Majma al-Zawaid #11084
عَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ: «جَاءَ بَشْنَانُ الْيَهُودِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنْ أَسْمَاءِ النُّجُومِ الَّتِي رَآهَا يُوسُفُ تَسْجُدُ لَهُ؟ قَالَ: "" الْخَرْتَانُ وَطَارِقٌ وَالذَّيَّالُ وَقَابِسٌ وَالْمُصِحُّ وَالصَّرُوحُ وَذُو الْكَنَفَيْنِ وَذُو الْفَرْغِ وَالْفَيْلَقُ وَوَثَّابٌ وَالْعَمُودَانِ رَآهَا يُوسُفُ تَسْجُدُ لَهُ، فَقَصَّهَا عَلَى أَبِيهِ، فَقَالَ: هَذَا أَمْرٌ مُتَفَرِّقٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ يَجْمَعُهُ بَعْدُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
عن جابر - يعني ابن عبد الله - / قال: «جاء بشنان اليهودي إلى رسول الله - / صلى الله عليه وسلم - فقال: يا محمد، / أخبرني عن أسماء النجوم التي رآها يوسف تسجد / له؟ قال: "" الخرتان وطارق والذيال وقابس والمصح / والصروح وذو الكنفين وذو الفرغ والفيلق ووثاب والعمودان / رآها يوسف تسجد له، فقصها على أبيه، فقال: / هذا أمر متفرق، ولعل الله يجمعه بعد» "". Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both) reported that a Jewish man called Bashnan asked the Prophet (peace be upon him) for the names of the stars Yusuf saw prostrating, and the Prophet (peace be upon him) enumerated eleven before noting that Yusuf told his father, who called it a scattered matter Allah might gather. > **"Al-Khartan, Tariq, al-Dhayyal, Qabis, al-Musihh, al-Saruh, Dhu al-Kanafayn, Dhu al-Fargh, al-Faylaq, Watthab, and the two Pillars: these Yusuf saw prostrating to him."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بشنان یہودی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ مجھے ان ستاروں کے نام بتائیے جنہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ ستارے انہیں سجدہ کر رہے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( ان کے اسماء درج ذیل ہیں ) ’’ خرتان ، طارق ، ذیال ، قابس ، مصح ، صروح ، ذو کنفين ، ذوفرغ فیلق ، وثاب اور عمودان یہ وہ ستارے ہیں جنہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا تھا کہ وہ انہیں سجدہ کر رہے ہیں انہوں نے اپنا خواب اپنے والد کو سنایا تو ان کے والد نے فرمایا : یہ متفرق معاملہ ہے شاید اللہ تعالیٰ بعد میں اسے اکٹھا کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔