Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 7

Book of Exegesis

Hadith 11044–11083

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11044

Majma al-Zawaid #11044

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اغْزُوا تَغْنَمُوا بَنَاتِ بَنِي الْأَصْفَرِ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ: إِنَّهُ لَيَفْتِنُكُمْ بِالنِّسَاءِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي} [التوبة: 49]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

وعن ابن عباس أن النبي - صلى الله / عليه وسلم - قال: «اغزوا تغنموا بنات بني / الأصفر "". فقال رجل من المنافقين: إنه ليفتنكم / بالنساء، فأنزل الله - عز وجل -: {ومنهم / من يقول ائذن لي ولا تفتني} [التوبة: 49]». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that the Prophet (peace be upon him) urged fighting with a promise of spoils, whereupon a hypocrite warned that this was merely tempting them through women, and the verse about seeking leave lest one be tried was revealed. > **"Fight and you will gain the daughters of Banu al-Asfar as spoils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ تم لوگ جنگ کرو ! مال غنیمت میں تمہیں بنواصفر کی عورتیں ملیں گی منافقین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے کہا : یہ خواتین کے حوالے سے تمہیں آزمائش کا شکار کر رہے ہیں ( یعنی تمہیں موت کے منہ میں ڈال رہے ہیں ) تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ’’ ان میں سے ایک شخص وہ ہے جو کہتا ہے آپ مجھے اجازت دیں اور آپ مجھے آزمائش کا شکار نہ کریں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11045

Majma al-Zawaid #11045

عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «لَقِيتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُمَا عَنْ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ {وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ} [التوبة: 72] قَالَا: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، سَأَلْنَا عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" قَصْرٌ مِنْ دُرَّةٍ، فِي ذَلِكَ الْقَصْرِ سَبْعُونَ أَلْفَ دَارٍ مِنْ زُمُرُّدَةٍ خَضْرَاءَ، فِي كُلِّ بَيْتٍ مِنْهَا سَبْعُونَ سَرِيرًا، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فِرَاشًا مِنْ كُلِّ لَوْنٍ، عَلَى كُلِّ فِرَاشٍ امْرَأَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، فِي كُلِّ بَيْتٍ مَائِدَةٌ عَلَى كُلِّ مَائِدَةٍ سَبْعُونَ لَوْنًا، فِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ وَصِيفًا أَوْ وَصِيفَةً، يُعْطَى مِنَ الْقُوَّةِ مَا يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ فِي غَدَاةٍ وَاحِدَةٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جِسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن الحسن قال: «لقيت عمران بن حصين وأبا / هريرة فسألتهما عن تفسير هذه الآية {ومساكن طيبة / في جنات عدن} [التوبة: 72] قالا: على الخبير / سقطت، سألنا عنها رسول الله - صلى الله / عليه وسلم - فقال: "" قصر من درة، / في ذلك القصر سبعون ألف دار من زمردة / خضراء، في كل بيت منها سبعون سريرا، على / كل سرير سبعون فراشا من كل لون، على / كل فراش امرأة من الحور العين، في كل / بيت مائدة على كل مائدة سبعون لونا، في / كل بيت سبعون وصيفا أو وصيفة، يعطى من / القوة ما يأتي على ذلك كله في غداة / واحدة». Hasan al-Basri said he asked Imran ibn Husayn and Abu Hurayra (may Allah be pleased with them both) about the fine dwellings in the Gardens of Eden, and they replied that he had come to one well informed, for they had asked the Messenger of Allah (peace be upon him) himself. > **"It is a palace of pearl, containing seventy thousand doors of green emerald; in every home are seventy couches, upon every couch seventy spreads of every color, upon every spread a wife of the wide-eyed maidens; in every home a table bearing seventy dishes, and seventy servants; and he shall be granted strength to enjoy all of that in a single morning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : میری ملاقات حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان دونوں حضرات سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جنات عدن میں پاکیزہ ٹھکانے ‘‘۔ تو ان دونوں حضرات نے یہ جواب دیا : تم نے اس بارے میں باخبر شخص سے رجوع کیا ہے ہم نے ان کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا تھا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ یہ موتی سے بنے ہوئے محلات ہوں گے اور ایک محل میں ستر ہزار دروازے ہوں گے جو سبز زمرد سے بنے ہوئے ہوں گے ہر ایک گھر میں ستر پلنگ ہوں گے جن میں سے ہر ایک پلنگ پر ستر بچھونے ہوں گے جو مختلف رنگوں کے ہوں گے اور ہر ایک بچھونے پر ایک حورعین بیوی ہو گی ہر گھر میں ایک دستر خوان ہو گا ہر دستر خوان پر ستر قسم کے کھانے ہوں گے اور ہر گھر میں ستر ملازمین یا ملازمائیں ہوں گی اور جنتی کو یہ قوت عطا کی جائے گی کہ وہ ایک ہی دن میں ان سب سے لطف لے سکے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے سعید بن عامر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11046

Majma al-Zawaid #11046

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا} [التوبة: 74] قَالَ: هَمَّ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْأَسْوَدُ بِقَتْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس في قوله - عز وجل / -: {وهموا بما لم ينالوا} [التوبة: 74] قال: / هم رجل يقال له الأسود بقتل رسول الله / - صلى الله عليه وسلم. Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said the verse about those who intended what they could not attain refers to a man called al-Aswad, who resolved to kill the Messenger of Allah (peace be upon him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور انہوں نے اس چیز کا ارادہ کیا جسے وہ حاصل نہیں کر سکے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص جس کا نام اسود تھا اس نے نبی اکرم ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا ( یہاں وہ مراد ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

11047

Majma al-Zawaid #11047

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ «أَنَّ ثَعْلَبَةَ بْنَ حَاطِبٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا. قَالَ: "" وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ، قَلِيلٌ تُؤَدِّي شُكْرَهُ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرٍ لَا تُطِيقُهُ، أَمَا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَوْ سَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تَسِيلَ لِيَ الْجِبَالُ ذَهَبًا وَفِضَّةً لَسَالَتْ "". ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا، وَاللَّهِ لَئِنْ آتَانِيَ اللَّهُ مَالًا لَأُوتِيَنَّ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا، اللَّهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا، اللَّهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا "". قَالَ: فَاتَّخَذَ غَنَمًا، فَنَمَتْ كَمَا يَنْمُو الدُّودُ حَتَّى ضَاقَتْ عَلَيْهِ أَزِقَّةُ الْمَدِينَةِ، فَتَنَحَّى بِهَا، وَكَانَ يَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا، ثُمَّ نَمَتْ حَتَّى تَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ مَرَاعِي الْمَدِينَةِ، فَتَنَحَّى بِهَا، فَكَانَ يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا، ثُمَّ نَمَتْ فَتَنَحَّى بِهَا، فَتَرَكَ الْجُمُعَةَ وَالْجَمَاعَاتِ، فَيَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ فَيَقُولُ: مَاذَا عِنْدَكُمْ مِنَ الْخَبَرِ؟ وَمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ؟ وَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا} [التوبة: 103]، وَاسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الصَّدَقَاتِ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَكَتَبَ لَهُمْ سَنَةَ الصَّدَقَةِ وَأَسْنَانَهَا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُصَدِّقَا النَّاسَ، وَأَنْ يَمُرَّا بِثَعْلَبَةَ فَيَأْخُذَا مِنْهُ صَدَقَةَ مَالِهِ، فَفَعَلَا حَتَّى دَفَعَا إِلَى ثَعْلَبَةَ، فَأَقْرَآهُ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: صَدِّقَا النَّاسَ، فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَمُرُّوا بِي، فَفَعَلَا، فَقَالَ: [وَاللَّهِ] مَا هَذِهِ إِلَّا أُخَيَّةُ الْجِزْيَةِ. فَانْطَلَقَا حَتَّى لَحِقَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ - فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ} [التوبة: 75 - 76] إِلَى قَوْلِهِ: "" يَكْذِبُونَ "" قَالَ: فَرَكِبَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَرِيبٌ لِثَعْلَبَةَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَتَى ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ، هَلَكْتَ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ مِنَ الْقُرْآنِ كَذَا، فَأَقْبَلَ ثَعْلَبَةُ وَقَدْ وَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ وَهُوَ يَبْكِي وَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -] ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ قَدْ عَرَفْتَ مَوْضِعِي مِنْ قَوْمِي وَمَكَانِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاقْبَلْ مِنِّي، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى عُثْمَانَ فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ، ثُمَّ مَاتَ ثَعْلَبَةُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

عن أبي أمامة «أن ثعلبة بن حاطب أتى / رسول الله - صلى الله عليه وسلم - / فقال: يا رسول الله، ادع الله أن يرزقني / مالا. قال: "" ويحك يا ثعلبة، قليل تؤدي / شكره خير من كثير لا تطيقه، أما تريد / أن تكون مثل رسول الله - صلى الله / عليه وسلم - لو سألت الله - عز / وجل - أن تسيل لي الجبال ذهبا وفضة / لسالت "". ثم رجع إليه فقال: يا رسول / الله، ادع الله أن يرزقني مالا، والله لئن / آتاني الله مالا لأوتين كل ذي حق حقه. / فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم / -: "" اللهم ارزق ثعلبة مالا، اللهم ارزق / ثعلبة مالا، اللهم ارزق ثعلبة مالا "". قال: / فاتخذ غنما، فنمت كما ينمو الدود حتى ضاقت / عليه أزقة المدينة، فتنحى بها، وكان يشهد الصلاة / مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم / - ثم يخرج إليها، ثم نمت حتى تعذرت / عليه مراعي المدينة، فتنحى بها، فكان يشهد الجمعة / مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم / - ثم يخرج إليها، ثم نمت فتنحى بها، / فترك الجمعة والجماعات، فيتلقى الركبان فيقول: ماذا عندكم / من الخبر؟ وما كان من أمر الناس؟ وأنزل / الله - تعالى - على رسول الله - / صلى الله عليه وسلم -: {خذ من أموالهم / صدقة تطهرهم وتزكيهم بها} [التوبة: 103]، واستعمل رسول / الله - صلى الله عليه وسلم - على / الصدقات رجلين من الأنصار ورجلا من بني سليم، / فكتب لهم سنة الصدقة وأسنانها وأمرهم أن يصدقا / الناس، وأن يمرا بثعلبة فيأخذا منه صدقة ماله، / ففعلا حتى دفعا إلى ثعلبة، فأقرآه كتاب رسول / الله - صلى الله عليه وسلم - فقال: / صدقا الناس، فإذا فرغتم فمروا بي، ففعلا، فقال: / [والله] ما هذه إلا أخية الجزية. فانطلقا حتى / لحقا برسول الله - صلى الله عليه وسلم / - فأنزل الله على رسوله - صلى الله / عليه وسلم -: {ومنهم من عاهد الله لئن / آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين - / فلما آتاهم من فضله بخلوا به وتولوا وهم / معرضون} [التوبة: 75 - 76] إلى قوله: "" / يكذبون "" قال: فركب رجل من الأنصار قريب / لثعلبة راحلته حتى أتى ثعلبة، فقال: ويحك يا / ثعلبة، هلكت، قد أنزل الله فيك من القرآن / كذا، فأقبل ثعلبة وقد وضع التراب على رأسه / وهو يبكي ويقول: يا رسول الله يا رسول / الله، فلم يقبل منه رسول الله - صلى / الله عليه وسلم -[صدقته حتى قبض الله رسوله / - صلى الله عليه وسلم -] ثم أتى / أبا بكر بعد رسول الله - صلى الله / عليه وسلم - فقال: يا أبا بكر قد / عرفت موضعي من قومي ومكاني من رسول الله / - صلى الله عليه وسلم - فاقبل مني، / فأبى أن يقبل منه، ثم أتى عمر فلم / يقبل منه، ثم أتى عثمان فلم يقبل منه، / ثم مات ثعلبة في خلافة عثمان». Abu Umama (may Allah be pleased with him) narrated the full account of Thalaba ibn Hatib, who repeatedly begged for wealth despite warnings, was granted flocks that multiplied until congregational prayer slipped away from him, refused the collectors of charity as though it were a tribute, and was then named by revelation about those who pledged and broke faith, after which neither the Prophet (peace be upon him) nor Abu Bakr, Umar, or Uthman (may Allah be pleased with them) accepted anything from him, and he died during the caliphate of Uthman. > **"Woe to you, Thalaba! A little for which you render thanks is better than much you cannot bear. Would you not be like the Messenger of Allah? Had I asked Allah that mountains of gold and silver flow with me, they would flow. O Allah, grant Thalaba wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثعلبہ بن حاطب نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ثعلبہ تمہارا ستیاناس ہو ایسا تھوڑا مال کہ جس کا تم شکر ادا کرو وہ اس زیادہ مال سے بہتر ہے جس کی تم طاقت نہ رکھتے ہو کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ تم اللہ کے رسول کی مانند ہو جاؤ میں اگر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگوں کہ میرے ساتھ پہاڑ سونے اور چاندی ہو کر چلنا شروع کریں تو وہ ایسے ہو جائیں گے پھر وہ شخص دوبارہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالٰی سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے ۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے مجھے مال عطا کیا تو میں ہر حق دار کو اس کا حق دوں گا نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! تو ثعلبہ کو مال عطا کر ۔ اے اللہ ! تو ثعلبہ کو مال عطا کر اے اللہ ! تو ثعلبہ کو مال عطا کر ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے کچھ بکریاں لیں ان کی بکریاں یوں بڑھنا شروع ہوئیں جس طرح پتنگے ہوتے ہیں یہاں تک کہ مدینہ کی گلیاں اس شخص کے لئے تنگ ہو گئیں تو وہ مدینہ منورہ سے ہٹ کے باہر چلا گیا وہ نماز میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شریک ہوتا تھا پھر بکریوں کی طرف چلا جاتا تھا پھر وہ بکریاں بڑھتی گئیں یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی نواحی چراگاہیں اس کے لئے مشکل کا باعث بنیں تو وہ وہاں سے ہٹ گیا پھر وہ صرف جمعہ کی نماز میں نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں شریک ہوتا تھا پھر بکریوں کی طرف چلا جاتا تھا پھر وہ بکریاں اور بڑھ گئیں یہاں تک کہ وہ وہاں سے بھی دور چلا گیا اور جمعہ اور باجماعت نماز سب کو ترک کر دیا اس کی ملاقات کچھ سواروں سے ہوئی تو اس نے کہا : تمہارے پاس کیا اطلاع ہے ‘ اور لوگوں کی کیا صورت حال ہے اس وقت اللہ تعالی نے نبی اکرم ﷺ پر یہ حکم نازل کر دیا تھا : ’’ تم ان کے اموال میں سے زکوۃ وصول کرو اور تم انہیں پاک کرو اور اس کے ذریعے ان کا تزکیہ کیا کرو ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے زکوۃ کی وصولی کے لئے انصار سے تعلق رکھنے والے دو افراد اور بنو سالم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو عامل مقرر کیا ۔ آپ نے ان کے لئے زکوۃ کے احکام تحریر کروائے تھے زکوۃ کے جانوروں کے بارے میں اور ان کی عمروں کے بارے میں تحریر کروایا تھا اور انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ لوگوں سے زکوۃ وصول کریں اور یہ بھی حکم دیا تھا کہ وہ ثعلبہ کے پاس جائیں اور اس کے مال کی زکوۃ بھی اس سے وصول کریں ان دونوں نے اس حکم پر عمل کیا وہ دونوں ثعلبہ کے پاس آئے اور اس کے سامنے نبی اکرم ﷺ کا مکتوب پڑھ کے سنایا تو ثعلبہ نے کہا : آپ پہلے دوسرے لوگوں سے زکوۃ وصول کر لیں جب فارغ ہو جائیں تو میرے پاس سے گزریے گا ان دونوں نے ایسا ہی کیا ( جب وہ واپسی پر اس کے پاس آئے ) تو ثعلبہ نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ تو جزیہ کی ایک قسم ہے وہ دونوں صاحبان گئے اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول پر یہ آیت نازل کی : ’’ اور ان میں سے ایسا شخص بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کرتا ہے کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہمیں عطا کر دیا ‘ تو ہم ضرور صدقہ دیں گے اور ضرور نیک لوگوں میں سے ہو جائیں گے اور جب اس کے فضل میں سے کچھ ( مال ) ان لوگوں کے پاس آیا ‘ تو انہوں نے اس مال کے حوالے سے بخل کیا ‘ اور منہ موڑ لیا اور وہ اعراض کرنے والے تھے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” جھوٹ بولنے والے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو ثعلبہ کے قریب رہتا تھا وہ اپنی سواری پر سوار ہوا اور ثعلبہ کے پاس آیا اور بولا اے ثعلبہ تمہارا ستیاناس ہو تم ہلاکت کا شکار ہو گئے ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں قرآن میں یہ حکم نازل کر دیا ہے ‘ تو ثعلبہ آیا وہ اپنے سر پر مٹی ڈال رہا تھا اور رو رہا تھا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے اس کی زکوۃ قبول نہیں کی یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا اے ابوبکر میری قوم میں جو میری حیثیت ہے ‘ اور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں جو میرا مقام تھا آپ اس سے واقف ہیں آپ مجھ سے ( زکوة ) قبول کر لیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے زکوۃ قبول کرنے سے انکار کر دیا پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ تو انہوں نے بھی زکوۃ قبول کرنے سے انکار کر دیا پھر وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ تو انہوں نے بھی اس سے زکوۃ قبول نہیں کی اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اس کا انتقال ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11048

Majma al-Zawaid #11048

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَصَدَّقُوا فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بَعْثًا "". قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي أَرْبَعَةُ آلَافٍ، أَلْفَانِ أَقْرَضْتُهُمَا رَبِّي وَأَلْفَانِ لِعِيَالِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَبَارَكَ لَكَ فِيمَا أَمْسَكْتَ "". وَبَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَصَابَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، صَاعٌ لِرَبِّي وَصَاعٌ لِعِيَالِي؟ قَالَ: فَلَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ وَقَالُوا: مَا أَعْطَى مِثْلَ الَّذِي أَعْطَى ابْنُ عَوْفٍ إِلَّا رِيَاءً. أَوْ قَالُوا: أَلَمْ يَكُنِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ غَنِيَّيْنِ عَنْ صَاعِ هَذَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ} [التوبة: 79] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ؛ إِحْدَاهُمَا مُتَّصِلَةٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَالْأُخْرَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلَةٌ، قَالَ: وَلَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا أَسْنَدَهُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ إِلَّا طَالُوتَ بْنَ عَبَّادٍ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَأَبُو خَيْثَمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن أبي سلمة، وعن أبي هريرة قال: قال / رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: / «تصدقوا فإني أريد أن أبعث بعثا "". قال: / فجاء عبد الرحمن بن عوف فقال: يا رسول / الله، عندي أربعة آلاف، ألفان أقرضتهما ربي وألفان / لعيالي؟ فقال رسول الله - صلى الله عليه / وسلم -: "" بارك الله لك فيما أعطيت، / وبارك لك فيما أمسكت "". وبات رجل من / الأنصار فأصاب صاعين من تمر فقال: يا رسول / الله، إني أصبت صاعين من تمر، صاع لربي / وصاع لعيالي؟ قال: فلمزه المنافقون وقالوا: ما أعطى / مثل الذي أعطى ابن عوف إلا رياء. أو / قالوا: ألم يكن الله ورسوله غنيين عن صاع / هذا؟ فأنزل الله {الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين / في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم} [التوبة: / 79] إلى آخر الآية». Abu Salama and Abu Hurayra (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (peace be upon him) called for charity before an expedition, Abd al-Rahman ibn Awf brought half his fortune while an Ansari labored through the night for two measures of dates, and the hypocrites mocked both the large gift as show and the small one as needless, until the verse about ridiculing willing givers was revealed. > **"Give charity, for I intend to dispatch an expedition. May Allah bless for you what you gave and what you kept."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ صدقہ دو کیونکہ میں ایک جنگی مہم روانہ کرنا چاہتا ہوں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور بولے یا رسول اللہ ! میرے پاس چار ہزار ہیں ان میں سے دو ہزار میں اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دیتا ہوں اور دو ہزار میرے گھر والوں کے لئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے جو دیا ہے اللہ تعالیٰ اس میں بھی تمہیں برکت نصیب کرے اور جو نہیں دیا ہے اس میں بھی تمہیں برکت نصیب کرے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے رات گزاری اسے کھجور کے دو صاع ملے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کھجور کے دو صاع ملے ہیں ایک صاع میرے پروردگار کے لئے ہے ‘ اور ایک صاع میرے گھر والوں کے لئے ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو منافقین نے اس پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہا : اس نے ریاکاری کے طور پر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی طرح کی ادائیگی کی ہے راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ان لوگوں نے کہا : کیا اللہ اور اس کا رسول اس شخص کے ایک صاع سے بے نیاز نہیں ہیں ؟؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ وہ لوگ جو اہل ایمان میں سے اپنی خوشی کے ساتھ صدقات دینے والوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں وہ اہل ایمان کے جنہیں صرف اپنی محنت کی کمائی کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا ‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک متصل ہے ‘ اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ اور دوسری حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ‘ اور وہ مرسل ہے امام بزار کہتے ہیں : عمر بن ابوسلمہ سے منقول روایت کے طور پر ہم نے کسی کو نہیں سنا کہ اس نے اسے مسند طور پر نقل کیا ہو صرف طالوت بن عباد نے ایسا کیا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ‘ جسے عجلی ابوخیثمہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11049

Majma al-Zawaid #11049

وَعَنْ أَبِي عُقَيْلٍ أَنَّهُ «بَاتَ يَجُرُّ الْحَرِيرَ عَلَى ظَهْرِهِ عَلَى صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، فَانْقَلَبَ بِأَحَدِهِمَا إِلَى أَهْلِهِ يَنْتَفِعُونَ بِهِ، وَجَاءَ بِالْآخَرِ يَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" انْثُرْهُ فِي الصَّدَقَةِ "". فَقَالَ فِيهِ الْمُنَافِقُونَ وَسَخِرُوا مِنْهُ: مَا كَانَ أَغْنَى هَذَا أَنْ يَتَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ} [التوبة: 79] الْآيَتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ يَسَارٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ.

EnglishUnverified translation

وعن أبي عقيل أنه «بات يجر الحرير على / ظهره على صاعين من تمر، فانقلب بأحدهما إلى / أهله ينتفعون به، وجاء بالآخر يتقرب به إلى / الله - عز وجل - فأتى به رسول / الله - صلى الله عليه وسلم - فأخبره، / فقال له رسول الله - صلى الله عليه / وسلم -: "" انثره في الصدقة "". فقال / فيه المنافقون وسخروا منه: ما كان أغنى هذا / أن يتقرب إلى الله بصاع من تمر. فأنزل / الله - عز وجل -: {الذين يلمزون المطوعين / من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا / جهدهم} [التوبة: 79] الآيتين». Abu Aqil (may Allah be pleased with him) spent the night hauling loads on his back for two measures of dates, keeping one for his family and bringing the other to the Messenger of Allah (peace be upon him), who ordered it placed among the charity, whereupon the hypocrites sneered at so small an offering and the verse about mocking the striving givers came down. > **"Spread it among the charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعقیل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ کھجور کے دو صاع کے عوض میں رات کے وقت اپنی پشت پر وزن لاد کر لے جاتے رہے پھر ان دو صاع میں سے ایک اپنے گھر لے گئے تاکہ گھر والے اسے استعمال کریں اور دوسرا لے آئے تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربت حاصل کریں وہ اس کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں آئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے صدقہ کی چیزوں میں پھیلا دو منافقین نے ان صاحب کے بارے میں یہ کہا وہ ان کا مذاق اڑا رہے تھے کہ کیا یہ شخص اس چیز سے بے نیاز نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کھجور کا ایک ہی صاع دیتا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ جو لوگ ‘ اہل ایمان میں سے اپنی خوشی کے ساتھ صدقہ دینے والوں پر ‘ نکتہ چینی کرتے ہیں وہ اہل ایمان کہ جو صرف اپنی محنت کی کمائی پاتے ہیں ‘‘۔ یہ دو آیات ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ خالد بن یسار کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

11050

Majma al-Zawaid #11050

«وَعَنْ عُمَيْرَةَ بِنْتِ سَهْلٍ صَاحِبِ الصَّاعَيْنِ الَّذِي لَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ، أَنَّهُ خَرَجَ بِرِكَابِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَبِابْنَتِهِ عُمَيْرَةَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَبَّهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، قَالَ: "" وَمَا هِيَ؟ "". قَالَ: تَدْعُو اللَّهَ لِي وَلَهَا بِالْبَرَكَةِ، وَتَمْسَحُ بِرَأْسِهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي وَلَدٌ غَيْرُهَا. قَالَتْ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَيَّ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَكَأَنَّ بَرْدَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَبِدِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ أُنَيْسَةُ بِنْتُ عَدِيٍّ، وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

«وعن عميرة بنت سهل صاحب الصاعين الذي لمزه / المنافقون، أنه خرج بركابه بصاع من تمر وبابنته / عميرة حتى أتى النبي - صلى الله عليه / وسلم - فصبه، ثم قال: يا رسول الله، / إن لي إليك حاجة، قال: "" وما هي؟ / "". قال: تدعو الله لي ولها بالبركة، وتمسح / برأسها، فإنه ليس لي ولد غيرها. قالت: فوضع / رسول الله - صلى الله عليه وسلم - / يده علي، فأقسم بالله لكأن برد يد رسول / الله - صلى الله عليه وسلم - على / كبدي». Umayra bint Sahl reported from her father Sahl, the man of the two measures whom the hypocrites ridiculed, that he came with a measure of dates and his daughter, asked the Prophet (peace be upon him) to bless them both and pass his hand over her head since she was his only child, and she swore she felt the coolness of that hand upon her innermost being. > **"And what is it?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عمیرہ بنت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : یہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے دو صاع لیے تھے اور منافقین نے ان پر تنقید کی تھی وہ بیان کرتی ہیں : حضرت سہل رضی اللہ عنہ کھجور کا ایک صاع لے کر اور اپنی صاحبزادی عمیرہ کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں آئے اور وہ کھجوریں آپ کی خدمت میں پیش کیں پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے آپ سے ایک کام ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا کام ہے ۔ انہوں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے اور میری اس بچی کے لئے برکت کی دعا کریں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیں کیونکہ میری اس کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں ہے ‘ تو وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک رکھا میں اللہ کی قسم ! اُٹھا کر یہ کہتی ہوں کہ نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ کی ٹھنڈک مجھے اپنے جگر پر محسوس ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی انیسہ بنت عدی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11051

Majma al-Zawaid #11051

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا مَرِضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَاءَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَكَلَّمَا بِكَلَامٍ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ فَهِمْتُ مَا يَقُولُ، امْنُنْ عَلَيَّ فَكَفِّنِّي فِي قَمِيصِكَ، وَصَلِّ عَلَيَّ. فَكَفَّنَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَمِيصِهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ». قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَيَّ صَلَاةٍ كَانَتْ، وَمَا خَادَعَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْسَانًا قَطُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانٍ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس قال: «لما مرض عبد الله / بن أبي مرضه الذي مات فيه جاءه النبي / - صلى الله عليه وسلم - فتكلما بكلام / بينهما، فقال عبد الله: قد فهمت ما يقول، / امنن علي فكفني في قميصك، وصل علي. فكفنه / النبي - صلى الله عليه وسلم - في / قميصه وصلى عليه». قال ابن عباس: والله أعلم / أي صلاة كانت، وما خادع محمد - صلى / الله عليه وسلم - إنسانا قط. Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that when Abdullah ibn Ubayy lay dying, the Prophet (peace be upon him) visited him, and the sick man asked as a favor to be shrouded in the Prophet's own shirt and prayed over; the Prophet (peace be upon him) did so, while Ibn Abbas added that Allah knows best what prayer that was, and that Muhammad never deceived any person.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب عبداللہ بن اُبی اس بیماری کا شکار ہوا جس میں وہ بعد میں مر گیا تھا ، تو اس دوران نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے ان دونوں کے درمیان کوئی گفتگو ہوئی تو عبداللہ نے کہا : یہ جو کہہ رہے ہیں وہ بات مجھے سمجھ آ گئی ہے آپ مجھ پر یہ احسان کریں کہ آپ مجھے اپنی قمیص میں کفن دیجئے گا اور میری نماز جنازہ پڑھائیے گا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی قمیص میں اسے کفن دیا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کون سی نماز تھی ویسے حضرت محمد ( ﷺ ) نے کبھی کسی انسان کو دھوکہ نہیں دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ابان ہے ‘ جسے امام نسائی اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابن مبارک نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11052

Majma al-Zawaid #11052

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ {فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ} [التوبة: 105]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

عن سلمة بن الأكوع «أن رسول الله - / صلى الله عليه وسلم - قرأ {فسيرى الله / عملكم ورسوله والمؤمنون} [التوبة: 105]». Salama ibn al-Akwa (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) recited the verse announcing that Allah, His Messenger, and the believers will witness their deeds. > **"Allah will see your deeds, and His Messenger and the believers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ عنقریب تم لوگوں کے عمل کو اللہ اور اس کا رسول اور اہل ایمان دیکھ لیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11053

Majma al-Zawaid #11053

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ} [التوبة: 101] قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ جُمُعَةٍ خَطِيبًا، فَقَالَ: "" قُمْ يَا فُلَانُ فَاخْرُجْ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ، اخْرُجْ يَا فُلَانُ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ "". فَأَخْرَجَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَفَضَحَهُمْ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ شَهِدَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ لِحَاجَةٍ كَانَتْ لَهُ، فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ وَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاخْتَبَأَ مِنْهُمُ اسْتِحْيَاءً أَنَّهُ لَمْ يَشْهَدِ الْجُمُعَةَ، وَظَنَّ أَنَّ النَّاسَ قَدِ انْصَرَفُوا وَاخْتَبَؤُوا هُمْ مِنْ عُمَرَ، وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ عَلِمَ بِأَمْرِهِمْ، فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا النَّاسُ لَمْ يَنْصَرِفُوا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَبْشِرْ يَا عُمَرُ، فَقَدْ فَضَحَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ، فَهَذَا الْعَذَابُ الْأَوَّلُ، وَالْعَذَابُ الثَّانِي عَذَابُ الْقَبْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس «في قوله تعالى: {وممن حولكم / من الأعراب منافقون ومن أهل المدينة مردوا على / النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذبهم مرتين ثم / يردون إلى عذاب عظيم} [التوبة: 101] قال: قام / رسول الله - صلى الله عليه وسلم - / يوم جمعة خطيبا، فقال: "" قم يا فلان / فاخرج فإنك منافق، اخرج يا فلان، فإنك منافق / "". فأخرجهم بأسمائهم ففضحهم، ولم يكن عمر بن / الخطاب شهد تلك الجمعة لحاجة كانت له، فلقيهم / عمر وهم يخرجون من المسجد، فاختبأ منهم استحياء / أنه لم يشهد الجمعة، وظن أن الناس قد / انصرفوا واختبؤوا هم من عمر، وظنوا أنه قد / علم بأمرهم، فدخل عمر المسجد، فإذا الناس لم / ينصرفوا، فقال له رجل: أبشر يا عمر، فقد / فضح الله المنافقين اليوم، فهذا العذاب الأول، والعذاب / الثاني عذاب القبر». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported concerning the verse about Bedouin and Medinan hypocrites whom only Allah knows, and the twofold punishment, that the Prophet (peace be upon him) once stood on Friday and ordered named men to rise and leave as hypocrites; Umar, delayed by an errand, met them leaving and each side hid from the other in embarrassment until he learned that Allah had exposed the hypocrites that day — the first punishment — with the punishment of the grave to follow. > **"Stand, so-and-so, and leave, for you are a hypocrite."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ منافق ہیں اور اہل مدینہ میں سے بھی کچھ لوگ منافق ہیں جو نفاق پر جمے ہوئے ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہو ہم انہیں جانتے ہیں ‘ اور ہم انہیں عنقریب دو مرتبہ عذاب دیں گے اور پھر انہیں عظیم عذاب کی طرف لوٹا دیا جائے گا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا : اے فلاں تم اٹھو اور نکل جاؤ تم منافق ہو اے فلاں تم بھی نکل جاؤ کیونکہ تم بھی منافق ہو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کا نام لے کر انہیں مسجد سے نکال دیا اور انہیں رسوائی کا شکار کیا اس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی کام کے سلسلے میں جمعہ کی نماز کے لئے جلدی نہیں آ سکے تھے یہ لوگ مسجد سے نکلے تو ان کی ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے چھپنے لگے اس بات سے شرماتے ہوئے کہ وہ جمعہ میں پہلے نہیں آئے تھے وہ یہ سمجھے کہ شاید لوگ نماز پڑھ کے واپس جا رہے ہیں ‘ اور یہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے چھپنے لگے وہ یہ سمجھے کہ ہمارے معاملے کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چل گیا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں نے ابھی نماز پڑھی ہی نہیں تھی ایک شخص نے ان سے کہا : اے عمر آپ کے لئے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ نے آج منافقین کو رسوا کر دیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ) یہ پہلا عذاب ہے ‘ اور دوسرا عذاب قبر کے عذاب کی شکل میں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عمرو بن محمد عنقزی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11054

Majma al-Zawaid #11054

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «اخْتَلَفَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: هُوَ مَسْجِدُ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ. فَأَتَيَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَسَأَلَاهُ، فَقَالَ: " هُوَ مَسْجِدِي هَذَا.

EnglishUnverified translation

عن سهل بن سعد قال: «اختلف رجلان على / عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم / - في المسجد الذي أسس على التقوى، فقال / أحدهما: هو مسجد الرسول - صلى الله عليه / وسلم - وقال الآخر: هو مسجد قباء. فأتيا / النبي - صلى الله عليه وسلم -، فسألاه، / فقال: " هو مسجدي هذا. Sahl ibn Sad (may Allah be pleased with him) reported that two men disputed whether the mosque founded upon piety meant the Messenger's mosque or Quba, and when both asked, the Prophet (peace be upon him) settled the matter in favor of one of them. > **"It is this mosque of mine."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے ( اور جس کا ذکر قرآن میں ہے ) ان دو افراد میں سے ایک کا یہ کہنا تھا کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے ‘ اور دوسرے کا یہ کہنا تھا کہ اس سے مراد مسجد قباء ہے یہ دونوں حضرات نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد میری یہ مسجد ہے ۔

11055

Majma al-Zawaid #11055

وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ عَنِ الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ: "" هُوَ مَسْجِدِي». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

وفي رواية: كان رسول الله - صلى الله / عليه وسلم - إذا سئل عن المسجد الذي / أسس على التقوى قال: "" هو مسجدي». In another wording, whenever the Messenger of Allah (peace be upon him) was asked about the mosque founded upon piety, his answer named the same mosque. > **"It is my mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ سے جب اس مسجد کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد میری یہ مسجد ہے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں امام طبرانی نے انہیں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11056

Majma al-Zawaid #11056

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ: "" هُوَ مَسْجِدِي هَذَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا، وَفِي إِسْنَادِ الْمَرْفُوعِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْمَوْقُوفِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَزَادَ فِي الطَّرِيقِ الْآخَرِ: قَالَ عُرْوَةُ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ -: مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْهُ، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ. قُلْتُ: إِنَّمَا قَالَ عُرْوَةُ هَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يَطَّلِعْ عَلَى الْمَرْفُوعِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

وعن زيد بن ثابت «أن رسول الله - / صلى الله عليه وسلم - سئل عن المسجد / الذي أسس على التقوى قال: "" هو مسجدي / هذا». Zayd ibn Thabit (may Allah be pleased with him) reported being asked about the mosque founded upon piety and answering with the same identification; Urwa ibn al-Zubayr added that the Messenger's mosque is better than Quba, though the verse came down concerning Quba — a remark explained as uttered without knowledge of the raised report. > **"It is this mosque of mine."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے اس مسجد کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد میری یہ مسجد ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے نقل کی ہے مرفوع روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے موقوف روایات کی اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ‘ اور دوسرے طریق میں یہ الفاظ زائد ہیں : عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مسجد ‘ مسجد قباء سے بہتر ہے لیکن یہ آیت مسجد قباء کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عروہ نے یہ بات ( شاید ) اس لئے کہی کیونکہ وہ مرفوع حدیث پر مطلع نہیں ہو سکے تھے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

11057

Majma al-Zawaid #11057

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا} [التوبة: 108] بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ، فَقَالَ: "" مَا هَذَا الطُّهُورُ الَّذِي أَثْنَى اللَّهُ عَلَيْكُمْ؟ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا خَرَجَ مِنَّا رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ فَرْجَهُ - أَوْ قَالَ: مَقْعَدَتَهُ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هُوَ هَذَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الطَّهَارَةِ مِنْ هَذَا النَّحْوِ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس قال: «لما نزلت هذه الآية / {فيه رجال يحبون أن يتطهروا} [التوبة: 108] بعث / رسول الله - صلى الله عليه وسلم - / إلى عويم بن ساعدة، فقال: "" ما هذا / الطهور الذي أثنى الله عليكم؟ "". فقالوا: يا / رسول الله، ما خرج منا رجل ولا امرأة / من الغائط إلا غسل فرجه - أو قال: / مقعدته - فقال النبي - صلى الله عليه / وسلم -: "" هو هذا». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that when the verse praising men who love to purify themselves came down, the Messenger of Allah (peace be upon him) sent to Uwaym ibn Saida asking what purification had earned Allah's praise, and they answered that every man and woman among them washed after relieving themselves, which the Prophet (peace be upon him) confirmed as its cause. > **"What is this purification for which Allah has praised you? It is this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اس میں ایسے لوگ ہیں جو یہ پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ طہارت کا وہ طریقہ کیا ہے جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے ؟ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے جو بھی مرد یا عورت قضائے حاجت کے لیے جاتا ہے ‘ تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کی وجہ یہی ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس نوعیت کی کچھ احادیث طہارت کے ابواب میں اس سے پہلے گزر چکی ہیں ۔

11058

Majma al-Zawaid #11058

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: السَّائِحُونَ: الصَّائِمُونَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

عن عبد الله - يعني ابن مسعود - / قال: السائحون: الصائمون. Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) said the wanderers named in the verse are the fasting people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ کنارہ کشی کرنے والے ‘‘۔ اس سے مراد روزہ رکھنے والے لوگ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ‘ جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11059

Majma al-Zawaid #11059

عَنْ زِرٍّ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ الْأَوَّاهِ، قَالَ: الدَّعَّاءُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَاصِمٌ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ ضُعِّفَ.

EnglishUnverified translation

عن زر قال: سئل ابن مسعود عن الأواه، / قال: الدعاء. Zirr reported that Ibn Masud (may Allah be pleased with him), when asked about the word Awwah, defined it as the one who supplicates abundantly.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زربیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لفظ ’’ اواہ ‘‘ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : بہت زیادہ دعا کرنے والا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔

11060

Majma al-Zawaid #11060

وَعَنْ أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ الْعَامِرِيِّ، وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُدْنِيهِ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: مَنْ نَسْأَلُ إِذَا لَمْ نَسْأَلْكَ؟ فَرَقَّ لَهُ فَقَالَ: مَا الْأَوَّاهُ؟ قَالَ: الرَّحِيمُ. قَالَ: فَمَا الْأُمَّةُ؟ قَالَ: الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ. قَالَ: فَمَا الْقَانِتُ؟. قَالَ: الْمُطِيعُ. قَالَ: فَمَا الْمَاعُونُ؟ قَالَ: مَا يَتَعَاوَنُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ. قَالَ: فَمَا التَّبْذِيرُ؟ قَالَ: إِنْفَاقُ الْمَالِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: فِي غَيْرِ حِلِّهِ.

EnglishUnverified translation

وعن أبي العبيدين العامري، وكان ضرير البصر وكان / عبد الله بن مسعود يدنيه، فقال لعبد الله / بن مسعود: من نسأل إذا لم نسألك؟ فرق / له فقال: ما الأواه؟ قال: الرحيم. قال: فما / الأمة؟ قال: الذي يعلم الناس الخير. قال: فما / القانت؟. قال: المطيع. قال: فما الماعون؟ قال: ما / يتعاون الناس بينهم. قال: فما التبذير؟ قال: إنفاق / المال في غير حقه، وفي رواية: في غير / حله. Abu al-Ubaydayn al-Amiri, the blind man whom Abdullah ibn Masud drew near, asked him the meanings of tender-hearted devotion, a guiding community, obedient devotion, mutual aid, and squandering; Ibn Masud answered each in turn, defining waste as spending wealth where it has no right, in one wording where it is unlawful.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدین عامری ، جن کی بینائی کمزور ہو چکی تھی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہیں اپنے قریب رکھتے تھے ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا : اگر ہم آپ سے نہیں پوچھیں گے ‘ تو کس سے پوچھیں گے ‘ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں نرمی محسوس ہوئی انہوں نے دریافت کیا : اواہ سے مراد کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا رحم دل ‘ انہوں نے دریافت کیا : امت سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دے انہوں نے دریافت کیا : قانت سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فرمانبردار انہوں نے دریافت کیا لفظ ماعون سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ کہ لوگ باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں انہوں نے دریافت کیا تبذیر سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مال کو ناحق طور پر خرچ کرنا ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : مال کو ناجائز طور پر خرچ کرنا ۔

11061

Majma al-Zawaid #11061

وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ النَّاسَ كُلَّ يَوْمٍ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ انْتَابَهُ النَّاسُ مِنَ الرَّسَاتِيقِ وَالْقُرَى، فَجَاءَهُ رَجُلٌ أَعْمَى، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ الرِّوَايَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

وفي رواية: كان عبد الله بن مسعود يحدث / الناس كل يوم، فإذا كان يوم الخميس انتابه / الناس من الرساتيق والقرى، فجاءه رجل أعمى، فذكر / نحوه. In another wording, Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) used to address the people daily, with crowds from the towns gathering on Thursdays, when a blind man came and the same exchange of questions and answers followed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے جب جمعرات کا دن آتا تھا ، تو مختلف علاقوں اور مسجدوں سے لوگ ان کے پاس آ جاتے تھے ایک مرتبہ ایک نابینا شخص ان کے پاس آیا ....... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں پہلی دو روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

11062

Majma al-Zawaid #11062

عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «أَتَى الْحَارِثُ بْنُ خَزَمَةَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ (بَرَاءَةٌ) {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} [التوبة: 128] إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، وَاللَّهِ إِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَعَيْتُهَا وَحَفِظْتُهَا. فَقَالَ عُمَرُ: وَأَنَا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، ثُمَّ قَالَ: لَوْ كَانَتْ ثَلَاثَ آيَاتٍ لَجَعَلْتُهَا سُورَةً عَلَى حِدَةٍ، فَانْظُرُوا سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَضَعُوهَا فِيهَا، فَوَضَعْتُهَا فِي آخِرِ سُورَةِ (بَرَاءَةٌ). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن عباد بن عبد الله بن الزبير قال: / «أتى الحارث بن خزمة بهاتين الآيتين من آخر / سورة (براءة) {لقد جاءكم رسول من أنفسكم} [التوبة: / 128] إلى عمر بن الخطاب - رضي الله / عنه - فقال: من معك على هذا؟ قال: / لا أدري، والله إني أشهد لسمعتها من رسول / الله - صلى الله عليه وسلم - ووعيتها / وحفظتها. فقال عمر: وأنا أشهد لسمعتها من رسول / الله - صلى الله عليه وسلم»، ثم قال: / لو كانت ثلاث آيات لجعلتها سورة على حدة، / فانظروا سورة من القرآن فضعوها فيها، فوضعتها في / آخر سورة (براءة). Abbad ibn Abdullah ibn al-Zubayr reported that Harith ibn Khazama brought the two closing verses of Baraa to Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him), swearing he had heard and retained them from the Messenger of Allah (peace be upon him); Umar bore the same witness and ordered them placed with their sura, at the end of Baraa, saying had they been three verses he would have made them a sura of their own.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عباد بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : حارث بن خزمہ سورت بقرہ کی یہ آخری دو آیات ساتھ لے کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ ’’ تمہارے پاس رسول آیا جو تم میں سے ہے ‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس کا گواہ تمہارے علاوہ اور کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم لیکن اللہ کی قسم ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ آیت سنی ہے اسے محفوظ رکھا ہے ‘ اور یاد رکھا ہے ‘ تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ آیت سنی ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر یہ تین آیات ہوتیں تو میں انہیں الگ سے ایک سورت بنا دیتا تم لوگ قرآن کی اس سورت کا جائزہ لو اور اسے اس میں شامل کر دو ‘ تو میں اس کو سورت توبہ کے آخر میں شامل کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11063

Majma al-Zawaid #11063

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُمْ جَمَعُوا الْقُرْآنَ فِي الْمَصَاحِفِ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَكَانَ رِجَالٌ يَكْتُبُونَ، وَيُمْلِي عَلَيْهِمْ أُبَيٌّ، «فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ مِنْ سُورَةِ (بَرَاءَةٌ) {ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ} [التوبة: 127]، فَظَنُّوا أَنَّ هَذَا آخِرُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ لَهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْرَأَنِي بَعْدَهَا آيَتَيْنِ: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [التوبة: 128] إِلَى قَوْلِهِ: {وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ} [التوبة: 129]» ثُمَّ قَالَ: هَذَا آخِرُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَخَتَمَ بِمَا فَتَحَ بِهِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ} [الأنبياء: 25] رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

وعن أبي بن كعب أنهم جمعوا القرآن في / المصاحف في خلافة أبي بكر - رحمه الله / - وكان رجال يكتبون، ويملي عليهم أبي، «فلما / انتهوا إلى هذه الآية من سورة (براءة) {ثم / انصرفوا صرف الله قلوبهم بأنهم قوم لا يفقهون} / [التوبة: 127]، فظنوا أن هذا آخر ما نزل / من القرآن، فقال لهم أبي بن كعب: إن / رسول الله - صلى الله عليه وسلم - / أقرأني بعدها آيتين: {لقد جاءكم رسول من أنفسكم / عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رءوف / رحيم} [التوبة: 128] إلى قوله: {وهو رب العرش / العظيم} [التوبة: 129]» ثم قال: هذا آخر ما / نزل من القرآن، قال: فختم بما فتح به / بالله الذي لا إله إلا هو وهو قول / الله - تبارك وتعالى - {وما أرسلنا من / قبلك من رسول إلا نوحي إليه أنه لا / إله إلا أنا فاعبدون} [الأنبياء: 25] Ubayy ibn Kab (may Allah be pleased with him) reported that when the Quran was gathered into codices under Abu Bakr (may Allah have mercy on him), the scribes halted at the verse ending with hearts turned away, supposing it the close of revelation, but Ubayy told them the Messenger of Allah (peace be upon him) had taught him two further verses after it, closing with the Lord of the Mighty Throne, and that revelation opened and closed with the oneness of Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قرآن کو مصحف کی شکل میں جمع کرنا شروع کیا کچھ لوگ لکھتے تھے اور حضرت ابی رضی اللہ عنہ انہیں املاء کرواتے تھے جب وہ لوگ سورت توبہ کی اس آیت پر پہنچے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ پھر وہ پلٹ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے ‘ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ہیں ‘‘۔ تو لوگوں نے گمان کیا کہ شاید یہ قرآن میں نازل ہونے والا آخری حصہ ہے ( یعنی اس سورت کا آخری حصہ ہے ) تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے اس کے بعد دو آیات مجھے سکھائیں تھیں ( اور وہ یہ ہیں : ارشاد باری تعالٰی ہے : ) ’’ تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم میں سے ہے اور تمہارا مشقت کا شکار ہونا اس پر گراں گزرتا ہے وہ تمہاری ( بھلائی اور بہتری ) کا شدید خواہش مند ہے ‘ اور اہل ایمان کے بارے میں مہربان رحم کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور وہ عظیم پروردگار کا مالک ہے ‘‘۔ پھر حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ یہ قرآن میں سے نازل ہونے والا آخری حصہ ہے ( یعنی اس سورت کا آخری حصہ ہے ) راوی بیان کرتے ہیں : تو اس طرح اس سورت کا اختتام اس چیز کے ذریعے ہوتا ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز کیا تھا کہ اللہ کی ذات وہ ہے جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ’’ اور ہم نے تم سے پہلے جس بھی رسول کو مبعوث کیا تو اس کی طرف یہی بات وحی کی گئی کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو تم لوگ میری عبادت کرو ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر انصاری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11064

Majma al-Zawaid #11064

وَعَنْ أُبَيٍّ - يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ} [التوبة: 128]- الْآيَةَ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ سَيِّئُ الْحِفْظِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

وعن أبي - يعني ابن كعب - رحمه / الله - قال: آخر آية نزلت {لقد جاءكم / رسول من أنفسكم} [التوبة: 128]- الآية. Ubayy ibn Kab (may Allah have mercy on him) said the final verse to be revealed was the one beginning with the coming of a Messenger from among yourselves.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : آخر میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تمہارے پاس رسول آیا جو تم میں سے ہے ‘‘۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ اور خراب حافظے کا مالک ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11065

Majma al-Zawaid #11065

عَنِ ابْنِ عُمَرَ «، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: {فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ} [يونس: 58]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عمر «، عن النبي - صلى / الله عليه وسلم - أنه كان يقرأ: {فبذلك / فليفرحوا هو خير مما يجمعون} [يونس: 58]». Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace be upon him) that he used to recite the verse commanding rejoicing in Allah's bounty as better than all accumulation. > **"In that let them rejoice; it is better than what they accumulate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ یہ آیت پڑھتے تھے : ’’ تو اس حوالے سے انہیں خوش ہونا چاہیے یہ ان سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11066

Majma al-Zawaid #11066

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: {قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ} [يونس: 58] قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ: الْقُرْآنُ، وَرَحْمَتِهِ: أَنْ جَعَلَكُمْ مِنْ أَهْلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

وعن البراء قال: {قل بفضل الله وبرحمته فبذلك / فليفرحوا هو خير مما يجمعون} [يونس: 58] قل / بفضل الله: القرآن، ورحمته: أن جعلكم من أهله. Bara (may Allah be pleased with him) said of the verse commanding rejoicing in Allah's grace and mercy that grace means the Quran and mercy means being made among its people.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم یہ فرما دو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے تو اس حوالے سے ان لوگوں کو خوش ہونا چاہیے یہ ان سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں ‘‘۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہاں اللہ کے فضل سے مراد قرآن ہے ‘ اور اس کی رحمت سے مراد یہ ہے : اللہ تعالیٰ نے تمہیں اہل قرآن بنایا ہے ( یعنی قرآن کا ماننے والا بنایا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11067

Majma al-Zawaid #11067

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} [يونس: 62] قَالَ: يُذْكَرُ اللَّهُ بِذِكْرِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْفَضْلِ بْنِ أَبِي رَوْحٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس «عن النبي - صلى الله / عليه وسلم - {ألا إن أولياء الله لا / خوف عليهم ولا هم يحزنون} [يونس: 62] قال: / يذكر الله بذكرهم». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace be upon him) concerning the verse that no fear shall come upon the friends of Allah nor shall they grieve, explaining their distinguishing mark. > **"Allah is remembered when they are mentioned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ خبردار اللہ تعالیٰ کے دوستوں پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ لوگ غمگین ہوں گے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے ذکر کے ہمراہ اللہ کا ذکر کیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد فضل بن ابوروح کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11068

Majma al-Zawaid #11068

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا قَالَ: "" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يُبَشَّرُهَا الْمُؤْمِنُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

عن عبد الله بن عمرو «عن النبي - / صلى الله عليه وسلم - أنه قال: لهم / البشرى في الحياة الدنيا قال: "" الرؤيا الصالحة / يبشرها المؤمن» "". Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace be upon him) that the glad tidings promised in this life mean a specific kind of vision. > **"They are the righteous dream by which the believer is given glad tidings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ان لوگوں کے لئے دنیاوی زندگی میں خوشخبری ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ سچے خواب ہیں جن کے ذریعے کسی مومن کو بشارت دی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11069

Majma al-Zawaid #11069

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِئَابٍ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: ({لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] قَالَ: "" هِيَ الرُّؤْيَا يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًا.

EnglishUnverified translation

وعن جابر بن عبد الله بن رئاب «عن / النبي - صلى الله عليه وسلم - في / قول الله - تبارك وتعالى -: ({لهم البشرى / في الحياة الدنيا وفي الآخرة} [يونس: 64] قال: / "" هي الرؤيا يراها المسلم أو ترى له». Jabir ibn Abdullah ibn Riab (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace be upon him) concerning the glad tidings in this life and the next that they consist of nocturnal visions in either form. > **"They are the dream a Muslim sees, or which is shown to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله بن رئاب رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ان لوگوں کے لئے دنیاوی زندگی میں خوشخبری ہے ‘ اور آخرت میں “۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد وہ خواب ہیں جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو اسے دکھائے جاتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

11070

Majma al-Zawaid #11070

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" قَالَ لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَا كَانَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ شَيْءٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ فِرْعَوْنَ، فَلَمَّا آمَنَ جَعَلْتُ أَحْشُو فَاهُ حَمْأَةً خَشْيَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

عن أبي هريرة «، عن النبي - صلى / الله عليه وسلم - قال: "" قال لي / جبريل - عليه السلام - ما كان على / وجه الأرض شيء أبغض إلي من فرعون، فلما / آمن جعلت أحشو فاه حمأة خشية أن تدركه / الرحمة» "". Abu Hurayra (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace be upon him) a saying of Gabriel (peace be upon him) about Pharaoh's final moment of professed faith and the fear that mercy might overtake him. > **"Nothing on earth was more hateful to me than Pharaoh; when he professed faith, I filled his mouth with mud lest mercy reach him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جبرائیل نے مجھے بتایا کہ روئے زمین پر میرے نزدیک فرعون سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی نہیں تھا جب وہ ایمان لانے لگا ‘ تو میں اس کے منہ میں گارا ٹھونسنے لگا کہ کہیں رحمت اس تک نہ پہنچ جائے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

11071

Majma al-Zawaid #11071

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّ فِرْعَوْنَ كَانَ أَثْرَمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ يَحْيَى، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

وعن أبي بكر الصديق قال: أخبرت أن فرعون / كان أثرم. Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be pleased with him) said he was informed that Pharaoh's front teeth were missing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ فرعون کے سامنے کے دانت نہیں تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن یحیی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

11072

Majma al-Zawaid #11072

«عَنْ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَسْرَعَ إِلَيْكَ الشَّيْبُ، قَالَ: "" شَيَّبَتْنِي الْوَاقِعَةُ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَيَأْتِي فِي سُورَةِ الْوَاقِعَةِ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّ عِكْرِمَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ، وَزَادَ: "" وَسُورَةُ هُودٍ "".

EnglishUnverified translation

«عن أبي بكر قال: قلت: يا رسول الله، / لقد أسرع إليك الشيب، قال: "" شيبتني الواقعة / وعم يتساءلون وإذا الشمس كورت». Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said he remarked to the Messenger of Allah (peace be upon him) how swiftly grey hair had come upon him, and the Prophet (peace be upon him) named the chapters responsible. > **"Al-Waqia, Amma yatasaalun, and Idha al-shamsu kuwwirat have turned me grey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے بال تیزی سے سفید ہو رہے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا : سورت واقعہ سورت عم یتسالون اور سورت تکویر نے میرے بال سفید کر دیے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں آگے چل کر سورت واقعہ سے متعلق باب میں بھی اس نوعیت کی روایت آئے گی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ تاہم عکرمہ نامی راوی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” سورت ہود نے ‘‘۔

11073

Majma al-Zawaid #11073

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ شِبْتَ، قَالَ: "" شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَأَخَوَاتُهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

وعن عقبة بن عامر «أن رجلا قال: يا / رسول الله، قد شبت، قال: "" شيبتني هود / وأخواتها» "". Uqba ibn Amir (may Allah be pleased with him) reported that when a man remarked upon grey hair, the Prophet (peace be upon him) attributed it to a chapter and its like. > **"Hud and its sisters have turned me grey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بال سفید ہو رہے ہیں آپ نے فرمایا : ’’ سورت ہود اور اس جیسی سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11074

Majma al-Zawaid #11074

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا شَيَّبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَالْوَاقِعَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

وعن عبد الله - يعني ابن مسعود - / «أن أبا بكر سأل النبي - صلى الله / عليه وسلم -: ما شيبك يا رسول الله؟ / قال: "" شيبتني هود والواقعة». Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) reported that Abu Bakr asked the Prophet (peace be upon him) what had turned him grey, and he named two chapters. > **"Hud and al-Waqia have turned me grey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ! آپ کے بال کیوں سفید ہو رہے ہیں آپ نے فرمایا : سورت ہود اور سورت واقعہ نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11075

Majma al-Zawaid #11075

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَأَخَوَاتُهَا: الْوَاقِعَةُ وَالْحَاقَّةُ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سَلَامٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

وعن سهل بن سعد قال: قال رسول الله / - صلى الله عليه وسلم -: "" «شيبتني / هود وأخواتها: الواقعة والحاقة وإذا الشمس كورت» "". Sahl ibn Sad (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) named Hud, its sisters, and three of them explicitly as the cause of his grey hair. > **"Hud and its sisters have turned me grey: al-Waqia, al-Haqqa, and Idha al-shamsu kuwwirat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سورت ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں سورت واقعہ سورت حاقہ اور سورت تکویر نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلام عطار ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

11076

Majma al-Zawaid #11076

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ فِي قَوْلِ اللَّهِ - جَلَّ ذِكْرُهُ -: "" وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ "" أَنَّكَ أَنْتَ التَّالِي؟ فَقَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، وَلَكِنَّهُ لِسَانُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

عن محمد بن علي بن أبي طالب قال: / قلت لعلي بن أبي طالب: إن الناس يزعمون / في قول الله - جل ذكره -: "" / ويتلوه شاهد منه "" أنك أنت التالي؟ فقال: / وددت أني أنا هو، ولكنه لسان محمد - / صلى الله عليه وسلم. Muhammad ibn Ali ibn Abi Talib said he asked Ali whether the witness reciting from Him named in the verse meant Ali himself; Ali replied that he wished it were so, but it means the tongue of Muhammad (peace be upon him).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن علی بن ابوطالب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا لوگ یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مراد آپ ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور ان میں سے ایک گواہ اس کی تلاوت کرے گا ‘‘۔ تو تلاوت کرنے والے فرد آپ ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ وہ میں ہوتا لیکن اس سے مراد حضرت محمد ( ﷺ ) کی زبان ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11077

Majma al-Zawaid #11077

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَأْتِي اللَّهُ بِالْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي حِجَابِهِ فَيَقُولُ لَهُ: اقْرَأْ صَحِيفَتَكَ، فَيَقْرَأُ وَيُقَرِّرُهُ بِذَنْبٍ ذَنْبٍ، وَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ؟ أَتَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ، فَيَقْرَأُ، فَيَلْتَفِتُ يَمْنَةً وَيَسْرَةً، فَيَقُولُ: لَا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا عَبْدِي، إِنَّكَ فِي سِتْرِي، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَى ذُنُوبِكَ غَيْرِي، اذْهَبْ فَقَدْ غَفَرْتُهَا لَكَ. فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ. وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُقَالُ عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ: {هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [هود: 18]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ بَهْرَامٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

عن سعيد بن جبير قال: قلت لابن عمر: / حدثني حديثا سمعته من رسول الله - صلى / الله عليه وسلم - فقال: سمعت رسول الله / - صلى الله عليه وسلم - يقول: «يأتي / الله بالعبد يوم القيامة حتى يجعله في حجابه / فيقول له: اقرأ صحيفتك، فيقرأ ويقرره بذنب ذنب، / ويقول: أتعرف؟ أتعرف؟ فيقول: نعم يا رب، فيقرأ، / فيلتفت يمنة ويسرة، فيقول: لا بأس عليك يا / عبدي، إنك في ستري، ليس بيني وبينك أن / يطلع على ذنوبك غيري، اذهب فقد غفرتها لك. / فيقال له: ادخل الجنة. وأما الكافر فيقال على / رؤوس الأشهاد: {هؤلاء الذين كذبوا على ربهم ألا / لعنة الله على الظالمين} [هود: 18]». Said ibn Jubayr said he asked Ibn Umar for a saying heard from the Messenger of Allah (peace be upon him), and Ibn Umar described the believer brought near on the Last Day, made to read his record and acknowledge each sin, then pardoned in concealment and admitted to the Garden, while the disbeliever is exposed before witnesses with the verse of the curse. > **"Read your record. Do you recognize it? No harm upon you, My servant; you are in My concealment, and none besides Me has seen your sins. Go, I have forgiven them for you. Enter Paradise. These are those who lied against their Lord; indeed the curse of Allah is upon the wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو ‘ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک بندے کو لے کر آئے گا یہاں تک کہ اسے حجاب میں رکھ دے گا اور اس سے فرمائے گا کہ تم اپنے نامہ اعمال کو پڑھو وہ پڑھے گا اور ایک ایک کر کے اپنے گناہوں کا اقرار کرتا جائے گا پروردگار دریافت کرے گا کیا تم نے اس کو پہچان لیا ۔ کیا تو نے اس کو پہچان لیا ؟ وہ عرض کرے گا : جی ہاں ۔ اے میرے پروردگار ! وہ بندہ پڑھے گا اور ساتھ ساتھ دائیں بائیں بھی دیکھے گا ‘ تو پروردگار فرمائے گا اے میرے بندے تمہارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے تم میرے پردے میں ہو میرے اور تمہارے درمیان اور کوئی نہیں ہے جو میرے علاوہ تمہارے گناہوں پر مطلع ہو سکے اب تم جاؤ میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے پھر اس بندے سے کہا جائے گا ۔ تم جنت میں داخل ہو جاؤ لیکن جہاں تک کافروں کا تعلق ہے ‘ تو انہیں سب لوگوں کے سامنے یہ کہا جائے گا ‘‘۔ ’’ یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے اپنے پروردگار کی طرف جھوٹی بات منسوب کی خبردار ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن بہرام ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11078

Majma al-Zawaid #11078

عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَسَلُوا نَبِيَّكُمْ عَنِ الْآيَاتِ، هَؤُلَاءِ قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ أَنْ يَبْعَثَ لَهُمْ نَاقَةً فَفَعَلَ، فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَتَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمَ وِرْدِهَا، وَيَحْلِبُونَ مِنْ لَبَنِهَا مِثْلَ الَّذِي كَانُوا يُصِيبُونَ مِنْ غِبِّهَا، ثُمَّ تَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَقَرُوهَا، فَأَجَّلَهُمُ اللَّهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَكَانَ وَعْدُ اللَّهِ غَيْرَ مَكْذُوبٍ، ثُمَّ جَاءَتْهُمُ الصَّيْحَةُ فَأَهْلَكَ اللَّهُ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا رَجُلًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُوَ؟ قَالَ: أَبُو رِغَالٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ مُخْتَصَرَةٌ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ.

EnglishUnverified translation

عن جابر «أن رسول الله - صلى الله / عليه وسلم - لما نزل الحجر في غزوة / تبوك قام فخطب الناس، فقال: "" يا أيها / الناس لا تسلوا نبيكم عن الآيات، هؤلاء قوم / صالح سألوا نبيهم أن يبعث لهم ناقة ففعل، / فكانت ترد من هذا الفج فتشرب ماءهم يوم / وردها، ويحلبون من لبنها مثل الذي كانوا يصيبون / من غبها، ثم تصدر من هذا الفج، فعقروها، / فأجلهم الله ثلاثة أيام، وكان وعد الله غير / مكذوب، ثم جاءتهم الصيحة فأهلك الله من كان / منهم بين السماء والأرض إلا رجلا كان في / حرم الله، فمنعه حرم الله من عذاب الله / "". قيل: يا رسول الله، من هو؟ قال: / أبو رغال». Jabir (may Allah be pleased with him) reported that when the Messenger of Allah (peace be upon him) alighted at al-Hijr during Tabuk, he warned the people against demanding signs, recounting how the people of Salih were given the she-camel with its appointed watering, hamstrung it, were granted three days, then destroyed by the Blast except one man sheltered by the sanctuary, whom he then named. > **"O people, do not ask your Prophet for signs. Ask instead about Abu Righal: he is the one the sanctuary of Allah shielded from Allah's punishment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک کے دوران ہجر نامی بستی میں پہنچے تو آپ وہاں کھڑے ہوئے اور آپ نے وہاں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! تم اپنے نبی سے نشانیوں ( یعنی معجزات ) کے بارے میں درخواست نہ کرو یہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ان لوگوں نے اپنے نبی سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے ایک اونٹنی کو بھجوائیں انہوں نے ایسا کر دیا وہ اس راستے سے آتی تھی اور اپنی آمد کے مخصوص دن ان لوگوں کا پانی پیا کرتی تھی یہ لوگ اس کا دودھ دوہ لیتے تھے جو اتنا ہوتا تھا ، جو وقفے والے دن میں کام آ سکے ‘ پھر وہ اس راستے سے واپس چلی جاتی تھی ، تو ان لوگوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تین دن کی مہلت دی اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا پھر ایک چنگھاڑ نے ان لوگوں کو اپنی گرفت میں لیا اور ان میں سے آسمان اور زمین کے درمیان جتنے بھی لوگ تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاکت کا شکار کر دیا صرف ایک شخص بچا جو اللہ کے حرم کی حدود میں تھا ‘ تو اللہ کے حرم نے اسے اللہ کے عذاب سے بچا لیا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون شخص ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابورغال ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس روایت کے دوسرے طرق جو مختلف روایت کی شکل میں ہیں وہ غزوہ تبوک سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

11079

Majma al-Zawaid #11079

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ قَالَ: امْرَأَةٌ جَاءَتْ تُبَايِعُهُ فَأَدْخَلْتُهَا الدَّوْلَجَ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ؟ فَقَالَ: وَيْحَكَ، لَعَلَّهَا مُغِيبَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَائْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ، فَقَالَ: لَعَلَّهَا مُغِيبَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ. «ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَعَلَّهَا مُغِيبَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: 114] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِي خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ فَضَرَبَ عُمَرُ صَدْرَهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ: لَا وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ، بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقَ عُمَرُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَالَ فِيهِ: «فَرَفَعَ عُمَرُ يَدَهُ فَضَرَبَ صَدْرَهُ فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ وَلَا كَرَامَةً، وَلَكِنْ لِلنَّاسِ عَامَّةً، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" صَدَقَ عُمَرُ»، وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَالْكَبِيرِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَإِسْنَادُ الْأَوْسَطِ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس أن رجلا جاء إلى عمر / قال: امرأة جاءت تبايعه فأدخلتها الدولج، فأصبت منها / ما دون الجماع؟ فقال: ويحك، لعلها مغيبة في / سبيل الله؟ قال: نعم. قال: فائت أبا بكر / فاسأله، فقال: لعلها مغيبة في سبيل الله؟ قال: / فقال مثل قول عمر. «ثم أتى النبي - / صلى الله عليه وسلم - فقال له مثل / ذلك، فقال: لعلها مغيبة في سبيل الله؟ ونزل / القرآن {أقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل} / [هود: 114] إلى آخر الآية، فقال: يا رسول / الله، ألي خاصة أم للناس عامة؟ فضرب عمر / صدره بيده، فقال: لا ولا نعمة عين، بل / للناس عامة، فقال رسول الله - صلى الله / عليه وسلم -: "" صدق عمر». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that a man confessed to Umar, then to Abu Bakr, then to the Prophet (peace be upon him) that he had taken a trading woman into a storeroom and done with her everything short of intercourse; each asked whether she was one whose husband was absent in Allah's path, then the verse commanding prayer at the ends of the day came down, and when the man asked whether it was for him alone, Umar struck his chest declaring it for all people, which the Prophet (peace be upon him) confirmed. > **"Perhaps she is one whose husband is absent in the path of Allah? Umar has spoken the truth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا ایک عورت اس کے پاس سودا کرنے کے لئے آئی وہ اسے لے کر ایک کوٹھڑی میں داخل ہوا اور صحبت کرنے کے علاوہ اس کے ساتھ برا کام کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو شاید وہ کوئی ایسی عورت ہو گی جس کا شوہر اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہو گا اس نے کہا : جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں دریافت کرو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : شاید وہ ایسی عورت ہو گی جس کا شوہر اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہو گا ، پھر انہوں نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی مانند ارشاد فرمایا : پھر وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کی خدمت میں یہ بات بیان کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شاید وہ ایسی عورت ہو گی جس کا شوہر اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہو گا ، پھر اس دوران قرآن کا یہ حکم نازل ہو گیا ۔ ’’ دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے ایک حصے میں نماز قائم کرو ‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میرے لئے مخصوص ہے یا لوگوں کے لئے عمومی ہے ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا جی نہیں تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوں بلکہ یہ لوگوں کے لئے عمومی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ بلند کیا ‘ اور اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا جی نہیں اللہ کی قسم ! کوئی کرامت نہیں ہے بلکہ یہ حکم لوگوں کے لئے عمومی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے اور ارشاد فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام احمد اور معجم کبیر کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ‘ اور معجم اوسط کی سند ضعیف ہے ۔

11080

Majma al-Zawaid #11080

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ: أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِي مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ: ادْخُلِي الدَّوْلَجَ حَتَّى أُعْطِيَكِ. فَدَخَلَتْ فَقَبَّلَهَا وَغَمَزَهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي مُغِيبٌ، فَتَرَكَهَا.

EnglishUnverified translation

وفي رواية عند أحمد: أن امرأة أتت رجلا / تشتري منه شيئا، فقال: ادخلي الدولج حتى أعطيك. / فدخلت فقبلها وغمزها، فقالت: إني مغيب، فتركها. In Ahmad's wording, a woman came to buy something, the man lured her into the storeroom, kissed and embraced her, and when she protested her protected status he released her.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک عورت اس سے کوئی چیز خریدنے کے لئے آئی اس نے کہا : تم گودام میں داخل ہو جاؤ تاکہ میں وہ چیز تمہیں دے دوں عورت اندر داخل ہوئی تو اس شخص نے اس کا بوسہ لیا اور اسے ساتھ لگا لیا اس عورت نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو میں ایسی عورت ہوں کہ میرا شوہر موجود نہیں ہے ‘ تو اس شخص نے اسے چھوڑ دیا ۔

11081

Majma al-Zawaid #11081

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ فَأَذِنَ لَهُ، فَانْطَلَقَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ، فَإِذَا بِالْمَرْأَةِ عَلَى غَدِيرِ مَاءٍ تَغْتَسِلُ، فَلَمَّا جَلَسَ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ ذَهَبَ يُحَرِّكُ ذَكَرَهُ، فَإِذَا بِهِ هُدْبَةُ، فَقَامَ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ "". فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: 114]» - الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

وعن ابن عباس «أن رجلا من أصحاب النبي / - صلى الله عليه وسلم - كان تحته / امرأة، فاستأذن النبي - صلى الله عليه وسلم / - في حاجة فأذن له، فانطلق في يوم / مطير، فإذا بالمرأة على غدير ماء تغتسل، فلما / جلس منها مجلس الرجل من المرأة ذهب يحرك / ذكره، فإذا به هدبة، فقام فأتى النبي - / صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، فقال / له النبي - صلى الله عليه وسلم -: / "" صل أربع ركعات "". فأنزل الله - / تبارك وتعالى - {أقم الصلاة طرفي النهار وزلفا / من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات} [هود: 114]» / - الآية. Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that a Companion, permitted leave for an errand, came upon a woman bathing at a rain-filled pool on a wet day, drew near her as a man draws near a woman, then found himself impotent; he confessed to the Prophet (peace be upon him), who commanded prayer, and then Allah revealed the verse that good deeds remove evil ones. > **"Pray four rakahs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی اہلیہ تھی ان صاحب نے کسی کام کے سلسلے میں جانے کے لئے نبی اکرم ﷺ سے اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی وہ صاحب ایک بارش والے دن چلے گئے وہاں ایک عورت ایک کنویں کے پاس غسل کر رہی تھی جب وہ صاحب اس عورت کے پاس اتنا قریب ہو گئے جس طرح کوئی مرد صحبت کرتے وقت عورت کے پاس ہوتا ہے ‘ اور وہ اپنی شرمگاہ کو حرکت دینے لگے ‘ تو وہ شرمگاہ منتشر نہیں ہوئی وہ صاحب اٹھے اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم چار رکعت ادا کرو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی :’’ تم دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11082

Majma al-Zawaid #11082

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَمْ أَرَ شَيْئًا أَحْسَنَ طَلَبًا وَلَا أَسْرَعَ إِدْرَاكًا مِنْ مُصِيبَةٍ حَدِيثَةٍ لِذَنْبٍ قَدِيمٍ {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود: 114]» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَمْرٍو النُّكْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَكَذَلِكَ أَبُوهُ.

EnglishUnverified translation

وعن ابن عباس عن النبي - صلى الله / عليه وسلم - قال: "" «لم أر شيئا / أحسن طلبا ولا أسرع إدراكا من مصيبة حديثة / لذنب قديم {إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى / للذاكرين} [هود: 114]» "". Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported from the Prophet (peace be upon him) a comparison of how swiftly a new act of obedience overtakes an old offense, tied to the verse that good deeds remove evil deeds. > **"I have never seen anything that seeks so well nor overtakes so swiftly as a fresh affliction for an old sin. Indeed good deeds remove evil deeds; that is a reminder for the mindful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ میں نے اس سے زیادہ اچھے طریقے سے پیچھا کرنے والی اور تیزی سے پہنچنے والی کوئی چیز نہیں دیکھی جتنی تیزی کے ساتھ نئی نیکی ‘ پرانے گناہ تک پہنچتی ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مالک بن یحییٰ بن عمرو نکری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے اس کے باپ کی بھی یہی حالت ہے ۔

11083

Majma al-Zawaid #11083

عَنْ جَرِيرٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ} [هود: 117] قَالَ: وَأَهْلُهَا يُنْصِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ؛ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْكُوفِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

عن جرير قال: لما نزلت {وما كان ربك / ليهلك القرى بظلم وأهلها مصلحون} [هود: 117] قال: / وأهلها ينصف بعضهم بعضا. Jarir (may Allah be pleased with him) said when the verse declaring that the Lord does not destroy towns unjustly while their people set things right came down, he explained its meaning as mutual fairness among the inhabitants.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اور تمہارا پروردگار کسی بستی کو ظلم کے طور پر ہلاک کرنے والا نہیں ہے جبکہ وہاں کے رہنے والے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں ‘‘۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : وہاں کے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف سے کام لیتے ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم کوفی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔