْمَانُ: أَمَّا أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَهُمْ فَلَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ خَلَفَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أُمَّتِهِ بِسَفْكِ الدِّمَاءِ، وَأَمَّا أَنْ أَخْرُجَ إِلَى مَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّونِي بِهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يُلْحِدُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ يَكُونُ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ» "" فَلَنْ أَكُونَ أَنَا إِيَّاهُ، وَأَمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ فَلَنْ أُفَارِقَ دَارَ هِجْرَتِي وَمُجَاوَرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنَ الْمُغِيرَةِ. قُلْتُ: وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي فَضْلِ مَكَّةَ فِي الْحَجِّ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughīrah ibn Shuʿbah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he entered upon ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, while he was besieged and told him that as leader of the people in the plight he saw, he offered him three options to choose from: to go out and fight them with the numbers and strength at his side while upon truth against their falsehood; to open a different door from the one they watched, mount his camels, and join Makkah, where they would never violate him; or to join Shām with its people and Muʿāwiyah among them. ʿUthmān replied that going out to fight would make him the first after the Messenger of Allah ﷺ to succeed him in his community through bloodshed; that going to Makkah was impossible for the reason he had heard from the Prophet ﷺ; and that he would never abandon his migration abode and neighbourhood of the Messenger of Allah ﷺ for Shām. > **"A man of Quraysh will deviate in Makkah, and upon him will be half the punishment of the world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب انہیں محصور کیا جا چکا تھا اور انہوں نے یہ کہا : آپ حکمران ہیں ، آپ کو جو صورت حال درپیش ہے ، وہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں ، میں آپ کے سامنے تین پیشکشیں رکھتا ہوں ، آپ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیں ، یا تو آپ باہر نکلیں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کریں ، آپ کے ساتھ ( لوگوں کی ) تعداد اور قوت ہے ، اور آپ حق پر ہیں اور یہ لوگ ( یعنی باغی ) باطل پر ہیں ، یا پھر یہ ہے کہ یہ لوگ جس دروازے کے سامنے موجود ہیں ، آپ اس کے علاوہ کوئی اور دروازہ بنوائیں اور اپنی سواری پر سوار ہو کر مکہ تشریف لے جائیں ، جب آپ مکہ میں موجود ہوں گے ، تو یہ ( باغی ) آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ، یا پھر آپ شام تشریف لے جائیں ، کیونکہ وہاں اہل شام ہیں اور ان میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں ، تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ اگر تو میں نکل کر ان کے ساتھ جنگ کرتا ہوں ، تو میں ایسا پہلا فرد نہیں بننا چاہوں گا ، جس نے نبی اکرم ﷺ کے بعد آپ کی امت میں خون بہانے کا آغاز کیا ، جہاں تک میرے نکل کر مکہ جانے کا تعلق ہے کہ یہ لوگ وہاں مجھے نقصان نہیں پہنچائیں گے ، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مکہ میں الحاد کرے گا اور اسے تمام جہان کے عذاب کا نصف عذاب ہو گا ۔‘‘ تو میں وہ فرد نہیں بننا چاہتا ، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں شام چلا جاؤں ، وہاں اہل شام ہیں اور ان میں معاویہ موجود ہے ، تو میں ہجرت کے مقام اور نبی اکرم ﷺ کے پڑوس سے جدا نہیں ہونا چاہتا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف محمد بن عبدالملک بن مروان کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے یہ بات نہیں پائی کہ اس نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو کتاب الحج میں مکہ کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

12002

Majma al-Zawaid #12002

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَسَجَّيْنَاهُ بِثَوْبٍ، وَقُمْتُ أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ ضَوْضَاءَ فَانْصَرَفْتُ، فَإِذَا أَنَا بِهِ يَتَحَرَّكُ، فَقَالَ: أَجْلَدُ الْقَوْمِ أَوْسَطُهُمْ عَبْدُ اللَّهِ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ الْقَوِيُّ فِي جِسْمِهِ، الْقَوِيُّ فِي أَمْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ الْعَفِيفُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي يَعْفُو عَنْ ذُنُوبٍ كَثِيرَةٍ، خَلَتْ لَيْلَتَانِ وَبَقِيَتْ أَرْبَعٌ، وَاخْتَلَفَ النَّاسُ، وَلَا نِظَامَ لَهُمْ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقْبِلُوا عَلَى إِمَامِكُمْ، وَاسْمَعُوا، وَأَطِيعُوا، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ رَوَاحَةَ، ثُمَّ قَالَ: وَمَا فَعَلَ زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ؟ - يَعْنِي أَبَاهُ - ثُمَّ قَالَ: أَخَذْتُ بِئْرَ أَرِيسَ ظُلْمًا، ثُمَّ هَدَأَ الصَّوْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that when a man of theirs named Khārijah ibn Zayd died and was shrouded, he stood to pray, heard a stir, finished, and found the body moving and speaking. The voice described the strongest and most just as Allah's servant ʿUmar, Commander of the Faithful, strong in body and strong in Allah's cause, and ʿUthmān ibn ʿAffān as the chaste, abstinent Commander who pardoned many sins; said two nights had passed and four remained while the people were divided without order; urged the people to turn to their leader, hear, and obey, announcing the arrival of the Messenger of Allah ﷺ and Ibn Rawāḥah; asked what had become of Zayd ibn Khārijah, his own father; confessed to having seized the well of Arīs unjustly; then the voice quieted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، جس کا نام خارجہ بن زید تھا ، ہم نے اسے کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا ، میں اُٹھ کر نماز ادا کرنے لگا ، اسی دوران مجھے آہٹ سی محسوس ہوئی ، میں نے نماز ختم کی ، جب میں خارجہ بن زید کی میت کے پاس آیا ، تو وہ حرکت کر رہی تھی ، اُس نے یہ کہا : لوگوں میں سب سے زیادہ مضبوط وہ تھے ، جو درمیانے تھے ( یعنی عدل کرنے والے تھے ) اور وہ اللہ کے بندے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، جو امیرالمؤمنین تھے ، اپنے جسم کے اعتبار سے قوی ، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے کے بارے میں قوی تھے ، جبکہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ امیرالمؤمنین ہیں ، وہ پاک دامن ہیں اور انہوں نے پاکدامنی کو اختیار کیا ہے ، اور انہوں نے بہت سی چیزوں سے درگزر کیا ہے ، دو راتیں گزر گئی ہیں اور چار باقی رہ گئی ہیں ، لوگوں کے درمیان اختلاف ہے ، ان کا کوئی نظام نہیں ہے ، اے لوگو ! اپنے امام کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو ، یہ اللہ کے رسول ﷺ اور حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں ، پھر انہوں نے کہا : زید بن خارجہ کا کیا معاملہ ہوا ؟ یعنی ان کے والد نے کہا : تو انہوں نے کہا : میں نے ظلم کے طور پر ’’ بئر اریس ‘‘ کو حاصل کیا تھا ، اُس کے بعد ان کی آواز پست ہو گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس کے طرق ، کتاب الخلافہ میں گزر چکے ہیں ۔

12003

Majma al-Zawaid #12003

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَ: خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لَأَبِيهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ: إِنَّ عُثْمَانَ قَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ، فَلَوْ كَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى يُرَفَّهَ عَنْهُ. قَالَ: وَطَلْحَةُ يَغْسِلُ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسِهِ فَلَمْ يُجِبْهَا. فَأَدْخَلَتْ يَدَيْهَا فِي كُمِّ دِرْعِهَا فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَيْهَا وَقَالَتْ: أَسْأَلُكَ بِمَا حَمَلْتُكَ وَأَرْضَعْتُكَ إِلَّا فَعَلْتَ. فَقَامَ وَلَوَى شِقَّ شَعْرِ رَأْسِهِ حَتَّى عَقَدَهُ وَهُوَ مَغْسُولٌ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى عَلِيًّا وَهُوَ جَالِسٌ فِي جَنْبِ دَارِهِ، فَقَالَ طَلْحَةُ وَمَعَهُ أُمُّهُ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ: لَوْ رَفَعْتَ النَّاسَ عَنْ هَذَا فَقَدَ اشْتَدَّ حَصْرُهُ. قَالَ: فَنَقَرَ بِقَدَحٍ فِي يَدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا يَكْرَهُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ هَذَا ضَعِيفٌ لِأَنَّ عَلِيًّا لَمْ يَكُنْ بِالْمَدِينَةِ حِينَ حُصِرَ عُثْمَانُ وَلَا شَهِدَ قَتْلَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Rāfiʿ reports from his mother that al-Ṣaʿbah bint al-Ḥaḍramī urged her son Ṭalḥah ibn ʿUbayd Allāh, raḍiya Allāhu ʿanhu, to intervene since ʿUthmān's siege had grown severe. Ṭalḥah, then washing one side of his head, did not answer until his mother thrust her hands through her garment, bared her breasts, and adjured him by bearing and nursing him. He then rose, twisted his washed hair into a knot, went out with his mother and the narrator's mother until he reached ʿAlī, who sat beside his house, and asked him to relieve the pressure upon ʿUthmān. ʿAlī tapped three times with a cup in his hand, raised his head, and swore by Allah that he liked nothing for ʿUthmān which ʿUthmān himself disliked.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن رافع اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ صعبہ بنت حضرمی نکلیں ( یہ راوی خاتون کی دادی ہیں ) ہم نے اس خاتون کو اپنے والد حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، اگر آپ اس بارے میں بات چیت کریں تاکہ یہ چیز ختم ہو جائے تو مناسب ہو گا ، راوی کہتے ہیں : حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے سر کے دو حصوں میں سے ایک حصہ دھو چکے تھے ، انہوں نے اس خاتون کو کوئی جواب نہیں دیا ، تو اس خاتون نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی آستین میں داخل کئے اور اپنی چھاتی نکال لی اور بولیں : میں نے تمہارا حمل برداشت کیا ، تمہیں دودھ پلایا ، اس کا واسطہ دے کر میں تمہیں یہ کہتی ہوں کہ تم ایسا کرو ، تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، انہوں نے اپنے سر کے ایک طرف کے دھلے ہوئے بالوں کو لپیٹا اور ان کو گرہ لگا لی ، پھر وہ نکلے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جو اپنے گھر کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ، اُن کے ساتھ ان کی والدہ تھیں اور ساتھ عبداللہ بن رافع کی والدہ ( یعنی راوی خاتون ) تھیں ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر آپ ان صاحب سے لوگوں کو ہٹا لیں ، تو یہ مناسب ہو گا کیونکہ ان کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں موجود پیالے کو تین مرتبہ انگلی سے مارا ، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور بولے : اللہ کی قسم ! میں ان صاحب کے حوالے سے ایسی کسی چیز کو پسند نہیں کرتا ، جسے یہ ناپسند کرتے ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے ، کیونکہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تھا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت مدینہ میں موجود نہیں تھے اور ان کی شہادت کے موقع پر وہاں موجود نہیں تھے ۔

12004

Majma al-Zawaid #12004

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَعْبًا رَكِبَا سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: يَا كَعْبُ، أَمَا تَجِدُ سَفِينَتَنَا هَذِهِ فِي التَّوْرَاةِ كَيْفَ تَجْرِي؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَجِدُ فِيهَا رَجُلًا أَشْقَى الْفِتْيَةِ مِنْ قُرَيْشٍ يَنْزُو فِي الْفِتْيَةِ نَزْوَ الْحِمَارِ فَاتَّقِ، لَا تَكُنْ أَنْتَ هُوَ. قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: فَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ هُوَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Sīrīn reports that Muḥammad ibn Abī Ḥudhayfah ibn ʿUtbah ibn Rabīʿah and Kaʿb boarded a ship at sea, and Muḥammad asked Kaʿb whether he found their ship's sailing described in the Torah. Kaʿb replied that he did not, but that he found therein a most wretched Qurayshī youth who would plunge into strife like a leaping donkey, warning Muḥammad to beware lest he be that man. Ibn Sīrīn adds that people later claimed he indeed proved to be that man.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : محمد بن ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ اور کعب ، یہ دونوں حضرات سمندر میں کشتی پر سوار ہو کر جا رہے تھے ، تو محمد بن ابوحذیفہ نے کہا : اے کعب ! کیا تمہیں ہماری اس کشتی کا ذکر تورات میں ملتا ہے ؟ کہ یہ کیسے چلتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! لیکن مجھے تورات میں ایک ایسے شخص کا ذکر ملتا ہے ، جس کا تعلق قریش سے ہو گا اور وہ سب سے زیادہ بدنصیب نوجوان ہو گا ، اور وہ فتنے میں یوں کود پڑے گا ، جس طرح گدھا کودتا ہے ، تم اس بات سے بچنے کی کوشش کرنا ، کہ کہیں وہ تم نہ ہو ۔ ابن سیرین کہتے ہیں : لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ پھر وہی شخص وہ فرد ثابت ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12005

Majma al-Zawaid #12005

وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَا: دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَهُوَ آخِذٌ بِتَلَابِيبِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا لَكَ، مَا لَكَ، وَلِابْنِ أَخِيكَ؟ قَالَ: زَعَمَ أَنَّهُ لَا يَكْفُرُ عُثْمَانُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: تُؤْمِنُ بِمَا يَكْفُرُ بِهِ عُثْمَانُ، وَتَكْفُرُ بِمَا يُؤْمِنُ بِهِ عُثْمَانُ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَأَرْسِلِ ابْنَ أَخِيكَ، فَلَمَّا خَرَجَ الْحَسَنُ قَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا عَمَّارُ، أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ آمَنَ بِاللَّهِ وَكَفَرَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى؟ قَالَ: بَلَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Fāṭimah bint ʿAlī and ʿAbd Allāh ibn Jaʿfar, raḍiya Allāhu ʿanhum, report that ʿAlī ibn Abī Ṭālib entered upon ʿAmmār ibn Yāsir while ʿAmmār held al-Ḥasan ibn ʿAlī by the collar. ʿAlī asked what was between him and his nephew, and ʿAmmār said al-Ḥasan claimed ʿUthmān had not disbelieved. ʿAlī asked whether ʿAmmār would affirm what ʿUthmān denied or deny what ʿUthmān affirmed, and ʿAmmār said no, so ʿAlī told him to release his nephew. After al-Ḥasan left, ʿAlī asked ʿAmmār whether he knew that ʿUthmān had affirmed Allah and denied al-Lāt and al-ʿUzzā, and ʿAmmār said yes indeed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گریبان کو پکڑا ہوا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے دریافت کیا : آپ کا اور آپ کے بھتیجے کا کیا معاملہ ہے ؟ تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ کہتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کفر کا ارتکاب نہیں کیا ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : کیا تم اس چیز پر ایمان رکھتے ہو ؟ جس کا انکار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا ہو ، اور کیا تم اس چیز کا انکار کر سکتے ہو ، جس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایمان لائے ہوں ؟ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم اپنے بھتیجے کو چھوڑ دو ! جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ چلے گئے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا : اے عمار ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انہوں نے لات اور عزیٰ کا انکار کیا تھا ؟ تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی میں یہ بات جانتا ہوں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے اور وہ متروک ہے ۔

12006

Majma al-Zawaid #12006

وَعَنْ وَثَّابٍ، وَكَانَ مِمَّنْ أَدْرَكَهُ عِتْقُ عُثْمَانَ، وَكَانَ يَقُومُ بَيْنَ يَدَيْ عُثْمَانَ، قَالَ: بَعَثَنِي عُثْمَانُ فَدَعَوْتُ لَهُ الْأَشْتَرَ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَأَظُنُّهُ قَالَ: - فَطَرَحْتُ لَهُ وِسَادَةً، وَلِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وِسَادَةً، قَالَ: يَا أَشْتَرُ، مَا تُرِيدُ النَّاسُ مِنِّي؟ قَالَ: ثَلَاثًا مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ. قَالَ: مَا هُنَّ؟ قَالَ: يُخَيِّرُونَكَ بَيْنَ أَنْ تَدَعَ لَهُمْ أَمْرَهُمْ فَتَقُولَ: هَذَا أَمْرُكُمْ فَاخْتَارُوا لَهُ مَنْ شِئْتُمْ، وَبَيْنَ أَنْ تُقِصَّ مِنْ نَفْسِكَ، فِإِنْ أَبَيْتَ فَإِنَّ الْقَوْمَ قَاتِلُوكَ. قَالَ: مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ؟ قَالَ: مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ. قَالَ: أَمَّا أَنْ أَخْلَعَ لَهُمْ أَمْرَهُمْ فَمَا كُنْتُ لِأَخْلَعَ سِرْبَالًا سُرْبِلْتُهُ. قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ: قَالَ: وَاللَّهِ لَأَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْلَعَ أَمْرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْزُو بِبَعْضِهَا عَلَى بَعْضٍ - وَهَذَا أَشْبَهُ بِكَلَامِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. وَأَمَّا أَنْ أُقِصَّ مِنْ نَفْسِي، فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ صَاحِبَايَ كَانَا يُعَاقِبَانِ، وَمَا يَقُومُ بَدَنِي لِلْقِصَاصِ، وَأَمَّا أَنْ يَقْتُلُونِي، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُونِي لَا تُحَابَوْنَ بَعْدِي أَبَدًا، وَلَا تُقَاتِلُونَ بَعْدِي عَدُوًّا جَمِيعًا أَبَدًا. فَقَامَ الْأَشْتَرُ فَانْطَلَقَ، فَمَكَثْنَا فَقُلْنَا: لَعَلَّ النَّاسَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ ذِئْبٌ فَاطَّلَعَ مِنْ بَابٍ ثُمَّ رَجَعَ، ثُمَّ جَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى عُثْمَانَ، فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ بِهَا، وَقَالَ بِهَا، حَتَّى سَمِعْتُ وَقْعَ أَضْرَاسِهِ، فَقَالَ: مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ؟ مَا أَغْنَى عَنْكَ ابْنُ عَامِرٍ؟ مَا أَغْنَى عَنْكَ كُتُبُكَ؟ قَالَ: أَرْسِلْ لِحْيَتِي يَا ابْنَ أَخِي [أَرْسِلْ لِحْيَتِي يَا ابْنَ أَخِي]. قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ اسْتَدْعَى رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ بِعَيْنِهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ حَتَّى وَجَأَهُ بِهِ فِي رَأْسِهِ. قُلْتُ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: تَعَاوَنُوا وَاللَّهِ عَلَيْهِ حَتَّى قَتَلُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ وَثَّابٍ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Waththāb, who had been overtaken by ʿUthmān's emancipation and used to stand before him, reports that ʿUthmān sent him to summon al-Ashtar. Cushions were laid for al-Ashtar and for the Commander of the Faithful. ʿUthmān asked what the people wanted from him, and al-Ashtar said three unavoidable alternatives: that ʿUthmān leave their rule to them and let them choose whom they wished; that he submit himself to retaliation; or that if he refused, they would kill him. ʿUthmān asked whether any alternative was unavoidable, and al-Ashtar confirmed it. ʿUthmān replied that he would never strip off a garment with which he had been clothed, adding that by Allah to be brought forward and beheaded was dearer to him than deposing himself over the community of Muḥammad ﷺ and setting them upon one another. As for retaliation, he swore he knew his two predecessors used to inflict punishment but his own body could not bear retaliation. As for being killed, he swore that if they killed him they would never love one another after him nor ever fight an enemy united. Al-Ashtar then rose and left. After waiting and hoping the people might relent, a wolf like man peered through a door and withdrew, then Muḥammad ibn Abī Bakr arrived with thirteen men until they reached ʿUthmān. He seized ʿUthmān's beard, shook and struck it until the narrator heard his molars clash, taunting him over what Muʿāwiyah, Ibn ʿĀmir, and his letters had availed him. ʿUthmān twice told him to release his beard, calling him nephew. The narrator then saw ʿUthmān call a specific man who rose with a broad arrowhead and stabbed him in the head. Asked what happened next, he said they assisted one another against him until, by Allah, they killed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وثاب بیان کرتے ہیں : یہ ان لوگوں میں سے ایک تھے ، جنہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آزاد کیا تھا اور یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑے ہوا کرتے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بھیجا ، میں اُن کے لئے اشتر کو بلا کے لایا ، ابن عون نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے ان کے لئے ایک تکیہ رکھا اور امیرالمؤمنین کے لئے ایک تکیہ رکھا ، امیرالمومنین نے فرمایا : اے اشتر ! یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : تین چیزیں ہیں ، ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ، آپ کے لئے ضروری ہو گا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا : لوگ آپ کو یہ اختیار دے رہے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو آپ ان کا معاملہ چھوڑ دیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ رہی تمہاری حکومت ، تم اس کے لئے جسے چاہو اختیار کر لو ، یا پھر یہ ہے کہ آپ اپنی طرف سے قصاص دیں ، اگر آپ اس کا انکار کرتے ہیں ، تو لوگ آپ کو شہید کر دیں گے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ان میں سے کسی ایک کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ہے ؟ اشتر نے جواب دیا : ان میں سے کسی ایک کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ہے ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں ان کے لئے حکومت سے الگ ہو جاؤں ، تو میں ایک ایسے لباس کو انہیں اتاروں گا ، جو مجھے پہنایا گیا ہے ، راوی کہتے ہیں : یہاں حسن نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر مجھے آگے کر کے میری گردن اڑا دی جائے ، تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں حضرت محمد ﷺ کی امت کی حکومت سے لاتعلقی اختیار کروں ، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں ، راوی کہتے ہیں : یہ کلمات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کلام سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔ ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں اپنی ذات کے حوالے سے بدلہ دوں ، تو اللہ کی قسم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ میرے دونوں متعلقہ افراد کو سزا دی گئی اور میرا جسم قصاص کے لائق نہیں ہے ( یعنی مجھ پر قصاص عائد نہیں ہوتا ہے ) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے ، تو اللہ تعالیٰ کی قسم ! اگر تم لوگ مجھے قتل کر دو گے ، تو میرے بعد تم کبھی ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھو گے ، اور میرے بعد تم کبھی بھی مل جل کر دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے ، تو اشتر اٹھ کر چلا گیا ، ہم ٹھہرے رہے ، ہم نے کہا : شاید لوگ باز آ جائیں ، اسی دوران ایک شخص آیا ، جو بھیڑیے کی طرح محسوس ہوتا تھا ، اس نے دروازے میں سے جھانک کر دیکھا ، پھر وہ واپس چلا گیا ، پھر محمد بن ابوبکر ، تیرہ افراد سمیت آئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی پکڑی اور انہیں مارنا شروع کیا ، یہاں تک کہ میں نے اُن کی داڑھ ٹوٹنے کی آواز سنی ، محمد بن ابوبکر نے کہا : معاویہ تمہارے کس کام آیا ؟ ابن عامر تمہارے کس کام آیا ؟ تمہارے دستے تمہارے کس کام آئے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم میری داڑھی چھوڑ دو ! اے میرے بھتیجے ! تم میری داڑھی چھوڑ دو ! راوی کہتے ہیں : پھر میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے حاضرین میں سے ایک شخص کو بلایا ، تو وہ ایک تیر لے کر اُٹھ کر ان کی طرف آیا ، اور اس نے وہ تیر ان کے سر میں گھونپ دیا ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : پھر کیا ہوا ؟ تو انہوں نے بتایا : ان لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کی ، اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ( مل جل کر ) شہید کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف وثاب کا معاملہ مختلف ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔

12007

Majma al-Zawaid #12007

وَعَنْ نَائِلَةَ بِنْتِ الْفُرَافِصَةِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ قَالَتْ: نَعَسَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ فَأَغْفَى، فَاسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: لَيَقْتُلَنِّي الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: كَلَّا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ تَبْلُغْ ذَلِكَ، إِنَّ رَعِيَّتَكَ اسْتَعْتَبُوكَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَقَالُوا: تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Nāʾilah bint al-Furāfiṣah, wife of ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Commander of the Faithful ʿUthmān dozed and woke saying the people would surely kill him. When she replied that it would never be so, God willing, since his subjects were only remonstrating with him, he said he had seen the Prophet ﷺ with Abū Bakr and ʿUmar in a dream, telling him of his fast breaking with them that night. > **"You will break fast with us tonight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ نائلہ بنت فرافصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اونگھ آ گئی اور وہ سو گئے ، پھر وہ بیدار ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : لوگ مجھے ضرور قتل کر دیں گے ، میں نے کہا : ہرگز نہیں ! اگر اللہ نے چاہا ، تو اس طرح کی صورت حال پیش نہیں آئے گی ، وہ آپ کی رعایا ہیں جو آپ کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا ہے ، انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ آج رات تم نے افطاری ہمارے پاس کرنی ہے ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ نامی راوی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12008

Majma al-Zawaid #12008

وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: نَامَ عُثْمَانُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَ: وَلَوْلَا أَنْ تَقُولَ النَّاسُ تَمَنَّى عُثْمَانُ أُمْنِيَتَهُ لَحَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا. قَالَ: قُلْنَا: حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ، فَلَسْنَا نَقُولُ كَمَا تَقُولُ النَّاسُ. قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنَامِي هَذَا، فَقَالَ: إِنَّكَ شَاهِدٌ مَعَنَا الْجُمُعَةَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو عَلْقَمَةَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kathīr ibn al-Ṣalt reports that ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, slept on the Friday in which he was killed, and that upon waking he said that were it not for people claiming ʿUthmān was expressing wishes, he would relate a narration. When they urged him to speak, he said he had seen the Messenger of Allah ﷺ in that sleep, telling him of his attending Friday prayer with them. > **"You will attend Friday prayer with us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کثیر بن صلت بیان کرتے ہیں : جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اس دن کا واقعہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سو گئے ، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ، جب وہ بیدار ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مرنے کی آرزو کر رہے ہیں ، تو میں نے تمہیں ایک بات بتانی تھی ، راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا : آپ بیان کیجئے ! اللہ تعالیٰ آپ کو ٹھیک رکھے ، ہم اس طرح نہیں کہیں گے ، جس طرح لوگ کہتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے خواب میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : تم نے جمعہ میں ہمارے ساتھ شریک ہونا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعلقمہ ہے ، جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

12009

Majma al-Zawaid #12009

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُثْمَانَ أَصْبَحَ يُحَدِّثُ النَّاسَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ، أَفْطِرْ عِنْدَنَا، فَأَصْبَحَ صَائِمًا، وَقُتِلَ مِنْ يَوْمِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَرَّمَ وَجْهَهُ -. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, awoke telling the people he had seen the Prophet ﷺ in a dream commanding him to break fast with them, so he began that day fasting and was killed that very day. > **"O ʿUthmān, break fast with us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : میں نے خواب میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے افطاری ہمارے ساتھ کرنی ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اُس دن انہوں نے روزہ رکھ لیا اور اسی دن انہیں شہید کر دیا گیا ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ان کے چہرے کو عزت عطا کرے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12010

Majma al-Zawaid #12010

وَعَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ عَبْدًا مَمْلُوكًا، وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَقَالُوا لِي: اصْبِرْ فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ. ثُمَّ دَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muslim Abū Saʿīd, freedman of ʿUthmān ibn ʿAffān, reports that ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, freed twenty owned slaves, called for trousers which he had never worn in ignorance or Islam, fastened them upon himself, and said he had seen the Messenger of Allah ﷺ with Abū Bakr and ʿUmar the previous night, commanding him to be patient. He then called for a Muṣḥaf, spread it before him, and was killed with it still before him. > **"Be patient, for you will break fast with us tomorrow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام مسلم ابوسعید بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بیس غلاموں کو آزاد کیا ، پھر انہوں نے شلوار منگوائی اور اسے پہن لیا ، حالانکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت یا زمانہ اسلام میں کبھی اسے نہیں پہنا تھا ، پھر انہوں نے فرمایا : گزشتہ رات میں نے خواب میں نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے ، انہوں نے مجھ سے کہا ہے : تم صبر سے کام لینا ، یہاں تک کہ کل تم نے ہمارے ساتھ افطاری کرنی ہے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید منگوایا ، اسے اپنے سامنے کھول لیا اور جب انہیں شہید کیا گیا ، تو وہ قرآن مجید ان کے آگے موجود تھا ۔ یہ روایت عبداللہ نے اور ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

12011

Majma al-Zawaid #12011

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قُتِلَ عُثْمَانُ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، وَكَانَتِ الْفِتْنَةُ خَمْسَ سِنِينَ، مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرِ الْحَسَنِ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَابْنُ عَقِيلٍ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Muḥammad ibn ʿAqīl reports that ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, was killed in the year thirty five, and that the strife lasted five years, including the four months of al-Ḥasan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پینتیس ہجری میں شہید کیا گیا اور فتنہ پانچ سال تک رہا ، جن میں سے چار ماہ وہ ہیں ، جو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ہیں ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابن عقیل نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

12012

Majma al-Zawaid #12012

وَعَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: كُنَّا بِبَابِ عُثْمَانَ فِي عَشْرِ الْأَضْحَى. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-ʿĀliyah reports that during the ten days of Aḍḥā they remained at the door of ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں : عید الاضحی کے عشرے میں ، ہم لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر موجود رہے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12013

Majma al-Zawaid #12013

وَعَنْ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ: وَقُتِلُ عُثْمَانُ [يَوْمَ الْجُمْعَةِ] لِثَمَانَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ يَوْمًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Maʿshar reports that ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, was killed on a Friday, the eighteenth of Dhū al-Ḥijjah in the year thirty five, and that his caliphate lasted twelve years minus twelve days.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومعشر بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن اٹھارہ ذوالحج ، پینتیس ہجری میں شہید کیا گیا اور اُن کی خلافت بارہ سال سے بارہ دن کم تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

12014

Majma al-Zawaid #12014

وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUthmān al-Nahdī reports that ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, was killed in the middle of the days of Tashrīq.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ایام تشریق کے درمیانے دن میں شہید کیا گیا ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12015

Majma al-Zawaid #12015

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ دُفِنَ فِي ثِيَابِهِ بِدِمَائِهِ وَلَمْ يُغَسَّلْ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Farrūkh reports that he witnessed ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, buried in his blood stained clothes without being washed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن فروخ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دفن کیے جانے کے وقت موجود تھا ، انہیں ان کے خون آلود کپڑوں میں ہی دفن کیا گیا اور انہیں غسل نہیں دیا گیا ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ۔

12016

Majma al-Zawaid #12016

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: صَلَّى الزُّبَيْرُ عَلَى عُثْمَانَ وَدَفَنَهُ، وَكَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.

EnglishUnverified translation

Qatādah reports that al-Zubayr, raḍiya Allāhu ʿanhu, prayed over ʿUthmān and buried him in accordance with ʿUthmān's bequest to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی اورانہوں نے ہی انہیں دفن کیا تھا کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اُن کے بارے میں وصیت کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ قتادہ نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

12017

Majma al-Zawaid #12017

«عَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْحُدَّانِيِّ - حَيٍّ مِنْ مُرَادٍ - قَالَ: دَفَعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ، وَأَبِي مَسْعُودٍ وَهُمَا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ أَيَّامَ الْجَرَعَةِ، حَيْثُ صَنَعَ النَّاسُ بِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ مَا صَنَعُوا، وَأَبُو مَسْعُودٍ يُعَلِّمُ النَّاسَ وَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَرَى أَنْ تَرْتَدَّ عَلَى عَقِبَيْهَا حَتَّى يَكُونَ فِيهَا دِمَاءٌ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: وَاللَّهِ لَتَرْتَدَّنَّ عَلَى عَقِبَيْهَا، وَلَا يَكُونُ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ، وَلَا أَعْلَمُ الْيَوْمَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا عَلِمْتُهُ وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ».

EnglishUnverified translation

Abū Thawr al-Ḥuddānī of the Murād tribe reports that he came upon Ḥudhayfah and Abū Masʿūd in the Kūfah mosque during the days of al-Jaraʿah, when the people had done to Saʿīd ibn al-ʿĀṣ what they did. Abū Masʿūd was teaching the people and swearing that he did not see the affair receding until blood was shed, while Ḥudhayfah swore it would indeed recede without even a cupping glass of blood, adding that what he knew about it that day he had already known while Muḥammad ﷺ was alive.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوثور حدانی ، یہ مراد قبیلے کی ایک شاخ سے تعلق رکھتا ہے ، وہ بیان کرتا ہے : میں ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، یہ دونوں جمعہ کے دنوں میں مسجد کوفہ میں موجود تھے ( جرعہ کوفہ میں موجود ایک جگہ کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا ) یہ اس موقع کی بات ہے جب لوگوں نے سعید بن عاص کے ساتھ مخصوص سلوک کیا تھا ، حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ معاملہ اس وقت تک ختم ہو گا ، جب تک اس میں خون نہیں بہایا جاتا ، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ معاملہ ختم ہو جائے گا اور اس میں خون نہیں بہایا جائے گا ، اور اس کے بارے میں ، میں آج جو کچھ جانتا ہوں ، یہ میں اس وقت بھی جانتا تھا ، جب حضرت محمد ﷺ زندہ تھے ۔

12018

Majma al-Zawaid #12018

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْحُدَّانِيِّ قَالَ «دَفَعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ، وَأَبِي مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَبُو مَسْعُودٍ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ تَرْتَدَّ عَلَى عَقِبَيْهَا وَلَمْ يُهْرَاقَ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: لَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهَا سَتَرْتَدُّ عَلَى عَقِبَيْهَا وَإِنَّهُ يُهْرَاقُ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، فَيَنْكُسُ قَلْبُهُ فَتَعْلُوهُ اسْتُهُ، يُقَاتِلُ فِي الْفِتْنَةِ الْيَوْمَ وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا. فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: صَدَقْتَ، هَكَذَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِتْنَةِ». رَوَاهُ وَالَّذِي قَبْلَهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ هَذِهِ الرِّوَايَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي ثَوْرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration Abū Thawr al-Ḥuddānī reports that he came upon Ḥudhayfah and Abū Masʿūd in the mosque, with Abū Masʿūd swearing that he had not thought the affair would recede without a cupping glass of blood being shed. Ḥudhayfah replied that he knew it would recede even though such blood would be shed: a man would wake as a believer and sleep as a disbeliever, or sleep as a believer and wake as a disbeliever, his heart inverted and his baser part uppermost, fighting in the trial today while Allah would slay him tomorrow. Abū Masʿūd then said he had spoken the truth, for thus had the Messenger of Allah ﷺ told them about the trial.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ابوثور حدانی بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ معاملہ اس وقت تک ختم ہو گا ، جب تک اس میں خون نہیں بہایا جاتا ، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : لیکن میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ معاملہ ختم ہو جائے گا اور اس میں قتل و غارت گری نہیں ہو گی ، ایک شخص صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا ، یا شام کے وقت مومن ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو جائے گا ، اس کا دل اُلٹ جائے گا اور اس کی پشت اوپر آ جائے گی ، وہ شخص جو آج فتنے کے بارے میں جنگ کر رہا ہے ، کل اللہ تعالیٰ اسے مار دے گا ، تو حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا ہے ، فتنے کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں اسی طرح حدیث بیان کی ہے ۔ یہ روایت اور اس سے پہلے والی روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوثور کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

12019

Majma al-Zawaid #12019

عَنِ الْحَسَنِ - يَعْنِي الْبَصْرِيَّ - قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَيْفَ أَنْتُمْ بِأَقْوَامٍ يَدْخُلُ قَادَتُهُمُ الْجَنَّةَ، وَيَدْخُلُ أَتْبَاعُهُمُ النَّارَ؟ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ عَمِلُوا بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ؟ فَقَالَ: "" وَإِنْ عَمِلُوا بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ "". قَالُوا: وَأَنَّى يَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" يَدْخُلُ قَادَتُهُمُ الْجَنَّةَ بِمَا سَبَقَ لَهُمْ، وَيَدْخُلُ الْأَتْبَاعُ النَّارَ بِمَا أَحْدَثُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan al-Baṣrī reports that he heard Jundub narrating from the Messenger of Allah ﷺ, who asked about the state of people whose leaders entered Paradise while their followers entered the Fire, and who explained, when asked how that could be even if the followers acted like their leaders, that the leaders would enter Paradise for what had preceded from them while the followers would enter the Fire for what they later innovated. > **"How will you be with people whose leaders enter Paradise while their followers enter the Fire? Their leaders will enter Paradise for what preceded from them, while their followers will enter the Fire for what they innovated, even if they acted like their deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تم ایسے لوگوں میں ہو گے کہ جن کی قیادت کرنے والے لوگ جنت میں جائیں گے اور اُن ( قائدین ) کی پیروی کرنے والے جہنم میں جائیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ ان کی مانند عمل کرتے ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگرچہ انہوں نے ان کی مانند عمل کیا ہو ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کو قیادت کرنے والے اُس چیز کے حوالے سے جنت میں جائیں گے جو کام وہ پہلے کر چکے ہوں گے اور پیروی کرنے والے اس وجہ سے جہنم میں جائیں گے ، جو کام انہوں نے بعد میں کیا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔

12020

Majma al-Zawaid #12020

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يَكُونُ لِأَصْحَابِي زَلَّةٌ يَغْفِرُهَا اللَّهُ لَهُمْ بِصُحْبَتِهِمْ، وَسَيَتَأَسَّى بِهِمْ قَوْمٌ بَعْدَهُمْ يَكُبُّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْفَيَّاضِ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ: يَرْوِي عَنْ أَشْهَبَ مَنَاكِيرَ، قُلْتُ: وَهَذَا مِمَّا رَوَاهُ عَنْ أَشْهَبَ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah ibn al-Yamān, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports from the Messenger of Allah ﷺ that his Companions would commit a lapse which Allah would forgive them on account of their companionship, but that later people emulating them in it would be cast face down by Allah into the Fire. > **"My Companions will commit a lapse which Allah will forgive them on account of their companionship, while later people emulating them will be cast by Allah face down into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے اصحاب سے لغزش ہو گی ، اللہ تعالیٰ ان کے صحابی ہونے کی وجہ سے ان کی مغفرت کر دے گا اور ان کے بعد کچھ لوگ ان کی پیروی کریں گے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نتھنوں کے بل جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن فیاض ہے ، ابن یونس کہتے ہیں : اس نے اشہب سے منکر روایات نقل کی ہیں ، میں یہ کہتا ہوں : یہ ان روایات میں سے ایک ہے جو اس نے اشہب سے نقل کی ہیں ۔

12021

Majma al-Zawaid #12021

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَيَدْخُلَنَّ أَمِيرُ فِتْنَةٍ الْجَنَّةَ، وَلَيَدْخُلَنَّ مَنْ مَعَهُ النَّارَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا عَلَى حُذَيْفَةَ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي الْمَرْفُوعِ عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that a commander of trial would surely enter Paradise while those with him entered the Fire. > **"A commander of trial will surely enter Paradise, while those with him will surely enter the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ فتنے کا امیر ضرور جنت میں داخل ہو گا اور اُس ( امیر ) کا ساتھ دینے والا ، ضرور جہنم میں داخل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے موقوف اور مرفوع ، دونوں روایات کے طور پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، موقوف روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور مرفوع روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن حبیب ہے ، جو انتہائی ضعیف ہے ۔

12022

Majma al-Zawaid #12022

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «قِيلَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ لَا تَكُونَ قَاتَلْتَ يَوْمَ الْجَمَلِ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَخْرُجُ قَوْمٌ هَلْكَى لَا يُفْلِحُونَ، قَائِدُهُمُ امْرَأَةٌ، قَائِدُهُمْ فِي الْجَنَّةِ». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ: «هَلَكَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْهَجَنَّعِ، ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي تَرْجَمَتِهِ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مُنْكَرَاتِهِ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: لَمْ يَكُنْ بِالْكُوفَةِ أَكْذَبَ مِنْهُ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that when asked what had prevented him from fighting on the Day of the Camel, he said he had heard the Messenger of Allah ﷺ describe a perishing, unprosperous people emerging under a woman's leadership, while their leader would be in Paradise. > **"A perishing people will emerge who will not prosper, led by a woman, while their leader is in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے : اُن سے کہا گیا : کیا وجہ ہے کہ آپ نے جنگ جمل میں لڑائی میں حصہ نہیں لیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کچھ ہلاکت کا شکار ہونے والے لوگ نکلیں گے ، وہ کامیاب نہیں ہوں گے ، اُن کی قیادت کرنے والی ایک عورت ہو گی ، اور ان کی قیادت کرنے والے لوگ جنت میں جائیں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ بات منقول ہے : وہ قوم ہلاکت شکار ہو جائے گی ، جو اپنی امیر کسی عورت کو بنا لیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہجنع ہے ، امام ذہبی نے اس راوی کے حالات میں یہ حدیث نقل کی ہے جو اس کی منکر روایات میں سے ایک ہے اور ایک راوی عبدالجبار بن عباس ہے ، ابونعیم کہتے ہیں : کوفہ میں اس سے زیادہ جھوٹا اور کوئی نہیں تھا ، جبکہ ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

12023

Majma al-Zawaid #12023

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّهُ سَيَكُونُ [بَعْدِي] اخْتِلَافٌ وَأَمْرٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ السِّلْمَ فَافْعَلْ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ foretold disagreement and dispute over rule after him, and counselled that if one could remain the peaceful one, he should do so. > **"After me there will be disagreement and rule; if you can be the peaceful one, then do so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میرے بعد اختلاف ہو گا اور وہ حکومت کے بارے میں ہو گا اگر تم سے ہو سکے کہ تم اس سے بچ کے رہو تو تم ایسا کر لینا ۔‘‘ یہ روایت عبداللہ نامی راوی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12024

Majma al-Zawaid #12024

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: "" «إِنَّهُ سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ أَمْرٌ "". قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: أَنَا أَشْقَاهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا، وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ told ʿAlī ibn Abī Ṭālib of a coming matter between him and ʿĀʾishah, and that when ʿAlī asked whether he himself was meant and whether he would then be the most wretched, he was told yes to the first and no to the second, then commanded to return her to her place of safety when it happened. > **"There will be a matter between you and ʿĀʾishah. Yes. No, but when that happens, return her to her safe abode."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب تمہارے اور عائشہ کے درمیان اختلاف ہو گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں تو میں سب سے زیادہ بدنصیب ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! البتہ جب یہ صورت حال ہو ، تو تم عائشہ کو اس کی جائے امان کی طرف لوٹا دینا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12025

Majma al-Zawaid #12025

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ «أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى الْحَوْأَبِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ، فَقَالَتْ: مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةً، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا: "" أَيَّتُكُنَّ يَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ "". فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ: تَرْجِعِينَ، عَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abī Ḥāzim reports that when ʿĀʾishah, raḍiya Allāhu ʿanhā, alighted at al-Ḥawʾab and heard the barking of dogs, she said she thought she must return, since she had heard the Messenger of Allah ﷺ address his wives concerning one of them being barked at by the dogs of al-Ḥawʾab. Al-Zubayr told her to proceed instead, hoping Allah might reconcile people through her. > **"Would that I knew which of you will be barked at by the dogs of al-Ḥawʾab."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ’’ حوأب ‘‘ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اور وہاں کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی تو انہوں نے فرمایا : مجھے واپس چلے جانا چاہیے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ، آپ ﷺ نے ہم ( یعنی ازواج مطہرات ) سے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کون وہ خاتون ہو گی ، جس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے ۔‘‘ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : آپ واپس چلی جائیں ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12026

Majma al-Zawaid #12026

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنِسَائِهِ: "" «لَيْتَ شِعْرِي، أَيَّتُكُنَّ صَاحِبَةُ الْجَمَلِ الْأَدْبَبِ، تَخْرُجُ فَيَنْبَحُهَا كِلَابُ حَوْأَبٍ، يُقْتَلُ عَنْ يَمِينِهَا وَعَنْ يَسَارِهَا قَتْلَى كَثِيرٌ، ثُمَّ تَنْجُو بَعْدَمَا كَادَتْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed his wives expressing his concern about one of them riding a much marked camel, emerging to the barking of the dogs of Ḥawʾab, with many slain on her right and left, then escaping after nearly perishing. > **"Would that I knew which of you is the rider of the much marked camel; she will emerge to the barking of the dogs of Ḥawʾab, many will be slain on her right and left, then she will escape after nearly perishing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج سے فرمایا : ’’ افسوس کی بات ہے ! تم میں سے کون عورت اس اونٹ والی ہو گی ، جس کے چہرے پر بہت سے داغ ہوں گے ، وہ نکلے گی اور اس پر ’’ حوأب ‘‘ کے کتے بھونکیں گے ، اس کے دائیں اور بائیں بہت سے لوگ قتل کیے جائیں گے اور پھر اس کے بعد وہ نجات پا جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12027

Majma al-Zawaid #12027

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَقَالَ: "" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ "". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" خِيَارُكُمُ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْحَفِيَّ التَّقِيَّ ""، قَالَ: وَمَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: "" الْحَقُّ مَعَ ذَا الْحَقُّ مَعَ ذَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that while they were with several Emigrants and Helpers at the Prophet's ﷺ house, the Prophet ﷺ offered to tell them the best of them. When they agreed, he described their best as those who fulfil trusts and are wholesome, and said Allah loves the discreet and pious. Then ʿAlī ibn Abī Ṭālib passed by, and he declared that truth was with him. > **"Shall I not inform you of the best of you? Your best are those who fulfil trusts and are wholesome; indeed, Allah loves the discreet, the pious. Truth is with him; truth is with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے گھر میں موجود تھے ، کچھ مہاجرین اور انصار تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جو ( عہد ، یا اپنے فرض کو ) پورا کرنے والے نیک خصلت لوگ ہوں ، بے شک اللہ تعالیٰ پوشیدہ رہنے والے ، پرہیزگار شخص کو پسند کرتا ہے ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حق ، اس کے ساتھ ہو گا ، حق ، اس کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12028

Majma al-Zawaid #12028

وَعَنْ أَبِي جَرْوٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ: «شَهِدْتُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ حِينَ تَوَاقَفَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا زُبَيْرُ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّكَ تُقَاتِلُ وَأَنْتَ ظَالِمٌ؟ "". قَالَ: نَعَمْ، وَلَمْ أَذْكُرْ إِلَّا فِي مَوْقِفِي هَذَا ثُمَّ انْصَرَفَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Jarw al-Māzinī reports that he witnessed ʿAlī and al-Zubayr, raḍiya Allāhu ʿanhumā, when they halted facing one another, and that ʿAlī adjured al-Zubayr by Allah whether he had heard the Messenger of Allah ﷺ tell him he would fight ʿAlī while unjust. Al-Zubayr said yes, but that he had remembered it only in that very stand, and then he withdrew. > **"Will you fight him while you are unjust? Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو جرو مازنی بیان کرتے ہیں : میں حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ، جب یہ دونوں صاحبان ایک دوسرے کے سامنے آ کے ٹھہرے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا : اے زبیر ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کہ کیا آپ نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم ( علی کے ساتھ ) جنگ کرو گے اور تم ظلم کرنے والے ہو گے ‘‘ تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن مجھے یہ بات یہاں کھڑے ہو کر یاد آئی ہے ، پھر وہ واپس چلے گئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن مسلم ہے ، امام بخاری کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ۔

12029

Majma al-Zawaid #12029

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَخَطَبَ، ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ الْأَشْعَثُ فَقَالَ: غَلَبَتْنَا عَلَيْكَ الْحُمَيْرَاءُ. فَقَالَ: "" مَنْ يَعْذُرُنِي مِنْ هَؤُلَاءِ الضَّيَارِطَةِ؟ يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ يَتَقَلَّبُ عَلَى حَشَايَاهُ، وَهَؤُلَاءِ يَهْجُرُونَ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ، إِنْ طَرَدْتُهُمْ إِنِّي إِذًا لِمِنَ الظَّالِمِينَ ""، وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" لَيَضْرِبُنَّكُمْ عَلَى الدِّينِ عَوْدًا كَمَا ضَرَبْتُمُوهُمْ عَلَيْهِ بَدْءًا "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, raḍiya Allāhu ʿanhu, is reported to have ascended the pulpit one Friday and preached, whereupon al-Ashʿath stood and said the little red lady had prevailed against them through ʿAlī. ʿAlī asked who would excuse him from such useless folk, when one of them lagged turning upon his bedding while others hastened to Allah's remembrance, declaring that expelling them would make him among the wrongdoers. He then swore by Allah that he had heard the Prophet ﷺ foretell that they would surely fight them for religion again just as they had fought them for it at first. > **"They will surely fight you for religion again just as you fought them for it at first."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جمعہ کے دن انہوں نے منبر پر خطبہ دیا ، تو اشعث اُن کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا : یہ خاتون ہمارے حوالے سے آپ پر غالب آ گئی ہیں ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ ان نالائق لوگوں کے حوالے سے کون میرے سامنے عذر بیان کرے گا ؟ ان میں سے کوئی ایک شخص پیچھے رہ جاتا ہے اور اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا ہے ، جبکہ وہ دوسرے لوگ اللہ کے ذکر کی طرف جلدی چلے جاتے ہیں ، اگر میں انہیں پرے کر دوں تو ایسی صورت میں تو میں ظلم کرنے والوں میں سے ہو جاؤں گا ، اللہ کی قسم ! میں نے انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ وہ دین کی بنیاد پر تمہارے ساتھ ضرور لڑائی کریں گے ، جس طرح تم نے آغاز میں ، اس ( دین ) کی بنیاد پر ان کے ساتھ لڑائی کی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبداللہ اسدی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔

12030

Majma al-Zawaid #12030

وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ، وَالْمَوَالِي حَوْلَهُ، فَقَامَ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَغَضِبَ عَلِيٌّ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ. فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ يَتَخَطَّى النَّاسَ فَقَالَ: غَلَبَتْنَا عَلَى وَجْهِكَ هَذِهِ الْحُمَيْرَاءُ. فَضَرَبَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ عَلَى فَخْذِي وَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ، وَاللَّهِ لَتُبْدِيَنَّ الْعَرَبُ مَا كَانَتْ تَكْتُمُ. ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْذُرُنِي مِنْ هَذِهِ الضَّيَارِطَةِ؟ يَتَقَلَّبُ أَحَدُهُمْ عَلَى فِرَاشِهِ، وَيَغْدُو قَوْمٌ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ أَفَأَطْرُدُهُمْ فَأَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ؟ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَيَضْرِبَنَّكُمْ عَلَى الدِّينِ عَوْدًا كَمَا ضَرَبْتُمُوهُ عَلَيْهِ بَدْءًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbbād ibn ʿAbd Allāh al-Asadī reports from ʿAlī ibn Abī Ṭālib, raḍiya Allāhu ʿanhu, that one Friday Zayd ibn Ṣūḥān was with him while he preached from a pulpit of bricks with freedmen around him. A man stood and spoke words the narrator could not recall, angering ʿAlī until his face reddened. While thus, al-Ashʿath ibn Qays came stepping over the people and said that the little red lady had prevailed over ʿAlī's cause. Zayd ibn Ṣūḥān struck the narrator's thigh and exclaimed that the Arabs would now reveal what they had concealed. ʿAlī then asked who would excuse him from such useless folk, when one of them turned upon his bed while others hastened to Allah's remembrance, asking what was commanded of him and whether expelling them would make him among the wrongdoers. He then swore by Him Who split the seed and created the soul that he had heard the Messenger of Allah ﷺ foretell it. > **"They will surely fight you for religion again just as you fought them for it at first."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباد بن عبدالله اسدی ، حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ’’ جمعہ کے دن زید بن صوحان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اینٹوں کے بنے ہوئے منبر پر خطبہ دے رہے تھے ، ان کے اردگرد موالی موجود تھے ، ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے کوئی بات کی ، مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کیا بات کی ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا ، ابھی ہم لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران اشعث بن قیس لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے آیا اور بولا : یہ خاتون ہمارے حوالے سے آپ پر غالب آ گئی ہیں ، پھر زید بن صوحان نے میرے زانوں پر مارا اور فرمایا : بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ، اللہ کی قسم ! تم عربوں کے لئے وہ چیز ظاہر کر دو گے ، جسے وہ چھپاتے تھے ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان نالائق لوگوں کے حوالے سے کون میرے سامنے عذر بیان کرے گا کہ ان میں سے کوئی ایک اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا ہے اور دوسرے لوگ اللہ کے ذکر کی طرف صبح چلے جاتے ہیں ، تو تم مجھے کیا کہتے ہو ؟ کیا میں انہیں پرے کر کے ظالم لوگوں میں سے ہو جاؤں ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کو چیرا ہے اور جان کو پیدا کیا ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ وہ دین کی بنیاد پر تمہارے ساتھ ضرور لڑائی کریں گے ، جس طرح تم نے آغاز میں اس ( دین ) کی بنیاد پر ان کے ساتھ لڑائی کی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبداللہ اسدی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12031

Majma al-Zawaid #12031

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ أَنَّ فُلَانًا دَخَلَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا، فَأَتَاهُ النَّاسُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، فَدَخَلَ سَعْدٌ، فَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَهَذَا لَمْ يُعِنَّا عَلَى حَقِّنَا عَلَى بَاطِلِ غَيْرِنَا. قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ [سَاعَةً]. فَقَالَ: مَا لَكَ لَا تَتَكَلَّمُ؟ فَقَالَ: هَاجَتْ فِتْنَةٌ، وَظُلْمَةٌ. فَقَالَ لِبَعِيرِي: اخْ اخْ، فَأَنَخْتُ حَتَّى انْجَلَتْ. فَقَالَ رَجُلٌ: إِنِّي قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَلَمْ أَرَ فِيهِ اخْ اخْ. [قَالَ فَغَضِبَ سَعْدٌ] فَقَالَ: أَمَا إِذْ قُلْتُ ذَاكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ أَوِ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ حَيْثُ كَانَ». قَالَ: مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ؟ قَالَ: قَالَهُ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي. فَقَالَ الرَّجُلُ لِسَعْدٍ: مَا كُنْتَ عِنْدِي قَطُّ أَلْوَمَ مِنْكَ الْآنَ. فَقَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: لَوْ سَمِعْتُ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ أَزَلْ خَادِمًا لِعَلِيٍّ حَتَّى أَمُوتَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ شُعَيْبٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Ibrāhīm al-Taymī reports that an unnamed pilgrim entered Madīnah and the people came greeting him, until Saʿd, raḍiya Allāhu ʿanhu, entered and greeted. The man remarked that Saʿd had not aided their truth against others' falsehood. Saʿd remained silent awhile, and when asked why he did not speak, he said that when trial and darkness erupted he had told his camel to kneel and stayed back until it cleared. A man objected that he had read Allah's Book from beginning to end without finding any such kneeling command. Saʿd grew angry and said that since the objection was raised, he had heard the Messenger of Allah ﷺ speak concerning ʿAlī in the house of Umm Salamah. They sent to Umm Salamah, raḍiya Allāhu ʿanhā, and she confirmed the Messenger of Allah ﷺ had said it in her house. The man then told Saʿd he had never been more blameworthy in his eyes than now, and when Saʿd asked why, he said that had he heard this from the Prophet ﷺ he would never have ceased serving ʿAlī until death. > **"ʿAlī is with the truth, or the truth is with ʿAlī, wherever he is."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں : فلاں شخص مدینہ منورہ میں حج کے سلسلے میں داخل ہوا ، لوگ اس کے پاس آئے ، تاکہ اسے سلام کریں ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انہوں نے سلام کیا ، تو اس شخص نے کہا : ان صاحب نے ہمارے علاوہ لوگوں کے باطل کے مقابلے میں ، حق کے بارے میں ہماری مدد نہیں کی ، راوی کہتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ کچھ دیر خاموش رہے ، اس شخص نے کہا : کیا وجہ ہے اب آپ بات کیوں نہیں کرتے ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب فتنہ سامنے آیا اور تاریکی سامنے آئی ، تو میں نے اپنے اونٹ سے کہا : تم بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا ، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا ، اس شخص نے کہا : میں نے اللہ کی کتاب شروع سے لے کر آخر تک پڑھی ہے ، لیکن میں نے اس میں یہ الفاظ نہیں دیکھے کہ تم بیٹھ جاؤ ! تم بیٹھ جاؤ ! راوی بیان کرتے ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور فرمایا : تم نے یہ بات کہی ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ علی حق کے ساتھ ہو گا ، یا حق علی کے ساتھ ہو گا ، خواہ وہ جہاں بھی ہو ۔‘‘ اس شخص نے کہا : آپ کے ساتھ یہ بات اور کس نے سنی ہے ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ بات نبی اکرم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ارشاد فرمائی تھی ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیج کر اس کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے میرے گھر میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، تو اس شخص نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ پہلے میرے نزدیک اتنے قابل ملامت نہیں تھے ، جتنے اب ہیں ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس شخص نے کہا : اگر میں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہوتی ، تو میں مرتے دم تک مسلسل حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خدمت گزار رہتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن شعیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

12032

Majma al-Zawaid #12032

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ حَوْلَ حُذَيْفَةَ إِذْ قَالَ: كَيْفَ أَنْتُمْ، وَقَدْ خَرَجَ أَهْلُ بَيْتِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِرْقَتَيْنِ، يَضْرِبُ بَعْضُهُمْ وُجُوهَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ؟ فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَإِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ؟ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِنْ أَدْرَكْنَا ذَلِكَ الزَّمَانَ؟ قَالَ: انْظُرُوا الْفِرْقَةَ الَّتِي تَدْعُوا إِلَى أَمْرِ عَلِيٍّ فَالْزَمُوهَا، فَإِنَّهَا عَلَى الْهُدَى. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Wahb reports that while they were seated around Hudhayfah, may Allah be pleased with him, he asked how they would fare when the people of their Prophet's ﷺ household emerged split into two factions striking one another's faces with the sword, and when they asked him, O Abu ʿAbdillah, could that really happen, one of his companions asked what they should do if they lived to see that time, whereupon he told them to look for the faction that calls to the cause of ʿAli, may Allah be pleased with him, and to join it, for it would be upon guidance.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران انہوں نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم لوگوں کا کیا عالم ہو گا ؟ کہ جب تمہارے نبی کے اہل بیت دو گروہوں میں تقسیم ہو کر نکلیں گے اور تلوار کے ذریعے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے ، ہم نے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ ! کیا ایسا ہو گا ؟ پھر ان کے اصحاب میں سے کسی نے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ ! اگر ہم وہ زمانہ پا لیں ، تو ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ انہوں نے فرمایا : تم اُس گروہ کا جائزہ لینا ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس گروہ کے ساتھ ہو جانا ، کیونکہ وہ گروہ ہدایت پر ہو گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

12033

Majma al-Zawaid #12033

وَعَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ: كُنَّا فِي سَمَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي لَمُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِسِرٍّ وَلَا عَلَانِيَةٍ: إِنَّهُ لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ مَا كَانَ - يَعْنِي عُثْمَانَ - قُلْتُ لِعَلِيٍّ: اعْتَزِلْ، فَلَوْ كُنْتَ فِي جُحْرٍ طُلِبْتَ حَتَّى تُسْتَخْرَجَ. فَعَصَانِي، وَايْمُ اللَّهِ، لَيَتَأَمَّرَنَّ عَلَيْكُمْ مُعَاوِيَةُ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا} [الإسراء: 33]، وَلَتَحْمِلَنَّكُمْ قُرَيْشٌ عَلَى سُنَّةِ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَلَتُؤْمَنَنَّ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، وَالْمَجُوسُ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْكُمْ [يَوْمَئِذٍ] بِمَا يَعْرِفُ فَقَدْ نَجَا، وَمِنْ تَرَكَ وَأَنْتُمْ تَارِكُونَ كُنْتُمْ كَقَرْنٍ مِنَ الْقُرُونِ [فِيمَنْ] هَلَكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Zahdam al-Jarmi reports that during an evening gathering with Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, he told them he would relate something neither secret nor public: that when the affair of that man, meaning ʿUthman, may Allah be pleased with him, reached what it reached, he had advised ʿAli to withdraw, for even if he hid in a burrow he would be sought out and dragged forth, but ʿAli disobeyed him, and he swore by Allah that Muʿawiyah would surely rule over them, since Allah, Blessed and Exalted, says that whoever is killed wrongfully, his heir has been given authority, so let him not transgress in killing, for he is aided, and he warned that Quraysh would surely compel them to follow the custom of Persia and Rome, and that Jews, Christians, and Magians would be trusted over them, so whoever among them on that day held fast to what he recognized as right would be saved, while whoever abandoned it, and they would abandon it, would become like one of the perished nations of old.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہدم جرمی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ رات کے وقت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، انہوں نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو ایک ایسی بات بیان کرنے لگا ہوں ، جو نہ پوشیدہ ہے اور نہ علانیہ ہے ، جب ان صاحب کا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ، تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ الگ تھلگ ہو جائیں ، اگر آپ کسی بل میں بھی چھپے ہوئے ہوں گے ، تو آپ کو تلاش کر کے وہاں سے نکال لیا جائے گا ، تو انہوں نے میری یہ بات نہیں مانی ، اور اللہ کی قسم ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تمہارے امیر ضرور بنیں گے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص مظلوم ہونے کے طور پر قتل ہو جائے ، تو ہم نے اس کے ولی کو غلبہ دینا ہے ، تو وہ قتل کرنے میں اسراف سے کام نہ لے ، اس کی مدد کی جائے گی ۔‘‘ قریش ، تم لوگوں کو اہل فارس اور اہل روم کے طریقے پر چلنے پر ضرور مجبور کریں گے اور یہودیوں ، عیسائیوں اور مجوسیوں کی ضرور پیروی کی جائے گی ، تم میں سے جو شخص اس وقت اس چیز کو اختیار کرے گا ، جسے وہ نیکی سمجھے گا ، تو وہ نجات پا لے گا اور جو شخص اُسے ترک کر دے گا ، اور تم لوگ ترک ہی کرو گے ، تو تم لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والی قوموں کی مانند ہو جاؤ گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

12034

Majma al-Zawaid #12034

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ أَصْحَابُ عَلِيٍّ حِينَ سَارُوا إِلَى الْبَصْرَةِ أَنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ قَدِ اجْتَمَعُوا لِطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، شَقَّ عَلَيْهِمْ وَوَقَعَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَيُظْهَرَنَّ عَلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَلَيُقْتَلَنَّ طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَلَيَخْرُجَنَّ إِلَيْكُمْ مِنَ الْكُوفَةِ سِتَّةُ آلَافٍ وَخَمْسُمِائَةٍ وَخَمْسُونَ رَجُلًا أَوْ خَمْسَةُ آلَافٍ وَخَمْسُمِائَةٍ وَخَمْسُونَ رَجُلًا - شَكَّ الْأَحْلَجُ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَوَقَعَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ، فَلَمَّا أَتَى أَهْلَ الْكُوفَةِ خَرَجْتُ فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ، فَإِنْ كَانَ كَمَا يَقُولُ فَهُوَ أَمْرٌ سَمِعَهُ، وَإِلَّا فَهِيَ خَدِيعَةُ الْحَرْبِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْجَيْشِ فَسَأَلْتُهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَتَّمَ أَنْ قَالَ مَا قَالَ عَلِيٌّ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَهُوَ مِمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخْبِرُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that when the companions of ʿAli, may Allah be pleased with him, marched toward Basra and learned that the people of Basra had gathered behind Talhah and al-Zubayr, it weighed heavily on them and misgivings entered their hearts, so ʿAli swore by Him besides whom there is no god that his men would surely prevail over the people of Basra, that Talhah and al-Zubayr would surely be killed, and that there would come out to them from Kufa six thousand five hundred and fifty men, or, as the transmitter al-Ahlaj doubted, five thousand five hundred and fifty men, and Ibn ʿAbbas says this unsettled him, so he resolved to watch the people of Kufa as they arrived and count them, to see whether the matter was something ʿAli had heard or merely a stratagem of war, and when he asked a man of the army, the man stated, without delay, exactly the number ʿAli had stated, and Ibn ʿAbbas added that this was among the matters the Messenger of Allah ﷺ had foretold to ʿAli.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی بصرہ کی طرف روانہ ہوئے اور ان لوگوں کو یہ اطلاع ملی کہ اہل بصرہ تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں اکٹھے ہو رہے ہیں ، تو یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر گراں گزری اور ان کے دلوں میں برا خیال آ گیا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ لوگ ضرور اہل بصرہ پر غالب آ جائیں گے اور اہل بصرہ ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑائی کریں گے ، اور پھر کوفہ میں سے چھ ہزار پانچ سو پچاس لوگ ، راوی کو شک ہے : شاید یہ الفاظ ہیں : پانچ ہزار پانچ سو پچاس لوگ نکل کر تمہاری طرف آئیں گے ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میرے ذہن میں الجھن آ گئی ، انہوں نے فرمایا : اے اہل کوفہ ! جب اہل کوفہ آئیں گے ، تو میں نکلوں گا ، میں نے سوچا کہ میں اس بات کا جائزہ لوں گا کہ اگر یہ اسی طرح ہوا ، جس طرح اُنہوں نے بیان کیا ہے تو پھر یہ کوئی ایسی بات ہو گی جو انہوں نے ( نبی اکرم ﷺ کی زبانی ) سنی ہو گی ، ورنہ پھر یہ جنگ کی ایک چال ہو گی ، پھر میں نے لشکر کے ایک شخص کو دیکھا اور اس سے دریافت کیا : تو اللہ کی قسم ! اس نے وہی تعداد بیان کی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تو یہ ان باتوں میں سے ایک تھی ، جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتا دیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

12035

Majma al-Zawaid #12035

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ ثَابِتٍ يَوْمَ الْبَصْرَةِ يَقُولُ: أَحْلِفُ بِاللَّهِ لَيُهْزَمَنَّ الْجَمْعُ وَلَيُوَلُّنَّ الدُّبُرَ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّخَعِ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شِرْكٍ يَا أَبَا يَقْظَانِ أَنْ تَقُولَ مَا لَا عِلْمَ لَكَ بِهِ. قَالَ: لَأَنَا أَشَرُّ مِنْ جَمَلٍ يَجُرُّ خِطَامَهُ بَيْنَ نَجْدٍ وَتِهَامَةَ إِنْ كُنْتُ أَقُولُ مَا لَا عِلْمَ لِي بِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ الْبَكْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn ʿAdi reports that he heard ʿAmr ibn Thabit on the day of Basra swearing by Allah that the assembled host would surely be routed and would surely turn their backs, whereupon a man of Nakhʿ said, I seek refuge with Allah from any taint, O Abu Yaqzan, against your speaking of what you have no knowledge of, and ʿAmr replied that he would be worse than a camel dragged by its halter between Najd and Tihamah if he spoke of what he had no knowledge of.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن عدی بیان کرتے ہیں : بصرہ کے دن میں نے عمرو بن ثابت کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : میں اللہ کے نام کا حلف اٹھا کر یہ بات کہتا ہوں کہ دشمن کا لشکر پسپا ہو جائے گا اور وہ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں گے ، تو نخع قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا : اے ابویقظان ! میں تمہارے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، اس بات کے حوالے سے کہ تم وہ بات کہو ، جس کے بارے میں تمہیں علم نہ ہو ، تو عمرو بن ثابت نے کہا : میں ایسی صورت میں اُس اونٹ سے زیادہ برا ہوؤں گا ، جس کی لگام نجد اور تہامہ کے درمیان کھینچی جاتی ہے ، اگر میں وہ بات کہوں ، جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بکری ہے اور وہ متروک ہے ۔

12036

Majma al-Zawaid #12036

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَكَّائِيِّ قَالَ: كُنْتُ [جَالِسًا] مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ، فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِامْرَأَةٍ، وَرَجُلٍ عَلَى جَمَلٍ قَدْ خُولِفَ وُجُوهُهُمَا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: هَذَا الَّذِي كُنَّا نَتَحَدَّثُ عَنْهُ، أَلَا إِنَّ مَعَ ذَلِكَ الْبَارِقَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Muʿawiyah al-Bakkaʾi reports that he was sitting with ʿAbdullah ibn Masʿud and Hudhayfah, may Allah be pleased with them both, when a woman and a man passed by them riding a camel with their faces turned away from each other, and one of the two Companions said to his fellow that this was what they used to talk about, but the other replied that along with that there would be the flashing of swords.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن معاویہ بکائی بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، ان دونوں صاحبان کے پاس سے ایک عورت اور ایک مرد گزرے ، جو ایک اونٹ پر سوار تھے ، ان دونوں کے رخ مخالف سمت میں کئے گئے تھے ، ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : کیا یہ وہی افراد ہیں ، جن کے بارے میں ہم بات چیت کیا کرتے تھے ؟ تو دوسرے صاحب نے کہا : جی نہیں ! اُن کے ساتھ تو تلواروں کی چمک بھی ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔