Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 31 · Chapter 6

Book of Exegesis

Hadith 11004–11043

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

11004

Majma al-Zawaid #11004

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا} [الأنعام: 142]. قَالَ: الْحَمُولَةُ مَا حَمَلَ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْفَرْشُ الصِّغَارُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه said concerning {Of cattle carriers and bedding} [Al-Anam: 142] carriers are what bears of camels and bedding are the small.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جانوروں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور فرش ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہاں بوجھ اٹھانے والے سے مراد اونٹ ہیں جو بوجھ وغیرہ اٹھاتے ہیں ‘ اور فرش سے مراد چھوٹے جانور ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11005

Majma al-Zawaid #11005

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: "" هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ "". ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" هَذِهِ سُبُلٌ مُتَفَرِّقَةٌ، عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ ""، ثُمَّ قَرَأَ: {وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ} [الأنعام: 153]». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said the Messenger ﷺ drew a line then said this is Allah's path, then lines right and left saying these are scattered paths with a devil calling to each, then reciting {This is My straight path, follow it, follow not paths splitting you from His path} [Al-Anam: 153]. > **"This is the path of Allah. These are scattered paths, upon each path among them is a devil calling to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے ایک لکیر لگائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اللہ کا راستہ ہے پھر آپ نے اس کے دائیں اور بائیں طرف کچھ اور لکیریں لگائیں اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ’’ یہ دوسرے راستے ہیں جن میں سے ہر ایک راستے پر شیطان موجود ہے جو اس راستے کی طرف دعوت دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے ‘ تو تم اس کی پیروی کرو اور تم مختلف راستوں کی پیروی نہ کرو ورنہ تم اصل راستے سے بھٹک جاؤ گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

11006

Majma al-Zawaid #11006

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: 158]، قَالَ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مَعَ الْقَمَرِ مِنْ مَغْرِبِهَا كَالْبَعِيرَيْنِ الْقَرِينَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، إِحْدَاهُمَا هَذِهِ، وَفِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالْأُخْرَى مُخْتَصَرَةٌ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said concerning {Do they await but angels come or your Lord comes or signs of your Lord come...} [Al-Anam: 158] it is the rising of sun with moon from its west as two harnessed camels.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ صرف اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں ان کے پاس فرشتے آ جائیں یا تمہارا پروردگار آ جائے یا تمہارے پروردگار کی کوئی نشانی آ جائے جس دن تمہارے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آ گئی تو اس دن کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا جس نے اپنے ایمان میں اس سے پہلے کوئی بھلائی نہیں کی تھی ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد سورج کا چاند کے ہمراہ مغرب کی طرف سے نکل آنا ہے جس طرح دو ساتھ چلنے والے اونٹ ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک یہ ہے ‘ اور اس میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے جبکہ دوسری روایت مختصر ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11007

Majma al-Zawaid #11007

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ: {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ} [الأنعام: 158]، قَالَ: "" طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَلَهُ طُرُقٌ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported the Prophet ﷺ explained {The day some signs of your Lord come} [Al-Anam: 158] as rising of the sun from its setting place. > **"Rising of the sun from its setting place."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جس دن تمہارے پروردگار کی نشانیوں میں سے ایک آ جائے گی ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں اس کے مختلف طرق مذکور ہیں ۔

11008

Majma al-Zawaid #11008

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَائِشَةَ: "" يَا عَائِشَةُ {إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا} [الأنعام: 159] هُمْ أَصْحَابُ الْبِدَعِ وَأَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ، لَيْسَ لَهُمْ تَوْبَةٌ، أَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَهُمْ مِنِّي بَرَاءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه reported the Messenger ﷺ told Aishah رضي الله عنها concerning {Those who split their religion and became sects} [Al-Anam: 159] they are people of innovation and desires, no repentance for them, he is free of them and they free of him. > **"O Aishah, they are people of innovation and desires, no repentance for them. I am free of them and they are free of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کر دیا اور وہ مختلف گروہوں کی شکل میں ہو گئے یہ بدعتی لوگ اور نفسانی خواہشات کے پیرو کار لوگ ہیں ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہو گی میں ان سے لا تعلق ہوں اور وہ لوگ مجھ سے لاتعلق ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

11009

Majma al-Zawaid #11009

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: {إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ} [الأنعام: 159]، قَالَ: "" هُمْ أَهْلُ الْبِدَعِ وَالْأَهْوَاءِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ مُعَلِّلِ بْنِ نُفَيْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported the Prophet ﷺ said concerning {Those who split their religion and became sects, you are not of them in anything} [Al-Anam: 159] they are people of innovation and desires in this nation. > **"They are people of innovation and desires in this nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کیا اور وہ مختلف گروہوں کی شکل میں ہو گئے تم ان کے حوالے سے ( کسی چیز کے ذمہ دار ) نہیں ہو ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد اہل بدعت ہیں ، اور نفسانی خواہشات کے پیروکار لوگ ہیں جو اس امت سے تعلق رکھتے ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معلل بن نفیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

11010

Majma al-Zawaid #11010

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَعْرَابِ {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [الأنعام: 160]. فَقَالَ رَجُلٌ: فَمَا لِلْمُهَاجِرِينَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي مُضَاعَفَةِ الْحَسَنَةِ إِلَى أَلْفَيْ أَلْفٍ فِي كِتَابِ التَّوْبَةِ وَالْأَذْكَارِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما said this verse {Whoever brings a good deed has ten likes of it} [Al-Anam: 160] descended about bedouins. Asked about emigrants, he said theirs is greater: {Allah wrongs not an atom, if good He doubles it and gives from Him immense reward} [An-Nisa: 40].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت دیہاتیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی : ’’ جو شخص ایک نیکی کرے گا اُسے اس کا دس گنا اجر ملے گا ‘‘۔ ایک صاحب بولے : اے ابوعبدالرحمن مہاجرین کو کیا اجر و ثواب حاصل ہو گا ‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : وہ اس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو گا ( جس کا ذکر اس آیت میں ہے ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ذرے کے وزن جتنا بھی ظلم نہیں کرے گا اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اس کو دگنا کر دے گا اور اپنی طرف سے عظیم اجر بھی عطا کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ نیکیوں کے کئی گنا ہونے یہاں تک کہ ان کے کئی لاکھ ہونے کے بارے میں حدیث کتاب التوبہ اور کتاب الاذکار میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔

11011

Majma al-Zawaid #11011

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَهُمْ عُرَاةٌ، يُصَفِّرُونَ وَيُصَفِّقُونَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ} [الأعراف: 32] فَأُمِرُوا بِالثِّيَابِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said Quraysh circumambulated the House naked, whistling and clapping, so Allah revealed {Say: Who forbade Allah's adornment} [Al-Araf: 32], and they were commanded to wear garments.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے قریش بیت اللہ کا برہنہ ہو کر طواف کرتے تھے وہ سیٹیاں بجاتے تھے ‘ اور تالیاں بجایا کرتے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ تم یہ فرما دو کہ کس نے اللہ کی زینت کو حرام قرار دیا ہے ‘‘۔ تو ان لوگوں کو کپڑے پہنے کا حکم دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11012

Majma al-Zawaid #11012

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ {حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ} [الأعراف: 40] قَالَ: زَوْجُ النَّاقَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ وَرِجَالُ إِحْدَاهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَالْأُخْرَى ضَعِيفَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه recited {Until the camel passes through the needle's eye} [Al-Araf: 40] saying it means the husband of the she-camel.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ یہ آیت پڑھا کرتے تھے : ’’ یہاں تک کہ جمل سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد اونٹنی کا شوہر ( یعنی نر اونٹ ) ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال میں البتہ ابراہیم نخعی نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ‘ اور دوسری روایت ضعیف ہے ۔

11013

Majma al-Zawaid #11013

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ، فَقَالَ: "" هُمْ رِجَالٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُمْ عُصَاةٌ لِآبَائِهِمْ، فَمَنَعَتْهُمُ الشَّهَادَةُ أَنْ يَدْخُلُوا النَّارَ، وَمَنَعَتْهُمُ الْمَعْصِيَةُ أَنْ يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ، وَهُمْ عَلَى سُورٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ حَتَّى تَذْبُلَ لُحُومُهُمْ وَشُحُومُهُمْ حَتَّى يَفْرُغَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِ الْخَلَائِقِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ حِسَابِ خَلْقِهِ فَلَمْ يَبْقَ غَيْرُهُمْ تَغَمَّدَهُمْ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ فَأَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُخَلَّدٍ الرُّعَيْنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri رضي الله عنه said the Messenger ﷺ was asked about companions of the Heights and said they are men killed in Allah's path while disobedient to parents; martyrdom barred them from Fire and disobedience barred them from Paradise; they stand on a wall between Paradise and Fire until flesh withers till Allah finishes reckoning, then enfolds them in mercy admitting them to Paradise. > **"They are men killed in the path of Allah while disobedient to their parents. Martyrdom barred them from entering Fire, and disobedience barred them from entering Paradise, and they are upon a wall between Paradise and Fire until their flesh and fat wither, until Allah finishes reckoning creatures; when finished and none remains but them, He enfolds them in mercy and admits them to Paradise by His mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے اصحاب اعراف کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے گا یہ اپنے باپ دادا کے نافرمان ہوں گے ‘ تو شہادت انہیں اس چیز سے روک دے گی کہ وہ جہنم میں جائیں اور گناہ ( یا آبا ؤ اجداد کی نافرمانی ) انہیں اس چیز سے روک دے گی کہ وہ جنت میں داخل ہوں ‘ تو وہ لوگ جنت اور جہنم کے درمیان موجود فصیل پر ہوں گے یہاں تک کہ ان کے گوشت اور چربی پگھل جائیں گے یہ اس وقت تک ہو گا جب تک اللہ تعالیٰ مخلوق کا حساب کر کے فارغ ہو گا جب وہ اپنی مخلوق کا حساب کر کے فارغ ہو جاتا ‘ تو ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا ہو گا ‘ تو اس وقت اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لے گا اور اپنی رحمت کے وسیلے سے انہیں جنت میں داخل کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلد رعینی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11014

Majma al-Zawaid #11014

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ، قَالَ: "" قَوْمٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْصِيَةِ آبَائِهِمْ، فَمَنَعَتْهُمُ الْجَنَّةَ مَعْصِيَةُ آبَائِهِمْ، وَمَنَعَتْهُمُ النَّارَ قَتْلُهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn Abdur-Rahman al-Madani from his father reported the Messenger ﷺ asked about companions of the Heights said they are a people killed in Allah's path disobeying parents; disobedience barred Paradise and killing in Allah's path barred Fire. > **"A people killed in the path of Allah disobeying their parents; disobedience to parents barred them Paradise, and killing in the path of Allah barred them Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن عبدالرحمن بن مدنی اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ سے اصحاب اعراف کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائیں گے اور یہ اپنے باپ دادا کے نافرمان ہوں گے اور باپ دادا کی نافرمانی ان کو جنت میں جانے سے روک دے گی اور اللہ کی راہ میں قتل ہونا انہیں جہنم میں جانے سے روک دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کا ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11015

Majma al-Zawaid #11015

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ حِمْصَ، فَآوَانِي اللَّيْلُ إِلَى الْبَقِيعَةِ، فَحَضَرَنِي مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَقَرَأْتُ هَذِهِ الْآيَةَ مِنَ الْأَعْرَافِ {إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ} [الأعراف: 54] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: احْرُسُوهُ الْآنَ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ رَكِبْتُ دَابَّتِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Busr رضي الله عنه said leaving Hims night sheltered him at al-Buqayhah where earth-dwellers attended him. He recited this verse of al-Araf {Your Lord is Allah Who created heavens and earth} [Al-Araf: 54] to its end, whereupon they told each other to guard him till morning, and at dawn he mounted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حمص سے نکلا رات کو میں جنگل میں ایک جگہ پر ٹھہرا تو اہل زمین میں سے جنات ) میرے پاس آ گئے میں نے سورت اعراف کی یہ آیت تلاوت کی : ’’ بے شک تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک تلاوت کی تو ان ہوائی چیزوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : اب تم صبح ہونے تک اس کی حفاظت کرو جب صبح ہوئی تو میں اپنی سواری پر سوار ہوا ( اور وہاں سے روانہ ہو گیا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

11016

Majma al-Zawaid #11016

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَنَيِّفٌ، فَفَتَحَ اللَّهُ مَكَّةَ وَحُنَيْنًا، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ حُنَيْنٍ وَالطَّائِفِ أَبْصَرَ شَجَرَةً كَانَ يُنَاطُ بِهَا السِّلَاحُ فَسُمِّيَتْ ذَاتَ أَنْوَاطٍ، وَكَانَتْ تُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْصَرَفَ عَنْهَا فِي يَوْمٍ صَائِفٍ إِلَى ظِلٍّ هُوَ أَدْنَى مِنْهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لِهَؤُلَاءِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا السُّنَنُ، قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ} [الأعراف: 138] قَالَ: {أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 140 - 30220]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Awf رضي الله عنه said they campaigned with the Messenger ﷺ year of conquest over a thousand, Allah opening Makkah and Hunayn, then between Hunayn and Taif seeing a tree hung with weapons called Dhat Anw at worshipped besides Allah. On a hot day the Messenger ﷺ turned to nearer shade when a man asked make for us a Dhat Anw at like theirs. He replied these are the ways, by Him in Whose Hand is my soul you said as Banu Israil said to Musa {Make for us a god as they have gods} [Al-Araf: 138], reciting {Shall I seek for you a god other than Allah while He favored you over worlds} [Al-Araf: 140]. > **"They are the ways. By Him in Whose Hand is my soul, you have said as Banu Israil said to Musa: Make for us a god as they have gods."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فتح مکہ کے غزوہ میں شرکت کی ہم ایک ہزار سے زیادہ افراد تھے اللہ تعالیٰ نے مکہ اور حنین فتح کروا دیا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے حنین اور طائف کے درمیان ایک درخت ملاحظہ فرمایا جس پر ہتھیار لٹکائے جاتے تھے اور جس کو ذات انواط کہا جاتا تھا اور اس کی عبادت کی جاتی تھی جب نبی اکرم ﷺ نے اسے ملاحظہ فرمایا تو آپ اس سے ہٹ گئے اور ایک اور سائے میں آ گئے جو اس کے قریب موجود تھا یہ ایک گرم دن کی بات ہے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے بھی ذات انواط مقرر کر دیں جس طرح ان لوگوں کا ذات الواط ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا : ’’ یہ طور طریقے ہیں اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ تم لوگ وہی بات کہو گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ آپ ہمارے لئے ایک معبود بنا دیں جس طرح ان لوگوں کا ایک معبود ہے ‘ تو انہوں نے یہ کہا تھا : ’’ کیا میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں جبکہ اس نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت عطا کی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ‘ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔

11017

Majma al-Zawaid #11017

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَمَّا تَجَلَّى اللَّهُ لِمُوسَى بْنِ عِمْرَانَ تَطَايَرَتْ سَبْعَةُ أَجْبَالٍ، فَفِي الْحِجَازِ مِنْهَا خَمْسَةٌ، وَفِي الْيَمَنِ اثْنَانِ، وَفِي الْحِجَازِ أُحُدٌ وَثَبِيرٌ وَحِرَاءٌ وَثَوْرٌ وَوَرْقَانُ، وَفِي الْيَمَنِ حَصُورٌ وَصَبِيرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو الْمَكِّيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported the Messenger ﷺ said when Allah manifested to Musa ibn Imran seven mountains scattered, five in Hijaz and two in Yemen: in Hijaz Uhud, Thabir, Hira, Thawr and Warqan, in Yemen Hasur and Sabir. > **"When Allah manifested to Musa ibn Imran, seven mountains scattered: in Hijaz five of them, and in Yemen two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے تجلی کی تو سات پہاڑ اڑ کر بن گئے جن میں سے پانچ حجاز میں ہیں ‘ اور دو یمن میں حجاز میں یہ ہیں احد ‘ ثبیر ‘ حرا ‘ ثور اور ورقان اور یمن میں یہ ہیں حصور اور صبیر ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو مکی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

11018

Majma al-Zawaid #11018

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُئِلَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسْأَلَةً، فَأُعْطِيَهَا مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْلُهُ: {وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا} [الأعراف: 155] إِلَى قَوْلِهِ: {فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ} [الأعراف: 156]. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said Musa عليه السلام was asked a matter and it was given to Muhammad ﷺ: His saying {And Musa chose seventy men of his people} [Al-Araf: 155] to {I shall ordain it for those who fear} [Al-Araf: 156].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک سوال پوچھا گیا ( یا حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے ایک چیز مانگی ) اور وہ چیز حضرت محمد ( ﷺ ) کو دے دی گئی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ’’ موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر افراد کو منتخب کیا ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” تو میں اس کو ان لوگوں کے لئے لکھ لوں گا جو پرہیز گاری اختیار کریں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11019

Majma al-Zawaid #11019

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهُمْ} [الأعراف: 172] قَالَ: جَمَعَهُمْ، فَجَعَلَهُمْ أَزْوَاجًا، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا، ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ "" أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى "" قَالَ: إِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ [وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ]، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا، اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي وَلَا رَبَّ غَيْرِي وَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، إِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي، قَالُوا: شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا، لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ، فَأَقَرُّوا، وَرَفَعَ عَلَيْهِمْ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَبِّ لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ؟ قَالَ: إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ، وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلُ السُّرُجِ عَلَيْهِمْ، خُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ} [الأحزاب: 7] إِلَى قَوْلِهِ: عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ - عَلَيْهَا السَّلَامُ - فَحَدَّثَ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الرَّبَالِيِّ وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kab رضي الله عنه said concerning {When your Lord took from children of Adam from their backs their progeny} [Al-Araf: 172] He gathered them, paired them, formed them, made them speak, took covenant and witnessed them {Am I not your Lord? They said: Yes}. He witnessed seven heavens, seven earths and their father Adam lest they claim ignorance, commanding no association, sending messengers reminding and revealing books. They acknowledged Him sole Lord and God. Adam raised above them saw rich, poor, handsome and else asking why not equal, told He loves to be thanked, and saw prophets as lamps singled with messenger covenant per {We took from prophets their covenant} [Al-Ahzab: 7] to Isa son of Maryam عليهما السلام among those spirits, sent to Maryam عليها السلام entering through her mouth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جب تمہارے پروردگار نے اولاد آدم کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا ‘‘۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اکٹھا کیا انہیں جوڑوں کی شکل میں بنایا ان کی شکلیں بنائیں انہیں گویائی عطا کی ان لوگوں نے بات چیت شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے میثاق لیا اور ان لوگوں کو ان کے اپنے وجود کے بارے میں گواہ بنایا اور فرمایا کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں تو پروردگار نے فرمایا : میں سات آسمانوں اور سات زمینوں کو تم پر گواہ بنا رہا ہوں اور تمہارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو تم پر گواہ بنا رہا ہوں تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہمیں اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا تم لوگ یہ بات جان لو کہ میرے بعد کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میرے علاوہ اور کوئی پروردگار نہیں ہے ‘ اور تم کسی کو میرا شریک نہیں ٹھہرانا میں تمہاری طرف رسولوں کو مبعوث کروں گا ‘ جو میرا عہد اور میرا میثاق تمہیں یاد دلائیں گے اور میں تم پر اپنی کتابیں نازل کروں گا ‘ تو ان لوگوں نے یہ کہا : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا پروردگار اور ہمارا معبود ہے ہمارا تیرے علاوہ اور کوئی پروردگار نہیں ہے ‘ اور ہماری تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ان لوگوں نے اس بات کا اقرار کیا حضرت آدم علیہ السلام کو ان کے اوپر کیا گیا تاکہ وہ ان لوگوں کا جائزہ لیں ، تو حضرت آدم علیہ السلام نے خوشحال اور غریب ‘ خوبصورت شکل کے اور کمتر شکل کے ( تمام افراد کو ) دیکھ لیا انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو نے اپنے بندوں کو ایک جیسا کیوں نہیں بنایا تو پروردگار نے فرمایا : میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میرا شکر کیا جائے گا ‘ پھر حضرت آدم علیہ السلام نے انبیاء کرام کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں کے درمیان یوں تھے جیسے چراغ ہوتے ہیں ان انبیاء کرام کو ایک اور میثاق کے حوالے سے مخصوص کیا گیا جو رسالت اور نبوت کے بارے میں تھا اور اس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : ’’ اور جب ہم نے انبیاء سے ان کا میثاق لیا ‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ عیسیٰ بن مریم ‘‘۔ یہ ان ارواح میں ایک تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو سیدہ مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا تھا راوی نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ سیدہ مریم علیہا السلام کے منہ کی طرف سے ان میں داخل ہوئے تھے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے اپنے استاد محمد بن یعقوب ربالی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11020

Majma al-Zawaid #11020

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَخَذَ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِنَعْمَانَ - يَعْنِي: عَرَفَةَ -، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ [كَالذَّرِّ]، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا، فَقَالَ: {أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ - أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ} [الأعراف: 172 - 173]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported the Prophet ﷺ said Allah took the covenant from Adam's back at Numan, meaning Arafah, extracting all progeny scattering them as particles before Him, addressing them directly: {Am I not your Lord? They said: Yes, we bear witness, lest you say on Resurrection we were heedless of this, or say our fathers associated before and we were progeny after, will You destroy us for falsifiers' doing} [Al-Araf: 172-173]. > **"Allah took the covenant from the back of Adam at Numan, meaning Arafah, extracting from his loins every progeny He created, scattering them before Him as particles, then addressing them directly: Am I not your Lord? They said: Yes, we bear witness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے عرفہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے میثاق لیا تھا اس نے ان کی پشت سے ان کی ہر اس اولاد کو نکال دیا جس کو اس نے پیدا کرنا تھا اور حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے یوں پھیلا دیا جیسے چیونٹیاں ہوتی ہیں پھر ان کے سامنے آ کر ان کے ساتھ کلام کیا ‘ اور فرمایا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ( پروردگار نے فرمایا : ) ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم یہ کہو کہ ہم اس چیز سے غافل تھے یا تم یہ کہو کہ اس سے پہلے ہمارے باپ دادا شرک کر چکے تھے ہم تو اس کے بعد آنے والی اولاد تھے ‘ تو کیا تو ہمیں ان لوگوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار کر دے گا جو باطل لوگوں نے کام کیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11021

Majma al-Zawaid #11021

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا} [الأعراف: 175] قَالَ: هُوَ بُلْعُمٌ، أَوْ قَالَ: بَلْعَامُ بْنُ بَاعَوْرَاءَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said concerning {Recite to them the tale of him We gave Our signs} [Al-Araf: 175] he is Bulum, or Balam son of Baura.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور تم ان لوگوں کے سامنے اس شخص کی خبر بیان کرو جس کو ہم نے آیات عطا کی تھیں “۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد بلعم ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بلعام بن باعوراء ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11022

Majma al-Zawaid #11022

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ [وَ] قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أُمِّيَّةَ بْنِ أَبِي السَّلْطِ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما said this verse descended about Umayyah ibn Abi al-Salt, whom We gave Our signs and he stripped himself of them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت امیہ بن ابوسلط کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ وہ شخص جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں اور وہ ان کو چھوڑ گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11023

Majma al-Zawaid #11023

عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {خُذِ الْعَفْوَ} [الأعراف: 199] قَالَ: أَمَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - نَبِيَّهُ أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما said concerning this verse {Take pardon} [Al-Araf: 199] Allah commanded His Prophet to take pardon from people's conduct.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ تم معاف کرنے کو اختیار کرو ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے معاف کرنے کے اخلاق کو اختیار کریں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11024

Majma al-Zawaid #11024

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدْنَا مَعَهُ بَدْرًا، فَالْتَقَى النَّاسُ، فَهَزَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَتْ طَائِفَةٌ فِي آثَارِهِمْ يَهْزِمُونَ وَيَقْتُلُونَ، وَأَكَبَّتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ يَحُوزُونَهُ وَيَجْمَعُونَهُ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُصِيبُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ وَفَاءَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْغَنَائِمَ: نَحْنُ حَوَيْنَاهَا وَجَمَعْنَاهَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا نَصِيبٌ، وَقَالَ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ الْعَدُوِّ: لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا، نَحْنُ نَفَيْنَا عَنْهَا الْعَدُوَّ وَهَزَمْنَاهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا، نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخِفْنَا أَنْ يُصِيبَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً وَاشْتَغَلْنَا بِهِ، فَنَزَلَتْ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: 1]، فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فُوَاقٍ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ. وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَلَ الرُّبْعَ، وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكَلَّ النَّاسُ نَفَلَ الثُّلْثَ. وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ: "" لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: كَانَ يَنْفُلُ فِي الْبَدَاءَةِ الرُّبْعَ، وَفِي الْقُفُولِ الثُّلْثَ فَقَطْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه said they went with the Messenger ﷺ witnessing Badr. Allah routed the enemy; one party pursued killing, one collected camp spoils, one surrounded the Messenger ﷺ fearing surprise. At night disputing shares, each claiming greater right, {They ask you about spoils, say: Spoils belong to Allah and the Messenger, fear Allah and amend among you} [Al-Anfal: 1] descended. The Messenger ﷺ divided it promptly among Muslims. When raiding he gave a fourth, returning exhausted a third, disliking spoils saying the strong believer should return to the weak. > **"The strong of the believers should return to their weak."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ نکلے ہم آپ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے دونوں فریق جب ایک دوسرے کے سامنے آئے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا ( مسلمانوں کا ) ایک گروہ دشمن کے پیچھے چلا گیا تاکہ انہیں پسپا کرے اور انہیں قتل کرے ایک گروہ لشکر ( کے ساز و سامان ) کو اکٹھا کرنے میں مصروف ہو گیا اور انہیں جمع کرنے لگا اور ایک گروہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گیا تاکہ دشمن اچانک آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے جب رات کا وقت ہوا اور لوگ ایک دوسرے سے آ کے ملے تو جن لوگوں نے مال غنیمت اکٹھا کیا تھا انہوں نے کہا : ہم نے اسے اکٹھا کیا ہے سمیٹا ہے ‘ تو کسی کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہو گا جو لوگ دشمن کے پیچھے گئے تھے انہوں نے کہا : تم اس کے بارے میں ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ہو ہم نے اس سے دشمن کو پرے کیا ‘ اور اسے پسپا کیا جو لوگ نبی اکرم ﷺ کی دیکھ بھال کرتے رہے تھے انہوں نے یہ کہا تم اس کے بارے میں ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ہو ۔ ہم نے نبی اکرم ﷺ کی دیکھ بھال کی ہمیں اندیشہ تھا کہ کہیں دشمن آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ہم اس طرف مشغول رہے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :’’ لوگ تم سے انفال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو ! انفال ‘ اللہ اور رسول کے لئے مخصوص ہے تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور آپس میں بہتری رکھو ‘‘۔ تو نبی اکرم ﷺ نے وہ مال تمام مسلمانوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کیا ۔ نبی اکرم ﷺ جب دشمن کی سرزمین پر حملہ آور ہوتے تھے ‘ تو آپ چوتھائی حصہ انعام کے طور پر دیتے تھے اور جب آپ واپس تشریف لے جانے لگتے تھے ‘ تو آپ تمام لوگوں کو ایک تہائی حصہ نفل ( یعنی انعام کے طور پر ) دیتے تھے اور آپ خود انفال ( وصول کرنے ) کو ناپسند کرتے تھے آپ یہ فرماتے تھے : خوشحال مومنین کو چاہیے کہ اپنے کمزور افراد کو یہ لوٹا دیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ آغاز میں ایک چوتھائی حصہ انعام کے طور پر دیتے تھے اور واپسی پر ایک تہائی حصہ دیتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

11025

Majma al-Zawaid #11025

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: «سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - عَنِ الْأَنْفَالِ، فَقَالَ: فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ حِينَ اخْتَلَفْنَا فِي النَّفْلِ وَسَاءَتْ فِيهِ أَخْلَاقُنَا، فَانْتَزَعَهُ اللَّهُ مِنْ أَيْدِينَا وَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ بَوَاءٍ. يَقُولُ: عَلَى السَّوَاءِ». وَرِجَالُ الطَّرِيقَيْنِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In his narration asked Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه about spoils, he said concerning us fighters of Badr it descended when we differed over extra share with ill manners, so Allah removed it to the Messenger ﷺ who divided it equally among Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے انفال کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ ہمارے یعنی اصحاب بدر کے بارے میں آیت نازل ہوئی تھی : جب ہم نے مال غنیمت کے بارے میں اختلاف کیا تھا اور اس بارے میں ہمارے اخلاق خراب ہو گئے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے ہاتھوں سے لیا اور اپنے رسول کے لئے مقرر کر دیا تو نبی اکرم ﷺ نے برابری کی بنیاد پر اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا ۔ دونوں طرق کے رجال ثقہ ہیں ۔

11026

Majma al-Zawaid #11026

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «نَزَلَ الْإِسْلَامُ بِالْكُرْهِ وَالشِّدَّةِ، فَوَجَدْنَا خَيْرَ الْخَيْرِ فِي الْكَرَاهَةِ، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ، فَجُعِلَ لَنَا فِي ذَلِكَ الْعَلَاءُ وَالظَّفَرُ، وَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: {وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ} [الأنفال: 5] {يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ} [الأنفال: 6] {وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ} [الأنفال: 7]، وَالشَّوْكَةُ قُرَيْشٌ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَنَا فِي ذَلِكَ الْعَلَاءَ وَالظَّفَرَ، فَوَجَدْنَا خَيْرَ الْخَيْرِ فِي الْكُرْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdur-Rahman ibn Awf رضي الله عنه said Islam came with dislike and hardship, and they found best good in dislike. They left Makkah with the Messenger ﷺ granted loftiness and victory, and marched to Badr in the state Allah described {A party of believers were averse} [Al-Anfal: 5] {Disputing truth after clarity as driven to death looking} [Al-Anfal: 6] {When Allah promised you one of two parties yours, wishing the unarmed be yours} [Al-Anfal: 7], thorn meaning Quraysh, granted loftiness and victory, finding best good in dislike.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اسلام ایسی حالت میں نازل ہوا کہ جب ناگواری تھی اور سختی تھی ‘ تو ہم نے جس چیز کو ناپسند کیا اس میں سب سے زیادہ بہتری پائی ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مکہ سے نکلے آپ نے ہمارے لئے سر بلندی اور کامیابی طے کی ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف ایسی حالت میں نکلے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور اہل ایمان کا ایک گروہ اس چیز کو ناپسند کرتا تھا وہ حق کے بارے میں آپ سے اختلاف کر رہے تھے حالانکہ وہ واضح ہو چکا تھا وہ یوں تھے جیسے انہیں موت کی طرف ہانک کر لے جایا جا رہا ہے ‘ اور وہ دیکھ رہے ہیں ‘ اور جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا کہ وہ تمہیں ملے گا اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ والا ملے جس میں لڑائی نہ کرنی پڑے ‘‘۔ یہاں شوکت سے مراد قریش ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اس صورت حال میں سر بلندی اور کامیابی مقرر کر دی اور ہم نے جس چیز کو ناپسند کیا تھا اس میں سب سے بہتری پائی ۔ یہ روایت امام بزر نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک روی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

11027

Majma al-Zawaid #11027

عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا جَاءَ بِكُمْ؟ ضَيَّعْتُمُ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ {وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً} [الأنفال: 25]، لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ فِينَا حَيْثُ وَقَعَتْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mutarrif said they asked al-Zubayr رضي الله عنه, O Abu Abdullah, what brought you, neglecting the caliph till killed then seeking his blood. Al-Zubayr said they recited in time of the Messenger ﷺ, Abu Bakr, Umar and Uthman رضي الله عنهم {Fear a fitnah afflicting not only wrongdoers among you} [Al-Anfal: 25], never reckoning themselves its people till it befell them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آئی کہ آپ نے خلیفہ کو ضائع کر دیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے اور پھر آپ ان کے خوان کے قصاص کے طلبگار بن کے آ گئے ہیں تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ پڑھا تھا کہ تم لوگ فتنے سے بچو ایسا نہ ہو کہ وہ تم میں سے بطور خاص ان لوگوں کو لاحق ہو جائے جنہوں نے ظلم کیا ہے ۔ ( حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ہم یہ گمان نہیں کرتے تھے کہ ہم اس کے متعلقہ فرد بن جائیں گے یہاں تک کہ ہمارے درمیان یہ اسی طرح رونما ہو گیا جس طرح ہوا ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دو میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11028

Majma al-Zawaid #11028

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ} [الأنفال: 30] قَالَ: تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ - يُرِيدُونَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلِ اقْتُلُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ أَخْرِجُوهُ. فَأَطْلَعَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - نَبِيَّهُ عَلَى ذَلِكَ، فَبَاتَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى فِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا، يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ، فَقَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ اخْتَلَطَ عَلَيْهِمْ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَمَرُّوا بِالْغَارِ، فَرَأَوْا نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ فَبَاتَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو الْجَزَرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said concerning {When disbelievers plotted against you to confine you} [Al-Anfal: 30] Quraysh conferred by night at Makkah: some to bind him in fetters at dawn meaning the Prophet ﷺ, some to kill, some to expel. Allah informed His Prophet, so Ali رضي الله عنه slept on his bed, the Messenger ﷺ leaving to the cave. Polytheists guarding Ali thinking him the Prophet ﷺ rushed at dawn finding Ali, Allah repelling their plot. Asked where his companion, he said he knew not. They tracked to the mountain confused, climbing past the cave seeing spider web at its mouth, where he remained three nights.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور جب کافر لوگ تمہارے بارے میں یہ سازشیں کر رہے تھے کہ وہ تمہیں قید کر دیں ‘‘۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش نے مکہ میں رات کے وقت یہ مشورہ کیا تو کسی نے کہا : جب صبح ہو گی تو تم انہیں بندش میں باندھ کر قید کر دینا ان لوگوں کی مراد نبی اکرم ﷺ تھے کسی نے کہا : تم انہیں قتل کر دینا کسی نے کہا : بلکہ تم انہیں نکال دینا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بارے میں مطلع کر دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ رات کے وقت نبی اکرم ﷺ کے بستر پر رہے ‘ اور نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے یہاں تک کہ آپ غار تک پہنچ گئے مشرکین رات بھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد پہرا دیتے رہے وہ یہ سمجھے کہ یہ نبی اکرم ﷺ ہیں ‘ جب صبح ہوئی اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشوں کو ختم کر دیا تو انہوں نے کہا : تمہارے آقا کہاں ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم پھر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں نکلے جب وہ لوگ پہاڑ کے پاس پہنچے تو معاملہ ان کے لئے الجھن کا باعث بن گیا وہ پہاڑ پر چڑھے اور غار کے پاس سے گزرے وہاں انہوں نے غار کے دروازے پر مکڑی کا جالا دیکھا نبی اکرم ﷺ وہاں تین راتیں رہے تھے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمرو جزری ہے ‘ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11029

Majma al-Zawaid #11029

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ: {يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ} [الأنفال: 41] قَالَ: كَانَتْ بَدْرٌ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

عن ابن مسعود في قوله: {يوم الفرقان يوم / التقى الجمعان} [الأنفال: 41] قال: كانت بدر لسبع / عشرة مضت من رمضان. Ibn Masud (may Allah be pleased with him) explained the verse about the Day of Criterion, when the two hosts met, as referring to Badr, and he dated that battle to the seventeenth night past of Ramadan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ علیحدگی کا دن جس دن دو گروہ آپس میں مد مقابل آئے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( اس سے مراد غزوہ بدر ہے ) اور غزوہ بدر سترہ رمضان المبارک کو ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابراہیم نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

11030

Majma al-Zawaid #11030

عَنْ عَرِيبٍ الْمُلَيْكِيِّ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ {وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ} [الأنفال: 60] أَنَّهُمُ الْجِنُّ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَخْبِلْ بَيْتًا فِيهِ عَتِيقٌ مِنَ الْخَيْلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ.

EnglishUnverified translation

عن عريب المليكي «عن النبي - صلى الله / عليه وسلم - في قوله {وآخرين من دونهم / لا تعلمونهم الله يعلمهم} [الأنفال: 60] أنهم الجن، / قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: / "" لا تخبل بيتا فيه عتيق من الخيل». Urayb al-Mulayki (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace be upon him) concerning the verse about others besides them whom you do not know but Allah knows, identifying them before giving a ruling about houses sheltering horses. > **"They are the jinn. Do not ruin a house in which there is a noble horse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عریب ملیکی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ’’ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی تھے جن کو تم نہیں جانتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد جنات ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ایسے گھر کو خراب نہ کرو ( یعنی نہ توڑو ) جس میں گھوڑے کی قسم ’’ عقیق ‘‘ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس میں مجہول راوی ہیں ۔

11031

Majma al-Zawaid #11031

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ} [الأنفال: 63] قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ سَلْمِ بْنِ جُنَادَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

عن عبد الله - يعني ابن مسعود - / في قول الله - عز وجل -: {لو / أنفقت ما في الأرض جميعا ما ألفت بين / قلوبهم ولكن الله ألف بينهم} [الأنفال: 63] قال: / نزلت في المتحابين في الله. Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) said the verse declaring that even spending all on earth could not unite hearts, while Allah united them, came down about those who love one another for the sake of Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اگر تم زمین میں موجود سب کچھ خرچ کر دو تو بھی ان کے دلوں کے درمیان الفت پیدا نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان الفت پیدا کر دی ہے ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ‘ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ آیت اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سلم بن جنادہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ۔

11032

Majma al-Zawaid #11032

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَسْلَمَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعَةٌ وَثَلَاثُونَ رَجُلًا وَامْرَأَةً، وَأَسْلَمَ عُمَرُ تَمَامَ الْأَرْبَعِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [الأنفال: 64]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ الْكَاهِلِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس قال: «أسلم مع النبي - / صلى الله عليه وسلم - تسعة وثلاثون رجلا / وامرأة، وأسلم عمر تمام الأربعين، فأنزل الله - / تبارك وتعالى - {يا أيها النبي حسبك الله / ومن اتبعك من المؤمنين} [الأنفال: 64]». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that thirty-nine men and women had embraced Islam alongside the Prophet (peace be upon him), and when Umar accepted Islam the number forty was completed, upon which the verse promising Allah and the faithful followers as sufficient was revealed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم کے ساتھ انتالیس مردوں اور خواتین نے اسلام قبول کر لیا تھا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو چالیس کی تعداد مکمل ہو گئی تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اے نبی ! تمہارے لئے اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان میں سے تمہاری پیروی کرنے والے لوگ کافی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن بشر کابلی ہے ‘ اور وہ کذاب ہے ۔

11033

Majma al-Zawaid #11033

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُقَاتِلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَشْرَةً، فَثَقُلَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ وَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَوَضَعَ عَنْهُمْ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ الرَّجُلُ الرَّجُلَيْنِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ: {إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ} [الأنفال: 65] إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ. ثُمَّ قَالَ: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68] يَقُولُ: لَوْلَا أَنِّي لَا أُعَذِّبُ مَنْ عَصَانِي حَتَّى أَتَقَدَّمَ إِلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى} [الأنفال: 70] فَقَالَ الْعَبَّاسُ: فِيَّ وَاللَّهِ نَزَلَتْ حِينَ أَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِي، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يُحَاسِبَنِي بِالْعِشْرِينَ الْأُوقِيَّةِ الَّتِي وُجِدَتْ مَعِي، فَأَعْطَانِي بِهَا عِشْرِينَ عَبْدًا كُلُّهُمْ تَاجِرٌ بِمَالٍ فِي يَدِهِ، مَعَ مَا أَرْجُو مِنْ مَغْفِرَةِ اللَّهِ - جَلَّ ذِكْرُهُ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس قال: «افترض عليهم أن يقاتل / كل رجل منهم عشرة، فثقل ذلك عليهم وشق / عليهم، فوضع عنهم إلى أن يقاتل الرجل الرجلين، / فأنزل الله في ذلك: {إن يكن منكم عشرون / صابرون يغلبوا مائتين} [الأنفال: 65] إلى آخر الآيات. / ثم قال: {لولا كتاب من الله سبق لمسكم / فيما أخذتم عذاب عظيم} [الأنفال: 68] يقول: لولا / أني لا أعذب من عصاني حتى أتقدم إليه. / ثم قال: {يا أيها النبي قل لمن في / أيديكم من الأسرى} [الأنفال: 70] فقال العباس: في / والله نزلت حين أخبرت رسول الله - صلى / الله عليه وسلم - بإسلامي، وسألته أن يحاسبني / بالعشرين الأوقية التي وجدت معي، فأعطاني بها عشرين / عبدا كلهم تاجر بمال في يده، مع ما / أرجو من مغفرة الله - جل ذكره». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) explained that the believers were first obliged to face ten each, which weighed heavily on them, so the burden was lightened to one facing two, and he linked this to the verses on patience in fighting, the captives, and the words of Abbas about his own ransom and the twenty slaves granted him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ بات لازم قرار دی کہ ہر فرد ‘ دس آدمیوں کے مقابلے میں جنگ کرے گا یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تخفیف کر دی اور یہ حکم آ گیا کہ ایک شخص دو آدمیوں کے مقابلے میں جنگ کرے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’ اگر تم میں سے بیس افراد ہوں اور وہ صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے ‘‘۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ پھر اس نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے طے شدہ فیصلہ نہ ہوتا تو تم نے جو وصول کیا ہے اس کی وجہ سے تمہیں عظیم عذاب لاحق ہونا تھا ‘‘۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اس کو عذاب نہیں دوں گا جو میری نافرمانی کرے گا جب تک میں اسے پہلے کہہ نہیں دیتا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ اے نبی ! جو آپ لوگوں کے پاس لوگ قید ہیں تم ان سے یہ فرما دو ‘‘۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی جب میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اسلام کے بارے میں بتایا تھا اور آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ آپ بیس اوقیہ کے حوالے سے مجھے چھوڑ دیں جو آپ نے میرے پاس پائے ہیں اور اس کے بدلے میں مجھے بیس غلام آپ نے دیے جو سب تاجر تھے اور ان کے پاس مال موجود تھا اور پھر اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کی بھی مجھے امید ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے معجم اوسط کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ‘ اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

11034

Majma al-Zawaid #11034

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَجَعَلُوا يَتَوَارَثُونَ بِذَلِكَ حَتَّى نَزَلَتْ {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ} [الأنفال: 75] فَتَوَارَثُوا بِالنَّسَبِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس «أن رسول الله - صلى / الله عليه وسلم - آخى بين أصحابه، فجعلوا / يتوارثون بذلك حتى نزلت {وأولو الأرحام بعضهم أولى / ببعض} [الأنفال: 75] فتوارثوا بالنسب». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) had joined his Companions in brotherhood so that they inherited from one another, until the verse giving blood relatives greater claim was revealed, after which inheritance followed lineage.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا وہ اس بنیاد پر ایک دوسرے کے وارث بنتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ’’ اور سگے رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ لائق ہیں ‘‘۔ تو وہ لوگ نسب کے اعتبار سے ایک دوسرے کے وارث بننے لگے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11035

Majma al-Zawaid #11035

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: الَّتِي تُسَمُّونَ سُورَةَ التَّوْبَةِ هِيَ سُورَةُ الْعَذَابِ، وَمَا يَقْرَؤُونَ مِنْهَا مِمَّا كُنَّا نَقْرَأُ إِلَّا رُبْعَهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن حذيفة قال: التي تسمون سورة التوبة هي / سورة العذاب، وما يقرؤون منها مما كنا نقرأ / إلا ربعها. Hudhayfa (may Allah be pleased with him) said the chapter people call Surat al-Tawba is in truth the sura of punishment, and what is recited of it now is only a quarter of what they used to recite.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تم لوگ جسے سورت توبہ کا نام دیتے ہو وہ سورت عذاب ہے ‘ اور اب اس میں سے جتنے حصے کی تلاوت کی جاتی ہے یہ اس کا چوتھائی حصہ ہے جو ہم اس کی تلاوت کیا کرتے تھے ( یعنی باقی آیات منسوخ ہو گئی ہیں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11036

Majma al-Zawaid #11036

عَنْ سَمُرَةَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمَ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ مُعَاذَ بْنَ هِشَامٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي.

EnglishUnverified translation

عن سمرة «عن النبي - صلى الله عليه / وسلم - قال: "" يوم الحج الأكبر يوم / حج أبو بكر بالناس». Samura (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (peace be upon him) an identification of the day of the Greater Pilgrimage with a well-known leading of the Hajj. > **"The day of the Greater Hajj is the day Abu Bakr led the people in Hajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان قتل کرتے ہیں : ’’ حج اکبر کا دن وہ دن ہے جس دن میں ابوبکر نے لوگوں کو حج کروایا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معاذ بن ہشام کا معاملہ مختلف ہے وہ کہتے ہیں : میں نے اپنے والد کی تحریر میں یہ بات پائی ہے ۔

11037

Majma al-Zawaid #11037

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ زَمَنَ الْفَتْحِ: "" إِنَّ هَذَا عَامُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ "". قَالَ: "" اجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ وَحَجُّ الْمُشْرِكِينَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ، وَاجْتَمَعَ النَّصَارَى وَالْيَهُودُ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ، فَاجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَالنَّصَارَى وَالْيَهُودِ الْعَامَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ، وَلَمْ يَجْتَمِعْ مُنْذُ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ كَذَلِكَ قَبْلَ الْعَامِ وَلَا يَجْتَمِعُ بَعْدَ الْعَامِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَلَكِنَّ مَتْنَهُ مُنْكَرٌ.

EnglishUnverified translation

وعن سمرة بن جندب «أن رسول الله - / صلى الله عليه وسلم - قال زمن الفتح: / "" إن هذا عام الحج الأكبر "". قال: / "" اجتمع حج المسلمين وحج المشركين في ثلاثة / أيام متتابعات، واجتمع النصارى واليهود في ثلاثة أيام / متتابعات، فاجتمع حج المسلمين والمشركين والنصارى واليهود العام / في ستة أيام متتابعات، ولم يجتمع منذ خلقت / السماوات والأرض كذلك قبل العام ولا يجتمع بعد / العام حتى تقوم الساعة». Samura ibn Jundub (may Allah be pleased with him) conveyed a report, voiced at the time of the Conquest, describing that year as the Greater Hajj with a succession of pilgrim groups, a text whose chain was vouched for but whose content was judged rejected. > **"This is the year of the Greater Hajj."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ حج اکبر کا سال ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کا حج اور مشرکین کا حج مسلسل تین دن تک اکٹھا رہا عیسائیوں اور یہودیوں کا حج مسلسل تین دن تک اکٹھا رہا تو ایک ہی سال میں مسلسل چھ دن تک مسلمانوں مشرکین عیسائیوں اور یہودیوں کا حج اکٹھا رہا جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے ہیں اس وقت سے لے کر اس سال سے پہلے کبھی یہ اکٹھا نہیں ہوا اور اس سال کے بعد قیامت قائم ہونے تک یہ کبھی اکٹھا نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ تاہم اس کا متن منکر ہے ۔

11038

Majma al-Zawaid #11038

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ الْعَرَبُ يُحِلُّونَ عَامًا شَهْرًا وَعَامًا شَهْرَيْنِ، وَلَا يُصِيبُونَ الْحَجَّ إِلَّا فِي كُلِّ سِتَّةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً مَرَّةً، وَهُوَ النَّسِيءُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ حَجِّ أَبِي بَكْرٍ بِالنَّاسِ، وَافَقَ ذَلِكَ الْعَامُ الْحَجَّ، فَسَمَّاهُ اللَّهُ الْحَجَّ الْأَكْبَرَ، ثُمَّ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الْأَهِلَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

وعن عبد الله بن عمر قال: «كان العرب / يحلون عاما شهرا وعاما شهرين، ولا يصيبون الحج / إلا في كل ستة وعشرين سنة مرة، وهو / النسيء الذي ذكر الله - عز وجل - / في كتابه، فلما كان عام حج أبي بكر / بالناس، وافق ذلك العام الحج، فسماه الله الحج / الأكبر، ثم حج رسول الله - صلى الله / عليه وسلم - من العام المقبل، فاستقبل الناس / الأهلة، فقال رسول الله - صلى الله عليه / وسلم -: "" إن الزمان قد استدار كهيئته / يوم خلق الله السماوات والأرض». Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with them both) described how the Arabs used to declare months lawful or postponed, rarely coinciding with the true Hajj, until the year of Abu Bakr's Hajj aligned correctly and was named the Greater Hajj, after which the Prophet (peace be upon him) performed Hajj the next year and announced the restoration of time. > **"Time has returned to its form as it was the day Allah created the heavens and the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرب ایک سال ایک مہینے کو حلال قرار دے دیتے تھے اور ایک سال دو مہینوں کو حلال قرار دیتے تھے ‘ تو وہ ہر چھبیس سال میں ایک مرتبہ حج کے صحیح وقت تک پہنچتے تھے یہ وہ ادھار ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے جب وہ سال آیا جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حج کروایا تھا ‘ تو وہ سال حج والا سال ہی تھا ‘ تو اللہ تعالٰی نے اسے حج اکبر کا نام دیا پھر اگلے سال نبی اکرم ﷺ نے حج کیا تو لوگوں نے پہلی کے چاند کا درست حساب رکھنا شروع کر دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بے شک زمانہ اسی حساب سے چل رہا ہے جیسے اس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

11039

Majma al-Zawaid #11039

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آيَاتٍ مِنْ (بَرَاءَةٌ) عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ [فَبَعَثَهُ بِهَا] لِيَقْرَأَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، ثُمَّ دَعَانِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ، فَحَيْثُ مَا لَقِيتَهُ فَخُذِ الْكِتَابَ مِنْهُ فَاقْرَأْهُ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ "". فَلَحِقْتُهُ، فَأَخَذْتُ الْكِتَابَ مِنْهُ، وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ؟ قَالَ: "" لَا، وَلَكِنَّ جِبْرِيلَ جَاءَنِي فَقَالَ: لَنْ يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

وعن علي قال: «لما نزلت عشر آيات من / (براءة) على النبي - صلى الله عليه وسلم / - دعا النبي - صلى الله عليه وسلم / - أبا بكر [فبعثه بها] ليقرأها على أهل / مكة، ثم دعاني النبي - صلى الله عليه / وسلم - فقال: "" أدرك أبا بكر، فحيث / ما لقيته فخذ الكتاب منه فاقرأه على أهل / مكة "". فلحقته، فأخذت الكتاب منه، ورجع أبو / بكر إلى النبي - صلى الله عليه وسلم / - فقال: يا رسول الله، نزل في شيء؟ / قال: "" لا، ولكن جبريل جاءني فقال: لن / يؤدي عنك إلا أنت أو رجل منك». Ali (may Allah be pleased with him) narrated that after ten verses of Baraa came down, Abu Bakr was first sent with them to Mecca, then Ali was ordered to overtake him, take the document, and proclaim it himself, with the reason given being a message brought by Gabriel. > **"Catch up with Abu Bakr; wherever you meet him, take the document from him and recite it to the people of Mecca. None shall discharge on my behalf except me or a man from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سورت توبہ کی دس آیات نبی اکرم ﷺ پر نازل ہوئیں تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں ان کے ہمراہ بھیجا تاکہ وہ اہل مکہ کے سامنے ان کی تلاوت کر دیں پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلوایا اور مجھ سے فرمایا : تم ابوبکر کے پاس پہنچو جہاں تم اس سے ملو گے وہاں تم اس سے تحریر لے لینا اور اہل مکہ کے سامنے تم ان آیات کی تلاوت کرنا میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے ان سے وہ تحریر لے لی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہو گئی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں لیکن حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا : آپ کی طرف سے اس فریضے کی ادائیگی صرف آپ خود کر سکتے ہیں یا آپ کے خاندان کا کوئی فرد کر سکتا ہے ۔

11040

Majma al-Zawaid #11040

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: لَا يُكْوَى رَجُلٌ يَكْنِزُ فَيَمَسُّ دِرْهَمٌ دِرْهَمًا وَلَا دِينَارٌ دِينَارًا، يُوَسَّعُ جِلْدُهُ حَتَّى يُوضَعَ كُلُّ دِينَارٍ وَدِرْهَمٍ عَلَى حِدَتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

عن عبد الله - يعني ابن مسعود - / قال: لا يكوى رجل يكنز فيمس درهم درهما / ولا دينار دينارا، يوسع جلده حتى يوضع كل / دينار ودرهم على حدته. Abdullah ibn Masud (may Allah be pleased with him) said the miser who hoards will not be branded coin by coin in succession; rather his skin will be stretched so that every dinar and dirham is placed upon its own spot at once.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایسا نہیں ہو گا کہ جس شخص نے خزانہ بنایا ہے ‘ تو اسے یوں داغا جائے کہ پہلے ایک درہم لگایا جائے پھر دوسرا لگایا جائے پہلے ایک دینار لگایا جائے پھر دوسرا لگایا جائے بلکہ اس کی جلد کو پھیلا دیا جائے گا یہاں تک کہ اس پر ہر دینار اور ہر درہم کو الگ سے رکھ دیا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

11041

Majma al-Zawaid #11041

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ} [التوبة: 34] قَالَ: كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَقَالُوا: مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَّا لِوَلَدِهِ مَالًا يَبْقَى بَعْدَهُ، فَقَالَ: أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ، فَانْطَلَقُوا وَانْطَلَقَ عُمَرُ، وَاتَّبَعَهُ ثَوْبَانُ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّا لَمْ نَفْرِضِ الزَّكَاةَ إِلَّا لِمَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ، وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ فِي الْأَمْوَالِ لِتَبْقَى بَعْدَكُمْ "". فَكَبَّرَ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ؟ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

وعن عبد الله بن عباس قال: «لما نزلت / هذه الآية {والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها / في سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم} [التوبة: 34] / قال: كبر ذلك على المسلمين، وقالوا: ما يستطيع / أحد منا لولده مالا يبقى بعده، فقال: أنا / أفرج عنكم، فانطلقوا وانطلق عمر، واتبعه ثوبان، فأتى / النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال: / يا نبي الله، إنه قد كبر على أصحابك / هذه الآية، فقال نبي الله - صلى الله / عليه وسلم -: "" إنا لم نفرض الزكاة / إلا لما بقي من أموالكم، وإنما فرض المواريث / في الأموال لتبقى بعدكم "". فكبر عمر، فقال / له النبي - صلى الله عليه وسلم -: / "" ألا أخبرك بما يكنز المرء؟ المرأة الصالحة / إذا نظر إليها سرته، وإذا أمرها أطاعته، وإذا / غاب عنها حفظته». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that when the verse threatening those who hoard gold and silver alarmed the Muslims, Umar and Thawban asked the Prophet (peace be upon him), who explained the wisdom of zakah and inheritance and then named the finest treasure a person can keep. > **"We imposed zakah only so that what remains of your wealth becomes wholesome, and inheritance was prescribed so wealth endures after you. Shall I tell you what a person should hoard? A righteous wife: when he looks at her she pleases him, when he commands her she obeys him, and when he is absent she guards him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ اور وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا خزانہ بناتے ہیں ‘ اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں تم انہیں دردناک عذاب کے بارے میں بتا دو ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری انہوں نے کہا : ہم میں سے کوئی شخص اپنے بعد اپنی اولاد کے لئے باقی رہنے والا مال نہیں چھوڑ سکے گا ‘ تو انہوں نے کہا : میں تمہاری طرف سے اس کو دیکھتا ہوں ، تم لوگ چلو حضرت عمر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے گئے وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ کے ساتھیوں پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہم نے زکوۃ اسی لئے فرض قرار دی ہے تاکہ تمہارے اموال باقی بچ جائیں اور اموال کے بارے میں ہی وارثت کے احکام لازم قرار دیے گئے ہیں تاکہ وہ مال تمہارے بعد والوں کے لئے بچ جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا میں تمہیں اس بارے میں نہ بتاؤں کہ تمہیں کیا چیز خزانہ بنانی چاہیے نیک عورت کہ جب آدمی اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے اچھی لگی جب آدمی اسے حکم دے ‘ تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے اور جب آدمی اس کے پاس موجود نہ ہو ‘ تو وہ اس کی حفاظت کرے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

11042

Majma al-Zawaid #11042

عَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ: رَأَيْتُ الْمِقْدَادَ فَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا عَلَى تَابُوتٍ مِنْ تَوَابِيتِ الصَّيَارِفَةِ بِحِمْصَ، قَدْ فَضُلَ عَلَيْهَا مِنْ عِظَمِهِ يُرِيدُ الْغَزْوَ، فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْكَ، قَالَ: أَتَتْ عَلَيْنَا سُورَةُ الْبُعُوثِ {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: 41]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

عن أبي راشد قال: رأيت المقداد فارس رسول / الله - صلى الله عليه وسلم - جالسا / على تابوت من توابيت الصيارفة بحمص، قد فضل / عليها من عظمه يريد الغزو، فقلت له: لقد / أعذر الله إليك، قال: أتت علينا سورة البعوث / {انفروا خفافا وثقالا} [التوبة: 41]. Abu Rashid reported seeing Miqdad (may Allah be pleased with him), the horseman of the Messenger of Allah (peace be upon him), seated at Hims upon a money-changer's chest despite his great age, intending to go out for battle; when reminded that Allah had excused him, he cited the sura of mobilization commanding all to march forth, light or heavy.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوراشد بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے شہسوار حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حمص میں سنیاروں کے ایک صندوق پر بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ذرا بڑا تھا ان کا ارادہ جنگ میں حصہ لینے کا تھا میں نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو معذور قرار دیا ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا : ہم پر روانگی کے حکم سے متعلق یہ آیت آئی تھی : ’’ تم لوگ ہلکے یا بوجھل ہونے ( ہر حال میں ) نکل کھڑے ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

11043

Majma al-Zawaid #11043

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَخْرُجَ إِلَى غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ لِلْجَدِّ بْنِ قَيْسٍ: "" مَا تَقُولُ فِي مُجَاهَدَةِ بَنِي الْأَصْفَرِ؟ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرُؤٌ صَاحِبُ نِسَاءٍ، وَمَتَى أَرَى نِسَاءَ بَنِي الْأَصْفَرِ أَفْتَتِنُ، أَفَتَأْذَنُ لِي فِي الْجُلُوسِ وَلَا تَفْتِنِّي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا} [التوبة: 49]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

عن ابن عباس قال: «لما أراد النبي - / صلى الله عليه وسلم - أن يخرج إلى / غزوة تبوك قال للجد بن قيس: "" ما / تقول في مجاهدة بني الأصفر؟ "". قال: يا / رسول الله، إني امرؤ صاحب نساء، ومتى أرى / نساء بني الأصفر أفتتن، أفتأذن لي في الجلوس / ولا تفتني؟ فأنزل الله: {ومنهم من يقول ائذن / لي ولا تفتني ألا في الفتنة سقطوا} [التوبة: / 49]». Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) reported that when the Prophet (peace be upon him) prepared to march to Tabuk and invited Jadd ibn Qays to strive against Banu al-Asfar, the man pleaded his weakness for women and asked permission to stay behind without being tried, upon which the verse exposing that excuse was revealed. > **"Grant me leave and do not put me to trial; yet into trial they have already fallen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے جد بن قیس سے کہا : اے جد بن قیس تم بنو اصفر کے ساتھ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا شخص ہوں جس کی کئی بیویاں ہیں ‘ اور جب میں بنو اصفر کی عورتوں کو دیکھوں گا ‘ تو میں آزمائش کا شکار ہو جاؤں گا کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں گھر بیٹھا رہوں اور آپ مجھے آزمائش کا شکار نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ ان میں سے ایک ایسا شخص بھی ہے جو یہ کہتا ہے : آپ مجھے اجازت دے دیں اور آپ مجھے آزمائش کا شکار نہ کریں خبردار وہ لوگ فتنہ میں گر چکے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔