وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَلَى بَابِ الْحُجُرَاتِ، إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَمَعَهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ يُجَاوِبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَيَرُدُّ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَكَتُوا، فَقَالَ: "" مَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ آنِفًا جَاوَبَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَيَرُدُّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ؟ ""، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ الْحَسَنَاتِ مِنَ اللَّهِ وَالسَّيِّئَاتِ مِنَ الْعِبَادِ، وَقَالَ عُمَرُ: الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ مِنَ اللَّهِ، فَتَابَعَ هَذَا قَوْمٌ وَهَذَا قَوْمٌ، فَأَجَابَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَرَدَّ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: "" كَيْفَ قُلْتَ؟ ""، قَالَ قَوْلَهُ الْأَوَّلَ، وَالْتَفَتَ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ قَوْلَهُ الْأَوَّلَ، فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمْ بِقَضَاءِ إِسْرَافِيلَ بَيْنَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ، فَهُمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تَكَلَّمَ فِيهِ، فَقَالَ مِيكَائِيلُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالَ جِبْرِيلُ بِقَوْلِ عُمَرَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ لِمِيكَائِيلَ: إِنَّا مَتَى يَخْتَلِفْ أَهْلُ السَّمَاءِ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْأَرْضِ فَلْنَتَحَاكَمْ إِلَى إِسْرَافِيلَ، فَتَحَاكَمَا إِلَيْهِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا بِحَقِيقَةِ الْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حُلْوِهِ وَمُرِّهِ، كُلُّهُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنَا قَاضٍ بَيْنَكُمَا ""، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا يُعْصَى لَمْ يَخْلُقْ إِبْلِيسَ ""، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُمَرُ بْنُ الصُّبْحِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ السَّكَنُ بْنُ سَعِيدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي مَوَاضِعِهَا مِنْ هَذَا النَّحْوِ.
EnglishUnverified translation
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) reported that while the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) spoke at the doors of the chambers, Abu Bakr and Umar came with disputing groups. One man explained Abu Bakr held good deeds are from Allah and evil from servants, while Umar held both from Allah. The Prophet asked each to repeat, then swore to judge as Israfil judged between Jibril and Mikail, the first creation to discuss it, whose dispute was likewise referred to Israfil, who judged all decree good evil sweet bitter from Allah. > **["What speech did I just hear, some answering others and refuting others"]** > **["How did you state it"]** > **["By Him in Whose Hand is my soul, I shall judge between you with the judgment of Israfil between Jibril and Mikail; they, by Him in Whose Hand is my soul, are the first of Allah's creation to discuss it; Mikail held the view of Abu Bakr, and Jibril held the view of Umar, so Jibril said to Mikail: whenever heaven folk differ, earth folk differ, so let us seek Israfil as judge; so they sought him and he judged between them with the reality of decree, its good and evil, sweet and bitter, all from Allah, Mighty and Majestic, and I judge between you likewise"]** > **["O Abu Bakr, indeed Allah, Blessed and Exalted, had He willed not to be disobeyed, He would not have created Iblis"]**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ حجروں کے دروازے کے پاس ہمارے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ آ گئے ، ان کے ساتھ کچھ لوگ آ گئے ، جو ایک دوسرے کے ساتھ بحث کر رہے تھے ، جب ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو خاموش ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کلام کیا تھا ؟ جو میں ابھی سن رہا تھا ، جو تم ایک دوسرے کے ساتھ بحث مباحثہ کر رہے تھے ، اور ایک دوسرے کو جواب دے رہے تھے ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے کہ نیکیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں اور برائیاں بندوں کی طرف سے ہوتی ہیں ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ نیکیاں اور برائیاں ( دونوں ہی ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتی ہیں ، تو کچھ لوگ ان کی پیروی کر رہے تھے اور کچھ لوگ ان کی پیروی کر رہے تھے اور وہ ایک دوسرے کو جواب دے رہے تھے ، اور ایک دوسرے کی بات مسترد کر رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر دریافت کیا : تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : وہی بات جو پہلے کی گئی ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ، تو انہوں نے بھی وہی بات بیان کی ، جو پہلے بیان ہو چکی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں تمہارے درمیان وہی فیصلہ دوں گا ، جو حضرت اسرافیل علیہ السلام نے حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کے درمیان دیا تھا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ دونوں فرشتے اللہ کی مخلوق میں پہلے لوگ تھے ، جنہوں نے اس مسئلے کے بارے میں کلام کیا ، حضرت میکائیل علیہ السلام کی رائے وہی تھی ، جو ابوبکر کی رائے ہے ، اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی رائے وہی تھی ، جو عمر کی رائے ہے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت میکائیل علیہ السلام سے کہا : اگر ہم آسمان والے اختلاف کریں گے ، تو زمین والے بھی اختلاف کریں گے ، تو ہم اسرافیل علیہ السلام کو ثالث بنا لیتے ہیں ، پھر ان دونوں نے حضرت اسرافیل علیہ السلام کو ثالث بنایا ، تو حضرت اسرافیل علیہ السلام نے ان دونوں کے درمیان یہ فیصلہ دیا ، جو تقدیر کی حقیقت کے بارے میں تھا کہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ، میٹھی ہو یا کڑوی ہو ، ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اور میں بھی تم لوگوں کے درمیان یہی فیصلہ دیتا ہوں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! اگر اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا کہ اُس کی نافرمانی نہ کی جائے ، تو اُس نے ابلیس کو پیدا ہی نہیں کرنا تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمر بن صبیح ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام بزار کے استاد سکن بن سعید ہیں ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، امام بزار کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور ان کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ان کے مخصوص مقامات پر آئیں گی ۔