Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 33 · Chapter 1

Book of Divine Decree

Hadith 11777–11816

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11777

Majma al-Zawaid #11777

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَلَقَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - آدَمَ حِينَ خَلَقَهُ فَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُمْنَى، فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً بَيْضَاءَ كَأَنَّهُمُ الذَّرُّ، وَضَرَبَ كَتِفَهُ الْيُسْرَى فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّةً سَوْدَاءَ كَأَنَّهُمُ الْحُمَمُ، فَقَالَ لِلَّذِي فِي يَمِينِهِ: إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي، وَقَالَ لِلَّذِي فِي كَفِّهِ الْيُسْرَى: إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said that when Allah, Mighty and Majestic, created Adam, He struck his right shoulder and brought forth a white offspring like small ants, and struck his left shoulder and brought forth a black offspring like charred coal. He decreed their final abodes without need of any one. > **["To those in His right: to Paradise, and I do not care; and to those in His left hand: to the Fire, and I do not care"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، تو اُن کے دائیں کندھے پر ہاتھ مار کر چیونٹیوں کی طرح کی سفید رنگ کی ، اُن کی اولاد کو نکالا ، پھر ان کے بائیں کندھے پر ہاتھ مار کر سیاہ رنگ کی اُن کی اولاد کو نکالا ، جو کوئلے کی مانند تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے دائیں طرف والے لوگوں کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جنت میں جائیں گے اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ، اور جو بائیں ہتھیلی میں تھے ان کے بارے میں یہ فرمایا : یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11778

Majma al-Zawaid #11778

وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ «أَنْ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالُوا لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي ""؟، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً وَالْأُخْرَى بِالْيَدِ الْأُخْرَى قَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ، وَهَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي ""، فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا؟». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Nadrah reported that a Companion called Abu Abdullah (may Allah be pleased with him) was visited by his brothers during illness while he wept. They reminded him of the Prophet's (peace and blessings of Allah be upon him) counsel to trim the mustache and remain steadfast till meeting him. He replied that he had also heard of the two handfuls and did not know in which he stood. > **["Indeed Allah, Mighty and Majestic, took a handful in His right and the other in the other Hand, and said: this is for this, and this is for this, and I do not care"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جنہیں ابوعبداللہ کہا جاتا تھا ، ان کے شاگرد ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے ، تو وہ رو رہے تھے ، لوگوں نے ان سے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ سے یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے : اپنی مونچھیں پست رکھو اور پھر انہیں ایسے ہی رکھنا ، یہاں تک تم مجھ سے آ ملو ! تو ان صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ میں کچھ لوگوں کو لیا اور دوسرے ہاتھ میں دوسرے لوگوں کو لیا اور فرمایا : ’’ یہ اُس ( یعنی جنت ) کے لئے ہیں اور یہ اُس ( یعنی جہنم ) کے لئے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔‘‘ ( پھر ان صحابی نے فرمایا : ) مجھے نہیں معلوم میں اُن میں سے کون سی مٹھی میں تھا ؟ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11779

Majma al-Zawaid #11779

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ، فَقَالَ: هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي، وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي ""، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: "" عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Qatadah al-Sulami (may Allah be pleased with him) said he heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say that Allah created Adam, then took mankind from his back and assigned one group to Paradise and one to the Fire, without care. A questioner asked on what basis then to act, and he answered: according to the occurrences of decree. > **["These are in Paradise, and I do not care, and these are in the Fire, and I do not care"]** > **["Act according to the places of decree"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور پھر ان کی پشت سے مخلوق ( یعنی بنی نوع انسان ) کو لیا اور فرمایا : یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور یہ ( دوسرے ) لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔‘‘ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہم کس بنیاد پر عمل کریں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تقدیر ( کے حکم ) کے واقع ہونے کی صورت ( کے مطابق تم عمل کرو ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11780

Majma al-Zawaid #11780

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ قَبْضَةً فَقَالَ: لِلْجَنَّةِ بِرَحْمَتِي، وَقَبَضَ قَبْضَةً وَقَالَ: لِلنَّارِ وَلَا أُبَالِي». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عِنْدَهُ وَهْمٌ كَثِيرٌ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَمَحَلُّهُ الصِّدْقُ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said Allah took a handful and assigned it to Paradise by His mercy, and took another handful and assigned it to the Fire, without care. > **["Indeed Allah took a handful and said: for Paradise by My mercy; and He took a handful and said: for the Fire, and I do not care"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے مٹھی میں ( بنی نوع انسان ) کو لیا اور فرمایا : یہ میری رحمت ، جنت کے لئے ہیں ، پھر ایک اور مٹھی میں ( دوسرے لوگوں کو ) لیا اور فرمایا : یہ جہنم کے لئے ہیں ، اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن سنان باہلی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اسے بہت زیادہ وہم لاحق ہوتا ہے ، یہ قوی نہیں ہے ، تاہم اس کا محل صدق ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11781

Majma al-Zawaid #11781

وَعَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَمَّا خَلَقَ آدَمَ قَبَضَ مِنْ طِينَتِهِ قَبْضَتَيْنِ، قَبْضَةً بِيَمِينِهِ وَقَبْضَةً بِالْيَدِ الْأُخْرَى، فَقَالَ لِلَّذِي بِيَمِينِهِ: هَؤُلَاءِ إِلَى الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي، وَقَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْأُخْرَى: هَؤُلَاءِ إِلَى النَّارِ وَلَا أُبَالِي، ثُمَّ رَدَّهُمْ فِي صُلْبِ آدَمَ فَهُمْ يَتَنَاسَلُونَ عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْآنِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: صُوَيْلِحٌ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashari (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that when Allah, Blessed and Exalted, created Adam, He took two handfuls from his clay, one in His right and one in the other Hand, assigned them to Paradise and the Fire without care, then returned them to Adam's loins where they continue to reproduce till now. > **["These to Paradise, and I do not care; and these to the Fire, and I do not care"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، تو اُن کی مٹی کو مٹھی میں لیا ، اُسے دو مٹھیوں میں لیا ، دائیں مٹھی میں کچھ کو لیا اور بائیں میں کچھ کو لیا ، دائیں مٹھی والے لوگوں کے بارے میں اس نے فرمایا : یہ جنت میں جائیں گے اور میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ، اور دوسرے ہاتھ والے لوگوں کے بارے میں فرمایا : یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو واپس حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں رکھ دیا ، تو اب تک وہ اسی بنیاد پر نسل در نسل پیدا ہو رہے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسیب ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ کم درجہ کا صالح شخص ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

11782

Majma al-Zawaid #11782

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الْقَبْضَتَيْنِ: "" هَذِهِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي، وَهَذِهِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَمِرِ بْنِ هِلَالٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) concerning the two handfuls that one is appointed for Paradise and the other for the Fire, without care on Allah's part. > **["This is in Paradise, and I do not care, and this is in the Fire, and I do not care"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے دونوں مٹھیوں کے بارے میں یہ فرمایا : یہ ( ایک مٹھی والے لوگ ) جنت میں جائیں گی اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور یہ ( دوسری مٹھی والے لوگ ) جہنم میں جائیں گی اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ نمر بن ہلال کا معاملہ مختلف ہے اور ابوحاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

11783

Majma al-Zawaid #11783

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي الْقَبْضَتَيْنِ: "" هَؤُلَاءِ لِهَذِهِ وَهَؤُلَاءِ لِهَذِهِ ""، قَالَ: فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَهُمْ لَا يَخْتَلِفُونَ فِي الْقَدَرِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) concerning the two handfuls that one group is for one abode and the other for the other. The narrator added that people then dispersed while not disputing concerning decree. > **["These are for this, and these are for this"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے دو مٹھیوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے : یہ لوگ اس ( یعنی جنت ) کے لئے ہیں اور یہ لوگ اس ( یعنی جہنم ) کے لئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو لوگ متفرق قسم کے ہو گئے اور تقدیر کے حکم کے حساب سے اُن میں اختلاف نہیں ہوا ( یعنی ہر ایک مخصوص قسم سے تعلق رکھتا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11784

Majma al-Zawaid #11784

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَبْتَدِئُ الْأَعْمَالَ أَمْ قَدْ قُضِيَ الْقَضَاءُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَخَذَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ ظَهْرِهِ، ثُمَّ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ نَثَرَهُمْ فِي كَفَّيْهِ أَوْ كَفِّهِ، فَقَالَ: هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ، فَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَمُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَيَحْسُنُ حَدِيثُهُ بِكَثْرَةِ الشَّوَاهِدِ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Hisham ibn Hakim ibn Hizam (may Allah be pleased with him) reported that a man came to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and asked whether deeds are begun anew or the decree is already decided. The Prophet answered that Allah took Adam's offspring from his back, made them witness over themselves, scattered them in His two Hands, assigned groups to Paradise and Fire, and facilitated each for its deeds. > **["Indeed Allah, Blessed and Exalted, took the offspring of Adam from his back, then made them witness over themselves, then scattered them in His two Hands, and said: these in Paradise and these in the Fire; as for the people of Paradise, they are facilitated for the deeds of Paradise, and the people of the Fire are facilitated for the deeds of the Fire"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نئے سرے سے اعمال کرتے ہیں ؟ یا یہ طے شدہ تقدیر کے مطابق ہیں ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں سے اُن کی اولاد کو نکالا اور پھر انہیں اپنی ذات کے بارے میں گواہ بنایا اور پھر انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں رکھا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنی ہتھیلی پر رکھا اور فرمایا : یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور یہ ( دوسرے ) لوگ جہنم میں جائیں گے ، جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے ، تو ان کے لئے اہل جنت کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا ، اور جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ، تو ان کے لئے اہل جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کو شواہد کی کثرت کی وجہ سے حسن قرار دیا گیا ہے اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔

11785

Majma al-Zawaid #11785

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «لَمَّا أَنْ حَضَرَهُ الْمَوْتُ بَكَى، فَقَالَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَبْكِي جَزَعًا مِنَ الْمَوْتِ وَلَا دُنْيَا أُخَلِّفُهَا بَعْدِي، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّمَا هُمَا قَبْضَتَانِ، فَقَبْضَةٌ فِي النَّارِ وَقَبْضَةٌ فِي الْجَنَّةِ ""، وَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَكُونُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالْحَسَنُ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal (may Allah be pleased with him), when death approached, wept. Asked why, he swore it was not panic of death nor grief for the world left behind, but fear from what he heard from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) about the two handfuls, not knowing in which he was. > **["They are only two handfuls: a handful in the Fire and a handful in Paradise"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب اُن کی موت کا وقت قریب آیا ، تو وہ رونے لگے ، ان کے ساتھی نے ان سے کہا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں اور نہ ہی دنیا کو اپنے پیچھے چھوڑنے کی وجہ سے رو رہا ہوں ، لیکن میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس کی دو مٹھیاں تھیں ، ایک مٹھی ( کے لوگوں ) نے جہنم میں جانا ہے اور ایک ( یعنی دوسری ) مٹھی ( کے لوگوں ) نے جنت میں جانا ہے ۔‘‘ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب مجھے نہیں معلوم کہ میں اُن دونوں میں سے کون سی مٹھی میں ہوؤں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ غنوی ہے اور وہ ضعیف ہے اور حسن نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

11786

Majma al-Zawaid #11786

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ - وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - أَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ صُلْبِهِ حَتَّى مَلَئُوا الْأَرْضَ وَكَانُوا هَكَذَا "" وَضَمَّ جَعْفَرٌ يَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah (may Allah be pleased with him), who narrated little from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), reported that Allah brought forth Adam's offspring from his loins until they filled the earth. The transmitter Jafar illustrated their multitude by clasping his hands together. > **["Indeed Allah, Majestic and Mighty, brought forth the offspring of Adam from his loins until they filled the earth"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کم احادیث نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی ذریت کو اُن کی پشت سے نکالا ، یہاں تک کہ اُن لوگوں نے زمین کو بھر دیا ، اور وہ لوگ اس طرح تھے ........‘‘۔ یہاں جعفر نامی راوی نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

11787

Majma al-Zawaid #11787

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فَبَسَطَ كَفَّهُ الْيُمْنَى، فَقَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ، لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ ""، ثُمَّ بَسَطَ كَفَّهُ الْيُسْرَى فَقَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِلَى أَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَعْرِفِ ابْنَ مُجَاهِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) reported that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) came out, spread his right palm and then his left, announcing a written record from Allah, the Most Merciful, containing the names of the people of Paradise and of the Fire, with their fathers, tribes and clans, neither increased nor diminished. > **["In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful: this is a book from Allah, the Most Gracious, the Most Merciful, with the names of the people of Paradise and the names of their fathers, tribes and clans; nothing shall be added among them nor diminished from them"]** > **["In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful: this is a book from the Most Gracious, the Most Merciful, for the people of the Fire, with their names and the names of their fathers, tribes and clans; nothing shall be added among them nor diminished from them"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا اور ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحریر ہے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم والا ہے ، اس میں اہل جنت کے اُن کے آباء و اجداد ، ان کے قبیلوں اور خاندانوں کے نام ہیں ، ان میں سے کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، اور اُن میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا اور ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ رحمان اور رحیم کی طرف سے تحریر ہے ، جو اہل جہنم کے لئے ہے ، اس میں اُن کے نام اور ان کے آباء و اجداد ، ان کے قبیلوں اور ان کے خاندانوں کے نام ہیں ، ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ابن مجاہد کی اس کے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، میں ابن مجاہد سے واقف نہیں ہوں اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11788

Majma al-Zawaid #11788

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَسَطَ يَمِينَهُ، ثُمَّ قَبَضَهَا، ثُمَّ قَالَ: "" أَهْلُ الْجَنَّةِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ""، وَبَسَطَ يَسَارَهُ، ثُمَّ قَبَضَهَا فَقَالَ: "" أَهْلُ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ السَّعَادَةِ طَرِيقُ الشَّقَاءِ حَتَّى يُقَالَ مِنْهُمْ بَلْ هُمْ هُمْ، فَتُدْرِكُهُمُ السَّعَادَةُ فَتُخْرِجُهُمْ مِنْ طَرِيقِ الشَّقَاءِ، وَقَدْ يُسْلَكُ بِأَهْلِ الشَّقَاءِ طَرِيقُ السَّعَادَةِ حَتَّى يُقَالَ مِنْهُمْ بَلْ هُمْ هُمْ فَيُدْرِكُهُمُ الشَّقَاءُ فَيُخْرِجُهُمْ مِنْ طَرِيقِ السَّعَادَةِ ""، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَيُّوبَ السَّكُونِيُّ رَوَى حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا، فَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ فِيهِ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ، فَضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ، لَكِنْ فِي إِسْنَادِهِ بَقِيَّةُ، وَهُوَ مُتَكَلَّمٌ فِيهِ بِغَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Busr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) addressed them, spreading then closing his right hand for the people of Paradise and his left for the people of the Fire, with names, fathers and tribes fixed till Resurrection. He explained that a happy one may travel the wretched path till thought one of them, then happiness overtakes him, and vice versa, for each is facilitated. > **["The people of Paradise with their names and the names of their fathers and tribes; nothing shall be added among them nor diminished till the Day of Resurrection"]** > **["The people of Hell with their names and the names of their fathers and tribes; nothing shall be added among them nor diminished till the Day of Resurrection"]** > **["Each is facilitated for what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ، اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا ، پھر آپ ﷺ نے اس مٹھی کو بند کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ اس میں اہل جنت کے نام اُن کے آباؤ اجداد ، ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، ان میں قیامت کے دن تک کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی ، پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا ، پھر آپ نے اسے بند کیا اور فرمایا : یہ اہل جہنم کے نام ہیں ، ان کے آباؤ اجداد کے نام ہیں ، ان کے قبیلوں کے نام ہیں ، قیامت کے دن تک ان میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور کوئی کمی نہیں ہو گی ، سعادت والے ( کچھ ) لوگوں کو بدنصیب لوگوں کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا جاتا ہے : یہ ان ( بدنصیب لوگوں ) میں سے ایک ہے ، حالانکہ وہ ان ( دوسروں یعنی خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہوتے ہیں ، پھر انہیں سعادت لاحق ہو جاتی ہے اور وہ انہیں بدنصیبی کے راستے سے نکال دیتی ہے ، اسی طرح بدنصیب لوگوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کو سعادت کے راستے پر چلایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ کہا جاتا ہے : یہ ان ( یعنی خوش نصیب لوگوں ) میں سے ہے ، لیکن وہ اُن دوسروں ( یعنی بدنصیب لوگوں ) میں سے ہوتا ہے ، بدنصیبی اسے لاحق ہوتی ہے اور اُسے سعادت کے راستے سے نکال دیتی ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان ہو جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ایوب سکونی ہے ، اس نے اس کے علاوہ بھی روایات نقل کی ہیں ، اس کے بارے میں عقیلی نے کہا ہے : اس کی نقل کردہ حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ، امام ذہبی نے اپنی طرف سے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور اس کے بارے میں اس حدیث کے علاوہ بھی کلام کیا گیا ہے ۔

11789

Majma al-Zawaid #11789

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ صَحِيفَتَانِ يَنْظُرُ فِيهِمَا، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَاللَّهِ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأُمِّيٌّ مَا يَقْرَأُ وَمَا يَكْتُبُ، حَتَّى دَنَا مِنْهُمْ، فَنَشَرَ الَّتِي فِي يَمِينِهِ فَقَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ، مُجْمَلٌ عَلَيْهِمْ، لَا يُزَادُ فِي آخِرِهِ شَيْءٌ فَرَغَ رَبُّكُمْ ""، ثُمَّ نَشَرَ الَّتِي فِي يَدِهِ الْأُخْرَى لِأَهْلِ النَّارِ مِثْلَ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara ibn Azib (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) once came with two scrolls in his hands while looking at them. His Companions noted that Allah's Prophet is unlettered, neither reading nor writing. He drew near, spread the one in his right for Paradise and the like for the Fire. > **["In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful: this is a book from the Most Gracious, the Most Merciful, with the names of the people of Paradise and the names of their fathers and clans, summed against them; nothing shall be added at its end; your Lord has finished"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ کے دونوں ہاتھوں میں دو صحیفے تھے ، آپ ﷺ نے ان دونوں کی طرف دیکھا اور اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اللہ کا نبی ، اُمّی ہے ، وہ نہ پڑھتا ہے اور نہ لکھتا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے قریب ہوئے ، آپ نے اپنے ہاتھ میں موجود چیز کو پھیلایا اور فرمایا ( اس میں یہ تحریر ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ رحمان و رحیم کی طرف سے تحریر ہے ، اس میں اہل جنت کے ، اُن کے آباؤ اجداد اور ان کے خاندانوں کے نام ہیں ، یہ ان کے بارے میں متعین ہے ، اس کے آخر میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا ، یہ ایک ایسی چیز ہے ، جس کے حوالے سے تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے دوسرے ہاتھ میں موجود چیز کے بارے میں اہل جہنم کے لئے بھی اس کی مانند کلمات ارشاد فرمائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہذیل بن بلال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11790

Majma al-Zawaid #11790

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا بِعَشَائِرِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا بِعَشَائِرِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ ""، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: "" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّيرِينِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَعَبَّادُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرِينِيُّ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ، قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي بَابِ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said Allah created Paradise and its people with clans and tribes, and the Fire and its people likewise, neither increased nor diminished. When asked why then act, he commanded action, for each is facilitated. > **["Indeed Allah has created Paradise and created for it a people with their clans and tribes; nothing shall be added among them nor diminished; and He created the Fire and created for it a people with their clans and tribes; nothing shall be added among them nor diminished"]** > **["Act, for each is facilitated for what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا ہے اور اس کے لئے اہل ، افراد کو پیدا کیا ہے ، جس میں اُن کے خاندانوں اور ان کے ( قبائل کا بھی تعین کیا گیا ہے ) ان لوگوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، اُس نے جہنم کو پیدا کیا ہے اور اس کے لئے اہل افراد پیدا کئے ہیں ، جو ان کے خاندان اور قبائل ( کے نام کے ساتھ متعین ہیں ) ان میں سے کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم عمل کرو ! کیونکہ ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکار بن محمد سیرینی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، عباد بن علی سیرینی کو ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث اس باب میں آئیں گی ، جس میں یہ مذکور ہے کہ ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔

11791

Majma al-Zawaid #11791

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا يَزَالُ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ آمِنِينَ حَتَّى يَرُدُّوهُمْ عَنْ دِينِهِمْ كِفَاءَ رَحِمِنَا ""، قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا أَمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: "" فِي الْجَنَّةِ ""، قَالَ: ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ آخَرُ فَقَالَ: أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا أَمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: "" فِي النَّارِ ""، ثُمَّ قَالَ: "" اسْكُتُوا عَنِّي مَا سَكَتُّ عَنْكُمْ، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَعُوا لَأَخْبَرْتُكُمْ بِمَلَئِكُمْ مِنْ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى تَعْرِفُوهُمْ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَلَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَفْعَلَ لَفَعَلْتُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) said he heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say this clan of Quraysh would remain secure until near kinsmen turn them from their religion. A man of Quraysh asked whether he was in Paradise or Fire, and was told Paradise; another asked and was told Fire. Then he commanded silence. > **["This clan of Quraysh shall remain secure until those equal in kinship turn them away from their religion"]** > **["In Paradise"]** > **["In the Fire"]** > **["Remain silent toward me as long as I remain silent toward you; were it not that you would abandon burying one another, I would inform you of your marked ones among the people of the Fire so you would recognize them at death"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس قبیلے قریش کے لوگ مسلسل امن کی حالت میں رہیں گے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کو ان کے دین سے وہ لوگ موڑ دیں گے جو ہمارے برابر کے رشتہ دار ہونگے ، راوی کہتے ہیں : ایک صاحب نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں جنت میں جاؤں گا یا جہنم میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں جاؤ گے ، راوی کہتے ہیں : پھر دوسرے صاحب آپ کے سامنے کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : کیا میں جنت میں جاؤں گا یا جہنم میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہنم میں جاؤ گے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تک میں تمہیں کوئی بات بیان نہ کروں ، تم بھی میرے حوالے سے خاموش رہو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم لوگ ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے ، تو میں تمہیں اہل جہنم کی مخصوص نشانی بتاتا ، یہاں تک کہ موت کے وقت تم اُن لوگوں کو پہچان لیتے اور اگر مجھے حکم دیا گیا کہ میں ایسا کروں ، تو میں ایسا کر لوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11792

Majma al-Zawaid #11792

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ غَضْبَانُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: "" لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ الْيَوْمَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ "". وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ جِبْرِيلَ مَعَهُ. قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا حَدِيثِي عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، فَلَا تُبْدِ عَلَيْنَا سَوْآتِنَا، فَاعْفُ عَفَا اللَّهُ عَنْكَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) came out angry and addressed the people, saying they would not ask anything that day but he would inform them, while they sensed Jibril was with him. Umar (may Allah be pleased with him) pleaded that they were fresh from ignorance and asked pardon lest their faults be exposed. > **["You will not ask me about anything today except that I inform you of it"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ غصے کے عالم میں تشریف لائے ، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : آج تم لوگ جس چیز کے بارے میں دریافت کرو گے ، میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا ، راوی کہتے ہیں : ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے ساتھ ہیں ........۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسے لوگ ہیں ، جو زمانہ جاہلیت کے قریب ہیں ، تو آپ ہماری خرابیاں ہمارے سامنے ظاہر نہ کریں ، انہوں نے عرض کی : کیا آپ ہمارے پوشیدہ معاملات کے حوالے سے ہمیں رسوائی کا شکار کریں گے ؟ آپ درگزر سے کام لیں ، اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر کرے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11793

Majma al-Zawaid #11793

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَخَذَ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِنُعْمَانَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قُبُلًا، قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ شَيْءٌ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي سُورَةِ الْأَعْرَافِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that Allah, Mighty and Majestic, took the covenant from Adam's back at Numan on the Day of Arafah, brought forth every seed He would create, scattered them before Him, addressed them directly, and established the proof lest they claim heedlessness or blame ancestral idolatry. > **["Am I not your Lord? They said: Yes, we bear witness; lest you say on the Day of Resurrection: indeed we were heedless of this; or you say: our fathers associated partners before, and we were offspring after them, so will You destroy us for what the falsifiers did"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی ( پشت میں موجود ) لوگوں سے نعمان کے مقام پر عہد لیا ( راوی کہتے ہیں اس سے مراد عرفہ کا مقام ہے ) اللہ تعالیٰ نے اُن کی پشت میں سے اُن کی ساری ذریت کو نکالا اور انہیں ان کے سامنے پھیلا دیا ، پھر ان کے ساتھ براہ راست بات چیت کی اور فرمایا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ( پروردگار نے فرمایا : ) ایسا نہ ہو کہ تم قیامت کے دن یہ کہو کہ ہم اس چیز سے غافل تھے ، یا تم یہ کہو کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اس سے پہلے شرک کیا تھا ، تو ہم ان کے بعد آنے والی اُن کی اولاد ہیں ، تو کیا تو ہمیں ان لوگوں کے عمل کی وجہ سے ہلاکت کا شکار کرے گا ، جو باطل لوگوں نے کام کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس نوعیت کی ایک روایت سورت اعراف کی تفسیر میں گزر چکی ہے ۔

11794

Majma al-Zawaid #11794

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ، وَأَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، فَأَخَذَ أَهْلَ الْيَمِينِ بِيَمِينِهِ، وَأَخَذَ أَهْلَ الشَّقَاءِ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، وَكِلْتَا يَدَيِ الرَّحْمَنِ يَمِينٌ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْيَمِينِ، قَالُوا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى، ثُمَّ خَلَطَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: رَبِّ لِمَ خَلَطْتَ بَيْنَنَا؟ فَقَالَ: لَهُمْ أَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ، أَنْ يَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، أَوْ يَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ فَخَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ، وَأَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، فَأَهْلُ الْجَنَّةِ أَهْلُهَا، وَأَهْلُ النَّارِ أَهْلُهَا ""، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "" يَعْمَلُ كُلُّ قَوْمٍ لِمَا خُلِقُوا لَهُ، أَهْلُ الْجَنَّةِ يَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ يَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ""، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أَعْمَالَنَا هَذِهِ أَشَيْءٌ نَبْتَدِعُهُ أَوْ شَيْءٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ قَالَ: "" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ""، قَالَ: الْآنَ نَجْتَهِدُ فِي الْعِبَادَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ سَالِمٍ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَزَادَ فِيهِ أَيْضًا "" فَقَالَ: «يَا أَهْلَ الشِّمَالِ قَالُوا: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى» "".

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said Allah created creation, settled the decree, took the covenant of the Prophets while His Throne was upon water, took the people of the right in His right and the wretched in His left, though both Hands of the Merciful are right. After mixing them and answering their question, he taught that Paradise folk do Paradise deeds and Fire folk do Fire deeds, and when Umar asked whether deeds are innovated or finished, he commanded action. > **["O people of the right"]** > **["Here we are at Your service and happiness is from You"]** > **["Am I not your Lord? They said: Yes"]** > **["Each people works for what they were created for; the people of Paradise work the deeds of Paradise, and the people of the Fire work the deeds of Fire"]** > **["Act, for each is facilitated for what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور فیصلہ طے کیا ، اُس نے انبیاء کرام سے عہد لیا ، اس کا عرش پانی پر تھا ، اس نے خوش نصیب لوگوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا ، اور بدنصیب لوگوں کو بائیں ہاتھ میں رکھا ، ویسے رحمن کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں ، پھر اس نے فرمایا : اے دائیں والوں ! انہوں نے عرض کی : ہم حاضر ہیں اور سعادت مندی تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے ، پروردگار نے فرمایا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ملا دیا : ان میں سے کسی نے کہا : اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں ملا کیوں دیا ہے ؟ تو پروردگار نے فرمایا : ان لوگوں کے اعمال اس سے کم ہوں گے اور وہ اس پر عمل کر کے رہیں گے ، ایسا نہ ہو کہ وہ قیامت کے دن یہ کہیں : ہم اس سے غافل تھے ، یا وہ یہ کہیں : ہمارے آباؤ اجداد نے اس سے پہلے شرک کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد آنے والی ان کی اولاد ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور فیصلہ طے کر دیا اور انبیاء کرام سے عہد لے لیا ، جبکہ اُس کا عرش پانی پر تھا تو اہل جنت اس کے اہل ہیں اور اہل جہنم اُس کے اہل ہیں ۔‘‘ حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر قوم وہ عمل کرے گی ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہے ، اہل جنت ، اہل جنت کے سے عمل کریں گے اور اہل جہنم ، اہل جہنم کے سے عمل کریں گے ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے اعمال کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے ؟ کہ کیا یہ ایسی چیز ہے جسے ہم نئے طور پر کرتے ہیں یا ایسی چیز ہے جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ( یعنی تقدیر میں پہلے سے فیصلہ ہو چکا ہے ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ عمل کرو ! ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر تو ہم عبادت میں بھرپور کوشش کریں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سالم بن سالم ہے اور وہ ضعیف ہے ، معجم کبیر کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ اس نے فرمایا : اے بائیں طرف والو ! تو انہوں نے عرض کی : ہم حاضر ہیں اور سعادت مندی تیرے دست قدرت میں ہے تو پروردگار نے فرمایا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! ۔

11795

Majma al-Zawaid #11795

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ، فَقَالَ: "" يَا فَتَى، أَلَا أَهَبُ لَكَ؟ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ؟ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْخَلَائِقَ لَوْ أَرَادُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Jafar (may Allah be pleased with them both) reported that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) seated him behind him on the mount and addressed him as a youth, offering beneficial words: guard Allah, ask Allah alone, seek help from Allah alone, know the Pen has dried, creation cannot harm what was not written against him, and patience brings victory. > **["O lad, shall I not grant you? Shall I not teach you words by which Allah will benefit you? Guard Allah, He will guard you; guard Allah, you will find Him before you; when you ask, ask Allah; when you seek help, seek help from Allah; know that the Pen has dried concerning what shall be; know that if creatures intended you harm not written against you, they could not overpower you; know that victory comes with patience, relief with distress, and ease with hardship"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور فرمایا : ’’ اے نوجوان ! کیا میں تمہیں ایک چیز نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ؟ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہیں نفع عطا کرے گا ، تم اللہ تعالیٰ کی حفاظت کرو ، وہ تمہاری حفاظت کرے گا ، تم اللہ کی طرف توجہ رکھو ، تم اس کو اپنے پاس پاؤ گے ، جب تم مانگو تو اللہ تعالیٰ سے مانگو ، جب تم مدد مانگو ، تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو ، اور تم یہ بات جان لو کہ جو ہونا ہے ، اُس کے حوالے سے قلم خشک ہو چکا ہے ، اور تم یہ بات جان لو کہ اگر ساری مخلوق کسی حوالے سے تمہارے بارے میں کوئی ارادہ کرے ، جو چیز تمہارے خلاف نوٹ نہ کی گئی ہو ، تو وہ تم پر قدرت نہیں حاصل کر پائیں گے ، اور تم یہ بات جان لو ! کہ صبر کے ساتھ مدد ملتی ہے اور پریشانی کے ساتھ کشادگی نصیب ہوتی ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11796

Majma al-Zawaid #11796

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ خَلَقَهُ اللَّهُ الْقَلَمُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَكْتُبَ كُلَّ شَيْءٍ»، رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said the first thing Allah created was the Pen, and He commanded it to write everything. > **["Indeed the first thing Allah created was the Pen, and He commanded it to write everything"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو چیز پیدا کی ، وہ قلم ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اُسے یہ حکم دیا کہ وہ نوٹ کر لے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11797

Majma al-Zawaid #11797

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ قَالَ لَهُ: اكْتُبْ، فَجَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي سُورَةِ "" ن ""، وَحَدِيثٌ يَأْتِي فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that when Allah created the Pen He said Write, and it flowed with all that shall be till the establishment of the Hour. > **["Write"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا تو اُس سے فرمایا : تم لکھو ! تو قیامت قائم ہونے تک جو کچھ ہونا تھا ، اُس نے وہ لکھ دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سورت ” ن “ کی تفسیر میں اس نوعیت کی ایک حدیث گزر چکی ہے اور ایک حدیث آگے چل کر ، نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

11798

Majma al-Zawaid #11798

وَعَنْ حِبَّانَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زُهَيْرٍ أَبِي زُهَيْرٍ الْبَصْرِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ عَنْ قَوْلِهِ: مَا أَصَابَ {مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ} [الحديد: 22]، وَعَنْ قَوْلِهِ: {إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [الجاثية: 29]، وَعَنْ قَوْلِهِ: {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: 49]، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ ذِكْرُهُ - خَلَقَ الْعَرْشَ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ، ثُمَّ خَلَقَ الْقَلَمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْرِيَ بِإِذْنِهِ، وَعَظُمَ الْقَلَمُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقَالَ الْقَلَمُ: بِمَا يَا رَبِّ أَجْرِي؟ قَالَ: بِمَا أَنَا خَالِقٌ وَكَائِنٌ فِي خَلْقِي مِنْ قَطْرٍ، أَوْ نَبَاتٍ، أَوْ نَفْسٍ، أَوْ أَثَرٍ - يَعْنِي بِهِ الْعَمَلَ - أَوْ رِزْقٍ، أَوْ أَجَلٍ، فَجَرَى الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَأَثْبَتَهُ اللَّهُ فِي الْكِتَابِ الْمَكْنُونِ عِنْدَهُ تَحْتَ الْعَرْشِ. وَأَمَّا قَوْلُهُ {إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [الجاثية: 29] فَإِنَّ اللَّهَ وَكَّلَ مَلَائِكَةً يَنْسَخُونَ مِنْ ذَلِكَ الْكِتَابِ كُلَّ الْعَامِ فِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا يَكُونُ فِي الْأَرْضِ مِنْ حَدَثٍ إِلَى مِثْلِهَا مِنَ السَّنَةِ الْمُقْبِلَةِ، فَيُعَارِضُونَ بِهِ حَفَظَةَ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ عَشِيَّةَ كُلِّ خَمِيسٍ، فَيَجِدُونَ مَا رَفَعَ الْحَفَظَةُ مُوَافِقًا لِمَا فِي كِتَابِهِمْ ذَلِكَ لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ، وَقَوْلُهُ {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: 49] فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِكُلِّ شَيْءٍ مَا يُشَاكِلُهُ مِنْ خَلْقِهِ وَمَا يُصْلِحُهُ مِنْ رِزْقِهِ، وَخَلَقَ الْبَعِيرَ خَلْقًا لَا يَصْلُحُ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهِ عَلَى غَيْرِهِ مِنَ الدَّوَابِّ، وَكَذَلِكَ كُلُّ شَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ، وَخَلَقَ لِدَوَابِّ الْبَرِّ وَطَيْرِهَا مِنَ الرِّزْقِ مَا يُصْلِحُهَا فِي الْبَرِّ، وَخَلَقَ لِدَوَابِّ الْبَحْرِ وَطَيْرِهَا مَا يُصْلِحُهَا فِي الْبَحْرِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ - تَعَالَى - {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ} [القمر: 49]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Hibban ibn Ubaydillah ibn Zuhayr al-Basri said he asked al-Dahhak ibn Muzahim about three verses on calamity prerecorded, deeds transcribed, and all things by measure. He answered with Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) that Allah created the Throne then the Pen vast as heaven and earth, commanded it to flow with rain, plants, souls, deeds, provision and terms till Resurrection in the guarded hidden Book under the Throne; angels copy each year on Laylat al-Qadr in Ramadan what shall occur, review with guardian angels every Thursday eve finding no excess or loss; and each creature is fitted with suitable form and provision, as camel, land and sea animals and birds. > **["With what, my Lord, shall I flow? With what I am creating and what shall be in My creation of rain, plants, souls, traces meaning deeds, provision, or term"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبان بن عبیداللہ بن زہیر ابوزہیر بصری بیان کرتے ہیں : میں نے ضحاک بن مزاحم سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : ’’ زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں ، جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ پہلے سے اس کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) میں طے شدہ ہے ( اس سے پہلے کہ ) ہم اس کو ( عملی طور پر ) پیدا کریں ، بے شک یہ اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا :” تم لوگ جو عمل کرتے تھے ، ہم اُسے نقل کر رہے تھے ۔‘‘ اور اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا :’’ بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔‘‘ تو ضحاک نے جواب دیا : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے : اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا کیا ، پھر اس پر استواء کیا ، پھر اُس نے قلم کو پیدا کیا اور اُسے یہ حکم دیا کہ وہ اس کے علم کے تحت جاری ہو ، تو قلم اتنا بڑا ہے ، جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے ، اس نے دریافت کیا : اے پروردگار ! کس چیز کے لئے جاری ہو جاؤں ؟ تو پروردگار نے فرمایا : اس چیز کے حوالے سے کہ میں خالق ہوں اور میں نے اپنی مخلوق میں جو کچھ کرنا ہے ، خواہ اس کا تعلق بارش سے ہو ، یا نباتات سے ہو ، یا جانوں سے ہو یا اعمال سے ہو ، یا رزق سے ہو ، یا موت سے ہو ، تو قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے ، قلم اُس کے لئے جاری ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے عرش کے نیچے اپنے پاس موجود ایک پوشیدہ تحریر میں اُسے برقرار رکھا ۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے : تم لوگ جو عمل کرتے تھے ہم اسے نقل کر رہے تھے ۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتے مقرر کیے ہیں ، جو اس کتاب میں سے ہر سال رمضان کے مہینے میں شب قدر میں نقل کرتے ہیں ، جو کچھ بھی زمین پر ہونا ہے ، اس وقت سے لے کر اگلے سال کے اُسی وقت تک جو کچھ ہونا ہے ، اس کو نوٹ کرتے ہیں اور پھر وہ اس کے ذریعے بندوں پر مقرر ، اللہ تعالیٰ کے محافظ فرشتوں کو ہر جمعرات کی شام ملتے ہیں ، تو وہ یہ پاتے ہیں کہ محافظ فرشتوں نے جو کچھ اوپر لے جانا ہے ، وہ اس چیز کے مطابق ہے ، جو ان کے پاس موجود تحریر میں ہے ، اس میں کوئی کمی یا کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے :’’ بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔‘‘ تو بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ، مخلوق میں کوئی بھی چیز اس کی ہم شکل نہیں ہے اور پھر اس ( چیز ) کے لئے جو رزق مناسب تھا ، اُس کو طے کیا ہے ، اس نے اونٹ کو اس طرح سے پیدا کیا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے دوسرے جانوروں میں سے وہ چیز نہیں ہے ، اسی طرح جس بھی چیز کو اس نے پیدا کیا ہے ، اس کی یہی صورت حال ہے ، اس نے خشکی کے جانور اور پرندوں کے لئے مخصوص رزق مقرر کیا ہے ، جو خشکی کے حساب سے ان کے لئے مناسب ہے ، اس نے سمندر کے جانوروں اور پرندوں کے لئے ان کے لئے سمندر میں ، جو چیز بہتر ہے ، وہ چیز پیدا کی ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

11799

Majma al-Zawaid #11799

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْقَدَرِ فَوَجَأْتُ رَأْسَهُ، قَالُوا: وَلِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لَوْحًا مَحْفُوظًا مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ، دَفَّتَاهُ يَاقُوتَةٌ حَمْرَاءُ، قَلَمُهُ نُورٌ [وَكِتَابُهُ نُورٌ]، وَعَرْضُهُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، يَنْظُرُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سِتِّينَ وَثَلَاثَمِائَةِ نَظْرَةٍ، يَخْلُقُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ، وَيُحْيِي، وَيُمِيتُ، وَيُعِزُّ، وَيُذِلُّ، وَيَفْعَلُ مَا يَشَاءُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُ هَذِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said he wished a denier of decree were present to strike his head, then described the Preserved Tablet of white pearl with red ruby edges, its pen and writing of light, vast as heaven and earth, which Allah regards three hundred and sixty times daily, creating, giving life and death, honor and humiliation, doing what He wills. > **["Indeed Allah created a Preserved Tablet of white pearl, its two edges of red ruby, its pen of light and its writing of light, its breadth as between heaven and earth; He looks into it three hundred and sixty times each day, with each regard creating, giving life, causing death, honoring, humiliating, and doing what He wills"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میری یہ خواہش تھی کہ اگر قدریہ فرقے کا کوئی شخص میرے پاس ہوتا ، تو میں اُس کے سر کو تکلیف پہنچاتا ( یعنی اس کی پٹائی کرتا ) لوگوں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے فرمایا : اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سفید موتی سے لوح محفوظ کو پیدا کیا ہے ، جس کے دونوں کنارے سرخ یاقوت کے ہیں ، اس کا قلم نور ہے اور اس کی کتاب نور ہے اور وہ اتنا بڑا ہے ، جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے ، پروردگار روزانہ تین سو ساٹھ مرتبہ اس کی طرف نظر کرتا ہے اور ہر نظر میں کوئی چیز تخلیق کرتا ہے ، کسی کو زندگی دیتا ہے کسی کو موت دیتا ہے کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے ، اور جو وہ چاہتا ہے ، وہ کرتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

11800

Majma al-Zawaid #11800

وَعَنْ مَرْثَدٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: خَطَّ اللَّهُ خَطَّيْنِ فِي كِتَابِهِ، ثُمَّ رَفَعَ الْقَلَمَ فَكَتَبَ فِي أَحَدِهِمَا الْخَلْقَ، وَكَتَبَ فِي الْآخَرِ مَا الْخَلْقُ عَامِلُونَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Marthad (may Allah be pleased with him), a Companion of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), said Allah drew two lines in His Book, then lifted the Pen, writing creation in one and what creation shall do in the other. > **["Allah drew two lines in His Book, then lifted the Pen, and wrote in one of them creation, and wrote in the other what creation shall do"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مرثد رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک ہیں ، وہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنی تحریر میں دو قسم کی لکیریں لگائیں پھر اس نے قلم اٹھا لیا ، ان دونوں میں سے ایک میں اس نے مخلوق کو تحریر کیا اور دوسری سطر میں وہ تحریر کیا جو مخلوق نے عمل کرنے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن یحیی خشنی ہے ، جسے دحیم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

11801

Majma al-Zawaid #11801

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: رُفِعَ الْكِتَابُ، وَجَفَّ الْقَلَمُ، وَأُمُورٌ بِقَضَاءٍ فِي كِتَابٍ قَدْ خَلَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn Ali (may Allah be pleased with them both) said the Book has been lifted, the Pen has dried, and matters stand decreed in a Book long past. > **["The Book has been lifted, the Pen has dried, and matters stand by decree in a Book long past"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : کتاب کو اٹھا لیا گیا ہے اور قلم خشک ہو چکا ہے اور تقدیر کے فیصلے سے متعلق امور کتاب میں موجود ہیں ، جو پہلے سے طے ہو چکے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11802

Majma al-Zawaid #11802

عَنْ جُنْدُبٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - وَغَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، فَأَخْرَجْتَ النَّاسَ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ نَجِيًّا، وَآتَاكَ التَّوْرَاةَ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ كُتِبَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي! "، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى».

EnglishUnverified translation

Jundub ibn Abdillah and others (may Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said Adam and Musa disputed. Musa reproached Adam for being created by Allah's Hand, honored by angels and Paradise, then bringing people out of Paradise. Adam replied that Musa, spoken to privately and given the Torah, blamed him for a matter written upon him before his creation. So Adam overcame Musa. > **["You are Musa whom Allah addressed intimately and gave the Torah; do you blame me for a matter decreed upon me before He created me"]** > **["So Adam overcame Musa"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اصحاب یہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک مرتبہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بحث ہو گئی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ وہی حضرت آدم علیہ السلام ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور اپنی جنت میں آپ کو ٹھہرایا ، اور پھر آپ نے لوگوں کو جنت سے نکلوا دیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم وہی موسیٰ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کی ، اور تمہیں تورات عطا کی ، تم ایک ایسے معاملے کے حوالے سے مجھے ملامت کر رہے ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے پہلے ہی میرے بارے میں طے کر دیا تھا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔‘‘

11803

Majma al-Zawaid #11803

وَفِي رِوَايَةٍ «قَالَ - يَعْنِي آدَمَ: فَأَنَا أَقْدَمُ أَمِ الذِّكْرُ؟». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration Adam (peace be upon him) answered Musa by asking which is prior: himself or the written remembrance in the Preserved Tablet. > **["Am I prior, or is the Remembrance prior"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہوں نے یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے یہ کہا : میں پہلے ہوں ؟ یا ذکر ( یعنی لوح محفوظ ) پہلے ہے ؟ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور طبرانی نے نقل کی ہے اور ان روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11804

Majma al-Zawaid #11804

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ فَأَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: يَا مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ، وَفَعَلَ بِكَ وَفَعَلَ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي! قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ مَرْفُوعًا، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri (may Allah be pleased with him) reported that Adam and Musa (peace be upon them both) disputed. Musa said Allah created Adam by His Hand, breathed His spirit into him, commanded angels to prostrate, housed him in Paradise, yet he lured people out. Adam answered that Allah chose Musa for messengership, sent the Torah and favored him, yet he blamed a matter Allah decreed before his creation. So Adam overcame Musa. > **["O Adam, Allah created you by His Hand, breathed into you of His spirit, commanded the angels and they prostrated to you, and housed you in His Paradise, then you lured people and brought them out of Paradise"]** > **["O Musa, Allah chose you with His message, sent down upon you the Torah, and did for you such and such; do you blame me for a matter Allah decreed upon me before He created me"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بحث ہو گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : اے حضرت آدم علیہ السلام ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست مبارک کے ذریعے پیدا کیا ، آپ میں اپنی روح کو پھونکا ، ، اُس نے فرشتوں کو حکم دیا تو فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا ، اُس نے آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا ، اور پھر آپ نے لوگوں کو بھٹکا دیا ، اور انہیں جنت سے نکلوا دیا ، تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : اے موسیٰ ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی رسالت کے حوالے سے منتخب کیا ، تم پر تورات کو نازل کیا ، تمہارے ساتھ یہ کیا اور یہ کیا ، تم مجھے ایک ایسے معاملے کے حوالے سے ملامت کر رہے ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ نے مجھے تخلیق کرنے سے پہلے میری تقدیر میں طے کر دیا تھا ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو یوں حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے ’’ مرفوع ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11805

Majma al-Zawaid #11805

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُنَا عَلَى بَابِ الْحُجُرَاتِ، إِذْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَمَعَهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ يُجَاوِبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَيَرُدُّ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَكَتُوا، فَقَالَ: "" مَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ آنِفًا جَاوَبَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَيَرُدُّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ؟ ""، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ الْحَسَنَاتِ مِنَ اللَّهِ وَالسَّيِّئَاتِ مِنَ الْعِبَادِ، وَقَالَ عُمَرُ: الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ مِنَ اللَّهِ، فَتَابَعَ هَذَا قَوْمٌ وَهَذَا قَوْمٌ، فَأَجَابَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَرَدَّ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: "" كَيْفَ قُلْتَ؟ ""، قَالَ قَوْلَهُ الْأَوَّلَ، وَالْتَفَتَ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ قَوْلَهُ الْأَوَّلَ، فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمْ بِقَضَاءِ إِسْرَافِيلَ بَيْنَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ، فَهُمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تَكَلَّمَ فِيهِ، فَقَالَ مِيكَائِيلُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ، وَقَالَ جِبْرِيلُ بِقَوْلِ عُمَرَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ لِمِيكَائِيلَ: إِنَّا مَتَى يَخْتَلِفْ أَهْلُ السَّمَاءِ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْأَرْضِ فَلْنَتَحَاكَمْ إِلَى إِسْرَافِيلَ، فَتَحَاكَمَا إِلَيْهِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا بِحَقِيقَةِ الْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حُلْوِهِ وَمُرِّهِ، كُلُّهُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنَا قَاضٍ بَيْنَكُمَا ""، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: "" يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا يُعْصَى لَمْ يَخْلُقْ إِبْلِيسَ ""، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُمَرُ بْنُ الصُّبْحِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ السَّكَنُ بْنُ سَعِيدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ، قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي مَوَاضِعِهَا مِنْ هَذَا النَّحْوِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) reported that while the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) spoke at the doors of the chambers, Abu Bakr and Umar came with disputing groups. One man explained Abu Bakr held good deeds are from Allah and evil from servants, while Umar held both from Allah. The Prophet asked each to repeat, then swore to judge as Israfil judged between Jibril and Mikail, the first creation to discuss it, whose dispute was likewise referred to Israfil, who judged all decree good evil sweet bitter from Allah. > **["What speech did I just hear, some answering others and refuting others"]** > **["How did you state it"]** > **["By Him in Whose Hand is my soul, I shall judge between you with the judgment of Israfil between Jibril and Mikail; they, by Him in Whose Hand is my soul, are the first of Allah's creation to discuss it; Mikail held the view of Abu Bakr, and Jibril held the view of Umar, so Jibril said to Mikail: whenever heaven folk differ, earth folk differ, so let us seek Israfil as judge; so they sought him and he judged between them with the reality of decree, its good and evil, sweet and bitter, all from Allah, Mighty and Majestic, and I judge between you likewise"]** > **["O Abu Bakr, indeed Allah, Blessed and Exalted, had He willed not to be disobeyed, He would not have created Iblis"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ حجروں کے دروازے کے پاس ہمارے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، اسی دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ آ گئے ، ان کے ساتھ کچھ لوگ آ گئے ، جو ایک دوسرے کے ساتھ بحث کر رہے تھے ، جب ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو خاموش ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کلام کیا تھا ؟ جو میں ابھی سن رہا تھا ، جو تم ایک دوسرے کے ساتھ بحث مباحثہ کر رہے تھے ، اور ایک دوسرے کو جواب دے رہے تھے ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے کہ نیکیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں اور برائیاں بندوں کی طرف سے ہوتی ہیں ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ نیکیاں اور برائیاں ( دونوں ہی ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتی ہیں ، تو کچھ لوگ ان کی پیروی کر رہے تھے اور کچھ لوگ ان کی پیروی کر رہے تھے اور وہ ایک دوسرے کو جواب دے رہے تھے ، اور ایک دوسرے کی بات مسترد کر رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر دریافت کیا : تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : وہی بات جو پہلے کی گئی ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ، تو انہوں نے بھی وہی بات بیان کی ، جو پہلے بیان ہو چکی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں تمہارے درمیان وہی فیصلہ دوں گا ، جو حضرت اسرافیل علیہ السلام نے حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کے درمیان دیا تھا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ دونوں فرشتے اللہ کی مخلوق میں پہلے لوگ تھے ، جنہوں نے اس مسئلے کے بارے میں کلام کیا ، حضرت میکائیل علیہ السلام کی رائے وہی تھی ، جو ابوبکر کی رائے ہے ، اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی رائے وہی تھی ، جو عمر کی رائے ہے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت میکائیل علیہ السلام سے کہا : اگر ہم آسمان والے اختلاف کریں گے ، تو زمین والے بھی اختلاف کریں گے ، تو ہم اسرافیل علیہ السلام کو ثالث بنا لیتے ہیں ، پھر ان دونوں نے حضرت اسرافیل علیہ السلام کو ثالث بنایا ، تو حضرت اسرافیل علیہ السلام نے ان دونوں کے درمیان یہ فیصلہ دیا ، جو تقدیر کی حقیقت کے بارے میں تھا کہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ، میٹھی ہو یا کڑوی ہو ، ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اور میں بھی تم لوگوں کے درمیان یہی فیصلہ دیتا ہوں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! اگر اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا کہ اُس کی نافرمانی نہ کی جائے ، تو اُس نے ابلیس کو پیدا ہی نہیں کرنا تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمر بن صبیح ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام بزار کے استاد سکن بن سعید ہیں ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، امام بزار کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور ان کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ان کے مخصوص مقامات پر آئیں گی ۔

11806

Majma al-Zawaid #11806

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا أَجَلُهُ؟ فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَعْلَمُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ؟ فَيَعْلَمُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ خُصَيْفٌ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said when the drop rests in the womb forty days and forty nights, Allah sends an angel who asks about its term, sex, and misery or happiness, and is informed. > **["O Lord, what is his term? O Lord, male or female? O Lord, wretched or happy"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب نطفہ رحم میں چالیس دن اور چالیس راتوں تک ٹھہرا رہتا ہے ، تو پھر اللہ تعالیٰ اُس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے ، وہ فرشتہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کا رزق کتنا ہو گا ؟ تو اسے بتایا جاتا ہے ، تو وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کی موت کب آئے گی ؟ تو اسے بتایا جاتا ہے ، تو وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث ہو گا ؟ تو اسے بتایا جاتا ہے ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ تو اُسے بتایا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے ، جسے یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11807

Majma al-Zawaid #11807

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ النُّطْفَةَ تَكُونُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا عَلَى حَالِهَا لَا تَغَيَّرُ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعُونَ صَارَتْ عَلَقَةً، ثُمَّ مُضْغَةً كَذَلِكَ، ثُمَّ عِظَامًا كَذَلِكَ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُسَوِّيَ خَلْقَهُ بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا، فَيَقُولُ الْمَلَكُ الَّذِي يَلِيهِ: أَيْ رَبِّ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ أَقَصِيرٌ أَمْ طَوِيلٌ؟ نَاقِصٌ أَمْ زَائِدٌ؟ قُوتُهُ؟ أَجَلُهُ؟ أَصَحِيحٌ أَمْ سَقِيمٌ؟ ""، قَالَ: "" فَيُكْتَبُ ذَلِكَ كُلُّهُ ""، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا؟ وَقَدْ فُرِغَ مِنْ هَذَا كُلِّهِ، فَقَالَ: "" اعْمَلُوا فَكُلٌّ سَيُوَجَّهُ لِمَا خُلِقَ لَهُ»، قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُعْجَمِ الصَّغِيرِ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ، وَزَادَ "" «ثُمَّ يَكْسُو اللَّهُ الْعِظَامَ لَحْمًا» ""، وَقَالَ: "" وَأَثَرُهُ "".

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said the drop stays forty days unchanged, then becomes a clot, then a lump, then bones likewise; when Allah wills to fashion him, He sends an angel who asks about sex, misery, stature, defect, strength, term, health, and all is written. Asked why act when finished, he commanded action, for each shall be directed. > **["O Lord, male or female? Wretched or happy? Short or tall? Deficient or complete? His strength? His term? Sound or sick? So all that is written"]** > **["Act, for each shall be directed to what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نطفہ رحم میں چالیس دن تک اسی حالت ( یعنی نطفے کی شکل میں ) رہتا ہے ، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ، جب چالیس دن گزر جاتے ہیں ، تو پھر یہ جما ہوا خون کا لوتھڑا بن جاتا ہے ، پھر گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں اتنا ہی عرصہ رہتا ہے ، پھر ہڈیاں اتنے ہی عرصے میں بنتی ہیں ، پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی تخلیق کو مکمل کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے ، فرشتہ جو اس سے متعلق ہوتا ہے ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث ؟ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ چھوٹے قد کا ہو گا یا لمبا ہو گا ؟ نقص والا ہو گا یا اضافی ہو گا ؟ اس کی قوت کیا ہو گی ؟ اس کو موت کب آئے گی ؟ کیا یہ تندرست ہو گا یا بیمار ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو یہ سب چیزیں وہ نوٹ کرتا ہے ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ جب ہر حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تم لوگ عمل کرو ! کیونکہ ہر ایک کو اس چیز کی طرف متوجہ کر دیا جائے گا ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، علی بن زید نامی راوی خراب حافظے مالک ہے ، امام طبرانی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ’’ معجم صغیر ‘‘ میں اس کی مانند نقل کی ہے ، جو صحیح میں مذکور ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اور پھر اللہ تعالیٰ اُس کی ہڈیوں کو گوشت پہنا دیتا ہے ‘‘ اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں :” اور اس کا اثر ۔‘‘

11808

Majma al-Zawaid #11808

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ نَسَمَةً قَالَ مَلَكُ الْأَرْحَامِ مُعْرِضًا: أَيْ رَبِّ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقْضِي اللَّهُ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيَقْضِي اللَّهُ أَمْرَهُ، ثُمَّ يَكْتُبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَا هُوَ لَاقٍ حَتَّى النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said when Allah wills to create a soul, the angel of wombs inquires whether male or female, wretched or happy, Allah decrees, then writes between his eyes all he shall meet, even a stumble. > **["O Lord, male or female? O Lord, wretched or happy"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی جان کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو رحم سے متعلق فرشتہ آگے آتا ہے اور عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ مذکر ہو گا ؟ یا مؤنث ؟ تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ سناتا ہے ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ سناتا ہے ، پھر وہ فرشتہ اس شخص کی دونوں آنکھوں کے درمیان وہ چیز لکھ دیتا ہے ، جس کا اسے سامنا کرنا ہو گا ، یہاں تک کہ جو کانٹا اُسے لگے گا ، وہ بھی لکھ دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11809

Majma al-Zawaid #11809

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ سَعِدَ فِي بَطْنِهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that the wretched is he made wretched in his mother's belly, and the happy is he made happy in her belly. > **["The wretched is he who was made wretched in his mother's belly, and the happy is he who was made happy in her belly"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بدنصیب وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بدنصیب ہو ، اور خوش نصیب وہ ہے ، جو ماں کے پیٹ میں خوش نصیب ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11810

Majma al-Zawaid #11810

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ يَبْعَثُ مَلَكًا فَيَدْخُلُ الرَّحِمَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَاذَا؟ فَيَقُولُ: غُلَامٌ أَوْ جَارِيَةٌ، أَوْ مَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ فِي الرَّحِمِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ شَقِيٌ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا أَجَلُهُ؟ مَا خَلَائِقُهُ؟ فَيَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا رِزْقُهُ؟ فَيَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا خُلُقُهُ؟ مَا خَلَائِقُهُ؟ فَمَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْلَقُ مَعَهُ فِي الرَّحِمِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (may Allah be pleased with her) reported from the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) that when Allah, Blessed and Exalted, wills to create, He sends an angel into the womb who asks about boy or girl, misery, term, traits and provision, and everything is created with him in the womb. > **["O Lord, what shall it be? O Lord, wretched or happy? O Lord, what is his term? What are his traits? O Lord, what is his provision? O Lord, what is his character"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ جب اللہ تعالیٰ مخلوق ( میں سے کسی ) کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو وہ فرشتے کو بھیجتا ہے ، وہ رحم میں داخل ہوتا ہے اور عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! یہ کیا ہو گا ؟ تو پروردگار فرماتا ہے : یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی ہو گی ، یا جو بھی اللہ تعالیٰ کو رحم میں پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے ، وہ پیدا فرماتا ہے ، فرشتہ دریافت کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! کیا یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ؟ تو پروردگار فرماتا ہے ، بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب ہو گا ، فرشتہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اسے موت کب آئے گی ؟ اس کے اخلاق کیا ہوں گے ؟ تو پروردگار فرماتا ہے : اس اس طرح کے ہوں گے ، فرشتہ دریافت کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کا رزق کیا ہو گا ؟ تو پروردگار فرماتا ہے : اتنا اتنا ہو گا ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے پروردگار ! اس کے اخلاق اور خلائق کیسے ہوں گے ؟ تو ہر ایک چیز رحم میں اس شخص کے ساتھ تخلیق ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11811

Majma al-Zawaid #11811

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَقَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا فِي بَطْنِ أُمِّهِ مُؤْمِنًا، وَخَلَقَ فِرْعَوْنَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ كَافِرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said Allah, Glorious in remembrance, created Yahya son of Zakariyya (peace be upon them both) a believer in his mother's belly, and created Pharaoh a disbeliever in his mother's belly. > **["Allah created Yahya son of Zakariyya a believer in his mother's belly, and created Pharaoh a disbeliever in his mother's belly"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیی بن زکریا علیہ السلام کو اُن کی والدہ کے پیٹ میں مؤمن پیدا کیا گیا ، اور اُس نے فرعون کو اُس کی ماں کے پیٹ میں کافر پیدا کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

11812

Majma al-Zawaid #11812

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ ".

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) said he heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say Allah created His creation in darkness, then cast upon them of His light; whom it reached that day was guided, whom it missed strayed. Hence he says the Pen has dried upon Allah's knowledge. > **["Indeed Allah created His creation in darkness, then cast upon them of His light; whomsoever His light reached that day was guided, and whomsoever it missed strayed; therefore I say: the Pen has dried upon the knowledge of Allah"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا ، پھر اُس نے ان پر اپنا نور ڈالا ، تو اُس دن جسے وہ نور ملا ، وہ ہدایت پا گیا ، اور جسے وہ نور نہیں ملا ، وہ گمراہ ہو گیا ، اس لئے میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ، قلم خشک ہو چکا ہے ۔‘‘

11813

Majma al-Zawaid #11813

وَفِي رِوَايَةٍ "" خَلَقَ خَلْقَهُ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ نُورِهِ مَا شَاءَ فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَ النُّورُ مَنْ شَاءَ أَنْ يُصِيبَهُ، وَأَخْطَأَ مَنْ شَاءَ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said Allah created His creation, placed them in darkness, took what He willed of His light and cast it upon them; it reached whom He willed and missed whom He willed. Hence he says the Pen has dried. > **["The Pen has dried concerning what shall be"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا ، پھر انہیں تاریکی میں رکھا ، پھر اس نے اپنا نور جو چاہا لیا اور وہ اُن لوگوں پر ڈالا ، تو جس کو اس نے چاہا ، اُس تک نور پہنچ گیا اور جس کو اس نے چاہا ، اس تک نور نہیں پہنچا ، اسی لئے میں یہ کہتا ہوں : جو کچھ ہونا ہے ، اُس کے حوالے سے قلم خشک ہو چکا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی دو استناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

11814

Majma al-Zawaid #11814

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ حَتَّى أَنَاخَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ مَسِيرَةِ تِسْعٍ أَنْصَبْتُ بَدَنِي، وَأَسْهَرْتُ لَيْلِي، وَأَظْمَأْتُ نَهَارِي لِأَسْأَلَكَ عَنْ خَلَّتَيْنِ أَسْهَرَتَانِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا اسْمُكَ؟ ""، قَالَ: أَنَا زَيْدُ الْخَيْلِ، قَالَ: "" بَلْ أَنْتَ زَيْدُ الْخَيْرِ ""، فَقَالَ: أَسْأَلُكَ عَنْ عَلَامَةِ اللَّهِ فِيمَنْ يُرِيدُ وَعَلَامَتِهِ فِيمَنْ لَا يُرِيدُ، إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْرَ، وَأَهْلَهُ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِ، وَإِنْ عَمِلْتُ بِهِ أَيْقَنْتُ ثَوَابَهُ، فَإِنْ فَاتَنِي مِنْهُ شَيْءٌ حَنَنْتُ إِلَيْهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هِيَ عَلَامَةُ اللَّهِ فِيمَنْ يُرِيدُ وَعَلَامَةُ اللَّهِ فِيمَنْ لَا يُرِيدُ، لَوْ أَرَادَكَ فِي الْأُخْرَى هَيَّأَكَ لَهَا ثُمَّ لَا تُبَالِي فِي أَيِّ وَادٍ سَلَكْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) reported they were with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) when a rider arrived after nine nights travel, exhausted body, sleepless nights, thirsty days, to ask two matters depriving sleep. Asked his name, he said Zayd of Horses, so he named him Zayd of Good. He asked Allah's mark in whom He wants and in whom He does not, loving good and grieving loss; he was told preparation for the other abode is the sign. > **["What is your name"]** > **["I am Zayd of Horses"]** > **["Rather you are Zayd of Good"]** > **["It is the mark of Allah in whom He wants and the mark of Allah in whom He does not want; had He wanted you for the other, He would have prepared you for it, then He would not care in which valley you perished"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، ایک سوار آیا ، اس نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر سواری کو بٹھایا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نو دن کی مسافت طے کر کے آپ کے پاس آیا ہوں ، میں نے اپنے بدن کو تھکاوٹ کا شکار کر لیا ہے ، میں راتوں کو جاگتا رہا ہوں ، میں دن کو پیاسا رہا ہوں ، میں آپ سے دو چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا ، جنہوں نے میری راتوں کی نیندیں چھین لی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : میں زید الخیل ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ تم زید الخیر ہو ، اس نے عرض کی : میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی علامت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ، جو اُس چیز کے بارے میں ہو ، جو وہ ارادہ کرتا ہے ، اور اس کی اس علامت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ، جو اس چیز کے بارے میں ہو ، جو وہ ارادہ نہیں کرتا ، میں بھلائی اور بھلائی کے اہل افراد سے محبت کرتا ہوں اور ان لوگوں سے بھی ، جو بھلائی پر عمل کرتے ہیں ، اگر میں اس پر عمل کروں گا ، تو میں اس کے ثواب کا یقین رکھوں گا اور اگر اس کے حوالے سے کوئی چیز مجھ سے رہ جاتی ہے ، تو میں اُس کے حوالے سے غمگین ہو جاؤں گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ اللہ تعالیٰ کی علامت اُس چیز کے بارے میں ہے ، جو وہ ارادہ کرتا ہے اور جس چیز کا وہ ارادہ نہیں کرتا ، اُس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی علامت یہ ہے کہ اگر اس نے تمہارے لئے دوسری صورت حال کا ارادہ کیا ہوتا ، تو وہ دوسری صورت حال کو تمہارے لئے آسان کر دیتا ، اور پھر وہ اس بات کی پرواہ نہ کرتا کہ تم کون سی وادی میں ہلاکت کا شکار ہوتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11815

Majma al-Zawaid #11815

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: «قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَعْمَلُ عَلَى مَا فُرِغَ مِنْهُ أَمْ عَلَى أَمْرٍ مُؤْتَنَفٍ؟ قَالَ: "" عَلَى أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ""، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: عَنْ عَطَّافِ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَطَّافٌ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ فِي رِجَالِ أَحْمَدَ رَجُلًا مُبْهَمًا لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr the Truthful (may Allah be pleased with him) said he asked the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) whether they act upon a finished matter or a new one. He said upon what is finished. Asked why act, he said each is facilitated. > **["Upon a matter already finished"]** > **["Each is facilitated for what he was created for"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم عمل ایک ایسے حساب سے کرتے ہیں ، جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ یا یہ نئے سرے سے پیدا ہونے والی کوئی چیز ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ایسی چیز ہے ، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر ایک کے لئے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے ، جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ عطاف بن خالد کے حوالے سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں : حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، عطاف نامی راوی کو یحیی بن معین اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام احمد کے رجال میں ایک مہم شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

11816

Majma al-Zawaid #11816

وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَقَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ فِي أَمْرٍ مُبْتَدَإٍ [أَوْ أَمْرٍ مُبْتَدَعٍ]؟ قَالَ: "" فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ""، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَا نَتَّكِلُ؟ فَقَالَ: "" اعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَيَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَيَعْمَلُ لِلشَّقَاوَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) asked the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) whether their deeds concern what is finished or a new beginning. He said what is finished. Umar asked whether to rely, and he commanded action, for the happy work happiness and the wretched work wretchedness. > **["It concerns what has been finished"]** > **["Act, O son of Khattab, for each is facilitated; whoever is among the happy works for happiness, and whoever is among the wretched works for wretchedness"]**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ہم جو عمل کرتے ہیں ، کیا اس سے فارغ ہوا جا چکا ہے ؟ یا وہ نئے سرے سے پیدا ہونے والا معاملہ ہے ؟ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ایک ایسی چیز ہے ، جس کے حوالے سے فارغ ہوا جا چکا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر کیا ہم اُسی پر تکیہ نہ کر لیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تم عمل کرو ! ہر ایک کے لئے ( اس کی مخصوص چیز ) آسان کر دی جاتی ہے ، اگر وہ اہل سعادت میں سے ہو گا ، تو وہ سعادت والے عمل کرے گا اور اگر وہ اہل شقاوت میں سے ہو گا ، تو وہ شقاوت والے عمل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔