عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لَأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ [فَانْتَهَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ]، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عُزَيْرًا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ بَعْدَمَا كَانَ رَفَعَهَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى قَالَ مَنْ قَالَ مِنْهُمْ: إِنَّهُ ابْنُ اللَّهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ أُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ [فِي ذَلِكَ] تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ أُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ أُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، قَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصِرَّ صُرَّةً مِنَ الشَّمْسِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَجِيءَ بِمِكْيَالٍ مِنْ رِيحٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَأْتِيَ بِمِثْقَالٍ مِنْ نُورٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَكَذَا لَا تَقْدِرُ عَلَى الَّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، أَمَا إِنِّي لَا أَجْعَلُ عُقُوبَتَكَ إِلَّا أَنْ أَمْحِيَ اسْمَكَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَلَا تُذْكَرُ فِيهِمْ، فَمَحَى اسْمَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَلَيْسَ يُذْكَرُ فِيهِمْ وَهُوَ نَبِيٌّ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عِيسَى، وَرَأَى مَنْزِلَتَهُ مِنْ رَبِّهِ، وَعَلَّمَهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، وَيُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، وَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا يَأْكُلُونَ وَمَا يَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِهِمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لَأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، وَأَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، وَكَلِمَتِي أَلْقَيْتُكَ إِلَى مَرْيَمَ، وَرُوحٌ مِنِّي، خَلَقْتُكَ مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ قُلْتُ لَكَ: كُنْ فَكُنْتَ، لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ كَمَا فَعَلْتُ بِصَاحِبِكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَجَمَعَ عِيسَى مَنْ تَبِعَهُ، فَقَالَ: الْقَدَرُ سِتْرُ اللَّهِ فَلَا تَكَلَّفُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا، وَمُصْعَبُ بْنُ سَوَّارٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that when Allah sent Musa (peace be upon him) with the Torah, Musa asked how the Great Lord who could enforce obedience is yet disobeyed though He loves obedience. Allah answered He is not questioned while they are questioned, so Musa desisted. Uzayr, after the Torah was lifted then restored till some claimed he was Allah's son, repeated the question thrice; Allah asked whether he could bundle sunlight, measure wind or weigh light, warned likewise, and erased his name from among Prophets though a prophet. When Isa (peace be upon him), honored with Book, wisdom, Torah, Gospel and miracles, asked likewise, Allah reminded him he is servant, messenger, word cast to Maryam, spirit from Him, created from dust by Be, warned as his predecessor, so Isa told followers decree is Allah's veil. > **["O Allah, You are a Great Lord; had You willed to be obeyed You would be obeyed, and had You willed not to be disobeyed You would not be disobeyed; yet You love to be obeyed while You are disobeyed, so how is this, my Lord"]** > **["I am not questioned about what I do, while they are questioned"]** > **["Can you bundle a bundle of sunlight? Can you bring a measure of wind? Can you bring a weight of light? Likewise you cannot grasp what you asked about"]** > **["Decree is Allah's veil, so do not burden yourselves with it"]**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر تورات نازل کی ، تو انہوں نے عرض کی : ’’ اے اللہ ! تو عظمت والا پروردگار ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت ہی کی جائے ، اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، لیکن اس کے باوجود یہ صورت حال ہے کہ تیری نافرمانی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟“۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اس کے حوالے سے مجھ سے نہیں پوچھا جا سکتا ، البتہ لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) پوچھا جائے گا ‘‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بارے میں سوال کرنے سے باز آ گئے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کو مبعوث کیا اور بنی اسرائیل سے تورات کو اٹھا لینے کے بعد اُن پر تورات نازل کی ، یہاں تک کہ ان لوگوں میں سے کچھ نے یہ کہا : یہ اللہ کے بیٹے ہیں ، تو حضرت عزیر علیہ السلام نے یہ کہا : ’’ اے اللہ ! بے شک تو عظمت والا پروردگار ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ تیری نافرمانی بھی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟“۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اُس کے حوالے سے مجھ سے نہیں پوچھا جائے گا اور لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) پوچھا جائے گا ۔‘‘ حضرت عزیر علیہ السلام نے اس بات کو نہیں مانا ، یہاں تک کہ انہوں نے پھر یہی سوال کیا اور بولے : ’’ اے اللہ ! بے شک تو عظیم پروردگار ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، جبکہ تیری نافرمانی بھی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟“ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اُس کے حوالے سے مجھ سے سوال نہیں کیا جا سکتا اور لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) سوال کیا جائے گا ۔‘‘ حضرت عزیر علیہ السلام نے یہ بات نہیں مانی اور انہوں نے پھر یہی سوال کر دیا اور بولے : ’’ اے اللہ ! بے شک تو عظمت والا ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت ہی کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، لیکن پھر بھی تیری نافرمانی کی جاتی ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ اے میرے پروردگار !‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا جا سکتا ہے اور لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) سوال کیا جائے گا ۔‘‘ حضرت عزیر علیہ السلام نے یہ بات نہیں مانی ، انہوں نے پھر یہی سوال کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ تم دھوپ کی تپش میں شدت پیدا کر سکو ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو ؟ کہ تم ہوا بنا سکو ، انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ نور کا ایک مثقال لے آؤ ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسی طرح تم اس چیز پر بھی قدرت نہیں رکھتے ، جس کے بارے میں تم نے پوچھا ہے ، میں جو کرتا ہوں ، اُس کے بارے میں مجھ سے نہیں پوچھا جا سکتا اور لوگوں سے حساب لیا جائے گا ، البتہ یہ ہے کہ میں تمہیں یہ سزا دیتا ہوں کہ تمہارا نام انبیاء میں سے ( ان کا ذکر ہونے کے حوالے سے ) مٹا دیتا ہوں ، تو تمہارا ان کے درمیان ذکر نہیں کیا جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کا نام انبیاء میں سے مٹا دیا ، انبیاء کے درمیان ان کا ذکر نہیں کیا جاتا ، حالانکہ وہ نبی ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا اور انہوں نے پروردگار کی بارگاہ میں اپنی قدر و منزلت کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کا علم عطا کیا اور وہ پیدائشی نابینا اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور مردے کو زندہ کر دیتے تھے اور لوگوں کو اس چیز کے بارے میں اطلاع دیدیتے تھے ، جو وہ لوگ کھاتے تھے اور جو وہ لوگ اپنے گھروں میں سنبھال کے رکھتے تھے ( یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ) انہوں نے عرض کی : ’’ اے اللہ ! بے شک تو عظمت والا ہے ، پروردگار ہے ، اگر تو چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت ہی کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے اور تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، اور اس کے باوجود تیری نافرمانی بھی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اُس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا جا سکتا ، اور لوگوں سے حساب لیا جائے گا ، تم میرے بندے ، میرے رسول ہو اور میرا کلمہ ہو ، میں نے تمہیں مریم کی طرف القاء کیا تھا ، تم میری طرف سے آنے والی روح ہو ، میں نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، پھر تم سے یہ فرمایا : تم ہو جاؤ ! تو تم ہو گئے اگر تم اس سے باز نہ آئے تو میں تمہارے ساتھ بھی وہی کروں گا ، جو تم سے پہلے تمہارے ایک ساتھی کے ساتھ کیا تھا ، میں جو کرتا ہوں ، اُس کے بارے میں مجھ سے حساب نہیں لیا جائے گا اور لوگوں سے حساب لیا جائے گا ۔‘‘ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیروکار لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا : ’’ تقدیر ، اللہ تعالیٰ کا ’’ ستر “ ہے ، تو تم اس کے درپے نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے اور وہ جمہور کے نزیک ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک راوی مصعب بن سوار ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔