Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 8

Book of Exegesis

Hadith 11084–11123

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11084

Majma al-Zawaid #11084

عَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ: «جَاءَ بَشْنَانُ الْيَهُودِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنْ أَسْمَاءِ النُّجُومِ الَّتِي رَآهَا يُوسُفُ تَسْجُدُ لَهُ؟ قَالَ: "" الْخَرْتَانُ وَطَارِقٌ وَالذَّيَّالُ وَقَابِسٌ وَالْمُصِحُّ وَالصَّرُوحُ وَذُو الْكَنَفَيْنِ وَذُو الْفَرْغِ وَالْفَيْلَقُ وَوَثَّابٌ وَالْعَمُودَانِ رَآهَا يُوسُفُ تَسْجُدُ لَهُ، فَقَصَّهَا عَلَى أَبِيهِ، فَقَالَ: هَذَا أَمْرٌ مُتَفَرِّقٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ يَجْمَعُهُ بَعْدُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

عن جابر - يعني ابن عبد الله - / قال: «جاء بشنان اليهودي إلى رسول الله - / صلى الله عليه وسلم - فقال: يا محمد، / أخبرني عن أسماء النجوم التي رآها يوسف تسجد / له؟ قال: "" الخرتان وطارق والذيال وقابس والمصح / والصروح وذو الكنفين وذو الفرغ والفيلق ووثاب والعمودان / رآها يوسف تسجد له، فقصها على أبيه، فقال: / هذا أمر متفرق، ولعل الله يجمعه بعد» "". Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both) reported that a Jewish man called Bashnan asked the Prophet (peace be upon him) for the names of the stars Yusuf saw prostrating, and the Prophet (peace be upon him) enumerated eleven before noting that Yusuf told his father, who called it a scattered matter Allah might gather. > **"Al-Khartan, Tariq, al-Dhayyal, Qabis, al-Musihh, al-Saruh, Dhu al-Kanafayn, Dhu al-Fargh, al-Faylaq, Watthab, and the two Pillars: these Yusuf saw prostrating to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بشنان یہودی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ مجھے ان ستاروں کے نام بتائیے جنہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ ستارے انہیں سجدہ کر رہے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( ان کے اسماء درج ذیل ہیں ) ’’ خرتان ، طارق ، ذیال ، قابس ، مصح ، صروح ، ذو کنفين ، ذوفرغ فیلق ، وثاب اور عمودان یہ وہ ستارے ہیں جنہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا تھا کہ وہ انہیں سجدہ کر رہے ہیں انہوں نے اپنا خواب اپنے والد کو سنایا تو ان کے والد نے فرمایا : یہ متفرق معاملہ ہے شاید اللہ تعالیٰ بعد میں اسے اکٹھا کر دے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11085

Majma al-Zawaid #11085

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ مَا اشْتُرِيَ بِهِ يُوسُفُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَكَانَ أَهْلُهُ حِينَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ بِمِصْرَ ثَلَاثَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا، رِجَالُهُمْ أَنْبِيَاءُ وَنِسَاؤُهُمْ صِدِّيقَاتٌ، وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا مَعَ مُوسَى حَتَّى بَلَغُوا سِتَّمِائَةِ أَلْفٍ وَسَبْعِينَ أَلْفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

عن عبد الله - يعني ابن مسعود - / رضي الله عنه - قال: كان ما اشتري / به يوسف عشرين درهما، وكان أهله حين أرسل / إليهم وهم بمصر ثلاثة وتسعين إنسانا، رجالهم أنبياء / ونساؤهم صديقات، والله ما خرجوا مع موسى حتى / بلغوا ستمائة ألف وسبعين ألفا. Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) said Yusuf was bought for twenty dirhams, that his household when summoned to him in Egypt numbered ninety-three souls whose men were prophets and whose women were truthful believers, and that by the exodus with Musa they had grown to six hundred and seventy thousand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت یوسف علیہ السلام رضی اللہ عنہ کو بیس درہم کے عوض میں فروخت کیا گیا تھا اور جب ان کے اہل خانہ کو ان کی طرف بھجوایا گیا جب وہ لوگ مصر میں تھے ‘ تو ان کی تعداد ۹۳ تھی ان کے مرد انبیاء تھے اور ان کی خواتین صدیقات تھیں اور اللہ کی قسم ! جب وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ( مصر سے نکلے ) اس وقت ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار ہو چکی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

11086

Majma al-Zawaid #11086

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فِي قَوْلِهِ: {أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ} [يوسف: 44] قَالَ: هِيَ الْأَحْلَامُ الْكَاذِبَةُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس - رضي الله عنهما - / في قوله: {أضغاث أحلام} [يوسف: 44] قال: هي / الأحلام الكاذبة. Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said the confused dreams named in the verse are false dreams.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ «اضغاث احلام» ‘‘. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد جھوٹے خواب ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11087

Majma al-Zawaid #11087

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عَجِبْتُ لِصَبْرِ أَخِي يُوسُفَ وَكَرَمِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، حَيْثُ أُرْسِلَ إِلَيْهِ لِيُسْتَفْتَى فِي الرُّؤْيَا، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ حَتَّى أَخْرُجَ. وَعَجِبْتُ لِصَبْرِهِ وَكَرَمِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ حَتَّى أُتِيَ لِيُخْرَجَ، فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى أَخْبَرَهُمْ بِعُذْرِهِ، وَلَوْ كُنْتُ أَنَا لَبَادَرْتُ الْبَابَ، وَلَوْلَا الْكَلِمَةُ لَمَا لَبِثَ فِي السِّجْنِ حَيْثُ يَبْتَغِي [الْفَرَجَ] مِنْ عَبْدٍ غَيْرِ اللَّهِ، قَوْلُهُ: "" اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْقُرَشِيُّ الْمَكِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس عن رسول الله - صلى / الله عليه وسلم -: "" «عجبت لصبر أخي / يوسف وكرمه والله يغفر له، حيث أرسل إليه / ليستفتى في الرؤيا، ولو كنت أنا لم أفعل / حتى أخرج. وعجبت لصبره وكرمه والله يغفر له / حتى أتي ليخرج، فلم يخرج حتى أخبرهم بعذره، / ولو كنت أنا لبادرت الباب، ولولا الكلمة لما / لبث في السجن حيث يبتغي [الفرج] من عبد / غير الله، قوله: "" اذكرني عند ربك». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported from the Messenger of Allah (peace be upon him) an expression of marvel at the forbearance and nobility of his brother Yusuf (peace be upon him), contrasting his restraint with human haste, and noting the single word that prolonged his prison stay. > **"I marvel at the patience and nobility of my brother Yusuf, may Allah forgive him. Had I been asked to interpret the dream, I would not have done so before being released; and had I been summoned to leave, I would not have waited to declare my innocence — I would have hastened to the door. But for the word, Mention me with your master, he would not have remained in prison seeking relief from a servant instead of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے اپنے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر اور ان کے اخلاق پر حیرانگی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے جب ان کی طرف پیغام بھیجا گیا تاکہ خواب کی تعبیر بیان کی جائے تو اگر وہاں میں ہوتا میں نے یہ کام اس وقت تک نہیں کرنا تھا جب تک مجھے پہلے باہر نہ نکالا جاتا اور میں ان کے صبر اور اخلاق پر حیران ہوتا ہوں اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے جب انہیں باہر لے جانے کے لئے پیغام آیا ‘ تو وہ نہیں نکلے جب تک انہوں نے اپنے بے گناہ ہونے کے بارے میں انہیں بتا نہیں دیا حالانکہ اگر میں ہوتا تو میں دروازے کی طرف لپکتا اور اگر وہ کلمہ نہ ہوتا تو وہ قید خانے میں ہی ٹھہرے رہتے جب انہوں نے اللہ کے علاوہ ایک بندے سے کشادگی چاہی تھی اور یہ کہا تھا : ’’ تم اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید قرشی مکی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11088

Majma al-Zawaid #11088

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلرَّسُولِ: مَا {بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ} [يوسف: 50] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

وعن أبي هريرة «عن النبي - صلى الله / عليه وسلم - في قوله - عز وجل / - للرسول: ما {بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن} / [يوسف: 50] قال رسول الله - صلى الله / عليه وسلم -: "" لو كنت أنا لأسرعت / الإجابة وما ابتغيت العذر». Abu Hurayra (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace be upon him) concerning the messenger's question about the women who cut their hands that swiftness would have better suited the occasion. > **"Had I been in his place, I would have hastened to answer and would not have sought an excuse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو اس قاصد کے بارے میں ہے : ’’ ان عورتوں کا معاملہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ دیے تھے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اگر میں ہوتا تو میں جواب دینے میں جلدی کرتا اور عذر تلاش نہ کرتا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ‘ اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

11089

Majma al-Zawaid #11089

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «كَانَ لِيَعْقُوبَ أَخٌ مُؤَاخٍ، فَقَالَ لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ: مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ؟ وَمَا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرَكَ؟ فَقَالَ: أَمَّا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي فَالْبُكَاءُ عَلَى يُوسُفَ، وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى ابْنِي يَامِينَ. فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَمَا تَسْتَحِي أَنْ تَشْكُوَنِي إِلَى غَيْرِي؟ فَقَالَ يَعْقُوبُ: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ. فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَشْكُو يَا يَعْقُوبُ. ثُمَّ قَالَ يَعْقُوبُ: أَيْ رَبِّ أَمَا تَرْحَمُ الشَّيْخَ الْكَبِيرَ، أَذْهَبْتَ بَصَرِي وَقَوَّسْتَ ظَهْرِي، فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانِي يُوسُفَ أَشُمُّهُ [شَمَّةً] قَبْلَ الْمَوْتِ، ثُمَّ اصْنَعْ بِي يَا رَبِّ مَا شِئْتَ. فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَبْشِرْ وَلْيَفْرَحْ قَلْبُكَ، فَوَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَوْ كَانَا مَيِّتَيْنِ لَنَشَرْتُهُمَا لَكَ، فَاصْنَعْ طَعَامًا لِلْمَسَاكِينِ، فَإِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ الْمَسَاكِينُ، وَتَدْرِي لِمَ أَذْهَبْتُ بَصَرَكَ وَقَوَّسْتُ ظَهْرَكَ وَصَنَعَ إِخْوَةُ يُوسُفَ بِيُوسُفَ مَا صَنَعُوا؟ لِأَنَّكُمْ ذَبَحْتُمْ شَاةً فَأَتَاكُمْ مِسْكِينٌ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمْ تُطْعِمُوهُ مِنْهَا. فَكَانَ يَعْقُوبُ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا أَرَادَ الْغَدَاءَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: أَلَا مَنْ أَرَادَ الْغَدَاءَ مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيَتَغَدَّ مَعَ يَعْقُوبَ، فَإِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنَ الْمَسَاكِينِ، فَلْيُفْطِرْ مَعَ يَعْقُوبَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْبَاهِلِيِّ الْبَصْرِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

عن أنس بن مالك - رضي الله عنه / - قال: قال رسول الله - صلى الله / عليه وسلم -: "" «كان ليعقوب أخ مؤاخ، / فقال له ذات يوم: ما الذي أذهب بصرك؟ / وما الذي قوس ظهرك؟ فقال: أما الذي أذهب / بصري فالبكاء على يوسف، وأما الذي قوس ظهري / فالحزن على ابني يامين. فأتاه جبريل - عليه / السلام - فقال: يا يعقوب، إن الله - / عز وجل - يقرئك السلام ويقول لك: أما / تستحي أن تشكوني إلى غيري؟ فقال يعقوب: إنما / أشكو بثي وحزني إلى الله. فقال جبريل - / عليه السلام -: الله أعلم بما تشكو يا / يعقوب. ثم قال يعقوب: أي رب أما ترحم / الشيخ الكبير، أذهبت بصري وقوست ظهري، فاردد علي / ريحاني يوسف أشمه [شمة] قبل الموت، ثم اصنع / بي يا رب ما شئت. فأتاه جبريل - / عليه السلام - فقال: يا يعقوب، إن الله / - عز وجل - يقرأ عليك السلام ويقول / لك: أبشر وليفرح قلبك، فوعزتي وجلالي لو كانا / ميتين لنشرتهما لك، فاصنع طعاما للمساكين، فإن أحب / عبادي إلي المساكين، وتدري لم أذهبت بصرك وقوست / ظهرك وصنع إخوة يوسف بيوسف ما صنعوا؟ لأنكم / ذبحتم شاة فأتاكم مسكين وهو صائم فلم تطعموه / منها. فكان يعقوب بعد ذلك إذا أراد الغداء / أمر مناديا فنادى: ألا من أراد الغداء من / المساكين فليتغد مع يعقوب، فإذا كان صائما أمر / مناديا فنادى: من كان صائما من المساكين، فليفطر / مع يعقوب». Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) reported from the Messenger of Allah (peace be upon him) the account of Yaqub (peace be upon him) questioned by his devoted brother about his vanished sight and bent back, his complaint carried to Allah, the reassurance sent through Gabriel, and the lesson of the unfed fasting pauper, after which Yaqub never ate alone but summoned the poor to his table. > **"Rejoice and let your heart be glad; by My might and majesty, had they both been dead I would have raised them for you. Prepare food for the poor, for the poor are the most beloved of My servants to Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حضرت یعقوب علیہ السلام کا ایک منہ بولا بھائی تھا ایک دن اس نے ان سے دریافت کیا آپ کی بینائی کس وجہ سے رخصت ہو گئی اور آپ کی پشت کیوں خمیدہ ہو گئی تو انہوں نے فرمایا : جہاں تک میری بینائی کی رخصتی کا تعلق ہے ‘ تو وہ یوسف پر رونے کی وجہ سے رخصت ہوئی ہے ‘ اور جہاں تک میری پشت کے خمیدہ ہونے کا تعلق ہے ‘ تو وہ اپنے بیٹے یامین کے غم کی وجہ سے ہے حضرت جبرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس آئے اور بولے : اے یعقوب بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا ہے ‘ اور آپ سے یہ فرمایا ہے کہ کیا آپ کو اس بات سے حیا نہیں آئی کہ آپ میرے علاوہ کسی اور کے سامنے میری شکایت کریں تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا : بے شک میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا ہوں تو حضرت جبرائیل نے کہا : اے حضرت یعقوب آپ جو شکایت کر رہے ہیں اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا : اے میرے پروردگار ! کیا تجھے ایک بوڑھے آدمی پر رحم نہیں آتا تو نے میری بینائی رخصت کروا دی تو نے میری کمر خمیدہ کروا دی اب تو میرے پھولوں کو میری طرف لوٹا دے ۔ یوسف کو تاکہ میں مرنے سے پہلے اسے سونگھ لوں پھر اے میرے پروردگار ! تو میرے ساتھ جو چاہے گا وہ کرنا تو حضرت جبرائیل ان کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت یعقوب اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا ہے ‘ اور آپ سے یہ فرمایا ہے کہ تم یہ خوشخبری حاصل کرو اور تمہارا دل خوش ہو جائے مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ہے اگر وہ دونوں مر چکے ہوتے تو تمہاری خاطر میں نے ان دونوں کو زندہ کر دینا تھا تم غریبوں کے لئے کھانا تیار کرو کیونکہ میرے بندوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب غریب لوگ ہیں ۔ تم جانتے ہو میں نے تمہاری بینائی کو کیوں رخصت کیا ‘ اور تمہاری کمر کو کیوں خمیدہ کیا ‘ اور یوسف کے بھائیوں نے یوسف کے ساتھ جو کیا ہے وہ کیوں کیا اس کی وجہ یہ ہے : تم نے ایک مرتبہ بکری ذبح کی تھی ایک مسکین تمہارے پاس آیا اس نے روزہ رکھا ہوا تھا تم لوگوں نے اس بکری کے گوشت میں سے اسے کھانے کے لئے کچھ نہیں دیا راوی بیان کرتے ہیں : تو اس کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام جب بھی صبح کے وقت کھانا کھانے لگتے تھے ‘ تو منادی کو حکم دیتے تھے کہ ( وہ یہ اعلان کرے ) جس غریب نے ناشتہ کرنا ہے وہ آ کے حضرت یعقوب کے ساتھ ناشتہ کر لے اور اگر حضرت یعقوب علیہ السلام نے روزہ رکھا ہوتا تھا ‘ تو وہ منادی کو حکم دیتے تھے وہ یہ اعلان کرتا تھا کہ جو غریب روزہ دار ہو وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے ساتھ افطاری کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد محمد بن احمد باہلی بصری کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

11090

Majma al-Zawaid #11090

عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «فِي قَوْلِهِ: {إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ} [الرعد: 7] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْمُنْذِرُ وَالْهَادِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن علي - رضي الله عنه - «في / قوله: {إنما أنت منذر ولكل قوم هاد} [الرعد: / 7] قال رسول الله - صلى الله عليه / وسلم -: "" المنذر والهادي رجل من بني / هاشم». Ali (may Allah be pleased with him) reported concerning the verse declaring the Prophet a warner with a guide for every people that the two offices belong to one household. > **"The warner and the guide is a man of Banu Hashim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک تم ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ہدایت دینے والا ہوتا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ڈرانے والا اور ہدایت دینے والا بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے مسند کے رجال ثقہ ہیں ۔

11091

Majma al-Zawaid #11091

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ أَرْبَدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ جَزِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ كِلَابٍ وَعَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ بْنِ مَالِكٍ قَدِمَا الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَهَيَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ، فَجَلَسَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ عَامِرٌ: يَا مُحَمَّدُ، مَا تَجْعَلُ لِي إِنْ أَسْلَمْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ "". فَقَالَ عَامِرٌ: أَتَجْعَلُ لِيَ الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْكَ وَمَا عَلَيْهِمْ "". قَالَ عَامِرٌ: أَتَجْعَلُ لِيَ الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ "". قَالَ عَامِرٌ: أَتَجْعَلُ لِي الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ وَلَا لِقَوْمِكَ، وَلَكِنْ لَكَ أَعِنَّةُ الْخَيْلِ "". فَقَالَ: أَنَا الْآنَ عَلَى أَعِنَّةِ خَيْلِ نَجْدٍ، اجْعَلْ لِيَ الْوَبَرَ وَلَكَ الْمَدَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا "". فَلَمَّا خَرَجَ أَرْبَدُ وَعَامِرٌ قَالَ عَامِرٌ: يَا أَرْبَدُ، إِنِّي أَشْغَلُ عَنْكَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ بِالْحَدِيثِ فَاضْرِبْهُ بِالسَّيْفِ فَإِنَّ النَّاسَ إِذَا قَتَلْتَهُ لَمْ يَزِيدُوا عَلَى أَنْ يَرْضَوْا بِالدِّيَةِ وَيَكْرَهُوا الْحَرْبَ، فَسَنُعْطِيهِمُ الدِّيَةَ، قَالَ أَرْبَدُ: أَفْعَلُ. قَالَ: فَأَقْبَلَا رَاجِعَيْنِ إِلَيْهِ، فَقَالَ عَامِرٌ: يَا مُحَمَّدُ، قُمْ مَعِي أُكَلِّمْكَ. فَقَامَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَلَّيَا إِلَى الْجِدَارِ، وَوَقَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكَلِّمُهُ، وَسَلَّ أَرْبَدُ السَّيْفَ، فَلَمَّا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى قَائِمِ السَّيْفِ يَبِسَتْ عَلَى قَائِمِ السَّيْفِ وَأَبْطَأَ أَرْبَدُ عَلَى عَامِرٍ بِالضَّرْبِ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى مَا يَصْنَعُ فَانْصَرَفَ عَنْهُمَا، فَلَمَّا خَرَجَ عَامِرٌ وَأَرْبَدُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَضَيَا حَتَّى كَانَا بِالْحَرَّةِ - حَرَّةِ بَنِي وَاقِمٍ - نَزَلَا، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَالَ: اشْخَصَا يَا عَدُوِّيِ اللَّهَ. فَقَالَ عَامِرٌ: مَنْ هَذَا يَا سَعْدُ؟ قَالَ: هَذَا أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْكَاتِبُ. فَخَرَجَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّقْمِ أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى أَرْبَدَ صَاعِقَةً فَقَتَلَتْهُ، وَخَرَجَ عَامِرٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْخُرَيْمِ أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ قُرْحَةً فَأَخَذَتْهُ، فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي سَلُولٍ، فَجَعَلَ يَمَسُّ الْقُرْحَةَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْجَمَلِ فِي بَيْتِ سَلُولِيَّةٍ، يَرْغَبُ أَنْ يَمُوتَ فِي بَيْتِهَا، ثُمَّ رَكِبَ فَرَسَهُ فَأَرْكَضَهُ حَتَّى مَاتَ عَلَيْهِ رَاجِعًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمَا {اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ} [الرعد: 8] إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ} [الرعد: 11] قَالَ: الْمُعَقِّبَاتُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ يَحْفَظُونَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ ذَكَرَ أَرْبَدَ وَمَا قَتَلَهُ فَقَالَ: {هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا} [الرعد: 12] إِلَى قَوْلِهِ: {وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ} [الرعد: 13]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَلَمَّا قَفَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَامِرٌ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَمْلَأَنَّهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَمْنَعُكَ اللَّهُ». وَفِي إِسْنَادِهِمَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس «أن أربد بن قيس بن / جزي بن خالد بن جعفر بن كلاب وعامر / بن الطفيل بن مالك قدما المدينة على رسول / الله - صلى الله عليه وسلم - فانتهيا / إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم / - وهو جالس، فجلسا بين يديه، فقال عامر: / يا محمد، ما تجعل لي إن أسلمت؟ فقال / رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: / "" لك ما للمسلمين وعليك ما عليهم "". / فقال عامر: أتجعل لي الأمر إن أسلمت من / بعدك؟ فقال رسول الله - صلى الله عليه / وسلم -: "" لك ما للمسلمين وعليك وما / عليهم "". قال عامر: أتجعل لي الأمر إن / أسلمت من بعدك؟ فقال رسول الله - صلى / الله عليه وسلم -: "" لك ما للمسلمين / وعليك ما عليهم "". قال عامر: أتجعل لي / الأمر إن أسلمت من بعدك؟ فقال رسول الله / - صلى الله عليه وسلم -: "" ليس / ذلك لك ولا لقومك، ولكن لك أعنة الخيل / "". فقال: أنا الآن على أعنة خيل نجد، / اجعل لي الوبر ولك المدر، قال رسول الله / - صلى الله عليه وسلم -: "" لا / "". فلما خرج أربد وعامر قال عامر: يا / أربد، إني أشغل عنك وجه محمد بالحديث فاضربه / بالسيف فإن الناس إذا قتلته لم يزيدوا على / أن يرضوا بالدية ويكرهوا الحرب، فسنعطيهم الدية، قال / أربد: أفعل. قال: فأقبلا راجعين إليه، فقال عامر: / يا محمد، قم معي أكلمك. فقام معه رسول / الله - صلى الله عليه وسلم - فخليا / إلى الجدار، ووقف معه رسول الله - صلى / الله عليه وسلم - يكلمه، وسل أربد السيف، / فلما وضع يده على قائم السيف يبست على / قائم السيف وأبطأ أربد على عامر بالضرب، فالتفت / رسول الله - صلى الله عليه وسلم - / فرأى ما يصنع فانصرف عنهما، فلما خرج عامر / وأربد من عند رسول الله - صلى الله / عليه وسلم - مضيا حتى كانا بالحرة - / حرة بني واقم - نزلا، فخرج إليهما سعد / بن معاذ وأسيد بن حضير فقال: اشخصا يا / عدوي الله. فقال عامر: من هذا يا سعد؟ / قال: هذا أسيد بن حضير الكاتب. فخرجا حتى / إذا كان بالرقم أرسل الله على أربد صاعقة / فقتلته، وخرج عامر حتى إذا كان بالخريم أرسل / الله عليه قرحة فأخذته، فأدركه الليل في بيت / امرأة من بني سلول، فجعل يمس القرحة بيده / ويقول: غدة كغدة الجمل في بيت سلولية، يرغب / أن يموت في بيتها، ثم ركب فرسه فأركضه / حتى مات عليه راجعا، فأنزل الله فيهما {الله / يعلم ما تحمل كل أنثى وما تغيض الأرحام / وما تزداد} [الرعد: 8] إلى قوله: {وما لهم / من دونه من وال} [الرعد: 11] قال: المعقبات / من أمر الله يحفظون محمدا - صلى الله / عليه وسلم - ثم ذكر أربد وما قتله / فقال: {هو الذي يريكم البرق خوفا وطمعا} [الرعد: / 12] إلى قوله: {وهو شديد المحال} [الرعد: 13]». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated at length how Arbad ibn Qays and Amir ibn al-Tufayl came to Medina, haggled over rule after Islam, were refused all but equality or the cavalry's bridles, then conspired to assassinate the Prophet (peace be upon him) while talking by a wall, only for Arbad's hand to freeze upon his sword; after their threats they departed, Arbad was struck by a thunderbolt at al-Raqm, Amir was seized by an ulcer and died upon his horse returning from a Sulami woman's house, and the verses on the wombs, the guardians, and the thunderbolts were revealed about them. > **"You shall have what the Muslims have, and upon you shall be what is upon them. Rule after me is not for you nor for your people, but you shall have the bridles of the horses. No. Allah will prevent you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اربد بن قیس بن جزی بن خالد بن جعفر بن کلاب اور عامر بن طفیل بن مالک یہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ آئے یہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ اس وقت تشریف فرما تھے یہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے عامر بن طفیل نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) اگر میں اسلام قبول کر لیتا ہوں تو آپ میرے لئے کیا مقرر کریں گے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو مسلمانوں کو ملتی ہے ‘ اور تم پر ہر وہ چیز لازم ہو گی جو ان پر لازم ہوتی ہے عامر نے کہا : اگر میں اسلام قبول کر لیتا ہوں تو کیا آپ اپنے بعد مجھے حکومت دیں گے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو مسلمانوں کو ملے گی اور تم پر ہر وہ چیز عائد ہو گی جو مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے عامر نے کہا : اگر میں اسلام قبول کر لیتا ہوں تو کیا آپ اپنے بعد مجھے حکومت دیں گے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو مسلمانوں کو ملتی ہے ‘ اور تم پر ہر وہ چیز لازم ہو گی جو مسلمانوں پر لازم ہوتی ہے عامر نے کہا : اگر میں اسلام قبول کر لیتا ہوں تو کیا آپ اپنے بعد مجھے حکومت دیں گے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ چیز نہ تمہیں ملے گی نہ تمہاری قوم کو ملے گی لیکن تمہیں گھوڑوں کی لگامیں ‘ ملیں گی اس نے کہا : وہ تو اس وقت بھی نجد کے علاقے کے گھوڑوں کی لگامیں میرے پاس ہیں ‘ آپ میرے لئے دیہاتی علاقوں کی حکومت مقرر کر دیں اور اپنے لئے شہری علاقوں کی حکومت رکھ لیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ۔ پھر اربد اور عامر وہاں سے نکلے عامر نے کہا : اے اربد میں محمد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھوں گا اور تم تلوار کے ذریعے ان پر حملہ کر دینا کیونکہ جب تم انہیں قتل کر دو گے ‘ تو لوگ زیادہ سے زیادہ یہ کریں گے کہ دیت پر راضی ہو جائیں گے وہ جنگ پر راضی نہیں ہوں گے ‘ تو ہم انہیں دیت دے دیں گے اربد نے کہا : ٹھیک ہے پھر وہ دونوں واپس نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے عامر نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) آپ میرے ساتھ اٹھ کر آئیں میں آپ کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ اس کے ساتھ اٹھ کے چلے گئے یہ دونوں ایک دیوار کے پاس آ گئے نبی اکرم ﷺ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر بات چیت کرنے لگے اس دوران اربد نے تلوار سونت لی جب اس نے اپنا ہاتھ تلوار کے دستے پر رکھا تو اس کا ہاتھ تلوار کے دستے پر خشک ہو گیا اربد نے ضرب لگانے میں تاخیر کی نبی اکرم ﷺ نے مڑ کر دیکھا ‘ تو آپ کو ان کا طرز عمل نظر آیا آپ ان دونوں کو چھوڑ کر تشریف لے گئے جب عامر اور اربد نبی اکرم ﷺ کے پاس سے نکلے اور روانہ ہوئے تو یہ ابھی بنو واقم کی پتھریلی زمین پر موجود تھے وہاں ان دونوں نے پڑاؤ کیا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نکل کر ان دونوں کے پاس گئے انہوں نے کہا : اے اللہ کے دشمنو ! تم خود جائزہ لے لو عامر نے کہا : اے سعد یہ کون ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا یہ اسید بن حضیر کاتب ہے پھر یہ دونوں نکلے یہاں تک کہ جب یہ رقم نامی جگہ پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اربد پر آسمانی بجلی بھیجی جس نے اسے مار دیا پھر عامر وہاں سے نکلا اور خریم کے مقام پر پہنچا وہاں اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک پھوڑا مسلط کیا وہ رات کے وقت بنوسلول سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ہاں ٹھہرا وہ اپنے حلق میں موجود اس پھوڑے پر ہاتھ پھیرتا تھا اور کہتا تھا یہ اونٹ کے غدہ کی مانند غدہ ہے جو ایک سلولیہ عورت کے گھر میں سامنے آیا ہے وہ شخص یہ چاہتا تھا کہ وہ اس عورت کے گھر میں نہ مرے پھر وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اسے ایڑ لگائی یہاں تک کہ واپسی کے سفر کے دوران وہ گھوڑے پر ہی مر گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ اللہ تعالٰی اس کو جانتا ہے جو ہر مؤنث بوجھ اٹھاتی ہے ‘ اور رحم جتنا سکڑتا ہے ‘ اور جتنا بڑھتا ہے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ اور ان کا اس ( اللہ ) کے علاوہ اور کوئی مددگار نہیں ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالٰی کے حکم کے تحت فرشتے حضرت محمد ( ﷺ ) کی حفاظت کرتے تھے ....... پھر اس کے بعد راوی نے اربد کا ذکر کیا ‘ اور اس کے قتل ہونے کا ذکر کیا ‘ اور پھر یہ آیت تلاوت کی : ’’ وہی وہ ذات ہے جو تمہیں خوف دلانے اور امید دلانے کے لئے آسمانی بجلی دکھاتی ہے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” وہ سخت گرفت کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس سے واپس گئے تو عامر نے کہا : اللہ کی قسم ! میں آپ کے خلاف گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو ضرور جمع کروں گا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں ایسا نہیں کرنے دے گا ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11092

Majma al-Zawaid #11092

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ يَدْعُوهُ إِلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَقَالَ: أَيْشِ رَبُّكَ الَّذِي تَدْعُونِي؟ مِنْ حَدِيدٍ هُوَ؟ مِنْ نُحَاسٍ هُوَ؟ مِنْ فِضَّةٍ هُوَ؟ مِنْ ذَهَبٍ هُوَ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَأَعَادَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الثَّانِيَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ أَنْزَلَ عَلَى صَاحِبِكَ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْهُ "". فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ} [الرعد: 13]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِلَى رَجُلٍ مِنْ فَرَاعِنَةِ الْعَرَبِ. وَقَالَ الصَّحَابِيُّ فِيهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ أَعْتَى مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ، قَالَ: فَأَعَادَ عَلَيْهِ ذَلِكَ الْكَلَامَ، فَبَيْنَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ سَحَابَةً حِيَالَ رَأْسِهِ فَرَعَدَتْ، فَوَقَعَتْ مِنْهَا صَاعِقَةٌ فَذَهَبَتْ بِقَحْفِ رَأْسِهِ. وَبِنَحْوِ هَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: فَرَعَدَتْ وَأَبْرَقَتْ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ دَيْلَمِ بْنِ غَزْوَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي رِجَالِ أَبِي يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيِّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

وعن أنس قال: «بعث رسول الله - صلى / الله عليه وسلم - رجلا من أصحابه إلى / رجل من عظماء الجاهلية يدعوه إلى الله - / تبارك وتعالى - فقال: أيش ربك الذي تدعوني؟ / من حديد هو؟ من نحاس هو؟ من فضة / هو؟ من ذهب هو؟ فأتى النبي - صلى / الله عليه وسلم - فأخبره، فأعاده النبي - / صلى الله عليه وسلم - الثانية، فقال مثل / ذلك، فأتى النبي - صلى الله عليه وسلم / - فأخبره، فأرسل إليه الثالثة، فقال مثل ذلك، / فأتى النبي - صلى الله عليه وسلم - / فأخبره، فقال رسول الله - صلى الله عليه / وسلم -: "" إن الله - تبارك وتعالى / - قد أنزل على صاحبك صاعقة فأحرقته "". / فنزلت هذه الآية {ويرسل الصواعق فيصيب بها من / يشاء وهم يجادلون في الله وهو شديد المحال} / [الرعد: 13]». Anas (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet (peace be upon him) sent a Companion to a grandee of the pagan age who mocked the call by asking whether this Lord were of iron, copper, silver, or gold; after three such answers the Prophet (peace be upon him) announced his fate, and the verse about sending thunderbolts upon whom He wills came down, with variant wordings describing a cloud, thunder, lightning, and the crown of his head carried away. > **"Allah has sent a thunderbolt upon your man and it consumed him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو زمانہ جاہلیت کے اکابرین کے پاس بھیجا تاکہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے ‘ تو اس شخص نے ( یعنی زمانہ جاہلیت کے فرد نے ) کہا : تم اپنے پروردگار کے بارے میں بتاؤ ‘ جس کی طرف تم دعوت دے رہے ہو کیا وہ لوہے کا بنا ہوا ہے یا پیتل کا بنا ہوا ہے یا چاندی کا ہے یا سونے کا ہے ؟ وہ صحابی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے دوبارہ اس صحابی کو اس شخص کی طرف بھیجا پھر اس نے اسی کی مانند بات کہی وہ صحابی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ اس کی طرف اس شخص کو بھیجا تو اس نے پھر یہی بات کی وہ صحابی پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے متعلقہ فرد پر آسمانی بجلی نازل کر دی ہے جس نے اسے جلا دیا ہے ‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور وہ بجلیاں بھیجتا ہے ‘ اور وہ اس تک پہنچ جاتی ہیں جس کو وہ چاہتا ہے جبکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں بحث کر رہے ہوتے ہیں ‘ اور وہ شدید گرفت کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : عربوں کے فرعونوں میں سے ایک شخص کی طرف صحابی کو بھیجا اور صحابی نے اس کے بارے میں یہ کہا ہے : اے اللہ کے رسول اس شخص نے سرکشی کا اظہار کیا ہے جب نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ اس کی طرف بھیجا اور اس نے یہی بات دہرائی تو اسی دوران کہ وہ کافر شخص اس مسلمان کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جو اس شخص کے سر کے عین اوپر آ گیا اس میں سے بجلی کڑکی اس میں سے بجلی نکلی اور اس کا سر ختم ہو گیا ۔ اس کی مانند روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اس میں بجلی کڑکی اور بجلی چمکی ‘‘۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف دیلم بن غزوان کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی کے رجال میں سے ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11093

Majma al-Zawaid #11093

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى} [الرعد: 31] قَالَ: قَالُوا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ فَأَرِنَا أَشْيَاخَنَا الْأُوَلَ مِنَ الْمَوْتَى نُكَلِّمْهُمْ، وَافْتَحْ لَنَا هَذِهِ الْجِبَالَ جِبَالَ مَكَّةَ الَّتِي قَدْ ضَمَّتْنَا. فَنَزَلَتْ {وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى} [الرعد: 31]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ الزُّبَيْرِ فِي سُورَةِ طسم الشُّعَرَاءِ.

EnglishUnverified translation

«عن ابن عباس {ولو أن قرآنا سيرت به / الجبال أو قطعت به الأرض أو كلم به / الموتى} [الرعد: 31] قال: قالوا للنبي - صلى / الله عليه وسلم -: إن كان كما تقول / فأرنا أشياخنا الأول من الموتى نكلمهم، وافتح لنا / هذه الجبال جبال مكة التي قد ضمتنا. فنزلت / {ولو أن قرآنا سيرت به الجبال أو قطعت / به الأرض أو كلم به الموتى} [الرعد: 31]». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said the disbelievers challenged the Prophet (peace be upon him) to show them their dead ancestors to converse with and to open the enclosing mountains of Mecca, whereupon the verse about a Quran moving mountains, cleaving earth, or speaking to the dead was revealed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اگر قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے ذریعے پہاڑوں کو چلا دیا جاتا یا زمین کو چیر دیا جاتا یا اس کے ذریعے مردوں کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : اگر ویسا ہی ہے جس طرح آپ بیان کرتے ہیں ، تو آپ ہمارے پہلے کے مرحوم بزرگوں کو ہمیں دکھا دیں تاکہ ہم ان کے ساتھ بات چیت کریں اور آپ ہمارے لئے مکہ کے ان پہاڑوں کو کھول دیں جنہوں نے ہمیں بند کیا ہوا ہے ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اگر قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے ذریعے پہاڑوں کو چلا دیا جاتا یا اس کے ذریعے زمین کو چیر دیا جاتا یا اس کے ذریعے مردوں کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث طسم الشعراء کی تفسیر میں آئے گی ۔

11094

Majma al-Zawaid #11094

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ "" إِلَّا الشِّقْوَةَ وَالسَّعَادَةَ وَالْحَيَاةَ وَالْمَوْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ مِنْ غَيْرِ تَعَمُّدِ كَذِبٍ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله - / صلى الله عليه وسلم - يقول: "" «يمحو / الله ما يشاء "" إلا الشقوة والسعادة والحياة / والموت» "". Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) said he heard the Messenger of Allah (peace be upon him) recite the verse on effacing what He wills with a stated exception. > **"Allah effaces what He wills — except wretchedness, felicity, life, and death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) البتہ بد نصیبی ‘ خوش نصیبی ‘ زندگی اور موت کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر یمامی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ وہ جان بوجھ کر غلط بیانی نہیں کرتا ہے ۔

11095

Majma al-Zawaid #11095

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا بِلُغَةِ قَوْمِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ.

EnglishUnverified translation

عن أبي ذر قال: قال رسول الله - / صلى الله عليه وسلم -: "" «لم يبعث / الله نبيا إلا بلغة قومه» "". Abu Dharr (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) stated the universal pattern of revelation and language. > **"Allah never sent a prophet except in the language of his people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ہے اسے اس کی قوم کی زبان کے ہمراہ بھیجا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ مجاہد نامی راوی نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

11096

Majma al-Zawaid #11096

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فِي قَوْلِهِ: {فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ} [إبراهيم: 9] قَالَ: عَضُّوا أَصَابِعَهُمْ غَيْظًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

عن عبد الله - يعني ابن مسعود - / في قوله: {فردوا أيديهم في أفواههم} [إبراهيم: 9] / قال: عضوا أصابعهم غيظا. Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) said the verse about thrusting their hands into their mouths means they bit their fingers in fury.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف لوٹا دیے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یعنی انہوں نے غصے کے عالم میں اپنی انگلیاں چبا لیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11097

Majma al-Zawaid #11097

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا أَحْسَبُ - «فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ} [إبراهيم: 21] قَالَ: "" يَقُولُ أَهْلُ النَّارِ هَلُمُّوا فَلْنَصْبِرْ "". قَالَ: "" فَصَبَرُوا خَمْسَمِائَةِ عَامٍ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ لَا يَنْفَعُهُمْ قَالُوا: هَلُمُّوا فَلْنَجْزَعْ "". قَالَ: "" فَيَبْكُونَ خَمْسَمِائَةِ عَامٍ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ لَا يَنْفَعُهُمْ قَالُوا: {سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ} [إبراهيم: 21]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَنَسُ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ، هَكَذَا هُوَ فِي الطَّبَرَانِيِّ، وَقَدْ ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ أَنَسَ بْنَ الْقَاسِمِ وَهُوَ أَنَسُ بْنُ أَبِي نُمَيْرٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ رَوَى عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، وَإِنَّمَا قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: إِنَّهُ رَوَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَوَى عَنِ الْفِرْيَابِيِّ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ ذَلِكَ. قُلْتُ: وَلَيْسَ كَذَلِكَ؛ لِأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيَّ لَمْ يَرْوِ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. وَالصَّوَابُ مَا هُوَ فِي الطَّبَرَانِيِّ، أَنَّهُ رَوَى عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَرَوَى عَنْهُ الْفِرْيَابِيُّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ ذَكَرَ ابْنَ حِبَّانَ: أَنَسٌ أَبُو الْقَاسِمِ فِي هَذِهِ الطَّبَقَةِ طَبَقَةِ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ - فَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن كعب بن مالك رفعه إلى النبي - / صلى الله عليه وسلم - فيما أحسب - / «في قوله تعالى: {سواء علينا أجزعنا أم صبرنا / ما لنا من محيص} [إبراهيم: 21] قال: "" / يقول أهل النار هلموا فلنصبر "". قال: "" / فصبروا خمسمائة عام، فلما رأوا ذلك لا ينفعهم / قالوا: هلموا فلنجزع "". قال: "" فيبكون خمسمائة / عام، فلما رأوا ذلك لا ينفعهم قالوا: {سواء / علينا أجزعنا أم صبرنا ما لنا من محيص} / [إبراهيم: 21]». Kab ibn Malik, raising it to the Prophet (peace be upon him) as he recalled, reported concerning the verse that wailing and patience are alike with no escape that the people of the Fire will first agree to endure, then, seeing no benefit, agree to wail, each for centuries, before uttering that very verse. > **"Come, let us endure. Come, let us wail. It is the same for us whether we wail or endure; we have no escape."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں جو میرے خیال میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ( اہل جہنم کہیں گے ) ہمارے لئے برابر ہے کہ ہم آہ وزاری کریں یا ہم صبر سے کام لیں ہمارے لئے راہ فرار نہیں ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اہل جہنم کہیں گے آؤ تاکہ ہم صبر کریں نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : وہ لوگ پانچ سو سال تک صبر کریں گے جب وہ یہ دیکھیں گے کہ یہ اس کا انہیں فائدہ نہیں ہوا تو وہ کہیں گے آؤ ہم گریہ وزاری کریں ‘ پھر وہ پانچ سو سال تک روتے رہیں گے جب وہ یہ دیکھیں گے کہ اس کا بھی انہیں نفع نہیں ہوا تو اس وقت وہ یہ کہیں گے کہ ہمارے لئے یہ برابر ہے خواہ ہم گریہ وزاری کریں یا صبر سے کام لیں ہمارے لئے کوئی راہ فرار نہیں ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی انس بن ابوالقاسم ہے ‘ اور یہ طبرانی میں اسی طرح ہے امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں انس بن قاسم کا ذکر کیا ہے وہ قاسم بن ابونمیر ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے کہ اس نے کعب احبار سے روایات نقل کی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے ابن ابوحاتم نے یہ کہا ہے کہ اس نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں فریابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ میں نے اپنے والد کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ایسا نہیں ہے کیونکہ محمد بن یوسف فریابی نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے کسی سے روایت نقل نہیں کی ہے درست بات وہ ہے جو طبرانی میں مذکور ہے اس راوی نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے روایت نقل کی ہے ‘ اور اس سے فریابی نے روایت نقل کی ہے ‘ اور باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ابن حبان نے انس ابوالقاسم کا ذکر اس طبقے میں یعنی تبع تابعین میں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11098

Majma al-Zawaid #11098

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ} [إبراهيم: 24] قَالَ: "" هِيَ الَّتِي لَا تَنْفُضُ وَرَقَهَا [وَظَنَنْتُ أَنَّهَا النَّخْلَةُ]». قُلْتُ: لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عمر، عن النبي - صلى الله / عليه وسلم - «في قوله تعالى: {كشجرة طيبة} / [إبراهيم: 24] قال: "" هي التي لا تنفض / ورقها [وظننت أنها النخلة]». Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace be upon him) concerning the parable of the good tree that it denotes the tree whose leaves do not fall, with the narrator inclining to the date-palm. > **"It is the tree whose leaves never fall."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ پاکیزہ درخت کی مانند ‘‘۔ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) اس سے مراد وہ درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے ہیں ( راوی کہتے ہیں : ) میرا خیال ہے اس سے مراد کھجور کا درخت ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11099

Majma al-Zawaid #11099

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] قَالَ: "" فِي الْآخِرَةِ فِي الْقَبْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

عن أبي سعيد الخدري قال: «سمعت رسول الله / - صلى الله عليه وسلم - يقول في / هذه الآية {يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت / في الحياة الدنيا وفي الآخرة} [إبراهيم: 27] قال: / "" في الآخرة في القبر» "". Abu Said al-Khudri (may Allah be pleased with him) said he heard the Messenger of Allah (peace be upon him) explain the verse on keeping believers firm in this life and the next as referring to a specific abode. > **"In the Hereafter — in the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس آیت کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں برقرار رکھتا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آخرت سے مراد قبر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11100

Majma al-Zawaid #11100

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى -: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] قَالَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا مَاتَ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: اللَّهُ رَبِّي، فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. فَيَرُدُّ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي السُّؤَالِ فِي الْقَبْرِ فِي الْجَنَائِزِ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

وعن أبي قتادة الأنصاري في قوله - تعالى / -: {يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في / الحياة الدنيا وفي الآخرة} [إبراهيم: 27] قال: إن / المؤمن إذا مات أجلس في قبره فيقال له: / من ربك؟ فيقول: الله ربي، فيقال له: من / نبيك؟ فيقول: محمد بن عبد الله. فيرد عليه / ثلاث مرات. Abu Qatada al-Ansari (may Allah be pleased with him) said of the verse on the firm word that when the believer dies he is sat up in his grave and asked his Lord and his Prophet, and the questioning is repeated three times.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں برقرار رکھتا ہے ‘‘۔ حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب مومن مر جاتا ہے ‘ تو اسے اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے ‘ اور اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے تمہارے نبی کون ہیں ؟ وہ جواب دیتا ہے : حضرت محمد بن عبداللہ اس سے تین مرتبہ یہ سوالات کیے جاتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے اپنے استاد احمد بن محمد بن صدقہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : قبر میں سوالات کے بارے میں احادیث جنائز سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

11101

Majma al-Zawaid #11101

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] قَالَ: الْمُخَاطَبَةُ فِي الْقَبْرِ: مَنْ رَبُّكَ؟ وَمَا دِينُكَ؟ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ وَفِي الْآخِرَةِ مِثْلُ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَسْطَاسٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

وعن ابن عباس في قوله: {يثبت الله الذين / آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة} / [إبراهيم: 27] قال: المخاطبة في القبر: من ربك؟ / وما دينك؟ ومن نبيك؟ وفي الآخرة مثل ذلك. Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said the firm word in the verse means the interrogation of the grave — who is your Lord, what is your religion, who is your prophet — and the like of it in the Hereafter.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں ثابت قول پر برقرار رکھتا ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اس سے مراد قبر کے سوالات و جوابات تھے جس میں یہ پوچھا جاتا ہے تمہارا پروردگار کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارے نبی کون ہیں ؟ آخرت میں بھی اس کی مانند ( سوال جواب ہوں گے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن عبید بن نسطاس ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11102

Majma al-Zawaid #11102

عَنْ عَلِيٍّ: {الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ} [إبراهيم: 28]- الْآيَةَ. قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْأَفْخَرِينَ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ وَبَنِي أُمَيَّةَ، فَقَطَعَ اللَّهُ دَابِرَهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ، وَأَمَّا بَنُو أُمَيَّةَ فَمُتِّعُوا إِلَى حِينٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرٌو ذُو مُرٍّ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن علي: {الذين بدلوا نعمة الله كفرا وأحلوا / قومهم دار البوار} [إبراهيم: 28]- الآية. قال: نزلت / في الأفخرين من بني مخزوم وبني أمية، فقطع / الله دابرهم يوم بدر، وأما بنو أمية فمتعوا / إلى حين. Ali (may Allah be pleased with him) said the verse about those who exchanged Allah's favor for disbelief and settled their people in ruin came down about the boastful chiefs of Makhzum and Umayya: the former were cut off at Badr while the latter were granted respite for a time.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر میں تبدیل کر دیا اور اپنی قوم کو بربادی کے مقام پر اتار دیا ‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ بنو مخزوم اور بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے ‘ فخر کرنے والے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جہاں تک بنو مخزوم کا تعلق ہے ‘ تو غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کی کمر توڑ دی ‘ جہاں تک بنوامیہ کا تعلق ہے ‘ تو انہیں مخصوص مدت تک موقع دیا گیا یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو ذومر ہے ابواسحاق سبیعی کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11103

Majma al-Zawaid #11103

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ} [إبراهيم: 48] قَالَ: "" أَرْضٌ بَيْضَاءُ كَأَنَّهَا فِضَّةٌ، لَمْ يُسْفَكْ فِيهَا دَمٌ حَرَامٌ، وَلَمْ يُعْمَلْ فِيهَا خَطِيئَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

عن عبد الله بن مسعود قال: «قال رسول / الله - صلى الله عليه وسلم - في / قول الله: {يوم تبدل الأرض غير الأرض} [إبراهيم: / 48] قال: "" أرض بيضاء كأنها فضة، لم / يسفك فيها دم حرام، ولم يعمل فيها خطيئة». Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) explained the verse on the Day the earth is changed to another earth as describing its new state. > **"A white land like silver, in which no unlawful blood was shed and no sin was committed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جس دن زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کر دیا جائے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( قیامت کے دن ) زمین سفید ہو گی یوں جیسے چاندی ہوتی ہے اس میں کوئی حرام خون نہیں بہایا گیا ہو گا اور اس میں کوئی برائی نہیں کی گئی ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے ‘ اور وہ متروک ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ‘ اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

11104

Majma al-Zawaid #11104

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا اجْتَمَعَ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ وَمَعَهُمْ مَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ قَالَ الْكُفَّارُ لِلْمُسْلِمِينَ: أَلَمْ تَكُونُوا مُسْلِمِينَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالُوا: فَمَا أَغْنَى عَنْكُمْ إِسْلَامُكُمْ وَقَدْ صِرْتُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟ قَالُوا: كَانَتْ لَنَا ذُنُوبٌ فَأُخِذْنَا بِهَا. فَسَمِعَ اللَّهُ مَا قَالُوا، فَأَمَرَ مَنْ كَانَ فِي النَّارِ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ فَأُخْرِجُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْ بَقِيَ مِنَ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ قَالُوا: يَا لَيْتَنَا كُنَّا مُسْلِمِينَ فَنَخْرُجَ كَمَا خَرَجُوا "". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ - رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ} [الحجر: 1 - 2]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مَتْرُوكٌ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: هَذَا تَجَاوُزٌ فِي الْحَدِّ، فَلَا يَسْتَحِقُّ التَّرْكَ، فَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ash'ari رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ explained the verse of Surah al-Hijr concerning those who disbelieved wishing they had been Muslims, describing what will occur when sinful Muslims are taken out of the Fire. > **"When the people of the Fire gather in the Fire, along with whomever Allah wills of the people of the qiblah, the disbelievers will say to the Muslims: Were you not Muslims? They will say: Yes. They will say: What did your Islam avail you when you are with us in the Fire? They will say: We had sins for which we were seized. Allah will hear what they said, so He will command that whoever was in the Fire of the people of the qiblah be brought out. When the remaining disbelievers see that, they will say: Would that we had been Muslims so we could come out as they came out. Then he ﷺ recited: Alif Lam Ra. These are verses of the Book and a clear Qur'an. The disbelievers will often wish they had been Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اہل جہنم جہنم میں اکٹھے ہوں گے اور ان کے ساتھ جتنا اللہ کو منظور ہو گا اتنے اہل قبلہ ہوں گے ‘ تو کفار مسلمانوں سے یہ کہیں گے کہ کیا تم لوگ مسلمان نہیں تھے ؟ وہ جواب دیں گے : جی ہاں ! تو کفار کہیں گے تمہارا اسلام تمہارے کس کام آیا جبکہ تم بھی ہمارے ساتھ جہنم میں ہو ؟ تو وہ لوگ کہیں گے ہمارے کچھ گناہ تھے جس کی وجہ سے ہماری گرفت کی گئی اللہ تعالیٰ کفار کے قول کو سنے گا ‘ تو اہل قبلہ سے تعلق رکھنے والے جہنم میں موجود افراد کے بارے میں حکم دے گا انہیں وہاں سے نکالا جائے گا جب جہنم میں باقی رہ جانے والے کفار یہ صورت حال دیکھیں گے ‘ تو کہیں گے کاش ہم بھی مسلمان ہوتے تو ہم بھی یوں ہی نکل جاتے جس طرح یہ لوگ نکل گئے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ تلاوت کی : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں مردود شیطان ہے ‘‘۔ ’’ الر یہ کتاب اور قرآن مبین کی آیات ہیں جن لوگوں نے کفر کیا وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے امام ابوداؤد کہتے ہیں : یہ متروک ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس نے حد سے تجاوز کیا تھا لیکن یہ ترک کیے جانے کا مستحق نہیں ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل اور دیگر حضرات نے اس سے روایات نقل کی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11105

Majma al-Zawaid #11105

وَعَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى صَاحِبِ الْعَصَبِ قَالَ: «سَأَلْتُ أَبَا غَالِبٍ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ} [الحجر: 2] فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" نَزَلَتْ فِي الْخَوَارِجِ حِينَ رَأَوْا تَجَاوُزَ اللَّهِ عَنِ الْمُسْلِمِينَ وَعَنِ الْأَئِمَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، قَالُوا: يَا لَيْتَنَا كُنَّا مُسْلِمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَزَكَرِيَّا وَالرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Zakariyya ibn Yahya reported that he asked Abu Ghalib about the verse in Surah al-Hijr concerning those who disbelieved wishing they had been Muslims, and Abu Ghalib narrated from Abu Umamah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said it was revealed about a particular group who will see Allah pardoning the Muslims. > **"It was revealed concerning the Khawarij, when they see Allah pardoning the Muslims, the rulers, and the community, they will say: Would that we had been Muslims."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زکریا بن یحیی بیان کرتے ہیں : میں نے ابوغالب سے اللہ تعالٰی کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جن لوگوں نے کفر کیا وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ‘‘۔ تو ابوغالب نے بتایا حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ یہ آیت خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب وہ لوگ یہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں ‘ ان کے حکمرانوں اور ان کی جماعت سے درگزر کیا ہے ‘ تو وہ یہ کہیں گے کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زکریا نامی شخص اور اس سے روایت کرنے والے شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔

11106

Majma al-Zawaid #11106

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ قَالَ: يُرْسِلُ اللَّهُ الرِّيحَ فَيَحْمِلُ الْمَاءَ، فَيَمُرُّ سَحَابٌ، فَيُدِرُّ كَمَا تُدِرُّ اللِّقْحَةُ، ثُمَّ تُمْطِرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Zirr reported that he used to read the mushaf to Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه, and when they reached the verse about Allah sending the winds as fertilizers, Abdullah asked him what the fertilizing winds meant, corrected his first answer, and explained how rain is produced. Ibn Mas'ud said the wind carries the water, passes by the clouds, and causes them to pour forth rain as a milk-camel pours forth milk, and then it rains.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور ہم ہواؤں کو بوجھل کر کے بھیجتے ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ ہوا کو بھیجتا ہے وہ پانی کو اٹھاتی ہے جب بادل آتا ہے ‘ تو وہ یوں بارش برساتا ہے جس طرح اونٹنی دودھ دیتی ہے ‘ تو بارش ہو جاتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11107

Majma al-Zawaid #11107

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَقَدْ عَرَضَ لَهُمْ شَيْءٌ يُضْحِكُهُمْ، فَقَالَ: "" أَتَضْحَكُونَ وَذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ؟ "". فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ} [الحجر: 49 - 50]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn al-Zubayr رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ once passed by a group of his Companions who were laughing at something, and he ﷺ rebuked them while Paradise and Hell were before them. Concerning that occasion the verse of Surah al-Hijr was revealed. > **"Do you laugh while the mention of Paradise and Hell is before you? Inform My servants that I am the Forgiving, the Merciful, and that My punishment is the painful punishment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے کچھ اصحاب کے پاس سے گزرے ان کے سامنے کوئی ایسی صورت حال سامنے آئی تھی جس کی وجہ سے وہ لوگ ہنس رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ ہنس رہے ہو ؟ جبکہ جنت اور جہنم کا ذکر تمہارے درمیان ہوتا ہے ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تم میرے بندوں کو یہ اطلاع دے دو کہ بے شک میں مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہوں اور بے شک میرا عذاب دردناک عذاب ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11108

Majma al-Zawaid #11108

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: لَعَمْرُكَ قَالَ: لَحَيَاتُكَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه explained the word of Allah in Surah al-Hijr, "By your life," as an oath meaning "by your life," referring to the life of the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ’’ العمرك ‘‘ کے بارے میں یہ فرماتے ہیں : یعنی تمہاری زندگی کی قسم ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

11109

Majma al-Zawaid #11109

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أُعْطِيتُ مَكَانَ التَّوْرَاةِ السَّبْعَ الطِّوَالَ» ""، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wathilah ibn al-Asqa' رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said Allah had given him something great in place of the Torah, and the narrator then mentioned the full hadith. > **"I was given the seven long surahs in place of the Torah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے تورات کی جگہ سات طویل ( سورتیں ) عطا کی گئی ہیں ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران قطان ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11110

Majma al-Zawaid #11110

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي} [الحجر: 87] قَالَ: هِيَ السَّبْعُ الطِّوَالُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه explained the verse of Surah al-Hijr about the seven of the oft-repeated verses, saying it refers to the seven long surahs of the Qur'an.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور ہم نے تمہیں دو مرتبہ پڑھی جانے والی سات چیزیں عطا کی ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد سات طویل سورتیں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11111

Majma al-Zawaid #11111

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ مَنِ الْمُقْتَسِمِينَ؟ قَالَ: "" الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى "". قَالَ: {الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ} [الحجر: 91] مَا عِضِينُ؟ قَالَ: "" آمَنُوا بِبَعْضٍ وَكَفَرُوا بِبَعْضٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ حَسَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه reported that a man asked the Messenger of Allah ﷺ about the verse of Surah al-Hijr concerning those upon whom division came down, asking who they were, and then asked about those who made the Qur'an into fragments. The Prophet ﷺ answered both questions. > **"The Jews and the Christians. They believed in part of it and disbelieved in part of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اس نے عرض کی : اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں آپ کا کیا فرمان ہے : ’’ جس طرح ہم نے تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا ‘‘۔ تو یہ تقسیم کرنے والے لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہودی اور عیسائی ‘ اس نے کہا : اللہ تعالٰی نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ جنہوں نے قرآن کو عضین ‘‘ ۔ تو یہاں عضین سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ وہ کچھ حصے پر ایمان لاتے ہیں ‘ اور کچھ کا انکار کرتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن حسان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11112

Majma al-Zawaid #11112

عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُنَاسٍ بِمَكَّةَ، فَجَعَلُوا يَغْمِزُونَ فِي قَفَاهُ وَيَقُولُونَ: هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ! وَمَعَهُ جِبْرِيلُ، فَغَمَزَ جِبْرِيلُ بِإِصْبَعِهِ فَوَقَعَ مِثْلُ الظُّفْرِ فِي أَجْسَادِهِمْ، فَصَارَتْ قُرُوحًا حَتَّى نَتُنُوا، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ أَنْ يَدْنُوَ مِنْهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ} [الحجر: 95]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ دِرْهَمٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ الْفَلَّاسُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ passed by some people at Makkah who mocked him behind his back, claiming he said he was a prophet, while Jibril عليه السلام was with him. Jibril gestured toward them and a painful affliction struck their bodies so they became foul-smelling and no one could approach them. Then Allah revealed the verse of Surah al-Hijr about sufficing against the mockers.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مکہ میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ان لوگوں نے آپ کے پیچھے آپ پر تنقید کرنا شروع کی اور یہ کہنا شروع کیا کہ یہ وہ صاحب ہیں جو یہ کہتے ہیں : وہ نبی ہیں ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے اپنی انگلی کے ذریعے ایک شخص کو ٹہوکہ دیا ( یا اشارہ کیا ) تو ان کے جسموں میں پھوڑے کی مانند نمودار ہوا ‘ اور وہ چیز زخم بن گئی ، یہاں تک کہ ان کے جسم بد بودار ہو گئے ‘ کوئی شخص ان کے قریب نہیں جا سکتا تھا ، تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ’’ مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں ہم نے تمہاری کفایت کر دی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن درہم ہے ‘ جسے یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور فلاس نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

11113

Majma al-Zawaid #11113

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «{إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ} [الحجر: 95] قَالَ: الْمُسْتَهْزِئِينَ: الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ وَالْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ أَبُو زَمْعَةَ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَالْحَرْثُ بْنُ عَيْطَلٍ السَّهْمِيُّ وَالْعَاصِي بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَشَكَاهُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرَاهُ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ، فَأَشَارَ إِلَى أَبْجَلِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا؟ فَقَالَ: أَكْفَيْتُكَهُ. ثُمَّ أَرَاهُ الْحَرْثَ بْنَ عَيْطَلٍ السَّهْمِيَّ فَأَوْمَأَ إِلَى بَطْنِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا؟ فَقَالَ: أَكْفَيْتُكَهُ. ثُمَّ أَرَاهُ الْعَاصِي بْنَ وَائِلٍ فَأَوْمَأَ إِلَى أَخْمَصِهِ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا؟ فَقَالَ: أَكْفَيْتُكَهُ. فَأَمَّا الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ فَمَرَّ بِرَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ وَهُوَ يَرِيشُ نَبْلًا لَهُ، فَأَصَابَ أَبْجَلَهُ فَقَطَعَهَا. وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ فَعَمِيَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: عَمِيَ هَكَذَا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: نَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَجَعَلَ يَقُولُ: يَا بَنِيَّ أَلَا تَدْفَعُونَ عَنِّي؟ قَدْ هَلَكْتُ، أُطْعَنُ بِالشَّوْكِ فِي عَيْنِي، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: مَا نَرَى شَيْئًا؟ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى عَمِيَتْ عَيْنَاهُ. وَأَمَّا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ فَخَرَجَتْ فِي رَأْسِهِ قُرُوحٌ فَمَاتَ مِنْهَا. وَأَمَّا الْحَرْثُ بْنُ عَيْطَلٍ فَأَخَذَهُ الْمَاءُ الْأَصْفَرُ فِي بَطْنِهِ، حَتَّى خَرَجَ خَرْؤُهُ مِنْ فِيهِ، فَمَاتَ. وَأَمَّا الْعَاصِي بْنُ وَائِلٍ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ دَخَلَتْ فِي رِجْلِهِ شَبْرَقَةٌ امْتَلَأَتْ مِنْهَا فَمَاتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَكِيمِ النَّيْسَابُورِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه explained the verse about Allah sufficing against the mockers, naming them as al-Walid ibn al-Mughirah, al-Aswad ibn Abd Yaghuth, al-Aswad ibn al-Muttalib Abu Zam'ah of Banu Asad ibn Abd al-Uzza, al-Harith ibn Aytel al-Sahmi, and al-Asi ibn Wa'il al-Sahmi. He described how the Prophet ﷺ complained of them to Jibril عليه السلام, who pointed to the fatal spot of each and said he had sufficed him against them, and then described the death of each: Walid's vein cut by an arrow, Aswad ibn al-Muttalib blinded, Aswad ibn Abd Yaghuth killed by sores on his head, Harith killed by yellow fluid filling his belly until it came from his mouth, and Asi killed when a thorn entered his foot and it swelled.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک مذاق اُڑانے والوں کے مقابلے میں ہم نے تمہاری کفایت کر دی ہے ‘‘۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : مذاق اڑانے والے لوگ یہ تھے ولید بن مغیرہ ، اسود بن عبديغوث ، اسود بن مطلب ، ابوزمعہ جس کا تعلق بنواسد بن عبدالعزیٰ سے ہے ، حارث بن عیطل سہی ، عاص بن وائل سہمی حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ ان کے سامنے ان لوگوں کی شکایت کی نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ولید بن مغیرہ دکھایا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کی ابجل نامی رگ کی طرف اشارہ کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے کچھ کیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ کے لئے میں نے اس کے حوالے سے کفایت کر دی ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں حارث بن عیطل سہمی دکھایا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے کچھ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا : آپ کی خاطر میں نے اس کے حوالے سے کفایت کر دی ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں عاص بن وائل دکھایا انہوں نے اس کی اخمس نامی رگ کی طرف اشارہ کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے کچھ کیا ہے ‘ تو انہوں نے کہا : میں نے اس کے حوالے سے آپ کی کفایت کر دی ہے ۔ جہاں تک ولید بن مغیرہ کا تعلق ہے ‘ تو وہ خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس سے گزرا جو اپنے تیر درست کر رہا تھا ، تو اس کی ابجل نامی رگ کے اوپر وہ تیر لگا اور اس نے اس رگ کو کاٹ دیا جہاں تک اسود بن مطلب کا تعلق ہے ‘ تو وہ نابینا ہو گیا ان میں سے کسی شخص نے یہ کہا ہے کہ وہ ویسے ہی نابینا ہو گیا تھا اور بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ ایک درخت کے نیچے ٹھہرا ہوا تھا اس نے یہ کہنا شروع کیا : اے میرے بیٹو کیا تم اسے مجھ سے دور نہیں کرتے ہو میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں میری آنکھوں میں کانٹا چبھ گیا ہے ‘ تو وہ لوگ کہنے لگے ہمیں تو کچھ نظر نہیں آ رہا ہے ‘ تو اسی طرح کی صورت حال رہی یہاں تک کہ اس شخص کی دونوں آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی ۔ جہاں تک اسود بن عبدیغوث کا تعلق ہے ‘ تو اس کے سر میں پھوڑا نکلا اور وہ اس کی وجہ سے مر گیا ۔ جہاں تک حارث بن عیطل کا تعلق ہے ‘ تو اس کے پیٹ میں زرد پانی بھر گیا یہاں تک کہ اس کے منہ سے اس کا پاخانہ باہر آنے لگا ۔ جہاں تک عاصم بن وائل کا تعلق ہے ‘ تو اس کی ٹانگ میں ایک کانٹا لگا جس کی وجہ سے زخم بھر گیا اور وہ مر گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالحکیم نیشا پوری ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11114

Majma al-Zawaid #11114

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُسْتَهْزِئِينَ كَانُوا ثَمَانِيَةً: الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَأَبُو زَمْعَةَ وَهُوَ الْأَسْوَدُ بْنُ الْمُطَّلِبِ وَالْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ يَغُوثَ وَالْعَاصِي بْنُ وَائِلٍ. قَالَ: كُلُّهُمْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ [بِمَوْتٍ]، أَوْ مَرِضَ، وَالْحَارِثُ وَهُوَ مِنَ الْعَيَاطِلِ. قُلْتُ: هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي كَتَبْتُ مِنْهَا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّهُ مُثَبَّحٌ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ سَقَطَ بَعْضُهُ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنه reported that the mockers were eight in number, including al-Walid ibn al-Mughirah, Abu Zam'ah who is al-Aswad ibn al-Muttalib, al-Aswad ibn Abd Yaghuth, al-Asi ibn Wa'il, and al-Harith of the Ayatil. He said all of them were killed at Badr through death or disease. The chain is sound though the text as transmitted appears abbreviated.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مذاق اڑانے والے لوگ آٹھ تھے ولید بن مغیرہ ، ابوزمعہ یہ اسود بن مطلب ہے ، اسود بن عبدیغوث اور عاص بن وائل ۔ وہ بیان کرتے ہیں : یہ سب لوگ غزوہ بدر کے موقع پر موت یا بیماری کے عالم میں قتل ہوئے اور حارث بن قیس یہ عیاطل میں سے تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اپنے پاس موجود نسخے میں ، میں نے یہ روایت اسی طرح پائی ہے جس نسخے سے میں نے اسے نقل کیا ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ یہ بے ڈول ( یا غیر مناسب ) ہے ‘ اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس روایت کا کچھ حصہ ساقط ہے ۔

11115

Majma al-Zawaid #11115

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا هَلَكَ قَوْمُ لُوطٍ إِلَّا فِي الْأَذَانِ، وَلَا تَقُومُ الْقِيَامَةُ إِلَّا فِي الْأَذَانِ» "". قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: مَعْنَاهُ عِنْدِي - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - فِي وَقْتِ أَذَانِ الْفَجْرِ، هُوَ وَقْتُ الِاسْتِغْفَارِ وَالدُّعَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that the people of Lut were destroyed at a particular time and that the Hour will likewise come at such a time, which means the time of the dawn call when people seek forgiveness and supplicate. > **"The people of Lut were destroyed only at the time of the call to prayer, and the Hour will come only at the time of the call to prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم صرف اذان کی بدولت ہلاکت کا شکار ہوئی تھی اور قیامت بھی صرف اذان کی بدولت قائم ہو گی ‘‘ امام طبرانی بیان کرتے ہیں : ویسے اللہ بہتر جانتا ہے ‘ لیکن میرے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے : فجر کی اذان کے وقت ایسا ہو گا ‘ یہ استغفار اور دعا کا وقت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11116

Majma al-Zawaid #11116

عَنْ زِرٍّ قَالَ: كُنْتُ آخُذُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فِي الْمُصْحَفِ فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ: أَتَدْرِي مَا الْحَفَدَةُ؟ قُلْتُ: حَشَمُ الرَّجُلِ، قَالَ: لَا، هُمُ الْأُخْتَانِ

EnglishUnverified translation

Zirr reported that while reading the mushaf to Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه they reached the verse of Surah al-Nahl about Allah making sons and grandsons from spouses. Abdullah asked him what the grandsons meant, rejected his first answer that it meant a man's servants, and began to explain it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زر بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لئے مصحف لیا کرتا تھا جب وہ اس آیت پر پہنچے : ’’ اور اس نے تمہارے لئے بیویوں میں سے بیٹے اور پوتے و نواسے بنائے ہیں ‘‘۔ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو حفدہ سے مراد کیا ہے ؟ میں نے کہا : آدمی کے قریبی ساتھی ، انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! وہ دونوں ( یعنی ’’ بنین ‘‘ اور ’’ حفدۃ ‘‘ ) ایک ہی چیز ہیں ۔

11117

Majma al-Zawaid #11117

وَفِي رِوَايَةٍ: قُلْتُ: نَعَمْ، هُمْ أَحْفَادُ الرَّجُلِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ. قَالَ: نَعَمْ هُمُ الْأَصْهَارُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another version of the discussion about the verse of Surah al-Nahl concerning grandsons, when it was suggested that it meant a man's descendants and the descendants of his children, Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه corrected that and said it means relatives through marriage.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے جواب دیا : جی ہاں اس سے مراد ہوتے ہیں جو اس کی اولاد ہوں اور اولاد کی اولاد ہوں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں اس سے مراد سسرالی عزیز ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ‘ اور وہ حسن الحدیث ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11118

Majma al-Zawaid #11118

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: ({زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ} [النحل: 88] قَالَ: زِيدُوا عَقَارِبَ، أَنْيَابُهَا كَالنَّخْلِ الطِّوَالِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه explained the verse of Surah al-Nahl about increasing punishment upon punishment, saying the disbelievers will have additional creatures of torment set upon them with enormous fangs like tall palm trees.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ہم ان کے عذاب پر عذاب میں اضافہ کر دیں گے ‘‘۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان پر مزید ایسے بچھو مسلط کیے جائیں گے جن کے دانت کھجور کے بڑے درختوں جتنے ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11119

Majma al-Zawaid #11119

عَنْ شَهْرٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِفِنَاءِ بَيْتِهِ جَالِسٌ، إِذْ مَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَكَشَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا تَجْلِسْ؟ ""، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَشَخَصَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَنَظَرَ سَاعَةً إِلَى السَّمَاءِ، فَأَخَذَ يَضَعُ بَصَرَهُ حَيْثُ وَضَعَ بَصَرَهُ عَنْ يَمِينِهِ فِي الْأَرْضِ، فَأَخَذَ يُنْغِضُ رَأْسَهُ كَأَنَّهُ يَسْتَفْقِهُ مَا يُقَالُ لَهُ، وَابْنُ مَظْعُونٍ يَنْظُرُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ وَاسْتَفْقَهَ مَا يُقَالُ لَهُ شَخَصَ بَصَرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَارَى فِي السَّمَاءِ، فَأَقْبَلَ عَلَى عُثْمَانَ بِجِلْسَتِهِ الْأُولَى فَقَالَ لَهُ: يَا مُحَمَّدُ، فِيمَا كُنْتُ أُجَالِسُكَ وَآتِيكَ؟ مَا رَأَيْتُكَ تَفْعَلُ كَفِعْلِكَ الْغَدَاةَ قَالَ: "" وَمَا فَعَلْتُ؟ ""، قَالَ: رَأَيْتُكَ شَخَصْتَ بِبَصَرِكَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ وَضَعْتَهُ حَيْثُ وَضَعْتَهُ عَنْ يَمِينِكَ، فَتَحَرَّفْتَ إِلَيْهِ وَتَرَكْتَنِي، فَأَخَذْتَ تُنْغِضُ رَأْسَكَ كَأَنَّكَ تَسْتَفْقِهُ شَيْئًا يُقَالُ لَكَ، قَالَ: "" وَفَطِنْتَ لِذَلِكَ؟ ""، قَالَ عُثْمَانُ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَانِي رَسُولُ رَبِّي - عَلَيْهِ السَّلَامُ -[آنِفًا] وَأَنْتَ جَالِسٌ ""، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، قَالَ: فَمَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [النحل: 90]، قَالَ عُثْمَانُ: فَذَاكَ حِينَ اسْتَقَرَّ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِي وَأَحْبَبْتُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَشَهْرٌ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Shahr reported from Ibn Abbas رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ was sitting in the courtyard of his house when Uthman ibn Maz'un passed, smiled at him, and was invited to sit. The Prophet ﷺ then gazed at the sky, lowered his gaze to his right toward the earth, and moved his head as though understanding words being spoken to him while Ibn Maz'un watched. Afterward Uthman asked him about what he had seen, and the Prophet ﷺ told him a messenger of his Lord had just come to him and recited the verse of Surah al-Nahl. Uthman said it was then that faith became firm in his heart and he loved the Prophet ﷺ. > **"A messenger of my Lord just came to me while you were sitting. He said: Allah commands justice, excellence, and giving to relatives, and forbids immorality, evil, and transgression. He admonishes you that you may remember."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہر بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے اسی دوران حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آپ کے پاس سے گزرے وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھ کر مسکرائے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم بیٹھو گے نہیں انہوں نے عرض کی : جی ہاں پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آ کے بیٹھ گئے اور آپ کے ساتھ بات چیت کرنے لگے اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی آپ کچھ دیر آسمان کی طرف دیکھتے رہے پھر آپ نے اپنی نگاہ جھکائی یہاں تک کہ آپ نے اپنے دائیں طرف زمین کی طرف نگاہ رکھی پھر آپ نے اپنے سر کو حرکت دی یوں جیسے آپ کو کوئی بات کہی جا رہی ہے ‘ اور آپ اسے سمجھ رہے ہیں ۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ یہ ساری چیزیں دیکھ رہے تھے جب نبی اکرم ﷺ کا عمل پورا ہو گیا اور آپ کو جو بات کہی گئی تھی وہ آپ نے سمجھ لی تو پھر نبی اکرم ﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ بلند کی جس طرح پہلی مرتبہ بلند کی تھی نبی اکرم ﷺ اپنی نگاہ کے ساتھ اس ( فرشتے ) کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ آسمان میں چھپ گیا حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ پہلی نشست میں ہی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! جب سے میں آپ کے پاس بیٹھا ہوں اور آپ کے پاس آ رہا ہوں میں نے آپ کو اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح ابھی آپ نے کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا میں نے کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے آپ کو دیکھا کہ پہلے آپ نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر اسے نیچے کر دیا یہاں تک کہ اپنے دائیں طرف کیا پھر آپ اس طرف متوجہ رہے ‘ اور آپ نے مجھے چھوڑ دیا پھر آپ نے اپنے سر کو ہلانا شروع کر دیا یوں جیسے آپ کوئی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آپ کو کہی جا رہی ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ صورت حال محسوس ہوئی تھی ؟ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پروردگار کا فرشتہ ابھی میرے پاس آیا تھا جب تم بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کا قاصد ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس نے آپ کو کیا کہا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( اس نے یہ آیت تلاوت کی : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے اور احسان کرنے اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ‘ اور فحاشی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ‘‘۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس وقت ایمان میرے دل میں پختہ ہو گیا اور میں حضرت محمد ( ﷺ ) سے محبت کرنے لگا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے شہر نامی راوی کو امام احمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11120

Majma al-Zawaid #11120

«وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا إِذْ شَخَصَ بِبَصَرِهِ، ثُمَّ صَوَّبَهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَلْزَقَ بِالْأَرْضِ، قَالَ: وَشَخَصَ بِبَصَرِهِ قَالَ: "" أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضَعَ هَذِهِ الْآيَةَ بِهَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [النحل: 90]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Abi al-As رضي الله عنه reported that he was sitting with the Messenger of Allah ﷺ when the Prophet ﷺ raised his gaze, then lowered it until it nearly touched the ground, then raised it again and explained that Jibril عليه السلام had instructed him where to place the verse of Surah al-Nahl. > **"Jibril came to me and commanded me to place this verse in this position of this surah: Allah commands justice, excellence, and giving to relatives, and forbids immorality, evil, and transgression. He admonishes you that you may remember."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے نگاہ اٹھا کے اوپر کی طرف دیکھا پھر آپ نے سر کو جھکا لیا یوں کہ قریب تھا کہ آپ زمین کے ساتھ مل جاتے پھر آپ نے اپنی نگاہ کو اوپر کی طرف اٹھایا پھر آپ نے بتایا : ’’ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے یہ کہا : میں اس سورت کے اس مقام پر یہ آیت رکھ دوں ‘‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے احسان کرنے قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ‘ اور وہ فحاشی برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے ‘ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

11121

Majma al-Zawaid #11121

وَعَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: هَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ حَلَالٌ وَحَرَامٌ وَأَمْرٌ وَنَهْيٌ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ} [النحل: 90] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ مَذْكُورٍ فِي سُورَةِ الطَّلَاقِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Duha reported that Masruq and Shutayr ibn Shakl met in the mosque, and Masruq asked whether he had heard Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه say that the most comprehensive verse of the Qur'an concerning lawful, unlawful, command, and prohibition is the verse of Surah al-Nahl enjoining justice and forbidding immorality. The other confirmed it, and Masruq said he had heard it too.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوضحی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں اکٹھے ہوئے مسروق نے کہا : کیا تم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن میں حلال حرام ، امر اور نہی کے بارے میں سب سے زیادہ جامع آیت یہ ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے احسان کرنے قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ‘ اور فحاشی اور برائی سے منع کرتا ہے ‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو دوسرے صاحب نے جواب دیا : جی ہاں تو مسروق نے کہا : میں نے بھی انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل کے حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے جو سورت طلاق کے باب میں ذکر ہو گی اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11122

Majma al-Zawaid #11122

عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ -: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ. فَقَالَ فَرْوَةُ - رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ -: نَسِيَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: وَمَنْ نَسِيَ؟ إِنَّا كُنَّا نُشَبِّهُ مُعَاذًا بِإِبْرَاهِيمَ. وَسُئِلَ عَنِ الْأُمَّةِ، فَقَالَ: مُعَلِّمُ الْخَيْرِ. وَسُئِلَ عَنِ الْقَانِتِ، فَقَالَ: مُطِيعُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Masruq reported that Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه said Mu'adh was a nation, devout to Allah, upright, and not of the idolaters. A man of Ashja' named Farwah objected that the verse says Ibrahim, and Ibn Mas'ud asked who had forgotten, explaining they used to liken Mu'adh to Ibrahim. Asked about the word nation, he said it means a teacher of good, and asked about the word devout, he said it means obedient to Allah and His Messenger.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا : ’’ بے شک معاذ ایک امت تھا ‘ جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار تھا اور باطل سے کنارہ کش تھا اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھا ‘‘۔ تو اشجع قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص فروہ نے یہ کہا : یہ بھول گئے ہیں آیت میں اصل لفظ یہ ہے : ” بے شک ابراہیم ‘‘ تو انہوں نے کہا : کون بھولا ہے ؟ ہم حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشابہ قرار دیتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے امت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد بھلائی کی تعلیم دینے والا ہے ان سے لفظ قانت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11123

Majma al-Zawaid #11123

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «طَيْرُ كُلِّ عَبْدٍ فِي عُنُقِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ explain the verse of Surah al-Isra about fastening every person's deed to his neck. > **"The bird of every servant is in his neck."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر بندے کا نامہ اعمال اس کی گردن میں ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔