وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَابِضًا يَدَهُ عَلَى شَيْءٍ فِي يَدِهِ، فَفَتَحَ يَدَهُ الْيُمْنَى، فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِيهِ أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَعْدَادِهِمْ، وَأَسْمَائِهِمْ، وَأَحْسَابِهِمْ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَحَدٌ وَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِالسَّعِيدِ طَرِيقُ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ هُوَ مِنْهُمْ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ، ثُمَّ يُزَالُ إِلَى سَعَادَتِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ "، وَفَتَحَ يَدَهُ الْيُسْرَى فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِيهِ أَهْلُ النَّارِ بِأَعْدَادِهِمْ وَأَسْمَائِهِمْ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ وَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِالْأَشْقِيَاءِ طَرِيقُ أَهْلِ السَّعَادَةِ حَتَّى يُقَالَ هُوَ مِنْهُمْ وَمَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ، ثُمَّ يُدْرِكُ أَحَدَهُمْ شَقَاؤُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَمَلُ بِخَوَاتِيمِهِ» ثَلَاثًا، رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَالَ الْبَزَّارُ: هُوَ صَالِحٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, said, the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, came out to us grasping something in his hand. He opened his right hand and said: > **"In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. This is a book from the Most Merciful, the Most Compassionate, in it are the people of Paradise with their numbers, names, and lineages, totaled until the Day of Resurrection. None shall be decreased from them nor increased among them. The fortunate may be led the path of wretchedness until it is said he is of them, how he resembles them, then he is moved to his felicity before his death, even in the time of milking a she-camel."** Then he opened his left hand and said: > **"In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. This is a book from the Most Merciful, the Most Compassionate, in it are the people of the Fire with their numbers and names, totaled until the Day of Resurrection. None shall be decreased from them nor increased among them. The wretched may be led the path of felicity until it is said he is of them, how he resembles them, then his wretchedness overtakes him before his death, even in the time of milking a she-camel."** Then the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said thrice: > **"Works are by their seals."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے اپنی مٹھی میں کوئی چیز لی ہوئی تھی ، آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو کھولا اور فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے تحریر ہے ، اس میں اہل جنت ، ان کی تعداد ، ان کے اسماء ، ان کے حسب نسب کا بیان ہے ، جو قیامت کے دن تک ہوں گے ، ان لوگوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، بعض اوقات کسی سعادت مند شخص کو بدنصیبی کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا جاتا ہے : یہ اُن ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ہو گا ، اور یہ ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ؟ لیکن پھر وہ مرنے سے پہلے سعادت کی طرف چلا جاتا ہے ، خواہ وہ مرنے سے اتنی دیر پہلے جائے ، جتنی دیر میں اونٹنی کا دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے بایاں ہاتھ کھولا اور ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ تحریر بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے ہے ، اس میں اہل جہنم ، ان کی تعداد ، اور ان کے نام ہیں ، قیامت تک جتنے بھی لوگ ہوں گے ، ان سب کا اس میں ذکر ہے ، ان میں کوئی کی نہیں ہو گی اور ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، یہ لوگ جو بدنصیب ہوتے ہیں ، یہ سعادت مندوں کے راستوں پر چل رہے ہوتے ہیں ، اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ( سعادت مندوں ) میں سے ایک ہوں گے ، اور ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتے ہیں ، لیکن پھر ان میں سے کسی ایک کو اُس کے مرنے سے پہلے ، اُس کی بدنصیبی لاحق ہو جاتی ہے ، خواہ وہ اتنی پہلے ہو ، جتنی دیر دو مرتبہ انفٹنی کا دودھ دوہنے کے درمیان کا وقت ہوتا ہے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عمل میں خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ۔‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام بزار کہتے ہیں : یہ صالح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔