Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 34 · Chapter 1

Book of Tribulations

Hadith 11957–11996

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11957

Majma al-Zawaid #11957

عَنْ عِصْمَةَ بْنِ قَيْسٍ السُّلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ]- «أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ فِتْنَةِ الْمَشْرِقِ، قِيلَ لَهُ: فَكَيْفَ فِتْنَةُ الْمَغْرِبِ؟ قَالَ: "" تِلْكَ أَعْظَمُ وَأَعْظَمُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿIṣmah ibn Qays al-Sulamī, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, reports from the Prophet ﷺ that he used to seek refuge from the trial of the East, and that when he was asked about the trial of the West he described it as even greater. > **"That is greater and greater."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ بن قیس سلمی رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ مشرق کے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے ، آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی : مغرب کے فتنے کا کیا عالم ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ زیادہ بڑا ہو گا ، زیادہ بڑا ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

11958

Majma al-Zawaid #11958

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: «أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي صِلَاتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَغْرِبِ»، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from the same Companion it is reported that the Prophet ﷺ used to seek refuge during his prayer from the trial of the West.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نماز کے دوران مغرب کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

11959

Majma al-Zawaid #11959

وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتْنَةِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا يَشْتَمِلُ عَلَى فِتْنَةٍ، وَلَكِنْ مَنِ اسْتَعَاذَ فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ مُضِلَّاتِهَا، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Al-Qāsim reports that ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, raḍiya Allāhu ʿanhu, forbade anyone to ask Allah for refuge from trial in absolute terms, since every person necessarily encounters trial, and instructed that whoever seeks refuge should seek it from the misguiding aspects of trials, for Allah Almighty says that one's wealth and children are but a trial.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قاسم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے : اے اللہ ! میں فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، کیونکہ تم میں سے ہر ایک شخص کو فتنے کا تو سامنا کرنا ہی ہو گا ، جس شخص نے پناہ مانگنی ہو ، وہ فتنے کی گمراہیوں سے پناہ مانگے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں .......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند منقطع ہے ، لیکن اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

11960

Majma al-Zawaid #11960

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ، وَمِنْ إِمَارَةِ الصِّبْيَانِ» "". وَقَالَ: "" «لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ بْنِ لُكَعَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كَامِلِ بْنِ الْعَلَاءِ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded seeking refuge with Allah from the onset of the seventieth year and from the rule of inexperienced youths, and further declared that the world would not end until it fell into the hands of the vilest of the vile. > **"Seek refuge with Allah from the head of the seventieth year and from the rule of children."** > **"The world will not pass away until it belongs to the vilest son of the vilest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سترویں سال اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگو !‘‘۔ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ دنیا اُس وقت تک ختم نہیں ہو گی ، جب تک یہ احمق ابن احمق کو نہیں ملے گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ کامل بن العلاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11961

Majma al-Zawaid #11961

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ يَوْمِ السَّوْءِ، وَمِنْ لَيْلَةِ السَّوْءِ، وَمِنْ سَاعَةِ السَّوْءِ، وَمِنْ صَاحِبِ السَّوْءِ، وَمِنْ جَارِ السَّوْءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate for refuge from evil days, evil nights, evil hours, evil companions, and evil neighbours in the lasting abode. > **"O Allah, I seek refuge in You from an evil day, an evil night, an evil hour, an evil companion, and an evil neighbour in the abode of residence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! میں برے دن سے اور بری رات سے اور بری گھڑی سے اور برائی والے فرد سے ، اور اقامت کے مقام میں برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11962

Majma al-Zawaid #11962

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كُلُّ شَيْءٍ يَنْقُصُ إِلَّا الشَّرَّ فَإِنَّهُ يُزَادُ فِيهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports from the Prophet ﷺ that everything diminishes except evil, for it only keeps increasing. > **"Everything decreases except evil, for it is increased therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر چیز کم ہو جاتی ہے ، صرف برائی کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس میں اضافہ ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے اور ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

11963

Majma al-Zawaid #11963

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِيَّاكَ وَمُشَارَّةَ النَّاسِ، فَإِنَّهَا تَدْفِنُ الْعِزَّةَ، وَتُظْهِرُ الْعَوْرَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ بْنَ هُدَيْمٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ warned against contentious disputation with people, since it buries honour and exposes hidden faults. > **"Beware of disputing with people, for it buries honour and exposes faults."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کے ساتھ لڑنے جھگڑنے سے بچو ! کیونکہ یہ چیز عزت کو دفن کر دیتی ہے اور پوشیدہ معاملات کو ظاہر کر دیتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن حسن بن ہدیم کا معاملہ مختلف ہے اور میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

11964

Majma al-Zawaid #11964

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: «جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ - قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْأَنْصَارِ - فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِكُمْ هَذَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَأَشَارَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ. فَقُلْتُ: دَعَا "" بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، وَأَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ "". فَأُعْطِيهِمَا. وَدَعَا "" بِأَنْ لَا يُجْعَلَ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ"". فَمُنِعَهَا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَلَا يَزَالُ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAtīk, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that ʿAbd Allāh ibn ʿUmar came to the Banū Muʿāwiyah quarter of the Anṣār and asked where the Messenger of Allah ﷺ had prayed in their mosque and what three things he had supplicated for there. Jābir indicated the spot and answered that the Prophet ﷺ had asked that no enemy from outside them be given dominance over them and that they not be destroyed through famine, both of which were granted, and that he had asked that their violence not be set among themselves, which was withheld. Ibn ʿUmar confirmed his truthfulness and observed that mutual bloodshed would therefore continue until the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس بنو معاویہ کے علاقے میں آئے ، راوی کہتے ہیں : یہ انصار کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ نبی اکرم ﷺ نے تمہاری اس مسجد میں کہاں نماز ادا کی تھی ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر میں نے مسجد کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ نبی اکرم ﷺ نے یہاں جو دعا مانگی تھی ، اس میں وہ تین چیزیں کیا تھیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : تم مجھے ان کے بارے میں بتاؤ ! میں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر ان کے دشمن کو غلبہ عطا نہ کرے ، اور انہیں قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، تو یہ دونوں چیزیں نبی اکرم ﷺ کو عطا کر دی گئیں ، اور آپ ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ وہ لوگ ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچائیں ، تو یہ چیز قبول نہیں ہوئی ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا ہے ، اور قیامت کے دن تک مسلسل ( مسلمانوں کے درمیان باہمی طور پر ) قتل و غارت گری ہوتی رہے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11965

Majma al-Zawaid #11965

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا [وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا]، وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَبْيَضَ وَالْأَحْمَرَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَيُهْلِكَهُمْ بِعَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا، وَأَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ. فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً [فَإِنَّهُ] لَا يُرَدُّ، وَإِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا [مِمْنَ سِوَاهُمْ] فَيُهْلِكُوهُمْ بِعَامَّةٍ حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا» "". قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَا يُرْفَعُ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Shaddād ibn Aws, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Prophet ﷺ described how the earth was folded for him until he saw its easts and wests, that his community's dominion would reach what was folded for him, and that he was granted the white and red treasures. He then recounted asking his Lord not to destroy his community by general famine, not to empower an outside enemy to annihilate them, and not to divide them into factions tasting one another's violence, and receiving the reply that the divine decree is never repelled: the first two were granted, but some of them would destroy, kill, and enslave others. The narration adds his warning that he feared only misguiding leaders for his community and that once the sword was laid among them it would never be lifted until the Day of Resurrection. > **"Indeed, Allah folded the earth for me and I saw its easts and wests, and the dominion of my community will reach what was folded for me. I was granted the two treasures, the white and the red. I asked my Lord Almighty not to destroy my community by a general famine, not to empower an enemy over them who would annihilate them generally, not to divide them into factions and make some of them taste the violence of others. He said: O Muḥammad, when I decree a decree it is never repelled. I have granted you for your community that I will not destroy them by a general famine, nor empower an enemy from outside them who would annihilate them generally, until some of them destroy others, some kill others, and some enslave others."** > **"I fear for my community only the misguiding leaders, and when the sword is placed among my community it will never be lifted from them until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا ، تو میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا ، اور زمین کا جتنا حصہ میرے لئے لپیٹا گیا تھا ، میری اُمت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچ جائے گی ، مجھے سفید اور سرخ دو قسم کے خزانے عطا کیے گئے ، میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا کی : وہ میری امت کو عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، اور وہ ان لوگوں پر ان کے دشمن کو یوں مسلط نہ کرے کہ وہ لوگ عمومی طور پر ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، اور وہ انہیں باہمی اختلاف کا شکار نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! جب میں کوئی فیصلہ دے دوں ، تو اُسے ختم نہیں کیا جا سکتا ، میں نے تمہیں تمہاری امت کے حوالے سے یہ چیز دیدی ہے کہ میں عمومی قحط کے ذریعے انہیں ہلاک نہیں کروں گا اور میں ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہیں کروں گا کہ وہ دشمن انہیں عمومی طور پر ہلاک کر دے ، البتہ وہ لوگ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے بارے میں اندیشہ ہے ، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی ، تو وہ قیامت کے دن تک اُن سے نہیں اُٹھائی جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11966

Majma al-Zawaid #11966

وَعَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْبَعًا، فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً. سَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ كَمَا أَهْلَكَ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abū Baṣrah al-Ghifārī, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, reports the Prophet's ﷺ account of asking his Lord for four things and being granted three but refused one: that his community never unite upon misguidance, granted; that they not be destroyed by famine as earlier nations were, granted; that no enemy be given dominance over them, granted; but that they not be split into factions tasting one another's violence, refused. > **"I asked my Lord Almighty for four things; He granted me three and withheld one. I asked Allah Almighty that my community never unite upon misguidance, and He granted it to me. I asked Allah Almighty not to destroy them by famine as He destroyed the nations before them, and He granted it to me. I asked Allah Almighty not to give an enemy dominance over them, and He granted it to me. I asked Allah Almighty not to divide them into factions and make some of them taste the violence of others, and He withheld it from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) ’’ میں نے اپنے پروردگار سے چار چیزیں مانگی تھیں ، اس نے تین چیزیں مجھے عطا کر دیں اور ایک عطا نہیں کی ، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ میری امت گمراہی پر اکٹھی نہ ہو ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ مجھے ( یعنی میری امت کو ) قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، جس طرح اس نے ان سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کیا تھا ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان لوگوں پر ( یعنی میری امت پر ) ان کے دشمن کو غلبہ عطا نہ کرے ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، اور میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ انہیں گروہوں میں یوں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا نہیں کی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

11967

Majma al-Zawaid #11967

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَرْبَعَ خِلَالٍ فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً. سَأَلْتُهُ أَنْ لَا تَكْفُرَ أُمَّتِي صَفْقَةً وَاحِدَةً فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ بِمَا عَذَّبَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا "".

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports from the Prophet ﷺ that he asked his Lord for four qualities on behalf of his community and was granted three but refused one: that they not fall into disbelief all at once, granted; that no enemy from outside them be empowered over them, granted; that they not be punished as earlier nations were punished, granted; but that their violence not be set among themselves, refused. > **"I asked my Lord for my community four qualities; He granted me three and withheld one. I asked Him that my community not disbelieve all at once, and He granted it to me. I asked Him not to empower an enemy from outside them over them, and He granted it to me. I asked Him not to punish them as He punished the nations before them, and He granted it to me. I asked Him not to set their violence among themselves, and He withheld it from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے چار چیزیں مانگیں ، تو اس نے مجھے تین چیزیں عطا کر دیں اور ایک چیز سے منع کر دیا ، میں نے اس سے یہ بات مانگی کہ میری امت عمومی طور پر کفر کا شکار نہ ہو ، تو اس نے یہ چیز مجھے عطا کر دی ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان پر ان کے دشمن کو مسلط نہ کرے ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان لوگوں کو ایسے عذاب کا شکار نہ کرے ، جو عذاب اس نے ان سے پہلے کی امتوں کو دیا تھا ، تو اس نے یہ چیز مجھے عطا کر دی ، اور میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان کے درمیان اختلافات پیدا نہ کرے ، تو اُس نے اس حوالے سے مجھے منع کر دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزیں مانگیں .......‘‘۔

11968

Majma al-Zawaid #11968

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً. سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى أُمَّتِي عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَقْتُلَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ said he asked his Lord for three qualities and was granted two but refused one: that no enemy from outside them be empowered over his community, granted; that they not be destroyed by famine, granted; but that they not be divided into factions, refused. > **"I asked my Lord Almighty for three qualities; He granted me two and withheld one. I asked Him not to empower an enemy from outside them over my community, and He granted it to me. I asked Him not to destroy my community by famine, and He granted it to me. I asked Him not to divide them into factions, and He refused me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے اپنے پروردگار سے دو چیزیں مانگیں ، تو اس نے دو چیزیں مجھے عطا کر دیں ، اور ایک سے منع کر دیا ، میں نے اس سے یہ بات مانگی کہ وہ میری امت پر ان کے دشمن کو مسلط نہ کرے ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی ، میں اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ انہیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے ، تو اس نے مجھے انکار کر دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11969

Majma al-Zawaid #11969

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً. قُلْتُ: يَا رَبِّ لَا تُهْلِكْ أُمَّتِي جُوعًا، قَالَ: هَذِهِ لَكَ. قُلْتُ: يَا رَبِّ لَا تُسَلِّطْ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ - يَعْنِي أَهْلَ الشِّرْكِ - فَيَجْتَاحُهُمْ. قَالَ: لَكَ ذَلِكَ. قُلْتُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ، فَمَنَعَنِي هَذِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو حُذَيْفَةَ الثَّعْلَبِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Prophet ﷺ said he asked his Lord for three qualities and was granted two but refused one, addressing his Lord concerning hunger, an outside enemy of polytheists, and mutual violence. > **"I asked my Lord Almighty for three qualities; He granted me two and withheld one. I said: O Lord, do not destroy my community by hunger. He said: That is yours. I said: O Lord, do not empower over them an enemy from outside them, meaning the people of polytheism, who would uproot them. He said: That is yours. I said: O Lord, do not set their violence among themselves. And He withheld that from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے تین چیزیں مانگیں ، تو اس نے مجھے دو چیزیں عطا کر دیں اور ایک کے حوالے سے مجھے منع کر دیا ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو میری امت کو بھوک کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرنا ، تو اس نے فرمایا : یہ چیز تمہیں ملی ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو ان پر ان کے دشمن کو مسلط نہ کرنا ، جو ان کے علاوہ ہو ( یعنی اس کا تعلق مشرکین سے ہو ) کہ وہ انہیں جڑ سے ختم کر دے ، تو پروردگار نے فرمایا : یہ چیز تمہیں مل گئی ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو ان کے درمیان قتل و غارت گری پیدا نہ کرنا ، تو اس نے مجھے اس حوالے سے منع کر دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحذیفہ ثعلبی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11970

Majma al-Zawaid #11970

وَعَنْ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: «سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ثَلَاثًا، فَأُعْطِيَ اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَهُ وَاحِدَةً. سَأَلَهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتَهُ جُوعًا، وَأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا، فَأُعْطِيهِمَا، وَسَأَلَهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ، فَمُنِعَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabr ibn ʿAtīk, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ asked for three things in the mosque of Banū Muʿāwiyah and was granted two but refused one: that his community not perish by hunger and that no enemy be given dominance over them, both granted; but that their violence not be set among themselves, refused.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مسجد بنو معاویہ میں تین چیزیں مانگیں ، تو آپ ﷺ کو دو چیزیں دیدی گئیں اور ایک چیز سے منع کر دیا گیا ۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ آپ ﷺ کی امت کو بھوک کے ذریعے ہلاک نہ کرے ، اور یہ کہ وہ ان پر دشمن کو مسلط نہ کرے ، تو یہ دونوں چیزیں آپ کو دیدی گئیں ، آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان کے درمیان قتل و غارت گری نہ رکھے ، تو اس چیز سے آپ ﷺ کو منع کر دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11971

Majma al-Zawaid #11971

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا، وَلَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَأَبَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that Muḥammad ﷺ asked his Lord not to divide his followers into factions tasting one another's violence, but He refused.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت محمد ﷺ نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی کہ وہ ان کی امت کو مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو پروردگار نے انکار کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔

11972

Majma al-Zawaid #11972

وَعَنْ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ صَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً تَامَّةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَجَلَسَ يَوْمًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ: أَنِ اسْكُتُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوحَى إِلَيْهِ. فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَطَلْتَ الْجُلُوسَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: "" لَا، وَلَكِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ، سَأَلْتُ اللَّهَ فِيهَا ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً. سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُعَذِّبَكُمْ بِعَذَابٍ عَذَّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى عَامَّتِكُمْ عَدُوًّا يَسْتَبِيحُكُمْ، فَأَعْطَانِيهِمَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا، وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَمَنَعَنِيهَا» "" قُلْتُ لَهُ: أَبُوكَ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ الْعَشَرِ الْأَصَابِعِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Nāfiʿ ibn Khālid al-Khuzāʿī reports from his father that the Messenger of Allah ﷺ normally prayed a light yet complete prayer before the people, but one day he prolonged his sitting until some of them signalled to others to be silent, thinking revelation was descending upon him. When he finished, they asked about the length, and he explained that it was a prayer of hope and fear in which he had asked Allah for three things and been granted two but refused one. The narrator adds that when asked whether his father had heard this directly from the Messenger of Allah ﷺ, he affirmed it, swearing he had heard him say he heard it from the Messenger ﷺ as many times as his ten fingers. > **"No, but it was a prayer of hope and fear. I asked Allah therein for three things; He granted me two and withheld one. I asked Him not to punish you with a punishment with which He punished those before you, and I asked Him not to empower an enemy over you all who would exterminate you, and He granted me both. I asked Him not to divide you into factions and make some of you taste the violence of others, and He withheld it from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بن خالد خزاعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب نماز ادا کرتے تھے اور لوگ آپ کے اردگرد ہوتے تھے ، تو آپ مختصر نماز ادا کرتے تھے ، جس کے رکوع اور سجود مکمل ہوتے تھے ، ایک دن آپ نے نماز ادا کرتے ہوئے طویل سجدہ کیا ، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کیا کہ تم لوگ خاموش رہو ! شاید نبی اکرم ﷺ کی طرف وحی نازل ہو رہی ہے ، جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو حاضرین میں سے کسی نے کہا : یا رسول اللہ ! آج آپ کافی دیر تک بیٹھے رہے تھے ، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ایک ایسی نماز تھی ، جس میں رغبت بھی تھی اور خوف بھی تھا ، میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں تو اس نے دو چیزیں مجھے عطا کر دیں اور ایک چیز کے حوالے سے مجھے منع کر دیا ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ تم لوگوں کو ایسے عذاب کا شکار نہ کرے ، جیسا عذاب اس نے تم سے پہلے لوگوں کو دیا تھا ، اور میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ تمہارے اوپر عمومی طور پر دشمن کو مسلط نہ کرے کہ وہ ( میری امت کو ) مکمل طور پر ختم کر دے ، تو اس نے یہ دونوں چیزیں مجھے عطا کر دیں ، میں نے اس سے یہ چیز مانگی کہ وہ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو اُس نے اس چیز کے حوالے سے مجھے انکار کر دیا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے اُن سے دریافت کیا : کیا آپ کے والد نے خود یہ بات نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اور میں نے انہیں یہ بھی کہتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ سے اتنی مرتبہ سنی ہے ، جتنی ان کے انگلیوں کی تعداد ہے ، یعنی دس مرتبہ سنی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، نافع بن خالد کا معاملہ مختلف ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے اور کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔

11973

Majma al-Zawaid #11973

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا» ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِطُولِهِ فِي كِتَابِ الْقَدَرِ، وَفِيهِ مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded restraint when his Companions are mentioned, with the fuller narration already cited at length in the Book of Divine Decree. > **"When my Companions are mentioned, withhold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب میرے اصحاب کا ذکر ہو ، تو ( اُن پر تنقید کرنے کے حوالے سے ) رک جاؤ .......‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو طویل روایت کے طور پر کتاب القدر میں گزر چکی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسہر بن عبدالملک ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11974

Majma al-Zawaid #11974

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ حَفِظَنِي فِي أَصْحَابِي وَرَدَ عَلَى حَوْضِي، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْنِي فِي أَصْحَابِي لَمْ يَرَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مِنْ بَعِيدٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَبِيبٌ كَاتِبُ مَالِكٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, raḍiya Allāhu ʿanhumā, reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever honours him by honouring his Companions will reach his Pond, while whoever fails to honour him in them will see him on the Day of Resurrection only from afar. > **"Whoever honours me in my Companions will come to my Pond, and whoever does not honour me in my Companions will see me on the Day of Resurrection only from afar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو میرے اصحاب کے حوالے سے میری حفاظت کرے گا ، وہ میرے حوض پر آئے گا ، اور جو شخص میرے اصحاب کے بارے میں ، میری حفاظت نہیں کرے گا ، وہ قیامت کے دن مجھے صرف دور سے دیکھ پائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبیب ہے ، جو امام مالک کا کاتب ہے اور وہ متروک ہے ۔

11975

Majma al-Zawaid #11975

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ كَلَامٌ، فَذُكِرَ خَالِدٌ عِنْدَ سَعْدٍ فَقَالَ: مَهْ، فَإِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn Shihāb reports that sharp words passed between Khālid ibn al-Walīd and Saʿd ibn Abī Waqqāṣ, raḍiya Allāhu ʿanhumā, and that when Khālid was mentioned critically before Saʿd, Saʿd said to stop, for whatever lay between them had never touched their religion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے درمیان تکرار ہو گئی ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا ذکر منفی انداز میں کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : رک جاؤ ! کیونکہ جو ہمارے درمیان اختلاف ہے وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11976

Majma al-Zawaid #11976

وَعَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَقِيَ الزُّبَيْرَ فِي السُّوقِ، فَتَعَاتَبَا فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ، ثُمَّ أَغْلَظَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ لِي. فَضَرَبَهُ الزُّبَيْرُ حَتَّى وَقَعَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr reports that ʿAlī ibn Abī Ṭālib met al-Zubayr in the market and they exchanged reproaches concerning the affair of ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhum, after which ʿAbd Allāh ibn al-Zubayr spoke harshly to ʿAlī. ʿAlī appealed to al-Zubayr about what was being said to him, whereupon al-Zubayr struck his own son until the youth fell.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی ملاقات بازار میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں اُن دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تکرار کی ، اُس کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے سختی سے بولنے لگے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ سن نہیں رہے ہیں ؟ یہ جو مجھ سے کہہ رہا ہے ؟ تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ضرب لگائی ، یہاں تک کہ وہ گر گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

11977

Majma al-Zawaid #11977

وَعَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ: جَاءَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِلَى عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالُوا: إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ، فَقَالَ: وَمَا أَقْدَمَكُمْ شَيْءٌ غَيْرَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāshid reports that men of Baṣrah came to ʿUbayd ibn ʿUmayr asking about ʿAlī and ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhumā. When they confirmed that this alone had brought them, he recited that they were a nation which had passed away, with for it what it earned and for the questioners what they earn, and that they would not be asked about what those before them had done.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوراشد بیان کرتے ہیں : اہل بصرہ میں سے کچھ افراد عبید بن عمیر کے پاس آئے ، انہوں نے یہ کہا : اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والے آپ کے بھائیوں نے ، آپ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ہے ، انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ صرف اسی مقصد کے لئے آئے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہ ایک ایسی امت ہے جو گزر چکی ہے ، اس نے جو کمایا تھا اس کا اجر نہیں مل جائے گا ، اور تم جو کماؤ گے اس کا اجر تمہیں ملے گا ، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں ، اس کے بارے میں تم سے حساب نہیں لیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11978

Majma al-Zawaid #11978

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn Ashyam, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he heard the Prophet ﷺ say that being slain suffices for his Companions. > **"Killing suffices for my Companions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میرے اصحاب کے لئے قتل ہو جانا ہی کافی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11979

Majma al-Zawaid #11979

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ يَكُونُ فِيهَا وَيَكُونُ ". فَقُلْنَا: إِنْ أَدْرَكْنَا ذَلِكَ هَلَكْنَا. قَالَ: " بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ»

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Zayd, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ foretold trials after him involving this and that, and that when the hearers said that living to see them would mean ruin, he replied that being slain suffices for his Companions. > **"There will be trials after me, involving this and involving that. Killing suffices for my Companions."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب میرے بعد فتنے ہوں گے ، جن میں یہ ہو گا اور وہ ہو گا ، ہم نے عرض کی : اگر ہم نے وہ زمانہ پایا ، تو ہم تو ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے اصحاب کے لئے قتل ہو جانا ہی کافی ہے ۔‘‘

11980

Majma al-Zawaid #11980

وَفِي رِوَايَةٍ "" «يَذْهَبُ النَّاسُ فِيهَا أَسْرَعَ ذَهَابٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

In another narration of the same report the added words state that people will plunge into those trials with extreme swiftness. > **"People will plunge into them with the swiftest plunge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ لوگ ان فتنوں میں تیزی سے جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اور یہ روایت امام بزار نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ۔

11981

Majma al-Zawaid #11981

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - {وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً} [الأنفال: 25] قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَلَمْ نَحْسَبْ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى نَزَلَتْ فِينَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيَهِمُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Zubayr ibn al-ʿAwwām, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports concerning the verse commanding fear of a trial that will not strike only the wrongdoers among them that during the lifetimes of the Messenger ﷺ, Abū Bakr, ʿUmar, and ʿUthmān they used to discuss it without supposing themselves to be its people, until it finally descended among them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم اس فتنے سے ڈرو ! جو بطور خاص ان لوگوں کو لاحق ہو گا کہ تم میں سے جنہوں نے ظلم کیا ہو ۔‘‘ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہم اس بارے میں بات چیت کیا کرتے تھے اور ہم یہ نہیں گمان کرتے تھے کہ ہم اس کے متعلقہ لوگ ہوں گے یہاں تک کہ یہ فتنہ ہمارے درمیان نازل ہو گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11982

Majma al-Zawaid #11982

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ said the Hour would not come until two great factions fought one another while professing a single cause. > **"The Hour will not come until two great factions fight, while their claim is one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک دو بڑے گروہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے ، اور اُن دونوں کا دعویٰ ( یا دعوت ) ایک ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب سے نقل کی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

11983

Majma al-Zawaid #11983

وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «رَأَيْتُ مَا تَلْقَى أُمَّتِي بَعْدِي وَسَفْكَ بَعْضِهِمْ، وَسَبَقَ ذَلِكَ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - كَمَا سَبَقَ فِي الْأُمَمِ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُوَلِّيَنِي شَفَاعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيهِمْ فَفَعَلَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ رِوَايَةَ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ أَنْبَأَنَا أَنَسٌ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وَرِوَايَةَ الطَّبَرَانِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ.

EnglishUnverified translation

Umm Ḥabībah, raḍiya Allāhu ʿanhā, reports from the Prophet ﷺ that he saw what his community would face after him, including mutual bloodshed already decreed by Allah as with earlier nations, and that he therefore asked to be granted intercession for them on the Day of Resurrection, which was granted. > **"I saw what my community will face after me and their mutual bloodshed, and that was already decreed by Allah Almighty as it was decreed for the nations before them, so I asked Him to grant me intercession on the Day of Resurrection for them, and He did."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ میں نے یہ چیز دیکھی کہ میری امت ، میرے بعد جس صورت حال کا سامنا کرے گی اور کس طرح وہ ایک دوسرے کا خون بہائیں گے ، اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیز پہلے سے طے ہو چکی ہے ، جس طرح ان سے پہلے کی امتوں کے بارے میں پہلے سے طے ہوئی تھی ، تو میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : وہ قیامت کے دن اُن لوگوں کے بارے میں مجھے شفاعت کا درجہ عطا کرے ، تو اُس نے ایسا کر دیا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام احمد کی روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ ابن ابوحسین بیان کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے جبکہ امام طبرانی کی روایت میں یہ ہے کہ یہ زہری کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔

11984

Majma al-Zawaid #11984

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عَذَابُ أُمَّتِي فِي دُنْيَاهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Yazīd al-Khaṭmī, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ said the punishment of his community lies in its worldly life. > **"The punishment of my community is in its worldly life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کا عذاب انہیں دنیا میں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11985

Majma al-Zawaid #11985

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، قَدْ رُفِعَ عَنْهُمُ الْعَذَابُ إِلَّا عَذَابَهُمْ أَنْفُسَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ said his community is a mercy shown nation from whom punishment has been lifted, except that their punishment comes from their own hands against themselves. > **"My community is a mercy shown nation; punishment has been lifted from them except their punishment of themselves by their own hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت ، امت مرحومہ ہے ، ان سے عذاب اٹھا لیا گیا ہے ، البتہ ان کا عذاب خود ان کے اپنے ہاتھوں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ اموی ہے اور وہ ضعیف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11986

Majma al-Zawaid #11986

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ: وَمَوْعِدُهُمُ السَّاعَةُ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasār, raḍiya Allāhu ʿanhu, is reported to have visited the ailing ʿUbayd Allāh ibn Ziyād and reminded him that the appointed time of such people is the Hour, and that the Hour is more calamitous and more bitter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ عبیداللہ بن زیاد کی عیادت کرنے کے لئے اُس کے پاس تشریف لائے ، حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس اُمت کی سزا ، تلوار کے ذریعے ہو گی ، اور ان کے ساتھ وعدے کا وقت قیامت ہے ، اور قیامت بہت سخت اور بہت ہی تلخ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11987

Majma al-Zawaid #11987

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَرَأَيْتُهُ يُعَاقَبُ عُقُوبَةً شَدِيدَةً، فَجَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عُقُوبَةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالسَّيْفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Burdah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that after leaving ʿUbayd Allāh ibn Ziyād inflicting a severe punishment, he sat with a Companion of the Prophet ﷺ who quoted the Messenger of Allah ﷺ as saying that the punishment of this community is by the sword. > **"The punishment of this community is by the sword."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس سے نکلا ، میں نے اسے دیکھا کہ وہ شدید ترین سزا دے رہا ہے ، پھر میں ایک صحابی کے پاس آ کر بیٹھا ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس امت کی سزا ، تلوار کے ذریعے ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11988

Majma al-Zawaid #11988

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: «جَعَلَتْ رُءُوسُ هَذِهِ الْخَوَارِجِ تَجِيءُ فَأَقُولُ إِلَى النَّارِ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ: مَا يُدْرِيكَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" جَعَلَ اللَّهُ عَذَابَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي دُنْيَاهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِاخْتِصَارٍ وَالْأَوْسَطِ كَذَلِكَ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Burdah reports that when the heads of the Khawārij were brought and he remarked that they were for the Fire, ʿAbd Allāh ibn Yazīd, raḍiya Allāhu ʿanhu, asked how he knew, then quoted the Messenger of Allah ﷺ as saying that Allah had placed the punishment of this community in its worldly life. > **"Allah has placed the punishment of this community in its worldly life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبردہ بیان کرتے ہیں : خوارج کے سر لائے گئے ، تو میں نے یہ کہا : یہ جہنم میں جائیں گے ، تو حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں کیا پتہ ( کہ کیا ہو گا ؟ ) میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کا عذاب ، اُن کی دنیا میں رکھ دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11989

Majma al-Zawaid #11989

عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ فِتْنَةً، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أُدْرِكُهَا؟ قَالَ: "" لَا "". قَالَ عُمَرَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُدْرِكُهَا؟ قَالَ: "" لَا "". فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أُدْرِكُهَا؟ قَالَ: "" بِكَ يُبْتَلَوْنَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَاعِزٌ التَّمِيمِيُّ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that when the Messenger of Allah ﷺ mentioned a coming trial, Abū Bakr asked whether he would live to see it and was told no, ʿUmar asked whether he would live to see it and was told no, and when ʿUthmān asked whether he would live to see it, he was told that through him the people would be tested. > **"No. No. Through you they will be tested."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فتنے کا ذکر کیا ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا میں اس کا زمانہ پاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا میں اس کو پاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اس کو پاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے حوالے سے وہ لوگ آزمائش میں مبتلا ہوں گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ماعز تمیمی ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11990

Majma al-Zawaid #11990

«وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّكَ سَتُبْتَلَى بَعْدِي فَلَا تُقَاتِلَنَّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ عَنْ شَيْخِهِ غَيْرَ مَنْسُوبٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that the Messenger of Allah ﷺ told him he would be tested after him and commanded him never to fight back. > **"You will be tested after me, so never fight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد تمہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا ، تو تم قتال ہرگز نہ کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں ، اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ، جن کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور میں اُن سے واقف بھی نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11991

Majma al-Zawaid #11991

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ، وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟ "". قُلْتُ: مَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي. وَقَالَ: إسْمَاعِيلُ مَرَّةً [فِي الْأُولَى "" نَكْتُبَكَ يَا ابْنَ أَبِي حَوَالَةَ "" قُلْتُ: لَا أَدْرِي فِيمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي]، فَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟ "". قُلْتُ: مَا أَدْرِي، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ. قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ. ثُمَّ قَالَ: "" أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" يَا ابْنَ حَوَالَةَ، كَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ؟ "". قُلْتُ: لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ. قَالَ: "" فَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُخْرَى فِيهَا انْتِفَاجَةُ أَرْنَبٍ؟ "". قُلْتُ: لَا أَدْرِي مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ. قَالَ: "" اتَّبِعُوا هَذَا "" وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ. فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ، فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ، فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ»،

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Ḥawālah, raḍiya Allāhu ʿanhu, reports that he came to the Messenger of Allah ﷺ while he sat in the shade of a dumah tree dictating to a scribe, that the Prophet ﷺ repeatedly asked whether something should be written for him while he deferred the choice to Allah and His Messenger, that he noticed ʿUmar's name in the document and knew it could only concern something good, and that when he finally agreed the Prophet ﷺ questioned him about trials emerging from the earth's edges and a later trial beside which the earlier one would seem small, then commanded him to follow a man passing by with covered face, whom he seized and turned toward the Prophet ﷺ and who proved to be ʿUthmān ibn ʿAffān. > **"Shall I not have you written down, O Ibn Ḥawālah? O Ibn Ḥawālah, what will you do during trials emerging from the edges of the earth as though they were the horns of cattle? What will you do during another emerging after it, as though the other in it were the leap of a hare? Follow this man. Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ﷺ اس وقت ’’ دومہ ‘‘ ( نامی درخت ) کے سائے میں تشریف فرما تھے اور آپ کے پاس ایک تحریر کرنے والا شخص موجود تھا ، جسے آپ املاء کروا رہے تھے ، آپ نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کچھ تحریر نہ کروا دوں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں ( وہی ٹھیک ہو گا ) تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ موڑ لیا ، یہاں پر اسماعیل نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن حوالہ ! کیا ہم تمہیں ( یعنی تمہارے لئے ) کچھ لکھوائیں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم یا رسول اللہ ! کہ کیا ہونا چاہیے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، پھر آپ ﷺ اپنے کاتب کی طرف متوجہ ہو کر اسے املاء کروانے لگے ، پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا ہم تمہارے لئے نہ لکھوائیں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول میرے لئے اختیار کریں ( وہی مناسب ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، پھر آپ ﷺ کاتب کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے املاء کرواتے رہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے جائزہ لیا ، تو اس تحریر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی تھا ، تو اس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر تو بھلائی کے حوالے سے ہی ہو سکتا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن حوالہ ! کیا ہم تمہارے لئے تحریر نہ کروا دیں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے ابن حوالہ ! فتنوں کے زمانے میں تم کیا کرو گے ؟ جب وہ فتنے زمین کے اطراف سے یوں نکلیں گے ، جس طرح گائے کے سینگ ہوتے ہیں ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر اس وقت تم کیا کرو گے ؟ جب پہلے فتنے کے بعد دوسرا فتنہ آئے گا اور اس کے مقابلے میں پہلے والا فتنہ جیسے خرگوش اچھلتا ہے ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، جو اللہ اور اس کا رسول میرے لئے اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُس کی پیروی کرنا ! ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اُس وقت وہاں سے ایک صاحب چہرہ ڈھانپ کے گزر رہے تھے ، میں گیا ، میں دوڑتا ہوا گیا ، میں نے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ان کا رخ نبی اکرم ﷺ کی طرف کر کے دریافت کیا : ان کے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔

11992

Majma al-Zawaid #11992

وَفِي رِوَايَةٍ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِهِ، فَنَزَلَ النَّاسُ مَنْزِلًا، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ، فَرَآنِي مُقْبِلًا مِنْ حَاجَةٍ لِي وَلَيْسَ غَيْرُهُ وَغَيْرُ كَاتِبِهِ. وَقَالَ فِيهِ: فَإِذَا فِي صَدْرِ الْكِتَابِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ. وَقَالَ فِيهِ: أَصْنَعُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" عَلَيْكَ بِالشَّامِ ""، وَقَالَ فِيهِ: فَلَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ، وَلَئِنْ عَلِمْتُ كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration of Ibn Ḥawālah's report, while travelling with the Prophet ﷺ and camping under a dumah tree with only the Prophet ﷺ and his scribe present, he saw Abū Bakr and ʿUmar named at the beginning of the document. When he asked what he should do during the coming trials, he was commanded to adhere to Shām, though he later could not recall exactly what was said about the final trial, which he would have valued above all else to remember. > **"Adhere to Shām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے ، لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، نبی اکرم ﷺ نے دومہ ( نامی درخت ) کے سائے میں پڑاؤ کیا ، آپ نے مجھے آتے ہوئے ملاحظہ فرمایا ، میں اپنے کام کے سلسلے میں جا رہا تھا ، اُس وقت وہاں نبی اکرم ﷺ کے علاوہ اور آپ کے کاتب کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا .......‘‘۔ اس روایت میں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے کہ تحریر کے آغاز میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام تھا ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر شام جانا لازم ہے ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے : مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے دوسرے والے کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا کہ اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ نے دوسرے والے کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا ، تو یہ میرے نزدیک اس اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11993

Majma al-Zawaid #11993

وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ: لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ: مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ؟ قَالَ: أَبْلِغْهُ عَنِّي أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ - قَالَ عَاصِمٌ: يَوْمَ أُحُدٍ - وَلَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ، وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ. قَالَ: فَانْطَلَقَ، فَخَبَّرَ بِذَلِكَ عُثْمَانَ. قَالَ: فَقَالَ: أَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ، فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} [آل عمران: 155]. وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَتْ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ فَقَدْ شَهِدَ. وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ، فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا أَنَا وَلَا هُوَ، فَائْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ بِطُولِهِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shaqīq reports that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf met al-Walīd ibn ʿUqbah, who asked why he appeared to have shunned ʿUthmān, Commander of the Faithful. ʿAbd al-Raḥmān told him to convey that he had not fled on the Day of ʿAynayn, meaning Uḥud, had not stayed back from Badr, and had not abandoned the practice of ʿUmar. When this was conveyed, ʿUthmān replied that fleeing at Uḥud was a sin Allah had already pardoned, citing the verse that Satan caused those who turned back when the two hosts met to slip through some of what they had earned but Allah had pardoned them; that his absence from Badr was because he was nursing Ruqayyah, daughter of the Messenger ﷺ, until she died, while the Messenger ﷺ had assigned him a share so that he counted as present; and that neither he nor his critic could truly bear the practice of ʿUmar.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ولید بن عقبہ سے ہوئی ، تو ولید نے اُن سے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ زیادتی کی ہے ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم انہیں میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو ! کہ یوم عینین کے دن میں فرار نہیں ہوا تھا ، عاصم نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد غزوہ اُحد کا دن ہے ( انہوں نے یہ بھی فرمایا : ) اور میں غزوہ بدر میں شرکت سے پیچھے نہیں رہا تھا اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کو ترک بھی نہیں کیا ہے ، راوی کہتے ہیں : ولید گئے اور انہوں نے اس بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بتایا ، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک اس کے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ میں یوم عینین کو فرار نہیں ہوا تھا ، تو وہ مجھے ایک ایسے گناہ کے حوالے سے کیسے عار دلا سکتا ہے ؟ جس سے اللہ تعالیٰ نے درگزر کیا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ بیشک وہ لوگ جو تم میں سے پیٹھ پھیر گئے تھے ، اس دن جب دو لشکر ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ( دراصل ) ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔‘‘ جہاں تک اُس کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ بدر کے دن پیچھے رہ گیا تھا ، تو میں نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری کر رہا تھا ، یہاں تک کہ اُن کا انتقال ہو گیا تھا ، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے میرے لئے حصہ مقرر کیا تھا اور جس شخص کے لئے نبی اکرم ﷺ نے حصہ مقرر کیا ہو ، وہ گویا ( اس جنگ میں ) شریک ہوا تھا ۔ جہاں تک اُن کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ، تو اس بات کی طاقت نہ میں رکھتا ہوں اور نہ وہ رکھتے ہیں ، تم اُن کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بات بتا دو ! یہ روایت امام احمد اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اس کی مانند طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11994

Majma al-Zawaid #11994

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: كَانَ لِعُثْمَانَ آذِنٌ، فَكَانَ يَخْرُجُ بَيْنَ يَدَيْهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: فَخَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى وَالْآذِنُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ الْآذِنُ نَاحِيَةً، وَلَفَّ رِدَاءَهُ فَوَضَعَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ، وَاضْطَجَعَ، وَوَضَعَ الدِّرَّةَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ عَلِيٌّ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ وَبِيَدِهِ عَصًا، فَلَمَّا رَآهُ الْآذِنُ مِنْ بَعِيدٍ قَالَ: هَذَا عَلِيٌّ قَدْ أَقْبَلَ، فَجَلَسَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ عَلَيْهِ رِدَاءَهُ، فَجَاءَ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ: اشْتَرَيْتَ ضَيْعَةَ آلِ فُلَانٍ، وَلِوَقْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَائِهَا حَقٌّ، أَمَا إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَا يَشْتَرِيهَا غَيْرُكَ. فَقَامَ عُثْمَانُ، وَجَرَى بَيْنَهُمَا كَلَامٌ لَا أَرْوِيهِ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَجَاءَ الْعَبَّاسُ فَدَخَلَ بَيْنَهُمَا، وَرَفَعَ عُثْمَانُ عَلَى عَلِيٍّ الدِّرَّةَ، وَرَفَعَ عَلِيٌّ عَلَى عُثْمَانَ الْعَصَا، فَجَعَلَ الْعَبَّاسُ يُسْكِنُهُمَا وَيَقُولُ لِعَلِيٍّ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَقُولُ لِعُثْمَانَ: ابْنُ عَمِّكَ. فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى سَكَتَا. فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ رَأَيْتُهُمَا وَكُلٌّ مِنْهُمَا آخِذٌ بِيَدِ صَاحِبِهِ وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn al-Musayyab reports that ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, had an announcer who went before him to prayer. One day after prayer the announcer withdrew to a corner, while ʿUthmān wrapped his cloak under his head, reclined, and placed his whip before him. ʿAlī then arrived in waist wrapper and cloak with a staff in hand. Seeing him from afar, the announcer announced ʿAlī's arrival, so ʿUthmān sat up and covered himself. ʿAlī stood at his head and said he had bought the estate of a certain family although the endowment of the Messenger of Allah ﷺ had a right in its water, adding that none but ʿUthmān would have bought it. ʿUthmān rose, sharp words passed between them which the narrator says he will never report until meeting Allah, then ʿAbbās intervened: ʿUthmān raised the whip against ʿAlī and ʿAlī raised the staff against ʿUthmān, while ʿAbbās kept calming them, addressing ʿAlī with the title Commander of the Faithful and ʿUthmān with the reminder that ʿAlī was his cousin, until both fell silent. The next morning both were seen holding one another's hands in conversation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک اطلاع دینے والا مخصوص تھا ، وہ ان کے آ گے آگے نماز کے لئے نکلا کرتا تھا ، ایک دن وہ نماز ادا کرنے کے لئے نکلے ، اطلاع دینے والا شخص ان کے آگے آگے تھا ، پھر وہ تشریف لائے ، تو اطلاع دینے والا شخص ایک کونے میں بیٹھ گیا ، انہوں نے چادر لپیٹی ، اُسے اپنے سر کے نیچے رکھا اور لیٹ گئے ، انہوں نے اپنا درّہ اپنے آگے رکھا ، اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے تہبند باندھا ہوا تھا ، چادر اوڑھی ہوئی تھی اور ان کے ہاتھ میں عصا تھا ، جب اطلاع دینے والے نے انہیں دور سے دیکھا تو بولا : وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آ رہے ہیں ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ، انہوں نے اپنی چادر اوڑھ لی ، اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے سرہانے کھڑے ہو گئے ، انہوں نے کہا : آپ نے آل فلاں کی زمین خریدی ہے ؟ جبکہ وہاں کے پانی میں اللہ کے رسول کے وقف کا حق ہے ، مجھے یہ بات پتہ ہے کہ اُسے آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں خرید سکتا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، ان دونوں کے درمیان ایسی بات چیت ہوئی کہ میں اُسے روایت نہیں کروں گا ، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں ، اسی دوران حضرت عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے ان دونوں کے درمیان دخل دیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر درہ اٹھا لیا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر عصا اٹھا لیا تھا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان دونوں کو پرسکون کروانے کی کوشش کرتے رہے ، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہہ رہے تھے : یہ امیرالمؤمنین ہیں ، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ کہہ رہے تھے : یہ آپ کے چچازاد ہیں ، وہ مسلسل ایسا کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ دونوں حضرات خاموش ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ) اگلے دن میں نے ان دونوں حضرات کو دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور وہ دونوں آپس میں بات چیت کر رہے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11995

Majma al-Zawaid #11995

وَعَنْ أَبِي عَوْنٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ عَمَّا بَلَغَنِي عَنْكَ؟ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ بَعْضَ الْعُذْرِ. فَقَالَ عُثْمَانُ: وَيْحَكَ إِنِّي قَدْ حَفِظْتُ وَسَمِعْتُ وَلَيْسَ كَمَا سَمِعْتَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّهُ سَيُقْتَلُ أَمِيرٌ وَيَنْتَزِي مُنْتَزٍ ""، وَإِنِّي أَنَا الْمَقْتُولُ وَلَيْسَ عُمَرُ، إِنَّمَا قَتَلَ عُمَرَ وَاحِدٌ، وَإِنَّهُ يُجْتَمَعُ عَلَيَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿAwn al-Anṣārī reports that ʿUthmān ibn ʿAffān said to Ibn Masʿūd, raḍiya Allāhu ʿanhumā, asking whether he would desist from what had reached him about him, and that after Ibn Masʿūd offered some excuse, ʿUthmān said he too had memorised and heard, but not as Ibn Masʿūd had heard, and quoted the Prophet's ﷺ words foretelling a slain commander and an erupting aggressor. ʿUthmān explained that he himself was that slain one, not ʿUmar, for ʿUmar was killed by a single man whereas a crowd would gather against ʿUthmān. > **"A commander will be killed and an aggressor will erupt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعون انصاری بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمہارے بارے میں مجھ تک جو اطلاع پہنچی ہے ، کیا تم اُس کام سے باز آنے والے نہیں ہو ؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُن کے سامنے کوئی عذر پیش کیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیا ناس ہو ! مجھے بھی ( نبی اکرم ﷺ کا فرمان ) یاد ہے اور میں نے سنا بھی ہوا ہے اور وہ ویسا نہیں ہے ، جس طرح تم نے سنا ہوا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عنقریب ایک امیر کو قتل کر دیا جائے گا اور برائی کی طرف تیزی سے جانے والے ، برائی کی طرف جائیں گے ۔‘‘ وہ مقتول شخص میں ہوؤں گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ مراد نہیں ہیں ، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تو ایک ہی شخص نے قتل کیا تھا اور میرے خلاف اجتماع اکٹھا ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11996

Majma al-Zawaid #11996

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ: «دَعَا عُثْمَانُ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكُمْ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي، نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ؟ وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ. فَقَالَ [عُثْمَانُ]: لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ أَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ. فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ؟ - يَعْنِي عَمَّارًا - أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِي، نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ، فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الدَّهْرَ هَكَذَا؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اصْبِرْ ""، ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Sālim ibn Abī al-Jaʿd reports that ʿUthmān, raḍiya Allāhu ʿanhu, summoned several Companions of the Prophet ﷺ, including ʿAmmār ibn Yāsir, and adjured them by Allah whether they knew that the Messenger of Allah ﷺ used to prefer Quraysh over all other people and Banū Hāshim over all Quraysh. When they remained silent, ʿUthmān said that if Paradise's keys were in his hand he would give them to Banū Umayyah until every last one entered. He then sent for Ṭalḥah and al-Zubayr and told them about ʿAmmār: how he once walked with the Messenger of Allah ﷺ hand in hand through the open ground until they came upon ʿAmmār's father, mother, and ʿAmmār himself being tortured; how ʿAmmār's father asked whether it would always be so; and how the Prophet ﷺ answered him. > **"Be patient. O Allah, forgive the family of Yāsir, and it has been done."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن ابوالجعد بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو بلوایا ، جن میں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم سے یہ پوچھنے لگا ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ تم میری تصدیق کرو ، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ دیگر تمام لوگوں پر قریش کو ترجیح دیتے تھے ؟ اور تمام قریش پر بنو ہاشم کو ترجیح دیتے تھے ؟ لوگ خاموش رہے ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر جنت کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہوتیں ، تو میں وہ بنو امیہ کو دیدیتا ، یہاں تک کہ اُن کا ہر ایک فرد جنت میں داخل ہو جاتا ۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو بلوایا ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس کے حوالے سے حدیث بیان کروں ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مراد ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تھے ، ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آ رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، ہم کھلے میدان میں چلتے ہوئے اس کے والد ، اس کی والدہ اور اس کے پاس آئے ، جنہیں تکلیف پہنچائی جا رہی تھی ، عمار کے والد نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : تم صبر سے کام لو ! پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! آل یاسر کی مغفرت فرما دے ! اور تو نے ایسا کر دیا ہے ۔ ( یا یہ مطلب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم یہ روایت منقطع ہے ۔