Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 32 · Chapter 1

Book of Interpretation of Dreams

Hadith 11714–11753

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11714

Majma al-Zawaid #11714

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: "" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" يَرَاهَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ ""، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah, may Allah be pleased with her, reported that the Prophet, peace be upon him, said that nothing would remain after him of prophethood except al-mubashshirat. The Companions asked what al-mubashshirat were, and he explained that it is the righteous dream which the servant sees or which is shown to him. > **"Nothing remains after me of prophethood except al-mubashshirat. They are the righteous dream which the servant sees or which is shown to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ میرے بعد نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مبشرات کیا ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ نیک خواب ‘ جنہیں کوئی بندہ دیکھتا ہے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو اُسے دکھائی دیتے ہیں ‘‘۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ انہیں نیک آدمی دیکھتا ہے ‘‘۔

11715

Majma al-Zawaid #11715

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Prophet, peace be upon him, said that the righteous dream is one part of seventy parts of prophethood. > **"The righteous dream is one part of seventy parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ نیک خواب ‘ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11716

Majma al-Zawaid #11716

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that the righteous dream is one part of forty-six parts of prophethood. > **"The righteous dream is one part of forty-six parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نیک خواب ‘ نبوت کا چھیالیسواں جزء ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11717

Majma al-Zawaid #11717

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَرِيبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رُؤْيَا الرَّجُلِ - أَحْسَبُهُ قَالَ - الْمُؤْمِنِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ هِيَ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «جُزْءٌ مِنْ خَمْسِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ خَالِيًا عَنْ حَدِيثِ الْعَبَّاسِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى شِبْهُ الْمَرْفُوعِ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: "" سِتِّينَ جُزْءًا ""، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sulayman ibn Arib reported from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that the dream of the believing man is glad tidings from Allah and is one part of forty-six parts of prophethood. The narrator then mentioned this to Ibn Abbas, who replied that Abbas ibn Abd al-Muttalib reported from the Messenger of Allah, peace be upon him, that it is one part of fifty parts of prophethood. > **"The dream of the believing man is glad tidings from Allah; it is one part of forty-six parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن عریب ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن شخص کے خواب ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں اور یہ نبوت کا چھیالیسواں جزء ہیں ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ حدیث بیان کی ‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : حضرت ء اس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ نبوت کے پچاس اجزاء ‘ میں سے ایک ہیں ( یعنی پچاسواں جزء ہیں ) ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے اور اس میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ‘ تاہم انہوں نے ’’ ساٹھویں جزء ‘‘ کے الفاظ نقل کیے ہیں ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11718

Majma al-Zawaid #11718

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي» - وَقَالَ ابْنُ فُضَيْلٍ مَرَّةً: "" «لَا يَتَخَيَّلُ بِي» "" - «وَإِنَّ رُؤْيَا الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ الصَّادِقَةِ الصَّالِحَةِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" سَبْعِينَ جُزْءًا "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ كُلَيْبُ بْنُ شِهَابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that whoever sees him in sleep has truly seen him, for Satan cannot assume his form. He added that the truthful righteous dream of the believing servant is one part of seventy parts of prophethood. > **"Whoever sees me in sleep has truly seen me, for Satan cannot assume my form. The truthful righteous dream of the believing servant is one part of seventy parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ‘ اُس نے مجھے ہی دیکھا ‘ کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ہے ‘‘۔ ابن فضیل نامی راوی نے ‘ ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ہے ‘‘۔ ’’ اور مومن بندے کا وہ خواب ‘ جو سچا اور نیک ہو ‘ وہ نبوت کا سترواں جزء ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ سترواں جزء ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی کلیب بن شہاب ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

11719

Majma al-Zawaid #11719

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنَ النُّبُوَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace be upon him, say that the dream of the believing man is a part of prophethood. > **"The dream of the believing man is a part of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مومن شخص کا خواب ‘‘ نبوت کا ایک جزء ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11720

Majma al-Zawaid #11720

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: "" الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ - أَوْ قَالَ: الصَّالِحَةُ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said there is no prophethood after him except al-mubashshirat. When asked what they were, he said they are the good dream, or he said the righteous dream. > **"There is no prophethood after me except al-mubashshirat, and they are the righteous dream."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے بعد نبوت نہیں ہے ‘ صرف مبشرات ہوں گے ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مبشرات سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اچھے خواب ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) نیک خواب ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11721

Majma al-Zawaid #11721

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ فَلَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ "". قِيلَ: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: "" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah ibn Asid, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that prophethood has gone and there is no prophethood after him except al-mubashshirat. When asked what they were, he said they are the righteous dream which a man sees or which is shown to him. > **"Prophethood has gone, and there is no prophethood after me except al-mubashshirat: the righteous dream which a man sees or which is shown to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نبوت رخصت ہو گئی ‘ میرے بعد نبوت نہیں ہے ‘ صرف مبشرات ہونگے ، عرض کی گئی : مبشرات سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ نیک خواب ‘ جنہیں آدمی دیکھتا ہے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو اُسے دکھائے جاتے ہیں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

11722

Majma al-Zawaid #11722

وَعَنْ سَمُرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا: "" إِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَأَوَّلَ الرُّؤْيَا، وَإِنَّ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةَ حَظٌّ مِنَ النُّبُوَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" يَتَأَوَّلُ الرُّؤْيَا ""، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ سَاقِطٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, used to say to them that Abu Bakr interprets dreams, and that the righteous dream is a share of prophethood. > **"Abu Bakr interprets dreams, and the righteous dream is a share of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ فرماتے تھے : ’’ ابوبکر خوابوں کی تعبیر کر لیتا ہے ‘ اور نیک خواب ‘ نبوت کا ایک حصہ ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ خوابوں کی تاویل کر لیتا ہے ‘‘۔ امام طبرانی کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ‘ امام بزار کی سند ساقط ہے ۔

11723

Majma al-Zawaid #11723

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ أَوِ الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَسَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَقَالَ فِيهِ: «جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا»، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that the truthful or righteous dream is one part of seventy-six parts of prophethood, and in another wording one part of seventy parts. > **"The truthful righteous dream is one part of seventy-six parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سچے خواب ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) نیک خواب ‘ نبوت کے 76 اجزاء میں سے ایک جزء ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں :’’ 70 اجزاء میں سے ایک جزء ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ‘ معجم صغیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11724

Majma al-Zawaid #11724

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَإِنَّ السَّمُومَ الَّتِي خُلِقَتْ مِنْهَا الْجِنُّ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ» وَإِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَهُ طُرُقٌ تَقَدَّمَتْ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud, may Allah be pleased with him, said that the righteous dream is one part of seventy parts of prophethood, that the scorching wind from which the jinn were created is one part of seventy parts of the Fire of Hell, and that this fire of yours is one part of seventy parts of the Fire of Hell. > **"The righteous dream is one part of seventy parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نیک خواب ‘ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں ‘ اور سموم ‘‘ وہ چیز ہے ‘ جس کے ذریعے جنات کو پیدا کیا گیا ‘ یہ جہنم کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے اور تمہاری یہ ( دنیاوی ) آگ ‘ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جو اس سے پہلے مساجد کی طرف پیدل چل کر جانے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

11725

Majma al-Zawaid #11725

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that the dream of the believer is one single part of seventy parts of prophethood. > **"The dream of the believer is one single part of seventy parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن کا خواب ‘ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11726

Majma al-Zawaid #11726

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «رُؤْيَا الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثُ «مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ وَخَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace be upon him, that the dream of the believing servant is one part of forty parts of prophethood. > **"The dream of the believing servant is one part of forty parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مومن بندے کا خواب ‘ نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں یہ حدیث مذکور ہے : ” چھیالیس ‘‘ یا پینتالیس ( اجزاء میں سے ایک جزء ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11727

Majma al-Zawaid #11727

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ مَوْلَى بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Awf ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that the dream of the believer is one part of forty-six parts of prophethood. > **"The dream of the believer is one part of forty-six parts of prophethood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن کا خواب ‘ نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابویزید ہے ‘ جو بسر بن ارطاۃ کا غلام ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11728

Majma al-Zawaid #11728

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ كَلَامٌ يُكَلِّمُ بِهِ الْعَبْدُ رَبَّهُ فِي الْمَنَامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي بَابِ مَنْ رَأَى مَا يُحِبُّ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that the dream of the believer is speech by which the servant's Lord speaks to him in sleep. > **"The dream of the believer is speech by which the servant's Lord speaks to him in sleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مومن کا خواب ایسا کلام ہے ‘ جس کے ذریعے اُس کا پروردگار خواب میں بندے کے ساتھ کلام کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ آگے چل کر ‘ اس نوعیت کی احادیث اس باب میں آئیں گی کہ جو شخص ایسا خواب دیکھے ‘ جو اُسے پسند ہو ۔

11729

Majma al-Zawaid #11729

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَفْرَى الْفِرَى، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَأَفْرَى الْفِرَى أَرَى عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَ وَمَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو عُثْمَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَصْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that among the gravest lies are for a man to claim descent from other than his father, to show his eyes what they did not see, and to alter the landmarks of the earth. > **"Among the gravest lies are claiming another father, showing the eyes what they did not see, and altering the landmarks of the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص ‘ اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے ‘ اور سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے ‘ جو انہوں نے نہ دیکھی ہو ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرے ) اور کوئی شخص زمین کے ( حد بندی کے ) نشانات تبدیل کرے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوعثمان عباس بن فضل بصری ہے اور وہ متروک ہے ۔

11730

Majma al-Zawaid #11730

وَعَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" مُتَعَمِّدًا "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ali, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace be upon him, that whoever deliberately lies about a dream will be burdened on the Day of Resurrection with tying a knot in a grain of barley. > **"Whoever deliberately lies about a dream will be burdened on the Day of Resurrection with tying a knot in a grain of barley."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص جان بوجھ کر ‘ خواب کے بارے میں جھوٹ بولے گا ‘ قیامت کے دن اُسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جو ( کے دانوں میں ) گرہ لگائے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے ’’ جان بوجھ کر “ کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن عامر ثعلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11731

Majma al-Zawaid #11731

وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْإِسْلَامِ، أَوْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تُبْصِرْ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قَوْلِهِ: "" أَوْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Shurayh al-Khuzai, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that among the most insolent people toward Allah are one who kills other than his killer, one who seeks pre-Islamic blood-revenge in Islam, and one who shows his eyes in sleep what they did not see. > **"Among the most insolent people toward Allah are one who kills other than his killer, one who seeks pre-Islamic blood-revenge in Islam, and one who shows his eyes in sleep what they did not see."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ‘ لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش وہ شخص ہے ‘ جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی کو قتل کرے ‘ یا زمانہ اسلام میں زمانہ جاہلیت کے کسی خون کا بدلہ طلب کرے ‘ یا اپنی آنکھوں کو نیند کے حوالے سے وہ چیز دکھائے ‘ جو انہوں نے نہیں دیکھی ( یعنی جھوٹا خواب بیان کرے ) ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ اپنی آنکھوں کو دکھائے .......‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11732

Majma al-Zawaid #11732

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، فَمَنْ رَأَى خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -[عَلَيْهِ] وَلَيَذْكُرْهُا، وَمَنْ رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ شَرِّ رُؤْيَاهُ وَلَا يَذْكُرْهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْهَاشِمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reported that the Prophet, peace be upon him, said that the righteous dream is one part of seventy parts of prophethood. Whoever sees good should praise Allah and mention it, and whoever sees otherwise should seek refuge in Allah from the evil of his dream and not mention it, for then it will not harm him. > **"The righteous dream is one part of seventy parts of prophethood. Whoever sees good should praise Allah and mention it, and whoever sees otherwise should seek refuge in Allah from its evil and not mention it, for it will not harm him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ نیک خواب ‘ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں ‘ جو شخص بھلائی کی بات دیکھے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور اس کا ذکر کرے اور جو شخص اس کے علاوہ ( یعنی کوئی ناگوار خواب ) دیکھے ‘ تو وہ اپنے خواب کے شر سے ‘ اللہ کی پناہ مانگے ‘ اور اُس کا ذکر نہ کرے ‘ تو وہ خواب اُسے نقصان نہیں پہنچائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ البتہ سلیمان بن داؤد ہاشمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11733

Majma al-Zawaid #11733

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يُبَشَّرُهَا الْمُؤْمِنُ عَلَى جُزْءٍ مِنْ تِسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، فَمَنْ رَأَى ذَلِكَ فَلْيُخْبِرْ بِهَا، وَمَنْ رَأَى سِوَى ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَسْكُتْ وَلَا يُخْبِرْ بِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، وَحَدِيثُهُمَا حَسَنٌ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr, may Allah be pleased with them both, reported from the Messenger of Allah, peace be upon him, concerning His saying about glad tidings in worldly life, that it is the righteous dream by which the believer is given glad tidings, one part of forty-nine parts of prophethood. Whoever sees such a dream should tell of it, and whoever sees otherwise, it is from Satan to grieve him, so he should spit to his left three times, remain silent, and not tell of it. > **"The righteous dream by which the believer is given glad tidings is one part of forty-nine parts of prophethood. Whoever sees it should tell of it, and whoever sees otherwise should spit to his left three times, remain silent, and not tell of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ان لوگوں کے لئے دنیاوی زندگی میں خوشخبری ہے .......‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نیک خواب ‘ جس کے ذریعے مومن شخص کو خوشخبری دی جاتی ہے ‘ یہ نبوت کے انچاس اجزاء میں سے ایک جزء ہے ‘ جو شخص ایسا خواب دیکھے ‘ تو وہ اُس کے بارے میں ( کسی کو ) بتا دے ‘ اور جو شخص اُس کے علاوہ ( یعنی کوئی ناگوار ‘ یا ڈراؤنا ) خواب دیکھے ‘ تو وہ خواب ‘ شیطان کی طرف سے ہو گا ‘ تاکہ وہ شیطان اُسے غمگین کر دے ‘ اُس شخص کو اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور خاموش رہنا چاہیے اور اس خواب کے بارے میں ( کسی کو ) نہیں بتانا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ابن لہیعہ کے حوالے سے دراج سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11734

Majma al-Zawaid #11734

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ فِي مَنَامِهِ مَا يَكْرَهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ مِمَّا رَأَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said that if one of you sees in his sleep what he dislikes, he should spit to his left three times and seek refuge from what he saw. > **"If one of you sees in his sleep what he dislikes, let him spit to his left three times and seek refuge from what he saw."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے ‘ کوئی ایک شخص خواب میں وہ چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرے ‘ تو اسے اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور جو اُس نے دیکھا ہے ‘ اُس کے حوالے سے پناہ مانگنی چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11735

Majma al-Zawaid #11735

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللَّهِ وَالسَّيِّئَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَذَكَرَهُ فِي الضُّعَفَاءِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that a man came to the Messenger of Allah, peace be upon him, and said he saw dreams that made him ill. The Messenger of Allah, peace be upon him, replied that the good dream is from Allah and the bad dream is from Satan, so when one of you sees such a thing he should spit to his left three times and seek refuge in Allah from its evil, for then it will not harm him. > **"The good dream is from Allah and the bad dream is from Satan. If one of you sees such a thing, let him spit to his left three times and seek refuge in Allah from its evil, for it will not harm him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسے خواب دیکھتا ہوں ، جو مجھے بیمار کر دیتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اچھا خواب ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب ‘ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ‘ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی ایسا ( برا ) خواب دیکھے ‘ تو اسے اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے ‘ تو وہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن سلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ لیکن انہوں نے اس کا ذکر کتاب ’’ الضعفاء ‘‘ میں کیا ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

11736

Majma al-Zawaid #11736

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ، وَرُبَّمَا قَالَ: "" هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ "". قَالَ: فَإِذَا رَأَى الرَّجُلُ رُؤْيَا سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ [إِلَيْهِ]. قَالَ: فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، سَمِعْتُ فِيهَا وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا قَدْ جِيءَ بِفُلَانِ [بْنِ فُلَانٍ] وَفُلَانِ [بْنِ فُلَانٍ] حَتَّى عَدَّتِ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا - وَقَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ - فَجِيءَ بِهِمْ، عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخُبُ أَوْدَاجُهُمْ، فَقِيلَ: اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْبَيْدَخِ - أَوْ قَالَ: نَهْرِ الْبَيْدَخِ - فَغُمِسُوا فِيهِ، فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَعَدُوا عَلَيْهَا، وَأُتِيَ بِصَحْفَةٍ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - فِيهَا بُسْرَةٌ، فَأَكَلُوا مِنْهَا [فَمَا يَقْلِبُونَهَا لَشَقٍّ إِلَّا أَكَلُوا] مِنْ فَاكِهَةٍ مَا أَرَادُوا وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا، وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ عَدَّتْهُمُ الْمَرْأَةُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ "". فَجَاءَتْ، فَقَالَ: "" قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ "". فَقَصَّتْ، فَقَالَ: هُوَ كَمَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, loved good dreams and would often ask whether anyone among them had seen a dream. A woman came and said she had seen herself entering Paradise, hearing a commotion that shook Paradise, and then seeing twelve named men who had been sent out on an expedition being brought in worn garments with their veins bleeding. They were ordered to the land or river of al-Baydakh, dipped in it, and emerged with faces like the moon on the night of fullness. They sat on chairs of gold, were brought a tray of unripe dates, ate whatever fruit they wished, and she ate with them. Afterward the bearer of news from that expedition came and named the same twelve men as fallen. The Messenger of Allah, peace be upon him, then called for the woman and asked her to narrate her dream to the man, and it matched exactly what she had told him. > **"Bring the woman to me. Narrate your dream to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو اچھے خواب پسند تھے ‘ بعض اوقات آپ یہ دریافت کر لیتے تھے : کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : جب کسی شخص نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تھا ، تو وہ اُس کے بارے میں دریافت کر لیتا تھا ، اگر اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا تھا ، تو وہ آپ کے نزدیک ( یا اس شخص کے نزدیک ) عمدہ خواب ہوتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک خاتون آئی ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں جنت میں داخل ہوئی ہوں وہاں میں نے گونج کی آواز سنی ‘ جس کی وجہ سے جنت میں گونج پیدا ہوئی تھی ‘ جب میں نے دیکھا تو فلاں بن فلاں صاحب آ رہے ہیں ، فلاں بن فلاں صاحب آ رہے ہیں ، یہاں تک کہ اس خاتون نے بارہ افراد شمار کروائے ‘ یہ وہ لوگ تھے ‘ جنہیں نبی اکرم ﷺ اس سے پہلے ایک جنگی مہم پر بھیج چکے تھے ( اس خاتون نے بتایا ) جب وہ لوگ آئے تو ان کے جسم پر عمدہ قسم کے کپڑے تھے اور ان کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا ‘ یہ بات کہی گئی کہ انہیں بیدخ کی سرزمین کی طرف لے جاؤ ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں ) بیدخ کی نہر کی طرف لے جاؤ اور وہاں انہیں ڈبکی دو ‘ پھر وہ لوگ وہاں سے نکلے ‘ تو ان کے چہرے یوں تھے ‘ جیسے چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے ‘ پھر وہ سونے کی کرسیوں کے پاس آئے اور ان پر بیٹھ گئے ، پھر ایک تھال لایا گیا ‘ جس میں کھجوریں موجود تھیں ‘ ان لوگوں نے ان میں سے کھانا شروع کیا ‘ وہ ان تھالوں میں سے مختلف پھل کھاتے رہے ‘ میں نے بھی ان کے ساتھ پھل کھایا ۔ راوی کہتے ہیں : اس جنگی مہم کے حوالے سے جب اطلاع دینے والا شخص آیا ‘ تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ یہ یہ صورت حال پیش آئی اور فلاں حضرات شہید ہو گئے ہیں ، تو اس نے انہی بارہ افراد کا شمار کروایا ‘ جن کا شمار اس خاتون نے کروایا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُس عورت کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ عورت آئی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس شخص کے سامنے اپنا خواب بیان کرو ! اس عورت نے خواب بیان کیا ‘ راوی کہتے ہیں : تو وہ اُسی طرح تھا ، جس طرح اُس عورت نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے ( وہ خواب ) بیان کیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔نے بھی ان کے ساتھ پھل کھایا ۔ راوی کہتے ہیں : اس جنگی مہم کے حوالے سے جب اطلاع دینے والا شخص آیا تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ یہ یہ صورت حال پیش آئی اور فلاں حضرات شہید ہو گئے ہیں ، تو اس نے انہی بارہ افراد کا شمار کروایا جن کا شمار اس خاتون نے کروایا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُس عورت کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ عورت آئی تو نبی اکرم سی ایم نے فرمایا : اس شخص کے سامنے اپنا خواب بیان کرو ! اس عورت نے خواب بیان کیا راوی کہتے ہیں تو وہ اُسی طرح تھا ، جس طرح اُس عورت نے نبی اکرم علی ایم کے سامنے ( وہ خواب ) بیان کیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11737

Majma al-Zawaid #11737

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, said that the dreams of the Prophets are revelation. > **"The dreams of the Prophets are revelation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انبیاء کا خواب ‘ وحی ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11738

Majma al-Zawaid #11738

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدَاةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُشْرِقُ الْوَجْهِ، أَوْ مُسْفِرُ الْوَجْهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرَاكَ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ؟ فَقَالَ: "" مَا يَمْنَعُنِي، وَأَتَانِي رَبِّي اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ. قَالَ ذَاكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ. ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: "" {وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} [الأنعام: 75] "" الْآيَةَ. [ثُمَّ] قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ: الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ [إِلَى الْجَمَاعَاتِ]، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ طِيبُ الْكَلَامِ، وَبَذْلُ السَّلَامِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Aish reported from one of the Companions of the Prophet, peace be upon him, that the Messenger of Allah, peace be upon him, came out to them one morning cheerful and bright-faced. They remarked on his radiant face, and he said nothing prevented him, for his Lord had come to him in the night in the best form and said O Muhammad. He replied with presence and readiness. His Lord asked concerning what the highest assembly disputes, twice or thrice, then placed His hands between his shoulders until he felt their coolness in his chest, so that all in the heavens and earth became clear to him. He then recited the verse shown to Ibrahim of the kingdom of the heavens and earth. His Lord asked again, and he answered: concerning expiations. Asked what they are, he said: walking on foot to the congregations, sitting in the mosque beyond the prayers, and completing ablution thoroughly despite hardship. Whoever does so lives well, dies well, and becomes free of sin like the day his mother bore him. Among ranks are kind speech, spreading peace, feeding food, and praying at night while people sleep. He was then told that when he prays he should ask for good things, abandoning of evils, love of the poor, repentance, and to be taken untested if trial is decreed for the people. > **"O Allah, I ask You for good things, abandoning of evils, love of the poor, and that You turn to me in forgiveness. If You decree trial for the people, take me to You untested."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن عائش ‘ ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ‘ تو آپ کا مزاج خوشگوار تھا اور آپ کا چہرہ مبارک جگمگا رہا تھا ‘ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کا چہرہ جگمگا رہا ہے ( یہاں الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ‘ لیکن مفہوم یہی ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسا کیوں نہ ہو ؟ جبکہ گزشتہ رات میرا پروردگار ‘ میرے پاس خوبصورت ترین شکل میں آیا اور اس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار میں حاضر ہوں اور سعادت تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ‘ پروردگار نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : اے اللہ ! میں نہیں جانتا ‘ پروردگار نے دو یا تین مرتبہ یہ بات کہی ‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : پھر اُس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھے ‘ تو میں نے اُن کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ‘ یہاں تک کہ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے ‘ وہ میرے سامنے روشن ہو گیا ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھائی .....‘‘۔ پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفاروں کے بارے میں ‘ پروردگار نے دریافت کیا : کون سے کفارے ؟ میں نے عرض کی : با جماعت نماز کی طرف پیدل چل کر جانا ‘ نماز کے علاوہ مسجد میں بیٹھے رہنا ‘ جب طبیعت کو نا گوار گزرے ‘ اُس وقت اچھی طرح وضو کرنا ‘ جو شخص ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا ‘ اور اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جائے گا ‘ جیسے اُس دن تھا ‘ جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا اور ( ملاء اعلیٰ اس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ) کہ درجات میں ‘ پاکیزہ کلام کرنا ‘ سلام پھیلانا ‘ کھانا کھلانا اور رات کے وقت نماز پڑھنا شامل ہے ‘ جب لوگ سو رہے ہیں ، پھر پروردگار نے فرمایا : ’’ اے محمد ! جب تم نماز پڑھو ‘ تو یہ پڑھو : ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزیں مانگتا ہوں اور منکرات کو ترک کرنے کا اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میری توبہ قبول فرما لے ‘ اور جب تو لوگوں میں کوئی فتنہ پیدا کرنے کا ارادہ کرے ‘ تو مجھے ایسی حالت میں وفات دینا کہ میں فتنے سے محفوظ ہوؤں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11739

Majma al-Zawaid #11739

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ أَيْ رَبِّ. فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ. ثُمَّ تَلَا: " وَكَذَلِكَ {نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ} [الأنعام: 75] ". ثُمَّ قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى يَا مُحَمَّدُ؟ فَقُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ أَمَاكِنَهُ فِي الْمَكَارِهِ ". قَالَ: " وَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: مَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَعِشْ بِخَيْرٍ وَيَمُتْ بِخَيْرٍ وَيَكُونُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَبَذْلُ السَّلَامِ، وَأَنْ تَقُومَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الطَّيِّبَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَتَتُوبَ عَلَيَّ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ ". فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " تَعَلَّمُوهُنَّ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُنَّ الْحَقُّ».

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Aish, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said he saw his Lord in the best form, Who said O Muhammad and asked concerning what the highest assembly disputes. He answered that his Lord knows best. A hand was placed between his shoulders until he felt its coolness in his chest, and he knew what is in the heavens and earth. He then recited the verse shown to Ibrahim. Asked again, he answered: concerning expiations, namely walking to the Friday gatherings, sitting in mosques beyond prayers, and completing ablution in hardship. Allah said whoever does so lives well, dies well, and becomes as sinless as the day his mother bore him. Among ranks are feeding food, spreading peace, and standing at night while people sleep. He was then taught to ask for righteous deeds, abandoning evils, love of the poor, forgiveness, mercy, repentance, and to be taken untested if trial is decreed. The Prophet, peace be upon him, added that they should learn these words, for by Him in Whose Hand is his soul they are truth. > **"O Allah, I ask You for righteous deeds, abandoning of evils, love of the poor, and that You forgive me, have mercy on me, and turn to me. If You decree trial for a people, take me to You untested. Learn these words, for by Him in Whose Hand is my soul, they are truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے اپنے پروردگار کو خوبصورت ترین شکل میں دیکھا ‘ اس نے فرمایا : اے محمد ! ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو زیادہ بہتر جانتا ہے ‘ تو اُس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ‘ تو میں نے اُس کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ‘ تو مجھے ان چیزوں کا علم ہو گیا ‘ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھائی ، تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں ہو جائے .......‘‘۔ پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! املاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفاروں کے بارے میں ‘ اس نے دریافت کیا : وہ کیا چیزیں ہیں ؟ میں نے عرض کی : باجماعت نماز کی طرف پیدل چل کر جانا ‘ نماز کے علاوہ مساجد میں بیٹھے رہنا ‘ اور جس وقت طبیعت کو ناگوار ہو ‘ اُس وقت اچھی طرح وضو کرنا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پروردگار نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایسا کرے گا ‘ وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا ‘ اور اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جائے گا ‘ جیسے اُس دن تھا ‘ جب اُس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اور درجات کے بارے میں ( ملاء اعلیٰ گفتگو کر رہے ہیں ) کہ وہ کھانا کھلانا ‘ سلام پھیلانا ہے اور رات کے وقت اس وقت نماز ادا کرنا ہے ‘ جب لوگ سو رہے ہوں ، پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! تم یہ پڑھو : ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ میں پاکیزہ کام کروں ، منکر چیزیں ترک کر دوں ، مسکینوں سے محبت رکھوں اور تو میری مغفرت کر دے ‘ اور تو مجھ پر رحم کر اور تو میری توبہ قبول فرما ‘ اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے ایسی حالت میں وفات دینا کہ میں آزمائش سے محفوظ ہوؤں ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ان کلمات کو سیکھ لو ! اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ یہ کلمات حق ہیں ۔

11740

Majma al-Zawaid #11740

وَفِي رِوَايَةٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَدَا مُسْتَبْشِرًا عَلَى أَصْحَابِهِ يَعْرِفُونَ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ»، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ: «وَإِذَا صَلَّيْتَ يَا مُحَمَّدُ فَقُلْ»، وَقَالَ فِيهِ: «وَالدَّرَجَاتُ: الصَّوْمُ وَطِيبُ الْكَلَامِ»

EnglishUnverified translation

In another narration, the Messenger of Allah, peace be upon him, came out to his Companions in the morning rejoicing, with joy recognized on his face, and mentioned the like of the previous account. In it he was told: when you pray, O Muhammad, say this supplication. In it the ranks were described as fasting and kind speech. > **"When you pray, O Muhammad, say this supplication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے ‘ تو آپ کے چہرہ مبارک سے خوشی کا اظہار ہو رہا تھا اور لوگوں کو آپ کے چہرے سے خوشی کا پتہ چل گیا ‘ ...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ ایک روایت میں ‘ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ( پروردگار نے فرمایا : ) ’’ اے محمد ! جب تم نماز ادا کر لو ‘ تو یہ پڑھو ........‘‘۔ اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اور درجات ‘ روزہ رکھنا اور پاکیزہ کلام کرنا ہے ‘‘۔

11741

Majma al-Zawaid #11741

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَائِشٍ يَقُولُ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ غَدَاةٍ». قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَ الَّذِي قَبْلَ هَذِهِ الرِّوَايَةِ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الْحَدِيثِ الَّذِي فِيهِ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثِقَاتٌ، وَكَذَلِكَ الرِّوَايَةُ الْأُولَى، وَفِي الرِّوَايَةِ الْوُسْطَى مُعَاوِيَةُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَرْمِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَقَدْ سُئِلَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ، عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ صَوَابٌ، هَذَا مَعْنَاهُ.

EnglishUnverified translation

In another narration, Khalid ibn al-Lajlaj said he heard Abd al-Rahman ibn Aish say that the Messenger of Allah, peace be upon him, came out to them one morning, and he then mentioned the like of the preceding narration. > **"The Messenger of Allah came out to us one morning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : خالد بن لجلاج بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے :’’ ایک دن صبح نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے .......‘‘ اس کے بعد راوی نے ‘ اس سے پہلے والی روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور اس حدیث کے رجال جس میں یہ مذکور ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ وہ رجال ثقہ ہیں ‘ اسی طرح پہلی روایت کے رجال بھی ہیں اور درمیانی روایت میں ایک راوی معاویہ بن عمران حرمی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔ امام احمد بن حنبل سے ‘ حضرت عبدالرحمن بن عائش رضی اللہ عنہ کے نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث نقل کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ یہ درست ہے ‘ اس کا مفہوم یہی بنتا ہے ۔

11742

Majma al-Zawaid #11742

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: «خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ: "" إِنَّ رَبِّي أَتَانِي اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ "". قَالَ: "" قُلْتُ: لَا "". قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا قَالَ: "" فَخُيِّلَ لِي مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ "". قَالَ: "" قُلْتُ: نَعَمْ، يَخْتَصِمُونَ فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ، فَأَمَّا الدَّرَجَاتُ: فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَبَذْلُ السَّلَامِ، وَقِيَامُ اللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ: فَمَشْيٌ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ، وَجُلُوسٌ فِي الْمَسَاجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ "". قَالَ: "" قُلْتُ: فَعَلِّمْنِي. قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي إِلَيْكَ وَأَنَا غَيْرُ مَفْتُونٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبًّا يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحْبِيِّ، وَأَبُو يَحْيَى لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, came out to them after the morning prayer and said his Lord had come to him in the night in the best form and asked O Muhammad whether he knew concerning what the highest assembly disputes. He said no, then something was mentioned until all between heaven and earth was shown to him. He answered yes: they dispute concerning expiations and ranks. As for ranks, they are feeding food, spreading peace, and standing at night while people sleep. As for expiations, they are walking to the congregations, completing ablution despite aversion, and sitting in mosques after prayers. He was then told: O Muhammad, speak and you will be heard, ask and you will be given. He asked to be taught, and was taught to ask for righteous deeds, abandoning evils, love of the poor, forgiveness, mercy, to be taken untested if trial is decreed, and for the love of Allah, the love of whoever loves Him, and love that conveys His love. > **"O Muhammad, speak and you will be heard, ask and you will be given. O Allah, I ask You for righteous deeds, abandoning of evils, love of the poor, and that You forgive me and have mercy on me. If You decree trial for a people, take me to You untested. O Allah, I ask You for Your love, the love of whoever loves You, and love that conveys Your love to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز کے بعد ‘ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ گزشتہ رات میرا پروردگار ‘ میرے پاس خوبصورت ترین شکل میں آیا اور اس نے فرمایا : اے محمد ! کیا تم جانتے ہو ؟ ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے کچھ چیزیں ذکر کیں پھر فرمایا : میرے سامنے آسمان اور زمین کے درمیان موجود چیزیں ظاہر ہو گئیں ‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو میں نے عرض کی جی ہاں ! وہ کفاروں اور درجات کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ، جہاں تک درجات کا تعلق ہے ‘ تو وہ کھانا کھلانا ‘ سلام پھیلانا اور رات کو اس وقت نماز ادا کرنا ہے ‘ جب لوگ سو رہے ہوں اور جہاں تک کفاروں کا تعلق ہے ‘ تو وہ باجماعت نماز کے لئے پیدل چل کر جانا ‘ طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا اور نماز ادا کرنے لینے کے بعد مسجد میں بیٹھنا ہے ‘ پھر پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! تم بولو سنا جائے گا ‘ تم مانگو ‘ تمہیں دیا جائے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : تو مجھے تعلیم دے ! تو پروردگار نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ میں بھلائی کے کام کروں ، منکرات کو ترک کر دوں ، مسکینوں سے محبت رکھوں ( اور یہ سوال کرتا ہوں ) کہ تو میری مغفرت کر دے اور تو مجھ پر رحم کر اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے وفات دے دینا ‘ ایسی حالت میں کہ میں فتنے سے محفوظ ہوؤں ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت اور اس شخص کی محبت کا سوال کرتا ہوں ‘ جو تجھ سے محبت رکھتا ہو ‘ اور اس محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے ‘ ابویحیی کے حوالے سے ‘ ابواسماء رحبی سے نقل کی ہے اور ابویحیی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11743

Majma al-Zawaid #11743

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَبَّثَ عَنْ أَصْحَابِهِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى قَالُوا: طَلَعَتِ الشَّمْسُ - أَوْ تَطْلُعُ - ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَالَ: "" اثْبُتُوا عَلَى مَصَافِّكُمْ "". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمْ؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" إِنِّي صَلَّيْتُ فِي مُصَلَّايَ فَضُرِبَ عَلَى أُذُنِي، فَجَاءَنِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي يَا رَبِّ. فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَعَلِمْتُ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ وَالدَّرَجَاتِ. قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ وَالدَّرَجَاتُ؟ قُلْتُ: الْكَفَّارَاتُ: إِسْبَاعُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْكَرِيهَاتِ، وَمَشْيٌ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَجُلُوسٌ فِي الْمَسَاجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ، وَأَمَّا الدَّرَجَاتُ: فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَطِيبُ الْكَلَامِ، وَالسُّجُودُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. فَقَالَ لِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: سَلْنِي يَا مُحَمَّدُ. قُلْتُ: أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا يُبَاشِرُ قَلْبِي حَتَّى أَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُنِي إِلَّا مَا كُتِبَ لِي، وَرِضًا بِمَا قَضَيْتَ لِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ، وَلَمْ يُلْتَفَتْ إِلَيْهِ فِي ذَلِكَ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, was delayed from his Companions for the dawn prayer until they said the sun had risen. He then came out, led them in dawn prayer, told them to remain in their rows, and asked whether they knew what had detained him. They said Allah and His Messenger know best. He said he had prayed in his place of prayer, drowsiness overcame him, and his Lord came in the best form, said O Muhammad, and he answered with presence. Asked concerning what the highest assembly disputes, he said he did not know. A hand was placed between his shoulders until he felt its coolness in his chest, and he knew what he had been asked. Asked again, he answered: concerning expiations and ranks. Expiations are completing ablution despite aversion, walking to congregations, and sitting in mosques after prayers. Ranks are feeding food, kind speech, and prostration at night while people sleep. His Lord said ask Me, O Muhammad, and he asked for righteous deeds, abandoning evils, love of the poor, forgiveness, mercy, to be taken untested if trial is decreed, for His love and the love of deeds drawing near His love, for faith that touches the heart so he knows only what is decreed befalls him, and contentment with His decree. > **"Remain in your rows. Do you know what detained me from you? Ask Me, O Muhammad. O Allah, I ask You for righteous deeds, abandoning of evils, love of the poor, and that You forgive me and have mercy on me. If You decree trial for a people, take me untested. O Allah, I ask You for Your love, the love of deeds drawing me near Your love, faith that touches my heart, and contentment with Your decree."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو صبح کی نماز کے لئے ‘ اپنے اصحاب کے پاس آنے میں تاخیر ہو گئی ‘ یہاں تک کہ لوگ یہ کہنے لگے کہ شاید سورج طلوع ہونے والا ہے ‘ پھر آپ تشریف لائے ‘ آپ نے ان لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو ‘ پھر آپ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کس چیز نے مجھے تمہارے پاس آنے سے روکے رکھا ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنی جائے نماز پر ‘ نماز ادا کی ‘ پھر میرے کانوں پر بندش ڈال دی گئی ( یعنی میری آنکھ لگ گئی یا میری توجہ دنیا سے ہٹ گئی ) میرا پروردگار میرے پاس بہترین صورت میں آیا ‘ اُس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں حاضر ہوں اور سعادت تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ‘ اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں نہیں جانتا ، پھر اُس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ‘ یہاں تک کہ میں نے اُس کی ٹھنڈک اپنے سینے کے درمیان محسوس کی اور میں نے وہ چیز جان لی ‘ جس کے بارے میں اس نے مجھ سے پوچھا تھا ، پھر اس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ‘ اے میرے پروردگار ! اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ‘ اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کسی چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفاروں کے بارے میں ‘ اور درجات کے بارے میں ‘ اس نے دریافت کیا : کفارات کیا ہیں ؟ اور درجات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کی : کفارات یہ ہیں : طبیعت کو ناگوار گزرنے کے وقت اچھی طرح وضو کرنا ‘ باجماعت نماز کے لئے پیدل چل کر جانا اور نمازوں کے بعد مساجد میں بیٹھے رہنا ‘ اور جہاں تک درجات کا تعلق ہے ‘ تو وہ کھانا کھلانا ‘ پاکیزہ گفتگو کرنا اور رات کے وقت سجدے کرنا ہے ‘ جب لوگ سو رہے ہوں ‘ میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا : اے محمد ! تم مجھ سے مانگو ! میں نے عرض کی :’’ میں تجھ سے بھلائی کے کام سر انجام دینے ‘ منکرات کو ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں ‘ اور تجھ سے یہ چیز مانگتا ہوں ‘ کہ تو میری مغفرت کر دے اور تو مجھ پر رحم کر اور جب تو کسی قوم کے لئے کسی آزمائش کا ارادہ کرے ‘ تو مجھے ایسی حالت میں موت دینا کہ میں آزمائش سے محفوظ رہوں ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں ، جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں کہ جو میرے دل میں یوں پیوست ہو جائے کہ میں یہ بات جان لوں کہ مجھے صرف وہی چیز نصیب ہو گی ‘ جو میرے نصیب میں لکھی ہوئی ہے اور اس چیز کے حوالے سے رضا مندی کا سوال کرتا ہوں ، جو تو نے میرے بارے میں فیصلہ دیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ‘ لیکن اس بات کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث اچھی طرح وضو کرنے اور نماز ادا کرنے اور دیگر ابواب میں گزر چکی ہیں ۔

11744

Majma al-Zawaid #11744

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَتَانِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي. فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَعَلِمْتُ فِي مَقَامِي ذَلِكَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ، وَالْكَفَّارَاتِ، فَأَمَّا الدَّرَجَاتُ: فَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي السَّبَرَاتِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ. قَالَ: صَدَقْتَ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ. وَأَمَّا الْكَفَّارَاتُ: فَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ، وَطِيبُ الْكَلَامِ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَمَلَ الْحَسَنَاتِ، وَتَرْكَ السَّيِّئَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَمَغْفِرَةً، وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِقَوْمٍ فِتْنَةً فَنَجِّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet, peace be upon him, that his Lord came to him in the best form and said O Muhammad. He answered with presence. Asked concerning what the highest assembly disputes, he said he did not know. A hand was placed upon his chest, and in that very standing he knew what he had been asked about the affairs of this world and the next. Asked again, he answered: concerning ranks and expiations. Ranks are completing ablution in intense cold and awaiting prayer after prayer. He was told he spoke truly: whoever does so lives well, dies well, and becomes as sinless as the day his mother bore him. Expiations are feeding food, spreading peace, kind speech, and praying at night while people sleep. He then supplicated for righteous deeds, abandoning evil, love of the poor, forgiveness, repentance, and to be saved untested if trial is decreed. > **"You have spoken truly. O Allah, I ask You for righteous deeds, abandoning of evils, love of the poor, forgiveness, and that You turn to me. If You decree trial for a people, save me untested."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرا پروردگار ‘ میرے پاس بہترین صورت میں آیا اس نے فرمایا : اے محمد ! میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے ‘ اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ‘ تو اس نے اپنا ہاتھ میرے سینے کے درمیان رکھا ، تو میں نے اپنی جگہ پر موجود رہتے ہوئے ‘ اُس چیز کے بارے میں جان لیا ‘ جس کے بارے میں اس نے مجھ سے دریافت کیا تھا ، خواہ اس کا تعلق دنیا کے امور سے ہو ‘ یا آخرت سے ہو ‘ اس نے دریافت کیا : ملاء اعلیٰ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ تو میں نے عرض کی : درجات کے بارے میں اور کفارات کے بارے میں ، جہاں تک درجات کا تعلق ہے ‘ تو اس میں سردی کے موسم میں اچھی طرح وضو کرنا ‘ اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا شامل ہے ‘ پروردگار نے فرمایا : تم نے سچ کہا ہے ‘ جو شخص ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندہ رہے گا اور بھلائی کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں کے حوالے سے یوں ہو جائے گا ‘ جیسے اُس دن تھا ‘ جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) جہاں تک کفارات کا تعلق ہے ‘ تو وہ کھانا کھلانا ‘ سلام پھیلانا ‘ پاکیزہ گفتگو کرنا اور رات کے وقت ‘ اُس وقت نماز ادا کرنا ہے ‘ جب لوگ سو رہے ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے کہا : ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے یہ دعا مانگتا ہوں کہ میں نیکیاں کروں اور برائیاں ترک کر دوں اور مسکینوں سے محبت رکھوں اور مغفرت مانگتا ہوں ، اور یہ مانگتا ہوں کہ تو میری توبہ قبول فرما لے اور جب تو کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے ‘ تو مجھے ایسی حالت میں نجات دینا کہ میں فتنے سے محفوظ رہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11745

Majma al-Zawaid #11745

وَعَنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ امْرَأَةِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَبِّي فِي الْمَنَامِ فِي صُورَةِ شَابٍّ مُوَفِّرٍ فِي خُفٍّ، عَلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ ذَهَبٍ، عَلَى وَجْهِهِ فِرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ» قَالَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ: إِنَّهُ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لِأَنَّ عُمَارَةَ بْنَ عَامِرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ الطُّفَيْلِ، ذَكَرَهُ فِي تَرْجَمَةِ عُمَارَةَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Umm al-Tufayl, wife of Ubayy ibn Kab, may Allah be pleased with them, reported that she heard the Messenger of Allah, peace be upon him, say he saw his Lord in sleep in the form of a full-haired youth wearing leather socks, with two sandals of gold, and a covering of gold upon His face, and the narrator then related the full account. > **"I saw my Lord in sleep in the form of a full-haired youth wearing leather socks, with two sandals of gold and a covering of gold upon His face."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ‘ سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں نے اپنے پروردگار کو ایک نوجوان کی شکل میں خواب میں دیکھا ، جس کے بال بڑے تھے اس نے موزے پہنے ہوئے تھے ‘ اور اس پر سونے کے جوتے پہنے ہوئے تھے اور اس کے چہرے پر سونے کا فراش تھا .......‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ ابن حبان کہتے ہیں : یہ منکر حدیث ہے ‘ کیونکہ عمارہ بن عامر بن حزم انصاری نے سیدہ ام طفیل رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ‘ انہوں نے کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں عمارہ نامی راوی کے حالات میں یہ بات ذکر کی ہے ۔

11746

Majma al-Zawaid #11746

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ عَجَبًا، رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدِ احْتَوَشَتْهُ مَلَائِكَةٌ، فَجَاءَهُ وُضُوءُهُ فَاسْتَنْقَذَهُ مِنْ ذَلِكَ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدْ سُلِّطَ عَلَيْهِ عَذَابُ الْقَبْرِ، فَجَاءَتْهُ صِلَاتُهُ فَاسْتَنْقَذَتْهُ مِنْ ذَلِكَ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدِ احْتَوَشَتْهُ الشَّيَاطِينُ، فَجَاءَهُ ذِكْرُ اللَّهِ فَخَلَّصَهُ مِنْهُمْ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يَلْهَثُ مِنَ الْعَطَشِ، فَجَاءَهُ صِيَامُ رَمَضَانَ فَسَقَاهُ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ظُلْمَةٌ وَمِنْ خَلْفِهِ ظُلْمَةٌ، وَعَنْ يَمِينِهِ ظُلْمَةٌ، وَعَنْ شِمَالِهِ ظُلْمَةٌ، وَمِنْ فَوْقِهِ ظُلْمَةٌ، وَمِنْ تَحْتِهِ ظُلْمَةٌ، فَجَاءَهُ حَجُّهُ، وَعُمْرَتُهُ، فَاسْتَخْرَجَاهُ مِنَ الظُّلْمَةِ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ لِيَقْبِضَ رُوحَهُ، فَجَاءَتْهُ صِلَةُ الرَّحِمِ، فَقَالَتْ: إِنَّ هَذَا كَانَ وَاصِلًا لِرَحِمِهِ فَكَلَّمَهُمْ، وَكَلَّمُوهُ وَصَارَ مَعَهُمْ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يَتَّقِي وَهَجَ النَّارِ عَنْ وَجْهِهِ، فَجَاءَتْهُ صَدَقَتُهُ، فَصَارَتْ ظِلًّا عَلَى رَأْسِهِ وَسِتْرًا عَنْ وَجْهِهِ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي جَاءَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ، فَجَاءَهُ أَمْرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَاسْتَنْقَذَهُ مِنْ ذَلِكَ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي هَوَى فِي النَّارِ، فَجَاءَتْهُ دُمُوعُهُ الَّتِي بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ فَأَخْرَجَتْهُ مِنَ النَّارِ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدْ هَوَتْ صَحِيفَتُهُ إِلَى شِمَالِهِ، فَجَاءَهُ خَوْفُهُ مِنَ اللَّهِ فَأَخَذَ صَحِيفَتَهُ فِي يَمِينِهِ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي قَدْ خَفَّ مِيزَانُهُ، فَجَاءَهُ إِقْرَاضُهُ فَثَقُلَ مِيزَانُهُ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يُرْعِدُ كَمَا تُرْعِدُ الزَّعْفَةُ، فَجَاءَهُ حُسْنُ ظَنِّهِ بِاللَّهِ فَسَكَّنَ رِعْدَتَهُ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي يَزْحَفُ عَلَى الصِّرَاطِ مَرَّةً وَيَجْثُو مَرَّةً وَيَتَعَلَّقُ مَرَّةً، فَجَاءَتْهُ صَلَاتُهُ عَلَيَّ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَأَقَامَتْهُ عَلَى الصِّرَاطِ حَتَّى جَاوَزَ. وَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي انْتَهَى إِلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَغُلِّقَتِ الْأَبْوَابُ دُونَهُ، فَجَاءَتْهُ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَأَخَذَتْ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَتْهُ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، وَفِي الْآخَرِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Samurah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, came out and said he had seen a marvel last night. He saw a man of his community surrounded by angels, rescued by his ablution; a man under the punishment of the grave, rescued by his prayer; a man surrounded by devils, freed by remembrance of Allah; a man panting with thirst, given drink by the fast of Ramadan; a man in darkness on all sides, brought out by his pilgrimage and lesser pilgrimage; a man approached by the angel of death, defended by his upholding of kinship; a man shielding his face from the heat of Fire, shaded by his charity; a man seized by the angels of punishment, rescued by his enjoining of good and forbidding of evil; a man falling into Fire, lifted out by tears shed from fear of Allah; a man whose record fell to his left, taken to his right by his fear of Allah; a man whose scale was light, weighed down by his lending; a man trembling like a palm stalk, calmed by his good opinion of Allah; a man crawling, kneeling, and clinging on the bridge, raised and carried across by his blessings upon the Prophet; and a man reaching the gates of Paradise barred before him, taken by the hand by his testimony that none is worthy of worship but Allah and admitted into Paradise. > **"I saw last night a marvel. I saw a man of my community surrounded by angels, and his ablution came and rescued him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میں نے گزشتہ رات حیران کن خواب دیکھا ہے ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ‘ جسے فرشتوں نے گھیر لیا تھا ، پھر اس کا وضو اس کے پاس آیا اور اسے اس چیز سے بچا لیا ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس پر قبر کا عذاب مسلط کیا جا رہا تھا ، پھر اس کی نماز اس کے پاس آئی اور اس نے اس شخص کو اس عذاب سے بچا لیا ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ‘ جسے شیاطین نے گھیر لیا تھا ‘ تو اللہ کا ذکر اس شخص کے پاس آیا ‘ تو اُس ذکر نے اس شخص کو ان شیاطین سے نجات دلوائی میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جو پیاس کی شدت کی وجہ سے زبان باہر نکالے ہوئے تھا ، تو رمضان کا روزہ اس کے پاس آیا اور اس نے اسے پانی پلایا ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس کے آگے تاریکی تھی اور اس کے پیچھے تاریکی تھی اس کے دائیں طرف تاریکی تھی اس کے بائیں طرف تاریکی تھی اس کے اوپر تاریکی تھی اس کے نیچے تاریکی تھی ‘ تو اس کا حج اور اس کا عمرہ اس کے پاس آئے اور اُن دونوں نے اس شخص کو تاریکی سے نکال دیا ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ ملک الموت اس کی روح قبض کرنے کے لئے ‘ اس کے پاس آیا ‘ تو صلہ رحمی اس شخص کے پاس آئی اور بولی : یہ شخص صلہ رحمی کرنے والا تھا ، تو اس نے ان کے ساتھ بات چیت کی ‘ اور انہوں نے اس کے ساتھ بات چیت کی ‘ تو وہ اُن کے ساتھ ہو گیا ۔ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ‘ جو اپنے چہرے کو آگ کی تپش سے بچانا چاہ رہا تھا ، تو اس کا صدقہ اس کے پاس آیا اور اس کے سر پر سائے کے طور پر اور چہرے کے آگے رکاوٹ کے طور پر ہو گیا ، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتے اس کے پاس آئے ‘ تو اس کا نیکی کا حکم دینا اور اس کا برائی سے منع کرنا ‘ اس شخص کے پاس آئے اور اسے اس چیز سے نجات دلوا دی ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جہنم میں گرنے لگا تھا ‘ تو اس کے وہ آنسو اس کے پاس آئے کہ جب وہ اللہ کے خوف کی وجہ سے رویا تھا اور آنسوؤں نے اسے جہنم سے نکال دیا ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس کا صحیفہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جا رہا تھا ، تو اللہ سے اس کا خوف اس کے پاس آیا ‘ اور اس نے وہ صحیفہ لے کر اس کے دائیں ہاتھ میں دے دیا ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جس کا ( نیکیوں کا ) پلڑا ہلکا تھا ‘ تو اس نے جو قرض دیا تھا ‘ وہ اس کے پاس آیا تو اس کا ( نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ‘ جو یوں کانپ رہا تھا ، جس طرح کھجور کی ٹہنی کانپتی ہے ‘ تو اس کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن اس کے پاس آیا ، تو اس کی کپکپاہٹ ختم ہو گئی ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ جو پل صراط پر کبھی گھسٹ کر اور کبھی بیٹھ کر گزر رہا تھا ، کبھی وہ لٹک جاتا تھا ، تو اُس نے جو مجھ پر درود بھیجا تھا ‘ وہ ( درود ) اس کے پاس آیا اور اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے پل صراط پر کھڑا کر کے اُسے پار کروا دیا ‘ میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ‘ جو جنت کے دروازوں تک پہنچ چکا تھا ، لیکن اس کے لئے دروازے بند تھے ‘ تو اس بات کی گواہی دینا ‘ اُس کے پاس آیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اس نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور اُسے جنت میں داخل کروا دیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک سند میں ایک راوی سلیمان بن احمد واسطی ہے اور دوسری سند میں ایک راوی خالد بن عبدالرحمن مخزومی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

11747

Majma al-Zawaid #11747

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِكُتْلَةِ تَمْرٍ، فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً آذَتْنِي فَلَفَظْتُهَا، ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى، فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا، ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: دَعْنِي فَلْأَعْبُرْهَا قَالَ: "" عَبِّرْهَا "". قَالَ: هُوَ جَيْشُكَ الَّذِي بَعَثْتَ، فَيَسْلَمُونَ وَيَغْنَمُونَ، فَيَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ. قَالَ: "" كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said he saw as if a lump of dates was brought to him. He chewed one in his mouth, found a pit that harmed him and spat it out, then did the same with a second and a third. Abu Bakr said let him interpret it, and the Prophet told him to interpret. Abu Bakr said it is the army he dispatched: safe, gaining booty, meeting three successive men who invoke his covenant of protection and are spared. The Prophet said the angel spoke likewise. > **"Interpret it. The angel spoke likewise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میرے پاس کھجوروں کا گچھا آیا ‘ میں نے ایک کجھور کو اپنے منہ میں ڈالا ‘ تو میں نے اس میں ایسی گٹھلی پائی ‘ جس نے مجھے تکلیف پہنچائی ‘ تو میں نے اسے پھینک دیا ‘ پھر میں نے ایک اور کھجور لی اور اسے اپنے منہ میں ڈالا ‘ تو میں نے اس میں بھی گٹھلی پائی ، میں نے اسے بھی پھینک دیا ‘ پھر میں نے ایک اور کھجور لی ‘ میں نے اس میں بھی گٹھلی پائی ‘ تو میں نے اسے بھی پھینک دیا ‘‘۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیان کرو ! انہوں نے عرض کی : اس سے مراد آپ کا بھیجا ہوا وہ شکر ہے جسے آپ نے بھیجا ہو اور وہ سلامت رہے ہوں ‘ انہوں نے غنیمت حاصل کی ہو ‘ اور وہ لوگ ایک ایسے شخص سے ملے ہوں کہ جس نے آپ کی دی ہوئی پناہ کے حوالے سے انہیں واسطہ دیا ہو ‘ تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ہو ‘ پھر وہ لوگ ایک شخص سے ملے ہوں اور اس نے انہیں آپ کی دی ہوئی پناہ کا واسطہ دیا ہو ‘ تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہو ‘ پھر وہ لوگ ایک ایسے شخص سے ملے ہوں ، جس نے انہیں آپ کی دی ہوئی پناہ کا واسطہ دیا ہو ‘ تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : فرشتے نے ( یا بادشاہ نے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ) اسی طرح کہا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

11748

Majma al-Zawaid #11748

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ «أَنْ رَجُلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ شُرْبًا ضَعِيفًا - أَوْ قَالَ: وَفِيهِ ضَعْفٌ - ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ فَانْتَشَطَتْ مِنْهُ فَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub, may Allah be pleased with him, reported that a man said the Messenger of Allah, peace be upon him, said he saw as if a bucket was lowered from heaven. Abu Bakr came, seized its handles, and drank weakly, then Umar came and drank his fill, then Uthman came, seized it, drank, and it was snatched from him with some of it spilling upon him. > **"I saw as if a bucket was lowered from heaven. Abu Bakr drank weakly, Umar drank his fill, then Uthman drank and it was snatched from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا پھر ابوبکر آیا اور اس نے ڈول کے منہ پر موجود لکڑی کو پکڑا اور کمزوری کے ساتھ اس کا مشروب پیا ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس میں کمزوری تھی ، پھر عمر آیا اس نے اس کی لکڑی کو پکڑا اور پیا یہاں تک کہ سیر ہو گیا ، پھر عثمان آیا ‘ اس نے اس کی لکڑی کو پکڑا ‘ اور پیا ‘ یہاں تک کہ وہ اس سے خوش ( یا سیر ) ہو گیا ، پھر اس ڈول میں سے کچھ پانی اس پر چھلک گیا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11749

Majma al-Zawaid #11749

وَعَنْ جَعْدَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى لِرَجُلٍ رُؤْيَا قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُصُّهَا عَلَيْهِ، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ عَظِيمَ الْبَطْنِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ: "" لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا لَكَانَ خَيْرًا لَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jadah, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet, peace be upon him, saw a dream concerning a man and sent for him. The man came and began narrating it to him. He was large-bellied, and the Prophet kept pointing with his finger at his belly, saying that had this been elsewhere it would have been better for him. > **"Had this been elsewhere, it would have been better for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو خواب میں دیکھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اسے پیغام بھیج کر بلوایا ‘ وہ آپ کے پاس آیا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اسے خواب سنانا شروع کیا ‘ راوی کہتے ہیں : وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس کا پیٹ بڑا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلی اس کے پیٹ پر لگاتے ہوئے کہا : کہ اگر یہ ( یعنی پیٹ کی چربی ‘ یا موٹاپا ) اس کے علاوہ کہیں اور ہوتا ‘ تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11750

Majma al-Zawaid #11750

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ ضَبَّةَ سَيْفِي انْكَسَرَتْ، وَكَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُ أَنَّ كَسْرَ ضَبَّةِ سَيْفِي قَتْلُ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِي، وَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا أَنْ أَقْتُلَ كَبْشَ الْقَوْمِ "". فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلْحَةَ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبَ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ، وَقُتِلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said he saw in sleep as if the hilt-guard of his sword broke and as if he rode behind a ram. He interpreted the broken guard as the killing of a man of his people and the ram as killing the leader of the enemy. Thus Talhah ibn Abi Talhah, bearer of the idolaters' banner, was killed by the Messenger of Allah, and Hamzah ibn Abd al-Muttalib was killed. > **"I saw as if the hilt-guard of my sword broke and as if I rode behind a ram."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے اور جیسے میں ایک دنبے کو پیچھے بٹھائے ہوئے ہوں ‘ تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ میری تلوار کی دھار ٹوٹنے سے مراد ‘ میری قوم کا ایک شخص قتل ہو جائے گا ‘ اور میرے دنبے کو پیچھے بٹھانے سے مراد یہ ہے کہ میں دشمن کے ایک شخص کو قتل کروں گا ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے مشرکین کے علم بردار طلحہ بن ابوطلحہ کو قتل کیا اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن خراب حافظے کا مالک ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

11751

Majma al-Zawaid #11751

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: "" رَأَيْتُ كَأَنَّ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا، فَأَوَّلْتُهُ قَتْلًا يَكُونُ فِيكُمْ، وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ، وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهُ الْمَدِينَةَ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ "". فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طَرِيقُهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ، وَفِي إِسْنَادِ هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, took his sword Dhu al-Faqar as spoils at Badr, the same sword concerning which he saw a dream before Uhud. He said he saw as if there was a notch in Dhu al-Faqar, which he interpreted as killing among them; as if he rode behind a ram, which he interpreted as the ram of the enemy column; as if he was in strong armour, which he interpreted as Madinah; and cattle being slaughtered, which is goodness. > **"I saw as if there was a notch in my sword, as if I rode behind a ram, as if I was in strong armour, and cattle being slaughtered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ‘ نبی اکرم ﷺ نے اپنی تلوار ’’ ذالفقار ‘‘ نفل کے طور پر دی اور یہ وہی تلوار ہے کہ جس کے بارے میں آپ نے غزوہ احد کے موقع پر خواب میں دیکھا اور ارشاد فرمایا : کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جیسے میری تلوار ’’ ذوالفقار ‘‘ کی دھار خراب ہو گئی ہے ‘ تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ تم میں سے لوگ مارے جائیں گے اور میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے دنبے کو پیچھے بٹھایا ہوا ہے ‘ تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ یہ دشمن کا دنبہ ہے اور میں نے خواب دیکھا کہ جیسے میں ایک محفوظ زرہ میں ہوں ‘ تو میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد مدینہ منورہ ہے اور میں نے گائے کو دیکھا کہ اُسے ذبح کیا گیا ہے ‘ تو اللہ کی قسم ! گائے کی تعبیر اچھی ہی ہو گی ‘ اللہ کی قسم ! گائے کی تعبیر اچھی ہی ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : تو اُسی طرح ہوا ‘ جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے اس سے پہلے اس روایت کا ایک طریق غزوہ احد سے متعلق باب میں گزر چکا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11752

Majma al-Zawaid #11752

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، ثُمَّ رَأَيْتُ فِي يَدِي سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَكَرِهْتُهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ صَاحِبَ الْيَمَنِ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ رُؤْيَةُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri, may Allah be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allah, peace be upon him, say he had seen the Night of Decree, then was caused to forget it. Then he saw on his hands two bracelets of gold, disliked them, blew upon them, and they flew away. He interpreted them as the two liars, the one of Yemen and the one of Yamamah. > **"I saw the Night of Decree, then was caused to forget it. I saw two bracelets of gold, blew upon them, and they flew away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں خواب میں ‘ شب قدر کو دیکھا ، پھر وہ مجھے بھلا دی گئی ‘ پھر میں نے اپنے ہاتھ میں سونے کے بنے ہوئے دو کنگن دیکھے ‘ مجھے وہ برے لگے ‘ میں نے ان کو پھونک ماری تو وہ اُڑ گئے میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ اس سے مراد ‘ نبوت کے دو جھوٹے دعویدار ہیں ایک وہ جو یمن سے تعلق رکھتا ہے ‘ اور ایک وہ جو یمامہ سے تعلق رکھتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے ‘ شب قدر کو دیکھنے والا حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار اور امام احمد نے نقل کی ہے ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

11753

Majma al-Zawaid #11753

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّ فِي سَاعِدَيْهِ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَنَفَخَهُمَا فَطَارَا، فَقَالَ: "" هُمَا كَذَّابَا أُمَّتِي صَاحِبُ الْيَمَنِ، وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ، وَلَيْسَا بِضَارَّيْ أُمَّتِي شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar, may Allah be pleased with them both, reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, saw as if upon his forearms were two bracelets of gold. He blew upon them and they flew away, and said they are the two liars of his community, the one of Yemen and the one of Yamamah, who will not harm his community at all. > **"They are the two liars of my community, the one of Yemen and the one of Yamamah, and they will not harm my community at all."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ جیسے آپ کی کلائیوں میں سونے کے کنگن ہیں ، آپ نے ان کو پھونک ماری ‘ تو وہ دونوں اُڑ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ میری امت کے دو کذاب ( یعنی نبوت کے جھوٹے دعوے دار ) ہیں ‘ ایک یمن سے تعلق رکھتا ہے اور ایک یمامہ سے تعلق رکھتا ہے ‘ اور یہ میری اُمت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے اور وہ متروک ہے ۔