Majma al-Zawaid #11937
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يُؤْتَى بِأَرْبَعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: بِالْمَوْلُودِ، وَبِالْمَعْتُوهِ، وَبِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ، وَبِالشَّيْخِ الْفَانِي، كُلُّهُمْ يَتَكَلَّمُ بِحُجَّتِهِ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لِعُنُقٍ مِنَ النَّارِ: ابْرُزْ فَيَقُولُ لَهُمْ: إِنِّي كُنْتُ أَبْعَثُ إِلَى عِبَادِي رُسُلًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَإِنِّي رَسُولُ نَفْسِي إِلَيْكُمْ، ادْخُلُوا هَذِهِ، فَيَقُولُ مَنْ كُتِبَ عَلَيْهِ الشَّقَاءُ: يَا رَبِّ أَيْنَ نَدْخُلُهَا وَمِنْهَا كُنَّا نَفِرُّ؟ "" قَالَ: "" وَمَنْ كُتِبَ عَلَيْهِ السَّعَادَةُ يَمْضِي فَيَقْتَحِمُ فِيهَا مُسْرِعًا "" قَالَ: "" فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنْتُمْ لِرُسُلِي أَشَدُّ تَكْذِيبًا وَمَعْصِيَةً، فَيُدْخِلُ هَؤُلَاءِ الْجَنَّةَ وَهَؤُلَاءِ النَّارَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Four shall be brought on the Day of Resurrection: the newborn, the ma-tuh, one who died in the fatrah, and the decrepit old man. Each shall speak his plea. The Lord, Blessed and Exalted is He, shall say to a neck of the Fire: Emerge. Then He shall say to them: I sent to My servants messengers from themselves. I am My own messenger to you. Enter this."** Whoever was written wretched shall say: > **"O Lord, where shall we enter it, when from it we fled."** Of whoever was written fortunate, he said: > **"He shall proceed and plunge into it hastening."** Then Allah, Blessed and Exalted is He, shall say: > **"You would have denied My messengers more intensely and disobeyed. He shall admit these to Paradise and these to the Fire."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن چار قسم کے لوگوں کو لایا جائے گا ، کمسنی میں فوت ہونے والے بچے کو ، پاگل کو ، اس شخص کو جو زمانہ فترت میں مر گیا تھا ، اور انتہائی بوڑھے شخص کو ، اُن میں سے ہر ایک اپنی دلیل پیش کرے گا ، تو پروردگار جہنم کے ٹکڑے سے فرمائے گا کہ تم ظاہر ہو جاؤ ، پھر وہ ان لوگوں سے فرمائے گا : میں نے اپنے بندوں کی طرف رسول بھیجے ، جو ان لوگوں میں سے ہی تھے ، لیکن تم لوگوں کے بارے میں ، میں اپنے آپ کو ہی رسول بناتا ہوں ، تم اس ( جہنم ) میں داخل ہو جاؤ ! تو جس شخص کے نصیب میں بدنصیبی ہو گی ، وہ عرض کرے گا : اے ہمارے پروردگار ! ہم اس میں کیسے داخل ہوں ؟ جب کہ ہم اسی سے تو بھاگ رہے ہیں ، اور جس شخص کے نصیب میں خوش نصیبی ہو گی ، وہ جائے گا اور اس میں تیزی سے داخل ہو جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم لوگوں نے میرے رسول کی تو اس سے زیادہ شدت سے تکذیب کرنی تھی اور نافرمانی کرنی تھی ، پھر وہ ان ( فرمانبردار ) لوگوں کو جنت میں داخل کر دے گا اور ان ( نافرمان ) لوگوں کو جہنم میں داخل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔