Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 33 · Chapter 4

Book of Divine Decree

Hadith 11897–11936

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11897

Majma al-Zawaid #11897

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى الْجَدْعَاءِ، وَخَلْفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: "" لَا تَأَلَّوْا عَلَى اللَّهِ [لَا تَأَلَّوْا عَلَى اللَّهِ]، فَإِنَّهُ مَنْ تَأَلَّى عَلَى اللَّهِ أَكْذَبَهُ اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, while riding al-Jadaa with al-Fadl ibn Abbas behind him, say: > **"Do not swear decisively upon Allah, do not swear decisively upon Allah, for whoever swears decisively upon Allah, Allah shall belie him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا ، نبی اکرم ﷺ اس وقت ’’ جدعاء ‘‘ ( نامی اونٹنی پر سوار تھے اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی حکم منسوب نہ کرو ( یعنی یہ کہنا کہ اللہ کی قسم ! فلاں شخص ضرور جہنم میں جائے گا ) کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ جھوٹ بولتا ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11898

Majma al-Zawaid #11898

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «تُمَارَى بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقَدَرِ فَكَرِهَهُ كَرَاهِيَةً شَدِيدَةً حَتَّى كَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ، فَقَالَ: "" فِيمَا أَنْتُمْ؟ ""، قَالُوا: تَمَارَيْنَا فِي الْقَدَرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" كُلُّ شَيْءٍ بِقَضَاءٍ وَقَدَرٍ وَلَوْ هَذِهِ "" وَضَرَبَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ عَلَى حَبْلِ ذِرَاعِهِ الْآخَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, said, disputation about Qadar took place before the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and he disliked it intensely until it was as if pomegranate seeds had been burst upon his face. He said: > **"In what are you engaged."** They said, we disputed about Qadar, O Messenger of Allah. He said: > **"Everything is by qada and qadar, even this."** And he struck with his forefinger upon the cord of his other forearm.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے تقدیر کے بارے میں بحث کی گئی ، تو آپ نے اس کے بارے میں شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ، یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے آپ کے چہرے پر انار کے دانے ڈال دیے گئے ہوں ، آپ نے فرمایا : تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر چیز قضا و قدر کے مطابق ہے ، خواہ یہ ہی کیوں نہ ہو ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی ، دوسرے بازو کی کلائی پر رکھ کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11899

Majma al-Zawaid #11899

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ: «اجْتَمَعْتُ أَنَا وَطَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَمَكْحُولٌ الشَّامِيُّ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي مَسْجِدِ الْخِيفِ، فَتَذَاكَرْنَا الْقَدَرَ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا وَكَثُرَ لَغَطُنَا، فَقَامَ طَاوُسٌ فَقَالَ: أَنْصِتُوا أُخْبِرْكُمْ مَا سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَكَلَّفُوهَا، رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ، فَاقْبَلُوهَا، الْأُمُورُ كُلُّهَا بِيَدِ اللَّهِ، مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مَصْدَرُهَا، وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا، لَيْسَ لِلْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلَا مَشِيئَةٌ ""، فَقَامَ الْقَوْمُ جَمِيعًا وَهُمْ رَاضُونَ بِمَا قَالَ طَاوُسٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ التِّرْمِذِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Dahhak ibn Muzahim said, I gathered with Tawus al-Yamani, Amr ibn Dinar, Makhul al-Shami, and al-Hasan al-Basri in Masjid al-Khayf, and we discussed Qadar until our voices rose and our clamor increased. Tawus stood and said, be silent, I shall inform you what I heard Abu al-Darda, may Allah be pleased with him, report from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him: > **"Allah has obligated duties upon you, so do not neglect them. He has set limits, so do not transgress them. He forbade you things, so do not violate them. He remained silent about things without forgetfulness, so do not burden yourselves with them, as mercy from your Lord, so accept it. All affairs are in the Hand of Allah. From Allah is their origin, and to Him is their return. Servants have in them neither delegation nor will apart from Allah."** Then the people all stood, pleased with what Tawus said.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں طاؤس یمانی ، عمرو بن دینار ، مکحول شامی اور حسن بصری ( ہم سب ) مسجد خیف میں موجود تھے ، ہم تقدیر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ، ہماری آوازیں بلند ہو گئیں ، جب ہماری آوازیں زیادہ ہو گئیں ، تو طاؤس کھڑے ہوئے اور بولے : تم لوگ خاموش ہو جاؤ ! میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں ، جو میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر فرائض عائد کیے ہیں ، تو تم انہیں ضائع نہ کرو ، اس نے کچھ حدود مقرر کی ہیں ، تم ان کی خلاف ورزی نہ کرو ، اس نے تمہیں کچھ چیزوں سے روکا ہے ، تو تم ان سے باز آ جاؤ اور وہ کچھ چیزوں کے حوالے سے ، بھولے بغیر خاموش رہا ہے ، تو تم اُن ( امور یا چیزوں ) کے درپے نہ ہو ، یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے ، تم اسے قبول کرو ، تمام امور اللہ تعالیٰ کے دست مبارک میں ہیں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کا صدور ہوتا ہے اور اُسی کی طرف أن ( امور ) نے لوٹنا ہوتا ہے ، اُن کے بارے میں بندوں کے لئے کوئی تفویض یا مشیت نہیں ہے ۔‘‘ تو تمام لوگوں نے یہ کہا کہ وہ طاؤس کی بیان کی ہوئی اس بات سے راضی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ترمذی ہے اور وہ متروک ہے ۔

11900

Majma al-Zawaid #11900

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْخَيْلُ تَمْزَعُ مِنَّا أَوْ تَنْزِعُ؟ فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ السَّابِقِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: لَا يُرْوَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, we said, O Messenger of Allah, horses run swiftly from us or shy away. One speaker said, O Messenger of Allah, was this in the prior Book. He said: > **"Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گھوڑا ہماری طرف سے تیز دوڑتا ہے ، یا الگ ہوتا ہے ؟ تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بھی پہلے کی کتاب ( یعنی تقدیر ) میں موجود ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11901

Majma al-Zawaid #11901

عَنْ عَائِشَةَ - فِيمَا يَعْلَمُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ - «أَنَّ يَهُودِيًّا رَأَى فِي الْمَنَامِ: نِعْمَ الْقَوْمُ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ لَوْلَا أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, from what Uthman ibn Umar knew, reported that a Jew saw in a dream: what a good people is the Ummah of Muhammad, were it not that they say, what Allah wills and Muhammad wills. That was mentioned to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, and he said: > **"Do not say: What Allah wills and Muhammad wills. Say: What Allah wills alone."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی نے خواب میں دیکھا کہ حضرت محمد ﷺ کی اُمت اچھی قوم ہے ، اگر وہ لوگ یہ نہ کہیں کہ جو اللہ چاہے اور جو حضرت محمد ﷺ چاہیں ، اس یہودی نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ یہ نہ کہو : جو اللہ چاہے اور جو حضرت محمد ﷺ چاہیں ، تم صرف یہ کہو : جو اللہ چاہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11902

Majma al-Zawaid #11902

عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «الطَّيْرُ تَجْرِي بِقَدَرٍ ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: لَا يُرْوَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, that he said: > **"Birds move by Qadar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ پرندہ ، تقدیر کے فیصلے کے مطابق چلتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : یہ صرف اسی سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یوسف بن ابوبردہ کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

11903

Majma al-Zawaid #11903

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وُكِّلَ بِالْمُؤْمِنِ تِسْعُونَ وَمِائَةُ مَلَكٍ يَذُبُّونَ عَنْهُ مَا لَمْ يُقَدَّرْ عَلَيْهِ، مِنْ ذَلِكَ الْبَصَرُ تِسْعَةُ أَمْلَاكٍ يَذُبُّونَ عَنْهُ كَمَا تَذُبُّونَ عَنْ قَصْعَةِ الْعَسَلِ الذُّبَابَ فِي الْيَوْمِ الصَّائِفِ، وَمَا لَوْ بَدَا لَكُمْ لَرَأَيْتُمُوهُ عَلَى جَبَلٍ وَسَهْلٍ كُلُّهُمْ بَاسِطٌ يَدَيْهِ فَاغِرٌ فَاهُ، وَمَا لَوْ وُكِّلَ الْعَبْدُ فِيهِ إِلَى نَفْسِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ خَطَفَتْهُ الشَّيَاطِينُ»، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Entrusted with the believer are one hundred ninety angels repelling from him what was not decreed upon him. Of that, nine angels for the sight repelling from him as you repel flies from a bowl of honey on a hot day. If they were shown to you, you would see them over mountain and plain, each stretching his hand and opening his mouth. If the servant were entrusted to himself for a blink of an eye, the devils would snatch him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر مومن کے ساتھ ایک سو نوے فرشتے متعین کیے جاتے ہیں ، جو اس سے اس چیز کو پرے کرتے ہیں ، جو اس کے تقدیر میں اس کے خلاف نہ ہو ، ان میں سے کچھ فرشتے جو ، نو ہوتے ہیں ، وہ اس سے اس چیز کو یوں پرے کرتے ہیں ، جس طرح تم لوگ گرم دن میں شہد کے پیالے سے مکھیاں دور کرتے ہوں ، اگر وہ ( فرشتے ) تمہارے سامنے ظاہر ہوں ، تو تم انہیں ہر پہاڑ پر اور سیدھے راستے پر بھی دیکھ لو ، اور وہ سب اپنے ہاتھ کو پھیلائے ہوئے ہوں گے ، منہ کو کھولے ہوئے ہوں گے ، اور اگر انسان کو پلک جھپکنے کے عرصے کے لئے بھی اُس کے نفس کے سپرد کر دیا جائے ، تو شیاطین اُسے اچک کر لے جائیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11904

Majma al-Zawaid #11904

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ، وَالدُّعَاءُ يَنْفَعُ مَا لَمْ يَنْزِلِ الْقَضَاءُ، وَإِنَّ الْبَلَاءَ وَالدُّعَاءَ لَيَلْتَقِيَانِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَعْتَلِجَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"No caution avails against Qadar. Dua avails what the decree has not descended upon. Trial and dua meet between heaven and earth and contend until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پرہیز ، تقدیر کے مقابلے میں فائدہ نہیں دیتا ، اور دعا اُس صورت حال میں نفع دیتی ہے ، جس میں تقدیر کا فیصلہ نازل نہ ہوا ہو ، آزمائش اور دعا ، آسمان اور زمین کے درمیان ایک دوسرے سے ملتی ہیں ، اور پھر قیامت کے دن تک ایک دوسرے سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خثیم ہے اور وہ متروک ہے ۔

11905

Majma al-Zawaid #11905

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ، وَالدُّعَاءُ يَنْفَعُ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - مَا لَمْ يَنْزِلِ الْقَدَرُ، وَإِنَّ الدُّعَاءَ لِيَلْقَى الْبَلَاءَ فَيَعْتَلِجَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الدُّعَاءِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"No caution avails against Qadar. Dua avails, I think he said, so long as Qadar has not descended. Dua meets trial and they contend until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پرہیز ، تقدیر کے مقابلے میں فائدہ نہیں دیتا ہے ، اور دعا اُس چیز کے بارے میں نفع دیتی ہے ، جو تقدیر کا حکم نازل نہ ہوا ہو ، دعا ، آزمائش سے ملتی ہے ، اور پھر وہ دونوں قیامت کے دن تک جھگڑا کرتی رہتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے ، جسے احمد بن صالح مصری نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں اس نوعیت کی کچھ دیگر احادیث کتاب الدعاء میں آگے چل کر آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

11906

Majma al-Zawaid #11906

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ - سُبْحَانَهُ - لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ، الْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهَا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Abi Waqqas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"I wonder at the decree of Allah, Glorified is He, for the believer. If good befalls him, he praises his Lord and thanks. If calamity befalls him, he praises his Lord and is patient. The believer is rewarded in everything, even the morsel he raises to the mouth of his wife."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر میں حیران ہوتا ہوں ، اگر اُسے بھلائی لاحق ہو تو وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتا ہے اور شکر کرتا ہے اور اگر اسے مصیبت لاحق ہو ، تو وہ اپنے پروردگار کی حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے ، مومن کو ہر صورت حال میں اجر دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ جو لقمہ وہ اپنی بیوی کے منہ کی طرف بلند کرتا ہے ، تو بھی اُسے اس کا اجر ملے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور ان سب کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11907

Majma al-Zawaid #11907

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ، إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يَقْضِي لِلْمُؤْمِنِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، ثُمَّ قَالَ: فَذَكَرَهُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَحْرٍ ثَعْلَبَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"I wonder at the believer. Allah, the Exalted, decrees no decree for the believer except that it is good for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے مومن پر حیرانگی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کے بارے میں جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ اُس ( مومن ) کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ مسکرائے اور پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ........‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوثعلبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11908

Majma al-Zawaid #11908

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ، أَلَا وَإِنِّي آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ أَوِ الذُّبَابِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَقَالَ: "" «الْفَرَاشِ، أَوِ الذُّبَابِ، أَوِ الْحُنْظُبِ» ""، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Allah, Mighty and Majestic is He, forbade no sanctity except that He knew some intruder among you would look into it. Know, I hold your waistbands lest you fall into the Fire like the falling of moths or flies."** In another wording: > **"Moths, or flies, or beetles."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے جس بھی چیز کو حرام قرار دیا ہے ، تو وہ یہ جانتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جھانک کر اُس کی طرف دیکھے گا ( یعنی اس کا مرتکب ہو گا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اور میں تم لوگوں کو کمر سے پکڑتا ہوں کہ کہیں تم آگ میں نہ گر جاؤ ، جس طرح پتنگے اور مکھیاں ( آگ میں گرتے ہیں ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ پتنگے یا مکھیاں ، یا حنظب ( نامی پتنگے ) ........‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

11909

Majma al-Zawaid #11909

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يُزِيغَ قَلْبَ عَبْدٍ أَعْمَى عَلَيْهِ الْحِيَلَ» "، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّرَسُوسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Affan, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"When Allah intends to deviate the heart of a servant, He blinds him to means."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ کسی بندے کو دل کو ٹیڑھا کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کو حیلوں کے حوالے سے نابینا کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عیسیٰ طرسوسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11910

Majma al-Zawaid #11910

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا قَالَ: "" يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى طَاعَتِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، قَالَ بَعْضُهُمْ: وَصَوَابُهُ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفَهُ أَكْثَرُ النَّاسِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, said, the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, never raised his head to heaven except that he said: > **"O Turner of hearts, make my heart firm upon Your obedience."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بھی آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھتے تھے تو یہ کہتے تھے : اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو ، اپنی اطاعت پر ثابت رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن محمد بن زائدہ ہے ، بعض حضرات نے یہ کہا ہے : درست یہ ہے کہ یہ صالح بن محمد بن زائدہ ہے ، امام احمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، زیادہ تر لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11911

Majma al-Zawaid #11911

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَخَافُ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ، إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُقَلِّبَهُ مِنَ الضَّلَالَةِ إِلَى الْهُدَى أَوْ مِنَ الْهُدَى إِلَى الضَّلَالَةِ فَعَلَ» "، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: فِي بَعْضِ مَا يَرْوِيهِ نَكِرَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, used to supplicate: > **"O Turner of hearts, make my heart firm upon Your religion."** Aishah said, I said, may my father and mother be ransom for you, O Messenger of Allah, do you fear while you are the Messenger of Allah. He said: > **"O Aishah, the hearts of the children of Adam are between two fingers of the fingers of the Most Merciful. Whomever He wills to turn from misguidance to guidance, or from guidance to misguidance, He does."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : ’’ اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ کو بھی اندیشہ ہے حالانکہ آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے عائشہ ! اولاد آدم کے دل ، رحمن کی انگلیوں میں سے ، دو انگلیوں کے درمیان ہیں ، وہ جس کے بارے میں چاہتا ہے کہ اُسے گمراہی سے ہدایت کی طرف پلٹ دے یا ہدایت سے گمراہی کی طرف پلٹ دے ، تو وہ ایسا کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن فضل ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ بعض روایات میں منکر ہونا پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

11912

Majma al-Zawaid #11912

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ: "" «اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ""، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَشَرٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ» ""، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَبَعْضُهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, often said in his dua: > **"O Allah, Turner of hearts, make my heart firm upon Your religion."** She said, I said, O Messenger of Allah, do hearts indeed turn. He said: > **"Yes. There is no human of the children of Adam except that his heart is between two fingers of the fingers of Allah, Mighty and Majestic is He. If He wills He keeps it straight, and if He wills He deviates it. So we ask Allah not to deviate our hearts after He guided us, and we ask Him to grant us mercy from Himself. He is the Bestower."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنی دعا میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! اے دلوں کو پھیرنے والے ! تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا ۔‘‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دل بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ، بنی آدم میں سے ہر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے ، دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے ٹھیک رکھتا ہے اور اگر چاہے تو اُسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ، تو ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں ، کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے ، اور ہم اس سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کرے ، بے شک وہ بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے ......... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس کا کچھ حصہ امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11913

Majma al-Zawaid #11913

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّمَا قَلْبُ ابْنِ آدَمَ بَيْنَ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"The heart of the son of Adam is only between two fingers of the fingers of the Most Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ انسان کا دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جسے عبدالملک بن شعیب نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

11914

Majma al-Zawaid #11914

وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُزِيغَهُ أَزَاغَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يُقِيمَهُ أَقَامَهُ، وَكُلَّ يَوْمٍ الْمِيزَانُ بِيَدِ اللَّهِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا وَيَضَعُ آخَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nuaym ibn Hammar al-Ghatafani, may Allah be pleased with him, said, I heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"There is no human except that his heart is between two fingers of the fingers of the Most Merciful. If He wills to deviate it He deviates it, and if He wills to keep it straight He keeps it straight. Each day the Balance is in the Hand of Allah. He raises peoples and lowers others until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعیم بن ہمار غطفانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر آدمی کا دل ، رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے ، اگر اللہ تعالیٰ اسے ٹیڑھا کرنا چاہے ، تو اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ، اگر وہ اُسے ٹھیک رکھنا چاہے ، تو اُسے ٹھیک رکھتا ہے ، اور روزانہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں میزان ہوتا ہے ، وہ کچھ اقوام کو سربلندی عطا کرتا ہے ، اور کچھ لوگوں کو پست کر دیتا ہے ، ایسا قیامت تک ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11915

Majma al-Zawaid #11915

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمِيزَانُ بِيَدِ اللَّهِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا وَيَضَعُ أَقْوَامًا، وَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ بَيْنَ إِصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، إِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَقَامَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Fatik al-Asadi, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"The Balance is in the Hand of Allah. He raises peoples and lowers peoples. The heart of the son of Adam is between two fingers of the fingers of the Most Merciful. If He wills He deviates it, and if He wills He keeps it straight."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میزان ( یعنی ترازو ) اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، وہ کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ لوگوں کو پست کر دیتا ہے ، اور انسان کا دل ، رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر وہ چاہے تو اُسے ٹیڑھا کر دیتا ہے اور اگر چاہے ، تو اُسے ٹھیک کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11916

Majma al-Zawaid #11916

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَسْرَعُ تَقَلُّبًا مِنَ الْقِدْرِ إِذَا اسْتَجْمَعَتْ غَلْيًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdad ibn al-Aswad, may Allah be pleased with him, said, I heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"The heart of the son of Adam turns more quickly than a pot when it boils fully."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ انسان کا دل ، اُس ہنڈیا سے زیادہ تیزی سے تبدیل ہوتا ہے کہ جب وہ جوش مار رہی ہو ( یعنی ابلنے والی ہو ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

11917

Majma al-Zawaid #11917

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تُعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَاذَا يُخْتَمُ لَهُ، فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ عُمُرِهِ أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ لَدَخَلَ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ لِيَعْمَلَ عَمَلًا سَيِّئًا، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ سَيِّئٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا، وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ ""، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ؟ قَالَ: "" يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"You need not admire anyone until you see with what he is sealed. A worker works a time of his life with righteous work, such that if he died upon it he would enter Paradise, then he turns and works evil work. A servant works a time with evil work, such that if he died upon it he would enter the Fire, then he turns and works righteous work. When Allah, Blessed and Exalted is He, intends good for a servant, He employs him before his death."** They said, O Messenger of Allah, how does He employ him. He said: > **"He grants him success to righteous work, then takes his soul upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر تم کسی شخص پر حیرانگی کا اظہار نہ کرو ، جب تک تم اس بات کا جائزہ نہیں لیتے کہ اس کا خاتمہ کس صورت حال پر ہوا ہے ؟ کوئی عمل کرنے والا اپنے زندگی کے ایک طویل عرصے تک نیک عمل کرتا رہتا ہے ، اور وہ ایسا عمل ہوتا ہے کہ اگر وہ اس عمل پر مرتا ، تو وہ جنت میں داخل ہوتا اور پھر وہ منتقل ہو کر ، برا عمل کرنا شروع کر دیتا ہے ، اور کوئی بندہ ایک طویل عرصے تک برے عمل کرتا رہتا ہے کہ اگر وہ اُس برے عمل پر مرتا ، تو جہنم میں چلا جاتا ، لیکن پھر وہ منتقل ہو کر ، نیک عمل کرنا شروع کر دیتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیتا ہے ، تو اس کی موت سے پہلے اس سے کام لیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اُس سے کیسے کام لیتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ اُسے نیک عمل کی توفیق عطا کرتا ہے اور پھر اسی چیز پر اُس کی جان قبض کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11918

Majma al-Zawaid #11918

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمَاتَ فَدَخَلَهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ، وَبَعْضُ أَسَانِيدِهِمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"A man works the work of the people of Paradise, while he is written in the Book among the people of the Fire, then before his death he turns and works the work of the people of the Fire and dies and enters it. A man works the work of the people of the Fire, while he is written in the Book among the people of Paradise, then before his death he turns and works the work of the people of Paradise and dies and enters it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ آدمی اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے اور لوح محفوظ میں اُس کا نام اہل جہنم میں ہوتا ہے ، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت آتا ہے ، تو وہ منتقل ہو کر ، اہل جہنم کے سے عمل کرنے لگتا ہے ، اور پھر مر کر جہنم میں چلا جاتا ہے ، اور کوئی شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، حالانکہ لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں ہوتا ہے ، تو آدمی مرنے سے پہلے منتقل ہو کر ، اہل جنت کے سے عمل کرنے لگتا ہے ، اور اسی حالت میں مر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں حضرات کی بعض اسانید کے رجال ، صحیح کے رجال ہیں ۔

11919

Majma al-Zawaid #11919

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَابِضًا يَدَهُ عَلَى شَيْءٍ فِي يَدِهِ، فَفَتَحَ يَدَهُ الْيُمْنَى، فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِيهِ أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَعْدَادِهِمْ، وَأَسْمَائِهِمْ، وَأَحْسَابِهِمْ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَحَدٌ وَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِالسَّعِيدِ طَرِيقُ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ هُوَ مِنْهُمْ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ، ثُمَّ يُزَالُ إِلَى سَعَادَتِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ "، وَفَتَحَ يَدَهُ الْيُسْرَى فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِيهِ أَهْلُ النَّارِ بِأَعْدَادِهِمْ وَأَسْمَائِهِمْ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ وَلَا يُزَادُ فِيهِمْ أَحَدٌ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِالْأَشْقِيَاءِ طَرِيقُ أَهْلِ السَّعَادَةِ حَتَّى يُقَالَ هُوَ مِنْهُمْ وَمَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ، ثُمَّ يُدْرِكُ أَحَدَهُمْ شَقَاؤُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَمَلُ بِخَوَاتِيمِهِ» ثَلَاثًا، رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَالَ الْبَزَّارُ: هُوَ صَالِحٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, said, the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, came out to us grasping something in his hand. He opened his right hand and said: > **"In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. This is a book from the Most Merciful, the Most Compassionate, in it are the people of Paradise with their numbers, names, and lineages, totaled until the Day of Resurrection. None shall be decreased from them nor increased among them. The fortunate may be led the path of wretchedness until it is said he is of them, how he resembles them, then he is moved to his felicity before his death, even in the time of milking a she-camel."** Then he opened his left hand and said: > **"In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. This is a book from the Most Merciful, the Most Compassionate, in it are the people of the Fire with their numbers and names, totaled until the Day of Resurrection. None shall be decreased from them nor increased among them. The wretched may be led the path of felicity until it is said he is of them, how he resembles them, then his wretchedness overtakes him before his death, even in the time of milking a she-camel."** Then the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said thrice: > **"Works are by their seals."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے اپنی مٹھی میں کوئی چیز لی ہوئی تھی ، آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو کھولا اور فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے تحریر ہے ، اس میں اہل جنت ، ان کی تعداد ، ان کے اسماء ، ان کے حسب نسب کا بیان ہے ، جو قیامت کے دن تک ہوں گے ، ان لوگوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، بعض اوقات کسی سعادت مند شخص کو بدنصیبی کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا جاتا ہے : یہ اُن ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ہو گا ، اور یہ ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ؟ لیکن پھر وہ مرنے سے پہلے سعادت کی طرف چلا جاتا ہے ، خواہ وہ مرنے سے اتنی دیر پہلے جائے ، جتنی دیر میں اونٹنی کا دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے بایاں ہاتھ کھولا اور ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ تحریر بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے ہے ، اس میں اہل جہنم ، ان کی تعداد ، اور ان کے نام ہیں ، قیامت تک جتنے بھی لوگ ہوں گے ، ان سب کا اس میں ذکر ہے ، ان میں کوئی کی نہیں ہو گی اور ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، یہ لوگ جو بدنصیب ہوتے ہیں ، یہ سعادت مندوں کے راستوں پر چل رہے ہوتے ہیں ، اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ( سعادت مندوں ) میں سے ایک ہوں گے ، اور ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتے ہیں ، لیکن پھر ان میں سے کسی ایک کو اُس کے مرنے سے پہلے ، اُس کی بدنصیبی لاحق ہو جاتی ہے ، خواہ وہ اتنی پہلے ہو ، جتنی دیر دو مرتبہ انفٹنی کا دودھ دوہنے کے درمیان کا وقت ہوتا ہے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عمل میں خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ۔‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام بزار کہتے ہیں : یہ صالح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11920

Majma al-Zawaid #11920

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ - أَوْ قَالَ: يَعْمَلُ - بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ سَبْعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَيَعْمَلُ الْعَامِلُ سَبْعِينَ سَنَةً بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ» "، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, who said: > **"A man works, or he said, does the work of the people of the Fire for seventy years, then he is sealed with the work of the people of Paradise. A worker works seventy years with the work of the people of Paradise, then he is sealed with the work of the people of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص ستر سال تک اہل جہنم کا سا عمل کرتا رہتا ہے ، لیکن اس کے لئے اہل جنت کے سے عمل کا خاتمہ ہوتا ہے اور کوئی شخص ستر سال تک اہل جنت کا سا عمل کرتا رہتا ہے ، لیکن اس کے لئے اہل جہنم کے عمل کا خاتمہ ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11921

Majma al-Zawaid #11921

وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ تَعْرِضُ لَهُ الْجَادَّةُ مِنْ جَوَادِّ الْجَنَّةِ فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا، وَذَلِكَ لِمَا كُتِبَ لَهُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ، ثُمَّ تَعْرِضُ لَهُ الْجَادَّةُ مِنْ جَوَادِّ أَهْلِ النَّارِ فَيَعْمَلُ بِهَا حَتَّى يَمُوتَ عَلَيْهَا، وَذَلِكَ لِمَا كُتِبَ لَهُ» "، رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Urs ibn Umayrah, may Allah be pleased with him, among the Companions of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said, I heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"A servant works a time with the work of the people of the Fire, then a highway of the highways of Paradise appears before him, and he works with it until he dies upon it, and that is for what was written for him. A man works a time with the work of the people of Paradise, then a highway of the highways of the Fire appears before him, and he works with it until he dies upon it, and that is for what was written for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک شخص طویل عرصے تک ، اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس کے لئے جنت کے راستوں میں ایک راستہ سامنے آتا ہے ، وہ اس پر عمل کرتا ہے ، یہاں تک کہ اسی حالت میں وہ مر جاتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیز اُس کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے ، اور ایک شخص ایک طویل عرصے تک اہل جنت کا سا عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس کے سامنے اہل جہنم کے راستوں میں سے ایک راستہ آتا ہے اور وہ اس پر عمل کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر جاتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیز اس کے نصیب میں لکھی ہوئی ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11922

Majma al-Zawaid #11922

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِنَّ الْعَبْدَ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَإِنَّ الْعَبْدَ يُولَدُ كَافِرًا وَيَعِيشُ كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَالْعَبْدُ يَعْمَلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِالسَّعَادَةِ ثُمَّ يُدْرِكُهُ مَا كُتِبَ لَهُ فَيَمُوتُ كَافِرًا، وَالْعَبْدُ يَعْمَلُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِالشَّقَاءِ ثُمَّ يُدْرِكُهُ مَا كُتِبَ لَهُ فَيَمُوتُ سَعِيدًا» "، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: حَدِيثُهُ عَنْ قَتَادَةَ مُضْطَرِبٌ، قُلْتُ: وَهَذَا مِنْهَا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"A servant is born a believer, lives a believer, and dies a believer. A servant is born a disbeliever, lives a disbeliever, and dies a disbeliever. A servant works a time with felicity, then what was written for him overtakes him and he dies a disbeliever. A servant works a time with wretchedness, then what was written for him overtakes him and he dies fortunate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک بندہ مومن پیدا ہوتا ہے ، مومن ہونے کے طور پر زندہ رہتا ہے اور مومن ہونے کے طور پر مر جاتا ہے ، ایک بندہ کافر پیدا ہوتا ہے ، کافر ہونے کے طور پر زندہ رہتا ہے اور کافر ہونے کے طور پر مر جاتا ہے ، ایک بندہ ایک طویل عرصے تک سعادت مندی کے عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس تک وہ چیز پہنچ جاتی ہے جو اس کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے ، اور وہ کافر ہونے کے طور پر مرتا ہے اور ایک بندہ ایک طویل عرصے تک بدنصیبی کے عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے نصیب میں جو چیز لکھی ہوتی ہے وہ اس تک پہنچ جاتی ہے اور وہ شخص سعادت مند ہونے کے طور پر مرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم عبدی ہے ، جسے ایک سے زیادہ لوگوں نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : قتادہ کے حوالے سے اس کی نقل کردہ حدیث مضطرب ہے ، میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت بھی اُن میں سے ایک ہے ۔

11923

Majma al-Zawaid #11923

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «إِنَّ الْعَبْدَ يُكْتَبُ مُؤْمِنًا أَحْقَابًا ثُمَّ أَحْقَابًا، ثُمَّ يَمُوتُ وَاللَّهُ عَلَيْهِ سَاخِطٌ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيُكْتَبُ كَافِرًا أَحْقَابًا ثُمَّ أَحْقَابًا، ثُمَّ يَمُوتُ وَاللَّهُ عَنْهُ رَاضٍ، وَمَنْ مَاتَ هَمَّازًا لَمَّازًا مُلَقِّبًا لِلنَّاسِ كَانَ عَلَامَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَسِمَهُ اللَّهُ عَلَى الْخُرْطُومِ مِنْ كِلَا الشَّفَتَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reported from the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, that he said: > **"A servant is written a believer for ages upon ages, then he dies while Allah is angry with him. A servant is written a disbeliever for ages upon ages, then he dies while Allah is pleased with him. Whoever dies as a slanderer, backbiter, and nicknamer of people, his mark on the Day of Resurrection shall be that Allah brands him upon the nose from both lips."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک بندہ ایک طویل عرصے تک مومن ہونے کے طور پر رہتا ہے ، پھر وہ ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے اور ایک بندہ ایک طویل عرصے تک کافر ہونے کے طور پر رہتا ہے اور پھر وہ ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوتا ہے ، جو شخص روبرو طعنہ زنی کرنے والے اور پس پشت عیب جوئی کرنے والے اور لوگوں کو ( برے ) القاب دینے والے کے عالم میں مرے ، تو اس کی مخصوص علامت قیامت کے دن یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اُس کے منہ پر ، یعنی دونوں ہونٹوں پر نشان لگا دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جسے عبدالملک بن شعیب نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

11924

Majma al-Zawaid #11924

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: "" كِتَابٌ كَتَبَهُ اللَّهُ، فِيهِ أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَنْسَابِهِمْ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، صَاحِبُ الْجَنَّةِ مَخْتُومٌ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَصَاحِبُ النَّارِ مَخْتُومٌ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ السَّعَادَةِ طَرِيقُ أَهْلِ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ بَلْ هُوَ مِنْهُمْ، وَتُدْرِكُهُمُ السَّعَادَةُ فَتَسْتَنْقِذُهُمْ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ الشَّقَاءِ طَرِيقُ أَهْلِ السَّعَادَةِ، حَتَّى يُقَالَ مَا أَشْبَهَهُ بِهِمْ بَلْ هُوَ مِنْهُمْ، وَيُدْرِكُهُمُ الشَّقَاءُ، مَنْ كَتَبَهُ اللَّهُ سَعِيدًا فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَمْ يُخْرِجْهُ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى يَسْتَعْمِلَهُ بِعَمَلٍ يُسْعِدُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ وَلَوْ بِفَوَاقِ نَاقَةٍ ""، ثُمَّ قَالَ: "" الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا» "" ثَلَاثًا، قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْقَدَرِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ وَافِدٍ الصَّفَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, said, the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, ascended the minbar, praised Allah and extolled Him, and said: > **"A book Allah wrote, in it are the people of Paradise with their names and lineages, totaled, neither increased nor decreased until the Day of Resurrection. The companion of Paradise is sealed with the work of the people of Paradise, and the companion of the Fire is sealed with the work of the people of the Fire, whatever work he does. The fortunate may be led the path of the wretched until it is said how he resembles them, indeed he is of them, then felicity reaches them and rescues them. The wretched may be led the path of the fortunate until it is said how he resembles them, indeed he is of them, then wretchedness overtakes them. Whomever Allah wrote fortunate in the Mother of the Book, He shall not take him from the world until He employs him with work that makes him fortunate before his death, even in the time of milking a she-camel."** Then he said thrice: > **"Works are by their seals."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ ایک کتاب ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے اسماء ، اُن کے نسب ، ان سب کے بارے میں لکھا ہے ، اس میں قیامت کے دن تک کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی ، جنتی شخص کے لئے اہل جنت کے عمل کی مہر لگا دی گئی ہے ، اور جہنمی شخص کے لئے اہل جہنم کے عمل کی مہر لگا دی گئی ہے ، خواہ وہ جو بھی عمل کرے ( بعض اوقات ایسا ہوتا ہے ) کوئی شخص جو اہل سعادت میں سے ہوتا ہے ، وہ اہل شقاوت کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ اُن کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ، حالانکہ وہ اُن ( خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہوتا ہے اور پھر اسے خوش نصیبی لاحق ہوتی ہے اور اسے بچا لیتی ہے ، اسی طرح بدنصیب لوگوں سے تعلق رکھنے والا شخص سعادت مندوں کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ان کے ساتھ کتنی مشابہت رکھتا ہے ، حالانکہ درحقیقت اُن ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ہوتا ہے ، اور پھر بدنصیبی اس تک پہنچ جاتی ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں سعادت مند لکھ دیا ہے ، اللہ تعالیٰ اُسے دنیا سے نکالنے سے پہلے ، اس سے وہ عمل لے گا کہ جو اس کے مرنے سے پہلے اسے سعادت مند بنا دے گا ، خواہ وہ اس کے مرنے سے اتنی دیر پہلے ہو ، جتنا اونٹنی کے دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کا وقفہ ہوتا ہے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ، اعمال میں ، خاتمے کا اعتبار ہوتا ہے ۔‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو تقدیر کے بارے میں ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن وافد صفار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11925

Majma al-Zawaid #11925

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ: "" إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ""، فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ أَمْرَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ قَاتَلَ الرَّجُلُ فَأَبْلَى، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ""، فَخَرَجَ الرَّجُلُ وَأَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَحَرَ نَفْسَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَدَقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" قُمْ فَنَادِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَإِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: رَجُلُ سُوءٍ كَذَّابٌ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, said of a man: > **"He is of the people of the Fire."** People awaited his affair, until on the day of Hunayn the man fought fiercely. The Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, was informed, and said: > **"He is of the people of the Fire."** The man took an arrow from his quiver and slaughtered himself. They said, O Messenger of Allah, Allah has confirmed your speech. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Rise and proclaim: None shall enter Paradise except a believer. Allah supports this religion even with a wicked man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جہنمی ہے ، لوگ اُس کے معاملے کا انتظار کرنے لگے ، جب غزوہ حنین کا موقع آیا ، تو اس شخص نے بھرپور لڑائی کی ، نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ جہنمی ہے ، پھر وہ شخص زخمی ہو گیا ۔ اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اس کے ذریعے خودکشی کر لی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرمان کو صحیح ظاہر کر دیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اُٹھو ! اور یہ اعلان کرو کہ جنت میں صرف مومن داخل ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ بعض اوقات کسی گنہگار شخص کے ذریعے بھی اس دین کی تائید کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد واسطی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، اور وہ غلطی کرتا ہے اور دوسروں کے برخلاف روایت نقل کرتا ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ ایک برا کذاب شخص ہے انہوں نے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت نقل کی ہے ، جس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن لوگوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11926

Majma al-Zawaid #11926

وَعَنْ أَكْثَمَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ قَالَ: «قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فُلَانٌ يَجْرِي فِي الْقِتَالِ، قَالَ: "" هُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ""، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ فُلَانٌ فِي عِبَادَتِهِ وَاجْتِهَادِهِ وَلِينِ جَانِبِهِ فِي النَّارِ، فَأَيْنَ نَحْنُ؟ قَالَ: "" ذَلِكَ إِخْبَاتُ النِّفَاقِ وَهُوَ فِي النَّارِ ""، قَالَ: كُنَّا نَتَحَفَّظُ فِي الْقِتَالِ، كَانَ لَا يَمُرُّ بِهِ فَارِسٌ وَلَا رَاجِلٌ إِلَّا وَثَبَ عَلَيْهِ فَكَثُرَ جِرَاحُهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتُشْهِدَ فُلَانٌ، قَالَ: "" هُوَ فِي النَّارِ ""، فَلَمَّا اشْتَدَّ بِهِ أَلَمُ الْجِرَاحِ أَخَذَ سَيْفَهُ فَوَضَعَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ تُدْرِكُهُ الشِّقْوَةُ وَالسَّعَادَةُ عِنْدَ خُرُوجِ نَفَسِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Aktham ibn Abi al-Jawn, may Allah be pleased with him, said, we said, O Messenger of Allah, so-and-so advances in fighting. He said: > **"He is of the people of the Fire."** We said, O Messenger of Allah, if so-and-so with his worship, striving, and gentleness is in the Fire, where are we. He said: > **"That is the humility of hypocrisy, and he is in the Fire."** We watched him in fighting. No horseman nor footman passed him except that he attacked him, and his wounds increased. We came to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and said, O Messenger of Allah, so-and-so was martyred. He said: > **"He is in the Fire."** When the pain of wounds intensified, he took his sword, placed it between his breasts, leaned upon it until it exited his back. I came to the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, and said, I bear witness you are the Messenger of Allah. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"A man works the work of the people of Paradise while he is of the people of the Fire. A man works the work of the people of the Fire while he is of the people of Paradise. Wretchedness and felicity overtake him at the departure of his soul, and he is sealed with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اکثم بن ابوجون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص لڑائی میں جرأت کا اظہار کر رہا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ جہنمی ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر فلاں شخص اپنی عبادت اور بھرپور کوشش کے باوجود جہنمی ہے تو پھر ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُس نے نفاق چھپایا ہوا ہے اور وہ جہنمی ہے ، راوی کہتے ہیں : جنگ کے دوران ہم اس کا خیال رکھتے رہے ، وہ جس بھی گھڑ سوار ، یا پیادہ شخص کے پاس سے گزرتا تھا ، اُس پر حملہ کر دیتا تھا ، وہ خود بھی زخمی ہو گیا ، ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص نے جام شہادت نوش کر لیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جہنمی ہے ، راوی کہتے ہیں : جب اس شخص کو زخموں کی تکلیف زیادہ ہو گئی ، تو اس نے اپنی تلوار لے کر سینے پر رکھی اور پھر اس پر اپنا وزن ڈالا ، یہاں تک کہ وہ تلوار پشت کی طرف سے پار ہو گئی ، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک شخص بظاہر اہل جنت کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص بظاہر اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اس کی جان نکلنے کے وقت بدنصیبی یا خوش نصیبی اُسے لاحق ہو جاتی ہیں اور اس ( مخصوص حال ) کے مطابق ، اُس کا خاتمہ ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

11927

Majma al-Zawaid #11927

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَا تَعْجَبُوا لِعَمَلِ عَامِلٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَا يُخْتَمُ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Do not admire the work of a worker until you see with what he is sealed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی عمل کرنے والے کے عمل پر حیران نہ ہوؤ ! جب تک تم اس بات کا جائزہ نہیں لیتے کہ اس کا خاتمہ کس چیز پر ہوا ہے ؟‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11928

Majma al-Zawaid #11928

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[بِخَيْبَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] قَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ: "" إِنَّ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ "" فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ، فَأَتَاهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي ذَكَرْتَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَقَدْ قَاتَلَ وَاللَّهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ""، فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ، فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ فَأَهْوَى يَدَهُ إِلَى كِنَانَتِهِ فَانْتَزَعَ مِنْهَا سَهْمًا فَانْتَحَرَ بِهِ، فَاشْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ صَدَقَ اللَّهُ قَوْلَكَ، فَقَدْ نَحَرَ فُلَانٌ نَفْسَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Abdullah ibn Kab ibn Malik reported from one who witnessed the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, at Khaybar, that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said of a man with him: > **"He is of the people of the Fire."** When fighting came the man fought fiercely until wounds increased. Men of the Companions, may Allah be pleased with them, said, O Messenger of Allah, the man you mentioned as of the Fire fought fiercely in the path of Allah and was much wounded. The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"He is of the people of the Fire."** Some people almost doubted. Then the man felt pain of wounds, reached to his quiver, took an arrow, and killed himself with it. A Muslim hastened to the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, and said, O Messenger of Allah, Allah has confirmed your word, so-and-so slaughtered himself.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عبدالله بن كعب بن مالک بیان کرتے ہیں : انہیں ایک ایسے شخص نے یہ بات بتائی ہے کہ جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ خبیر میں شریک ہوئے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھ موجود افراد میں سے ایک شخص کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جہنمی ہے ، جب لڑائی کا موقع آیا ، تو اس شخص نے بھرپور لڑائی کی ، یہاں تک کہ اسے بہت سے زخم لاحق ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ کے اصحاب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اس شخص کو ملاحظہ فرمایا ؟ جس کے بارے میں آپ نے یہ ذکر کیا تھا کہ وہ جہنمی ہے ، اللہ کی قسم ! اس نے تو اللہ کی راہ میں بھرپور لڑائی کی ہے اور اس کو کئی زخم لاحق ہوئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جہنمی ہی ہے ، لوگوں میں سے کچھ کو اس بارے میں شک ہوا ، اسی دوران اس شخص نے زخم کی تکلیف محسوس کی ، تو اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا ، اس میں سے ایک تیر نکالا اور اس کے ذریعے خودکشی کر لی ، تو مسلمانوں میں سے ایک شخص دوڑ کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرمان کو سچ ظاہر کر دیا ہے ، فلاں شخص نے خودکشی کر لی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11929

Majma al-Zawaid #11929

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ ""، قِيلَ: وَمَا اسْتَعْمَلَهُ؟ قَالَ: "" يُفْتَحُ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ مَنْ حَوْلَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn al-Hamiq al-Khuzai, may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"When Allah intends good for a servant, He employs him before his death."** It was said, how does He employ him. He said: > **"Righteous work is opened for him before his death until those around him are pleased with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کی موت سے پہلے اس سے کام لیتا ہے ، عرض کی گئی : وہ اس سے کیا کام لیتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ اس کی موت سے پہلے اُس کے لئے نیک عمل کو کھول دیتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اردگرد کے لوگ اس سے راضی ہو جاتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام احمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11930

Majma al-Zawaid #11930

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ ""، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَا اسْتَعْمَلَهُ؟ قَالَ: "" يَهْدِيهِ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى الْعَمَلِ الصَّالِحِ قَبْلَ مَوْتِهِ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nufayr reported that Umar, may Allah be pleased with him, narrated that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"When Allah intends good for a servant, He employs him before his death."** A man asked, how does He employ him. He said: > **"Allah, Blessed and Exalted is He, guides him to righteous work before his death, then takes his soul upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو اس کی موت سے پہلے اس سے کام لیتا ہے ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : وہ اس سے کیسے کام لیتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ نیک عمل کی طرف اُس کی رہنمائی کرتا ہے جو اس کی موت سے پہلے ہوتی ہے اور پھر اسی حالت میں ، اس کی جان قبض کر لیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جس نے سماع کی تصریح کی ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11931

Majma al-Zawaid #11931

وَعَنْ أَبِي عِنَبَةَ قَالَ شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَلَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَسَّلَهُ "". قِيلَ: وَمَا عَسَّلَهُ؟ قَالَ: "" يَفْتَحُ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِهِ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي الْمُسْنَدِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Anbah reported that Shurayh ibn al-Numan, may Allah be pleased with him, who had companionship, said that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"When Allah intends good for a servant, He honeys him."** It was said, what is His honeying him. He said: > **"He opens for him righteous work before his death, then takes him upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعنبہ بیان کرتے ہیں : حضرت شریح بن نعمان رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لیتا ہے ، تو اسے شہد والا کرتا ہے ، عرض کی گئی : اس کو شہد والا کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ اس کی موت سے پہلے اس کے لئے نیک عمل کو کھول دیتا ہے اور پھر اسی حالت میں اس کی جان قبض کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جس نے ’’ مسند ‘‘ میں سماع کی صراحت کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11932

Majma al-Zawaid #11932

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا طَهَّرَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ ""، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا طَهُورُ الْعَبْدِ؟ قَالَ: "" عَمَلٌ صَالِحٌ يُلْهِمُهُ إِيَّاهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ وَفِي بَعْضِهَا "" عَسَلَهُ "" بَدَلَ "" طَهَّرَهُ ""، وَفِي إِحْدَى طُرُقِهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, said, I heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: > **"When Allah intends good for a servant, He purifies him before his death."** They said, O Messenger of Allah, what is the purification of the servant. He said: > **"Righteous work He inspires him with until He takes him upon it."** In some paths the word honeyed came in place of purified.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کی موت سے پہلے اسے پاک کر دیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : بندے کے پاک ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اسے نیک عمل ، الہام کرتا ہے ، یہاں تک کہ اس ( نیک عمل ) پر اس ( شخص کی روح کو ) قبض کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جس کی بعض روایات میں لفظ ” طہرہ ‘‘ کی جگہ لفظ ’’ عسلہ ‘‘ ہے ، اور اس کے ایک طریق میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11933

Majma al-Zawaid #11933

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا غَسَلَهُ "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ غَسَلَهُ؟ قَالَ: " يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ فَيَقْبِضُهُ عَلَيْهِ» "، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يُونُسَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"When Allah intends good for a servant, He washes him."** It was said, O Messenger of Allah, how does He wash him. He said: > **"He grants him success to righteous work before his death, then takes him upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اسے دھو دیتا ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ اُسے کیسے دھوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اس کی موت سے پہلے اُسے نیک عمل کی توفیق دیتا ہے اور پھر اسی حالت میں اس کی جان قبض کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یونس بن عثمان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11934

Majma al-Zawaid #11934

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ ""، ثُمَّ صَمَتَ، فَقَالُوا: فِي مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" يَسْتَعْمِلُهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"When Allah intends good for a servant, He employs him."** Then he fell silent. They said, in what, O Messenger of Allah. He said: > **"He employs him with righteous work before he dies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے تو اس سے کام لیتا ہے پھر نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کس قسم کا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اُس ( بندے ) کے مرنے سے پہلے اُس سے نیک عمل کرواتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد احمد بن محمد بن نافع کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11935

Majma al-Zawaid #11935

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَسْنَدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَدْرِي، فَقَالَ: "" «مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُثْمَانَ بْنِ مُسْلِمٍ الْبَتِّيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, said, I leaned the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, to my chest, and he said: > **"Whoever says la ilaha illa Allah seeking the Face of Allah, sealed with it, shall enter Paradise. Whoever fasts a day seeking the Face of Allah, sealed with it, shall enter Paradise. Whoever gives charity seeking the Face of Allah, sealed with it, shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے سینے کے ساتھ ٹیک دی ہوئی تھی ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھ لے اور اس کا خاتمہ بھی اس پر ہو ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دن کا روزہ رکھے ، اور اس کا خاتمہ بھی اس پر ہو ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوئی چیز صدقہ کرے اور اس کا خاتمہ بھی اس پر ہو ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عثمان بن مسلم بتی نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11936

Majma al-Zawaid #11936

عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَرْبَعَةٌ يَحْتَجُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ أَصَمُّ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا، وَرَجُلٌ أَحْمَقُ، وَرَجُلٌ هَرِمٌ، وَرَجُلٌ مَاتَ فِي فَتْرَةٍ، فَأَمَّا الْأَصَمُّ فَيَقُولُ: لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَسْمَعُ شَيْئًا، وَأَمَّا الْأَحْمَقُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَالصِّبْيَانُ يَخْذِفُونِي بِالْبَعْرِ، وَأَمَّا الْهَرِمُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْإِسْلَامُ وَمَا أَعْقِلُ شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِي مَاتَ فِي فَتْرَةٍ فَيَقُولُ: مَا أَتَانِي لَكَ رَسُولٌ فَيَأْخُذُ مَوَاثِيقَهُمْ لَيُطِيعُنَّهُ، فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ أَنِ ادْخُلُوا النَّارَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ دَخَلُوهَا كَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «يُعْرَضُ عَلَى اللَّهِ الْأَصَمُّ الَّذِي لَا يَسْمَعُ شَيْئًا وَالْأَحْمَقُ وَالْهَرِمُ وَرَجُلٌ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَذَكَرَ بَعْدَهُ إِسْنَادًا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ: "" «فَمَنْ دَخَلَهَا كَانَتْ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْهَا يُسْحَبُ إِلَيْهَا» ""، هَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ، وَرِجَالُهُ فِي طَرِيقِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الْبَزَّارِ فِيهِمَا.

EnglishUnverified translation

Aswad ibn Sari, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Four shall argue on the Day of Resurrection: a deaf man who hears nothing, a foolish man, an aged man, and a man who died in the fatrah. The deaf shall say: Islam came and I heard nothing. The foolish shall say: O Lord, Islam came while children pelted me with dung. The aged shall say: O Lord, Islam came and I understood nothing. The one who died in the fatrah shall say: No messenger came to me from You."** He shall take their covenant to obey Him, then send upon them: > **"Enter the Fire."** By the One in Whose Hand is my soul, if they entered it, it would be coolness and peace upon them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ چار قسم کے لوگ ، قیامت کے دن دلیل پیش کریں گے ، ایک وہ بہرا شخص ، جو کوئی چیز نہ سنتا ہو ، ایک وہ شخص جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو ، ایک وہ شخص جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا ہو ، جہاں تک بہرے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ یہ کہے گا : اسلام آ گیا تھا ، لیکن میں تو کوئی چیز سنتا ہی نہیں تھا ، جہاں تک ذہنی توازن کی خرابی والے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اسلام جب آیا تھا ، تو بچے مجھے مینگنیاں مارا کرتے تھے ، جہاں تک انتہائی بوڑھے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! جب اسلام آیا تھا ، تو مجھے کسی چیز کی سمجھ بوجھ ہی نہیں رہی تھی ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو زمانہ فترت میں فوت ہو گیا تھا ، تو وہ کہے گا : میرے پاس تیرا رسول نہیں آیا ، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے عہد لے گا کہ وہ اس کی ضرور اطاعت کریں گے ، پھر اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو حکم دے گا کہ تم لوگ جہنم میں داخل ہو جاؤ !‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ لوگ جہنم میں داخل ہو جائیں ، تو وہ اُن کے لئے ٹھنڈک والی اور سلامتی والی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ بہرا شخص آئے گا ، جو کوئی چیز نہ سنتا ہو اور پاگل آئے گا اور انتہائی بوڑھا آئے گا اور وہ شخص آئے گا ، جو زمانہ فترت میں مر گیا تھا .......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کے بعد انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک اس کی ایک اور سند نقل کی ہے اور دونوں کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اس کی مانند روایت منقول ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ جو شخص اس ( جہنم ) میں داخل ہو جائے گا ، تو وہ اُس کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو گی ، اور جو شخص اس میں داخل نہیں ہو گا ، اسے گھسیٹ کر اس کی طرف لے جایا جائے گا ۔‘‘ روایت کے یہ الفاظ امام احمد کے نقل کردہ ہیں اور حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ان دونوں کے بارے میں امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔