وَعَنِ ابْنِ زُمَيْلٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ قَالَ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَهُ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا "" سَبْعِينَ مَرَّةً، ثُمَّ يَقُولُ: سَبْعِينَ بِسَبْعِمِائَةٍ، لَا خَيْرَ لِمَنْ كَانَتْ ذُنُوبُهُ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِمِائَةٍ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا فَيَقُولُ: "" هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا؟ "". قَالَ ابْنُ زُمَيْلٍ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" خَيْرًا تَلْقَاهُ وَشَرًّا تَوَقَّاهُ، وَخَيْرٌ لَنَا وَشَرٌّ عَلَى أَعْدَائِنَا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اقْصُصْ رُؤْيَاكَ "". فَقُلْتُ: رَأَيْتُ جَمِيعَ النَّاسِ عَلَى طَرِيقٍ رَحْبٍ سَهْلٍ لَاحِبٍ، وَالنَّاسُ [عَلَى الْجَادَةِ] مُنْطَلِقُونَ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَشْفَى ذَلِكَ الطَّرِيقُ عَلَى مَرْجٍ لَمْ تَرَ عَيْنَايَ مِثْلَهُ، يَرِفُّ رَفِيفًا وَيَقْطُرُ نَدَاهُ، فِيهِ مِنْ أَنْوَاعِ الْكَلَإِ، فَكَأَنِّي بِالرَّعْلَةِ الْأُولَى حِينَ أَشْفَوْا عَلَى الْمَرْجِ، كَبَّرُوا، ثُمَّ رَكِبُوا رَوَاحِلَهُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَمِنْهُمُ الْمُرْتَقِي، وَمِنْهُمُ الْآخِذُ الضِّغْثَ، وَمَضَوْا عَلَى ذَلِكَ. قَالَ: ثُمَّ قَدِمَ عَظِمُ النَّاسِ، فَلَمَّا أَشْفَوْا عَلَى الْمَرْجِ كَبَّرُوا، فَقَالُوا: خَيْرُ الْمَنْزِلِ. فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَمِيلُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ لَزِمْتُ الطَّرِيقَ حَتَّى آتِيَ أَقْصَى الْمَرْجِ، فَإِذَا أَنَا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مِنْبَرٍ فِيهِ سَبْعُ دَرَجَاتٍ، وَأَنْتَ فِي أَعْلَاهَا دَرَجَةً، فَإِذَا عَنْ يَمِينِكَ رَجُلٌ آدَمٌ شَثْنٍ، أَقْنَى إِذَا هُوَ تَكَلَّمَ، يَسْمُو فَيَفْرَعُ الرِّجَالَ طُولًا، وَإِذَا عَنْ يَسَارِكَ رَجُلٌ تَارٌّ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَثِيرُ خِيلَانِ الْوَجْهِ، كَأَنَّمَا حَمَّمَ شَعْرَهُ بِالْمَاءِ، إِذَا هُوَ تَكَلَّمَ أَصْغَيْتُمْ لَهُ إِكْرَامًا لَهُ، وَإِذَا أَمَامَكُمْ شَيْخٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِكَ خَلْقًا، وَوَجْهًا، كُلُّهُمْ يَؤُمُّونَهُ يُرِيدُونَهُ، فَإِذَا أَمَامَ ذَلِكَ نَاقَةٌ عَجْفَاءُ شَارِفٌ، وَإِذَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ تَتَّقِيهَا. قَالَ: فَانْتُقِعَ لَوْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: "" أَمَّا مَا رَأَيْتَ مِنَ الطَّرِيقِ السَّهْلِ الرَّحْبِ اللَّاحِبِ فَذَلِكَ مَا حُمِلْتُمْ عَلَيْهِ مِنَ الْهُدَى فَأَنْتُمْ عَلَيْهِ، وَأَمَّا الْمَرْجُ الَّذِي رَأَيْتَ فَالدُّنْيَا وَغَضَارَةُ عَيْشِهَا، مَضَيْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي لَمْ نَتَعَلَّقْ بِهَا [شَيْئًا] وَلَمْ تَتَعَلَّقْ بِنَا، ثُمَّ جَاءَتِ الرَّعْلَةُ الثَّانِيَةُ بَعْدَنَا، وَهُمْ أَكْثَرُ مِنَّا، ضِعَافًا فَمِنْهُمُ الْمُرْبِعُ، وَمِنْهُمُ الْآخِذُ الضِّغْثَ، وَنَحْوَهُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَ عَظِيمُ النَّاسِ فَمَالُوا فِي الْمَرْجِ يَمِينًا وَشِمَالًا [فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ]. وَأَمَّا أَنْتَ فَمَضَيْتَ عَلَى طَرِيقٍ صَالِحَةٍ فَلَمْ تَزَلْ عَلَيْهَا حَتَّى تَلْقَانِي. وَأَمَّا الْمِنْبَرُ الَّذِي رَأَيْتَ فِيهِ سَبْعَ دَرَجَاتٍ وَأَنَا فِي أَعْلَاهَا دَرَجَةً فَالدُّنْيَا، سَبْعَةُ آلَافِ سَنَةٍ، وَأَنَا فِي آخِرِهَا أَلْفًا. وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِي الْآدَمُ الشَّثْنُ فَذَاكَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِذَا تَكَلَّمَ يَعْلُو الرِّجَالَ بِفَضْلِ كَلَامِ اللَّهِ إِيَّاهُ. وَالَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِي التَارُّ الرَّبْعَةُ الْكَثِيرُ خِيلَانِ الْوَجْهِ كَأَنَّهُ حَمَّمَ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ فَذَاكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - تُكْرِمُهُ لِإِكْرَامِ اللَّهِ إِيَّاهُ. وَأَمَّا الشَّيْخُ الَّذِي رَأَيْتَ أَشْبَهَ النَّاسِ بِي خَلْقًا وَوَجْهًا فَذَاكَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كُلُّنَا نَؤُمُّهُ وَنَقْتَدِي بِهِ. وَأَمَّا النَّاقَةُ الَّتِي رَأَيْتَ وَرَأَيْتَنِي أَتَّقِيهَا فَهِيَ السَّاعَةُ، عَلَيْنَا تَقُومُ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَ أُمَّتِي "". قَالَ: فَمَا سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رُؤْيَا بَعْدَهَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ فَيُحَدِّثُهُ بِهَا مُتَبَرِّعًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn Zumayl al-Juhani reported that when the Messenger of Allah, peace be upon him, had prayed dawn, he would say while folding his leg seventy times glorification and praise with seeking forgiveness, then say seventyfold becomes seven hundred, and no good is for one whose sins in a single day exceed seven hundred. He would then face the people, for he loved dreams and would ask whether any of them had seen anything. Ibn Zumayl said he answered that he had. The Prophet said he would meet good and be shielded from evil, good for them and evil upon their enemies, with praise belonging to the Lord of the worlds, and told him to narrate his dream. He said he saw all people upon a broad smooth-traveled path moving along, until the path overlooked a lush meadow of unmatched beauty, shimmering and dripping with dew, full of every pasture. The first party, upon reaching it, declared greatness, then mounted their rides along the path, some grazing and some gathering handfuls, and passed on. Then the multitude came, declared it an excellent dwelling, and inclined right and left. Seeing this, he kept to the path until its farthest end, where he saw the Messenger of Allah upon a pulpit of seven steps at its highest degree, with a dark coarse tall eloquent man on his right and a stocky reddish freckled man on his left whose speech they honored, and before them an elder most resembling the Prophet in build and face whom all sought, and before that a lean aged she-camel from which the Prophet seemed to shield himself. The Prophet's color changed for a moment, then cleared, and he explained: the smooth broad path is the guidance they bear; the meadow is the world and its flourishing life. He and his Companions passed without clinging to it. The second party after them, more numerous and weaker, took handfuls likewise. Then the multitude inclined into the meadow. As for him, he kept a sound path until meeting the Prophet. The pulpit of seven steps is the world of seven thousand years, with him in the last thousand. The dark man on the right is Musa, eminent through Allah's speech to him. The one on the left is Isa son of Maryam, honored for Allah's honoring him. The elder is their father Ibrahim, whom all follow. The she-camel is the Hour, rising upon them, with no prophet after him and no community after his community. After that the Messenger of Allah, peace be upon him, would not ask about a dream unless a man volunteered it. > **"You will meet good and be shielded from evil. Narrate your dream. The broad path is guidance, the meadow is the world, the pulpit of seven steps is seven thousand years with me in the last thousand, and the she-camel is the Hour. There is no prophet after me and no community after my community."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابن زمیل جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تھے ‘ تو اپنی ٹانگ موڑ کر یہ ارشاد فرماتے تھے : ( یعنی یہ پڑھتے تھے : ) ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ ہر عیب سے پاک ہے اور حمد ‘ اس کے لئے مخصوص ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ‘ بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ آپ ستر مرتبہ پڑھتے تھے ‘ پھر یہ فرماتے تھے : ان ستر کا ثواب سات سو ہو گا ‘ اور اس شخص کے لئے بھلائی نہیں ہے ، جس کے گناہ ایک دن میں سات سو سے زیادہ ہوں ، پھر آپ لوگوں کی طرف رخ کر لیتے تھے ‘ آپ کو خواب پسند تھے ‘ آپ یہ فرماتے تھے : کیا تم میں سے کسی نے کوئی ( نمایاں قسم کا ) خواب دیکھا ہے ؟ حضرت ابن زمیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( ایک مرتبہ میں نے عرض کی : ) یا رسول اللہ ! میں نے دیکھا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ بھلائی ہو گی ، جس کا تم سامنا کرو گے ‘ یا برائی ہو گی ، جس سے تمہیں بچا لیا گیا ہو گا ‘ وہ ہمارے حق میں بہتر ہو گا اور ہمارے دشمنوں کے حق میں برا ہو گا ‘ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ تم اپنا خواب بیان کرو ! میں نے عرض کی : میں نے خواب میں لوگوں کو دیکھا کہ سب لوگ ایک کشادہ اور آسان راستے پر گامزن ہیں ، لوگ اس راستے پر چل رہے ہیں اور وہ راستہ جا کر ایک چراگاہ میں ختم ہوتا ہے ‘ میری آنکھوں نے اس جیسی چراہ گاہ نہیں دیکھی ‘ وہ سبزہ موجود تھا ‘ اس میں مختلف نوعیت کی گھاس پھوس تھی ، میں گویا آگے جانے والے لوگوں میں شامل تھا ‘ جب وہ لوگ اس چرا گاہ میں پہنچے ‘ تو ان لوگوں نے تکبیر کہی ‘ اور پھر وہ راستے میں ہی سوار ہو گئے ‘ ان لوگوں میں سے کچھ لوگ سواریوں کو چرانے لگے اور کچھ لوگ گھاس کے گٹھے بنانے لگے ‘ وہ لوگ یہ کام کر رہے تھے کہ اسی دوران پھر بہت سے لوگ آ گئے ‘ جب وہ چراگاہ میں پہنچے ‘ تو انہوں نے تکبیر کہی اور بولے : یہ پڑاؤ کا بہترین مقام ہے ‘ میں گویا اس وقت بھی ان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں مائل ہو رہے تھے ‘ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی ‘ تو میں راستے پر ہی رہا ‘ یہاں تک کہ چراگاہ کے آخری حصے میں آ گیا ، تو یا رسول اللہ ! میں نے وہاں آپ کو دیکھا کہ آپ وہاں ایک منبر پر تشریف فرما ہیں ، جس میں سات درجات ہیں ‘ اور آپ اُس کے سب سے بلند درجہ پر موجود ہیں ، آپ کے دائیں طرف ایک صاحب ہیں ، جو گندمی رنگت اور مضبوط جسم کے مالک ہیں ، جب وہ گفتگو کرتے تو نمایاں محسوس ہوتے ‘ وہ نمایاں طور پر طویل القامت محسوس ہوتے تھے ‘ جبکہ آپ کے بائیں طرف ‘ مناسب قد و قامت کے مالک ‘ سرخ رنگ کے مالک ایک فرد تھے ‘ جن کے چہرے پر تل زیادہ تھے ‘ یوں محسوس ہوتا تھا ‘ کہ ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے ہیں ‘ جب وہ بات کرتے تھے تو آپ لوگ ان کی عزت افزائی کے لیے مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ‘ اور آپ لوگوں کے سامنے ایک بزرگوار موجود تھے ‘ جو ظاہری جسامت اور چہرے سے ‘ سب لوگوں سے زیادہ ‘ آپ ﷺ سے مشابہت رکھتے تھے ‘ سب لوگ ان کا قصد کرتے تھے ‘ ان کا ارادہ کرتے تھے ‘ اور وہاں پر سامنے ایک کمزور اونٹنی موجود تھی ‘ اور یوں محسوس ہوا ‘ یا رسول اللہ ! جیسے آپ اس سے بچ رہے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : گھڑی بھر کے لئے ‘ نبی اکرم ﷺ کی رنگت متغیر ہوئی ، پھر آپ ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم نے جو کشادہ اور آسان راستہ دیکھا ہے ‘ تو اُس سے مراد ‘ وہ ہدایت ہے ‘ جس پر تم لوگ گامزن ہو ‘ جہاں تک چراگاہ کا تعلق ہے ‘ جو تم نے دیکھی ‘ تو اس سے مراد ‘ دنیا اور اس کی زندگی کا عیش و آرام ہے ‘ میں اور میرے اصحاب دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور ہمارا اس عیش و آرام سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ‘ اور دنیا کا ہمارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں گا ، پھر ہمارے بعد دوسرا گروہ آئے گا ‘ جو تعداد میں ہم سے زیادہ ہو گا ‘ ان میں سے کچھ لوگ تھوڑا لینے والے ہوں گے اور کچھ گٹھے اکٹھے کریں گے ‘ پھر بہت سے لوگ آ جائیں گے اور چراگاہ میں دائیں ‘ بائیں پھیل جائیں گے ‘ تو بے شک ہم ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ‘ اور بے شک ہم نے اُسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ‘ جہاں تک تمہارا تعلق ہے ‘ تو تم ایک سیدھے راستے پر چل رہے ہو ‘ اور مسلسل اُس پر گامزن رہو گے ‘ یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو گے ‘ جہاں تک اُس منبر کا تعلق ہے کہ جو تم نے دیکھا کہ اُس میں سات درجات ہیں ‘ اور میں اُس کے بلند ترین درجے پر ہوں ‘ تو دنیا سات ہزار سال کی ہو گی ‘ اور ’’ میں ‘‘ آخری ہزار سال میں ہوں ، جہاں تک اُس شخص کا تعلق ہے ‘ جسے تم نے میرے دائیں طرف دیکھا ‘ جو گندمی رنگت کا مضبوط جسم کا شخص تھا ‘ تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے ‘ جب وہ کلام تھا ، کرتے تھے ‘ تو دیگر لوگوں پر فائق محسوس ہوتے تھے ‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں یہ فضیلت حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کلام کیا ہے ‘ جہاں تک اُن صاحب کا تعلق ہے ، جنہیں تم نے میرے بائیں طرف دیکھا ‘ جو مناسب قد و قامت کے مالک ‘ سرخ رنگ کے مالک ایک فرد تھے ‘ جن کے چہرے پر تل زیادہ تھے ‘ یوں محسوس ہوتا تھا ‘ کہ ان کے چہرے پر پانی ڈالا گیا ہے ‘ تو وہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تھے اور یہ عزت افزائی اس لیے تھی ‘ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت عطا کی ہے ‘ جہاں تک اُن بزرگوار کا تعلق ہے ، جنہیں تم نے دیکھا کہ وہ ظاہری جسامت اور شکل و صورت کے اعتبار سے ‘ مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ‘ تو وہ ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ‘ اور ہم اُن کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی اقتداء کرتے ہیں ‘ جہاں تک اس اونٹنی کا تعلق ہے ‘ جو تم نے دیکھی اور تم نے مجھے دیکھا کہ میں اُس سے بچ رہا ہوں ، تو اُس سے مراد قیامت ہے ‘ جو ہم پر قائم ہو گی ‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ‘ اور میری امت کے بعد ‘ کوئی امت نہیں ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے جب بھی کسی خواب کے بارے میں دریافت کیا ، تو کوئی شخص آتا تھا اور فضیلت کے طور پر آپ کو ( اپنا خواب ) بیان کرتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عطاء قرشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔