Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 33 · Chapter 2

Book of Divine Decree

Hadith 11817–11856

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11817

Majma al-Zawaid #11817

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ شَيْءٌ نَسْتَأْنِفُهُ؟ قَالَ: "" بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ "" قَالُوا: فَكَيْفَ بِالْعَمَلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" كُلٌّ مُهَيَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَحَسَّنَ إِسْنَادُهُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) reported people asked the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) whether their deeds concern a finished matter or something new. He said a finished matter. Asked how then to act, he said each is prepared for what he was created for. > **["Rather a matter already finished"]** > **["Each is prepared for what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ جو ہم عمل کرتے ہیں ، کیا اُس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، یا وہ کوئی ایسا معاملہ ہے جو نئے سرے سے رونما ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ وہ ایک ایسا معاملہ ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر شخص کے لئے وہ چیز تیار کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کی سند حسن ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ ہے ، جسے ابوحاتم اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11818

Majma al-Zawaid #11818

وَعَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ أَوْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ قَالَ: "" لَا، بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِعَ مِنْهُ ""، قَالَ: فَفِيمَ نَعْمَلُ إِذًا؟ قَالَ: "" [اعْمَلُوا] فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ». رَوَاهُ ابْنُ أَحْمَدَ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Dhu al-Lihyah al-Kilabi (may Allah be pleased with him) asked the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) whether they act in a new matter or one already finished. He said in one already finished. Asked why act, he commanded action, for each is facilitated. > **["No, rather in a matter already finished"]** > **["Act, for each is facilitated for what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ذولحیہ رضی اللہ عنہ کلابی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نئے سرے سے رونما ہونے والے کسی معاملے کی بنیاد پر عمل کرتے ہیں ؟ یا یہ ایسا معاملہ ہے جس سے فارغ ہو جا چکا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : پھر ہم عمل کیوں کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم عمل کرو ! کیونکہ ہر شخص کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔‘‘ یہ روایت ابن احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11819

Majma al-Zawaid #11819

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ أَشَيْءٌ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ شَيْءٌ مُسْتَأْنَفٌ؟ قَالَ: "" بَلْ شَيْءٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ""، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: "" كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) asked the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) whether their deeds concern what is finished or new. He said what is finished. Asked why act, he said each is facilitated. > **["Rather something already finished"]** > **["Each is facilitated for what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، جو ہم عمل کرتے ہیں ، کیا وہ ایسی چیز کے حوالے سے ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ یا وہ نئے سرے سے رونما ہونے والی کسی چیز کے حوالے سے ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلکہ وہ ایک ایسی چیز کے حوالے سے ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : پھر عمل کیوں کیا جائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11820

Majma al-Zawaid #11820

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَعْمَلُ فِيمَا جَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّ بِهِ الْقَلَمُ أَوْ شَيْءٌ نَأْتَنِفُهُ؟ قَالَ: "" بَلْ بِمَا جَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّ بِهِ الْقَلَمُ ""، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: "" اعْمَلْ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: فَالْجِدُّ إِذًا، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported a man asked the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) whether they act according to flowing measures and a dried Pen or something new. He said according to flowing measures and dried Pen. Asked why act, he commanded action. > **["Rather according to what the measures have flowed with and the Pen has dried upon"]** > **["Act, for each is facilitated for what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ایسی چیز کے حوالے سے عمل کرتے ہیں ؟ جس کے بارے میں تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے ، اور اس کے حوالے سے قلم خشک ہو چکا ہے ، یا وہ کوئی ایسا معاملہ ہے ، جسے ہم نئے سرے سے ایجاد کرتے ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ اس کے مطابق ہے ، جس کے بارے میں تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے اور قلم اُس کے بارے میں خشک ہو چکا ہے ، اس شخص نے عرض کی : پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم عمل کرو ! کیونکہ ہر شخص کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، البتہ انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ کہ حاضرین نے ایک دوسرے سے کہا : اب تو ہم بھرپور کوشش کریں گے ‘‘ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

11821

Majma al-Zawaid #11821

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أَعْمَالَنَا الَّتِي نَعْمَلُ أَمُؤَاخَذُونَ بِهَا عِنْدَ الْخَالِقِ؟ خَيْرٌ فَخَيْرٌ، وَشَرٌّ فَشَرٌّ، أَوْ شَيْءٌ قَدْ سَبَقَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ؟ قَالَ: "" يَا سُرَاقَةُ، قَدْ سَبَقَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَجَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ "". قَالَ: فَعَلَامَ نَعْمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" اعْمَلْ يَا سُرَاقَةُ، فَكُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ». قَالَ سُرَاقَةُ: الْآنَ نَجْتَهِدُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah (may Allah be pleased with them both) reported that Suraqah ibn Malik (may Allah be pleased with him) stood before the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) and asked whether their deeds incur reckoning good for good and evil for evil, or measures preceded and pens dried. He said measures preceded. Asked on what to act, he commanded action, and Suraqah resolved to strive. > **["O Suraqah, the measures have preceded concerning it and the pens have dried concerning it"]** > **["Act, O Suraqah, for every worker is facilitated for what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے اعمال ، جو ہم کرتے ہیں ، اُن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ کیا ان کے حوالے سے خالق کے سامنے ہمارا مواخذہ ہو گا ؟ کہ اگر اچھے عمل ہوئے ، تو اچھا انجام ہو گا اور اگر برے عمل ہوئے ، تو برا انجام ہو گا ، یا پھر یہ کوئی ایسی چیز ہے کہ جس کے بارے میں تقدیر کا حکم پہلے سے طے ہو چکا ہے ، اور قلم اس کے حوالے سے خشک ہو چکا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سراقہ ! اس کے بارے میں تقدیر کا حکم پہلے سے آ چکا ہے اور قلم اس کے حوالے سے خشک ہو چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے سراقہ ! تم عمل کرو ! کیونکہ ہر عمل کرنے والے کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ، حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر تو ہم بھرپور کوشش کریں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11822

Majma al-Zawaid #11822

وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَعْمَلُ شَيْئًا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَمْ نَسْتَأْنِفُ الْعَمَلَ؟ قَالَ: " بَلْ لِعَمَلٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلٌّ مُيَسَّرٌ لَهُ عَمَلُهُ "، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْآنَ الْجِدُّ الْآنَ الْجِدُّ»، قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Suraqah ibn Malik ibn Jushum al-Mudliji (may Allah be pleased with him) asked the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) whether they act upon what is finished or begin anew. He said for a finished deed. Asked why act, he said each is facilitated his deed, then stressed earnestness twice. > **["Rather for a deed already finished"]** > **["Each is facilitated his deed"]** > **["Now earnestness, now earnestness"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم ایسی چیز کے حوالے سے عمل کرتے ہیں ؟ جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، یا ہم نئے سرے سے عمل کرتے ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلکہ یہ عمل ایسا ہے کہ جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر ایک کے لئے اس کے مخصوص عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اب بھرپور کوشش ہو گی ، اب بھرپور کوشش ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11823

Majma al-Zawaid #11823

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «فَرَغَ اللَّهُ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَمْسٍ: مِنْ أَجَلِهِ، وَرِزْقِهِ، وَأَثَرِهِ، وَمَضْجَعِهِ، وَفِي رِوَايَةٍ "" وَعَمَلِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) said he heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say Allah has finished for each servant five: his term, provision, trace, resting place, and in one narration his deed. > **["Allah has finished for each servant five: his term, his provision, his trace, his resting place, and his deed"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ ہر بندے کے حوالے سے ، پانچ چیزوں سے فارغ ہو چکا ہے ، اس کی موت کا مخصوص وقت ، اس کا رزق ، اس کی زندگی ، اس کے مرنے کا مقام اور اس کا بدنصیب یا خوش نصیب ہونا “۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” اور اس کا عمل ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

11824

Majma al-Zawaid #11824

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَرْبَعٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُنَّ: الْخَلْقُ، وَالْخُلُقُ، وَالرِّزْقُ، وَالْأَجَلُ لَيْسَ أَحَدٌ بِأَكْسَبَ مِنْ أَحَدٍ، وَقَالَ: الصَّدَقَةُ جَائِزَةٌ قُبِضَتْ أَوْ لَمْ تُقْبَضْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَثَّقَهُ الْحَاكِمُ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ فِي السُّنَنِ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ فِي أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) said four are finished: creation, character, provision and term; none earns more than another. He added that charity is valid whether taken possession of or not. > **["Four are finished: creation, character, provision and term; none is a greater earner than another"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : چار چیزوں کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، ظاہری شکل و صورت ، اخلاق ، رزق اور موت ، کوئی شخص کسی دوسرے کے بہ نسبت زیادہ نہیں کمائے گا ۔ وہ یہ فرماتے ہیں : صدقہ جائز ہے ، خواہ اسے قبضے میں لیا گیا ہو ، یا قبضے میں نہ لیا گیا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے ، جسے امام حاکم نے اور امام دارقطنی نے ’’ سنن ‘‘ میں ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ، جو دو اسناد میں سے ایک کے رجال ہیں ، وہ ثقہ ہیں ۔

11825

Majma al-Zawaid #11825

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «فُرِغَ لِابْنِ آدَمَ مِنْ أَرْبَعٍ: الْخَلْقُ، وَالْخُلُقُ، وَالرِّزْقُ، وَالْأَجَلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ فِي سُنَنِهِ، وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that four are finished for the son of Adam: creation, character, provision and term. > **["Four are finished for the son of Adam: creation, character, provision and term"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ انسان کی چار چیزوں کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، ظاہری شکل و صورت ، اخلاق ، رزق اور موت ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، امام حاکم نے اور امام دارقطنی نے اپنی ’’ سنن ‘‘ میں اسے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ دیگر کتابوں میں انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

11826

Majma al-Zawaid #11826

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «ذُكِرَ زِيَادَةُ الْعُمُرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" {وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا} [المنافقون: 11]»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) reported that increase of lifespan was mentioned before the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), who recited the meaning that Allah never delays a soul when its term arrives, then continued the narration. > **["Allah never delays a soul when its term arrives"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے عمر میں اضافے کا ذکر کیا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی جان کا مخصوص وقت آ جائے ، تو اللہ تعالیٰ اُسے مؤخر نہیں کرتا ہے ‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عطاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11827

Majma al-Zawaid #11827

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَنْ مَكَانِهِ فَصَدِّقُوا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ زَالَ عَنْ خُلُقِهِ فَلَا تُصَدِّقُوا بِهِ، فَإِنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الدَّرْدَاءِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) reported they were discussing future events when the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said to believe a mountain moved if heard, but not to believe a man abandoned his inborn character, for he returns to what he was fashioned upon. > **["When you hear that a mountain has moved from its place, believe it; and when you hear that a man has departed from his character, do not believe it, for he shall return to what he was fashioned upon"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں اس چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے جو ہو گا ، اُسی دوران نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم کسی پہاڑ کے بارے میں سنو ، کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے ، تو اس بات کی تصدیق کرو اور جب تم کسی شخص کے بارے میں سنو کہ وہ اپنے مخصوص اخلاق سے ہٹ گیا ہے ، تو تم اس کی تصدیق نہ کرو ، کیونکہ وہ وہی کام کرے گا جو اس کی جبلت میں رکھا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ زہری نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

11828

Majma al-Zawaid #11828

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فَذَكَرَ الْقَوْمُ رَجُلًا فَذَكَرُوا مِنْ خُلُقِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ قَطَعْتُمْ رَأْسَهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تُعِيدُوهُ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَيَدُهُ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَرِجْلُهُ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّكُمْ لَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تُغَيِّرُوا خُلُقَهُ حَتَّى تُغَيِّرُوا خَلْقَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Rabiah reported they were with Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) when people mentioned a man's character. He asked whether cutting his head, hand or foot could be restored; they said no. He concluded they cannot change his character till they change his creation. > **["Do you think if you cut off his head you could restore it? Could you restore his hand? His foot? Then you cannot change his character until you change his creation"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کیا اور اس کے اخلاق کا ذکر کیا ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر تم لوگ اس کا سر کاٹ دو ، تو کیا تم لوگ یہ استطاعت رکھتے ہو کہ اس سر کو دوبارہ اس کی جگہ پر لگا دو ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر اس کے ہاتھ کے ساتھ ایسا کرو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر اُس کے پاؤں کے ساتھ ایسا کرو ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم بھی یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ تم اس کے اخلاق تبدیل کرو ، جب تک تم یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ تم اُس کی ظاہری تخلیق تبدیل کرو ....... اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11829

Majma al-Zawaid #11829

عَنْ أَبِي عُرْوَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدِهِ بِأَرْضٍ وَلَّى لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ قَبَضَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ - وَقَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ - وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Urwah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said when Allah wills to take a servant's soul in a land, He assigns him a need toward it, and when he reaches his farthest trace, He takes him. > **["When Allah wills to take His servant in a land, He assigns him a need toward it; when he reaches his farthest trace, He takes him"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعروہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی سرزمین پر کسی بندے کی روح قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو اسے اس علاقے میں کسی کام کے سلسلے میں بھیج دیتا ہے ، جب آدمی اپنے مخصوص مقام تک پہنچ جاتا ہے ، تو وہ اُس کی روح کو قبض کر لیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اسے امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن موسیٰ حرشی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

11830

Majma al-Zawaid #11830

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْبِضَ عَبْدًا بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ بِهَا حَاجَةً وَلَا تَنْتَهِي حَتَّى يَقْدَمَهَا ""، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ سُورَةِ لُقْمَانَ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ} [لقمان: 34]، حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هَذِهِ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ.

EnglishUnverified translation

From Abu Urwah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said when Allah wills to take a servant in a land He makes for him a need there that does not end till he arrives. Then he recited the end of Surah Luqman on the Hour, rain, wombs and souls, sealed it, and said these are the keys of the unseen known only to Allah. > **["When Allah wills to take a servant in a land, He makes for him a need there, and it does not end until he comes to it"]** > **["These are the keys of the unseen; none knows them but Allah"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی سرزمین پر کسی بندے کی روح قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو اس بندے کے لئے اس علاقے میں کوئی کام بنا دیتا ہے ، اور آخرکار بندہ اس علاقہ تک پہنچ جاتا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے سورت لقمان کے آخر میں موجود یہ آیت تلاوت کی : ’’ بے شک قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور رحم میں جو کچھ ہے ، وہ اُس کے بارے میں جانتا ہے .......‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ پوری آیت تلاوت کی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ غیب کی کنجیاں ہیں ، جنہیں صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے اور وہ متروک ہے ، اس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے ، امام ابوداؤد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

11831

Majma al-Zawaid #11831

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جُعِلَتْ مَنِيَّةُ عَبْدٍ بِأَرْضٍ إِلَّا جُعِلَ لَهُ فِيهَا حَاجَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجَنَائِزِ فِي دَفْنِ كُلِّ مَيِّتٍ فِي التُّرْبَةِ الَّتِي خُلِقَ مِنْهَا.

EnglishUnverified translation

Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said no servant's death is appointed in a land except that a need is made for him therein. > **["No servant's death is appointed in a land except that a need is made for him therein"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کسی بندے کی موت ، کسی مخصوص سرزمین پر آنی ہو ، تو اس بندے کے لئے اُس جگہ پر کوئی کام بنا دیا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الجنائز میں گزر چکی ہے ، جن میں یہ بات مذکور ہے کہ ہر میت کو اسی مٹی میں دفن کیا جاتا ہے ، جس مٹی سے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔

11832

Majma al-Zawaid #11832

عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ صَانِعٍ وَصَنْعَتَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْكُرْدِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that Allah created every maker and his making. > **["Allah created every maker and his making"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے ہر کاریگر کو اور اس کی کاریگری کو پیدا کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف احمد بن عبداللہ ابوالحسین بن کردی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11833

Majma al-Zawaid #11833

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةٌ، وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that everything has a reality, and no servant reaches the reality of faith till he knows what struck him could not have missed him and what missed him could not have struck him. > **["Everything has a reality, and no servant reaches the reality of faith until he knows that what struck him could not have missed him, and what missed him could not have struck him"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور بندہ ایمان کی حقیقت تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک وہ یہ بات نہ جان لے کہ جو چیز اسے ملنی ہے ، وہ اسے ملے بغیر نہیں رہے گی ، اور جو چیز اُسے نہیں ملتی ہے ، وہ اُسے نہیں ملے گی “۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اسے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔

11834

Majma al-Zawaid #11834

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا يُؤْمِنُ الْمَرْءُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said a person does not believe till he believes in decree, its good and evil. > **["A person does not believe until he believes in decree, its good and its evil"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آدمی اُس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا ، خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

11835

Majma al-Zawaid #11835

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأُمُورُ كُلُّهَا خَيْرُهَا وَشَرُّهَا مِنَ اللَّهِ ""، وَقَالَ: "" الْقَدَرُ نِظَامُ التَّوْحِيدِ، فَمَنْ وَحَّدَ اللَّهَ وَآمَنَ بِالْقَدَرِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said all matters, good and evil, are from Allah, and decree is the system of oneness; whoever affirms Allah and believes in decree holds the firmest handle. > **["All matters, their good and evil, are from Allah"]** > **["Decree is the system of oneness; whoever affirms Allah and believes in decree has held to the firmest handle"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمام امور ، خواہ وہ اچھے ہوں یا برے ہوں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ تقدیر ، توحید کا نظام ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہو اور تقدیر پر ایمان رکھتا ہو ، اُس نے مضبوط رسّی کو مضبوطی سے تھام لیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11836

Majma al-Zawaid #11836

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ جَالِسًا، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: قَدَّرَ اللَّهُ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْأَعْمَالَ، فَقَالَ: فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبَ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ حَتَّى هَمَّ بِالْقِيَامِ، ثُمَّ سَكَنَ، فَقَالَ: تَكَلَّمُوا بِهِ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ فِيهِمْ حَدِيثًا كَفَاهُمْ بِهِ شَرًّا، وَيْحَهُمْ لَوْ يَعْلَمُونَ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، مَا هُوَ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ وَقَدْ سَكَنَ بَعْضُ غَضَبِهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَكُونُ قَوْمٌ فِي أُمَّتِي يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَبِالْقُرْآنِ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ كَمَا كَفَرَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ""، قَالَ: قُلْتُ: جُعِلْتُ فِدَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: "" يُقِرُّونَ بِبَعْضِ الْقَدَرِ وَيَكْفُرُونَ بِبَعْضِهِ ""، قَالَ: قُلْتُ: [ثُمَّ] مَا يَقُولُونَ؟ قَالَ: "" يَقُولُونَ: الْخَيْرُ مِنَ اللَّهِ وَالشَّرُّ مِنْ إِبْلِيسَ، فَيُقِرُّونَ عَلَى ذَلِكَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَكْفُرُونَ بِالْقُرْآنِ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَالْمَعْرِفَةِ، فَمَا تَلْقَى أُمَّتِي مِنْهُمْ مِنَ الْعَدَاوَةِ وَالْبَغْضَاءِ وَالْجِدَالِ، أُولَئِكَ زَنَادِقَةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي زَمَانِهِمْ، يَكُونُ ظُلْمُ السُّلْطَانِ فَيَا لَهُ مِنْ ظُلْمٍ وَحَيْفٍ وَأَثَرَةٍ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِمْ طَاعُونًا فَيُفْنِي عَامَّتَهُمْ، ثُمَّ يَكُونُ الْخَسْفُ، فَمَا أَقَلَّ مَنْ يَنْجُو مِنْهُمْ، الْمُؤْمِنُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ فَرَحُهُ شَدِيدٌ غَمُّهُ، ثُمَّ يَكُونُ الْمَسْخُ فَيَمْسَخُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَامَّةَ أُولَئِكَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ قَرِيبًا ""، ثُمَّ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَكَيْنَا لِبُكَائِهِ فَقُلْنَا: مَا يُبْكِيكَ؟ فَقَالَ: "" رَحْمَةً لَهُمُ الْأَشْقِيَاءُ لِأَنَّ فِيهِمُ الْمُتَعَبِّدَ وَمِنْهُمُ الْمُتَهَجِّدَ، وَمَعَ أَنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَى هَذَا الْقَوْلِ وَضَاقَ بِحَمْلِهِ ذَرْعًا، إِنَّ عَامَّةَ مَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِالتَّكْذِيبِ بِالْقَدَرِ ""، قُلْتُ: جُعِلْتُ فِدَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقُلْ لِي كَيْفَ الْإِيمَانُ بِالْقَدَرِ؟ قَالَ: "" تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، وَأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ مَعَهُ [أَحَدٌ] ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، وَتُؤْمِنُ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَتَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ خَالِقُهُمَا قَبْلَ خَلْقِ الْخَلْقِ، ثُمَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فَجَعَلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَمَنْ شَاءَ مِنْهُمْ لِلنَّارِ عَدْلًا ذَلِكَ مِنْهُ، وَكُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا فُرِغَ لَهُ مِنْهُ وَهُوَ صَائِرٌ لِمَا فُرِغَ مِنْهُ ""، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ فِي أَحْسَنِهَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Shuayb reported he sat with Said ibn al-Musayyib when a man said Allah decreed all but deeds, provoking intense anger. Said then related from Rafi ibn Khadij (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) warned of a people in his nation disbelieving Allah and Quran unknowingly like Jews and Christians, affirming part of decree and denying part, saying good is from Allah and evil from Iblis, incurring enmity, tyranny, plague, sinking, transformation and the Dajjal; he wept in mercy though among them are worshippers, and taught true faith in decree. > **["There shall be a people in my nation who disbelieve in Allah and the Quran while unaware, as the Jews and Christians disbelieved"]** > **["They affirm part of decree and deny part of it"]** > **["They say: good is from Allah and evil is from Iblis"]** > **["Believe in Allah alone, that none besides Him owns harm or benefit; believe in Paradise and Fire; know Allah created them before creation, then placed whom He willed in Paradise and whom He willed in Fire as justice from Him; each works for what was finished for him and shall end at what was finished for him"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں : میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے ایک شخص کو سنا ، جو یہ کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اعمال کے علاوہ ہر چیز تقدیر میں طے کر دی ہے ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے سعید بن مسیب کو اس سے زیادہ شدید غصے میں کبھی نہیں دیکھا ، یہاں تک کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اُٹھ کر ( اس شخص کی پٹائی کریں ) پھر ان کا غصہ ذرا کم ہوا ، تو انہوں نے فرمایا : یہ لوگ اس بارے میں کلام کر رہے ہیں ، اللہ کی قسم ! میں نے ان لوگوں کے بارے میں ایک حدیث سنی ہوئی ہے جو ان کے برا ہونے کے لئے کافی ہے ، ان کا ستیاناس ہو ! کاش یہ لوگ علم رکھتے ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، اے ابومحمد ! وہ حدیث کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : انہوں نے میری طرف دیکھا ، اس دوران ان کا غصہ کچھ کم ہو گیا تھا ، پھر انہوں نے بتایا : حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت میں ایک قوم ہو گی ، جو اللہ تعالیٰ کا اور قرآن کا انکار کریں گے اور انہیں اس کا شعور بھی نہیں ہو گا ، اور وہ اس طرح کریں گے ، جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں نے کفر کیا تھا ۔‘‘ حضرت رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کر دے ، وہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کچھ تقدیر کا اقرار کریں گے ، اور تقدیر کے کچھ حصے کا انکار کریں گے ، راوی کہتے ہیں : پھر میں نے دریافت کیا : وہ لوگ کیا کہیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ یہ کہیں گے کہ بھلائی ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برائی ، ابلیس کی طرف سے ہے ، اور پھر وہ اس چیز کی نسبت ، اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف کر دیں گے ، تو وہ ایمان لانے کے بعد اور معرفت رکھنے کے بعد ، قرآن کے منکر ہو جائیں گے ، اور پھر میری امت کو ان لوگوں کی طرف سے دشمنی ، بغض اور لڑائی کا سامنا کرنا پڑے گا ، یہ لوگ اس امت کے زندیق ہوں گے ، ان کے زمانے میں حکمرانوں کا ظلم ہو گا ، کاش ان کے لئے ظلم اور ترجیحی سلوک اور زیادتی ہوئی ، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر طاعون کو بھیجے گا ، جو ان کے زیادہ تر لوگوں کو فنا کر دے گا ، پھر انہیں زمین میں دھنسایا جائے گا ، ان میں سے تھوڑے سے لوگ ہی اس سے نجات پائیں گے ، اس زمانے میں مؤمن کی خوشی کم ہو گی اور پریشانی زیادہ ہو گی ، پھر مسخ کرنے کا عذاب ہو گا ، اللہ تعالیٰ ان کے زیادہ تر لوگوں کو مسخ کر دے گا اور وہ خنزیر اور بندر بن جائیں گے اور اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد دجال کا خروج ہو گا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ رونے لگے ، آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے ، ہم نے عرض کی : آپ کس بات پر رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان لوگوں کے لئے رحمت کی وجہ سے وہ بدنصیب لوگ ہوں گے ، کیونکہ ان میں عبادت گزار بھی ہوں گے ، ان میں تہجد گزار بھی ہوں گے اور اس کے ساتھ یہ پہلے لوگ نہیں ہیں ، جو اس موقف کو اختیار کریں گے اور اس کے بارے میں آستینیں چڑھائیں گے ، بنی اسرائیل کے زیادہ تر لوگ تقدیر کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ پر فدا ہو جاؤں ، آپ مجھے بتائیے کہ تقدیر پر ایمان کیسے ہونا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھو اور اس بات پر ایمان رکھو کہ اس کے علاوہ اور کوئی بھی ، کسی قسم کا نقصان کرنے یا نفع پہنچانے کا مالک نہیں ہے ، اور تم جنت اور جہنم پر ایمان رکھو اور تم یہ بات جان لو ! کہ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں ( یعنی جنت اور جہنم ) کو پیدا کر دیا تھا ، پھر اس نے اپنی مخلوق ( یعنی بنی نوع انسان ) کو پیدا کیا اور اُن میں سے جس کو چاہا اسے جنت کے لئے بنا دیا اور ان میں سے جس کو چاہا اسے جہنم کے لئے بنا دیا ، اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے عدل کے طور پر ہے اور ہر ایک اُس کے مطابق عمل کرے گا ، جس حوالے سے اس کی طرف سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، اور ہر ایک شخص اس طرف جائے گا ، جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے “ تو میں نے کہا : اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے سب سے بہتر سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔

11837

Majma al-Zawaid #11837

وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ «أَنَّ عُبَادَةَ لَمَّا حَضَرَ قَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: يَا أَبَتَاهُ، أَوْصِنِي، قَالَ: أَجْلِسُونِي، فَأَجْلَسُوهُ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، اتَّقِ اللَّهَ، وَلَنْ تَتَّقِيَ اللَّهَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَلَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، وَأَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَإِنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " الْقَدَرُ عَلَى هَذَا، مَنْ مَاتَ عَلَى غَيْرِهِ دَخَلَ النَّارَ ".

EnglishUnverified translation

Al-Walid ibn Ubadah reported that when Ubadah (may Allah be pleased with him) neared death, his son Abd al-Rahman asked counsel. Seated upright, he enjoined fear of Allah, which requires faith in Allah, which requires faith in decree good and evil and certainty that what struck could not miss, citing the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). > **["O my son, fear Allah; you shall not fear Allah until you believe in Allah, and you shall not believe in Allah until you believe in decree, its good and evil, and that what struck you could not have missed you, and what missed you could not have struck you"]** > **["Decree is upon this; whoever dies upon other than it enters the Fire"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ولید بن عبادہ بیان کرتے ہیں جب حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو ان کے صاحبزادے عبدالرحمن نے ان سے گزارش کی : ابا جان ! آپ ہمیں کوئی نصیحت کیجئے ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھے بٹھاؤ ! لوگوں نے انہیں بٹھایا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹو ! تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور تم اللہ تعالیٰ سے اس وقت تک نہیں ڈرو گے ، جب تک تم اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے اور تم اللہ تعالیٰ پر اس وقت تک ایمان نہیں رکھو گے ، جب تک تم اچھی اور بری ، ہر قسم کی تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے ، اور یہ نہیں جان لیتے کہ جو چیز تمہیں ملنی ہے ، وہ تمہیں ملے بغیر نہیں رہے گی اور جو چیز تمہیں نہیں ملنی ہے ، وہ تمہیں نہیں ملے گی ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تقدیر پر ایمان ، اس کے مطابق ہوتا ہے ، جو شخص اس کے علاوہ پر مرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ۔‘‘

11838

Majma al-Zawaid #11838

وَفِي رِوَايَةٍ " لَمْ يَطْعَمْ طَعْمَ الْإِيمَانِ، [وَ] إِنَّكَ لَنْ تَبْلُغَ حَقِيقَةَ الْعِلْمِ بِاللَّهِ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ»، قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مَوْقُوفًا بِاخْتِصَارٍ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ وَفِي الْأَوْسَطِ، وَفِي أَحَدِهِمَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration Ubadah (may Allah be pleased with him) added that one does not taste faith nor reach true knowledge of Allah till believing in decree. > **["He has not tasted the taste of faith, and you shall not reach the reality of knowledge of Allah until you believe in decree"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ وہ ایمان کا ذائقہ نہیں چکھے گا ، تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم کی حقیقت تک ، اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتے ، جب تک تم تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر اور مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کی سند میں ایک راوی عثمان بن ابوعاتکہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

11839

Majma al-Zawaid #11839

وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ «أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْقَدَرِ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ خَاصَمْتُ أَهْلَ الْقَدَرِ حَتَّى أَخْرَجُونِي، فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُحَدِّثُونِي؟ فَقَالُوا: لَوْ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَذَّبَ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ عَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ، وَلَوْ أَدْخَلَهُمْ فِي رَحْمَتِهِ كَانَتْ رَحْمَتُهُ أَوْسَعَ مِنْ ذُنُوبِهِمْ، وَلَكِنَّهُ كَمَا قَضَى {يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ} [العنكبوت: 21]، فَمَنْ عُذِّبَ فَهُوَ الْحَقُّ، وَمَنْ رُحِمَ فَهُوَ الْحَقُّ، وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا قُبِلَ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، ثُمَّ قَالَ عِمْرَانُ لِأَبِي الْأَسْوَدِ حِينَ حَدَّثَهُ الْحَدِيثَ: سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعَهُ مَعِي عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَسَأَلَهُمَا أَبُو الْأَسْوَدِ، فَحَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Aswad al-Duali reported he asked Imran ibn Husayn, Abdullah ibn Masud and Ubayy ibn Kab (may Allah be pleased with them) about decree after disputing deniers till expelled. They answered that if Allah punished heaven and earth He would not wrong, His mercy is wider than sins, but He decreed to punish and mercy whom He wills in truth, and even Uhud-like gold spent in Allah's path is rejected till one believes in decree good and evil. Imran said he heard it from the Prophet with the other two present. > **["Had Allah punished the folk of heaven and earth He would have punished them without wronging, and had He admitted them into His mercy His mercy would be wider than their sins; but He decreed as He said: He punishes whom He wills and mercies whom He wills; whom He punishes is justice, and whom He mercies is justice; had you gold like Uhud to spend in Allah's path, it would not be accepted till you believe in decree, its good and evil"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسود دؤلی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا اور بولے : میں قدریہ فرقے کے لوگوں کے ساتھ بحث کرتا رہا ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے مجھے نکال دیا ، تو کیا آپ لوگوں کے پاس اس حوالے سے کوئی علم ہے ؟ اگر ہے تو آپ مجھے بیان کریں ! ان حضرات نے یہ فرمایا : ’’ اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان والوں اور زمین کو والوں عذاب دے ، تو وہ انہیں عذاب دیتے ہوئے ظلم کرنے والا نہیں ہو گا اور اگر وہ اُن سب کو اپنی رحمت میں داخل کر لے ، تو اُس کی رحمت ان لوگوں کے گناہوں کے مقابلے میں زیادہ وسعت والی ہے ، لیکن صورت حال اسی طرح ہے ، جس طرح اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جسے چاہے گا ، اسے عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا ، اس پر رحم کرے گا ، تو جسے وہ عذاب دے گا ، تو یہ بھی حق کے مطابق ہو گا ، اور جس پر وہ رحم کرے گا ، تو یہ بھی حق کے مطابق ہو گا ، اگر تمہارے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہو ، اور اُسے تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو ، تو یہ تمہاری طرف سے اُس وقت تک قبول نہیں ہو گا ، جب تک تم اچھی اور بری ، ہر قسم کی تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پھر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ابواسود دؤلی کو یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا : میں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ، اور میرے ساتھ یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بھی سنی ہے ، ابواسود نے اُن دونوں صاحبان سے یہ سوال کیا ، تو ان دونوں حضرات نے بھی نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث انہیں بیان کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس طریق کے رجال ثقہ ہیں ۔

11840

Majma al-Zawaid #11840

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَعْجَلْ عَلَى شَيْءٍ تَظُنُّ أَنَّكَ إِنِ اسْتَعْجَلْتَ إِلَيْهِ أَنَّكَ مُدْرِكُهُ إِنْ كَانَ اللَّهُ لَمْ يُقَدِّرْ ذَلِكَ، وَلَا تَسْتَأْخِرَنَّ عَنْ شَيْءٍ تَظُنُّ أَنَّكَ إِنِ اسْتَأْخَرْتَ عَنْهُ أَنَّهُ مَدْفُوعٌ عَنْكَ إِنْ كَانَ اللَّهُ قَدْ قَدَّرَهُ عَلَيْكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Abi Sufyan (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) forbade hastening toward what one thinks attainable if Allah did not decree it, or holding back from what one thinks avoidable if Allah decreed it upon him. > **["Do not hasten toward a thing thinking that by hastening you shall attain it if Allah did not decree it; nor hold back from a thing thinking that by holding back it shall be repelled from you if Allah decreed it upon you"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم کسی چیز کے حوالے سے یوں جلدی نہ کرو کہ تم یوں سمجھتے ہو کہ اگر تم نے اس کے بارے میں جلدی کر لی ، تو تم اس تک پہنچ جاؤ گے ، اگر اللہ تعالیٰ نے وہ تمہارے نصیب میں نہ لکھی ہو اور تم کسی چیز کے حوالے سے اس وجہ سے تاخیر نہ کرو کہ تم یہ سمجھو کہ اگر تم نے تاخیر کی ، تو وہ تم سے پرے ہو جائے گی ، اگر اللہ تعالیٰ نے اُسے تمہارے بارے میں ، تقدیر میں طے کر دیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن مجاہد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11841

Majma al-Zawaid #11841

وَعَنِ الْحَارِثِ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَبُلُّ إِصْبَعَهُ فِي فِيهِ ثُمَّ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا يَجِدُ عَبْدٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَيَعْلَمَ أَنَّهُ مَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Harith reported he saw Ibn Masud (may Allah be pleased with him) moisten his finger in his mouth then swear that no servant finds faith's taste till believing in decree and knowing he shall die then be raised after death. > **["By Allah, no servant finds the taste of faith until he believes in decree, and knows that he shall die then be raised after death"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے منہ میں انگلی ڈال کر اسے تر کیا اور پھر ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! انسان ، ایمان کا ذائقہ اس وقت تک نہیں پا سکتا ، جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا اور یہ بات جان نہیں لیتا کہ ایک دن وہ مر جائے گا اور پھر مرنے کے بعد اُسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حارث نامی راوی ضعیف ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11842

Majma al-Zawaid #11842

وَعَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الْأَزْدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ بِأَصْبَهَانَ يَقُولُ: لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو الْحَجَّاجِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Hajjaj al-Azdi said he heard Salman al-Farisi (may Allah be pleased with him) at Isfahan say no servant believes till knowing what struck him could not miss him and what missed him could not strike him. > **["No servant believes until he knows that what struck him could not have missed him, and what missed him could not have struck him"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحجاج ازدی بیان کرتے ہیں : میں نے اصبہان میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ بندہ اُس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک وہ یہ بات نہیں جان لیتا کہ جو چیز اسے ملنی ہے وہ اسے ملے بغیر نہیں رہے گی ، اور جو چیز اسے نہیں ملنی ہے ، وہ اسے نہیں ملے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوحجاج نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11843

Majma al-Zawaid #11843

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: "" إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ أَنْبِيَاءَهُمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَيْهِمْ، وَلَنْ يُؤْمِنَ أَحَدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn al-As (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) came, stood over them, and said past nations perished by questioning their prophets and differing over them, and none believes till believing in decree good and evil. > **["Those before you perished only by questioning their prophets and differing over them; none shall believe until he believes in decree, its good and evil"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور لوگوں کے پاس ٹھہر گئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے ( غیر ضروری ) سوالات کرنے کی وجہ سے اور اُن سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، اور کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ اچھی اور بری ( ہر قسم کی ) تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11844

Majma al-Zawaid #11844

وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الْكُوفَةَ، فَأَتَيْتُهُ فِي نَاسٍ مِنْ عُلَمَاءِ الْكُوفَةِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ شَابٌّ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُسْلِمَ، فَقَالَ: "" يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ""، قُلْتُ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "" تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ كُلِّهَا خَيْرِهَا وَشَرِّهَا حُلْوِهَا وَمُرِّهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي بَابِ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Amir al-Shabi reported that Adi ibn Hatim (may Allah be pleased with him) came to Kufa, and youths among Kufa scholars asked a Prophetic narration. He said he came to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) to submit, was told to submit and be safe, asked what Islam is, and was told testimony and faith in all decrees sweet bitter. > **["O Adi ibn Hatim, submit and be safe"]** > **["Bear witness none is worthy of worship but Allah, bear witness I am Allah's Messenger, and believe in all decrees, their good and evil, sweet and bitter"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے ، علمائے کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ ، میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں ان دنوں نوجوان تھا ، ہم نے گزارش کی کہ آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، میں اسلام قبول کرنے کے لئے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عدی بن حاتم ! تم اسلام قبول کر لو ، تم سلامت رہو گے ، میں نے عرض کی : اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور تم اس بات کی گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور تم ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو ، خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ، میٹھی ہو یا کڑوی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس نوعیت کی کچھ احادیث اس باب میں آئیں گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے ۔

11845

Majma al-Zawaid #11845

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لَأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ [فَانْتَهَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ]، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عُزَيْرًا، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ التَّوْرَاةَ بَعْدَمَا كَانَ رَفَعَهَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى قَالَ مَنْ قَالَ مِنْهُمْ: إِنَّهُ ابْنُ اللَّهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ أُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ [فِي ذَلِكَ] تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ أُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ أُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَأَبَتْ نَفْسُهُ حَتَّى سَأَلَ أَيْضًا، قَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصِرَّ صُرَّةً مِنَ الشَّمْسِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَجِيءَ بِمِكْيَالٍ مِنْ رِيحٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَأْتِيَ بِمِثْقَالٍ مِنْ نُورٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَكَذَا لَا تَقْدِرُ عَلَى الَّذِي سَأَلْتَ عَنْهُ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، أَمَا إِنِّي لَا أَجْعَلُ عُقُوبَتَكَ إِلَّا أَنْ أَمْحِيَ اسْمَكَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَلَا تُذْكَرُ فِيهِمْ، فَمَحَى اسْمَهُ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَلَيْسَ يُذْكَرُ فِيهِمْ وَهُوَ نَبِيٌّ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عِيسَى، وَرَأَى مَنْزِلَتَهُ مِنْ رَبِّهِ، وَعَلَّمَهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، وَيُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، وَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا يَأْكُلُونَ وَمَا يَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِهِمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبٌّ عَظِيمٌ، لَوْ شِئْتَ أَنْ تُطَاعَ لَأُطِعْتَ، وَلَوْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْصَى مَا عُصِيتَ، وَأَنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَاعَ وَأَنْتَ فِي ذَلِكَ تُعْصَى، فَكَيْفَ هَذَا يَا رَبِّ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، وَأَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، وَكَلِمَتِي أَلْقَيْتُكَ إِلَى مَرْيَمَ، وَرُوحٌ مِنِّي، خَلَقْتُكَ مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ قُلْتُ لَكَ: كُنْ فَكُنْتَ، لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ كَمَا فَعَلْتُ بِصَاحِبِكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، إِنِّي لَا أُسْأَلُ عَمَّا أَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ، فَجَمَعَ عِيسَى مَنْ تَبِعَهُ، فَقَالَ: الْقَدَرُ سِتْرُ اللَّهِ فَلَا تَكَلَّفُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا، وَمُصْعَبُ بْنُ سَوَّارٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that when Allah sent Musa (peace be upon him) with the Torah, Musa asked how the Great Lord who could enforce obedience is yet disobeyed though He loves obedience. Allah answered He is not questioned while they are questioned, so Musa desisted. Uzayr, after the Torah was lifted then restored till some claimed he was Allah's son, repeated the question thrice; Allah asked whether he could bundle sunlight, measure wind or weigh light, warned likewise, and erased his name from among Prophets though a prophet. When Isa (peace be upon him), honored with Book, wisdom, Torah, Gospel and miracles, asked likewise, Allah reminded him he is servant, messenger, word cast to Maryam, spirit from Him, created from dust by Be, warned as his predecessor, so Isa told followers decree is Allah's veil. > **["O Allah, You are a Great Lord; had You willed to be obeyed You would be obeyed, and had You willed not to be disobeyed You would not be disobeyed; yet You love to be obeyed while You are disobeyed, so how is this, my Lord"]** > **["I am not questioned about what I do, while they are questioned"]** > **["Can you bundle a bundle of sunlight? Can you bring a measure of wind? Can you bring a weight of light? Likewise you cannot grasp what you asked about"]** > **["Decree is Allah's veil, so do not burden yourselves with it"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر تورات نازل کی ، تو انہوں نے عرض کی : ’’ اے اللہ ! تو عظمت والا پروردگار ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت ہی کی جائے ، اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، لیکن اس کے باوجود یہ صورت حال ہے کہ تیری نافرمانی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟“۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اس کے حوالے سے مجھ سے نہیں پوچھا جا سکتا ، البتہ لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) پوچھا جائے گا ‘‘ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس بارے میں سوال کرنے سے باز آ گئے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کو مبعوث کیا اور بنی اسرائیل سے تورات کو اٹھا لینے کے بعد اُن پر تورات نازل کی ، یہاں تک کہ ان لوگوں میں سے کچھ نے یہ کہا : یہ اللہ کے بیٹے ہیں ، تو حضرت عزیر علیہ السلام نے یہ کہا : ’’ اے اللہ ! بے شک تو عظمت والا پروردگار ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ تیری نافرمانی بھی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟“۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اُس کے حوالے سے مجھ سے نہیں پوچھا جائے گا اور لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) پوچھا جائے گا ۔‘‘ حضرت عزیر علیہ السلام نے اس بات کو نہیں مانا ، یہاں تک کہ انہوں نے پھر یہی سوال کیا اور بولے : ’’ اے اللہ ! بے شک تو عظیم پروردگار ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، جبکہ تیری نافرمانی بھی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟“ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اُس کے حوالے سے مجھ سے سوال نہیں کیا جا سکتا اور لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) سوال کیا جائے گا ۔‘‘ حضرت عزیر علیہ السلام نے یہ بات نہیں مانی اور انہوں نے پھر یہی سوال کر دیا اور بولے : ’’ اے اللہ ! بے شک تو عظمت والا ہے ، اگر تو یہ چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت ہی کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے ، اور تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، لیکن پھر بھی تیری نافرمانی کی جاتی ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ اے میرے پروردگار !‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا جا سکتا ہے اور لوگوں سے ( ان کے اعمال کے بارے میں ) سوال کیا جائے گا ۔‘‘ حضرت عزیر علیہ السلام نے یہ بات نہیں مانی ، انہوں نے پھر یہی سوال کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ تم دھوپ کی تپش میں شدت پیدا کر سکو ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو ؟ کہ تم ہوا بنا سکو ، انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ نور کا ایک مثقال لے آؤ ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسی طرح تم اس چیز پر بھی قدرت نہیں رکھتے ، جس کے بارے میں تم نے پوچھا ہے ، میں جو کرتا ہوں ، اُس کے بارے میں مجھ سے نہیں پوچھا جا سکتا اور لوگوں سے حساب لیا جائے گا ، البتہ یہ ہے کہ میں تمہیں یہ سزا دیتا ہوں کہ تمہارا نام انبیاء میں سے ( ان کا ذکر ہونے کے حوالے سے ) مٹا دیتا ہوں ، تو تمہارا ان کے درمیان ذکر نہیں کیا جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کا نام انبیاء میں سے مٹا دیا ، انبیاء کے درمیان ان کا ذکر نہیں کیا جاتا ، حالانکہ وہ نبی ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا اور انہوں نے پروردگار کی بارگاہ میں اپنی قدر و منزلت کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کا علم عطا کیا اور وہ پیدائشی نابینا اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور مردے کو زندہ کر دیتے تھے اور لوگوں کو اس چیز کے بارے میں اطلاع دیدیتے تھے ، جو وہ لوگ کھاتے تھے اور جو وہ لوگ اپنے گھروں میں سنبھال کے رکھتے تھے ( یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ) انہوں نے عرض کی : ’’ اے اللہ ! بے شک تو عظمت والا ہے ، پروردگار ہے ، اگر تو چاہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، تو تیری اطاعت ہی کی جائے اور اگر تو یہ چاہے کہ تیری نافرمانی نہ کی جائے ، تو تیری نافرمانی نہ کی جائے اور تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیری اطاعت کی جائے ، اور اس کے باوجود تیری نافرمانی بھی کی جاتی ہے ، تو اے پروردگار ! اس کی وجہ کیا ہے ؟‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : ’’ میں جو کرتا ہوں ، اُس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا جا سکتا ، اور لوگوں سے حساب لیا جائے گا ، تم میرے بندے ، میرے رسول ہو اور میرا کلمہ ہو ، میں نے تمہیں مریم کی طرف القاء کیا تھا ، تم میری طرف سے آنے والی روح ہو ، میں نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، پھر تم سے یہ فرمایا : تم ہو جاؤ ! تو تم ہو گئے اگر تم اس سے باز نہ آئے تو میں تمہارے ساتھ بھی وہی کروں گا ، جو تم سے پہلے تمہارے ایک ساتھی کے ساتھ کیا تھا ، میں جو کرتا ہوں ، اُس کے بارے میں مجھ سے حساب نہیں لیا جائے گا اور لوگوں سے حساب لیا جائے گا ۔‘‘ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیروکار لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا : ’’ تقدیر ، اللہ تعالیٰ کا ’’ ستر “ ہے ، تو تم اس کے درپے نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے اور وہ جمہور کے نزیک ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک راوی مصعب بن سوار ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11846

Majma al-Zawaid #11846

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ: يَا مُوسَى، يَخْلُقُ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلْقًا ثُمَّ يُعَذِّبُهُمْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنِ ازْرَعْ فَزَرَعَ، ثُمَّ قَالَ: احْصُدْ فَحَصَدَ، ثُمَّ قَالَ: دَرِّهِ فَدَارَّهُ، فَاجْتَمَعَ الْقُمَاشُ، فَقَالَ: لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْلُحُ هَذَا؟ قَالَ: لِلنَّارِ، قَالَ: فَكَذَلِكَ لَا أُعَذِّبُ مِنْ خَلْقِي إِلَّا مَنِ اسْتَأْهَلَ النَّارَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Jubayr reported that the Children of Israil asked Musa (peace be upon him) whether his Lord creates people then punishes them. Allah inspired him to sow, reap, then winnow till chaff remained, asked its use, and answered like chaff for fire He punishes only who deserves Fire. > **["Sow, so he sowed; then He said: reap, so he reaped; then He said: winnow, so he winnowed, and chaff remained; He said: for what is this fit? He said: for fire; He said: likewise I punish none of My creation except who deserves the Fire"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : بنی اسرائیل نے کہا : اے حضرت موسیٰ علیہ السلام ! آپ کے پروردگار نے ایک مخلوق کو پیدا کیا ، پھر وہ انہیں عذاب دے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف یہ وحی کی : تم کوئی چیز بو دو ! انہوں نے وہ چیز بو دی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اب اس کو کاٹو انہوں نے اسے کاٹ دیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اب اس کو چھان لو ! انہوں نے اسے چھان لیا ، پھر صرف بھوسہ باقی رہ گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ کس کام آ سکتا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : آگ جلانے کے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسی طرح میں بھی اپنی مخلوق میں سے صرف اس شخص کو عذاب دوں گا ، جسے میں آگ کا اہل بناؤں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11847

Majma al-Zawaid #11847

وَعَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بَصَرُهُ وَبَعْدَمَا أُصِيبَ، فَسُئِلَ عَنِ الْقَدَرِ، فَقَالَ: وَجَدْتُ أَجْرَأَ النَّاسِ فِيهِ حَدِيثًا أَجْهَلَهُمْ بِهِ، وَأَضْعَفَهُمْ فِيهِ حَدِيثًا أَعْلَمَهُمْ بِهِ، وَوَجَدْتُ النَّاظِرَ فِيهِ كَالنَّاظِرِ فِي شُعَاعِ الشَّمْسِ، كُلَّمَا ازْدَادَ فِيهِ نَظَرًا ازْدَادَ [بَصَرُهُ فِيهَا] تَحَيُّرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Wahb ibn Munabbih said he accompanied Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) before and after his blindness, and when asked about decree Ibn Abbas said the boldest speaker is most ignorant, the weakest most knowledgeable, and pondering it is like gazing at sunlight, more gazing brings more bewilderment. > **["I found the boldest of people in speaking about it the most ignorant of it, and the weakest in speaking about it the most knowledgeable of it; I found one pondering it like one gazing at the sun's rays: the more he gazes, the more his sight grows bewildered"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی رخصت ہونے سے پہلے اور بینائی رخصت ہو جانے کے بعد بھی ، اُن کے ساتھ رہا ہوں ، ان سے تقدیر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ چیز پائی ہے کہ اس کے بارے میں سب سے درست بات وہ شخص کرتا ہے ، جو اس سے سب سے زیادہ ناواقف ہو ، اور اس کے بارے میں سب سے زیادہ ضعیف بات وہ کرتا ہے ، جو اس کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہو ، اور میں نے یہ بات بھی پائی ہے کہ اس کے بارے میں غور و فکر کرنے والے شخص کی مثال ، سورج کی شعاع کی طرف دیکھنے والے کی مانند ہے ، وہ جتنا زیادہ دیکھتا ہے ، اُس کے بارے میں اُس کی بینائی کی حیرت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوسلمہ ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

11848

Majma al-Zawaid #11848

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: «اجْتَمَعَ أَرْبَعُونَ مِنَ الصَّحَابَةِ يَنْظُرُونَ فِي الْقَدَرِ وَالْجَبْرِ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَنَزَلَ الرُّوحُ الْأَمِينُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ فَقَدْ أَحْدَثُوا، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ فِي مِثْلِهَا، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ، وَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُتَلَمِّعًا لَوْنُهُ، مُتَوَرِّدَةً وَجْنَتَاهُ، كَأَنَّمَا تَفْقَأُ بِحَبِّ الرُّمَّانِ الْحَامِضِ، فَنَهَضُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاسِرِينَ أَدْرِعَتَهُمْ، تَرْعَدُ أَكُفُّهُمْ وَأَذْرُعُهُمْ، فَقَالُوا: تُبْنَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: "" أَوْلَى لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ لَتُوجِبُونَ، أَتَانِي الرُّوحُ الْأَمِينُ فَقَالَ: اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ فَقَدْ أَحْدَثَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Thawban (may Allah be pleased with him) reported forty Companions including Abu Bakr and Umar (may Allah be pleased with them both) debated decree and compulsion, whereupon Jibril the Trustworthy descended commanding Muhammad to go out for his nation innovated. He came at an unusual hour, complexion glowing, cheeks flushed as if bursting with sour pomegranate, so they rose baring arms trembling and repented. > **["O Muhammad, go out to your nation, for they have innovated"]** > **["Woe to you, if you persist you shall incur"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : چالیس صحابہ کرام اکٹھے ہو کر تقدیر اور مجبور ہونے کے بارے میں غور و فکر کر رہے تھے ، ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ، روح الامین حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور بولے : اے حضرت محمد ! آپ اپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں ، کیونکہ وہ ایک نئی چیز کے بارے میں مبتلا ہو گئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ ایک ایسے وقت میں اُن کے پاس تشریف لائے ، جس وقت میں آپ ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف نہیں لاتے تھے ، لوگوں کو اس بات پر حیرانگی ہوئی ، جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، تو آپ کی رنگت تبدیل تھی ، آپ کی کنپٹیاں پھولی ہوئی تھیں ، اور یوں لگ رہا تھا جیسے آپ پر انار کو ڈال دیا گیا ہے ( یعنی آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ) وہ لوگ تیزی سے اُٹھ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، ان کی ہتھیلیاں اور کلائیاں کپکپا رہی تھیں ، ان لوگوں نے عرض کی : ہم اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے مناسب ہی ہوتا ، اگر تم ( اس کو ) واجب کر دیتے ، روح الامین میرے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ! آپ اپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں ، کیونکہ انہوں نے نئی چیز پیدا کر دی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔

11849

Majma al-Zawaid #11849

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالُوا: «كُنَّا فِي مَجْلِسِ أُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ، وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْقَدَرَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُغْضَبًا، فَعَبَسَ وَانْتَهَرَ وَقَطَّبَ، ثُمَّ قَالَ: "" مَهْ، اتَّقُوا اللَّهَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَادِيَانِ عَمِيقَانِ فَغْرَانِ [مُظْلِمَانِ]، لَا تُهَيِّجُوا عَلَيْكُمْ وَهَجَ النَّارِ ""، ثُمَّ أَمَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَقُومُوا، ثُمَّ قَامَ وَبَسَطَ يَمِينَهُ وَبَسَطَ إِصْبَعَهُ الشِّمَالَ، ثُمَّ قَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ، وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَعَشَائِرِهِمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ""، ثُمَّ بَسَطَ شِمَالَهُ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، بِأَسْمَاءِ أَهْلِ النَّارِ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ، وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَعَشَائِرِهِمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، أَعْذَرْتُ؟ أَنْذَرْتُ؟ اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ، قَالَ أَحْمَدُ: أَحَادِيثُهُ مَوْضُوعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda, Wathilah ibn al-Asqa, Abu Umamah and Anas ibn Malik (may Allah be pleased with them) said they debated decree in a Jewish gathering when the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) came angry, frowned, rebuked, warned of two deep dark valleys and stirring fire's blaze, ordered the Jews to rise, spread his right then left announcing books of Paradise and Fire thrice finished, and took witness he conveyed. > **["Quiet! Fear Allah, O nation of Muhammad; two deep yawning dark valleys; do not stir upon yourselves the blaze of Fire"]** > **["In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful: this is a book from the Most Gracious, the Most Merciful, with names of Paradise folk and names of their fathers, mothers and clans; your Lord has finished, your Lord has finished, your Lord has finished"]** > **["In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful: this is a book from the Most Gracious, the Most Merciful, with names of Fire folk and names of their fathers, mothers and clans; your Lord has finished, your Lord has finished, your Lord has finished"]** > **["Have I excused? Have I warned? O Allah, I have conveyed"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء ، حضرت واثلہ بن اسقع ، حضرت ابوامامہ اور حضرت انس بن مالک ضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ساتھ ایک محفل میں موجود تھے اور تقدیر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ غصے کے عالم میں تشریف لائے ، آپ نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے تھے اور چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ رک جاؤ ! اے محمد کی امت ! تم اللہ سے ڈرو ! دو گہری ، کھلے منہ والی ، تاریک وادیاں ہیں ، تم اپنے خلاف آگ کی شدت کو نہ بھڑکاؤ ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کو حکم دیا کہ وہ اُٹھ جائیں ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا اور بائیں ہاتھ کو بند رکھا ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے ایک تحریر ہے ، جو اہل جنت کے ناموں کے بارے میں ، اُن کے آباء و اجداد ، ان کی ماؤں ، اُن کے خاندانوں کے ناموں کے بارے میں ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ۔‘‘ پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا ، پھر آپ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ رحمان اور رحیم کی طرف سے آنے والا مکتوب ہے ، جس میں اہل جہنم کے نام ہیں ، ان کے آباء و اجداد ، ان کی ماؤں ان کے خاندانوں کے نام ہیں ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، کیا میں نے عذر بیان کر دیا ہے ؟ میں نے ڈرا دیا ہے ؟ اے اللہ میں نے تبلیغ کر دی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک عبداللہ بن یزید بن آدم ہے ، امام احمد کہتے ہیں اس کی نقل کردہ حدیث موضوع ہوتی ہے ۔

11850

Majma al-Zawaid #11850

وَعَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي، فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَ النُّجُومُ، فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ، فَأَمْسِكُوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that when his Companions are mentioned withhold, when the stars are mentioned withhold, and when decree is mentioned withhold. > **["When my Companions are mentioned, withhold; when the stars are mentioned, withhold; and when decree is mentioned, withhold"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب میرے اصحاب کا ذکر ہو ، تو رک جاؤ ، جب ستاروں کا ذکر ہو ، تو رک جاؤ اور جب تقدیر کا ذکر ہو ، تو رک جاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11851

Majma al-Zawaid #11851

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said when his Companions are mentioned withhold, when the stars are mentioned withhold, and when decree is mentioned withhold. > **["When my Companions are mentioned, withhold; when the stars are mentioned, withhold; and when decree is mentioned, withhold"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب میرے اصحاب کا ذکر ہو ، تو رک جاؤ ، جب ستاروں کا ذکر ہو تو رک جاؤ ، جب تقدیر کا ذکر ہو تو رک جاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسہر بن عبدالملک ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11852

Majma al-Zawaid #11852

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا الْقَدَرَ فَإِنَّهُ شُعْبَةٌ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نِزَارُ بْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"Beware of Qadar, for it is a branch of Christianity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تقدیر ( کا انکار کرنے سے ) بچو ! کیونکہ یہ نصرانیت کا ایک شعبہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نزار بن حبان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11853

Majma al-Zawaid #11853

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَابِ الْبَيْتِ وَهُوَ يُرِيدُ الْحُجْرَةَ، فَسَمِعَ قَوْمًا يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ فِي الْقَدَرِ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ إِنَّهُ كَذَا وَكَذَا؟ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ آيَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: فَفَتَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَابَ الْحُجْرَةِ فَكَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ، فَقَالَ: "" أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ؟ أَوَ بِهَذَا عَنِيتُمْ؟ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَشْبَاهِ هَذَا، ضَرَبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، أَمَرَكُمُ اللَّهُ بِأَمْرٍ فَاتَّبِعُوهُ، وَنَهَاكُمْ فَانْتَهُوا ""، قَالَ: فَلَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحَدًا يَتَكَلَّمُ، حَتَّى مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ فَأَخَذَهُ الْحَجَّاجُ فَقَتَلَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, came out from the door of the house intending the chamber, and heard people disputing about Qadar, saying, did not Allah say such and such, did not Allah reveal such and such verse. The narrator said, the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, opened the chamber door, and it was as if pomegranate seeds had been burst open upon his face from anger, and he said: > **"Were you commanded with this, or was this intended for you. Those before you perished only through the like of this. They struck parts of the Book of Allah against other parts. What Allah commanded you, follow it, and what He forbade you, refrain from it."** The narrator said, after that no one was heard speaking about it, until Mabad al-Juhani, then al-Hajjaj seized him and killed him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ گھر کے دروازے سے باہر نکلے ، آپ حجرے میں جانا چاہ رہے تھے ، آپ نے کچھ لوگوں کی آواز سنی جو تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے دروازہ کھولا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ( غصے کی شدت کی وجہ سے ) جیسے آپ کے چہرے پر انار انڈیل دیا گیا ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے ؟ کیا تم سے یہی بات چاہی گئی ہے ؟ تم سے پہلے لوگ اس طرح کی باتوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے کے مقابلے میں پیش کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ تمہیں جس بات کا حکم دیتا ہے ، تم اس کی پیروی کرو اور جس چیز سے اس نے تمہیں منع کیا ہے اس سے باز آ جاؤ ! راوی کہتے ہیں اس کے بعد کبھی کوئی شخص تقدیر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نہیں سنا گیا ، یہاں تک کہ معبد جہنی کا زمانہ آ گیا ( اور اس نے یہ کام شروع کیا ) تو حجاج نے اسے پکڑ کے اسے قتل کروا دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

11854

Majma al-Zawaid #11854

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُوَاتِيًا أَوْ مُقَارِبًا - أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا - مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ وَالْقَدَرِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said, with doubt over one word meaning concordant or near: > **"The affair of this Ummah will remain harmonious and close so long as they do not speak about children and Qadar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس امت کا معاملہ ہمیشہ ٹھیک رہے گا ، جب تک وہ بچوں اور تقدیر کے بارے میں گفتگو نہیں کریں گے ۔‘‘ ( روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11855

Majma al-Zawaid #11855

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «آخِرُ الْكَلَامِ فِي الْقَدَرِ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَزَادَ "" «لَشِرَارُ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ» ""، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ [فِي أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ] رِجَالُ الصَّحِيحِ [غَيْرَ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَلِيفَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ].

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, said: > **"The last speech about Qadar will belong to the worst of this Ummah."** In another wording: > **"To the worst of my Ummah in the akhir al-zaman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تقدیر کے بارے میں گفتگو کرنے کو اس امت کے برے لوگوں کے لئے مؤخر کیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ آخری زمانے میں میری امت کے برے لوگوں کے لئے ........‘‘۔ دو اسناد میں سے ایک میں امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمر بن ابوخلیفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11856

Majma al-Zawaid #11856

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ [وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ] وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ "" وَلَا مَنَّانٌ ""، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him, who said: > **"No disobedient to parents, no habitual drinker of wine, and no denier of Qadar shall enter Paradise."** In another wording is added: > **"Nor one who reminds others of his favors."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ( والدین کا ) نافرمان شخص باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص اور تقدیر کو جھٹلانے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ اور نہ ہی احسان جتلانے والا شخص ........‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ دمشقی ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔