وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ، قَالَ: دُلُّونِي عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ قَالَ: مَا تَصْنَعُ بِهِ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ لَأَعُضَّنَّ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ، وَلَئِنْ وَقَعَتْ عُنُقُهُ فِي يَدَيَّ لَأَدُقَنَّهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ، تَصْطَفِقُ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ، هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سَوْرَاتُهُمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا». رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَفِيهِمَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَكِّيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَفِي إِحْدَاهُمَا رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَسَمَّاهُ فِي الْأُخْرَى الْعَلَاءَ بْنَ الْحَجَّاجِ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ وَقَالَ فِي الْمُسْنَدِ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ.
EnglishUnverified translation
Muhammad ibn Ubayd reported from Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, that it was said to Ibn Abbas, a man has come to us who denies Qadar. He said, guide me to him, and he was then blind. It was said, what will you do with him, O Ibn Abbas. He said: > **"By the One in Whose Hand is my soul, if I gain power over him I shall bite his nose until I sever it, and if his neck falls into my hand I shall crush it. For I heard the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, say: It is as if I see the women of Banu Fihr circling around al-Khazraj, their buttocks shaking, as mushrikat. This is the first shirk of this Ummah. By the One in Whose Hand is my soul, their excesses shall end with them expelling Allah from having decreed good, just as they expelled Him from having decreed evil."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
محمد بن عبید ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ کہا گیا : ایک شخص ہمارے پاس آیا ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے اس شخص کے پاس لے کر جاؤ ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے ، ایک شخص نے دریافت کیا : اے ابن عباس ! آپ اس کے ساتھ کیا کریں گے ؟ انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں نے اس پر قابو پا لیا ، تو میں اس کی ناک کو کاٹ دوں گا اور اگر اس کی گردن تک میرا ہاتھ پہنچ گیا ، تو میں اس کی گردن کو توڑ دوں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مجھے نظر آ رہا ہے کہ بنوفہر کی خواتین ، خزرج کا طواف کریں گی ، اور ان کے جسم شرک کرتے ہوئے حرکت کریں گے ، یہ اس امت میں پہلا شرک ہو گا اور اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ان لوگوں کی رائے کی خرابی انہیں روک دے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے نکال دیں گے کہ اس نے بھلائی کو پیدا کیا ہے ، جس طرح انہوں نے پہلے اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے نکال دیا ہو گا کہ اس نے برائی کو مقدر کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو حوالوں کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید مکی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ان دونوں روایات میں سے ایک کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، دوسری سند میں انہوں نے اس کا نام علاء بن حجاج بیان کیا ہے جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ” مسند ‘‘ میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : محمد بن عبید نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع کیا ہے ۔