Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 32 · Chapter 2

Book of Interpretation of Dreams

Hadith 11754–11776

23 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11754

Majma al-Zawaid #11754

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَآنِي الْحَقَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that whoever sees him has seen the truth. > **"Whoever sees me has seen the truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے ( مجھے خواب میں ) دیکھا ‘ اُس نے درحقیقت مجھے ہی دیکھا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11755

Majma al-Zawaid #11755

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashjai reported from his father, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that whoever sees him in sleep has truly seen him. > **"Whoever sees me in sleep has truly seen me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشجعی ‘ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ‘ اُس نے مجھے ہی دیکھا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11756

Majma al-Zawaid #11756

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَرَاءَى بِي». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah, may Allah be pleased with him, reported from the Messenger of Allah, peace be upon him, that the righteous dream is from Allah and the confused dream is from Satan. Whoever sees something he dislikes should spit to his left three times and seek refuge in Allah from Satan, for it will not harm him, and Satan cannot appear in his form. > **"The righteous dream is from Allah and the confused dream is from Satan. Whoever sees something he dislikes should spit to his left three times and seek refuge in Allah, for it will not harm him. Satan cannot appear in my form."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ نیک خواب ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں ‘ اور برے خواب ‘ شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں ، جو شخص ( خواب میں ) کوئی ایسی چیز دیکھے ‘ جو اسے ناگوار گزرے ‘ تو اسے اپنے بائیں تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے ‘ اور شیطان سے ‘ اللہ کی پناہ مانگ لینی چاہیے ‘ تو وہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا اور شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے .

11757

Majma al-Zawaid #11757

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي وَلَا بِالْكَعْبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ لِينٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that whoever sees him in sleep has truly seen him, for Satan cannot assume his form nor the form of the Kabah. > **"Whoever sees me in sleep has truly seen me, for Satan cannot assume my form nor the form of the Kabah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ‘ اُس نے مجھے ہی دیکھا ‘ کیونکہ شیطان ‘ میری ‘ یا کعبہ کی شکل اختیار نہیں کر سکتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوسری ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11758

Majma al-Zawaid #11758

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ رَآنِي مِنَ الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَلَفْظُهُ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي»، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that whoever sees him in sleep has seen him as if awake, and Satan cannot assume his form. In another wording, it is as if he saw him awake, and whoever sees him has seen truth. > **"Whoever sees me in sleep, it is as if he has seen me awake. Satan cannot assume my form."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ‘ گویا اُس نے مجھے بیداری میں دیکھا ( یعنی درحقیقت اُس نے مجھے ہی دیکھا ) اور شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ‘ تو گویا اُس نے مجھے بیداری میں دیکھا اور جس نے مجھے دیکھا ‘ اُس نے حق کو دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار نہیں کر سکتا ہے ‘‘۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

11759

Majma al-Zawaid #11759

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace be upon him, said that whoever sees him in sleep has seen him in wakefulness, and then mentioned the rest of the account. > **"Whoever sees me in sleep has seen me in wakefulness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ، تحقیق اُس نے مجھے بیداری میں دیکھا ( یعنی اُس نے درحقیقت مجھے ہی دیکھا ) ......‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے اور وہ ضعیف ہے .

11760

Majma al-Zawaid #11760

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ، وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn Abdullah al-Khathami reported from the Messenger of Allah, peace be upon him, the like of the account of Abu Qatadah: that the Prophet, peace be upon him, said whoever sees him in sleep will see him in wakefulness, and Satan cannot assume his form. > **"Whoever sees me in sleep will see me in wakefulness, and Satan cannot assume my form."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن عبدالله خثعمی رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ....... اس کے بعد راوی نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کی مانند روایت نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ‘ وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھ لے گا ‘ اور شیطان میری شکل و صورت اختیار نہیں کر سکتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11761

Majma al-Zawaid #11761

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُخَيَّلُ عَلَى مَنْ رَآهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud, may Allah be pleased with him, said that the Messenger of Allah, peace be upon him, could not be falsely imagined to one who saw him. > **"The Messenger of Allah cannot be falsely imagined to one who saw him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کو ( خواب میں ) دیکھتا ہے تو یہ محض اس کا خیال نہیں ہوتا ( بلکہ اس نے واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کو دیکھا ہوتا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11762

Majma al-Zawaid #11762

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّ الرُّوحَ لَيَلْقَى الرُّوحَ "". فَأَقْنَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ هَكَذَا، فَوَضَعَ جَبْهَتَهُ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، أَحَدُهَا هَذَا وَهُوَ مُتَّصِلٌ.

EnglishUnverified translation

Khuzaymah ibn Thabit, may Allah be pleased with him, reported that he saw in sleep as if he prostrated upon the forehead of the Prophet, peace be upon him. He told the Messenger of Allah of that, who said that spirit meets spirit. The Prophet then inclined his head, and he placed his forehead upon the forehead of the Prophet. > **"Spirit meets spirit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی اکرم ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کر رہا ہوں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( خواب میں ) ایک روح ‘ دوسری روح سے ملتی ہے ‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر مبارک جھکایا ‘ تو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پیشانی ‘ نبی اکرم ﷺ کی پیشانی پر رکھی ۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک یہ ہے اور یہ متصل ہے .

11763

Majma al-Zawaid #11763

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اجْلِسْ، وَاسْجُدْ، وَاصْنَعْ كَمَا رَأَيْتَ»، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

The Prophet, peace be upon him, said to him to sit, prostrate, and do as he had seen in his dream. > **"Sit, prostrate, and do as you saw."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ تم بیٹھ کر سجدہ کرو اور اس طرح کرو ‘ جس طرح تم نے ( خواب میں ) دیکھا ہے ‘‘۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

11764

Majma al-Zawaid #11764

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ - وَخُزَيْمَةُ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ - قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَمِّهِ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ سَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ عَامِرِ بْنِ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيِّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Shihab reported from Umarah ibn Khuzaymah ibn Thabit al-Ansari, Khuzaymah being the one whose testimony the Messenger of Allah, peace be upon him, made equal to that of two men. Umarah reported from his uncle, a Companion of the Prophet, peace be upon him, that Khuzaymah ibn Thabit saw in sleep that he prostrated upon the forehead of the Messenger of Allah, peace be upon him. He came to the Messenger of Allah and mentioned it to him, so the Messenger of Allah lay down and he prostrated upon his forehead. > **"Khuzaymah saw that he prostrated upon the forehead of the Messenger of Allah, so the Messenger lay down and he prostrated upon his forehead."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن شہاب نے ‘ عمارہ بن خزیمہ بن ثابت انصاری کے حوالے سے ‘ یہ روایت نقل کی ہے : حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں کہ جن کی گواہی کو ‘ نبی اکرم ﷺ نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا ، ابن شہاب بیان کرتے ہیں : عمارہ بن خزیمہ نے ‘ اپنے چچا کے حوالے سے ‘ یہ بات نقل کی ہے ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے خواب میں یہ دیکھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کر رہے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ لیٹ گئے اور حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کیا ۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اپنے استاد عامر بن صالح زبیری کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جسے امام احمد اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11765

Majma al-Zawaid #11765

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ «أَنَّهُ رَأَى فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ يُقَبِّلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَامَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عُمَارَةُ بْنُ عُثْمَانَ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Khuzaymah ibn Thabit, may Allah be pleased with him, reported that he saw in his sleep that he kissed the Prophet, peace be upon him. He told him of it, so the Prophet stood for him and kissed his forehead. > **"Khuzaymah saw that he kissed the Prophet, so the Prophet stood and kissed his forehead."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے خواب میں یہ دیکھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کو بوسہ دے رہے ہیں ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ ان کے سامنے کھڑے ہو گئے ‘ اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن عثمان ہے ‘ ابوجعفر خطمی کے علاوہ اور کسی نے ‘ اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11766

Majma al-Zawaid #11766

وَعَنِ الْمُثَنَّى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَلَّ لَيْلَةٌ تَأْتِي عَلَيَّ إِلَّا وَأَنَا أَرَى فِيهَا خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَسٌ يَقُولُ ذَلِكَ وَتَدْمَعُ عَيْنَاهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Muthanna, meaning Ibn Said, reported that he heard Anas say that hardly a night passes over him but he sees in it his beloved, peace be upon him, and Anas said this with tears in his eyes. > **"Hardly a night passes over me but I see in it my beloved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مثنی بن سعید بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مجھے اکثر اوقات ‘ خواب میں اپنے خلیل ﷺ کی زیارت ہو جاتی ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : جب حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ بات بیان کرتے تھے ‘ تو اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11767

Majma al-Zawaid #11767

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا تَقُصَّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ أَوْ نَاصِحٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace be upon him, that a dream should not be narrated except to a scholar or a sincere adviser. > **"Do not narrate a dream except to a scholar or a sincere adviser."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم خواب ‘ صرف کسی ( تعبیر کے ) عالم ‘ یا خیرخواہ شخص کے سامنے بیان کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

11768

Majma al-Zawaid #11768

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ غَنَمًا سُودًا تَتْبَعُهَا غَنَمٌ عُفْرٌ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الْغَنَمَ السُّودَ الْعَرَبُ وَالْعُفْرَ الْعَجَمُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl reported from the Prophet, peace be upon him, that he saw in sleep black sheep followed by dusty-white sheep, and interpreted the black sheep as the Arabs and the dusty ones as the non-Arabs. > **"I saw black sheep followed by dusty-white sheep. The black are the Arabs and the dusty are the non-Arabs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے خواب میں سیاہ رنگ کی بکریاں دیکھیں ، جن کے پیچھے ‘‘ مٹیالے رنگ کی بکریاں تھیں ، میں نے ان کی تعبیر یہ کی ہے کہ سیاہ بکریوں سے مراد ‘ عرب ہیں اور مٹیالی بکریوں سے مراد ‘ عجمی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ثقہ ہے اور خراب حافظے کا مالک ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11769

Majma al-Zawaid #11769

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اللَّبَنُ فِي الْمَنَامِ فِطْرَةٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ لِينٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace be upon him, that milk in a dream is the natural disposition. > **"Milk in a dream is the natural disposition."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ خواب میں دودھ دیکھنے ( کی تعبیر ) فطرت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11770

Majma al-Zawaid #11770

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَبِّرُ عَلَى الْأَسْمَاءِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, used to interpret dreams by names. > **"The Messenger of Allah used to interpret dreams by names."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اسماء کے حوالے سے تعبیر بیان کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11771

Majma al-Zawaid #11771

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، وَمَنْ رَأَى أَنَّهُ يَشْرَبُ لَبَنًا فَهِيَ الْفِطْرَةُ، وَمَنْ رَأَى أَنَّ عَلَيْهِ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ فَهِيَ حَصَانَةُ دِينِهِ، وَمَنْ رَأَى أَنَّهُ يَبْنِي بَيْتًا فَهُوَ عَمَلٌ يَعْمَلُهُ، وَمَنْ رَأَى أَنَّهُ غَرِقَ فَهُوَ فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace be upon him, said that whoever sees him in sleep has seen him in wakefulness. Whoever sees himself drinking milk, it is the natural disposition. Whoever sees himself wearing an iron coat, it is the strength of his religion. Whoever sees himself building a house, it is a deed he does. Whoever sees himself drowning, he is in the Fire. > **"Whoever sees me in sleep has seen me in wakefulness. Drinking milk is the natural disposition, an iron coat is the strength of religion, building a house is a deed one does, and drowning is in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ‘ اُس نے تحقیق مجھے بیداری کے عالم میں دیکھا ( یعنی اُس نے درحقیقت مجھے ہی دیکھا ) اور جو شخص خواب میں یہ دیکھے کہ وہ خواب میں دودھ پی رہا ہے ‘ تو اس سے مراد فطرت ہو گی ‘ اور جو شخص خواب میں یہ دیکھے کہ اس کے جسم پر لوہے کی زرہ ہے ‘ تو اس سے مراد ‘ اس کے دین کا محفوظ ہونا ہے ‘ اور جو شخص خواب میں یہ دیکھے کہ وہ کوئی گھر بنا رہا ہے ‘ تو اس سے مراد ‘ اُس کا عمل ہے ‘ جو وہ کرے گا ‘ اور جو شخص یہ دیکھے کہ وہ ڈوب رہا ہے ‘ تو وہ جہنم میں جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے اور وہ متروک ہے .

11772

Majma al-Zawaid #11772

وَعَنِ ابْنِ زُمَيْلٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ قَالَ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَهُ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا "" سَبْعِينَ مَرَّةً، ثُمَّ يَقُولُ: سَبْعِينَ بِسَبْعِمِائَةٍ، لَا خَيْرَ لِمَنْ كَانَتْ ذُنُوبُهُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِمِائَةٍ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا فَيَقُولُ: "" هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا؟ "". قَالَ ابْنُ زُمَيْلٍ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" خَيْرًا تَلْقَاهُ وَشَرًّا تَوَقَّاهُ، وَخَيْرٌ لَنَا وَشَرٌّ عَلَى أَعْدَائِنَا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اقْصُصْ رُؤْيَاكَ "". فَقُلْتُ: رَأَيْتُ جَمِيعَ النَّاسِ عَلَى طَرِيقٍ رَحْبٍ سَهْلٍ لَاحِبٍ، وَالنَّاسُ [عَلَى الْجَادَةِ] مُنْطَلِقُونَ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَشْفَى ذَلِكَ الطَّرِيقُ عَلَى مَرْجٍ لَمْ تَرَ عَيْنَايَ مِثْلَهُ، يَرِفُّ رَفِيفًا وَيَقْطُرُ نَدَاهُ، فِيهِ مِنْ أَنْوَاعِ الْكَلَإِ، فَكَأَنِّي بِالرَّعْلَةِ الْأُولَى حِينَ أَشْفَوْا عَلَى الْمَرْجِ، كَبَّرُوا، ثُمَّ رَكِبُوا رَوَاحِلَهُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَمِنْهُمُ الْمُرْتَقِي، وَمِنْهُمُ الْآخِذُ الضِّغْثَ، وَمَضَوْا عَلَى ذَلِكَ. قَالَ: ثُمَّ قَدِمَ عَظِمُ النَّاسِ، فَلَمَّا أَشْفَوْا عَلَى الْمَرْجِ كَبَّرُوا، فَقَالُوا: خَيْرُ الْمَنْزِلِ. فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَمِيلُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ لَزِمْتُ الطَّرِيقَ حَتَّى آتِيَ أَقْصَى الْمَرْجِ، فَإِذَا أَنَا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مِنْبَرٍ فِيهِ سَبْعُ دَرَجَاتٍ، وَأَنْتَ فِي أَعْلَاهَا دَرَجَةً، فَإِذَا عَنْ يَمِينِكَ رَجُلٌ آدَمٌ شَثْنٍ، أَقْنَى إِذَا هُوَ تَكَلَّمَ، يَسْمُو فَيَفْرَعُ الرِّجَالَ طُولًا، وَإِذَا عَنْ يَسَارِكَ رَجُلٌ تَارٌّ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَثِيرُ خِيلَانِ الْوَجْهِ، كَأَنَّمَا حَمَّمَ شَعْرَهُ بِالْمَاءِ، إِذَا هُوَ تَكَلَّمَ أَصْغَيْتُمْ لَهُ إِكْرَامًا لَهُ، وَإِذَا أَمَامَكُمْ شَيْخٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِكَ خَلْقًا، وَوَجْهًا، كُلُّهُمْ يَؤُمُّونَهُ يُرِيدُونَهُ، فَإِذَا أَمَامَ ذَلِكَ نَاقَةٌ عَجْفَاءُ شَارِفٌ، وَإِذَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ تَتَّقِيهَا. قَالَ: فَانْتُقِعَ لَوْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: "" أَمَّا مَا رَأَيْتَ مِنَ الطَّرِيقِ السَّهْلِ الرَّحْبِ اللَّاحِبِ فَذَلِكَ مَا حُمِلْتُمْ عَلَيْهِ مِنَ الْهُدَى فَأَنْتُمْ عَلَيْهِ، وَأَمَّا الْمَرْجُ الَّذِي رَأَيْتَ فَالدُّنْيَا وَغَضَارَةُ عَيْشِهَا، مَضَيْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي لَمْ نَتَعَلَّقْ بِهَا [شَيْئًا] وَلَمْ تَتَعَلَّقْ بِنَا، ثُمَّ جَاءَتِ الرَّعْلَةُ الثَّانِيَةُ بَعْدَنَا، وَهُمْ أَكْثَرُ مِنَّا، ضِعَافًا فَمِنْهُمُ الْمُرْبِعُ، وَمِنْهُمُ الْآخِذُ الضِّغْثَ، وَنَحْوَهُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ عَظِيمُ النَّاسِ فَمَالُوا فِي الْمَرْجِ يَمِينًا وَشِمَالًا [فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ]. وَأَمَّا أَنْتَ فَمَضَيْتَ عَلَى طَرِيقٍ صَالِحَةٍ فَلَمْ تَزَلْ عَلَيْهَا حَتَّى تَلْقَانِي. وَأَمَّا الْمِنْبَرُ الَّذِي رَأَيْتَ فِيهِ سَبْعَ دَرَجَاتٍ وَأَنَا فِي أَعْلَاهَا دَرَجَةً فَالدُّنْيَا، سَبْعَةُ آلَافِ سَنَةٍ، وَأَنَا فِي آخِرِهَا أَلْفًا. وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِي الْآدَمُ الشَّثْنُ فَذَاكَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِذَا تَكَلَّمَ يَعْلُو الرِّجَالَ بِفَضْلِ كَلَامِ اللَّهِ إِيَّاهُ. وَالَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِي التَارُّ الرَّبْعَةُ الْكَثِيرُ خِيلَانِ الْوَجْهِ كَأَنَّهُ حَمَّمَ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ فَذَاكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - تُكْرِمُهُ لِإِكْرَامِ اللَّهِ إِيَّاهُ. وَأَمَّا الشَّيْخُ الَّذِي رَأَيْتَ أَشْبَهَ النَّاسِ بِي خَلْقًا وَوَجْهًا فَذَاكَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كُلُّنَا نَؤُمُّهُ وَنَقْتَدِي بِهِ. وَأَمَّا النَّاقَةُ الَّتِي رَأَيْتَ وَرَأَيْتَنِي أَتَّقِيهَا فَهِيَ السَّاعَةُ، عَلَيْنَا تَقُومُ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَ أُمَّتِي "". قَالَ: فَمَا سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رُؤْيَا بَعْدَهَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ فَيُحَدِّثُهُ بِهَا مُتَبَرِّعًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Zumayl al-Juhani reported that when the Messenger of Allah, peace be upon him, had prayed dawn, he would say while folding his leg seventy times glorification and praise with seeking forgiveness, then say seventyfold becomes seven hundred, and no good is for one whose sins in a single day exceed seven hundred. He would then face the people, for he loved dreams and would ask whether any of them had seen anything. Ibn Zumayl said he answered that he had. The Prophet said he would meet good and be shielded from evil, good for them and evil upon their enemies, with praise belonging to the Lord of the worlds, and told him to narrate his dream. He said he saw all people upon a broad smooth-traveled path moving along, until the path overlooked a lush meadow of unmatched beauty, shimmering and dripping with dew, full of every pasture. The first party, upon reaching it, declared greatness, then mounted their rides along the path, some grazing and some gathering handfuls, and passed on. Then the multitude came, declared it an excellent dwelling, and inclined right and left. Seeing this, he kept to the path until its farthest end, where he saw the Messenger of Allah upon a pulpit of seven steps at its highest degree, with a dark coarse tall eloquent man on his right and a stocky reddish freckled man on his left whose speech they honored, and before them an elder most resembling the Prophet in build and face whom all sought, and before that a lean aged she-camel from which the Prophet seemed to shield himself. The Prophet's color changed for a moment, then cleared, and he explained: the smooth broad path is the guidance they bear; the meadow is the world and its flourishing life. He and his Companions passed without clinging to it. The second party after them, more numerous and weaker, took handfuls likewise. Then the multitude inclined into the meadow. As for him, he kept a sound path until meeting the Prophet. The pulpit of seven steps is the world of seven thousand years, with him in the last thousand. The dark man on the right is Musa, eminent through Allah's speech to him. The one on the left is Isa son of Maryam, honored for Allah's honoring him. The elder is their father Ibrahim, whom all follow. The she-camel is the Hour, rising upon them, with no prophet after him and no community after his community. After that the Messenger of Allah, peace be upon him, would not ask about a dream unless a man volunteered it. > **"You will meet good and be shielded from evil. Narrate your dream. The broad path is guidance, the meadow is the world, the pulpit of seven steps is seven thousand years with me in the last thousand, and the she-camel is the Hour. There is no prophet after me and no community after my community."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن زمیل جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تھے ‘ تو اپنی ٹانگ موڑ کر یہ ارشاد فرماتے تھے : ( یعنی یہ پڑھتے تھے : ) ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ ہر عیب سے پاک ہے اور حمد ‘ اس کے لئے مخصوص ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ‘ بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ آپ ستر مرتبہ پڑھتے تھے ‘ پھر یہ فرماتے تھے : ان ستر کا ثواب سات سو ہو گا ‘ اور اس شخص کے لئے بھلائی نہیں ہے ، جس کے گناہ ایک دن میں سات سو سے زیادہ ہوں ، پھر آپ لوگوں کی طرف رخ کر لیتے تھے ‘ آپ کو خواب پسند تھے ‘ آپ یہ فرماتے تھے : کیا تم میں سے کسی نے کوئی ( نمایاں قسم کا ) خواب دیکھا ہے ؟ حضرت ابن زمیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( ایک مرتبہ میں نے عرض کی : ) یا رسول اللہ ! میں نے دیکھا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ بھلائی ہو گی ، جس کا تم سامنا کرو گے ‘ یا برائی ہو گی ، جس سے تمہیں بچا لیا گیا ہو گا ‘ وہ ہمارے حق میں بہتر ہو گا اور ہمارے دشمنوں کے حق میں برا ہو گا ‘ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ تم اپنا خواب بیان کرو ! میں نے عرض کی : میں نے خواب میں لوگوں کو دیکھا کہ سب لوگ ایک کشادہ اور آسان راستے پر گامزن ہیں ، لوگ اس راستے پر چل رہے ہیں اور وہ راستہ جا کر ایک چراگاہ میں ختم ہوتا ہے ‘ میری آنکھوں نے اس جیسی چراہ گاہ نہیں دیکھی ‘ وہ سبزہ موجود تھا ‘ اس میں مختلف نوعیت کی گھاس پھوس تھی ، میں گویا آگے جانے والے لوگوں میں شامل تھا ‘ جب وہ لوگ اس چرا گاہ میں پہنچے ‘ تو ان لوگوں نے تکبیر کہی ‘ اور پھر وہ راستے میں ہی سوار ہو گئے ‘ ان لوگوں میں سے کچھ لوگ سواریوں کو چرانے لگے اور کچھ لوگ گھاس کے گٹھے بنانے لگے ‘ وہ لوگ یہ کام کر رہے تھے کہ اسی دوران پھر بہت سے لوگ آ گئے ‘ جب وہ چراگاہ میں پہنچے ‘ تو انہوں نے تکبیر کہی اور بولے : یہ پڑاؤ کا بہترین مقام ہے ‘ میں گویا اس وقت بھی ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں مائل ہو رہے تھے ‘ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی ‘ تو میں راستے پر ہی رہا ‘ یہاں تک کہ چراگاہ کے آخری حصے میں آ گیا ، تو یا رسول اللہ ! میں نے وہاں آپ کو دیکھا کہ آپ وہاں ایک منبر پر تشریف فرما ہیں ، جس میں سات درجات ہیں ‘ اور آپ اُس کے سب سے بلند درجہ پر موجود ہیں ، آپ کے دائیں طرف ایک صاحب ہیں ، جو گندمی رنگت اور مضبوط جسم کے مالک ہیں ، جب وہ گفتگو کرتے تو نمایاں محسوس ہوتے ‘ وہ نمایاں طور پر طویل القامت محسوس ہوتے تھے ‘ جبکہ آپ کے بائیں طرف ‘ مناسب قد و قامت کے مالک ‘ سرخ رنگ کے مالک ایک فرد تھے ‘ جن کے چہرے پر تل زیادہ تھے ‘ یوں محسوس ہوتا تھا ‘ کہ ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے ہیں ‘ جب وہ بات کرتے تھے تو آپ لوگ ان کی عزت افزائی کے لیے مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ‘ اور آپ لوگوں کے سامنے ایک بزرگوار موجود تھے ‘ جو ظاہری جسامت اور چہرے سے ‘ سب لوگوں سے زیادہ ‘ آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے تھے ‘ سب لوگ ان کا قصد کرتے تھے ‘ ان کا ارادہ کرتے تھے ‘ اور وہاں پر سامنے ایک کمزور اونٹنی موجود تھی ‘ اور یوں محسوس ہوا ‘ یا رسول اللہ ! جیسے آپ اس سے بچ رہے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : گھڑی بھر کے لئے ‘ نبی اکرم ﷺ کی رنگت متغیر ہوئی ، پھر آپ ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم نے جو کشادہ اور آسان راستہ دیکھا ہے ‘ تو اُس سے مراد ‘ وہ ہدایت ہے ‘ جس پر تم لوگ گامزن ہو ‘ جہاں تک چراگاہ کا تعلق ہے ‘ جو تم نے دیکھی ‘ تو اس سے مراد ‘ دنیا اور اس کی زندگی کا عیش و آرام ہے ‘ میں اور میرے اصحاب دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور ہمارا اس عیش و آرام سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ‘ اور دنیا کا ہمارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں گا ، پھر ہمارے بعد دوسرا گروہ آئے گا ‘ جو تعداد میں ہم سے زیادہ ہو گا ‘ ان میں سے کچھ لوگ تھوڑا لینے والے ہوں گے اور کچھ گٹھے اکٹھے کریں گے ‘ پھر بہت سے لوگ آ جائیں گے اور چراگاہ میں دائیں ‘ بائیں پھیل جائیں گے ‘ تو بے شک ہم ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ‘ اور بے شک ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ‘ جہاں تک تمہارا تعلق ہے ‘ تو تم ایک سیدھے راستے پر چل رہے ہو ‘ اور مسلسل اُس پر گامزن رہو گے ‘ یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو گے ‘ جہاں تک اُس منبر کا تعلق ہے کہ جو تم نے دیکھا کہ اُس میں سات درجات ہیں ‘ اور میں اُس کے بلند ترین درجے پر ہوں ‘ تو دنیا سات ہزار سال کی ہو گی ‘ اور ’’ میں ‘‘ آخری ہزار سال میں ہوں ، جہاں تک اُس شخص کا تعلق ہے ‘ جسے تم نے میرے دائیں طرف دیکھا ‘ جو گندمی رنگت کا مضبوط جسم کا شخص تھا ‘ تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے ‘ جب وہ کلام تھا ، کرتے تھے ‘ تو دیگر لوگوں پر فائق محسوس ہوتے تھے ‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں یہ فضیلت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کلام کیا ہے ‘ جہاں تک اُن صاحب کا تعلق ہے ، جنہیں تم نے میرے بائیں طرف دیکھا ‘ جو مناسب قد و قامت کے مالک ‘ سرخ رنگ کے مالک ایک فرد تھے ‘ جن کے چہرے پر تل زیادہ تھے ‘ یوں محسوس ہوتا تھا ‘ کہ ان کے چہرے پر پانی ڈالا گیا ہے ‘ تو وہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تھے اور یہ عزت افزائی اس لیے تھی ‘ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت عطا کی ہے ‘ جہاں تک اُن بزرگوار کا تعلق ہے ، جنہیں تم نے دیکھا کہ وہ ظاہری جسامت اور شکل و صورت کے اعتبار سے ‘ مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ‘ تو وہ ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ‘ اور ہم اُن کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی اقتداء کرتے ہیں ‘ جہاں تک اس اونٹنی کا تعلق ہے ‘ جو تم نے دیکھی اور تم نے مجھے دیکھا کہ میں اُس سے بچ رہا ہوں ، تو اُس سے مراد قیامت ہے ‘ جو ہم پر قائم ہو گی ‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ‘ اور میری امت کے بعد ‘ کوئی امت نہیں ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے جب بھی کسی خواب کے بارے میں دریافت کیا ، تو کوئی شخص آتا تھا اور فضیلت کے طور پر آپ کو ( اپنا خواب ) بیان کرتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عطاء قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11773

Majma al-Zawaid #11773

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: «رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ لَكَأَنَّ فِي إِحْدَى إِصْبَعَيَّ سَمْنًا وَفِي الْأُخْرَى عَسَلًا، فَأَنَا أَلْعَقُهُمَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" تَقْرَأُ الْكِتَابَيْنِ التَّوْرَاةَ وَالْفُرْقَانَ ""، فَكَانَ يَقْرَؤُهُمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reported that he saw in sleep as if upon one of his fingers was clarified butter and upon the other honey, and he licked them both. In the morning he mentioned it to the Prophet, peace be upon him, who said he reads the two Scriptures, the Torah and the Criterion, and thereafter he would read them both. > **"You read the two Scriptures, the Torah and the Criterion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میری انگلیوں میں سے ایک میں گھی ہے اور دوسری میں شہد ہے اور میں ان دونوں کو چاٹ رہا ہوں ‘ اگلے دن میں نے اس کا ذکر ‘ نبی اکرم ﷺ سے کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم نے دو کتابوں کا علم حاصل کیا ہے ‘ تورات اور قرآن مجید ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے یہ دونوں کتابیں پڑھی ہوئی تھیں ( یعنی ان کا باقاعدہ علم حاصل کیا ہوا تھا ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11774

Majma al-Zawaid #11774

وَعَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «رَأَى مُطِيعُ بْنُ الْأَسْوَدِ فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ أُهْدِيَ إِلَيْهِ جِرَابُ تَمْرٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هَلْ بِأَحَدٍ مِنْ فَتَيَاتِكَ حَمْلٌ؟ "". قَالَ: نَعَمْ بِامْرَأَةٍ مَنْ بَنِي لَيْثٍ وَهِيَ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ: "" إِنَّهَا سَتَلِدُ غُلَامًا "". فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Zakariyya ibn Ibrahim ibn Abdullah ibn Muti reported from his father from his grandfather that Muti ibn al-Aswad saw in his sleep that a bag of dates was gifted to him. He mentioned it to the Prophet, peace be upon him, who asked whether any of his young women was pregnant. He said yes, a woman of Banu Layth, mother of Abdullah. The Prophet said she would bear a boy. She bore a boy, who was brought to the Prophet, who named him Abdullah, performed tahnik with a date, and supplicated for blessing for him. > **"Is any of your young women pregnant? She will bear a boy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ذکریا بن ابراہیم بن عبداللہ بن مطیع ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ انہیں کھجوروں کا توڑا تحفے کے طور پر دیا گیا ہے ‘ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہاری بیویوں میں سے کوئی حاملہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! بنولیث سے تعلق رکھنے والی ( میری ) بیوی حاملہ ہے ‘ پھر اُس خاتون نے بیٹے کو جنم دیا ‘ تو حضرت مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ اس بچے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُس بچے کا نام عبداللہ رکھا اور کھجور کے ذریعے اُسے گھٹی دی اور اُس کے لئے برکت کی دعا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے زکریا کے حوالے سے ‘ ابراہیم سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔

11775

Majma al-Zawaid #11775

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟ "". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ هَوَيْنَ فِي حُجْرَتِي، فَقَالَ لَهَا: "" إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ - أُرَاهُ قَالَ - أَفْضَلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ أَفْضَلُ أَقْمَارِهَا، ثُمَّ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قُبِضَ عُمَرُ، فَدُفِنُوا فِي بَيْتِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَبَحُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace be upon him, asked whether any of them had seen a dream. Aishah said she had seen three moons falling into her chamber. He told her that if her dream proved true, the best of the people of Paradise would be buried in her house. Then the Messenger of Allah, peace be upon him, passed away as the best of her moons, then Abu Bakr, then Umar, and they were buried in her house. > **"If your dream proves true, the best of the people of Paradise will be buried in your house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم میں سے کسی نے کوئی ( نمایاں قسم کا ) خواب دیکھا ہے ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے دیکھا کہ ’’ تین چاند ‘‘ اتر کر میرے حجرے میں آ گئے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچ ہوا ‘ تو تمہارے گھر میں ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اہل جنت کے افضل ترین لوگ دفن ہوں گے ‘ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا ‘ تو آپ ﷺ ( ان تینوں ) چاندوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے تھے ‘ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ‘ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ‘ تو یہ حضرات ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن ہوئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سعید ابح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11776

Majma al-Zawaid #11776

وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ ثَلَاثَةٌ. فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: خَيْرُ أَقْمَارِكِ يَا عَائِشَةُ. وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهَذَا سِيَاقُهُ، وَالْأَوْسَطِ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ayyub reported from Nafi from Ibn Umar, or Muhammad ibn Sirin from Aishah, may Allah be pleased with her, that she said she saw as if three moons fell into her chamber. Abu Bakr said that if her dream proved true, the best of the people of the earth, three men, would be buried in her house. When the Prophet, peace be upon him, died, Abu Bakr said to her this was the best of her moons. Then Abu Bakr and Umar were buried in her house. > **"If your dream proves true, the best of the people of the earth will be buried in your house."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایوب نے ‘ نافع کے حوالے سے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ‘ یا شاید محمد بن سیرین کے حوالے سے ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی ہے : انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے تین چاند اتر کر میرے حجرے میں آ گئے ہیں ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تمہارا خواب سچ ہے ‘ تو تمہارے گھر میں اہل زمین کے تین سب سے بہتر لوگ دفن ہوں گے ‘ جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! یہ تمہارے ( یعنی تمہیں نظر آنے والے تینوں ) چاندوں میں سب سے بہتر ہیں ، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں دفن ہوئے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور یہ اس کا سیاق ہے ‘ معجم اوسط میں اُنہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ‘ کسی شک کے بغیر نقل کیا ہے ، معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں .