Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 9

Book of Exegesis

Hadith 11124–11163

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11124

Majma al-Zawaid #11124

عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ عَبْدٍ يُرِيدُ أَنْ يَرْتَفِعَ فِي الدُّنْيَا دَرَجَةً فَارْتَفَعَ إِلَّا وَضَعَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرَ مِنْهَا ""، ثُمَّ قَرَأَ: وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو الصَّبَّاحِ عَبْدُ الْغَفُورِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Salman رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that whoever seeks to rise a degree in this world and attains it, Allah will lower him by even more in the Hereafter, and then the Prophet ﷺ recited the verse that the Hereafter is greater in degrees and greater in excellence. > **"There is no servant who wishes to rise a degree in this world and rises, except that Allah will lower him in the Hereafter by more than it. And the Hereafter is greater in degrees and greater in excellence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو بھی بندہ یہ ارادہ کرتا ہے کہ دنیا میں اس کا ایک درجہ بلند ہو اور پھر اس کا درجہ بلند ہو جائے تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس سے زیادہ بڑا درجہ کم کر دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور آخرت درجات کے اعتبار سے بھی بڑی ہے ‘ اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بڑی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابوصباح عبدالغفور ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11125

Majma al-Zawaid #11125

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ {وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ} [الإسراء: 26] دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ، فَأَعْطَاهَا فَدَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه reported that when the verse of Surah al-Isra about giving the relative his right was revealed, the Messenger of Allah ﷺ called Fatimah رضي الله عنها and granted her Fadak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اور تم رشتے دار کو اس کا حق دو ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور انہیں فدک عطا کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔

11126

Majma al-Zawaid #11126

عَنْ أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا} [الإسراء: 26]، قَالَ: هُوَ النَّفَقَةُ فِي غَيْرِ حَقٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Ubaydayn reported that he asked Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه about the verse of Surah al-Isra forbidding wasteful squandering, and he said it means spending in other than what is right.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابو عبیدین بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم فضول خرچی نہ کرو ‘‘۔ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد ناحق طور پر خرچ کرنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11127

Majma al-Zawaid #11127

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَى أَدْبَارِهِمْ نُفُورًا} [الإسراء: 46] قَالَ: الشَّيَاطِينُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ. قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: صُوَيْلِحٌ وَضَعَّفَهُ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ: لَا تَحِلُّ الرِّوَايَةُ عَنْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه explained the verse of Surah al-Isra about those who turn away in aversion when the Lord alone is mentioned in the Qur'an, saying they are the devils.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جب تم قرآن میں صرف اپنے پروردگار کا ذکر کرتے ہو ‘ تو وہ متنفر ہو کر پیٹھ پھیر کر مڑ جاتے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی شیاطین ایسا کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسیب ہے یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ کم درجہ کا صالح ہے ۔ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں : اس نے روایات حاصل کرنا حلال نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11128

Majma al-Zawaid #11128

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحِجْرِ قَالَ: "" «لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ، فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا [فَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا، وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا، فَعَقَرُوهَا]، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَهَمَدَ اللَّهُ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ "". قِيلَ: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَبُو رِغَالٍ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ أَتَمَّ مِنْهُ، وَتَقَدَّمَ فِي سُورَةِ هُودٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that when the Prophet ﷺ passed by al-Hijr he warned against demanding miraculous signs, recalling that the people of Salih demanded the she-camel which came from this mountain pass, drank their water one day and gave them milk the next, but they defied their Lord's command and hamstrung her. A mighty blast seized them and destroyed all beneath the sky except one man who was in Allah's sanctuary. Asked who he was, the Prophet ﷺ named him and said what befell him when he left the sanctuary. > **"Do not ask for signs, for the people of Salih asked for them and it came from this mountain pass. They defied the command of their Lord and hamstrung her. A blast seized them and Allah destroyed all beneath the sky among them except one man who was in the sanctuary of Allah. He is Abu Righal. When he left the sanctuary, what befell his people befell him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ حجر کے مقام سے گزرے تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ نشانیوں کے بارے میں فرمائش نہ کرو کیونکہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے نشانیاں مانگی تھیں تو وہ اونٹنی اس راستے سے یہاں آتی تھی ان لوگوں نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی اور اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیے کیونکہ وہ ایک مخصوص دن میں ان کا پانی پیتی تھی اور وہ لوگ ایک مخصوص دن میں اس کا دودھ پیا کرتے تھے ‘ تو ان لوگوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو ان لوگوں کو ایک زبردست آواز نے اپنی گرفت میں لیا آسمان کے نیچے ان میں سے جتنے بھی لوگ موجود تھے ان سب کو اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا صرف ایک شخص بچا جو اللہ کے حرم میں موجود تھا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اورغال تھا اور جب وہ حرم کی حدود سے باہر نکلا تو اسے بھی وہی چیز لاحق ہو گئی ‘ جو اس کی قوم کو لاحق ہوئی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے جو اس سے پہلے سورت ہود سے متعلق باب میں گزر چکی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11129

Majma al-Zawaid #11129

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا، وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ فَيَزْدَرِعُوا، فَقِيلَ لَهُ: إِنْ شِئْتَ أَنْ نَسْتَأْنِيَ بِهِمْ، وَإِنْ شِئْتَ نُؤْتِيهِمُ الَّذِي سَأَلُوا، فَإِنْ كَفَرُوا هَلَكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ؟ قَالَ: " بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ ". وَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً} [الإسراء: 59]».

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه reported that the people of Makkah asked the Prophet ﷺ to turn Safa into gold for them and to remove the mountains so they could cultivate. It was said to him that he could either grant them respite or give them what they asked, but if they then disbelieved they would perish as those before them perished. The Prophet ﷺ chose respite, and Allah revealed the verse of Surah al-Isra about not sending signs because the former peoples denied them, and about Thamud and the she-camel. > **"Rather I will grant them respite."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اہل مکہ نے نبی اکرم ﷺ سے یہ فرمائش کی کہ آپ ان کے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیں اور پہاڑوں کو ان سے ہٹا دیں تاکہ وہ لوگ کھیتی باڑی کر سکیں ‘ آپ سے کہا گیا : اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں مہلت دے دیتے ہیں ، اور اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں وہ چیز دے دیتے ہیں جو انہوں نے فرمائش کی ہے لیکن اگر پھر انہوں نے کفر کیا تو پھر یہ اسی طرح ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ میں ان کو مہلت دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور ہمیں آیات بھیجنے سے صرف اس چیز نے منع کیا کہ پہلے لوگوں نے بھی ان ( نشانیوں ) کو جھٹلایا تھا اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی عطا کی تھی جو کھلی نشانی تھی ‘‘۔

11130

Majma al-Zawaid #11130

وَفِي رِوَايَةٍ: «فَدَعَا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا، فَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ؟ قَالَ: " بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ». وَرِجَالُ الرِّوَايَتَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّهُ وَقَعَ فِي أَحَدِ طُرُقِهِ عِمْرَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَهُوَ وَهْمٌ، وَفِي بَعْضِهَا عِمْرَانُ أَبُو الْحَكَمِ، وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ وَهُوَ الصَّحِيحُ وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

In another version of the Makkan request for Safa to become gold, the Prophet ﷺ supplicated, and Jibril عليه السلام came and conveyed from the Lord that if he wished Safa would become gold for them, but whoever disbelieved afterward would be punished as none in the worlds had been punished, and if he wished the door of repentance and mercy would be opened for them. The Prophet ﷺ chose the door of repentance and mercy. > **"Rather the door of repentance and mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دعا کی حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا ہے ‘ اور اس نے آپ سے یہ فرمایا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو صبح ان لوگوں کے لئے صفا پہاڑ سونے کا ہو گا ، لیکن اس کے بعد ان لوگوں میں سے جس نے کفر کیا میں اسے ایسا عذاب دوں گا کہ ویسا عذاب میں نے تمام جہانوں میں کسی کو نہیں دیا ہو گا اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے عرض کی : بلکہ میں توبہ اور رحمت کے دروازے ( کو اختیار کرتا ہوں ) ۔ دونوں روایتوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ اس کے طرق میں سے ایک میں ایک راوی عمران بن حکم ہے یہ وہم ہے بعض حضرات نے اس کا نام عمران ابوحکم بیان کیا ہے یہ حارث کا بیٹا ہے ‘ اور یہی صحیح ہے ‘ اور یہ صحیح کے رجال میں سے ہے یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔

11131

Majma al-Zawaid #11131

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ: نَافِلَةً لَكَ قَالَ: «إِنَّمَا كَانَتِ النَّافِلَةُ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ».

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه explained the verse of Surah al-Isra about the night prayer as an addition for the Prophet ﷺ, saying the additional prayer was exclusive to the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” تمہارے لئے اضافی ہے ‘‘۔ یہ نبی اکرم ﷺ کے لئے خاص طور پر اضافی تھی ۔

11132

Majma al-Zawaid #11132

وَفِي رِوَايَةٍ: «سَأَلْتُ أَبَا أُمَامَةَ عَنِ النَّافِلَةِ، قَالَ: كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَافِلَةً، وَلَكُمْ فَضِيلَةً». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا شَهْرٌ وَفِي الْآخَرِ أَبُو غَالِبٍ، وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

In another version, when Abu Umamah رضي الله عنه was asked about the additional prayer, he said it was an additional obligation for the Prophet ﷺ, while for his followers it is a merit and recommendation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے اضافی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ نبی اکرم ﷺ کے لئے اضافی تھی اور تمہارے لئے یہ فضیلت کا باعث ہے ( یعنی مستحب ہے ) ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی شہر ہے ‘ اور دوسری سند میں ایک راوی ابوغالب ہے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ‘ اور ان دونوں میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

11133

Majma al-Zawaid #11133

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «دُلُوكُ الشَّمْسِ: زَوَالُهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَعْرُوفُ بِسَنْدَلٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ an explanation of the verse of Surah al-Isra about establishing prayer at the decline of the sun. > **"The decline of the sun is its passing the meridian."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سورج کے دلوک سے مراد اس کا ڈھل جانا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس ہے جو سندل کے نام سے معروف ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11134

Majma al-Zawaid #11134

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ - يَعْنِي النَّخَعِيَّ - قَالَ: صَلَّى عَبْدُ اللَّهِ [ذَاتَ يَوْمٍ]، وَجَعَلَ رَجُلٌ يَنْظُرُ هَلْ غَابَتِ الشَّمْسُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا تَنْظُرُونَ؟ هَذَا - وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ - مِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ، لِقَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ} [الإسراء: 78] وَهَذَا دُلُوكُ الشَّمْسِ وَهَذَا غَسَقُ اللَّيْلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Yazid al-Nakha'i reported that Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه once led them in prayer while a man kept watching whether the sun had set. Abdullah asked what they were watching, swore by Allah that this was the appointed time of that prayer, and cited the verse of Surah al-Isra about establishing prayer from the decline of the sun to the darkness of the night, explaining that this is the decline and this is the darkness.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن یزید نخعی بیان کرتے ہیں : ایک دن حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ایک شخص دیکھنے لگا کہ کیا سورج غروب ہو چکا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ اس نماز کا وقت ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ’’ سورج ڈھلنے سے لے کر رات پھیلنے تک نماز قائم کرو ‘‘۔ تو یہ سورج کا ڈھلنا ہے ‘ اور یہ رات کا پھیلنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11135

Majma al-Zawaid #11135

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ قَالَ: الْعِشَاءُ الْآخِرَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَفِيهِمَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه explained the phrase "to the darkness of the night" in the verse of Surah al-Isra as referring to the last Isha prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” رات کے پھیلنے تک ‘‘۔ سے مراد عشاء کی نماز کا وقت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ان میں ایک راوی یحیی حمانی اور ایک راوی جابر جعفی ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

11136

Majma al-Zawaid #11136

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ، وَيَكْسُونِي رَبِّي حُلَّةً خَضْرَاءَ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ka'b ibn Malik رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that on the Day of Resurrection people will be raised, he and his nation will be upon a hill, his Lord will clothe him in a green robe, permission will be granted to him, and he will say what Allah wills him to say, and that is the Praised Station. > **"People will be raised on the Day of Resurrection, and I and my nation will be upon a hill. My Lord will clothe me in a green robe, then permission will be granted to me and I will say what Allah wills me to say, and that is the Praised Station."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا ‘ تو میں اور میری امت ایک ٹیلے پر ہوں گے میرا پروردگار مجھے سبز حلہ پہنائے گا ‘ پھر مجھے اجازت دی جائے گی میں جو اللہ کو منظور ہو گا وہ بات کہوں گا ‘ تو یہ مقام محمود ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11137

Majma al-Zawaid #11137

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِ اللَّهِ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] قَالَ: يُجْلِسُهُ [فِيمَا] بَيْنَهُ وَبَيْنَ جِبْرِيلَ، وَيَشْفَعُ لِأُمَّتِهِ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ إِذَا لَمْ يُتَابَعْ، وَعَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ قِيلَ: لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه explained the verse of Surah al-Isra about the Lord raising the Prophet ﷺ to a praised station, saying He will seat him between Himself and Jibril عليه السلام and he will intercede for his nation, and that is the Praised Station.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے گا “۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی پروردگار نبی اکرم ﷺ کو اپنے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے درمیان بٹھائے گا اور نبی اکرم ﷺ اپنی امت کی شفاعت کریں گے ‘ تو یہ مقام محمود ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے جب اس کی متابعت نہ کی گئی ہو اور ایک راوی عطاء بن دینار ہے ایک قول کے مطابق اس نے سعید بن جبیر سے سماع نہیں کیا ہے ۔

11138

Majma al-Zawaid #11138

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَعَلَى الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا، قَدْ شَدَّ لَهُمْ إِبْلِيسُ أَقْدَامَهَا بِالرَّصَاصِ، فَجَاءَ وَمَعَهُ قَضِيبٌ، فَجَعَلَ يَهْوِي بِهِ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا فَيَخِرُّ لِوَجْهِهِ، فَيَقُولُ: {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: 81] حَتَّى مَرَّ عَلَيْهَا كُلَّهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طُرُقُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abbas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ entered Makkah on the day of the conquest while three hundred and sixty idols stood around the Ka'bah, whose feet Iblis had fastened with lead. With a stick in his hand he pointed to each idol and it fell upon its face while he recited the verse of Surah al-Isra until he had passed by all of them. > **"Truth has come and falsehood has perished. Indeed falsehood is ever perishing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اس وقت خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے شیطان نے ان کے قدموں میں سیسہ لگوا کے انہیں مضبوطی سے رکھوایا ہوا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو آپ کے پاس ایک چھڑی تھی ‘ تو آپ اس چھڑی کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے تھے اور وہ منہ کے بل گر جاتا تھا اور آپ یہ پڑھ رہے تھے : ’’ حق آ گیا اور باطل چلا گیا بے شک باطل نے جانا ہی تھا ‘‘۔ یہاں تک کہ آپ تمام بتوں کے پاس سے گزرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس اور ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق غزوہ فتح سے متعلق باب میں پہلے گزر چکے ہیں ۔

11139

Majma al-Zawaid #11139

عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] نَزَلَتْ فِي الدُّعَاءِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها explained the verse of Surah al-Isra about neither reciting prayer loudly nor inaudibly, saying it was revealed concerning supplication.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتی ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم اپنی نماز ( یعنی دُعا ) کو بلند آواز میں نہ کرو اور بالکل پست آواز میں بھی نہ کرو ‘‘۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11140

Majma al-Zawaid #11140

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَيُنْزَعَنَّ هَذَا الْقُرْآنُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ، قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَسْنَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَقَدْ أَثْبَتْنَاهُ فِي مَصَاحِفِنَا؟ قَالَ: يَسْرِي عَلَى الْقُرْآنِ لَيْلًا فَلَا يَبْقَى فِي قَلْبِ عَبْدٍ وَلَا فِي مُصْحَفِهِ مِنْهُ شَيْءٌ، وَيُصْبِحُ النَّاسُ فُقَرَاءَ كَالْبَهَائِمِ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا} [الإسراء: 86]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه warned that this Qur'an will be taken away from among them. When it was said that they recite it and have secured it in their codices, he said the Qur'an will travel by night so nothing of it remains in any servant's heart or in his copy, people will wake in the morning destitute like cattle, and he recited the verse of Surah al-Isra about Allah taking away what He had revealed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگوں کے درمیان میں سے اس قرآن کو الگ کر دیا جائے گا راوی نے کہا : اے ابوعبدالرحمن کیا ہم قرآن نہیں پڑھتے ہیں ‘ اور کیا ہم نے اسے مصحف کی شکل میں محفوظ نہیں کیا ہوا ہے ‘ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قرآن پر ایک رات ایسی آئے گی کہ جب یہ کسی بندے کے دل میں نہیں رہے گا اور کسی مصحف میں اس میں سے کچھ نہیں رہے گا اور جب لوگ صبح کریں گے ‘ تو ان کے قرآن کے عالم جانوروں کی مانند ( علم سے بے بہرہ ) ہوں گے پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور اگر ہم چاہیں تو ہم اس کو لے جائیں جو ہم نے تمہاری طرف وحی نازل کی ہے ‘ اور پھر تم اس کے حوالے سے ہمارے خلاف کوئی وکیل ( کارساز ) نہیں پاؤ گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف شداد بن معقل کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

11141

Majma al-Zawaid #11141

عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «آيَةُ الْعِزِّ وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «آيَةُ الْعِزِّ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ» "" الْآيَةَ كُلَّهَا،

EnglishUnverified translation

Mu'adh ibn Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ identified the verse of might as the closing verse of Surah al-Isra glorifying Allah who has taken no son, has no partner in dominion, needs no protector from humiliation, and is to be magnified greatly. > **"The verse of might is: Praise belongs to Allah who has not taken a son, has no partner in dominion, has no protector from humiliation, and magnify Him greatly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ غلبے والی آیت یہ ہے : ’’ تم یہ فرما دو ! ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے ‘ اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور وہ اس چیز سے پاک ہے کہ وہ کمزور ہو اور پھر اس کے لئے کسی مددگار کی ضرورت ہو اور تم اس کی کبریائی اہتمام اس تمام کے ساتھ بیان کرتے رہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام احمد نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ غلبے والی آیت یہ ہے :’’ تم یہ فرما دو ! ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے ‘ اور بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے ‘‘۔ یہ پوری آیت ہے ۔

11142

Majma al-Zawaid #11142

وَلَهُ طَرِيقٌ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "" «الْعِزَّةُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ، فِي إِحْدَاهُمَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِي الْأُخْرَى ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ أَصْلَحُ مِنْهُ، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

In another chain from the Messenger of Allah ﷺ he used to say that might belongs to Allah with praise of Him who has not taken a son. > **"Might belongs to Allah, and praise belongs to Allah who has not taken a son."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے اس روایت کو ایک اور سند کے ساتھ نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے جس میں آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے : ’’ عزت اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اور دوسری سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور یہ اس سے زیادہ صالح ہے امام طبرانی کی روایت بھی اس کی مانند ہے ۔

11143

Majma al-Zawaid #11143

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَدُهُ فِي يَدِي، فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ رَثِّ الْهَيْئَةِ، قَالَ: "" أَبُو فُلَانٍ؟ مَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى؟ ""، قَالَ: الضُّرُّ وَالسَّقَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" [أَلَا] أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يُذْهِبُ اللَّهُ عَنْكَ الضُّرَّ وَالسَّقَمَ؟ ""، قَالَ: لَا، مَا يَسُرُّنِي بِهَا أَنِّي شَهِدْتُ مَعَكَ بَدْرًا وَأُحُدًا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: ""وَهَلْ يُدْرِكُ أَهْلَ بَدْرٍ وَأَهْلَ أُحُدٍ مَا يُدْرِكُ الْفَقِيرَ الْقَانِعَ؟ ""، قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فَعَلِّمْنِي، قَالَ: فَقَالَ: "" قُلْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الْقَيُّومِ الَّذِي لَا يَمُوتُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا ""، قَالَ: فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ حَسُنَتْ حَالِي فَقَالَ لِي: "" مَهْيَمْ؟ ""، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَزَلْ أَقُولُ الْكَلِمَاتِ الَّتِي عَلَّمْتَنِيهُنَّ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that he went out with the Messenger of Allah ﷺ hand in hand and they met a man of wretched appearance. The Prophet ﷺ asked him what had brought him to that state, and he said hardship and illness. When the man showed no interest in words that would remove his distress in exchange for having witnessed Badr and Uhud, the Prophet ﷺ laughed and said the people of Badr and Uhud cannot attain what the contented poor person attains. Abu Hurayrah then asked to be taught the words, and the Prophet ﷺ taught him a declaration of reliance upon the Ever-Living who does not die along with the verse of might. Later the Prophet ﷺ found him in an improved state, asked him what had happened, and he said he had continued to say the words he had been taught. > **"Say, O Abu Hurayrah: I rely upon the Ever-Living, the Sustainer, who does not die. Praise belongs to Allah who has not taken a son, has no partner in dominion, has no protector from humiliation, and magnify Him greatly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اور نبی اکرم ﷺ جا رہے تھے آپ کا دست مبارک میرے ہاتھ میں تھا ہمارے سامنے ایک شخص آیا جس کی ظاہری حالت خراب تھی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم ابوفلاں ہو ؟ تمہاری یہ صورت حال کیسے ہو گئی ‘ جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : پریشانی اور بیماری کی وجہ سے یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں کچھ کلمات تعلیم نہیں دیئے تھے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پریشانی اور بیماری کو تم سے دور کر دے گا ۔ انہوں نے عرض کی : جی نہیں مجھے اس کے بدلے میں یہ چیز بھی پسند نہیں ہے کہ میں نے آپ کے ساتھ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت کی ہوتی راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا اہل بدر اور اہل احد اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں جہاں قناعت کرنے والا فقیر شخص پہنچتا ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں آپ مجھے ان کی تعلیم دیجئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ’’ میں حی اور قیوم ذات پر توکل کرتا ہوں ، جسے موت نہیں آئے گی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اور وہ کمزوری سے پاک ہے کہ اس کے لئے کسی مددگار کی ضرورت ہو اور تم اس کی اہتمام کے ساتھ کبریائی بیان کرو ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میری حالت بہتر تھی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے جو کلمات تعلیم دیے تھے میں وہ مسلسل پڑھتا رہتا ہوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11144

Majma al-Zawaid #11144

عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ قَرَأَ أَوَّلَ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآخِرَهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مِنْ قَدَمِهِ إِلَى رَأْسِهِ، وَمَنْ قَرَأَهَا كُلَّهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مَا بَيْنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Mu'adh ibn Anas رضي الله عنه reported from the Messenger of Allah ﷺ that whoever recites the beginning and the end of Surah al-Kahf will have light from his feet to his head, and whoever recites all of it will have light between the earth and the sky. > **"Whoever recites the beginning of Surah al-Kahf and its end will have light from his feet to his head, and whoever recites all of it will have light between the earth and the sky."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص سورت کہف کا ابتدائی اور آخری حصہ تلاوت کر لے گا ‘ تو یہ چیز اس کے قدموں سے لے کر سر تک نور ہو گی اور جو شخص یہ پوری سورت تلاوت کر لے گا ‘ تو یہ اس کے لئے زمین سے لے کر آسمان تک کے درمیانی حصے میں نور ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔

11145

Majma al-Zawaid #11145

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مَقَامِهِ إِلَى مَكَّةَ، وَمَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِهَا ثُمَّ خَرَجَ الدَّجَّالُ لَمْ يَضُرَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said whoever recites Surah al-Kahf will have light on the Day of Resurrection from his station to Makkah, and whoever recites ten verses from its end and the Dajjal then emerges will not be harmed by him. > **"Whoever recites Surah al-Kahf will have light on the Day of Resurrection from his station to Makkah, and whoever recites ten verses from its end, then the Dajjal emerges, he will not harm him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص سورت کہف پڑھے گا ‘ تو قیامت کے دن یہ سورت اس کے لئے اس کے کھڑے ہونے کی جگہ سے لے کر مکہ تک نور ہو گی اور جو شخص اس کی آخری دس آیات تلاوت کر لے گا ، پھر اگر دجال بھی نکل آئے ‘ تو وہ اس شخص کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے یہ مکمل روایت کتاب الطہارت میں مذکور ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11146

Majma al-Zawaid #11146

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» ".

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ about the protection granted to whoever recites ten verses from the end of Surah al-Kahf. > **"Whoever recites ten verses from the end of Surah al-Kahf will be protected from the trial of the Dajjal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جو شخص سورت کہف کی آخری دس آیات پڑھ لے گا وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا ‘‘۔

11147

Majma al-Zawaid #11147

وَفِي رِوَايَةٍ: "" الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another version the wording is "the last ten verses." The compiler notes that in Sahih the hadith of Abu al-Darda is established concerning the first verses of Surah al-Kahf.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ آخری دس ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں یہ حدیث مذکور ہے کہ اس کی ابتدائی دس آیات پڑھے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11148

Majma al-Zawaid #11148

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَرَى الِاسْتِثْنَاءَ وَلَوْ بَعْدَ سَنَةٍ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا - إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ} [الكهف: 23 - 24] يَقُولُ: إِذَا ذَكَرْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه held that one may make the exception of saying "if Allah wills" even after a year, and he recited the verses of Surah al-Kahf forbidding saying one will do something tomorrow without the will of Allah and commanding remembrance of the Lord when one forgets, meaning when one remembers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ استثناء کے قائل تھے خواہ وہ ایک سال کے بعد ہی کیوں نہ ہو اور پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : ’’ اور تم کسی چیز کے بارے میں یہ ہرگز نہ کہو کہ میں کل ایسا کر لوں گا البتہ اگر ان شاء اللہ کہہ دو تو حکم مختلف ہے ‘ اور جب تم بھول جاؤ تو اپنے پروردگار کو یاد کر لو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب آپ کو یاد آ جائے ( تو آپ استثناء کر سکتے ہیں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11149

Majma al-Zawaid #11149

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ} [الكهف: 24] قَالَ: إِذَا نَسِيتَ الِاسْتِثْنَاءَ فَاسْتَثْنِ إِذَا ذَكَرْتَ، قَالَ: هِيَ خَاصَّةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَيْسَ لِأَحَدِنَا أَنْ يَسْتَثْنِيَ إِلَّا فِي حَلِفِهِ بِيَمِينِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حُصَيْنٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه explained the verse of Surah al-Kahf about remembering the Lord when one forgets, saying that if one forgets the exception then one should make it when one remembers. He said this concession was specific to the Messenger of Allah ﷺ, and none of them may make the exception except within his oath.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جب تم بھول جاؤ تو اپنے پروردگار کو یاد کرو ‘‘۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی جب تم استثناء کرنا بھول جاؤ تو جب تمہیں یاد آئے اس وقت استثناء کر لو وہ کہتے ہیں : یہ بات نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے ہم میں سے کسی کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کے لئے استثناء کرے البتہ وہ اپنی قسم کے ساتھ استثناء کر سکتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11150

Majma al-Zawaid #11150

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {مَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ} [الكهف: 22] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَا مِنْ أُولَئِكَ الْقَلِيلِ، مَكْسِمِلِينَا وَمِلِيخَا وَهُوَ الْمَبْعُوثُ بِالْوَرِقِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَمَرْطُونُسُ وَيَثْبُونُسُ وَدِرْدُونُسُ وَكَفَاسْطِيطُوسُ وَمِيطْنُوسِيُوسُ وَهُوَ الرَّاعِي، وَالْكَلْبُ اسْمُهُ قِطْمِيرُ الْكُرْدِيِّ، وَفَرَقٌ الْقِبْطِيِّ [إِلَّا لَطَنَ فَرْقٌ الْقِبْطِيِّ]. قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: بَلَغَنِي أَنَّهُ مَنْ كَتَبَ هَذِهِ الْأَسْمَاءَ فِي شَيْءٍ وَطَرَحَهُ فِي حَرِيقٍ سَكَنَ الْحَرِيقُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي رَوْقٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه explained the verse of Surah al-Kahf that none knows the Sleepers except a few, saying he was among that few, and he named them and their dog. Abu Abd al-Rahman added that his father said he had heard that whoever writes these names and casts them into a fire, the fire subsides.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ان کے بارے میں صرف تھوڑے لوگ جانتے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں ان تھوڑے لوگوں میں سے ایک ہوں ان ( یعنی اصحاب کہف کے نام یہ ہیں : ) مکسملینا ، ملیخا یہ وہ صاحب ہیں جنہیں چاندی دے کر شہر کی طرف بھیجا گیا تھا ، مرطونس یثبونس ، دردونس ، کفا سطیطوس ، میطنو سیوس یہ چرواہا ہے ‘ اور کتا ، جس کا نام قطمیر کردی تھا ، اور فرق قبطی تھا ‘ البتہ فرق قبطی مشہور ہوا ۔ ابوعبدالرحمن کہتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ جو شخص کسی چیز میں یہ اسماء تحریر کر لے اور پھر اسے جلتی ہوئی جگہ پر پھینک دے ‘ تو وہ جلتی ہوئی آگ بجھ جائے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوروق ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11151

Majma al-Zawaid #11151

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَفَعَهُ قَالَ: "" الْكَنْزُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ لَوْحٌ مِنْ ذَهَبٍ مُصْمَتٍ، عَجِبْتُ لِمَنْ أَيْقَنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ نَصَبَ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ ذَكَرَ النَّارَ ثُمَّ ضَحِكَ، وَعَجِبْتُ لِمَنْ ذَكَرَ الْمَوْتَ ثُمَّ غَفَلَ. لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ بِشْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْصَبِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reported in a raised narration that the treasure mentioned by Allah in His Book was a solid tablet of gold inscribed with marvels at those who believe in destiny yet distress themselves, remember the Fire yet laugh, and remember death yet grow heedless, ending with the testimony of faith. > **"The treasure mentioned by Allah in His Book was a solid tablet of gold. I marvel at one who believes in destiny and then distresses himself. I marvel at one who remembers the Fire and then laughs. I marvel at one who remembers death and then grows heedless. There is no deity but Allah, Muhammad is the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ وہ خزانہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے وہ خالص سونے کی ایک لوح تھی جس میں یہ تحریر تھا کہ مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے ‘ اور پھر پریشان ہوتا ہے مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے جو جہنم کو یاد کرتا ہے ‘ اور پھر بھی ہنستا ہے مجھے اس شخص پر حیرانگی ہوتی ہے جو موت کو یاد کرتا ہے اور پھر غافل ہو جاتا ہے اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے بشر بن منذر کے حوالے سے حارث بن عبداللہ یحصبی سے نقل کی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11152

Majma al-Zawaid #11152

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا} [الكهف: 82] قَالَ: قَالَ: أُحِلِّتْ لَهُمُ الْكُنُوزُ وَحُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الْغَنَائِمُ، وَأُحِلَّتْ لَنَا الْغَنَائِمُ وَحُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْكُنُوزُ. قُلْتُ: رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه explained the verse of Surah al-Kahf about the treasure beneath the wall, saying treasures were lawful for them while spoils were forbidden to them, whereas spoils were made lawful for this nation while hoarding treasures was forbidden.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا ‘‘۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان لوگوں کے لئے خزانہ جمع کرنا حلال تھا اور ان کے لئے مال غنیمت حرام قرار دیا گیا تھا ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے ‘ اور ہم پر خزانہ اکٹھا کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان صحابی کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11153

Majma al-Zawaid #11153

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ: فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْوَلِيدِ بْنِ عَدَّاسٍ الْمِصْرِيِّ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ recited the verse of Surah al-Kahf concerning the setting place of the sun. > **"In a muddy spring."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : «فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ» ’’ سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ولید بن عداس مصری سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11154

Majma al-Zawaid #11154

عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: «كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ، فَقَالَ مُعَاذٌ: اللَّهُمَّ غَفْرًا، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ صَامَ رِيَاءً فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ رِيَاءً فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ صَلَّى رِيَاءً فَقَدْ أَشْرَكَ ""؟. قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ} [الكهف: 110]- الْآيَةَ. فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْقَوْمِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: أَلَا أُفَرِّجُهَا عَنْكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، فَرَّجَ اللَّهُ عَنْكَ الْهَمَّ وَالْأَذَى، فَقَالَ: هِيَ مِثْلُ الْآيَةِ الَّتِي فِي الرُّومِ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ - الْآيَةَ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا رِيَاءً لَمْ يُكْتَبْ لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Salih reported that Abd al-Rahman ibn Ghanm was in the Damascus mosque among some Companions of the Prophet ﷺ, including Mu'adh ibn Jabal رضي الله عنه, and warned people that what he feared most for them was hidden idolatry. Mu'adh sought Allah's forgiveness and asked whether he had not heard the Messenger of Allah ﷺ say that fasting, charity, or prayer for show is idolatry. He said he had, but the Prophet ﷺ had also recited the verse of Surah al-Kahf about hoping for the meeting with the Lord. That distressed the people, so he comforted them by likening it to the verse of Surah al-Rum about usury: a deed done for show is recorded neither for the doer nor against him. > **"Whoever fasts for show has committed idolatry. Whoever gives charity for show has committed idolatry. Whoever prays for show has committed idolatry."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصالح بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ مسجد دمشق میں نبی اکرم ﷺ کے کچھ صحابہ کرام کے درمیان موجود تھے ان میں ایک حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نے کہا : اے لوگو ! مجھے تم لوگوں کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ پوشیدہ شرک کا ہے ‘ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ تجھ سے مغفرت کا سوال ہے ‘ تو حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ’’ جو شخص ریاکاری کے طور پر روزہ رکھتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے جو شخص ریاکاری کے طور پر صدقہ کرتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے جو شخص ریاکاری کے طور پر نماز ادا کرتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے ‘‘۔ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں لیکن نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت بھی تلاوت کی ہے : ’’ جو شخص اپنے پرودگار کی بارگاہ میں حاضری کی امید رکھتا ہو ‘‘۔ یہ آیت لوگوں پر گراں گزری اور وہ پریشان ہو گئے تو انہوں نے کہا : میں تم لوگوں کی پریشانی ختم کرنے کی کوشش نہ کروں ؟ لوگوں نے عرض کی : ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ آپ سے بھی پریشانی اور تکلیف دہ چیز کو دور کرے تو آپ نے فرمایا : یہ اس آیت کی مانند ہے جو سورت روم میں ہے ’’ اور تم جو مال سود کے طور پر دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال کے ساتھ مل کر وہ بڑھ جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں بڑھے گا ‘‘۔ تو جو شخص ریاکاری کے طور پر کوئی عمل کرے گا اسے نوٹ نہیں کیا جائے گا نہ اس کے حق میں نہ اس کے خلاف ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

11155

Majma al-Zawaid #11155

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى -: {قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا} [مريم: 24] قَالَ: "" النَّهْرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Bara ibn Azib رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ an explanation of the verse of Surah Maryam in which Allah tells Maryam that her Lord placed a stream beneath her. > **"The river."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ’’ تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے بہنے والی چیز بنائی ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد نہر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11156

Majma al-Zawaid #11156

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ السَّرِيَّ الَّذِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَرْيَمَ: {قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا} [مريم: 24] نَهْرٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ تَشْرَبُ مِنْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ explain the stream mentioned to Maryam عليها السلام in Surah Maryam as a river Allah brought forth for her to drink from. > **"The stream which Allah mentioned to Maryam, when He said He placed a stream beneath her, is a river Allah brought forth for her to drink from."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ وہ بہتا پانی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم علیہا السلام سے یہ فرمایا تھا : ’’ تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے بہتا ہوا پانی بنایا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : یہ ایک نہر تھی جو اللہ تعالیٰ نے جاری کی تھی تاکہ سیدہ مریم علیہا السلام اس سے پانی پی لیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11157

Majma al-Zawaid #11157

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ -: فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا قَالَ: وَادٍ فِي جَهَنَّمَ مِنْ قَيْحٍ

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه explained the verse of Surah Maryam about meeting deviation, saying it is a valley in Hell filled with pus.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تو عنقریب وہ لوگ غی میں پہنچ جائیں گے ‘‘۔ حضرت عبداللہ ﷺ فرماتے ہیں : یہ جہنم میں موجود ایک وادی ہے جو پیپ کی ہے ۔

11158

Majma al-Zawaid #11158

وَفِي رِوَايَةٍ: الْغَيُّ نَهْرٌ فِي جَهَنَّمَ، يُقْذَفُ فِيهِ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

In another version, the deviation in the verse of Surah Maryam is a river in Hell into which those who followed lusts will be cast.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : غی جہنم میں موجود ایک نہر ہے جس میں ان لوگوں کو ڈالا جائے گا جو نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

11159

Majma al-Zawaid #11159

عَنْ أَبِي سَمِينَةَ قَالَ: اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي الْوُرُودِ، فَقَالَ بَعْضُنَا: لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا: يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا، فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقُلْتُ: إِنَّا اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي الْوُرُودِ، فَقَالَ [بَعْضُنَا: لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا] يَرِدُونَهَا جَمِيعًا، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُنَا: لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا: يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا، فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَالَ: صَمْتًا، إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْوُرُودُ: الدُّخُولُ، لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا، فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ - أَوْ قَالَ: جَهَنَّمَ - ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ». قُلْتُ: لِجَابِرٍ فِي الصَّحِيحِ فِي الْوُرُودِ شَيْءٌ مَوْقُوفٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saminah reported that they differed here about the coming to Hell, some saying no believer will enter it and others saying all will enter it and then Allah will save the God-fearing. He met Jabir ibn Abdullah رضي الله عنه and told him of the dispute. Jabir pointed with his fingers to his ears, declared them deaf if he had not heard the Messenger of Allah ﷺ say that the coming means entering, that no righteous or wicked person will remain without entering it, that it will become coolness and peace for the believers as it was for Ibrahim, until the Fire cries out from their coolness, and then Allah will save the God-fearing and leave the wrongdoers. > **"The coming means entering. No righteous or wicked person will remain except that he enters it. It will be coolness and peace for the believers as it was for Ibrahim, until the Fire cries out from their coolness. Then Allah will save those who feared Him and leave the wrongdoers in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسمینہ بیان کرتے ہیں : اس مقام پر وارد ہونے کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا ہم میں سے بعض کا یہ کہنا تھا کہ مومن جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور بعض کا یہ کہنا تھا کہ سب لوگ اس میں داخل ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ اس میں سے پرہیزگار لوگوں کو نجات عطا کر دے گا میری ملاقات حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہوئی میں نے کہا : یہاں وارد ہونے سے مراد کیا ہے اس بارے میں ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا ہے ہم میں سے بعض کا یہ کہنا ہے کہ مومن جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور بعض کا یہ کہنا ہے کہ سب لوگ جہنم میں جائیں گے میں نے ان سے کہا : ہمارے درمیان اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ‘ تو انہوں نے بتایا کہ ہم میں سے بعض لوگوں کا یہ موقف تھا کہ مومن اس میں داخل نہیں ہو گا اور بعض کا یہ کہنا تھا کہ سب لوگ جہنم میں داخل ہوں گے ‘ تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں ‘ اپنے دونوں کانوں کی طرف بڑھائیں اور بولے : یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو : ’’ ورود سے مراد داخل ہونا ہے ہر ایک نیک اور گناہگار شخص اس میں داخل ہو گا ، لیکن جہنم اہل ایمان کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی ‘ یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے آگ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم میں ‘ پر زور آواز ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کو ( اس سے ) نجات عطا کر دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں روایت مذکور ہے جو وارد ہونے کے بارے میں ہے ‘ اور وہ موقوف ہے ‘ اور اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11160

Majma al-Zawaid #11160

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، فَاقْبَلُوا مِنَ اللَّهِ عَافِيَتَهُ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيَنْسَى شَيْئًا» "". ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا} [مريم: 64]. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said whatever Allah made lawful in His Book is lawful, whatever He forbade is forbidden, and whatever He was silent about is pardon, so people should accept Allah's concession since Allah does not forget anything. He then recited the verse of Surah Maryam that the Lord is never forgetful. > **"Whatever Allah made lawful in His Book is lawful. Whatever He forbade is forbidden. Whatever He was silent about is pardon, so accept the concession of Allah, for Allah does not forget anything. And your Lord is never forgetful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو چیز حلال قرار دی ہے وہ حلال ہے ‘ اور جو حرام قرار دی ہے وہ حرام ہے ‘ اور جس کے حوالے سے وہ خاموش رہا ہے وہ معافی ہے تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی عطا کردہ عافیت قبول کرو بے شک وہ کسی چیز کو بھولنے والا نہیں ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ’’ اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11161

Majma al-Zawaid #11161

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا} [مريم: 85] قَالَ: لَا وَاللَّهِ، مَا عَلَى أَرْجُلِهِمْ يُحْشَرُونَ، وَلَا يُحْشَرُ الْوَفْدُ عَلَى أَرْجُلِهِمْ، وَلَكِنْ يُؤْتَوْنَ بِنُوقٍ لَمْ تَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا، عَلَيْهَا رَحَائِلُ مِنْ ذَهَبٍ، يَرْكَبُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَضْرِبُونَ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Nu'man ibn Sa'd reported that they were sitting with Ali رضي الله عنه when he recited the verse of Surah Maryam about gathering the God-fearing to the Most Merciful as a delegation. Ali swore they will not be gathered on their feet, for a delegation is not gathered on foot; rather they will be brought she-camels the like of which creation never saw, with saddles of gold, riding upon them until they reach the gates of Paradise.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نعمان بن سعد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جس دن ہم پرہیزگار لوگوں کو رحمن کی بارگاہ میں وفد کی شکل میں اکٹھا کریں گے ‘‘۔ انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان لوگوں کو ان کے پاؤں کے بل اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور ان لوگوں کو ان کے قدموں کے بل اکٹھا نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں گے مخلوق نے ان جیسی اونٹنیاں نہیں دیکھی ہوں گی ان پر سونے کے بنے ہوئے پالان ہوں گے وہ ان پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازے پر آ جائیں گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11162

Majma al-Zawaid #11162

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا} [مريم: 96] قَالَ: مَحَبَّةً فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه explained the verse of Surah Maryam about the Most Merciful placing affection for those who believe and do righteous deeds, saying it means love in the hearts of the believers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ’’ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو عنقریب رحمان ان کے لئے محبت بنا دے گا ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی اہل ایمان کے دلوں میں محبت بنا دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11163

Majma al-Zawaid #11163

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ قَرَأَ: {طه} [طه: 1] وَ {يس} [يس: 1] قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَلْفِ عَامٍ، فَلَمَّا سَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ الْقُرْآنَ قَالُوا: طُوبَى لِأُمَّةٍ يَنْزِلُ هَذَا عَلَيْهَا، وَطُوبَى لِأَجْوَافٍ تَحْمِلُ هَذَا، وَطُوبَى لِأَلْسُنٍ تَكَلَّمُ بِهَذَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said Allah recited Ta-Ha and Ya-Sin a thousand years before creating Adam, and when the angels heard the Qur'an they said blessed is the nation upon which this descends, blessed are the hearts that carry this, and blessed are the tongues that speak it. > **"Allah recited Ta-Ha and Ya-Sin a thousand years before creating Adam. When the angels heard the Qur'an they said: Blessed is a nation upon which this descends. Blessed are hearts that carry this. Blessed are tongues that speak this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے سورت طلہ اور سورت یسین حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ایک ہزار سال پہلے پڑھی جب فرشتوں نے قرآن سنا ‘ تو انہوں نے کہا : اس امت کو مبارک باد ‘ جس پر یہ نازل ہو گی ان ذہنوں کے لئے مبارک باد ہے جن میں ان کا علم آئے گا اور ان زبانوں کے لئے مبارک باد ہے جو ان کو پڑھیں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مہاجر بن مسمار ہے ‘ جسے اس حدیث کے حوالے سے امام بخاری نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور یحییٰ بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے ۔